Skip to content
Maashi Taraqqui Ki Samajh  Chapter-05

مدرس کے لیے ہدایت

باب 5 : صارف کے حقوق

ہمارے ملک میں جس طرح سے بازاروں کا لین دین ہوتا ہے، اس کے سیاق میں حقوق صارف کے مسئلے پر بحث کرنا اس باب کے مقاصد میں شامل ہے۔ بازار میں غیر مساوی صورتحال اور اصول و ضوابط کو ٹھیک طرح سے نہ عائد کرنے کے بہت سے پہلو ہیں۔ لہٰذا طلبا کو اس سلسلے میں حساس بنانے اور صرفی تحریک میں ان کی شرکت کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ یہ باب متعلقہ معاملے کے کوائف (Case histories) فراہم کرتا ہے کہ کس طرح بعض صارفین کا استحصال اصل حالات زندگی میں کیا گیا تھا اور صارفین کی تلافی کرنے میں اور صارفین کی حیثیت سے ان کے حقوق برقرار رکھنے میں کس طرح قانونی اداروں نے مدد کی۔کیس ہسٹری طلبا کو ان بیانیہ سے ان کی زندگی کے تجربات سے جوڑنے میں کامیاب ہوگی۔ ہمیں طلبا کو یہ بھی سمجھانا ہے کہ پوری طرح باخبر صارف ہونے کی حیثیت سے ہی صارف تحریک اور ایک طویل مدت تک ہونے والی ان کی جدوجہد کے ذریعے لوگوں کی سرگرم شراکت کے نتیجے میں پیداہوئی ہے۔ اس باب میں کچھ تنظیموں کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں جو مختلف طریقوں سے صارفین کی مدد میں لگی رہتی ہیں۔ آخر میں ہندوستان میں صارف تحریک کے بعض اہم امور کے بارے میں بات کی گئی ہے۔

تدریس کے پہلو/ معلومات کے لیےمآخذ

اس باب میں سوالات ، کیس مطالعات اور سرگرمیاں دی گئی ہیں۔ یہ بہتر ہوگا کہ طلبا زبانی طور پر گروپوں میں ان پر بحث کریں۔ ان میں سے بعض کے جواب کو انفرادی حیثیت سے لکھ کر دیا جاسکتا ہے۔
ہرسرگرمی کو انجام دیتے وقت آپ سرگرمی کے بارے میں غوروخوض کے اجلاس کے ساتھ شروعات کرسکتے ہیں۔ اس طرح اس باب میں رول پلے کے لیے بہت سے مواقع ہیں۔ اور یہ زیادہ بہتر و کارگر طریقہ ہوگا کہ وہ اپنے تجربات میں دوسروں کو شریک کریں اور گہرائی سے مسائل کو سمجھیں۔ اجتماعی طور پر پوسٹر بنانا ایک اور طریقہ ہے جس کے تحت ان مسائل کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے۔ اس سبق میں بہت سی ایسی سرگرمیاں شامل ہیں جن میں دورے کیے جانے کی ضرورت ہے جیسے تحفظاتی کونسل برائے صارف ، صارف تنظیموں، صارف عدالت ، خوردہ دوکانوں ، بازاروں وغیرہ کا دورہ کرنا۔ دوروں کو اس طرح منظم کریں کہ طلبا کے تجربے کو خوب بڑھایا جاسکے۔ ان سے دورے کے مقصد کے بارے میں چیزیں جنھیں پہلے کیے جانے کی ضرورت ہے، چیزیں جن میں اکٹھا کیے جانے کی ضرورت ہے اور کام (رپورٹ /پروجیکٹ/آرٹیکل وغیرہ) جو وہ دورے کے بعد انجام دے سکتے ہیں۔ ان کے بارے میں بات چیت کریں۔ اس باب کے ایک جزکے طور پر طلبا خط لکھ سکتے ہیں اور تقریر یا بولنے سے متعلق سرگرمیاں انجام دے سکتے ہیں۔ ہم مشقوں کے لسانی پہلو کے بارے میں بھی حساس ہوسکتے ہیں۔
یہ باب ایسے مواد پر مشتمل ہے جو مستند ویب سائٹوں ، کتابوں ، اخباروں اور رسائل سے اکٹھا کیا گیا ہے، مثال کے لیے http://consumer affairs.nic.in   مرکزی حکومت کی وزارت برائے امور صارف غذائی اجناس وعوامی تقسیم کی ہے۔ دیگر  ویب سائٹ www.cuts.international.orgصارف تنظیم کی ویب سائٹ ہے جو ہندوستان میں 40 سال سے زیادہ عرصے سے کام کررہی ہے۔ یہ ہندوستان میں صارف بیداری پیدا کرنے کے لیے مختلف قسم کے مواد شائع کرتا ہے۔ اس میں طلبا کو شریک کیے جانے کی ضرورت ہے اس طرح وہ ان کی سرگرمیوں کے جز کے طور پر مواد بھی اکٹھا کرسکتے ہیں۔ مثال کے لیے یہ کوائف اخبار کے تراشوں اور ان صارفین سے لیے گئے  ہیں جنھوں نے صارف عدالتوں میں مقدمے لڑے ۔ طلبا کو مختلف مآخذ جیسے صارف تحفظ کونسل، صارف عدالتیں اور انٹر نیٹ سے ایسے مواد اکٹھا کرنے اور پڑھنے کے لیے کہیں۔
pic1 chapte3r 5
باب5
صارف کے حقوق
درج ذیل مجموعہ(کولاژ)جو آپ دیکھ رہے ہیں صارف عدالت کے فیصلوں کی کچھ خبروں کے تراشوں پر مشتمل ہے۔ ان معاملوں میں لوگ صارف عدالت کیوں گئے تھے؟یہ فیصلے اسی لیے سامنے آئے کیونکہ کچھ لوگ انصاف حاصل کرنے کے لیے ڈٹے رہے اوراس کے لیے جدوجہد کی۔کس لحاظ سے ان کے ساتھ انصاف نہیں ہواتھا؟ زیادہ اہم بات یہ کہ وہ کون سے طریقے ہیں جن کے ذریعے انھیں جب ایسا لگے کہ ان کے ساتھ فروخت کنندہ نے صحیح برتاؤ نہیں کیا تب وہ اس سے جائز حق حاصل کرنے کے لیے صارفین کی حیثیت سے اپنے حقوق حاصل کرسکتے ہیں؟
pic2 chapter 5

بازار میں صارف 

ہم بازار میں پیداکار اور صارفین دونوں حیثیت سے شریک ہوتے ہیں۔ اشیا اور خدمات کے پیداکار کے طور پر ہم کسی بھی سیکٹر جیسے زراعت، صنعت یا خدمات میں کام کررہے ہوتے ہیں۔ صارفین بازار تبھی جاتے ہیں جب انھیں اپنی ضرورت کی اشیا اور خدمات خریدنا ہو۔ یہ آخری شے ہی ہے جسے لوگ صارف کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
پچھلے ابواب میں ہم نے ان اصول اور ضوابط یا اقدامات کی ضرورت پربحث کی جس سے ترقیاتی عمل بڑھایا جاسکے۔ یہ اصول و ضوابط غیر منظم سیکٹر میں کامگاروں کے تحفظ یا غیر رسمی سیکٹر میں ساہو کاروں کے ذریعہ لگائی گئی سود کی اونچی شرح سے لوگوں کو تحفظ دینے کے لیے ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح قواعد و ضوابط ماحول کے تحفظ کے لیے بھی ضروری ہیں۔
مثال کے لیے، غیر رسمی سیکٹر میں ساہو کاروں جن کے بارے میں آپ نے باب 3 میں پڑھا ہے، کے ذریعے قرض لینے والوں کو باندھنے کی مختلف چالیں اپناتے ہیں: وہ وقت پر قرض دینے کے بدلے میں پیداکاروں کو کم شرح پر اشیا فروخت کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں، وہ سوپنا جیسی چھوٹی کسان کو مجبور کرسکتے ہیں کہ وہ قرض واپس کرنے کے لیے اپنی زمین کو فروخت کرے اسی طرح بہت سے ایسے لوگ ہیں جو غیر منظم سیکٹر میں کم مزدوری پر کام کرتے ہیں اور ان شرائط کو تسلیم کرتے ہیں جو منصفانہ نہیں ہوتیں اور اکثر ان کی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں۔ اسی طرح کے استحصال کو روکنے اور ان کے تحفظ کے لیے قواعد و ضوابط کی بات کی ہے۔ ایسی تنظیمیں ہیں جنھوں نے ان ضوابط کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے طویل جدوجہدکی ہے۔اسی طرح صارفین کے تحفظ کے لیے قواعد و ضوابط کی ضرورت بازار میں ہوتی ہے۔ انفرادی طور پر صارفین اکثر خود کو کمزور حیثیت میں پاتے ہیں۔ جب کبھی خریدی گئی شے یا خدمات کے بارے میں کوئی شکایت ہوتی ہے تو فروخت کنندہ کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کی پوری ذمے داری خریدار پر ڈال دی جائے۔ ان کی حیثیت عام طور پر یہ ہوتی ہے ، ’’اگر آپ کو خریدی ہوئی شے پسند نہیں آئی تو پلیز کہیں اور جائیں‘‘ گویا کہ فروخت کنندہ کی چیز کے فروخت ہونے کے بعد کوئی ذمے داری نہیں ہے۔ صارف تحریک جس کے بارے میں ہم بعد میں بات کریں گے اس صورت ِحال کو بدلنے کی ایک کوشش ہے۔
بازار میں استحصال کئی طرح سے واقع ہوتا ہے۔ مثال کے لیے کبھی کبھی تاجر ناجائز تجارتی عمل میں مشغول ہوتے ہیں جیسے جب دوکاندار جتنا وزن کہ ہونا چاہیے اس سے کم وزن کرتے ہیں یا جب تاجر وہ اجر تیں شامل کرتے ہیں جن کا ذکر پہلے نہیں کیاگیا تھا یا جب ملاوٹ کرتے ہیں یا ناقص اشیا فروخت کرتے ہیں۔
 جب پیداکار بہت کم اور طاقتور ہوں جب کہ صارفین کم مقدار میں خریداری کرتے ہوں اور بکھرے ہوں تو بازار میں جائز طریقے سے کام نہیں کرتیں۔ یہ خاص طور پر وہاں ہوتا ہے جہاں بڑی کمپنیاں ایسی اشیا تیار کررہی ہوں ان کمپنیوں کے پاس بے پناہ دولت، طاقت اور پہنچ ہوتی ہے اور بازار میں کئی طرح سے کارستانی کرسکتی ہیں۔ کبھی کبھی میڈیا کے ذریعہ اور دیگر ذرائع سے غلط معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔

اسےجان بوجھ کر اس طرح بنایاگیا ہےکہ کچھ مہینے کے بعد خراب ہوجائے تاکہ میں کوئی نیا خریدسکوں؟
pic3 chapter 5
 تاکہ صارفین راغب ہوں۔ مثال کے لیے ایک کمپنی سالوں سے چھوٹے بچوں کے لیے پوری دنیا میں دودھ کے پاؤڈر فروخت کرتی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ یہ نہایت سائنٹفک پروڈکٹ ہے جو کہ ماں کے دودھ سے بھی زیادہ بہتر ہے کمپنی کے خلاف جدوجہد میں کئی سال لگ گئے اور کمپنی کو یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہونا پڑا کہ وہ جھوٹا دعویٰ پیش کررہی تھی۔ اسی طرح سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کے خلاف عدالت میں کافی طویل جنگ لڑی گئی کہ کمپنیاں تسلیم کریں کہ ان کے پروڈکٹ کینسر کا سبب بن سکتے ہیں۔ لہٰذا صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قواعد و ضوابط کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہرکوئی جانتا ہے کہ تمباکو لوگوں کو مارتی ہے،لیکن کون کہہ سکتاہے کہ تمباکو کمپنیاں تمباکو فروخت کرنے کے لیے آزاد نہیں ہونی چاہئیں۔
pic 4 chapter 5

آئیے انھیں حل کریں

وہ کون سے مختلف طریقے ہیں جن کے ذریعے لوگوں کا بازار میں استحصال کیا جاسکتا ہے؟
اپنے تجربے سے کسی ایک مثال کے بارے میں سوچیے جہاں آپ کے خیال میں بازار میں کچھ دھوکا دیا گیا تھا۔ کلاس روم میں بحث کیجیے:
صارفین کے تحفظ کے لیے حکومت کے کردار کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

صارف تحریک

صارف تحریک صارفین کی بے اطمینانی سے ابھری کیونکہ فروخت کنندگان کے ذریعے بہت سے ناجائز طریقوں کا استعمال کیا جارہا تھا۔ بازار میں صارفین کواستحصال سے بچانے کے لیے کوئی قانونی نظام موجود نہیں تھا۔ ایک طویل عرصے سے جب صارف کسی مخصوص معرکہ یا برانڈ کی شے یا دوکان سے مطمئن نہیں ہوتا تھا تو وہ عام طور پر اس برانڈ کی شے کو خرید نا بند کردیتا تھا یا اس دوکا ن سے خریداری بند کردیتا ۔ یہ مانا جاتا تھا کہ یہ صارفین کی ذمے داری ہے کہ وہ اس وقت محتاط رہیں جب کو ئی شے یا خدمت کی خریداری کررہے ہیں۔ ہندوستان اور دنیا میں تنظیموں کو لوگوں میں بیداری پیدا کرنے میں کافی وقت لگ گیا۔ اس کے ذریعے اشیا اور خدمات کی کوالٹی کو یقینی بنانے کی ذمے داری فروخت کنندگان کی طرف منتقل ہوگئی۔
ہندوستان میں صارف تحریک ایک سماجی قوت کے طور پر غیر اخلاقی اور ناجائز تجارتی عمل کے خلاف صارفین کے مفادات کے تحفظ اور ان کو فروغ دینے کی ضرورت کے ساتھ شروع ہوئی۔ روز افزوں غذائی قلت، جمع خوری، کالابازاری، غذا اور خوردنی تیل میں ملاوٹ نے 1960 کے دہے میں ایک منظم شکل میں صارف تحریک کو جنم دیا 1970 کی دہائی تک صارف تنظیمیں کافی حد تک آرٹیکل لکھنے اور نمائش وغیرہ کا اہتمام کرنے میں مشغول تھیں ۔ انھو ں نے راشن کی دوکانوں میں بدعنوانی اور سڑک پر سواری، ٹرانسپورٹ میں بھیڑ بھاڑ پر نگرانی کے لیے صارف گروپوں کی تشکیل کی۔ ابھی حال میں ہندوستان صارف گروپوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔

کنزیومرس انٹر نیشنل

1985 میں اقوام متحدہ نے صارف تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے رہنما اصول اپنائے۔ یہ ملکوں کے لیے صارفین کے تحفظ اور ان کی حکومتوں کو ایسا کرنے کے سلسلے میں گروپوں کے ذریعے صارف کی تائید کے لیے اقدامات اٹھانے کا ایک وسیلہ تھا۔ بین الاقوامی سطح پر یہ صارف تحریک کی بنیاد بنا ۔ آج کل کنزیومرس انٹر نیشنل 100 سے زیادہ ملکوں میں 240 تنظیموں کا ایک سرپرست ادارہ بن چکا ہے۔
pic 5 chapter 5

ان ساری کوششوں کے نتیجے میں تحریک کاروباری فرموں اور حکومت پر دباؤ بنانے میں کامیاب ہوئی۔ یہ دباؤ ان کا روباری رویوں کو صحیح کرنے کے لیے تھا جو کافی حد تک صارفین کے مفاد میں غیر منصفانہ اور ان کے مفادات کے خلاف ہوسکتا تھا۔ حکومت کے ذریعے 1986 میں ایک بڑا قدم اٹھایا گیا جو صارف تحفظ ایکٹ 1986 کو عائد کرنے کا تھا اسے عام طور پر COPRA (کنزیومر پروٹکشن ایکٹ) کہا جاتاہے۔ آپ COPRA کے بارے میں بعد میں مزید پڑھیں گے۔

آئیے انھیں حل کریں

صارف گروپوں کے ذریعے اٹھائے گئے اقدامات کیا تھے؟
قواعد و ضوابط تو ہوتے ہیں لیکن ان کی تعمیل اکثر نہیں کی جاتی ،کیوں ؟بحث کیجیے ۔
pic 6 chapter 5

صارف حقوق

تحفظ و سلامتی ہر ایک حق کاہے

ریجی کی پریشانی

ایک صحت مند لڑکاریجی میتھیو، جو کلاس IX میں پڑھ رہا ہے، ٹانسل (گلے کے غدود) کے آپریشن کے لیے کیرل کے ایک نجی کلینک میں داخل کیا گیا تھا۔ کان ناک و حلق (ENT) کے ایک سرجن نے گلے کے غدود کا آپریشن عام بے ہوشی کے ذریعے انجام دیا۔ غیر مناسب طریقے سے بے حس یا بے ہوش کرنے کے نتیجے کے طور پر کچھ دماغی معذوری کی علامات ظاہر ہوئیں جن کے سبب وہ پوری زندگی کے لیے معذور ہوگیا تھا۔
اس کے والد نے ریاستی صارف تنازعات ودادرسی کمیشن میں طبی لاپروائی اور خدمات میں کوتاہی کے لیے 5,00,000 روپے کے ہرجانے کا دعویٰ کیا۔ ریاستی کمیشن نے یہ کہتے ہوئے کہ شہادت کافی نہیں ہے مقدمہ خارج کردیا۔ ریجی کے والد نے دوبارہ قومی صارف تنازعات و دادرسی کمیشن (نئی دہلی)میں اپیل کی۔ قومی کمیشن نے شکایت پر غور کرتے ہوئے طبی لاپروائی کے لیے اسپتال کو ذمے دار ٹھہرایا اور حکم دیا کہ وہ اسے ہر جانہ ادا کرے۔
pic 7chapter 5

ریجی کی پریشانی ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح ایک اسپتال کے ڈاکٹروں اور اسٹاف نے آپریشن کے لیے بے ہوش یا بے حس کرنے کے عمل میں لاپروائی کی ہے جس سے ایک طالب علم پوری زندگی کے لیے معذور ہوگیا ہے۔ بہت سی اشیا اور خدمات کا استعمال کرتے وقت ہم کوبحیثیت صارف یہ حق حاصل ہے کہ ان اشیا اور خدمات کی فراہمی کے مقابل تحفظ حاصل ہو جو زندگی اور جائداد کے لیے خطرناک ہوں۔ پیداکاروں کو حفاظتی قواعد و ضوابط کی پابندی کرنے کی ضرورت  ہوتی ہے۔ بہت سی اشیا اور خدمات ہیں جو ہم خریدتے ہیں اس میں سلامتی و تحفظ کا خاص خیال رکھے جانے کی ضرورت ہے۔ مثال کے لیے پریشر کوکر میں ایک سیفٹی والو ہوتا ہے اگر وہ ناقص ہے تو اس سے خطرناک حادثہ ہوسکتا ہے۔ سیفٹی والو کے بنانے والوں کو اعلیٰ کوالٹی یقینی بنانی ہوتی ہے۔ آپ کو یہ دیکھنے کے لیے کہ یہ کوالٹی برقرار رکھی گئی ہے حکومتی کارروائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم ہم بازار میں خراب کوالٹی کی اشیا پاتے ہیں کیونکہ ان ضوابط کی نگرانی اتنی اچھی نہیں ہے اور صارف تحریک کافی مضبوط نہیں ہے۔

آئیے انھیں حل کریں

درج ذیل اشیا اور خدمات (آپ فہرست میں اضافہ کرسکتے ہیں) پر بحث کیجیے کہ کن حفاظتی قواعد کی تعمیل پیداکار کے ذریعہ کی جانی چاہیے؟
(a)  ایل پی جی سلنڈر (b) سنیما تھیٹر (c) سرکس (d) ادویات (e) خوردنی تیل (f) شادی کے پنڈال (g) ایک اونچی عمارت 
آپ کے آس پاس کے لوگوں سے حادثے یا لاپروائی کے کسی معاملے کو دریافت کیجیے جس کے بارے میں آپ کا خیال ہے کہ ذمے داری پیداکار کے اوپر آتی ہے۔ بحث کیجیے۔

اشیا اور خدمات کے بارے میں معلومات

جب آپ کوئی شے خریدتے ہیں تو آپ کو پیکنگ پر بعض تفصیلات لکھی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ تفصیلات استعمال کی گئی اجزائے ترکیبی، قیمت، بیچ نمبر، تیار کرنے کی تاریخ اختتام اور بنانے والے کےپتے کے بارے میں ہوتی ہیں۔ جب ہم ادویات خریدتے ہیں تب پیکٹوں پر آپ مناسب استعمال کے لیے ہدایات بھی دیکھتے ہوں گے اور ضمنی اثرات اور اس دوا کے استعمال سے متعلق جو کھم کی معلومات بھی پاتے ہوں گے، جب آپ ملبوسات خریدتے ہیں تو انہیں دھونے کے بارے میں بھی ہدایات لکھی ملتی ہوں گی۔
ایسا کیوں ہے کہ بنائے گئے ان قواعد کے نتیجے میں مینو فیکچرر کو ان معلومات کوظاہر کرنا پڑتا ہے؟ ایسا اس لیے ہے کہ صارفین کو ان اشیا اور خدمات کو جو وہ خریدتے ہیں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا حق ہے۔اگر کسی بھی طرح شے کو ناقص پایا جاتاہے تو صارفین شکایت کرسکتے ہیں اور ہر جانہ طلب کرسکتے ہیں اور اسے بدلنے کے لیے کہہ سکتے ہیں۔ مثال کے لیے، اگر ہم کوئی شے خریدتے ہیں اور اسے تاریخ انتہا یا اختتام کے اندر ناقص پاتے ہیں تو ہم اسے بدلنے کے لیے کہہ سکتے ہیں۔ اگر تاریخ انتہا نہیں چھپی ہوئی تھی تب مینو فیکچرر دوکاندار کوذمے دار ٹھہرائے گااور جوابدہی نہیں قبول کرے گا اگر لوگ وہ ادویات فروخت کرتے ہیں جن کی تاریخ انتہا ختم ہوچکی ہے تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی پیکٹ پر چھپی قیمت سے زیادہ قیمت پر فروخت کرتا ہے تو اس کے خلاف احتجاج اور شکایت کی جاسکتی ہے۔ اسے MRP (یعنی زیادہ زیادہ خوردہ قیمت) Maximum retail price سے ظاہر کیا جاتاہے۔درحقیقت صارفین MRP سے کم فروخت کرنے کے لیے فروخت کنندہ کے ساتھ مول بھاؤ کرسکتے ہیں۔
حال میں حکومت کے ذریعے فراہم کی گئی معلومات حاصل کرنے کے حق کی توسیع مختلف خدمات کااحاطہ کرتے ہوئے کی گئی ہے۔ اکتوبر 2005 میں حکومت ہند نے ایک قانون بنایا تھا جسے عام طور پر (RTI) (Right to information) ایکٹ کے طور جانا جاتا ہے جس میں اس کے شہریوں کو سرکاری محکمہ جات کے کام سے متعلق معلومات کے بارے میں ضمانت دی گئی۔ RTI ایکٹ کا اثر درج ذیل معاملے سے سمجھا جاسکتا ہے۔

انتظار……

امرتا جو ایک انجینئرنگ گریجویٹ ہے ، وہ ایک سرکاری محکمے میں ملازمت کے سلسلے میں سبھی سرٹیفکیٹ جمع کرنے اور انٹرویو دینے کے بعد نتیجے کے بارے میں کسی بھی اطلاع سے محروم رہی۔ عہدیداروں نے اس کے استفسار کا جواب دینے سے منع کردیا۔ لہٰذا اس نے RTI ایکٹ کا استعمال کرتے ہوئے یہ کہتے ہوئے درخواست دی کہ ایک معقول وقت پر نتیجہ جاننے کا اس کا حق تھا تاکہ وہ اپنے مستقبل کا منصوبہ بنا سکے اس نے جلد ہی تقرری کے لیے کال لیٹر حاصل کرلیا۔
pic 8 chapter 5

آئیے انھیں حل کریں

جب ہم اشیا خریدتے ہیں تو پاتے ہیں کہ کبھی کبھی جو قیمت لگائی جاتی ہے وہ پیک پر چھپی MRP سے زیادہ یا کم ہے۔ ممکنہ وجہ پر بحث کیجیے۔ کیا صارف گروپوں کو اس سلسلے میں کچھ کرنا چاہیے؟
پیک کی ہوئی کچھ وہ اشیا لیں جو آپ خریدنا چاہتے ہیں اور ان پر دی گئی معلومات کا جائزہ لیں۔ یہ کس طرح مفید ہیں؟ کیا کچھ معلومات ایسی ہیں جو آپ کے خیال میں ان  پیک کی ہوئی اشیا پر دینی چاہئیں لیکن اس میں موجود نہیں ہیں؟ بحث کیجیے 
لوگوں نے شہری سہولیات (جیسے خراب سڑکیں یا پانی اور صحت کی سہولیات میں کمی ہونا) کے بارے میں شکایتیں درج کرائیں لیکن کوئی سننے والا نہیں۔ اب RTI ایکٹ سے آپ کو سوال کرنے کا اختیار مل جاتا ہے۔ کیا آپ متفق ہیں؟ بحث کیجیے۔

جب انتخاب کو مسترد کیا جاتا ہے

بازادائیگی (واپسی)

pic9 chapter 5
انصاری نگر کی ایک طالبہ اویرامی نے نئی دہلی میں پروفیشنل کورس کے لیے ایک مقامی کوچنگ انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لیا۔ کورس میں داخلہ لیتے وقت اس نے دوسال کے پورے کورس کے لیے 61,020 روپے فیس اکٹھی جمع کردی۔ تاہم ایک سال کے آخر میں اس نے خود کو اس کورس سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ کیونکہ اس نے پایا کہ تدریس کی کوالٹی مطلوبہ معیار کی نہیں تھی۔ جب اس نے ایک سال کی فیس واپس کرنے کے لیے کہا تو اسے منع کردیا گیا۔
جب اس نے ضلعی صارف عدالت میں مقدمہ قائم کیا تو عدالت نے انسٹی ٹیوٹ کو 28,000 روپے واپس کرنے کے لیے کہا۔ کورٹ نے کہا کہ اسے انتخاب کا اختیار تھا۔ انسٹی ٹیوٹ نے ریاستی صارف کمیشن میں پھر اپیل کی۔ ریاستی کمیشن نے ضلع کورٹ کے حکم کو برقرار رکھا اور اس غیر سنجیدہ اپیل کے لیے مزید 25,000 روپے جرمانے لگائے۔ اس نے انسٹی ٹیوٹ کو تلافی اور مقدمےکے خرچ کے لیے الگ سے 7,000 روپے ادا کرنے کے لیے کہا۔
ریاستی کمیشن نے ریاست میں سبھی تعلیمی اور پروفیشنل اداروں پر پوری کورس مدت کے لیے متفقہ طور پر پیشگی میں فیس لینے پر پابندی لگادی۔ اس حکم کی خلاف ورزی پر جرمانہ اور جیل کی سزا مول لینے کی بات کہی۔

اس واقعے سے ہم کیا سمجھتے ہیں؟ کوئی صارف جو کسی بھی حیثیت میں عمر، جنس خدمات کی نوعیت کے بلالحاظ کوئی خدمات حاصل کرتا ہے اسے انتخاب کا اختیار ہے چاہے وہ خدمات کو جاری رکھے یا نہیں۔
مان لیجیے آپ ٹوتھ پیسٹ خریدنا چاہتے ہیں اور دوکاندار کہتا ہے کہ وہ ٹوتھ پیسٹ تبھی فروخت کرسکتا ہے جب آپ ایک ٹوتھ برش بھی خریدیں۔ اگر آپ کو برش خریدنے میں دلچسپی نہیں ہے تو آپ کو انتخاب کا اختیار ہے کہ آپ منع کردیں۔ اسی طرح کبھی کبھی گیس سپلائی کرنے والے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ آپ ان سے اسٹور بھی خریدیں جب آپ نیا کنکشن لیں، اس طرح بہت بار آپ کو ان چیزوں کو خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے جونہیں خریدنا چاہتے اور آپ کے پاس کوئی انتخاب کا اختیار نہیں ہوتا۔

آئیے انھیں حل کریں

درج ذیل ان اشیا کے کچھ پرفریب  اشتہار ہیں جنھیں ہم بازار سے خریدتے ہیں۔ درج ذیل  کون سے آفر (پیشکش) واقعی صارفین کے لیے مفید ہیں؟ بحث کیجیے۔
ہر 500 گرام پیک کے ساتھ 15 گرام زیادہ۔
ایک سال کی مدت کے لیے اخبار کے چندے پر سال کے آخر میں انعام۔
کھرچئے(Scratch) اور 10 لاکھ کے بقدر انعام جیتیے۔
500 گرام گلوکوز کے پیکٹ کے اندر ایک ملک چاکلیٹ ۔
پیک کے اندر سونے کا سکہ جیتیے۔
2000 روپے کے جوتے خریدیے اور 500 روپے قیمت کے جوتے مفت حاصل کریں۔

صارفین کو انصاف حاصل کرنے کے لیے کہاںجانا چاہیے؟

باب میں پہلے دیے گئے ریجی میتھیو اور اویرامی کے معاملات ایک بار پھر پڑھیے۔
یہ کچھ مثالیں ہیں جن میں صارفین کوان کے حقوق سے محروم کیا گیا ایسی مثالیں ہمارے ملک میں اکثر واقع ہوتی ہیں۔ ان صارفین کو انصاف حاصل کرنے کے لیے کہاں جانا چاہیے؟
صارفین کوناجائز تجارتی عمل اور استحصال کے خلاف دادرسی (تدارک) کا حق ہوتا ہے۔ اگر صارف کو کوئی نقصان ہوتا ہے تو اسے حق ہے کہ وہ تلافی یا ہرجانہ حاصل کرے جو نقصان کی نوعیت پر منحصر ہے۔ ایک آسان اور مؤثر عوامی نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے اسے انجام دیا جاسکتا ہے۔
صارف اپنے اوپر ہوئے استحصال کے خلاف بلا کسی وکیل کی مدد کے بذات خود یا وکیل کے تعاون سے سیدھا شکایت داخل کر سکتا ہے۔
آپ کو یہ جاننے میں دلچسپی ہوگی کہ کس طرح ایک دکھی یا ضرر رسیدہ شخص اپنی تلافی حاصل کرتا ہے۔ آئیے پرکاش کا معاملہ لیں۔ اس نے اپنی بیٹی کی شادی کے لیے اپنے گاؤں ایک منی آرڈر بھیجا تھا۔ رقم اس کی بیٹی کو وقت پر نہیں پہنچی جب کہ اسے اس کی ضرورت تھی اور نہ ہی یہ مہینوں بعد ملی۔ پرکاش نے نئی دہلی کی ضلعی سطح کی صارف عدالت میں ایک مقدمہ دائر کیا۔ وہ سبھی اقدامات جو اس نے اختیار کیے یہاں سمجھائے گئے ہیں۔آج کل صارفین، ایک آدمی کی شکل میں یا ایک جماعت کی شکل(جسے کلاس ایکشن سوٹ کہا جاتاہے) ، جسمانی شکل میں یا انٹرنیٹ کے ذریعہ سے اپنی شکایت درج کراسکتے ہیں اور ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ اپنے مقدموں کی کارروائی کرواسکتےہیں۔
1-پرکاش اپنی بیٹی کو منی آرڈر بھیجنے کے لیے پوسٹ آُفس جاتاہے۔
2-پرکاش کو معلوم ہوتاہے کہ رقم اس کی بیٹی کو نہیں پہنچی۔
3-پرکاش پوسٹ آفس میں منی آرڈر کے بارے میں دریافت کرتاہے۔
4-پوسٹ آفس میں اس کے استفسار کا اطمینان بخش جواب نہیں دیاگیا۔
5-پرکاش صلاح کے لیے مقامی کونسل برائے صارف تحفظ جاتاہے۔
6-پرکاش مقدمہ دائر کرنے صارف عدالت جاتاہے وہ رجسٹریشن فارم پُر کرتاہے۔عدالت دوسرے فریق کے خلاف نوٹس بھیجتی ہے۔
7-وہ عدالت میں خود ہی کیس کی وکالت کرتاہے۔
8-عدالت کا جج دستاویزکی توثیق کرتاہے اور فریقین کے دلائل کو غور سےسنتاہے۔
9-جج عدالتی حکم کا اعلان کرتاہے۔
pic 10 chapter 5
pic11 chapter 5
ہندوستان میں صارف تحریک کے نتیجے میں مختلف تنظیموں کی تشکیل ہوئی ہے جنھیں مقامی طور پر صارف فورم یا صارف تحفظ کونسل کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ وہ صارفین کی رہنمائی کرتی ہیں کہ کس طرح صارف عدالت میں مقدمہ دائر کیا جائے۔ بہت سے مواقع پر وہ صارف عدالتوں میں انفرادی طور پر صارفین کی نمائندگی بھی کرتی ہیں۔ یہ رضاکار تنظیمیں لوگوں کے درمیان بیداری پیدا کرنے کے لیے حکومت سے مالی امداد بھی حاصل کرتی ہیں۔
اگر آپ کسی رہائشی کالونی میں رہ رہے ہیں تب آپ نے ریزیڈنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشنوں کے نام کی تختیاں بھی دیکھی ہوںگی۔ اگر کوئی ناجائز تجارتی عمل ان کے کسی ممبر کے ساتھ واقع ہوتا ہے تو وہ اس کی طرف سے مقدمہ لڑتی ہیں۔
COPRA کے تحت ایک تین سطحی نیم عدالتی مشینری ضلعی، ریاستی اور قومی سطح پر صارف تنازعات کے تدارک کے لیے قائم کی جاتی ہے ضلعی سطح کی عدالتوں میں 20 لاکھ روپے تک کے دعووں پر مشتمل مقدموں کو دیکھا جاتا ہے، ضلعی سطح پر 20 لاکھ روپے سے ایک کروڑ روپے تک اور قومی سطح کی عدالتیں 1کروڑ روپے سے زیادہ رقم کا معاملہ دیکھتی ہیں۔ اگر کوئی کیس ضلعی سطح کی عدالت میں خارج ہوجاتاہے تب صارف ریاستی سطح پر اور اس کے بعد قومی سطح کی عدالتوں میں اپیل کرسکتا ہے۔
اس طرح ایکٹ کے ذریعے صارفین کے طور پر ہمیں صارف عدالتوں میں نمائندگی کا حق حاصل ہونے کا مجاز بنایا گیا ہے۔
جاگو گاہک جاگو
فضائی آلودگی، آبی آلودگی،شور آلودگی کے خلاف صحت مندانہ ماحول کے صارف حقوق کو یقینی بنائیں۔
ایسی اشیا /برانڈ دیکھیں جو ایکو مارک کی کسوٹی پر پوری اترتی ہیں۔
شکایت
-صارف گروپ کو
-آلودگی کنٹرول بورڈ
آپ کیا کرسکتےہیں
-ندیوں میں فضلے کو خارج کرنے سےروکیں
-توانائی میں کفایتی اشیاطلب کریں
-قابل تجدید توانائی جیسے شمسی اور ہوائی توانائی کااستعمال کریں
-پانی کے ضائع ہونےسے روکیں
-بارش کے پانی ذخیرہ کریں
-بغیر سیڈ والی پٹرول استعمال کریں
-حیاتیاتی طورپر تحلیل ہونے والےپیکنگ مواد استعمال کریں
حقوق پر اصرار کریں۔
تدارک حصول کی کوشش کریں

pic 12 chapter 5

آئیے انھیں حل کریں

درج ذیل کو صحیح ترتیب میں مرتب کریں:
a) آرتی ضلعی صارف عدالت میں کیس دائر کرتی ہے۔
b) وہ ایک پروفیشنل خاتون ہے۔
c) وہ محسوس کرتی ہے کہ ڈیلر نے اسے ناقص سامان دیا ہے۔
d) وہ عدالتی کارروائیوں میں حاضر ہونا شروع کرتی ہے۔
e) وہ ڈیلر کے پاس اور برانچ آفس جاتی ہے اور شکایت کرتی ہے لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
f) اس سے عدالت کے سامنے بل اور وارنٹی پیش کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔
g) وہ ایک خوردہ دوکان سے دیوار گھڑی خریدتی ہے۔
h) کچھ مہینے کے اندر ڈیلر کو عدالت نے حکم دیا کہ بغیر کسی اضافی لاگت کے نئی لاگت سے اس کی پرانی دیوار گھڑی کو بدل دیا جائے۔

باخبر صارف بننے کی تعلیم

جب ہم مختلف اشیا اور خدمات خریدتے وقت صارفین کی حیثیت سے اپنے حقوق سے باخبر رہتے ہیں تب ہم ان میں فرق اور ساتھ ہی ساتھ دانستہ انتخاب بھی کرسکتے ہیں۔ با خبر صارف بننے کے لیے علم و مہارت حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم اپنے حقوق کے بارے میں کیسے باخبر ہوتے ہیں۔ بائیں پوسٹر اور پچھلے صفحے پر نظر ڈالیں آپ کا کیا خیال ہے؟
COPRA کے عائد ہونے سے مرکزی اور ریاستی حکومتوں میں صارفین کے امور کے الگ محکمے قائم کیے گئے ہیں۔ پوسٹر جو آپ نے دیکھا  وہ ایک مثال ہے جس کے ذریعے حکومت قانونی کارروائی کے بارے میں معلومات کی اشاعت کرتی ہے۔ ان معلومات کا لوگ استعمال کرسکتے ہیں ۔آپ نے ٹیلی ویژن چینل پر بھی اس طرح کے اشتہار دیکھے ہوں گے۔
pic13 chapter 5

ISI اور ایگ مارک 

کور پر موجود بہت سی اشیا کو خریدتے وقت آپ نےISI، ایگ مارک یا ہال مارک حروف کے ساتھ ایک لوگو دیکھا ہوگا۔ یہ لوگو اور تصدیق صارفین کے ذریعہ اشیا اور خدمات کی خریداری کے وقت کوالٹی کو یقینی بنانے میں مدد کرتی ہے۔ تنظیمیں جو نگرانی کرتی ہیں اور ان تصدیقات کو جاری کرتی ہیں وہ پیداکاروں کو اس بات کی اجازت دیتی ہیں کہ وہ اپنے لوگو کا استعمال کر سکتی ہیں بشرطیکہ کہ وہ بعض کوالٹی معیارات کی پابندی کریں۔
اگرچہ یہ تنظیمیں بہت سی اشیا کے لیے کوالٹی معیارات کو فروغ دیتی ہیں لیکن ان معیارات کی پابندی کرنا سبھی پیداکاروں کے لیے لازمی نہیں ہے۔ تاہم کچھ اشیا کے لیے جو صارفین کی صحت و سلامتی پر اثر انداز ہوتی ہیں یا عوامی صرف کی اشیا جیسے ایل پی جی سلنڈر، غذا کے رنگ اور آمیزش، سیمنٹ، پیک کیے ہوئے پینے کے پانی کے لیے پیداکاروں کی طرف سے یہ ضروری ہے کہ وہ ان تنظیموں سے توثیق حاصل کرلیں۔

pic 14 chapter 5pic 15 chapter 5


آئیے انھیں حل کریں

اس باب میں پوسٹروں اور کارٹونوں پر نظر ڈالیں۔ کسی خاص شے اور پہلوؤں کے بارے میں سوچیں جن پر صارف کی حیثیت سے نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ایک پوسٹر وضع کریں۔
اپنے علاقے میں قریبی صارف عدالت دریافت کریں۔
صارف تحفظ کونسل اور صارف عدالت کے درمیان کیا فرق ہے؟
(i)  انتخاب کا حق۔ (iv)  نمائندگی کا حق۔
(ii)  معلومات حاصل کرنے کا حق۔ (v) سلامتی کا حق۔
(iii)  دادرسی کا حق ۔ (vi) صارف تعلیم کا حق۔
مختلف عنوان کے تحت درج ذیل کیس کی زمرہ بند کریں اور بریکٹوں میں ہر ایک کے مقابل نشان لگائیں۔
(a) نئی خریدی ہوئی استری (Iron) سے لتاکو بجلی کا جھٹکا لگا۔ اس نے دوکاندار سے فوراً شکایت کی (      )
(b)  جان پچھلے مہینے سے MTNL کے ذریعہ فراہم کی گئی خدمات سے مطمئن نہیں ہے۔ وہ ضلعی سطح کے فورم میں کیس دائر کرتا ہے۔(      )
(c)آپ کے دوست کو ایک دو افروخت کی گئی ہے جس کی تاریخ انتہا ختم ہوچکی ہے اور آپ اس کو صلاح دے رہے ہیں ایک شکایت درج کرائے 
(         )
(d)  اقبال کوئی بھی سامان جو وہ خریدتا ہے کے پیک پر دی گئی سبھی تفصیلات چھان بین ضروری سمجھتا ہے (      )
(e)  کیبل آپریٹر کی خدمات سے آپ مطمئن نہیں ہیں جو آپ کے علاقے کو دیکھتا ہے لیکن آپ کسی اور سے یہ خدمات نہیں بدل پاتے (      )
(f) آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ نے کسی ڈیلر سے ناقص کیمرہ حاصل کیا ہے۔ آپ ہیڈ آفس شکایت کرنے مستقل جاتے رہتے ہیں۔( )
اگر معیار بندی شے کی کوالٹی کو یقینی بناتی ہے ، ISI یا ایگ مارک کی تصدیق کے بغیر بازار میں کیوں بہت سی اشیا دستیاب ہیں؟
تفصیل دریافت کیجیے کہ کون ہال مارک اور ISO تصدیق فراہم کرتاہے۔

صارف تحریک کو آگے بڑھانا

ہندوستان میں 24 دسمبر کو قومی صارفین دن کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ یہ دن وہ دن تھا جب ہندوستانی پارلیمنٹ نے 1986 میں صارف ایکٹ پاس کیا۔ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں صارف داد رسی کے لیے خصوصی عدالتیں ہیں۔
ہندوستان میں صارف تحریک نے منظم گروپوں کی تعداد اور ان کی سرگرمیوں کی اصطلاح میں کچھ پیش رفت کی ہے۔ ملک میں آج کل صارف گروپوں کی تعداد2000 سے زیادہ ہے جس میں تقریباً 60-50 اپنے کام میں بہتر طور پر منظم اور تسلیم شدہ ہیں۔
pic 16 chapter 5
تاہم صارف دادرسی عمل باعث زحمت ،مہنگا اور وقت طلب بن چکا ہے۔ بہت بار صارفین کو وکیل کرنا پڑتا ہے۔ ان مقدموں کو دائر کرنے اور عدالتی کارروائیوں وغیرہ میں حاضر ہونے کے لیے کافی وقت لگتا ہے ۔ زیادہ تر خریداریوں میں کیش میمو نہیں جاری کیے جاتے لہٰذا گواہی مہیا کرنا آسان نہیں ہوتا۔ مزید برآں بازار میں زیادہ تر خریداریاں چھوٹی دوکانوں میں کی جاتی ہیں۔ ہندوستانی صارفین کے حقوق کو مستحکم بنانے کے لیے2019میں COPRAمیں ترمیم کی گئی۔ اب اس میں انٹرنیٹ کے ذریعے خریداری کو بھی شامل کیاگیاہے۔ اگر کسی سامان میں خامی یا خرابی پائی جاتی ہے توفراہم کردہ اور بنانے والے کوبھی ذمہ دار کہا جائے گا اوراسے سزا دی جائے گی۔ حتٰی کہ اسے جیل بھی بھیجا جاسکتاہے۔ صارف عدالت کے باہر بچولیے کی مدد سے تنازعہ کے حل کے لیے صارف عدالت کی تمام تین سطحوں پر ترغیب دی جائے گی۔ COPRA
 کے نفاذ کے 25 سال سے زائد عرصے کے بعد ہندوستان میں صارف بیداری پھیل تو رہی ہے لیکن بہت دھیرے دھیرے ۔ اس کے علاوہ ان قوانین کا نفاذ جو ورکرس کو تحفظ فراہم کرتے ہیں بطور خاص غیر منظم سیکٹروں میں زیادہ کمزور ہے۔ 
اسی طرح بازاروں کے کام کے لیے ضوابط و قواعد کی تعمیل اکثر نہیں کی جاتی۔تاہم صارفین کو اپنے کردار اور اہمیت کو محسوس کرنے کی کافی گنجائش ہے۔ یہ اکثر کہا جاتا ہے کہ صارف تحریکیں صرف اسی وقت موثر ہوسکتی ہیں جب صارفین کی سر گرم شمولیت ہو۔

مشقیں

 1۔ بازار میں قواعد و ضوابط کیوں ضروری ہیں۔ کچھ مثالوں کے ساتھ سمجھائیے۔
وہ کون سے عوامل تھے جن سے ہندوستان میں صارف تحریک پیدا ہوئی۔ اس کے ارتقاکے بارے میں پتہ کیجیے۔
دو مثالیں دیتے ہوئے صارف بیداری کی ضرورت کی وضاحت کیجیے۔
ان کچھ عوامل کا ذکر کیجیے جو صارفین کے استحصال کا سبب بنے ۔
صارف تحفظ ایکٹ 1986 کے نفاذ کے بنیاد کی توجیہ کیا ہے؟
اگر آپ اپنے علاقے کے شاپنگ کمپلیکس کا دورہ کریں تو صارف کے طور پر اپنے کچھ فرائض بیان کیجیے۔
فرض کیجیے کہ آپ ایک شہد کی بوتل اور  بسکٹ پیکٹ خریدتے ہیں ۔ کون سا لوگویا نشان آپ تلاش کریں گے اور کیوں؟
ہندوستان میں صارفین کو مجاز بنانے کے لیے حکومت کے ذریعہ کون سے قانونی اقدامات اختیار کیے جاتے ہیں؟
صارفین کے بعض حقوق کا ذکر کیجیے اور ہر ایک پر کچھ جملے لکھیے۔
10 ۔ صارفین اپنے اتحاد عمل کا اظہار کن ذرائع سے کرتے ہیں۔
11۔ ہندوستان میں صارف تحریک کی پیش رفت کا تنقیدی جائزہ لیجیے۔
12۔ درج ذیل کا ملان کیجیے۔
(i) شے کے اجزائے ترکیبی کی تفصیلات سے استفادہ کرنا (a) سلامتی کا حق
(ii) ایگ مارک   (b)  صارف معاملات کو برتنا
(iii) اسکوٹر میں ناقص انجن کے سبب حادثہ(c) خوردنی تیل اور اناجوں کی تصدیق 
 (iv) ضلعی صارف عدالت(d) وہ ایجنسی جو اشیا اور خدمات کے لیے معیارات کو فروغ دیتی ہے
 (v) غذائی ذخیرہ اندوزی (e) معلومات حاصل کرنے کاحق
(vi)کنزیومر انٹر نیشنل (f) صارف بہبود تنظیم کا عالمی سطح کا ادارہ
(vi) ہندوستانی معیارات کا بیورو (g)غذائی اشیا میں اہم غذائی اجزا کا اضافہ

13۔ صحیح یا غلط بتائیں
(i)  COPRA کا اطلاق صرف اشیا پر ہوتا ہے۔
(ii)دنیا کے بہت سے ممالک میں ہندوستان بھی شامل ہے جس میں صارف کی دادرسی کے لیے مخصوص عدالتیں ہیں۔
(iii) جب صارف محسوس کرتا ہے کہ اس کا استحصال کیا گیا ہے تو اسے ضلعی صارف عدالت میں مقدمہ دائر کرنا چاہیے۔
(iv)  اگر ہونے والے نقصانات کی قیمت بہت زیادہ ہے تو یہ زیادہ بہتر ہے کہ صارف عدالتوں میں جایا جائے۔
(v)  ہال مارک ہیرے جواہرات کی معیار بندی قائم رکھنے کی توثیق ہے۔
(vi)  صارف دادرسی عمل بہت آسان ہے اور اس پر تیزی سے عمل ہوتا ہے۔
(vii) صارف کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ تلافی یا ہرجانہ حاصل کرے جو اس بات پر منحصر ہے کہ نقصان کی نوعیت کیا ہے۔
اضافی پروجیکٹ/سرگرمیاں
 آپ کا اسکول ایک صارف بیداری ہفتہ منظم کرتا ہے۔ صارف آگہی فورم کے سیکورٹی کی حیثیت سے ایک پوسٹر بنائیں جس میں سبھی صارف حقوق کاا حاطہ کیا گیا ہو۔ آپ صفحہ 84 اور 85 میں دیے گئے پوسٹر کے اشارات اور تصورات کا استعمال کرسکتے ہیں۔ یہ سرگرمی اپنے انگریزی استاد کی مدد سے انجام دے سکتے ہیں۔
2۔  مسز کرشنا نے ایک رنگین ٹیلی ویژن (CTV) چھ مہینے کی وارنٹی پر خریدا ۔ رنگین ٹیلی ویژن تین مہینے چلنے کے بعد خراب ہوگیا۔ جب اس نے ڈیلر/دوکان سے شکایت کی جہاں اسے خریدا گیا تھا۔ تب اس نے اسے ٹھیک کرنے کے لیے ایک انجینئر بھیجا۔ رنگین ٹیلی ویژن میں مستقل پریشانی رہی اور مسز کرشنا ڈیلر/دوکان سے جو شکایت کرتی رہی اس کا کوئی جواب نہیں مل سکا۔ اس نے اپنے علاقے کے صارف فورم کو لکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس کی طرف سے آپ ایک خط لکھیں۔ آپ اسے لکھنے سے پہلے اپنے دوست یا گروپ کے ممبروں سے بحث کرسکتے ہیں۔
3۔  اپنے اسکول میں ایک صارف کلب قائم کیجیے اپنے اسکولی ایریا میں ایک مصنوعی صارف بیداری ورکشاپ جیسے کتابوں کی دوکانوں ، کینٹین اور دوکانوں کی نگرانی کے اہتمام سے متعلق کیجیے۔
 ایک پوسٹر تیار کریں جس میں جاذب توجہ نعرے دیے گئے ہوں جیسے:
- ایک چوکس صارف محفوظ صارف ہے
- خریدار و، خبردار رہیں
- صارفین چوکس بنیں
- اپنے حقوق کے بارے میں آگاہ رہیں
- صارف کی حیثیت سے اپنے حق کا اصرار کریں
- اٹھو، جاگو اور ----- تک نہ رکو (پورا کریں)
 اپنے پڑوس میں 4،5 افراد کے انٹرویو لیجیے اور وہ کس استحصال کے شکار ہوئے۔ اس سلسلے میں ان کے مختلف تجربات اکٹھا کیجیے اور ان کے جوابی عمل معلوم کیجیے۔
 اپنے علاقے میں درج ذیل سوالنامہ فراہم کرنے کے ذریعہ ایک سروے کا اہتمام کیجیے تاکہ یہ تصور مل سکے کہ انھیں صارفین کی حیثیت سے کس طرح خبردار کیا جائے۔


ہر سوال کے لیے ایک نشان لگائیے
ہمیشہ
کبھی کبھی کبھی نہیں
1 جب آپ کچھ سامان خریدتے ہیں توکیا آپ بل لینے کے لیے زور دیتے ہیں؟
2 کیا آپ بل کو احتیاط کےساتھ رکھتے ہیں؟
3 کیا آپ کو محسوس ہواہے کہ دوکاندار نےآپ کے ساتھ فریب کیاہے اورکیا آپ نے شکایت کرنے کی زحمت اٹھائی؟
4 کیا آپ اس کو قائل کرسکے کہ آپ کے ساتھ دھوکا ہواہے؟
5 کیا آپ کو خود سے اس بات کی شکایت رہی ہے کہ آپ اکثر شکار بنتےرہتے ہیں اور اس میں کچھ نیا نہیں ہے اوراسے تقدیر سمجھ کر برداشت کرتےرہےہیں۔
6 کیا آپ ISIنشان ،تاریخ انتہا(expiry date)وغیرہ دیکھتے ہیں؟
7 اگر تاریخ انتہا صرف ایک مہینے کی یا تھوڑا زیادہ لکھی ہے توکیا آپ تازہ پیکٹ پر اصرار کرتے ہیں؟
8 کیا آپ نئے گیس سلنڈر/پرانے اخبارات وغیرہ کا وزن خریدنے یا فروخت کرنے سے پہلے خود کرتے ہیں؟
9 اگر سبزی والا اصل وزن کی جگہ پتھروں کا استعمال کرتاہے توکیا آپ اعتراض کرتے ہیں؟
10 کیا بہت زیادہ تیز رنگ کی سبزیوں سے آپ کو شک پیدا ہوتاہے؟
11 کیا آپ برانڈ کے بارے میں باشعور ہیں؟
12 کیا آپ اچھی کوالٹی کے ساتھ اونچی قیمت کو جوڑتے ہیں(خود کو یقین دلانے کے لیے کہ بہرحال آپ نے اس طرح زیادہ قیمت نہیں دی ہے؟)
13 کیا آپ بغیر ہچککچائے پُرفریب آفر کو قبول کرتے ہیں؟
14 کیا آپ دوسروں کے ساتھ اپنی ادا کی گئی قیمت کا موازنہ کرتے ہیں؟
15 کیا آپ کو پورا یقین رہتاہے کہ دوکاندار آپ جیسے باقاعدہ گاہک کے ساتھ کبھی دھوکا نہیں کرے گا؟
16 کیا آپ وزن وغیرہ کے بارے میں کوئی شبہ کیے بغیر غذائی سامانوں کی ہوم ڈیلیوری کے حق میں ہیں؟
17 کیا آپ جب آٹو میں سفرکرتے ہیں تومیٹر کے ذریعہ ہی ادائیگی پر زور دیتے ہیں؟

نوٹ:

(i)آپ صارف کی حیثیت سے کافی باخبر ہیں اگر آپ کا جواب سوال نمبر 5,12,13,15اور16کے لیے(C)ہے اور باقی کے لیے (A)ہے۔
(ii)اگر آپ کا جواب  5,12,13,15اور16کے لیے(A)ہے اور باقی کے لیے (C)ہے تو آپ کو صارف کے طورپربیدار ہوناپڑے گا۔
(iii)اگر آپ کا سوال سبھی سوالوں کے لیے(B)ہے تو آپ کسی حد تک باخبر ہیں۔

sawalat chapter 5

zameema 1 chapter 5
zameema 2 chapter 5
mutalaat chapter 5