مدرس کے لیے ہدایت
باب 3 : زر اور قرض
جیساکہ آپ نے اس باب میں دیکھا کہ اسٹاک کرنسی ، عوام کے پاس موجود کرنسی اور بینکوں میں اس کی مانگ اور جمع سے مل کر بنی ہے۔
یہ وہ پیسہ ہے جس کو لوگ اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کر سکتے ہیں اور حکومت کو یہ طے کرنا پڑتا ہے کہ کرنسی بآسانی کامیابی کے ساتھ کام کرے۔ کیا ہوتا اگر حکومت یہ اعلان کردے کہ لوگوں کے ذریعہ استعمال میں لائی جانے والی کچھ کرنسی نوٹ جب تک نئی کرنسی سے بدل نہ دی جائے غیر تسلیم شدہ ہے۔ بھارت میں نومبر 2016 میں حکومت نے 500 اور 1000 روپے کی کرنسی نوٹوں کو غیر تسلیم شدہ قرار دیا۔ لوگوں سے کہا گیا کہ وہ ان نوٹوں کو ایک معینہ مدت کے اندر بینکوں میں جمع کردیں اور بدلے میں 2000 اور 500 کے نئے نوٹ حاصل کریں۔اس عمل کو نوٹ بندی کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے اسی وقت سے لوگوں کو لین دین کی جگہ بینک میں پونجی کے استعمال کو کہا گیا نقدی کے بالمقابل ۔ تبھی سے بینکوں سے بینکوں کو نقد ٹرانسفر بذریعہ انٹر نیٹ اور موبائل فون، چیک، اے ٹی ایم کارڈ، کریڈیٹ کارڈPOS مشینوں کی دوکانوں پر استعمال کرنے کا سلسلہ چل نکلا۔ یہ طریقہ نقدی لین دین میں کمی لانے اور بد عنوانی کو کم کرنے کے لیے استعمال میں لایا گیا۔
طلبا کو درج ذیل عناوین پر بحث کے لیے کہا جا سکتا ہے (a) نوٹ بندی کا عمل اور اس کے اثرات(b) ان بڑی جگہوں کا کولاژ بنانا جہاں لوگوں کے ذریعہ نقدی لین دین کا عمل ہوتا ہے(c) کس زمرے کو جائز ٹھہرایا جا سکتا ہے اور کس حصہ کو نہیں؟ اور کیوں؟سبھی طالب علموں کو یہ بتانا ضروری ہے پیسہ کے لین دلین کے لیے پلاسٹک کارڈ کا استعمال کیا جاتا ہے جو بہر حال بذات خود پیسہ نہیں ہے۔
زر ایک دلچسپ موضوع ہے اور تجسس سے پُر ہے۔ طلبا کے لیے اس عنصر پر گرفت حاصل کرنا ضروری ہے۔ زر کی تاریخ اور کس طرح مختلف وقتوں میں الگ الگ شکلیں استعمال کی جاتی تھیں، یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ اس مرحلے پر مقصد یہ ہے کہ طلبا کو ان سماجی صورت حال سے مانوس ہونے دیا جائے جن میں یہ شکلیں استعمال کی جاتی تھیں۔ زر کی کی جدید شکلیں بینکنگ نظام سے جڑی ہوتی ہیں ۔ باب کے پہلے حصے کا مرکزی تصور یہی ہے۔
ہندوستان کی موجودہ صورت حال میں زر کی نئی نئی شکلیں دھیرے دھیرے بینکنگ نظام کے کمپیوٹرائزیشن کے ساتھ وسیع ہورہی ہیں۔ اس بنا پرطلبا کے لیے بہت سے مواقع ہیں کہ وہ اپنے طورپر اس کی جستجو اور دریافت کریں۔ ہمیں زر کے کاموں کے رسمی بحث میں جانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اسے ایک سوال کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے۔ ایسے بہت سے میدان ہیں جن کا احاطہ نہیں کیا گیا ہے جیسے زر کی تخلیق (زر کے افزائش کار) یا جدید نظام کی پشت پناہی جس پر آپ چاہیں تو تبادلۂ خیال کرسکتے ہیں۔
معاشی زندگی میں قرض ایک نازک عنصر ہے اور اس لیے تصوراتی انداز میں اسے سمجھنا پہلے ضروری ہے کہ وہ کیا پہلو ہے جس کا مشاہدہ کوئی کسی قرض کے بندوبست میں کرتا ہے اور یہ کس طرح لوگوں پر اثر انداز ہوتا ہے اس پر باب کے دوسرے حصے میں خاص توجہ دی گئی ہے۔یہ حصہ ہمارے آس پاس کی دنیا میں ایسے بندوبست کا زبردست تنوع پیش کرتا ہے اور اس صورت حال کے لحاظ سے جس سے آپ کے طلبا مانوس ہیں، ان پہلوؤں کی وضاحت کرنا زیادہ بہتر ثابت ہوگا۔ قرض کا دوسرا اہم مسئلہ سبھی کے لیے خاص طور پر غریبوں کے لیے اس کی معقول شرائط پر دستیابی ہے۔ ہمیں اس بات پر زور دینے کی ضرورت ہے کہ یہ لوگوں کا حق ہے اور اس کے بغیر لوگوں کاایک بڑا طبقہ ترقیاتی عمل سے باہر رہ جائے گا۔ایسی بہت سی نئی کوششیں جیسے گرامین بینک کا معاملہ ہے، ان سے طلبا کو واقف کرایا جاسکتا ہے لیکن اس سے بھی آگاہ ہونا ضروری ہے کہ ہمارے پاس سارے سوالوں کے جواب نہیں ہیں۔ ہمیں نئے نئے طریقے دریافت کرنے کی ضرورت ہے اور یہ ایک سماجی چیلنج ہے جس کا سامنا ممالک کررہے ہیں۔
معلومات کے لیےمآخذ
قرض کے رسمی اور غیر رسمی شعبے پر جو مواد اس باب میں استعمال کیا گیا ہے وہ نیشنل اسٹیٹسٹکل (NSO) کے ذریعے دیہی قرض پر سروے سے اخذ کیا گیاہے All India Debt and investment Survey, 70th Round, 2013 جس کا اہتمام NSSO کے ذریعے کیا گیا تھا۔ گرامین بینک کے بارے میں معلومات اور ڈیٹا اخبار کی رپورٹوں اور ویب سائٹوں سے لیا گیا ہے۔ بینک سے متعلق تفصیلات یا کسی بینک کی تفصیل حاصل کرنے کے لیے آپ ریزرو بینک آف انڈیا (www.rbi.org) اور متعلقہ بینکوں کی ویب سائٹوں پر لاگ آن کرسکتے ہیں۔
خودامدادی گروپوں سے متعلق مواد قومی بینک برائے زراعت اور دیہی ترقیات(NABARD) کی ویب سائٹ (www.nabard.org) پردستیاب ہے۔

زر بطور ذریعۂ مبادلہ
ہماری روز مرہ کی زندگی میں زر (Money) کا استعمال کافی بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے۔ اگر آپ اپنے آس پاس نظر ڈالیں تو آپ کسی بھی دن متعدد لین دین میں زر کے استعمال کی شناخت آسانی سے کرسکیں گے۔ کیا آپ ان لین دین کی فہرست بناسکتے ہیں؟ ان متعدد لین دین میں زر کے استعمال کے ذریعہ اشیا کی خرید و فروخت کی جاتی ہے۔ ان میں سے بعض لین دین میں خدمات کے بدلے زر دیا جاتا ہے۔ بعض معاملے میں اس وقت ہونے والے لین دین کے لیے زر کوئی حقیقی مبادلہ نہیں ہوتا بلکہ زر کی ادائیگی کے لیے وعدہ کیا جاتا ہے۔
مجھے جوتے توچاہئیں لیکن میرے پاس گیہوں نہیں ہے۔

آپ کو کبھی تعجب ہوا ہوگاکہ لین دین کیوں زر میں انجام دیا جاتاہے؟ اس کی وجہ صاف ہے۔ ایک شخص جس کے پاس زر یعنی رقم یا روپیہ پیسہ
ہے وہ اپنی مطلوبہ کسی بھی شے یا خدمت کو زر کے بدلے حاصل کرسکتا ہے۔ اس طرح ہر شخص اپنی مطلوبہ چیزوں کے لیے زر میں ادائیگی کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ ایک جوتا بنانے والے کی مثال لیجیے وہ بازار میں اپنے جوتے فروخت کرنا اور گیہوں خریدنا چاہتا ہے۔ جوتا بنانے والا پہلے جوتے کے بدلے زر حاصل کرے گا اور پھر اس زر کا استعمال گیہوں خریدنے کے لیے کرے گا۔
آپ کےگیہوں کے بدلے میں آپ کو جوتے دوں گی

تصور کیجیے کہ اگرجوتا بنانے والے کوگیہوں کے لیے جوتے کا مبادلہ سیدھے طور پر بغیر زر کے استعمال کے کرنا ہو تو اسے گیہوں اگانے والے کسان کی تلاش کرنی ہوگی جو نہ صرف اپنا گیہوں بیچنا چاہتا ہو بلکہ اس کے بدلے میں جوتا خرید نا چاہتا ہو۔ یعنی دونوں کو ہی ایک دوسرے کی چیزوں کی ادل بدل کے لیے متفق ہونا پڑے گا۔
اسے ضروریات کی دوہری مطابقت (double Coincidence of wants) کے طور پر جانا جاتاہے۔
ایک شخص جو فروخت کرنا چاہتا ہے بالکل وہی چیز دوسرا خریدنے کی خواہش رکھتا ہو۔ ایک تبادلۂ اشیا (بارٹر) نظام میں اشیا کا مبادلہ سیدھے طور پر زر کے استعمال کے بغیر کیا جاتا ہے، یہ ضروریات کی دوہری مطابقت کی لازمی خصوصیت ہے۔ اس کے برعکس کسی ایسی معیشت میں جہاں زر استعمال میں ہو،
مجھے آپ کے جوتے کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے تو کپڑے چاہئیں


اہم درمیانی قدم فراہم کرنے کے ذریعہ زر ضروریات کی دوہری مطابقت کی ضرورت کو ختم کردیتا ہے۔ جوتا بنانے والے کے لیے اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ ایک ایسے کسان کی تلاش کرے جو اس کے جوتوں کو خریدے اور ساتھ ہی ساتھ اسے گیہوں بھی فروخت کرے۔
اسے محض اپنے جوتوں کے لیے خریدار تلاش کرنا ہوگا۔ جب وہ اپنے جوتے کے بدلے میں زر حاصل کرے گا تو وہ بازار میں گیہوں یا کوئی دوسری جنس خرید سکتا ہے۔ کیونکہ زر مبادلے کے عمل میں ایک درمیانی شے کے طور پر عمل کرتا ہے اسے ذریعۂ مبادلہ کہا جاتا ہے۔

آئیے انھیں حل کریں
1۔ چیزوں کے مبادلے میں زر کا استعمال اسے کس طرح آسان بناتا ہے؟
2۔ کیا آپ مبادلہ کی جانے والی اشیا یا خدمات یا تبادلۂ اشیا (بارٹر) کے ذریعے ادا کی جانے والی اجرت کی کچھ مثالوں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟
ابتدائی ٹھپہ
لگے ہوئے سکے
(2500سال پرانے ہوسکتے ہیں)
گپت زمانے کے سکے
تغلق کے دورکے سکے
اکبر کے دور کے سونے کی مہر
جدید سکے

زر کی جدید شکلیں
ہم نے دیکھا کہ زر یک ایسی چیز ہے جو لین دین میں ذریعۂ مبادلہ کے طورپر عمل کرتا ہے۔ سکوں کی معلومات ہونے سے پہلے بہت سی اشیا کو زر کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ مثال کے لیے بہت ہی ابتدائی دور میں ہندوستانی اناج اور مویشی کا استعمال زر کے طور پر کیا کرتے تھے۔ اس کے بعد دھاتی سکوں جیسے سونے، چاندی، تانبے کے سکے کا استعمال شروع ہوا جو پچھلی صدی میں کافی حد تک جاری رہا۔
کرنسی
زر کی جدید شکلوں میں کاغذ کے نوٹ اورسکوں جیسی کرنسی شامل ہے ان چیزوں کو جنھیں پہلے زر کے طورپر استعمال کیا جاتا تھا، کے برعکس جدید کرنسی قیمتی دھات جیسے سونا، چاندی اور تانبہ سے نہیں بنی ہوتی اور مویشی کے برعکس یہ نہ تو روز مرہ کے استعمال میں ہے جدید کرنسی ان میں سے اب کسی چیز کا استعمال نہیں کرتی۔ پھر کیوں اسے ذریعۂ مبادلہ کے طور پر تسلیم کیا جاتاہے۔ اسے ذریعۂ مبادلہ کے طور پر اس لیے استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ کرنسی ملک کی حکومت کے ذریعہ مجاز بنائی گئی ہے۔
ہندوستان میں ریزرو بینک آف انڈیا مرکزی حکومت کی طرف سے کرنسی نوٹ جاری کرتا ہے۔ ہندوستانی قانون کے مطابق کسی دوسرے فرد یا تنظیم کو کرنسی جاری کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ مزید برآں، قانون ادائیگی کے ذریعہ کے طور پر روپے کے استعمال کو جائز بناتا ہے۔ ہندوستان میں لین دین کے تصفیے میں اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ہندوستان میں کوئی فرد بھی روپیوں میں کی گئی ادائیگی کو قانونی طور پر مسترد نہیں کرسکتا۔ لہٰذا ذریعۂ مبادلہ کے طور پر روپےکو بڑے پیمانے پر تسلیم کیا جاتا ہے۔

بینکوں میں جمع
ایک دوسری شکل ہے جس میں لوگ زر کو بینکوں میں جمع کے طور پر رکھتے ہیں۔ کسی موقع پر لوگوں کو اپنی روز مرہ کی ضرورتوں کے لیے صرف کچھ کرنسی کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے لیے کام کرنے والے لوگ جو ہر مہینے کے آخر میں اپنی تنخواہیں حاصل کرتے ہیں ان کے پاس مہینے کے شروع میں زائد نقد ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں لوگ اس زائد نقد کا کیا کرتے ہیں؟ وہ اسے اپنے نام سے ایک بینک کھاتا کھولنے کے ذریعے بینکوں میں اسے جمع کرتے ہیں۔ بینک یہ جمع قبول کرتے ہیں اور جمع پر شرح سود بھی ادا کرتے ہیں۔ اس طرح لوگوں کا زر یا رقم بینک میں محفوظ ہوتی ہے اور اس سے سود بھی ملتا ہے۔ لوگوں کو جب ضرورت ہو رقم نکالنے کا بھی بندوبست ہوتا ہے۔ چونکہ بینک کھاتوں میں جمع کو طلب یا مانگ کی بنیاد پر نکالا جاسکتا ہے اس لیے انھیں عندالطلب جمع یا ڈیمانڈ ڈپازٹ کہا جاتا ہے۔ عندالطلب جمع میں ایک اور پسندیدہ سہولت پیش کی جاتی ہے۔ یہ وہ سہولت ہے جس میں زر کی لازمی خصوصیت (یعنی ذریعۂ مبادلہ ہونا) نہاں ہوتی ہے آپ نے نقد کے بجائے چیکوں کے ذریعے کی جانی والی ادائیگیوں کے بارے میں سنا ہوگا۔ چیک کے ذریعے ادائیگی کے لیے دہندہ (ادا کرنے والا) جس کا کھاتا بینک میں ہوتا ہے، مخصوص رقم کا ایک چیک کاٹتا ہے۔ چیک وہ کاغذ ہے جس میں فرد کے کھاتے سے اس فرد کو جس کے نام چیک کاٹا گیا ہے، مخصوص رقم ادا کرنے کے لیے بینک کو ہدایت دی جاتی ہے ۔
کس طرح چیک سے ادائیگی کی جاتی ہے اور اسے بھنایا جاتا ہے اس کو ایک مثال کے ذریعہ سمجھنے کی کوشش کریں۔
چیک کے ذریعہ ادائیگی
ایک جوتا بنانے والے ایم سلیم کو چمڑا سپلائی کرنے والے کو ایک ادائیگی کرنا ہے۔ اسے ایک مخصوص رقم کے لیے ایک چیک لکھنا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جوتا بنانے والا چمڑے کے سپلائر کو اس رقم کی ادائیگی کے لیے اپنے بینک کو ہدایت دیتا ہے۔چمڑے کا سپلائر اس چیک کو لیتا ہے اور بینک میں اپنے خود کے کھاتے میں جمع کردیتا ہے۔ کچھ ہی دنوں میں ایک بینک کھاتے سے دوسرے
بینک کھاتے میں یہ رقم منتقل ہوجاتی ہے۔ یہ لین دن بغیر کسی نقد ادائیگی کے مکمل ہوجاتا ہے۔

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ عندالطلب جمع میں زر کی لازمی خصوصیت موجود ہوتی ہے۔ عند الطلب جمع کے مقابل چیکوں کی سہولت نقد کے استعمال کے بغیر ادائیگیوں کو سیدھے طور پر بے باق کیے جانے کو ممکن بناتی ہے۔ چونکہ عندالطلب جمع کرنسی کے ہیں اس لیے جدید معیشت میں وہ زر کی تشکیل کرتے ہیں۔
بینکوں کے ذریعہ جو کردار ادا کیے جاتے ہیں انھیں یاد رکھنے کی ضرورت ہے ۔لیکن بینکوں کے لیے ان جمع کے مقابل کوئی عندالطلب جمع اور بینکوں کے ذریعہ کوئی ادائیگی نہیں ہوگی۔ زر کی جدید شکلیں یعنی کرنسی اور جمع جدید بینک کاری نظام کے عمل میں ایک دوسرے کے ساتھ قریبی طور پر جڑی ہوتی ہیں۔
آئیے انھیں حل کریں
1۔ ایم سلیم ادائیگیوں کے لیے 20,000 روپے کی رقم نقد نکالنا چاہتے ہیں۔ وہ رقم نکالنے کے لیے چیک کیسے تحریر کریں گے؟
2۔ صحیح جواب پر نشان لگائیے:
سلیم اور پریم کے درمیان لین دین کے بعد
(i) سلیم کابیلنس اس کے بینک کھاتے میں بڑھتاہے اور پریم کا بیلنس بڑھتا ہے۔
(ii) سلیم کا بیلنس اس کے بینک کھاتے میں گھٹتا ہے اور پریم کا بیلنس بڑھتا ہے۔
(iii) سلیم کا بیلنس اس بینک کھاتے میں بڑھتا ہے اور پریم کا بیلنس گھٹتا ہے۔
3۔ عندالطلب جمع کو زر کے طور پر کیوں سمجھا جاتاہے؟
بینکوں کی قرض سے متعلق سرگرمیاں
بینک کی کہانی کو مزید آگے بڑھائیں۔ بینک جو جمع عوام سے قبول کرتے ہیں ان کا کرتے کیا ہیں؟ یہاں ایک دلچسپ میکانیت کام کرتی ہے۔ بینک اپنے پاس نقد کے طور پر اپنے جمع کا صرف ایک چھوٹا سا متناسب حصہ رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہندوستان میں بینک ان دنوں نقد کے طور پر اپنے جمع کا تقریباً 15فی صد رکھتے ہیں۔ اسے ان جمع کاروں کو ادا کرنے کے بندوبست کے طور پر رکھا جاتا ہے جو کسی خاص دن بینک سے زر یا رقم نکالنے کے لیے آسکتے ہیں۔ چونکہ کسی بھی مخصوص دن پر اس کے بہت سے جمع کنندگان میں سے کچھ ہی نقد نکالنے آتے ہیں اس لیے بینک کا م اتنے نقد سے آرام سے چل جاتا ہے ۔
بینک جمع کے کافی بڑے حصے کا استعمال قرضوں کو بڑھانے کے لیے کرتے ہیں۔ مختلف معاشی سرگرمیوں کے لیے قرض کی کافی بڑی مانگ ہوتی ہے۔ اس کے بارے میں ہم مزید اگلے سیکشنوں میں پڑھیں گے۔
بینک لوگوں کی قرض سے متعلق ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جمع کا استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح بینک ان لوگوں جن کے پاس زائد فنڈ ہے (یعنی جمع کنندگان) اور ان لوگوں جن کو ان فنڈوں کی ضرورت ہے (یعنی قرض لینے ولے)کے درمیان ثالث ہوتے ہیں۔ بینک جمع پر پیش کی جانے والی شرح سود کے مقابلے قرض پر اونچی شرح سود لگاتے ہیں. قرض لینے والوں پر لگائی گئی شرح سود اور جمع کرنے والوں کو ادا کیے جانے والے سود کے درمیان فرق ان کی آمدنی کا اہم ذریعہ ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے اگر ایک ہی وقت میں سبھی جمع کنندگان اپنی رقم نکالنے کی مانگ کریں تو کیا واقع ہوگا؟

تصویر
جمع کنندگان
لوگ جمع کرتے ہیں
لوگ رقم نکالتے ہیں اور سودحاصل کرتے ہیں
قرض لینے والے قرض لیتے ہیں
لوگ سود کے ساتھ قرض واپس کرتے ہیں
قرض کی دو مختلف صورت حال
ہماری روز مرہ کی سرگرمیوں میں لین دین کی بڑی تعداد کسی نہ شکل میں قرض پر مشتمل ہوتی ہے۔ قرض سے مراد ایک ایسا معاہدہ ہے جس میں قرض دینے والا (قرض دہندہ)قرض لینے والے کو زر، اشیا یا خدمات اس شرط پر فراہم کرتا ہے کہ وہ مستقبل میں ادائیگی کا وعدہ کرے۔ آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ درج ذیل دو مثالوں میں قرض کا عمل کس طرح انجام پاتا ہے۔
(1) تیوہار کا موسم
اب سے دو مہینے بعد تیوہار کا موسم ہے اور جوتا بنانے والے سلیم نے شہر کے ایک بڑے تاجر سے 3,000 جوڑی جوتے تیار کرنے کا ایک آرڈر حاصل کیا ہے۔ اسے ایک مہینے میں تیار کرکے دیا جاناہے۔ وقت پر جوتے تیا رہوجائیں اس کے لیے سلیم کو سلائی اور چپکانے کے کام میں کچھ مزید کام کرنے والوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اسے کچا مال بھی خریدنا ہے۔ ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے سلیم کو دو ذرائع سے قرض حاصل کرنا ہے۔ پہلا، اسے چمڑے کے سپلائر سے چمڑے کی فوری سپلائی اس شرط پر کرنے کے لیے کہنا ہے کہ وہ اس کی ادائیگی بعدمیں کرے گا۔ دوسرا وہ اس بڑے تاجر سے 1000جوڑی کے لیے اسی شرط پر پیشگی ادائیگی کے طور پر نقد قرض حاصل کرتا ہے کہ وہ مہینے کے آخر تک پورا آرڈر تیار کرکے اسے دے دے گا۔
مہینے کے آخر میں ، سلیم آرڈر کا مال پہنچانے میں کامیاب ہوگا، اسے اچھا منافع حاصل ہوتا ہے اور اس نے جو قرض لیا تھا اسے چکابھی دیا۔
اس معاملہ میں سلیم پیداوار کو رواں سرمائے (working capital) کی ضرورت پورا کرنے کے لیے قرض حاصل کرتا ہے۔ یہ قرض پیداوار پر ہونے والے اور وقت پر پیداوار کے پورا ہونے میں مددگار ہوتا ہے اور اس بنیاد پر اس کی کمائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ لہٰذا قرض اس صورتحال میں اہم اور مثبت کردار ادا کرتا ہے۔
(2) سوپنا کا مسئلہ
ایک چھوٹی کسان، سوپنا اپنی زمین کے تین ایکڑ پر موم پھلی اگاتی ہے۔وہ کاشتکاری کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے مہاجن سے قرض لیتی ہے ۔اسے امید ہے کہ فصل تیار ہونے پر اسے قرض چکانے میں مدد ملے گی ۔موسم کے بیچ میں ہی فصل میں کیڑے مکوڑے لگ گئے اور فصل برباد ہوگئی۔ اگرچہ سوپنا نے اپنی فصل پر مہنگی کیڑے مار دواؤں کا چھڑکاؤ کیا لیکن اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا ۔وہ مہاجن کو قرض چکانے میں ناکام رہی اور قرض ایک سال میں بڑھ جاتا ہے اور ایک بڑی رقم میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اگلے سال سوپنا کاشتکاری کے لیے ایک نیا قرض لیتی ہے۔ اس سال فصل ٹھیک رہتی ہے۔ لیکن کمائی اتنی زیادہ نہیں ہے کہ پرانا قرض چکادیا جائے۔ وہ قرض میں ڈوب گئی۔ اسے زمین کا ایک حصہ فروخت کرنا پڑجاتا ہے تاکہ اس کا قرض بے باق ہوجائے۔

دیہی علاقوں میں قرض کی مانگ اکثر فصل کی پیداوار کے لیے ہوتی ہے۔ فصل کی پیداوار میں بیجوں ، فرٹیلائزر ، کیڑے مار ادویات، پانی، بجلی، سازوسامان کی مرمت وغیرہ پر نمایاں لاگت شامل ہوتی ہے۔ جب کسان ان درآیدئے (inputs) کو خریدتے ہیں اور فصل کو فروخت کرتے ہیں تو اس کے درمیان کم سے کم تین سے چار مہینے کا وقت لگتا ہے۔ کسان عام طور پر موسم کے شروع میں فصل کے لیے قرض لیتے ہیں اور فصل تیار ہونے کے بعد قرض چکاتے ہیں۔ قرض چکانا قطعی طور پر کاشتکاری سے ہونے والی آمدنی پر منحصر ہوتا ہے۔
آئیے انھیں حل کریں
1۔ درج ذیل جدول کو پر کریں
| سوپنا | سلیم | |
| انھیں قرض کی ضرورت کیوں تھی؟ | ||
| کیا جوکھم تھا؟ | ||
| کیا نتیجہ نکلا؟ |

2۔ یہ مانتے ہوئے کہ سلیم تاجروں سے مستقل آرڈر حاصل کررہا ہے، اس کی 6 سال کے بعد کیا حیثیت ہوگی؟
3۔ کیا اسباب ہیں جس کی وجہ سے سوپنا کی صورتحال اتنی جوکھم بھری ثابت ہوئی؟ ان عوامل پر بحث کیجیے: کیڑے ماریا جراثیم کش ادویات ، مہاجنوں کا کردار، آب و ہوا۔
سوپناکے معاملے میں فصل کے برباد ہونے سے قرض کی ادائیگی ناممکن ہوگئی۔ اسے قرض کی بے باقی کے لیے زمین کے ایک حصے کو فروخت کرنا تھا۔ سوپناکی کمائی کو بہتر بنانے میں مددگار ہونے کے بجائے قرض نے اسے بدتر حال میں پہنچادیا۔ یہ ایک مثال ہے جسے عام طور پر قرض کا جال کہاجاتا ہے۔ اس معاملے میں قرض لینے والے کو ایسی صورت حال میں مبتلا کردیتاہے جس سے بازیابی بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔
ایک حالت میں قرض آمدنی بڑھانے میں مدد کرتا ہے اور اسی بنا پر فرد پہلے سے بہتر حال میں ہوجاتاہے۔ دوسری صورت حال میں فصل کے برباد ہونے کے سبب قرض فرد کو قرض کے جال میں ڈھکیل دیتا ہے۔ اپنے قرض کو چکانے کے لیے اسے اپنی زمین کے ایک حصے کو فروخت کرنا ہوتا ہے۔
ظاہر ہے وہ پہلے کی نسبت زیادہ بدتر حال میں ہے۔ لہٰذا آیا قرض مفید ہے یا نہیں، یہ کسی صورتحال میں جو کھم پر اور آیا نقصان ہونے کی صورت میں کچھ مدد مل سکتی ہے،اس بات پر منحصر ہے۔
شرائط قرض
ہر قرض کے معاہدے میں شرح سود کی صراحت کی جاتی ہے جسے قرض دہندہ کو قرض لینے والے کے ذریعے اصل رقم کی ادائیگی کے ساتھ ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ، قرض دینے والا قرض کے مقابلے ضمانت (سیکوریٹی) طلب کرسکتا ہے۔ ضمانت ایک اثاثہ ہے جو قرض لینے والے کی ملکیت میں ہوتا ہے (جیسے زمین، عمارت، گاڑی، مویشی، بینکوں میں جمع) اور اسے قرض دہندہ جب تک قرض کی بے باقی نہ ہوجائے ضمانت کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ اگر مقروض قرض چکانے میں ناکام رہتا ہے تو قرض دہندہ کو اثاثے یا ضمانت کو فروخت کرنے کا حق ہوتا ہے زمین کی حق ملکیت، بینکوں میں جمع مویشی، قرض کے لیے استعمال کی جانے والی ضمانت کی کچھ عام مثالیں ہیں۔

مکان کے لیے قرض
میگھانے ایک مکان خریدنے کے لیے بینک سے 5لاکھ روپے قرض لیا ہے۔ قرض پر سالانہ شرح سود 12فی صد ہے اور ماہانہ قسطوں میں 10 سال کے عرصے میں یہ قرض چکانا ہے۔ میگھا نے بینک میں دستاویز داخل کیا تھا جس میں اس کے روز گار سے متعلق ریکارڈوں اور تنخواہ کو دکھایا گیا تھا۔ اس سے پہلے بینک نے اسے قرض دینے کی منظوری دی تھی۔ بینک نے نئے مکان کے کاغذات ضمانت کے طور پر رکھ لیے جسے میگھا کو تبھی واپس کیا جائے گا جب وہ پورے قرض کو سود کے ساتھ واپس کردے گی۔

میگھا کے مکان کے لیے قرض کی درج ذیل تفصیلات پرُ کیجیے
قرض کی رقم (روپے میں)
قرض کی مدت
مطلوبہ دستاویز
شر ح سود
قرض کی ادائیگی کا طریقہ
ضمانت
شرح سود، ضمانت اور مطلوبہ دستاویز اور قرض ادا کرنے کے طریقے کو مجموعی طور پر شامل کرنے کو قرض کی شرائط (terms of credit) کہا جاتاہے ۔ہر طرح کے قرض کے بندوبست میں شرائط قرض بڑی حد تک مختلف ہوتے ہیں۔ یہ فرق قرض دہندہ اور قرض لینے والے کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے۔ اگلے سیکشن میں قرض کے مختلف اہتمام اورقرض کی مختلف شرائط کی مثالیں پیش کی جائیں گی۔
آئیے انھیں حل کریں
1۔ قرض دہندگان قرض دیتے وقت کیوں ضمانت طلب کرتے ہیں؟
2۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ ہمارے ملک میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد غریب ہے، کیایہ کسی طرح ان کی ادھار لینے کی گنجائش پر اثر انداز ہوتی ہے؟
3۔ بریکٹوں سے صحیح متبادل کا انتخاب کرتے ہوئے خالی جگہوں کو پرُ کیجیے۔
قرض لیتے وقت قرض لینے والا قرض کی آسان شرائط چاہتا ہے۔ اس کا مطلب ہے ………(کم /زیادہ) شرح سود، ادائیگی کے لیے ……… (آسان /مشکل) ، (کم /زیادہ) ……… ضمانت اور دستاویزی ضروریات۔
مختلف قسم کے قرض بندوبست
ایک گاؤں کی مثال
روہت اور رنجن کلاس میں قرض کی شرائط کے بارے میں پڑھ چکے تھے۔ وہ ان مختلف قسم کے قرض بندوبستوں کے بارے میں جاننے کے خواہش مند تھے جو ان کے علاقے میں رائج تھے: وہ کون سے لوگ تھے جو قرض مہیا کرتے تھے؟ قرض لینے والے کون لوگ تھے؟ قرض کی شرائط کیا تھیں؟ انھوں نے اپنے گاؤں کے کچھ لوگوں سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ پڑھیے کہ انھوں نے کیا تحریر کیا …

15 نومبر 2019
ہم سیدھے کھیتوں کی طرف چلے جہاں زیادہ تر کسان اور مزدور دن کے اس وقت کام کررہے ہوں گے ۔ کھیتوں میں آلوکی فصل اُگائی گئی تھی۔ ہم پہلے شیامل سے ملے، جو ایک چھوٹے سے آب پاش گاؤں (یعنی جہاں آبپاشی کی سہولتیں موجود تھیں) سون پور کا ایک چھوٹا کسان تھا۔
شیامل ہمیں بتاتاہے کہ ہر موسم میں اسے 1.5 ایکڑ زمین میں کاشتکاری کے لیے قرضوں کی ضرورت ہوتی ہے، کچھ سال پہلے تک وہ گاؤں کے ایک مہاجن سے پانچ فی صد ماہانہ (%60سالانہ)کی شرح سود پر قرض لیاکرتا تھا۔ پچھلے کچھ سال سے، شیامل تین فی صد ماہانہ کی شرح سود پر گاؤں کے ایک زرعی تاجر سے قرض لیتا آرہا ہے۔ فصلی موسم کی شروعات پر تاجر کھیتی سے متعلق سامان (درآیدئے) ادھار دیا کرتا ہے جسے فصلو ں کے تیار ہونے پر ادا کیا جاتا ہے۔
قرض پر سود لگانے کے علاوہ تاجر کسانوں سے وعدہ لیتا ہے کہ فصل وہ اسی کو فروخت کریں۔ اسی طرح تاجر یہ یقینی بنا سکتا ہے کہ رقم کی ادائیگی تیزی سے حاصل ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ چونکہ فصلوں کی قیمت کٹائی کے وقت کم ہوتی ہے اس لیے تاجر کسانوں سے کم قیمت پر فصل خریدنے اور بعد میں قیمت بڑھنے پر فروخت کرنے سے منافع کمانے کا اہل بھی ہوتا ہے۔

ہم اس کے بعد ارون سے ملے جو ایک کھیتی مزدور کے کام کی نگرانی کررہا ہے۔ ارون کے پاس سات ایکڑ زمین ہے۔ وہ سون پور کے ان کچھ لوگوں میں سے ایک ہے جو کاشتکاری کے لیے بینک سے قرض حاصل کرتے ہیں۔ قرض پر شرح سود 8.5 فی صد سالانہ ہے اور اگلے تین سالوں میں کسی بھی وقت اسے چکایا جاسکتا ہے۔ ارون کا منصوبہ یہ ہے کہ وہ فصل کی کٹائی کے بعد فصل کے ایک حصے کو فروخت کرنے کے ذریعے قرض کی ادائیگی کرے گا وہ اس کے بعد باقی آلو کو کولڈ اسٹوریج میں ذخیرہ کرنے اور کولڈ اسٹوریج کی رسید کے مقابل بینک سے نیا قرض حاصل کرنے کی درخواست دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ بینک اس سہولت کو ان کسانوں کو پیش کرتا ہے جنھوں نے اس سے فصلی قرض لیا ہے۔
راما ایک قریبی کھیت میں زرعی مزدور کے طور پر کام کررہی ہے۔ سال میں کئی مہینے ایسے ہوتے ہیں جب راما کے پاس کوئی کام نہیں ہوتا اور اسے روز مرہ کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ادھار لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اچانک بیمار پڑجانے، گھر میں کوئی تقریب ہونے پر،اخراجات کو پورا کرنے کے لیے اسے قرض کی ضرورت ہوتی ہے۔ راما ادھار کے لیے اپنے آجر پر منحصر ہوتی ہے، وہ سون پور میں اوسط درجے کا زمین مالک ہے۔ زمین مالک 5 فی صد ماہانہ کی شرح سود لگاتا ہے ۔ راما زمین کے مالک کے لیے کام کرنے کے ذریعے ادھار کی رقم ادا کرتی ہے۔ اکثر راما کو اس سے پہلے کہ وہ پچھلا قرض چکائے نئے نئے قرض لینے پڑتے ہیں۔ اس وقت اس پر زمین مالک کا 5,000 روپے کا قرض ہے۔ اگرچہ زمین مالک کا برتاؤ اس کے ساتھ اچھا نہیں ہوتا پھر بھی وہ اسی کے لیے کام کرتی رہتی ہے کیونکہ ضرورت پڑنے پر وہ اس سے قرض لے سکتی ہے۔ راما بتاتی ہے کہ سون پور میں بے زمین لوگوں کے لیے ادھار لینے کا یہی ایک ذریعہ زمین مالک و آجر ہے ۔
کوآپریٹو سوسائٹیوں سے قرض لینا
دیہی علاقوں میں بینکوں کے علاوہ آسان قرض کا دیگر اہم ذریعہ کوآپریٹو سوسائٹیاں (Co-operatives) ہیں۔ بعض علاقوں میں تعاون کے لیے کوآپریٹو کے ممبر اپنے وسائل کو جمع کرتے ہیں۔ کوآپریٹوس کی بہت سی قسم ممکن ہے جیسے کسانوں کے کوآپریٹوس، بنکروں کے کوآپریٹوس، صنعتی کارکنان کے کوآپریٹوس وغیرہ۔ ایک کرشک کوآپریٹو ایک گاؤں میں کام کرتا ہے جو سون پور سے بہت زیادہ دور نہیں ہے۔ 2300 کسان اس کے ممبر ہیں۔ یہ اپنے ممبروں سے جمع کو قبول کرتا ہے۔ ضمانت کے طور پر ان جمع سے کوآپریٹو بینک سے ایک بڑا قرض حاصل کرتا ہے۔ ان فنڈوں کا استعمال ممبروں کو قرض فراہم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ ایک بار جب ان قرضوں کو ادا کردیا جاتا ہے تب قرض لینے کا دوسرا دور چلتا ہے۔
کرشک کوآپریٹو زراعتی سازوسامان کی خریداری کاشتکاری کے لیے قرض دور زراعتی تجارت، ماہی گیری کے لیے قرض، گھروں کی تعمیر کے لیے قرض اور دیگر مختلف اقسام کے اخراجات کے لیے قرض فراہم کرتا ہے۔

آئیے انھیں حل کریں
1۔ سون پور میں قرض کے مختلف ذرائع کی فہرست بنائیے۔
2۔ درج بالا اقتباسات میں سون پور میں قرض کے مختلف استعمال کو نمایاں کیجیے ۔
3۔ سون پور میں چھوٹے کسان ، اوسط درجے کے کسان اور بے زمین زرعی مزدوروں کے لیے شرائط قرض کا موازنہ کیجیے۔
4۔ کاشتکاری سے شیامل کی نسبت ارون کو اونچی آمدنی کیوں ہوتی ہے؟
5۔ سون پور میں کیا ہر ایک سستی شرح پر قرض حاصل کرسکتا ہے؟ وہ کون لوگ ہیں جو اس شرح پر قرض حاصل کرتے ہیں؟
6۔ صحیح جواب پر نشان لگائیے:
(i) کئی سال میں راما کا قرض:
•بڑھ جائے گا
• وہی رہے گا
•کم ہوجائے گا
(ii) سون پور میں ارون ان کچھ لوگوں میں سے ایک ہے جو بینک سے قرض لیتے ہیں کیونکہ:
• گاؤ ں کے بعض دیگر لوگ مہاجنوں سے قرض لینے کو ترجیح دیتے ہیں
• بینک ضمانت طلب کرتا ہے جسے ہر ایک نہیں مہیا کرسکتا
• بینک کے قرضوں پر شرح سود وہی ہے جو شرح سود تاجروں کے ذریعہ لگائی جاتی ہے۔
7 ۔ یہ دریافت کرنے کے لیے کہ قرض کے کون سے بندوبست آپ کے علاقے میں رائج ہیں، کچھ لوگوں سے بات کیجیے ۔ اپنی بات چیت کو ریکارڈ کیجیے ۔ لوگوں میں قرض کی شرائط سے متعلق فرق کو نوٹ کیجیے۔
ہندوستان میں رسمی (باضابطہ) حلقۂ قرض
درج بالا مثالوں میں ہم نے دیکھا کہ لوگ مختلف وسائل سے قرض حاصل کرتے ہیں۔ قرض کی مختلف اقسام کو آسانی کے ساتھ رسمی حلقۂ قرض (Formal Sector Loans) اور غیر رسمی حلقہ قرض (Informal Sector Loans) میں گروپ بند کیا جاسکتا ہے۔ رسمی حلقۂ قرض میں بینک اور کوآپریٹوس آتے ہیں۔ غیر رسمی قرض دینے والوں میں مہاجن، تاجر، آجر، رشتہ دار اور دولت مند وغیرہ شامل ہیں۔ گراف1میں ہندوستان کے دیہی گھروں کے قرض کے مختلف وسائل آپ دیکھ سکتے ہیں کیا زیادہ قرض رسمی سیکٹر سے آتا ہے یا غیر رسمی سیکٹر سے آتا ہے؟
ریزرو بینک آف انڈیا قرض کے رسمی وسائل کے کام کاج کی نگرانی کرتا ہے۔ مثال کے لیے ہم نے دیکھا کہ بینک اپنی جمع کا ایک کم سے کم نقد حصہ برقررار رکھتے ہیں۔ اسی طرح ریزرو بینک آف انڈیا یہ بھی نگرانی کرتا ہے کہ بینک صرف منافع کمانے والے اداروں اور تاجروں کو ہی قرض نہ دے رہے ہوں بلکہ چھوٹے کاشتکاروں، چھوٹے پیمانے کی صنعتوں، چھوٹے قرض داروں وغیرہ کو بھی قرض دے رہے ہوں۔ وقتاً فوقتاً بینکوں کو ریزرو بینک آف انڈیا کو معلومات بھی پیش کرنی ہوتی ہے کہ کتنا قرض وہ کس کو دے رہے ہیں اور کس شرح سود پر وغیرہ وغیرہ۔
گراف2012:1میں ہندوستان میں دیہی گھروں کے لیے قرض کے وسائل
کمرشیل بینک %25
ساہوکار% 33
سرکار%1
کوآپریٹوسوسائٹی/بینک %5
دیگر انسٹیٹیوشنل انجنسیاں%5
دیگر انسٹیٹیوشنل انجنسیاں%2
رشتہ دار اور دوست% 8
زمیندار%1

ایسی کوئی تنظیم نہیں ہے جو غیر رسمی سیکٹر میں قرض دینے والوں کی قرض سے متعلق سرگرمیوں کی نگرانی کرے۔ وہ جو بھی شرح سود چاہتے ہوں اس پر قرض دے سکتے ہیں۔ انھیں اپنی رقم کو واپس حاصل کرنے کے لیے ناجائز ذرائع کا استعمال کرنے سے کوئی روکنے والا نہیں ہے۔
لیکن بینک ہم سے
یہ کیوں چاہتا ہے
کہ ہماری آمدنی زیادہ ہو؟

رسمی قرض دینے والوں کے مقابلے زیادہ تر غیر رسمی قرض دہندگان قرض پر بہت زیادہ شرح سود لگاتے ہیں۔ اس طرح غیر رسمی قرضوں کے قرضدار کی لاگت زیادہ پڑ جاتی ہے۔
قرض لینے کی اونچی لاگت کا مطلب ہے کہ قرض لینے والوں کی کمائی کا ایک بڑا حصہ قرض کی بے باقی میں استعمال ہوجاتاہے۔ لہٰذا قرض داروں کے پاس ان کے لیے کم آمدنی بچتی ہے (جیسا کہ ہم نے سون پور میں شیامل کے معاملے میں دیکھا) بعض معاملوں میں ادھار لینے کی اونچی شرح کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ جو رقم واپس کی جانی ہے وہ قرض دار کی آمدنی کی نسبت بہت زیادہ ہوتی ہے اس سے قرض بڑھ سکتا ہے (جیسا کہ ہم نے سون پور میں راما کے معاملے میں دیکھا) اور قرض کے جال میں پھنس سکتا ہے۔اس کے علاوہ وہ لوگ جو قرض لینے کے ذریعے کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں وہ ادھار لینے کی اتنی اونچی لاگت کی وجہ سے یہ کاروبار نہیں شروع کرسکتے۔ انھیں وجوہات سے بینکوں اور کوآپریٹو سوسائٹیوں کے ذریعے زیادہ ادھار دیے جانے کی ضرورت ہے۔ اس سے زیادہ آمدنی پیدا ہوگی اور بہت سے لوگ تب مختلف قسم کی ضرورتوں کے لیے سستی شرح پر قرض لے سکیں گے۔ وہ فصلیں اگاسکتے ہیں، کاروبار کرسکتے ہیں، چھوٹے پیمانے کی صنعت قائم کرسکتے ہیں۔ وہ نئی صنعتیں لگاسکتے ہیں یا اشیا کی تجارت کرسکتے ہیں۔ سستے اور قابل استطاعت قرض ملک کی ترقی کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔
رسمی اور غیر رسمی قرض: کون کیا حاصل کرتا ہے؟
گراف 2 میں شہری علاقوں میں لوگوں کے لیے قرض کے رسمی اور غیر رسمی وسائل کی اہمیت دکھائی گئی ہے۔ لوگوں کو غریب سے امیر تک کے چار گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جیسا کہ شکل میں دکھایا گیا ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ شہری علاقوں میں غریبوں کے ذریعہ لیے گئے 85 فی صد قرض غیر رسمی وسائل کے ہیں۔ اس کا موازنہ امیر شہری گھروں سے کیجیے۔ آپ کیا پاتے ہیں؟ ان کے صرف 10 فی صدقرض رسمی وسائل سے حاصل ہوئے ہیں۔ یہی انداز دیہی علاقوں میں پایا جاتاہے۔ امیر گھررسمی قرض دہندگان سے حاصل سستے قرض سے استفادہ کررہے ہیں جب کہ غریب گھروں کے لوگ قرض کے لیے بھاری قیمت چکاتے ہیں۔
ان سب سے کیا پتہ چلتا ہے؟ پہلا یہ کہ رسمی سیکٹر دیہی لوگوں کی کل قرض کی ضرورتوں کا صرف تقریباً نصف ہی پورا کرتا ہے۔ باقی قرض کی ضرورتیں غیر رسمی وسائل سے پوری ہوتی ہیں۔
غیر رسمی قرض دینے والوں کے اکثر قرضوں میں بہت زیادہ اونچی شرح سود ہوتی ہے اور اس سے ادھار لینے والوں کی آمدنی میں بہت معمولی سا اضافہ ہوتا ہے۔ اس طرح یہی ضروری ہے کہ بینک اور کوآپریٹو سوسائٹیاں اپنے قرض دینے کے عمل کو بڑھائیں خاص طور پر دیہی علاقوں میں تاکہ قرض کے غیر رسمی وسائل پر انحصار کم سے کم ہو۔
گراف 2 میں شہری گھروں سے لیے گئے تمام قرض میں کتنا فی صد رسمی تھا اور کتنافی صد غیر رسمی تھا؟
غریب اہل خانہ
غیررسمی شعبے سے قرضوں کا فی صد% 85
رسمی شعبے سے قرضوں کا فی صد %15
کم اثاثوں والے اہل خانہ
غیررسمی شعبے سے قرضوں کا فی صد% 47
رسمی شعبے سے قرضوں کا فی صد %53
آسودہ حال اہل خانہ
غیررسمی شعبے سے قرضوں کا فی صد% 28
رسمی شعبے سے قرضوں کا فی صد %72
امیر اہل خانہ
غیررسمی شعبے سے قرضوں کا فی صد% 90
رسمی شعبے سے قرضوں کا فی صد %10

آئیے انھیں حل کریں
1۔ قرض کے رسمی اور غیر رسمی وسائل کے درمیان کیا فرق ہے؟
2۔ سبھی کے لیے معقول شرح پر قرض کیوں دستیاب ہونا چاہیے؟
3 ۔ کیا ریزرو بینک آف انڈیا جیسے نگراں ہونے چاہئیں جو غیر رسمی قرض دینے والوں کو قرض سے متعلق سرگرمیوں کی نگرانی کریں؟
کیوں اس کا یہ کام کافی مشکل ہوگا؟
4۔ آپ کے خیال میں کیوں ایسا ہے کہ غریب ترین گھروں کے مقابلے امیر گھروں کے لیے رسمی شعبے کے قرض کا حصہ زیادہ ہے؟
ایک ورکر تو شک (روئی دار گدا)
سلتے ہوئے
کیا آپ کے خیال
میں ایک بینک مجھے
قرض دے گا؟

دوسرے، جہاں رسمی سیکٹر کو قرض کی ضرورت کو توسیع کرنا ہے وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ یہ قرض ہر ایک کو حاصل ہوسکے۔ اس وقت یہ امیر اہل خانہ ہیں جو رسمی قرض حاصل کرتے ہیں جب کہ غریب غیر رسمی وسائل پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ اہم ہے کہ رسمی قرض کو زیادہ مساوی طور پر تقسیم کیا جائے تاکہ غریب سستے قرضوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔
غریبوں کے لیے خود امدادی گروپ
پچھلے سیکشن میں ہم نے دیکھا کہ غریب اہل خانہ اب بھی قرض کے غیر رسمی وسائل پر منحصر ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ دیہی ہندوستان میں بینک ہر جگہ نہیں موجود ہوتے حتٰی کہ اگر موجود بھی ہیں تو بینک سے قرض لینا غیر رسمی وسائل سے قرض لینے کے مقابلے زیادہ مشکل ہے۔ جیسا کہ ہم نے میگھا کے معاملے میں دیکھا کہ بینک کے قرضوں میں کافی دستاویز اور ضمانت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ضمانت کی غیر موجودگی ایک اہم وجہ ہے جو غریبوں کو بینک کے قرضے حاصل کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے جب کہ دوسری طرف غیر رسمی طور پر قرض دینے والے جیسے ساہوکار قرض لینے والوں کو ذاتی طور پر جانتے ہیں اور اس بنا پر وہ انھیں بغیر ضمانت کے قرض دینے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ اگر ضروری ہوا تو قرض لینے والے ساہوکاروں کے پاس اپنے پہلے قرض چکائے بغیر بھی جاسکتے ہیں۔ تاہم ساہوکار سود کی بہت اونچی شرح لگاتے ہیں، لین دین کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھتے اور غریب قرض لینے والوں کو تنگ کرتے ہیں۔
حالیہ سالوں میں لوگوں نے غریبوں کو قرض فراہم کرنے کے کچھ نئے نئے طریقوں کو آزمانے کی کوشش کی ہے۔ خیال یہ ہے کہ دیہی غریبوں خاص طور پر عورتوں کو چھوٹے چھوٹے خود امدادی گروپوں (SHGs) میں منظم کیا جائے اور ان کی بچت کو جمع کیا جائے۔ ایک مثالی خود امدادی گروپ میں 15 تا 20 ممبران ہوتے ہیں جو عام طور پر آس پاس کے وہ لوگ ہوتے ہیں جو پابندی کے ساتھ ملتے ہیں اور بچت کرتے ہیں۔ فی ممبر بچت الگ الگ 25 روپے سے لے کر 100 روپے تک یا اس سے زیادہ ہوتی ہے جو اس بات پر منحصر ہے کہ لوگوں کی بچت کرنے کی کیا صلاحیت ہے ۔ ممبر اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے چھوٹے چھوٹے قرض خود امدادی گروپ سے لے سکتے ہیں۔ گروپ ان قرضوں پر سود لگاتا ہے لیکن یہ تب بھی ساہوکاروں کے لگائے گئے سود سے کم ہی ہوتا ہے۔ ایک یا دو سال کے بعد اگر گروپ میں پابندی سے بچت ہورہی ہے تو یہ بینک سے قرض حاصل کرنے کا مجاز ہوجاتا ہے۔ قرض کو گروپ کے نام سے منظور کیا جاتا ہے اور ممبران کے لیے خود روزگار مواقع پیدا کرنے کے مقصد سے استعمال کیا جاتا ہے۔ مثال کے لیے چھوٹے قرض گروی زمین کو چھڑانے کے لیے رواں پونجی کی ضرورتوں (مثلاً بیجوں فرٹیلائزروں کو کچے مال جیسے بانس اور کپڑے وغیرہ خریدنے) کو پورا کرنے، گھریلو سامان خریدنے ، سلائی مشین ، ہینڈ لوم، مویشی وغیرہ حاصل کرنے کے لیے فراہم کیے جاتے ہیں۔
بچت اور قرض کی سرگرمیوں سے متعلق نہایت اہم فیصلے گروپ ممبران کے ذریعے لیے جاتے ہیں۔ گروپ منظور کیے جانے والے قرضوں، اس کے مقصد ، لگائے جانے والے سود، قرض کو چکانے کے شیڈول کے بارے میں فیصلہ لیتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ گروپ ہی ہے جو قرض چکانے کے لیے ذمے دار ہے۔ کسی بھی ممبر کے ذریعے قرض کے نہ ادا ہونے کے معاملے میں گروپ کے دیگر ممبران کے ذریعے سنجیدگی کے ساتھ تفتیش اور کارروائی کی جاتی ہے۔ اس خصوصیت کے سبب بینک خودامدادی گروپوں میں منظم ہونے ، غریب عورتوں کو قرض دینے کے خواہش مند ہوتے ہیں حتیٰ کہ وہ اس حیثیت میں ضمانت بھی نہیں چاہتے۔
اس طرح خود امدادی گروپ قرض لینے والوں کے پاس ضمانت نہ ہونے کے سبب پیدا مسائل پر قابو پانے میں مددگار ہوتے ہیں۔ وہ مختلف مقاصد کے لیے وقت پر قرض معقول شرح سود پر حاصل کرسکتے ہیں۔
مزید برآں خود امدادی گروپ دیہی غریبوں کی تنظیم کو تقویت دیتا ہے۔ نہ صرف یہ عورتوں کو مالی طور پر خود کفیل بنانے میں مدد کرتا ہے بلکہ گروپ کی باقاعدہ میٹنگ کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے جہاں وہ صحت، تغذیہ، گھریلو تشدد وغیرہ جیسے مختلف سماجی امور پر مباحثہ کیا جاسکتا ہے۔
گجرات میں عورتوں کے خود امدادی گروپ کی ایک میٹنگ

بنگلہ دیش کا گرامین بینک
معقول شرح پر قرض سے متعلق ضرورتوں کو پورا کرنے میں ،غریبوں تک پہنچنے میں بنگلہ دیش گرامین بینک کی کہانی سب سے زیادہ کامیاب کہانیوں میں سے ایک ہے۔ 1970 کے دہے میں ایک چھوٹے سے پروجیکٹ کے طور پر گرامین بینک کی شروعات ہوئی تھی۔ اب پورے بنگلہ دیش میں 2018 میں تقریباً 81,600 گاؤوں میں 9ملین سے زیادہ ممبر گرامین بینک کے ہیں۔ تقریباً سبھی قرض دار عورتیں ہیں اور سماج کے غریب ترین طبقات سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان قرض داروں نے یہ ثابت کیا ہے کہ نہ صرف غریب عورتیں معتبر قرض دار ہیں بلکہ وہ کامیابی کے ساتھ مختصر آمدنی پیدا کرنے والی سرگرمیوں کو شروع کرسکتی ہیں اور کامیابی کے ساتھ اسے انجام دے پا رہی ہیں۔
اگر غریب لوگوں کو ان شرائط و ضوابط پر قرض دستیاب کیا جاسکتا ہے جو کہ مناسب اور معقول ہوں تب ان لاکھوں غریبوں کے ذریعے اپنائے گئے لاکھوں چھوٹے چھوٹے مشغلے بہت زیادہ ترقیاتی کرامات پیدا کرنے میں یکجا کرسکتے ہیں۔
پروفیسر محمد یونس
گرامین بینک کے بانی
اورامن کے لیے نوبل انعام یافتہ2006
خلاصہ
اس باب میں ہم نے زر کی جدید شکلوں پر نظر ڈالی اور یہ بھی دیکھا کہ کس طرح یہ بینک کاری نظام کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ایک طرف تو جمع کار ہیں جو بینکوں میں اپنی رقم جمع کرتے ہیں اور دوسری طرف قرض لینے والے لوگ ہیں جو ان بینکوں سے قرض لیتے ہیں۔ معاشی سرگرمیوںمیں قرض کی ضرورت ہوتی ہے۔ قرض جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ قرض کا مثبت اثر ہوسکتا ہے یا بعض صورتوں میں قرض دار کی حالت بدتر بھی ہوجاتی ہے۔
قرض مختلف قسم کے وسائل سے دستیاب ہوتا ہے۔ یہ یا تو رسمی وسائل یا غیر رسمی وسائل سے دستیاب ہوسکتا ہے۔ رسمی اور غیر رسمی قرض دینے والوں میں قرض کی شرائط میں کافی فرق ہوتا ہے۔ آج کل امیر اہل ِخانہ رسمی وسائل سے قرض حاصل کرتے ہیں جب کہ غریب لوگ غیر رسمی وسائل پر منحصر رہتے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ کل رسمی سیکٹر قرض دینے کو بڑھائیں تاکہ زیادہ مہنگے رسمی قرض کم ہوسکیں۔ اس کے علاوہ بینکوں، کوآپریٹو سوسائٹیوں وغیرہ سے اسی قرض کا بڑا حصہ غریبوں کو ملنا چاہیے۔ ترقی کے لیے یہ دونوں اقدامات اہم ہیں۔
مشقیں
1۔ بہت زیادہ جوکھم کی صورتحال میں قرض لینے والوں کے لیے مزید مسائل پیدا ہوں گے۔وضاحت کیجیے
2۔ ضروریات کی دوہری مطابقت (double coincidence of wants) کے مسائل کو زر سے کس طرح حل کیا جاتا ہے؟ اپنی خود کی مثال سے واضح کیجیے۔
3۔ بینک ان لوگوں کے ساتھ جو زائد زر رکھتے ہیں اور وہ جن کو زر کی ضرورت ہوتی ہے، کے درمیان کس طرح ثالثی کرتے ہیں؟
4۔ 10 روپے کے نوٹ پر نظر ڈالیے۔ اوپر کیا لکھا ہوا ہے؟ کیا آپ اس بیان کی وضاحت کرسکتے ہیں؟
5۔ ہندوستان میں قرض کے رسمی وسائل کی وسعت کی ہمیں کیوں ضرورت ہے؟
6۔ غریبوں کے لیے خود امدادی گروپ کے پس پشت بنیادی تصور کیا ہے؟ اپنے الفاظ میں وضاحت کیجیے۔
7۔ کیوں بینک بعض قرض خواہوں کو قرض نہیں دینا چاہتے؟ اس کے کیا اسباب ہیں؟
8۔ ریزرو بینک آف انڈیا کس طرح بینکوں کے کام کی نگرانی کرتا ہے؟ یہ ضروری کیوں ہے؟
9 ۔ ترقی کے لیے قرض کے کردار کا تجزیہ کیجیے۔
10۔ مانو کو ایک چھوٹا کاروبار کرنے کے لیے قرض کی ضرورت ہے۔وہ کس بنیاد پر وہ فیصلہ کرے گا کہ بینک سے قرض لے یا ساہو کار سے حاصل کرے؟ بحث کیجیے۔
11۔ ہندوستان میں تقریباً 80 فی صد کسان چھوٹے کسان ہیں جنہیں کاشت کاری کے لیے قرض کی ضرورت ہے۔
a) بینک چھوٹے کسانوں کو قرض کیوں نہیں دینا چاہتے؟
b) وہ کون سے دیگر وسائل ہیں جن سے چھوٹے کسان قرض لے سکتے ہیں؟
c) مثال دے کر وضاحت کیجیے کہ کس طرح قرض کی شرائط چھوٹے کسانوں کے حق میں نہیں ہوتیں؟
d) کچھ ایسے طریقے بتائیے جن کے ذریعے چھوٹے کسان آسان اور سستا قرض حاصل کرسکیں۔
12۔ خالی جگہوں کو پر کیجیے
(i) …… اہل خانہ کی قرض کی زیادہ تر ضرورتیں غیر رسمی وسائل کے ذریعے پوری ہوتی ہیں۔
(ii) قرض لینے کی ……… لاگتوں سے قرض کا بوجھ بڑھ جاتا ہے۔
(iii) ………مرکزی حکومت کی طرف سے کرنسی نوٹ جاری کرتا ہے۔
(iv) بینک قرض پر …… کی نسبت زیادہ شرح سود لگاتے ہیں۔
(v) ……… ایک اثاثہ ہے جو قرض لینے والے کی ملکیت ہوتا ہے اور ضمانت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جب تک قرض دہندہ کو قرض کی ادائیگی نہ ہوجائے۔
13 ۔ زیادہ مناسب جواب منتخب کیجیے
(i) خود امدادی گروپ میں بچت اور قرض سے متعلق سرگرمیوں کے فیصلے لیے جاتے ہیں:
(a بینک کے ذریعے
(b ممبران کے ذریعے
(c غیر سرکاری تنظیم کے ذریعے
(ii) قرض کے رسمی وسائل میں شامل نہیں ہیں:
(a بینک
(b کوآپریٹو
(c آجر
اضافی پروجیکٹ/سرگرمی
درج ذیل جدول شہری علاقوں میں مختلف پیشے میں لگے لوگوں کو ظاہر کرتا ہے کیا مقاصد ہیں جن کے لیے ذیل کے لوگوں کو قرضوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ کالم کو پُر کیجیے
| قرض کی ضرورت کے لیے وجہ | پیشہ |
| تعمیراتی مزدور | |
| گریجویٹ طالب علم جو کمپیوٹر بھی جانتاہے | |
| سرکاری ملازمت میں لگاہوا ایک شخص | |
| دہلی میں نقل مکانی کرکے آنے والا مزدور | |
| گھریلو خادمہ | |
| چھوٹا تاجر | |
| آٹورکشہ ڈرائیور | |
| ایک مزدور جس کی فیکٹری بند ہوگئی ہو |

مزید، لوگوں کو دو گروپوں میں درجہ بند کیجیے جو ان پر مبنی ہو جن کے بارے میں آپ سوچتے ہیں کہ وہ بینک سے قرض حاصل کرسکتے ہیں اور ان پر جو نہیں حاصل کرسکتے۔ وہ کیا کسوٹی ہے جو آپ نے درجہ بندی کے لیے استعمال کی ہے؟