Skip to content
hidustan or asri dunya Chapter-3

3


ایک عالمگیر دنیا کا بننا


1۔جدید دنیا سے پہلے کی دنیا


جب ہم گلوبلائزیشن کی بات کرتے ہیں تو ہم عموماً اس اقتصادی نظام کا ذکر کرتے ہیں جو لگ بھگ پچھلے پچاس برسوں میں معرض وجود میں آیا ہے۔لیکن جیسا کہ آپ اس باب میں دیکھیں گے کہ عالمگیر دنیا کے بننے کی ایک طویل تاریخ ہے۔تاریخ تجارت کی، کام کے متلاشی لوگوں کے ترک وطن کی،  تاریخ سرمائے اور اسی طرح کی بہت سی دوسری چیزوں کی تاریخ۔جب ہم اپنی آج کی زندگیوں میں عالمگیر باہمی رشتوں اور اتصال باہم کی نشانیوں کے بارے میں سوچتے ہیں تب ہمارے لیے ان مرحلوں کو سمجھنا ضروری ہوجاتا ہے جن سے گزرکر یہ دنیا جس میں ہم رہتے ہیں وجود میں آئی ہے۔

ہماری ساری تاریخ میں انسانی سماج آتے رہے ہیں۔ بتدریج زیادہ منسلک ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کے زیادہ قریب۔ قدیم زمانے سے،سیاح،تاجر،مذہبی رہنما اور زائرین نے بڑے بڑے فاصلے طے کیے ہیں۔کبھی علم حاصل کرنے کے لیے،کبھی بہتر مواقع کی تلاش میں۔کبھی تسکین روحانی کی جستجو میں یا کبھی ظلم وجور سے بچنے کے لیے۔یہ لوگ اپنے ساتھ سامان بھی لے کر چلے،روپیہ،اقدار،مہارتیں ،نظریات وخیالات ،ایجادات حتی کہ جراثیم اور بیماریوں نے بھی ان کے ساتھ سفر کیا۔آج سے بہت پہلے تین ہزار سال(ق م)ایک سرگرم تجارت نے وادیٔ سندھ کی تہذیب کو آج کے مغربی ایشیا سے متعارف کرادیاتھا۔ایک ہزار برس سے کچھ زیادہ ہی پہلے مالدیپ کی کوڑیاں(کرنسی کی حیثیت سے استعمال ہوتی تھیں)چین اورمشرقی افریقہ پہنچ چکی تھیں۔بیماریوں کے جراثیم کی طویل مسافتوں کا سراغ ساتویں صدی تک ملتا ہے۔سترہویں صدی تک آتے آتے یہ رابطہ واضح اور ناقابل تردید ہوچکا تھا۔

Capture38

شکل1گوا کے میوزیم میں ایک یادگاری پتھر پر پانی کے ایک جہاز کی شبیہ۔دسویں صدی

نویں صدی سے جہازوں کی ایسی شبیہیں مغربی ساحل میں،یادگاری پتھروں پر ملتی ہیں جو بحری تجارت کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔


1.1ریشمی راستے(Silk Routes)دنیا کو ملاتے ہیں۔

ریشمی راستے عہد جدید سے قبل دنیا کے دوردراز حصوں کے تجارتی اور ثقافتی باہمی رشتوں کی اچھی مثالیں ہیں۔یہ نام ،اس راہ سے مغرب کی طرف جانے والے چین کی سلک کے سامان کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔تاریخ دانوں نے متعدد ریشمی راستوں کی شناخت کی ہے۔برّی بھی اور بحری بھی۔ایشیا کے وسیع وعریض علاقوں کو ایک دوسرے سے ملاتے ہوئے اور خود ایشیا کو یورپ اور شمالی افریقہ سے مربوط کرتے ہوئے۔کہتے ہیں کہ یہ راستے عہد عیسیٰ(Chriest Era)سے قبل بھی تھے اور تقریباًپندرہویں صدی تک چلتے رہے۔چین کے بنے ہوئے ظروف بھی اسی راستے لے جائے گئے اور بدلے میں قیمتی دھاتیں—سونا اور چاندی یورپ سے ایشیا لائے گئے۔

تجارت اور ثقافتی لین دین ہمیشہ ہی دست بدست رہے ہیں۔ابتدائی چینی مشنریوں نے ایشیا پہنچنے کے لیے یقینا اس راستے کو استعمال کیا تھا،چند صدیوں بعد مسلمان مبلغین نے بھی اسی راہ کو اپنایا۔اور اس سب سے بہت پہلے مشرقی ہندوستان سے بدھ ازم نکلا اور ریشمی راستے کے مختلف چوراہوں اور دوراہوں سے ہوتا ہوا مختلف سمتوں میں پھیل گیا۔


Capture39

شکل2۔سلک روٹ تجارت جس طرح آٹھویں صدی کی ایک   Caveپیٹنگ میں دکھائی گئی ۔غار نمبر217موگاؤگروٹو،گانسو، چین۔

1.2غذاؤں کے سفر—اسپگیٹی اورآلو

غذائیں،طویل فاصلوں کے تہذیبی لین دین کی بہت سی مثالیں پیش کرتی ہیں۔تاجر اور سیاح جن سرزمینوں پر گئے وہاں انھوں نے نئی فصلوںکو متعارف کرایا۔دنیاکے دوردراز حصوں میں،تیار(ready)کھانے کے سامانوں کی بھی مشترکہ اساس ہوسکتی ہے ۔اسپگیٹی اور نوڈلُس ہی کو دیکھیے۔خیال ہے کہ نوڈلس چین سے مغرب میں پہنچے اور اسپگیٹی کانام پایا۔یا شاید عرب سیاح پاستا(pasta)کو پانچویں صدی کے سسلی (ایک جزیرہ جواب اٹلی میں ہے) میں لے گئے۔ ایسی ہی غذائیں ہندوستان اور جاپان میں بھی جانی پہچانی تھیں۔اسی لیے ان غذاؤں کی ابتدا اور ان کے آغاز کی حقیقت سے شاید پردہ کبھی نہ اٹھ سکے۔پھر بھی اس طرح کی قیاس آرائیاں ،جدید دنیا سے قبل کی دنیا میں طویل فاصلوں والے ثقافتی رابطوں کے امکانات کی طرف اشارہ ضرور کرتی ہیں۔

پانچ سوبرس قبل تک ہمارے اجداد کوآلوسویابین،مونگ پھلی، مکئی، ٹماٹر ، مرچ ،چقندر وغیرہ جیسی کھانے کی اشیا کی کوئی واقفیت نہیں تھی۔ کرسٹو فر کو لمبس کی، وسیع وعریض برصغیر جو بعد کو امریکہ کہلایا اتفاقیہ دریافت کے بعد ہی یورپ اور امریکہ میں یہ غذائی اشیا متعارف ہوئیں(یہاں ہم شمالی امریکہ جنوبی امریکہ اور کیری بیّن کوبیان کرنے میں’امریکا‘استعمال کریں گے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہماری عام غذائی اشیاامریکہ کے اصل باشندوں یعنی امریکن انڈین کے یہاں سے آئیں۔

بسا اوقات نئی فصلیں(پیداواریں) موت اور زندگی کے درمیان فرق کا سبب بنتی تھیں۔آلو کے آنے سے یورپ کے غریبوں نے بہتر کھانا شروع کیا اور طویل زندگیاں گزارنے لگے۔آئرلینڈ کے انتہائی مفلوک الحال کسانوں کی غذا کا آلو پر انحصار کچھ ایسا بڑھا کہ جب وسط1840میں بیماریوں نے آلو کی فصل کو تباہ کیا تو سینکڑوں ہزاروں لوگ بھوک سے مر گئے۔

Capture40

شکل3۔وینس اور اورینٹ کے تاجر اشیا کا تبادلہ کرتے ہوئے۔مارکوپولو‘بک آف مارویلس۔پندرھویں صدی۔


Capture41

شکل—4آئرلینڈکا آلو قحط،السٹریٹیڈ لندن نیوز،1849۔

بھوکے بچے ایک ایسے کھیت میں آلو ڈھونڈتے ہوئے جس میں فصل کاٹی جا چکی تھی اور کھیت صاف کیا جاچکا تھا۔1845اور 1849کے درمیان ہونے والے آئرش آلو قحط میں ایک لاکھ افراد جاں بحق ہوئے اور دوگنی تعداد نے کاروبار کی تلاش میں ترک وطن کیا۔


باکس1

’حیاتیاتی‘جنگ؟

میساچوسٹس کی بے کالونی(Bay Colony)کے پہلے گورنر جان ون تھا رپ نے مئی1634میں لکھا تھا کہ چیچک‘نوآبادکاروں کے لیے رحمت ثابت ہوئی…تقریباً سارے مقامی باشندے چیچک میں مبتلا ہوکر مرگئے اور لارڈنے ہمارے اس حق کی توثیق کردی جو ہمیں ان چیزوں پر ہے جو ہمارے پاس ہیں۔

نئے الفاظ

Dissenter (منحرف۔(ایسا شخص جو مصدقہ عقائد واعمال سے روگردانی کرے۔

تبادلۂ خیال کیجیے

جب ہم یہ کہتے ہیں کہ سولہویں صدی میں دنیا سکڑگئی تو ہمارا کیا مطلب ہوتا ہے۔وضاحت کیجیے۔

1.3فتوحات،بیماریاں اور تجارت

سولہویں صدی میں جب یوروپی ملاحوں نے ایشیا کے لیے ایک بحری راستہ دریافت کیا اور امریکہ تک پہنچنے کے لیے مغربی سمندر کو کامیابی کے ساتھ پارکیا تو جدید دنیا سے قبل (Pre—modern) کی دنیا بہت سکڑگئی،چھوٹی ہوگئی صدیوں پہلے،بحرہند کو اشیا ، افراد،معلومات ،رسوم اوررواج وغیرہ کی چہار طرف آتی جاتی ایک پر جوش تجارت کا تجربہ تھا۔اس بہاؤ میں ہند کے برصغیر کی مرکزی حیثیت تھی اور ان بحری راستوں کے جال میں اس کا ایک اہم مقام تھا—یورپ کے لوگوں کی آمدنے اس بہاؤ کو وسیع تر بنانے اور ان میں سے کچھ کو یورپ کی طرف موڑنے میں مدد کی۔

’دریافت‘سے قبل امریکہ لاکھوں برس سے باقی دنیا سے باقاعدہ رابطوں سے محروم تھا۔مگر سولھویں صدی کے بعد سے اس کی وسیع وعریض زمینوں ،اس کی وافر فصلوں اور اس کی معدنیات نے ہر جگہ تجارتی کاروبار اور زندگیوں کو بدلنا شروع کردیا۔

موجود پیرو اور میکسیکو میں واقع قیمتی دھاتوں،خصوصاً چاندی کی کانوں نے یورپ کی دولت میں اضافہ کیا اور ساتھ ہی ایشیا کے ساتھ اس کی تجارت کے لیے سرمایہ بھی فراہم کی۔سترہویں صدی میں امریکہ کی فراواں دولت کی کہانیاں چہار طرف پھیل گئیں۔بے شمار مہمیں سونے کے معروف شہر ’ایل ڈورا ڈو‘کی تلاش وجستجو میں شروع ہوگئیں۔

سولہویں صدی کے وسط تک،امریکہ کی نوآبادکاری اور اس کی فتح کی پرتگالی اور اسپینی کاروائیاں بڑے قطعی انداز میں شروع ہوچکی تھیں۔یورپ کی فتح وکامیابی محض ان کی اسلحہ کی قوت کا نتیجہ نہیں تھی۔درحقیقت اسپینی فاتحین کا سب سے زیادہ طاقت ورہتھیار کوئی روایتی ہتھیار بالکل نہیں تھا۔یہ ہتھیار چیچک جیسے امراض کے جراثیم تھے جو وہ اپنے ساتھ لائے تھے۔طویل علاحدگی کی وجہ سے امریکہ کے اصلی باشندے یورپ سے آنے والی ایسی بیماریوں سے مامون ومحفوظ رہنے کی کوئی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔چیچک خاص طورپر مہلک ثابت ہوئی۔یہ مرض جب ایک دفعہ آگیا تو کسی یوروپین کے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی یہ برصغیر(Continent)کے کونے کو نے میں پہنچ گیا۔اس نے ساری کی ساری کمیونیٹیز کو بلاک کیااور فتح کے لیے راہ ہموار کردی۔بندوقیں خریدی جاسکتی ہیں چھینی جاسکتی ہیں اور ان کا رخ دراندازوں کی طرف موڑا جاسکتا ہے مگر چیچک جیسی بیماریوں کے کہ زیادہ تر فاتحین جن سے محفوظ رہنے کی صلاحیت رکھتے تھے، رخ اس طرح موڑے نہیں جاسکتے تھے۔

19ویں صدی تک مفلسی اور بھوک یورپ میں بڑی عام تھی۔شہرگنجان تھے اور مہلک بیماریاں ہر طرف پھیلی ہوئی تھیں۔مذہبی تنازعات تھے اور عقائد سے گریزاں افراد کو آزارپہنچائے جاتے تھے۔اسی لیے ہزاروں لوگ یورپ چھوڑ کر امریکہ کی طرف بھاگے۔اٹھارہویں صدی آتے آتے یہاں افریقہ میں پکڑے ہوئے غلاموں سے کاشت کی جانے والی زمینیں،یورپی منڈی کے لیے کپاس اور گنا اگانے لگیں۔

اٹھارہویں صدی میں چین اور ہندوستان دنیا کے امیر ترین ملکوں میں سے تھے۔یہ ایشیا کی تجارت میں بھی برتر اور نمایاں تھے۔بہرحال،پندرہویں صدی عیسوی سے کہتے ہیں کہ چین نے سمندر پار رابطوں کو کم کردیااور علاحدگی کی طرف مراجعت کی۔چین کے اس تخفیف شدہ رول اور امریکہ کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے عالمی تجارت کے مرکز کو مغرب کی جانب دھکیل دیا۔اب عالمی تجارت کے مرکز کی حیثیت سے یورپ سامنے آیا۔


Capture42

شکل —5غلام برائے فروخت۔نیوآرین،السٹریٹیڈ نیوز،1851۔

ایک امکانی خریدار نیلام کی لائن میں کھڑا ہوا غلاموں کی جانچ پڑتال کررہا ہے۔آپ اونچی ٹوپیوں اور سوٹ میں ملبوس سات مردوں اور چارعورتوں کو اور ان کے ساتھ دو بچوں کو دیکھ سکتے ہیں جو اپنے بکنے کا انتظار کررہے ہیں۔خریداروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے غلام اکثر اپنے بہترین کپڑے پہنتے تھے۔


2۔انیسویں صدی(1815—1914) 

انیسویں صدی میں دنیا بے پناہ بدل گئی۔اقتصادی،سیاسی،سماجی،ثقافتی اور ٹکنالوجیکل عوامل نے سماجوں کو تبدیل کرنے اور بیرونی تعلقات کو نئی شکل دینے کے لیے بڑے پیچیدہ طریقوں سے باہمی تفاعل(Interatcion)کیا۔

ماہرین اقتصادیات نے بین الاقوامی مبادلوں مین تین قسم کی حرکات یا لہروں کی نشان دہی کی۔پہلی لہر تجارت کی جس کا تعلق انیسویں صدی میں زیادہ تر اشیا(جیسے کپڑا یا گیہوں )کے کاروبارسے تھا۔دوسری لہر مزدوروں(Labour)کی ہے۔ملازمت کی تلاش میں لوگوں کا ترک وطن۔تیسری لہر ہے،دوردراز مقامات میں طویل اور قلیل مدتی سرمایہ کاری کے لیے سرمائے کی نقل وحرکت۔

یہ تینوں لہریں ایک دوسرے سے گتھی ہوئی تھیں اور انھوں نے لوگوں کی زندگیوں پر ہمیشہ سے کہیں زیادہ اثرڈالا تھا۔یہ داخلی رشتے کبھی کبھی منقطع بھی کیے جاسکتے تھے۔مثال کے طورپر مزدوروں کا ترک وطن اشیا اور سرمائے کے بہاؤکے مقابلے میں اکثر زیادہ پابنداور محدود تھا۔لیکن پھر بھی ان تینوں لہروں پر بحیثیت مجموعی نظرڈالنا،انیسویں صدی کی عالمی اقتصادیات کو سمجھنے میں ہماری بڑی مدد کرتا ہے۔


2.1عالمی اقتصادیات کی ایک شکل وجود میں آتی ہے۔

صنعتی یورپ میں غذا کی پیداوار اور اس کے استعمال کی بدلتی ہوئی صورت حال بات شروع کرنے کے لیے سب سے زیادہ مناسب مقام ہے۔روایتی طور پر ممالک خوراک کے معاملے میں خود کفیل ہونا پسند کرتے تھے۔مگر انیسویں صدی کے برطانیہ میں خوراک میں خود کفالتی کا مطلب پست معیار زندگی اور سماجی کشمکش تھا۔ایسا کیوں تھا؟

اٹھارہویں صدی کے نصف آخر سے برطانیہ میں اضافہ آبادی نے غلے کی مانگ بڑھادی تھی۔جوں جوں شہری مراکز بڑھے اور صنعت میں فروغ ہوازرعی پیداواروں کی مانگ بھی بڑھی اور ساتھ ہی اجناس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔زمیندارگروہوں کے دباؤ سے حکومت نے بھی غلے کی درآمد پر پابندیاں لگادیں۔جو قوانین حکومت کو ان پابندیوں کا اختیار دیتے تھے۔ وہ’Corn Laws‘کہلاتے تھے۔اشیائے خوردنی کی زیادہ قیمتوں سے ناراض ہو کر صنعت کاروں اور شہروں میں رہنے والوں نے’Corn Laws‘کو زوردے کر ختم کرادیا۔

اس قانون کے ختم ہونے کے بعد اشیائے خوردنی برطانیہ میں ملک کی داخلی پیداوار کے مقابلے میں زیادہ سستی قیمتوں پر درآمد ہوسکتی تھیں۔نتیجتاً برطانیہ کی زراعت درآمدات کا مقابلہ کرنے کے لائق نہیں رہی۔آراضی کے بڑے بڑے قطعے بے جوتے بوئے رہ گئے اور مرد اور عورتیں کام سے نکال دی گئیں۔ان لوگوں نے شہروں کا رخ کیا یا پھر سمندرپار ترک وطن۔

جیسے جیسے اشیائے خوردنی کی قیمتیں گریں۔برطانیہ میں ان کا استعمال بڑھ گیا۔برطانیہ میں وسط انیسویں صدی سے ہونے والی تیز رفتار صنعتی ترقی زیادہ آمدنیوں کی طرف لے گئی اور نتیجتاً غذا کی درآمد کی طرف۔دنیامیں چاروں طرف،مشرقی یورپ،روس،امریکہ اور آسٹریلیا میں زمینیں تیار کی گئیں اوربرطانیہ کی مانگوں کو پورا کرنے کے لیے غذائی پیداوار کو وسعت دی گئی۔

زراعت کے لیے زمینوں کا تیار کیاجانا ہی کافی نہیں تھا۔ریلوں کے ذریعے زرعی علاقوں کو بندرگاہوں سے ملانا ضروری تھا۔مال برداری کے لیے نئی گودیوں کی تعمیر اور پرانی گودیوں میں توسیع کرنا ضروری ہوگیا تھا۔اگر زمینوں کو زیر کاشت،لانا تھا تو وہاں لوگوں کی رہائش کا اہتمام بھی لازمی تھا۔اس کا مطلب تھا گھروں اور بستیوں کی تعمیر۔ان سب سرگرمیوں کے لیے سرمائے اور مزدوروں کی ضرورت تھی۔

سرمایہ تو لندن کے مالیاتی مرکزوں سے آگیا۔جیسے امریکہ اور آسٹریلیا جیسی جگہوں سے جہاں مزدور خود ہی کم تھے مزدوروں کی مانگ نے ترک وطن کو مزید بڑھادیا۔

19ویں صدی میں یورپ سے ترک وطن کرکے تقریباً پانچ کروڑ لوگ امریکہ اور اسٹریلیا گئے۔

اگر ساری دنیا میں دیکھا جائے تو تقریباً ایک ارب پانچ کروڑ(150 million)لوگوں نے ایک بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنے گھروں کو چھوڑا ،سمندروں کو پارکیا،خشکی میں طول طویل فاصلوں کو طے کیا۔

Capture43

شکل6۔تارکین وطن کا جہاز امریکہ کے لیے روانہ ہورہا ہے۔ایم ۔ڈبلیو رڈلے،1869


Capture1

شکل7۔آئرلینڈ کے تارکین وطن جہاز پر سوار ہونے کے انتظار میں۔از مائیکل فرٹزجیرالڈ،1874


اس طرح1890تک ایک عالمی(گلوبل)زراعتی اقتصادیات وجود میں آچکی تھی اور اپنے جلومیں مزدوروں کی نقل وحرکت ،سرمائے کے بہاؤ،ماحولیات اور ٹکنالوجی کے انداز میں بڑی پیچیدہ تبدیلیاں لائی تھی۔خوراک اب پاس کے گائوں یا قصبے سے نہیں بلکہ ہزاروں میل دورسے آتی تھی۔اب اسے ایسا کسان نہیں پیدا کرتا تھا جو اپنی زمین خود جوتتا بوتاتھا،اس کے بجائے اسے ایک زرعی مزدور پیداکرتا تھا جس کی آمد شاید ابھی ابھی ہوئی تھی اور جو کسی بڑے فارم پر کام کرتا تھا۔فارم جو محض ایک نسل پہلے بہت امکان ہے کہ کوئی جنگل رہا ہوگا۔سامان اب ان ریلوں کے ذریعے بھیجااور لایا جاتا تھا جو اسی مقصد کے لئے چلائی گئی تھیں۔اب وہ جہاز اس سامان کو ڈھونڈتے تھے جن میں جنوبی یورپ کے کم اجرت پانے والے مزدور کام کرتے تھے۔


سرگرمی

ایک چارٹ بنائیے جس میں دکھائیے کہ برطانیہ کا خوراک درآمد کرنے کا فیصلہ امریکہ اور آسٹریلیا کے لیے ترک وطن کا محرک بنا۔


سرگرمی 

تصور کیجیے کہ آپ ایک ایسے زرعی مزدور ہیں جو آئرلینڈ سے امریکہ آیاہے۔آپ نے یہاں آنے کا انتخاب کیوں کیا اور اپنی روزی کیوں کر کمارہے ہیں۔ایک پیراگراف لکھیے۔

ایسی ہی کچھ ڈرمائی تبدیلی،اگرچہ نسبتاً چھوٹے پیمانے پر،گھرکے قریب پنجاب میں ہوئی۔یہاں ہندوستان کی برطانوی حکومت نے بیکار پڑی ہوئی نیم ریگستانی زمین کو زرخیز زراعتی زمین بنانے کے لیے آب پاشی کی نہروں کا ایک جال بچھادیاتاکہ ان زمینوں میں برآمد کرنے کے لیے گیہوں اور کپاس اگایا جاسکے۔کینال کالونیوں میں(جن علاقوں میں آب پاشی ان نہروں سے ہوئی وہ اسی نام سے پکاری جاتی تھیں) جوکسان آباد ہوئے وہ پنجاب کے دوسرے علاقوں کے تھے۔

غذا تو محض ایک مثال ہے،ایسی ہی کہانی کپاس کے بارے میں بھی سنائی جاسکتی ہے جس کی کاشت،برطانیہ کے ٹکسٹائل ملوں کو خام مال مہیا کرنے کے لیے ساری دنیا میں بڑھ گئی۔پھر ربرہے،اشیا کی پیداوار میں علاقائی تخصیص(Regional Specialization)کا فروغ اس تیزی سے ہوا کہ 1820اور1914کے درمیان،خیال ہے کہ عالمی تجارت پچیس سے چالیس گنا تک بڑھ گئی۔اس تجارت کا تقریباً ساٹھ فی صدی حصہ پرائمری پروڈکس،پرمشتمل تھا۔جن میں گیہوں اور کپاس جیسی زرعی پیداواریں اور کوئلے جیسی معدنی پیداواریں شامل تھیں۔


2.2ٹکنالوجی کا رول

اس سب میں ٹکنالوجی کا رول کیاتھا؟مثال کے طورپر ریلویز،دخانی جہاز،ٹیلی گراف بڑی اہم ایجادات تھیں،جن کے بغیر ہم انیسویں صدی کی بدلی ہوئی دنیا کاتصور نہیں کرسکتے۔مگر ٹکنالوجی کی ترقیاں عموماً زیادہ بڑے سماجی،سیاسی اور اقتصادی عوامل کے نتائج ہوتی تھیں۔مثلاً نوآبادکاری نے نئی سرمایہ کاری کی ہمت افزائی کی اور ذرائع نقل وحمل کو بہتر بنانے کی تحریک پیدا کی غذائی اشیا کو زیادہ،سستے داموں اور سرعت کے دوردراز فارموں سے منڈیوں تک پہنچایا۔


Capture2

شکل —8اسمتھ فیلڈ کلب مویشی نمائش۔السٹریٹیڈ لندن نیوز،1851۔

کسانوں کے لائے ہوئے برائے فروخت مویشی میلوں میں بیچے جاتے تھے۔لندن میں سب سے پرانا مویشیوں کا بازار اسمتھ فیلڈ میں تھا۔انیسویں صدی کے وسط میں انڈے مرغی اور گوشت کا بازار ،اسمتھ فیلڈ کو گوشت سپلائی کرنے والے تمام مراکز کو ملانے والی ریلوے لائن کے قریب قائم ہوا۔


گوشت کی تجارت اس مربوط ومنسلک عمل کی اچھی مثال ہے۔1870تک زندہ جانور جہازوں کے ذریعے امریکہ سے یورپ بھیجے جاتے تھے جہاں پہنچنے کے بعد انہیں ذبح کیاجاتاتھا۔مگر زندہ جانور جہاز میں جگہ بہت گھیرتے تھے۔بہت سے جانور راستے ہی میں مر بھی جاتے تھے،بیمار ہوجاتے تھے دبلے ہوجاتے تھے جس کی وجہ سے ان کاوزن بھی کم ہوجاتاتھا یاپھر کھانے کے قابل ہی نہیں رہتے تھے۔نتیجتاً گوشت کھانا ایک ایسی قیمتی عیاشی بن گیا تھا جو یورپ کے غریب لوگوں کی استطاعت سے باہر تھی۔زیادہ قیمتوں نے اس وقت تک پیداوار کو بھی کم رکھاجب تک کہ ایک نئی ٹکنالوجی دریافت نہیں ہوگئی۔یعنی ریفریجریٹیڈ جہاز نہیں بن گئے جنہوں نے گلنے ،سڑنے اور خراب ہوجانے والی اشیا کو بغیر خراب ہوئے دوردراز مقامات تک بھیجنے کے کام کو آسان بنادیا۔

اب جانور اپنے نقطۂ آغاز پر یعنی امریکہ،آسٹریلیا یا نیوزی لینڈ ہی میں ذبح ہونے لگے اور انھیں یخ بستہ (Frozen) گوشت کی شکل میں یورپ بھیجا جانے لگا۔اس طریقے نے مال برداری پر آنے والی لاگت کو بھی کم کیا اور یورپ میں قیمتیں بھی کم ہوگئیں۔یورپ کا غریب آدمی بھی اب متنوع غذائیں استعمال کرنے کے لائق ہوگیا روٹی اور آلو کی پچھلی یکسانیت کے بجائے اب لوگ اگرچہ سب نہیں، اپنے کھانے میں گوشت(اور مکھن اورانڈے)کا اضافہ کرسکتے تھے۔زندگی کے نسبتاً بہترحالات نے ملک کے اندر سماجی امن وامان کو فروغ دیااور بیرون ملک امپیریل ازم کے لیے حمایت پیدا کی۔


Capture3

شکل9۔گوشت جہاز پرلادا جارہاہے۔الگزینڈرا۔السٹریٹیڈ لندن نیوز، 1878۔

گوشت کی برامدات صرف اسی وقت ممکن ہوسکیں جب جہازوں کو ٹھنڈا(refrigerated)بنایا گیا۔


2.3آخر انیسویں صدی کا نوآبادیات

19ویں صدی کے اواخر میں تجارت پھلی پھولی اور بازاروں میں وسعت پیدا ہوئی مگر یہ زمانہ صرف وسیع تجارت اور بڑھی ہوئی خوشحالی کا نہیں تھا۔اس بات کا احساس بہت ضروری ہے کہ اس سارے عمل کا ایک تاریک پہلو بھی تھا۔دنیا کے بہت سے حصوں میں،تجارت کی وسعت اور عالمی معیشت سے قریبی رشتوں کا مطلب آزادیوں میں کمی اور روزگار میں تخفیف بھی تھا۔آخری انیسویں صدی کی یوروپی کامیابیوں نے بہت سی تکلیف دہ اقتصادی،سماجی اور ماحولیاتی تبدیلیاں پیدا کیں جن کے سائے میں نوآبادیاتی سماج عالمی اقتصادیات کے دائرے میں لائے گئے۔

افریقہ کے نقشے پر نظرڈالیے(شکل10)آپ دیکھیں گے کہ بعض ملکوں کی سرحدیں توسیدھی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ انھیں فٹ رول رکھ کر بنایا گیاہے۔حقیقت یہی ہے کہ تقریباً یہی طریقہ تھا جس سے حریف یورپی طاقتوں نے افریقہ میں اپنے علاقوں کی نشاندہی کے لیے سرحدوں کا تعین کیا۔1885میں افریقہ کو آپس میں تقسیم کرنے کے لیے بڑی یورپی طاقتوں نے ایک میٹنگ کی۔برطانیہ اور فرانس نے آخر انیسویں صدی میں اپنے سمندر پار علاقوں میں بڑے بڑے اضافے کیے۔بلجیم اور جرمنی نئی نوآبادکار قومیں بن گئے۔امریکہ بھی بعض ان کالونیوں پر قبضہ کرنے کے بعد جن پر پہلے اسپین کا قبضہ تھا،ایک نوآبادیاتی قوت بن گیا۔

آئیے ہم اس تباہ کن اثر کی ایک مثال دیکھیں جو نوآبادیات نے اپنے زیر اثر آنے والی کالونیوں کے عوام کی معیشت اور ان کے روزگار پر ڈالا۔


Capture4

شکل10۔انیسویں صدی کے آخرمیں نوآبادیات افریقہ کا نقشہ


باکس2

سرہنری مورٹن اسٹینلے،مرکزی افریقہ میں اسٹینلے ایک صحافی ‘محقق اور کھوجی تھا جسے نیویارک ہیرالڈ نے لیونگسٹن کی تلاش میں بھیجا تھا۔لیونگسٹن ایک مشنری اور محقق تھا جو کئی برسوں تک افریقہ میں رہا تھا۔اس زمانے کے دوسرے یوروپین اور امریکی محققوں کی طرح اسٹینلے بھی وہاں ہتھیاروں کے ساتھ گیاتھا۔ اس نے مقامی شکاریوں، سپاہیوں اور مزدوروں کو اپنی مدد کے لیے جمع کیا۔مقامی قبیلوں سے لڑائیاں لڑیں،افریقی سرزمین کی تفتیش کی اور مختلف علاقوں کی نقشہ کشی کی۔ان تحقیقات نے افریقہ کی فتح میں مدد کی۔ اِس جغرافیائی تحقیقات کی محرک سائنسی معلومات کی معصوم وبے ضرر تلاش وجستجو نہیں تھی،ان کا براہِ راست تعلق امپریل منصوبوں سے تھا۔


Capture5
شکل—11سرہنری مورٹن اسٹینلے اور ان کے خدام مرکزی افریقہ میں۔السٹریٹیڈ لندن نیوز،1871۔

2.4رائنڈرپسٹ(Rinder pest) یامویشیوں کا پلیگ

1890کی دہائی میں افریقہ میں تیز رفتاری سے پھیلنے والی پلیگ کی وبا نے لوگوں کے روزگاراورمقامی اقتصادیات پربھیانک اثرات ڈالے۔نوآبادیاتی سماجوں پریورپی امپیریلزم کے دور رس اثرات کی یہ ایک اچھی نظیر ہے۔

یہ نظیر ہمیں دکھاتی ہے کہ فتوحات کے اس عہد میں مویشیوں پر اثر انداز ہونے والی ایک بیماری بھی کس طرح ہزاروں لوگوں کی زندگیوں اور ان کے مقدّرات کو نئی شکل وصورت عطا کرتی ہے اور باقی دنیا سے ان کے تعلقات کی ازسر نو تشکیل کرتی ہے۔

تاریخی طورپر،افریقہ کے پاس فراواں زمین تھی اور آبادی نسبتاً مختصر۔صدیوں تک زمین اورمویشیوں نے افریقیوں کی روزی روٹی کا وسیلہ فراہم کیا تھا اور لوگوں نے اجرت کے لیے شاذ ونادر ہی کام کیا تھا۔آخر انیسویں صدی کے افریقہ میں معدودے چند ہی ایسی استعمالی اشیا تھیں جنھیں اجرتوں کی آمدنی سے خریدا جا سکتا تھا۔اگر آپ زمین اور مویشی رکھنے والے افریقی ہوتے اورایسے لوگ بہت تھے،تو آپ نے بھی اجرت کی خاطر کام کرنے کا کوئی جواز نہ دیکھا ہوتا۔


Capture6

شکل12۔ٹرانسوال کی سونے کی کانوں تک نقل وحمل۔

ٹرانسوال کی ان کانوں تک نقل وحمل کا سب سے تیز رفتار طریقہWilgeدریا کو پار کرنا تھا۔وِٹ واٹرس رینڈمیں سونے کی دریافت کے بعد یورپی لوگ بیماری اور موت کے خدشے اور سفر کے مصائب کے باوجود اس علاقے کی طرف جھپٹ پرے 1890کی دہائی تک سونے کی عالمی پیداوار میں افریقہ کا حصہ لگ بھگ بیس فیصدی تھا۔


انیسویں صدی کے آخری زمانے میں یورپی لوگوں کی دلچسپی افریقہ میں وہاں کی وافر زمین اور وہاں کی معدنیات کے وسائل کو دیکھ کرہوئی۔ باغات(Plantation)اور کانیں قائم کرنے اور فصلوں کی پیداوار اور معدنیات یورپ بھیجنے کی توقعات لے کر افریقہ آئے تو وہاں ایک غیر متوقع مسئلہ سامنے تھا۔اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کی قلت کا مسئلہ۔

ملازم رکھنے والوں نے،مزدوروں کی بھرتی اور انھیں کام پر لگائے رکھنے کے لیے بہت سے طریقے اپنائے۔بھاری بھاری ٹیکس لگائے کہ جن کی ادائیگی صرف باغات اور کانوں میں  اجرت پر کام کرنے کے بعد ہی کی جاسکتی تھی۔وراثت کے قانون بدلے گئے تاکہ کسانوں کو زمین سے بے دخل کیاجاسکے۔ورثے میں زمین پانے کا حق خاندان کے صرف کسی ایک فرد کو دیاگیا ۔جس کے نتیجے کے طورپر خاندان کے دوسرے لوگ مزدور منڈیوں کی طرف جانے پر مجبور ہوئے ۔کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو بھی ان کے احاطوں میں رکھاجاتا تھا انھیں ادھر ادھر آزادانہ گھومنے پھرنے کی جازت نہیں تھی۔

پھرrinderpestکی وباآئی۔یہ مویشیوں کی ایک تباہ کن بیماری ہے افریقہ میں مرض 1880کی دہائی کے آخری زمانے میں آیا۔یہ وبا افریقہ میں،برٹش ایشا سے درآمد کیے ہوئے ان متاثر مویشیوں کے ذریعے تھی جو مشرقی افریقہ میں ایریٹریا(Eritea)پر حملہ کرنے والے اطالوی سپاہیوں کو کھلانے کے لیے لائے جاتے تھے۔مشرق کی سمت سے افریقہ میں داخل ہونے والی یہ بیماری مغرب کی طرف جنگل کی آگ کی طرح پھیلی۔اور 1902میں افریقہ کے اٹلانٹک ساحل تک پہنچ گئی۔پانچ سال بعد یہ افریقہ کے انتہائی جنوبی کنارے کیپ(Cape)پہنچ گئی۔راہ میں اس نے نوے فیصد مویشیوں کی جانیں لے لیں۔

مویشیوں کے اس اتلاف نے افریقہ کے ذرائع معاش کو تباہ کرکے رکھ دیا۔اپنی قوت کو مزید مستحکم کرنے اور افریقیوں کو مزدوری کے بازار میں آنے پر مجبور کرنے کے لیے باغبانوں (Planters)کانوں کے مالکوں اور نوآبادیاتی حکومتوں نے بچے کھچے مویشیوں کو بڑی کامیابی کے ساتھ اپنی جاگیر بنالیا۔ مویشیوں کے بچے کھچے محدود وسائل پر کنٹرول نے یورپی نوآبادکاروں کو افریقہ پر فتح پانے اور اسے تابع اور مطیع بنانے کے لائق کردیا۔

19ویں صدی کی دنیا کے دوسرے حصوں میں مغرب کے فتوحات کے اثرات کی ایسی داستانیں اور بھی سنائی جاسکتی ہیں۔

Capture7

شکل13۔ساؤتھ افریقہ میں ٹرانس وال میں سونے کی کانوں میں کان کن— گریفک، 1875۔


نئے الفاظ

بندھوا مزدور(Indentured Labour):ایک بندھوا مزدور کوقانونی معاہدے کے تحت اپنے آقاکے یہاں کسی نئے ملک آنے یا اپنے گھر جانے کے کرائے کی ادائیگی کے لیے ایک معینہ مدت تک کام کرنا ہوتاتھا۔

2.4ہندوستان سے بندھوا مزدور ترک وطن

ہندوستان سے بندھوا مزدوروں کے ترک وطن کی مثال انیسویں صدی کی دنیا کی دوپہلو فطرت کی توضیح بھی کرتی ہے۔یہ دنیا تیزرفتار اقتصادی ترقی کی دنیا تھی اور ساتھی ہی عظیم مصائب کی دنیا بھی تھی کچھ لوگوں کے لیے زیادہ آمدنیاں کچھ کے لیے افلاس بعض علاقوں میں ٹکنالوجیکل ترقیاں اور دوسرے علاقوں میں نوع بہ نوع ظلم وجبر۔

انیسویں صدی میں ہندوستان اور چین کے ہزاروں لاکھوں مزدور،دنیا بھر میں،باغات (Plantation) اورکانوںمیں اورریل کی پٹریوں اور سڑکوں کی تعمیر کے پروجیکٹوں میں کام کرنے کے لیے گئے۔بندھوا مزدوروں سے ایک معاہدے کے تحت اپنے مالک کے باغات پر پانچ سال کام کرنے کے بعد ہندوستان واپس جانے کے لیے کرایہ دیے جانے کا وعدہ ہوتا تھا۔

زیادہ تر بندھوا مزدور آج کے مشرقی اترپردیش،بہار،سنٹرل انڈیا اور تامل ناڈو کے خشک علاقوں سے آتے تھے۔وسط انیسویں صدی میں ان علاقوں نے بہت سی تبدیلیاں دیکھیں ۔ گھریلو صنعتوں پر زوال آیا،زمینوں کے کرائے بڑھ گئے۔ باغوں اور کانوں کے لیے زمینیں صاف کی گئیں۔ ان سب باتوں کا غریب کی زندگی پر اثر پڑا‘وہ اپنے کرائے ادا نہیں کرسکے، بے پناہ مقروض ہوئے اور کام کی تلاش میں ترک وطن پر مجبور ہوگئے۔

ہندوستان کے ان بندھوا مزدوروں کی منزل زیادہ ترک کیربین جزائر (خصوصاً ترینیداد،گویانا اور سورینام)ماریشس اور فیجی تھیں۔گھر سے قریب تامل تارکین وطن سیلون اور ملایاگئے۔بندھوا مزدور آسام میں چائے کے باغات کے لیے بھی بھرتی کیے گئے۔


Capture8

شکل14۔ہندوستانی بندھوا مزدور ترینڈاڈمیں کوکو کے باغات میں۔اوائل انیسویںصدی۔

تبادلۂ خیال کیجیے

قومی شناخت بنانے میں زبان اور عوامی روایات کی اہمیت پر بحث کیجیے۔

یہ بھرتی مالکوں کے مقرر کیے ہوئے ان ایجنٹوں کے ذریعے ہوتی تھی جنھیں کچھ کمیشن بھی ملاکرتاتھا۔بہت سے تاریکین وطن افلاس کا مقابلہ کرنے اور اپنے گاؤوں میں ہونے والے جبروظلم سے بچنے کی توقع کے ساتھ کام کرنے پر تیار ہوجاتے تھے۔مستقبل میں ترک وطن کرنے والے لوگوں کو ایجنٹس،جگہ ،سفر کے طریقوں ،کام کی نوعیت اور قیام وکام کے حالات سے متعلق غلط معلومات فراہم کرکے بھی ورغلاتے تھے۔اکثر اوقات تو تاریکن وطن کو یہ بھی نہیں بتایاجاتاتھا کہ انہیں طول طویل بحری سفر کرنا ہے۔بسااوقات ایسا بھی ہوتا تھاکہ ترک وطن پر راضی نہ ہونے والوں کو یہ ایجنٹ اغوا بھی کرلیتے تھے۔

انیسویں صدی کے پابند بنانے والے ان معاہدوں کو ’’غلامی کا ایک نیانظام‘‘بھی کہاجاتا تھا۔باغات کی جگہوں پر بھیجنے کے بعد مزدوروں کو وہاں کے حالات اپنے سوچے ہوئے حالات سے بالکل مختلف نظرآتے تھے۔کام اور رہنے کے حالات انتہائی تکلیف دہ ہوتے تھے اور آئینی حقوق برائے نام تھے۔

لیکن ایسے حالات میں زندہ رہنے کے لیے مزدوروں نے خود اپنے ڈھنگ دریافت کیے۔ان میں سے بہت سے جنگلوں کی طرف بھاگے،اگرچہ پکڑے جانے کے بعد سزائیں شدید تھیں۔دوسرے تھے جنھوں نے اظہار ذات کے لیے نجی اور اجتماعی نئے طور طریقے ایجاد کرلیے جن میں انھوں نے نئے اور پرانے ثقافتی انداز ہم آہنگ کیے۔ترینیداد میں محرم کے سالانہ جلوس کو انھوں نے عوامی تفریح کا یک موقع بنادیا،جسے نام دیا ’حوسے‘(امام حسین کی رعایت سے)کا۔اور جن میں تمام نسلوں اور تمام مذاہب کے مزدور شریک ہوئے۔اسی طرحRastafarianismکا باغی مذہب (جسے جمائیکا کے معروف راگی باب مارلے نے شہرت بخشی)کے بارے میں کہاجاتا تھا کہ اس میں کیری بین جانے والے ہندوستانی تاریکین وطن سے سماجی اور تہذیبی رشتوں کا پرتو نظرآتا تھا۔ترینیداد اور گویانا کا مقبول ’چٹنی میوزک‘بھی بندھوا مزدوری کے تجربے کے بعد کا ایک دوسرا معاصر تخلیقی اظہار تھا۔ثقافتی اتصال کی یہ شکلیں اس عالمی دنیاکی تشکیل کا حصہ ہیں جہاں مختلف مقامات کی اشیا باہم آمیز ہوتی ہیں،اپنی اساسی خصوصیات کو ترک کرتی ہیں اور ایک کوئی بالکل نئی چیز ہوجاتی ہیں۔

Capture9

شکل —15بندھوا مزدوروں کی پہچان کے لیے ان کی تصویریں کھنچیں۔

مالکان کے لیے نام نہیں تعداد زیادہ اہم تھی۔


اکثر بندھوا مزدور اپنے معاہدوں کے ختم ہونے کے بعد بھی ٹھہرجاتے تھے یا ہندوستان میں   کچھ دن گزارنے کے بعد اپنے نئے گھروں کو پھرواپس آجاتے تھے۔اسی وجہ سے ان ملکوں میں ہندوستانی نژاد افراد کی متعدد کمیونیٹیز موجود ہیں۔کیاآپ نے نوبل انعام یافتہ ادیب وی ایس نائپال کا نام سنا ہے؟آپ میں سے بعض لوگ ویسٹ انڈیز کے کرکٹ کے کھلاڑی شیو نارائن چندر پال اور رام نریش سراون کے کارناموں سے واقف ہوں گے۔اگر آپ کو ان ناموں میں ہندوستانیت کی ایک مبہم سی جھنکار سنائی دیتی ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ لوگ ہندوستان سے وہاں جانے والے تارکین وطن بندھوا مزدوروں کے اخلاف ہی میں سے ہیں۔

1900کے بعد سے ہندوستان کے نیشنلسٹ لیڈروں نے بندھوا مزدور ترک وطن کے نظام کو توہین آمیز اور ظالمانہ نظام کہہ کر اس کی مخالفت کی۔1921میں اسے ختم کردیاگیا۔مگر پھر بھی بعد کی کئی دہائیوں تک ہندوستانی بندھوا مزدوروں کے اخلاف جنھیں’قلی‘کہاجاتاتھا،کیری بیّن جزائر میں ایک بے آرام اقلیت رہے۔نائی پال کے بعض ابتدائی ناولوں میں بیگانگی اور زیاں کے احساس کی عکاسی ملتی ہے۔

Capture10

شکل16۔بندھوا مزدور کا ایک کانٹریکٹ فارم


 2.5  ہندوستانی مہم جو کاروباری بیرونی ملکوں میں

عالمی منڈی کے لیے غذا اور دوسری فصلیں پیدا کرنے کے لیے سرمائے کی ضرورت تھی۔بڑے بڑے Plantations توبینکوں اور منڈیوں سے ادھار لے سکتے تھے۔مگر معمولی کسان؟ ہندوستانی بینکرس سامنے آتے ہیں۔کیا آپ شکار ی پوری شرافوں اور نتّو کوٹائی چٹیاروں کوجانتے ہیں؟یہ لوگ بینکرس اور تاجروں کے ان بہت سے گروہوں میں تھے جنھوں نے مرکزی اور جنوب مشرقی ایشیا میں زرعی برآمدات کے لیے سرمایہ فراہم کیا۔انھوں نے اس کام میں یا تو خود اپنے روپے لگائے یا پھر یوروپین بینکوں سے قرضے لیے۔دوردراز مقامات تک روپیہ منتقل کرنے لیے کے ان کے پاس نہایت نفیس نظام تھا۔انھوں نے شراکتی (Corporate) تنظیموں کے دیسی طریقے تک نکال لیے تھے۔

ہندوستانی تاجراورروپیہ ادھار دینے والے بھی یورپی نوآبادکاروں کے پیچھے پیچھے افریقہ پہنچے حیدرآبادی سندھی تاجروں نے بہرحال یورپی کالونیوں سے آگے تک کی ہمت کی۔دنیا بھر میں معروف بندرگاہوں پر بڑی بڑی پھلتی پھولتی دکانیں کھولیں۔جن میں مقامی اور درآمد کیے ہوئے نوادارات اُن سیاحوں کے ہاتھ بیچے جاتے جن کی تعداد بھی،محفوظ اور آرام دہ مسافر کشتیوں کی وجہ سے روزبروز بڑھتی جارہی تھی۔


ماخذ A 

ایک بندھوا مزدور کا بیان

ایک بندھوا مزدور رام نرائن تیواری کے بیان کا اقتباس،جس نے اوائل بیسویں صدی میںDemeraraپر دس برس گزارے۔

’…اپنی بے انتہا کوششوں کے باوجود میں ان کاموں کو ٹھیک سے نہیں کرسکا جو میرے سپرد کیے گئے تھے…چند ہی دنوں میں میرے ہاتھ اوپر سے نیچے تک چھل گئے اور میں ایک ہفتے تک کام پر بھی نہیں جاسکا۔اس کوتاہی پر مجھے سزا ملی اور مجھے چودہ دن کے لیے جیل بھیج دیاگیا۔نئے تارکین وطن بھی ملے ہوئے کاموں کو انتہائی سخت پاتے تھے اور انھیں ایک دن میں پورا نہیں کرسکتے تھے۔کام اگر قابل اطمینان نہیں سمجھاجاتا تھا تو اجرتوں میں کٹوتی کی جاتی تھی۔اسی لیے بہت سے لوگ اپنی پوری اجرت کبھی کما نہیں پائے۔اور انھیں مختلف طریقوں سے اور بھی سزائیں ملتیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ مزدوروں کو معاہدے کا اپنا زمانہ مزید تکلیفوں میں گزارنا ہوتاتھا…‘

(ماخذ:ڈیپارٹمنٹ آف کامرس اینڈ انڈسٹری—ایمی گریشن برانچ1916)


2.6ہندوستانی تجارت ،نوآبادیات اور گلوبل نظام

تاریخ کہتی ہے کہ ہندوستان میں پیدا کی جانے والی اعلیٰ درجے کی کپاس یورپ برآمد کی جاتی تھی۔انڈسٹریلائزیشن کے ساتھ ہی برطانوی کپاس کی پیداوار میں وسعت شروع ہوئی اور صنعت کاروں نے کپاس کی درآمدات کو محدود کرنے اور مقامی صنعت کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے حکومت پر زور ڈالا۔برطانیہ میں درآمد کیے جانے والے کپڑے پر محصول لگائے گئے نتیجتاً بہترین ہندوستانی کپاس کی آمد میں انحطاط آنا شروع ہوگیا۔

19ویں صدی کے اوائل سے برطانوی کارخانہ داروں نے بھی اپنے کپڑے کے لیے سمندرپار منڈیوں کی تلاش شروع کردی۔برطانوی منڈیوں سے خارج ہندوستانی کپڑے کو دوسری بین الاقوامی منڈیوں سے زبردست مقابلہ کرناپڑا۔اگر ہم ہندوستان سے ہونے والی برآمدات کے اعداد وشمار پر نظرڈالیں تو ہم سوتی کپڑے میں ہندوستانی حصے میں مسلسل کمی دیکھیں گے۔برآمدات جو1800 میں30فیصدی تھیں وہ1815میں گھٹ کر محض15فیصدی رہ گئیں۔اور 1870تک یہ تناسب گرکر تین فیصدی سے بھی کم رہ گیا۔

Capture11

شکل17۔ایسٹ انڈیا کمپنی ہاؤؤس،لندن—یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی عالمی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔


پھر ہندوستان نے کیا برآمد کیا؟اعدادوشمار ایک بار پھر بڑی حیرت ناک کہانی کہتے ہیں۔مصنوعات کی برامد میں اگر تیز رفتار زوال آیا تو خام مال کی برآمد میں اسی تیز رفتاری سے اضافہ ہوا۔ 1812 اور1871کے درمیان خام کپاس کی برآمد 5فیصدی سے بڑھ کر 35فیصدی ہوگئی۔کپڑے کو رنگنے میں کام آنے والا نیل اگلی کئی دہائیوں میں دوسری اہم برآمدی شئے تھی۔اورجیسا کہ آپ نے پچھلے برس پڑھاہے کہ انیسویںصدی کی دوسری دہائی میں چین کو ہونے والی افیون کی سپلائی میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا تھا اور وہ کچھ عرسے کے لیے ہندوستان کی واحد سب سے بڑی برآمد بن گئی تھی۔برطانیہ نے ہندوستان میں افیون کی پیداوار چین کو برآمد کی اور اس فروخت سے ہونے والی رقم سے اس نے چین سے چائے اور دوسری درآمدات کے لیے سرمایہ فراہم کیا۔

Capture12

شکل18۔سورت اور اس کے دریاکا ایک منظر (دورسے) پوری سترہویں صدی اور اوائل اٹھارہویں صدی میں، سورت مغربی بحرہند میں سمندر پار تجارت کا خاص مرکز رہا۔


19ویں صدی میں ہندوستان کے بازاروں میں برطانوی مصنوعات کی بھرمارہوگئی ہندوستان سے برطانیہ اور باقی دنیا میں اجناس اور خام مال کی برآمدات بڑھ گئیں۔مگر برطانیہ سے ہندوستان آنے والے سامان کی قیمت ہندوستان سے برطانیہ جانے والے سامان کی قیمت سے کہیں زیادہ تھی۔اس طرح برطانیہ کو ہندوستان سے ایک ٹریڈسرپلس حاصل تھا۔برطانیہ نے اس سرپلس سے دوسرے ملکوں سے ہونے والی اپنی تجارت کے خسارے میں توازن پیدا کیا۔دوسرے ملکوں سے مراد وہ ممالک ہیں جن سے برطانیہ درآمدات زیادہ کررہا تھا اور اپنا مال ان کے ہاتھ فروخت کم کررہا تھا۔ہمہ فریق معاہدوں کانظام اسی طرح کام کرتا ہے۔یہ ایک ملک کو دوسرے ملک کے ہاتھوں ہونے والے خسارے کی بھرپائی کسی تیسرے ملک کے ساتھ اپنے کاروبار میں ملنے والے سرپلس سے کرنے کی اجازت دیتا ہے اپنے خسارے کو متوازن بنانے میں برطانیہ کی مدد کرکے،ہندوستان نے آخر انیسویں  صدی کی عالمی اقتصادیات میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔

ہندوستان میں برطانوی تجارتی سرپلس نے ان نام نہاد’Home Charges‘ کی ادائیگی میں بھی مدد کی جن میں ارسال کردہ وہ نجی رقوم بھی شامل تھیں جو برطانوی حکام اور تاجر اپنے گھروں کو بھیجتے تھے اورہندوستان کے بیرونی قرض کے سود کی ادائیگی اورہندوستان میں برطانوی حکام کی پنشن بھی شامل تھی۔

Capture13

 شکل19۔وہ تجارتی راستے جنھوں نے انیسویں صدی کے آخر میں ہندوستان کو دنیا سے جوڑا


3۔  جنگوں کی درمیانی مدت میں اقتصادی حالت

پہلی جنگ عظیم (1914-18) عموماً یورپ میں لڑی گئی تھی مگر اس کے اثرات ساری دنیا میں محسوس کیے گئے۔ اس باب میں اپنی تشویشوں کے پس منظر میں ہم دیکھیں گے کہ اس جنگ نے بیسویں صدی کے نصف اول کو ایک ایسے بحران میں ڈال دیا کہ جس سے نکلنے میں تین دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ لگ گیا۔ اس عرصے میں دنیا نے بڑے پیمانے پر اقتصادی اور سیاسی عدم استحکام دیکھا اور ایک اور تباہ کن جنگ دیکھی۔


3.1   زمانۂ جنگ  کی تبدیلیاں

جیسا کہ آپ جانتے ہیں، پہلی عالمی جنگ طاقتوں کے دو فریقوں کے درمیان لڑی گئی تھی۔ ایک طرف اتحادی طاقتیں تھیں برطانیہ فرانس اور روس (بعد میں امریکہ بھی ساتھ ہوگیا) اور مقابل میں مرکزی قوتیں تھیں جن میں جرمنی، آسٹریا، ہنگری اور عثمانی ترکی شامل تھے۔ ابتدامیں جب جنگ شروع ہوئی تو لوگوں کا خیال تھا کہ یہ کرسمس تک ختم ہوجائے گی۔ مگر اس کے ختم ہونے میں چار سال لگ گئے۔
پہلی جنگ عظیم پچھلی تمام جنگوں سے مختلف تھی۔اس لڑائی میں دنیا کے ممتاز صنعتی ملک شامل تھے جنھوں نے جدید صنعت کی زبردست قوت جمع کرلی تھی تاکہ اپنے دشمنوں کو زیادہ سے زیادہ تباہ و برباد کرسکیں۔ اس لحاظ سے یہ جنگ اولین جدید صنعتی جنگ تھی۔اس جنگ نے مشین گنوں، ٹینکوں، ہوائی جہازوں ، کیمیاوی ہتھیاروں وغیرہ کا بڑے پیمانے پر استعمال دیکھا۔ یہ ساری چیزیں، بڑے پیمانے کی جدید صنعت کی پیداوار تھیں۔ جنگ لڑنے کے لیے دنیا بھر سے لاکھوں سپاہی بھرتی کرنے تھے اور ان سپاہیوں کو بڑے بڑے جہازوں اور ریلوں کے ذریعے محاذ جنگ پر پہنچانا تھا۔ صنعتی عہد سے پہلے اور صنعتی ہتھیاروں کے استعمال کے بغیر اتنی بڑی تباہی کا– نوے لاکھ اموات اور دو کروڑ زخمی۔ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔
مرنے اور معذور ہونے والوں میں بڑی تعداد کام کی عمر والے افراد کی تھی۔ ان اموات اور ان جراحتوں نے یورپ میں، کام کرسکنے والے تندرست لوگوں کی تعداد کو بہت کم کردیا۔ خاندانوں میں لوگوں کی تعداد کم ہوجانے کی وجہ سے ، خاندانوں کی آمدنیوں میں بھی جنگ کے بعد کمی ہوئی۔
جنگ کے دوران ، جنگ سے متعلق سامان بنانے کے لیے صنعتوں کی تشکیل تو کی ہی گئی جنگ کے لیے سارے کے سارے سماجوں کو بھی از سر نو منظم کیا گیا۔ مرد جنگ پر گئے اور عورتوں کو ان کاموں کو اپنے ہاتھ میں لینا پڑا جو پہلے صرف مردوں کے سمجھے جاتے تھے۔
Capture14

شکل —20 پہلی جنگ عظیم کے دوران ایک اسلحہ فیکٹری جنگ کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ہتھیاروں کی پیداوار تیزی سے بڑھی۔


جنگ نے دنیا کی بعض ان بڑی اقتصادی قوتوں کے باہمی معاشی رشتوں کی شکست و ریخت کردی جو اب ایک دوسرے سے نبرد آزما تھے۔ برطانیہ نے امریکی بینکوں اور ساتھ ہی امریکی عوام سے بڑے بڑے قرضے لیے۔ لہٰذا جنگ نے امریکہ کو جو ایک بین الاقوامی قرض دار تھا ایک بین الاقوامی قرض خواہ بنادیا۔ دوسرے الفاظ میں، جنگ کے خاتمے پر امریکہ اور امریکہ کے شہریوں کے پاس، امریکہ میں بیرونی حکومتوں اور بیرونی شہریوں کے مقابلے میں ، سمندر پار اثاثہ کہیں زیادہ تھا۔


3.2 بعد از جنگ صحت یابی

بعد از جنگ سنبھالا دشوار ثابت ہوا۔ برطانیہ نے جو جنگ سے پہلے کے زمانے میں دنیا کی ایک ممتاز معیشت کا درجہ رکھتا تھا، خاص طور پر ایک طویل بحران کا سامنا کیا۔ جب برطانیہ جنگ میں الجھا ہوا تھا، ہندوستان اور جاپان میں صنعتوں نے بڑی ترقیاں کیں۔ جنگ کے بعد، ہندوستانی بازار میں اپنی حاوی حیثیت کو دوبارہ حاصل کرنا اور بین الاقوامی سطح پر جاپان سے مقابلہ کرنا برطانیہ کے کے لیے بہت دشوار ہوگیا۔ مزید یہ کہ جنگ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے برطانیہ نے امریکہ سے بڑی کشادہ دلی سے قرضے لیے تھے۔ اس کا مطلب تھا کہ جنگ کے ختم ہونے کے بعد برطانیہ بڑے بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔
جنگ اقتصادی فراوانی لائی تھی، مانگیں بڑھی تھیں، پیداوار میں اضافہ ہوا تھا اور روزگار کے مواقع بھی زیادہ ہوئے تھے۔ جنگ کی لائی ہوئی یہ خوشحالی ختم ہوئی تو پیداوار میں کمی آئی اوربے روزگاری بڑھ گئی۔ اسی کے ساتھ حکومت نے زمانہ امن کے لگان سے ہم آہنگی کے لیے بڑھے ہوئے جنگی اخرجات کو کم کیا۔ ان اقدامات نے معاش کے ذرائع کو بڑا دھکا پہنچایا۔ 1921 میں ہر پانچواں برطانوی کامگار ، بے روز گار تھا۔ سچ ہے کہ کام کے متعلق تشویش اور بے یقینی جنگ کے بعد کے منظر نامے کا ایک صبر آزما حصہ ہوگئی۔
بہت سی زراعتی اقتصادیات بھی بحران کا شکار تھیں۔ گیہوں پیدا کرنے والوں کی حالت پر غور کیجیے۔ جنگ سے پہلے مشرقی یورپ، عالمی بازار میں گیہوں بھیجنے والا ایک اہم سپلائر تھا۔ جنگ کے زمانے میں جب اس سپلائی میں خلل پڑا تو کناڈا، امریکا اور آسٹریلیا میں گیہوں کی پیداوار میں بڑا حیرت انگیز اضافہ ہوا۔ جب ایک بار جنگ ختم ہوگئی تو مشرقی یورپ میں پیداوار از سر نو روبہ صحت ہوئی اس میں اضافہ ہوا اور پیداوار میں فراوانی ہوئی۔ اجناس کی قیمتوں میں گراوٹ آئی  دیہی آمدنیاں کم ہوئیں اور کسان قرضوں کے بوجھ تلے اور دب گئے۔

3.3 بڑے پیمانے پر پیداوار اور استعمال میں اضافہ

امریکہ میں بحالی کی رفتار نسبتاً تیز تھی۔ ہم یہ دیکھ ہی چکے ہیں کہ جنگ نے امریکی اقتصادیات میں بہتری لانے میں کس طرح مدد کی۔ جنگ کے بعد کے برسوں میں اقتصادی مشکلات کے ایک مختصر دور کے بعد بیسوی صدی کے اوائل میں امریکی اقتصادیات نے اپنی زور دار ترقی کا سلسلہ پھر شروع کیا۔
Capture15

شکل 21۔ Tماڈل کاریں فیکٹری کے باہر قطار میں کھڑی ہیں۔


بیسویں صدی کے امریکی اقتصادیات کا ایک اہم عنصر بڑے پیمانے پر پیداوار کا پہلو تھا۔ بڑے پیمانے پر پیداوار کا سفر انیسویں صدی کے آخر میں شروع ہوا تھا مگر بیسویں صدی میں یہ امریکہ میں صنعتی پیداوار کا خصوصی پہلو بن گیا۔ بڑے پیمانے پر پیداکرنے والے پہلے لوگوں میں کاریں بنانے والے معروف ہنری فورڈ تھے۔ انھوں نے Detroit میں اپنے نئے کار پلانٹ کے لیے شگاگو کے ایک مذبح خانے (جہاں رواں پٹی (Conveyor belt) سے آنے والے جانوروں کو قصائی ٹکڑوں میں کاٹتے تھے) کی اسمبلی لائن کو اپنے کام کے مطابق بنایا۔ انھوں نے اندازہ لگالیا کہ اسمبلی لائن کا طریقہ گاڑیاں بنانے کا ایک زیادہ تیز رفتار اور سستاطریقہ فراہم کردے گا۔ اسمبلی لائن نے مزدوروں کو ایک ہی کام کو میکانکی ڈھنگ اور تسلسل کے ساتھ دہرانے پر مجبور کردیا۔ مثلاً کار کے کسی ایک مخصوص حصے کو لگانا اور اس رفتار سے لگانا جس کا تعین رواں پٹی کرتی تھی۔ فی مزدور کارکردگی میں اضافہ کرکے پیداوار کو بڑھانے کا یہ ایک طریقہ تھا۔ رواں پٹی کے سامنے کھڑے ہوکر کوئی مزدور کام کی رفتار کو کم نہیں کرسکتاتھا، کام چھوڑ نہیں سکتا تھا۔ یہاں تک کہ ساتھی مزدور سے تھوڑی بہت بات تک نہیں کرسکتا تھا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ ہنری فورڈ کی کار تین منٹ کے وقفے کے بعد اسمبلی لائن سے نکل آتی تھیں۔ یہ رفتار پرانے طریقوں سے حاصل کی جانے والی رفتار سے کہیں زیادہ تیز تھی۔ فورڈ کی T-Model بڑے پیمانے پر بنائی جانے والی دنیا کی پہلی کار تھی۔
ابتدا میں ، فورڈ فیکٹری کے مزدور ان اسمبلی لائنوں پر کام کرنے کے دباؤ کو جھیلنے میں ناکام رہے جن میں وہ کام کی رفتار پر اپنا قابونہیں رکھ سکتے تھے، چنانچہ بڑی تعداد میں مزدوروں نے نوکری چھوڑدی۔ پریشان ہوکر فورڈ نے جنوری 1914 میں تنخواہیں دوگنی کرکے 5 ڈالر کردیں۔ اسی کے ساتھ اپنے کارخانوں میں ٹریڈ یونینوں کو بھی کام کرنے سے منع کردیا۔
ہنری فورڈ نے بڑھائی ہوئی تنخواہ کے اخراجات کو پورا کیا پروڈکشن لائن کی رفتار کو بار بار تیز کرکے اور مزدوروں کو پہلے سے زیادہ تیز رفتاری سے کام کرنے پر مجبور کرکے۔ جلدی ہی انھوں نے روزانہ اجرتوں کو دوگنا کرنے کے اپنے فیصلے کو ’’لاگت کم کرنے کا بہترین فیصلہ‘‘ کہا اور ایک ایسا فیصلہ جیسا انھوں نے پہلے کبھی نہیں لیا تھا۔
فورڈ کے صنعتی طریقے جلدی ہی امریکہ میں پھیل گئے۔ بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں ان کی نقل یورپ میں بھی ہوئی۔ بڑے پیمانے پر پیداوار کے ان طریقوں نے لاگت اور ان اشیاکی قیمت کو کم کردیا۔ اونچی اجرتوں کا پھل تھا کہ مزدوروں کی بڑی تعداد میں کار جیسی پائیدار چیزیں رکھنے کی استطاعت پیدا ہوگئی۔ امریکہ میں کار کا جوپروڈکشن 1919 میں بیس لاکھ تھا وہ 1929 میں بڑھ کر پچاس لاکھ ہوگیا۔ اسی طرح ریفریجریٹر ، واشنگ مشینوں، ریڈیو اور گراموفون کی خریداری میں زبردست اضافہ ہوا اور یہ سب کرائے پر خرید (hire-purchase) (ہفتہ وار اور ماہانہ قسطوں) کے طریقے پر عمل کرکے ہوا۔ ریفریجیریٹر اور واشنگ مشینوں کی مانگ میں گھروں کی تعمیر اور گھروں کے مالک بننے کے شوق نے بھی مہمیز لگائی۔ ان کاموں کے لیے بھی سرمایہ ایک بار پھر قرضوں نے فراہم کیا۔
1920 میں گھروں کی تعمیر اور استعمالی اشیا کی اس گرم بازاری نے امریکہ میں خوشحالی کی ایک بنیاد ڈال دی۔ گھروں کی تعمیر اور گھریلو اشیامیں سرمایہ کاری نے ایسا لگتا ہے کہ نوکریوں کے زیادہ مواقع اور زیادہ آمدنی استعمالی اشیاکی زیادہ مانگ، مزید سرمایہ کاری، مزید روزگار اور زیادہ آمدنیوں کا ایک چکر چلادیا۔
1923 میں امریکہ نے باقی دنیا میں سرمائے کی برآمد پھر شروع کی اور سمندر پار کا سب سے بڑا قرض دینے والا ملک بن گیا۔ امریکہ کی درآمدات اور سرمائے کی برآمدات نے اگلے چھے سال کے عرصے میں عالمی تجارت آمدنی میں اضافے اور یورپ کے روبہ صحت ہونے کے عمل کو بڑی توانائی بخشی۔
یہ سب بہرحال پائیدار ہونے کے لیے کچھ زیادہ ہی اچھا تھا۔  چنانچہ1929 میں دنیا ایک ایسی کساد بازاری کا شکار ہوگئی جس کا تجربہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔
Capture16
شکل  — 22. 1936 کی عظیم کساد بازاری کے دوران تارک وطن زراعتی مزدور کا خاندان بے گھر اور بھوکا۔ (لائبریری آف کانگریس، پرنٹس اور فوٹو گرافس ڈیویژن) کے شکریے کے ساتھ۔

باکس3 

اس تصویر کی کھینچنے والی فوٹو گرافر ڈراتھی لینگ نے کئی برس بعد وہ لمحات یاد کیے جب بھوکی ماں سے اس کی ملاقات ہوئی تھی۔
’’بھوکی اور مایوس ماں کو میں نے دیکھا اور اس کے پاس اس طرح گئی جیسے لوہے کا کوئی ذرہ مقناطیس کی طرف کھنچتا ہے … میں نے نہ اس کا نام پوچھا نہ اس کی کہانی سنی۔ اس نے مجھے اپنی عمر بتائی کہ وہ 32 سال کی ہے۔ اس نے کہا کہ وہ ( اور اس کے سات بچے) آس پاس کے کھیتوں سے حاصل کی ہوئی ٹھنڈی ترکاریوں پر اور ان چڑیوں پر گزارہ کررہے ہیں جنھیں بچے مارلاتے تھے … وہاں وہ بیٹھی ہوئی تھی … بچے اس کے آس پاس گھسے بیٹھے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ اسے معلوم ہے کہ میری تصویر یں اس کی کچھ مدد کرسکتی ہیں … اور اسی لیے اس نے میری مدد کی… (پاپولر فوٹوگرافی، فروری 1960)

3.4عظیم کساد بازاری

عظیم کساد بازاری 1929 کے قریب شروع ہوئی تھی اور 1930 کے وسط تک چلی۔ اس سارے عرصے میں دنیا کے اکثر حصوں میں پیداوار، روزگار، آمدنی اور تجارت میں تباہ کن زوال آیا۔ کسادبازاری کا وقت اور اس کا اثر الگ الگ ملکوں میں الگ الگ رہا۔ مگر عام طور پر زراعتی علاقے اور زراعتی سماج سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ زرعی قیمتوں میں گراوٹ بھی زیادہ تھی اور صنعتی اشیاکے مقابلے میں زیادہ طویل مدت تھی۔
یہ کساد بازاری متعدد عوامل کے اجتماعی اثر کا نتیجہ تھی۔ اس سے پہلے ہم نے دیکھا ہے کہ بعد از جنگ عالمی معیشت کتنی ناتواں اور کمزور تھی۔ اولاً فاضل زراعتی پیداوار ایک مسئلہ رہی، اور زرعی قیمتوں کی گراوٹ نے اسے بد سے بد تر بنادیا۔ قیمتیں گریں، اور زرعی آمدنیاں کم ہوئیں، کسانوں نے اپنی مجموعی آمدنی سے زیادہ پیداوار کو منڈی میں لانے کی کوشش کی۔ بازار میں افراط و تفریط کی حالت مزید ابتر ہوگئی، اس صورت حال نے قیمتوں کو اور نیچے دھکیلا۔ خریداروں کی کمی کی وجہ سے زرعی اشیاگل سڑگئیں۔
دوم: 1920 کے وسط میں بہت سے ملکوں نے اپنی سرمایہ کاری کے لیے سرمایہ امریکہ سے لیے ہوئے قرضوں سے فراہم کیا۔ حالات جب اچھے تھے امریکہ سے قرض لینا عموماً انتہائی آسان تھا۔ دشواریوں کی اولین علامتوں پر ہی امریکہ کے سمندر پار قرض دینے والے سراسیمہ ہوگئے۔ 1928 کے نصف اول میں سمندر پار امریکی قرضے ایک بلین ڈالر سے زیادہ کے تھے۔ ایک برس بعد یہ ایک چوتھائی بلین رہ گئے۔ وہ ممالک جو امریکی قرضوں پر بے پناہ انحصار کرتے تھے شدید بحران کا شکار ہوگئے۔
امریکی قرض دینے والوں کی دست کشی نے باقی دنیا پر اثر ڈالا مگر الگ الگ طریقوں پر۔ یورپ میں اس کا اثر بعض بڑے بینکوں کی ناکامی اور برٹش پاؤنڈ اسٹرلنگ جیسی کرنسیوں کے انہدام کی شکل میں نظر آیا۔ لاطینی امریکہ اور دوسری جگہوں پر اس نے زرعی اشیااور خام مال کی قیمتوں میں گراوٹ کی رفتار کو تیز کردیا۔ درآمدات پر ڈیوٹی کو دوگنا کرکے، کساد بازاری کے زمانے میں اپنی معیشت کا تحفظ کرنے کی امریکی کوشش نے عالمی تجارت کو ایک اور شدید دھکا پہنچایا۔
امریکہ کساد بازاری سے بڑی شدت سے متاثر ہونے والا صنعتی ملک بھی تھا۔ قیمتوں میں گراوٹ اور کساد بازاری کے امکانی عواقب کے پیش نظر امریکن بینکوں نے گھریلو قرضے دینے میں بھی کمی کی اور دیے ہوئے قرضوں کو واپس لینا بھی شروع کیا۔ فارمس اپنی فصلوں کو بیچ نہیں سکے، گھر بار تباہ ہوگئے اور کاروبار بیٹھ گیا۔ کم ہوتی ہوئی آمدنیوں کی دشواریوں سے پریشان بہت سے امریکی گھرانے اپنے قرضوں کو بھی ادا نہ کرسکے، نتیجتاً اپنے گھروں ، اپنی کاروں اور دوسرے پائیدار استعمالی سامان کو چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ خریداروں کی 1920 والی خوشحالی ہوا کے ایک جھونکے کی طرح دیکھتے دیکھتے غائب ہوگئی۔ بے روزگاری کے بڑھنے کی وجہ سے لوگوں نے کام کی توقع میں دور دراز کی مسافتیں طے کیں۔ آخر میں خود امریکہ کا بینکنگ نظام مسمار ہوگیا۔ لگائے ہوئے سرمائے کو واپس نہ لے سکنے، قرضوں کو وصول نہ کرسکنے اور روپیہ جمع کرانے والوں کو ادائیگی نہ کرسکنے کی وجہ سے ہزاروں بینک دیوالیے ہوگئے اور اپنا کاروبار بند کرنے پر مجبور ہوگئے۔ تعداد غیر معمولی ہے۔ 1933 تک چار ہزار سے زیادہ بینک بند ہوچکے تھے۔ 1929 اور 1932 کے درمیان ایک لاکھ دس ہزار کمپنیاں ختم ہوچکی تھیں۔
1935 ہوتے ہوتے اکثر صنعتی ملکوں میں ایک معقول اقتصادی بحالی کا آغاز ہوا۔ مگر سماج، سیاست، بین الاقوامی تعلقات اور لوگوں پر پڑنے والے کساد بازاری کے وسیع اثرات زیادہ دیرپا اور زیادہ صبر آزما ثابت ہوئے۔
Capture17

شکل 23 بے روزگاری بھتے کے لیے لوگ قطاریں لگاتے ہوئے۔

تصویر ذروتھی لینگ 1938 ۔ شکریہ ، لائبریری آف کانگریس
بے روزگاری مردم شماری نے جب بے روزگار لوگوں کی تعداد دس ملین دکھائی تو مقامی حکومت نے بے روزگاروں کو ایک چھوٹا سا الاؤنس دینا شروع کیا۔ ایسی قطاریں کساد بازاری کے زمانے کی بے روزگاری اور مفلسی کی علامت بن گئیں۔

3.5 ہندوستان اور عظیم کساد بازاری

اگر ہم کسادبازاری کے ہندوستان پر پڑنے والے اثرات پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ بیسویں صدی کے اوائل تک عالمگیر (گلوبل) اقتصادیات کتنی یک جان و یک جسم (Integrated) ہوچکی تھی۔ دنیا کے ایک حصے میں آنے والے کسی بحران کے جھٹکے چشم زدن میں، دنیا کے دوسرے حصوں میں محسوس ہونے لگتے تھے اور ان کے اثرات دنیا بھرمیں لوگوں کی زندگیوں کی اقتصادیات اور سماجوں پر پڑنے لگتے تھے۔ 
انیسویں صدی میں جیسا کہ آپ نے دیکھا ہے کہ نوآبادیاتی ہندوستان زرعی اشیا کا برآمد کرنے والا اور مصنوعات کا درآمد کرنے والا ملک بن گیا تھا۔ کساد بازاری نے ہندوستانی تجارت پر فوراً اثر ڈالا اور 1928 سے  1934 کے درمیان اس کی درآمدات تقریباً نصف ہوگئیں۔ جب   بین الاقوامی قیمتیں گریں تو ہندوستان میں بھی قیمتوں کا رخ نیچے کی طرف ہوگیا۔ 1928 سے 1934 کے درمیان ہندوستان میں گیہوں کی قیمتوں میں پچاس فی صدی کی کمی ہوگئی تھی۔
شہر کے لوگوں کے مقابلے میں کسانوں اور کاشتکاروں کو زیادہ پریشانیاں ہوئیں۔ زرعی قیمتیں اگرچہ بہت گریں مگر نوآبادیاتی حکومت نے لگان کے مطالبات میں تخفیف سے انکار کردیا۔ اس کا دھکا ان کاشتکاروں کو سب سے زیادہ لگا جو عالمی منڈیوں کے لیے اناج پیدا کررہے تھے۔
بنگال کی جوٹ کی پیداوار پر غور کیجیے۔ یہ لوگ خام جوٹ پیدا کرتے تھے۔ جسے برآمد کرنے کے لیے ٹاٹ کی بوریوں کی شکل کارخانوں میں دی جاتی تھی۔ مگر چوں کہ بوریوں کی برآمد کم ہوئی ، خام جوٹ کی قیمتوں میں ساٹھ فی صدی سے بھی زیادہ کی گراوٹ آئی۔ جن کسانوں نے بہتر وقتوں کی امید میں یا پھر زیادہ آمدنیوں کی توقع میں اپنی پیداوار کو بڑھانے کے لیے قرضے لیے تھے۔ انھیں انتہائی کم قیمتوں کا سامنا کرنا پڑا اور یہ لوگ قرض کے بوجھ کے نیچے دبتے ہی چلے گئے۔ بنگال کے جوٹ پیدا کرنے والوں کا نو حہ تھا:
بھائیو زیادہ جوٹ پیدا کرو، زیادہ نقدی کی توقع میں لاگت اور قرضے تمہاری امید وں کو چکناچور کردیں گے جب تم اپنا سارا دھن خرچ کرچکے ہوگے اور فصل کاٹ لی ہوگی۔
اپنے محلوں میں بیٹھے ہوئے تاجرتمھیں ایک من کے صرف پانچ روپیے دیں گے۔
ہندوستان بھر میں کسانوں پر قرض کے بوجھ بڑھ گئے۔ انھوں نے اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنی ساری بچت استعمال کرلی،ز مینیں رہن رکھ دیں، تھوڑے بہت جو زیورات اور قیمتی چیزیں تھیں بیچ دیں۔ کساد بازاری کے ان دنوں میں ہندوستان قیمتی دھاتوں ، خصوصاً سونا برآمد کرنے والا ہوگیا۔ مشہور ماہر اقتصادیات John Maynard Keynesکا خیال تھا کہ ہندوستان کی سونے کی برآمدات نے عالمی اقتصادی بحالی پیدا کی۔ انھوں نے برطانیہ کی بحالی کی رفتار کو تیز کرنے میں یقینا مدد کی مگر خود ہندوستان کے کسان کے لیے کچھ نہیں کیا۔ 1931 میں کساد بازاری کے عروج کے زمانے میں جب مہاتماگاندھی نے سِول نافرمانی کی تحریک شروع کی اس وقت دیہی ہندوستان بے چینی کے کرب میں تڑپ رہا تھا۔
کساد بازاری شہری ہندوستان کے لیے نسبتاً کم شدید ثابت ہوئی۔ گرتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے مقررہ آمدنیوں والے لوگ، بلکہ یوں کہیے کہ شہروں میں رہنے والے ان زمین داروں نے جن کو کرائے ملتے تھے اور متوسط طبقے کے تنخواہ دار ملازموں نے اپنے آپ کو کسی قدر بہتر حالات میں پایا۔ ہر چیز کی قیمت کم۔ نیشنلسٹ رائے کے دباؤمیں صنعتوں کو حکومت کے دیے ہوئے محصول کے تحفظ کی وجہ سے انڈسٹریل سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوا۔

تبالۂ خیال کیجیے

جوٹ اگانے والوں کے نوحے کے مطابق جوٹ کی کھیتی سے کسے فائدہ ہوتا ہے؟


4۔ عالمی معیشت کی تعمیر نو: بعد از جنگ عہد


دوسری عالمی جنگ، پہلی جنگ عظیم سے محض دو دہائی بعد شروع ہوگئی۔ یہ جنگ نازی جرمنی، جاپان،اٹلی (Axis Powers) اور برطانیہ ، فرانس، سوویت یونین،امریکہ (Allies Powers) کے درمیان لڑی گئی تھی۔ یہ ایک جنگ تھی جو چھے سال تک چلی بہت سی جگہوں پر، بہت سے محاذوں پر لڑی گئی، زمین پر، سمندر وں پر اور ہوا میں۔
ایک بار پھر جاں کا زیاں اور تباہی و بربادی بے حساب تھی۔ خیال ہے کہ کم از کم چھے کروڑ لوگ، 1939کی عالمی آبادی کے تین فیصدی لوگ، براہ راست یا بالواسطہ مارے گئے اس کے علاوہ لاکھوں کروڑوں لوگ زخمی ہوئے۔
پچھلی جنگوں کے برعکس، ان اموات میں سے زیادہ اموات میدان جنگ سے باہر ہوئیں۔جنگ سے متعلق دوسرے بہت سے اسباب کی بنا پر سپاہیوں سے زیادہ عام شہری مارے گئے۔ یورپ اور ایشیا کے وسیع و عریض علاقے اجڑ گئے، بہت سے شہر ہوائی بمباری اور توپوں کے گولوں کی مسلسل بارش سے تباہ و برباد ہوگئے۔ جنگ کی وجہ سے بے پناہ اقتصادی بربادی اور زبردست سماجی افراتفری ہوئی۔ تعمیر نو کا کام طویل بھی تھا اور دشوار بھی۔
بڑے اہم اثرات نے جنگ کے بعد کی تعمیر نو کی صورت کا تعین کیا۔ پہلا تو مغربی دنیا میں امریکہ کا ایک غالب اقتصادی ، سیاسی اور فوجی قوت کی طرح سامنے آنا تھا۔ دوسرا اثر سوویت یونین کی فوقیت۔ اس نے نازی جرمنی کو ہرانے کے لیے بڑی قربانیاں دی تھیں اور اپنے آپ کو ایک پسماندہ زرعی ملک کی جگہ ایک عالمی قوت میں بدل لیا تھا اور یہ سب اس نے اُن برسوں میں کیا تھاجب سرمایہ دار دنیا عظیم کساد بازاری کے جال میں پھنسی ہوئی تھی۔

Capture18

شکل — 24.  جرمن فوجیں روس پر حملہ کرتی ہیں، جولائی 1941۔ روس میں ہٹلر کے داخلے کی کوشش جنگ میں ایک کانٹے کا موڑ تھی۔


Capture19

شکل — 25. سویت روس میں، جنگ سے تباہ اسٹالن گراد


4.1  بعد از جنگ سیٹلمنٹ اور برٹین و وڈس ادارے

دو جنگوں کی درمیانی مدت کے معاشی تجربات سے ماہرین اقتصادیات اور سیاست دانوں نے دو بنیادی سبق لیے۔پہلا سبق یہ کہ بڑے پیمانے کی پیداور (Mass production) کی بنیاد پر ایک سماج کو بڑے پیمانے پر استعمال (Mass consumption) کے بغیر قائم نہیں رکھا جاسکتا۔ لیکن بڑے پیمانے پر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے اونچی اور مستحکم آمدنیوں کی ضرورت تھی۔ آمدنیاں اس وقت تک مستحکم نہیں ہوسکتیں جب تک نوکریاں مستحکم نہیں ہوتی ہیں لہٰذا مستحکم اور مستقل آمدنیوں کے لیے استوار اور مکمل روزگار کی ضرورت ہے۔
مگر بازار تن تنہا مکمل روزگار کی ضمانت نہیں لے سکتے۔ اس لیے قیمتوں ، پیداوار (output) اور روزگار میں آنے والے اتارچڑھاؤ کو کم کرنے کے لیے حکومتوں کو قدم رکھنا ہوگا۔ اقتصادی استحکام کو صرف حکومت کی دخل اندازی کے ذریعے یقینی بنایا جاسکتا ہے۔
دوسرے سبق کا تعلق ایک ملک کے باہری دنیا سے اقتصادی رشتوں سے ہے۔ مکمل روزگار کی منزل صرف اسی وقت پائی جاسکتی تھی جب اشیا سرمائے اور محنت (لیبر) کے بہاؤپر کنٹرول حکومت کے ہاتھ میں ہو۔
Capture20
شکل —26  برٹین ووڈس، امریکہ میں ماؤنٹ واشنگٹن ہوٹل  
یہی جگہ ہے جہاں مشہور کانفرنس ہوئی تھی۔

اس لحاظ سے ، جنگ کے بعد بین الاقوامی اقتصادی نظام کا اصل مقصد تھا صنعتی دنیا میں اقتصادی استحکام اور مکمل روزگار کو محفوظ رکھنا۔ اس کے دائرہ عمل کو منظوری جولائی 1944 میں برٹین ووڈس، ہیمپشائر امریکہ میں ہونے والی یونائیٹڈ اسٹیٹس مانیٹری انیڈ فائننشیل کانفرنس میں ملی تھی۔
برٹین ووڈس کانفرنس نے ، اپنے اراکین کے بیرونی فاضلات (Surpluses) اور خساروں سے نپٹنے کے لیے انٹرنیشنل مانٹری فنڈ (IMF) قائم کیا۔ انٹر نیشنل بینک فار ری کانسٹرکشن اینڈ ڈیولپمنٹ (عام طور پر ورلڈ بینک کے نام سے جانا جاتا ہے) قائم کیا گیا۔ جس کا مقصد جنگ کے بعد کی تعمیر نو کے لیے سرمایہ فراہم کرنا تھا۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک، برٹین و وڈس ادارے یا برٹین ووڈس کے توام (Twin) بھی کہلاتے ہیں۔ بعد از جنگ بین الاقوامی اقتصادی نظام بھی اکثر برٹین ووڈس سسٹم کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے اپنا مالیاتی کاروبار 1947 میں شروع کیا۔ ان اداروں میں فیصلے لینے کے معاملے میں کنٹرول مغربی صنعتی طاقتوں کا ہوتا ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے فیصلوں پر امریکہ ویٹو کا کارگر حق رکھتا ہے۔
بین الاقوامی مانیٹری سسٹم قومی کر نسیوں اور مانیٹری سسٹم کو باہم مربوط کرنے کا نظام ہے۔ برٹین ووڈس نظام کی بنیاد تبادلۂ زر کے مقررہ نرخوں پر تھی۔ اس نظام میں قومی کرنسیوں مثلاً ہندوستانی روپیے کو تبادلے کے ایک مقررہ نرخ سے جوڑا جاتا تھا۔ خود ڈالر سونے کی 35 ڈالر فی آئونس کی مقررہ قیمت سے وابستہ تھا۔

تبادلۂ خیال کیجیے

Inter war اقتصادیات سے ہونے والے تجربات سے ماہرین معاشیات اور سیاست دانوں نے کون سے سبق سیکھے۔ مختصر بیان کیجیے۔


4.2  جنگ کے بعد کے ابتدائی برس

برٹین ووڈس سسٹم نے مغربی صنعتی ملکوں اور جاپان کے لیے تجارت اور آمدنیوں کے فروغ و نشوونما کے ایک بے مثال عہد کا آغاز کیا۔ 1950 سے 1970 کے درمیانی وقفے میں عالمی تجارت 8فی صدی سالانہ کی شرح سے اور آمدنیاں تقریباً 5 فی صدی کے حساب سے بڑھیں۔ یہ نشوونما عموماً مستحکم تھی اور بڑے اتار چڑھاؤ نہیں تھے۔ اس زمانے کے زیادہ حصے میں، بے روزگاری کی شرح، اکثر صنعتی ملکوں میں اوسطاً 5 فی صدی سے کم رہی۔ ان دہاہیوں نے عالمی سطح پر ٹکنالوجی اور حوصلہ مند مہم جویئیوں کا پھیلاؤ بھی دیکھا۔ ترقی پذیر ممالک، ترقی یافتہ صنعتی ملکوں کے قدم سے قدم ملا کر چلنے کے لیے بیتاب تھے اور انھیں جلدی تھی۔ اسی لیے انھوں نے انڈسٹریل پلانٹس اور جدید ٹکنالوجی استعمال کرنے والے سازوسامان کی درآمد میں بڑی بڑی رقمیں لگائیں۔

باکس4

ملٹی نیشنل کارپوریشنز کیا ہیں؟

ملٹی نیشنل کارپوریشنز (MNCs) وہ بڑی کمپنیاں ہیں جو ایک ہی وقت میں بہت سے ملکوں میں کاروبار کرتی ہیں۔ پہلی ایم این سی 1920 میں قائم ہوئی تھیں۔ 1950 سے 1960 میں جب امریکی کاروبار دنیا بھر میں پھیلا، مغربی یورپ اور جاپان بھی طاقتورصنعتی اقتصادیات بننے کے بعد ایک بار پھر بحال ہوئے تو ایسی بہت سی کمپنیاں وجود میں آگئیں۔ عالمی سطح پر   ایم این سی کا پھیلنا 1950 سے 1960 کا قابل ذکر پہلو ہے۔ ایسا کچھ تو حکومتوں کے درآمدات پر لگائے گئے اس زیادہ محصول سے ہوا جس نے ایم این سی کو مجبور کردیا کہ وہ اپنے مصنوعاتی کاروبار کو صحیح جگہوں پر چلائیں اور جتنے زیادہ ملکوں میں ممکن ہو ڈومیسٹک پروڈویسر بن جائیں۔

نئے الفاظ 

 محصول (Tariff) ایک ملک کی درآمدات پر باقی دنیا کی طرف سے عائد کیے ہوئے محصول، محصول داخلے کے پوائنٹ پر یعنی سرحدیا ہوائی اڈے پر لیاجاتا ہے۔

4.3 نوآبادیوں کا خاتمہ اور آزادی و خود مختاری

جب دوسری عالمی جنگ ختم ہوئی اس وقت دنیا کے بہت سے حصے یورپ کی نوآبادیاتی حکومت کے ماتحت تھے۔ اگلی دو دہائیوں میں ایشیا اور افریقہ کی زیادہ تر نوآبادیات آزاد اور خودمختار ملک بن چکی تھیں۔ لیکن وہ بہر حال افلاس اور وسائل کی کمی کے بوجھ تلے بُری طرح دبی ہوئیں تھیں اور ان کی اقتصادیات اور ان کے سماج طویل عرصے تک نوآبادیاتی حکومتوں کے ماتحت رہنے کی وجہ سے بے پناہ دشواریوں سے معذور تھے۔
انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (IMF) اور ورلڈ بینک کو صنعتی ملکوں کی مالیاتی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے بنایا گیا تھا مگر سابق نوآبادیوں میں ڈیولپمنٹ کی کمی اور افلاس کے چیلنجز کامقابلہ کرنے کے لیے لیس نہیں تھے۔ چوں کہ یورپ اور جاپان نے اپنی اقتصادیات کو بڑی تیزی کے ساتھ ، سنبھال لیا تھا اس لیے IMF اور ورلڈ بینک پر ان کا انحصار کم ہوگیا تھا۔ لہٰذا 1950 کے آخر سے بریٹن ووڈس کے اداروں نے اپنی توجہ کو ترقی یافتہ ملکوں کی طرف موڑنا شروع کردیا۔
نوآبادیات کی حیثیت سے دنیا کے بہت سے کم ترقی کیے ہوئے علاقے مغربی سلطنتوں کاحصہ رہے تھے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ اپنے باشندوں کو افلاس ونکبت سے باہر نکالنے کے فوری دباؤ کے زیر اثر نئے نئے آزاد و خود مختار ہونے والے ملکوں کی حیثیت سے یہ بین الاقوامی ایجنسیوں کی رہنمائی میں آئے جن پر غلبہ سابق نوآبادیاتی قوتوں کا تھا۔ نوآبادیات کے ختم ہونے کے بہت برسوں بعد بھی سابق نوآبادکار قومیں اپنی سابق نوآبادیوں میں معدنیات اور زمین جیسے اہم وسائل پر اب بھی کنٹرول رکھتی تھیں۔
دوسرے طاقت ور ملکوں مثلاً امریکہ کی بڑی کارپوریشن نے بھی اکثر ترقی پذیر ملکوں کے قدرتی وسائل کے استحصال کے حقوق بڑی کم قیمت میں حاصل کرلیے۔
ساتھ ہی 1950 سے 1960 میں جس تیز رفتار ترقی کا تجربہ مغربی مماک کی اقتصادیات کو ہوا اس کا بھی کو ئی فائدہ ترقی پذیر ملکوں کو نہیں پہنچا۔ اسی لیے انھوں نے ایک نئے بین الاقوامی اقتصادی نظام (NIEO) کا مطالبہ کرنے کے لیے اپنے آپ کو ایک گروپ ستترکا گروپ (G-77) میں منظم کرلیا۔ NIEO سے ان کی مراد ایک ایسے نظام سے تھی جو انھیں اپنے قدرتی وسائل پر حقیقی کنٹرول عطا کرے گا۔ ترقیاتی کاموں کے لیے زیادہ امداد، خام مال کے لیے زیادہ منصفانہ قیمتیں اور ترقی یافتہ ملکوں کے بازاروں میں مصنوعات کی آسان دست رس کے مواقع دلائے گا۔

4.4 بریٹن ووڈس کا اختتام اور گلوبلائزیشن کا آغاز

پائیدار اور تیز رفتار ترقی کے کئی برسوں کے باوجود جنگ کے بعد کی دنیا میں سب خیریت ہی خیریت نہیں تھی۔ 1960کی دھائی سے امریکہ کی سمندرپار وابستگیوں (Involments) کی بڑھتی ہوئی لاگتوں نے امریکہ کی مالیات (finance) اور اس کی مقابلے کی صلاحیت کو کم زور کردیا۔ اب دنیا کی اہم کرنسی کی حیثیت سے ڈالر کا پہلا اعتماد اور اس کی سابقہ حیثیت باقی نہیں رہ گئی تھی۔ سونے کے تعلق سے یہ اپنی قدروقیمت کو بھی برقرار نہیں رکھ سکا۔ اس صورت حال کا نتیجہ بالاخر فکسڈ اکسچینج ریٹس کی شکست و ریخت اور فلوٹنگ اکسچینج ریٹس کے تعارف کی شکل میں نکلا۔
1970 کے وسط سے بین الاقوامی مالیاتی نظام میں بھی بڑی اہم تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئیں۔ پہلے ترقی پذیر ممالک قرضوں اور ترقیاتی امداد کے لیے بیرونی اداروں سے رجوع کرسکتے تھے۔ مگر اب وہ مغربی کمرشل بینکوں اور قرض دینے والے پرائیوٹ اداروں سے ادھار لینے پر مجبور تھے۔
اس صورت حال نے ترقی پذیر دنیا خصوصاً افریقہ اور لاطینی امریکہ میں وقتاً فوقتاً قرضوں، کم آمدنی اور بڑھی ہوئی مفلسی کے بحران پیدا کیے۔ صنعتی دنیا کو بھی بے روزگاری نے چوٹ پہنچائی۔ یہ بے روزگاری 1970 کے وسط سے شروع ہوئی اور اوائل 1990 تک رہی۔ 1970 کے آخری زمانے سے ملٹی نیشنل کارپوریشنوں نے بھی پیداوار ی کارروائیوں کو اُن ایشیائی ملکوں کی طرف منتقل کرنا شروع کردیا جہاں اجرتیں کم تھیں۔

فلوٹنگ اکسیچنج ریٹس کے نظام کی شروعات میں ظاہر ہوا

چین 1949 میں ہونے والے اپنے انقلاب کے بعد سے بعد از جنگ عالمی اقتصادیات سے الگ تھلگ رہا تھا۔ مگر چین کی نئی اقتصادی پالیسیوں اور سویت یونین اور مشرقی یورپ میں سویت انداز کے کمیونزم کا زوال بہت سے ملکوں کو دوبارہ عالمی اقتصادیات کے ساتھ واپس لے آیا۔
چین جیسے ملکوں میں اجرتیں نسبتاً کم تھیں۔ اس لیے عالمی منڈیوں پر قبضے کی خواہش مند ملٹی نیشنل کارپوریشنز کے لیے وہ سرمایہ کاری کے پسندیدہ مقامات بن گئے۔ کبھی آپ نے سوچا کہ زیادہ تر ٹی وی سٹس ، موبائل فون اور کھلونے جو ہم دوکانوں میں دیکھتے ہیں چین کے بنے ہوئے لگتے ہیں۔ اس کی وجہ چین کی اقتصادیات کا کم لاگت ڈھانچہ اور خصوصاً کم اجرتیں ہیں۔
کم اجرت ملکوں میں صنعت کی منتقلی نے عالمی تجارت اور سرمائے کے بہاؤکو توانائی بخشی۔ پچھلی دو دہائیوں میں دنیا کا اقتصادی جغرافیہ ہندوستان، چین، اور برازیل جیسے ملکوں میں تیز رفتار اقتصادی تبدیلیوں کی  وجہ سے بالکل بدل گیا ہے۔

نئے الفاظ

 شرح زر مبادلہ۔ یہ بین الا قوامی تجارت کے مقاصد کے   پیش نظر قومی کرنسیوں کو جوڑتی ہے۔ عموماً دو قسم کے اکسچینج ریٹس ہوتے ہیں۔ فکسڈ (جامد) اور فلوٹنگ (سیال) ۔ جامد اکسچینج ریٹس ، جب شرح مبادلہ جامد ہوتی ہے اور حکومتیں ان میں ہونے والی تحریک کو روکنے کے لیے دخل اندازی کرتی ہیں۔
 سیال شرح مبادلہ۔ یہ شرحیں فارن اکسچینج مارکٹ میں کرنسیوں کی مانگ اور سپلائی پر منحصر ہوتی ہیں۔ اصولی طور پر حکومت کی دخل اندازی کے بغیر۔

اختصار کے ساتھ لکھیے

1۔  مختلف قسموں کی دو گلوبل تبدیلیوں کی مثالیں دیجیے جو سترھویں صدی سے قبل ہوئیں۔ایک مثال ایشیا کی اور ایک امریکہ کی ہونا چاہیے۔
2۔  بتائیے کہ جدید دنیا سے قبل (Pre-modern world) کی دنیا میں عالمی انتقال امراض نے امریکہ کی نوآبادکاری میں کیسے مدد کی۔
3۔  مندرجہ ذیل کے اثرات پر وضاحتی نوٹ لکھیے۔
(a)  برطانوی حکومت کا Cron laws کو ختم کرنے کا فیصلہ۔
(b)  افریقہ میں طاعون (Rinder pest) کی آمد۔
(c) عالمی جنگ کی وجہ سے کام کرنے والی عمر کے لوگوں کی موت۔
(d)  ہندوستانی اقتصادیات پر عظیم کساد بازاری کا اثر۔
(e) پیداواری سرگرمیوں کو ایشیائی ملکوں میں منتقل کرنے کا ملٹی کارپوریشنز کا فیصلہ۔
4۔  تاریخ سے خوراک کی فراہمی پر ٹکنالوجی کے اثرات کی دو مثالیں دیجیے۔
5۔  بریٹن ووڈس معاہدہ سے کیا مراد ہے؟

تبادلۂ خیال کیجیے

6۔  تصور کیجیے کہ آپ کیری بین میں ایک ہندوستانی بندھوا مزدور ہیں، اس باب سے تفصیلات لیتے ہوئے اپنے اہل خاندان کو ایک خط لکھیے جس میں اپنی زندگی اور اپنے احساسات کے بارے میں بتائیے۔
7۔  بین الاقوامی اقتصادی اکسچینج میں بہاؤیا movements کی تین قسموں کی وضاحت کیجیے۔ ہر قسم کی ایک ایسی مثال بھی ڈھونڈیے جس کا تعلق ہندوستان اور ہندوستانیوں سے ہو۔
8۔  عظیم کساد بازاری کے اسباب بتائیے۔
9۔   G-77 ممالک سے کیا مراد ہے؟ وضاحت کیجیے۔ G-77 کو کس کس طرح بریٹن ووڈس توام کی کارگزاریوں کے رد عمل کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے؟

پروجکٹ

19 ویں صدی میں جنوبی افریقہ میں سونے اور ہیروں کی کان کنی کے بارے میں کچھ زیادہ معلومات حاصل کیجیے۔ سونے اور ہیروں کی کمپنیوں پر کس کا کنٹرول تھا؟ کان کن کون تھے اور ان کی زندگیاں کیسی تھیں؟