2
باب ii
قوم پرستی ہندوستان میں
جیسا کہ آپ نے دیکھا ہے کہ یوروپ میں جدید قوم پرستی(جدید نیشنلزم) کو نیشن اسٹیٹس کی تشکیل سے منسلک سمجھا گیا۔ساتھ ہی اس کا مطلب ان معاملات میں لوگوں کی سمجھ میں تبدیلی بھی تھا کہ وہ کون تھے اور کیا چیز ہے جو ان کی شناخت اور ان کے رشتوں کا تعین کرتی ہے۔نئی علامتوں،نئے بتوں (Icons)، نئے گیتوں اور نئے نظریات وخیالات نے نئے رشتے استوار کیے اور سماج کی حدود کو ازسرنو متعین کیا۔اکثر ملکوں میں اس نئی قومی شناخت کی تشکیل کا عمل ایک طول طویل عمل تھا۔یہ شعور ہندوستان میں کیسے وجود میں آیا؟
ویتنام اور دوسرے بہت سے ملکوں کی طرح ہندوستان میں بھی جدیدنیشنلزم کا بڑا قریبی تعلق نوآبادکاری مخالف تحریک سے رہا ہے۔نو آبادیاتی نظام کے خلاف اپنی جدوجہد کے دوران ان لوگوں نے اپنی یکجہتی اور اپنے اتحاد کو دریافت کرنا شروع کیا۔نو آبادیاتی نظام کی سخت گیری کے احساس نے درد کا ایک ایسا مشترک رشتہ استوار کردیا جس نے متعدد مختلف گروہوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا۔مگر ہر طبقے اور ہر گروہ نے نو آبادیاتی نظام کے اثرات کو مختلف انداز سے محسوس کیا ان کے تجربات متنوع تھے اور آزادی کے ان کے تصورات بھی ہمیشہ ایک سے ہی نہیں ہوتے تھے۔مہاتماگاندھی کے زیر اثر کانگریس نے ان گروہوں کو ایک تحریک میں ساتھ لانے کی کوشش کی۔مگر یہ اتحاد تنازعات سے سے چھٹکارا نہیں حاصل کرسکا ۔
ایک پچھلی درسی کتاب میں آپ نے بیسویں صدی کی پہلی دہائی تک ہندوستان میں قوم پرستی کے فروغ ونشوونما کے بارے میں پڑھا ہے۔اس باب میں ہم کہانی کو بیسویں صدی کی دوسری دہائی سے شروع کریں گے اور عدم تعاون اور سول نافرمانی کی تحریکوں کا مطالعہ کریں گے۔ہم یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں گے کہ کانگریس نے قومی تحریک کو کس طرح فروغ دینا چاہا،مختلف سماجی گروہوں نے تحریک میں کیسے شرکت کی اور کس طرح نیشنلزم عوام کے تصورات پر چھا گیا۔

شکل .1-6 اپریل1919سڑکوں پر عوامی جلوس قومی تحریک کے زمانے میں ایک عام علامت بن گئے۔
1 پہلی جنگ عظیم،خلافت اور عدم تعاون
1919کے بعدہم دیکھتے ہیں کہ قومی تحریک نئے علاقوں تک پھیل رہی ہے،نئے سماجی گروپ شامل ہو رہے ہیں اور جدو جہد کے نئے طریقے وجود میں آر ہے ہیں۔ ہم اس پیش رفت سے کیا سمجھتے ہیں؟ان کے مضمرات کیا ہیں؟
سب سے پہلے تو یہ کہ جنگ نے ایک نئی اقتصادی اور سیاسی صورت حال پیدا کردی۔اس سے دفاع کے اخراجات میں زبردست اضافہ ہوا جس کے لیے رقم جنگی قرضوں اور بڑھے ہوئے ٹیکسوں سے فراہم کی گئی۔کسٹم محصول بڑھا دیا گیا اور آمدنیوں پر ٹکس لگائے گئے۔جنگ کے دوران اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 1913اور1918کے درمیان یہ تقریباً دوگنی ہوگئیں۔نتیجتاً عام آدمی کے لیے مشکلات شدید ہوگئیں۔گاؤں سے سپاہی فراہم کرنے کے لیے کہاگیا، دیہی علاقوں میں ہونے والی جبری بھرتی نے بڑے پیمانے پر ناراضگی پیدا کی۔پھر 1918—19 اور1920—21میں، ہندوستان کے بہت سے حصوں میں فصلیں خراب ہوئیں،جس سے کھانے کی اشیا کی زبردست قلت ہوگئی۔اسی کے ساتھ انفلوئنزا کی وبا پھیلی۔1921کی مردم شماری کے مطابق 12سے13ملین لوگ،قحط اوروباکی نذر ہوگئے۔
لوگوں کو توقع تھی کہ جنگ ختم ہونے کے بعد ان کی مشکلات بھی ختم ہوجائیں گی۔مگر ایسا ہوا نہیں۔
اس منزل پر ایک نیا لیڈر سامنے آیا اور اس نے جدوجہد کا نیا طریقہ تجویز کیا۔
نئے الفاظ
جبری بھرتی—ایک قاعدہ جس کے تحت نوآبادیاتی حکومت لوگوں کو زبردستی فوج میں بھرتی کرتی تھی۔
1.1 ستیہ گرہ کا خیال
مہاتما گاندھی جنوری1915میں ہندوستان واپس آئے۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ وہ جنوبی افریقہ سے آئے تھے،جہاں انھوں نے نسلی حکومت کے خلاف،عوامی احتجاج کے ایک انوکھے طریقے سے کامیاب لڑائیاں لڑی تھیں اس طریقے کو وہ ’ستیہ گرہ‘کہتے تھے۔ستیہ گرہ کا خیال سچ کی قوت اور سچ کی تلاش پر زور دیتا تھا۔اس کے مطابق اگر مقصد سچا ہے،اگر جدوجہد ناانصافی کے خلاف ہے تو جابر سے لڑنے کے لیے جسمانی طاقت ضروری نہیں ہوتی۔انتقام کے جذبے اور جارح ہوئے بغیر،ایک ستیہ گرہی،عدم تشدد کے ذریعے جنگ جیت سکتا ہے یہ کام جابر کے ضمیر کو اپیل کرکے کیاجاسکتا ہے۔لوگوں کو ،جن میں جابر بھی شامل ہیں،تشدد کو استعمال کرکے سچ کو منوانے پر مجبور کرنے کے بجائے انھیں سچائی دیکھنے پرمائل کرنا ہوگا۔اس کوشش سے بالاخر سچ کی جیت یقینی ہے۔مہاتما گاندھی کو اس بات پر یقین تھا کہ عدم تشدد کا یہ دھرم تمام ہندوستانیوں کو متحد کرسکتا ہے۔
ہندوستان آنے کے بعد مہاتما گاندھی نے مختلف مقامات پر بڑی کامیابی کے ساتھ ستیہ گرہ کی تحریکوں کو منظم کیا۔چائے کے باغات کے جابر وظالم نظام کے خلاف جدوجہد کرنے کے لیے کسانوں کے حوصلوں کو بڑھانے کی خاطر انھوں نے چمپارن(بہار)کا سفر کیا۔اس کے بعد1917میں گجرات کے کھیڈا ضلع میں کسانوں کی مدد کرنے کے لیے ایک ستیہ گرہ کا انتظام کیا۔فصل کی خرابی اور طاعون کی وجہ سے کھیڈا کے کسان لگان ادا نہیں کرسکے تھے اور وہ لگان جمع کرانے میں بھی کچھ نرمی برتے جانے کا مطالبہ کررہے تھے۔1918میں مہاتماگاندھی ’کا ٹن مل‘ کے مزدوروں میں ستیہ گرہ کی تحریک کو منظم کرنے کے لیے احمدآباد گئے۔

شکلm2. جنوبی افریقہ میں ہندوستانی ورکر Volkesrustمیں مارج کرتے ہوئے نومبر1913 ۔
نیوکاسل سے ٹرانسوال تک مہاتما گاندھی مزدوروں کی قیادت کررہے تھے۔جب مارچ کرنے والے روک دیے گئے اور مہاتما گاندھی کو گرفتار کرلیاگیا تو کالے رنگ والوں کو حقوق سے محروم کرنے والے نسلی قوانین کے خلاف ستیہ گرہ میں مزید ہزاروں مزدور شریک ہوگئے ۔
ماخذ A
مہاتما گاندھی:ستیہ گرہ کے موضوع پر
مجہول مزاحمت(Passive Resistance)کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ یہ کمزور کاہتھیار ہے۔مگر قوت،جو اس مضمون کا موضوع ہے،صرف مضبوط اور طاقت ور ہی استعمال کرسکتا ہے۔یہ قوت مجہول مزاحمت نہیں ہوتی۔حقیقتاً یہ شدید عمل کا مطالبہ کرتی ہے۔جنوبی افریقہ میں تحریک مجہول مزاحمت نہیں تھی۔
ستیہ گرہ جسمانی طاقت نہیں ہے۔ایک ستیہ گرہی اپنے مخالف کو تکلیف نہیں پہنچاتا،وہ اس کی تباہی بھی نہیں چاہتا…ستیہ گرہ کے استعمال میں بغض وعداوت بھی نہیں ہوتی۔
ستیہ گرہ ایک خالص روحانی قوت ہے۔سچائی روح کا حقیقی خمیر ہے۔اس لیے اسے ستیہ گرہ کہاجاتا ہے۔روح کو دانشمندانہ علم ہوتا ہے۔اس میں محبت کی چنگاری سلگتی ہے…عدم تشدد عظیم ترین دھرم ہے۔
یہ یقینی بات ہے کہ ہندوستان ہتھیاروں کی قوت پر برطانیہ اور یورپ کا مقابلہ نہیں کرسکتا برٹش جنگ کے دیوتا کی پوجا کرتے ہیں وہ سب ہتھیار اٹھانے والے ہوسکتے ہیں،اور وہ ہتھیار اٹھانے والے ہورہے ہیں، ہندوستان میں لاکھوں کروڑوں لوگ ہتھیار نہیں اٹھاسکتے۔انھوں نے عدم تشدد کے مذہب کو اپنالیاہے۔
سرگرمی
متن کو غورسے پڑھیے۔مہاتماگاندھی جب ستیہ گرہ کو’فعال مزاحمت‘کہتے ہیں تو ان کامطلب کیا ہوتا ہے؟
1.2رولٹ ایکٹ
کامیابیوں اور کامرانیوں سے ہمت اور حوصلہ حاصل کرنے کے بعدانھوں نے1919میں مجوزہ رولٹ ایکٹ(1919)کے خلاف ملک گیر پیمانے پر ستیہ گرہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔یہ بل ہندوستانی اراکین کی مخالفت کے باوجود امپریل لیجسلیٹیو کونسل میں انتہائی تیزی سے پاس کردیاگیا۔اس بل نے سیاسی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے حکومت کو بے انتہا اختیارات دیے تھے اورسیاسی قیدیوں کو بغیر مقدمہ چلائے دوسال تک حراست میں رکھنے کی اجازت دے دی تھی۔مہاتما گاندھی نے نامنصفانہ قوانین کے خلاف ایک غیر متشدد سول نافرمانی کرنا چاہی جس کا آغاز 16اپریل کو ایک ہڑتال سے ہونا تھا۔
مختلف شہروں میں ریلیاں ہوئیں،ریلوے ورکشاپس میں مزدوروں نے ہڑتالیں کیں،دوکانیں بند ہوئیں۔عوامی جوش وخروش سے گھبراکر ،ریلوں اور ٹیلی گراف جیسے نقل وحمل اور رسل ورسائل کے وسیلوں میں افراتفری کے خوف سے،برطانوی انتظامیہ نے قوم پرستوں پر اپنی گرفت مضبوط کردی۔امرتسر میں مقامی لیڈر گرفتار کرلیے گئے ،مہاتماگاندھی کے دہلی میں داخلے پر پابندی لگادی گئی10اپریل کو پولیس نے امرتسر میں ایک پرامن جلوس پر گولیاں چلائیں،جس سے بھڑک کر بینکوں،ڈاک خانوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر وسیع پیمانے پر حملے ہوئے۔مارشل لا لگادیا گیا ور جنرل ڈائر نے کمان سنبھال لی۔13اپریل کو جلیاں والے باغ کا بدنام زمانہ واقعہ ہوا۔ایک میلے میں شرکت کرنے کے لیے اس دن دیہاتیوں کا ایک جم غفیر آیاتھااور جلیاں والا باغ کے چہاردیواری سے گھرے ہوئے احاطے میں اکٹھا تھا۔شہر سے باہر ہونے کی وجہ سے مارشل لاکے نفاذ سے یہ لوگ ناواقف تھے ڈائر احاطے میں داخل ہوا نکلنے کے راستوں کو روک دیااور مجمع پر گولیاں چلانا شروع کردیں۔ہزاروں لوگ مارے گئے۔اس کاروائی سے اس کا مقصد،بقول اس کے ،ستیہ گرہیوں کے دماغوں میں خوف اور ہیبت پیدا کرنے کے لیے’’ایک اخلاقی تاثر‘‘پیداکرنا تھا۔
جلیاں والا باغ کی خبر جوں ہی پھیلی،شمالی ہند کے متعدد شہروں میں لوگ سڑکوں پر آگئے۔ہڑتالیں ہوئیں،پولیس والوں سے جھڑپیں ہوئیں اور سرکاری عمارتوں پر حملے ہوئے۔حکومت نے جواب میں،لوگوں کو ذلیل کرنے اور خوف زدہ کرنے کے لیے وحشیانہ ظلم کیے۔ستیہ گرہیوں کو اپنی ناکیں زمین پر رگڑنے اور سڑکوں پر رینگ کر چلنے پر مجبور کیاگیا،تمام ’صاحبوں‘کو سلام کرایاگیا۔لوگوں کو کوڑے لگائے گئے پنجاب میں گجرانوالہ (اب پاکستان میں ہے)کے نواحی گاؤوں پر بمباری ہوئی۔تشدد کو بڑھتا دیکھ کرمہاتماگاندھی نے تحریک کو ختم کرنے کااعلان کردیا۔
رولٹ ستیہ گرہ اگرچہ خاصی پھیلی ہوئی تحریک تھی مگر پھر بھی یہ ابھی زیادہ تر چند شہروں اور قصبوں تک محدود تھی۔اب مہاتما گاندھی نے ہندوستان میں زیادہ متنوع اور وسیع بنیادوں پر ایک تحریک کی ضرورت کو محسوس کیا۔مگر ان کو اس بات کا یقین تھا کہ ایسی کوئی بھی تحریک ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے قریب لائے بغیر منظم نہیں کی جاسکتی ہے۔ایسا کرنے کا،انھوں نے سوچا، کہ ایک طریقہ خلافت تحریک کو اپنالیناہے۔پہلی جنگ عظیم عثمانی ترکی کی شکست کے ساتھ ختم ہوئی تھی۔اور افواہیں گرم تھیں کہ ایک بڑاسخت امن معاہدہ عثمانی شہنشاہ پر(جو عالم اسلام کے خلیفہ بھی ہیں)مسلط کیا جائے گا۔خلیفہ کے دنیاوی اختیارات کے تحفظ ودفاع کے لیے مارچ1919میں بمبئی میں ایک خلافت کمیٹی تشکیل دی گئی۔محمد علی اور شوکت علی جیسے مسلم لیڈروں کی نوجوان نسل نے،اس مسئلے پر کسی متحدہ عوامی ایکشن کے امکانات پر غور کرنے کے لیے مہاتما گاند ھی سے گفت وشنید شروع کی مہاتما گاندھی نے اسے مسلمانوں کو ایک متحدہ قومی تحریک کی چھتر چھایامیں لانے کے ایک موقع کی طرف دیکھا۔ستمبر1920میں کلکتے میں ہونے والے کانگریس سیشن میں انھوں نے خلافت اور سوراج کی حمایت کے لیے ایک غیر متشدد تحریک شروع کرنے کی ضرورت پر دوسرے لیڈروں کو راضی کرلیا۔

شکل3۔جنرل ڈائر کے پیٹ کے بل رینگنے کے احکامات برطانوی سپاہیوں کے ذریعے نافذ کیے جارہے ہیں—امرتسرپنجاب1919
1.3عدم تعاون کیوں؟
اپنی مشہور کتاب ’ہندسوراج‘(1909)میں مہاتماگاندھی نے لکھا تھاکہ ہندوستان میں برطانوی عہد،ہندوستانیوں کے تعاون سے قائم ہواتھااور اسی تعاون کے سہارے وہ باقی بھی رہا۔اگر ہندوستانی یہ تعاون دینا چھوڑدیں تو برطانوی حکومت ایک برس کے اندر اندر منہدم ومسمار ہوجائے گی اور سوراج آجائے گا۔
عدم تعاون ایک تحریک کیوں کر بن سکتا ہے؟گاندھی کی تجویزتھی کہ تحریک کو آہستہ آہستہ اور بتدریج پھیلنا اور بڑھنا چاہیے۔اس کا آغازحکومت کے دیے ہوئے القابات کی واپسی اور سول سروسز،فوج،پولیس،عدالتوں،مجالس قانون ساز،اسکولوں میں اور بدیسی سامان کے بائیکاٹ سے ہونا چاہیے۔اس کے بعد اگر حکومت ظلم وزیادتی کرتی ہے تو پھر سول نافرمانی کی ایک بڑی مہم چلائی جائے گی۔1920کے موسم گرما میں مہاتما گاندھی اور شوکت علی نے تحریک کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنے کی خاطر ملک بھر کادورہ کیا۔
کانگریس کے اندر،بہرحال بہت سے لوگ ان تجاویز کے سلسلے میں کچھ تذبذب میں تھے۔ نومبر1920میں ہونے والے کونسل کے انتخابات کے بائیکاٹ کے بارے میں انھیں کچھ تامل تھا۔انھیں یہ خدشہ تھا کہ تحریک عوامی تشدد کی طرف لے جائے گی۔ستمبر اور دسمبر کے درمیان خود کانگریس کے اندر شدید کھینچاتانی تھی۔ایک وقت تو ایسا لگتا تھاکہ تحریک کے موافقین اور مخالفین کے درمیان مصالحت کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔بہرحال آخر میں،دسمبر1920کے ناگپور کانگریس سیشن میں ایک سمجھوتے پر کام کیا گیا اور عدم تعاون کا پروگرام منظور کرلیاگیا۔
تحریک کس طرح آگے بڑھی؟اس میں کون لوگ شریک ہوئے؟مختلف سماجی گروہوں نے اپنے ذہنوں میں عدم تعاون کی کیاتصویر بنائی؟
نئے الفاظ
بائیکاٹ— لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنے، ان سے تعلق رکھنے، سرگرمیوں میں شریک ہونے اور اشیا کو خریدنے اور استعمال کرنے سے انکار۔ عموماً احتجاج کی ایک شکل۔

شکل— 4. بدیسی کپڑوں کا بائیکاٹ، جولائی 1922۔ بدیسی کپڑے کو مغرب کی اقتصادیات اور اس کے ثقافتی غلبے کی علامت کے طور پردیکھاگیا۔
2 تحریک میں باہم ناموافق دھارے
عدم تعاون—خلافت تحریک جنوری1921میں شروع ہوئی۔اس میں مختلف سماجی گروہوں نے شرکت کی،اپنی اپنی مخصوص امیدوں اورآروزوؤں کے ساتھ۔ان میں سے ہر ایک نے ’سوراج‘ کے نعرے پر لبیک کہا۔مگر یہ اصطلاح مختلف لوگوں کے لیے مختلف معنی رکھتی تھی۔
2.1تحریک قصبوں میں
تحریک اوسط طبقہ کے لوگوں کی شرکت سے شہروں میں شروع ہوئی تھی،سرکاری اسکولوں کے ہزاروں طلبانے اسکول چھوڑے،ہیڈماسٹروں اور استادوں نے استعفے دیے،وکیلوں نے اپنی وکالت ترک کی۔ کونسل کے انتخابات کا مدراس کے علاوہ ہرجگہ بائیکاٹ ہوا۔مدراس جہاں غیر برہمن لوگوں کی جسٹس پارٹی کا خیال تھا کہ کونسل میں جانا،تھوڑی بہت قوت اور اختیار حاصل کرنے کاایک ذریعہ ہے۔قوت واختیار جس تک صرف برہمنوں کی دستر س تھی۔
اقتصادی لحاظ پر عدم تعاون کے اثرات زیادہ پڑے تھے۔بدیسی سامان کا بائیکاٹ ہواتھا،شراب کی دوکانوں پر دھرنے دئیے گئے تھے اور بدیسی کپڑوں کی ہولیاں جلائی گئی تھیں۔ 1921اور 1922کے درمیان بدیسی کپڑے کی درآمد آدھی رہ گئی تھی اور اس کی قدروقیمت 102 کروڑسے گھٹ کر محض57کروڑ ہوگئی تھی۔بہت سی جگہوں پر تھوک فروشوں اور خردہ فروشوں نے بدیسی اشیا کی تجارت یا بدیسی کا روبارمیں پیسہ لگانے سے انکار کردیا۔بائیکاٹ کی تحریک جوں جوں بڑھی اور لوگوں نے درآمد کیے ہوئے کپڑوں کے استعمال کو ترک کرنا اور صرف ہندوستان میں بنا ہوا کپڑااستعمال کرنا شروع کیا،ہندوستانی ٹیکسٹائل ملوں اور کرگھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔
مگر متعدد اسباب کی بناپرشہروں میں تحریک بتدریج سست ہوگئی،کھادی،ملوں کے بنے ہوئے کپڑے کے مقابلے میں عموماً زیادہ قیمتی ہوتی تھی اور غریب آدمی اسے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا۔ایسی صورت حال میں مل کے کپڑے کا بائیکاٹ لوگ کتنے دن کرسکتے تھے؟اسی طرح برطانوی اداروں کے بائیکاٹ نے بھی مسئلہ پیداکیا۔تحریک کی کامیابی کے لیے متبادل ہندوستانی ادارے قائم کرنا ضروری تھا تاکہ برطانوی اداروں کی جگہ انھیں استعمال کیاجاسکے۔ایسے اداروں کے قیام کی رفتار بہت سست تھی چنانچہ طالب علم اور استاد سرکاری اسکولوں کی طرف واپس جانے لگے اور وکیلوں نے سرکاری عدالتوں میں پھر سے کام کرناشروع کردیا۔
نئے الفاظ
Picket۔دھرنامظاہرے اور احتجاج کی ایک شکل جس کے ذریعے لوگ کسی دوکان کسی فیکٹری یا کسی آفس میں داخلے کا راستہ روکتے ہیں۔
سرگرمی
سنہ1921ہے۔آپ حکومت کے زیر اہتمام چلنے والے ایک اسکول میں طالب علم ہیں۔ایک پوسٹر بنائیے جس میں عدم تعاون کی تحریک میں شامل ہونے کی گاندھی جی کی اپیل کا جواب دینے کے لیے طلباسے درخواست ہو۔
2.2دیہی علاقوں میں بغاوت
عدم تعاون کی تحریک شہروں سے گاؤوں کی طرف بڑھی۔اس نے جنگ کے بعد کے برسوں میں،ہندوستان کے مختلف حصوں میں شروع ہونے والی کسانوں اور قبایلیوں کی جدوجہد کو اپنے ساتھ شامل کرلیا۔
اودھ میں کسانوں کی قیادت بابارام چندر نے کی۔باباجی ایک سنیاسی تھے اور ایک زمانے میں فیجی میں بندھوامزدور کی حیثیت سے رہے تھے۔یہاں تحریک تعلقہ داروں اور زمین داروں کے خلاف تھی جو کسانوں سے انتہائی زیادہ لگان اوربہت سی دوسری وصولیوں کا مطالبہ کرتے تھے۔ کسانوں کو زمین داروں کی زمینوں پر بغیر کسی معاوضے کے بیگار کرنا ہوتاتھا۔پٹے دارہونے کی حیثیت سے پٹے داری کی مدت کی کوئی ضمانت نہیں تھی۔کچھ مدت کے بعد ان کی پٹے داریاں ختم کردی جاتی تھیں تاکہ وہ زمین پر اپنا حق کبھی حاصل نہ کرسکیں۔کسانوں کی تحریک نے لگان میں کمی،بیگار کی منسوخی اور ظالم زمین داروں کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔بہت سی جگہوں پر پنچایتوں نے نائیوں اور دھوبیوں کی خدمات سے زمین داروں کو محروم کرنے کے لیے نائی،دھوبی ہڑتالوں (Bandhs)کا انتظام کیا۔جون1920میں جواہر لال نہرو نے اودھ کے گاؤوں کے دورے کیے،وہاں کے لوگوں کے مصائب کو سمجھنے کے لیے ان سے گفتگو کی۔اکتوبر تک جواہر لعل نہرو، بابارام چندر اورکچھ لوگوں کی سربراہی میں اودھ کسان سبھا بن گئی۔ایک مہینے کے اندر ہی علاقے کے گاؤوں میں،سبھا کی تین سوسے زیادہ شاخیں قائم ہوگئیں۔اگلے سال جب عدم تعاون کی تحریک شروع ہوئی تو کانگریس کی یہ کوشش تھی کہ اودھ کے کسانوں کی جدوجہد کو وسیع تر جدوجہد سے منسلک کرلیاجائے۔مگر کسان تحریک نے ایسی شکلیں اختیار کیں جن سے کانگریس کی قیادت خوش نہیں تھی۔1921میں جب تحریک پھیلی تو تعلقہ داروں اور تاجروں کے گھروں پر حملے ہوئے،بازار لوٹے گئے اورغلہ کے ذخیروں پر قبضہ کرلیاگیا۔بہت سی جگہوں پر مقامی لیڈروں نے کسانوں کو بتایا کہ گاندھی جی نے اعلان کیا ہے کہ ٹیکس نہ دیے جائیں اور یہ کہ زمین غریبوں میں بانٹی جائے گی۔مہاتما گاندھی کا نام تمام سرگرمیوں اور تمام خواہشوں کی منظوری کی ضمانت تھا۔
قبائلی کسانوں نے مہاتماگاندھی کے پیغام اور سوراج کے نظریے کی تاویل کسی اور ہی ڈھنگ سے کی۔مثلاً آندھراپردیش کیGudern Hillمیں1920کے اوائل میں ایک عسکری گوریلا تحریک چلی—جدوجہد کی ایک ایسی شکل جسے کانگریس منظوری نہیں دے سکتی تھی۔دوسرے جنگلاتی علاقوں کی طرح یہاں بھی نوآبادیاتی حکومت نے جنگل کے بڑے بڑے علاقوں کو بند کردیا تھا،لوگ اپنے مویشیوں کو چَرانے کے لیے یالکڑی اور پھل وغیرہ جمع کرنے کے لیے جنگلوں میں داخل نہیں ہوسکتے تھے۔اس اقدام نے پہاڑی لوگوں کو شدید ناراض کردیا۔اس کاروائی سے نہ صرف یہ کہ ان کی روزی روٹی پر اثر پڑا تھا بلکہ انھیں یہ بھی خیال ہوا تھا کہ یہ ان کے روایتی حقوق پر بھی حملہ ہے۔سڑک بنانے کے لیے جب حکومت نے ان پر ’بیگار‘کرنے پر زور ڈالاتو پہاڑیوں کے یہ باشندے سرکشی پر اتر آئے۔اس میں ان کی قیادت کرنے کے لیے جو شخص آیاایک بڑی دلچسپ شخصیت کا مالک تھا۔الوری سیتارام راجو کا دعویٰ تھا کہ اس کے اندر بہت سی خصوصی طاقتیں ہیں۔وہ علم نجوم کی مدد سے صحیح پیشین گوئیاں کرسکتا ہے،وہ لوگوں کا علاج کرسکتا ہے۔اور وہ گولیاں کھا کر بھی زندہ رہ سکتا ہے۔راجو سے مسحور ہوکر باغیوں نے اسے خدا کا اوتار قرار دیا۔راجو نے مہاتماگاندھی کی عظمت کی بات کی اور کہا کہ ان کی عدم تشدد کی تحریک سے اسے بڑا ولولہ ملا ہے۔اس نے لوگوں کو کھادی پہننے کی ترغیب دی اور خود شراب چھوڑدی۔مگر اس سب کے ساتھ ہی اس نے کہاکہ ہندوستان عدم تشدد سے نہیں صرف طاقت کے استعمال سے آزاد ہوسکتا ہے۔ Gudernباغیوں نے پولیس تھانوں پر حملے کیے،انگریز افسروں کو مارنے کی کوشش کی اور سوراج حاصل کرنے کے لیے گوریلاجنگ کی۔راجو1942 میں پکڑا گیا اور ماردیاگیا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ عوامی ہیرو ہوگیا۔
نئے الفاظ
بیگار—وہ کام جو گاؤں والوں کو بغیر کسی اجرت کے زبردستی کرنا ہوتا ہے۔
سرگرمی
اگر1920میں،آپ اترپردیش کے ایک کسان ہوتے تو گاندھی جی کی سوراج کی اپیل پر آپ کا رد عمل کیاہوتا؟اپنے ردعمل کے اسباب بھی بتائیے۔
ماخذB
6جنوری1921کو یونائٹیڈ پراونسز( موجودہ اترپردیش) میں رائے بریلی کے قریب پولیس نے کسانوں پر گولی چلائی۔جواہر لعل نہرو فائرنگ والی جگہ پر جانا چاہتے تھے مگر پولیس نے انھیں روک دیا۔ ناراض اور بپھرے ہوئے نہرو نے اپنے آس پاس جمع ہونے والے کسانوں سے خطاب کیا۔اس میٹنگ کا حال انھوں نے یوں بیان کیا:
’’ان لوگوں نے خطرات کے سامنے نڈراور پرسکون رویہ رکھا اور کسی قسم کی گھبراہٹ کا اظہار نہیں کیا۔میں نہیں جانتا کہ یہ لوگ کیا محسوس کررہے تھے مگر میں یہ جانتا ہوں کہ میں کیا محسوس کررہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے میرا خون کھولا ،عدم تشدد کا خیال ذہن سے نکل چکا تھا۔مگر یہ کیفیت بس ایک لمحے کی تھی۔مجھے اس عظیم لیڈر کا خیال آیا جسے خدانے اپنی مہربانی سے فتح وکامرانی تک ہماری رہنمائی کے لیے بھیجاتھااور میں نے اپنے قریب بیٹھے اور کھڑے ہوئے کسانوں کو دیکھا،کم مشتعل اور مجھ سے زیادہ پرسکون—کمزوری کا یہ لمحہ گزرگیا۔میں نے ان لوگوں سے انتہائی خاکساری کے ساتھ عدم تشدد کی بات کی حالانکہ اس سبق کی زیادہ ضرورت مجھے تھی۔ ان لوگوں نے میری باتیں توجہ سے سنیں اور چلے گئے۔‘‘
(سرواپلی گوپال کی کتاب’جواہرلعل نہرو—ایک بائیوگرافی،جلدIمیں حوالہ)
2.3چائے کے باغات اورسوراج
مزدور مہاتما گاندھی اور ان کے سوراج کے بارے میں خود اپنی ایک سمجھ رکھتے تھے۔آسام کے چائے کے باغات میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے آزادی کا مطلب اس محدود جگہ سے نکل کر آزادانہ گھومنا پھر نا تھا کہ جہاں ان کو تقریباً بندرکھا جاتا تھا۔ان کے نزدیک اس آزادی کا مطلب ان گائووں سے رابطہ قائم رکھنا بھی تھا جہاں سے وہ آئے تھے۔1859کے اِن لینڈ ایمی گریشن ایکٹ کے تحت چائے باغات کے مزدوروں کو بغیر اجازت باغات سے نکلنے کا حق نہیں تھا۔اور حقیقت یہ ہے کہ ایسی اجازت انھیں شاذونادر ہی ملتی تھی۔جب انھوں نے عدم تعاون کی بات سنی تو ہزاروں مزدروں نے حکام کی حکم عدولی کی۔چائے باغات کو چھوڑدیااور اپنے گھروں کی راہ لی۔ان کا خیال تھا کہ گاندھی راج کی آمدآمد تھی اور یہ کہ اب ہر شخص کو اس کے گاؤں میں زمین ملے گی۔وہ بہرحال اپنی منزل مقصود پر کبھی پہنچے نہیں۔ریل اور اسٹیمروں کی ہڑتال کی وجہ سے وہ راستے ہی میں پھنس گئے۔پولیس نے ان کو پکڑلیا اور بڑی بے دردی سے مارا پیٹا۔
ان تحریکوں کے تصور کی کانگریس کے پروگراموں نے کوئی تعریف نہیں کی نہ ہی اس کے پروگراموں سے اِن کاکوئی تعیین ہواتھا ۔سوراج کی تاویل انھوں نے خود اپنے طریقوں سے کی تھی۔سوراج ان کے ذہنوں میں ایک ایسا وقت اور ایک ایسا زمانہ تھا جب ساری پریشانیوں اور تمام تکلیفوں سے چھٹکارا مل جائے گا۔پھر بھی جب قبایلیوں نے گاندھی جی کانام لیا اور ’سوتنتر بھارت‘کا نعرہ لگایاتو وہ جذباتی طورپر اسے کل ہند پیمانے پر احتجاج سے جوڑے ہوئے تھے۔جب وہ مہاتماگاندھی کا نام لے کر عمل کی راہ پر گامزن ہوئے تو وہ اپنے آپ کو ایک ایسی تحریک سے وابستہ سمجھ رہے تھے جو ان کی اپنی بستی کی حدود سے پرے تک تھی۔
سرگرمی
قومی تحریک میں شریک ہونے والے ایسے دوسرے لوگوں کے بارے میں معلوم کیجیے جو انگریزوں کے ہاتھوں پکڑے گئے اور مارے گئے۔کیاآپ ایسی کوئی مثال انڈو—چائناکی قومی تحریک کی سوچ سکتے ہیں۔(باب 2)؟

شکل —5’چوری چورا‘،1922
گورکھپور میں ’چوری چورا‘کے مقام پر ایک بازار میں ہونے والا ایک مظاہرہ،پولیس کے ساتھ،ایک متشددمقابلے میں بدل گیا۔اس حادثے کے بارے میں سنتے ہی مہاتما گاندھی نے عدم تعاون کی تحریک کو روکے جانے کا اعلان کردیا۔
3۔سول نافرمانی کی طرف
فروری1922میں مہاتما گاندھی نے عدم تعاون کو واپس لینے کا فیصلہ کیا۔ان کو محسوس ہوا کہ بہت سی جگہوں پر تحریک متشدد ہوتی جارہی ہے اور عوامی جدوجہد کے لیے تیار ہونے سے پہلے باقاعدہ تربیت کی ضرورت ہے۔خود کانگریس میں کچھ لیڈر اب عوامی جدوجہد کے پروگراموں سے تھک گئے تھے اور ان صوبائی کونسلوں کے انتخابات میں حصہ لینا چاہتے تھے جنھیں گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ1919کے تحت بنایاگیا تھا۔ان کو محسو س ہوتا تھا کہ کونسل کے اندر برطانوی پالیسیوں کی مخالفت کرنا،اصلاحات کے بارے میں بحثیں کرنا اور یہ دکھانا کہ یہ کونسلیں حقیقتاً جمہوری بھی نہیں زیادہ ضروری تھا ۔سی۔ آر۔داس اورموتی لال نہرو نے کونسل کی سیاست کی طرف واپس لوٹنے پر زور دینے کے لیے کانگریس کے اندر سوراج پارٹی بنائی۔مگر جواہر لال نہرو اور سبھاش چندربوس جیسے نوجوان لیڈروں نے زیادہ انقلابی اور معنی خیز عوامی احتجاج اور مکمل آزادی پر زور دیا۔
داخلی بحث مباحثے اور اختلافات کے ایسے ماحول میں دوعناصر تھے جنہوں نے 1920کے آخری برسوں میں ہندوستان کی سیاست کو ایک بارپھر ایک روپ دیا۔پہلا عنصر تھا عالمگیر کسادبازاری کا اثر۔زرعی قیمتیں1926سے گرنا شروع ہوئیں اور1930میں ایک دم منہدم ہوگئیں۔زرعی پیداوار کی مانگ کم ہوئی اور برآمد میں انحطاط آیا تو کسانوں کے لیے اپنی پیداوار کو فروخت کرنا دشوار اور اپنے لگان کی ادائیگی کرنا مشکل ہوگیا۔1930آتے آتے دیہات انتشار اور افراتفری کے شکار ہوگئے۔
اس پس منظر میں برطانیہ کی ٹو ڈی حکومت نے سرجان سائمن کی سربراہی میں ایک اسٹیچوری کمیشن بنایا۔کمیشن قومی تحریک کے رد عمل میں بنا تھا اس لیے اسے ہندوستان کے آئینی نظام کی کارکردگی کو دیکھنا تھا اور مناسب تبدیلیاں تجویز کرنا تھیں۔ دشواری یہ تھی کہ کمیشن میں ایک بھی ہندوستانی نہیں تھا۔کمیشن کے تمام اراکین برطانوی تھے۔
سائمن کمیشن 1928میں جب ہندوستان پہنچا تو اس کا استقبال ’سائمن واپس جاؤ‘کے نعروں سے ہوا۔مظاہروں میں کانگریس اور مسلم لیگ کے ساتھ دوسری پارٹیاں بھی شامل ہوئیں۔مظاہرین کو رام کرنے کی کوشش میں وائسرائے لارڈ ارون نے اکتوبر1929کو ایک غیر معینہ مدت کے اندر ہندوستان کو’ڈومنین اسٹیٹس‘کا درجہ دیے جانے ،اور مستقبل کے آئین پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ایک گول میز کانفرنس کی پیش کش کی۔اس پیش کش نے کانگریس کو مطمئن نہیں کیا۔کانگریس کے اندر انقلابی ،جواہر لال نہرو اور سبھاش چند بوس کی قیادت میں اور زیادہ مصر اور پرعزم ہوگئے۔آزادخیال اور معتدل لوگ جوبرطانوی ڈومنین کے فریم ورک کے اندر ایک آئینی نظام تجویز کررہے تھے،آہستہ، آہستہ، اپنے اثرورسوخ کوکھوبیٹھے۔ دسمبر1920میں،جواہر لال کی صدارت میں لاہور کانگریس نے ’پورن سوراج‘(مکمل آزادی)کے مطالبے کو باقاعدہ شکل دے دی۔اعلان کیاگیا کہ 26جنوری1930کا دن یوم آزادی کی حیثیت سے منایاجائے گا اور اس دن لوگ مکمل آزادی کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے کا عہد بھی کریں گے۔مگر ان تقریبات کی طرف بہت کم لوگوں نے توجہ کی۔لہٰذا مہاتما گاندھی کو آزادی کے تجریدی خیال کو روزانہ زندگی کے زیادہ ٹھوس مسائل سے مربوط کرنے کا طریقہ ڈھونڈنا پڑا۔

شکل 6۔1931میں الہ آباد میں کانگریسی لیڈروں کی میٹنگ
مہاتماگاندھی کے علاوہ آپ سردار ولبھ بھائی پٹیل کو دیکھ سکتے ہیں(انتہائی بائیں طرف)جواہر لال نہرو
(انتہائی دائیں طرف)اور سبھاش چندربوس(دائیں سے پانچویں)
ماخذC
عہد یوم آزادی،26جنوری1930
’’ہم سمجھتے ہیں کہ دوسرے تمام لوگوں کی طرح،ہندوستانی عوام کو بھی آزادی کا حق ہے،اپنی محنت کے پھلوں سے لطف اندوز ہونے اور ضروریات زندگی کی تکمیل کا حق ہے۔تاکہ انھیں فروغ وترقی کے تمام مواقع میسر ہوں۔ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ کوئی حکومت اگر اپنے عوام کو ان حقوق سے محروم رکھتی ہے اور انھیں دباتی ہے تو ان عوام کو اس کا بھی حق ہے کہ وہ اسے بدل دیں یا پھر ختم کردیں۔برطانوی حکومت نے ہندوستان میں،ہندوستانی عوام کو نہ صرف آزادی سے محروم کیا ہے بلکہ اس نے عام آدمی کے استحصال پر اپنی بنیادرکھی ہے۔اور ہندوستان کو اقتصادی،سیاسی،ثقافتی اور روحانی طورپر تباہ کردیا ہے۔اسی لیے ہندوستان کو برطانیہ سے اپنے رشتے کو توڑلینا چاہیے اور پورن سوراج یا مکمل آزادی حاصل کرنا چاہیے۔‘‘
3.1نمک مارچ اور سول نافرمانی تحریک
مہاتما گاندھی کو نمک میں ایک ایسی توانا علامت نظرآئی جو سارے ملک کو متحد کرسکتی تھی۔31جنوری 1930کو انھوں نے وائسرائے لارڈ ارون کو ایک خط بھیجا تھا جس میں اپنے گیارہ مطالبات لکھے تھے۔ان میں سے بعض مطالبات تو عام دلچسپی کے تھے۔کچھ مطالبات صنعت کاروں سے لے کر کاشتکاروں تک مختلف طبقات کے مطالبات تھے۔ مقصد مطالبات کو اتنا وسیع اور ہمہ گیر بنانا تھا کہ ہندوستانی سماج کے ہر طبقے کا آدمی انہیں اپنے مطالبات کہہ سکے اور اس طرح ان سب کو ایک متحدہ مہم میں شامل کیاجاسکے۔ان مطالبات میں سے سب سے زیادہ چونکانے والا مطالبہ نمک پر سے ٹیکس ہٹانے کا تھا۔نمک ایک ایسی چیز تھی جسے امیر وغریب ہر شخص استعمال کرتا تھا اوریہ غذاکا ایک انتہائی ضروری جزوتھا۔نمک پر ٹیکس اور اسے بنانے پر حکومت کا کلی اختیار ،مہاتماگاندھی نے کہا،برطانوی حکومت کے انتہائی ظالم پہلو کو بے نقاب کرتا ہے۔
مہاتما گاندھی کا یہ خط ایک لحاظ سے ایک الٹی میٹم تھا۔خط میں کہا گیا تھا کہ اگر یہ مطالبات 11مارچ تک مانے نہیں جاتے ہیں تو کانگریس سول نافرمانی کی ایک مہم چلائے گی۔وائسرائے اِروِن بات چیت کرنے کے خواہش مند نہیں تھے۔چنانچہ مہاتماگاندھی نے78معتمد رضاکاروں کے ساتھ اپنا مشہور ’ڈانڈی مارچ‘شروع کیا۔مارچ،سابرمتی میں گاندھی جی کے آشرم سے گجرات کے ساحلی ٹاؤن ڈانڈی تک تھا جس کی کل مسافت240میل تھی۔والینٹرزتقریباً دس میل یومیہ کے حساب سے24دن چلے۔رات میں مہاتما گاندھی جہاں جہاں رکے ہزاروں لوگ انھیں سننے آئے اور انھوں نے ان لوگوں کوبتایا کہ سوراج سے ان کا مطلب کیا ہے ساتھ ہی ان کو پرامن طورپر انگریزوں کے قانون کی خلاف ورزی کرنے کی تلقین کی۔6اپریل کو وہ ڈانڈی پہنچے اور بڑی دھوم دھام کے ساتھ انھوں نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سمندر کے پانی کو ابال کر نمک بنایا۔
سول نافرمانی تحریک کا یہ آغاز تھا۔یہ تحریک،عدم تعاون کی تحریک سے مختلف کیسے تھی؟اس بار عوام سے صرف تعاون نہ کرنے کو نہیں کہا گیا،جیسا کہ انھوں نے1920—21میں کیا تھا بلکہ نوآبادیاتی قانون کی خلاف ضروری کرنے کے لیے بھی کہاگیا۔
ملک میں ہزاروں لوگوں نے نمک قانون توڑا‘نمک بنایا،سرکاری نمک فیکٹریوں کے سامنے مظاہرے کیے۔تحریک جیسے جیسے پھیلتی گئی بدیسی کپڑے کا بائیکاٹ ہوا،شراب کی دوکانوں پر دھرنے دیے گئے۔کسانوں نے لگان اور چوکیداری ٹیکس دینے سے انکار کیا،گاؤوں کے حکام نے استعفے دے دیے۔بہت سی جگہوں پر جنگلات سے متعلق لوگوں نے جنگلات کے قوانین کی خلاف ورزی کی اور لکڑی جمع کرنے اور اپنے مویشیوں کو چرانے کے لیے ریزروجنگلوں میں گئے۔
ان واقعات سے پریشان ہو کر نوآبادیاتی سرکار نے ایک ایک کرکے کانگریسی لیڈروں کو گرفتار کرناشروع کیا۔اس اقدام کی وجہ سے بہت سی جگہوں پر متشدد جھڑپیں ہوئیں۔مہاتماگاندھی کے ایک عقیدت مند رفیق خان عبدالغفار خان جب اپریل1930میں گرفتار کیے گئے تو بپھرے ہوئے ہجوموں نے پیشاور کی سڑکوں پر بکتر بند گاڑیوں اور پولیس کی فائرنگ کا مقابلہ کرتے ہوئے مظاہرے کیے۔بہت سے لوگ مارے گئے۔ایک مہینے بعد جب خود مہاتماگاندھی گرفتار کرلیے گئے تو شولاپور میں صنعتی مزدوروں نے پولیس چوکیوں،میونسپل عمارتوں،کچہریوں ، ریلوے اسٹیشنوں اور ان تمام تعمیرات پر حملے کیے جو برطانوی حکومت کی علامت تھیں۔ایک سہمی اورڈری ہوئی حکومت نے وحشیانہ ظلم وجبر کی پالیسی اپنائی پرامن ستیہ گرہیوں پر حملے کیے گئے۔ عورتوں اور بچوں کو مارا پیٹا گیا تقریباً ایک لاکھ لوگ گرفتار کیے گئے۔
ایسی صورت حال میں ،گاندھی جی نے ایک بار پھر تحریک کو واپس لینے کا فیصلہ کیا اور 5مارچ 1931کو ارون سے ایک معاہدہ کیا۔’اس گاندھی—ارون پیکٹ‘کے مطابق گاندھی جی نے ایک گول میزکانفرنس میں شرکت پر رضامندی ظاہر کی۔(پہلی گول میز کانفرنس کاکانگریس نے بائیکاٹ کیا تھا)کانفرنس میں شرکت کے لیے گاندھی جی لندن گئے مگر مذاکرات ناکام ہوگئے اور وہ وہاں سے مایوس واپس آگئے۔واپسی پر انھوں نے دیکھا کہ حکومت نے ظلم و زیادتی کا ایک نیا چکر چلارکھاہے۔غفار خاں اور جواہر لال نہرو دونوں جیل میں تھے،کانگریس کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا تھا اور جلسوں،جلوسوں اور بائیکاٹ کو روکنے کے لیے بہت سے اقدامات کیے تھے۔متعدد قوانین نافذ ہوئے تھے۔ انتہائی خوف و ہراس کی فضا میں مہاتماگاندھی نے سول نافرمانی کی تحریک پھر شروع کی۔تحریک ایک سال تک توچلتی رہی مگر1934ہوتے ہوتے یہ اپنی قوت متحرکہ سے محروم ہوگئی۔

شکل7۔ڈانڈی مارچ
سالٹ مارچ(نمک ستیہ گرہ)میں گاندھی 78والینٹروں کے ساتھ تھے راستے میں ہزاروں لوگ ساتھ ہوتے گئے۔

شکل8۔پولیس ستیہ گرہیوں پر ٹوٹ پڑی،1930
باکس1
انقلاب کی اس قربان گاہ پر ہم اپنے نوجوانوں کو عود و لوبان کی طرح لائے ہیں
بہت سے نیشنلسٹوں نے سوچا کہ انگریزوں کے خلاف لڑائی عدم تشدد کے ذریعے جیتی نہیں جاسکتی۔ 1928میں،دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ میں ایک میٹنگ میں ہندوستان سوشلسٹ ری پبلکن آرمی (HSRA)بنائی گئی۔اس کے لیڈروں میں بھگت سنگھ ،جتن داس اور اجے گھوش شامل تھے۔ہندوستان کے مختلف حصوں میں HSRA نے بڑے ڈرامائی اندازمیں،انگریز حکومت کی علامتوں کو نشانہ بنایا۔ اپریل1929میں بھگت سنگھ اور بٹو کیشور دتا نے لیجسلیٹو اسمبلی پر بم پھینکا۔ اسی سال اس ٹرین کواڑانے کی کوشش کی گئی جس میں لارڈ ارون سفر کررہے تھے۔جب بھگت سنگھ پرنوآبادیاتی حکومت نے مقدمہ چلایا اور پھانسی دی اس وقت ان کی عمر23سال تھی۔اپنے مقدمے کے دوران انھوں نے کہا کہ وہ ’بم اور پستول کے مسلک کی ستائش نہیں کرنا چاہتے تھے‘ وہ سماج میں انقلاب چاہتے تھے:
انقلاب نوع انسانی کا لاینفک حق ہے۔آزادی ہرفرد کا پیدائشی حق ہے۔ مزدور سماج کی حیات کا وسیلہ ہے…اس انقلاب کی قربان گاہ پر ہم اپنے نوجوانوں کو عودولوبان کی طرح لائے ہیں۔ کیوں کہ اتنے عظیم مقصد کے لیے کوئی بھی قربانی بڑی نہیں ہے۔ہم مطمئن ہیں۔ہم انقلاب کی آہٹ کے منتظر ہیں۔انقلاب زندہ باد!،
3.2۔شرکاءنے تحریک کو کس طرح دیکھا
آئیے ہم ان مختلف سماجی گروہوں پر ایک نظر ڈالیں جنھوں نے سول نافرمانی کی تحریک میں شرکت کی۔یہ لوگ تحریک میں کیوں شامل ہوئے؟ان کے مطمح نظر اور تصورات کیا تھے؟ان کے لیے سوراج کا مطلب کیا تھا؟
دیہی علاقوں میں،متمول کاشتکارطبقے،جیسے گجرات کے پٹی دار اور اترپردیش کے جاٹ تحریک میں بہت سرگرم تھے۔تجارتی فصلوں کے پیدا کرنے والے ہونے کی وجہ سے وہ تجارتی کسادبازاری اور گرتی ہوئی قیمتوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔نقد آمدنی ختم ہوجانے کی وجہ سے سرکاری لگان ریوینو اداکرنا ان کے لیے مشکل ہوگیا تھااورلگان کے مطالبات میں تخفیف سے حکومت کے انکار نے ایک عام ناراضگی پیدا کردی تھی۔یہ امیر کسان سول نافرمانی کی تحریک کے بڑے پرجوش حمایتی بن گئے۔انھوں نے اپنی کمیونیٹیز کو منظم کیا اور کبھی کبھی اپنے ان لوگوں پر زور زبردستی بھی کی جو بائیکاٹ کے پروگراموں میں شامل ہونے میں تامل کررہے تھے۔ان کے لیے سوراج کے لیے لڑائی لگان کی اونچی شرحوں کے خلاف لڑائی تھی۔لیکن لگان کی شرحوں میں کسی قسم کی تخفیف نہ ہونے کے باوجود جب1931میں تحریک کو واپس لے لیاگیا تو یہ لوگ بہت مایوس ہوئے۔اسی لیے جب1932میں تحریک دوبارہ شروع ہوئی تو ان میں سے بہتوں نے اس میں شرکت سے انکار کردیا۔
نسبتاً غریب کسان کو لگان مطالبات کی شرح میں تخفیف سے کوئی دلچسپی تھی ہی نہیں۔ان میں اکثر ان چھوٹے چھوٹے قطعہ اراضی پر کاشت کرتے تھے جو انھوں نے زمین داروں سے کرائے پر لے رکھے تھے۔کسادبازاری جاری رہی اور نقد آمدنیاں مزید کم ہوتی گئیں،ان کسانوں کو بھی اپنی زمین کے کرایوں کی ادائیگی دشوار نظرآنے لگی۔انھوں نے زمین دار کو ادا نہ کیے جانے والے کرایوں کو معاف کیے جانے کی خواہش ظاہر کی۔انھوں نے متنوع انقلابی تحریکوں میں شمولیت اختیار کی جن کی قیادت عموماًسوشلسٹ اور کمیونسٹ کررہے تھے۔اس خیال سے خوف زدہ کہ مسائل کو اٹھانے سے امیر کسان اور زمیندار پریشان ہوسکتے ہیں کانگریس اکثر جگہوں پر کوئی ’کرایہ نہیں‘(no rent)اسکیم کی حمایت نہیں کرنا چاہتی تھی۔چانچہ غریب کسانوں اور کانگریس کے باہمی رشتے غیر یقینی رہے۔کاروباری(Business)کلاس کا معاملہ کیاتھا؟انھوں نے سول نافرمانی کی تحریک سے کس طرح قرابت محسوس کی؟پہلی جنگ عظیم کے دوران ہندوستانی تاجروں صنعت کاروں نے بڑے نفع کمائے تھے اور بڑے طاقت ور ہوگئے تھے(دیکھیے باب5)اپنے کاروبارکو بڑھانے کے شوق میں انھوں نے اب ان نوآبادیاتی پالیسیوں کے خلاف رد عمل کااظہار کیا جو ان کی کاروباری سرگرمیوں پر روک لگاتی تھیں۔انھوں نے بیرونی مال کی درآمد کے خلاف تحفظ چاہا اور روپے اور اسٹرلنگ فارن ایکسچینج کا وہ تناسب چاہا جو درآمدات کی ہمت شکنی کرے۔اپنے کاروباری مفادات کو منظم کرنے کے لیے1920میں ان لوگوں نے انڈین انڈسٹریل اینڈ کمرشیل کانگریس بنائی اور1927میں فیڈریشن آف دی انڈین چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹریز(FICCI)کی بنیاد رکھی۔پرشوتم داس،ٹھاکر داس اور جی۔ڈی۔برلا جیسے ممتاز صنعت کاروں کی قیادت میں،ہندوستانی اقتصادیات پر نوآبادیاتی کنٹرول کے خلاف آواز اٹھائی گئی اور سول نافرمانی کی تحریک کی جب یہ پہلی باری شروع ہوئی تھی حمایت کی۔انھوں نے مالی امداد کی اور درآمد کیے ہوئے سامان کی خریدوفروخت سے انکارکیا۔اکثر کاروباریوں نے سوراج کو ایک ایسے زمانے کی طرح دیکھا جس میں کاروبار پر نوآبادیاتی پابندیوں کا وجود نہ ہوگا اور تجارت اور صنعت بغیر کسی روک ٹوک کے پھلے پھولے گی۔مگر گول میز کانفرنس کی ناکامی کے بعد تجارتی گروہوں میں ایک جیسا جوش و خروش ختم ہوگیا۔وہ عسکری سرگرمیوں سے ڈرے ہوئے۔ اور کاروبار میں طویل رخنہ اندازیوں سے پریشان تھے۔کانگریس کے نوجوان اراکین پر سوشلزم کے روزافزوں اثرات سے بھی انھیں تشویش تھی۔
صنعتوں میں کام کرنے والی ورکنگ کلاس ناگپور کے علاقوں کو چھوڑ کر،سول نافرمانی کی تحریک میں بہت نہیں شریک ہوئی۔صنعت جیسے جیسے کانگریس کے قریب آئے، مزدور،اس سے دور ہوتے گئے۔مگر اس سب کے باوجود کچھ مزدوروں نے یقینا تحریک میں حصہ لیا مگر انھوں نے کام کے خراب حالات اور کم اجرتوں کے خلاف چلنے والی خود اپنی تحریکوں کا حصہ سمجھ کر گاندھی جی کے پروگرام کے بدیسی سامان کے بائیکاٹ جیسے پروگراموں کا انتخاب کیا۔1930میں ریلوے ورکرز اور1932میں گودی کے مزدوروں کی ہڑتالیں ہوئی تھیں۔1930میں چھوٹا ناگپور میں ہزاروں کامگاروں نے گاندھی ٹوپیاں پہنیں اور احتجاجی ریلیوں اور بائیکاٹ کی مہموں میں شرکت کی۔مگر کانگریس کو اپنی جدوجہد کے پروگرام میں کامگاروں کے مطالبات شامل کرنے میں تامل تھا۔اس کا خیال تھا کہ اس سے صنعت کاربرگشتہ ہوجائیں گے اور سامراج مخالف قوتیں منقسم۔
سول نافرمانی تحریک کا ایک اہم پہلو اس میں بڑی تعداد میں عورتوں کی شمولیت تھا۔نمک ستیہ گرہ کے دوران ہزاروں عورتیں گاندھی جی کو سننے کے لیے گھروں سے باہر نکلیں۔انھوں نے احتجاجی جلوسوں میں شرکت کی،نمک بنایا اور بدیسی کپڑے کی دوکانوں اورشراب کی دوکانوں پر دھرنے دئیے۔بہت سی عورتیں جیل گئیں۔شہری علاقوں میں یہ عورتیں اونچی ذات کے خاندانوں کی تھیں،دیہی علاقوں میں یہ امیر کسانوں کے گھروں سے آئیں تھیں،گاندھی جی کی اپیل سے متاثر ہوکر انھوں نے قوم کی خدمت کو عورتوں کے ایک مقدس فریضے کی طرح دیکھا۔پھر بھی بڑھے ہوئے عوامی رول کا مطلب عورتوں کی عمومی حیثیت میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں تھا۔گاندھی جی کو اس بات پر یقین تھا کہ عورت کی ذمہ داری گھر اور خانہ داری کو سنبھالنا‘اچھی مائیں اور اچھی بیویاں بنناتھی۔ ایک طویل عرصے تک تنظیم میں عورتوں کو کسی بڑی ذمہ داری دینے میں تامل رہا۔کانگریس کو ان کی صرف علامتی موجودگی سے دلچسپی تھی۔
کچھ اہم تاریخیں
1918—19
یوپی کے پریشان کسانوں کو بابا رام چندر نے منظم کیا۔
اپریل1919
رولٹ ایکٹ کے خلاف گاندھیائی ہڑتال جلیاں والا باغ کا قتل عام
جنوری1921
عدم تعاون اور خلافت تحریک شروع کی گئی
فروری1922
’چوری چورا‘:گاندھی جی عدم تعاون کی تحریک واپس لیتے ہیں
دسمبر1929
لاہور کارنگریس میں،کانگریس ’پورن سوراج‘ کے مطالبے کو اپناتی ہے۔
مئی1924
دوسالہ مسلح قبائلی جدوجہد ختم ہوئی الوری سیتارام گرفتار ہوئے۔
1930
امبیڈکر پچھڑی جاتیوں کی انجمن بناتے ہیں۔
مارچ1930
گاندھی جی ڈانڈی کے مقام پر نمک قانون کو توڑ کر سول نافرمانی تحریک کی ابتدا کرتے ہیں۔
مارچ1931
گاندھی جی سول نافرمانی کی تحریک ختم کرتے ہیں۔
دسمبر1931
دوسری گول میز کانفرنس
1932
سول نافرمانی کی تحریک پھر شروع ہوئی۔

شکل9۔عورتیں نیشنلسٹ جلوسوں میں شامل ہوتی ہیں۔
نیشنلسٹ تحریک کے دوران بہت سی عورتیں اپنی زندگی میں پہلی بار اپنے گھروں سے باہر نکل کر عوامی میدان میں آئیں۔ آپ جلوس میں شامل ہونے والیوں میں بہت سی بوڑھی عورتوں کو دیکھ سکتے ہیں۔گود میں بچوں کو لیے ہوئے ماؤں کو دیکھ سکتے ہیں۔
تبادلۂ خیال کیجیے
سول نافرمانی کی تحریک میں ہندوستانیوں کے مختلف طبقات اور مختلف گروہوں نے کیوں حصہ لیا؟
3.3سول نافرمانی کی حدود
سوراج کے تجریدی تصور سے سارے سماجی گروپ متاثر نہیں ہوئے تھے۔ان میں سے ایک گروپ ملک کے’اچھوتوں‘کا تھا۔جنھوں نے1930کے بعد سے اپنے آپ کو دلت یامظلوم (Oppressed)کہناشروع کردیاتھا۔اعلیٰ ذات کے قدامت پسند سناتن لوگوں کی ناگواری کے ڈرسے کانگریس نے بہت دنوں تک دلتوں کو نظرانداز کیاتھا۔مگر مہاتماگاندھی نے کہا کہ اگر چھوت چھات کو ختم نہیں کیا گیا تو سوسال تک بھی سوراج حاصل نہیں ہوسکتا۔انھوں نے ’اچھوتوں‘کو ’ہری جن‘یا خدا کے بچے کہا۔مندروں میں داخلے،عام کنوؤں ،تالابوں،سڑکوں کے استعمال اور اسکولوں میں ان کے داخلے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے انھوں نے ستیہ گرہ کیے ۔بھنگیوں کے کام کی عزت بڑھانے کے لیے انھوں نے خود پاخانے صاف کیے،اونچی ذات والوں کو اپنے دلوں کو بدلنے پر مائل کرنے کی کوشش کی اور چھوت چھات کے گناہ کو ترک کرنے کو کہا۔مگر بہت سے دلت لیڈر اپنے فرقے کے مسائل کے تدارک کے لیے ایک مختلف سیاسی حل میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے۔تعلیمی اداروں میں مخصوص سیٹوں اور ایسے الگ انتخابی حلقوں کا مطالبہ کرتے ہوئے جولیجسلیٹیوکونسلوں کے لیے دلت اراکین کا انتخاب کریں گے انھوں نے اپنے آپ کو منظم کیا۔سیاسی اختیارجیسا کہ ان کو یقین تھا کہ ان کی سماجی معذوریوں کے مسائل کا تدارک کرے گا۔اسی لیے سول نافرمانی تحریک میں دلتوں کی شرکت مہاراشٹر اور ناگپور کے علاقوں تک محدود تھی جہاں ان کی تنظیم خاصی مضبوط تھی۔
ڈاکٹر بی۔آر۔امبیڈکر، جنھوں نے1930میں ڈیپریسڈ کلاسیز ایسوسی ایشن کے تحت دلتوں کو منظم کیاتھا ،دوسری گول میز کانفرنس میں دلتوں کے لیے الگ حلقۂ انتخاب کا مطالبہ کرکے مہاتما گاندھی سے لڑگئے۔جب برطانوی حکومت نے امبیڈکر کے مطالبے کو مان لیاتو مہاتماگاندھی نے مرن برت شروع کردیا۔ان کاخیال تھا کہ الگ حلقہ ہائے انتخاب،دلتوں کے سماج میں ملنے کے عمل کو سست کردیں گے۔امبیڈکر نے آخرکار گاندھی جی کے موقف کو قبول کرلیا اور اس کے نتیجے کے طورپر ستمبر1932کا پوناپیکٹ ہوا۔اس معاہدے نے ڈپیریسڈ کلاسیز(جو بعد میں شیڈیولڈ کاسٹ کہلائیں)کو صوبائی اور مرکزی لیجسلیٹیو کاؤنسلوں میں محفوظ نشستیں دلوادیں۔دلت تحریک ، بہرحال کانگریس کی رہنمائی میں چلنے والی قومی تحریک کے بارے میں بدستور مشکوک رہی۔
ہندوستان میں بعض مسلم سیاسی تنظیمیں بھی سول نافرمانی کی تحریک کی طرف سے بددل اور جوش وخروش سے عاری تھیں۔عدم تعاون و خلافت تحریک کے انحطاط کے بعد مسلمانوں کے ایک بڑے حصے نے اپنے آپ کو کانگریس سے بے گانہ محسوس کیا۔بیسویں صدی کی دوسری دہائی سے کانگریس بڑے نمایاں طورپر مہاسبھا جیسے ہندوقوم پرست گروہوں سے ملی ہوئی نظر آئی۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے باہمی رشتے مزید خراب ہونے کی وجہ سے،ہر گروہ نے عسکری جوش وخروش کے ساتھ مذہبی جلوس منظم کیے اور شہریوں میں ہندو—مسلم فرقہ وارانہ جھڑپوں اور فسادوں کو ہوا دی۔ہرفسادنے دونوں فرقوں کے درمیان خلیج کو وسیع تر کردیا۔
کانگریس اور مسلم لیگ نے اتحاد کی بات پھر شروع کرنے کی کوشش کی اور 1927میں کچھ ایسا لگا کہ ایسا اتحاد ممکن ہے۔اہم اختلافات،مستقبل کی ان اسمبلیوں میں نمائندگی کے سوال پر تھے جنھیں منتخب کیاجاناتھا۔محمد علی جناح مسلم لیگ کے لیڈروں میں سے ایک ،الگ انتخابی حلقوں کے مطالبے کو چھوڑنے پر راضی تھے اگر مسلمانوں کو مرکزی اسمبلی میں محفوظ نشستوں اور مسلم اکثریت والے صوبوں(بنگال اور پنجاب)میں ان کی آبادی کے تناسب کے مطابق نمائندگی کو یقینی بنایاجائے۔نمائندگی کے سوال پر مذاکرات ہورہے تھے مگر1928میں،آل پارٹیز کانفرنس میں اس مسئلے کے حل کی تمام امیدیں اس وقت ختم ہوگئیں جب ہندومہاسبھا کے ایم۔ آر۔ جیاکار نے مصالحت کی تمام کوششوں کی شدید مخالفت کی۔
اسی لیے جب سول نافرمانی کی تحریک شروع ہوئی اس وقت شک وشبہے اور عدم اعتماد کی ایک فضا فرقوں کے درمیان پنپ رہی تھی۔کانگریس سے بے گانہ مسلمانوں کے بہت سے حلقے متحدہ جدوجہد کے نعرے پر لبیک نہ کہہ سکے۔بہت سے مسلمان لیڈروں اور دانش وروں نے ہندوستان کے اندر ایک اقلیت کی حیثیت سے مسلمانوں کے مقام کے سلسلے میں تشویش کا اظہار کیا۔انھوں نے ہندواکثریت کے تفوق میں اقلیتوں کے کلچر اور ان کی شناخت کے معدوم ہوجانے کے خدشہ کا اظہار کیا۔

شکل10۔سیواگرام آشرم واردھا میں مہاتماگاندھی،جواہر لال نہرو اور مولانا ابوالکلام آزاد(1935)۔
ماخذ D
1930میں مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے سرمحمد اقبال نے اقلیتوں کے سیاسی مفادات کے تحفظ کے طورپر الگ حلقہ ہائے انتخاب کی ضرورت اور اہمیت کا اعادہ کیا۔خیال ہے کہ ان کے اس بیان نے قیام پاکستان کے اس مطالبے کے لیے دانشورانہ جواز فراہم کیا۔جو بعد کے برسوں میں سامنے آیا۔سرمحمد اقبال نے کہا تھا:
’اس بات کے کہنے میں مجھے کوئی جھجک نہیں ہے کہ اگر اس اصول کو کہ ہندوستانی مسلمانوں کو خود اپنی تہذیب اور اپنی روایات کے خطوط پر خود اپنی ہندوستانی وطنی سرزمینوں پر مکمل اور آزادانہ فروغ وترقی کا حق ہے ایک مستقل فرقہ وارانہ اتفاق (واتحاد)کی اساس کی حیثیت سے مان لیاجاتا ہے تو وہ ہندوستان کی آزادی کی خاطر اپنی ہر چیز کو داؤ پر لگانے کے لیے تیار ہوں گے۔یہ اصول کہ ہر گروہ کو خود اپنے خطوط کے مطابق آزادانہ ترقی کرنے کا حق ہے ۔کسی تنگ نظر فرقہ پر ست جذبے کا پیدا کیا ہوا نہیں ہے…ایک فرقہ جو کسی دوسرے فرقے کے خلاف بغض وعناد کے جذبے سے تحریک حاصل کرتا ہے وہ حقیر اور قابل مذمت ہے۔میں دوسرے فرقوں کے رسوم ورواج،آئین وقوانین،مذاہب اور ان کے سماجی اداروں کی بڑی قدر کرتا ہوں اور میرے دل میں ان کے لیے انتہائی احترام ہے۔قرآن مجید کی تعلیمات کے مطابق یہ میرا فرض ہے۔اگر ضرورت پڑے تو ان کے مذہبی مقامات کا تحفظ بھی(میرا فرض ہے)ساتھ ہی مجھے اس کمیونل گروپ سے بھی محبت ہے جو میری زندگی اور میرے طورطریقوں کا ماخذ ہے،جس نے مجھے اپنا مذہب ،اپنا ادب ،اپنے خیالات،اپنا کلچر دے کر میری خود کی تشکیل کی ہے اور اس ذریعے سے میرے موجودہ شعور میں ایک زندہ عملی عنصر کی حیثیت سے اپنا ساراماضی مجھے عطا کیاہے…
’ فرقہ پرستی اپنے ارفع پہلو میں پھر ہندوستان جیسے ملک میں ایک ہم آہنگ کل کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے۔ہندوستانی سماج کی اکائیاں مغربی ملکوں کی طرح علاقائی اکائیاں نہیں ہیں۔…کمیونل گروپوں کی حقیقت کو تسلیم کیے بغیر یوروپین ڈیموکریسی کے اصول کا ہندوستان پر اطلاق نہیں ہوسکتا۔اس لیے ہندوستان کے اندر ایک مسلم انڈیا بنانے کا مطالبہ کلی طورپر حق بجانب ہے‘
’ہندویہ سمجھتے ہیں کہ الگ حلقہ ہائے انتخاب نیشنلزم کی حقیقی روح کے منافی ہیں کیوں کہ وہ لفظ نیشن کو ایک قسم کا ایسا آمیزہ سمجھتے ہیں جس میں کسی کمیونل اکائی کو اپنے نجی تشخص کو باقی نہیں رکھنا چاہیے۔مگر ایسی صورت حال کا بہرحال وجود نہیں ہے۔ہندوستان سرزمین ہے نسلوں اور مذاہب کے تنوع کی۔اس میں مسلمانوں کی اقتصادی کمتری،ان کے بے پنا ہ قرضے،خصوصاً پنجاب میں اور دوسرے صوبوں میں سے کچھ میں ان کی ناکافی اکثریت کو ان کی موجودہ ساخت کی رو سے،شامل کرلیجیے تو الگ حلقہ ہائے انتخاب کی خواہش اور اس پر تشویش کا مطلب واضح طورپر آپ کی سمجھ میں آجائے گا۔‘
تبادلہ خیال کیجیے
ماخذ کو غورسے پڑھیے۔کیا آپ اقبال کے کمیونلزم کے آئیڈیا سے اتفاق کرتے ہیں؟کیا آپ کمیونلزم کی کوئی اور تعریف کرسکتے ہیں؟
4اجتماعی تعلق کا احساس

شکل11۔بال گنگا دھر تلک—اوائل بیسوی صدی کی ایک تصویر۔
دیکھیے کہ تلک کس طرح اتحاد ویکجہتی کی علامتوں سے گھرے ہوئے ہیں۔مختلف عقائد کے مقدس اداروں (مندر،چرچ،مسجد)نے اس تصویر کا فریم بنا یا ہے۔
قوم پرستی اس وقت پھیلتی ہے جب لوگ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ وہ سب ایک ہی ملک وقوم کا حصہ ہیں،جب وہ کوئی ایسا اتحاد دریافت کرلیتے ہیں جو انھیں ایک ہی بندھن میں باندھ دیتا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ قوم لوگوں کے ذہنوں میں حقیقت کیسے بنتی ہے؟مختلف فرقوں اور مختلف برادریوں ، مختلف علامتوں اور مختلف لسانی گروہوں سے متعلق ہوتے ہوئے بھی لوگ اجتماعی تعلق کا احساس کیوں کر پیدا کرتے ہیں؟
اجتماعی تعلق کا یہ احساس کچھ تو مشترکہ جدوجہد کے تجربات سے پیدا ہوتا ہے۔مگر بہت سے متنوع ثقافتی عمل بھی ہوتے ہیں جو عوام کے تخیل کو تسخیر کرتے ہیں۔تاریخ،اور ادب،عوامی حکایتوں، لوک گیتوں ،مقبول عام تصویروں اور عوامی علامتوں نے بھی قوم پرستی کی تشکیل و تعمیر میں حصہ لیا ہے۔
ملک و قوم کی شناخت،جیسا کہ آپ جانتے ہیں(دیکھیے باب1)اکثر کسی شبیہ یا ذہنی تصویر کے ذریعے پیش کی جاتی ہے۔یہ ایک ایسے تصور،ایک ایسی شبیہ کی تخلیق میں مدد کرتا ہے جس سے عوام ملک وقوم کی شناخت کرلیتے ہیں۔یہ بیسویںصدی تھی،قوم پرستی کے جذبے کے فروغ کے ساتھ ہندوستان کی شناخت ’بھارت ماتا‘کے تصور سے جڑ گئی۔یہ شبیہ سب سے پہلے بنکم چندر چٹوپادھیائے نے دی تھی۔1870میں انھوں نے مادروطن کے لیے ایک توصیفی گیت ’بندے ماترم‘لکھا تھا۔بعد کو یہ گیت ان کے ناول ’آنند مٹھ‘میں شامل ہوا۔بنگال میں سودیشی تحریک میں یہ گایا بھی بہت گیا۔سودیشی تحریک سے متاثر ہو کرابنندرناتھ ٹیگور نے اپنی مشہور پینٹنگ ’بھارت ماتا‘بنائی(دیکھیے شکل–12)اس پینٹنگ میں بھارت ماتا خاموش پرسکون،الوہی اور روحانی ہیں۔بعد کے برسوں میں بھارت ماتا کی شبیہ نے متعدد مختلف شکلیں اختیار کیں۔اس کی بہت سی مقبول شکلیں شائع ہوئیں،اور بہت سے مختلف آرٹسٹوں نے اسے بنایا۔(دیکھیے شکل14)۔ماں کی اس شبیہ سے عقیدت آدمی کی قوم پرستی کی گواہی بن گئی۔
قوم پرستی کا خیال ہندوستانی لوک کتھاؤں کی تجدید کی تحریک سے بھی پیدا ہوا۔آخر19ویں صدی کے ہندوستان میں قوم پرستوں نے لوک گیت گانے والوں کی گائی ہوئی لوک کتھائیں ریکارڈ کرنا شروع کیں۔یہ لوگ لوک گیتوں اور روایتی قصوں کو جمع کرنے کے لیے گاؤں گاؤں گھومے۔ان لوگوں کا خیال تھا کہ یہ کتھائیں اور یہ گیت اس روایتی کلچر کی صحیح تصویر پیش کرتے ہیں جو بیرونی اثرات کے زیر اثر مسخ ہوگیا تھا اور اس کی شکست وریخت ہوگئی تھی۔اپنی قومی شناخت کی تلاش وجستجو اور اپنے ماضی پر فخرکے جذبے کی بحالی کے لیے اس لوک روایت کو محفوظ رکھنا ضروری تھا۔بنگال میں خود رابندر ناتھ ٹیگور نے لوک کتھاؤں،نرسری گیتوں اور لوک گیتوں ، دیومالائی قصوں (Myth)کو جمع کرنا شروع کیااور اس طرح لوک روایت کی تجدید کی تحریک کی رہنمائی کی۔مدراس میں نتیسا شاستری نے چارجلدوں پر مشتمل تامل لوک کہانیوں کا ایک ضخیم مجموعہ’دی فوک لور آف سدرن انڈیا‘شائع کیا۔ان کا خیال تھا کہ’ عوامی گیت اور کہانیاں قومی ادب تھا اور عوام کے خیالات اور ان کی خصوصیات کا معتبر ترین مظہر‘۔

شکل—12بھارت ماتا۔ابنندرناتھ ٹیگور،1905۔
دیکھیے ماں کی شبیہ یہاں ’علم‘غذا اور کپڑے دیتی ہوئی دکھائی گئی۔ایک ہاتھ میں مالا ان کی روحانی خصوصیت کی علامت ہے۔ابنندرناتھ ٹیگور نے روی ورما کی طرح پینٹنگ کا ایک اسٹائل تخلیق کیا۔جسے حقیقتاً ہندوستانی سمجھا جاسکتا ہے۔

شکل 13.جواہر لعل نہرو—ایک تصویر۔
اس تصویر میں جواہر لعل کو بھارت ماتا کی تصویر اور ہندوستان کے نقشے کو اپنے دل سے لگائے ہوئے دکھایا گیاہے۔بے شمار عام تصویروں میں،نیشنلسٹ لیڈروں کو بھارت ماتا پر اپنی جان کی پیش کش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ماں کے لیے قربانی کا جذبہ،عوامی ذہنوں میں بہت راسخ تھا۔
قومی تحریک جوں جوں بڑھی،نیشنلسٹ لیڈر عوام کو متحد کرنے اور ان میں قوم پرستی کے جذبے کو بیدار کرنے میں ان علامتوں کی اہمیت سے اور زیادہ واقف ہوئے۔سودیشی تحریک کے دوران بنگال میں ایک ترنگا(لال۔ہرا اور پیلا)ڈیزائن کیاگیا۔جھنڈے میں برطانوی ہندوستان کے آٹھ صوبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے آٹھ کنول کے پھول تھے ہندوؤں اور مسلمانوں کی نمائندگی کرتا ہوا ایک ہلال تھا۔1921میں گاندھی جی نے سوراج کا جھنڈا بنایا۔یہ بھی ترنگا تھا (لال ،ہرا اور سفید)۔اس پر بیچ میں ایک چرخاتھا جو گاندگی جی کے ’اپنی مدد آپ‘کے نظریے کی نمائندگی کرتاتھا۔اجتماعی جلوسوں میں جھنڈے کوہاتھ میں لینا،اسے بلند کرنا سرکشی وسرتابی کی علامت تھا۔
قوم پرستی کا احساس پیدا کرنے کا ایک دوسرا ذریعہ تاریخ کی تاویل و توجیہ تھا۔19ویں صدی کے آخری زمانے میں،بہت سے ہندوستانی یہ محسوس کرنے لگے تھے کہ ملک وقوم پر فخر کرنے کے جذبے کو پیدا کرانے کے لیے ہندوستان کو تاریخ پر کچھ دوسرے ڈھنگ سے غور کرناضروری ہے۔انگریز ہندوستانیوں کو پس ماندہ اور قدیم اور خود حکومت کرنے کے لیے نااہل سمجھتا تھا۔اس کے جواب میں ہندوستانیوں نے ہندوستان کی عظیم کامرانیوں کو دریافت کرنے کے لیے ماضی کی چھان بین شروع کی۔
ان لوگوں نے پرانے زمانے کی ان عظیم کامیابیوں اور شاندار کامرانیوں کے بارے میں لکھا جب آرٹ اور فن تعمیر،سائنس اور ریاضی،مذہب اور کلچر ،قانون اور فلسفہ ،دستکاری اور تجارت نے بڑافروغ پایاتھااور خوب پھلی پھولی تھی۔اس عظیم الشان وقت کے پیچھے پیچھے زوال وانحطاط کی ایک تاریخ آئی جب ہندوستان ایک نوآبادیات بن گیا۔ان قوم پرست مورخین نے اپنے پڑھنے والوں کو ماضی میں ہندوستان کی شاندار کامرانیوں پر فخر کرنے اور انگریزی عہد میں زندگی کے قابل نفرت حالات کو بدلنے پر اکسایا۔
لوگوں کو متحدکرنے کی یہ کوششیں دشواریوں سے پاک نہیں تھیں۔جس ماضی کی عظمت بیان ہورہی تھی وہ ہندوتھا۔شبیہیں جن کا جشن منایاجاتا تھا وہ ہندودیوی دیوتاؤں کی تھیں،دوسرے فرقے کے لوگوں کو نظرانداز کیے جانے کا احساس ہوا۔

شکل14۔بھارت ماتا
بھارت ماتا کی یہ تصویر رابندر ناتھ ٹیگور کی تصویر سے مختلف ہے۔یہاں وہ ایک ہاتھی اور ایک شیر کے ساتھ ہے اور اس کے ہاتھ میں ایک ترشول ہے۔ہاتھی اور شیر دونوں قوت واختیار کی علامتیں ہیں۔
سرگرمی
تصویر 12اور 14کو دیکھیے۔آپ کیا سمجھتے ہیں کیا یہ تصویریں ہرذات اور ہر کمیونٹی کے لوگوں کو اپیل کریں گی؟اپنے خیالات کی مختصراً وضاحت کیجیے۔
ماخذE
’پرانے زمانے میں ہندوستان آنے والے بیرونی سیاح ،آریا ومساکے لوگوں کی ہمت،سچائی اور انکساری پر حیرت کرتے تھے۔آج یہ لوگ ان خصوصیت کے یکسرمعدوم ہوجانے کی بات کرتے ہیں۔ہندو اس زمانے میں تاتار،چین اور دوسرے ملکوں کو فتح کرنے اوروہاں اپنا پرچم لہرانے کے لیے جاتے تھے۔آج دوردراز کا ایک حقیر جزیرہ ،سرزمین ہند پر حکومت کررہا ہے۔
تارنی چرن چٹوپادھیائے۔’بھارت برشیر اتہاس،(بھارت ورش کی تاریخ)جلد1،1858
ماحصل
بیسویں صدی کے نصف آخر میں نوآبادیاتی حکومت کے خلاف ایک بڑھتی ہوئی ناراضگی، ہندوستان کے مختلف طبقات اور مختلف گروہوں کو آزادی کی ایک مشترکہ جدوجہد میں ساتھ لارہی تھی۔مہاتماگاندھی کی قیادت میں کانگریس نے لوگوں کی شکایتوں کو حصول آزادی کی تحریکوں میں منظم کرنے کی کوشش کی۔اور ایسی تحریکوں کے وسیلے سے قوم پرستوں نے ایک قومی یکجہتی قائم کرنے کا جتن کیا۔لیکن جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ ان تحریکوں میں مختلف طبقے اور مختلف گروہ،مختلف آرزوئوں اور مختلف توقعات کے ساتھ شامل ہوتے تھے۔چونکہ معنی بھی ان لوگوں کے لیے الگ الگ تھے۔کانگریس نے اختلافات کو دور کرنے کی مسلسل کوشش کی اور اس بات کو یقینی بناناچاہا کہ ایک گروپ کے مطالبات دوسرے گروپ کو دورنہ کریں۔یہی وجہ ہے کہ تحریک میں اتحاد و یکجہتی وقتاً فوقتاً ختم ہوتی رہی۔اسی لیے کانگریس کی سرگرمیوں اور نیشنلسٹ اتحاد کے عروج کے جلو میں عدم اتحاد اور گروہوں کی باہمی کشمکش کے مرحلے آتے رہے۔
دوسرے الفاظ میں جو کچھ ابھر کر سامنے آ رہا تھا وہ تھی بہت سی آوازوں کے ساتھ نو آبایاتی تسلط کے خاتمہ کی خواہش مند ایک ’’قوم‘‘۔
اختصار کے ساتھ لکھیے
1۔ وضاحت کیجیے:
(a)نوآبادیوں میں نیشنلزم کا فروغ نوآبادیات مخالف تحریک سے منسلک کیوں ہے ۔
(b) ہندوستان میں قومی تحریک کے فروغ میں پہلی جنگ عظیم نے کس طرح مدد کی ۔
(c) ہندوستانی رولٹ ایکٹ پر بپھرے کیوں تھے۔
(d) گاندھی جی نے عدم تعاون کی تحریک کوواپس لینے کا فیصلہ کیوں کیا۔
2۔ ستیہ گرہ کے نظریے کا کیا مطلب ہے؟
3۔ مندرجہ ذیل پر اخبار کے لیے ایک نوٹ لکھیے:
(a)جلیاں والا باغ قتل عام
(b) سائمن کمیشن
4۔اس باب میں دی ہوئی بھارت ماتا کی شبیہ کا موازنہ پہلے باب کی جرمانیہ سے کیجیے۔
تبادلہ خیال کیجیے
1۔ 1921کی عدم تعاون کی تحریک میں شامل ہونے والے تمام مختلف سماجی گروہوں کے نام بتائیے۔پھر ان میں سے کسی تین کا انتخاب کرکے،یہ دکھانے کے لیے کہ انھوں نے تحریک میں شرکت کیوں کی ان کی توقعات اور ان کی جدوجہد کے بارے میں لکھیے۔
2۔ اس بات کی وضاحت کرنے کے لیے کہ یہ احتجاج کا ایک موثر ہتھیار تھا،نمک ستیہ گرہ پر بات کیجیے۔
3۔ تصور کیجیے کہ آپ سول نافرمانی کی تحریک میں شامل ہونے والی ایک خاتون ہیں۔بتائیے کہ یہ تجربہ آپ کی زندگی کے لیے کیا اہمیت رکھتا ہے۔
4۔ الگ حلقہ ہائے انتخاب پر سیاسی لیڈروں نے اتنی شدت سے اختلاف کیوں کیا؟
پروجیکٹ
کینیا میں نوآبادیات مخالف تحریک کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے۔
ہندوستان کی قومی تحریک کا موازنہ اور مقابلہ ان طریقوں سے کیجیے جن کو اختیار کرکے کینیا آزاد ہوا۔