مدرس کے لیے ہدایت
باب 2: ہندوستانی معیشت کے شعبے
کسی معیشت کو بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے اگر ہم اس کے اجزا یا شعبوں کا مطالعہ کریں شعبوں سے متعلق درجہ بندی کو متعدد کسوٹی کی بنیاد پر انجام دیا جاسکتا ہے ۔ اس باب میں تین طرح کی درجہ بندیوں کے بارے میں بحث کی گئی ہے : ابتدائی ؍ ثانوی ؍ ثالثی؛ منظم ؍ غیر منظم ؛ عوامی ؍نجی۔ آپ طلبا کے لیے مانوس مثالوں کو لیتے ہوئے ان کی قسم کے بارے میں بحث کر سکتے ہیں اور انہیں روز مرہ کی زندگی سے جوڑسکتے ہیں ۔ یہ اہم ہے کہ شعبوں کے بدلتے رول پر زور دیا جائے ۔ خدمتی شعبے کی تیزی سے ہوتی نمو کے بارے میں طلبا کی توجہ مبذول کرتے ہوئے اس پر مزید روشنی ڈالی جاسکتی ہے ۔ جبکہ باب میں نظریات کی توضیح کی گئی ہے طلباکو مجموعی گھریلو پیداوار ، روزگار وغیرہ کے کچھ بنیادی تصورات سے واقف کرانے کی ضرورت پڑسکتی ہے ۔ طلبا کو ممکن ہے اسے سمجھنا مشکل لگے ، اس لیے یہ ضروری ہے کہ انہیں مثالوں کے ذریعے سمجھایا جائے ۔ متعدد سرگرمیاں اور مشقوں کی تجویز باب میں دی گئی ہے تاکہ طلبا کو یہ سمجھنے میں مدد ملے کہ کسی طرح ایک فرد کی سرگرمی کو ابتدائی ، ثانوی یا ثالثی ، منظم یا غیر منظم اور عوامی یا نجی شعبے میں رکھا جاسکتا ہے ۔ آپ طلبا کو ان کے آس پاس کام کرنے والے لوگوں ( جیسے دکان کے مالک ، اتفاقی مزدور ، سبزی بیچنے والے ، ورکشاپ کے میکینک ، گھریلو ملازم وغیرہ ) سے بات چیت کرنے کی حوصلہ افزائی بھی کرسکتے ہیں تاکہ وہ ان کے بارے میں جانیں کہ وہ کس طرح اپنی زندگی گزارتے اور کام کرتے ہیں ۔ ایسی معلومات کی بنا پر طلبا کو معاشی سرگرمیوں کی ان کی اپنی درجہ بندی کو فروغ دینے کی حوصلہ افزائی کی جاسکتی ہے ۔
دوسرا اہم مسئلہ جس پر روشنی ڈالی جاسکتی ہے وہ ہے شعبوں کے کردار و اہمیت میں تبدیلی کے ذریعے پیدا ہونے والے مسائل ۔ باب میں بے روزگاروں کے مسائل اور حکومت کے ذریعے اسے حل کرنے کے بارے میں مثالیں دی گئی ہیں۔مزید مثالیں لیتے ہوئے زراعت کی گھٹتی اور صنعت و خدمات کی بڑھتی اہمیت کو بچوں کے ان تجربےکے ساتھ جوڑنا چاہے روزمرہ زندگی میں جن کاسابقہ پڑتارہتا ہے۔ میڈیا سے اخذ معلومات کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیاجاسکتا ہے ۔ آپ حوصلہ افزائی کرسکتے ہیں کہ طلبا اپنے ساتھ اخباروں کے اہم تراشے اور کہانیاں لے آئیں جس کی نمائش اسٹوری بورڈ میں نمایاں طور پر کی جاسکتی ہے اور ان امور پر بحث کے لیے کلاس کی حوصلہ افزائی کیجیے ۔ غیر منظم شعبے پر بحث کرتے ہوئے شعبے میں کام کرنے والوں کے تحفظ کے کلیدی امر پر روشنی ڈالنی چاہیے، آپ طلبا کی حوصلہ افزائی اس لیے بھی کرسکتے ہیں کہ وہ غیر منظم شعبے میں افراد اور کاروباری اداروں سے ملیں اور حقیقی زندگی کی صورتحال کا براہ راست تجربہ کریں ۔
معلومات کے لیےمآخذ
اس باب میں استعمال کیے گئے مجموعی گھریلو پیداوار (GDP)سے متعلق موادریل ٹائم ہینڈ ’بک آف اسٹیٹسٹکس آف انڈین اکنامی سے اخذ کیے گئے ہیں جو 12-2011 میں اصل صنعت کے ذریعے عامل لاگت پر مجموعی گھریلو پیداوار سے متعلق ہیں۔ یہ GDP اور ہندوستانی معیشت سے متعلق دیگر معلومات کا ایک قیمتی ماخذ ہے ۔ تعین قدر کے مقصد بطور ِخاص طلبا ٹیچروں کی تجرباتی اہلیت کو فروغ دینے کے سلسلے میں انہیں مختلف سالوں کے اعداد وشمارحاصل کرنے کے لیے انٹرنیٹ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
روزگار سے متعلق اعداد و شمار سیمپل سروے آرگنائزیشن (NSSO)کے ذریعے منعقد کیے گئے روزگار اور بے روزگاری پر پانچ سالہ سروے سے لیے گئے ہیں ۔NSSOوزارت شماریات ، منصوبہ بندی اور پروگرام نفاذ ، حکومت ہند کے تحت ایک تنظیم ہے ۔ آپ ویب سائٹhtttp:mospi.nic.inلاگ آن کرسکتے ہیں ۔ روزگار کے بارے میں امور معلومہ بھی دیگر مآخذ جیسے ہندوستان کی مردم شماری سے دستیاب ہے۔

باب 2
ہندوستانی معیشت کے شعبے
معاشی سرگرمیوں کے شعبے
ان تصویروں پر نظر ڈالیں۔ آپ پائیں گے کہ لوگ مختلف سرگرمیوں میں مشغول ہیں ۔ ان میں سے کچھ کی سرگر میاں اشیا کو تیار کرنے سے متعلق ہیں ۔ کچھ دوسری خدمات پیش کررہے ہیں ۔
یہ سرگرمیاں ہمارے آس پاس ہر ہر منٹ پر واقع ہو رہی ہیں بلکہ اس لمحے بھی جب ہم بات کرتے ہیں ۔ ان سرگرمیو ںکو ہم کس طرح سمجھتے ہیں ؟ ایک طریقہ اسے کرنے کا یہ ہے کہ ہم ان کا گروپ ( ان کی درجہ بندی ) کچھ اہم معیار یا کسوٹی کا استعمال کر کے بنائیں ۔ درجہ بندی کے کئی طریقے ہوسکتے ہیں جو مقصد پر منحصر ہے اور کوئی کیا سوچتا ہے ایک اہم کسوٹی ہے ۔



ہم مختلف قسم کی معاشی سرگرمیوں پر نظر ڈال کر اس کی شروعات کرسکتے ہیں
بہت سی ایسی سرگرمیاں ہیں جن میں سیدھے طور پر قدرتی وسائل کا استعمال کیا جاتاہے۔ مثال کے طورپرکپاس کی کاشت ، یہ فصلی موسم میں انجام دی جاتی ہے ۔ کپاس کے پودے اگانے کے لیے ہم خاص طور پر( لیکن پوری طرح سے نہیں ) بارش ، دھوپ اور آب و ہوا جیسے قدرتی عوامل پر انحصار کرتے ہیں ۔ اس سرگرمی کا حاصل کپاس ایک قدرتی شے ہے۔ اسی طرح ڈیری جیسی سرگرمی کے معاملے میں ہم جانوروں، حیاتیاتی عمل اور چارے وغیرہ کی دستیابی پر انحصار کرتے ہیں ۔ یہاں پر جو شے حاصل ہوتی ہے وہ بھی قدرتی شے ہے ۔ اسی طرح معدنیات اور کچی دھاتیں بھی قدرتی اشیا ہیں ۔ جب ہم قدرتی وسائل کے استعمال کے ذریعے کوئی شے تیار کرتے ہیں تو یہ سرگرمی ابتدائی شعبے کی ہوتی ہے۔ یہ ابتدائی یا پرا ئمر ی کیوں ہے ؟ یہ اس لیے ہے کہ یہ دیگر تمام اشیا کے لیے بنیاد تشکیل کرتی ہے جسے ہم بعد ازاں بناتے ہیں ۔چونکہ زیادہ تر قدرتی اشیا ہم زراعت ، ڈیری ، ماہی گیری ، جنگل بانی سے حاصل کرتے ہیں ، اس لیے اس شعبے کو زرعی و متعلقہ شعبہ بھی کہا جاتا ہے ۔
ثانوی شعبے میں وہ سب ہی سرگرمیاں شامل ہیں جن میں قدرتی اشیا بنانے یا تیار کرنے کے طریقۂ عمل کے ذریعے دیگر شکلوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں ۔ اس بنانے کے عمل کو ہم صنعتی سرگرمی سے وابستہ کرتے ہیں ۔ یہ ابتدائی کے بعد دوسرا یا اگلا قدم ہے ۔ اس میں شے کو قدرتی طور پر نہیں تیار کیا جاتاہے بلکہ اسے بنایا جاتا ہے اور اس لیے بنانے یا تیار کرنے (manufacturing)کا کچھ عمل ضروری ہے ۔ یہ عمل کارخانوں میں ، ورکشاپ میں یا گھر میں کیا جاسکتا ہے ۔ مثال کے لیے پودے سے حاصل کپاس کے ریشے استعمال کرتے ہوئے ہم سوت کاتتے ہیں اور کپڑا بنتے ہیں ، گنے کو خام مال کے طور پر استعمال کرکے ہم شکر یا گڑ بناتے ہیں ۔ ہم مٹی کو اینٹوں میں بدلتے ہیں اور ان اینٹو ں سے مکان اور عمارتیں بناتے ہیں ۔ چونکہ یہ شعبہ دھیرے دھیرے آنے والی مختلف قسم کی صنعتوں سے وابستہ ہوگیا ۔ اس لیے اسے صنعتی شعبہ بھی کہا جاتا ہے۔
ابتدائی اور ثانوی شعبے کے بعد سرگرمیوں کا ایک تیسرا زمرہ ہے جو ثالثی شعبے کے زمرے میں آتا ہے اور اوپر کے دونوں شعبوں سے مختلف ہے ۔ یہ سرگرمیاں خود اپنے ذریعے کوئی شے نہیں پیدا کرتیں لیکن پیداواری عمل کے لیے مددگار ہوتی ہیں ۔
مثال کے طورپر‘اشیاجو ابتدائی یا ثانوی شعبوںمیں تیار کی جاتی ہیں، انہیں ٹرکوں یا ٹرینوں کے ذریعے لانے اور لے جانے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے بعد انہیں تھوک اور خوردہ دکانوں میں فروخت کیا جاتا ہے ۔ کبھی کبھی گوداموں میں ان کا رکھنا ضروری ہوسکتا ہے ۔ ہمیں ٹیلیفون پر دوسروں سے بات کرنے یا خطوط بھیجنے ( رسل و رسائل ) یا پیداوار اور تجارت میں مدد کے لیے بینکوں ( بینک کاری ) سے ادھار لینے کی بھی ضرورت پڑتی ہے ۔ ٹرانسپورٹ ، اسٹوریج، مواصلات ، بینک کاری تجارت ثالثی سرگرمیوں کی مثالیں ہیں ۔چونکہ یہ سرگرمیاں اشیا کے بجائے خدمات پیش کرتی ہیں اس لیے ثالثی شعبے کو خدماتی یا سروس سیکٹر بھی کہا جاتاہے ۔
خدماتی شعبے میں کچھ ایسی ضروری خدمات بھی شامل ہیں جو ہوسکتاہے سیدھے طور پر اشیا کی پیداوار میں مددگارنہ ہوں ۔ مثال کے لیے ہمیں ٹیچروں، ڈاکٹروں اور ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمیں ذاتی خدمات فراہم کرتے ہیں جیسے دھوبی ،حجّام ، موچی ، وکیل اور ایسے لوگ جو انتظامی اور حساب کتاب کا کام کرتے ہیں ۔ آج کل انفارمیشن ٹکنالوجی پر مبنی بعض نئی خدمات جیسے انٹرنیٹ کیفے ، ATMبوتھ ، کال سنٹر ، سافٹ ویر کمپنیاں زیادہ اہمیت اختیار کرچکی ہیں ۔


ابتدائی
(زرعی) سیکٹر
قدرتی اشیاپیدا کرتے ہیں
ثانوی
(صنعتی) سیکٹر
بنائی گئی اشیا پیش کرتے ہیں
ثالثی
(خدمات)
شعبے
دیگر شعبوں کو فروغ دینے میں مددگار ہوئے ہیں
معاشی سرگرمیوں کو اگر چہ تین مختلف زمروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے لیکن یہ ایک دوسرے پر کافی انحصار کرتی ہیں۔ آئیے کچھ مثالیں دیکھیں
جدول2.1معاشی سرگرمیوں کی مثالیں
| مثال تصور کیجیے کہ کیا ہوگا اگر کسان کسی مخصوص شوگر مل کو گنا فروخت کرنےسے انکار کردیں۔مل بند ہوجائے گی۔ |
اس سے کی ظاہر ہوتاہے؟ یہ ثانوی یا صنعتی شعبے کی ایک مثال ہے جو ابتدائی شعبہ پر منحصر ہوتی ہے۔ |
| تصور کیجیے کہ کپاس کی کاشتکاری کا کیا ہوگا اگر کمپنیاں ہندوستانی بازار سے خریداری کا فیصلہ نہ کریں اوروہ اپنی ضرورت کے مطابق سبھی کپاس دوسرے ملکوں سے منگائیں یعنی درآمد کریں۔ایسی صورت میں کپاس کی کاشتکاری کم نفع بخش ہوگی اور کسان دیوالیہ ہوسکتے ہیں اگروہ فوری طورپر دوسری فصلیں نہ اگانی شروع کردیں۔کپاس کی قیمتوں میں بھی کمی آئے گی۔ | |
| کسان بہت ساری اشیا خریدتے ہیں جیسے ٹریکٹر،پمپ سیٹ، بجلی کے سامان،کیڑے مارنے کی ادویات اور فرٹیلائزر۔تصور کیجیے کہ اگر فرٹیلائزروں یا پمپ سیٹ کی قیمتیں بڑھ جائیں۔کسانوں کی کاشت کی قیمت بڑھ جائےگی اوران کا نفع کم ہوجائے گا۔ | |
| صنعتی اور خدماتی سیکٹر میں کام کرنے والے لوگوں کو غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔تصور کیجیے کہ اگر ٹرانسپورٹروں نےہڑتال کردی ہو اور لاریاں دیہی علاقوں سے سبزی، دودھ وغیرہ لے جانے سے انکار کردیں۔ غذا،شہری علاقوں میں کمیاب ہوجائے گی جب کہ کسان اپنی اشیا کو فروخت نہیں کرسکیں گے۔ |

آئیے حل کریں
1- درج بالا جدول کو مکمل کریں اور دکھائیں کہ کس طرح شعبے ایک دوسرے پر منحصر ہیں ۔
2- متن میں بیان کی گئی مثالوں کو چھوڑ کر دوسری مثالوں کا استعمال کرتے ہوئے ابتدائی ، ثانوی اور ثالثی شعبوں کے درمیان فرق کی وضاحت کیجیے
3- ابتدائی ، ثانوی اور ثالثی شعبوں کے تحت پیشوں کی درج ذیل فہرست کی درجہ بندی کریں :
• درزی • ماچس کی فیکٹری میں کام آنے والے
• ٹوکری بنانے والے •رقم ادھار دینے والے /مہاجن
• پھول کے کاشتکار • مالی
• دودھ بیچنے والے • برتن بنانے والے
•مچھیرے • شہد کے چھتے پالنے والے
• پجاری • خلا باز
• کوریئر • کال سینٹر کا ملازم
4- اسکول میں طلبا کو اکثر ابتدائی اور ثانوی یا جونیئر اور سینئر میں درجہ بند کیا جاتا ۔ یہ کیا کسوٹی ہے جسے استعمال کیا جاتا ہے؟ کیا آپ کے خیال میں درجہ بندی کرنے کے لیے یہ کار آمد ہے ؟ بحث کیجیے
تینوں شعبوںکا موازنہ کرنا
ابتدائی ، ثانوی اور ثالثی شعبوں میں مختلف پیداواری سرگرمیاں اشیا اور خدمات کی ایک بہت بڑی تعداد پیش کرتی ہیں ۔ اس کے علاوہ ان تینوں شعبوں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہوتی ہے جو ان میں ان اشیا اور خدمات کو پیش کرنے کے لیے کام کرتی ہے ۔ لہٰذا اگلا قدم یہ دیکھنا ہے کہ کتنی اشیا اور خدمات پیش کی جاتی ہیں اور شعبے ایسے ہوتے ہیں جو کل پیداوار اور روزگار کے معنی میں غالب ہوتے ہیں جب کہ دیگر شعبے سائز یا حجم کے لحاظ سے نسبتاً چھوٹے ہوتے ہیں ۔
مختلف اشیا اور خدمات کو ہم کس طرح شمار کرتے ہیں اور ہر سیکٹر میں کل پیداوار کو کیسے جانتے ہیں ؟
اشیا اور خدمات تو ہزاروں کی تعداد میں تیار ہوتی یا پیش ہوتی ہیں ، آپ سوچیں گے کہ ان کا شمار تو ایک ناممکن کام ہے ! نہ صرف یہ کام بہت ہی بڑا ہوگا بلکہ آپ یہ بھی حیرت کریں گے کہ کس طرح کاروں ،کمپیوٹروں،کیلوں اور فرنیچر کی جمع نکال سکتے ہیں ، یہ قابل عمل نہیں ہوسکتا !!!
ایسا سوچنے میں آپ بالکل صحیح ہیں ۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ماہرین معاشیات کی تجویز ہے کہ حقیقی اعداد کو جمع کرنے کے بجائے اشیا اور خدمات کی قدروں کا استعمال کیا جائے ۔ مثال کے لیے ، اگر 10,000کلو گرام گیہوں 8روپے فی کلو گرام کے حساب سے فروخت کیا جاتا ہے تو گیہوں کی قدر یا کل قیمت 80,000روپےہوگی ۔ 10روپے فی عدد کے حساب 5000ناریل کی قیمت 50,000 روپے ہوگی ۔ اسی طرح تینوں سیکٹروں اشیا اور خدمات کی قیمت شمار کی جاتی ہے اور اس کے بعد ان کا جمع نکالی جاتی ہے ۔
یاد رکھیے ، ایک احتیاط بھی کرنی ہوتی ہے ۔ ہر شے (یا خدمت ) جو پیش کی جاتی ہے یا فروخت کی جاتی ہے انہیں شمار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف آخری اشیا اور خدمات کو شامل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ، مثال کے لیے ایک کسان جو آٹامل کو 8روپےفی کلوگرام کے حساب سے گیہوں فروخت کرتا ہے ۔مل گیہوں کو پیستی ہے اور آٹا ایک بسکٹ کمپنی کو 10روپے فی کلوگرام کے حساب سے فروخت کرتی ہے بسکٹ کمپنی آٹے ‘شکر اور تیل جیسی چیزوں کا استعمال کرتی ہے اور بسکٹوں کے چار پیکٹ بناتی ہے ۔ یہ کمپنی 60 روپے (15فی پیکٹ کے حساب سے ) میں صارفین کے لیے یہ بسکٹ بازار میں فروخت کردیتی ہے ۔ یہ بسکٹ آخری شے ہے یعنی وہ شے جو صارفین کو پہنچتی ہے ۔
صرف آخری اشیا اور خدمات کو کیوں شمار کیاجاتا ہے ؟ آخری اشیا کے برعکس اس مثال میں گیہوں اور گیہوں کے آٹے جیسی اشیا درمیانی اشیا ہیں۔ درمیانی اشیا، آخری اشیا اور خدمات پیش

کرنے میں استعمال ہوجاتی ہیں ۔ آخری اشیا کی قدر میں سبھی درمیانی اشیا کی قدریں پہلے سے شامل ہیں جن کا استعمال آخری کے بنانے میں کیا گیا ہے ۔ لہٰذا بسکٹ( آخری شے ) کے لیے 60روپے کی قدر آٹے کی قدر (10روپے ) کو پہلے ہی شامل کرلیتی ہے ۔ اسی طرح سبھی دیگر درمیانی اشیا کی قدر شامل ہوچکی ہوتی ہے ۔ آٹے اور گیہوں کی قدر کو الگ الگ شمار کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ تب ہم اسی چیز کو کئی بار شمار کررہے ہوں گے ۔ یعنی پہلے گیہوں ، اس کے بعد آٹا اور آخر میں بسکٹ کے طور پر۔
کسی مخصوص سال کے دوران ہر شعبے میں پیش کی جانے والی آخری اشیا اور خدمات کی قدر اسی سال کے لیے شعبہ کی کل پیداوار فراہم کرتی ہے ۔ اور تینوں شعبوںمیں پیداوار کی جمع کسی ملک کی مجموعی ملکی پیداوار GDP)؛ (Gross Domestic Productعطاکرتی ہے ۔ یہ کسی ملک کے اندر ایک مخصوص سال میں پیش کی جانے والی تمام اشیا اور خدمات کی قدر ہے ۔ GDP سے پتہ چلتا ہے کہ معیشت کتنی بڑی ہے۔
ہندوستان میں GDPکی پیمائش کایہ بھاری بھرکم کام مرکزی حکومت کی وزارت انجام دیتی ہے۔یہ وزارت سبھی ہندوستانی ریاستوں اورمرکزکے زیر انتظام علاقوں کے مختلف سرکاری شعبوں کی مدد سے اشیا اورخدمات کے کل حجم اور ان کی قیمتوں سے متعلق ، معلومات اکٹھا کرتی ہے اور اس کے بعد GDP کا تخمینہ لگاتی ہے ۔
شعبوں میں تاریخی تبدیلی
عام طور پراب ترقی یافتہ ملکوں کے زمرے میں آنے والے متعدد ممالک کی تواریخ پرغور کیاگیا ہے کہ ترقی کے ابتدائی مراحل میں ابتدائی شعبہ معاشی سرگرمی کا سب سے اہم سیکٹر تھا ۔
جیسے جیسے کاشتکاری کے طریقوں میں تبدیلی پیدا ہوئی اور زرعی شعبہ خوشحال ہوا ، اس میں پہلے کی نسبت غذا کی پیداوار بھی بڑھی۔ بہت سے لوگ اب دیگر سرگرمیوں کو انجام دے سکتے تھے ۔ دستکاروں اور تاجروں کی تعداد بڑھ رہی تھی ِ۔خریداری اور فروخت کی سرگرمیاں کئی گنا بڑھ گئی تھیں ۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹر ، منتظمین ، فوج وغیرہ بھی تھیں ، تاہم اس مرحلے پر زیادہ تر اشیا جو تیار کی جاتی تھیں وہ ابتدائی شعبے کی قدرتی پیداوار تھیں اور زیادہ تر لوگ اسی شعبہ میں لگے ہوئے تھے۔
کافی طویل عرصہ گزرنے پر ( سو سال سے زیادہ ) اور خاص طور پر اس لیے اشیا تیار کرنے کے نئے نئے طریقے پیدا ہوئے ، فیکٹریوں کی شروعات اور ان کی توسیع بھی ہوئی۔ وہ لوگ جو کھیتوں میں کام کرتے تھے ۔ اب بڑی تعداد میں فیکٹریوں میں کام کرنے لگے ۔انھیں فیکٹریوں میں کام کرنے کے لیے مجبور کیا گیا جیسا کہ آپ نے تاریخ میں پڑھا ہے۔ لوگوں نے ان اشیا کا کافی زیادہ استعمال کرنا شروع کیا جو سستی قیمتوں پر فیکٹریوں میں تیار کی جاتی تھیں ، ثانوی شعبہ دھیرے دھیرے کل پیداوار اور روزگار میں زیادہ اہم بن گئے ۔ لہٰذا وقت کے ساتھ ساتھ ایک منتقلی پیدا ہوگئی تھی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شعبوں کی اہمیت تبدیل ہوگئی تھی ۔
ترقی یافتہ ملکوں میں پچھلے 100سالوں میں ثانوی سے ثالثی شعبہ میں مزید منتقلی ہوئی ۔ کل پیداوار کے معنی میں خدماتی شعبے زیادہ اہم بن گئے ۔ زیادہ تر کام کرنے والے لوگ خدماتی شعبے میں بھی لگے ہوئے تھے ۔ ترقی یافتہ ملکوں میں یہ ایک عام انداز تھا جس کا مشاہدہ کیا گیا ۔
ہندوستان میں تینوں شعبوں میں کل پیداوار اور روزگارکیا ہے؟ ترقی یافتہ ملکوں کے لیے جس انداز کا مشاہدہ کیا گیا کیااسی انداز کی تبدیلیاں یہاں برسوں میں واقع ہوئی ہیں ، اگلےسیکشن میں اسے دیکھیں گے۔
آیئے انہیں حل کریں
1- ان منتقلیوں کے بارے میں ترقی یافتہ ملکوں کی تاریخ کیا اشارہ کرتی ہے جو سیکٹروں کے درمیان واقع ہوئی تھیں ؟
2- اس مخلوطہ سے GDP ( کل ملکی پیداوار ) کا شمار کرنے کے لیے اہم پہلوؤں کو صحیح کیجیے اور انہیں مرتب کیجیے ۔
اشیا اور خدمات کا شمار کرنے کے لیے ہم اعداد کو جمع کرتے ہیں جو پیش کیے جاتے ہیں ۔ ہم ان سبھی کا شمار کرتے ہیں جو پچھلے پانچ سالوں میں تیار ہوئی تھیں ۔ چونکہ ہمیں کچھ نہیں چھوڑنا چاہیے اس لیے ہم ان تمام اشیا اور خدمات کی جمع نکالتے ہیں ۔
3- اپنے استاد کے ساتھ بحث کریں کہ آپ قیمت کے طریقۂ کار کا استعمال کرکے ہر سطح پر جوڑی گئی اشیا یا خدمات کی قیمت کا شمار کیسے کریں گے۔
ہندوستان میں ابتدائی ، ثانوی اور ثالثی شعبے
گراف 1 تین شعبوں میں اشیا اورخدمات کی پیداوار دکھاتا ہے ۔ یہ دوسالوں74-1973 اور 14-2013 کےلیے دکھایا گیا، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کل پیداوار چالیس سالوں میں کتنی بڑھی ہے.

آئیے انہیں حل کریں
گراف کے ذریعے درج ذیل سوالوں کے جواب دیجیے۔
74-1- 1973میں سب سے بڑا پیداواری شعبہ کون سا تھا؟
2- 2013-14 میں سب سے بڑا پیداواری شعبہ کون سا تھا؟
3 -کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ ان تیس سالوں میں کون سے شعبے کا زیادہ فروغ ہوا ہے ؟
4- 2013-14میں ہندوستان کی کل گھریلو (ملکی ) پیداوار( GDP) کیا تھی ؟
1973-74اور 14-2013کے درمیان موازنہ کیا دکھلاتا ہے ؟ اس موازنے سے ہم کیا نتائج نکال سکتے ہیں؟ آئیے معلوم کریں ۔
گراف 1:ابتدائی، ثانوی اورثالثی شعبوں کے ذریعے مجموعی ملکی پیداوار(GDP)
| 6,000,000 | |
| 5,500,000 | |
| 5,000,000 | |
| 4,500,000 | |
| 4,000,000 | |
| 3,500,000 | |
| 3,000,000 | |
| 2,500,000 | |
| 2,000,000 | |
| 1,500,000 | |
| 1,000,000 | |
| 500,000 |
14-2013 74-1971 0
ابتدائی شعبہ
ثانوی شعبہ
ثالثی شعبہ
نوٹ:14-2013حالیہ برس ہے جس کے لیے موازناتی اعداد وشمار موجودہے۔
پیداوار میں ثالثی شعبے کی بڑھتی اہمیت
1973-74اور 14-2013کے درمیان تیس سالوں میں پیداوارجہاں سبھی شعبوں میں بڑھی وہیں ثالثی سیکٹر میں زیادہ بڑھی ۔نتیجے کے طور پر سال 14-2013میں ہندوستان میں ابتدائی سیکٹر کا بدلا ثالثی شعبہ سب سے بڑے پیداواری شعبے کے طور پر ابھرا ۔
ہندوستان میں ثالثی شعبہ کیوں اتنی اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے ؟ اولاً کسی ملک میں متعدد خدمات جیسے اسپتال ، تعلیمی ادارے ،ڈاک اورٹیلی گرافی خدمات،پولیس اسٹیشن، عدالتیں ، دیہی انتظامی دفاتر ، میونسپل کار پوریشن ،دفاع ، ٹرانسپورٹ ، بینک ، بیمہ کمپنیاں وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔انہیں بنیادی خدمات کے طور پر سمجھا جاتا ہے ۔ ایک ترقی پذیر ملک میں حکومت کو ان خدمات کے اہتمام کی ذمے داری لینی ہوتی ہے ۔
دوسرے ، زراعت اور صنعت کی ترقی سے خدمات جیسے نقل و حمل ( ٹرانسپورٹ ) تجارت ، اسٹوریج اوروہ خدمات جن کاذکرہم پہلے کرچکے ہیں کو بھی فروغ حاصل ہوتا ہے۔ ابتدائی اور ثانوی شعبوںکی جتنی ترقی ہوگی ایسی خدمات کے لیے زیادہ مانگ ہوگی ۔
تیسرے ، جیسے ہی آمدنی کی سطح بڑھتی ہے لوگوں کے بعض طبقات کی مانگ بہت سی مزید خدمات جیسے باہر کھانے پینے ، سیاحت ، شاپنگ ، نجی اسپتال ،نجی اسکول ، پیشہ ورانہ تربیت وغیرہ کے لیے بڑھنا شروع ہوجاتی ہے۔آپ شہروں میں خاص طور پر بڑے شہروں میں تیزی سے بدلتی ہوئی اس تبدیلی کو دیکھ سکتے ہیں ۔
چوتھے ، پچھلی دہائی میں بعض نئی خدمات جیسے وہ جو معلومات اور مواصلاتی ٹکنالوجی پر مبنی تھیں زیادہ اہم اور ضروری بن گئیں ۔ ان خدمات کی پیداوار تیزی سے بڑھنے لگیں ۔ باب 4میں ہم ان نئی خدمات کی مثالیں اور ان کی توسیع کے اسباب دیکھیں گے ۔
تاہم آپ غور کریں کہ سبھی خدماتی شعبے مساوی طور پر نہیں بڑھ رہے ہیں ۔ ہندوستان میں خدماتی شعبے کئی طرح کے لوگوں کو ملازمت پر رکھتے ہیں ۔ ایک طرف خدمات کی کچھ محدود تعداد ایسی ہے جس میں انتہائی ماہر ، ہنرمند اور تعلیم یافتہ ملازموں کو ملازمت دی جاتی ہے ۔وہیں دوسری طرف کام کرنے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد چھوٹے دوکانداروں ، مرمت کرنے والے افراد ، نقل و حمل سے متعلق لوگوں کے طور پر مشغول ہیں۔ یہ لوگ محض کسی طرح اپنی گزر بسر کا انتظام کرپاتے ہیں تاہم وہ ان خدمات کو اس لیے انجام دیتے ہیں کہ ان کے پاس کام کے کوئی دوسرے متبادل مواقع دستیاب نہیں ہیں ۔ لہٰذا اس شعبے کا صرف ایک حصہ اہمیت اختیار کررہاہے ۔ آپ اس بارے میں مزید تفصیل اگلے سیکشن میں پڑھیں گے۔
زیادہ تر لوگ کہاں روزگار حاصل کرتے ہیں ؟
گراف 2 میں مجموعی ملکی پیداوار (GDP)میں تینوں شعبوں کے فی صد حصے کو دکھایا گیا ہے ۔ اب آپ پچھلے تیس سالوں میں شعبوں کی بدلتی اہمیت کو سیدھے طور پر دیکھ سکتے ہیں ۔
گراف 3:GDPمیں شعبوں کا حصہ فی صد
| 100% | ||
| 90% | ||
| 80% | ||
| 70% | ||
| 60% | ||
| 50% | ||
| 40% | ||
| 30% | ||
| 20% | ||
| 10% | ||
| 0% | ||
| 2013-14 | 1973-74 |

ہندوستان کے بارے میں ایک قابل ذکر حقیقت یہ ہے کہ جہاں GDP میں تینوں شعبوں کے حصے میں تبدیلی پیدا ہوئی ہے وہیں روزگار میں اس طرح کی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے ۔ گراف 3میں 78-1977اور 18-2017میں تینو ںشعبوں میں روزگار کے حصے کو دکھایا گیا ہے۔آج بھی یہ سب سے زیادہ روزگار مہیا کرانے والا شعبہ بنارہا۔
گراف3:روزگار میں شعبوں میں حصہ(%)
| 100 | ||
| 15 | 90 | |
| 27 | 11 | 80 |
| 70 | ||
| 24 | 60 | |
| 50 | ||
| 74 | 40 | |
| 49 | 30 | |
| 20 | ||
| 10 |
2011-12 1972-73 0
ابتدائی شعبہ
ثانوی شعبہ
ثالثی شعبہ

روزگار کے معاملے میں اسی طرح کی تبدیلی کیوں نہیں واقع ہوئی تھی ؟ ایسا اس لیے کہ ثانوی اور ثالثی شعبوں میں کافی مقدار میں کام کے مواقع دستیاب نہیں تھے ۔ یہ اس حقیقت کے باوجود ہوا کہ اس مدت کے دوران صنعتی ماحصل ( out put )یا اشیا کی پیداوارنو گنا سے زیادہ بڑھ گئی تھی حالانکہ صنعت میں روزگار صرف تقریباً تین گنا ہی بڑھا ۔ یہی بات ثالثی شعبے میں بھی لاگو ہوتی ہے ۔ جہاں خدمتی شعبے میں پیداوارچودہ گنا سے زیادہ بڑھی وہیں اس خدمتی شعبے میں روزگار تین گنا سے بھی کم بڑھا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ملک میں کام کرنے والوں کی آدھی سے زیادہ تعداد ابتدائی شعبے خاص طور پر زراعت میں ہی کام کررہی ہے جو مجموعی ملکی پیداوار کا صرف ایک چھٹواں پیش کررہی ہے ۔ اس کے برعکس ثانوی اور ثالثی شعبے پیداوار کا باقی پیش کررہے ہیں جب کہ ان میں کل کارکنوں ( کام کرنے والوں ) کی صرف آدھی تعداد ہی برسرروزگار ہے ، کیا اس کامطلب یہ ہے کہ زراعت میں کارکن اتنی پیداوار نہیں دے پارہے ہیں جتنا کہ انہیں دینی چاہیے تھی ؟
کیا اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ زراعت میں ضرورت سے زیادہ لوگ کام کررہے ہیں ۔ یہاں تک کہ اگر کچھ لوگ کام نہ بھی کریں تو پیداوار پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ دوسرے لفظوں میں زرعی شعبہ میں کارکن ادھورے طور پر برسرروزگار یا جزوی روزگار یافتہ ( under employed )ہیں ۔
مثال کے طور پر، ایک چھوٹے سے کسان لکشمی کا معاملہ لیجیے جس کے پاس تقریباً دوہیکٹیئر غیر آب پاشی والی زمین کی ملکیت ہے جس میں آبپاشی کے لیے صرف بارش کا سہارا رہتا ہے اور جس میں جوار اور ارہر جیسی فصلوں کو اگایا جارہا ہے ۔ اس کی فیملی کے سبھی پانچ ممبر پورے سال کھیت میں کام کرتے ہیں ۔ کیوں ؟ وہ کام کرنے کے لیے کہیں اور نہیں جاسکتے ۔ آپ دیکھیں گے کہ ہر ایک کام کررہا ہے کوئی بیٹھا نہیں ہے لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ ان کی محنت تقسیم ہوجاتی ہے ۔ ہر ایک کچھ کام تو کررہا ہے لیکن وہ پوری طرح روزگار یافتہ نہیں ہے ۔یہی ادھورے روزگار کی حالت ہے جہاں لوگ بظاہر کام کررہے ہیں لیکن اتنا کام نہیں کرتے جتنا کہ وہ کرسکتے تھے ۔ اس طرح کا ادھورا روزگار ان کے مقابلے جن کے پاس بالکل کام نہیں ہے اور جن کی بے روزگاری صاف طورپردکھائی دیتی ہے،چھپارہتاہے لہٰذااس کوچھپی بے روزگاری (disguised unemployment) بھی کہا جاتا ہے ۔
اب مان لیجیے ایک زمین کامالک سکھ رام ہے ، وہ فیملی کے ایک یا دو ممبر کو اپنی زمین پر کام کرنے کے لیے ملازمت پر رکھ لیتا ہے ۔ لکشمی کی فیملی اب مزدوری کے ذریعے کچھ زیادہ آمدنی کما سکتی ہے ۔ چونکہ انہیں اس چھوٹے سے کھیت پر پانچ لوگوں کے کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس لیے دو لوگوں کے جانے سے ان کے کھیت کی پیداوار پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اوپر کی مثال میں دو لوگ ہوسکتا ہے کسی فیکٹری میں کام کرنے کے لیے چلے جائیں ۔ ایک بار پھر فیملی کی کمائی بڑھ جائے گی اور وہ اپنی زمین سے اتنی ہی پیداوار بھی جاری رکھ سکیں گے ۔
ہندوستان میں لکشمی کی طرح لاکھوں کسان ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر ہم زرعی شعبے سے بہت سے لوگوں کو ہٹادیں اور کہیں اور انہیں مناسب کام مہیا کریں تو بھی زرعی پیداوار پر اثر نہیں پڑے گا ۔ دوسرے کام کرنے سے لوگوں کی آمدنی بڑھنے سے فیملی کی کل آمدنی بھی بڑھ جائے گی ۔

یہ ادھورا یا جزوی روزگار دوسرے شعبوں میں بھی واقع ہوسکتا ہے ۔ مثال کے لیے شہری علاقوں میں خدمتی شعبے میں ہزاروں اتفاقی مزدور ہیں جو یومیہ روزگار کی تلاش میں رہتے ہیں ۔ وہ پینٹر ، پلمبر ( نل ساز ) ، مرمت کرنے والے کے طور پر اور دیگر متفرق کاموں میں لگے ہوئے ہیں ۔ اسی طرح ہم خدمتی شعبے کے دوسرے لوگوں کو بھی دیکھتے ہیں جو گلیوں میں ٹھیلے چلاتے ہیں یا کوئی چیز بیچ رہے ہوتے ہیں ۔ جہاں وہ پورا دن لگاتے ہیں لیکن کماتے تھوڑا ہی ہیں ۔ وہ اس کام کو اس لیے کررہے ہیں کیونکہ ان کے پاس بہتر مواقع نہیں ہیں ۔
آئیے انہیں حل کریں
1- گراف 2اور 3میں دیے گئے مواد کا استعمال کرتے ہوئے درج ذیل جدول کو مکمل کریں اور سوال کا جواب دیں۔ تیس سالوں کے عرصے میں ابتدائی شعبے میں کن تبدیلیوں کا آپ مشاہدہ کرتے ہیں ؟
جدول2.2مجموعی گھریلو پیداوار اور روزگار
| 1977-78 | 1973-74 | 2013-14 | 2017-18 | |
| مجموعی گھریلو پیداوار میں حصہ(GDP) | ||||
| روزگار میں حصہ |

2-صحیح جواب کی نشان دہی کریں ۔
(i)صحیح روزگار اس وقت واقع ہوتا ہے جب لوگ
کام نہیں کرنا چاہتے
(ii) آرام سے یا ڈھیلے ڈھالے طریقے سے کام کررہے ہوں
(iii) جتنا کام کرسکتے ہیں اس کی نسبت کم کام کرتے ہیں
(iv) ان کے کام کے لیے ادائیگی نہیں کی جاتی
3- ہندوستان میں ہونے والی اس اندازکی تبدیلیوں کا موازنہ کیجیے اور فرق ظاہر کیجیے جن کا مشاہدہ ترقی یافتہ ملکوں میں کیا گیا تھا ۔ شعبوں کے درمیان ہندوستان میں کس قسم کی تبدیلیاں متوقع تھیں لیکن واقع نہیں ہوسکیں ؟
4- ادھورے روزگار کے بارے میں ہمیں کیوں فکر ہونی چاہیے؟
روزگارکے زیادہ مواقع کیسے پیدا کریں ؟
اوپر کی بحث سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ زراعت میں ادھورا روزگار کافی پایا جاتا ہے ۔ ایسے بھی لوگ ہیں جن کے پاس بالکل روزگار نہیں ہے ۔ لوگوں کے لیے کس طرح روزگار بڑھایا جاسکتا ہے ؟ آئیے ان میں سے کچھ پر نظر ڈالیں ۔
لکشمی کا غیر آبپاشی والی دو ہیکٹیئر کمیت کا معاملہ لیں ۔ حکومت کچھ رقم خرچ کرتی ہے یا بینک قرض مہیا کرسکتا ہے ، تاکہ اس کے خاندان کے لیے ایک کنواں کھودا جاسکے جس سے اس کے کھیت کی سینچائی ہوسکے ۔ اسی طرح لکشمی اپنی زمین پر آبپاشی کرسکے گی اور ربیع کے موسم میں ددسری فصل گیہوں اگاسکے گی ۔ اب فرض کر لیجیے کہ گیہوں کی ایک ہیکٹیئرزمین 50دنوں کے لیے دو لوگوں کو روزگار فراہم کرسکتی ہے ۔( اس میں بونا ، پانی دینا ، کھاد دینا اور فصل کی کٹائی شامل ہے ) ۔ لہٰذا اپنے خود کے کھیت میں اس کی فیملی کے دو مزید ممبروں کو کام پر لگایا جاسکتا ہے ۔ اب مان لیں کہ ایک نیا باندھ تعمیر کیا جاتا ہے

اور ایسے بہت سے کھیتوں میں آبپاشی کے لیے نہریں کھودی جاتی ہیں ۔ اس سے خود زرعی شعبہ میں بہت سے روزگار کی تخلیق ہوگی اور ادھورے روزگار کا مسئلہ کم ہوگا۔
اب مان لیں کہ لکشمی اور دیگر کسان پہلے سے بہت زیادہ پیداوار کرتے ہیں ان ہی میں سے کچھ کو بیچنے کی بھی ضرورت ہوگی ، اس کے لیے انھیں ایک قریبی شہر میں اپنی اشیا لے جانے کے لیے ٹرانسپورٹ کی ضرورت پڑسکتی ہے ، اگر حکومت فصلوں کے نقل و حمل اور گودام یا بہتر دیہی سڑک بنانے کے لیے کچھ رقم کی سرمایہ کاری کرتی ہے تاکہ چھوٹے ٹرک ہر جگہ پہنچ سکیں تو لکشمی جیسے بہت سے کسان جن کے پاس اب آ بپاشی کی سہولت ہے ،وہ ان فصلوں کو اگانے اور فروخت کرنے کا کام جاری رکھ سکتے ہیں ۔ اس سرگرمی سے نہ صرف کسانوں کوپیداواری روزگار فراہم ہوسکتا ہے بلکہ ٹرانسپورٹ اور تجارت یا خریدو فروخت جیسی خدمات میں ددوسرے لوگوں کو بھی روزگار مل سکتاہے ۔
لکشمی کی ضرورت صرف آبپاشی تک محدود نہیں ہے ، زمین پر کاشتکاری کے لیے اسے بیجوں ، فرٹیلائزر، زرعی سازو سامان اور پانی نکالنے کے لیے پمپ سیٹ کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔ ایک غریب کسان ہونے کی وجہ سے ان میں بہت سی چیزیں حاصل نہیں کرسکتی ، اس لیے وہ مہاجنوں سے قرض لے گی اور ایک اونچی شرح سود پر ادائیگی کرے گی ، اگر کوئی مقامی بینک سود کی ایک معقول شرح پر اسے ادھار دیتاہے تو وہ ان سب چیزوں کو وقت پر خرید کر اپنی زمین پر کاشتکاری کرسکے گی ،اس کا مطلب یہ ہے کہ پانی کے ساتھ ساتھ کسانوں کو ہمیں سستے زرعی ادھار بھی فراہم کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ اپنی کاشتکاری کو بہتر بنا سکیں ، ہم ان کی کچھ ضرورتوں کو باب 3 زر اور قرض میں سمجھیں گے ۔

ہریانہ میں گڑبنانے کی ایک تصویر
ایک اور طریقہ ہے جس سے ہم اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں وہ ہے نیم دیہی علاقوں میں صنعتوں اور خدمات کی شناخت، فروغ اور محل وقوع کا تعین کرنا ، اس سے یہاں پر بڑی تعداد میں لوگوں کو روزگار میں لگایا جاسکتا ہے ۔
مثال کے طورپر بالفرض بہت سے کسان ارہر اور چھوٹی مٹر( دال سے متعلق فصل) اگانے کا فیصلہ کرتے ہیں ، شہروں میں ان کے حصول اور عمل کاری اور فروخت کے لیے دال مل قائم کرنا اس کی ایک مثال ہے ۔ ایک کولڈاسٹوریج ( سردخانہ ) کھولنا کسانوں کو آلو اور پیاز جیسی ان کی پیداوار کے ذخیرے کے لیے مواقع فراہم کرتا ہے اور اس طرح جب قیمت اچھی ملے تو وہ انہیں فروخت کرسکتے ہیں ، جنگلاتی علاقوں کے قریب گاؤں میں ہم شہد اکٹھا کرنے کے مراکز شروع کرسکتے ہیں جہاں کسان آسکتے ہوں اور جنگلاتی شہد فروخت کرسکتے ہوں ۔یہ بھی ممکن ہے کہ ایسی صنعتیں قائم کی جائیں جو سبزیوں اور آلو ، شکر قند، چاول ، گیہوں ، ٹماٹر ، پھل جیسی زراعتی پیداواروں کو محفوظ کریں تاکہ انھیں بیرونی بازاروں میں فروخت کیا جاسکتا ہو ۔ اس سے نیم دیہی علاقوں میں واقع صنعتوں میں روزگار مل سکے گا اور یہ ضروری نہیں رہ جائے گا کہ بڑے شہری علاقوں میں ہی روزگار ملے۔
46.9 فی صدآبادی کا تعلق 5سے29 سال کی عمر کے گروپ سے ہے۔ اس میں سے صرف52فی صد ہی اسکول جارہے ہیں۔
آپ کے علاقے میں لوگوں کے کون سے گروپ آپ کے خیال میں بے رو زگار یا ادھورے روزگار والے ہیں ؟ کیا آپ ان کے لیے بعض اقدامات کے بارے میں سوچ سکتے ہیں ؟
باقی نہیں جاتے ۔وہ گھر پر رہتے ہیں یا ہوسکتا ہے ان میں سے بہت سے بچے مزدور کے طور پر کام کررہے ہوں ۔ اگر یہ بچے بھی اسکول جائیں تو ہمیں زیادہ عمارتوں کی، زیادہ ٹیچروں کی اور دیگر اسٹاف کی ضرورت پڑے گی ، منصوبہ بندی کمیشن کے ذریعے کیے گئے مطالعہ میں یہ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ تقریباً 20 لاکھ جاب کے مواقع تعلیمی سیکٹر میں اکیلے ہی پیدا کیے جاسکتے ہیں ۔ اسی طرح ، اگر ہمیں صحت کی صورت حال کو بہتر کرنا ہے تو ہمیں دیہی علاقوں میں کام کرنے کے لیے بہت سے اور ڈاکٹروں ، نرسوں ، طبی کارکنان وغیرہ کی ضرورت پڑے گی ۔ یہ کچھ طریقے ہیں جن سے کام کی تخلیق کی جاسکے گی اور ہم ترقی کے اہم پہلوؤں کو حل بھی کرسکیں گے ۔ ترقی کے اہم پہلوؤں کے بارے میں باب 1میں بات کی گئی ہے۔
ہر ریاست یا خطے کے پاس اس علاقے میں لوگوں کے لیے آمدنی اور روزگار بڑھانے کے لیے امکانی قوت ہوتی ہے ، یہ سیاحت یا علاقائی یا دستکاری یا صنعت یا انفارمیشن ٹکنالوجی جیسی نئی خدمات ہوسکتی ہیں ، ان میں سے کچھ میں مناسب منصوبہ بندی اور حکومت سے مدد کی ضرورت ہوگی ۔ مثال کے لیے منصوبہ بندی کے اس تحقیق و مطالعے میں کہا گیا ہے کہ اگر سیاحت کو ایک سیکٹر کی حیثیت سے بہتر بنایا جائے تو ہر سال ہم 35لاکھ سے زیادہ لوگوں کو اضافی روزگار دے سکتے ہیں ۔
ہمیں محسوس کرنا ہوگا کہ اوپر جن تجاویز پر بحث کی گئی ہے، اگر ہم انہیں لاگو کرنا چاہیں تو کافی وقت لگے گا۔ کم عرصے کے لیے ہمیں کچھ فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ اسے تسلیم کرتے ہوئے ہندوستان میں مرکزی حکومت نے حال ہی میں ایک قانون بنایا ہے جس کے تحت کام کے حق کو ہندوستان کے 200اضلاع میں نافذ کیا جارہا ہے ۔ اسے قومی دیہی روزگار گارنٹی ایکٹ2005 (NREGA 2005) کہا جاتا ہے ۔NREGAایکٹ 2005کے تحت وہ سبھی لوگ جو کام کے لائق ہیں اور انہیں اس کی ضرورت ہے ۔ انہیں حکومت کے ذریعہ ایک سال میں روزگار کے 100دنوں کی ضمانت دی گئی ہے ۔ اگر حکومت روزگار فراہم کرنے کا اپنا یہ فریضہ پورا کرنے میں ناکام رہتی ہے تب وہ لوگوں کو بے روزگاری بھتہ دے گی ۔
کام کی وہ اقسام جو مستقبل میں سے پیداوار کو بڑھانے میں مدد کریں گی انہیں اس ایکٹ کے تحت ترجیح دی جائئے گی ۔

آئیے انہیں حل کریں
1- آپ ایسا کیوں سوچتے ہیں کہ قومی دیہی روزگار گارنٹی ایکٹ (NREGA 2005)کو ’ کام کے حق ‘ کے حوالے سے جانا جاتا ہے ؟
2 - فرض کیجیے کہ آپ گاؤں کے مکھیا یا پردھان ہیں ، اس حیثیت میں کچھ ایسی سرگرمیوں کی تجویز پیش کیجیے جو آپ کے خیال میں اس ایکٹ کے تحت ہونا چاہیے جس سے لوگوں کی آمدنی بھی بڑھ جائئے گی ؟ بحث کیجیے۔
3- کسانوں کی آمدنی اور روزگار میں اضافہ کیسے ہوگا اگر کسانوں کو آبپاشی اور بازاروں میں خرید و فروخت کرنے کی سہولیات فراہم کی جاتیں ؟
4- شہری علاقوں میں کن طریقوں سے روزگار بڑھایا جاسکتا ہے ؟
منظم اور غیر منظم کے طور پر شعبوں کی تقسیم
آئیے معیشت میں سرگرمیوں کی درجہ بندی کے دیگر طریقوں کا جائزہ لیں ۔ ان میں لوگوں کو کس بنیاد پر روزگار ملتا ہے ۔ کام کے لیے ان کی شرائط کیا ہیں ؟ کیا کوئی ضوابط اور قواعدہیں جن کی پابندی ان کے روزگار کے لحاظ سے کی جاتی ہے ؟
کانتا
کانتاایک دفتر میں کام کرتی ہے ۔ وہ دفتر میں 9.30بجے سے 5.30بجے تک کام کرتی ہے ۔ اسے اپنی تنخواہ ہر مہینے کے آخر میں باقاعدگی کے ساتھ ملتی ہے ۔ تنخواہ کے علاوہ اسے حکومت کے ذریعے بنائے گئے ضوابط کے مطابق پر اویڈنٹ فنڈ بھی ملتا ہے ۔ اسے طبی اور دیگر بھتے بھی ملتے ہیں ۔ کانتا اتوار کو دفتر نہیں جاتی ۔ اس چھٹی کا بھی پیسہ اسے ملتا ہے ۔ جب اسے ملازمت ملی تھی تب اسے تقرری کا خط دیا گیا تھا جس میں کام کے سبھی ضوابط و شرائط بیان کیے گئے تھے۔

کمل
کمل کانتا کا پڑوسی ہے ۔ وہ ایک قریبی کرائے کی دوکان میں یومیہ اجرت کا مزدور ہے ۔ وہ صبح 7.30بجے دوکان جاتا ہے اور شام کو 8بجے تک کام کرتا ہے ۔ اسے مزدوری کے علاوہ کوئی بھتہ نہیں ملتا ۔ وہ جن دنوں میں کام نہیں کرتا اس کا پیسہ نہیں ملتا ۔ اس لیے اس کی کوئی چھٹی یا تنخواہ کے ساتھ چھٹی نہیں ہے ۔ ناہی اس کو کوئی باقاعدہ خط دیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اسے دوکان میں روزگار ملا۔ اسے اپنے آجر کے ذریعے کسی بھی وقت دوکان سے ملازمت ختم کرنے کے لیے کہا جاسکتا ہے۔

آپ نے کانتا او رکمل کے درمیان کام کی شرائط میں فرق دیکھا؟
کانتا منظم سیکٹر میں کام کرتی ہے ۔ منظم سیکٹر میں وہ سارے کاروباری ادارے یا کام کے مقامات شامل ہیں جن میں روزگار کی شرائط باقاعدہ ہیں اور لوگوں کے کام یقینی ہوتے ہیں۔ ان کا رجسٹریشن حکومت کے ذریعے کیا جاتا ہے اور انھیں ان اصولوں اور ضوابط کی پابندی کرنی پڑتی ہے جنہیں مختلف قوانین جیسے فیکٹریوں کے ایکٹ ، کم سے کم مزدوری ایکٹ ، سبکدوشی صلہ(Gratuity)ایکٹ، دوکان اور کاروباری ادارے ایکٹ وغیرہ میں بیان کیا گیا ہے ۔ انھیں منظم اس لیے کہاجاتا ہے کیونکہ اس میں بعض رسمی یا باقاعدہ عمل کاری اور طریقۂ عمل شامل ہوتا ہے ۔ان میں سے کچھ لوگ ہوسکتا ہے کسی کے ذریعہ ملازمت پر نہ رکھے جاتے ہوں بلکہ اپنا خود کا کام کرتے ہوں ، انھیں بھی حکومت میں اپنا رجسٹریشن کرانا ہوتا ہے اور اصول و ضوابط اور قوانین کی پابندی کرنی ہوتی ہے ۔
منظم شعبے میں کام کرنے والوں کو روزگار کی ضمانت بھی حاصل ہوتی ہے ۔ان سے صرف کچھ مقررہ گھنٹوں میں کام کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ اگر وہ زیادہ کام کرتے ہیں تو انھیں آجر کے ذریعے اوور ٹائم کے لیے ادائیگی (زائد وقتی تنخواہ ) کی جاتی ہے ۔ انہیں آجروں سے متعدد دیگر فوائد بھی حاصل ہوئے ہیں یہ فوائد کیاہیں؟ انھیں ادا شدہ چھٹی ملتی ہے ۔ چھٹی کے دنوں کی ادائیگی کی جاتی ہے .
پراویڈنٹ فنڈ ، گریجویٹی وغیرہ ملتی ہے ۔ انھیں طبی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں اور قوانین کے تحت فیکٹری منیجرکو پینے کے پانی اور کام کرنے کے محفوظ ماحول‘ ریٹائر ہونے پر پنشن وغیرہ کی سہولت مہیا کرانا ہوتا ہے ۔
اس کے برعکس کمل غیر منظم شعبے میں کام کرتا ہے ۔ غیرمنظم شعبے کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ چھوٹی اور بکھری اکائیاں ہوتے ہیں اور کافی حد تک حکومت کے ذریعے منضبط نہیں ہوتے ۔ ان میں اصول و ضوابط توہوتے ہیں لیکن ان کی پابندی نہیں کی جاتی ۔ کام کے لیے تنخواہیں کم دی جاتی ہیں اور اکثر باقاعدہ نہیں ہوتیں۔ اوور ٹائم ، اداشدہ چھٹی ، تعطیلات ، بیماری کی وجہ سے چھٹی وغیرہ کا اہتمام نہیں ہوتا ۔ لوگوں کو بغیر کسی وجہ ملازمت سے نکال دیا جاتا ہے ۔ جب کام کم ہوتاہے خواہ کوئی بھی سبب ہوتوکچھ لوگوں سے کام چھوڑنے کے لیے کہا جاسکتا ہے ۔ بہت کچھ آجر کی متلون مزاجی پر منحصر ہوتا ہے۔ اس شعبے میں ان لوگوں کی بڑی تعداد شامل ہے جو اپنا خود کا کام کرتے ہیں ۔ یہ چھوٹے چھوٹے کام ہوتے ہیں ، جیسے گلی میں فروخت کرنا یا مرمت کے کام کرنا ۔ اسی طرح کسان کھیتوں میں کام کرتے ہیں اورضرورت پڑنے پرمزدوری پر مزدوروں کو کام پرلگاتے ہیں ۔
آئیے انہیں حل کریں
1- درج ذیل مثالوں پر نظر ڈالیں ، ان میں کون سی غیر منظم شعبے کی سرگرمیاں ہیں ؟
(i) اسکول میں پڑھاتاہواایک مدرس۔
(ii) ایک وزن ڈھونے والا مزدور جو بازار میں اپنی پیٹھ پر سیمنٹ کی بوری ڈھورہاہو ۔
(iii) ایک کسان جو اپنے کھیت کی سینچائی کررہاہو ۔
(iv) اسپتال کا ایک ڈاکٹر جو مریض کا علاج کررہا ہو۔
(v) ایک یومیہ مزدور جو ٹھیکے دار کے ماتحت کام کرتا ہے ۔
(vi) بڑی فیکٹری میں کام پر جاتے کارخانے کے مزدور
(vii) اپنے گھر میں کام کرتاہواہینڈلوم بنکر۔
2- کسی ایسے شخص سے بات کیجیے جو منظم سیکٹر میں باقاعدہ کام کرتا ہے اور ایک شخص سے بات کریں جو غیر منظم سیکٹر میں کام کرتا ہو‘ ان کے کام کرنے کے شرائط و حالات کا موازنہ اور تقابل کیجیے۔
3- منظم اور غیر منظم شعبوں کے درمیان آپ کیسے فرق کریں گے ؟ اپنے الفاظ میں وضاحت کیجیے۔
4- درج ذیل جدول ہندوستان کے منظم اور غیر منظم شعبوں میں کام کرنے والوں کا تخمینہ ظاہر کرتاہے۔ جدول کو غور سے دیکھیں ۔ غیر موجود موادکو پُر کریں اور نیچے لکھے سوالوں کے جواب دیجیے۔
جدول2.3مختلف سیکٹروں میں کام نے والے کارکن(ملین میں)
| سیکٹر | منظم | غیر منظم | کل |
| ابتدائی | 1 | 232 | |
| ثانوی | 41 | 74 | 115 |
| ثالثی | 40 | 88 | 128 |
| کل | 82 | ||
| کل فی صد | 100% |

• زراعت میں غیر منظم شعبے میں لوگوں کا فی صد کیا ہے ؟
• کیا آپ اس بات سے متفق ہیں کہ زراعت ایک غیر منظم شعبے کی سرگرمی ہے ؟ کیوں؟
• اگر ہم پورے ملک پرایک اجمالی نظر ڈالیں تو پاتے ہیں ہندوستان میں …فی صد مزدورغیر منظم شعبے میں ہیں ‘ہندوستان میں تقریباً …فی صد مزدوروں کوہی منظم شعبے میں روزگار دستیاب ہے ۔
غیر منظم شعبے میں مزدوروں کا تحفظ کس طرح ہو؟
منظم شعبے میں جن کاموں کی پیشکش ہوتی ہے ‘ اس کی کافی مانگ ہوتی ہے ۔ لیکن منظم شعبے میں روزگارکے مواقع کی وسعت بہت ہی دھیرے دھیرے ہوتی رہی ہے ۔بہت سے منظم شعبوں کا غیر منظم شعبوں میں پایا جانا بھی ایک عام بات ہے ۔ وہ ایسی حکمت عملی اپناتے ہیں کہ ٹیکسوں سے بچ نکلیں اور ان قوانین کی پابندی نہیں کرتے جس سے مزدوروں کو تحفظ فراہم ہو ۔ نتیجے کے طور پر کام کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد کو غیر منظم سیکٹر کے کاموں میں داخل ہونے پر مجبور ہونا پڑتاہے جس میں بہت ہی کم تنخواہ ادا کی جاتی ہے ۔ ان کا اکثر استحصال کیا جاتا ہے اور اچھی اجرت نہیں ادا کی جاتی ان کی کمائی کم ہے اور باقاعدہ نہیں ہے ۔ یہ کام محفوظ نہیں ہیں اور دیگر فوائد بھی نہیں ملتے ۔
1990 کے دہے سے یہ بھی عام طور پر دیکھنے کو ملتا ہے کہ منظم شعبے میں کام کرنے والوں کی بڑی تعداد اپنی ملازمت سے محروم ہورہی ہے ۔ یہ کام کرنے والے لوگ کم کمائیوں کے ساتھ غیر منظم شعبے میں کام کرنے پر مجبورہوتے ہیں ۔ لہٰذا غیر منظم شعبے میں زیادہ کام کرنے کی ضرورت کے علاوہ کام کرنے والوں کو تحفظ اور مدد کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔
یہ عاجز و مجبور کون لوگ ہیں جنہیں تحفظ کی ضرورت ہے ؟ دیہی علاقوں میں غیر منظم سیکٹر زیادہ تربے زمین زرعی مزدوروں، چھوٹے اور حاشیائی کسانوں،بٹائی والے کسانوں اور دستکاروں ( جیسے بنکر ، لوہار ، بڑھئی اور سنار) پر مشتمل ہے ۔
ہندوستان میں تقریباً80فی صد دیہی لوگ چھوٹے اور حاشیائی کسان کے زمرے میں شامل ہیں۔ ان کسانوں کو وقت پر بیجوں کی دستیابی ، زراعت کے لیے کچے مال ، ادھار ، اسٹوریج کی سہولیات اور فروخت کرنے کے ذرائع کے لیے مناسب سہولت کی دستیابی کی ضرورت ہے ۔
شہری علاقوں میں غیر منظم شعبے میں چھوٹے پیمانے کی صنعت ، تعمیرات ، تجارت اور ٹرانسپورٹ وغیرہ میں کام کرنے والے اور وہ لوگ جو گلی میں بیچنے کا کام کرتے ہیں ، وزن ڈھونے والے ، لباس بنانے والے ، روئی چننے والے لوگ شامل ہیں ۔ چھوٹے پیمانے کی صنعت میں بھی کچا مال حاصل کرنے اور فروخت کاری کے ذرائع کے لیے حکومت کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔دیہی اور شہری علاقوں میں اتفاقی مزدوروں کو بھی تحفظ دیے جانے کی ضرورت ہوتی ہے ۔
ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ درج فہرست ذات ، قبائل اور پسماندہ جاتیوں کی اکثریت غیر منظم شعبے میں کام کرتی ہے ۔ بے ضابطہ اور کم اجرت والے کام حاصل کرنے کے علاوہ یہ مزدور سماجی تفریق کا بھی سامنا کرتے ہیں ۔اس لیے غیر منظم شعبے میں کام کرنے والے لوگوں کو مدد کی ضرورت ہے تاکہ معاشی اور سماجی دونوں طرح کی ترقی ہوسکے۔

جب فیکٹریاں بند ہوجاتی ہیں بہت سے باقاعدہ مزدور چیزوں کو فروخت کرنے ، ٹھیلا چلانے یا کوئی دوسرے متفرق کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
آئیے یاد کریں
ہمارے آس پاس اتنی ساری سرگرمیاں واقع ہورہی ہیں۔ ظاہر ہے ان پر کارگر انداز میں غور کرنے کے لیے ہمیں درجہ بندی کا عمل استعمال کرنے کی ضرورت ہے ۔ درجہ بندی کے لیے کسوٹی بہت سی ہوسکتی ہیں جو اس بات پر منحصر ہے کہ ہم کیا دریافت کرنا چاہتے ہیں ۔ درجہ بندی کی عمل کاری صورتحال کے تجزیے میں مدد کرتی ہے ۔
معاشی سرگرمیوں کو تین شعبوں — ابتدائی ، ثانوی ، ثالثی میں تقسیم کرنے میں جو کسوٹی استعمال کی گئی تھی وہ تھی سرگرمی کی فطرت ۔ اس درجہ بندی کی بنیاد پر ہم ہندوستان میں کل پیداوار اور روزگار کی وضع کا تجزیہ کرنے کے اہل تھے ۔ اسی طرح ہم نے معاشی سرگرمیوں کو جانچنے کے لیے درجہ بندی کا استعمال کیا تھا ۔
سب سے زیادہ اہم نتیجہ جو درجہ بندی کی مشقوں سے اخذ کیا گیا تھا ، وہ کیا تھا ؟ کیا مسائل اور حل تھے جن کا اشارہ کیا گیا تھا ؟ کیا آپ درج ذیل جدول میں معلومات کا خلاصہ کرسکتے ہیں ؟
| شعبہ | کسوٹی جو استعمال کی گئی | نہایت اہم نتیجہ | مسائل جو ظاہر ہوئے اور انہیں کسی طرح حل کیاجاسکتاہے۔ |
| ابتدائی،ثانوی، ثالثی | سرگرمی کی فطرت | ||
| منظم،غیر منظم |

ملکیت کی بنیاد پرشعبے : عوامی اور نجی شعبے
شعبوںمیں معاشی سرگرمیوں کی درجہ بندی کا دوسرا طریقہ اس بنیاد پر ہوسکتا ہے کہ کس کے پاس اثاثہ جات کی ملکیت ہے اور خدمات مہیا کرنے کا ذمے دارکون ہے ۔ عوامی شعبے میں حکومت زیادہ تر اثاثوں کی مالک ہوتی ہے اور سبھی خدمات مہیاکرتی ہے نجی شعبے میں اثاثوں کی ملکیت اورسبھی خدمات کو فراہم کرنے کی ذمے داری نجی افراد یا کمپنیوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔ ریلوے یا پوسٹ آفس عوامی شعبے کی ایک مثال ہے جبکہ ٹاٹا آئرن اور اسٹیل کمپنی لمیٹڈ(TISCO)یاریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ(RIL) نجی ملکیت کی ہیں ۔
نجی شعبے میں سرگرمیاں منافع کمانے کے محرک کے ذریعے متعین ہوتی ہیں ایسی خدمات کو حاصل کرنے کے لیے ہمیں ان افراد اور کمپنیوں کو رقم ادا کرنی ہوتی ہے ۔ عوامی شعبے کا مقصد محض منافع کمانا نہیں ہے ۔ حکومت ٹیکسوں اور دیگر طریقوں کے ذریعے رقم جٹاتی ہے تاکہ اس کے ذریعے فراہم کی گئی خدمات پر ہونے والے اخراجات کو پورا کیا جاسکے ۔ آج کل کی حکومتیں سرگرمیوں کے تمام سلسلے پر خرچ کرتی ہیں ؟ یہ سرگرمیاں کیا ہیں ؟ ایسی سرگرمیوں پر حکومتیں کیوں خرچ کرتی ہیں ؟ آئیے معلوم کریں۔
بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن کی ضرورت مجموعی طور پرپورے سماج کو ہوتی ہے لیکن جسے نجی شعبے معقول لاگت پر نہیں فراہم کرتے ۔کیوں ؟ ان میں سے کچھ پر بہت زیادہ رقم خرچ کرنی پڑتی ہے جو کہ نجی شعبے کے بس کے باہر کی چیز ہے۔ اس کے علاوہ ان ہزاروں لوگوں سے رقم اکٹھا کرنا جو ان سہولتو ں کو استعمال کرتے ہیں ، آسان کام نہیں ہے اگر وہ ان چیزوں کو فراہم بھی کرتے ہیں تب وہ ان کے استعمال کے لیے اونچی شرح لگاتے ہیں۔اس کی مثالیں ہیں سڑکوں،پلوں، ریلوے، بندرگاہوں کی تعمیر، بجلی پیدا کرنا ، باندھ وغیرہ کے ذریعے آبپاشی کی سہولت مہیا کرنا۔ اسی طرح سرکاروں کو ایسے بھاری بھرکم اخراجات کی ذمے داری اٹھانی پڑتی ہے اور یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ یہ سہولیات ہر ایک کے لیے دستیاب ہوں ۔
کچھ ایسی سرگرمیاں ہیں جن میں حکومت کو مدد کرنا ہوتا ہے ۔ نجی شعبے اپنی پیداوار یا کاروبار اس وقت تک نہیں جاری رکھ سکتے جب تک کہ حکومت ان کی حوصلہ افزائی نہ کرے ۔ مثال کے لیے تخلیق کی لاگت پر بجلی کی فروخت سے صنعتوں کی لاگت پیداوار بڑھاسکتی ہے ۔بہت سی اکائیاں بطور خاص چھوٹے پیمانے کی اکائیاں بند ہوجائیں گی ۔ حکومت یہاں اس شرح پر بجلی پیش کرنے اور فراہم کرنے کے لیے قدم اٹھاتی ہے جس پریہ صنعتیں بجلی خرید سکتی ہیں حکومت لاگت کے کچھ حصے کو خود برداشت کرتی ہے ۔
اس طرح حکومت ہند کسانوں سے ’ مناسب قیمت ‘ پر گیہوں اور چاول خریدتی ہے ۔ وہ اپنے گوداموں میں اس کا ذخیرہ کرلیتی ہے اور راشن کی دوکانوں کے ذریعے صارفین کو کم تر قیمت پر فروخت کرتی ہے ۔ آپ کلاس IXمیں غذا کی حفاظت سے متعلق باب میں اس کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔ حکومت کو کچھ لاگت برداشت کرنا ہوتاہے۔ اس طرح حکومت کسانوں اور صارفین دونوں کی مدد کرتی ہے ۔
ایسی بہت سرگرمیاں ہیں جو حکومت کی ابتدائی ذمے داری ہے ۔ حکومت کو ان پر خرچ کرنا پڑتا ہے ۔ سبھی کو صحت اور تعلیم کی سہولیات فراہم کرنا اس کی ایک مثال ہے ۔ ہم نے پہلے باب میں ان بعض امور پر بحث کی ہے ۔اسکولوں کو ٹھیک طور پر چلانا اور معیاری تعلیم فراہم کرنا بطور خاص ابتدائی تعلیم فراہم کرنا حکومت کا فریضہ ہے ۔ ہندوستان کی آبادی میں نو خواندہ لوگوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ تعداد والے ملکوں میں سے ایک ہے ۔
اسی طرح ہم جانتے ہیں کہ ہندوستان کے تقریباً آدھے بچے ناقص تغذیہ کے شکار ہیں اور ان کی ایک چوتھائی کافی بیمار ہیں ۔ ہم نے بچوں کی شرح اموات کے بارے میں پڑھا ہے ۔ بچوں کی شرح اموات اڈیشہ(44) یا مدھیہ پردیش (47)دنیا کے کچھ غریب ترین خطوں کی نسبت زیادہ ہے ۔ حکومت کو محفوظ پینے کے پانی ، غریبوں کے لیے رہائشی سہولتوں اور غذا اور تغذیہ جیسے انسانی ترقی کے پہلوؤں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔حکومت کی یہ بھی ذمے داری ہے کہ وہ بجٹ بڑھا کر نہایت غریب لوگوں کی اور ملک کے پوری طرح بے توجہی کے شکار حصوں کی دیکھ بھال کرے۔
خلاصہ
اس باب میں ہم نے بعض با معنی گروپوں میں معاشی سرگرمیوں کی درجہ بندی کے طریقوں پر نظر ڈا ہے ۔
اس پر عمل کے لیے ایک طریقہ سے جائزہ لینا ہے کہ آیا سرگرمی ا بتدائی ، ثانوی یا ثالثی شعبوں سے متعلق ہے ۔ہندوستان کے پچھلے تیس سالوں کے اعدادوشمارظاہر کر تے ہیں کہ اگرچہ ثالثی شعبے میں پیداہونے والی اشیااورخدمات کامجمو عی ملکی پیداوار میں زیادہ اشتراک ہوتاہے لیکن ابتدائی شعبے میں روزگار زیادہ ہے ۔
ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ملک میں روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے کیا کچھ کیا جاسکتا ہے ۔ دوسری درجہ بندی میں اس بات پر غور کیا جاتا ہے کہ آیا لوگ منظم یا غیر منظم شعبے میں ہیں ۔ زیادہ تر لوگ غیر منظم شعبوں میں کام کررہے ہیں اور ان کے لیے تحفظ ضروری ہے ۔
ہم نے نجی اور سرکاری شعبے کی سرگرمیوں میں فرق بھی دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ بعض میدانوں میں سرکاری سرگرمیاں کیوں اہم ہیں ؟
مشقیں
مشقیں
1- بریکٹ میں دیے گئے صحیح متبادل کا استعمال کرتے ہوئے خالی جگہوں کو پر کیجیے۔
(i) خدمتی شعبے میں روزگار پیداوار کے بڑھنے کے ساتھ اسی تناسب میں ——ہے ( بڑھا ؍نہیں بڑھا )
(ii) —شعبے میں کام کرنے والے اشیا نہیں تیار کرتے ( ثالثی ؍ زرعی )
(iii) ——شعبے میں زیادہ تر کارکنان کو کام کا تحفظ حاصل ہے ( منظم ؍ غیر منظم )
(iv) ہندوستان میں مزدوروں کا… تناسب غیر منظم شعبے میں کام کررہا ہے ( بڑا ؍ چھوٹا)
(v) کپاس ایک ——پیداوارہے اور کپڑا ایک —پیداوارہے ۔( قدرتی ؍ تیارکی گئی)
(vi) ابتدائی ، ثانوی اور ثالثی شعبوں میں سرگرمیاں ——ہیں ۔( آزاد ؍ باہمی منحصر )
2- نہایت موزوں جواب کا انتخاب کیجیے۔
(b)عوامی اور نجی شعبوں میں شعبوں کو درجہ بند کیاجاتا ہے۔
(i) روزگار کی شرائط کی بنیادپر
(ii) معاشی سرگرمی کی فطرت کی بنیادپر
(iii) کاروباری ادارے کی ملکیت کی بنیاد پر
(iv) کاروباری ادارے میں روزگار یافتہ کارکنان کی تعداد کی بنیاد پر
(b) زیادہ تر قدرتی عمل کے ذریعے شے کی پیداوار ——شعبے کی ایک سرگرمی ہے ۔
(i) ابتدائی
(ii) ثانوی
(iii) ثالثی
(iv) انفارمیشن ٹکنالوجی
(c) GDP کسی مخصوص سال میں پیدا کی گئی ——کی کل قدر ہے ۔
(i) سبھی اشیا اور خدمات
(ii) سبھی آخری اشیا اور خدمات
(iii) سبھی درمیانی اشیا اور خدمات
(iv) سبھی درمیانی اور آخری اشیا اور خدمات
(d) GDPکی اصطلاح میں 2013-14میں ثالثی شعبے کا حصہ ——ہے ۔
(i) 20فی صد سے 30فی صد
(ii) 30فی صدسے 40فی صد
(iii) 50فی صدسے 60فی صد
(iv) 60فی صدسے70 فی صد
3- درج ذیل کا ملان کیجیے
کاشتکاری کے ذریعہ درپیش مسائل کچھ امکانی اقدامات
1- غیر آبپاشی شدہ زمین (a) زراعت پر مبنی ملوں کو قائم کرنا
2- فصلوں کے لیے کم قیمتیں (b) کو آپریٹومارکیٹنگ سوسائٹیاں
3- قرض کا بوجھ (c) حکومت کے ذریعے اناج کی حصولیابی
4- بے موسم میں کام کانہ ہونا (d) حکومت کے ذریعے نہروں کی تعمیر
5- فصل کٹائی کے فوری بعد مقامی تاجروں کو اپنے اناج فروخت (e) بینک کاکم سود پر قرض فراہم کرنا
کرنے پر مجبور
4- اس میں متفرق کو دریافت کریے اور بتائیے کہ کیوں
(i) ٹورسٹ گائیڈ ، دھوبی ، درزی ، برتن بنانے والا
(ii) ٹیچر ، ڈاکٹر ، سبزی بیچنے والا ، وکیل
(iii) ڈاکیہ ،موچی ، سپاہی ، پولیس کا نسٹبل
(iv) MTNL، انڈین ریلوے ، ایئر انڈیا ، سہارا ایئرلائنیں ، آل انڈیا ریڈیو
5- ایک ریسرچ اسکالر نے سورت شہر میں کام کرنے والے لوگوں کا جائزہ لیا اور درج ذیل دریافت کیا ۔
| کام کرنے کی جگہ | روزگارکی نوعیت | کام کرنےوالے لوگوں کا فی صد |
| دفتروں اورکارخانوں میں حکومت سے رجسٹر یافتہ | منظم | 15 |
| رسمی لائسنس کے ساتھ بازار کے مقامات میں اپنی دوکانیں، دفتر، کلینک |
15 | |
| گلی میں کام کرنے والے لوگ، تعمیراتی ورکرس، گھریلو کارکن | 20 | |
| چھوٹے ورکشاپ میں کام کرنے والوں کا عام طورپر حکومت میں رجسٹریشن ہوتاہے |

جدول کو مکمل کریں ۔ اس شہر میں غیر منظم شعبے میں کام کرنے والوں کا فی صد کیا ہے ۔
6- ابتدائی ، ثانوی اور ثالثی شعبے میں معاشی سرگرمیوں کی درجہ بندی کے فائدے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟
7- ہر ایک شعبے کے لیے اس باب میں جو بات کہی گئی ہے اس میں روزگار اور مجموعی ملکی پیداوار (GDP)پر کیوں روشنی ڈالی گئی ہے ؟ کیا کوئی دیگر امور بھی ہیں جن کا جائزہ لیا جانا چاہیے ؟ بحث کیجیے
8- کام کی ہر اس قسم کی ایک طویل فہرست بنائیے جس میں آپ پاتے ہوں کہ اسے آپ کے آس پاس گزربسر کے لیے بالغان انجام دیتے ہوں ۔ آپ ان کی درجہ بندی کیسے کرتے ہیں ؟ اپنی پسند کی وضاحت کیجیے۔
9- ثالثی شعبہ دیگر شعبوں سے کس طرح مختلف ہے ؟ کچھ مثالیں دے کر سمجھائیے۔
10- ’’چھپی ہوئی بے روزگاری‘‘ سے آپ کیا سمجھتے ہیں ؟ شہری اور دیہی علاقوں سے ہر ایک کی مثال کے ساتھ وضاحت کیجیے۔
11- کھلی بے روزگاری اور چھپی بے روزگاری کے درمیان فرق کیجیے۔
12- ثالثی شعبہ ہندوستانی معیشت کی ترقی میں کوئی نمایاں کردار نہیں ادا کرتا ‘ کیا آپ متفق ہیں ؟ اپنے جواب کے حق میں وجہ بتائیے۔
13- ہندوستان میں خدمتی شعبے دو طرح کے لوگوں کو روزگار مہیاکراتے ہیں، یہ کون لوگ ہیں ؟
14- غیر منظم شعبے میں کام کرنے والے لوگوں کا استحصال کیا جاتاہے ۔ اس خیال سے کیا آپ متفق ہیں ؟ اپنے جواب کے حق میں وجہ بتائیے۔
15- روزگار کی شرائط کی بنیاد پر معیشت میں سرگرمیوں کو کس طرح درجہ بند کیا جاتا ہے ؟
16- منظم اور غیر منظم شعبوں میں رائج روزگار کی شرائط کا موازنہ کیجیے۔
17- قومی دیہی روزگار گارنٹی ایکٹ (NREGA 2005)لاگو کرنے کے مقصد کی وضاحت کیجیے۔
18- اپنے علاقے کی مثالوں کا استعمال کرتے ہوئے نجی اور سرکاری شعبوں کی سرگرمیوں اور افعال کا موازنہ اور تقابل کیجیے۔
19- اپنے علاقے سے ہر ایک کی ایک ایک مثال دیتے ہوئے بحث کیجیے اور درج ذیل جدول کو پرُ کیجیے۔
| اچھی طرح منظم تنظیم | خراب طرح سے منظم تنظیم | |
| عوامی شعبہ | ||
| نجی شعبہ |

20- عوامی شعبے کی سرگرمیوں کی کچھ مثالیں دیجیے اور وضاحت کیجیے کہ حکومت انہیں کیوں اختیار کرتی ہے ؟
21- وضاحت کیجیے کہ کس طرح عوامی شعبہ ملک کی معاشی ترقی میں اشتراک کرتاہے ؟
22- درج ذیل امور پر غیر منظم شعبے میں کام کرنے والوں کو تحفظ کی ضرورت ہے : مزدوری ، تحفظ اور صحت ۔ مثالوں کے ساتھ وضاحت کیجیے۔
23- احمدآبادکے ایک مطالعے میں پایا گیا کہ شہر میں 15,00,000کام کرنے والوں میں 11,00,000غیر منظم شعبے میں کام کرتے ہیں۔ اس سال 1998-1997 میں شہرکی کل آمدنی 60,000ملین روپے تھی ۔ اس میں32,000ملین روپے منظم شعبوں سے حاصل ہوئے تھے ۔اس اعدادوشمارکو جدول میں پیش کیجئے ۔ شہرمیں زیادہ روزگار کی تخلیق کے لیے کس طرح کے طریقوں کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے ؟
24- درج ذیل جدول میں تین شعبوں کی کل ملکی پیداوار،روپیہ(کروڑ)میں فراہم کی گئی ہے :
| سال | ابتدائی | ثانوی | ثالثی |
| 2000 | 52,000 | 48,500 | 1,33,500 |
| 2013 | 8,00,500 | 10,74,000 | 38,68,000 |

(i) 2000اور2013 GDPمیں تینوں شعبوںکا حصہ شمار کیجیے۔
(ii) باب 2میں دیے گئے گراف 2کی طرح ایک بار ڈائیگرام کے طور پر اعدادوشمار دکھا ئیے ۔
(iii) بار گراف سے کیا نتائج ہم اخذ کرسکتے ہیں؟