Skip to content
Maashi Taraqqui Ki Samajh  Chapter-04

مدرس کے لیے ہدایت

باب 4 : گلوبلائزیشن (عالم کاری) اور ہندوستانی معیشت
دنیا کے بہت سے خطوں میں باہمی جڑ اؤ بڑھتا جارہا ہے۔ جہاں ملکوں کے درمیان یہ جڑاؤ یا رابطہ کثیر جہتی، ثقافتی ، سیاسی، سماجی اور معاشی ہے۔ وہیں اس باب میں گلوبلائزیشن کے جائزہ کو زیادہ محدود مفہوم میں لیا گیا ہے۔ گلوبلائزیشن کی تعریف ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کے ذریعے غیر ملکی تجارت اور غیر ملکی سرمایہ کاریوں سے ملکوں کے درمیان ارتباط قائم کرنے کے طور پرکی جاتی ہے۔ جیسا کہ آپ غور کریں گے کہ پورٹ فولیو سرمایہ کاری جو زیادہ پیچیدہ مسئلہ ہے اسے چھوڑ دیا گیا ہے۔
اگر ہم پچھلے تیس سالوں پر نظر ڈالیں تو پاتے ہیں کہ ملٹی نیشنل کارپوریشن دنیا کے دور دراز کے خطوں کو جوڑنے کی گلوبلائزیشن عمل کاری میں اہم قوت ہیں۔ ملٹی نیشنل کارپوریشن دیگر ملکوں میں پیداواری عمل کیوں بڑھارہے ہیں اور وہ کون سے طریقے ہیں جن کے تحت وہ ایسا کررہے ہیں؟ باب کے پہلے حصے میں اس پر بحث کی گئی ہے۔ مقداری تخمینوں پر انحصار کرنے کے بجائے ملٹی نیشنل کارپوریشن میں تیز اضافے اور رسوخ کو مختلف مثالوں کے ذریعے دکھایا گیا ہے، انھیں ہندوستانی سیاق سے خاص طور پر اخذ کیا گیا ہے۔ یہ غور کریں کہ زیادہ عام نقاط کو واضح کرنے میں یہ مثالیں زیادہ مددگار ہیں۔ پڑھاتے وقت ان نظریات اور مثالوں پر زور دیا جانا چاہیے جن کو سمجھانے کے طور پر استعمال کیا جانا ہے۔ آپ سیکشن 7 کے بعد دیے گئے کسی اقتباس جیسے اقتباسات کا استعمال نئے تصورات کی جانچ اور اس کو تقویت دینے کے خیال سے تخلیقی طور پر کرسکتے ہیں۔
پیداوری عمل کو مربوط کرنا اور بازاروں کا ارتباط گلوبلائزیشن عمل اور اس کے اثرات کو سمجھنے کے پیچھے ایک کلیدی تصور ہے۔ اس باب میں اسے طوالت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے جس میں عمل کاری میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ آپ کو یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ طلبا اس تصور کو اگلے موضوع پر جانے سے پہلے کافی وضاحت کے ساتھ اچھی طرح سمجھ لیں۔
گلوبلائزیشن کی تسہیل متعدد عوامل کے ذریعے کی گئی ہے۔ ان میں سے تین کو کافی نمایاں کیا گیا ہے: ٹکنالوجی میں تیز پیش رفت، تجارت کی نرم کاری اور سرمایہ کاری پالیسیاں اور عالمی تجارتی تنظیم جیسی بینِ الاقوامی تنظیموں کا دبائو۔ ٹکنالوجی میں بہتری طلبا کے لیے دلچسپ موضوع ہوسکتا ہے اور آپ کچھ ہدایت کے ساتھ انھیں اپنے طور پر دریافت یا چھان بین کرنے کی حوصلہ افزائی کرسکتے ہیں۔ نرم کاری پر بحث کرتے ہوئے آپ کو یہ بات ذہن میں رکھنا چاہیے۔ طلبا اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ ہندوستان لبرلائزیشن سے پہلے کیا تھا۔ لبرلائزیشن کے پہلے اور بعد کے دور کا موازنہ اور تقابل رول پلے (اداکاری ڈرامہ) کے ذریعے سمجھا جاسکتا ہے۔ اسی طرح  WTO کے تحت بین الاقوامی گفت و شنید اور اقتدار میں غیر مساوی توازن دلچسپ موضوع ہوسکتا ہے اور لکچر کے بجائے مباحثے کے انداز میں احاطہ کیا جاسکتا ہے۔
آخری سیکشن میں گلوبلائزیشن کے اثرات کا احاطہ کیا گیا ہے، گلوبلائزیشن کسی حد تک ترقیاتی عمل میں اشتراک کرتا ہے۔ باب 1 اور 2 میں ان موضوعات کا احاطہ کیا گیاہے یہ سیکشن ان سے نتیجہ اخذ کرتا ہے (مثال کے لیے منصفانہ ترقیاتی مقصد کیا ہے) جس کا حوالہ آپ دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی ماحول سے اخذ کی گئی مثالیں اور سرگرمیاں اس سیکشن پر بحث کرتے وقت ضروری ہیں اس میں وہ سیاق و سباق بھی شامل ہوں گے جن کا احاطہ اس باب میں نہیں کیا گیا ہے۔ جیسے مقامی کسانوں وغیرہ پردرآمدات کے اثرات وغیرہ ۔ ایسی صورت ِحال کا تجزیہ کرنے کے لیے اجتماعی غور و خوض کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔
معلومات کےلیےمآخذ
منصفانہ گلوبلائزیشن کے لیے مانگ دوسروں کے علاوہ بین الاقوامی لیبر تنظیم کے www.ilo.org. کے ذریعے بھی کی گئی ہے۔ دوسرا دلچسپ وسیلہ ڈبلو ٹی او ہے جس کی ویب سائٹ http://www.wto.org.  ہے یہ کئی طرح کے معاہدوں کی رسائی فراہم کرتا ہے جن کی گفت و شنید ڈبلو ٹی او میں کی گئی ہے۔ کمپنی سے متعلق معلومات زیادہ تر ملٹی نیشنل کمپینوں کی اپنی ویب سائٹیں ہیں اگر آپ ملٹی نیشنل کمپینوں پر تنقیدی نگاہ ڈالنا چاہتے ہیں تو ایک ویب سائٹ www.corporate watch.org.u.kزیادہ بہتر رہے گی۔


pic1 chapter 4 maashi taraqqi
باب4
عالم کاری
اور ہندوستانی معیشت
آج کل کی دنیا میں صارفین کے طور پر ہم میں سے بعض لوگوں کے پاس اشیا اور خدمات کے لیے وسیع انتخاب یعنی پسندناپسند کا اختیار ہوتا ہے۔ دنیا کے معروف صناع کے ذریعے تیار ڈجیٹل (عددی) کیمرہ ، موبائل فون اور ٹیلی ویژن کے نئے نئے ماڈل اب ہماری پہنچ میں ہیں۔ ہر موسم میں آٹوموبائل (موٹرگاڑیوں )کے نئے نئے ماڈلوں کو ہندوستانی سڑکوں پر دیکھا جاسکتا ہے۔ اب وہ دن چلے گئے جب ایمبسڈر اور فیٹ ہی ہندوستان کی سڑکوں پر دوڑا کرتی تھیں۔ آج کل ہندوستانی دنیا کی تقریباً سبھی بڑی کمپینوں کی تیار کی ہوئی کاریں خریدرہے ہیں۔ برانڈوں کے اسی طرح کے تیز اضافے کو دیگر بہت سی اشیا شرٹ سے لے کر ٹیلی ویژن اور پراسس کیے ہوئے (حفظائے 
گئے)پھل کے جوس تک کے لیے دیکھا جاسکتا ہے۔

pic2 chapter 4
pic 4 chapter 4 maashi
ہمارےبازاروں میں اشیاکے اس طرح کے وسیع رینج کا انتخاب نسبتاً حال کا مظہر ہے۔ صرف بیس سال پہلے تک ہندوستانی بازاروں میں اتنی زیادہ الگ الگ طرح کی اشیا آپ نے نہیں دیکھی ہوںگی۔ اتنے سالوں میں ہمارے بازاروں کی کایا پلٹ ہوچکی ہے۔
ان تیز تبدیلیوں کو ہم کس طرح سمجھ سکتے ہیں؟ وہ کون سے عوامل ہیں جن سے یہ تبدیلیاں واقع ہوئیں؟ اور کس طرح یہ تبدیلیاں لوگوں کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں، اس باب میں ہم ان سوالوں کے بارے میں سوچیں گے۔ 

مختلف ملکوں میں پیداوار

بیسویں صدی کے وسط تک پیداوار کافی حد تک ملکوں کے اندر ہی منظم تھی۔ ان ملکوں کی سرحدوں کے پار خام مال، غذائی اشیا اور تیار اشیا کی درآمدو برآمد ہوا کرتی تھی۔ ہندوستان جیسی نوآبادیاں کچے مال اور غذائی اشیا برآمد کرتی تھیں اور تیار اشیا درآمد کرتی تھیں۔دور دراز کے ملکوں کو جوڑنے والا خاص ذریعہ تجارت تھی۔ یہ پہلے کی بات تھی جب بڑی کمپنیاں جنہیں کثیر قومی کارپوریشن (Multinational corporations; MNCs) کہا جاتا تھا نہیں سامنے آئی تھیں۔ ملٹی نیشنل کارپوریشن وہ کمپنیاں ہیں جو ایک سے زیادہ ملک میں پیداوار کی ملکیت یا کنٹرول رکھتی ہیں۔ ملٹی نیشنل کارپوریشن ان خطوں میں پیداوار کے لیے دفاتر اور کارخانے قائم کرتی ہیں جہاں وہ سستے مزدور اور دیگر وسائل حاصل کرتی ہیں۔ وہ ایسا اس لیے کرتی ہیں تاکہ پیداوار کی لاگت کم ہو اور ملٹی نیشنل کارپوریشن کو زیادہ سے زیادہ منافع حاصل ہو۔ درج ذیل مثال پر غور کیجیے۔

ایک ملٹی نیشنل کارپوریشن کے ذریعے پیداوار کی وسعت

ایک بڑی کثیر قومی کارپوریشن جو صنعتی سازوسامان تیار کرتی ہے اپنی اشیا کے ڈیزائن ریاست ہائے متحدہ امریکا کے تحقیقی مراکز میں تیار کرتی ہے اور پھر چین میں اس کے پرزے بناتی ہے۔ اس کے بعد انھیں میکسیکو اور مشرقی یوروپ جہاز سے بھیجا جاتاہے جہاں اشیا کے پرزوں کو جوڑا جاتا ہے اور تیار اشیا کو پوری دنیا میں فروخت کیا جاتا ہے۔ اسی اثنا میں کمپنی کے کسٹمر کیئر کا کام ہندوستان میں واقع کال سنٹروں میں انجام دیا جاتا ہے۔
یہ کال سنٹر بنگلور میں واقع ہے جو ٹیلی کام (ٹیلی ترسیل) سہولتوں سے لیس ہے اور معلومات فراہم کرنے اور بیرونی گاہکوں کی مدد کے لیے انٹرنیٹ کے ذریعے رسائی حاصل کرتا ہے۔
pic5 chapter 4
اس مثال میں کثیر قومی کمپنی نہ صرف اپنی تیار اشیا کو عالمی طور پر فروخت کررہی ہے بلکہ زیادہ اہم بات یہ کہ اشیا اور خدمات عالمی پیمانے پر تیار کررہی ہے۔ نتیجے کے طور پر پیداوار بڑھتے ہوئے پیچیدہ طریقوں میں منظم ہوتی ہے۔ پیداواری عمل کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اور اسے پوری دنیا میں پھیلا دیا جاتا ہے۔ اوپر کی مثال میں چین سستی اشیا بنانے کے محل وقوع کے سبب فائدہ مند ہے۔ میکسیکو اور مشرقی یوروپ، ریاست ہائے متحدہ امریکا اور یوروپ کے بازاروں سے قریب ہونے کے لیے مفید ہے۔ ہندوستان میں نہایت ماہر انجینئر ہیں جو پیداوار کے تکنیکی پہلوؤں کو سمجھتے ہیں۔ یہاں انگریزی بولنے والے تعلیم یافتہ نوجوان بھی ہیں جو کسٹمر کیئر خدمات فراہم کرسکتے ہیں اور یہ سب عمل کثیر قومی کمپینوں کے لیے غالباً 50-60 فیصد کفایتی ہوسکتے ہیں۔ کثیر اقوام کی سرحدوں کے پار پیداوار کو وسعت کا فائدہ واقعی زبردست ہوسکتا ہے۔

آئیے انھیں حل کریں

درج ذیل بیان کو یہ دکھانے کے لیے پورا کریں کہ گارمینٹ (ملبوسات) صنعت میں پیداواری عمل کیسے مختلف ملکوں میں پھیلا ہوا ہے۔
ایک برانڈچٹ سے "Made in Thailand" (تھائی لینڈ میں بنا) کاپتہ چلتا ہے۔ لیکن یہ تھائی لینڈ کی مصنوعات نہیں ہے۔ ہم مینوفیکچرنگ عمل کا تفصیلی تجزیہ کرتے ہیں اور ہر ہر مرحلے کے بہتر حل تلاش کرتے ہیں۔ ہم اسے عالمی پیمانے پر انجام دے رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ ملبوسات بنانے میں کمپنی مثلاً سوتی دھاگے کوریا سے حاصل کررہی ہو، …

ممالک کے درمیان باہم مربوط پیداوار

بالعموم ملٹی نیشنل کمپنیاں پیداواری عمل کا انتظام وہاں کرتی ہیں جو بازاروں سے قریب ہوتے ہیں، جہاں ہنر مند اور غیر ہنر مند مزدور کم لاگتوں پر دستیاب ہوتے ہیں اورجہاں پیداورا کے دیگر عوامل کی دستیابی یقینی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ملٹی نیشنل کمپنیاں ایسی حکومتی پالیسیوں کی تلاش میں رہتی ہیں جو ان کے مفادات کی دیکھ بھال کریں۔ آپ اس باب میں ان پالیسیوں کے بارے میں بعد میں پڑھیں گے۔
ان شرائط سے خود کو مطمئن کرتے ہوئے ملٹی نیشنل کمپنیاں فیکٹریاں اور پیداواری عمل کے لیے دفاتر قائم کرتی ہیں۔ وہ رقم جو اثاثوں جیسے زمین ، عمارت ، مشینوں اور دیگر سازوسامان کو خریدنے کے لیے خرچ کی جاتی ہے اسے سرمایہ کاری (investment) کہا جاتاہے۔ ملٹی یا کثیر قومی کمپنیوں کے ذریعے جوسرمایہ کاری کی جاتی ہے اسے غیر ملکی یا بیرونی سرمایہ کاری کہا جاتاہے۔ کوئی بھی سرمایہ کاری اس امید سے کی جاتی ہے کہ ان اثاثوں کے ذریعے منافع کمایا جائے گا۔
کبھی کبھی ملٹی نیشنل کمپنیاں ان ممالک کی بعض مقامی کمپنیوں کے ساتھ مل کر پیداواری عمل کا انتظام کرتی ہیں۔ مقامی کمپنی کو ایسے مشترکہ پیداواری عمل سے دوہرا فائدہ ہے۔ پہلا ملٹی نیشنل کمپنیاں اضافی سرمایہ کاریوں جیسے نئی مشینوں کی خریداری کے لیے رقم فراہم کرسکتی ہیں تاکہ اس سے پیداوار میں تیزی لائی جاسکے۔ دوسرے ، ملٹی نیشنل کمپنیاں پیداوار کے لیے جدید ٹکنالوجی بھی اپنے ساتھ لاتی ہیں۔
pic6 chapter 4
ہم اس فیکٹری کو دوسرےملک میں منتقل کریں گے کیونکہ یہ یہاں مہنگی پڑرہی ہے۔
لیکن ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کا سب سے زیادہ عام طریقہ یہ ہے کہ وہ مقامی کمپنیوں کو خرید لیں اور اس کے بعد اپنے پیداواری عمل کو وسعت دیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنی زبر دست دولت کے سبب ایسا آسانی سے کرسکتی ہیں۔ ایک مثال لیجیے ، کارگل فوڈس جوایک بہت بڑی کثیر قومی امریکی کمپنی ہے ،نے چھوٹی ہندوستانی کمپنیوں جیسے پارکھ فوڈس کو خریدا ہے، پارکھ فوڈس نے ہندوستان کے مختلف حصوں میں ایک بڑا مارکیٹنگ نٹ ورک قائم کرلیا ہے جہاں اس کی برانڈ (مارکہ) کو کافی شہرت حاصل تھی۔ اس کے علاوہ پارکھ فوڈس کے تیل کی چار ریفائنریاں ہیں جس کا کنٹرول اب کارگل کو منتقل ہوچکا ہے۔ کارگل ہندوستان میں خوردنی تیل کا سب سے بڑا پیداکار ہے جس کی استعداد 5ملین (50لاکھ) تھیلی (پاؤچ) روزانہ بنانے کی ہے۔ درحقیقت بہت سی بڑی کثیر قومی کمپنیوں کے پاس اتنی زیادہ دولت ہے جو ترقی پذیر ملکوں کی حکومتوں کے پورے بجٹ سے کہیں زیادہ ہے۔ اس طرح کی بے پناہ دولت سے ان کمپنیوں کی طاقت و رسوخ کے بارے میں سوچیے! ایک اور طریقہ ہے جس میں کثیر قومی کمپنیاں پیداوار پر کنٹرول کرتی ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں بڑی کثیر قومی کمپنیاں چھوٹے چھوٹے پیداکاروں کو پیداوار کے لیے آرڈر پیش کرتی ہیں۔ گارمنٹس (ملبوسات) ، جوتا وغیرہ، کھیل کود کے سامان ان صنعتوں کی مثالیں ہیں جہاں پوری دنیا میں پیداواری عمل چھوٹے پیداکاروں کی بڑی تعداد کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔
pic7 chapter4
ایک بڑی کثیرقومی  کمپنی کے لیےلدھیانہ کے گھروں میں عورتیں فٹ بال بنارہی ہیں۔
یہ مصنوعات کثیر قومی کمپنیوں یا کارپوریشن کو سپلائی کی جاتی ہیں اس کے بعد انہیں ان کے اپنے برانڈ ناموں کے تحت گاہکوں کو فروخت کیا جاتاہے، ان بڑی کثیر قومی کمپنیوں کے پاس قیمت، کوالٹی،(فراہمی) ڈیلیوری اور ان دوردراز کے پیداکاروں کے لیے شرائط محنت کے تعین کے لیے زبردست قوت ہوتی ہے۔
pic8 chapter 4
ترقی پذیر ملکوں میں تیار کیے گئےجینس یو.ایس.اے.میں 500روپے(145امریکی ڈالر) میں فروخت کیے جارہے ہیں

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ کئی ایسے طریقے ہیں جن میں کثیرقومی کمپنیاں اپنی پیداوار کو وسعت دے رہی ہیں اور پوری دنیا کے مختلف ملکوں میں مقامی پیداکاروں کے ساتھ باہمی تعلقات قائم کر رہی ہیں۔ مقامی کمپنیوں کے شراکت قائم کرنے، سپلائی کے لیے مقامی کمپنیوں کے استعمال کرنے ، مقامی کمپنیوں کے ساتھ زبردست مسابقت یا انھیں خریدلینے کے ذریعے کثیر قومی کمپنیاں ان دور دراز کے مقامات پر پیداوار پر زبردست اثر انداز ہوتی ہیں۔ نتیجتاً ان بڑے پیمانے پر بکھرے ہوئے مقامات میں پیداواری عمل ایک دوسرے سے جڑجاتاہے۔

آئیے انھیں حل کریں

ایک امریکی کمپنی فورڈ موٹرس دنیا کے بڑے آٹھ موبائل بنانے والوں میں سے ایک ہے جس کا پیداواری عمل دنیا کے 26 ملکوں میں پھیلا ہوا ہے۔ فورڈ موٹرس کی آمد ہندوستان میں 1995 میں ہوئی اور اس نے چنئی کے قریب ایک بڑا پلانٹ لگانے میں 1,700 کروڑ روپے خرچ کیے۔ یہ کام مہندرا اینڈ مہندرا (جیپوں اور ٹرکوں کے ایک بڑے مینوفیکچرر) کے اشتراک سے انجام دیا گیا۔ 2017 تک فورڈ موٹرس ہندوستانی بازاروں میں 88,000 کاریں فروخت کرچکی تھی جب کہ 1,81,000 کاریں ہندوستان سے جنوبی افریقہ، میکسیکو،برازیل اور متحدہ ریاستہائے امریکہ کو برآمد کیاگیا کمپنی فورڈ انڈیا کو پوری دنیا میں اپنے دیگر پلانٹوں کے لیے جزوترکیبی فراہمی بنیاد کے طور پرفروغ دینا چاہتی ہے۔
دائیں تحریر اقتباس پڑھیں اور درج ذیل سوالوں کے جواب دیں:
کیا آپ فورڈ موٹرس کو ایک کثیر قومی کمپنی کہہ سکتے ہیں؟ کیوں؟
غیر ملکی سرمایہ کاری کیا ہے؟ فورڈ موٹرس نے ہندوستان میں کتنے کی سرمایہ کاری کی؟
ہندوستان میں اپنے پیداواری پلانٹوں کو قائم کرنے کے ذریعے کثیر قومی کمپنیاں جیسے فورڈ موٹرس نہ صرف بڑے بازاروں (جو ہندوستان جیسے ممالک فراہم کرتے ہیں) سے استفادہ کرتی ہیں بلکہ پیداوار کی کم لاگتوں سے بھی استفادہ کرتی ہیں۔ اس بیان کی وضاحت کیجیے ۔
آپ کے خیال میں کمپنی اپنے عالمی عمل کے لیے کارکے اجزابنانے کی بنیاد (بیس) کے طورپر ہندوستان کو کیوں فروغ دینا چاہتی ہے۔ درج ذیل عوامل پر بحث کیجیے۔
(a ہندوستان میں مزدور اور دیگر وسائل کی لاگت
(b متعدد مقامی مینوفیکچررس کی موجودگی جو موٹر کاروں کے کل پرزے فورڈ موٹرس کو سپلائی کرتے ہیں۔
(c ہندوستان اور چین میں خریداروں کی بڑی تعداد سے قربت۔
ہندوستان میں فورڈ موٹرس کے ذریعے کاروں کی پیداوار کسی طرح پیداواری عمل کو باہم مربوط کرے گی؟
کثیر قومی کمپنیاں دوسری کمپنیوں سے کسی طرح مختلف ہیں؟
تقریباً سبھی بڑی کثیر قومی کمپنیاں جیسے نائیک ، کوکاکولا، پیپسی، ہونڈا، نوکیا امریکا، جاپان یا یوروپی ملکوں کی ہیں۔ کیا آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ایسا کیوں ؟
pic9 chapter4

ہندوستانی کامگاروں کے ذریعہ جو کاریں بنائی جاتی ہیں ان میں کثیر قومی کمپنیوں کے ذریعہ بیرون ممالک فروخت کرنے کے لیے ٹرکوں پر لادا جارہاہے۔

غیر ملکی تجارت اور بازاروں کا ارتباط


ایک طویل عرصے سے غیر ملکی تجارت ملکوں کو جوڑنے والا ایک خاص ذریعہ رہا ہے۔ تاریخ میں آپ نے ان تجارتی راستوں کے بارے میں سنا ہوگاجو ہندوستان اور جنوبی ایشیا کو مشرق اور مغرب میں بازاروں سے جوڑتے تھے اور ان راستوں کے ذریعے وسیع تجارت بھی خوب ہوئی ۔ اس کے علاوہ آپ کو یاد ہوگا کہ یہ تجارتی مفادات ہی تھے جس سے مختلف تجارتی کمپنیوں جیسے ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی توجہ مبذول ہوئی۔ غیر ملکی تجارت کابنیادی فعل کیا ہے؟
اسے اگر آسان طریقے سے پیش کریں تو غیر ملکی تجارت، گھریلو یا ملکی بازاروں یعنی ان کے اپنے ممالک کی بازاروں سے آگے پہنچنے کے لیے پیداکاروں کے لیے ایک موقع کی تخلیق کرتی ہے۔
 پیداکار اپنی اشیا کو نہ صرف اپنے ملک کے بازار میں فروخت کرسکتے ہیں بلکہ دنیا کے دیگر ملکوں میں واقع بازاروں کے ساتھ مسابقت کرسکتے ہیں۔ اسی طرح خرید اروں کے لیے دوسرے ملک میں تیار کی گئی اشیا کی درآمد گھریلو طور پر تیار اشیا سے باہر انتخاب کو وسعت دینے کا ایک طریقہ ہے۔

pic10 chapter 4

آئیے ہندوستانی بازاروں میں چینی کھلونوں کی مثال کے ذریعے غیر ملکی تجارت کے اثرات دیکھیں

ہندوستان میں چین کے بنے کھلونے
چینی مینوفیکچررس کو ہندوستان کو کھلونے برآمد کرنے کا ایک اچھا موقع دستیاب ہوا جہاں کھلونے اونچی قیمت پر فروخت کیے جاتے ہیں۔ انھوں نے ہندوستان کو پلاسٹک کے کھلونے برآمد کرنے شروع کیے۔ ہندوستان کے خریداروں کے لیے اب ہندوستانی اور چینی کھلونوں کے درمیان انتخاب کا اختیار ہے۔ سستی قیمتوں اور نئی ڈیزائنوں کی وجہ سے چینی کھلونے ہندوستانی بازاروں میں زیادہ مقبول ہوئے۔ ایک سال میں 70 تا 80 فی صد کھلونے کی دوکانوں میں ہندوستانی کھلونوں کی جگہ چینی کھلونے آگئے اب ہندوستانی بازاروں میں پہلے کے مقابلے زیادہ سستے کھلونے مل رہے ہیں۔ یہاں کیا واقع ہورہا ہے؟ تجارت کے نتیجے میں چینی کھلونے ہندوستانی بازاروں میں آگئے۔ ہندوستان اور چینی کھلونوں کے درمیان مسابقت میں چینی کھلونے زیادہ بہتر ثابت ہوئے۔ ہندوستانی خریداروں کے پاس اب کم قیمتوں پر کھلونوں کا انتخاب کرنے کا زیادہ اختیار ہے۔ چینی کھلونا بنانے والوں کے لیے ایک موقع فراہم ہوا کہ وہ اپنے کاروبار کو بڑھائیں۔ اس کے عین برعکس ہندوستانی کھلونے بنانے والوں کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ انھیں نقصان کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان کے کھلونے زیادہ کم قیمت پر فروخت ہورہے ہیں۔تجارت کے عام طور پر آزاد ہونے سے اشیا ایک بازار سے دوسرے بازار میں آنے جانے لگتی ہیں۔ بازاروں میں اشیا کا انتخاب وسیع ہوجاتا ہے۔ دوبازاروں میں ایک ہی اشیا کی قیمتوں کا رجحان یکساں ہوجاتاہے اور دو ملکوں کے درمیان پیداکار اب ایک دوسرے کے خلاف زیادہ گہرائی سے مسابقت کرتے ہیں بھلے ہی ہزاروں میل دوری پر ہوں! اس طرح غیر ملکی تجارت کا نتیجہ بازاروں کو جوڑنے یا مختلف ملکوں میں بازاروں کے ارتباط کی شکل میں نکلتا ہے۔
pic11 chapter 4
کثیر قومی برانڈوں اور درآمدات دونوں میں تیار ملبوسات کےچھوٹے تاجر مسابقت کاسامنا کررہے ہیں۔

آئیے انھیں حل کریں

ماضی میں ملکوں کو جوڑنے والے اہم ذرائع کیا تھے؟ یہ آج کل سے کس طرح مختلف تھے؟
غیر ملکی تجارت اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے درمیان امتیاز کیجیے۔
حالیہ سالوں میں چین ہندوستان سے فولاد کی درآمد کررہا ہے۔ وضاحت کیجیے کہ چین کے ذریعے فولاد کی درآمد سے اثر پڑے گا:
a) چین میں اسٹیل کمپنیوں پر
b) ہندوستان میں اسٹیل کمپنیوں پر
c) چین میں دیگر صنعتی اشیا کی پیداوار کے لیے اسٹیل خریدنے والی صنعتیں 
چینی بازاروں میں ہندوستان سے فولاد (اسٹیل) کی درآمد سے کس طرح دو ملکوں میں اسٹیل کے بازاروں کا ارتباط ہوگا؟ وضاحت کیجیے۔

عالم کاری (گلوبلائزیشن) کیا ہے؟

پچھلی دو تا تیسری دہائی میں زیادہ سے زیادہ کثیر قومی کمپنیاں پوری دنیا میں محل وقوع تلاش کررہی تھیں جو ان کی پیداوار کے لیے سستا پڑتا۔ ان ملکوں میں کثیر قومی کمپنیوں کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ملکوں کے درمیان غیر ملکی تجارت بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ غیر ملکی تجارت کے ایک بڑے حصے پربھی ان کثیر قومی کمپنیوں کا قبضہ ہے۔ مثال کے لیے، ہندوستان میں فورڈ موٹرس کے کار بنانے والے پلانٹ نہ صرف ہندوستان میں ہندوستانی بازاروں کے لیے کار بناتے ہیں بلکہ یہ دیگر ترقی پذیر ممالک میں کاربرآمد کرتے ہیں اور دنیا میں اس کی متعدد فیکٹریوں کے کار کے اجزا بھی برآمد کرتے ہیں۔ اسی طرح زیادہ تر کثیر قومی کمپنیوں کی سرگرمیوں میں اشیا اور خدمات کی بھی کافی تجارت ہوتی ہے۔
pic12 chapter 4
گلوبلائزیشن ایک دلچسپ
خبردار رہیں!یہ ہماری دنیا ہی ہے جس کے ساتھ آپ کھیل رہے ہیں!کسی نہ کسی دن آپ کواس کو قیمت چکانی ہوگی!

بہت زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری اور کثیر غیر ملکی تجارت کا نتیجہ ممالک کے درمیان پیداوار اور بازاروں کا عظیم ارتباط ہے۔ گلوبلائزیشن ممالک کے درمیان تیز ارتباط یا باہمی جڑاؤ کا عمل ہے۔ کثیر قومی کمپنیاں گلوبلائزیشن یا عالم کاری کے عمل میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ ملکوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ اشیا اور خدمات ، سرمایہ کاریوں اور ٹکنالوجی کی نقل و حرکت ہورہی ہے۔ دنیا کے بہت سے خطے کچھ دہوں قبل کی نسبت ایک دوسرے کے رابطے میں زیادہ آرہے ہیں۔اشیا اور خدمات کی نقل و حرکت ، سرمایہ کاریوں اور ٹکنالوجی کے علاوہ ایک اور طریقہ ہے جس میں ممالک باہمی طور پر مربوط ہوتے ہیں۔ یہ ہے ملکوں کے درمیان لوگوں کی نقل و حرکت ۔ لوگ عام طور پر بہتر آمدنی ، بہتر کام یا بہتر تعلیم کی تلاش میں ایک ملک سے دوسرے ملک میں جاتے ہیں۔ کچھ دہوں پہلے بہرحال مختلف بندشوں کی وجہ سے ملکوں کے درمیان لوگوں کا آنا جانا زیادہ نہیں بڑھا ہے۔

آئیے انھیں حل کریں

1۔  گلوبلائزیشن عمل کاری میں کثیر قومی کمپنیوں کا کیا کردار رہا ہے؟
2۔  کون سے مختلف طریقے ہیں جن کے تحت ممالک ایک دوسرے سے مربوط ہوئے ہیں؟
3۔   ملکوں کو جوڑنے کے ذریعے گلوبلائزیشن کا نتیجہ ہوگا:صحیح متبادل منتخب کیجیے۔
a) پیداکاروں کے درمیان کم تر مسابقت۔
b) پیداکاروں کے درمیان زیادہ سے زیادہ مسابقت۔
c) پیداکاروں کے درمیان مسابقت میں کوئی تبدیلی نہیں۔

pic13 chapter 4
ہم نے نقل وحمل میں کافی بہتری دیکھی ہے

وہ عوامل جو گلوبلائزیشن کو مجاز بناتے ہیں

ٹکنالوجی

ٹکنالوجی میں تیزاصلاح ایک اہم عامل رہی ہے جس سے گلوبلائزیشن کی عمل کاری میں تحرک پیدا ہوا ہے۔ مثال کے لیے پچھلے پچاس سالوں نے نقل و حمل سے متعلق ٹکنالوجی میں کافی بہتری دیکھی ہے۔ اس سے زیادہ دوری والے مقامات میں بھی اشیا کی کافی تیز ترین سپردگی کم تر لاگتوں پر ممکن ہوئی ہے۔

اشیا کے نقل و حمل کے لیے کنٹینر

اشیا کو کنٹینر میں رکھا جاتا ہے جسے جہازوں، ریلوے، ہوائی جہازوں اور ٹرکوں میں ویسے کے ویسے لادا جاتا ہے۔ کنٹینر بندرگاہ کے اٹھانے رکھنے کی لاگتوں کو کافی کم کردیتے ہیں اور شرح رفتار بڑھا دیتے ہیں جس سے درآمدات بازاروں میں پہنچ سکتی ہیں۔ اسی طرح ہوائی نقل و حمل کی لاگت کو کم کردیتے ہیں۔ اس سے اشیا کی زیادہ سے زیادہ حجم کو ایئر لائنوں کے ذریعے باربرداری کی جاسکتی ہے۔
pic14 chapter 4

نمایاں اطلاع اور مواصلاتی ٹکنالوجی میں سب سے زیادہ پیش رفت رہی ہے۔ حالیہ زمانے میں ٹیلی مواصلاتی، کمپیوٹروں، انٹرنیٹ کے شعبوں میں ٹکنالوجی تیزی سے بدل رہی ہے۔
 ٹیلی مواصلاتی سہولتوں (ٹیلی گراف، ٹیلی فون بشمول موبائل فون، فیکس) کا استعمال دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک فوری طور پر معلومات کی رسائی اور دوردراز کے علاقوں سے ترسیل کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ سہولتیں سٹیلائٹ مواصلاتی آلات کے ذریعے ممکن ہوتی ہے۔
 جیسا کہ آپ آگاہ ہوں گے کہ کمپیوٹر اب سرگرمی کے تقریباً ہر میدان میں داخل ہوچکا ہے۔ آپ نے انٹر نیٹ کی حیرت انگیز دنیا میں بھی غوطہ لگایا ہوگا جہاں آپ نے تقریباً ہر اس چیز جس کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں معلومات حاصل کی ہوںگی اور اس میں حصہ لیا ہوگا۔انٹر نیٹ بہت معمولی سی لاگت پر فوری برقی ڈاک (ای۔میل) بھیجنا اور پوری دنیا میں کہیں بھی بات چیت کرنا (وائس میل) ممکن بناتا ہے۔

لیکن بجلی کہاں ہے......
pic16 chapter 4pic 15 chapter 4

عالم کاری میں انفارمیشن ٹکنالوجی کا استعمال

لندن کے پڑھنے والوں کے لیے ایک نیوز میگزین شائع ہوتی ہے جس کی ڈیزائن اور چھپائی دہلی میں کی جانی ہوتی ہے۔ میگزین کا متن دہلی آفس سے انٹر نیٹ کے ذریعہ بھیجا جاتا ہے۔ دہلی کے دفتر میں ڈیزائنر آرڈر حاصل کرتا ہے کہ کس طرح ٹیلی مواصلاتی سہولتوں کا استعمال کرتے ہوئے لندن میں آفس سے میگزین کا ڈیزائن کیا جائے۔
 ڈیزائننگ کمپیوٹر پر انجام دی جاتی ہے ۔میگزین کی چھپائی کے بعد اسے لندن ہوائی جہاز کے ذریعہ بھیجا جاتا ہے۔ ڈیزائننگ اور پرنٹنگ کے لیے رقم کی ادائیگی بھی لندن کے ایک بینک سے دہلی کے بینک کو انٹر نیٹ کے ذریعے (ای۔بینکنگ کے ذریعے )فوری طور پر انجام دی جاتی ہے!

آئیے انھیں حل کریں

درج بالا مثال میں پیداوار میں ٹکنالوجی کا استعمال بیان کرتے ہوئے الفاظ کو نمایاں کیجیے۔
انفارمیشن ٹکنالوجی گلوبلائزیشن کے ساتھ کس طرح جڑی ہوئی ہے؟ کیا انفارمیشن ٹکنالوجی (IT) کے پھیلاؤ کے بغیر گلوبلائزیشن ممکن ہوسکتا ؟

اطلاع اور مواصلاتی ٹکنالوجی (مختصراً IT) نے ممالک کے درمیان پیش خدمات کو پھیلانے میں اہم کردار نبھایا ہے۔ آئیے اب دیکھیں کیسے۔

pic 17 chapter 4

نہیں میرے بچے یہ پرنٹنگ پریس عام ہندوستانیوں کے لیے نہیں ہے!

یہ توبہت اچھی میگزین لگ رہی ہے لیکن میری درسی کتاب اس طرح کیوں نہیں چھپ رہی ہے؟میں اپنی کتاب میں یہ الفاظ بہ مشکل ہی پڑھ سکتی ہوں۔

غیر ملکی تجارت کی نرم کاری اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی پالیسی

آئیے ہندوستان میں چین کے بنے کھلونوں کی درآمدات کی مثال پر واپس چلیں۔ مان لیجیے ہندوستانی حکومت کھلونوں کی درآمد پر ٹیکس عائد کرتی ہے، تو کیاواقع ہوگا؟ وہ لوگ جو ان کھلونوں کو درآمد کرنا چاہتے ہیں اس پر ٹیکس ادا کریں گے۔ ٹیکس کے سبب خریدار کو کھلونوں کی درآمد کے لیے اونچی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ چینی کھلونے ہندوستانی بازاروں میں سستے نہیں رہ پائیں گے اور چین سے درآمد کرناخود بخود کم ہوجائے گا۔ ہندوستانی کھلونے بنانے والے خوشحال ہوں گے۔
درآمدات پر ٹیکس عائد کرنے کو تجارتی بندش (مسد تجارت) اس لیے کہا جاتاہے کیونکہ کچھ پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔ حکومتیں تجارتی بندشیں غیر ملکی تجارت کو بڑھانے یا گھٹانے (منضبط کرنے) اور یہ فیصلہ کرنے کے لیے لگاتی ہیں کہ کس طرح کی اشیا اور کتنی اشیا ملک میں آنی چاہئیں۔
آزادی کے بعد ہندوستانی حکومت نے غیر ملکی تجارت اور غیر ملکی سرمایہ کاری پر بندشیں لگائیں۔ اسے غیر ملکی مسابقت سے ملک کے پیداکاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ضروری سمجھا گیا۔ صنعتیں 1950 اور 1960 کے دہے میں بھی آرہی تھیں اور اس مرحلے پر ان صنعتوں پر درآمدات سے مسابقت کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اس طرح ہندوستان میں صرف ضروری مدوں جیسے فرٹیلائزر، پٹرولیم وغیرہ کے لیے درآمدات کی منظوری تھی۔ نوٹ کیجیے کہ سبھی ترقی یافتہ ممالک ترقی کے ابتدائی مراحل میں مختلف ذرائع سے گھریلو پیداکاروں کو تحفظ فراہم کرتے تھے۔
تقریباً1991کے شروع میں ہندوستان میں پالیسی میں کچھ دوررس تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ حکومت نے فیصلہ کیا کہ ہندوستانی پیداکاروں کے لیے وقت آگیا ہے کہ وہ پوری دنیا کے پیداکاروں کے ساتھ مسابقت کریں۔ یہ محسوس کیا گیا کہ مسابقت ملک کے اندر پیداکاروں کی کارکردگی میں بہتری پیدا کرے گی کیونکہ وہ اپنی کوالٹی میں بہتری پیدا کرچکے ہوں گے۔ اس فیصلے کی طاقتور بین الاقوامی تنظیموں کے ذریعہ تائیدکی گئی ۔
اس طرح غیر ملکی تجارت اور غیر ملکی سرمایہ کاری پر بندشیں کافی حد تک ہٹالی گئیں۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اشیا کی درآمد اور برآمد آسانی کے ساتھ کی جاسکتی تھی اور غیر ملکی کمپنیاں یہاں فیکٹریاں اور دفاتر بھی قائم کرسکیں گی۔
حکومت کے ذریعے بندشوں یا پابندیوں کو ہٹانے کو نرم کاری یا لبرلائزیشن کے طور پر جانا جاتاہے۔ تجارت، کاروبار میں نرمی پیداکرنے سے اس بارے میں فیصلے آزادانہ ہوسکتے ہیں کہ وہ کیا درآمد یا برآمد کرنے کے خواہش مند ہیں۔ حکومت پہلے کے مقابلے کم پابندیاں لگاتی ہے اور اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ زیادہ لبرل ہے۔

آئیے انھیں حل کریں

غیر ملکی تجارت کی نرم کاری سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
درآمدات پر ٹیکس ایک قسم کی تجارتی بندش ہے۔ حکومت متعدد اشیا جن میں درآمد کیا جاسکتاہے انھیں ایک حد میں رکھتی ہے۔اسے کوٹا کے طور پر جانا جاتا ہے۔ کیا آپ چینی کھلونوں کی مثال استعمال کرتے ہوئے وضاحت کرسکتے ہیں، کس طرح کوٹا کو تجارتی بندشوں کے طورپر استعمال کیا جاسکتا ہے؟ کیا آپ کے خیال میں اس کا استعمال کیا جانا چاہیے؟ بحث کیجیے۔

عالمی تجارتی تنظیم

ہم نے دیکھا کہ ہندوستان میں غیر ملکی تجارت اور سرمایہ کاری میں نرمی پیدا کی گئی ہے۔ اس کی تائید کچھ بہت ہی طاقتور بین الاقوامی تنظیموں نے کی ہے۔
ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ غیر ملکی تجارت اور سرمایہ کاری پر لگائی جانے والی سبھی بندشیں نقصان دہ ہیں۔ ملکوں کے درمیان تجارت پر کوئی بندش نہیں ہونی چاہیے، تجارتیں آزاد ہونی چاہئیں۔ دنیا کے سبھی ممالک اپنی پالیسیوں میں نرمی پیدا کریں۔
عالمی تجارتی تنظیم (WTO) ایک ایسی تنظیم ہے جس کا مقصد بین الاقوامی تجارت کو نرم بنانا ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں کی پہل پرشروعات کرتے ہوئے ڈبلو ٹی او بین الاقوامی تجارت سے متعلق ضوابط بناتاہے اور یہ دیکھتا ہے کہ ان اصولوں کی تعمیل ہوئی ہے کہ نہیں۔ اس وقت 165 ممالکWTOکے ممبر ہیں۔
عالمی تجارتی تنظیم(WTO)  کے ذریعہ عملًااب سبھی کے لیے آزاد تجارت کی گنجائش ہوتی ہے۔ عملاً یہ دیکھا گیا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک نے ناجائز طور پر تجارتی بندشیں لگارکھی ہیں۔ جب کہ دوسری طرف عالمی تجارتی تنظیم ڈبلو ٹی او کے ذریعہ تجارتی بندشوں کو ختم کرنے کے ضوابط ترقی پذیر ملکوں پر تھوپے جارہے ہیں۔ زرعی اشیا میں تجارت پر حالیہ بحث اس کی ایک مثال ہے۔

تجارتی عمل پر بحث

آپ نے باب 2 میں دیکھا کہ زرعی سیکٹر کافی روزگار اور ہندوستان میں کل گھریلو پیداوار کا ایک نمایاں حصہ فراہم کرتا ہے۔ اس کا موازنہ ترقی یافتہ ملکوں جیسے ریاست ہائے متحدہ کے% 1فیصد پر کل گھریلو پیداوار میں زرعی حصے اور کل روزگار میں %0.5 کے معمولی حصے میں اس کی شرکت کے ساتھ کیجیے اور پھر بھی لوگوں کا یہ نہایت مختصر فی صد جو ریاست ہائے متحدہ امریکا میں زراعت میں مشغول ہے پیداوار کے لیے اور دیگر ملکوں کو درآمدات کے لیے یو۔ایس حکومت سے زرکا زبردست میزان حاصل کرتا ہے۔ اس بھاری بھرکم رقم سے جو وہ حاصل کرتے ہیں، امریکا کے کسان اپنی اشیا کو غیر معمولی کم قیمتوں پر فروخت کرسکتے ہیں۔ زائد زرعی اشیا دیگر ملک کے بازاروں میں کم قیمتوں پر فروخت کی جس سے ان ممالک کے کسانوں پر بہت خراب اثر پڑتا ہے۔
لہٰذا، ترقی پذیر ملکوں کا ترقی یافتہ ملکوں کی حکومتوں سے کہنا ہے، ’’ہم نے ڈبلو۔ٹی۔او۔ کے ضوابط کے مطابق تجارتی بندشوں کو کم کردیا ہے لیکن آپ لوگوں نے ڈبلو۔ٹی۔او۔ کے ضوابط کو نظر انداز کیاہے اور اپنے کسانوں کو بھاری بھرکم رقم ادا کررہے ہیں جب کہ ہماری حکومتوں سے اپنے کسانوں کو مالی رعایت روکنے کے لیے کہا جارہا ہے اور آپ خود ایسا کررہے ہیں کیا یہ آزاد اور جائز تجارت ہے؟

ریاست ہائے متحدہ امریکا میں ایک مثالی کاشت فارم جو ہزاروں ایکڑپر مشتمل ہے اور اس کی ملکیت ایک بڑے کارپوریشن کی ہے جو کم سے کم قیمتوں پر بیرون ممالک کپاس فروخت کرے گا۔
pic18 chapter 4

آئیے انھیں حل کریں

1۔  خالی جگہوں کو پر کریں
عالمی تجارتی تنظیم کی شروعات …… ملکوں کی پہل پر ہوئی ہے۔ عالمی تجارتی تنظیم کا مقصد …… ہے۔ عالمی تجارتی تنظیم سبھی ملکوں کے لیے …… سے متعلق اصول و ضوابط بناتی ہے اور دیکھتی ہے کہ اس کی …… ہوئی ہے کہ نہیں۔ عملاً ملکوں کے درمیان تجارت …… نہیں ہے۔ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملکوں میں …… نہیں ہے وہیں ترقی یافتہ ممالک نے بہت سے معاملوں میں اپنے پیداکاروں کو تحفظ دینا جاری رکھا ہے۔
2۔  کیا آپ کے خیال میں ایسا کچھ کیا جاسکتا ہے کہ ملکوں کے درمیان تجارت زیادہ منصفانہ ہو؟
3۔   درج بالا مثال میں ہم نے دیکھا کہ امریکی حکومت کسانوں کو پیداوار کے لیے کافی رقم فراہم کرتی ہے۔ کبھی کبھی حکومتیں بعض قسم کی اشیا (جیسے وہ اشیا جو ماحول کے لحاظ سے موافق ہوتی ہیں) کی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے بھی مدد فراہم کرتی ہیں۔ بحث کیجیے کہ آیا یہ منصفانہ ہے یا نہیں۔

ہندوستان میں گلوبلائزیشن کے اثرات

پچھلے پندرہ سالوں میں ہندوستانی معیشت کی عالم کاری یا گلوبلائزیشن نے ایک طویل راستہ اختیا رکیا ہے۔ اس سے لوگوں کی زندگیوں پر کیا اثر پڑا ہے؟ہم کچھ واقعات پر نظر ڈالتے ہیں۔
گلوبلائزیشن اور پیداکاروں چاہے مقامی ہوں یا غیر ملکی پیداکار کے درمیان عظیم مسابقت سے صارفین کو فائدہ ہوا ہے۔ خاص طور پر شہری علاقوں کے خوشحال طبقوں کو۔یہ صارفین متعدد اشیا کے لیے بہترکوالٹی اور کم تر قیمتوں سے استفادہ کرتے ہیں، ان کے سامنے اب پسند ناپسند کا کافی اختیار ہے۔ نتیجتاً آج کل یہ صارفین اعلیٰ ترین معیار زندگی اختیار کرتے ہیں جو پہلے ممکن نہیں تھی۔ 
پیداکاروں اور مزدوروں کے درمیان گلوبلائزیشن کے اثرات یکساں نہیں رہے۔
اولاً،کثیر قومی کمپنیوں نے پچھلے 20 سالوں میں ہندوستان میں اپنی سرمایہ کاری بڑھائی ہے جس کا مقصد ہے ہندوستان میں سرمایہ کاری سے ان کو فائدہ پہنچے۔ کثیر قومی کمپنیاں سیل فون، آٹو موبائل، الکٹرانکس، ہلکے مشروبات (Soft Drinks) فاسٹ فوڈ یا خدمات جیسے شہری علاقوں میں بینکنگ میں کافی دلچسپی لیتی آرہی ہیں۔ان اشیا کے لیے آسودہ حال خریداروں کی کافی تعداد موجود ہے۔ ان صنعتوں اور خدمات میں نئے نئے کام کے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی کمپنیوں کے ذریعے خام مواد وغیرہ کی فراہمی سے بھی ان صنعتوں کی خوشحالی بڑھی ہے۔
آخرکار، عالمی طرز زندگی حاصل کرلی جس کا خواب تم نے ہمیشہ دیکھا تھا۔
pic 19 chapter 4

غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے اقدامات 

حالیہ سالوں میں ہندوستان میں مرکزی اور ریاستی حکومتیں ہندوستان میں سرمایہ کاری کے لیے غیر ملکی کمپنیوں کو راغب کرنے کے خصوصی اقدامات کررہی ہیں۔ صنعتی زون جنھیں خصوصی معاشی زون (Special Economic Zones; SEZs) کہا جاتا ہے ، قائم کیے جارہے ہیں SEZ میں عالمی معیار کی سہولتیں : بجلی، پانی، سڑکیں، ٹرانسپورٹ، اسٹوریج، تفریحی اور تعلیمی سہولتیں مہیا کی جاتی ہیں۔ وہ کمپنیاں جو SEZs میں پیداواری اکائیاں لگاتی ہیں، پانچ سال تک کی ابتدائی مدت کے لیے ٹیکس نہیں ادا کرتیں۔
حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے قوانین محنت میں لچک کی بھی گنجائش رکھتی ہے۔ آپ نے باب 2 میں دیکھا کہ منظم سیکٹر میں کمپنیوں میں ان کچھ اصولوں کی تعمیل کرنی پڑتی ہے جس کا مقصد ورکرس کے تحفظ کے حقوق سے ہے۔ حالیہ سالوں میں حکومت نے کمپنیوں کے لیے ان میں سے بہت سی باتوں کو نظر انداز کرنے کی گنجائش رکھی ہے۔ کمپنیاں باضابطہ بنیاد پر کامگاروں کو رکھنے کے بجائے مختصر مدت کے لیے رکھنے کی لچک سے اس وقت استفادہ کرتی ہیں جب کام کا دباؤ زبردست طریقے سے بڑھ جاتاہے۔ اس سے کمپنی کے لیے محنت کی لاگت کم ہوجاتی ہے تاہم غیر ملکی کمپنیاں اب بھی مطمئن نہیں ہیں اور قوانین محنت میں مزید لچک کی مانگ کررہی ہیں۔
اب ہم سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں
pic20 chapter 4

دوسرے ، متعدد بڑی ہندوستانی کمپنیاں بڑھتے مقابلے سے مستفید ہونے کی اہلیت رکھتی ہیں۔ انھوں نے نئی نئی ٹکنالوجی اور پیداواری طریقوں میں سرمایہ کاری کی ہے اور اپنے پیداواری معیارات کو بڑھایا ہے۔ کچھ نے غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ کامیاب اشتراک سے فائدہ بھی حاصل کیا ہے۔
مزید برآں، گلوبلائزیشن سے کچھ بڑی ہندوستانی کمپنیاں خود ملٹی نیشنل (کثیر اقوام) کے طور پر ابھرنے میں کامیاب ہوئی ہیں! ٹاٹا موٹرس (آٹوموبائل) ، انفوسس (IT) رینبکسی (ادویات) ایشین پنٹس (پینٹ)، سندرم فاسٹزس (نٹ اور بولٹ) کچھ ایسی ہندوستانی کمپنیاں ہیں جو اپنے عمل عالمی پیمانے پر انجام دے رہی ہیں۔ گلوبلائزیشن سے کمپنیوں کے خدمات فراہم کرنے (خاص طور پر وہ جو انفارمیشن ٹکنالوجی میں شامل ہیں) کے نئے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں ایک ہندوستانی کمپنی لندن میں واقع کمپنی کے لیے میگزین تیار کررہی ہے اور کال سنٹر کچھ مثالیں ہیں۔
اس کے علاوہ بہت سی خدمات جیسے ڈیٹاانٹری، کھاتہ داری، انتظامی کام، انجینئرنگ اب ہندوستان جیسے ممالک میں کفایتی طور پر انجام دیے جارہے ہیں اور ترقی یافتہ ملکوں کو برآمد کیا جارہاہے۔

آئیے انھیں حل کریں۔

ہندوستان میں مسابقت سے لوگوں کو کسی طرح فائدہ پہنچا؟
کیا مزید ہندوستانی کمپنیوں کو کثیر قومی کمپنیوں کے طور پر ابھر نا چاہیے ؟ اس سے ملک کے لوگوں کا کس طرح فائدہ ہوگا؟
زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری راغب کرنے کے لیے حکومتوں کو کیوں کوشش کرنا چاہیے؟
باب 1 میں ہم نے دیکھا کہ جو کسی ایک کے لیے ترقی ہوسکتی ہے وہ دوسروں کے لیے تخریب ۔ خصوصی معاشی زون، قائم کرنے کی مخالفت ہندوستان میں کچھ لوگوں نے کی ہے۔ دریافت کیجیے وہ کون لوگ ہیں اور اس کی مخالفت کیوں کررہے ہیں؟

چھوٹے پیداکار: مسابقت یا تباہی

چھوٹے پیداکاروں اور کاشتکاروں کی ایک بڑی تعداد کو گلوبلائزیشن نے ایک بہت بڑا چیلنج پیش کیاہے۔

بڑھتی مسابقت

روی کو یہ امید نہیں تھی کہ ایک صنعت کار کے طور پر اپنی زندگی کی اتنی قلیل مدت میں ایک بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔ روی نے بینک سے 1992 میں ایک قرض لیا تاکہ وہ ہوسور، (تمل ناڈ میں ایک صنعتی شہر) میں کیپسٹر (آلہ تکثیف) بنانے والی اپنی کمپنی کی شروعات کرسکے۔ کیپسٹر کا استعمال بہت سے گھریلو بجلی کے سازو سامان بشمول ٹیوب لائٹ ، ٹیلی ویژن وغیرہ میں کیا جاتا ہے۔ تین سال کے اندر وہ اپنی پیداوار بڑھانے میں کامیاب ہوا اور اپنے ماتحت کام کرنے والے 20 ورکرس رکھ لیے۔
کمپنی چلانے میں اس کی جدوجہد جاری رہی جب حکومت نے کیپسٹر کی درآمدات پر پابندی ہٹالی (2001 میں ڈبلو عالمی تجارتی تنظیم کے ساتھ اس کے معاہدے کے مطابق) اس کے بڑے گاہک، ٹیلی ویژن کمپنیاں تھیں جو ٹیلی ویژن سٹ بنانے والوں کے لیے تھوک میں مختلف اجزا بشمول کیپسٹر خریدا کرتی تھیں۔ تاہم کثیر قومی کمپنیوں کے برانڈوں کے ساتھ مسابقت سے ہندوستانی کمپنیاں اس بات پر مجبور ہوئیں کہ وہ کثیر قومی کمپنیوں کے لیے پرزے جوڑنے کا کام شروع کریں۔ حتیٰ کہ بعض جو اس سے کیپسٹر خریدتی بھی تھیں انھوں نے اب درآمد کرنے پر ترجیح دی کیونکہ درآمد شدہ مد کی قیمت روی جیسے لوگوں کے ذریعے لگائی گئی قیمت کی نصف پڑتی تھی۔
روی اب سال 2000 میں اپنے تیار کیے گئے کیپسٹر کی نسبت آدھے سے بھی کم تیار کرتا ہے اور اب اس کے پاس کام کرنے والے صرف سات ورکر ہیں۔ حیدرآباد اور چنئی میں اسی کاروبار سے  لگے روی کے بہت سے دوستوں نے اپنی اپنی اکائیاں بند کردی ہیں۔
بیٹریاں ، کیپسٹرس ، پلاسٹک، کھلونے ، ٹائر، ڈیری اشیا اور خوردنی تیل صنعتوں کی کچھ مثالیں ہیں جہاں چھوٹے مینو فیکچرر پر مسابقت کی وجہ سے کافی ضرب پڑی ہے۔ متعدد اکائیاں بند ہوچکی ہیں جس سے بہت سے مزدور بے کار ہوچکے ہیں۔ ہندوستان میں چھوٹی صنعتیں ملک کے ورکرس کی بڑی تعداد (20ملین)کو ملازمت پر رکھتی ہیں جو زراعت کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

آئیے انھیں حل کریں

وہ کون سے طریقے ہیں جن میں روی کی چھوٹی پیداوار اکائیوں پر بڑھتی مسابقت کا اثر پڑا ہے؟
کیا روی جیسے پیداکاروں کو پیداوار اس لیے بند کردینی چاہیے کہ ان کی لاگت پیداوار دیگر ملکوں میں پیداکاروں کی لاگت کے مقابلے بہت زیادہ ہے؟ آپ کا کیا خیال ہے؟
حالیہ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ چھوٹے پیداکاروں کو بازار میں بہتر طور پر مسابقت کے لیے ہندوستان میں تین چیزوں کی ضرورت ہے۔
a ) بہتر سڑکیں، بجلی، پانی، کچا مال، مارکیٹنگ اور انفارمیشن نٹ ورک b)ٹکنالوجی کی بہتری اور جدید کاریc) معقول شرح سود پر قرض کی وقت پر دستیابی۔
کیا آپ وضاحت کرسکتے ہیں کہ یہ تینوں چیزیں ہندوستانی پیداکاروں کی کس طرح مدد کریں گی؟
کیا آپ کے خیال میں کثیر قومی کمپنیاں ان میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی لیں گی؟ کیوں؟
کیا آپ کے خیال میں ان سہولتوں کو دستیاب بنانے میں حکومت کا رول ہوتا ہے؟ کیوں؟
کیا آپ کوئی ایسا دوسرا قدم بھی سوچ سکتے ہیں جو حکومت کو اٹھانا چاہیے۔ بحث کیجیے۔

مسابقت اور غیر یقینی بے روزگاری

گلوبلائزیشن اور مسابقت کے دباؤ نے ورکرس کی زندگیوں میں زبردست تبدیلی پیدا کی ہے۔ بڑھتی مسابقت کا سامنا کرتے ہوئے ، زیادہ تر آجر ان دنوں ورکرس کو ’’لچک‘‘ کے ساتھ ملازمت پر رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ورکرس کی ملازمت اب محفوظ نہیں رہ گئی ہے۔

آئیے ہم دیکھتےہیں کہ ہندوستان میں گارمنٹ ایکسپورٹ صنعت میں کس طرح ورکر مسابقت کے اس دباؤ کو برداشت کررہےہیں۔
pic21 chaapter 4
فیکٹری کے کامگار برآمدات کے لیے ملبوسات کو تہہ کررہے ہیں۔ اگرچہ گلوبلائزیشن نے عورتوں کے لیے تنخواہ یافتہ یا اداشدہ کام کے لیے مواقع پیدا کیے ہیں لیکن روزگار کے حالات سے پتہ لگتا ہے کہ فوائد میں عورتوں کو ان کا جائزحصہ نہیں دیا جاتا۔

ایک گارمنٹ ورکر

35 سال کی سوشیلا نے دہلی میں گارمنٹ کی برآمد صنعت میں ورکر کے طور پر بہت سال گزارے ۔جب 1990 کے دہے کے آخر میں سوشیلا کی فیکٹری بند ہوئی تھی تب اس کو ایک مستقل ملازم کی حیثیت سے روزگار ملا تھا اور ہیلتھ انشورنس، پراویڈنٹ فنڈ ، دوگنی شرح پر اوورٹائم کا استحقاق حاصل تھا۔ چھ مہینے کام کی تلاش کے بعد آخر کار اس نے اپنے گھر سے 30 کلومیٹر دور ایک ملازمت حاصل کی۔ کئی سالوں تک اس فیکٹری میں کام کرنے کے بعد بھی وہ ایک عارضی ورکر ہے اور پہلے کے مقابلے آدھے سے کم ہی کماپاتی ہے۔ سوشیلا پورے ہفتے اپنے گھر سے صبح 7.30 بجے روانہ ہوتی ہے اور 10بجے رات تک واپس ہوتی ہے۔ اگر کسی دن کی چھٹی ہو تو اس کی مزدوری نہیں ملتی۔ اسے کوئی ایسا فائدہ نہیں حاصل ہے جو اسے پہلے ملا کرتا تھا۔ اس کے گھر کے قریب کی فیکٹریوں میں آرڈر میں بڑے پیمانے پر اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے اس لیے وہ اس سے بھی کم ادائیگی کرتے ہیں۔
یوروپ اور امریکا میں گارمنٹ صنعت میں بڑی کثیر قومی کمپنیاں اپنے پروڈکٹ کا آرڈر ہندوستانی برآمد کنندگان کودیتی ہیں۔ یہ بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں عالمگیر نٹ ورک کے ساتھ اپنے منافع کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے سلسلے میں سستی اشیا تلاش کرتی ہیں۔ ان بڑے آرڈروں کو حاصل کرنے کے لیے ہندوستانی گارمنٹ برآمد کنندگان اپنی خود کی لاگتوں کو کم کرنے کی زبردست کوشش کرتے ہیں۔ چونکہ کچے مال کی لاگت کو کم نہیں کیا جاسکتا۔ برآمد کنندگان مزدوری کی لاگتوں کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جہاں ایک فیکٹری مستقل بنیاد پر ورکرس کو ملازمت پر رکھا کرتی تھی، اب وہ عارضی بنیاد پر ورکرس کو ملازمت پر رکھتی ہے تاکہ اسے پورے سال کے لیے ورکرس کو معاوضہ ادا نہ کرنا پڑے ۔ ورکرس کے کام کرنے کے گھنٹے بھی بہت طویل رکھے جاتے ہیں اور کام کے بہت زیادہ بڑھ جانے کے موسم میں رات کی شفٹ باقاعدہ بنیاد پر کام لیتے ہیں۔ مزدوریاں کم ہیں اور ورکرس کو دونوں مقاصد کو پورا کرنے کے لیے اوورٹائم کے لئے کام پر مجبور کیا جاتا ہے۔
جب کہ گارمنٹ برآمد کنندگان کے درمیان اس مسابقت سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے زیادہ منافع کمانے کی گنجائش پیدا ہوئی ہے وہیں کامگاروں کو گلوبلائزیشن سے پیدا ہونے والے منافع کا جائز حصہ دینے سے منع کردیا جاتا ہے۔
کا م کی شرائط اور ورکرس کی خستہ حالی جو کہ اوپر بیان کی گئی ہے ہندوستان میں بہت سی صنعتی اکائیوں اور خدمات میں عام بات ہوگئی ہے۔ آج کل زیادہ تر ورکر غیر منظم سیکٹر میں ملازمت کرتے ہیں مزید برآں منظم سیکٹر میں کام کی شرائط غیر منظم سیکٹر کی طرح ہی بڑھ رہی ہیں۔ منظم سیکٹر میں ورکرس جیسے سوشیلا کو اب کوئی تحفظ یا فوائد نہیں حاصل ہورہے جیسا کہ پہلے حاصل ہوا کرتا تھا۔

آئیے انھیں حل کریں

گارمنٹ صنعت میں مسابقت نے کس طرح ورکرس، ہندوستانی برآمد کنندگان اور غیر ملکی کثیر قومی کمپنیوں کو متاثر کیا ہے۔
درج ذیل میں ہر ایک کے ذریعے کیا کیا جاسکتا ہے کہ گلوبلائزیشن کے ذریعے ہونے والے فوائد میں ورکرس کو ان کا جائز حصہ مل سکے۔
a) حکومت
b) برآمد کرنے والی فیکٹریوں کے آجر
c) ملٹی نیشنل کمپنیاں
d) ورکرس
ہندوستان میں موجودہ مباحثات میں ایک یہ ہے کہ آیا کمپنیوں کو روزگار کی لچکدار پالیسیاں بنانی چاہئیں۔ باب میں آپ نے جو پڑھا ہے اس کی بنیاد پر آجر اور ورکر کے نظریات کا خلاصہ کیجیے۔

ایک منصفانہ گلوبلائزیشن کے لیے جدوجہد

درج بالا واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ گلوبلائزیشن سے ہر ایک کو فائدہ نہیں پہنچا ہے۔ تعلیم اور مہارت اور دولت کے ساتھ لوگوں کے لیے نئے مواقع کا بہتر استعمال ممکن ہوا ہے جب کہ دوسری طرف ایسے بہت سے لوگ ہیں جن کو یہ فوائد نہیں مل سکے ہیں۔
چونکہ گلوبلائزیشن اب ایک حقیقت بن چکا ہے ، سوال یہ ہے کہ گلوبلائزیشن کو کس طرح منصفانہ بنایا جائے۔ منصفانہ گلوبلائزیشن سبھی کے لیے مواقع فراہم کرے گا اور یہ بھی یقینی بن سکے گا کہ گلوبلائزیشن کے فوائد میں سب کی بہترطور پر شراکت ہو۔
حکومت اسے ممکن بنانے میں ایک اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ اس کی پالیسیاں ایسی ہوں جن سے صرف امیر اور طاقتور کے مفادات کو تحفظ نہ حاصل ہو بلکہ ملک کے سبھی لوگوں کو اس کا فائدہ حاصل ہوسکے۔ آپ نے کچھ ان ممکنہ اقدامات کے بارے میں پڑھا ہے جو حکومت اختیار کرسکتی ہے۔ مثال کے لیے حکومت اس بات کویقینی بنا سکتی ہے کہ قوانین محنت کی ٹھیک طرح سے تعمیل ہو اور ورکرس اپنے حقوق حاصل کرسکیں۔ وہ چھوٹے پیداکاروں کی مدد کرسکتی ہے تاکہ وہ اپنی کارکردگی کو زیادہ بہتر بناسکیں۔ یہ مد اس وقت تک دی جانی چاہیے جب تک کہ وہ مسابقت کے لیے کافی مضبوط نہ ہوجائیں۔ اگر ضروری ہو تو حکومت کو تجارتی اور سرمایہ کاری سے متعلق بندشوں کا استعمال کرنا چاہیے۔ اسے عالمی تجارتی تنظیم کے ساتھ منصفانہ اصول و قواعد کے لیے بھی بات کرنی چاہیے ۔عالمی تجارتی تنظیم ترقی یافتہ ملکوں کے غلبے کے خلاف جدوجہد کے لیے یکساں مفادات والے دیگر ترقی پذیر ممالک کے ساتھ بھی اتحاد کرنا چاہیے۔ پچھلے کچھ سالوں میں عوام کی تنظیموں کے ذریعے بڑے پیمانے پر چلائی گئی مہم اور نمائندگی کا عالمی تجارتی تنظیم میں تجارت اور سرمایہ کاریوں سے متعلق اہم فیصلوں پر اثر پڑا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ منصفانہ گلوبلائزیشن کے لیے جد وجہد میں عوام اہم کردارنبھاسکتے ہیں۔
pic 22 chapter 4
ہانک کانگ میں 2005  میں ڈبلو ٹی او کے خلاف مظاہرہ  

خلاصہ

اس باب میں ہم نے گلوبلائزیشن کے موجودہ مرحلے پر نظر ڈالی ۔ گلوبلائزیشن ملکوں کو مربوط کرنے کا تیز ترین عمل ہے۔ یہ زیادہ سے زیادہ غیر ملکی تجارت اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعہ واقع ہورہا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں گلوبلائزیشن کے عمل میں ایک اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ ملٹی نیشنل کمپنیاں دنیا میں اپنے محل وقوع تلاش کررہی ہیں جو کہ ان کی پیداوار کے لیے کفایتی ہوں۔ نتیجتاً پیداوار پیچیدہ طریقوں میں منظم کیا جارہا ہے۔
ٹکنالوجی خاص طور پر انفارمیشن ٹکنالوجی (IT) نے ممالک کے درمیان پیداوار کو منظم کرنے میں ایک بڑا کردار نبھا یا ہے۔ مزید برآں تجارت اور سرمایہ کاری کی نرم کاری نے تجارت اور سرمایہ کاری کی بندشوں کو ہٹانے کے ذریعہ گلوبلائزیشن میں بہت سہولت پیداکی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر عالمی تجارتی تنظیم نے تجارت اور سرمایہ کاری کو نرم کرنے کے لیے ترقی پذیر ممالک پر کافی دباؤ بنارکھا ہے۔
جہاں گلوبلائزیشن سے خوشحال صارفین اور مہارت، تعلیم اور دولت کے حامل پیداکاروں کو بھی فائدہ پہنچا ہے وہیں چھوٹے پیدا کاروں اور ورکرس کو بڑھتی مسابقت کے نتیجے میں مصیبت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ منصفانہ گلوبلائزیشن سے سبھی کے لیے مواقع پیدا ہوں گے اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ گلوبلائزیشن کے فائدے میں سبھی شریک ہوں۔

مشقیں

گلوبلائزیشن سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ اپنے الفاظ میں وضاحت کیجیے۔
حکومت ہند کے ذریعے غیر ملکی تجارت اور غیر ملکی سرمایہ کاری بندشیں یا رکاوٹ پیدا کرنے کے کیا اسباب تھے؟ ان بندشوں کو ہٹانے کی کیوں خواہش کی گئی؟
قوانین محنت میں لچک پیدا کرنے سے کمپنیوں کو کیسے مدد ملتی ہے؟
وہ کون سے مختلف طریقے ہیں جن کے تحت ملٹی نیشنل کمپنیاں دیگر ممالک میں قائم ہوتی ہیں یا کنٹرول کرتی ہیں اور پیداواری عمل انجام دیتی ہیں؟
ترقی یافتہ ممالک کیوں چاہتے ہیں کہ ترقی پذیر ممالک اپنی تجارت اور سرمایہ کاری میں نرمی پیدا کریں؟ آپ کے خیال میں اس کے بدلے ترقی پذیر ملکوں کو کیا مطالبہ کرنا چاہیے؟
’’گلوبلائزیشن کے اثرات یکساں نہیں ہیں‘‘ اس بیان کی وضاحت کیجیے۔
تجارت اور سرمایہ کاری پالیسیوں کی نرم کاری کس طرح گلوبلائزیشن میں مددگار ہوتی ہے؟
غیر ملکی تجارت کس طرح ممالک کے درمیان ارتباط پیدا کرتی ہے۔ یہاں دی گئی مثال کو چھوڑ کر کسی اور مثال سے اس کی وضاحت کیجیے۔
گلوبلائزیشن مستقل جاری رہے گا۔ کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ دنیا اب سے بیس سال بعد کیسی ہوگی؟ اپنے جواب کے لیے اسباب بتائیے۔
10۔ مان لیجیے آپ دو افراد کو بحث کرتے ہوئے پاتے ہیں: ایک کہتا ہے کہ گلوبلائزیشن سے ملک کی ترقی کو نقصان پہنچا ہے۔  دوسرابتا رہا ہے کہ گلوبلائزیشن سے ہندوستان کو ترقی کرنے میں مدد ملی ہے۔ ان تنظیموں کے تئیں آپ کا جوابی عمل کیا ہوگا؟
11۔ خالی جگہوں کو پُر کیجیے:
دو دہائی پہلے کے مقابلے ہندوستانی خریداروں کے پاس اشیا کے انتخاب کے مواقع اب زیادہ ہیں۔ اس کا گہرا تعلق …… کے عمل سے ہے۔ ہندوستان کے بازاروں میں متعدد دیگر ممالک میں تیار کی گئی اشیا فروخت کی جارہی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ دیگر ملکوں کے ساتھ …… اضافہ ہورہا ہے۔ مزید برآں برانڈوں کی بڑھتی تعداد جو ہم بازاروں میں دیکھتے ہیں ہندوستان میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعہ تیار کی جارہی ہیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں ہندوستان میں اس لیے سرمایہ کاری کررہی ہیں کیونکہ …… جب کہ صارفین کے لیے بازار میں پسندناپسند کا اختیار اب زیادہ ہے…… کے بڑھنے اور …… کے اثر کا مطلب ہے پیداکاروں کے درمیان زیادہ …… ۔
12۔ درج ذیل کا ملان کیجیے
(i)  ملٹی نیشنل کمپنیاں چھوٹے پیداکاروں سے زیادہ سستی شرح پر خریداری کرتی ہیں۔ a)آٹوموبائل
(ii) برآمدات پر کوٹا اور ٹیکسوں کا استعمال باقاعدہ تجارت کے لیے کیا جاسکتا ہے۔ b)گارمنٹس،جوتے اور کھیل کود کے سامان
(iii)  ہندوستانی کمپنیاں جو بیرون ممالک سرمایہ کاری کرتی ہیں c)کال سنٹر
(iv)  انفارمیشن ٹکنالوجی ، خدمات کی پیداوار کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوئی ہے d)ٹاٹا موٹرس، انفوسس، رین بیکسی
(v)  متعدد ملٹی نیشنل
کمپنیوں نے پیداوری عمل کے لیے ہندوستان میں فیکٹریوں کو قائم کرنے کے لیے سرمایہ کاری کی ہے e)تجارتی بندشیں
زیادہ مناسب متبادل چنیے۔
(i) گلوبلائزیشن کے پچھلے دو دہوں میں تیز ترین نقل و حرکت دیکھی گئی ہے۔
a ) ممالک کے درمیان اشیا،خدمات اور لوگوں میں
b ) ممالک کے درمیان اشیا، خدمات اور سرمایہ کاری میں
c ) ممالک کے درمیان اشیا، سرمایہ کاری اور لوگوں میں
(ii) دنیا کے ممالک میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعہ سرمایہ کاری کے لیے نہایت عام طریقہ ہے:
a ) نئی فیکٹریاں قائم کرنا
b)  موجود مقامی کمپنیوں کو خریدنا
c ) مقامی کمپنیوں کے ساتھ شراکت کی تشکیل
(iii) گلوبلائزیشن کے سبب زندگی گزارنے کے حالات میں بہتری پیدا ہوئی ہے
a )  سبھی لوگوں کی
b ) ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں کی
c ) ترقی پذیر ممالک کے ورکرس کی
d ) ان میں سے کسی کی نہیں

اضافی سرگرمی / پروجیکٹ

کچھ برانڈ والی اشیا لیجیے جنہیں ہم روزانہ استعمال کرتے ہیں (صابن، ٹوتھ پیسٹ، گارمنٹس، الکٹرانک اشیا وغیرہ)۔ جانچ لیجیے کہ ان میں سے کون سی ایسی ہیں جنہیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے تیار کیا جاتاہے۔
2 ۔ اپنی پسند کی ہندوستانی صنعت ، یا خدمات لیجیے۔ صنعت کے درج ذیل پہلوؤں پر اخبارات، رسائل کی کترنوں، کتابوں، ٹیلی ویژن ، انٹر نیٹ، اور لوگوں کے ساتھ انٹر ویو پر معلومات اور فوٹو گراف اکٹھا کیجیے۔
(i)  صنعت میں مختلف پیداکار /کمپنیاں
(ii) کیا شے کو دیگر ملکوں میں درآمد کیا جاتا ہے
(iii)  پیداکاروں میں کیا ملٹی نیشنل کمپنیاں موجود ہیں
(iv)  صنعت میں مسابقت
(v)  صنعت میں کام کے حالات
(vi)  پچھلے پندرہ سالوں میں صنعت میں کوئی اہم تبدیلی واقع ہوئی ہے
(vii)  صنعت میں کن مسائل کا سامنا لوگوں کو کرنا پڑتا ہے