6
سامان تیار کرنے والی صنعتیں
(MANUFACTURING INDUSTRIES)
دیوالی کے موقع پر ہریش اپنے والدین کے ساتھ بازار گیا۔اس کے والدین نے اس کے لیے کپڑے اور جوتے خریدے۔ اس کی ماں نے برتن، چینی، چائے اور مٹی کے دیے خریدے۔ ہریش نے اس بات کا مشاہدہ کیا کہ بازار میں جو دکانیں تھیں ان میں بیچی جانے والی اشیا کی بہتات تھی۔اسے اس بات پر بے حد تعجب ہوا کہ اتنی ساری اشیا اتنے بڑے پیمانے پر کس طرح بنائی جاسکتی ہیں؟ تبھی اس کے والد نے اسے بتایا کہ جوتے، کپڑے، چینی وغیرہ مشینوں کے ذریعے بڑی بڑی صنعتوں میں تیار کی جاتی ہیں۔ کچھ برتنوں کو چھوٹی صنعت گاہوں میں تیار کیا جاتا ہے جبکہ مٹی کے دیے جیسی چیزیں علاحدہ فن کاروں کے ذریعے گھریلو صنعت میں تیار کی جاتی ہیں۔
کیا آپ کو ان صنعتوں کے متعلق کچھ معلومات حاصل ہیں؟
بڑے پیمانے پر خام مواد سے بے حدقیمتی شئے بننے کے عمل کو’ سامان سازی‘ (Manufacturing)کہاجاتا ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ کاغذ کو لکڑی سے، چینی کو گنے سے، لوہا اور اسٹیل، لوہے کے کچے دھات اور المونیم باکسائٹ سے تیار کیاجاتا ہے؟ کیا آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ کپڑوں کی کچھ قسمیں سوت سے بنائی جاتی ہیں جو بجائے خود ایک صنعتی شئے ہے؟
ثانوی سطح کی سرگرمیوں میں شامل لوگ ابتدائی مواد کو مکمل شئے میں بدلتے ہیں۔ اسٹیل فیکٹریاں، کار، شراب، کپڑا صنعت اور بیکریوں میں کام کرنے والے ملازم اسی درجے میں آتے ہیں۔ کچھ لوگ خدمات مہیا کرنے کے لیے ملازم رکھے جاتے ہیں۔ اس باب میں ہم بنیادی طور پر پیداواری صنعت پر توجہ مرکوز کریں گے جو ثانوی شئے میں آتی ہے۔
کسی بھی ملک کی اقتصادی قوت کا اندازہ پیداواری صنعت کی ترقی کے ذریعے لگایا جاتا ہے۔
پیداوار کی اہمیت
پیداواری شعبہ کو عام طور پر ترقی کی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر جانا جاتا ہے اور خاص طور پر اقتصادی ترقی کے طور پر کیوں کہ—
- پیداواری صنعت نہ صرف یہ کہ زراعت کو جدید بنانے میں مدد کر تی ہے جو ہماری اقتصادیات کی ریڑھ کی ہڈی بلکہ ثانوی اور تثلیثی شعبے میں لوگوں کو روز گار مہیا کرکے بڑے پیمانے پر ان کی آمدنی کے زراعتی انحصار کو بھی کم کرتی ہے۔
- ہمارے ملک سے غریبی اور بے روزگاری دور کرنے کے لیے سب سے پہلی شرط صنعتی ترقی ہے۔ ہندوستان میں عوامی سیکٹر کے صنعتوں اور مشترکہ شعبوں کے پیچھے یہ ایک بنیادی فلسفہ ہے۔ختم قبائل اور پسماندہ علاقوں میں صنعتیں قائم کرکے علاقائی تفریق کرنا بھی اس کا اہم مقصد ہے۔
- تیار کردہ اشیا کا ایکسپورٹ کرنا تجارت اور کامرس کو وسعت دیتا ہے اور ضروری غیر ملکی زر مبادلہ حاصل ہوتا ہے۔
- وہ ممالک جو اپنے خام مواد کو اعلیٰ قسم کی مختلف النوع اشیا میں بدلتے ہیں، خوش حال ہیں۔ہندستان کی خوشحالی پیداواری صنعتوں کو جلد سے جلد پھیلانے میں ہی مضمر ہے۔
زراعت اور صنعت ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے شانہ بہ شانہ ترقی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر زرعی صنعتوں نے ہندستان میں اپنی پیداوارکے ذریعے زراعت کو بہت فروغ دیا ہے۔ خام مواد اور کسانوں کو اپنی اشیا مثلاً زراعتی پمپ، کھاد، جراثیم کش ادویات، پلاسٹک اور پی وی سی پائپ، مشین اور اوزاروغیرہ بیچنے کے لیے وہ موخرالذ کرپر منحصر ہیں۔ اس طرح پیداواری صنعت کی مقابلہ آرائی اور ترقی نہ صرف یہ کہ کسانوں کو ان کی پیداوار بڑھانے میں مدد کرتی ہے بلکہ پیداواری عمل کو نہایت ہی آسان بھی بناتی ہے۔
عالمگیریت کے اس دور میں ہماری صنعت کو مزید اثر آفریں اور مقابلہ آرا ہونے کی ضرورت ہے۔ صرف خود کفایتی ہونا کافی نہیں ہے۔ ہماری تیار کردہ اشیا بین اقوامی بازار کے مطابق ہونا چاہیے۔ تب ہی ہم بین الاقوامی بازار کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔
قومی اقتصادیات میں صنعت کا تعاون
پچھلے دو دہائیوں سے پیداواری شعبے کا حصص جی ڈی پی کے 17 فی صد پر رکا ہوا ہے۔ کل 27فی صد صنعت میں سے جس میں کان، معدنیات، بجلی اور گیس کا 10فی صد شامل ہے۔
کچھ مشرقی ایشیائی اقتصادیات کے مقابلے میں یہ تناسب کم ہے جہاں پر یہ25سے 35فی صد ہے۔ پچھلی دہائیوں سے پیداوار میں اضافہ کی شرح تقریباً 7فی سالانہ ہے۔ جبکہ اگلی دہائیوں میں ضروری اضافہ کی شرح 12فی صد ہے۔2003سے ایک بار پھر 9سے 10فی صد سالانہ کے حساب سے اس میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کی صحیح پالیسی اور پیداواریت کے سدھار کے لیے صنعتوں کے ذریعے کی گئی کوششوں سے اقتصادیات نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ اگلی دہائیوں میں پیداواری کے نشانے کو حاصل کیا جاسکتا ہے اس موقعہ کے لیے قومی پیداواری مقابلہ جاتی کونسل(NMCC)ؓٓقائم کردی گئی ہے۔
صنعتی محلّ وقوع
صنعتی محل وقوع مزاجاً پیچیدہ ہوتے ہیں۔ یہ عام طور پرخام مواد، مزدور، قوم، بجلی اور بازار وغیرہ کی موجود گی کے حساب سے متاثر ہوتے ہیں۔ بہت مشکل سے یہ ممکن ہوپاتا ہے کہ یہ تمام چیزیں کہیں ایک جگہ مل جائیں۔ نتیجتاً پیداواری سرگرمیوں کو ایسی جگہ قائم کیا جاتا ہے جہاں یہ تمام چیزیں یاتو موجود ہوں یا پھر انھیں کم سے کم لاگت میں مہیا کی جاسکیں۔ صنعتی سرگرمیوں کی شروعات کے بعد شہر کاری پر عمل کیاجاتا ہے۔کبھی کبھی صنعتوں کو شہروں میں یا شہروں کے قریب قائم کیاجاتا ہے۔ اس طرح صنعت کاری اور شہر کاری دونوں ساتھ ساتھ ہیں۔ شہر بازار مہیا کرتے ہیں اور صنعتیں بینکنگ، انشورنس، ٹرانسپورٹ، مزدور، شیئر اور اقتصادی صلاح جیسی خدمات بھی مہیا کرتی ہیں۔ بہت سی صنعتیں شہری مراکز کے ذریعے پیش کیے گئےAgglomeration economicsفائدہ حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے قریب ہی قائم کی جاتی ہیں۔ رفتہ رفتہ ایک بڑا صنعتی agglomeration(ابناشتہ)قائم ہوجاتا ہے۔
آزادی سے قبل، زیادہ تر پیداواری اکائیاں سمندری تجارت کے پیش نظر ممبئی، کولکاتا، چنئی وغیرہ میں قائم تھے۔ نتیجتاً وہاں ایسی صنعتی طور پر ترقی یافتہ شہری مراکز کا ظہور ہوگیا جو ایک بڑے زراعتی، داخلی زمینی علاقے سے گھراہوا تھا۔

شکل 6.1
فیکٹری کی جگہ طے کرنے کے فیصلہ میں کم سے کم لاگت بنیادی وجہ ہے۔ حکومت کی پالیسیاں اورما ہر مزدور بھی صنعت کے محل وقوع پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

صنعتوں کی درجہ بندی
آپ اپنی روز مرّہ کی زندگی میں استعمال ہونے والے مختلف تیار شدہ اشیا کی ایک فہرست بنائیں۔ مثلاً: ٹرانزسٹر، بجلی کے بلب، نباتاتی تیل، سیمنٹ، شیشے کے برتن، پٹرول، ماچس، اسکوٹر، آٹو موبائل، دوائیاں— اور اسی طرح کی دوسری اشیا۔ اگر ہم خاص معیار کی بنیاد پر مختلف صنعتوں کی درجہ بند کریں تو ہم پیداواری کو بہتر طور سے سمجھ سکتے ہیں۔ صنعتوں کو درج ذیل کے تحت درجہ بند کیا جاسکتا ہے۔
خام مواد کے استعمال کی بنیاد پر:
ان کے اہم رول کے مطابق
سرمایہ لگانے کی بنیاد
ملکیت کی بنیادپر:
خام مواد کے وزن اور حجم اور تیارشدہ اشیا کی بنیاد پر :
• بھاری صنعتیں جیسے: لوہا اور اسٹیل
• ہلکی صنعتیں جو ہلکے خام مواد استعمال کرتی ہیں اور ہلکی چیزیں بناتی ہیں مثلاً الیکڑیکل اشیاکی صنعتیں۔
سرگرمی
درج ذیل کو خام مواد کے وزن اور حجم اور مکمل اشیا کی بنیاد پر دو گروپ میں درجہ بند کریں۔
(i) تیل (vi) سلائی مشین
(ii) بننے کی سلائیاں (vii) جہاز بنانا
(iii) پیتل کے برتن (viii) بجلی کے بلب
(iv) فیوز کے تار (ix) پینٹ کرنے والے برش
(v) گھڑیاں (x) آوٹو موبائل
زراعت پر منحصر صنعتیں
سوت، جوٹ، ریشم، اونی کپڑے، چینی اور کھانے کاتیل وغیرہ کی صنعتیں زراعتی خام مواد پر منحصر ہیں۔
کپڑا صنعت:ہندوستانی اقتصادیات میں کپڑا صنعت کو ایک اہم مقام حاصل ہے کیوں کہ یہ صنعتی پیداوار ، روز گار کے مواقع فراہم کرنے اور غیرملکی زر مبادلہ کمانے میں بھر پور تعاون کرتی ہے۔ ملک کی یہ واحد صنعت ہے جس میں خود اعتمادی ہے اور اپنی قدری زنجیر میں مکمل ہے۔ مثلاً خام مواد سے اعلیٰ اشیا تک۔
سوتی کپڑے : قدیم ہندوستان میں سوئی کپڑے ہاتھوں سے کاٹ کر اور ہتھ کر تھا کے ذریعے تیار کیے جاتے تھے۔ اٹھارہویں صدی کے بعد بجلی سے چلنے والے کر گھوں(power Looms)کا استعمال ہونے لگا۔ نوآبادیاتی عہد میں ہماری روایتی صنعتیں تعطل کا شکار ہوگئی تھیں کیوں کہ برطانیہ ملوں کے ذریعے بنے کپڑوں کا وہ مقابلہ نہیں کرسکتی تھیں۔
• پہلا کامیاب کپڑا مل ممبئی میں 1854میں قائم ہوا تھا۔
• یوروپ میں جب دو عالمی جنگیں لڑی گئیں، اس وقت ہندوستان برطانیہ کی ایک کالونی تھا۔ برطانیہ میں چوں کہ کپڑوںکی مانگ کی تھی اس لیے کپڑا صنعت بھر پور فروغ حاصل ہوا۔
ابتدائی برسوں میں سوت پارچہ بافی صنعت سوت پیدا کرنے والے علاقے مثلاً: مہاراشٹر اور گجرات ہی پرمرکوز تھی۔ خام سوت، بازار، ٹرانسپورٹ بشمول قابل رسائی بندر گاہ کی سہولیات، مزدور، نم آب وہوا کی موجودگی وغیرہ نے اس کے محل وقوع کی جانب بھر پور تعاون کیاہے۔ اس صنعت کا زراعت سے بہت ہی گہرا تعلق ہے کسانوں، روئی کے پھلوں کو توڑنے والوں، کاتنے، بُننے، رنگنے، ڈیزائن تیار کرنے، پیکنگ کرنے اور سلائی کا کام کرنے والوں کو یہ روزگار مہیا کرتی ہے۔ مطالبات کو تخلیق کرکے یہ صنعت بہت سے دوسرے صنعتوں جیسے: کیمیکل، رنگ، مل اسٹور، پیکنگ مواد اور انجینئرنگ کام کو سہارا دیتی ہے۔
اگر چہ کتائی کا کام مہاراشٹر، گجرات اور تمل ناڈو میں مرکوز ہے لیکن بننے کاکام غیر مرکوز ہے جو روایتی مہارات اور سوت، ریشم، زری، ایمبرائڈری وغیرہ کو متحد کرنے کے لیے گنجائش فراہم کررہا ہے۔ کتائی میں ہندوستان عالمی درجے کی پیداوار رکھتا ہے، لیکن کپڑوں کے، ادنیٰ معیار، بننے کی سیلائی کے سبب ملک میں اعلیٰ معیار کے سوت کی بہت زیادہ پیداواری کے باوجود اس کا استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ بننے کا کام ہتھ کر گھوں، پاورلوم اور میلوں میں کیا جاتا ہے۔
ہاتھ سے کاٹنے والی کھادی بنکروں کو ان کے گھروں میں گھریلو صنعت کے طور پر بڑے پیمانے پر روزگار مہیا کرتی ہے۔مہاتما گاندھی نے سوت کاتنے اور کھادی بُننے پر کیوں زور دیا؟

ہمارے ملک کے لیے پاور لوم اور ہتھ کرگھا کی بہ نسبت کارخانوں کے کرگھوںکو کم کرنا کیوں اہمیت رکھتا ہے؟
ہندوستان، جاپان کو سوتی دھاگے ایکسپورٹ کرتا ہے۔ ہندوستان سے سوتی اشیا کو درآمد کرنے والے دیگر ممالک میں USA،UK، روس، فرانس، مشرقی یوروپی ممالک، نیپال، سنگاپور، سری لنکا اور افریقی ممالک ہیں۔
سوتی دھاگے کی عالمی تجارت میں ہماری ایک بڑی حصّہ داری ہے۔ کل تجارت کا ایک چوتھائی حصہ ہمارا ہے۔ کاتنے والے ہمارے مل بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کے اہل ہیں۔ ہم جتنے بھی ریشے پیدا کرتے ہیں اسے استعمال کرنے کی استعداد رکھتے ہیں۔ملک میں اعلیٰ قسم کے جتنے بھی دھاگے تیار کیے جاتے ہیں اسے بُننے اور پروسیسنگ اکائیاں استعمال نہیں کرسکتیں۔ اگر چہ اس ضمن میں کچھ بڑی اور جدید فیکڑیاں ہیں، لیکن بیشتر پیداوار چھوٹی اکائیوں میں ٹکڑوں میں ہوتی ہے جو مقامی بازار کو فراہم کرتی ہیں۔ یہ عدم توازن صنعت کے لیے ایک بہت بڑا عیب ہے۔ نتیجتاً ہمارے بہت سے سوت کاتنے والے سوتی دھاگوں کو ایکسپورٹ کردیتے ہیں جبکہ ملبوسات سلے سلائے کپڑے درآمد کیے گئے کپڑوں سے تیار کیے جاتے ہیں۔
سوتی دھاگہ 85روپے کلو بیچا گیا۔مان لیجیے اگر اسے ایک پتلون کے طور پر بیچا جاتا تو اس کی قیمت 800 روپے کلو کے حساب سے ہوتی۔ ہر سطح پر قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ مثلاً: ریشے سے دھاگے، دھاگے سے کپڑا اور کپڑا سے سلے سلائے کپڑوں تک۔
ہمیں دھاگہ برآمد کرنے کے بجائے اپنی اور بُنائی شعبوں میں بڑے پیمانے پر سدھار لانا اہمیت کا حامل کیوں ہے؟
اگرچہ ہم نے اچھی کوالٹی کے خاص قسم کے سوت میں اچھا خاصا اضافہ کیاہے لیکن درآمدگی کے متعلق اب تک سوچا نہیں گیا۔ بجلی کی سپلائی پریشان کن ہے۔ خاص طور سے بنائی اور پروسیسنگ شعبوں میں مشینری کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ مزدوروں کی کم پیداواراور مصنوعی کپڑا صنعت کے ساتھ سخت مقابلہ جیسی دوسری پریشانیاں بھی ہیں۔
جوٹ پارچہ بافی
ہندوستان خام جوٹ اور جوٹ کی اشیا پیدا کرنے والوں میں سب سے بڑا ملک ہے۔ اسے برآمد کرنے میں بنگلہ دیش کے بعد ہندوستان کا دوسرا نمبر ہے۔بیشترکارخانے مغربی بنگال میں قائم ہیں خصوصاً ہگلی ندی کے کنارے ایک تنگ پٹی میں۔
پہلا جوٹ مل1855 میں کولکاتا کے نزدیک رِشرا میں قائم کیاگیا تھا۔1947 میں تقسیمِ ہند کے بعد جوٹ مل ہندوستان میں برقرار رہاہے لیکن جوٹ پیدا کرنے والے علاقوں کا تین چوتھائی حصّہ بنگلہ دیش (تب کے مشرقی پاکستان) میں چلا گیا۔
ہگلی کے نشیبی زمین میں ان کے محلّ وقوع کے لیے جو چیزیں ذمہ دار ہیں و ہ کچھ اس طرح ہیں:جوٹ پیدا کرنے والے علاقوں سے نزدیکی، ارزاں آبی ٹرانسپورٹ، ریلوے، سڑک ، آبی راستوں کا جال، خام مواد کومِل تک لے جانے میں مدگار ہونا ، خام جوٹ کی پروسسنگ کے لیے وافر مقدار میں پانی، مغربی بنگال اور اس سے ملحق دیگر صوبوں مثلاً: بہار، اڈیشہ اور اتر پردیش سے آنے والے سستے مزدور۔ ایک بڑے شہری مرکز ہونے کے سبب کو لکاتا بینکنگ، انشورنس اور بندرگاہ جیسی سہولیات فراہم کرتا ہے تاکہ جوٹ کی اشیا کو برآمد کیا جاسکے۔
اگرچہ اس صنعت کو بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے بالخصوص جوٹ کے مصنوعی متبادل آجانے سے بین الاقوامی بازار میں اسے سخت مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ علاوہ ازیں اس ضمن میں بنگلہ دیش، برازیل، فلپائن، مصر اور تھائی لینڈ جیسے ممالک سے سخت مقابلہ ہے۔ پھر بھی حکومت کی پالیسی کے مطابق پیکنگ کے استعمال کے لیے جوٹ کو ضروری بنادینے کے سبب اندرونی مانگ میں اس کا زبردست اضافہ ہوا ہے۔مانگ کو بڑھانے کے لیے اس سے بنی اشیا میں تنوع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے اہم بازار امریکہ، کناڈا، روس، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور آسٹریلیاہیں۔ ماحول دوست(environment Friendly) مواد کے لیے بڑھتی عالمی تشویش نے ایک بار پھر جوٹ کی اشیا کے لیے موقع فراہم کیا ہے۔

ہندوستان: سوتی، اونی اور ریشمی کپڑا تیار کرنے والی صنعتوں کی تقسیم
شکر کی صنعت
شکر پیدا کرنے والے ملکوں میں عالمی سطح پر ہندوستان دوسرے نمبر پر ہے لیکن گڑ اور کھانڈ بنانے میں یہ پہلے نمبر پر ہے۔ اس کا خام مال حجم کے اعتبار سے ضخیم ہوتا ہے اور اس کو ادھر سے اُدھر لے جانے یا گھسیٹنے سے اس میں مٹھاس کی مقدارکم ہوجاتی ہے۔ملک میں اتر پردیش، بہار، مہاراشٹر، کرناٹک، تمل ناڈو، آندھرا پردیش، گجرات، پنجاب، ہریانہ اور مدھیہ پردیش میںملیں قائم ہیں۔60فیصد ملیں اترپردیش اور بہار میں ہیں۔ یہ صنعت اپنی ہیئت وفطرت کے اعتبار سے موسمی ہے۔ اس لیے یہ کوآپریٹو سیکٹر کے لیے بہت مناسب ہے۔ کیا آپ وضاحت کرسکتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے؟
حالیہ برسوں میں یہ رجحان رہا ہے کہ ملوں یا کارخانوں کو جنوبی اور مغربی ریاستوں خصوصاً مہاراشٹر میں منتقل کیا جاتا رہا ہے اور ان علاقوں پر توجہ مرکوز رہی ہے۔ ایسا اس لیے ہوا کہ یہاں گنے کی پیداوار میں شکریات (Sucrose) کا عنصر زیادہ ہے۔یہاں زیادہ ٹھنڈے موسم کی وجہ سے لمبے وقفے گنا کارس نکالنے کا کام ممکن ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کو آپریٹو سوسائٹیوں کو ان ریاستوں میں زیادہ کامیابی ملی ہے۔
صنعت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اس کا طبعی اعتبار سے موسمی ہونا، پیداوار کے طریقۂ کار کا غیر موثر اور قدیم ہونا، فیکٹریوں تک گنوں کے منتقل ہونے میں تاخیر ہونا اور کھوجڑ (پھوک) کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرنے کی ضرورت ہے۔
معدنیات پر مبنی صنعتیں
وہ صنعتیں جو کہ معدنیات اور دھاتوں کو خام مال کے طور پر استعمال کرتی ہیں ’’معدنیات پر مبنی صنعتیں‘‘ کہلاتی ہیں۔ کیاآپ کچھ ایسی کچھ صنعتوں کے نام بتا سکتے ہیں جو اس زمرے میں آتی ہیں۔
لوہے اور اسٹیل کی صنعت
لوہے اور اسٹیل کی صنعت بنیادی صنعت ہے۔ اس لیے کہ دوسری صنعتیں بڑی ہوں، اوسط درجے کی ہوں یا چھوٹی— اس پر اپنی مشینری کے لیے انحصار کرتے ہیں۔ اسٹیل کی ضرورت نوع بہ نوع انجینئرنگ کے سامان تعمیراتی ساز و سامان، دفاع، ٹیلی فون اور سائنس سے متعلق آلات او ر مختلف قسم کے صارفین سے متعلق سامان تیار کرنے پر پڑتی ہے۔
سرگرمی
اسٹیل سے بنے ایسے سامانوں کی ایک فہرست بنائیے جو آپ کے ذہن میں ہوں۔
اسٹیل کی پیداوار اور اس کی کھپت کو اکثر ملک کی ترقی کا نشان مانا جاتا ہے۔ لوہا اور فولاد کا کارخانہ بڑا کارخانہ ہوتا ہے کیونکہ تمام خام مال اور تیار شدہ سامان بھاری بھرکم اور بڑی ضخامت کے ہوتے ہیں۔ جن کے منتقل کرنے میں زبردست خرچ آتا ہے۔
تقریباً 4:2:1کے تناسب میں خام لوہا، کوک کوئلہ اور چونا پتھر کی ضرورت ہوتی ہے۔ تھوڑی مقدار میں اسٹیل کو ٹھوس بنانے کے لیے مینگنیز کی ضرورت پڑتی ہے۔ ا سٹیل پلانٹ کو کہاں مثالی اعتبار سے واقع ہونا چاہیے۔ یاد رکھیے کہ صارفین اور بازار تک تیار شدہ مصنوعات کی رسائی کے لیے موثر منتقلی عملہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہندوستان میں 2016میںاسٹیل پیداوار 95.6ملین ٹن ہے۔ ہندوستان کو دنیا کے خام فولاد پیدا کرنے والے ممالک میںتیسرا مقام حاصل ہے۔ یہ اسپنج آئرن پیداوار کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اسٹیل کی بڑی مقدار میں پیداواری کے باوجود 2016میں ہندوستان میں سالانہ فی نفری خرچ صرف 63کلو گرام ہے۔
سرگرمیجدول 6.2: ہندوستان میں تیار شدہ اسٹیل کی کل پیداوار
2010-11 68.62
2011-12 75.70
2012-13 81.68
2013-14 87.67
2014-15 92.16
2015-16 90.98
|
ہندوستان میں فی کس اسٹیل کی کھپت اتنی کم کیوں؟
ہندوستان میں اسٹیل پلانٹ کی مصنوعات کے بارے میں معلومات جمع کیجئے۔
منی اسٹیل پلانٹ چھوٹے ہوتے ہیں۔ ان میں بجلی کی بھٹی ہوتی ہے۔ یہ بے کار اور بچے ہوئے فولاد اور اسپنج آئرن کا استعمال ہوتا ہے۔ ان کے پاس دوبارہ رول کرنے والی مشین ہوتی ہے جو اسٹیل ڈلہ بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ نرم اور دی گئی خصوصیات کے مخلوط اسٹیل پیدا کرتے ہیں۔
مدغم اسٹیل پلانٹ بڑا ہوتا ہے۔ ایک ہی کمپلیکس میں اسٹیل سازی کے لیے خام مادوں کو جمع کرنے سے لے کر رولنگ اور شکل سازی تک سب کچھ سنبھالتا ہے۔
تمام پبلک سیکٹر کمپنیاں فولاد کو، اسٹیل اتھاریٹی آف انڈیا لمیٹڈ (SAIL)کے ذریعے بازار میں لاتی ہیں۔ جبکہ ٹسکو(TISCO)ٖٓاپنی مصنوعات ٹاٹا اسٹیل کے ذریعے مارکٹ میں بھیجتا ہے۔
1950 میں چین اور ہندوستان میں اسٹیل پیداوار کی مقدار تقریباً برابر تھی۔ آج چین دنیا کا سب سے بڑا اسٹیل پیدا کرنے والا ملک ہے اور چین اسٹیل کا صرفہ کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بھی ہے۔ 2004 میں ہندوستان سب سے زیادہ اسٹیل بر آمد کرنے والا ملک تھا۔ عالمی اسٹیل تجارت میں اس کی حصے داری2.25فیصد تھی۔ لوہا اور اسٹیل کارخانوں کی سب سے زیادہ توجہ چھوٹا ناگپور کے فرازی علاقے پر رہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کارخانے کی ترقی کے لیے ان علاقوں کے فوائد نسبتاً زیادہ ہیں۔
ان میں تقریباً کم قیمت کے کچے لوہے اور اچھے قسم کے خام مادے، سستی مزدوری اور گھریلوں بازار میں بڑی ترقی کی صلاحیت شامل ہے۔ اگرچہ ہندوستان لوہا اور اسٹیل پیدا کرنے والا ایک اہم ملک ہے پھر بھی ہم اب تک اپنی پوری صلاحیت کا مظاہرہ نہیں کر پائے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ(1) اونچی قیمتیں اور پتھر کے کوئلہ کی محدود فراہمی رہی ہے۔ (b) مزدوروں کی کم مقدار کار (c) توانائی کی غیر مسلسل سپلائی۔ (d) کمزور بنیادی ڈھانچہ۔

شکل 6.4

ہندوستان: لوہے اور فولاد کے پلانٹ
ہم دوسرے ممالک سے بھی عمدہ قسم کے اسٹیل درآمد کرتے ہیں پھر بھی اسٹیل کی مجموعی پیدوار ہماری گھریلو ضرورتوں کو پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔
تجارت میں چھوٹ اور بلاواسطہ بیرونی سرمایہ کاری نے پرائیویٹ مہم جو تاجروں کی مدد سے صنعت کو ترقی دی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ذرائع کوترقی اور تحقیق کے مقصد سے زیادہ منافع بخش اعتبار سے اسٹیل کی پیداوار کے لیے خاص کیا جائے۔
سرگرمی
کلنگ نگر تنازع کے بارے میں آپ نے کبھی پڑھا ہے؟ معلومات جمع کیجئے مختلف ذرائع سے اور بحث کیجئے۔
المونیم کو پگھلانا(اسملٹنگ)
المونیم اسملٹنگ اور اس سے متعلقہ دھات ہندوستان کی دھات سے متعلق دوسری سب سے بڑی صنعت ہے۔ یہ ہلکے،تحلیلی فرساپش سے روکنے والا، گرمی کا ایک اچھا منتظم اور متورف ہے۔ یہ اس وقت ٹھوس ہوجاتا ہے جب دوسرے دھاتوں سے ملتا ہے۔ اس کا استعمال پر طیارہ سازی، برتنوں ا ورتار بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اسٹیل تانبے، جست اور سیسے کے متبادل کے طور پر بھی مشہور ہے۔
ملک میں آٹھ (8) المونیم اسملٹنگ پلانٹ ہیں جو کہ اڈیشہ (نالکو اوربالکو)، مغربی بنگال، کیرل، اترپردیش، چھتیس گڑھ اور تمل ناڈو میں واقع ہیں۔

شکل 6.6 : پگھلانے والی مشین پر نالکو میں پٹیاں تیار کرنے کا کارخانہ

شکل 6.5: ھندوستان اور چین میں فولاد کی پیداوار
اسمیلٹر میں استعمال ہونے والا خام مال باکسائٹ بہت ضخیم، گہرے سرخ رنگ کا چٹان ہوتا ہے۔ نیچے دیاہوا ترتیب وار نقشہ المونیم بنانے کے طریقے کو بتا رہا ہے۔ بجلی کی مستقل سپلائی اور کم سے کم دام پر خام مال کے حصول کا حتمی یقین، صنعت کے مقام کے انتخاب کے دو اہم عوامل ہیں۔
سرگرمی
ایک فیکٹری پلاسٹک کے ہینڈل والے المونیم سوس پین بناتی ہے۔ یہ اسمیلٹرسے المونیم لیتی ہے اور پلاسٹک کے مرکبات دوسری فیکٹری سے لیتی ہے۔ تمام تیار شدہ سوس پین گودام بھیجے جاتے ہیں۔
1۔ (a) کون سے خام مال کو منتقل کرنا زیادہ مہنگا ہوسکتا ہے اورکیوں؟
(b) کون سے خام مال کو منتقل کرنا سب سے سستا ہوسکتا ہے اور کیوں؟
2۔ کیاآپ سمجھتے ہیں کہ پیکیج بنانے کے بعد تیار شدہ مصنوعات کو ٹرانسپورٹ کرنا المونیم اور پلاسٹک ٹرانسپورٹ کرنے کی قیمت سے زیادہ سستا ہوسکتا ہے ؟ کیوں؟
کیمیائی صنعت
ہندوستان کی کیمیائی صنعت تیزی کے ساتھ ترقی کرنے والے اور مختلف قسم کے GDPمیں اس کی حصے داری تقریباً 3فی صد ہے۔ یہ صنعت ایشیا کی تیسری سب سے بڑی صنعت ہے اور دنیا میں جسامت کے اعتبار سے بارہواں مقام حاصل ہے۔ اس میں چھوٹے اور بڑے پیمانے کی صناعتی اکائیاں ہیں۔ نامیاتی اور غیر نامیاتی سیکڑوںمیں تیزی کے ساتھ ترقی درج ہوتی ہے۔ غیر نامیاتی کیمکلوں میں فائبرک تیزاب (جو کہ کھاد بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے سینتھیٹک فائبر پلاسٹک، گوند، پینٹ، رنگ کا مسالہ) نائٹیرک اسیڈ، الکلی، سوڈا ایس (جوکہ گلاس بنانے، او ردھلائی کے صابن اور کاغذ سازی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے)۔ اور کاسٹک سوڈا شامل ہے۔یہ صنعتیں پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہیں۔

آپ کے خیال میں ایسا کیوں ہے؟
نامیاتی کیمکلوں میں پیڑوکیمیکل شامل ہے جو کہ سینتھٹک فائبر،سینتھٹک ربر، پلاسٹک، رنگ مسالے، دوائیاں اور فارمیسی سے متعلق اشیا بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ نامیاتی کیمیکل پلانٹ۔ ریفائیزی تیل کے قریب یا پیٹرو کیمیکل پلانٹ کے پاس ہوتے ہیں۔ کیمیائی صنعت خود اپنی سب سے بڑی صارف ہوتی ہے۔ بنیادی کیمیکل دوسرے کیمیکل مزید پیدا کرنے کے لیے ایک عمل سے گذرتے ہیں۔ یہ دوسرے کیمیکل صنعتی استعمال زراعت یا بلا واسطہ صارفین کے بازار کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ان مصنوعات کی ایک فہرست بنائیے جن سے آپ واقف میں۔
کھاد کی صنعت
نائٹروجن والے کھاد خاص طور سے یوریا اور فوسفیٹک کھاد المونیم فوسفیٹ(DAP) اور مرکب کھاد کی پیدوار کے گرد گھومتی ہے۔ اس مرکب کھاد میں نائٹروجن(N)فوسفیٹ(P)پوٹاش (K)ہوتا ہے۔ تیسرے نمبر کا جیسے: پوٹاش مکمل طور سے درآمد کیا جاتا ہے کیونکہ ملک میں تجارتی طور پر استعمال ہونے والے پوٹاش یا پوٹیشیم کے مرکبات کے ذخائر کسی بھی شکل میں موجود نہیں ہیں۔
سبز انقلاب کے بعد یہ صنعت ملک کے دوسرے مختلف حصوں میں پھیل گئی۔ گجرات تمل ناڈو، اترپردیش، پنجاب، کیرل کھاد کی پیداوار میں آدھے کی حصے داری کرتے ہیں۔دوسری اہم کھاد پیدا کرنے والی ریاستی آندھرا پردیش، اڈیشہ، راجستھان، بہار، مہارشٹرا، آسام، مغربی بنگال، گوا، دہلی، مدھیہ پردیش اور کرناٹک ہیں۔
سمینٹ کی صنعت
سیمنٹ تعمیراتی کا موں جیسے گھروں، کا رخانوں، ملوں، سڑکوں، فضائی اڈے، باندھ اور دوسرے تجارتی مراکز کے تعمیر کے لیے ضروری چیز ہے۔ ایسے کا رخانے کو بھاری بھرکم بڑی جسامت کے خام مادے جیسے چونا پتھر، سیلیکا،جپسم کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوئلہ اور بجلی کی قوت کے ساتھ ساتھ ریلوے سے منتقلی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
سرگرمی
اقتصادی اعتبار سے کہاں پر سیمنٹ ساز اکائیاں نصب کرنا مناسب ہوگا؟
سیمنٹ صنعت نے گجرات میں منصوبہ بندی کے ساتھ پلانٹ نصب کئے۔ جن کی خلیج ممالک کے بازاروں میں مناسب رسائی ہے۔
سرگرمی
پتہ لگائیے کہ ہندوستان کی دوسری ریاستوں میں کہاں کہاں سیمنٹ کے پلانٹ لگے ہیں؟ان کے ناموں کا بھی پتہ لگائیے۔
پہلا سیمنٹ پلانٹ1904میںچنئی میں نصب ہوا تھا۔ آزادی کے بعد یہ صنعت پھیل گئی۔معیار(quality)میں بہتری کا سبب کارخانوں کو اندرونِ ملک زبر دست مطالبہ کے علاوہ مشرقی ایشیا، مشرقی وسطیٰ، افریقہ، جنوبی ایشیا میں تیار شدہ بازار مل گیا ہے۔ یہ صنعت پیدوار کے علاوہ بر آمدات کے معاملے میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ کوشش اس بات کی جارہی ہے کہ صنعت کو زندہ رکھنے کے لیے گھریلو مانگ اور گھریلو سپلائی پیدا کی جائے۔
موٹرگاڑیاں وغیرہ تیار کرنے والی صنعت
آٹو موبائل صنعت سامانوں کی منتقلی اور مسافروں کے لیے گاڑی مہیا کرنے کی خدمات انجام دیتی ہے۔ ٹرک،بس، کار، موٹر سائیکل، اسکوٹر،تھری وہیلر اور مختلف مقاصد میں استعمال ہونے والی گاڑیاں۔ ہندوستان میں مختلف مراکز پر بنائی جاتی ہیں۔ آزادانہ تجارت کے بعد معاصر موڈلوں کی آمدکی وجہ سے بازار میں گاڑیوں کی مانگ میں تیزی آگئی ہے۔ جس کی وجہ سے ان کارخانوں نے اچھی ترقی کی ہے جس میں مسافر کاریں دو پہیہ اور سہ پہیہ گاڑیاں شامل ہیں۔ کارخانے دہلی، گڑ گائوں، ممبئی، پونا، چنئی، کولکاتا، لکھنو، اندور، حیدر آباد جمشید پور اوربنگلور وکے ارد گرد واقع ہیں۔
مواصلاتی ٹیکنالوجی اور الکٹرانک صنعت
(Information Technology and Electronics Industry)
الیکٹرانک صنعت میں ٹرانسسٹرسے لے کر ٹیلی ویژن، ٹیلی فونز، سیلولر ٹیلی کام،ٹیلی فون ایکسچینج، رڈار، کمپوٹر، اور بہت سارے دوسرے آلات (جن کی ضرورت ٹیلی کمیونیکیشن انڈسٹری کو ضرورت ہوتی ہے) شامل ہیں۔ بنگلور ہندوستان کی الیکٹرانک راجدھانی کے طور پر ابھرا ہے۔الیکٹرانک سامان کے دوسرے اہم مراکز— ممبئی، دہلی، حیدر آباد، پونا، چنئی، کولکاتا، لکھنؤ اور کوئمبٹورہیں۔18سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک، سنگل ونڈو سروس اور ہائی ڈاٹا کمیونیکیشن سہولت سافٹ ویئر ماہرین کو مہیا کرتے ہیں۔ اس صنعت کا بڑا اثر ملازمت کے مواقع پیدا کرنے پر رہا ہے۔ تاہم اس صنعت کی خاص نظر بنگلورو، نوئڈا، ممبئی، چینئی، حیدرآباد اور پونے پر رہی۔ اس کاسب سے بڑا اثر یہ ہوا کہ آئی۔ٹی انڈسٹری ملازمت کا سب سے بڑا ذریعہ بنا۔ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر کے میدان میں لگا تار ترقی ہی ہندوستان کی ITانڈسٹری کی کامیابی ہے۔

شکل 6.9 : روپ نرائن پور(مغربی بنگال) میں ایچ سی ایل کا تار تیار کرنے کا کارخانہ
صنعتی آلودگی اور ماحولیاتی انحطاط
اگرچہ ہندوستان کی اقتصادی ترقی میں ان صنعتوں کا ایک اہم حصہ ہے لیکن پھر بھی ان کارخانوں کی وجہ سے زمین، پانی، فضا میں آلودگی اور شوروغل میں اضافے اور نتیجتاً ماحولیات میں آنے والی گراوٹ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ کارخانے چارقسم کی — (a)فضائی (b) آبی (c) زمینی اور (d) صوتی— آلودگیوں کے ذمہ دار ہیں۔ آلودگی پھیلانے والے کارخانوں میں تھرمل پاور پلانٹ بھی شامل ہیں۔
فضائی آلودگی :
فضائی آلودگی نامناسب گیسوں کی بڑی مقدار میں موجودگی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ جیسے سلفرڈائی آکسائیڈ، کاربن مونوآکسائیڈ، فضا میں جلے ہوئے مادے، ٹکڑوں میں ٹھوس اور سیال اجزا جیسے۔ دھول، اسپرے، دھوئیں شامل ہوتے ہیں۔ کاغذ اور کیمیکل فیکڑیاں، اینٹ بنانے والی بھٹی، ریفائنری اور پگھلانے والے پلانٹ، چھوٹی اور بڑی ان فیکٹریوں میں جو کہ آلودگی کے قواعد کو نظر انداز کرتی ہیں۔ فوسل فیول کے جلنے کی وجہ سے دھواں خارج ہوتا ہے۔ ٹاکسک گیس کا خارج ہونا بہت ہی خطرناک طریقے سے اثر انداز ہوسکتا ہے۔ کیاآپ کو بھوپال گیس حادثہ کے بارے میں معلوم ہے؟ فضائی آلودگی مختلف طریقے سے انسانوں، جانوروں، پودوں، عمارتوں اور ماحول پر مجموعی طور پر اثر انداز ہوتی ہے۔
آبی آلودگی:
آبی آلودگی نامیاتی اور غیر نامیاتی صنعتی فضلات اور ردّی کی وجہ سے پھیلتی ہے جو کہ دریاؤں میں ڈالی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں وہ کارخانے قابل الزام ہیں جوکاغذ کاگود کیمیکل، ٹیکسٹائل اور رنگ بناتے ہیں ۔پٹرولیم ریفائینریاں، چمڑہ تیار کرنے والے اور رنگنے والے کارخانے اور ملمّع سازی کرنے والے کارخانوں کا جو کہ رنگ، دھلائی کے صابن، تیزاب، نمک اور بھاری دھات جیسے، سیسہ، پارہ اور کیڑے مار دوائیاں، کاربن سے بنے سینتھٹک کیمیکل، پلاسٹک اور ربر وغیرہ پانی میں پھینکتے ہیں۔فلائی ایس، فوسفو، جپسم، لوہے اور اسٹیل چرک دھات ہندوستان کے زیادہ تر ٹھوس فضلات ہیں۔
تھرمل آلودگی (حرارتی آلودگی):
پانی کی حرارتی آلودگی اس وقت ہوتی ہے جبکہ فیکٹریوں اور تھرمل پلانٹ کا گرم پانی ٹھنڈا کرنے سے پہلے دریائوں اور تالابوں میں خارج کیا جاتا ہے۔ آبی زندگی پر اس کا کیا اثر ہوگا۔
نیوکلیائی پاور پلانٹ کے فضلات نیوکلیائی اور اسلحہ جاتی صنعتی سہولیات کینسر، وضع حمل میں کمزوریاں اور سقوط حمل کا سبب ہیں۔زمینی اور آبی آلودگی کے باہمی قریبی رشتے ہیں۔ ردّیوں خاص طور سے شیشہ، نقصان دہ کمیکل، صنعتی کوڑا کرکٹ، لفافہ سازی، نمک اور ردیاں زمین کو ناقابل استعمال بنا دیتے ہیں۔ بارش کا پانی زمین پر آلودگی والی چیزوں کو لے کر زمین پر گرتا ہے اور زمین کا پانی بے کار ہوجاتا ہے۔

ہندوستان : سافٹ ویئر ٹکنالوجی پارک
صوتی آلودگی :
صوتی آلودگی سے صرف چڑچڑاپن اور غصہ ہی نہیں آتا بلکہ اس کی وجہ سے قوت سماعت میں کمی، حرکت قلب اور بلڈ پریشر کی تیزی بھی پیدا ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے جسمانی اثرات بھی ہوسکتے ہیں۔ غیر ضروری آواز، چڑ چڑاپن پیدا کرنے والی اور ذہنی دبائو کا سبب ہوتا ہے۔ صنعتی اور تعمیراتی سرگرمیاں مشینی کام فیکٹری کے آلات جنریٹر، ہوائی اور کہربائی ڈریل بھی بہت زیادہ آواز پیدا کرتی ہیں۔
ماحولیاتی انحطاط پر قابو
ہماری صنعتوں کے ذریعے سے خارج ہونے والا ہر ایک لیٹر ضائع شدہ پانی آٹھ گنا تازہ پانی کو آلودہ کردیتا ہے۔ کس طرح سے تازہ پانی کی صنعتی آلودگی کو کم کیا جائے۔ چند تجویزیں درج ذیل ہیں:
1۔ دو یا دو سے زیادہ لگاتار مرحلوں میں گردش دے کر اور دوبارہ استعمال کرکے پروسیسنگ کے لیے استعمال والے پانی کو کم سے کم کرنا۔
2۔ پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بارش کا پانی اکٹھا کرنا۔
3۔ گرم پانی اور فضلہ کو دریاؤں اور تالابوں میں ڈالنے سے پہلے صاف کرنا۔ صنعتی فضلات کی صفائی تین مرحلوں میں ہوسکتی ہے۔
(a) میکانیکی آلات کے ذریعے ابتدائی صفائی۔ اس میں اسکریننگ، پسائی،رسوبی اور تہ نشینی شامل ہیں۔
(b) ثانوی صفائی حیاتیاتی عمل کے ذریعے۔
(c) تیسری صفائی حیاتیاتی کیمیائی اور طبیعاتی عمل کے ذریعے۔ اس میں ضائع شدہ پانی کی از سرنو گردش شامل ہے۔
صنعتوں کے ذریعے سے زیر زمین آبی ذخائر کو زیادہ کھینچنا جبکہ زمینی آبی ذخائر کو ختم ہونے کا خطرہ لا حق ہو۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ اس کو قانونی طور سے عمل میں لایا جائے۔ فضا میں پائے جانے والے رقیق مادے دھوئیں کے ان فیکٹریوں میں جہاں کہ الکٹرو اسٹیٹ والے بارندہ، فیبرک فلٹر، جھاڑ جھنکار والے اور، انرشیل سیپریٹر والے کارخانوں میں دھوئیں والے چٹانی جزبٹر فٹ کرکے گھٹائے جاسکتے ہیں۔ دھوئوں کو فیکٹریوں میں کوئلے کے بجائے گیس یا تیل استعمال کرکے کم کیا جاسکتا ہے۔مشینی کام اور آلات استعمال کیے جاسکتے ہیں اور جنریٹروں میں سائلنسر لگایا جانا چاہیے۔ تقریباً تمام مشینوں کو نئے انداز میں دوبارہ بنایا جاسکتا ہے تاکہ قوت کی اثر اندازی اضافہ ہو اور شوروغل میں کمی آئے۔ شوروغل کو جذب کرنے والے مادے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ذاتی ائر پلک اور ائرفون کا بھی استعمال ہوسکتا ہے۔ لگاتار ترقی کا چیلنج اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ مدغم اقتصادی ترقی بھی ہو اور ساتھ ہی ساتھ ماحولیات پر بھی توجہ ہو۔

شکل 6.10 : جمنا کو صاف کرنے کے تحت فرید آباد میں میلا صاف کرنے کا پلانٹ
NTPCراستہ دکھاتی ہے
ہندوستان میں توانائی فراہم کرنے والی بڑی پاور کارپوریشن ہے اس کے پاس (Environment Management System) EMS 14001کے لیے ISOکی توثیق (Certification) بھی ہے۔ کارپوریشن کے پاس قدرتی ماحولیات اور ذخائر جیسے پانی، تیل، گیس اور ایندھن کی حفاظت کے لییٔ وہاں ایک پیش اقدامی کوشش بھی ہے جہاں وہ اپنا پاور پلانٹ نصب کرتی ہے۔ یہ سب کرنے سے ممکن ہوسکا ہے:
(a) تازہ ترین تکنیک کو اختیار کرکے آلات کا زیادہ سے زیادہ استعمال اور موجودہ آلات کو جدید ترین بناتے رہنا۔
(b) راکھ کے زیادہ سے زیادہ استعمال کے ذریعے فضلات کو کم سے کم پیدا کرنا۔
(c) ماحولیاتی توازن کو بنانے اور قائم رکھنے کے لیے ہری پیٹی (سبزہ زار) مہیا کرنا اور شجر کاری کے لیے مخصوص گاڑیوں کے سوال پر توجہ دینا۔
(d) راکھ کے گڈھوں کا صحیح انتظام کرنا،جس سے ماحولیاتی راکھ ملے پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کا نظام (آبی خاکترگردش نو نظام) اورسیال ضائع شدہ اشیا کے نظم ونسق کے ذریعہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنا۔
(e) تمام بجلی گھروں پر ماحولیات کی نگرانی، اور آن لائن ڈاٹا بیس نظام قائم کرنا۔

شکل 6.11 : راما گنڈم پلانٹ
مشقیں
سرگرمی
منصوبہ بند عمل (پروجیکٹ ورک)
سرگرمی
| I | S | A | N | A | R | A | V | P | G | G | G |
| V | W | Q | M | K | X | G | P | I | J | O | U |
| N | E | E | N | A | C | R | A | G | U | S | K |
| R | T | P | O | V | Z | O | N | O | T | T | O |
| U | I | A | L | I | H | B | U | L | E | U | A |
| N | L | R | T | N | Q | A | R | C | O | K | T |
| J | S | L | E | E | T | S | N | O | R | I | E |
| Y | R | L | T | I | P | E | O | N | A | N | E |
| A | T | D | G | A | R | D | J | U | N | A | G |
| Y | P | E | U | P | A | O | P | R | A | T | N |
| K | S | Y | I | D | J | N | E | A | N | S | A |
| G | K | S | H | J | A | I | L | V | H | M | S |