3
ایک عالمگیر دنیا کا بننا
1۔جدید دنیا سے پہلے کی دنیا
جب ہم گلوبلائزیشن کی بات کرتے ہیں تو ہم عموماً اس اقتصادی نظام کا ذکر کرتے ہیں جو لگ بھگ پچھلے پچاس برسوں میں معرض وجود میں آیا ہے۔لیکن جیسا کہ آپ اس باب میں دیکھیں گے کہ عالمگیر دنیا کے بننے کی ایک طویل تاریخ ہے۔تاریخ تجارت کی، کام کے متلاشی لوگوں کے ترک وطن کی، تاریخ سرمائے اور اسی طرح کی بہت سی دوسری چیزوں کی تاریخ۔جب ہم اپنی آج کی زندگیوں میں عالمگیر باہمی رشتوں اور اتصال باہم کی نشانیوں کے بارے میں سوچتے ہیں تب ہمارے لیے ان مرحلوں کو سمجھنا ضروری ہوجاتا ہے جن سے گزرکر یہ دنیا جس میں ہم رہتے ہیں وجود میں آئی ہے۔
ہماری ساری تاریخ میں انسانی سماج آتے رہے ہیں۔ بتدریج زیادہ منسلک ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کے زیادہ قریب۔ قدیم زمانے سے،سیاح،تاجر،مذہبی رہنما اور زائرین نے بڑے بڑے فاصلے طے کیے ہیں۔کبھی علم حاصل کرنے کے لیے،کبھی بہتر مواقع کی تلاش میں۔کبھی تسکین روحانی کی جستجو میں یا کبھی ظلم وجور سے بچنے کے لیے۔یہ لوگ اپنے ساتھ سامان بھی لے کر چلے،روپیہ،اقدار،مہارتیں ،نظریات وخیالات ،ایجادات حتی کہ جراثیم اور بیماریوں نے بھی ان کے ساتھ سفر کیا۔آج سے بہت پہلے تین ہزار سال(ق م)ایک سرگرم تجارت نے وادیٔ سندھ کی تہذیب کو آج کے مغربی ایشیا سے متعارف کرادیاتھا۔ایک ہزار برس سے کچھ زیادہ ہی پہلے مالدیپ کی کوڑیاں(کرنسی کی حیثیت سے استعمال ہوتی تھیں)چین اورمشرقی افریقہ پہنچ چکی تھیں۔بیماریوں کے جراثیم کی طویل مسافتوں کا سراغ ساتویں صدی تک ملتا ہے۔سترہویں صدی تک آتے آتے یہ رابطہ واضح اور ناقابل تردید ہوچکا تھا۔

شکل1گوا کے میوزیم میں ایک یادگاری پتھر پر پانی کے ایک جہاز کی شبیہ۔دسویں صدی
نویں صدی سے جہازوں کی ایسی شبیہیں مغربی ساحل میں،یادگاری پتھروں پر ملتی ہیں جو بحری تجارت کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔
1.1ریشمی راستے(Silk Routes)دنیا کو ملاتے ہیں۔
ریشمی راستے عہد جدید سے قبل دنیا کے دوردراز حصوں کے تجارتی اور ثقافتی باہمی رشتوں کی اچھی مثالیں ہیں۔یہ نام ،اس راہ سے مغرب کی طرف جانے والے چین کی سلک کے سامان کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔تاریخ دانوں نے متعدد ریشمی راستوں کی شناخت کی ہے۔برّی بھی اور بحری بھی۔ایشیا کے وسیع وعریض علاقوں کو ایک دوسرے سے ملاتے ہوئے اور خود ایشیا کو یورپ اور شمالی افریقہ سے مربوط کرتے ہوئے۔کہتے ہیں کہ یہ راستے عہد عیسیٰ(Chriest Era)سے قبل بھی تھے اور تقریباًپندرہویں صدی تک چلتے رہے۔چین کے بنے ہوئے ظروف بھی اسی راستے لے جائے گئے اور بدلے میں قیمتی دھاتیں—سونا اور چاندی یورپ سے ایشیا لائے گئے۔
تجارت اور ثقافتی لین دین ہمیشہ ہی دست بدست رہے ہیں۔ابتدائی چینی مشنریوں نے ایشیا پہنچنے کے لیے یقینا اس راستے کو استعمال کیا تھا،چند صدیوں بعد مسلمان مبلغین نے بھی اسی راہ کو اپنایا۔اور اس سب سے بہت پہلے مشرقی ہندوستان سے بدھ ازم نکلا اور ریشمی راستے کے مختلف چوراہوں اور دوراہوں سے ہوتا ہوا مختلف سمتوں میں پھیل گیا۔

شکل2۔سلک روٹ تجارت جس طرح آٹھویں صدی کی ایک Caveپیٹنگ میں دکھائی گئی ۔غار نمبر217موگاؤگروٹو،گانسو، چین۔
1.2غذاؤں کے سفر—اسپگیٹی اورآلو
غذائیں،طویل فاصلوں کے تہذیبی لین دین کی بہت سی مثالیں پیش کرتی ہیں۔تاجر اور سیاح جن سرزمینوں پر گئے وہاں انھوں نے نئی فصلوںکو متعارف کرایا۔دنیاکے دوردراز حصوں میں،تیار(ready)کھانے کے سامانوں کی بھی مشترکہ اساس ہوسکتی ہے ۔اسپگیٹی اور نوڈلُس ہی کو دیکھیے۔خیال ہے کہ نوڈلس چین سے مغرب میں پہنچے اور اسپگیٹی کانام پایا۔یا شاید عرب سیاح پاستا(pasta)کو پانچویں صدی کے سسلی (ایک جزیرہ جواب اٹلی میں ہے) میں لے گئے۔ ایسی ہی غذائیں ہندوستان اور جاپان میں بھی جانی پہچانی تھیں۔اسی لیے ان غذاؤں کی ابتدا اور ان کے آغاز کی حقیقت سے شاید پردہ کبھی نہ اٹھ سکے۔پھر بھی اس طرح کی قیاس آرائیاں ،جدید دنیا سے قبل کی دنیا میں طویل فاصلوں والے ثقافتی رابطوں کے امکانات کی طرف اشارہ ضرور کرتی ہیں۔
پانچ سوبرس قبل تک ہمارے اجداد کوآلوسویابین،مونگ پھلی، مکئی، ٹماٹر ، مرچ ،چقندر وغیرہ جیسی کھانے کی اشیا کی کوئی واقفیت نہیں تھی۔ کرسٹو فر کو لمبس کی، وسیع وعریض برصغیر جو بعد کو امریکہ کہلایا اتفاقیہ دریافت کے بعد ہی یورپ اور امریکہ میں یہ غذائی اشیا متعارف ہوئیں(یہاں ہم شمالی امریکہ جنوبی امریکہ اور کیری بیّن کوبیان کرنے میں’امریکا‘استعمال کریں گے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہماری عام غذائی اشیاامریکہ کے اصل باشندوں یعنی امریکن انڈین کے یہاں سے آئیں۔
بسا اوقات نئی فصلیں(پیداواریں) موت اور زندگی کے درمیان فرق کا سبب بنتی تھیں۔آلو کے آنے سے یورپ کے غریبوں نے بہتر کھانا شروع کیا اور طویل زندگیاں گزارنے لگے۔آئرلینڈ کے انتہائی مفلوک الحال کسانوں کی غذا کا آلو پر انحصار کچھ ایسا بڑھا کہ جب وسط1840میں بیماریوں نے آلو کی فصل کو تباہ کیا تو سینکڑوں ہزاروں لوگ بھوک سے مر گئے۔

شکل3۔وینس اور اورینٹ کے تاجر اشیا کا تبادلہ کرتے ہوئے۔مارکوپولو‘بک آف مارویلس۔پندرھویں صدی۔

شکل—4آئرلینڈکا آلو قحط،السٹریٹیڈ لندن نیوز،1849۔
بھوکے بچے ایک ایسے کھیت میں آلو ڈھونڈتے ہوئے جس میں فصل کاٹی جا چکی تھی اور کھیت صاف کیا جاچکا تھا۔1845اور 1849کے درمیان ہونے والے آئرش آلو قحط میں ایک لاکھ افراد جاں بحق ہوئے اور دوگنی تعداد نے کاروبار کی تلاش میں ترک وطن کیا۔
باکس1
’حیاتیاتی‘جنگ؟
نئے الفاظ
تبادلۂ خیال کیجیے
1.3فتوحات،بیماریاں اور تجارت
سولہویں صدی میں جب یوروپی ملاحوں نے ایشیا کے لیے ایک بحری راستہ دریافت کیا اور امریکہ تک پہنچنے کے لیے مغربی سمندر کو کامیابی کے ساتھ پارکیا تو جدید دنیا سے قبل (Pre—modern) کی دنیا بہت سکڑگئی،چھوٹی ہوگئی صدیوں پہلے،بحرہند کو اشیا ، افراد،معلومات ،رسوم اوررواج وغیرہ کی چہار طرف آتی جاتی ایک پر جوش تجارت کا تجربہ تھا۔اس بہاؤ میں ہند کے برصغیر کی مرکزی حیثیت تھی اور ان بحری راستوں کے جال میں اس کا ایک اہم مقام تھا—یورپ کے لوگوں کی آمدنے اس بہاؤ کو وسیع تر بنانے اور ان میں سے کچھ کو یورپ کی طرف موڑنے میں مدد کی۔
’دریافت‘سے قبل امریکہ لاکھوں برس سے باقی دنیا سے باقاعدہ رابطوں سے محروم تھا۔مگر سولھویں صدی کے بعد سے اس کی وسیع وعریض زمینوں ،اس کی وافر فصلوں اور اس کی معدنیات نے ہر جگہ تجارتی کاروبار اور زندگیوں کو بدلنا شروع کردیا۔
موجود پیرو اور میکسیکو میں واقع قیمتی دھاتوں،خصوصاً چاندی کی کانوں نے یورپ کی دولت میں اضافہ کیا اور ساتھ ہی ایشیا کے ساتھ اس کی تجارت کے لیے سرمایہ بھی فراہم کی۔سترہویں صدی میں امریکہ کی فراواں دولت کی کہانیاں چہار طرف پھیل گئیں۔بے شمار مہمیں سونے کے معروف شہر ’ایل ڈورا ڈو‘کی تلاش وجستجو میں شروع ہوگئیں۔
سولہویں صدی کے وسط تک،امریکہ کی نوآبادکاری اور اس کی فتح کی پرتگالی اور اسپینی کاروائیاں بڑے قطعی انداز میں شروع ہوچکی تھیں۔یورپ کی فتح وکامیابی محض ان کی اسلحہ کی قوت کا نتیجہ نہیں تھی۔درحقیقت اسپینی فاتحین کا سب سے زیادہ طاقت ورہتھیار کوئی روایتی ہتھیار بالکل نہیں تھا۔یہ ہتھیار چیچک جیسے امراض کے جراثیم تھے جو وہ اپنے ساتھ لائے تھے۔طویل علاحدگی کی وجہ سے امریکہ کے اصلی باشندے یورپ سے آنے والی ایسی بیماریوں سے مامون ومحفوظ رہنے کی کوئی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔چیچک خاص طورپر مہلک ثابت ہوئی۔یہ مرض جب ایک دفعہ آگیا تو کسی یوروپین کے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی یہ برصغیر(Continent)کے کونے کو نے میں پہنچ گیا۔اس نے ساری کی ساری کمیونیٹیز کو بلاک کیااور فتح کے لیے راہ ہموار کردی۔بندوقیں خریدی جاسکتی ہیں چھینی جاسکتی ہیں اور ان کا رخ دراندازوں کی طرف موڑا جاسکتا ہے مگر چیچک جیسی بیماریوں کے کہ زیادہ تر فاتحین جن سے محفوظ رہنے کی صلاحیت رکھتے تھے، رخ اس طرح موڑے نہیں جاسکتے تھے۔
19ویں صدی تک مفلسی اور بھوک یورپ میں بڑی عام تھی۔شہرگنجان تھے اور مہلک بیماریاں ہر طرف پھیلی ہوئی تھیں۔مذہبی تنازعات تھے اور عقائد سے گریزاں افراد کو آزارپہنچائے جاتے تھے۔اسی لیے ہزاروں لوگ یورپ چھوڑ کر امریکہ کی طرف بھاگے۔اٹھارہویں صدی آتے آتے یہاں افریقہ میں پکڑے ہوئے غلاموں سے کاشت کی جانے والی زمینیں،یورپی منڈی کے لیے کپاس اور گنا اگانے لگیں۔
اٹھارہویں صدی میں چین اور ہندوستان دنیا کے امیر ترین ملکوں میں سے تھے۔یہ ایشیا کی تجارت میں بھی برتر اور نمایاں تھے۔بہرحال،پندرہویں صدی عیسوی سے کہتے ہیں کہ چین نے سمندر پار رابطوں کو کم کردیااور علاحدگی کی طرف مراجعت کی۔چین کے اس تخفیف شدہ رول اور امریکہ کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے عالمی تجارت کے مرکز کو مغرب کی جانب دھکیل دیا۔اب عالمی تجارت کے مرکز کی حیثیت سے یورپ سامنے آیا۔

شکل —5غلام برائے فروخت۔نیوآرین،السٹریٹیڈ نیوز،1851۔
ایک امکانی خریدار نیلام کی لائن میں کھڑا ہوا غلاموں کی جانچ پڑتال کررہا ہے۔آپ اونچی ٹوپیوں اور سوٹ میں ملبوس سات مردوں اور چارعورتوں کو اور ان کے ساتھ دو بچوں کو دیکھ سکتے ہیں جو اپنے بکنے کا انتظار کررہے ہیں۔خریداروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے غلام اکثر اپنے بہترین کپڑے پہنتے تھے۔
2۔انیسویں صدی(1815—1914)
انیسویں صدی میں دنیا بے پناہ بدل گئی۔اقتصادی،سیاسی،سماجی،ثقافتی اور ٹکنالوجیکل عوامل نے سماجوں کو تبدیل کرنے اور بیرونی تعلقات کو نئی شکل دینے کے لیے بڑے پیچیدہ طریقوں سے باہمی تفاعل(Interatcion)کیا۔
ماہرین اقتصادیات نے بین الاقوامی مبادلوں مین تین قسم کی حرکات یا لہروں کی نشان دہی کی۔پہلی لہر تجارت کی جس کا تعلق انیسویں صدی میں زیادہ تر اشیا(جیسے کپڑا یا گیہوں )کے کاروبارسے تھا۔دوسری لہر مزدوروں(Labour)کی ہے۔ملازمت کی تلاش میں لوگوں کا ترک وطن۔تیسری لہر ہے،دوردراز مقامات میں طویل اور قلیل مدتی سرمایہ کاری کے لیے سرمائے کی نقل وحرکت۔
یہ تینوں لہریں ایک دوسرے سے گتھی ہوئی تھیں اور انھوں نے لوگوں کی زندگیوں پر ہمیشہ سے کہیں زیادہ اثرڈالا تھا۔یہ داخلی رشتے کبھی کبھی منقطع بھی کیے جاسکتے تھے۔مثال کے طورپر مزدوروں کا ترک وطن اشیا اور سرمائے کے بہاؤکے مقابلے میں اکثر زیادہ پابنداور محدود تھا۔لیکن پھر بھی ان تینوں لہروں پر بحیثیت مجموعی نظرڈالنا،انیسویں صدی کی عالمی اقتصادیات کو سمجھنے میں ہماری بڑی مدد کرتا ہے۔
2.1عالمی اقتصادیات کی ایک شکل وجود میں آتی ہے۔
صنعتی یورپ میں غذا کی پیداوار اور اس کے استعمال کی بدلتی ہوئی صورت حال بات شروع کرنے کے لیے سب سے زیادہ مناسب مقام ہے۔روایتی طور پر ممالک خوراک کے معاملے میں خود کفیل ہونا پسند کرتے تھے۔مگر انیسویں صدی کے برطانیہ میں خوراک میں خود کفالتی کا مطلب پست معیار زندگی اور سماجی کشمکش تھا۔ایسا کیوں تھا؟
اٹھارہویں صدی کے نصف آخر سے برطانیہ میں اضافہ آبادی نے غلے کی مانگ بڑھادی تھی۔جوں جوں شہری مراکز بڑھے اور صنعت میں فروغ ہوازرعی پیداواروں کی مانگ بھی بڑھی اور ساتھ ہی اجناس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔زمیندارگروہوں کے دباؤ سے حکومت نے بھی غلے کی درآمد پر پابندیاں لگادیں۔جو قوانین حکومت کو ان پابندیوں کا اختیار دیتے تھے۔ وہ’Corn Laws‘کہلاتے تھے۔اشیائے خوردنی کی زیادہ قیمتوں سے ناراض ہو کر صنعت کاروں اور شہروں میں رہنے والوں نے’Corn Laws‘کو زوردے کر ختم کرادیا۔
اس قانون کے ختم ہونے کے بعد اشیائے خوردنی برطانیہ میں ملک کی داخلی پیداوار کے مقابلے میں زیادہ سستی قیمتوں پر درآمد ہوسکتی تھیں۔نتیجتاً برطانیہ کی زراعت درآمدات کا مقابلہ کرنے کے لائق نہیں رہی۔آراضی کے بڑے بڑے قطعے بے جوتے بوئے رہ گئے اور مرد اور عورتیں کام سے نکال دی گئیں۔ان لوگوں نے شہروں کا رخ کیا یا پھر سمندرپار ترک وطن۔
جیسے جیسے اشیائے خوردنی کی قیمتیں گریں۔برطانیہ میں ان کا استعمال بڑھ گیا۔برطانیہ میں وسط انیسویں صدی سے ہونے والی تیز رفتار صنعتی ترقی زیادہ آمدنیوں کی طرف لے گئی اور نتیجتاً غذا کی درآمد کی طرف۔دنیامیں چاروں طرف،مشرقی یورپ،روس،امریکہ اور آسٹریلیا میں زمینیں تیار کی گئیں اوربرطانیہ کی مانگوں کو پورا کرنے کے لیے غذائی پیداوار کو وسعت دی گئی۔
زراعت کے لیے زمینوں کا تیار کیاجانا ہی کافی نہیں تھا۔ریلوں کے ذریعے زرعی علاقوں کو بندرگاہوں سے ملانا ضروری تھا۔مال برداری کے لیے نئی گودیوں کی تعمیر اور پرانی گودیوں میں توسیع کرنا ضروری ہوگیا تھا۔اگر زمینوں کو زیر کاشت،لانا تھا تو وہاں لوگوں کی رہائش کا اہتمام بھی لازمی تھا۔اس کا مطلب تھا گھروں اور بستیوں کی تعمیر۔ان سب سرگرمیوں کے لیے سرمائے اور مزدوروں کی ضرورت تھی۔
سرمایہ تو لندن کے مالیاتی مرکزوں سے آگیا۔جیسے امریکہ اور آسٹریلیا جیسی جگہوں سے جہاں مزدور خود ہی کم تھے مزدوروں کی مانگ نے ترک وطن کو مزید بڑھادیا۔
19ویں صدی میں یورپ سے ترک وطن کرکے تقریباً پانچ کروڑ لوگ امریکہ اور اسٹریلیا گئے۔
اگر ساری دنیا میں دیکھا جائے تو تقریباً ایک ارب پانچ کروڑ(150 million)لوگوں نے ایک بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنے گھروں کو چھوڑا ،سمندروں کو پارکیا،خشکی میں طول طویل فاصلوں کو طے کیا۔

شکل6۔تارکین وطن کا جہاز امریکہ کے لیے روانہ ہورہا ہے۔ایم ۔ڈبلیو رڈلے،1869

شکل7۔آئرلینڈ کے تارکین وطن جہاز پر سوار ہونے کے انتظار میں۔از مائیکل فرٹزجیرالڈ،1874
اس طرح1890تک ایک عالمی(گلوبل)زراعتی اقتصادیات وجود میں آچکی تھی اور اپنے جلومیں مزدوروں کی نقل وحرکت ،سرمائے کے بہاؤ،ماحولیات اور ٹکنالوجی کے انداز میں بڑی پیچیدہ تبدیلیاں لائی تھی۔خوراک اب پاس کے گائوں یا قصبے سے نہیں بلکہ ہزاروں میل دورسے آتی تھی۔اب اسے ایسا کسان نہیں پیدا کرتا تھا جو اپنی زمین خود جوتتا بوتاتھا،اس کے بجائے اسے ایک زرعی مزدور پیداکرتا تھا جس کی آمد شاید ابھی ابھی ہوئی تھی اور جو کسی بڑے فارم پر کام کرتا تھا۔فارم جو محض ایک نسل پہلے بہت امکان ہے کہ کوئی جنگل رہا ہوگا۔سامان اب ان ریلوں کے ذریعے بھیجااور لایا جاتا تھا جو اسی مقصد کے لئے چلائی گئی تھیں۔اب وہ جہاز اس سامان کو ڈھونڈتے تھے جن میں جنوبی یورپ کے کم اجرت پانے والے مزدور کام کرتے تھے۔
سرگرمی
ایک چارٹ بنائیے جس میں دکھائیے کہ برطانیہ کا خوراک درآمد کرنے کا فیصلہ امریکہ اور آسٹریلیا کے لیے ترک وطن کا محرک بنا۔
سرگرمی
ایسی ہی کچھ ڈرمائی تبدیلی،اگرچہ نسبتاً چھوٹے پیمانے پر،گھرکے قریب پنجاب میں ہوئی۔یہاں ہندوستان کی برطانوی حکومت نے بیکار پڑی ہوئی نیم ریگستانی زمین کو زرخیز زراعتی زمین بنانے کے لیے آب پاشی کی نہروں کا ایک جال بچھادیاتاکہ ان زمینوں میں برآمد کرنے کے لیے گیہوں اور کپاس اگایا جاسکے۔کینال کالونیوں میں(جن علاقوں میں آب پاشی ان نہروں سے ہوئی وہ اسی نام سے پکاری جاتی تھیں) جوکسان آباد ہوئے وہ پنجاب کے دوسرے علاقوں کے تھے۔
غذا تو محض ایک مثال ہے،ایسی ہی کہانی کپاس کے بارے میں بھی سنائی جاسکتی ہے جس کی کاشت،برطانیہ کے ٹکسٹائل ملوں کو خام مال مہیا کرنے کے لیے ساری دنیا میں بڑھ گئی۔پھر ربرہے،اشیا کی پیداوار میں علاقائی تخصیص(Regional Specialization)کا فروغ اس تیزی سے ہوا کہ 1820اور1914کے درمیان،خیال ہے کہ عالمی تجارت پچیس سے چالیس گنا تک بڑھ گئی۔اس تجارت کا تقریباً ساٹھ فی صدی حصہ پرائمری پروڈکس،پرمشتمل تھا۔جن میں گیہوں اور کپاس جیسی زرعی پیداواریں اور کوئلے جیسی معدنی پیداواریں شامل تھیں۔
2.2ٹکنالوجی کا رول
اس سب میں ٹکنالوجی کا رول کیاتھا؟مثال کے طورپر ریلویز،دخانی جہاز،ٹیلی گراف بڑی اہم ایجادات تھیں،جن کے بغیر ہم انیسویں صدی کی بدلی ہوئی دنیا کاتصور نہیں کرسکتے۔مگر ٹکنالوجی کی ترقیاں عموماً زیادہ بڑے سماجی،سیاسی اور اقتصادی عوامل کے نتائج ہوتی تھیں۔مثلاً نوآبادکاری نے نئی سرمایہ کاری کی ہمت افزائی کی اور ذرائع نقل وحمل کو بہتر بنانے کی تحریک پیدا کی غذائی اشیا کو زیادہ،سستے داموں اور سرعت کے دوردراز فارموں سے منڈیوں تک پہنچایا۔

شکل —8اسمتھ فیلڈ کلب مویشی نمائش۔السٹریٹیڈ لندن نیوز،1851۔
کسانوں کے لائے ہوئے برائے فروخت مویشی میلوں میں بیچے جاتے تھے۔لندن میں سب سے پرانا مویشیوں کا بازار اسمتھ فیلڈ میں تھا۔انیسویں صدی کے وسط میں انڈے مرغی اور گوشت کا بازار ،اسمتھ فیلڈ کو گوشت سپلائی کرنے والے تمام مراکز کو ملانے والی ریلوے لائن کے قریب قائم ہوا۔
گوشت کی تجارت اس مربوط ومنسلک عمل کی اچھی مثال ہے۔1870تک زندہ جانور جہازوں کے ذریعے امریکہ سے یورپ بھیجے جاتے تھے جہاں پہنچنے کے بعد انہیں ذبح کیاجاتاتھا۔مگر زندہ جانور جہاز میں جگہ بہت گھیرتے تھے۔بہت سے جانور راستے ہی میں مر بھی جاتے تھے،بیمار ہوجاتے تھے دبلے ہوجاتے تھے جس کی وجہ سے ان کاوزن بھی کم ہوجاتاتھا یاپھر کھانے کے قابل ہی نہیں رہتے تھے۔نتیجتاً گوشت کھانا ایک ایسی قیمتی عیاشی بن گیا تھا جو یورپ کے غریب لوگوں کی استطاعت سے باہر تھی۔زیادہ قیمتوں نے اس وقت تک پیداوار کو بھی کم رکھاجب تک کہ ایک نئی ٹکنالوجی دریافت نہیں ہوگئی۔یعنی ریفریجریٹیڈ جہاز نہیں بن گئے جنہوں نے گلنے ،سڑنے اور خراب ہوجانے والی اشیا کو بغیر خراب ہوئے دوردراز مقامات تک بھیجنے کے کام کو آسان بنادیا۔
اب جانور اپنے نقطۂ آغاز پر یعنی امریکہ،آسٹریلیا یا نیوزی لینڈ ہی میں ذبح ہونے لگے اور انھیں یخ بستہ (Frozen) گوشت کی شکل میں یورپ بھیجا جانے لگا۔اس طریقے نے مال برداری پر آنے والی لاگت کو بھی کم کیا اور یورپ میں قیمتیں بھی کم ہوگئیں۔یورپ کا غریب آدمی بھی اب متنوع غذائیں استعمال کرنے کے لائق ہوگیا روٹی اور آلو کی پچھلی یکسانیت کے بجائے اب لوگ اگرچہ سب نہیں، اپنے کھانے میں گوشت(اور مکھن اورانڈے)کا اضافہ کرسکتے تھے۔زندگی کے نسبتاً بہترحالات نے ملک کے اندر سماجی امن وامان کو فروغ دیااور بیرون ملک امپیریل ازم کے لیے حمایت پیدا کی۔

شکل9۔گوشت جہاز پرلادا جارہاہے۔الگزینڈرا۔السٹریٹیڈ لندن نیوز، 1878۔
گوشت کی برامدات صرف اسی وقت ممکن ہوسکیں جب جہازوں کو ٹھنڈا(refrigerated)بنایا گیا۔
2.3آخر انیسویں صدی کا نوآبادیات
19ویں صدی کے اواخر میں تجارت پھلی پھولی اور بازاروں میں وسعت پیدا ہوئی مگر یہ زمانہ صرف وسیع تجارت اور بڑھی ہوئی خوشحالی کا نہیں تھا۔اس بات کا احساس بہت ضروری ہے کہ اس سارے عمل کا ایک تاریک پہلو بھی تھا۔دنیا کے بہت سے حصوں میں،تجارت کی وسعت اور عالمی معیشت سے قریبی رشتوں کا مطلب آزادیوں میں کمی اور روزگار میں تخفیف بھی تھا۔آخری انیسویں صدی کی یوروپی کامیابیوں نے بہت سی تکلیف دہ اقتصادی،سماجی اور ماحولیاتی تبدیلیاں پیدا کیں جن کے سائے میں نوآبادیاتی سماج عالمی اقتصادیات کے دائرے میں لائے گئے۔
افریقہ کے نقشے پر نظرڈالیے(شکل10)آپ دیکھیں گے کہ بعض ملکوں کی سرحدیں توسیدھی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ انھیں فٹ رول رکھ کر بنایا گیاہے۔حقیقت یہی ہے کہ تقریباً یہی طریقہ تھا جس سے حریف یورپی طاقتوں نے افریقہ میں اپنے علاقوں کی نشاندہی کے لیے سرحدوں کا تعین کیا۔1885میں افریقہ کو آپس میں تقسیم کرنے کے لیے بڑی یورپی طاقتوں نے ایک میٹنگ کی۔برطانیہ اور فرانس نے آخر انیسویں صدی میں اپنے سمندر پار علاقوں میں بڑے بڑے اضافے کیے۔بلجیم اور جرمنی نئی نوآبادکار قومیں بن گئے۔امریکہ بھی بعض ان کالونیوں پر قبضہ کرنے کے بعد جن پر پہلے اسپین کا قبضہ تھا،ایک نوآبادیاتی قوت بن گیا۔
آئیے ہم اس تباہ کن اثر کی ایک مثال دیکھیں جو نوآبادیات نے اپنے زیر اثر آنے والی کالونیوں کے عوام کی معیشت اور ان کے روزگار پر ڈالا۔

شکل10۔انیسویں صدی کے آخرمیں نوآبادیات افریقہ کا نقشہ
باکس2
سرہنری مورٹن اسٹینلے،مرکزی افریقہ میں اسٹینلے ایک صحافی ‘محقق اور کھوجی تھا جسے نیویارک ہیرالڈ نے لیونگسٹن کی تلاش میں بھیجا تھا۔لیونگسٹن ایک مشنری اور محقق تھا جو کئی برسوں تک افریقہ میں رہا تھا۔اس زمانے کے دوسرے یوروپین اور امریکی محققوں کی طرح اسٹینلے بھی وہاں ہتھیاروں کے ساتھ گیاتھا۔ اس نے مقامی شکاریوں، سپاہیوں اور مزدوروں کو اپنی مدد کے لیے جمع کیا۔مقامی قبیلوں سے لڑائیاں لڑیں،افریقی سرزمین کی تفتیش کی اور مختلف علاقوں کی نقشہ کشی کی۔ان تحقیقات نے افریقہ کی فتح میں مدد کی۔ اِس جغرافیائی تحقیقات کی محرک سائنسی معلومات کی معصوم وبے ضرر تلاش وجستجو نہیں تھی،ان کا براہِ راست تعلق امپریل منصوبوں سے تھا۔

شکل—11سرہنری مورٹن اسٹینلے اور ان کے خدام مرکزی افریقہ میں۔السٹریٹیڈ لندن نیوز،1871۔
2.4رائنڈرپسٹ(Rinder pest) یامویشیوں کا پلیگ
1890کی دہائی میں افریقہ میں تیز رفتاری سے پھیلنے والی پلیگ کی وبا نے لوگوں کے روزگاراورمقامی اقتصادیات پربھیانک اثرات ڈالے۔نوآبادیاتی سماجوں پریورپی امپیریلزم کے دور رس اثرات کی یہ ایک اچھی نظیر ہے۔
یہ نظیر ہمیں دکھاتی ہے کہ فتوحات کے اس عہد میں مویشیوں پر اثر انداز ہونے والی ایک بیماری بھی کس طرح ہزاروں لوگوں کی زندگیوں اور ان کے مقدّرات کو نئی شکل وصورت عطا کرتی ہے اور باقی دنیا سے ان کے تعلقات کی ازسر نو تشکیل کرتی ہے۔
تاریخی طورپر،افریقہ کے پاس فراواں زمین تھی اور آبادی نسبتاً مختصر۔صدیوں تک زمین اورمویشیوں نے افریقیوں کی روزی روٹی کا وسیلہ فراہم کیا تھا اور لوگوں نے اجرت کے لیے شاذ ونادر ہی کام کیا تھا۔آخر انیسویں صدی کے افریقہ میں معدودے چند ہی ایسی استعمالی اشیا تھیں جنھیں اجرتوں کی آمدنی سے خریدا جا سکتا تھا۔اگر آپ زمین اور مویشی رکھنے والے افریقی ہوتے اورایسے لوگ بہت تھے،تو آپ نے بھی اجرت کی خاطر کام کرنے کا کوئی جواز نہ دیکھا ہوتا۔

شکل12۔ٹرانسوال کی سونے کی کانوں تک نقل وحمل۔
ٹرانسوال کی ان کانوں تک نقل وحمل کا سب سے تیز رفتار طریقہWilgeدریا کو پار کرنا تھا۔وِٹ واٹرس رینڈمیں سونے کی دریافت کے بعد یورپی لوگ بیماری اور موت کے خدشے اور سفر کے مصائب کے باوجود اس علاقے کی طرف جھپٹ پرے 1890کی دہائی تک سونے کی عالمی پیداوار میں افریقہ کا حصہ لگ بھگ بیس فیصدی تھا۔
انیسویں صدی کے آخری زمانے میں یورپی لوگوں کی دلچسپی افریقہ میں وہاں کی وافر زمین اور وہاں کی معدنیات کے وسائل کو دیکھ کرہوئی۔ باغات(Plantation)اور کانیں قائم کرنے اور فصلوں کی پیداوار اور معدنیات یورپ بھیجنے کی توقعات لے کر افریقہ آئے تو وہاں ایک غیر متوقع مسئلہ سامنے تھا۔اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کی قلت کا مسئلہ۔
ملازم رکھنے والوں نے،مزدوروں کی بھرتی اور انھیں کام پر لگائے رکھنے کے لیے بہت سے طریقے اپنائے۔بھاری بھاری ٹیکس لگائے کہ جن کی ادائیگی صرف باغات اور کانوں میں اجرت پر کام کرنے کے بعد ہی کی جاسکتی تھی۔وراثت کے قانون بدلے گئے تاکہ کسانوں کو زمین سے بے دخل کیاجاسکے۔ورثے میں زمین پانے کا حق خاندان کے صرف کسی ایک فرد کو دیاگیا ۔جس کے نتیجے کے طورپر خاندان کے دوسرے لوگ مزدور منڈیوں کی طرف جانے پر مجبور ہوئے ۔کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو بھی ان کے احاطوں میں رکھاجاتا تھا انھیں ادھر ادھر آزادانہ گھومنے پھرنے کی جازت نہیں تھی۔
پھرrinderpestکی وباآئی۔یہ مویشیوں کی ایک تباہ کن بیماری ہے افریقہ میں مرض 1880کی دہائی کے آخری زمانے میں آیا۔یہ وبا افریقہ میں،برٹش ایشا سے درآمد کیے ہوئے ان متاثر مویشیوں کے ذریعے تھی جو مشرقی افریقہ میں ایریٹریا(Eritea)پر حملہ کرنے والے اطالوی سپاہیوں کو کھلانے کے لیے لائے جاتے تھے۔مشرق کی سمت سے افریقہ میں داخل ہونے والی یہ بیماری مغرب کی طرف جنگل کی آگ کی طرح پھیلی۔اور 1902میں افریقہ کے اٹلانٹک ساحل تک پہنچ گئی۔پانچ سال بعد یہ افریقہ کے انتہائی جنوبی کنارے کیپ(Cape)پہنچ گئی۔راہ میں اس نے نوے فیصد مویشیوں کی جانیں لے لیں۔
مویشیوں کے اس اتلاف نے افریقہ کے ذرائع معاش کو تباہ کرکے رکھ دیا۔اپنی قوت کو مزید مستحکم کرنے اور افریقیوں کو مزدوری کے بازار میں آنے پر مجبور کرنے کے لیے باغبانوں (Planters)کانوں کے مالکوں اور نوآبادیاتی حکومتوں نے بچے کھچے مویشیوں کو بڑی کامیابی کے ساتھ اپنی جاگیر بنالیا۔ مویشیوں کے بچے کھچے محدود وسائل پر کنٹرول نے یورپی نوآبادکاروں کو افریقہ پر فتح پانے اور اسے تابع اور مطیع بنانے کے لائق کردیا۔
19ویں صدی کی دنیا کے دوسرے حصوں میں مغرب کے فتوحات کے اثرات کی ایسی داستانیں اور بھی سنائی جاسکتی ہیں۔

شکل13۔ساؤتھ افریقہ میں ٹرانس وال میں سونے کی کانوں میں کان کن— گریفک، 1875۔
نئے الفاظ
2.4ہندوستان سے بندھوا مزدور ترک وطن
ہندوستان سے بندھوا مزدوروں کے ترک وطن کی مثال انیسویں صدی کی دنیا کی دوپہلو فطرت کی توضیح بھی کرتی ہے۔یہ دنیا تیزرفتار اقتصادی ترقی کی دنیا تھی اور ساتھی ہی عظیم مصائب کی دنیا بھی تھی کچھ لوگوں کے لیے زیادہ آمدنیاں کچھ کے لیے افلاس بعض علاقوں میں ٹکنالوجیکل ترقیاں اور دوسرے علاقوں میں نوع بہ نوع ظلم وجبر۔
انیسویں صدی میں ہندوستان اور چین کے ہزاروں لاکھوں مزدور،دنیا بھر میں،باغات (Plantation) اورکانوںمیں اورریل کی پٹریوں اور سڑکوں کی تعمیر کے پروجیکٹوں میں کام کرنے کے لیے گئے۔بندھوا مزدوروں سے ایک معاہدے کے تحت اپنے مالک کے باغات پر پانچ سال کام کرنے کے بعد ہندوستان واپس جانے کے لیے کرایہ دیے جانے کا وعدہ ہوتا تھا۔
زیادہ تر بندھوا مزدور آج کے مشرقی اترپردیش،بہار،سنٹرل انڈیا اور تامل ناڈو کے خشک علاقوں سے آتے تھے۔وسط انیسویں صدی میں ان علاقوں نے بہت سی تبدیلیاں دیکھیں ۔ گھریلو صنعتوں پر زوال آیا،زمینوں کے کرائے بڑھ گئے۔ باغوں اور کانوں کے لیے زمینیں صاف کی گئیں۔ ان سب باتوں کا غریب کی زندگی پر اثر پڑا‘وہ اپنے کرائے ادا نہیں کرسکے، بے پناہ مقروض ہوئے اور کام کی تلاش میں ترک وطن پر مجبور ہوگئے۔
ہندوستان کے ان بندھوا مزدوروں کی منزل زیادہ ترک کیربین جزائر (خصوصاً ترینیداد،گویانا اور سورینام)ماریشس اور فیجی تھیں۔گھر سے قریب تامل تارکین وطن سیلون اور ملایاگئے۔بندھوا مزدور آسام میں چائے کے باغات کے لیے بھی بھرتی کیے گئے۔

شکل14۔ہندوستانی بندھوا مزدور ترینڈاڈمیں کوکو کے باغات میں۔اوائل انیسویںصدی۔
تبادلۂ خیال کیجیے
یہ بھرتی مالکوں کے مقرر کیے ہوئے ان ایجنٹوں کے ذریعے ہوتی تھی جنھیں کچھ کمیشن بھی ملاکرتاتھا۔بہت سے تاریکین وطن افلاس کا مقابلہ کرنے اور اپنے گاؤوں میں ہونے والے جبروظلم سے بچنے کی توقع کے ساتھ کام کرنے پر تیار ہوجاتے تھے۔مستقبل میں ترک وطن کرنے والے لوگوں کو ایجنٹس،جگہ ،سفر کے طریقوں ،کام کی نوعیت اور قیام وکام کے حالات سے متعلق غلط معلومات فراہم کرکے بھی ورغلاتے تھے۔اکثر اوقات تو تاریکن وطن کو یہ بھی نہیں بتایاجاتاتھا کہ انہیں طول طویل بحری سفر کرنا ہے۔بسااوقات ایسا بھی ہوتا تھاکہ ترک وطن پر راضی نہ ہونے والوں کو یہ ایجنٹ اغوا بھی کرلیتے تھے۔
انیسویں صدی کے پابند بنانے والے ان معاہدوں کو ’’غلامی کا ایک نیانظام‘‘بھی کہاجاتا تھا۔باغات کی جگہوں پر بھیجنے کے بعد مزدوروں کو وہاں کے حالات اپنے سوچے ہوئے حالات سے بالکل مختلف نظرآتے تھے۔کام اور رہنے کے حالات انتہائی تکلیف دہ ہوتے تھے اور آئینی حقوق برائے نام تھے۔
لیکن ایسے حالات میں زندہ رہنے کے لیے مزدوروں نے خود اپنے ڈھنگ دریافت کیے۔ان میں سے بہت سے جنگلوں کی طرف بھاگے،اگرچہ پکڑے جانے کے بعد سزائیں شدید تھیں۔دوسرے تھے جنھوں نے اظہار ذات کے لیے نجی اور اجتماعی نئے طور طریقے ایجاد کرلیے جن میں انھوں نے نئے اور پرانے ثقافتی انداز ہم آہنگ کیے۔ترینیداد میں محرم کے سالانہ جلوس کو انھوں نے عوامی تفریح کا یک موقع بنادیا،جسے نام دیا ’حوسے‘(امام حسین کی رعایت سے)کا۔اور جن میں تمام نسلوں اور تمام مذاہب کے مزدور شریک ہوئے۔اسی طرحRastafarianismکا باغی مذہب (جسے جمائیکا کے معروف راگی باب مارلے نے شہرت بخشی)کے بارے میں کہاجاتا تھا کہ اس میں کیری بین جانے والے ہندوستانی تاریکین وطن سے سماجی اور تہذیبی رشتوں کا پرتو نظرآتا تھا۔ترینیداد اور گویانا کا مقبول ’چٹنی میوزک‘بھی بندھوا مزدوری کے تجربے کے بعد کا ایک دوسرا معاصر تخلیقی اظہار تھا۔ثقافتی اتصال کی یہ شکلیں اس عالمی دنیاکی تشکیل کا حصہ ہیں جہاں مختلف مقامات کی اشیا باہم آمیز ہوتی ہیں،اپنی اساسی خصوصیات کو ترک کرتی ہیں اور ایک کوئی بالکل نئی چیز ہوجاتی ہیں۔

شکل —15بندھوا مزدوروں کی پہچان کے لیے ان کی تصویریں کھنچیں۔
مالکان کے لیے نام نہیں تعداد زیادہ اہم تھی۔
اکثر بندھوا مزدور اپنے معاہدوں کے ختم ہونے کے بعد بھی ٹھہرجاتے تھے یا ہندوستان میں کچھ دن گزارنے کے بعد اپنے نئے گھروں کو پھرواپس آجاتے تھے۔اسی وجہ سے ان ملکوں میں ہندوستانی نژاد افراد کی متعدد کمیونیٹیز موجود ہیں۔کیاآپ نے نوبل انعام یافتہ ادیب وی ایس نائپال کا نام سنا ہے؟آپ میں سے بعض لوگ ویسٹ انڈیز کے کرکٹ کے کھلاڑی شیو نارائن چندر پال اور رام نریش سراون کے کارناموں سے واقف ہوں گے۔اگر آپ کو ان ناموں میں ہندوستانیت کی ایک مبہم سی جھنکار سنائی دیتی ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ لوگ ہندوستان سے وہاں جانے والے تارکین وطن بندھوا مزدوروں کے اخلاف ہی میں سے ہیں۔
1900کے بعد سے ہندوستان کے نیشنلسٹ لیڈروں نے بندھوا مزدور ترک وطن کے نظام کو توہین آمیز اور ظالمانہ نظام کہہ کر اس کی مخالفت کی۔1921میں اسے ختم کردیاگیا۔مگر پھر بھی بعد کی کئی دہائیوں تک ہندوستانی بندھوا مزدوروں کے اخلاف جنھیں’قلی‘کہاجاتاتھا،کیری بیّن جزائر میں ایک بے آرام اقلیت رہے۔نائی پال کے بعض ابتدائی ناولوں میں بیگانگی اور زیاں کے احساس کی عکاسی ملتی ہے۔

شکل16۔بندھوا مزدور کا ایک کانٹریکٹ فارم
2.5 ہندوستانی مہم جو کاروباری بیرونی ملکوں میں
عالمی منڈی کے لیے غذا اور دوسری فصلیں پیدا کرنے کے لیے سرمائے کی ضرورت تھی۔بڑے بڑے Plantations توبینکوں اور منڈیوں سے ادھار لے سکتے تھے۔مگر معمولی کسان؟ ہندوستانی بینکرس سامنے آتے ہیں۔کیا آپ شکار ی پوری شرافوں اور نتّو کوٹائی چٹیاروں کوجانتے ہیں؟یہ لوگ بینکرس اور تاجروں کے ان بہت سے گروہوں میں تھے جنھوں نے مرکزی اور جنوب مشرقی ایشیا میں زرعی برآمدات کے لیے سرمایہ فراہم کیا۔انھوں نے اس کام میں یا تو خود اپنے روپے لگائے یا پھر یوروپین بینکوں سے قرضے لیے۔دوردراز مقامات تک روپیہ منتقل کرنے لیے کے ان کے پاس نہایت نفیس نظام تھا۔انھوں نے شراکتی (Corporate) تنظیموں کے دیسی طریقے تک نکال لیے تھے۔
ہندوستانی تاجراورروپیہ ادھار دینے والے بھی یورپی نوآبادکاروں کے پیچھے پیچھے افریقہ پہنچے حیدرآبادی سندھی تاجروں نے بہرحال یورپی کالونیوں سے آگے تک کی ہمت کی۔دنیا بھر میں معروف بندرگاہوں پر بڑی بڑی پھلتی پھولتی دکانیں کھولیں۔جن میں مقامی اور درآمد کیے ہوئے نوادارات اُن سیاحوں کے ہاتھ بیچے جاتے جن کی تعداد بھی،محفوظ اور آرام دہ مسافر کشتیوں کی وجہ سے روزبروز بڑھتی جارہی تھی۔
ماخذ A
ایک بندھوا مزدور کا بیان
ایک بندھوا مزدور رام نرائن تیواری کے بیان کا اقتباس،جس نے اوائل بیسویں صدی میںDemeraraپر دس برس گزارے۔
’…اپنی بے انتہا کوششوں کے باوجود میں ان کاموں کو ٹھیک سے نہیں کرسکا جو میرے سپرد کیے گئے تھے…چند ہی دنوں میں میرے ہاتھ اوپر سے نیچے تک چھل گئے اور میں ایک ہفتے تک کام پر بھی نہیں جاسکا۔اس کوتاہی پر مجھے سزا ملی اور مجھے چودہ دن کے لیے جیل بھیج دیاگیا۔نئے تارکین وطن بھی ملے ہوئے کاموں کو انتہائی سخت پاتے تھے اور انھیں ایک دن میں پورا نہیں کرسکتے تھے۔کام اگر قابل اطمینان نہیں سمجھاجاتا تھا تو اجرتوں میں کٹوتی کی جاتی تھی۔اسی لیے بہت سے لوگ اپنی پوری اجرت کبھی کما نہیں پائے۔اور انھیں مختلف طریقوں سے اور بھی سزائیں ملتیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ مزدوروں کو معاہدے کا اپنا زمانہ مزید تکلیفوں میں گزارنا ہوتاتھا…‘
(ماخذ:ڈیپارٹمنٹ آف کامرس اینڈ انڈسٹری—ایمی گریشن برانچ1916)
2.6ہندوستانی تجارت ،نوآبادیات اور گلوبل نظام
تاریخ کہتی ہے کہ ہندوستان میں پیدا کی جانے والی اعلیٰ درجے کی کپاس یورپ برآمد کی جاتی تھی۔انڈسٹریلائزیشن کے ساتھ ہی برطانوی کپاس کی پیداوار میں وسعت شروع ہوئی اور صنعت کاروں نے کپاس کی درآمدات کو محدود کرنے اور مقامی صنعت کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے حکومت پر زور ڈالا۔برطانیہ میں درآمد کیے جانے والے کپڑے پر محصول لگائے گئے نتیجتاً بہترین ہندوستانی کپاس کی آمد میں انحطاط آنا شروع ہوگیا۔
19ویں صدی کے اوائل سے برطانوی کارخانہ داروں نے بھی اپنے کپڑے کے لیے سمندرپار منڈیوں کی تلاش شروع کردی۔برطانوی منڈیوں سے خارج ہندوستانی کپڑے کو دوسری بین الاقوامی منڈیوں سے زبردست مقابلہ کرناپڑا۔اگر ہم ہندوستان سے ہونے والی برآمدات کے اعداد وشمار پر نظرڈالیں تو ہم سوتی کپڑے میں ہندوستانی حصے میں مسلسل کمی دیکھیں گے۔برآمدات جو1800 میں30فیصدی تھیں وہ1815میں گھٹ کر محض15فیصدی رہ گئیں۔اور 1870تک یہ تناسب گرکر تین فیصدی سے بھی کم رہ گیا۔

شکل17۔ایسٹ انڈیا کمپنی ہاؤؤس،لندن—یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی عالمی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔
پھر ہندوستان نے کیا برآمد کیا؟اعدادوشمار ایک بار پھر بڑی حیرت ناک کہانی کہتے ہیں۔مصنوعات کی برامد میں اگر تیز رفتار زوال آیا تو خام مال کی برآمد میں اسی تیز رفتاری سے اضافہ ہوا۔ 1812 اور1871کے درمیان خام کپاس کی برآمد 5فیصدی سے بڑھ کر 35فیصدی ہوگئی۔کپڑے کو رنگنے میں کام آنے والا نیل اگلی کئی دہائیوں میں دوسری اہم برآمدی شئے تھی۔اورجیسا کہ آپ نے پچھلے برس پڑھاہے کہ انیسویںصدی کی دوسری دہائی میں چین کو ہونے والی افیون کی سپلائی میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا تھا اور وہ کچھ عرسے کے لیے ہندوستان کی واحد سب سے بڑی برآمد بن گئی تھی۔برطانیہ نے ہندوستان میں افیون کی پیداوار چین کو برآمد کی اور اس فروخت سے ہونے والی رقم سے اس نے چین سے چائے اور دوسری درآمدات کے لیے سرمایہ فراہم کیا۔

شکل18۔سورت اور اس کے دریاکا ایک منظر (دورسے) پوری سترہویں صدی اور اوائل اٹھارہویں صدی میں، سورت مغربی بحرہند میں سمندر پار تجارت کا خاص مرکز رہا۔
19ویں صدی میں ہندوستان کے بازاروں میں برطانوی مصنوعات کی بھرمارہوگئی ہندوستان سے برطانیہ اور باقی دنیا میں اجناس اور خام مال کی برآمدات بڑھ گئیں۔مگر برطانیہ سے ہندوستان آنے والے سامان کی قیمت ہندوستان سے برطانیہ جانے والے سامان کی قیمت سے کہیں زیادہ تھی۔اس طرح برطانیہ کو ہندوستان سے ایک ٹریڈسرپلس حاصل تھا۔برطانیہ نے اس سرپلس سے دوسرے ملکوں سے ہونے والی اپنی تجارت کے خسارے میں توازن پیدا کیا۔دوسرے ملکوں سے مراد وہ ممالک ہیں جن سے برطانیہ درآمدات زیادہ کررہا تھا اور اپنا مال ان کے ہاتھ فروخت کم کررہا تھا۔ہمہ فریق معاہدوں کانظام اسی طرح کام کرتا ہے۔یہ ایک ملک کو دوسرے ملک کے ہاتھوں ہونے والے خسارے کی بھرپائی کسی تیسرے ملک کے ساتھ اپنے کاروبار میں ملنے والے سرپلس سے کرنے کی اجازت دیتا ہے اپنے خسارے کو متوازن بنانے میں برطانیہ کی مدد کرکے،ہندوستان نے آخر انیسویں صدی کی عالمی اقتصادیات میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔
ہندوستان میں برطانوی تجارتی سرپلس نے ان نام نہاد’Home Charges‘ کی ادائیگی میں بھی مدد کی جن میں ارسال کردہ وہ نجی رقوم بھی شامل تھیں جو برطانوی حکام اور تاجر اپنے گھروں کو بھیجتے تھے اورہندوستان کے بیرونی قرض کے سود کی ادائیگی اورہندوستان میں برطانوی حکام کی پنشن بھی شامل تھی۔

شکل19۔وہ تجارتی راستے جنھوں نے انیسویں صدی کے آخر میں ہندوستان کو دنیا سے جوڑا
3۔ جنگوں کی درمیانی مدت میں اقتصادی حالت
3.1 زمانۂ جنگ کی تبدیلیاں

شکل —20 پہلی جنگ عظیم کے دوران ایک اسلحہ فیکٹری جنگ کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ہتھیاروں کی پیداوار تیزی سے بڑھی۔
3.2 بعد از جنگ صحت یابی
3.3 بڑے پیمانے پر پیداوار اور استعمال میں اضافہ

شکل 21۔ Tماڈل کاریں فیکٹری کے باہر قطار میں کھڑی ہیں۔

باکس3
3.4عظیم کساد بازاری

شکل 23 بے روزگاری بھتے کے لیے لوگ قطاریں لگاتے ہوئے۔
3.5 ہندوستان اور عظیم کساد بازاری
تبالۂ خیال کیجیے
4۔ عالمی معیشت کی تعمیر نو: بعد از جنگ عہد

شکل — 24. جرمن فوجیں روس پر حملہ کرتی ہیں، جولائی 1941۔ روس میں ہٹلر کے داخلے کی کوشش جنگ میں ایک کانٹے کا موڑ تھی۔

شکل — 25. سویت روس میں، جنگ سے تباہ اسٹالن گراد
4.1 بعد از جنگ سیٹلمنٹ اور برٹین و وڈس ادارے
