1
یوروپ میں قوم پرستی کا عروج

شکل 1: عالمی عوامی سماجی جمہورتیوں کا خواب–قوموں کے درمیان معاہدہ۔ فریڈرک سوریوکی بنائی ہوئی تصویر1848
1848میں ایک فرانسیسی فنکار فریڈرک سوریو(Frederic Sorrieu) نے چارتصویری خاکوں کا یک سلسلہ تیار کیا جس میں اس نے اپنے خوابوں کی ایک ایسی دنیا کا تصور پیش کیا جوجمہوری اور سماجی ریاستوں سے بنی ہو،اس سلسلے کے پہلے خاکے(شکل نمبر1) میں یوروپ اور امریکہ کے مرد اور عورتیں،مختلف عمروں اور طبقوں سے تعلق رکھنے والے ایک لمبی قطارمیں ’’آزادی کے مجسمے‘‘کے سامنے سے گذرتے ہوئے اسے خراجِ عقیدت پیش کررہے ہیں—آپ کو یاد ہوگا کہ فرانسیسی انقلاب کے وقت فنکاروں نے آزادی کو ایک مؤنث شبیہ کی حیثیت میں پیش کیا تھا۔یہاں پر آپ اس مشعلِ علم کو پہچان سکتے ہیں جو وہ اپنے ایک ہاتھ میں لیے ہوئے ہے اور دوسرے میں حقوق انسانی کا منشور—تصویرمیں سامنے کرہ ارض پر بکھرے ہوئے اجزا مطلق العنان(absolutist) اداروں کی علامتیں ہیں—فریڈرک سوریو کی مثالی دنیا کے اس خاکے میں دنیا کے لوگ واضح طورپر الگ الگ قوموں میں نظرآتے ہیں اور ان کی شناخت ان کے جھنڈے اور قومی لباس سے کی جاسکتی ہے۔اس جلوس کی رہنمائی امریکہ اور سوئزرلینڈ کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں جو مجسمہ آزادی کے سامنے سے گذررہے ہیں یہ اُس وقت ایک نیشن اسٹیٹ کا درجہ حاصل کرچکے تھے فرانس،جس کو انقلابی ترنگے سے پہچانا جاسکتا ہے،بس ابھی ابھی مجسمہ کے پاس پہنچا ہے۔اس کے پیچھے جرمنی کے عوام ہیں کالا،سرخ اور سنہرا جھنڈا لیے ہوئے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جب سوریو نے یہ خاکہ پیش کیا تھا اس وقت تک جرمن لوگوں کاایک متحدہ قوم کی حیثیت سے وجود بھی نہیں تھا۔جو جھنڈا وہ اٹھائے ہیں وہ دراصل 1848میں ان روشن خیال آرزوؤں اور امنگوں کی علامت ہے جن کے پیش نظر جرمن زبان بولنے والے مختلف عمل داریوں کو ایک جمہوری دستور کے تحت ایک قومی ریاست دیکھنا چاہتے تھے۔جرمن عوام کے پیچھے آسٹریا دو صقلیہ کی سلطنت، لمبارڈی،پولینڈ،انگلینڈ، آئر لینڈ،ہنگری اور روس کے لوگ ہیں— اوپر آسمان سے عیسیٰ مسیح،فرشتے اور صوفیااس منظر کو دیکھ رہے ہیں۔ فن کار نے ان کو دنیا کے لوگوں میں بھائی چارہ کی علامت کے طورپر استعمال کیا ہے۔
نئے الفاظ
مطلق العنان(Absolutist): لغوی طور سے وہ حکومت یا نظام جس کی طاقت کے استعمال پر کوئی روک ٹوک نہ ہو۔ تاریخی طورپر یہ اصطلاح ایسی بادشاہت کی طرف اشارہ کرتی ہے جو مرکزی ، فوجی اور جابرانہ ہو۔
اتوپین(Uttopian): ایک ایسی مثالی دنیا کا تصور جس کا حصول اپنی خوبیوں کی وجہ سے قریب قریب نا ممکن ہو۔
سرگرمی
آپ کے خیال میں یہ خاکہ (تصویر ) کس طرح اتوپین تصور کی نمائندگی کرتا ہے؟
ارنسٹ رینان : قوم (Nation)کیا ہے؟
فرانسیسی فلسفی ارنسٹ رینان (92-1823)نے 1882میں یونیورسٹی آف سوربون میں ایک لکچر کے دوران بتایا کہ ان کی فہم کے مطابق قوم کی تشکیل کس طرح ہوتی ہے۔ بعد میں یہ لکچر، قوم کیا ہے؟ کے عنوان سے طبع ہوا۔ اس مضمون میں رینان نے دوسروں کے اس خیال کو غلط بتایا کہ قوم کا مطلب ایک مشترکہ زبان ، نسل ، مذہب اور خطۂ ارض ہے۔
’’ایک قوم عرصے تک کی گئی دوڑ دھوپ، جدوجہد، قربانیوں اورجاں نثاریوں کے طویل ماضی کانقطۂ عروج ہے۔ ایک مایہ ناز ماضی، عظیم افراد اورجلال و شکوہ وہ معاشرتی سرمایہ ہے جس پر قومیت کے تصورکی یہ اساس ہوتی ہے۔ ماضی کے باہمی کارنامے،حال میں مشترک ارادے اور امنگیں، بڑے بڑے کاموںکی مشترکہ جدوجہد، کچھ اور کرنے کی تمنا، ایک قوم ہونے کی بنیادی شرائط ہیں۔ لہٰذا ایک قوم دراصل وسیع پیمانے پر ایک دوسرے کو جوڑنے والا اتحاد ہے۔ اور اس کی بقاووجود روزانہ کا استصواب(Plebiscite) ہے۔ اس کاقلمرو ۔ اس کے باشندے ہیں اورصلاح مشورے کا حق صرف رہنے والوں کو ہے۔ ایک قوم کسی دوسرے ملک کو اس کی مرضی کے خلاف اپنے میں ضم کرنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتی۔ قوموں کا وجود ایک اچھی بات ہے۔ بلکہ ضروری ہے۔قوموں کا وجود آزادی کی ضمانت ہے ۔ اگر دنیا میں ایک آقا اور ایک ہی قانون ہو تو یہ آزادی ختم ہو جائے گی۔
نئے الفاظ
استصواب : ایک براہ راست ووٹ جس کے ذریعہ ایک علاقے کے تمام لوگ کسی تجویز کو منظور یا رد کرتے ہیں۔
تبادلۂ خیال کیجئے
رینان کے خیال کے مطابق قوم کی کیا خصوصیات ہیں، مختصر بیان کیجیے۔ اس کے خیال میں قومیں کیوں اہم ہیں؟
یہ باب ایسے کئی مسائل سے بحث کرے گا جس کا تصور سوریو نے شکل نمبر1میں پیش کیا ہے۔انیسویں صدی میں قوم پرستی (نیشنلزم)ایک ایسی قوت کی طرح سامنے آئی جو یورپ کی سیاسی اور ذہنی دنیا میں وسیع بنیادی تبدیلیاں لائی۔ ان تبدیلیوں کا نتیجہ یورپ کی متعدد قوموں والی سلطنتوں کی جگہ قومی ریاست (Nation—State)کا ظہور تھا۔ایک ایسی جدید ریاست کا تصور اور اس کے طورطریقے جس میں ایک مرکزی حکومت کو ایک مخصوص خطۂ ارض پر مکمل اختیار حاصل ہو، یورپ میں ایک طویل عرصہ سے تشکیل پارہا تھا لیکن قومی ریاست سے مراد ایک ایسی ریاست تھی جس کے شہریوں کی اکثریت ،صرف اس کے حکمراں ہی نہیں،ایک مشترکہ شناخت رکھتی ہو اور ایک مشترکہ موروثی تاریخ سے جڑی ہوئی ہو۔یہ اجتماعیت زمانۂ قدیم سے نہیں چلی آرہی تھی بلکہ رہنماؤں اور عوام کے عمل اور جدوجہد کے ذریعہ وجود میں آئی تھی۔ یہ باب ان مختلف اور متضاد منہاج اور طریقہ ہائے کارسے بحث کرے گا جس کے وسیلے سے انیسویں صدی کے یورپ میں قوم پرستی اور قومی ریاست کا وجود عمل میں آیا۔
1۔انقلاب فرانس اور قوم کاتصور
قومیت کے بارے میں اولین واضح تصورانقلاب فرانس1789کے ساتھ آیا۔ فرانس جیساکہ آپ کو یاد ہوگا1789میں ایک مطلق العنان بادشاہ کے تحت مکمل طورسے واضح سرحدوں کے ساتھ ایک ریاست تھی۔انقلاب فرانس کے ساتھ جو سیاسی اوردستوری تبدیلیاں عمل میں آئیں انھوں نے بادشاہت کو فرانسیسی شہریوں کی ایک حکمراں ٹولی سے بدل دیا۔انقلاب نے یہ اعلان کردیا کہ اب عوام قوم کی اساس ہوں گے اور وہی اس کی قسمت کا تعین کریں گے۔
انقلابیوں نے شروع ہی سے ایسے اقدامات کیے اور ایسے طور طریقے اپنائے جو فرانسیسی عوام میں ایک اجتماعی شناخت کا شعور پیداکرسکیں ’مادروطن‘اور ’شہری‘کی اصطلاحات نے ایک ایسی کمیونٹی کے تصور پر زور دیا جس میں دستور کے تحت ہر کس وناکس مساوی حقوق سے بہرہ یاب ہوگا۔پرانے شاہی جھنڈے کی جگہ ایک عوامی ترنگے کا انتخاب کیاگیا۔فعال شہریوں کی ایک جماعت نےEstates Generalکا انتخاب کیا جس کا نیا نام نیشنل اسمبلی رکھاگیا ،نئے گیت لکھے گئے، حلف اٹھائے گئے ،شہیدوں کویاد کیاگیااور انھیں خراج عقیدت پیش کیا گیا اور یہ سب ملک وقوم کے نام پر ہوا۔ ایک مرکزی انتظامی نظام کا قیام عمل میں آیا اور اس نے ملک کی سرحدوں کے اندر رہنے والے تمام شہریوں کے لیے ایک ہی طرح کے قانون وضع کیے۔ چنگی اور داخلی محصول کو ختم کرکے وزن اور پیمانے کا ایک مساوی نظام اختیار کیاگیا۔علاقائی بولیوں (زبانوں)کی حوصلہ شکنی کی گئی اور پیرس میں مروجہ گفتگو اور تحریر کی فرانسیسی زبان کو پوری فرانسیسی قوم کی مشترکہ زبان بنایا گیا۔
انقلابیوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ فرانسیسی قوم کامشن اورمقدریہ ہے کہ وہ یورپ کے دوسرے عوام کو جبر واستبداد کے نظام سے نجات دلائیں۔ دوسرے الفاظ میں یورپ کے دوسرے لوگوں کو ’قومیں‘بننے میں مدد کری۔جب فرانس میں رونما ہونے والے واقعات کی خبریں یورپ کے دوسرے شہروں میں پہنچیں تو طلبااور تعلیم یافتہ مڈل کلاس کے اراکین نےJacobin Clubsقائم کرنا شروع کردیے۔
ان کی سرگرمیوں اور ان کی مہموں نے فرانسیسی فوجوں کے لیے راہ ہموار کردی اوروہ 1790کی دہائی میں ہالینڈ،بلجیم،سوئزرلینڈاور اٹلی کے خاصے بڑے علاقے میں داخل ہوگئیں۔ان انقلابی جنگوں میں فرانسیسی انقلابیوں کو موقع ملا اور انھوں نے نیشنلزم یا قوم پرستی کے نظریے کو بیرونی ملکوں میں پھیلانا شروع کردیا۔
شکل 2:ایک جرمن کلینڈر کا سرورق جس کو 1798میں صحافی آندرے ریبومان(Andreas Rebomon) نے بنایا
انقلابی ،فرانس کے سرکاری قید خانے پر حملہ کرتے ہوئے۔ برابر میں ایسا ہی ایک اور قلعہ جو کہ جرمنی کے صوبے کیسل کی جابر حکومت کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس تصویر کے ساتھ یہ نعرہ بھی ہے کہ عوام کو اپنی آزادی خود حاصل کرنی چاہیے۔ ریبومان Mainzکے شہر میں رہتا تھا اور جرمن جیکوبِن گروپ کا ممبر تھا۔
شکل 3:1815کی ویانا کانگریس کے بعد کا یوروپ
نیپولین نے اس وسیع خطۂ ارض پر جو اس کے دائرہ اقتدار میں آیاان اصلاحات کو نافذ کرنے کی کوشش کی جو وہ فرانس میں پہلے ہی متعارف کراچکا تھا۔ اگرچہ بادشاہت کی جانب مراجعت سے نیپولین نے بلاشبہ فرانس میں جمہوریت کو تاراج کردیا لیکن اس نے انتظام و انصرام کے میدان کو زیادہ معقول اور مؤثر بنانے کے لیے انقلابی اصولوں کو نافذکیا۔1804کے سوِل کوڈ نے—جسے عام طورسے نیپولین کوڈ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے—نسب کی بنیاد پر دی گئی تمام مراعات کا خاتمہ کردیا۔قانون کے سامنے سب کو برابری کا درجہ دیا اور ملکیت کے حقوق تفویض کیے۔یہ کوڈ فرانس کے کنٹرول والے علاقوں میں پہنچایا گیا ۔نیپولین نے جمہوریہ ہالینڈ، سوئزرلینڈ،جرمنی اور اٹلی میں انتظامی ڈیویژنوں کے کاموںکو آسان کیا۔جاگیردارانہ نظام کو ختم کیا اور کسانوں کوبندھوامزدوری اورقرضوں سے نجات دلائی شہروں میں مفاد پرست گروہوں کی عائد کی ہوئی پابندیوں کو ختم کیا۔ذرائع نقل وحمل کو بہتر بنایا کسان،دستکار،کامگار اور نئے تاجر ایک نویافت آزادی کے مزے لوٹنے لگے—تاجروں اور خاص طور سے چھوٹے پیمانے پر سامان تیار کرنے والوں کو یہ احساس ہونے لگا کہ مساویانہ قانون، معیاری وزن اور پیمانے اور ایک مشترک قومی سکہ، سامان تجارت اور سرمایہ کو ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقل کرنے کے کام میں سہولت پیدا کرے گا۔
بہرحال مفتوحہ علاقوں میں مقامی آبادی کافرانسیسی حکومت کی جانب ملاجلا رد عمل تھا۔ابتدامیں ہالینڈ،سوئزرلینڈ،بروسلز،مینز،ملان اور وارسا میں فرانسیسی افواج کا استقبال آزادی کے پیامبروں کی حیثیت سے کیا گیالیکن جیسے ہی یہ احساس ہوا کہ نئے انتظامی معاملات،سیاسی آزادی کے ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے،ابتدائی جو ش وخروش دشمنی میں بدل گیا۔ٹیکسوں میں اضافہ،سنسرشپ اور بقیہ یوروپ کو فتح کرنے کے لیے فرانسیسی فوج میں بھرتی نے انتظامی تبدیلیوں اور اصلاحات کی افادیت کو بہت کم کردیا۔

شکل 4: آزادی کا درخت لگایا جانا (ZWEIBRUCKEN)جرمنی
جرمن آرٹسٹ کارل کا سپر فنٹز کی اس رنگین تصویر کا موضوع زبیرو کن شہر پر فرانسیسی افواج کا قبضہ ہے۔ فرانسیسی سپاہیوں کو ان کی نیلی سفید اور سرخ وردی سے پہچانا جا سکتا ہے۔ یہاں ان کی تصویر کشی ایک ظالم کی صورت میں کی گئی ہے۔ انھوں نے ایک کسان کی گاڑی ضبط کرلی ہے۔ (بائیں) کچھ عورتوں سے زبردستی کر رہے ہیں (درمیان)ایک کسان کو گھٹنوں پر جھکنے کے لیے مجبور کررہے ہیں ۔ آزادی کے درخت پر جو تختی آویزاں کی جارہی ہے۔ اس میں جرمن زبان میں یہ عبارت کندہ ہے ۔ ’آزادی اور مساوات ہم سے لو۔ انسانیت کا نمونہ ، یہ فقرہ فرانس کے اس دعویٰ کا طنزیہ حوالہ ہے کہ وہ مقبوضہ علاقوں کو بادشاہت سے نجات دلانے والے ہیں۔
شکل 5:رائن لینڈ کا پوسٹ مین لیب زگ سے گھر جاتے ہوئے راستے میں اپنا سب کھو دیتا ہے۔
اس تصویر میں نیپولین کو ایک پوسٹ مین کی طرح دکھایا گیا ہے جو 1813میں لیپ زگ کی جنگ ہار کر گھر جارہا ہے ۔ اس کے تھیلے سے گرتے ہوئے ہر خط پر اس علاقے کا نام ہے جو اس نے جنگ میں ہاراہے۔
2۔یوروپ میں قوم پرستی کا معرض وجودمیں آنا
اگر آپ اٹھارھویں صدی کے وسط کے یوروپ کے نقشہ پر نظر ڈالیں تو آپ دیکھیں گے کہ اس وقت آج جیسی قومی ریاستیں (Nation—States) موجود نہیں تھیں۔
آج کا جرمنی ،اٹلی اور سوئزرلینڈ اس وقت سلطنتوں اور چھوٹی چھوٹی وفاقی ریاستوں میں بٹا ہواتھا اور ان کے حکمراں اپنے اپنے خودمختار علاقوں کے مالک تھے۔مشرقی اور وسطی یورپ جس میں الگ الگ قسم کے لوگ رہتے تھے،جابر بادشاہوں کے زیرنگیں تھے—وہ لوگ ایک مشترک شناخت یا مشترک ثقافت میں اپنے آپ کو شامل بھی نہیں سمجھتے تھے یہ لو گ یکسر مختلف زبانیں بولتے تھے اور مختلف نسلوں سے تھے۔مثال کے طورپر آسٹریا،ہنگری پر حکومت کرنے والی ہیس برگ (Habsburg Empire)ایمپائر بہت سے مختلف لوگوں اور مختلف علاقوں کی پیوندکاری تھی۔اس سلطنت میں الپائن کا علاقہ—جس میں ٹائرول، آسٹریااور Sudetenland ساتھ ہی بوہیما شامل تھے جہاں کے حکمراں طبقۂ اشرافیہ میں زیادہ تر لوگ جرمن زبان بولنے والے تھے۔ اس کے علاوہ اس میں اطالوی بولنے والے صوبے لمبارڈی اور وینیشیا بھی شامل تھے۔ہنگری کی آدھی آبادی میگیار(Magyar) زبان بولتی تھی اوربقیہ آدھی آبادی دوسری کئی مختلف مقامی زبانوں میں بات کرتی تھی۔گالیشیا میں اشراف کی زبان پولش تھی—ان تین نمایاں گروہوں کے علاوہ اس سلطنت میں کاشتکار رعایا کا ایک بڑا طبقہ بسا ہوا تھا۔ان میں شمال کی طرف بوہمین اور سلوواک،سلوئینز ،کارنی اولا جنوب میں کروٹس اور مشرق کی جانب ٹرانسلوینیا میں راؤمن کا نام لیا جاسکتا ہے۔ایسے اختلافات کی موجودگی میں ایک سیاسی وحدت کا تصور بہت مشکل تھا۔ان مختلف صفات لوگوں کی صرف ایک قدر مشترک تھی اور وہ بادشاہ کے ساتھ ان کی محکومی تھی۔
نیشنلزم اورنیشن—اسٹیٹ (nation—state) کا تصور کیسے پیداہوا؟
کچھ اہم تاریخیں
1797
نیپولین کا اٹلی پر حملہ نیپولین جنگوں کی شروعات ۔
1814-1815
نیپولین کا زوال، ویانا کا امن معاہدہ
1821
یونان کی آزادی کی جدو جہد کی ابتدا
1848
یوروپ میں انقلاب —دستکار، صنعتی مزدور اور کسان معاشی دباؤ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ، مڈل کلاس کی مانگ دستور اور نمائندہ حکومت کی تھی۔ جرمن ، مگیار، اطالوی پولش نژاد چک وغیرہ سب لوگ قومی ریاست کا مطالبہ کرنے لگے۔
1859-1870
اٹلی کا اتحاد
1866-1871
جرمنی کا اتحاد
1905
ہیبس برگ اور عثمانی سلطنتوں میں سلاو قوم کی جڑیں مضبوط
2.1اشراف اور نیا مڈل کلاس
سیاسی اور سماجی طور سے جاگیرداراشراف براعظم میں سب سے مقتدر گروہ تھا—اس کلاس کے ممبروں میں قدرمشترک ایک مخصوص طرززندگی تھا جو علاقائی تقسیموں سے بے نیاز تھا۔ان لوگوں کی مضافاتی علاقوں میں بڑی جاگیریں تھیں اور شہروں میں بھی مکانات تھے۔یہ لوگ اونچی سوسائٹی میں اور سیاسی اغراض و مقاصدکے لیے فرانسیسی زبان بولتے تھے—ان لوگوں کے خاندان عموماً ازدواجی رشتوں کے ذریعہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔لیکن اشراف کا یہ طاقتور گروہ تعداد کے لحاظ سے بہت چھوٹا تھا۔آبادی کی اکثریت کا شتکاروں کی تھی۔مغرب کی جانب معمولی اور چھوٹے زمینداراور کسان زمین کی کاشت کرتے تھے لیکن مشرقی اور وسطی یوروپ میں یہ طرز بدلا ہواتھااور یہاں بڑی بڑی جاگیروں پر کھیت مزدور کام کیا کرتے تھے۔
مغربی یورپ اور وسطی یورپ کے کچھ حصوں میں تجارت اور صنعت کی پیداوار میں اضافے کا مطلب شہروں کی ترقی اور ایک ایسے طبقہ کاوجود میں آنا تھا جو خالص تجارتی تھااور جس کی بقا کا انحصار منڈیوں کے لیے سامان تجارت پیدا کرنا تھااگرچہ انگلینڈ میں صنعتی انقلاب اٹھارھویں صدی کے دوسرے نصف میں شروع ہوچکاتھا لیکن فرانس اور جرمن ریاستوں کے کچھ حصے انیسویں صدی کے درمیان ہی اس سے متعارف ہوسکے۔اس کے جلو میں نئے سماجی طبقے وجود میں آئے۔توکام گارطبقے اور صنعت کاروں، تاجروںاور پیشہ وروں پر مشتمل اوسط طبقہ۔انیسویں صدی کے آخر تک وسطی اور مشرقی یورپ میں یہ گروہ اپنی تعداد کے لحاظ سے کم تھے۔یہ تعلیم یافتہ آزادخیال طبقات تھے جن کے اندراشراف کو ملی ہوئی مراعات کے خاتمہ کے تصور کے ساتھ ہی قومی وحدت کے تصور نے مقبولیت حاصل کی۔
2.2آزادخیال قوم پرستی کاکیا موقف تھا؟
ابتدائی انیسویں صدی کے یورپ میں قومی وحدت کا تصور رواداری یا فراخدلی کے ساتھ بہت مضبوطی سے جڑا ہواتھا۔آزادخیالیLiberalismکی اصطلاح اطالوی لفظLiberسے نکلی ہے جس کا مطلب ہے ’آزاد‘—مڈل کلاس کے لیےLiberalismکے معنی انفرادی آزادی اور قانون کے سامنے سب کی برابری تھا۔سیاسی طورپریہ نظریہ ایک منتخب نمائندہ حکومت پر زور دیتا ہے۔انقلاب فرانس کے بعد سے Liberalismجبرواستبداد کے خاتمے،کلیسائی مراعات کی منسوخی ایک دستور اور پارلیمنٹ کے ذریعہ ایک نمائندہ حکومت کے قیام کی علامت بن گیا تھا۔انیسویں صدی کے آزاد خیال اس میں ذاتی جائیداد کے احترام کو شامل کرنے پر بھی زور دیتے تھے۔
نئے الفاظ
Suffrage: حق رائے دہندگی۔ ووٹ ڈالنے کی آزادی
پھربھی قانون کے سامنے برابری کا مطلب یقینا عام حق رائے دہندگی نہیں تھا۔آپ کو یاد ہوگا کہ انقلابی فرانس میں،جو کہ آزادجمہوریت کا پہلا سیاسی تجربہ تھا،ووٹ دینے اورمنتخب ہونے کا اختیار صرف صاحب جائیداد مردوں کو تھا۔غیر صاحب جائداد مرد اور تمام عورتیں سیاسی حقوق سے محروم تھیں۔انتہاپسندانقلابیوں کے تحت صرف ایک مختصر مدت کے لیے تمام بالغ مردوں نے حق رائے دہندگی کا استعمال کیا۔نیپولین کو ڈ پھر محدود حق رائے دہندگی کی طرف لے گیا اور اس نے عورت کی حیثیت کو کمتر کرتے ہوئے اسے اپنے باپ یا شوہر کی رعایا ٹھہرایا۔پوری انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے شروع میں عورتیں اور غیر صاحب جائداد مردوں نے مساوی سیاسی حقوق کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی تحریکیں چلائیں۔ معاشی اعتبار سے Liberalismکا مطلب بازار اور منڈیوں کی خود مختاری،سامان اور سرمائے کی نقل وحرکت پر حکومت کی عائد کی ہوئی پابندیوں کا خاتمہ تھا۔انیسویں صدی میں ابھرتے ہوئے متوسط طبقہ کا یہ ایک پر زور مطالبہ تھا آیئے ہم انیسویں صدی کے نصف اول میں جرمن زبان بولنے والے علاقوں کی مثال لیتے ہیں۔نیپولین کے انتظامی اقدامات نے چھوٹی چھوٹی بے شمار جاگیروں کا، 39 ریاستوں کا ایک وفاق پیدا کردیاتھا۔ان میں سے ہر ایک اپنے الگ پیمانے وزن اور اپنی کرنسی رکھتا تھا۔ 1833 میں ہمبرگ سے نورمبرگ سامان بیچنے کی غرض سے جانے والا ایک تاجر گیارہ کسٹم چوکیوں سے گزرتا تھا اور ہر چوکی پر اس کو تقریباً پانچ فی صد ڈیوٹی اداکرناپڑتی تھی۔ یہ ڈیوٹی یا محصول سامان کے وزن یا ناپ کے اعتبار سے لگایاجاتاتھا۔کیونکہ ہر علاقے کے اپنے اپنے پیمانے اور اوزان تھے اس لیے اکثر اس کاروائی میں بہت وقت ضائع ہوتاتھا۔مثال کے طورپر کپڑے کا پیمانہ elleکہلاتاتھا لیکن ہر علاقہ میںelleکی لمبائی مختلف تھی۔مثلاً فرینکفرٹ میں خریدے ہوئے ایکelleکپڑے کی لمبائی54.7سینٹی میٹر،مینز(Mainz)میں55.1سینٹی میٹر،نورمبرگ میں65.6سینٹی میٹر اور فری برگ میں53.5سینٹی میٹر تھی۔
نئے تجارتی طبقے نے اس صورتحال کو معاشی تبادلے اور ترقی کی راہ میں ایک رکاوٹ سمجھا اور ایک یکساں معاشی علاقہ بنانے کا مطالبہ کیا جس میں آدمی،سامان اور سرمایہ آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ آجا سکے— 1834میں پروشیا کی پہل سے ایک کسٹم یونین(Zollverein) قائم ہوئی جس میں اکثر جرمن ریاستیں شریک ہوگئیں۔یونین نے محصول کی بندشوں کو کالعدم قرار دیا اور کرنسیوں کی تعداد تیس سے گھٹا کر دوکردی۔ریلوے کے جال نے مزید ذرائع آمدورفت پیدا کیے جس نے معاشی مفادات کی پرداخت کے ساتھ قومی وحدت کے لیے راستہ ہموار کیا۔معاشی قومیت کی ایک لہرنے اس وقت وسیع تر ہوتے ہوئے نیشنلسٹ جذبات کو مزید توانائی بخشی۔
ماخذB
معیشت کے ماہرین قومی معیشت کی نہج پر غور کرنے لگے۔ وہ یہ گفتگو کرنے لگے کہ قوم کس طرح ترقی کرسکتی ہے اور اس کو ایک کرنے کے لیے کون سے معاشی طریقے بروئے کار لائے جا سکتے ہیں۔ جرمنی میں یونیور سٹی آف ٹو بنجن (Tubingen)کے معاشیات کے پروفیسر فیڈرک لسٹ نے 1834میں لکھا:
Zollverein
(کسٹم یونین) کا مقصد جرمنی کو معاشی طور پر ایک قوم بنانا ہے۔ باہر کے ممالک میں اس کے مفاد کی حفاظت کر کے اور اندرون خانہ اس کی اپنی پیداوار کو بڑھا کر یہ قوم کو مالی لحاظ سے بھی مضبوط بنائے گی۔ یہ انفرادی اور صوبہ جاتی مفادات کوباہم آمیز کر کے قومی احساس اور جذبہ کو فروغ دے گی۔ جرمن عوام کو یہ احساس ہو چکا ہے کہ ایک آزاد معاشی نظام ہی ان کے قومی جذبے کو بیدار رکھ سکتا ہے۔
تبادلۂ خیال کیجیے
ان سیاسی نتائج کو بیان کیجیے ،معاشی اقدامات کے ذریعے جن کے حصول کی فیڈرک لسٹکوتوقع ہے۔
نئے الفاظ
(Conservatism)
قدامت پسندی: ایک سیاسی فلسفہ جوروایت ، قائم شدہ ادارے اور رسم و رواج کی اہمیت پر زور دیتا ہے اور اچانک اور جلد آنے والی تبدیلیوں کی جگہ آہستہ آہستہ آنے والی تبدیلیوں کو ترجیح دیتا ہے۔
2.3 1815کے بعد ایک نئی قدامت پسندی
1815میں نیپولین کی شکست کے بعد یورپی حکومتوں کے اندر قدامت پسندی کی ایک نئی لہر اٹھی۔قدامت پسندوں کا خیال تھا کہ قائم شدہ روایتی سیاسی او رسماجی ادارے،جیسے بادشاہت، کلیسا،سماجی درجہ بندیاں،جائداد اور خاندان،جوں کے توں رہنے چاہئیں۔قدامت پسندوں کی اکثریت کلی طورسے انقلاب سے پہلے والے سماج میں واپس جانے پر اصرار نہیں کرتی تھی بلکہ اس نے نیپولین کی لائی ہوئی تبدیلیوں کی روشنی میں سوچا کہ جدید کاری(ماڈرنائزیشن)حقیقتاً شہنشاہیت جیسے روایتی اداروں کو مزید مستحکم کرے گی۔مزید یہ کہ جدیدیت حکومت کی طاقت کو اور زیادہ موثر اور مضبوط بناسکتی ہے۔ایک جدید فوج،ایک فعال نوکرشاہی ایک متحرک معیشت، جاگیردارانہ نظام اور زرعی غلامی کا خاتمہ یورپ کی خود سربادشاہتوں کو مضبوط کرے گا۔
سرگرمی
ویانا کانگریس میں جو تبدیلیاں آئیں۔ اس کے مطابق یوروپ کا ایک نقشہ بنایئے ۔
تبادلۂ خیال کیجیے
اس کارٹون میں کارٹونسٹ کس چیز کی تصویر کشی کر رہا ہے۔
شکل6۔مفکرین کی انجمن۔ایک نامعلوم مضحکہ خیز خاکہ، 1820
بائیں جانب کی تختی پر کندہ ہے:’آج کی میٹنگ کا اہم ترین سوال!ہمیں کب تک سوچنے کی اجازت ہے؟‘
دائیں طرف والی تختی پر انجمن کے قوانین لکھے ہوئے ہیں جو اس طرح ہیں۔
1۔پڑھے لکھے لوگوں کی اس مجلس کا پہلا اصول خاموشی ہے۔
2۔ایسی صورت حال سے بچنے کے لیے کہ جس میں ایک ممبر خاموشی توڑ نے کے لیے مجبور ہوجائے،داخلے کے وقت ممبروں کو منہ باندھنے کے لیے پٹیاں مہیا کی جائیں گی۔
1815میں یورپ کی چارنمائندہ طاقتیں—برطانیہ،روس،پروشیا اور آسٹریا—جنھوں نے مل کر نیپولین کو شکست دی تھی،یورپ کا تصفیہ کرنے کے لیے ویانا میں جمع ہوئیں۔اس اجتماع کی میزبانی کا شرف آسٹرین چانسلرڈیوک میٹرنخ کو حاصل تھا—اس مجلس کے نمائندوں نے ’’1815کا معاہدہ ویانا‘‘پر دستخط کیے جس کا مقصد ان تمام تبدیلیوں کو ختم کرنا تھاجو یورپ میں نیپولین جنگوں کی بدولت آئی تھیں۔انقلاب فرانس کے دوران بوربون شاہی خاندان کو معزول کردیاگیاتھا اسے دوبارہ اقتدار سونپ دیاگیاوہ علاقے جن پرفرانس نے نیپولین کے زمانہ اقتدار میں قبضہ کیا تھا، اس کے ہاتھ سے نکل گئے۔مستقبل میں فرانس کی مزید توسیع کے ارادوں کو روکنے کے لیے اس کی سرحدوں پر کئی ریاستوں کو بسایا گیا۔لہٰذا شمال میں نیدرلینڈ کی سلطنت جس میں بلجیم بھی شامل تھا، بنائی گئی اور جنوب میں جینووا کو پیڈمونٹ میں ضم کیا گیا—پروشیا کو بھی اس کی مغربی سرحدوں پر اہم علاقے دیے گئے جب کہ آسٹریا کو شمالی اٹلی کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے کہاگیا۔لیکن39ریاستوں کا جرمن وفاق جو نیپولین نے بنایا تھا۔ اسے ہاتھ نہیں لگایاگیا۔ مشرق میں روس کو پولینڈ کا کچھ حصہ دیاگیا جب کہ پرشیان کے حصے میں سیکسونی کا کچھ علاقہ آیا اصل مقصد ان بادشاہتوں کو بحال کرنا تھا جن کو نیپولین نے ختم کردیا تھا،اور ساتھ ہی یورپ میں ایک نئے قدامت پسند نظام کی بحالی تھا۔
1815ء میں جو قدامت پسند حکومتیں قائم کی گئیں مطلق العنان تھیں۔تنقید اور مخالفت ان کی برداشت سے باہر تھی اور کوئی بھی عمل جو ان کی مطلق العنانی پر سوا ل اٹھاتا تھا، یہ اس کو دباتی تھیں۔ ان میں سے زیادہ تر نے اخبارات،کتابوں،ڈراموں اور گیتوں میں جو کچھ کہاجاتاتھا اس پر پابندی لگادی خصوصا اس مواد پر جس میں انقلاب فرانس کے حوالے سے آزادی اور خودمختاری کی توصیف وتبلیغ ہوتی تھی۔اس کے باوجود آزادخیالوں کو انقلاب فرانس کی یادچٹکیاں لیتی رہی اور ان کے حوصلوں کو مہمیز لگاتی رہی۔ان آزاد خیال قوم پرستوں نے جو نئے قدامت پسند نظام کے نکتہ چیں تھے، سب سے پہلے پریس کی آزادی کے مسئلہ کو اٹھایا۔
2.4 انقلابی
1815کے بعد کے آنے والے برسوں میں انتقام اور جبرواستبداد کے خوف سے بہت سے آزادخیال قوم پرست روپوش(underground) ہوگئے۔ انقلابیوں کی تربیت اوران کے نظریات کو پھیلانے کے لیے کئی خفیہ انجمنیں قائم ہوگئیں۔اس زمانہ میں ایک انقلابی ہونے کا مطلب تھا کہ ویانا کا نگریس کے بعد قائم ہونے والی شہنشاہیت کی مخالفت ،آزادی اور خود مختاری کے لیے جد وجہد کرنے کا پکاارادہ۔ان میں سے اکثر کا خیال تھا کہ جدوجہد آزادی کا لازمی نتیجہ قومی ریاست (Nation—State)کا قیام ہونا چاہیے۔
ایسا ہی ایک آدمی انقلابی اطالوی گِسپی مازنی(Guiseppe Mazzini) تھا ۔ وہ1807میں جنیوا میں پیدا ہوا،کاربوناری کی خفیہ انجمن کا رکن بنا،جب وہ چوبیس سال کا تھا تو لیگوریا کے ایک انقلاب میں حصہ لینے کے جرم میں1931میں اس کو جلاوطن کردیاگیا۔اس نے مزید دوخفیہ انجمنیں قائم کیں۔پہلی تو مارسیلز میں ’ینگ اٹلی‘ کے نام سے اور دوسری برن میں’ینگ یورپ‘کے نام سے۔ان دونوں کے اراکین پولینڈ،فرانس،اٹلی اور جرمن ریاستوں سے آئے ہوئے ہم خیال نوجوان تھے۔مازنی کو یقین تھا کہ خدا کا منشابھی قوموں کو عالم انسانیت کا ایک قدرتی جزیا اکائی بنانا تھا۔لہٰذا اٹلی بھی چھوٹی چھوٹی بادشاہتوں اور جاگیروں کی پیوندکاری سے قائم نہیں رہ سکتا۔اس کو ایک متحد عوامی جمہوریہ کی شکل دینی ہوگی۔ قوموں کے وسیع اتحاد کے پس منظر میں صرف یہی یکجائی اور اتحاد اٹلی کی آزادی کی بنیاد بن سکتا ہے۔مازنی کے نمونے کی پیروی کرتے ہوئے جرمنی، فرانس،سوئزرلینڈ اورپولینڈ میں بھی خفیہ انجمنیں وجود میں آئیں۔مازنی کی بادشاہت کی ان تھک مخالفت اور عوامی جمہوریت کے لیے اس کے تصور نے قدامت پسندوں کو خوفزدہ کردیا۔میٹرنخ نے اس کو ’’ہمارے معاشرتی نظام کا سب سے بڑا دشمن‘‘کہہ کریاد کیا۔

شکل 7: گیسپی مازنی (Guisepee Mazzini)اوربرن (Berne) میں ینگ یورپ کا قیام 1833میں
گائے کو مومانتے گازا کا شائع کیا ہوا
3 انقلابوں کا عہد: 1830-1848
جیسے جیسے قدامت پسند حکومتیں خود کو مستحکم بنانے کی کوشش کر رہی تھیں، اطالوی اور جرمن ریاستوں عثمانی سلطنت کے صوبوں آئرلینڈ اور پولینڈ جیسے یوروپ کے بہت سے علاقوں میں لبرل ازم اور نیشنلزم کو روزافزوں طور پر انقلاب سے منسلک سمجھا جانے لگا تھا۔ یہ انقلابات تعلیم یافتہ متوسط طبقہ سے آنے والے آزاد خیال قوم پرستوں کی رہنمائی میں ہوئے۔ ان انقلابیوںمیں پروفیسر، اسکول کے اساتذہ، سرکاری ملازم اور درمیانی درجہ کے تاجر پیشہ شامل تھے۔ 1815 میں قدامت پسندوں کی جوابی کارروائی کے دوران پہلی انقلابی کوشش جولائی 1830 میں ہوئی۔ 1815 کے بعد بوربون شاہی خاندان کو جسے بحال کردیا گیا تھا ،آزاد خیال انقلابیوں نے ایک بار پھر معزول کردیا اور لوئی فلپ کی قیادت میں دستوری بادشاہت کو مامور کردیا۔ پیٹرنخ نے ایک بار کہا تھا کہ ’’اگر فرانس کو چھینک بھی آتی ہے تو پورا یورپ زکام میں مبتلا ہوجاتا ہے۔‘‘اس جولائی انقلاب نے بروسلز میں بھی بغاوت کرائی جس کے نتیجہ میں بلجیم نیدرلینڈ کی متحدہ بادشاہت سے علاحدہ ہوگیا۔
یونان کی جنگ آزادی ایک ایسا واقعہ تھا جس نے پورے یوروپ میں تعلیم یافتہ طبقہ کے درمیان قوم پرستی کے جذبات اور احساس کی ایک لہر دوڑادی۔ یونان پندرھویں صدی سے سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا ۔یوروپ میں انقلابی قوم پرستی کے فروغ نے یہاں بھی میں آزادی کی جدوجہد کا جذبہ بیدار کردیا۔ یونان میں قوم پرستوں کو جلاوطن یونانیوں کی حمایت کے ساتھ ساتھ ان مغربی یوروپین عوام کی حمایت بھی حاصل تھی جو یونان کی قدیم تہذیب و ثقافت کے لیے نرم گوشے رکھتے تھے۔ شاعروں اور فن کاروں نے یوروپین تہذیب کے گہوارہ کی حیثیت سے یونان کی ستائش کی اور ایک مسلم سلطنت کے خلاف اس کی جدوجہد کی حمایت میں رائے عامہ کو ہموار کیا۔ انگریز شاعر لارڈبائرن نے اس مقصد کے لیے چندے کا اہتمام کیا اور بعد میں جنگ میں حصہ بھی لیا جہاں وہ 1824 میں بخار میں مبتلاہوکر مرگیا۔ بالآخر 1832 میں معاہدہ قسطنطنیہ نے یونان کو ایک خودمختار ریاست تسلیم کرلیا۔
3.1 رومانی تخیل اور قومی جذبہ
جذبۂ قومیت کی بیداری محض جنگوں اور زمینی توسیع پسندی کا نتیجہ نہیں تھی۔ قوم کا تصور بیدار کرنے میں تہذیب و ثقافت نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ شاعری، آرٹ، افسانہ نگاری اور موسیقی نے بھی قوم پرستانہ جذبات و احساسات کو بڑھانے اورانھیں تشکیل دینے میں کافی مدد کی۔
شکل۔8کیوس (Chios) میں قتل عام، Eugene Delacroix، 1824
رومانوی فن کاروں میں آرٹسٹ Delacoix فرانس کا ایک اہم آرٹسٹ تھا۔ یہ جہازی سائز (4.19m × 3.54m) کی تصویر ایک ایسے واقعہ کی منظر کشی کرتی ہے جس میں جزیرہ کیوس میں ترکوں نے بیس ہزار یونانیوں کو قتل کردیا تھا۔ اس واقعہ کو ڈرامائی رنگ دینے کے لیے Delacroix نے بچوں اور عورتوں کی مصیبت کو زیادہ اجاگر کیا ہے اور گہرے رنگ استعمال کیے ہیں۔وہ اس طرح سے یونانیوں کے لیے ناظرین کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
آیئے رومانویت پر ایک نظر ڈالیں۔ رومانویت یا رومان پسندی ایک ثقافتی تحریک تھی جس کا مقصد ایک مخصوص نیشنلسٹ جذبے کو پیدا کرنا تھا۔ رومانوی شاعروں اور فنکاروں نے عام طور پر معقولیت پسندی کی اور سائنس کی ستائش کو تنقید کانشانہ بنایا اور جذبات، عرفان اور وجدانی کیفیت پر زیادہ توجہ دی۔ ان کی کوشش ایک مشترکہ اجتماعی وراثت، ایک مشترکہ ثقافتی ماضی کو ایک قوم کی اساس کی حیثیت سے دیکھنے کے احساس کو بیدار کرنے کی تھی۔
جرمن فلاسفر جان گوٹ فریڈ ہرڈر(Johann Gottfried Herder) جیسے دوسرے رومانوی فن کاروں کا خیال تھا کہ حقیقی جرمن ثقافت کو عام آدمی میں تلاش کرنا چاہیے۔ یہ لوک گیتوں، لوک شاعری اور لوک ناچ تھے جن کے ذریعے ایک قوم کی صحیح روح اورجذبے کو مقبول بنایا گیا۔اسی لیے عوامی ثقافتی نشانیوں کا جمع کرنا تعمیر قوم کے منصوبے کے لیے لازمی تھا۔
مقامی زبان کے استعمال پر زور اور لوک کلچر کی نشانیوں کو جمع کرنا محض ایک قدیم قومی جذبے کی بازیافت کے لیے ہی نہیں تھا بلکہ قوم پرستی کے جدید پیغام کو عوام کے اس بڑے حصے تک پہنچانا بھی تھا جو زیادہ تر اَن پڑھ تھا۔ پولینڈ میں یہ صورت حال خصوصاً تھی جس کو روس، آسٹریا اور پرشیاکی عظیم طاقتوں نے اٹھارھویں صدی کے آخر میں تقسیم کردیا تھا۔ اور اگرچہ پولینڈ کی حیثیت اب ایک خودمختار ریاست کی نہ تھی لیکن موسیقی اور زبان کے ذریعہ قومی احساسات کو زندہ رکھا گیا۔ مثلاً کیرل کرینسکی نے اپنے اوپیراؤں اور گیتوں کے ذریعے قومی جدوجہد کے گن گائے ،پولونیز ، مزورکاجیسے عوامی ناچوں کو’ نیشنلسٹ‘ علامتیں بنادیا۔
قومی جذبات کو ابھارنے میں زبان نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولینڈ پر روسی قبضہ کے بعد پولش زبان کواسکولوں سے نکال دیا گیا تھا اور اس کی جگہ روسی زبان کا استعمال لازمی قرار دیا گیا تھا۔ 1831 میں روس کے خلاف ایک مسلح بغاوت ہوئی جس کوبالآخر کچل دیاگیا۔ اس کے بعد پولینڈ میں مذہبی علمانے قومی مزاحمت میں زبان کا استعمال ایک ہتھیار کی طرح کیا۔ پولش زبان کا استعمال چرچ کے اجتماعات اور مذہبی ہدایات کے لیے ہونے لگا۔ پولش پادریوں نے روسی زبان میں تبلیغ دین سے انکار کیا تو روسی حکام نے ان کو سزا کے طور پر جیل میں ٹھونس دیا یا پھر سائبیریا بھیج دیا۔ پولش زبان کا استعمال روسی تسلط کے خلاف جدوجہد کی علامت بن گیا۔
باکس 1
گرم برادران(Grim Brothers)لوک کہانیاں اور تعمیر قوم
’’گرم کی پریوں کی کہانیاں‘‘ ایک مشہور نام ہے۔ جیکب اور ولہلم گِرم برادران جرمنی کے شہر ہنائو میں 1785 اور 1786 میں بالترتیب پیدا ہوئے۔ اگرچہ انھوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی لیکن جلد ہی ان کا رجحان پرانی لوک کہانیاں جمع کرنے کی جانب ہوگیا۔ انھوں نے چھ سال تک گاؤں گاؤں گھوم کر پرانی کہانیاں جو نسل در نسل چلی آرہی تھیں، جمع کیں۔ یہ کہانیاں بچوں اور بڑوں میں یکساں مقبول ہوئیں۔ 1812 میں ان کی کہانیوں کاپہلا مجموعہ شائع ہوا۔ پھر دونوں بھائی ترقی پسند سیاست میں سرگرم ہوگئے، خصوصاً پریس کی آزادی کی تحریک سے وابستہ ہوئے۔ اسی دوران انھوں نے 33 جلدوں پر مشتمل جرمن زبان کی ڈکشنری بھی شائع کی۔
گرم برادران نے فرانسیسی تسلط کو جرمن ثقافت کے لیے ایک خطرے کی طرح دیکھا۔ ان کا خیال تھا کہ ان کی جمع کردہ کہانیاں ایک خالص اورمستندجرمن مزاج کی ترجمان ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کا لوک کہانیاں جمع کرنے کا کام اور جرمن زبان کو فروغ دینے کی کوشش اس عظیم تر مشن کا حصہ ہیں جس کا مقصد فرانسیسی غلبے کی مخالفت اور ایک جرمن قومی شناخت کی تخلیق ہے۔
تبادلۂ خیال کیجیے
ایک قومی شناخت کی تشکیل میں زبان اور عوامی روایات کی اہمیت پر گفتگو کیجیے۔
3.2 بھوک، مصائب اور عوامی انقلاب
یوروپ میں1830کی دہائی اقتصادی مصائب کی دہائی تھی۔ انیسویں صدی کے پہلے نصف حصہ میں سارے یوروپ کی آبادی میں بے تحاشہ اضافہ ہوا۔ زیادہ تر ملکوں میں روزگار کم اور روزگار تلاش کرنے والے زیادہ ہوگئے۔ لوگ دیہی علاقوں سے ہجرت کرکے شہروں میں آئے اور ٹھساٹھس بھری ہوئی جھگی جھونپڑی بستیوں میں رہنے لگے۔ شہروں کے چھوٹے صنعت کاروں کو بھی انگلینڈ سے آنے والے اور مشین سے بنے ہوئے مال سے بڑے سخت مقابلہ کا سامنا تھا جو سستا ہوتا تھا کیونکہ انگلینڈ میں صنعتی انقلاب براعظم یوروپ سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہوچکا تھا۔ یہ صورت حال کپڑے اور دوسرے سوتی مال میں زیادہ سنگین تھی جو زیادہ تراُن گھروں یاچھوٹے چھوٹے کارخانوں میں بنایا جاتا تھا جہاں مشین کا محض جزوی طور پر ہی استعمال ہوتا تھا۔ یوروپ کے ان علاقوں میں جہاں اب تک حکمرانی اشراف اور امراکے ہاتھ میں تھی کسان جاگیرداری قرضوں اور پابندیوں کے بوجھ کو اتار پھینکنے کی جدوجہد میں لگے ہوئے تھے۔ اشیا ئے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے اور ایک سال کی خشک سالی نے شہر اور مضافات میں افلاس کو عام کردیاتھا۔
تصویر —9-کسانوں کی بغاوت ،1848
1848 ایک ایسا ہی سال تھا۔ غلہ کی قلت اور عام بے روزگاری نے پیرس کے عوام کو سڑکوں پر اتار دیا۔ انھوں نے ناکہ بندی کی اور لوئی فلپ کو بھاگنے پر مجبور کردیا۔ ایک نیشنل اسمبلی نے ملک کو عوامی جمہوریہ قرار دیے جانے کا اعلان کیا، 21 سال سے زیادہ عمر کے مردوں کو حق رائے دہندگی اور روزگار کاحق دیا گیا۔ روزگار مہیا کرنے کے لیے قومی کارخانے قائم کیے گئے۔
اس سے پہلے 1845 میں Silesia کے مقام پر بنکروں نے ان ٹھیکیداروں کے خلاف بغاوت کی تھی جو ان کو کچا مال سپلائی کرکے کپڑا بنانے کا آرڈر دیتے تھے لیکن ان کی اجرتوں کو ان لوگوں نے بہت حد تک کم کردیا تھا۔ ایک صحافی ولھلم وولف(Wilhelm Wolff) نے سلیسین گاؤں میں ہونے والے واقعات کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
ان گاؤوں میں (جن میں18,000 لوگ بستے ہیں) سوت کی بنائی مقبول پیشہ ہے… لیکن مزدوروں کی حالت انتہائی خراب ہے۔ روزگار کی شدید ضرورت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹھیکیداروں نے بنے ہوئے مال کی قیمت کم کردی…
4جون کو دو بجے دن میں بنکروں کا ایک جم غفیر زیادہ اجرت کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے ٹھیکیداروں کے محل کی طرف چلا۔ ان کا استقبال تحقیر اور دھمکیوں سے کیا گیا۔ اس کے بعد ہجوم کا ایک حصہ زبردستی عمارت کے اندر گھس گیا اور اس نے اس کی عالیشان کھڑکیاں، شیشے، فرنیچر اور دوسرے آرائشی سامان کو توڑ پھوڑ دیا۔ ہجوم کا دوسرا گروہ محل کے گودام میں چلا گیا اوروہاں رکھے ہوئے کپڑے کے ذخیرہ کو تار تار کردیا۔ ٹھیکیدار اپنے خاندان سمیت پڑوس کے گائوں کی طرف بھاگ گیا لیکن گائوں والوں نے بھی ایسے شخص کو پناہ دینے سے انکار کردیا۔ آخر کار 24 گھنٹے بعد ٹھیکیدار ایک فوجی دستے کی پناہ میں واپس آیا اور اس کے بعد ہونے والے جھگڑے میں گیارہ بُنکر گولی لگنے سے ہلاک ہوئے۔
سرگرمی
تصور کیجیے کہ آپ ایک بُنکر ہیں جس نے اِن واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ جو کچھ آپ نے دیکھا اس کی رپورٹ لکھیے۔
تبادلۂ خیال کیجیے
سیلیسین بُنکروں کی بغاوت کے اسباب بیان کیجیے اور اس سلسلہ میں صحافی کے نقطۂ نظر پر بھی تبصرہ کیجیے۔
3.3 1848: آزاد خیالوں کا انقلاب
1848 میں یوروپ کے مختلف ممالک میں غریب، بے روزگار اور فاقہ زدہ کسانوں اور مزدوروں کی بغاوتوں اور سرکشیوں کے متوازی ایک اور انقلاب بھی پل رہا تھا جس کی قیادت کی باگ ڈور تعلیم یافتہ متوسط طبقہ کے ہاتھوں میں تھی۔ فروری 1848 کے واقعات کے نتیجہ میں فرانس میں بادشاہت ختم ہوچکی تھی اور مردوں کے حق رائے دہندگی پر مبنی عوامی حکومت وجود میں آچکی تھی۔ یورپ کے ان ممالک میں جہاں قومی ریاست کا ظہور ابھی نہیں ہوا تھا، جیسے جرمنی، اٹلی، پولینڈ اور ایسٹرو— ہنگری ۔ متوسط طبقہ کے ترقی پسند اور آزاد خیال مردوں اور عورتوں نے دستور کے لیے اپنے مطالبہ کو قومی اتحاد کے ساتھ جوڑ دیا۔ انھوں نے اپنے مطالبات کو مزید توانائی بخشنے کے لیے بڑھتی ہوئی بے اطمینانی سے فائدہ اٹھایا۔ ان مطالبات میں پارلیمانی اصولوں پر قائم ایک نیشن اسٹیٹ، ایک دستور ،پریس اورتنظیمیں بنانے کی آزادی شامل تھی۔
جرمن علاقوں میں اکثر سیاسی تنظیمیں ،جن کے اراکین متوسط طبقہ کے پیشہ ور تاجر، کھاتے پیتے کاریگر اور دستکار تھے، فرینکفرٹ میں جمع ہوئیں اور انھوں نے ایک کل جرمن نیشنل اسمبلی کے حق میں ووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔ 18مئی 1848کو831منتخب نمائندوں کا یہ گروہ جوش و خروش سے سرشار قطار کی صورت میں چرچ آف سینٹ پال میں داخل ہوا جہاں فرینکفرٹ پارلیمنٹ کی میٹنگ بلائی گئی تھی اور اپنی نشستیں سنبھالیں۔ انھوں نے ایک دستور مرتب کیا جس کے تحت جرمن قوم کا سربراہ پارلیمنٹ کے ماتحت ایک بادشاہ ہوگا۔ اس دستور کی شرائط کے مطابق جب اسمبلی کے اراکین نے پروشیا کے بادشاہ فریڈرک ولہلم چہارم کو جرمنی کا تاج پیش کیا تو اس نے انکار کردیا اور دوسرے ان بادشاہوں کے ساتھ شامل ہوگیا جو نیشنل اسمبلی کے قیام کے مخالف تھے۔ اس درمیان جب امرااور فوج کی مخالفت زور پکڑ رہی تھی، پارلیمنٹ کی سماجی بنیاد ہی مسمار ہوگئی۔ پارلیمنٹ میں اوسط طبقے کی اکثریت تھی جنھوں نے مزدوروں اور دست کاروں کے مطالبات کی مخالفت کی اور انجام کار ان کی حمایت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔آخرکار فوج کو دعوت دی گئی اور نیشنل اسمبلی کو زبردستی ختم کردیا گیا۔ عورتوں کو سیاسی حقوق تفویض کرنے کا معاملہ خودلبرل تحریک میں متنازعہ فیہ تھا حالانکہ اس تحریک میں عورتیں کئی برسوں سے سرگرم تھیں۔عورتوں نے اپنی الگ تنظیمیں بنائیں، اخبارات جاری کیے اور سیاسی میٹنگوں ، جلسوں اور مظاہروں میں شرکت کی۔ ان سب کے باوجود اسمبلی کے الیکشن کے وقت ان کو حق رائے دہندگی نہیں دیا گیا۔ جب چرچ آف سینٹ پال میں، فرینکفرٹ پارلیمنٹ کا اجلاس منعقد ہوا تو عورتیں صرف مشاہد کے طور پر داخل ہوئی تھیں جو مہمانوں کی گیلری میں کھڑی تھیں۔
1848 میں حالانکہ قدامت پسندطاقتیں ترقی پسند اور آزاد خیال تحریکوں کو دبانے میں کامیاب ہوگئیں لیکن وہ پھر بھی قدیم نظام کو نافذ نہیں کرسکیں۔ بادشاہوں کو یہ احساس ہوچلا تھا کہ انقلابوں اور بغاوتوں کایہ سلسلہ اسی وقت رک سکتا ہے جب آزاد خیال قومی انقلابیوں کو کچھ مراعات دی جائیں۔ لہٰذا 1848 کے بعد وسطی اور مشرق یوروپ کے مطلق العنان بادشاہوں نے وہ تبدیلیاں متعارف کرائیں جو مغربی یورپ میں 1815 سے پہلے آچکی تھیں۔ لہٰذا روس اور ہیبس برگ کی عملداریوں میں زرعی غلامی اوربندھوا مزدوری کا خاتمہ کیا گیا۔ ہیبس برگ کے حکمرانوں نے ہنگری کے عوام کو 1867 میں مزید اختیارات دیے۔
نئے الفاظ
فیمینسٹ(Faminist): عورتوں کے حقوق ،آزادی اور ان کے مفادات برائے خواتین کی معلومات اور اس کے حصول کے لیے کوششیں جو اس عقیدے پر مبنی ہیں کہ دونوں سماجی،اقتصادی اورسیاسی اعتبار سے مساوی ہیں۔
ماخذ C
عورتوں کے لیے آزادی اور مساوات کی تعریف کیوں کر ہو؟
کارل ویلکر(Corl Welcker)،جو کہ فرینکفرٹ پارلیمنٹ کے ایک آزاد خیال منتخب رکن تھے نے ان خیالات کا اظہار کیا:
قدرت نے عورت اور مرد کو مختلف کاموں کی انجام دہی کے لیے پیدا کیا ہے… مرد جو دونوں میں زیادہ طاقتور، زیادہ جری اور زیادہ آزاد ہے، کو خاندان کا محافظ بنایا گیا ہے۔ وہی خاندان کو کھلاتا ہے اور باہر کی دنیا کے کاموں جیسے قانون، پیداوار اور دفاع کا رکھوالا ہے۔ عورت جو کمزور، دست نگر اور کمزور ہے، مرد کی حفاظت کی محتاج ہے۔ اس کا دائرہ کار اس کا گھر، بچوں کی پرورش و پرداخت اور خاندان کو پروان چڑھانا ہے… اتنے امتیازات کے پیش نظر کیا ہمیں یہ ثابت کرنے کے لیے کسی اور ثبوت کی ضرورت ہے کہ دونوں جنسوں کے درمیان برابری خاندان کے وقار اور سکون کو برباد کرے گی؟
لوئی آ ٹوپیٹرس (1819-95) ایک سیاسی سرگرم کارکن تھی جس نے عورتوں کا ایک اخبار جاری کیا تھا اور بعد کو حقوق و آزادی کے لیے ایک سیاسی تنظیم بھی بنائی۔ اس کے اخبار کے پہلے شمارہ (21اپریل 1849) کا اداریہ تھا:
’چلیے ہم دیکھتے ہیں کہ وہ مرد جو آزادی کی خاطرجینے مرنے کے لیے تیار رہتے ہیں ان میں سے کتنے تمام عالم انسانیت کی آزادی کے لیے لڑنے کو تیار ہیں۔ اس سوال کے جواب میں سب لوگ آسانی سے ’ہاں‘ کہیں گے حالانکہ ان کی انتھک کوشش صرف نصف عالم انسانیت کے لیے ہوتی ہیں۔ یعنی صرف مردوں کے لیے۔ لیکن آزادی تو ناقابل تقسیم ہے۔ لہٰذا آزاد مردوں کو غیر آزادوں سے گِھرارہنااب برداشت نہیں کرنا چاہیے۔‘‘
اسی اخبار کے ایک نامعلوم قاری نے 25جون 1850 کو ایڈیٹر کو یہ خط لکھا:
’’بلاشبہ یہ ایک غیر معقول اور مضحکہ خیز بات ہے کہ عورتوں کو سیاسی حقوق سے محروم رکھا جائے۔ حالانکہ ان کو جائداد کا حق حاصل ہے جس کا استعمال وہ کرتی ہیں۔ بغیر کسی مالی منفعت کے حصول کے وہ کام بھی کرتی ہیں اور وہ ذمہ داریاں نبھاتی ہیں جن کے لیے مردوں کومالی فائدے ہوتے ہیں۔ یہ نا انصافی کیوں؟ کیا یہ شرمناک بات نہیں ہے کہ ایک انتہائی احمق چرواہا محض اس لیے ووٹ ڈال سکتا ہے کیونکہ وہ مرد ہے اور اس کے برعکس باصلاحیت عورتیں جن کے پاس کافی جائداد ہے، اس حق سے محروم ہیں جب کہ وہ ریاست کے قیام اور بقا میں بھی حصہ لیتی ہیں‘‘

شکل 10- چرچ آف سینٹ پال میں فرینکفرٹ پارلیمنٹ
اسی وقت کی ایک رنگین تصویر۔ بائیں طرف گیلری میں عورتیں ہیں۔
حقوق نسواں کے سوالوں سے متعلق تین مذکورہ لکھنے والوں کے خیالات کا موازنہ کیجیے ۔ آزاد خیال نظریہ کے بارے میں ان سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟
نئے الفاظ
آئیڈیالوجی (Idealogy)۔ خیالات اور تصورات کا وہ نظام جو ایک مخصوص سیاسی اور سماجی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
4-جرمنی اور اٹلی کی تشکیل وتجسیم
4.1 جرمنی ۔ کیا فوج ایک قوم کی معمار ہو سکتی ہے؟
1848کے بعد یورپ میں نیشنلزم جمہوریت اور انقلاب سے دور ہوگیا۔نیشنلسٹ جذبات کو عموماً قدامت پرستوں نے حکومت کے اختیارات کو فروغ دینے اور یوروپ پر سیاسی فوقیت حاصل کرنے کے لیے مجتمع اور تیار کیا۔
اس حقیقت کا مشاہدہ اس طریقۂ کار میں کیا جا سکتا ہے جس کے ذریعہ جرمنی اور اٹلی نیشن اسٹیٹس کے طور پر متحدہوئے ۔ جیسا کہ آپ دیکھ چکے ہیں کہ قوم پرستانہ جذبات جرمن کے متوسط طبقے میں عام تھے۔ جس نے 1848میں جرمن وفاق کے مختلف علاقوں کو ایک نیشن اسٹیٹ کے روپ میں یکجا کرنے کی کوشش تھی۔ جس پر ایک منتخب پارلیمنٹ حکومت کرے۔ مگر اس آزاد خیال پہل کو بادشاہت اور فوج کی متحدہ طاقت نے، جس کو پرشیاکے بڑے بڑے زمینداروں (جوجنکرس(Junkers)کہلاتے تھے) کی حمایت بھی حاصل تھی، کچل دیا۔ اس کے بعد قومی اتحاد کی تحریک کی کمان پرشیا کے ہاتھوں آگئی۔ پرشیا کے وزیر اعلیٰ اوٹووون بسمارک اس ساری کارروائی کے معمار تھے جو پرشیا ئی فوج اور نوکر شاہی کی مدد سے چلائی گئی تھی۔فرانس، ڈنمارک اور آسٹریاکے ساتھ سات سال کے اندر اندر تین جنگیں ہوئیں جن کا خاتمہ اتحاد ویکجہتی کے عمل کی تکمیل پر ہوا۔جنوری 1871میں پرشیا کے بادشاہ ولیم اول کی ورسیلزمیں منعقد ایک تقریب میں جرمنی کے شہنشاہ کی حیثیت سے تاج پوشی ہوئی۔
ایک بے حد سردصبح 18جنوری1871کو طلوع ہوئی اور ورسیلز کے محل میں شیش محل میں،جو گرم نہیں تھا، قیصر ولیم اول کی سربراہی میں نئی جرمن سلطنت کے اعلان کے لیے جرمن ریاستوں کے شہزادوں،فوج کے نمائندوں پرشیاکے اہم وزرابشمول وزیراعلیٰ بسمارک پر مشتمل ایک اجتماع ہوا۔
جرمنی میں تعمیرقوم کے عمل نے پرشیا کی ریاستی قوت کی فوقیت کا مظاہرہ کیا تھا۔ نئی حکومت نے کرنسی بینکنگ، قانونی اور عدالتی نظام کو جدید بنانے پربہت زوردیا۔ پرشیا کا نظام اور اس کے اقدامات جرمنی کے لیے ایک نمونہ بن گئے۔
تصویر 11۔ورسیلزمیں شیش محل کے ہال میں جرمن سلطنت کے قیام کا اعلان۔ ابنٹن دان ورنر
درمیان میں قیصراور پرشیا کے فوج کے سربراہ جنرل وان رون(Von Roon) کھڑے ہیں اور ان کے نزدیک ہی بسمارک ۔ یہ تاریخی تصویر 1885(2.7m×2.7m)میں بسمارک کی سترھویں سالگرہ کے موقع پر فن کارنے اس کو پیش کی تھی۔
تصویر ۔—12 جرمنی کا اتحاد (71-1866)
پرشیا 1866 سے پہلے
اسٹرو۔پرشیا جنگ میں پرشیا نے فتح کیا
آسٹریائی ریاستیں جو 1867 میں جرمن وفاق سے الگ ہوئیں۔
1867 کے جرمن وفاق کے قیام کے لیے پرشیا میں شامل ہوئیں۔
مغربی جرمنی ریاستیں 1871 میں جرمن سلطنت کے قیام کے لیے پرشیا میں شامل ہوئیں۔
1871 کی فرانس پرشیا جنگ میں پرشیا نے فتح کیا۔
4.2 اٹلی متحد ہوا
جرمنی کی طرح اٹلی کی بھی چھوٹے چھوٹے سیاسی ٹکڑوں میں بٹے ہونے کی ایک طویل تاریخ تھی۔ اطالوی عوام کئی شاہی خاندانی ریاستوں اور متعدد قومیتوں والی ہیبس برگ سلطنت کے اندر بکھرے ہوئے تھے۔انیسویں صدی کے وسط میں اٹلی سات ریاستوں میں بٹا ہوا تھا جس میں صرف ایک ریاست –––سردیناپیڈ مونٹ–––ایک اطالوی بادشاہی خاندان کے زیر نگیں تھی۔ شمال میں آسٹرین ہیبس برگ کی حکومت تھی اور وسطیٰ علاقہ پوپ اور جنوبی علاقہ اسپین کے بوربون بادشاہوں کے تسلط میں تھا۔ اطالوی زبان میں بھی کوئی ایک صورت تھی۔ اس میں اور بہت سی علاقائی اور مقامی رنگ شامل تھے۔
1830کی دہائی میں گِیسپی مازنی نے اٹلی کی ایک جمہوری عوامی اکائی کے لیے ایک مربوط اور مبسوط پروگرام پیش کرنے کی کوشش کی۔ اپنے مقاصد کی تبلیغ کے لیے اس نے ایک خفیہ سوسائٹی ’ینگ اٹلی‘ کے نام سے قائم کی۔ 1831اور 1848کی بغاوتوں کی ناکامی کا مطلب تھا کہ اب جنگ کے ذریعے اٹلی کو متحد کرنے کی ذمہ داری سرڈینیا پیڈمونٹ اور اس کے اطالوی حکمراں وکٹر ایمونول دوم(Victor Emmonuol—II) کے سرپرآگئی۔ اس علاقے کے حکمراں اشرافیہ کی نظر میں متحد اٹلی ان کے لیے معاشی خوشحالی اور سیاسی غلبہ کا امکان پیداکرتا تھا۔
شکل 13۔اوٹو وان بسمارک ، جرمن ریشیاع (پارلمینٹ)میں۔ فگارو،ویانا5مارچ 1870
سرگرمی
اس مضحکہ خیز خاکے کو سمجھائیے۔ یہ کس طرح بسمارک اور پارلیمنٹ کے ممبروں کے تعلقات کو پیش کرتا ہے؟ فن کار اس خاکہ میں جمہوری طریقوں کی کیا تاویل کرتا ہے ؟
وزیر اعلیٰ کیورو (Cavour)، جس نے اٹلی کے مختلف علاقوں کو متحد کرنے کی تحریک کی قیادت کی، نہ تو کوئی انقلابی تھا اور نہ ہی جمہوریت پسند۔ دوسرے بہت سے متمول اور تعلیم یافتہ اطالوی اشراف کی طرح وہ فرانسیسی زبان،اطالوی سے کہیں زیادہ اچھی بولتا تھا۔ کیوور کے بنائے ہوئے ، فرانس کے ساتھ سیاسی معاونت کے ایک شاطرانہ معاہدے کے ذریعے سارڈینیا پیڈمونٹ نے 1859میں آسٹرین فوجوں کو شکست دینے میں کامیابی حاصل کی۔باضابطہ افواج کے علاوہ اس لڑائی میں گیسپی گیری با لڈی کی قیادت میں مسلح رضاکاروں کی بھی ایک کثیر تعداد شامل تھی۔ 1860میں یہ افواج جنوبی اٹلی اورصقلیہ کی قلم رومیں داخل ہوئیں اور اسپینی حکمرانوں کو ماربھگانے کی کوشش میں مقامی کسانوں کی حمایت اور مددحاصل کر نے میں کامیاب ہوئیں۔ 1861میں وکٹرایمونول دوم (Victor Emmonuel—II)متحدہ اٹلی کے بادشاہ قرار پائے۔ لیکن اٹلی کی اکثر آبادی، جس میں ناخواندگی عام تھی، بے نیازانہ طور پر آزادخیال نیشنلسٹ نظریہ سے نا آشناہی رہا۔ وہ کاشتکار عوام جنھوں نے گریبالڈی کی مدد کی تھی، Italiaکا لفظ کبھی سناہی نہیں تھا، ان کے خیال میں La Talia وکڑایمونول کی بیوی کانام تھا۔

شکلm (a) 14اتحاد سے پہلے کی اٹلی کی ریاستیں،1858
شکل — (b) 14اٹلی ، اتحاد کے بعد۔ یہ نقشہ مختلف ریاستوں کی متحدہ اٹلی میں سال بہ سال شمولیت کو دکھاتا ہے۔
4.3 برطانیہ کا عجیب وغریب معاملہ
کچھ دانشوروں کا کہنا ہے کہ ایک قوم، ایک نیشن اسٹیٹ کا اصل نمونہ عظیم برطانیہ ہے ۔برطانیہ میں نیشن اسٹیٹ کی تشکیل کسی اچانک بغاوت یا انقلاب کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ ایک طول طویل عمل کانتیجہ تھی۔ اٹھارھویں صدی سے قبل کوئی برطانوی قوم موجود نہیں تھی اوروہ لوگ جو برطانوی جزائر میں بستے تھے ان کی بنیادی شناخت نسل کے اعتبارسے تھی جیسے انگلش، ویلش، اسکاٹ یا آئرش ۔ اور یہ تمام نسلی گروہ اپنی اپنی سیاسی اور ثقافتی روایتیں اور اپنے اپنے رواج و رسوم رکھتے تھے لیکن جیسے جیسے انگلش قوم تمول، طاقت اور اہمیت میں بڑھتی گئی اپنااثر ورسوخ جزیروں پر رہنے والی دوسری قوموں پر بڑھانے کے لائق ہوگئی۔انگلش پارلیمنٹ جس نے ایک طویل کشمکش کے بعد 1688میں شہنشاہت سے اختیار چھین لیا تھا، وہ حقیقی ہتھیار تھی جس نے ایک نیشن اسٹیٹ قائم کی جس میں انگلستان کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔1707کا انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے درمیان The Act of Unionکے نتیجہ میں United Kingdom of Great Britainوجود میں آیا در اصل یہ اس حقیقت کا مظہر تھا کہ انگلینڈ اسکاٹ لینڈ پر اپنے رسوخ واختیار کو مسلط کرنے کے قابل ہو چکا ہے۔ اس کے بعد سے برطانوی پارلیمنٹ میں انگلش ممبران ہی کی بالا دستی رہی۔ ایک بڑھتی ہوئی برطانوی شناخت کا مطلب تھا کہ اسکاٹ لینڈ کے ثقافتی اور سیاسی اداروں کی نمایاں خصوصیات باقاعدہ اور رفتہ رفتہ دب جائیں گی۔اسکاٹ لینڈ کے پہاڑی حصوں میں رہنے والے کیتھولک قبیلوں کو شدید جبروظلم کا سامناکرنا پڑا۔ اسکاٹ لینڈ کے پہاڑی باشندوں کو ان کی زبان گائیل بولنے اور قومی لباس پہننے سے منع کردیا گیا۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد کو جبراً وطن سے نکال دیا گیا۔
آئرلینڈ کی قسمت میں بھی یہی سب تھا۔ یہ ملک کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کے درمیان بڑی شدت سے بٹا ہوتھا۔ انگلینڈ نے آئرلینڈ کے پروٹسٹنٹ کی مدد کی تاکہ وہ اپنا تسلط کیتھولک آبادی پرجو کہ اکثریت میں تھی قائم رکھیں۔ برٹش تسلط کے خلاف ہونے والی کیتھولک بغاوت کو ہر جگہ دبادیا گیا–––– Wolfe Toneاور اس کی تنظیم United Irishmen (1798)کے ناکام انقلاب کے بعد آئر لینڈ کو 1801میں جبراً United Kingdomمیں شامل کر لیا گیا۔ اور ایک نئی برطانوی قوم ، انگلش ثقافت کے غلبہ کے ساتھ وجود میں لائی گئی۔ نئے برطانیہ کی علامتیں–– برطانوی جھنڈا(Union Jack)قومی ترانہ (God Save Our Noble King)اور انگریزی زبان – – – – –کو بہت مستعدی سے ترقی دی گئی اور پرانی ریاستیں اس اتحاد میں محض ایک ماتحت ساتھی کی حیثیت سے زندہ رہیں۔
سرگرمی
فن کار نے گیری بالڈی کو جوتے کو تلے سے پکڑے ہوئے دکھایا ہے تاکہ سرد ینیا۔ پیڈمونٹ کے شاہ ایمو نول دوم اسے پہن سکیں۔ اٹلی کے نقشہ کو ایک بار پھر دیکھیے یہ خاکہ کیا بیان کرتاہے؟
باکس، 2
گیسپی گیری بالڈی(1807-82)(Giuseppe Garibaldi) شاید اٹلی کی جدوجہد آزادی کی تاریخ کی سب سے نامور شخصیت ہے۔ اس کا خاندان ساحل پر تجارت کرتاتھا اور وہ خود تجارتی جہازوں سے منسلک تھا۔1833میں اس کی ملاقات مازنی سے ہوئی۔ ینگ اٹلی کی تحریک میں شامل ہو کر پیڈمونٹ میں 1834کی عوامی بغاوت میں شرکت کی۔ یہ بغاوت کچل دی گئی۔ اور گری بالڈی کو جنوبی امریکا بھاگنا پڑا۔ جہاں اس نے 1848تک جلا وطنی کی زندگی گذاری۔ پھر اس نے 1854میں وکڑا یمونول دوم کی اٹلی کی اتحاد کی کوششوں کی حمایت کی – 1860میں گیری بالڈی نے جنوبی اٹلی کی طرف مشہور مہم Expedition of the Thousand کی قیادت کی۔
راستے میں ہزاروں رضاکار اس مہم میں شرکت کرتے گئے یہاں تک کہ ان کی تعداد 30,000ہوگئی۔ ان کا مقبول نام سرخ قمیص والے تھا۔
اٹلی Papal Statesکے اتحاد کی راہ میں آخری رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے 1867میں گیری بالڈی نے روم کی طرف پیش قدمی کرنے والے رضاکاروں کی ایک فوج کی قیادت کی مگر فرانس اور papalکی فوجوں کی مشترکہ قوت کا ریڈشرٹس مقابلہ نہ کر سکے۔ یہ تو صرف 1870میں ہوا جب پرشیا کے ساتھ ہونے والی جنگ کے دوران فرانس نے روم سے اپنے فوجی دستے واپس بلائے اور Papal Statesبالاخر اٹلی کے ساتھ ہوگئی۔

شکل 15۔ گیری بالڈی بادشاہ وکڑا یمونول دوم کو جو تا، جس کا نام اٹلی تھا، پہننے میں مدد کر رہاہے۔ انگریزی مضحکہ خیز خاکہ 1859۔
نئے الفاظ
(ETHNIC)نسلی گروہ ایک مشترک نسلی،قبائلی اور تہذیبی اساس یا پس منظر جس سے کوئی کمیونٹی اپنے آپ کے وابستہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔
5 قوم کی ذہنی شبیہ
یہ بہت آسان ہے کہ کسی حکمراں کی صورت گری ایک تصویر یا ایک مجسمے میں کی جائے لیکن قوم کو کوئی چہرہ کیسے دیا جائے ، مشکل کام ہے ۔اس مسئلہ کا حل اٹھارھویں اور انیسویں صدی کےفن کاروں نے قوم کو ایک مادی شکل دے کر کیا ۔ یعنی دوسرے الفاظ میں انھوں نے ملک کو ایک شخصیت کا روپ دیا ۔ قومیں ایک عورت کی شبیہ میں پیش کی گئیں ۔ یہ منتخب صورتیں جو قوم کی نمائندگی کرنے کے لیے بنائی گئی تھیں حقیقی زندگی میں کسی خاص عورت کی نہیں تھیں بلکہ محض ایک مجرد خیال کو ایک ٹھوس شکل میں پیش کرنا تھا، اس طرح عورت قوم کی علامت بن گئی۔
آپ کو یاد ہوگا کہ انقلاب کے وقت فنکاروں نے عورت کی تمثیل کو آزادی ، انصاف اور جمہوریت کے تخیّل کو پیش کرنے کا ذریعہ بنایا تھا او راس مثالی تصورکو کسی مخصوص چیز یا علامت کے ذریعہ دکھایا گیا تھا ۔ آپ کویہ بھی یاد ہوگا کہ آزادی کی علامتیں سرخ ٹوپی یا ٹوٹی ہوئی زنجیر ہیں جب کہ انصاف کی تصویر کشی عموماً آنکھوں پر پٹی باندھے ہوئے ایک عورت سے کی جاتی ہے جو ترازو کو تھامے ہوئے ہے۔
قوم کی نمائندگی کرنے کے لیے بالکل اسی طرح کی علامتیں انیسویں صدی کے فن کاروں نے بھی استعمال کیں۔فرانس میں اس کو Marianneکہاگیاہے جو کہ ایک مقبول عیسائی نام ہے جو عوام کی قوم کی نشاندہی کرتی ہے ۔ Marianneکے مجسمے جگہ جگہ راستوں اور چوک پر لگوائے گئے تاکہ یہ عوام کو اتحاد کی قومی علامت کو ہمیشہ یاد دلاتے رہیں اور انھیں اپنی شناخت بنانے پر راغب کرتے رہیں ۔Marianneکی تصویر سِکوّں اور ڈاک کے ٹکٹوں پر بھی بنائی گئی ۔
اسی طرح جرمینیا Germeniaجرمن قوم کی تمثیل بن گئی ۔ جرمینیا کا تاج شاہ بلوط کی پتیوں کا ہے کیونکہ جرمن شاہ بلوط جرأت و بہادری کی نشانی ہے ۔
شکل 16- 1850کا ڈاک ٹکٹ جس میں Marianneجمہوریہ فرانس کی تمثیلی نمائندگی کررہی ہے ۔

شکل 17- جرمینیا ،فلپ ویٹ ،1848
جرمینیا کی اس تصویر کو فن کار نے سوتی جھنڈے کے اوپر بنایا ہے کیونکہ اس کو چرچ آف سینٹ پال کی چھت سے لٹکایا جانا تھا جہاں مارچ 1848 فریکفرٹ پارلیمنٹ کا اجلاس ہوا تھا ۔
نئے الفاظ
Allegory:
تمثیل ۔ علامت ۔ جب ایک غیر مرئی احساس کا ( جیسے لالچ،حسد ،آزادی ) کسی شخص یا شے کے ذریعہ اظہار کیا جائے ۔تمثیلی کہانی کے دو معنی ہوتے ہیں ،ایک لغوی ،دوسراعلامتی۔
| اہمیت |
علامت |
| آزاد ہونا |
شکستہ زنجیر |
| جرات وبہادری |
چار آئینہ عقاب۔شکرہ کے ساتھ |
| جنگ کے لیے مستعدی |
تلوار |
| صلح کے لیے خواہش مند |
تلوار کے دزیتون کی شاخ |
| 1848میں آزاد خیال قوم پرستوں کا جھنڈا- جس کو جرمن ریاستوں کے حکمرانوں نے ممنوع قراردیا |
سیاہ سرخ اور سنہرا ترنگا |
| ایک نئے دور کی ابتداء |
ابھرتے سورج کی کرنیں |
سرگرمی
با کس 3میں دیے گئے چارٹ کی مدد سے ویٹ (Veit)کی جرمینیا کی خصوصیات کی شناخت کیجیے اور 1836میں علامتی انداز میں بنائی ہوئی پینٹنگ کی تاویل و تشریح کیجیے ۔ ویٹ نے قیصر کے تاج کی تصویر اُس جگہ بنائی تھی جہاں اس نے اب ٹوٹی ہوئی زنجیر بنادی ہے ۔ اس تبدیلی کی اہمیت سمجھائیے۔
شکل 18- شکست خوردہ جرمینیا ،جولیس ہوبنر،1850
سرگرمی
آپ نے شکل 17 میں کیادیکھا ؟بیان کیجیے۔ اس تمثیلی پیش کش میں ہوبنر کن تاریخی واقعات کی جانب اشارہ کرسکتا ہے ؟
شکل m 19 جرمینیا ،رھائن کی حفاظت کرتے ہوئے ۔
1860میں،آرٹسٹ Lorenz Clasenکو یہ پینٹنگ بنانے کا کام دیا گیا تھا۔جرمینیا کی تلوار پر لکھا ہوا ہے۔ ’’ جرمن تلوار جرمن رھائن کی حفاظت کرتی ہے ‘‘۔
سرگرمی
ایک بارشکل10 کو پھر غور سے دیکھیے اور تصور کیجیے کہ مارچ 1848میں آپ فرینکفرٹ کے ایک شہری تھے اور پارلیمنٹ کی کارروائی کے وقت وہاں موجود تھے ۔ تو آپ (a)ایک مرد کی حیثیت سے جو ممبروں کے ہال میں بیٹھا ہے اور (b)ایک عورت کی طرح جو گیلری سے مشاہدہ کررہی ہے ‘ جرمینیا کی چھت سے لٹکتی ہوئی تصویر سے اپنا کیا تعلق محسوس کریں گے ؟
6-قوم پرستی اور سامراجیت
انیسویں صدی کے آخری ربع تک پہنچتے پہنچتے قوم پرستی اپنے وہ تصوراتی آزادنہ اور جمہوری احساسات قائم نہ رکھ سکی جو کہ صدی کے پہلے حصہ میں تھے بلکہ ایک تنگ نظر اور محدود مقاصد رکھنے والافلسفہ بن کر رہ گئی۔ اس زمانے میں نیشنلسٹ گروہ بہت حد تک غیر روادار اور ایک دوسرے کے لیے ناقابل برداشت اور ہر وقت جنگ کے لیے آمادہ ہوگئے ۔ یوروپ کی بڑی طاقتوں نے عوام کے نیشنلسٹ جذبات کو وہ رخ دینے کی کوشش کی جس سے خود ان کے سامراجی مقاصد کو بڑھاوا ملے۔
1871 کے بعد یورپ میں نیشنلسٹ تنائو کا سب سے زیادہ تشویشناک علاقہ وہ تھا جو بلقان کہلاتا تھا۔ بلقان جغرافیائی اور نسلی اعتبار سے کئی الگ الگ صفات کا مجموعہ تھا اور اس کے دائرہ میں جدید رومانیہ، بلغاریہ، یونان، مقدونیہ، کرویشیا، بوسینا، ہرزیگوینا، سلوینیا، سریبااور مونٹے نیگرو شامل تھے۔ یہاں کے رہنے والے سلاو کہے جاتے تھے، بلقان کا ایک بڑا حصہ سلطنت عثمانیہ کے زیر اثر تھا۔ رومانوی نیشنلزم کے نظریات کی ترویج اور سلطنت عثمانیہ کے بکھرنے نے اس علاقہ کو بہت ہی دھماکہ خیز بنادیا۔پوری انیسویں صدی کے دوران سلطنت عثمانیہ کی یہ کوشش رہی کہ وہ اندرونی اصلاحات اور جدیدیت کے ذریعہ اپنی گرفت کو یہاں مضبوط کرے لیکن اس کو کامیابی نہیں ہوئی۔ ایک ایک کرکے سلطنت عثمانیہ کی ماتحت یوروپی قوتیں اس سے الگ ہوکر اپنی اپنی آزادی کا اعلان کرتی رہیں۔ آزادی اور سیاسی حقوق کے اپنے مطالبوں کی اساس بلقان کے لوگ قومیت پر رکھتے تھے اور یہ ثابت کرنے کے لیے کہ ایک زمانہ تھا جب وہ آزاد ہوا کرتے تھے مگر بعد میں بیرونی طاقتوں نے انھیں مطیع بنالیا وہ تاریخ کے حوالوں کو استعمال کرتے تھے۔ اسی لیے بلقان میں سرکش قوموں نے اپنی جدوجہد کو اپنی کھوئی ہوئی آزادی و خودمختاری کودوبارہ حاصل کرنے کی کوششوں کی حیثیت سے دیکھا۔
جب مختلف سلاوی(Slavic) قومیں اپنی اپنی آزادی اور شناخت کے تعین کی جدوجہد میں مصروف تھیں، بلقان کا علاقہ ایک شدید اختلاف اور جھگڑے کی آماجگاہ بن گیا۔ بلقان قومیں ایک دوسرے سے شدید حسد کرتی تھیں اور ایک دوسرے کی زیادہ سے زیادہ زمین ہڑپ کرنے کی فکر میں رہتی تھیں۔بعد میں یہ حالات اور پیچیدہ ہوگئے۔ بلقان بڑی طاقتوں کی باہمی رقابتوں کا میدان بن گیا۔ اس زمانے میں یوروپ کی بڑی طاقتوں کے درمیان تجارت ، نوآبادیوں کے لیے، بحری اور فوجی طاقت کی خاطر آپس میں سخت رسہ کشی تھی۔ بلقان مسئلہ جوں جوں واضح ہوتا گیایہ رقابتیں بھی اتنی ہی صاف اور نمایاں ہوتی گئیں۔ہر طاقت— روس، جرمنی، انگلینڈ، آسٹرو— ہنگری کی دلچسپی یہی تھی کہ دوسری طاقت کی گرفت کو بے اثر کیا جائے اور اپنے اثر کوبڑھایا جائے۔ اس کی وجہ سے اس علاقے میں کئی لڑائیاں ہوئیں اور آخر کار پہلی عالمی جنگ چھڑ گئی۔

شکل 20 سلطنت برطانیہ کے جشن کو دکھاتا ہوا نقشہ۔
اوپر کی جانب فرشتے آزادی کا جھنڈا تھامے ہوئے ہیں۔ سامنے بریٹینیا، برطانوی قوم کی علامت، ایک فاتح کی مانند کرۂ ارض پر بیٹھی ہے اور نو آبادیوں کی نمائندگی چیتے، ہاتھی، جنگل اور غیر تہذیب یافتہ عوام کی شبیہیں کر رہی ہیں۔ دنیا پر تسلط کو برطانیہ کے قومی افتخار کی اساس کی حیثیت سے دکھایا گیا ہے۔
نیشنلزم اور سامراجیت کے ایک صف میں کھڑے ہونے سے 1914ء میں یوروپ کو تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اسی درمیان ایسے بہت سے ممالک جن کو انیسویں صدی میں یوروپی طاقتوں نے نوآبادی بنالیاتھا، سامراجی تسلط کی مزاحمت کرنے لگے۔ تمام سامراج مخالف تحریکیں جو ہر جگہ شروع ہوئیں، قوم پرستانہ تھیں کیونکہ یہ سب ایک خودمختار نیشن اسٹیٹ کے قیام کی جدوجہد میں لگی ہوئی تھیں اور سامراج کے مقابلے کی سعی میں ایک مشترکہ قومی احساس سے جوش و ولولہ حاصل کررہی تھیں۔ یورپ کے قوم پرستی کے نظریات کا کہیں اعادہ نہیں ہوا اور کیونکہ لوگوں نے ہر جگہ قوم پرستی کی اُس مخصوص قسم کو فروغ دیا جو وہ چاہتے تھے۔ لیکن یہ نظریہ کہ سماجوں کو نیشن اسٹیٹ کی شکل میں منظم ہونا چاہیے، ایک عالمی اور فطری نظریہ کی طرح قبول کرلیا گیا۔
اختصار کے ساتھ لکھیے
1- مندرجہ ذیل پر نوٹ لکھیے۔
(a) گیسپی مازنی(Guiseppe Mazzini)
(b) کاونٹ کامیلوذی کیوور(Count Camillo de Cavour)
(c) یونان کی جنگ آزادی
(d) فرینکفرٹ پارلیمنٹ
(e) قوم پرستانہ جدوجہدمیں عورتوں کا کردار
2- فرانس کے انقلابیوں نے فرانس کے عوام کے اندر ایک اجتماعی شناخت کااحساس پیدا کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے؟
3۔ Marianne اور Germania کون تھیں؟ ان کی جس انداز سے تصویر کشی کی گئی ہے، اس کی کیا اہمیت ہے؟
4۔ جرمن اتحاد کے عمل کو بیان کیجیے۔
5۔ نیپولین نے اپنے مقبوضہ علاقوں کے انتظام کو بہتر اور موثر بنانے کے لیے کیا اقدام کیے؟
تبادلۂ خیال کیجیے
1۔ 1848 کے آزاد خیالوں کے انقلاب سے کیا مراد ہے؟ آزاد خیالوں نے کن سیاسی، سماجی اور معاشی نظریات کی حمایت کی تھی؟
2۔ تین ایسی مثالوں کا انتخاب کیجیے جن سے یوروپ میں قوم پرستی کے فروغ میں ثقافت کا حصہ معلوم ہوسکے۔
3۔ کسی بھی دو ممالک پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے بیان کیجیے کہ انیسویں صدی میں قوموں نے کیوں کر فروغ پایا؟
4۔ برطانیہ میں قوم پرستی کی تاریخ یورپ کی قوم پرستی جیسی کیوں نہیں ہے؟
5۔ بلقان میں نیشنلسٹ تناؤ کیوں پیدا ہوا؟
پروجیکٹ
یوروپ کے باہر کے ممالک میں نیشنلسٹ علامتوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کیجیے۔ ایک یا دو ملکوں سے ایسی تصویریں، اشتہار اور موسیقی کی مثالیں جمع کیجیے جو نیشنلزم کی علامت ہوں اور یہ بھی بتائیے کہ یہ یوروپی مثالوں سے کس طرح الگ ہیں؟