7
قومی معیشت کی شہ رگیں
(LIFE LINES OF NATIONAL ECONOMY)
ہم لوگ روز مرہ کی زندگی میں مختلف قسم کی اشیا اور خدمات کا استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ہمارے اطراف میں پائی جاتی ہیں۔ جبکہ ضروریات کی دوسری چیزیں دوسری جگہوں سے منگائی جاتی ہیں۔ سامان اور خدمات فراہمی کی جگہ سے مانگ والی جگہ تک ازخود نہیں چلی جاتیں بلکہ انہیں فراہمی والے مقام سے مانگ والے مقام تک پہنچانے کے لیے نقل وحمل کی ضرورت پڑتی ہے۔ کچھ لو گ اس نقل وحمل کو تیز کرنے کے کام میں مشغول ہوتے ہیں اور تجارت کا کام انجام دیتے ہیں جو تاجر کہلاتے ہیں جو اشیا کو صارفین تک نقل وحمل کے ذریعہ پہنچاتے ہیں۔ اس طرح کسی ملک کی ترقی کا دارو مدار اس ملک کے سامانوں اور خدماتی پیداوارکی مقدار پر منحصر کرتا ہے۔ اس طرح نقل وحمل کے کار گزارذرائع تیز رفتار ترقی کے لیے ضروری ہیں۔
ان سامانوں اور خدماتِ نقل وحمل کے لیے خاص طور پر ہماری زمین تین سرگرمیوں پر منحصر کرتی ہے : زمین، پانی او رہوا۔ انہیں تین چیزوں کے مدنظر نقل وحمل کو بھی تین حصوں میں تقسیم کیاجاسکتا ہے۔ مثلا ً زمینی نقل وحمل، آبی نقل وحمل اور ہوائی نقل وحمل۔
لمبے عرصے کے لیے،تجارت اور نقل وحمل محدود تھے لیکن علوم وفنون کی ترقی کے ساتھ ساتھ تجارت اور نقل وحمل کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔ آج پوری دنیا ایک گائوں کی شکل میں تبدیل ہوچکی ہے اور اس میں سب سے اہم رول ذرائع نقل وحمل کا ہے۔ نقل وحمل نے اپنی یہ ترقی ذرائع ترسیل کی ترقی کی مددسے حاصل کی ہے۔ اس طرح نقل وحمل، ترسیل اور تجارت— تینوں ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہیں۔
آج کل ہندوستان اپنے وسیع و عریض رقبہ، لسانی،سماجی اور ثقافتی رنگارنگی کے باوجود دنیا کے دوسرے حصوں سے اچھی طرح سے جڑ چکا ہے۔ ریلوے، ہوائی و سمندری راستے،اخبارات، ریڈیو، ٹیلی ویژن، سنیما اور انٹرنیٹ وغیرہ مختلف طریقوں سے سماجی و معاشیاتی ترقی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ داخلی و بین الاقوامی تجارت ہندوستان کی معاشیات میں مزید مضبوطی لارہی ہے۔ اس نے ہماری روز مرہ کی زندگی کو بہتر بنایا ہے او ر زندگی کی آسائشوں او رسہولتوں میں بڑا اضافہ کیا ہے۔
اس باب میں آپ دیکھیں گے کہ جدید نقل وحمل اور ترسیل کے ذرائع کس طرح ہمارے ملک اور اس کی جدیدمعیشت کے لیے شہ رگ کا کام کررہے ہیں۔ اس طرح یہ ظاہر ہے کہ نقل وحمل اورذرائع ترسیل کا ایک گھنا اور کارگرجال آج کی داخلی بین الاقوامی اورعالمی تجارت کے لیے اولین شرط ہے۔

نقل و حمل کے ذرائع
ہوائی
آبی
زمینی
ہوائی۔ بین الاقوامی، ملکی ہوائی راستے، سرکاری ادارہ، پرائیویٹ ائر لائنس
آبی۔ سمندر پار، اندرون ملک
زمینی۔ پائپ لائن، ریل، سڑک
بین الاقوامی ہوائی کمپنیاں
نجی ہوائی کمپنیاں
شکل 7.1
نقل وحمل
سڑک:ہندوستان پوری دنیا میں سڑکوں کے جال کے معاملہ میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ ہندوستان میں سڑکیں ریل کے مقابلے زیادہ وسیع ہیں۔ سڑک، ریل کی بہ نسبت زیادہ آسانی سے بنائی جاسکتی ہے اور اس کا رکھ رکھاؤبھی آسان ہے۔ ریل کے مقابلے سڑک کی اہمیت نقل وحمل میں زیادہ ہے جس کی کئی وجوہات ہیں۔ مثلا: (a) سڑکوں کو بنانے میں ریل کے مقابلے کم لاگت آتی ہے۔ (b) سڑکوں کو ریل کے مقابل کہیں پر بھی اور کسی بھی زاویہ پر موڑا جاسکتا ہے۔ (c) سڑکوں کو ریل کے مقابلے زیادہ آسانی سے پہاڑی ڈھلانوں پربھی بنایا جاسکتاہے۔یہاں تک کہ ہمالیہ پہاڑ کے علاقہ میں بھی۔ (d) سڑکوں کے ذریعہ لوگوں اور سامانوں کو کم دوری کی جگہوں پر کم خرچ میں لایا اور لے جایا جاسکتا ہے۔ (e) سڑکوں کے ذریعہ گھر گھر خدمات انجام دی جاسکتی ہیں اور اس کے ذریعہ مال کے لانے اور لے جانے میں خرچ بھی کم آتا ہے۔ (f) سڑک نقل وحمل کا ایک ایسا ذریعہ ہے جس کی مدد سے دوسرے ذرائع کو بھی جوڑا جاسکتا ہے۔ مـثلًا: سڑکوں کے ذریعہ ریلوے اسٹیشن، ہوائی اڈہ اوربندرگاہ تک آسانی سے جایا جاسکتا ہے۔
ہندوستان میں سڑکوں کو،ان کی استعداد اوراہمیت کے اعتبار سے، مختلف چھ حلقوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ آپ ہندوستان کی قومی شاہراہوں کو نقشے میں دیکھیں اور ان کی اہمیت معلوم کریں۔
• (گولڈن کو اڈری لیٹرل سپر ہائی ویز) سنہری چو طرفہ اعلیٰ ترین شاہراہیں :
سرکار نے سڑکوں کی تعمیر کے لیے ایک بڑا خاکہ پیش کیا ہے جس کے ذریعہ دہلی، کولکاتہ،چنئی، ممبئی اور دہلی کو چھ عظیم شاہر اہوں سے جوڑا جائے گا۔ شمال۔ جنوب کنارے کو سری نگر (جمّوں و کشمیر) اور کنیا کماری (تمل ناڈو) اور مشرق۔ مغرب کنارہ کو سلچر (آسام) او رپور بندر (گجرات) سے جوڑا جائے گا۔ اس شاہراہ کی تعمیر کا خاص مقصد شہروں کے درمیان مسافت کا وقت اور دوری کو کم کیا جاناہے۔یہ پروجیکٹ نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا (این۔ایچ۔اے۔ آئی) کے ذریعہ مکمل کیا جائے گا۔
• قومی شاہراہیں :
قومی شاہراہیں ملک کے دور دراز حصوں کو جوڑتی ہیں۔ یہ بنیادی سڑک نظام ہیں اور ان کے رکھ رکھاؤ کا کام سنٹرل پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ (سی۔پی۔ڈبلیو۔ڈی) کے زیر نگرانی ہوتا ہے۔ ہندوستان کی زیادہ تر قومی شاہرا ہیں شمال۔ جنوب اور مشرق۔ مغرب کی جانب ہیں۔ ایک تاریخی قومی شاہراہ ’’شیر شاہ سوری مارگ‘‘ کو قومی شاہراہ نمبر1کے نام سے جانا جاتا ہے جو دہلی اور امرت سر کے بیچ ہے۔

شکل 7.2: احمد آباد۔ ودودرا شاہراہ
سرگرمی
قومی شاہراہ نمبر۔2 اور 3کو جوڑنے والے مقامات کو تلاش کریں۔
• ریاستی شاہراہیں:
وہ سڑکیں جو کسی ریاست کی راجدھانی کو مختلف ضلعوں اور ہیڈکوارٹروںسے جوڑتی ہیں انہیں ’’ریاستی شاہراہیں‘‘ کہتے ہیں۔ ان سڑکوں کی تعمیر اور رکھ رکھائو اسٹیٹ پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ (پی۔ڈبلیو۔ ڈی) کے زیرنگرانی کیا جاتا ہے۔
• ا ضلاعی سڑکیں :
یہ سڑکیں ضلع کے ہیڈ کوارٹر کو مختلف جگہوں سے جوڑتی ہیں اوران کی مرمت و دیکھ بھال کی ذمہ داری ضلع پریشد کی ہوتی ہے۔
• دوسری سڑکیں:
گاؤں کی سڑکیں جو ایک گاؤں کو دوسرے گاؤں اور شہروں سے ملاتی ہیں۔ ان سڑکوں کی مرمت تعمیر اور دیکھ بھال کی ذمہ داری ’’وزیر اعظم گرامین سڑک یوجنا‘‘ کے زیرنگرانی کی جاتی ہے۔ اس پروگرام کو خاص انتظام کے تحت اس لیے رکھا گیا ہے تاکہ ملک کے تمام گاؤں دوسری جگہوں اور شہروں سے جڑ سکیں تاکہ ہر موسم میں آمدورفت آسانی سے ہوسکے۔

ہندوستان : شاہراہیں
•سرحدی سڑکیں:
اس کے علاوہ سرحدی سڑکیں حکومت ہند کی خاص تنظیموں کے تحت آتی ہیں۔ اور ان کی تعمیر،مرمت و دیکھ بھال کی ذمہ داریاں سرکاری تنظیموں کی ہیں۔ہندوستان کی سرحدی سڑک تنظیم کی بنیاد 1960میں رکھی گئی۔ اس کا خاص مقصد تھا شمال اور شمال۔ مشرق میں سڑکوں کی ترقی کا کام کرنا۔ اس علاقے کی سرحدی سڑکوں نے یہاں کی نقل وحمل کی دقتوں کو دور کرنے اوراس علاقہ کی معاشیات کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

شکل 7.3: پہاڑی راستے۔

شکل 7.4: شمال۔مشرق سرحدی سڑک پر آمدورفت (اروناچل پردیش)
سڑکوں کو ان کی بناوٹ اور تعمیر میں استعمال ہونے والی اشیا کے تحت بھی دو حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ڈامر کی سڑکیں اور بنا ڈامر کی سڑکیں۔ فلزاتی سڑکیں سمنٹ،بجری اور تارکول سے بنائی جاتی ہیں۔یہ سڑکیں ہر موسم میں کار آمد ہوتی ہیں جبکہ بنا ڈامر کی سڑکیں کچی ہوتی ہیں اور برسات کے موسم میں استعمال نہیں ہوسکتیں۔
ریل
ریلوے ہندوستان میں سامان اور لوگوں کے نقل وحمل کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ریلوے کے ذریعہ مختلف اقسام کی تجارت کی ترقی دی جاتی ہے۔ ریلوے کے ذریعہ قابل دید مقامات کی سیر ومذہبی مقامات کی زیارت کے ساتھ ساتھ سامان کودور درازمقامات تک لایا اورلے جایا جاتاہے۔ ریلوے نقل وحمل کے ایک اہم ترین ذرائع کے علاوہ 150 سالوں سے ملکی اتحاد کا بڑا کام کررہی ہے۔ ہندوستان میں ریلوے نے ملک کی معاشی زندگی کو جوڑنے کے ساتھ ساتھ ملک کی صنعت وکاشت کاری میں بھی اہم کردار اداکیاہے۔
ہندوستانی ریلوے ملک کا سب سے بڑا سرکاری سرمایہ کا ادارہ ہے۔ ہندوستان میں سب سے پہلے بھاپ انجن سے چلنے والی ٹرین 1853 میں ممبئی سے تھانے تک تقریباً 34 کلومیٹر دوری طے کرنے والی ٹرین تھی۔
اب ہندوستان کے ریلوے کو16 حلقوں میں تقسیم کیاگیا ہے۔
سرگرمی
آپ موجودہ ریلوے علاقوں اوران کے ہیڈ کو اٹر کومعلوم کریں۔ آپ ریلوے حلقوں کے ہیڈ کواٹر کو ہندوستان کے نقشہ پر درج بھی کریں۔
ملک میں ریلوے جال کی تقسیم زیادہ ترز مین کی بناوٹ،معاشی اورانتظامی عناصر کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ شمالی میدان میں زمین کی ایک چوڑی پٹی ہے۔ یہاں گھنی آبادی اور زراعتی وسائل موجود ہیں جو ریلوے کی تقسیم کی ترقی کے لیے ساز گار ہیں۔ اگرچہ ایک بڑی تعداد میں ندیا ں بھی ہیں جن پر پل بنانا دشوار ہے۔ پہاڑی علاقوں میں ریلوے پٹری چھوٹی پہاڑیوں اور سرنگوں یا دروں میں بنائی گئی ہیں۔ ہمالیہ کا پہاڑی سلسلہ بھی ریلوے کے لیے ایک دشوار مقام ہے۔ یہاں اونچی نیچی زمین، کم آبادی اورکم معاشی مواقع —اس دشواری کے اہم ترین عناصر ہیں۔ اس کے علاوہ مغربی راجستھان کے ریتیلے میدان میں بھی ریلوے لائن بنانا دشوار ہے۔ گجرات کی کھاڑی اور مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ،اڑیسہ اور جھار کھنڈ کا جنگل بھی ریلوے لائن کی تعمیر میں دشواری کے اہم سبب ہیں۔ سہ یادری پہاڑوں کا تسلسل صرف دروں یا گھاٹوں کے ذریعہ ہی پار کیا جاسکتاہے۔ دورِ حاضرہ میں کونکن ریلوے کی ترقی مغربی کنارے پر سامان اور لوگوں کی نقل وحمل اس خطے کی معاشی ترقی کے ایک اہم سبب ہیں۔ اس ریلوے لائن نے وقتاً فوقتاً زمین کھسکنے (ڈہاکا)اور کچھ مقامات پر لائن کے دھنس جانے جیسی مختلف دقتوں کا سامنا کیا تھا۔
جدول7.1: ہندوستان: ریلوے پٹریاں
ہندوستانی ریلوے کے جال متعدد شاخوں اور پٹریوں میں تقریباً, 66687 کلومیٹر کی لمبائی میں پھیلا ہوا ہے اس میں میٹرو بھی شامل ہے۔
| میٹرو میں چوڑائی | راستے | زیر استعمال پٹریاں مجموعی ہٹریاں ( کلومیٹر ) |
| بڑی لائن ( 1.676) چھوٹی لائن ( 1.000 ) تنگ لائن 0.762 اور 0.610 |
60510 3880 2297 |
85614 112388 4747 2495 4170 2297 |
| کل | 66687 | 92081 119630 |
ماخذ: ائربک 16-2015
پائپ لائن
پائپ لائن کے ذریعہ ہندوستان کے نقل وحمل میں ایک جدید اضافہ ہواہے۔ پرانے دورمیں یہ پائپ لائن شہروں اور صنعتوں میں پانی پہچانے کے کام میں استعمال ہوتی تھیں۔ اب یہ کچاتیل،پٹرولیم کی اشیا اور قدرتی گیس کی نقل وحمل میں استعمال ہوتی ہیں۔ ان سامانوں کو پیداوار کے مقام سے تیل صاف کرنے کے کارخانوں تک اور وہاں سے کیمیائی کھاد اوربجلی پیداکرنے کے پلانٹوں تک پہنچایاجاتا ہے۔ٹھوس مادوں کو بھی پگھلا کر ان پائپ لائنوں کے ذریعہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک آسانی سے لے جایا جاسکتا ہے۔ مثلاً: دور کی جگہوں میں مختلف صنعت جو برونی،متھرا،پانی پت وغیرہ مقام پر انہیں پائپ لائنوں کے ذریعہ کیمیائی گیس پہنچائی جاتی ہے۔شروعات میں ان پائپ لائنوں کی تعمیر کا کام مہنگا ہے لیکن بعد میں اس کے ذریعہ نقل وحمل کا خرچ آسان ہے۔
ملک میں خاص طور سے تین پائپ لائن کا جال موجود ہے جو نقل وحمل کے کام میں مشغول ہے
• اوپری آسام کے تیل کے میدانی حصے سے کانپور (اتر پردیش) بذریعہ گوہاٹی۔برونی اور الہ آباد تک۔ اس کی شاخیں برونی سے ہلدیا تک بذریعہ راج بندھ سے موری گرام اور گوہاٹی سے سیلی گوڑی تک پھیلی ہوئی ہیں۔

کشمیر گھانی میں بنیہال سے بارہ مولہ ریلوے لائن کا اضافہ کیا گیا ۔ آپ ہندوستان کے نقشہ میں ان جگہوں کی نشان دہی کیجیے۔
• گجرات کے سلایہ سے پنجاب کے جالندھر تک بذریعہ ویرمگام، متھورا، دھلی اور سونی پت تک۔ اس کی شاخیں کو یالی(گجرات کے ودودرا کے نزدیک) چکشو اور دوسری جگہوں کو جوڑتی ہیں۔
• گیس پائپ لائن گجرات کے ہزیرہ سے اترپردیش کے جگدیش پور تک براہ مدھیہ پردیش کے وجے پور تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس کی شاخیں راجستھان کے کوٹہ اور اترپردیش کے شاہ جہاں پور ببرالا اور دوسری جگہوں کو جوڑتی ہیں۔
آبی راستے
قدیم دور سے ہندوستان ایک بحری ملک رہا ہے۔ اس کے ملاح لوگ دور اور نزدیک کا سفر کرتے تھے اور اس طرح ہندوستان کی تجارت وثقافت کو پھیلاتے تھے۔دریائی راستے نقل وحمل کا ایک سستا ذریعہ ہیں۔ یہ بھاری سامانوں کو لانے لے جانے کا سب سے بہتر ذریعہ ہے۔ یہ نقل وحمل کا ایک ایندھن بچانے کا والا ماحول دوست ذریعہ ہے۔ ہندوستان میں اندورنی جہاز رانی والے راستوں کی لمبائی 15,000 کلومیٹر ہے جن میں صرف 5685 کلومیٹر کی دوری میں مشینی جہاز چلتے ہیں۔ ہندوستان کی سرکارنے مندرجہ ذیل دریائی راستوں کو’’ قومی دریائی راستے‘‘ مانا ہے۔

شکل 7.5: اندرونی آبی راستے زیادہ ترشمال۔ مشرق ریاستوں میں واقع ہیں۔
• گنگاندی الہ آباد سے ہلدیا کے بیچ (1620 کلومیٹر) قومی آبی راستہ۔ نمبر1-
• برہم پترندی سادیا اوردھبری کے بیچ (891 کلومیٹر )۔ قومی آبی راستہ نمبر2-
• مغربی ساحلی کنارہ کیرل میں (کوٹا پورما۔ کولم، ادیوگ منڈل اور چمپا کرانہر۔205 کلومیٹر)۔ قومی آبی راستہ نمبر3-
• دیگر خاص آبی راستے گوداوری اور کرشنا ندی کے ساتھ کاکی ناڈا پڈوچیری نہر کا علاقہ ہے۔ (1078کلومیٹر)۔ قومی آبی راستہ نمبر4-
• دیگر آبی راستوں میں برہمنی ندی کے ساتھ ساتھ متائی ندی،مہاندی اور برہمنی ندی کے ڈیلٹا چینل اور مشرقی ساحلی نہر کا علاقہ ہے۔ (588کلومیٹر)۔قومی آبی راستہ نمبر 5-
اور ان کے علاوہ کچھ جزیرے ہیں جن تک رسائی کے لیے آبی راستوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ان میں مانڈوی، زوآری، کمبرجوا، سندربن ساحل ، براک اور بیک واٹر آف کرالہ ہے۔
ان کے علاوہ ہندوستان میں بیرونی تجارت کے لیے بہت ساری بندرگاہیں ساحلی علاقوں میں واقع ہیں۔ 95 فی صد ملک کی تجارت (68 فی صد منافع کی نقطہ نظر سے)انہیں سمندری راستوں پر منحصر ہیں۔
ملک کی خاص بڑی بندرگاہیں
ہندوستان میں ساحل کی لمبائی 7516.6 کلومیٹر ہے۔ یہاں12 بڑی اور187 بڑے اور چھوٹے سائزکی بندرگاہیں ہیں۔بڑی بندرگاہیں ہندوستان کی تقریباً95 فی صد بیرونی تجارت کو انجام دیتی ہیں۔
کچھ میں کاندلابندرگاہ جسے دین دیال بندرگاہ بھی کہا جاتاہے، ہندوستان کی پہلی بندرگاہ ہے جو آزادی کے فوراً بعد وجود میں آئی۔ یہ ممبئی سے بیرونی تجارت کاکام انجام دینے لگی اور اس نے پاکستان کے کراچی بندرگاہ کی کمی کو پورا کیا۔کاندلا ایک مدوجزروالی بندرگاہ ہے۔ اس کے ذریعہ ا ناج اور صنعتی چیزوں کو جموںو کشمیر، ہماچل پردیش، پنجاب، ہریانہ، راجستھان اور گجرات کی صنعتی پٹی سے تجارت کی برآمد اور درآمدی کا کام انجام دیاجاتا ہے۔

شکل 7.6: ٹرک سمندری جہاز میں داخل ہوتے ہوئے
ممبئی ہندوستان کا سب سے بڑا بندر گاہ ہے جو قدرتی اور حفاظتی نقطۂ نظر سے اہم ہے۔جواہر لال نہرو بندرگاہ کا منصوبہ ممبئی بندرگاہ میں بھیڑ بھاڑ کم کرنے کی غرض سے تیار کیاگیا تھا۔ ساتھ ہی اس کو اس علاقہ کی مرکزی بندرگاہ بنانا مقصود تھا۔مُرما گاؤں بندرگاہ (گوا)خاص طور سے خام لوہا برآمدی تجارت کے لیے ملک میں اہم مقام رکھتا ہے۔ یہاں سے ہندوستان کے کل 50 فی صد خام لوہا کی برآمدی تجارت کی جاتی ہے۔ نئی منگلور بندرگاہ (کرناٹک) کندری مکھ لوہے کی کان سے کچا لوہا برآمد کرنے میں مشغول ہے۔ کو چی بندرگاہ بالکل جنوب مغرب میں واقع ہے جوبحری جھیل کی وجہ سے ایک قدرتی بندرگاہ ہے۔

شکل 7.7: نیو منگلور بندرگاہ پر ایک تیل بردار جہاز خام تیل خالی کرتے ہوئے۔
مشرقی ساحلی کنارے پر گھومتے ہوئے، آپ جنوب۔مشرق کی جانب ٹیو،ٹی رین بندرگاہ دیکھ سکتے ہیں جو تمل ناڈو میں واقع ہے۔ یہ ایک قدرتی بندرگاہ ہے اور اس کا داخلی علاقہ بہت وسیع ہے۔ اس بندرگاہ کے ذریعہ پڑوسی ممالک مثلا: سری لنکا، مالدیپ وغیرہ اور ہندوستان کے ساحلی علاقوں کی تجارت بخوبی انجام دی جاتی ہے۔ چنئی ہندوستان کے بندرگاہوں میں سے ایک سب سے پرانا مصنوعی بندرگاہ ہے۔ ملک میں تجارت اور بار برداری کے نظر یہ سے ممبئی کے بعد دوسرا مقام رکھتا ہے۔ وشاکھا پٹنم ایک گہرا زمین سے گھرا ہوا اورمحفوظ بندرگاہ ہے۔ یہ بندرگاہ خاص طور سے کچے لوہے کی تجارت کا کام انجام دیتا ہے۔ پارادیپ بندرگاہ اڈیشہ میں واقع ہے جو خاص طور سے کچے لوہے کی برآمدکے لیے مشہور ہے۔ کولکاتہ ایک اندرونی دریاٹی بندرگاہ ہے۔ یہ بندرگاہ بہت بڑے داخلی علاقے جیسے: گنگا۔ برہم پتربیسن میں اپنا کام انجام دیتا ہے۔ یہ ایک مدوجزربندرگاہ ہے جس میں مسلسل صدفے کی صفائی کی جاتی ہے۔ ہلدیا بندرگاہ کو ایک معاون بندرگاہ کی شکل میں بنایا گیا ہے تاکہ کولکاتا بندرگاہ سے بڑھتے ہوئے تجارتی بوجھ کو کم کیا جاسکے۔

شکل 7.8: ٹیو،ٹی کورین بندرگاہ بر بھاری بار برداری کا کام انجام دیتے ہوئے۔
ہوائی راستے
آج کل ہوائی راستہ سب سے تیز، آرام دہ اورباوقار نقل وحمل کا ذریعہ ہے۔ یہ بہت آسانی سے اونچے اونچے پہاڑ وں،گھنے جنگلوں اور سمندری علاقوں کو پار کرسکتا ہے۔ آپ سوچیے کہ شمال۔ مشرق حصے میں بڑی ندیاں، گھاٹی، گھنے جنگل، سیلاب اور بیرونی ممالک کی سرحدیں ہیں جن کا سفر ہوائی راستے کی غیر موجودگی میں کافی دشوارہوتا لیکن ہوائی راستہ نے اسے بے حد آسان بنادیا ہے۔

لوگ شمال— مشرقی ریاستوں میں ہوائی سفرکو کیوں زیادہ پسند کرتے ہیں؟
شکل 7.9
ایئر انڈیا داخلی بین الاقوامی ہوائی نقل وحمل کو انجام دیتا ہے۔ پون ہنس ہیلی کو پٹر سروس تیل اور قدرتی گیسوں کو ساحلی علاقوں میں پہنچانے کا کام انجام دیتا ہے۔ مثلا: شمال۔ مشرق ریاستوں اور جمّوں وکشمیر، ہماچل پردیش اور اترآنچل کے اندرونی اور دشوار گزار علاقوں میں اس کے ذریعہ نقل وحمل کا کام انجام دیاجاتا ہے۔انڈین ایرلائنس ملک کے ساتھ ساتھ پڑوسی ممالک مثلاً: جنوب اور جنوب۔ مشرق سطیٰ کے ممالک میں نقل وحمل کا کام انجام دیتی ہے۔
آپ ان ملکوں کے نام تلاش کیجیے جو ایئرانڈیالائنس سے جڑے ہیں۔
ہوائی سفر عوام کے درمیان زیادہ مقبول نہیں ہے۔ یہ صرف شمال— مشرقی ریاستوں ہی میںہیں جہاں عوام کے لیے بھی سفر کے لیے خاص سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔
ترسیل یا مواصلات
جب سے انسان زمین پر وجود میں آیا، اس نے مواصلات کے کسی نہ کسی ذرائع کا استعمال کیا۔ لیکن دور جدید میں تیز رفتار تبدیلی ہوئی ہے۔ اب لمبی دوری کی ترسیل بغیر کسی انفرادی وجسمانی حرکت کے بہت آسانی سے بھیجنے او رسننے والے تک کی جاسکتی ہے۔ ذاتی ترسیل اور ابلاغ عامّہ جس میں ٹیلی ویثرن، ریڈیو، پریس، سنیما وغیرہ شامل ہیں، ترسیل کے بڑے ذرائع ہیں۔ ہندوستانی ڈاک کا نظام دنیا کے سب سے بڑے ڈاک جال کا حصہ ہے۔ یہ پارسل اورخطوط ترسیل کو انجام دیتا ہے۔ کارڈ اور لفافہ او ل درجہ کی ڈاک سمجھے جاتے ہیں جو— زمینی اور ہوائی— دونوں جگہوں میں کار آمد ہیں۔ کتابیں، اخبار اور رسالے دوسرے درجہ کی ڈاک ہیں جو زمینی ترسیل اورسمندری ڈاک کا حصہ ہیں۔ بڑے شہروں اور قصبوں میں جلدی ڈاک کی خدمت انجام دینے کے لیے چھ ڈاک چینل حال ہی میں وجود میں آئی ہیں۔ جن میں راجدھانی چینل، میٹرو چینل، گرین چینل تجارتی چینل، ضخیم ڈاک چینل اوروقتی چینل شامل ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
ڈیجیٹل انڈیا ایک ملک گیر پروگرام ہے جس کا مقصد ہندوستان کو معلومات پر مبنی تبدیلی کی طرف لانا ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا اور ادراک کے ساتھ تبدیلی پر زور دیتا ہے جیسے آئی ٹی(انڈین ٹیلنٹ)+ آئی ٹی (انفارمیشن ٹیکنالوجی) =آئی ٹی (انڈیا ٹومارو) اورٹیکنالوجی کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے مثبت تبدیلی کی رہنمائی کرتا ہے۔
ہندوستان کی ٹیلی فون سروس ایشیا کی سب سے بڑی ٹیلی فون سروس ہے۔ شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ دوتہائی علاقہ سبسکرائبرٹرنک ڈائیلنگ(ایس۔ٹی۔ڈی) ٹیلی فون خدمت سے جڑا ہے۔ اپنی صلاحیت وقوت کے مدنظر نچلی سطح سے اورپر تک خبر کی ترسیل آسان ہوگئی ہے۔ سرکار نے ہر گاؤں میں چو بیس گھنٹے خدمت والے ایس۔ٹی۔ڈی کا انتظام کیا ہے۔ پورے ملک میں ایس۔ٹی۔ڈی کی قیمت یکساں ہے۔ یہ کام ملک میں فضائی تکنیک اور ابلاغی تکنیک کی ترقی کے سبب مکمل ہوسکا ہے۔

شکل 10۔7: ہنگامی کال باکس قومی شاہراہ نمبر۔8پر
ابلاغ عامّہ لوگوں کو تفریح کا سامان بھی فراہم کرتا ہے۔مختلف قومی پروگراموں اورپالیسیوں کے بارے میں لوگوں میں بیداری بھی پیدا کرتا ہے۔ ا س میں ریڈیو۔ ٹیلی ویثرن، اخبار، رسالے، کتابیں اور سنیما وغیرہ شامل ہیں۔ آل انڈیا ریڈیو (آکاشوانی) پرمختلف قسم کے قومی، علاقائی اور انفرادی پروگرام بہت ساری زبانوں میں نشر کیے جاتے ہیں جنھیں ملک بھر میں ہر طبقے کے لوگ سنتے ہیں۔ ہندوستان کا قومی ٹیلی ویثرن چینل (دور درشن)دنیا کے بڑے ترسیلی جالوں میں ایک ہے۔ اس پر مختلف قسم کے تفریحی پروگرام و تعلیمی اور کھیل کود سے متعلق پروگرام دکھائے جاتے ہیں جو ہر عمر کے لوگوں کے لیے مفید ہیں۔

ہندوستان: بڑی بندرگاہیں اور بین الاقوامی ہوائی اڈے
ہندوستان میں ایک بڑی تعداد میں رسالے اور اخبار ات شائع کیے جاتے ہیں جو اپنی اہمیت کے اعتبار سے مختلف اقسام کے ہیں۔ ہندوستان میں تقریباً 100 زبانوں اوربولیوں میں اخبارات چھپتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان میں سب سے زیادہ اخبارات ہندی زبان میں چھپتے ہیں۔ اس کے بعد انگریزی اور اردو زبانوں میں ہے۔ ہندوستان میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ فلمیں بنائی جاتی ہیں۔ یہاں چھوٹی فلمیں، ویڈیو فلمیں، ٹیلی فلمیں بھی بنائی جاتی ہیں۔ ملک کا مرکزی فلمی بورڈ ملک کے اندر بیرونی ممالک کی فلموں کو سند دیتا ہے اس کے بعد ہی یہ فلمیں عام جگہوں پر میں دکھائی جاتی ہیں۔
بین الاقوامی تجارت
سامانوں کا لوگوں، ریاستوں اور ملکوں میں آپسی لین دین تجارت کے نام سے جانا جاتاہے۔ بازار ایسی جگہ ہے جہاں ان سامانوں کا لین دین کیا جاتا ہے۔ دو ملکوں کے درمیان تجارت کو بین الاقوامی تجارت کہتے ہیں۔ یہ تجارت سمندری‘ ہوائی اور زمینی راستوں سے کی جاتی ہے جبکہ علاقائی تجارت شہروں، قصبوں اور گاؤں میں ہوتی ہے۔ ریاستی تجارت دو یا اس سے زیادہ ریاستوں کے درمیان ہوتی ہے۔ بین الاقوامی تجارت کی ترقی اس ملک کی معاشی خوش حالی کا ایک اشاریہ ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے تجارت کو ملک کا ایک اقتصادی پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔
چونکہ وسائل مقام سے منسلک ہیں۔ ا س لیے دنیا کا کوئی بھی ملک بغیر بین الاقوامی تجارت کے زندہ نہیں رہ سکتا۔ برآمدات و درآمدات تجارت کی بنیاد ہیں۔ کسی بھی ملک کی تجارت کاتوازن اس کی برآمدات اور درآمدات پر منحصرہوتا ہے۔ جب برآمدات درآمدات سے زیادہ ہوتی ہے تو اسے منافع بخش تجارت کہتے ہیں لیکن ٹھیک اس کے برعکس جب در آمدات بر آمدات سے زیادہ ہوتو اسی منفی تجارت کہتے ہیں۔
ہندوستان دنیا کے ہر بڑے تجارتی مراکز اور جغرافیائی خطہ سے رشتہ رکھتا ہے۔ہندوستان سے دوسرے ممالک میںبرآمد کی جانے والی اشیا میں قیمتی موتی وزیورات،کیمیائی اور متعلقہ اشیا،زراعت اورمتعلقہ اشیا وغیرہ شامل ہیں۔
ہندوستان سوفٹ ویئرٹیکنالوجی میں بین الاقوامی سطح پر ایک بڑا مقام رکھتا ہے اور وہ تجارت کے ذریعہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بر آمد سے بڑا منافع کما رہا ہے۔
سیاحت ایک تجارت کی شکل میں
ہندوستان میں سیاحت نے گزشتہ تین عشروں میں کافی ترقی کی ہے۔ ملک میں15 ملین سے زیادہ لوگ سیاحت کی صنعت سے جڑے ہیں۔ سیاحت بھی ملکوں کے اتحاد،علاقائی دستکاری اور ثقافتی پیشوں کو بڑھاتی ہے۔ یہ بین الاقوامی سطح پر آپسی بھائی چارگی اور میل جول کو بھی بڑھاتی ہے۔ غیرممالک کے سیاح ہندوستان میں تہذیبی عمارات، سیاحت، ماحولیاتی سیاحت، مہمّاتی سیاحت، ثقافتی سیاحت،طبّی سیاحت اور تجارتی سیاحت کے لیے آتے ہیں۔
راجستھان، گوا، جموںو کشمیر اور جنوبی ہندوستان کے مندر—شہر سیاحوں کی خاص منزلیں ہیں۔ شمال-مشرقی ریاستوں میں بھی سیاحت کی ترقی کے پورے امکانات ہیں لیکن کچھ عملی وجہوں سے یہ ترقی نہیں کرسکے ہیں۔ گرچہ،وہاں مستقبل میں اس صنعت کی ترقی کے بھرپور امکانات ہیں۔
سرگرمی
ہندوستان کے نقشے پر اپنی ریاست/مرکزکے زیرحکومت خطہ میں موجود اہم مقامات کی نشان دہی کریں نیز ریل،سڑک اورفضائی راستوں کے ذریعے ملک کے دیگرحصوں سے اس کا رابطہ بھی بتائیں۔
اپنی کلاس میں مذاکرہ کریں:
• آپ کی ریاست /مرکزکے زیرحکومت خطہ میں کس طرح کی سیاحت کافروغ کیا جاسکتاہے اور کیوں؟
• آپ کی ریاست /مرکزکے زیرحکومت خطہ میں کن علاقوں میں سیاحت کا فروغ کیا جاسکتا ہے اورکیوں؟
• پائیدارترقی کے رویّے کو دھیان میں رکھتے ہوئے کسی ریاست کی اقتصادی ترقی میں سیاحت کس طرح معاون ہوسکتی ہے؟

ہندوستان کے تاریخی مقامات کی سیاحت پر ایک پراجیکٹ تیار کیجیے
مشقیں مشقیں مشقیں مشقیں مشقیں
معمہ کے سوالات
سرگرمی یا عملی کام
| G | R | A | M | I | R | U | S | H | A | H | S | R | E | H | S |
| Y | A | L | D | A | T | A | L | E | X | N | R | P | T | R | A |
| X | T | H | G | P | M | Y | A | R | O | P | I | X | M | M | J |
| M | I | A | C | M | K | I | I | A | N | N | N | E | H | C | Y |
| P | C | R | O | P | T | O | S | C | M | L | A | D | C | D | O |
| R | E | N | A | E | L | J | M | J | K | S | G | R | T | P | A |
| O | X | S | A | M | W | M | R | O | P | J | A | T | E | A | R |
| T | O | L | E | G | U | A | G | D | A | O | R | B | S | L | I |
| E | J | A | A | M | Z | K | U | C | E | M | C | L | N | S | A |
| A | N | S | B | I | A | R | A | S | L | A | H | G | U | M | L |
| M | J | A | E | R | O | T | F | Y | A | R | V | T | E | O | G |
| N | I | L | H | Y | A | Y | R | Y | N | M | P | I | A | Q | K |
| A | E | B | W | T | I | U | E | A | T | A | K | L | O | K | Q |
| P | J | P | N | P | R | U | O | M | E | D | K | N | T | I | N |