Skip to content
Maashi Taraqqui Ki Samajh  Chapter-01

مدرس کے لیے ہدایت 

باب 1: ترقی 
ترقی کے بہت سے پہلو ہیں ۔اس باب کا مقصد طلبا کوترقی کے اس تصور کو سمجھنے کا اہل بنانا ہے۔ انھیں یہ سمجھا ناہے کہ ترقی کے موضوع پر لوگوں کے مختلف نظریات ہیں اور ایسے طریقے ہیں جن کے ذریعے ہم ترقی کے لیے مشترک علامتوں پر پہنچ سکتے ہیں اس کے لیے ہمیں ان صورتِ حال کا استعمال کرنا چاہیے جن سے وہ وجدانی انداز میں اس کا جوابی عمل پیش کرسکیں۔ ہمیں تجزیہ بھی پیش کرنا چاہیے جو فطرتاً زیادہ پیچیدہ اور تفصیلی نوعیت کا ہو۔
کچھ منتخب ترقیاتی دلیلوں کا استعمال کرتے ہوئے ملکوں یا ریاستوں کا موازنہ کس طرح کیا جاسکتا ہے ایک سوال یہ بھی ہے جس کے بارے میں طلبا اس باب میں پڑھیں گے۔ معاشی ترقی کی پیمائش کی جاسکتی ہے اور ترقی کی پیمائش کے لیے آمدنی نہایت عام طریقہ ہے۔ تاہم آمدنی کا طریقہ اگر چہ مفید ہے لیکن متعدد خامیاں ہیں ۔لہٰذا ہمیں معیارِ زندگی اور ماحولیاتی تحفظ پسندی کی دلیلوں کا استعمال کرتے ہوئے ترقی پر نئے نئے طریقوں سے نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔
 طلبا سے یہ توقع ضرور رکھیں کہ کلاس روم میں وہ سرگرمی کے ساتھ جواب دیں گے۔ اور ایسے مذکورہ موضوع پر خیالات ورائے میں کافی تنوع اور بحث کا امکان بھی ہوسکتا ہے۔ طلبا کو اپنا نقطۂ نظرپیش کرنے میں دلیل دینے کا موقع دیں ۔ہر سیکشن کے آخر میں کچھ سوالات اور سرگرمیاں دی گئی ہیں ان سے دو مقاصد پورے ہوتے ہیں : پہلے وہ جن سے بحث کیے گئے خیالات کو دہرا سکیں گے دوسرے طلبا کو ان کی حقیقی زندگی سے قریب لانے کے ذریعے بحث کیے گئے مرکزی خیالات کو بہتر طور پر سمجھنے کے اہل بنا سکیں گے۔
اس باب میں کچھ اصطلاحات کا استعمال کیا گیاہے جن کی وضاحت کی ضرورت ہوگی جیسے فی کس آمدنی ،شرح خواندگی ،بچوں کی شرح اموات ، حاضری تناسب، امکان زندگی ، مجموعی اندراج کی نسبت اور انسانی ترقی اعشار یہ ۔ اگر چہ ان اصطلاحات سے متعلق ڈیٹا فراہم کیا گیا ہے تاہم ہمیں مزید وضاحت پیش کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ آپ کو قوت خرید مساوات کے تصور کی وضاحت کی بھی ضرورت ہوسکتی ہے جس کا استعمال جدول 1.6میں فی کس آمدنی کا شمار کرنے کے لیے کیا گیا ہے ۔ یہ بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ ان اصطلاحات کا استعمال مباحثے میں مددگار ہونے کے لیے کیا گیا ہے ۔ یہ یاد کرنے یا رٹنے کی چیز نہیں ہے۔
معلومات کے لیے مآخذ

اس باب کا مواد حکومت ہند کی رپورٹ(Economic survey) اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (Human Development Report) اور عالمی بینک (Development World Indicators) سے ان رپورٹوں کو ہر سال شائع کیا جاتا ہے اگر یہ آپ کے اسکول کی لائبریری میں دستیاب ہیں تو ان کودیکھنا دلچسپ ہوسکتا ہے۔
 اگر آپ کی اسکول لائبریری میں دستیاب نہیں ہے تو ان اداروں کی ویب سائٹ(www.undp.org. www.bugetindia.nic.in; www.worldbank.org) پر لاگ آن کرسکتے ہیں۔
 ڈاٹا ریزروبینک کی ویب سائٹ www.rbi.org میں Hand book of Statistics on Indian Economyسے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

pic 1 maashi taraqqi ki samjh
باب 1
ترقی
ترقی یا بہتری کی طرف آگے بڑھنے کا تصور ہمارے ساتھ ہمیشہ رہا ہے۔ ہم کیا کرنا چاہیں گے اور کس طرح زندگی گزارنا چاہیں گے، اس  کے بارے  میں بھی ہماری آرز ویا خواہشات ہوتی ہیں۔اسی طرح ملک کے لیے کیا بہتر ہونا چاہیے اس کےبارے میں بھی ہمارے پاس تصورات ہوتے ہیں۔ وہ کون سی چیزیں ہیں جو ہمارے لیے ضروری ہیں؟ کیا سبھی کے لیے زندگی بہتر ہوسکتی ہے؟ لوگوں کو ایک ساتھ کیسے رہنا چاہیے؟ کیا اور زیادہ مساوات ممکن ہے؟ ترقی کے لیے ان سوالوں کے بارے میں اور ان مقاصد کو حاصل کرنے کی جانب ہم جو کام کرسکتے ہیں ،ان کے طریقوں کے بارے میں سوچنے کا عمل شامل ہوتا ہے۔ یہ ایک پیچیدہ کام ہے اس باب میں ہم ترقی کو سمجھنے کی سعی کریں گے۔ بڑی کلاسوں میں ان امور کاہم زیادہ گہرائی سے مطالعہ کریں گے۔ ان میں سے بہت سے سوالوں کے جوابات آپ نہ صرف معاشیات میں بلکہ تاریخ وسیاسیات میں بھی دریافت کرسکیں گے ۔ ایسا اس لیے ہے کہ جو زندگی آج  ہم گزارتے ہیں اس پر ماضی کااثر ہوتا ہے۔ اسی طرح صرف ایک جمہوری سیاسی عمل کے ذریعے ہی حقیقی زندگی میں ان امیدوں اور امکانات کو حاصل کیا جاسکتاہے۔

pic2maashi taraqqi ki samajh
’’میرے بغیر وہ ترقی نہیں کرسکتے۔۔۔۔
اس نظام میں میں ترقی نہیں کرسکتا!‘‘

مختلف لوگ، مختلف مقاصد،ترقیات سے کیا توقعات وابستہ ہیں؟

جدول 1.1میں درج فہرست مختلف افراد کے لیے ترقی یا بہتری کی طرف آگے بڑھنے کا کیا مفہوم ہوسکتا ہے، ان کی کیا خواہشات ہیں؟ آئیے اس بارے میں قیاس کریں۔ آپ پائیں گے کہ کچھ کالم جزوی طو پر پُر ہیں۔ جدول کو مکمل کرنے کی کوشش کریں۔آپ افراد کے کسی اور بھی زمرے کو شامل کرسکتے ہیں۔
آپ کیا چاہتے ہیں؟ ہمارے ملک کا جو طریقۂ نظام ہے اس میں تم سب یہ امید کرسکتے ہو کہ ایک دن ہم رکشے کے مالک بن کر اسے چلائیں گے۔

جدول1.1مختلف زمروں کے افراد کے ترقیاتی مقاصد
فرد کا زمرہ ترقیاتی مقاصد/خواہشات
بے زمین دیہی مزدور
پنجاب کے خوشحال کسان فیملی کی عمدہ انکم اوران کے فصلوں سے آنے والے بہترین فائدے پر سخت محنت اور سستی مزدوری کی بدولت وہ اس لائق ہوگئے کہ انھوں نے اپنے بچوں کو بیرون ملک سیٹ کردیا
کام کے زیادہ سے زیادہ دن اور بہتر اجرتیں، مقامی اسکول کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کا اہل ہے، کوئی سماجی تفریق نہیں ہے اور وہ بھی گاؤں میں قائد بن سکتے ہیں۔
وہ کسان جو فصلوں کو اگانے کے لیے صرف بارش پر انحصار کرتے ہیں
زمین کی ملکیت رکھنے والی فیملی کی ایک دیہی خاتون
شہر کا بے روزگار نوجوان
شہر کے امیر خاندان کا ایک لڑکا
شہر کے امیر خاندان کی ایک لڑکی وہ اپنے بھائی کی طرح ہی زیادہ سے زیادہ آزادی حاصل کرتی ہے اور زندگی میں جو چاہتی ہے اس کے بارے میں فیصلہ کرسکتی ہے۔ وہ بیرون ملک اپنی تعلیم جاری رکھ سکتی ہے۔
نرمداوادی کاایک آدی واسی


pic3 maashi taraqqi ki samajh chapter 1
jadaul1.1maashi taraqqi ki samjh chapter 1
جدول1.1کو پُر کرتے ہوئے آئیے ہم اب اس کا جائزہ لیں۔ کیا ان سبھی  افراد کے لیے ترقی یا آگے بڑھنے کا یکسا ں تصور ہے؟ غالباً نہیں۔ ان میں ہر ایک مختلف چیزوں کی جستجو کرتا ہے۔ وہ انھیں چیزوں کی جستجو کرتا ہے جو کہ اس کے لیے زیادہ اہم ہیں۔ یعنی جو ان کی خواہشات یا آرزو کی تکمیل کرسکتی ہیں۔ درحقیقت،کبھی کبھی ، دو افراد یا افراد کے گروپ ان چیزوں کی جستجو کرسکتے ہیں جو متضاد ہوں، ایک لڑکی اپنے بھائی کی طرح ہی زیادہ سے زیادہ آزادی اور مواقع کی امید کرتی ہے اور یہ کہ وہ اس کے گھریلو کاموں میں اس کا ہاتھ بٹائے ۔ اس کا بھائی ممکن ہے یہ نہ پسند کرے۔ اسی طرح زیادہ بجلی حاصل کرنے کے لیے صنعت کار زیادہ بندیاپشتوں(dams)کی خواہش کرسکتا ہے۔ لیکن اس سے زمین غرقاب ہوسکتی ہے اور اس جگہ سے ہٹائے جانے والے لوگوں جیسے قبائلیوں کی زندگیوں میں خلل پڑسکتا ہے۔ وہ اس سے ناراض ہوسکتے ہیں اور وہ چھوٹے چھوٹے پشتوں یا تالابوں کو ترجیح دے سکتے ہیں۔ جس سے کہ ان کی زمین کی آبپاشی ہوسکے۔
لہٰذا، دوباتیں بالکل صاف ہیں: پہلی، مختلف افراد کے مختلف ترقیاتی مقاصد ہوسکتے ہیں اور دو سری ایک کے لیے جو ترقی ہوسکتی ہے وہ ممکن ہے دوسرے کے لیے ترقی نہ ہو۔ یہ دوسرے کے لیے تخریبی بھی ہوسکتی ہے۔
pic4maashi taraqqi ki samjhchapter 1
یہ لوگ ترقی کرنا نہیں چاہتے!

آمدنی اور دیگر مقاصد

اگر آپ جدول1.1پر پھر نظر ڈالیں تو آپ ایک مشترک بات پر غور کریں گے: یہ کہ لوگ باقاعدہ کام، بہتر اجرتیں اور اپنی فصلوں یا ان کے ذریعے تیار کی جانے والی دیگر اشیا کی اچھی قیمت کی خواہش رکھتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں وہ زیادہ سے زیادہ آمدنی چاہتے ہیں۔ زیادہ آمدنی کی جستجو کے علاوہ کسی نہ کسی طرح لوگ مساوی برتاؤ، آزادی ،تحفظ وسلامتی اور دوسروں سے عزت حاصل کرنے جیسی باتوں کی بھی جستجو کرتے ہیں۔ وہ تفریق یا امتیاز کیے جانے کو پسند نہیں کرتے۔ یہ سبھی اہم مقاصد ہیں۔ درحقیقت کچھ معاملوں میں تو یہ زیادہ آمدنی یا زیادہ صرف کی نسبت زیادہ اہم ہوسکتی ہیں کیونکہ مادی اشیا وہ سب کچھ نہیں ہے جس کی ضرورت زندگی گزارنے کے لیے آپ کو ہے۔ 
زر یا رقم یا مادی چیزیں جنھیں کوئی اس کے ساتھ خرید سکتا ہے ، ایک عامل ہے جس پر ہماری زندگی منحصر ہے ۔ لیکن ہماری زندگی کا معیار اوپر ذکر کی گئی غیر مادی چیزوں پر بھی منحصر ہوتا ہے۔ اگر یہ آپ کے لیے واضح نہیں ہے تو اپنی زندگی میں آنے والے اپنے دوستوں کے بارے میں سوچیے ۔ آپ ان کی دوستی  کی خواہش کرسکتے ہیں ۔اسی طرح بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن کی پیمائش آسانی سے نہیں کی جاسکتی لیکن ہماری زندگی میں ان کی کافی اہمیت ہے۔ انہیں اکثر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔
نرمدا ندی پر سردار سرور باندھ کی اونچائی بڑھانے کے خلاف احتجاجی جلسہ
pic5maashi taraqqi ki samjh chapter 1

آئیے حل کریں

-1 مختلف افراد کے لیے ترقی کے مختلف تصورات کیوں ہیں؟ درج ذیل توضیحات میں کون سی اہم ہیں اور کیوں ؟
a) کیونکہ لوگ مختلف ہیں۔
b) کیونکہ افراد کے حالاتِ زندگی مختلف ہیں۔
-2 درج ذیل دو بیانات کیاایک جیسے ہیں؟ اپنے جواب کا مناسب جواز فراہم کیجیے۔
a) لوگوں کے مختلف ترقیاتی مقاصد ہیں۔
b) لوگوں کے متضاد ترقیاتی مقاصد ہیں۔
-3 کچھ مثالیں دیجیے جہاں آمدنی کے علاوہ دیگر عوامل ہماری زندگی کے اہم پہلو ہیں۔
-4 درج بالا سیکشن میں سے کچھ اہم تصورات کی وضاحت اپنے الفاظ میں کیجیے۔

قومی ترقی

بہر حال یہ نتیجہ نکالنا غلط ہوگا کہ جس کی پیمائش نہیں کی جاسکتی وہ اہم نہیں ہے۔
ایک اور مثال سمجھیں۔ اگر آپ ایک دوردراز جگہ پر ملازمت حاصل کرتے ہیں تب اسے قبول کرنے سے پہلے آپ آمدنی کے علاوہ بہت سے عوامل کے بارے میں سمجھنے کی کوشش کریں گے، جیسے کہ آپ کی فیملی کے لیے سہولیات ،کام کا ماحول یا تعلیم کے مواقع، دوسرے معاملے میں کسی ملازمت میں آپ کو کم تنخواہ مل سکتی ہے لیکن یہ آپ کے لیے باقاعدہ روزگار کی پیشکش ہوسکتی ہے۔ جس سے آپ کے تحفظ کے احساس میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔دوسری ملازمت میں بہر حال اونچی تنخواہ مل سکتی ہے لیکن ملازمت کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ اور اس میں آپ کی فیملی کے لیے بھی وقت نہیں ہے۔اس سے آپ کے تحفظ کے احساس اور آزادی میں کمی پیدا ہوگی۔
اسی طرح ترقی کے لیے لوگ مختلف مقاصد پر غور کرتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ اگر عورتیں اجرتی کام میں لگی ہوئی ہیں تب گھر اور سماج میں ان کے وقار میں اضافہ ہوتا ہے ۔ تاہم یہ امر بھی ہے کہ اگر عورتوں کے لیے احترام کا جذبہ ہے تو گھریلو کام میں زیادہ ساجھے داری ہوگی اور باہر عورتوں کے کام کی زیادہ قبولیت بھی ہوگی۔ ایک محفوظ اور خطرے یاخوف سے بری ماحول سے عورتیں مختلف قسم کی ملازمت اختیار کرسکتی ہیں یا اپنا کوئی کاروبار چلاسکتی ہیں۔ لہٰذا لوگوں کے لیے ترقیاتی مقاصد میں نہ صرف بہتر آمدنی شامل ہوتی ہے بلکہ زندگی میں دیگر اہم چیزیں بھی اس میں شامل ہوتی ہیں۔
جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ افراد مختلف مقاصد کی جستجو کرتے ہیں تب قومی ترقی کے ان کے تصور بھی مختلف ہوسکتے ہیں۔ آپس میں بحث کیجیے کہ ترقی کے لیے ہندوستان کو کیا کرنا چاہیے۔ 
زیادہ ممکن ہے کہ آپ پائیں گے کہ کلاس میں مختلف طلبا نے درج بالا سوالات کے جواب مختلف دیے ہوں ۔درحقیقت آپ خود بہت سے الگ الگ جوابات سوچ سکتے ہیں اور ان میں سے کسی کے بارے میں پورے وثوق سے نہیں کہہ سکتے۔ یہ خود ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے کہ مختلف افراد کے ملک کی ترقی کے مختلف اور متضاد تصورات ہوسکتے ہیں۔
تاہم کیا سبھی خیالات کو مساوی طور پر اہم سمجھا جاسکتا ہے؟ یا اگر کوئی تضاد ہے تو کوئی کیسے فیصلہ کرسکتا ہے؟ سب کےلیے منصفانہ اور معقول راہ کیا ہوگی؟ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کیاکام کرنے کا کوئی بہتر طریقہ ہے۔ کیا یہ تصور کافی تعداد میں لوگوں کو فائدہ پہنچائے گا یا کسی چھوٹے گروپ کو؟ قومی ترقی کا مطلب ہے ان سوالوں کے بارے میں سوچنا۔

آئیے حل کریں

درج ذیل حالات کے بارے میں بحث کیجیے۔
1-بائیں جانب تصویر پر نظر ڈالیں۔ ایسے علاقے کے لیے ترقیاتی مقاصد کیا ہونے چاہئیں؟
2-اخبار کی یہ رپورٹ پڑھیں اور درج ذیل سوالوں کے جواب دیں۔
500ٹن زہریلے سیال فضلات سے بھرے کنٹینر نے شہر اور آس پاس کے علاقے کے میدان میں کوڑے کا ڈھیر کردیا۔ایسا آئیوری کوسٹ میں عابد جان (Abidjan)نام کے شہر میں واقع ہوا۔ انتہائی زہریلے فضلے سے نکلنے والے بخارات سے متلی، جلد میں نمودار چکتے، چکر،اسہال وغیرہ جیسی بیماریاں پیداہوئیں۔ ایک مہینے کے بعد سات لوگوں کی موت واقع ہوگئی، بیس اسپتال میں پہنچ گئے اور چھبیس ہزارلوگوں کو زہر خورانی کی علامتوں کا علاج کیا گیا۔
ایک کثیر قومی کمپنی جس کا پٹرولیم اور دھاتوں کا کام تھا، اس نے آئیوری کوسٹ کی مقامی کمپنی سے معاہدہ کیاکہ وہ اس کے جہاز سے زہریلے فضلے کو ٹھکانے لگادیا کرے۔
(i)وہ کون لوگ ہیں جنہیں فائدہ ہوا اور کن کو نہیں ہوا؟
(ii)اس ملک کے لیے ترقیاتی مقاصد کیا ہونے چاہئیں؟
3-تمہارے گاؤں ، قصبہ یا آبادی کے لیے کون سے ترقیاتی مقاصد ہوسکتے ہیں؟
pic6maashitaraqqi ki samajh chapter 1

سرگرمی 1

اگر وہ تصور جو ترقی کی تشکیل کرتے ہیں مختلف اور متضاد ہوسکتے ہیں۔ تو
 ظاہرہے ترقی کرنے کے طریقوں کے بارے میں یقیناً اختلافات
ہوسکتے ہیں۔ اگر آپ کسی ایسے تنازعہ کے بارے میں جانتے ہیں تو
مختلف لوگوں کے ذریعے دیے جانے والے دلائل دریافت کرنے کی
کوشش کیجیے۔ آپ مختلف لوگوں سے بات چیت کرکے یا اخباروں اور
 ٹیلی ویژن سے اسے دریافت کرسکتے ہیں۔
pic7 maashi taraqqi ki samjh chapter 1

مختلف ملکوں یا ریاستوں کا موازنہ کیسے کریں؟

آپ پوچھیں گے اگر ترقی کا مطلب مختلف چیزیں ہوسکتی ہیں تو کس بنیادپر کچھ ممالک کو عام طور پر ترقی یافتہ اور دوسروں کو کم ترقی یافتہ کہا جاتا ہے ؟ اس پر ہم بات کریں، اس سے پہلے ہم دوسرے سوال پر غور کریں۔
جب ہم مختلف چیزوں کا موازنہ کرتے ہیں تو ان میں یکسانیت یا مماثلت کے ساتھ اختلافات بھی ہوسکتے ہیں۔ وہ کون سے پہلو ہیں جن کا استعمال ہم موازنہ کے لیے کرتے ہیں؟ خود کلاس میں طلباپر ایک نظر ڈالیں۔ ہم مختلف طلبا کا موازنہ کیسے کریں؟ قد، صحت، ذہانت اور دلچسپیوں کے لحاظ سے ان میں فرق ہے۔ بہت زیادہ صحت مند طالب علم ممکن ہے پڑھائی میں زیادہ دلچسپی رکھنے والا نہ ہو ۔ لہٰذا ہم کس طرح طلبا کا موازنہ کرسکتے ہیں؟ اس کے لیے ہم جانچ پرکھ کر معیارکا استعمال کرسکتے ہیں جو کہ موازنے کے مقصد پر منحصر ہے۔ ہم اسپورٹس ٹیم، بحث ومباحثے کی ٹیم، موسیقی ٹیم، پکنک کے انتظام کے لیے، ٹیم کے انتخاب کے لیے مختلف کسوٹی کا استعمال کرتے ہیں۔ پھر بھی کسی مقصد کے لیے ہمیں کلاس میں بچوں کی ہمہ گیر پیش رفت یا ترقی کی کسوٹی کا انتخاب کرنا ہوگا ۔ہم اس پر عمل کیسے کریں گے؟
عام طور پر ہم افراد کی ایک یا زیادہ اہم خصوصیات لیتے ہیں اور ان خصوصیات کی بنیاد پر موازنہ کرتے ہیں ۔ وہ اہم خصوصیات جیسے دوستانہ روش، تعاون کا جذبہ، تخلیقیت یا حاصل کیے گئے نمبرات،جو موازنے کے لیے بنیاد کی تشکیل کرسکتے ہیں ان میں یقیناً اختلاف ہوسکتا ہے۔
ترقی کے سلسلے میں بھی یہ بات صحیح ہے۔ ملکوں کے موازنے کے لیے ان کی آمدنی کو ایک نہایت اہم وصف یا خصوصیت سمجھا جاتا ہے۔ جن ممالک کی آمدنی بہت زیادہ ہوتی ہے وہ کم آمدنی والے دیگر ملکوں کی نسبت زیادہ ترقی یافتہ ہوتے ہیں۔ یہ اس فہم کی بنیاد پر ہے کہ زیادہ آمدنی کا مطلب ہے انسانی ضرورت کی زیادہ ترچیزوں کا مہیا ہونا۔ جو کچھ بھی لوگ چاہتے ہوں ان کے پاس ہونی چاہیے۔اگر انھیں زیادہ آمدنی حاصل ہوتی ہے تو وہ اسے حاصل کرنے کے اہل ہو ں گے۔ لہذا خود آمدنی کے زیادہ ہونے کو ایک اہم مقصد سمجھا جاتا ہے۔
اب ملک کی آمدنی کیا ہے؟ فوری سمجھ میں آنے والی بات یہی ہے کہ ملک کے رہنے والے سبھی لوگوں کی آمدنی   سے اس ملک کی کل آمدنی کا ہمیں پتہ چلتا ہے۔
تاہم ملکوں کے درمیان موازنے کے لیے کل آمدنی ایسی کوئی مفید پیمائش نہیں ہے، کیونکہ ملکوں کی مختلف آبادیاں ہوتی ہیں لہٰذا کل آمدنی کے موازنے سے ہمیں یہ نہیں پتہ چلے گا کہ ایک فرد اوسطاً کیا کماتا ہوگا۔ کیا کسی ملک کے لوگ دیگر ملک میں رہنے والے لوگوں کے مقابلے بہتر مالی حیثیت میں ہیں۔لہٰذا ہم اوسط آمدنی کا موازنہ کرتے ہیں جو کہ ملک کی کل آمدنی کو اس کی کل آبادی سے تقسیم کرنے کے ذریعے نکلتی ہے۔ اوسط آمدنی کوفی کس آمدنی (Per Capita Income)کہا جاتا ہے ۔ 
عالمی بینک (world bank)کے ذریعے پیش کردہ عالمی ترقیاتی رپورٹ میں ملکوں کی درجہ بندی میں اس کسوٹی کا استعمال کیا گیا ہےکہ وہ ممالک جن کی فی  کس سالانہ آمدنی 2019میں 12056امریکی ڈالر یا اس سے زیادہ تھی انھیں امیر ممالک کہا جاتاہے اوروہ جن کی فی کس سالانہ آمدنی 2500امریکی ڈالر یا اس سے کم تھی اسے کم آمدنی والے ممالک کہاجاتاہے۔ ہندوستان کا شمار اوسط کم آمدنی والے ملکوں کے زمرے میں آتاہے کیوں کہ اس کی فی کس آمدنی 2017میں محض 6700امریکی ڈالر سالانہ تھی ۔ مشرق وسطیٰ اور بعض دیگر چھوٹے ممالک کو نہ شامل کرتے ہوئے اونچی آمدنی والے ملکوں کو ترقی یافتہ ممالک کہا جاتا ہے۔
اوسط آمدنی
اوسط آمدنی موازنے کے لیے جہاں مفید ہے وہیں اس میں عدم مساوات بھی چھپا ہوا ہے۔

مثال کے لیے دوملکوں Aاور Bکو سمجھیں ،آسانی کے لیے ہم فرض کرلیتے ہیں کہ ہر ایک ملک میں صرف پانچ پانچ شہری ہیں۔ جدول1.2میں دیے گئے مواد کی بنیاد پر دونوں ملکوں کے لیے اوسط آمدنی کا شمار کریں۔


جدول1.2دو ملکوں کا موازنہ
ملک شہریوں کی ماہانہ آمدنی(روپےمیں)
1 11 111 1v v اوسط
ملکA 9500 10500 9800 10,000 10,000
ملکA 500 500 500 500 48,000
jadaul1.2maashi taraqqi ki samajh chapter1

کیا آپ ان دونوں ملکوں میں رہنے سے مساوی طور پر خوش ہوں گے ؟ کیادونوں ہی مساوی طور پر ترقی یافتہ ہیں؟ ہوسکتا ہے ہم میں سے کچھ لوگ ملک Bمیں رہنا پسند کریں  بشرطیکہ ہمیں اس کے پانچویں شہری ہونے کو یقینی بنایا جائے ۔ لیکن اگر قرعہ اندازی کے ذریعے ہماری شہریت کے عدد کا فیصلہ کیا جاتا ہے تب ہم میں سے اکثر لوگ ملک Aمیں رہنے کو ترجیح دیں گے خواہ دونوں ملکوں کی اوسط آمدنی ایک جیسی ہو۔ ملک A کو ترجیح اس لیے دی جاتی ہے کیونکہ اس میں زیادہ منصفانہ تقسیم پائی جاتی ہے۔ اس ملک میں لوگ نہ تو بہت امیر ہیں اور نہ ہی انتہائی غریب۔ جب کہ دوسری طر ف ملک Bمیں زیادہ تر شہری غریب  اور ایک شخص نہایت ہی امیر۔ لہٰذا جب کہ اوسط آمدنی موازنے کے لیے کار گر ہے وہیں اس سے ہمیں لوگوں کے درمیان آمدنی کی تقسیم کا پتہ نہیں چلتا۔

 ملک جس میں نہ امیر اور نہ ہی غریب ہیں  
pic8 maashitaraqqi ki samajh chapter1
ہم نے ان کرسیوں کو بنایا ہے اور ہم انھیں استعمال کرتے ہیں۔

ملک جس میں امیر اور غریب دونوں ہیں۔
ہم نے ان کرسیوں کو بنایا اور وہ اسے لے گیا                                                                                                   pic9 maashi taraqqi ki samjh chapter1

آئیے حل کریں

-1 حالات کے موازنے کے لیے کہاں اوسط کا استعمال کیا جاتا ہے۔ تین مثالیں دیجیے۔
-2 ترقی کے لیے اوسط آمدنی کیوں اہم کسوٹی ہے؟ وضاحت کیجیے۔
-3 دو یا دوسے زیادہ سو سائٹیوں کے موازنے میں فی کس آمدنی کے حجم کے علاوہ آمدنی کی دیگر خصوصیت کیوں اہم ہے؟
-4  بالفرض کسی ملک میں ریکارڈ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اوسط آمدنی کسی ایک مدت کے دوران بڑھتی رہی ہے اس سے کیا ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ معیشت کے سبھی طبقات بہتر ہوگئے ہیں؟ ایک مثال کے ساتھ اپنا جواب سمجھائیں۔
-5 متن سے عالمی ترقیاتی رپورٹ 2006کے لحاظ سے اوسط آمدنی والے ممالک کی فی کس آمدنی کی سطح دریافت کیجیے۔
-6 آپ تصورکرکے ایک پیرا گراف لکھیے کہ ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بننے کے لیے کیا کرنا یا حاصل کرنا چاہیے۔

آمدنی اور دیگر کسوٹی

جب ہم کسی فرد کی آرزوؤں اور مقاصد پر نظر ڈالتے ہیں، ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ نہ صرف بہتر آمدنی کے بارے میں سوچتے ہیں بلکہ تحفظ ، دوسروں کے لیے احترام، مساوی برتاؤ، آزادی جیسے مقاصد بھی ذہن میں ہوتے ہیں اسی طرح جب ہم کسی ملک یا خطے کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہم اوسط آمدنی کے علاوہ دیگر مساوی اہم خصوصیات کے بارے میں بھی سوچتے ہیں۔
جدول1.3منتخب ریاستوں کی فی کس آمدنی
2017-18میں فی کس آمدنی (روپے) ریاست
2,03,340
1,84,000
38,631
ہریانہ
کیرل
بہار
ماخذ:اکنامک سروے20-2019،جلد2،صفحہ 29
یہ خصوصیات کیا ہوسکتی ہیں؟ آئیے ایک مثال کے ذریعے اس کا جائزہ لیں۔ جدول 1.3ہریانہ ،کیرل اور بہار کی فی کس آمدنی پیش کرتا ہے ۔اصل میں یہ اعداد وشمار 18-2017کے لیے رواں قیمتوں پر فی کس خالص ریاستی گھریلو پیداوار کے ہیں۔ ہم اسے چھوڑدیں کہ اس پیچیدہ اصطلاح کے اصل معنی کیا ہیں۔ موٹے طور پر ہم ریاست کی فی کس آمدنی کے طور پر لے سکتے ہیں ۔ ہم ان میں تین باتیں پاتے ہیں۔ پنجاب کی فی کس آمدنی سب سے زیادہ ہے، اور بہار کی سب سے کم یعنی نچلی سطح پر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہریانہ میں ایک شخص اوسطاً 2,03,340روپےسالانہ کماتا ہے ۔جب کہ بہار میں ایک فرد تقریباً 31,454روپے ہی کماسکے گا لہٰذا اگر فی کس آمدنی کا ترقی کی کسوٹی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو ان تینوں ریاستوں میں مہاراشٹر کو زیادہ ترقی یا فتہ سمجھا جائے گا اور بہار کو سب سے کم ترقی یافتہ ۔اب جدول1.4میں ان ریاستو ں سے متعلق دیے گئے بعض دیگر مواد پر نظر ڈالیں۔
جدول1.4مہاراشٹر،کیرل اوربہار پر کچھ تقابلی مواد
کلاس میں خالص حاضری تناسب سیکنڈری اسٹیج
2013-14(عمر14سے 15سال)
%شرح خواندگی
بچوں کی شرح اموات
(2017)1,000فی
ریاست
67 80 30 ہریانہ
77 96 10 کیرل
55 71 35 بہار
(p)  پروفیزنل
ماخذ:اکونومک سروے ،20-2019،جلد2،نیشنل سیمپل سروے(رپورٹ نمبر585)،نیشنل اسٹیٹکل آفس، حکومت ہند
اس جدول میں استعمال کی جانے والی کچھ اصطلاحات کی وضاحت بچوں کی شرح اموات
(Infant Mortaliry Rate(or IMR:
اس اصطلاح سے بچوں کی اس تعداد کا پتہ چلتا ہے جن کی موت اس مخصوص سال میں پیدا ہوئے زندہ بچوں کی 1000کی تعداد کے تناسب میں ایک سال کی عمر ہونے سے پہلے واقع ہوتی ہے۔
شرح خواندگی (Literacy rRate):  سات  اوراس سے زیادہ کی عمر والوں میں خواندہ (پڑھے لکھے) آبادی کے تناسب کی پیمائش ہوتی ہے۔
خالص حاضری تناسب(Net Attendance Ratio): چودہ سے پندرہ سال کی عمر کے بچوں کی کل تعداد جو اس عمر کے بچوں کی کل تعداد کے فی صد کے طور پر اسکول جانے والوں کی تعداد ہے۔

jadaul1.4 maashi taraqqi ki msamajh chapter1
اس جدول سے کیا پتہ چلتا ہے ؟ جدول کے پہلے کالم سے پتہ چلتا ہے کہ کیرل میں پیدا ہوئے 1000زندہ بچوں میں سے 10کی موت ایک سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے واقع ہوتی ہے لیکن ہریانہ میں پیدائش کا ایک سال پورا ہونے سے پہلے مرنے والے بچوں کا تناسب30ہے جو کہ تقریباً پانچ گنا زیادہ ہے۔ جب کہ ہریانہ کی فی کس آمدنی کیرل کے مقابلے بہت زیادہ ہے جیسا کہ جدول1.3میں دکھایا گیا ہے۔ ذرا سوچیے کہ آپ اپنے والدین کے کتنے عزیز ہیں اور یہ بھی سوچیے کہ جب بچے کی پیدائش ہوتی ہے تو ہر ایک کتنا خوش ہوتا ہے ۔ اب ذرا ان والدین کے بارے میں سوچیے جن کے بچے ان کا پہلے جنم دن منانے سے پہلے ہی مرجاتے ہیں ۔ ان والدین کے لیے یہ کتنی تکلیف دہ بات ہوتی ہے؟ اب اس سال پر غور کریئے جو اس مواد سے متعلق ہے ۔ یہ سال 18-2017ہے۔ ہم پرانے زمانوں کی بات نہیں کررہے ہیں۔ یہ آزادی کے 70سال بعد کی بات ہے جب کہ ہمارے بڑے بڑے شہروں میں اونچی اونچی عمارتیں اور شاپنگ مالس موجود ہیں!
مسئلہ بچوں کی شرح اموات کے ساتھ ہی ختم نہیں ہوتا۔جدول 1.4کے آخری کالم سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہار میں15-14سال کی عمر کے تقریباً نصف بچوں نے 8جماعت کے بعداسکول کا منھ تک نہیں دیکھا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر آپ بہار کے اسکول میں جائیں تو تقریباً نصف  کلاس وہاں ہوتی ہی نہیں یعنی وہ لوگ جنہیں اسکول میں ہونا چاہیے، وہ وہاں ہیں ہی نہیں؟ اگر یہ آپ کے ساتھ ہو تا تو جو آپ اب اس وقت پڑھ رہے ہیں کیا پڑھ سکتے تھے۔
بہت سے بچوں کی بنیادی طبّی دیکھ بھال نہیں ہوتی
pic10 maashi taraqqi ki samajh chapter 1

عوامی سہولیات

ایساکیوں ہے کہ ہریانہ میں اوسط آدمی کے پاس کیرل کے اوسط آدمی کے مقابلے زیادہ آمدنی ہے لیکن ان اہم شعبوں میں وہ کافی پچھڑا ہوا ہے؟ و جہ یہ ہے آپ کی جیب میں موجود رقم وہ سبھی چیزیں اور خدمات نہیں خرید سکتی جن کی ضرورت بہتر طور پر زندگی گزارنے کے لیے آپ کو پڑسکتی ہے۔ لہٰذا آمدنی بذاتِ خود ان مادّی اشیا اور خدمات کی پوری طرح مناسب  علامت نہیں ہے جنہیں شہری استعمال کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ رقم یا دولت کے ذریعے آلودگی سے پاک ماحول نہیں خرید سکتے یا یہ یقین نہیں کرسکتے کہ آپ بے ملاوٹ دوائیں حاصل کررہے ہیں جب تک کہ آپ ان تمام چیزوں کی پہلے سے حامل کمیونٹی میں منتقل ہونے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں۔ دولت آپ کو اس وقت تک انفکشن والی بیماریوں سے تحفظ بھی نہیں فراہم کرسکتی جب تک کہ آپ کی پوری کمیونٹی احتیاطی اور حفاظتی اقدامات نہ کرے۔
در اصل زندگی کی بہت سی اہم چیزوں کے لیے بہتر اور آسان طریقہ یہ ہے کہ ان اشیا اور خدمات کو اجتماعی طور پر فراہم کیا جائے ۔ ذرا سوچیے کہ آیاپورے محلے کے لیے مجموعی حفاظتی انتظامات یا ہر گھر کے لیے اپنا ایک ایک دربان (حفاظتی عملہ) رکھنا سستا پڑے گا؟ اگر آپ کے گاؤں یا محلے میں آپ کے علاوہ کوئی اور پڑھنے میں دلچسپی نہ رکھے تو کیاہوگا ؟ کیا آپ تعلیم کے اہل ہوسکیں گے؟ نہیں اس وقت تک نہیں جب 
تک کہ آپ کے والدین آپ کو کہیں اور کسی پرائیویٹ اسکول میں بھیجنے کے اہل نہ ہوسکیں۔ اصل میں تعلیم کے لیے آپ اسی لیے اہل ہیں کیونکہ بہت سے دوسرے بچے بھی مطالعے یا پڑھائی کرنا چاہتے ہیں اور کیونکہ بہت سے لوگ مانتے ہیں کہ حکومت کو اسکول کھولنا چاہیے اور دیگر سہولیات مہیا کرنا چاہیے تاکہ سبھی بچوں کو تعلیم کے مواقع مل سکیں۔ اب بھی بہت سے علاقوںمیں بچے بالخصوص لڑکیاں ہائی  اسکول تعلیم حاصل کرنے کی اہل نہیں ہیں کیونکہ حکومت  یاسماج نے مناسب سہولیات  فراہم نہیں کی ہیں۔
pic11 maashi taraqqi ki msamajh chapter1pic12 maashi taraqqi ki samjh chapter 1
کیرل میں بچوں کی شرح اموات کم ہے کیونکہ وہاں پر مناسب بنیادی صحت اور تعلیمی سہولیات موجود ہیں۔ اسی طرح بعض ریاستوں میں سرکاری راشن کی دوکانوں کا نظام  ( Public Distribution System PDS) بہتر طور پر کام کررہا ہے۔  ایسی ریاستوں میں لوگوں کی صحت اور تعذیاتی حیثیت یقیناً بہتر ہونی چاہیے۔

آئیے حل کریں

-1 جدول 1.3اور جدول 1.4میں مواد پر نظر ڈالیں کیا ہریانہ شرح خواندگی وغیرہ میں کیرل سے اس طرح آگے ہے جیسا کہ فی کس آمدنی میں آگے ہے؟
-2 دیگر مثالوں کے بارے میں سوچیں جہاں اشیا اور خدمات کا اجتماعی اہتمام انفرادی اہتمام سے بہتر ہوتا ہے۔
-3 کیااچھی صحت اور تعلیم کے لیے سہولیات کی دستیابی حکومت کے ذریعے خرچ کی گئی رقم پر منحصر ہوتی ہے ؟ دیگر متعلقہ عوامل کیا ہوسکتے ہیں؟
-4 تمل ناڈ میں90فی صد لوگ جو دیہی علاقوں میں رہتے ہیں وہ راشن کی دوکان کا استعمال کرتے ہیں ،جب کہ مغربی بنگال میں صرف35فی صد دیہی لوگ ایسا کرتے ہیں، کہاں کے لوگ زیادہ بہتر حالت میں ہیں اور کیوں؟

pic13 maashi taraqqi ki samajh chapter 1

سرگرمی2

جدول1.5کا بغور مطالعہ کریں اور درج ذیل پیرا گراف میں خالی جگہوں کو پُر کریں ۔اس کے لیے آپ کو جدول کی بنیاد پر حساب کرنے کی ضرورت ہوسکتی ہے۔
جدول1.5اترپردیش کی دیہی آبادی کی تعلیمی حصولیابی
زمرہ مرد عورت
دیہی آبادی کی شرح خواندگی 76% 54%
10تا14سال کی عمر کے بچوں کی شرح خواندگی 90% 87%
10تا14سال کی عمر کےاسکول جانے والے دیہی بچوں کا فی صد 85% 82%

jadaul1.5 maashi taraqqi ki samjh chapter 1
a)  سب ہی عمر کے (جن میں نوجوان اور بوڑھے بھی شامل ہیں) کی شرح خواندگی دیہی مردوں کی۔۔۔۔۔ہے اور دیہی عورتوں کی۔۔۔۔۔ہے۔ تاہم یہ محض اس لیے نہیں ہے کہ ان میں سے بہت سے بالغ اسکول نہیں جاسکے بلکہ اس و جہ سے بھی ہے کہ بہت سے ایسے۔۔۔۔۔ہیں جو اب بھی اسکول نہیں جارہے ہیں۔
b )  جدول سے یہ بات واضح ہے کہ دیہی لڑکیوں کا …%اور دیہی لڑکوں کے’…%لوگ اسکول نہیں جارہے ہیں ۔لہٰذا 10تا14سال کی عمر کے بچوں کی شرح خواندگی دیہی عورتوں سے… %زیادہ اور دیہی مردوں سے …%زیادہ  ہے۔
c)   …عمر میں خواندگی کی یہ اونچی سطح ہماری آزادی کے 70سال کے بعد بھی کافی پریشان کن ہے۔ دیگر متعدد ریاستوں میں بھی14سال کی عمر تک کے سبھی بچوں کے لیے ہم مفت اور لازمی تعلیم کے آئینی مقصد کی تعمیل کے قریب نہیں ہیں۔  حالانکہ 1960تک اس کے پورے ہونے کی توقع کی گئی تھی۔

سرگرمی3

یہ معلوم کرنے کے لیے کہ کیا ہم کم تغذیہ کے شکار ہیں۔ایک طریقہ ہے جسے تغذیاتی سائنس دانوں نے جسم کا اشاریہ کمیت (Body Mass Index, BMI)کانام دیا اسے شمار کرنا آسان ہے۔ درجہ میں ہر طالب علم اپنا وزن اور اونچائی معلوم کرے۔یہ شمار کلو میں ہو پھر دیوار پر ایک پیمانہ بناکر سر کو سیدھا رکھتے ہوئے اونچائی کی صحیح پیمائش کرےجو پیمائش سینٹی میٹر میں آئی ہے اسے میٹر میں بدلیے۔ کلو گرام میں درج وزن کو اونچائی کے مربع سے تقسیم کیجیے۔
آپ کو جو عدد حاصل ہوگا وہیBMI کہلائے گا۔ اس کتاب کے آخری صفحہ پر عمر کے حساب سے BMI عدد رقم ہے اگر کوئی طالب علم 250-BMIسے 250کے درمیان میں ہے تو اسے معتدل کہیں گے۔ اگر کوئی 250سے زیادہ ہے تووہ کم تغذیہ کا شکاہے اوراسے زیادہ افزائش کی ضرورت ہے۔ بطور مثال اگر ایک طالب علم جس کی عمر 14سال8ماہ ہے اوراس کی BMI15.2ہے تو وہ کم تغذیہ کا شکار ہے۔اسی طرح وہ طالب علم جس کی BMI128ہے اوراس کی عمر 15سال 6ماہ ہے تو اس کا وزن اوسط سے زیادہ ہے۔ طلبا کے حالات زندگی، غذا،جسمانی ریاضت ، عادات کو بغیر کسی کو شرمندہ کئے ہوئے اظہار خیال کیجیے۔

pic14 maashi taraqqi ki samajh chapter 1

انسانی ترقیاتی رپورٹ
گو کہ آمدنی کی سطح اہم ہے تاہم ترقی کی سطح کی یہ پیمائش کافی نہیں ہے ۔اس بنا پر ہمیں دیگر کسوٹیوں کے بارے میں بھی سوچناہوگا ۔ ان کسوٹیوں کی ایک لمبی فہرست ہوسکتی ہے تب اس صورت میں یہ زیادہ مفید نہیں ہوگی۔ ہمیں زیادہ اہم چیزوں کی ایک چھوٹی فہرست کی ضرورت ہے۔ صحت وتعلیم کی علامات جیسا کہ ہم نے کیرل ا ور پنجاب کے موازنے میں استعمال کیا ہے ، ان میں شامل ہے۔ صحت یا تعلیم سے متعلق علامت کا استعمال ترقی کی ایک پیمائش کے طور پر آمدنی کے ساتھ بڑے پیمانے پر کیا جانے لگا ہے۔ مثال کے لیے UNDPکے ذریعے شائع کی گئی انسانی ترقیاتی رپورٹ لوگوں کی تعلیمی سطح، ان کی صحت سے متعلق صورتحال اور فی کس آمدنی کی بنیاد پر مختلف ملکوں کا موازنہ کرتی ہے۔ انسانی ترقیاتی رپورٹ ،2020 سے ہندوستان اور اس کے پڑوسیوں کے بارے 
میں بعض متعلقہ موادپر نظر ڈالنا دلچسپ ہوگا۔
جدول 20161.6کے ہندوستان اوراس کے پڑوسیوں سے
دنیا میں HDI کا شمار
2018
اسکول جانے کی اوسط عمر
2017
پیدائش پر امکان زندگی
2017
فی کس آمدنی امریکی ڈالر میں
2017
ملک
73
130
148
154
143
134
10.6
6.5
5.0
5.2
5.0
6.2
77
69.7
67.1
67.3
70.8
72.6
12.707
6.681
4.961
5.005
3.457
4.976
سری لنکا
ہندوستان
مینمار
پاکستان
نیپال
بنگلہ دیش
ماخذ: ہیومن رپورٹ،2020یونائیٹڈ نیشنز ڈیولپمنٹ پروگرام،نیویارک
نوٹ:1- Human Development Index,HDI(انسانی ترقیاتی اشاریہ)کا مخفف ہے۔اوپردیئے گئے جدول میں HDIاشاریہ کا نمبر شمار کل 189ملکوں میں سے ہے۔
2-پیدائش پر امکان زندگی جیساکہ نام سے ظاہر ہے کہ یہ پیدائش کے وقت کسی فرد کی زندگی کی اوسط متوقع عمر کی تعبیر ہوسکتی ہے۔
3-تین سطحوں کے مجموعی اندراج تناسب کا مطلب پرائمری اسکول، ثانوی اسکول اور سیکنڈری اسکول کے بعد کی اعلیٰ تعلیم کے لیے اندراجی نسبت سے ہے۔
4-سبھی ملکوں کے لیے فی کس آمدنی کا شمار ڈالر میں کیا جاتاہے تاکہ اس کا موازنہ کیا جاسکے۔یہ اس طرح انجام دیاجاتاہے کہ ہر ڈالر کے ذریعے کسی ملک میں اشیا اور خدمات کی ایک جیسی مقدار کو خریدا جاسکے۔

jadaul1.6maashi taraqqi ki samjh

 
کیا حیرت انگیز نہیں ہے کہ ہمارے پڑوس کا ایک چھوٹا ساملک سری لنکا ہر میدان میں ہندوستان سے کہیں آگے ہے اور دنیا میں ہمارے جیسے ایک بڑے ملک کا شمار اتنا کم تر ہے۔ جدول 1.6سے یہ بھی ظاہر ہے کہ اگر چہ نیپال کی فی کس آمدنی ہندوستان کی تقریباً نصف ہے تاہم وہ امکانیت زندگی اور شرح خواندگی میں بہت پیچھے نہیں ہے۔
انسانی ترقیاتی اشاریہ(HDI)شمار کرنے کے لیے بہت سی اصلاحات کی تجویز دی گئی ہے اور بہت سے نئے اجزا کو انسانی ترقیاتی رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ لیکن ترقی کے ساتھ انسان کا سابقہ (Pre-fix)لگانے کے ذریعہ یہ بات بہت واضح ہوجاتی ہے کہ ترقی میں کیا اہم ہے اور ایک ملک کے شہریوں کے ساتھ کیا واقع ہورہا ہے۔ یہ لوگ ان کی صحت ان‘ کی فلاح وبہبود یہی نہایت اہم ہے۔ کیا آپ کے خیال میں کچھ دیگر پہلو بھی ہیں انسانی ترقی کی پیمائش کے لیے جن پر غور کیا جانا چاہیے۔

ترقی کی قائم پذیری یا تحفظ پسندانہ ترقی

ہم ترقی کی تعریف کسی بھی انداز میں کرسکتے ہیں ۔بالفرض یہ پیش کرنے کے لیے کہ فلاں ملک کافی ترقی یافتہ ہے ۔ہمیں یقیناً ترقی کی یہ سطح پسند ہوگی کہ وہ مزید آگے بڑھے یا آنے والی نسلوں کے لیے کم سے کم اسے برقرار رکھے۔ یہ یقیناً پسندیدہ ہوگا ۔تاہم چونکہ بیسویں صدی کے دوسرے نصف سے متعدد سائنس داں یہ تنبیہ کرتے رہے ہیں کہ ترقی کی موجودہ قسم اور سطح  برقرار نہیں ہے۔

’’ہم نے دنیا کو اپنے آباواجداد سے ترکے میں نہیں حاصل کیاہے بلکہ ہم نے اسے اپنے بچوں سے واپسی کے وعدے پر عاریتاًلیا ہے‘‘

آئیے سمجھیں کہ درج دیل مثال کیوں اتنی قابل غور ہے۔

مثال1: ہندوستان میں زمین دو ز پانی 
’’اس وقت ایسا لگتا ہے کہ ملک کے بہت سے حصوں میں زمین دوز پانی کے معمول سے زیادہ استعمال کا زبردست اندیشہ ہے۔ تقریباً300اضلاع کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ پچھلے 20برسوں کے دوران پانی کی سطح 4میٹر سے زیادہ گھٹی ہے ۔ تقریباً ایک تہائی ملک اپنے زمین دوز پانی کے مخزن کا ضرورت سے زیادہ استعمال کررہاہے۔ اگلے 25سالوں میں ملک کا یہی60فی صد حصہ عمل انجام ہوگا۔ اگر ان وسائل کے استعمال کرنے کا موجودہ طریقہ جاری رہتا ہے۔ توزمین دوز یاتہ نشین پانی کا معمول سے زیادہ استعمال بالخصوص پنجاب اور مغربی اترپردیش کے زرعی طو رپر خوشحال علاقوں ،مرکزی اور جنوبی ہندوستان کے سخت چٹانی پٹھاری علاقوں ، کچھ ساحلی علاقوں میں پایا جاتا ہے اور شہری بستیوں میں تیزی سے بڑ ھ رہا ہے۔
a ) زمین دوز پانی کا معمول سے زیادہ استعمال کیوں کیا جاتا ہے؟
b) زائد استعمال کے بغیر کیا ترقی ممکن ہے؟

pic15maashi taraqqi ki samjh

زمین دوز پانی قابل تجدید وسائل کی ایک مثال ہے ۔ان وسائل کو قدرتی طور پر پھر سے پُر کیا جاسکتا ہے جیسا کہ فصلوں اور پودوں کے معاملے میں ہے۔ تاہم ان وسائل کا زائد استعمال بھی کیا جاسکتا ہے ۔مثال کے لیے زمین دوز پانی کا معاملہ ہے اگر ہم اس کا استعمال اس سے زیادہ کرتے ہیں جس کی بھرپائی بارش کے ذریعے ہوتی رہتی ہے تو ہم ان وسائل کا استعمال معمول سے زیادہ کررہے ہیں۔
ناقابل تجدید وسائل وہ ہیں جو برسوں استعمال کے بعد ختم ہوجائیں گے۔ زمین پر ہمارے پاس ایک مقررہ ذخیرہ ہے جن کی پھر سے بھرپائی نہیں کی جاسکتی۔ ہم نئے وسائل کی دریافت کرتے ہیں جن کے بارے میں ہم پہلے سے نہیں جانتے تھے۔ اس طرح وسائل ذخیرے میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ یہ بھی ختم ہوجائیں گے۔

مثال کے طورپرخام تیل جو ہم زمین سے نکالتے ہیں ایک ناقابل تجدید وسیلہ ہے۔ تاہم ہم ایک ایسا وسیلہ دریافت کرسکتے ہیں جسے ہم پہلے نہیں جانتے تھے، تلاش وجستجو کا کام ہمیشہ انجام دیا جاتا رہا ہے۔

مثال2: قدرتی وسائل کے ختم ہونے کی حالت 
خام تیل کے لیے درج ذیل موادپر نظر ڈالیں
جدول1.7خام تیل کے ذخائر
برسوں کی تعداد جب ذخائر ختم ہوں گے ذخائر(2016)(ہزار ملین بیرلس)
خطہ/ملک
70 807.7 مشرق وسطیٰ
10.2 50 ریاست ہائے متحدہ امریکا
50.2 1696.6 دنیا

jadaul1.7maashi taraqqi ki samjh
ماخذ: بی پی اسٹیٹسٹیکل ریویو آف ورلڈاینرجی، جون 2018
 اس جدول سے خام تیل کے ذخائر (کالم1) کا اندازہ ہوتا ہے ۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ خام تیل کا ذخیرہ کتنے برسو ں تک چلے گا اگر لوگ موجودہ شرح پر اسے نکالتے رہیں ۔ یہ ذخائر صرف50سال تک مزید چل پائیں گے۔ یہ مجموعی طور پر پوری دنیا کا معاملہ ہے ۔ تاہم مختلف ملکوں کی صورتحال الگ الگ ہے۔ ہندوستان جیسے ممالک باہر سے تیل منگانے (درآمد) پر منحصر ہیں کیونکہ اس کے پاس اپنے ذخائر نہیں ہیں۔ اگر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تب یہ ہر ایک کے لیے ایک بوجھ سا بن جاتا ہے۔ یو ایس اے (ریاست ہائے متحدہ امریکا) جیسے ممالک میں کم ذخائر ہیں اور اسی لیے وہ فوجی یا معاشی قوت کے ذریعے تیل کو محفوظ کرناچاہتا ہے۔
ترقی کی قائم پذیری یااسے تحفظ پسندانہ بنانے کا سوال قدرت اور ترقی کے عمل کے بارے میں بنیادی طور پر بہت سے نئے مسائل کو جنم دیتا ہے۔ 
(a) کیاکسی ملک میں ترقیاتی عمل کے لیے  خام تیل ضروری ہے؟ بحث کیجیے۔
(b) ہندوستان کو خام تیل کی درآمد کرنی ہوتی ہے ، آپ درج بالا صورتحال پر نظر ڈالتے ہوئے ملک کے لیے کن مسائل کا اندازہ لگا سکتے ہیں؟

ماحولیاتی تنزلی کی صورتحال کے نتائج کا تعلق کسی قومی ریاستی سرحد سے نہیں ہے۔ یہ مسئلہ نہ تو کسی خطے کا ہے نا ہی کسی مخصوص ملک کا ۔ہمارا مستقبل ایک دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ترقی کو تحفظ پسندانہ بنانا وقتا فوقتاً علم کا ایک نیا میدان ہے جس پر سائنس داں، ماہرین معاشیات ، فلسفی اور دیگر سماجی سائنس داں مل جل کر کام کررہے ہیں۔
بالعموم ،ترقی یا بہتری کی طرف بڑھنے کا سوال ہمیشہ سے قائم ہے۔ سماج کے ایک ممبر کے طور پر اور ایک فرد کی حیثیت سے ہمیں یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم کہاں جانا چاہتے ہیں۔ ہم کیا بننا چاہتے ہیں اور ہمارے مقاصد کیا ہیں۔ اس طرح ترقی پر مباحثہ جاری رہتا ہے۔

مشقیں

مشقیں 
1- کسی ملک کی ترقی عام طور پر متعین ہوتی ہے۔
a) اس کی فی کس آمدنی کے ذریعے
b) اس کی اوسط سطح خواندگی کے ذریعے
c) وہاں کے لوگوں کی صحت کی حالت کے ذریعے
d) ان سبھی کے ذریعے
2- انسانی ترقی کے معنی میں ان میں سے کون سے پڑوسی ملک کی کار کردگی ہندوستان کی نسبت زیادہ بہتر ہے؟
(i) بنگلہ دیش
(ii) سری لنکا
(iii) نیپال
(iv) پاکستان
3- فرض کیجیے ایک ملک میں چار خاندان ہیں۔ ان خاندانوں کی اوسط فی کس آمدنی 5,000روپے ہے اگر تین خاندانوں کی آمدنی 4,000روپے ہے،7,000روپے اور3,000روپے ہے تب چوتھے خاندان کی آمدنی کیا ہے؟
(i 7,500روپے
(ii 3,000روپے
(iii 2,000روپے
(iv 6,000روپے
4- مختلف ملکوں کی درجہ بندی کرنے میں عالمی بینک کے ذریعے استعمال کی جانے والی اہم کسوٹی یا معیار کیا ہے؟ اس کسوٹی کی حدیں کیا ہیں؟ (اگر ہیں تو)
5- ترقی کی پیمائش کے لیے UNDPکے ذریعے استعمال کی جانے والی کسوٹی کس لحاظ سے عالمی بینک کے ذریعے استعمال کی جانے والی کسوٹی سے مختلف ہے؟
6- ہم اوسط کا استعمال کیوں کرتے ہیں؟ کیا ان کے استعمال کی کوئی حد ہے؟ ترقی سے متعلق اپنی خود کی مثالوں کے ساتھ ا سے سمجھایئے۔ 
7- کیرل جس کی فی کس آمدنی کم ہے، اس کی انسانی ترقی کاشمار پنجاب کی نسبت زیادہ بہتر ہے ۔ لہٰذا فی کس آمدنی ایک مفید کسوٹی تو بالکل نہیں ہے اور ریاستوں کے موازنے میں ان کا استعمال نہیں کیا جانا چاہیے کیا آپ اس سے متفق ہیں؟ بحث کیجیے۔
8- ہندوستان میں لوگوں کے ذریعے استعمال کی جانے والی توانائی کے موجودہ وسائل دریافت کیجیے۔ آج سے پچاس سال کے بعد کیا امکانات ہوسکتے ہیں؟
9- ترقی کے لیے قائم پذیری یا تحفظ پسندی کا مسئلہ کیوں اہم ہے؟
10-   کرۂ ارض میں سبھی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کافی وسائل موجود ہیں لیکن ایک فرد کی حرص کی تسکین کے لیے کافی نہیں ہیں۔ یہ بیان ترقی کے موضوع پر بحث سے کس طرح متعلق ہے؟ بحث کیجیے۔
11- ماحولیاتی تنزلی کی کچھ مثالوں کی فہرست بنائیے جن کا مشاہدہ آپ اپنے ارد گرد کرتے رہے ہوں۔
12- جدول1.6میں دی گئی مدوں میں ہر ایک کے لیے دریافت کیجیے کہ کون سا ملک سب سے اوپر ہے اور کون سا سب سے نچلی سطح پر ہے۔
13- درج ذیل جدول ہندوستان میں(16-15سال کی عمر والے)جن کی بالغوں کے کم یا ناقص تغذیہ کا اظہار کرتا ہے۔ یہ سال16-2015کے لیے مختلف ریاستوں کے سروے (BMI<18.5kg/m)
BMIاوسط سے کم ہے ۔جدول پر نظر ڈالیں اور درج ذیل سوالوں کے جواب دیں۔

%عورت %مرد ریاست
10 85 کیرل
21 17 کرناٹک
28 28 مدھیہ پردیش
23 20 سبھی ریاستیں


pic16maashi taraqqi ki samajh chapter1
ماخذ نیشنل  فیملی ہیلتھ سروے         http://rchiips.org2016-14

(i) کیرل اور مدھیہ پردیش میں لوگوں کی تغذیاتی سطح کا موازنہ کیجیے۔
(ii) کیا آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ملک میں تقریباً40فی صد لوگ ناقص تغذیہ کے شکار ہیں اگر چہ یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ملک میں کافی غذا دستیاب ہے۔ اپنے خود کے الفاظ میں بیان کیجیے۔

اضافی پروجیکٹ⁄سرگرمی

تین مختلف مقررین کو مدعو کیجیے جو آپ کے خطے کی ترقی کے بارے میں آپ سے بات کرسکیں۔ ان سے وہ سبھی سوالات پوچھیں جو آپ کے ذہن میں آرہے ہوں۔ ان خیالات پر گروپوں میں بحث کیجیے۔ ہر گروپ کو ایک وال چارٹ تیار کرنا چاہیے جس میں ان خیالات کے بارے میں اسباب بتائے جائیں اور یہ کہ آپ اس سے متفق ہیں یا نہیں۔