Skip to content
hidustan or asri dunya Chapter-4

4


صنعتیت کا عہد


Capture21

شکل —1 صدی کی صبح ،ناشر:  ای۔ ٹی پال میوزک کمپنی، نیویارک، انگلینڈ۔ 1900۔


1900 میں ایک مشہور میوزک پبلشر ای ٹی پال نے موسیقی کی ایک کتاب شائع کی جس کے سرورق پر ایک تصویر تھی، عنوان تھا صدی کی صبح، (شکل۱) جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ تصویر کے بیچ میں کسی دیوی کی سی ایک تصویر ہے۔ ترقی کا فرشتہ ، نئی صدی کا پرچم لیے ہوئے۔ وہ پروں والے ایک پہیے پر بڑی نزاکت کے ساتھ کھڑی ہے۔ پہیا وقت کی علامت ہے۔ اس کی پرواز اسے مستقبل کی طرف لیے جاری ہے ۔ اس کے چاروں طرف ہوا میں تیرتی ہوئی ریلیں، کیمرہ ، مشینیں ،چھاپہ خانے اور فیکٹری ترقی کی علامتیں ہیں۔


نئے الفاظ

مشرق(orient) ۔بحرروم کے مشرق کے ممالک ۔ عموماً مراد ایشیا سے ہوتی ہے۔ اصطلاح مغرب کے اس نقطہ نظرکے تحت بنی ہے کہ یہ علاقہ جدیدیت سے قبل کا ہے، روایت پسند ہے اور پُر اسرار ہے


مشینوں اور ٹکنالوجی کی یہ عظمت ایک دوسری تصویر میں اور زیادہ نمایاں ہے جو سوسال سے زیادہ پہلے ایک تجارتی میگزین میں شائع ہوئی تھی (شکل 2) اس تصویر میں دو جادوگر دکھائے گئے ہیں۔ ایک جو اوپر ہے علاالدین مشرق (orient) سے ہے جس نے اپنے جادوئی چراغ کی مدد سے ایک شاندار محل بنایا۔ نیچے جو تصویر ہے وہ آج کے (modern) میکنیک کی ہے، جو اپنے جدید اوزاروں سے ایک نیا سحر بُنتاہے۔ پل بناتا ہے، جہاز بناتا ہے مینار اور بلند و بالا عمارتیں تعمیر کرتا ہے۔ علاءالدین کو مشرق اور ماضی کی نمائندگی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جب کہ مکینک مغرب اور جدیدیت کا نمائندہ ہے۔

یہ شبیہیں نئی دنیا  (Modern World) کو ایک بڑی کامیاب و کامران دنیا کی شکل میں ہمارے سامنے پیش کرتی ہیں۔ اس شکل میں دنیا کا تعلق تیز رفتار ٹکنالوجیکل تبدیلیوں اور اختراعات سے ہے، مشینوں اور فیکٹریوں ، ریلوے اور دفاعی جہازوں سے ہے۔ اس لیے صنعتیت کی تاریخ سیدھی سادھی فروغ و نشوونما کی کہانی ہوجاتی ہے اور عہد جدید، ٹکنالوجیکل ترقیوں کے ایک حیرت انگیز زمانہ کی طرح ہمارے سامنے آتا ہے ۔ 

یہ شبیہیں اور یہ رشتے اب عوامی تخیل کا حصہ بن گئے ہیں۔ کیا آپ تیز رفتار صنعتیت کو ترقی اور جدیدیت کا زمانہ نہیں سمجھتے ؟ کیا آپ ریلوں فیکٹریوں کی فراوانی اور فلک بوس عمارتوں اور پلوں کو سماج کی ترقی کی علامت نہیں سمجھتے؟ 

یہ شبیہیں بنیں کیسے؟ اور ہم ان خیالات و تصورات کو باہم ہم آمیز کیوں کر کرتے ہیں؟ کیا صنعتیت کی بنیاد ہمیشہ تیز رفتارٹکنالوجیکل ترقی رہی ہے؟کیا ہم تمام کاموں کے مسلسل میکنائزیشن کے گن آج بھی گاسکتے ہیں؟ لوگوں کی زندگیوں کے حوالے سے صنعتیت کا مطلب کیا رہا ہے؟ ان سوالوں کے جوابات کے لیے ہمیں صنعتیت کی تاریخ کے اوراق پلٹنے ہوں گے۔ اس باب میں ہم پہلے صنعتی ملک برطانیہ پر اپنی توجہ مرکوز کرکے اس تاریخ کو دیکھیں گے۔ پھر ہندوستان پر نظر ڈالیں کہ جہاں صنعتی تبدیلیوں پر نو آبادیاتی حکومت کا سایہ رہا ہے۔


Capture22

شکل. —2  دو جادوگر، ان لینڈ پرنٹرس میں شائع ہوئی، 26جنوری 1901


سرگرمی

دو ایسی مثالیں دیجیے جوجدید فروغ و نشوونما اورترقی سے منسلک رہی ہیں اور مسائل پیدا کیے ہیں۔ 

آپ ماحولیاتی مسائل، نیوکلیر ہتھیاروں اور بیماریوں کے موضوعات کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔


1۔صنعتی انقلاب سے پہلے

ہم عموماً صنعتیت کو کارخانوں کی صنعتوں سے متعلق سمجھتے ہیں۔ جب ہم صنعتی پیداوار کا ذکر کرتے ہیں تو ہمارا مرادفیکٹری کی پیداوار سے ہوتی ہے۔ جب ہم صنعتی مزدور کا تذکرہ کرتے ہیں تو ہماری مراد فیکٹریوں کے مزدوروں سے ہوتی ہے۔ صنعتیت کی تاریخ بھی اکثر اولین فیکٹریوں اور کارخانوں کے قیام سے شروع ہوتی ہے۔

ایسے خیالات و نظریات کے ساتھ ایک دشواری ہے۔ یورپ اور انگلینڈ کے زمینی نقشے پر فیکٹریوں کے وجود میں آنے سے پہلے ہی بین الاقوامی بازار کے لیے ایک بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار تھی۔ اور اس کی بنیاد فیکٹریاں نہیں تھیں بہت سے تاریخ داں صنعتیت کے اس دہے کو ابتدائی صنعتیت (Proto industrialisation) کا نام دیتے ہیں۔


نئے الفاظ

Proto کسی چیز کی اولین یا ابتدائی شکل


سترھویں اور اٹھارھویں صدی میں یورپ کے شہروں سے تاجروں نے دیہی علاقوں کے چکر لگانے شروع کیے انھوں نے کسانوں اور دست کاروں کو روپیہ دیا اور انھیں ایک بین الاقوامی بازار کے لیے سامان پیدا کرنے پر اکسایا۔ عالمی تجارت کی توسیع اور دنیا کے مختلف حصوں میں نوآبادیوں کے حصول کے ساتھ اشیاکی مانگ بڑھنا شروع ہوئی۔ مگر تاجر صرف شہروں میں محدود رہ کر پیداوار نہیں بڑھا سکے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہاں شہری دستکاریاں اور تجارتی گلڈس بڑے مضبوط اور طاقت ور تھے۔ سامان پیدا کرنے والوں کی انجمنیں تھیں جنھوں نے دستکاروں کو تربیت دی، پیداور پر کنٹرول کیا، مقابلے اور قیمتوں کو منضبط کیا اور کاروبار میں نئے لوگوں کے داخلے پر حدیں عائد کیں۔ قاعدوں اور قوانین نے مختلف مصنوعات کو پیدا کرنے کے حقوق گلڈس کو دیے اس لیے نئے تاجروں کے لیے شہروں میں کاروبار شروع کرنا دشوار تھا، چنانچہ ان لوگوں نے دیہی علاقوں کا رخ کیا۔

دیہی علاقوں میں غریب کسانوں اور دست کاروں نے تاجروں کے لیے کام کرنا شروع کیا۔ جیسا کہ آپ نے پچھلے سال اپنی درسی کتاب میں پڑھاہے کہ یہ وہ وقت تھا جب کھلے کھیت ختم ہوتے جارہے تھے اور مشترکہ میدانوں کی گھیرابندی ہورہی تھی۔ کاٹجوں میں رہنے والے اور غریب کسان جو اپنی بقاء کے لیے ابھی تک جلانے کی لکڑی، بیری، ترکاریاں، بھوسا وغیرہ ، مشترکہ زمینوں سے حاصل کرتے تھے۔ اب آمدنی کے متبادل ذریعوں کی تلاش میں سرگرداں تھے۔ ان میں سے بہت سوں کے پاس زمین کے چھوٹے چھوٹے قطعے تھے جو خاندان کے تمام لوگوں کے لیے روزگار فراہم نہیں کرسکتے تھے۔ اسی لیے جب تاجر آئے اور انھوں نے ان کے سامان بنانے کے لیے ایڈوانس دینے کی پیش کش کی تو کاشتکار خاندان بڑے شوق سے تیار ہوگئے۔ تاجروں کے لیے کام کرکے وہ گاؤں میں رہ سکتے تھے اور اپنے چھوٹے چھوٹے کھیتوں میں کھیتی باڑی بدستور جاری رکھ سکتے تھے۔ اولین صنعتی پیداوار سے ہونے والی آمدنی نے، ان کی کھیتی باڑی کی کم ہوتی ہوئی آمدنی میں اضافہ کردیا، ساتھ ہی اپنے خاندان کے کارکردگی کے وسائل کے پورے استعمال کے مواقع فراہم کردیے۔

Capture23

شکل 3 -اٹھارھویں صدی میں کتائی

آپ خاندان کے ہر فرد کو دھاگا بنانے کے کام میں لگاہوا دیکھ سکتے ہیں۔ غور سے دیکھیے ایک چرخا ایک ہی سلائی (تکلا) چلا رہاہے۔


اس نظام میں شہر اور دیہات کے درمیان زیادہ قریبی رشتے استوار ہوئے۔ تاجروں کے ٹھکانے شہروں میں تھے مگر زیادہ تر کام دیہی علاقوں میں ہوتا تھا۔ انگلستان میں ایک کپڑے بنانے والے تاجر نے ایک stapler سے اون خریدا وہ اسے کاتنے والے کے پاس لے گیا، وہاں جو دھاگا بنا اسے تیاری کی مختلف منزلوں میں بننے والوں کے پاس لے جایا گیا۔ کپڑا تہہ کرنے والے کے پاس (Fullen)،رنگریزوں کے پاس، اس سے پہلے کہ برآمد کرنے والا تاجر کپڑے کو بین الاقوامی بازار میں بیچے تیاری کے آخری سارے کام لندن میں ہوئے۔حقیقت تو یہ ہے کہ لندن Finishing Centre کی حیثیت سے ہی مشہور ہوگیا۔

یہ بنیادی صنعتی نظام (Proto-industrial system) کمرشل ایکسچینز کے ایک نٹ ورک کا حصہ تھا۔ اس پر تاجروں کا کنٹرول تھا  اور اشیا پیداکرتے تھے لاتعداد پروڈوسر جو فیکٹریوں میں مل کر خاندانی ٹھکانوں پر کام کرتے تھے۔ پیداوار کے ہر مرحلے میں تاجر بیس پچیس مزدور رکھتا تھا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر کپڑے تیار کرنے والا تاجر (clothier) سینکڑوں مزدور اپنے کنٹرول میں رکھتا تھا۔


نئے الفاظ

Stapler ایک شخص جو نتھی کرنے یا پرونے کا کام کرتا ہے یا ریشوں کے مطابق  اون کو الگ الگ کرتا ہے۔ 

Fuller ایک شخص جو تہیں بناکر کپڑے کو جمع کرتا ہے۔

Carding تومنا ایک عمل جس میں اون یا کپاس کے ریشوں کو کاتنے سے پہلے تیار کیا جاتا ہے۔


1.1 فیکٹری کا ورود

اولین فیکٹریاں انگلستان میں 1730 میں بنیں۔ مگر ان کی تعداد میں اضافہ اٹھارھویں صدی کے آخر میں ہوا۔

نئے عہد کی پہلی علامت کپاس تھی۔ اس کی پیداوار آخرانیسویں صدی میں پھلی پھولی۔ اپنی کپاس کی صنعت کو چلانے کے لیے برطانیہ 1760 میں 2.5 ملین پونڈ کپاس درآمد کررہا تھا۔ 1787 تک یہ درآمد 22 ملین پائونڈ ہوگئی۔ اس اضافے کا تعلق پیداواری عمل میں ہونے والی متعدد تبدیلیوں سے تھا۔ آئیے ان میں سے کچھ تبدیلیوں پر ایک سرسری نظر ڈالیں۔

Capture24

شکل4 - ایک لنکا شائر کاٹن مل، پینٹنگ : سی ای ٹرنر، دی السٹر یٹڈ لندن نیوز ، 1925

آرٹسٹ نے کہا ’’ مرطوب فضا سے دکھائی دینے والا منظر جو لنکا شائر کو دنیا کی روئی کاتنے والی سب سے اچھی بستی بناتا ہے۔ایک عظیم الشان کاٹن مل جھٹ پٹے میں بجلی کی روشنی سے چمک رہا ہے۔ ایک انتہائی اثر انگیز نظارہ۔


اٹھارھویں صدی میں ہونے والی ایجادات نے پیداوار کے عمل کے ہر قدم (تومنا، بٹنا، کاتنا اور لپیٹنا) کو زیادہ کارگر بنادیا۔ انھوں نے فی مزدور پیداوار میں بھی اضافہ کیا، اور زیادہ مضبوط دھاگے بنانے کو بھی ممکن کردیا۔ پھر رچرڈ آرک رائٹ نے کاٹن مل کی تخلیق کی۔ اس وقت تک جیسا کہ آپ نے دیکھا ہے کپڑے کی تیاری کاکام (Production) سارے دیہی علاقوں میں پھیلا ہوا تھا اور دیہات کے ہرگھر میں ہوتا تھا۔ مگر اب نئی قیمتی مشینیں خریدی جاسکتی تھیں، ملوں میں انھیں  لگایا جاسکتا تھااور چلایا جاسکتا تھا۔ اب کپڑے کی تیاری کے سارے عمل ایک چھت کے نیچے اور ایک مینیجمنٹ کی زیر نگرانی لے آئے گئے تھے۔ اس طریقے نے پروڈکشن کے سارے عمل کی نگرانی کو بہتر بھی بنایا اور آسان بھی کردیا۔ کوالٹی پر نظر رکھنا، مزدوروں اور مزدوروں کے کام کو بہتر ڈھنگ سے منظم کرنا آسان ہوگیا، یہ سارے کام اُس وقت دشوار ہوتے تھے جب پروڈکشن کا کام سارے دیہی علاقوں میں پھیلا ہوا تھا۔

اوائل انیسویں صدی میں فیکٹریاں اور کارخانے روز بروز انگلش منظر نامے کا بڑا مانوس حصہ بنتے گئے۔ پُر شکوہ نئے مل اتنے واضح اور اتنے نظر آنے والے تھے، نئی ٹکنالوجی کی قوت کچھ اتنی سحر انگیز تھی کہ معاصرین مبہوت تھے۔ ان گلی کوچوں اور ان ورکشاپوں کو بھول کر کہ جہاں کام آج بھی ہورہے تھے ان کی توجہ کا مرکز مل اور کارخانے ہوگئے تھے۔

سرگرمی

تاریخ داں جس طرح چھوٹے چھوٹے ورکشاپ پر توجہ دینے کے بجائے انڈسٹریلائزیشن پر توجہ مرکوز کرتے ہیں وہ ایک اچھی مثال ہے اس بات کو سمجھنے کی کہ آج ہم ماضی کے بارے میں جن باتوں کو مانتے ہیں اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ تاریخ دانوں نے کیا دیکھنا چاہا اور کس چیز کو نظر انداز کردیا۔ خود اپنی زندگی کا کوئی واقعہ یا کوئی پہلو ایسا بتائیے جسے آپ کے بڑے، آپ کے والدین یا اساتذہ غیر اہم سمجھتے ہیں لیکن آپ اسے اہم سمجھتے ہیں۔


Capture25

شکل —5 انڈسٹریل مانچسٹر از ایم جیک سن ۔دی السٹرٹیڈ لندن نیوز، 1857 ۔دھواں اگلتی ہوئی چمنیاں صنعتی منظر کی نمایاں خصوصیت بن گئیں

1.2 صنعتی تبدیلی کی رفتار

صنعتکاری کے عمل کی رفتار کتنی تیز تھی؟ کیا صنعتکاری (انڈسٹریلائیزیشن) کا مطلب محض کارخانوں کی صنعت کا وجود میں آنا ہے؟

اول: برطانیہ میں سب سے زیادہ فعال صنعتیں روئی اور دھاتوں کی صنعتیں تھیں۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعتیت میں انیسویں صدی کی چوتھی دہائی میں، صنعتکاری کے پہلے مرحلے میں کپاس کا شعبہ ممتاز ترین شعبہ تھا۔ اس کے بعدلوہے اور فولاد کی انڈسٹری آگے تھی۔ 1840 میں انگلینڈ میں اور 1860 میں نوآبادیوں میں ریلوں کی توسیع سے لوہے اور فولاد کی مانگ میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا۔ 1873 تک برطانیہ 77ملین پاؤنڈ کی قیمت کا لوہا اور فولاد برآمد کررہا تھا یعنی اپنی کپاس کی درآمد سے دوگنی قیمت کا۔

سرگرمی

شکل 4اور 5کو دیکھیے، دونوں میں صنعتکاری کی جو شبیہ دکھائی گئی ہے آپ ان میں کوئی فرق دیکھ سکتے ہیں؟ اپنا نقطہ نظر بیان کیجیے۔


دوم: نئی صنعتیں پرانی صنعتوں کو آسانی سے جگہ سے ہٹا نہیں سکیں۔ انیسویں صدی کے آخر تک مزدوروں کی کل تعداد کا صرف بیس فی صدی حصہ صنعت، کے ان سیکٹروں میں کام کررہا تھا جن میں ترقی یافتہ ٹکنالوجی کا استعمال ہورہا تھا۔ ٹکسائل ایک فعال سیکٹر تھا مگر اس کی پیداوار کا ایک بڑا حصہ فیکٹریوں میں نہیں ان سے باہر گھریلوں یونٹوں میں تیار ہوتا تھا۔

سوم: روایتی صنعتوں میں تبدیلی کی رفتار کا تعین بھاپ سے چلنے والی کپاس اور دھاتوں کی صنعتوں سے نہیں ہوا تھا۔ مگر یہ یکسر ساکت اور مجہول بھی نہیں تھیں۔ بظاہر معمولی اور چھوٹی چھوٹی اختراعات، ڈبہ بند غذاؤں، فن تعمیر، پوٹری، گلاس ورک ، چمڑہ کمائی، فرنیچر بنانے اور اوزاروں کی تیاری جیسی غیر میکانکی صنعتوں میں نشوونما کی بنیاد تھیں۔

Capture26

شکل 6 ۔ انگلستان میں ایک فٹنگ شاپ ۔ دی السٹریٹیڈ لندن نیوز، 1849 ۔

 اس فٹنگ شاپ میں نئے ریلوے انجن بنتے تھے اور پر انے انجنوں کی مرمت

 ہوتی تھی۔


چہارم: ٹکنالوجیکل تبدیلیاں بڑی آہستہ آہستہ ہوئیں۔ وہ صنعتی فضا میں کسی حیرتناک انداز میں پھیلیں بھی نہیں۔ نئی ٹکنالوجی قیمتی تھی اور تاجر اور صنعت کار اس کے استعمال کرنے کے معاملے میں محتاط تھے۔ مشینیں اکثر خراب ہوجاتی تھیں اور ان کی مرمت پر کافی خرچ ہوتا تھا۔ مشین اتنا کام نہیں دیتی تھیں جتنے کام کاان کے ایجاد کرنے والے یا انھیں بنانے والے دعویٰ کرتے تھے۔ 

بھاپ کے انجن ہی کو لے لیجیے۔ Newcomen کے تیار کیے اسٹیم انجن کو جیمس واٹ نے بہتر کہا اور 1781 میں نئے انجن کا سرکاری تحفظ (Patent) حاصل کیا۔ اس کے صنعت کار دوست میتھیوبولٹن نے نیا ماڈل بنایا۔ مگر کئی برسوں تک اسے خریدار نہ مل سکے۔ 19ویں صدی کے آغاز تک سارے انگلستان میں اسٹیم انجنوں کی تعداد 321 سے زیادہ نہیں تھی ان میں سے 80کپاس کی صنعت میں تھے۔ نو اوُن کی صنعت میں اور باقی کان کنی، نہروں اور لوہے کے کاموں ہیں۔ دوسری صنعتوں میں اسٹیم انجنوں کا استعمال صدی کے آخر تک نہیں ہوا تھا۔ انتہائی طاقور اور کارگر نئی ٹکنالوجی کو جس نے مزدور کی پیداواری صلاحیت کو کئی گنا بڑھا دیا تھا۔ قبول کرنے میں صنعت کا ربڑے سست رہے۔

تاریخ داں روز بروز اس بات کو تسلیم کرتے جارہے تھے کہ وسط انیسویں صدی کا عام کا م گار مشین چلانے والا نہیں بلکہ روایتی دستکار یا مزدور تھا۔

Capture27

شکل 7 ۔ کتائی کا ایک کارخانہ، 1830۔

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بھاپ سے حرکت میں آئے ہوئے بڑے بڑے پہیئے کس طرح سینکڑوں تکلوں کو تاگہ بنانے کے لیے حرکت دیتے ہیں۔


2۔ ہاتھ کی محنت اور بھاپ کی قوت

وکٹورین برطانیہ میں انسانی محنت کی کوئی کمی نہیں تھی۔ غریب کسان اور بے گھر بار لوگوں نے تلاش معاش اور کام کی جستجو میں بڑی تعداد میں بڑےشہروں کا رخ کیا۔ جیسا کہ آپ جانتے ہوں گے جب کام کرنے والے بہت ہوں تو اجرتیں کم ہوتی ہیں۔ اسی لیے صنعت کاروں کے لیے کام کرنے والوں کی کمی اور زیادہ اجرتوں کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ انہوں نے اسی لیے مشینوں کو متعارف کرانا چاہا ہی نہیں کہ ان میں انسانی محنت کی زیادہ ضرورت نہیں ہوتی تھی اور سرمائے کی ضرورت بہت ہوتی تھی۔

بہت سی صنعتوں میں مزدوری کی ضرورت موسمی یا وقتی ہوتی تھی۔ گیس سے متعلق کام اور شراب کی بھٹیاں خصوصاً سردیوں کے مہینوں میں بہت مصروف ہوتی تھیں۔ اسی لیے اس زمانے میں مال کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے انھیں کام کرنے والے زیادہ لوگوں کی ضرورت ہوتی تھی۔ جِلد سازوں اور چھاپے خانے والوں کو، کرسمس کے زمانے کی مانگوں کو پورا کرنے کے لیے دسمبر سے قبل مزید مزدوروں کی ضرورت پڑتی تھی۔ ساحلوں پر ، سردیوں کا زمانہ جہازوں کی مرمت اور ان کو ٹھیک ٹھاک کرنے کا زمانہ ہوتا تھا۔ ایسی تمام صنعتوں میں جہاں پیداوار میں موسم کے مطابق اتار چڑھاؤ آتے تھے صنعت کار عموماً ہاتھ سے کام کرنے والے مزدوروں کو ترجیح دیتے تھے اور انہیں موسموں کی ضرورت کے مطابق ملازم رکھتے تھے۔

Capture28

شکل 8۔ لوگ کام کی تلاش میں ۔ دی السٹریڈ لندن نیوز، 1879 

بہت سے لوگ تھے جو چھوٹا موٹا سامان بیچتے اور کام کی تلاش میں ہمیشہ ہی گھومتے رہتے تھے۔


ماخذ A 

Will Thorne ان لوگوں میں سے ایک تھا جو موسمی کاموں کی تلاش میں گیا۔ ایٹیں ڈھونے اور دوسرے چھوٹے موٹے اتفاقیہ کام کرنے۔ وہ بیان کرتا ہے کہ کام کے متلاشی روزگار کی تلاش میں لندن میں مارے مارے پھرتے تھے۔ ’’میری لندن جانے کی خواہش ہمیشہ سے تھی … یہ خواہش میرے ساتھ کام کرنے والے ایک پرانے دوست کے خطوط نے پیدا کی تھی … جواب اولڈ کنٹ روڈ گیس ورکس میں کام کرتا ہے … میں نے بالاخر جانے کا فیصلہ کرلیا۔ نومبر 1881 میں … دو دوستوں کے ساتھ پاپیادہ سفر پر چل پڑا۔ اس توقع کے ساتھ کہ ہم لوگوں کو کام مل جائے گا۔ جب ہم وہاں پہنچیں گے … اپنے دوست کے تعاون سے … ہم نے جب سفر شروع کیا تھا ہمارے پاس بہت کم پیسے تھے۔ رات کو کہیں ٹھہرنے اور کھانے کے لیے ہمارے پاس کافی روپیہ نہیں تھا۔ یہاں تک کہ ہم لندن پہنچ گئے۔ کبھی کبھی تو ہم ایک ایک دن میں بیس بیس میل چلے۔ کبھی کبھی کم بھی چلے۔ ہمارے پاس جو پیسے تھے وہ تیسرے دن ختم ہوگئے … دوراتیں ہم کھلے آسمان کے نیچے سوئے۔ ایک دفعہ بھوسے کے ایک ڈھیر میں ،ایک دفعہ ایک شید کے نیچے … لندن پہنچنے۔ پر ہم نے اپنے دوست کو ڈھونڈنے کی کوشش کی … مگر کامیاب نہیں ہوئے … ہمارا پیسہ ختم ہوچکا تھا۔ اس لیے ہمارے پاس کوئی کام نہیں تھا سوائے دیر رات تک چلنے کے، بھوکے رہنے اور سونے کے لیے کسی جگہ کو تلاش کرنے کے۔اس رات ہمیں ایک پرانی عمارت نظر آگئی اور ہم وہیں سوگئے۔ دوسرے دن، اتوار کے روز دیر سہ پہر میں ہم اولڈ کنٹ گیس ورکس پہنچ گئے اور کام کے لیے درخواست دی۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی جس آدمی کو ہم تلاش کررہے تھے اس وقت وہاں کام کررہا تھا۔ اس نے فون سے بات کی اور مجھے کام مل گیا۔‘‘(رافل سمیوئل کی کتاب Comers and goers" سے، بحوالہ ایچ جے ڈیوس اور مائیکل وولف (مرتبین) دی وکٹورین سٹی :امیجزاینڈ رییلٹیز1973)

سرگرمی

تصورکیجئے کہ آپ ایک تاجر ہیں جو ایک سیلز مین کو جواب لکھ رہا ہے، جو آپ کو ایک نئی مشین کے خریدنے پر راضی کرنا چاہتا ہے۔ اپنے خط میں بتائیے کہ آپ نے کیا کچھ سنا ہے اور یہ کہ آپ نئی ٹکنالوجی میں پیسہ کیوں نہیں لگانا چاہتے۔


بہت سی مصنوعات ایسی تھیں جو صرف ہاتھ سے کام کرنے والے ہی بنا سکتے تھے۔مشینیں،وردیاں اور زیادہ تعداد میں بنائی جانے والی معیاری(Standardised) اشیا تیار کرنے کے لیے تھیں، مگر بازار میں اکثر نفیس کام اور مخصوص شکل صورت کی چیزیوں کی مانگ ہوتی تھی۔مثال کے طور پر،وسط انیسویں صدی میں بڑی پانچ قسموں کی ہتھوڑیاں اور پینتا لیس اقسام کی کلہاڑیاں بنائی گئیں۔ ان کے لیے میکا نکی ٹکنا لوجی کی نہیں انسانی مہارت کی ضرورت ہوتی تھی۔

 عہد وکٹورین برطانیہ میں اونچے طبقے کے لوگ۔ اشراف اور بورژوازی، ہاتھ سے بنی ہوئی اشیاپسند کرتے تھے۔ ہاتھ سے بنائی ہوئی چیز یں نفاست اور اعلیٰ نسبی کی علامت بن گئیں۔ ان چیزوں کی تکمیل اچھی طرح ہوتی تھی، شخصی طور پر بنائی ہوئی ہوتی تھیں اور ان کے ڈیزائن بہت سوچ کربنے ہوئے ہوتے تھے۔ مشین سے بنا ہوا سامان نو آبادیوں میں بھیجنے کے لیے ہوتا تھا۔ ان ملکوں میں جہاں انسانی محنت کی (مزدوری کی) کمی ہوتی تھی وہاں صنعت کار میکنیکل پاور کو استعمال کرنے میں زیادہ دلچسپی دکھاتے تھے تاکہ انسانی محنت کی ضرورت کو کم سے کم کیاجاسکے۔ 19ویں صدی کے امریکہ میں یہی صورت حال تھی۔ اس کے برعکس برطانیہ کو مزدوروں سے کام لینے میں کوئی دشواری نہیں تھی۔


Capture29

شکل. —9لوہے کے ایک کارخانے میں مزدور۔ شمالی مشرقی انگلستان ۔ ولیم بل اسکاٹ کی پینٹنگ 1861

19 ویں صدی کے بہت سے آرٹسٹوں نے مزدوروں کو مثالی بنا کر پیش کرنا شروع کیا ۔انھیں ملک وقوم کے لیے تکلیفیں اٹھاتے اور دکھ جھیلتے ہوئے دکھایاگیا۔

2.1  مزدوروں کی زندگی

بازار میں مزدوروں کی افراط ان کی زندگیوں پر اثر ڈالتی تھی۔ امکانی ملازمتوں کی خبردیہی علاقوں میں پہنچی اور ہزاروں لوگوں نے شہروں کی طرف رخ کیا۔ کام ملنے کے حقیقی امکان کا انحصار دوستی اور موجود رشتوں کی وسعت پر ہوتا تھا۔ اگر کسی فیکٹری میں آپ کا کوئی رشتے دار یا دوست ہے تو آپ کو کام ملنے اور کسی قدر جلد ملنے کا امکان ہے۔ مگر ایسے سماجی رشتے ہر ایک کے تو نہیں ہوتے۔ نوکریوں کے متلاشی بہت سے لوگوں کو ہفتوں انتظار کرنا پڑتا تھا۔ اور انھیں اپنی راتیں پلوں کے نیچے یا پھر رین بسیروں میں گزارنا ہوتی تھیں۔ بعض لوگ رات کی پناہ گاہوں میں رہتے تھے جنھیں لوگوں نے انفرادی طور پر بنا رکھا تھا۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے تھے جو Poor Law اتھارٹی کے زیر اہتمام چلنے والے casual wardsمیں قیام کرتے تھے۔

Capture30

شکل —10. بے گھر اور بھوکے ، سمیوئل لیوک فلڈس کی پینٹنگ 1874

 اس تصویر میں لندن میں بے گھر لوگوں کو ایک ورک ہائوس میں رات گزارنے کے لیے درخواست دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ رین بسیرے لاوارثوں، مسافروں ، آوارہ گردوں اور مفلس و کنگال لوگوں کے لیے بنائے گئے Poor law commisioners کی نگرانی میں چلتے تھے ان رین بسیروں میں قیام ایک ذلت آمیز تجربہ ہوتا تھا۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ درخواست دینے والے کوکوئی بیماری تو نہیں ہے،ہر شخص کا طبی معائنہ ہوتا تھا، ان کے جسم دھوئے جاتے تھے، ان کے کپڑوں کو صاف کیا جاتا تھا۔ رین بسیروںمیں مشقت کے کام بھی کرنے پڑتے تھے۔


بہت سی صنعتوں میں موسمی طریقۂ کار کا مطلب طویل عرصے تک کام کے بغیر رہنا تھا۔ مصروفیت کا موسم گزرنے کے بعد غریب پھر سڑک پر ہوتے تھے۔ بعض لوگ سردیوں کے بعد جب دیہی علاقوں میں کہیں کہیں مزدوروں کی مانگ ہوجاتی تھی تو اپنے گاؤں کو لوٹ جاتے تھے۔ مگر زیادہ تر لوگ اتفاقی کاموں کی جستجومیں سرگرداں رہتے تھے۔ وسط انیسویں صدی تک جن کا ملنا بہت مشکل تھا۔

اوائل انیسویں صدی میں اجرتوں میں کچھ اضافہ ہوا۔ مگر ان سے ہمیں مزدوروں کی خوش حالی کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوتا۔ اوسط اعداد شمار کاروباروں کے درمیان فرق کو چھپاتے ہیں اور سال بہ سال ہونے والے اتار چڑھاؤ پر پردہ ڈالتے ہیں۔ مثال کے طور پر نپولین جنگ کے طویل زمانے میں جب قیمتیں بہت بڑھ گئیں تو لوگوں کی آمدنیوں کی اصل قوت خرید قابل لحاظ حد تک کم ہوگئی کیوں کہ پچھلی اجرتوں سے اب بہت کم چیزیں خریدی جاسکتی تھیں۔مزید یہ کہ مزدوروں کی آمدنیوں کا انحصار محض اجرتوں کی شرح پر نہیں تھا۔ ملازمت کی مدت بھی اہمیت رکھتی تھی۔ ایام ملازمت بھی مزدوروں کی اوسط یومیہ آمدنی کا تعین کرتے تھے۔ وسط انیسویں صدی تک زیادہ عرصے میں تقریباً دس فی صدی شہری آبادی انتہائی مفلس تھی۔ 1830 کے اقتصادی انحطاط جیسے زمانوں میں بے روزگاری کا تناسب ، مختلف علاقوں میں 35 سے 75 فی صدتک ہوگیا تھا۔

بے روزگاری کے خوف نے مزدوروں کو نئی ٹکنالوجی کے استعمال کے خلاف سرکش بنادیا۔ جب اُون کی صنعت میں اسپیننگ جینی متعارف کرائی گئی تو عورتوں نے جو ہاتھ کی کتائی کے سہارے زندہ تھیں، نئی مشینوں کی توڑ پھوڑ شروع کردی۔ جینی کے استعمال پر ہنگامہ بہت دن چلتا رہا۔

1840 کے بعد شہروں میں تعمیری سرگرمیوں میں بڑا اضافہ ہو اور روزگار کے امکانات بڑھ گئے۔ سڑکیں چوڑی ہوئیں، نئے ریلوے اسٹیشن بنے، ریلوے لائنوں میں توسیع ہوئی سرنگیں کھدیں، گندے پانی کے نکاس کے لیے نالیاں بنیں، پائپ ڈالے گئے ، اور دریاؤں کے کنارے بنے۔ ٹرانسپورٹ کی صنعت میں کام کرنے والوں کی تعداد 1840 میں دوگنی ہوگئی۔ اگلے تیس برسوں میں، اس تعداد میں بھی دوگنا اضافہ ہوا۔

Capture31

شکل —11 اسپینگ جینی۔ ڈرائنگ ٹی ای نکلسن 1835

ان تکلوں (spindles) کی تعداد پر غور کیجیے جو ایک چرخی سے چلائے جاسکتے تھے۔


نئے الفاظ

Spinning Jermy  ۔  1764 میں جیمس ہار گریوز نے بنایا۔اس مشین نے کاتنے کے کام کی رفتار بڑھادی اور مزدوروں کی مانگ کم کردی ایک چرخی چلا کر ایک مزدور کئی تکلوں کو چلا سکتا تھا اور ایک ہی وقت میں کئی تاگے نکال سکتاتھا۔

تبادلۂ خیال کیجیے۔

شکل نمبر 7, 3اور 11کو دیکھیے اس کے بعد ماخذ دوبارہ پڑھیے۔ بتائیے کہ اکثر مزدور اسپنگ جینی کے استعمال کے خلاف کیوں تھے۔

ماخذ B 

ایک مجسٹریٹ نے 1790 میں ایک واقعہ بیان کیاجب اسے ایک صنعت کار کی املاک کوبچانے کے لیے بلایاگیا جس پر مزدوروں نے حملہ کردیاتھا ۔

’’چوکیداروں اور ان کی بیویوں کے ایک بے قابو گروہ کی غارت گری سے ،بیویوں کی نوکریاں اسپیننگ جینی کے استعمال کی وجہ سے ختم ہوگئی تھیں۔ابتدامیں توانھوں نے انتہائی بد تمیزی سے اس مشین کو چکناچور کر نے کی کوشش کی جو اونی مصنوعات کے لیے لگائی گئی تھی ۔جس کے بارے میں ان کاخیال تھاکہ اگر لگ گئی تو ہاتھ سے کام کرنے والوں کی مانگ کم ہوجائے گی۔ عورتوں نے بڑا ہنگامہ کیا ،مردبات کوسمجھنے پر زیادہ تیار تھے اور خاص بحث مباحثے کے بعداپنے مقاصد سے انھیں بازرکھنے میں کامیابی مل گئی اور وہ لوگ پرامن طور پر اپنے گھروں کوواپس لوٹ گئے ۔‘‘

(جے ایل ہمینڈاور بی ہمنیڈ :وی اِسکِلڈلیبر ۔1760-1832 میکسن برگ میں حوالہ۔ دی ایچ آف مینوفیکچرس


Capture32

شکل —12. سنٹرل لندن میں ایک انڈر گراؤنڈ ریلوے بنائی جارہی ہے۔ السٹریٹڈ ٹائمز، 1868۔

1850 کے بعد سے لندن بھر میں ریلوے اسٹیشن تعمیر ہونا شروع ہوئے۔ اس کے لیے سرنگیں کھودنے لکڑی کے ڈھانچے کھڑے کرنے اور اینٹ اور لوہے کے کاموں کے لیے پاڑیں باندھنے کے لیے بڑی تعداد میں مزدوروں کی مانگ ہوئی۔ کام کے متلاشی لوگوں نے تعمیر ہونے والی جگہوں کے چکر لگانے شروع کیے۔

3 نوآبادیوں میں صنعتیت


آئیے اب ہندوستان کی طرف چلتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں ایک نوآبادی صنعت کیسے بنتی ہے۔ یہاں بھی ہم ایک بار پھر محض فیکٹریوں اور کارخانوں والی صنعتوں پر ہی نہیں بلکہ غیر میکانکی شعبہ پر بھی نظر رکھیں گے مگر ہم اپنی بحث کو ٹکسٹائل صنعتوں تک محدود رکھیں گے۔

3.1  ہندوستانی ٹکسٹائل کا زمانہ

مشینوں والی صنعت کے زمانے سے قبل ، ٹکسٹائل کی بین الاقوامی منڈیوں میں ہندوستان کے سلک اور سوتی سامان کی دھاک جمی ہوئی تھی۔ موٹی جھوٹی اور نفاست سے عاری کپاس ، تو بہت سے ملکوں میں پیدا کی جاتی تھی مگر نفیس قسمیں عموماً ہندوستان سے آتی تھیں۔ امریکی اور ایرانی تاجر یہ سامان پنجاب سے پہاڑوں کے دروں اور ریگستانوں کو پار کرکے افغانستان ، مشرقی ایران اور سنٹرل ایشیا لے گئے۔ نوآبادیاتی عہد سے پہلے کی اہم بندرگاہوں سے بڑی فعال بحری تجارت ہوتی تھی۔ گجرات کے ساحل پر سورت نے خلیجی اور بحر احمر کی بندرگاہوں کو ملارکھا تھا، کورومنڈیل ساحل پر مسولی پٹنم اور بنگال میں ہگلی کے جنوب مشرقی ایشیا کی بندرگاہوں سے تجارتی رشتے تھے۔

سرگرمی

ایشیا کے نقشے میں سمندر دکھائیے اور اس میں ہندوستان سے سنٹرل ایشیا ، مغربی ایشیا اور جنوبی مشرقی ایشیا کو ہونے والی کپڑوںکی تجارت کے راستے دکھائیے۔


ہندوستان کے بہت سے مختلف تاجر اور بینکرس برآمد کے اس کاروبار میں تھے۔ پیدا وار کے لیے سرمایہ فراہم کرنا، سامان کی نقل و حمل اور اسے برآمد کرنے والوں تک پہنچانا وغیرہ۔ سپلائی کرنے والے ان تاجروں نے بندرگاہوں والے شہروں کو اندرونی علاقوں سے ملایا۔ ان لوگوں نے بنکروں کو پیشگی سرمایہ دیا،گائووں سے بُنا ہوا کپڑا اٹھایا اور اسے بندرگاہوںتک پہنچایا۔ بندرگاہوں پر بڑے جہازوں کے مالک اور اکسپورٹ مرچنٹس اپنے دلال رکھتے تھے جو بات چیت کرکے قیمتیں طے کرتے تھے اور سامان سپلائی کرنے والوں سے خریدلیتے تھے۔

1750 آتے آتے کاروبار کا وہ نٹ ورک جِسے ہندوستانی کنٹرول کرتے تھے، ٹوٹنا شروع ہوگیا۔

یورپ کی کمپنیوں نے آہستہ آہستہ قوت و اختیار حاصل کرنا شروع کیا۔ پہلے تو مقامی عدالتوں سے بہت سی رعائتیں حاصل کرکے ،اس کے بعد تجارت پر اجارہ داری کے حقوق حاصل کرکے۔ اس کا نتیجہ سورت اور ہگلی کی بندرگاہوں کی تباہی کی شکل میں نکلا جہاں سے متاثر تاجر کاروبار کیا کرتے تھے۔ ان بندرگاہوں سے ہونے والی برآمدات میں اچانک شدید کمی آئی ، جمع پونجی جو شروع شروع میں تجارتی کاروبار کے لیے سرمایہ فراہم کرتی تھی ختم ہونا شروع ہوئی اور مقامی بینکرس آہستہ آہستہ دیوالیے ہوگئے۔ سترھویں صدی کے آخری برسوں میں سورت سے ہونے والی تجارت کی مجموعی قیمت 16 ملین روپیے تھی 1740 میں یہ محض 3 ملین رہ گئی۔

Capture33

شکل —13. سورت میں انگلش فیکٹری۔ سترھویں صدی کی ایک ڈرائنگ


ایک طرف سورت اور ہگلی پر زوال آیا دوسری طرف بمبئی اور کلکتہ نے فروغ پایا پرانی بندرگاہوں سے نئی بندرگاہوں کو یہ منتقلی ، نوآبادیاتی پاور کے فروغ و نشو نما کی طرف اشارہ کرتی ہے۔نئی بندرگاہوں سے ہونے والی تجارت پر یورپین کمپنیوں کا کنٹرول ہوا، سامان یورپین جہاز لاتے لے جاتے تھے۔ جہاں بہت سے پرانے تجارتی ادارے انحطاط کا شکار ہوئے وہیں ان اداروں کو جو زندہ رہنا چاہتے تھے اب یورپ کی تجارتی کمپنیوں کے بنائے ہوئے کاروباری نظام میں رہ کر کام کرنا پڑا۔

بُنکروں اور دوسرے دست کاروں کی زندگیوں پر ان تبدیلیوں نے کیوں کر اثر ڈالا؟ 


Capture34

شکل 14 ایک بنکر کام کرتا ہوا۔ گجرات


3.2 بُنکروں پر کیا گزری؟

1760 میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے استحکام کا اثر ابتدامیں تو ہندوستان سے ہونے والی ٹکسٹائل کی برآمدات پر نہیں پڑا۔ اس وقت تک برطانوی کاٹن انڈسٹری میں توسیع نہیں ہوئی تھی اور ہندوستانی نفیس ٹکسٹائل کی یورپ میں مانگ بہت تھی۔ اسی لیے کمپنی کو ہندوستان سے ٹکسٹائل کی برآمد کی توسیع میں بہت دل چسپی تھی۔ بنگال (1760) اور کرناٹک (1770) میں سیاسی اختیارات حاصل کرنے سے قبل ، ایسٹ انڈیا کمپنی کو برآمد کے لیے باقاعدہ سپلائی کو یقینی بنانا مشکل معلوم ہوا۔ بازار میں بنے ہوئے کپڑے کے حصول کے لیے فرانسیسیوں ، ڈچوں ، پرتگالیوں اور ساتھ ہی مقامی تاجروں نے مقابلہ کیا۔ اس صورت حال میں بُنکر اور سپلائی کرنے والے اپنی پیداوار کو سب سے اچھے خریدار کے ہاتھ بیچنے کی کوشش اور سودے بازی کرسکے۔ کمپنی کے حکام نے لندن بھیجے جانے والے اپنے خطوں میں، سپلائی اور زیادہ قیمتوں کی مسلسل شکایت کی ہے۔

بہرحال جب ایک بار ایسٹ انڈیا کمپنی نے سیاسی اختیار مستحکم کرلیا تو وہ تجارت پر اجارہ داری کے حقوق پر اصرار کرسکی۔ اس نے مینجمنٹ اور کنٹرول کے ایک ایسے نظام کے بنانے کی طرف قدم بڑھایا جو مقابلے کو ختم کردے، قیمتوں پر قابو رکھے اور سلک اور روئی کی باقاعدہ سپلائی کو یقینی بنائے۔ ہر کام اس نے متعدد اقدام کے ذریعے کیا۔

پہلا قدم: کمپنی نے کپڑے کے کارو بار سے متعلق موجودہ تاجروں اور دلالوں کو ختم کرنے اور بنکر پر ایک زیادہ راست کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس نے بنکروں پر نگرانی رکھنے، سپلائی جمع کرنے اور کپڑے کی کوالٹی کی جانچ پڑتال کرنے کے لیے ایک تنخواہ دار ملازم رکھا، جسے گماشتہ کہا جاتا تھا۔

دوم: اس نے کمپنی کے بنکروں کو دوسرے خریداروں سے گفت و شنید کرنے پر روک لگادی۔ ایسا کرنے کا ایک طریقہ پیشگی دینے کے نظام کے ذریعے تھا۔جب ایک آرڈر دے دیا جاتا تھا تو بنکروں کو اپنی مصنوعات کے لیے خام مال خریدنے کے لیے قرض دیے جاتے تھے۔ جو لوگ قرض لے لیتے تھے انھیں اپنے بنائے ہوئے کپڑے کو گماشتوں کے حوالے کرنا پڑتا تھا، وہ اس سامان کو کسی دوسرے تاجر کو نہیں دے سکتے تھے۔

نئے الفاظ

Sepoy ۔ انگریز لفظ سپاہی کا یہی تلفظ کرتے تھے، اس کا مطلب ہندوستانی سپاہی ہوتا تھا جو انگریز کی ملازم ہوتا تھا۔

جیسے جیسے قرض ملنے لگے اور نفیس ٹکسٹائل کی مانگ بڑھی، بنکروں نے بڑے شوق سے اور زیادہ کمانے کی توقع کے ساتھ قرض لینا شروع کردیا۔ بہت سے بنکر ایسے تھے جن کے پاس زمین کے چھوٹے چھوٹے اپنے ذاتی پلاٹ تھے، جن پر بُنائی کے کام کے ساتھ وہ کھیتی باری کرلیتے تھے اور اس کی پیداوار سے ان کے خاندان کی کچھ ضرورتیں پوری ہوجایا کرتی تھیں۔ اب وہ اپنی زمین کو ٹھیکے یا کرائے پر دینے اور اپنا سارا وقت بننے کے کام میں لگانے پر مجبور تھے۔ بننے کا کام حقیقتاً سارے خاندان کی محنت کا مطالبہ کرتا تھا۔ اور عورتیں اور بچے کام کی مختلف منزلوں پر اس میں لگے رہتے تھے۔

بہرحال، جلدی ہی بنکروں کے گاؤوں سے گماشتوں اور بنکروں کے درمیان جھگڑوں کی خبریں آنے لگیں۔ ابتدامیں سپلائی کرنے والے تاجر عموماً بنکروں کے گائوں میں ہی رہتے تھے ، بنکروں سے ان کے قریبی تعلقات ہوتے تھے اور یہ لوگ ان کی بہت سی ضرورتوں کو پورا کرتے تھے اور پریشانی کے زمانے میں ان کی مدد کرتے تھے۔ نئے گماشے باہر کے لوگ ہوتے تھے، گائوں سے ان کے کوئی سماجی رشتے بھی نہیں ہوتے تھے۔ ان کے کام کے روّیوں میں بددماغی ہوتی تھی، وہ گاؤں میں Sepoys (سپاہیوں) اور چپراسیوں کے ساتھ آتے تھے، اور سپلائی میں تاخیر ہوجانے پر بنکروں کو مارتے پیٹتے بھی تھے۔ بنکر قیمتوں کے بارے میں گفت و شنید اور دوسرے مختلف خریداروں سے بات کرنے کے موقوں سے محروم ہوگئے ۔ کمپنی سے ان کو جو قیمتیں ملتی تھیں وہ بہت کم ہوتی تھیں اور لیے ہوئے قرضے انھیں کمپنی سے باندھے رکھتے تھے۔ کرناٹک اور بنگال میں بہت سی جگہوں پر بنکروں نے اپنے گاؤں چھوڑے اور دوسرے ایسے گاوؤں میں کرگھے لگائے جہاں ان کے کچھ خاندانی تعلقات تھے۔ بہت سی جگہوں پر بنکروں نے گاؤں کے تاجروں کے ساتھ مل کر ، کمپنی اور اس کے حکام سے جھگڑا کیا۔ بہت سے بنکروں نے قرض لینے سے انکار کرنا شروع کیا، اپنا کاروبار بند کردیا اور کھیتوں پر مزدوری کرنے لگے۔

انیسویں صدی کے اختتام پر بنکروں کے سامنے نئے نئے مسائل تھے۔

ماخذ C 

پٹنہ کے کمشنر نے لکھا:

’’ایسا لگتا ہے کہ بیس برس پہلے ’جہان آباد اور بہار میں کپڑا تیار کرنے کا کاروبار بہت زوروں پر تھا جو اوَل الذکر مقام پر بالکل بند ہوچکا ہے اور دوسری جگہ پر کام بہت محدود ہوکر رہ گیا ہے۔ یہ نتیجہ ہے مانچسٹر سے سستے اور پائیدار کپڑے کے آنے کاجس کا مقابلہ کرنا مقامی صناعوں کے بس میں نہیں ہے۔‘‘

(بحوالہ جے کرشنا مورتی کی کتاب "Deindustrialisation in Gangetic Bihar during the nineteenth Century"دی انڈین اکنامک اینڈ سوشل ہسٹری ریویو 1985)۔


3.3  مانچسٹر ہندوستان آتا ہے

1772 میں کمپنی کے افسر ہنری پٹولو (Henry Patullo) نے یہ کہنے کی ہمت دکھائی کہ ہندوستانی ٹکسٹائل کی مانگ کبھی کم نہیں ہوسکتی کیوں کہ کوئی دوسرا ملک اس کی جیسی کوالٹی کا سامان پیدا نہیں کرتا ہے۔ پھر بھی 19ویں صدی کے آغاز میں ہم ہندوستان سے ہونے والی ٹکسٹائل کی برآمدات میں ایک طویل زوال کی شروعات دیکھتے ہیں۔ 12-1811 میں ہندوستان کی برآمدات میں کٹ پیس کپڑا 33 فی صدتھا جو51 -1850تک 3 فی صد سے زیادہ نہیں تھا۔

ایسا کیوں ہوا؟ اس کے عواقب کیا تھے؟ انگلستان میں کاٹن انڈسٹری میں ترقی ہوئی اور صنعتی گروہ دوسرے ملکوں سے ہونے والی درآمدات سے پریشان ہونے لگے۔انھوں نے سوتی کپڑے پر محصول لگانے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنا شروع کیا تاکہ باہر والوں سے کسی مقابلے کے بغیر مانچسٹر کا سامان برطانیہ میں بیچا جاسکے۔ اسی کے ساتھ صنعت کاروں نے ایسٹ انڈیا کمپنی پر برطانوی مصنوعات کو ہندوستانی مارکٹ میں بیچنے پر زور ڈالا۔ اوائل 19 ویں صدی میں برطانوی سوتی سامان کی برآمدات میں حیرت انگیز اضافہ ہوا۔ 18 ویں صدی کے آخر میں حقیقتاً ہندوستان میں کٹ پیس سوتی سامان کی درآمد تھی ہی نہیں۔ مگر 1850 تک کٹ پیس سامان کی درآمد ہندوستانی درآمد کی 31 فی صدسے زیادہ مقدار میں تھی۔ 1870 میں یہ مقدار 50       فی صد سے زیادہ ہوگئی تھی۔


ماخذ  D

بنکروں کی ایک کمیونٹی Koshtis کے بارے میں لکھتے ہوئے سنٹرل پراونسسز کی سینس رپورٹ نے بیان کیا۔

نفیس کپڑا بنانے والے ہندوستان کے دوسرے حصوں کے بنکروں کی طرح کوشتیوں پر بھی بُرا وقت آیاہے۔ وہ مانچسٹر کے بھیجے ہوں نمائشی سامان کا مقابلہ نہیں کرسکتے ہیں، اسی لیے پچھلے کچھ برسوں سے یہ لوگ بڑی تعداد میں دوسری جگہ خصوصاً Berar گئے جہاں وہ یومیہ مزدوری پر اجرتیں حاصل کرنے کے لائق ہیں۔ (سینسس رپورٹ آف سنٹرل پراونسسز 1872 سِمت گوہاکی کتاب ’دی ہینڈلوم انڈسٹری اِن سنٹرل انڈیا‘‘ میں حوالہ۔ دی انڈین اکنامک اینڈ سوشل ہسٹری ریویو)

Capture35
شکل —15. بمبئی کی بندرگاہ ، آخر اٹھارھویں صدی کی ایک ڈرائنگ ۔بمبئی اور کلکتے کی بندرگاہوں نے 1780 کے بعد، تجارتی بندرگاہوں کی حیثیت سے بہت ترقی کی۔ اس نے پرانے تجارتی نظام میں ابتری پیدا کی اور کلونیل اقتصادیات کے فروغ و نشوونما کا سبب  بنی۔

ہندوستان میں سوتی بنکر نے بیک وقت دو دشواریوں کا سامنا کیا۔ ان کی برآمد کی منڈی مسمار ہوگئی اور مانچسٹر کی درآمدات کی بہتات کی وجہ سے ان کی مقامی بازار سکڑ گئی۔ درآمد کیے ہوئے سوتی کپڑے چوں کہ کم لاگت پر مشین سے بنے ہوئے ہوتے تھے جو اتنے سستے ہوتے تھے کہ ان کا مقابلہ کرنا بنکروں کے لیے آسان نہیں تھا۔ بنائی کے اکثر علاقوں سے آنے والی رپورٹوں میں 1850 تک انحطاط اور پریشان حالی کی کہانیاں تھیں۔

1860 تک بنکروں نے ایک نئی دشواری کا سامنا کیا۔ وہ اچھے قسم کی خام کپاس مناسب مقدار میں حاصل نہیں کرسکے۔ جب امریکن سول وار شروع ہوئی اور امریکہ سے روئی کی سپلائی بند ہوگئی تو برطانیہ نے ہندوستان کی طرف رخ کیا۔ ہندوستان سے خام کپاس کی برآمدات میں اضافہ ہوا اور خام کپاس کی قیمتیں بڑھ گئیں۔

ہندوستان میں بنکر سپلائی کے بھوکے تھے اور خام کپاس انتہائی اونچی قیمتوں پر خریدنے پر مجبور ۔ ایسی صورت حال میں بنائی کا کام یہ قیمتیں نہیں دے سکا۔

پھر 19 ویں صدی کے اختتام پر بنکروں اور دستکاروں کو ایک دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ ہندوستان میں فیکٹریوں اور کارخانوں نے مال بنانا شروع کردیا۔ اور بازار میں مشین سے بنے ہوئے سامان کی بہتات ہوگئی۔ اب بُنائی کی صنعتیں زندہ کیوں کر رہ سکتی تھیں؟


4۔ فیکٹریاں بنتی ہیں

پہلا کاٹن مل بمبئی میں 1854 میں بنا اور دوسال بعد اس نے سامان بنانا شروع کیا۔ 1862 تک چار مل کام کرنے لگے تھے جن میں 94,000 تکلے (spindles) اور 2,150 کرگھے لگے ہوئے تھے۔ تقریباً اسی زمانے میں کلکتے میں جوٹ مل قائم ہوئے۔ پہلا 1855 میں مکمل ہوا دوسرا سات سال بعد 1862 میں بن کر تیار ہوا۔ شمالی ہندوستان میں کانپور میں ایلگن مل 1860 میں شروع ہوا۔ اور ایک سال بعد احمدآباد کا پہلا کاٹن مل بنا۔ مدراس میں وہاں کے اسپننگ اینڈ ویونگ مل نے 1874 میں پیداوار شروع کی۔

ان صنعتوں کو شروع کس نے کیا؟ اس کے لیے سرمایہ کہاں سے آیا؟ ان ملوں میں کام کرنے کون آیا؟

Capture36

شکل 16 ۔ جمشید جی ٹاٹا جی جی بھائی

جی جی بھائی ایک پارسی بنکر کے بیٹے تھے۔ اپنے زمانے کے دوسرے بہت سے لوگوں کی طرح وہ بھی چین کی تجارت اور شپنگ میں لگے ہوئے تھے۔ ان کے پاس جہازوں کا ایک بڑا بیڑہ تھا مگر انگریزوں اور امریکینوں سے مقابلے نے انھیں 1850 میں اپنے جہاز بیچنے پر مجبور کردیا۔


4.1 اولین مہم جو کاروباری 

مختلف علاقوںمیں مختلف قسم کے لوگوں نے انڈسٹریز شروع کیں۔ آئیے ہم دیکھیں کہ یہ کون لوگ تھے۔ بہت سے بزنس گروپوں کی تاریخ چین سے ہونے والی تجارت تک جاتی ہے۔ جیسا کہ پچھلے سال آپ نے اپنی کتاب میں پڑھا تھا کہ آخر 18 ویں صدی سے انگریزوں نے ہندوستان سے افیون ، چین برآمد کرنے اور چین سے چائے انگلستان لے جانے کا کام شروع کیا۔ بہت سے ہندوستانی اس کاروبار میں جو نیر پارٹنر کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ انھوں نے سرمایہ فراہم کیا، سپلائی کا انتظام کرنے اور مال کو جہازوں سے روانہ کرنے میں مدد کی۔ تجارت سے کمانے کے بعد ، ان کاروباریوں میں سے چند کو ہندوستان میں کچھ صنعتی منصوبے شروع کرنے کا خیال آیا۔ بنگال میں دوارکا ناتھ ٹیگور نے تجارت میں سرمایہ کاری کی طرف رخ کرنے سے قبل چین کی تجارت سے بڑا پیسہ کمایا تھا۔ انھوں نے 1830 اور 1840 میں چھے جوائنٹ اسٹاک کمپنیاں قائم کیں۔ 1840 کے بزنس بحران میں دوسروں کے ساتھ ٹیگور کے منصوبے بھی ڈوب گئے۔ مگر بعد کو 19 ویں صدی میں چین سے تجارت کرنے والے وہ کامیاب صنعت کار بن گئے۔ بمبئی میں دنشاہ پیتت اور جمشید جی نوشیرواں ٹاٹا نے جنھوں نے ہندوستان میں بڑے بڑے صنعتی منصوبے شروع کیے تھے شروع میں اپنی کچھ دولت چین کی برآمدات سے اور کچھ خام کپاس انگلستان بھیج کر جمع کی تھی۔ ایک مارواڑی بزنس مین سیٹھ حکم چند جنھوں نے بھی1917 میں کلکتے میں پہلا جوٹ مل لگایا تھا، چین سے تجارتی کاروبار کیا تھا۔ یہی کچھ مشہور صنعت کار جی ڈی برلا کے والد ور ان کے دادا نے بھی کیا تھا۔

Capture37

شکل 17۔ وورارکا ناتھ ٹیگور

دورار کا ناتھ ٹیگور کا خیال تھا کہ ہندوستان مغربیت اور صنعتیت کے ذریعے ترقی کرے گا۔ انھوں نے جہازرانی ، جہاز سازی، کان کنی، بینکنگ ، پلانٹیشن اور انشورنس میں سرمایہ کاری کی۔


سرمایہ تجارت کے دوسرے سلسلوں سے بھی اکٹھا کیا گیا۔ مدراس کے کچھ تاجروں نے برما سے تجارتی کاروبار کیا، کچھ دوسرے تھے جنھوں نے مڈل ایسٹ اور مشرقی افریقہ سے رابطے استوار کیے ۔ کمرشل گروپ اور بھی تھے مگر یہ بیرونی تجارت سے براہ راست منسلک نہیں تھے۔ یہ گروپ ہندوستان کے اندر ہی کام کرتے تھے۔ سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے تھے۔ رقموں سے سرمایہ کاری (Banking money) کرتے تھے ۔ شہروں کے درمیان پیسہ منتقل کرتے تھے اور تاجروں کو سرمایہ فراہم کرتے تھے۔ جب صنعتوں میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم ہوئے تو ان میں سے بہتوں نے فیکٹریاں لگالیں۔

ہندوستانی تجارت پر نوآبادیاتیکنٹرول زیادہ ہوتا گیا تو وہ مواقع جن میں ہندوستانی تاجر کام کرسکتے تھے روز بروز محدود ہوتے گئے۔ یورپ میں بنی ہوئی مصنوعات کی تجارت سے انھیں الگ کردیا گیا تھا۔ انھیں زیادہ تر ان چیزوں کی برآمد کرنا ہوتی تھی جن کی برطانیہ کو ضرورت ہوتی تھی۔ مثلاً خام اشیا اور اجناس ، خام روئی، افیون گیہوں اور نیل ، انھیں آہستہ آہستہ شپنگ کے کاروبار سے بھی نکال باہر کیا گیا۔

پہلی جنگ عظیم تک حقیقت یہ ہے کہ ہندوستانی تجارت کے ایک بڑے حصے پر یوروپین مینیجنگ ایجنسیوں کا کنٹرول تھا۔تین بڑی ایجنسیاں تھیں برڈہیگلر اینڈ کو، اینڈریول اور جارڈین اسکز اینڈ کو۔ ان ایجنسیوں نے سرمایہ جمع کیا، جوائنٹ اکسچینج کمپنیاں قائم کیں اور ان کا انتظام کیا۔ اکثر موقوں پر ہندوستانی سرمایہ کاروں نے سرمایہ فراہم کیا جب کہ ساری سرمایہ کاری یورپین ایجنسیوں نے کی اور سارے کاروباری فیصلے بھی انھوں نے ہی لیے۔ یورپین تاجر صنعت کار اپنے اپنے چمبرس آف کامرس رکھتے تھے ، جن میں شریک ہونے کی اجازت ہندوستانی کارباریوں کو نہیں تھی۔


Capture38

شکل 18۔ مہم جو منصوبوں میں ساتھی۔ جے این ٹاٹا، آرڈی ٹاٹا، سرآرجے ٹاٹا اور سرڈی جے ٹاٹا۔ 1912 میں جے این ٹاٹا نے ہندوستان میں ، جمشیدپور کے مقام پر پہلا آئرن اینڈ اسٹیل ورکس کا کارخانہ قائم کیا۔ لوہے اور فولاد کا کام ہندوستان میں ٹکسٹائل کے کاروبار کے بہت بعد شروع ہوا۔ نوآبادیاتی ہندوستان میں صنعتی مشینیں ، ریلوے اور انجن عموماً درآمد کیے جاتے تھے ۔ اسی لیے کیپٹل گڈس کی صنعتیں حقیقتاً آزادی سے قبل کسی قابل ذکر پیمانے پر شروع نہیں ہوسکیں۔


4.2 کام کرنے والے کہاں سے آئے؟

فیکٹریوں کو کام کرنے والوں کی ضرورت تھی۔ فیکٹریوں کی تعداد بڑھنے سے یہ مانگ بھی بڑھی۔ 1901 میں ہندوستانی فیکٹریوں میں مزدوروں کی تعداد 5,84,000 تھی۔ 1946 تک یہی تعداد 24,36,000 ہوگئی۔ یہ مزدور آئے کہاں سے؟ 

زیادہ تر صنعتی علاقوں میں مزدور قرب و جوار کے شہروں سے آئے۔ جن کسانوں اور دستکاروں کو گاؤوں میں کوئی کام نہ مل سکا وہ کام کی تلاش میں صنعتی مراکز کی طرف گئے۔ 1911 میں بمبئی کی کاٹن انڈسٹریز میں پچاس فی صدسے زیادہ مزدور پڑوس کے شہر رتناگری سے آئے تھے۔ جب کہ کان پور کے ملوں کو کپڑے کی صنعت میں کام کرنے والے مزدور کان پور ضلعے کے گاؤں سے ملے۔ ملوں میں کام کرنے والے مزدور گاؤں اور شہر کے بیچ میں آتے جاتے رہتے تھے۔ تہواروں اور فصلوں کی کٹائی کے وقت وہ اپنے گاؤوں میں اپنے گھر آجاتے تھے۔

Capture39

شکل 19 ۔ بمبئی کے ایک مل کے نوجوان مزدور اوائل بیسویں صدی

مزدور اپنے گاؤں کے گھروں میں واپس جاتے تھے تو انھیں اچھے اچھے کپڑے پہننا اچھا لگتا تھا۔

ملازمت کی خبرجیسے جیسے پھیلتی تھی، مزدور ملوں میں کام ملنے کی توقع میں دور دراز کی مسافتیں طے کرتے تھے۔مثال کے طور پر یونائیٹڈ پراونسز سے یہ لوگ بمبئی کے کاٹن ملوں اور کلکتے  کے جوٹ ملوں میں گئے۔ کام ملنا ہمیشہ سے مشکل تھا حتیٰ کہ اس وقت بھی جب مل بے شمار ہوئے اور مزدوروں کی ضرورت اور مانگ میں بھی اضافہ ہوا۔ کام تلاش کرنے والوں کی تعداد ملنے والے کاموں کے مقابلے میں ہمیشہ زیادہ رہتی تھی۔ ملوں میں داخلہ بھی محدود تھا صنعت کار عموماً نئی بھرتی کے لیے ایک دلال (Jobbar) ملازم رکھتے تھے۔ عام طور پر یہ کام کرنے والا کوئی پرانا اور قابل اعتماد ملازم ہوتا تھا۔ وہ اپنے گائوں سے آدمی لاتا تھا، ان کو کام دلاتا تھا شہر میں قیام میں ان کی مدد کرتا تھا اور ضرورت پڑنے پر ان کے لیے روپیے پیسے کا انتظام بھی کردیتا تھا۔ اسی لیے یہ دلال (Jobber) ایک نہایت بااختیار اور اثر و رسوخ والا آدمی ہوجاتا تھا۔ اس نے بھی اپنے احسانوں اور مزدوروں کی دیکھ بھال کے لیے روپیے اور تحفے تحائف کا مطالبہ شروع کیا۔

وقت کے ساتھ ساتھ فیکٹریوں میں کام کرنے والوں کی تعداد بڑھی ۔ مگر بہرحال جیسا کہ آپ دیکھیں گے، کہ یہ مزدور بحیثیت مجموعی کل صنعتی کارکنوں کے تناسب میں کم ہی تھے۔

Capture40

شکل —20.  ایک مکھیا دلال

انداز اور کپڑوں کو دیکھیے جو دلال کی پوزیشن اور اس کے اختیارات کو ظاہر کرتے ہیں۔


ماخذE 

وسنت پارکر جو ایک زمانے میں بمبئی میں ایک مل کے مالک تھے کہتے ہیں:

’’مزدور اپنے لڑکوں کو مل میں نوکری دلانے کے لیے ان دلالوں کو روپیہ دیتے تھے۔ مل مزدور اپنے گاؤں سے جسمانی طور پر بھی اور جذباتی طور پر بھی بڑا تعلق رکھتے تھے۔ وہ فصل کاٹنے اور بونے کے لیے گھر جاتے تھے۔ کونکنی گھرجاتے دھان اور گھٹی اور ایکھ کاٹنے ۔ یہ طریقہ مانا ہوا طریقہ تھا۔ جس کے لیے مل بھی چھٹی دیتے تھے۔

(مینامنین اور نیرااڈارکر ۔ ون ہنڈ ریڈائیرز، ون تھاؤزنڈ وائسسز 2004)

Capturea41

شکل —21. کتائی کرنے والی مزدور عورتیں کام پر۔ احمد آباد مل میں

اسپننگ کے شعبے میں زیادہ تر عورتیں کام کرتی تھیں۔


ماخذ  F

بھائی بھوسلے، بمبئی کے ایک ٹریڈ یونینسٹ نے 1930 اور 1940 میں اپنے بچپن کو یاد کیا۔ ’’ان دنوں کام کی شفٹ دس گھنٹوں کی تھی۔ 5 بجے رات سے 3 بجے سہ پہر تک ۔ بھیانک کام کے گھنٹے۔ میرے پتاجی نے 35 برس کام کیا۔ انھیں استھما قسم کی کوئی بیماری ہوگئی پھر وہ اور کام نہ کرسکے … میرے پتا جی گاؤں واپس لوٹ گئے۔‘‘
(مینامنین اور نیرا اڈرکر، ون ہنڈریڈ ایئرز ون تھاؤزینڈ وائسسز)

5    صنعتی فروغ و نشونما کی انوکھی خصوصیات

یورپین مینجنگ ایجنسیاں ، جن کا ہندوستان میں صنعتی پیداوار پر غلبہ تھا کچھ خاص قسم کی پروڈکشن میں دل چسپی رکھتی تھی۔ انھوں نے چائے اور کافی کے باغات لگائے، ان باغوں کے لیے نوآبادیاتی حکومت سے سستے داموں پر زمینیں لیں اور کان کنی نیل اور جوٹ کے کاروبار میں سرمایہ لگایا ان میں سے زیادہ تر پیداواروں کی ضرورت بنیادی طور پر برآمدی تجارت کے لیے تھی ہندوستان میں بیچنے کے لیے نہیں۔
 انیسوںی صدی کے آخر میں جب ہندوستانی کاروباریوں نے صنعتیں قائم کرنا شروع کیں تو انھوں نے ہندوستانی بازاروں میں مانچسٹر کی مصنوعات سے مقابلے سے احتراز کیا۔چونکہ دھاگا برطانوی درآمد کا کوئی حصہ نہیں تھا اس لیے شروع میں کاٹن ملوں نے ہندوستان میں کپڑے کے بجائے موٹا سوتی دھاگا بنایا۔ اگر کبھی دھاگا درآمد بھی کیا گیا تو وہ ہمیشہ اعلیٰ قسم کا دھاگا ہوتا تھا۔ کتائی کے ہندوستانی ملوں میں تیار ہونے والا دھاگا ہندوستان میں کرگھے پر کام کرنے والے بنکر استعمال کرتے تھے یا پھر اسے چین برآمد کیا جاتا تھا۔
بیسویں صدی کی پہلی دہائی تک ہونے والی بہت سی تبدیلیوں نے صنعتیت کے انداز پر اثر ڈالا۔ سودیشی کی تحریک میں تیزی آئی اور نیشنلسٹوں نے بدیسی کپڑے کا بائیکاٹ کرنے کے لیے لوگوں کو تیار کرنا شروع کیا۔ صنعتی گروپوں نے اپنے مشترکہ مفادات کی حفاظت کے لیے حکومت پر محصولی تحفظ کو بڑھانے اور کچھ مزید رعائتیں دینے کے لیے دبائو ڈالنا شروع کیا۔ 1906 سے مزید یہ ہوا کہ ہندوستانی دھاگے کی چین کو جانے والی برآمدات میں انحطاط آیا وجہ یہ تھی کہ چین اور جاپان کے ملوں کی مصنوعات سے چین کے بازاروں میں ایک سیلاب سا آگیا تھا۔ چنانچہ  ہندوستان میں صنعت کاروں نے دھاگا بنانے کے بجائے کپڑا تیار کرنے پر اپنی توجہ کو منتقل کرنا شروع کردیا۔ 1900 اور 1912 میں کپڑے سے بنی ہوئی اشیاکی پیداوار دوگنی ہوگئی۔
Capture1

شکل  —22.مدراس چیمبرس آف کامرس کا پہلا دفتر

انیسویں صدی کے آخر میں مختلف علاقوں میں تاجروں نے بزنس کو منظم کرنے اور مشترکہ تشویشات سے متعلق مسائل کو طے کرنے کے لیے چیمبرس آف کامرس بنانے شروع کیے۔

 پھر بھی پہلی عالمی جنگ تک صنعتی نشوونما کی رفتار سست ہی تھی۔ جنگ نے ایک بالکل نئی صورت حال پیدا کردی برطانوی ملوں کی جنگی ضروریات کو پورا کرنے میں مصروفیت کی وجہ سے مانچسٹر سے ہندوستان آنے والی درآمدات میں بھی زوال آیا۔ ہندوستانی ملوں کے سامنے سامان سپلائی کرنے کے لیے اچانک وسیع گھریلو منڈی آگئی۔ جنگ طویل ہوئی، ہندوستانی ملوں سے بھی جنگ کی ضرورتوں سے متعلق سامان جیسے جوٹ کی تھیلیوں فوجی یونی فارم کے لیے کپڑے چھولدار یوں اور چمڑے کے جوتوں ۔ گھوڑوں اور خچروں کی زینوں اور بہت سی دوسری متعدد چیزوں کی سپلائی کا مطالبہ ہوا۔ نئے کارخانے لگے پرانی فیکٹریوں کو کئی کئی شفٹوں میں کام کرنا پڑا۔ بڑی تعداد میں نئے مزدور بھرتی کیے گئے ، مزدوروں کو زیادہ زیادہ دیر تک کام کرنا پڑا۔ جنگ کے برسوں میں صنعتی پیداوار میں زبردست اضافہ ہوا۔
جنگ کے بعد، مانچسٹر، ہندوستانی مارکٹ میں اپنی پچھلی پوزیشن کو پھر کبھی حاصل نہ کرسکا۔ امریکہ ، جرمنی اور جاپان سے مقابلے اور اپنے آپ جدید تر بنانے کے لائق نہ ہوسکنے کی وجہ سے ، جنگ کے بعد برطانیہ کی اقتصادیات کی شکست و ریخت ہوگئی۔ کپاس کی پیداوار میں شدید گراوٹ آئی اور برطانیہ سے سوتی کپڑے کی برآمدات میں بھی زبردست زوال ہوا۔ نوآبادیوں میں مقامی صنعت کاروں نے اپنی حیثیت کو مستحکم کیا۔ بیرونی مصنوعات کو ہٹایا اور گھریلو منڈی پر قبضہ کرلیا۔

5.1  چھوٹے پیمانے کی صنعتیں حاوی ہوتی ہیں

ایک طرف جب جنگ کے بعد فیکٹری والی صنعتوں نے بتدریج ترقی کی، بڑی صنعتیں اقتصادیات کا محض ایک چھوٹا حصہ رہ گئیں۔ ان میں سے زیادہ تر 1911 میں تقریباً 67 فی صد بنگال اور بمبئی میں تھیں۔ باقی ملک میں چھوٹے پیمانے پر ہونے والی پیداوار نے اپنا غلبہ بدستور رکھا۔ صنعتی مزدوروں کی چھوٹی سی تعداد نے رجسٹرڈ فیکٹریوں میں کام کیا۔ 1911 میں 5 فی صد اور 1931 میں 15 فی صد۔ باقی لوگوں نے اُن چھوٹے چھوٹے ورک شاپس اور گھریلو یونٹوں میں کام کیا جو عموماً گزرنے والوں کی نظروں سے اوجھل گلی کوچوں میں چلتے تھے۔
بعض مثالیں ایسی ہیں کہ حقیقتاً دستکاریوں کی پیداوار 20 ویں صدی میں بڑھ گئی تھی۔ یہ ہینڈ لوم کے اس شعبہ کے بارے میں بھی صحیح ہے جس کے بارے میں ہم بات کرچکے ہیں۔
مشین سے بنے ہوئے سستے دھاگے نے 19 ویں صدی میں کتائی صنعت کا صفایا کردیا۔ مگر بنکر دشواریوں کے باوجود زندہ رہے۔ 20 ویں صدی میں کرگھوں سے بنے ہوئے کپڑے کی پیداوار میں بتدریج اضافہ ہوا اور یہ 1900 اور 1940کے درمیان تقریباً تین گنی ہوگئی۔
Capture2

شکل —23.  ہاتھ سے بنا ہوا کپڑا

ہاتھ سے بنے ہوئے کپڑوں کے نفیس اور پیچیدہ ڈیزائنوں کو نقل کرنا ملوں کے لیے آسان نہیں تھا۔


نئے الفاظ

فلائی شٹل۔ بُنائی کے لیے یہ ایک میکانکی مشین جیسا آلہ ہے جسے رسیوں اور پلیو ں سے چلایاجاتا ہے۔ یہ تانے بانے میں افقی دھاگوں کو عمودی دھاگوں کے درمیان ڈالتا ہے۔ فلائی شٹل کی ایجاد نے بنکروں کے لیے بڑے کرگھے کے استعمال کو اور بڑے او ر چوڑے سائز میں کپڑابنانا ممکن کردیا۔

یہ ہوا کیسے؟

جزوی طور پر تو اس کا سبب ٹکنالوجی کی تبدیلیاں تھیں۔ دستکار نئی ٹکنالوجی کو اپناتے ہیں اگر وہ قیمتوں کو بہت زیادہ بڑھائے بغیر پیداوار کو بہتر کرتی ہے۔ اسی لیے ہم بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں بنکروں کو فلائی شٹل استعمال کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اس طریقے نے فی مزدور پیداوار کی رفتار بھی بڑھائی اور مزدوروں کی ضرورت کم ہوجانے کی وجہ سے ان کی مانگ بھی کم کردی۔ 1941 تک ہندوستان میں 35فی صدسے زیادہ کرگھوں میں فلائی شٹل لگ چکے تھے۔ٹراونکور، مدراس ، میسور، کوچین اور بنگال جیسے علاقوں میں یہ تناسب 70 اور 80 فی صدتک تھا۔ اس کے علاوہ دوسری اور چھوٹی چھوٹی اختراعات تھیں جنھوں نے اپنی پیداوار کو بہتر کرنے اور ملوں سے مقابلہ کرنے میں بنکروں کی بڑی مدد کی۔
بنکروں کے کچھ گروپ دوسرے گروپوں کے مقابلے میں مل انڈسٹری کے مقابلے سے زندہ بچ نکلنے کے لیے زیادہ اچھی پوزیشن میں تھے۔ بنکروں میں سے کچھ موٹا کپڑا بناتے تھے اور کچھ نفیس قسمیں تیار کرتے تھے۔ موٹا کپڑا غریب غربا خریدتے تھے اور اس کی مانگ میں زبردست اتار چڑھاؤ آتے تھے۔ خراب فصلوں اور قحط کے زمانے میں جب دیہی علاقوں کے غریبوں کے پاس کھانے تک کے لیے کچھ نہیں ہوتا تھا اور ان کی نقد آمدنیاں ختم ہوجاتی تھیں تب ان کے لیے کپڑا خریدنا ممکن ہی نہیں ہوتا تھا۔ اس کے مقابلے میں نفیس کپڑے کی مانگ ، جسے کھاتے پیتے لوگ خریدتے تھے نسبتاً زیادہ مستحکم رہتی تھی۔ یہ لوگ اس وقت بھی خریداری کرسکتے تھے جب غریب روٹی کو ترس رہا ہوتا تھا۔ قحط اور ناکامی نے ، بنارسی اور بلوچاری ساریوں کی خریدو فروخت پر کبھی کوئی اثر نہیں ڈالا۔ مزید یہ کہ، جیسا کہ آپ نے دیکھا ہے کہ مل مخصوص بُنائی اور خصوصی ڈیزائن کے کپڑوں کی نقل نہیں کرسکے، بُنے ہوئے کناروں والی ساریوں ، مدراس کی مشہور لنگیوں اور رومالوں کی جگہ ملوں کی مصنوعات نہیں لے سکیں۔
بنکر اور دستکار جنھوں نے بیسویں صدی کے دوران اپنی مصنوعات کی پیداوار کے سلسلے کو جاری رکھا تھا وہ یقینی طور پر خوشحال نہیں ہوئے۔ انھوں نے بڑی سخت زندگی گزاری اور بڑی مشقت کی۔ خاندان کے ہر فرد کو ، بشمول عورتیں اور بچے۔ مصنوعات کی تکمیل کے عمل کے مختلف مرحلوں میں اکثر کام کرنا پڑا۔ مگر پھر بھی یہ لوگ فیکٹریوں اور کارخانوں کے عہد میں محض ماضی کی باقیات  نہیں تھے ، ان کی زندگی اور ان کی محنت ، صنعتیت کے عمل کا ایک جزولاینفک تھی۔

Capture3

شکل—24.ہندوستان میں وہ مقامات جہاں بڑے پیمانے کی انڈسٹریز تھیں،1931 

دائرے مختلف علاقوں میں صنعتوں کے سائز بتاتے ہیں۔

6۔ اشیاکے لیے منڈی


ہم نے دیکھا ہے کہ برطانوی کارخانہ داروں نے ہندوستانی منڈی پر قبضہ جمانے کی کوشش کیسے کی۔ ہندوستانی بنکروں دستکاروں تاجروں اور صنعت کاروں نے نوآبادیاتی کنٹرول اور تسلط کی مزاحمت کی، محصولی کے تحفظ کا مطالبہ کیا اپنے لیے خود اپنی جگہیں پیدا کیں اور اپنی مصنوعات کے لیے مارکٹ کو وسعت دینے کی کوشش کی۔
مگر جب نئی مصنوعات بنتی ہیں تو انھیں خریدنے کے لیے لوگوں کو اکسانا ہوتا ہے انھیں ترغیب دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ سب کیسے کیا گیا؟
Capture4

شکل —25. گرائپ واٹر کیلنڈر 1928 ایم وی دھرندر ۔بچوں کے لیے بننے والی چیزوں کے اشتہار کے لیے بے بی کرشنا کی شبیہ
 کا استعمال بہت عام تھا۔

نئے خریدار پیدا کرنے کا ایک طریقہ تو اشتہارات ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اشتہارات مصنوعات کو پسندیدہ اور ضروری بناتے ہیں۔ یہ لوگوں کے ذہنوں کو تیار کرتے ہیں اور مصنوعات کی ضرورت کا احساس دلاتے ہیں۔ آج ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں ہمارے چاروں طرف اشتہارہی اشتہار ہیں۔ یہ اخباروں اور رسالوں میں چھپتے ہیں، اشتہاری تختوں پر ہوتے ہیں، سڑکوں پر دیواروں پر لکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ ٹیلی وژن میں دکھائے جاتے ہیں۔ لیکن اگر ہم مڑکر تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھیں گی کہ صنعتی عہد کے آغاز ہی سے اشتہارات نے مصنوعات کے بازار کو وسعت دینے اور نئے صارفی کلچر کی تشکیل میں ایک کردار ادا کیا ہے۔
جب مانچسٹر کے صنعت کاروں نے اپنا کپڑا ہندوستان میں بیچنا شروع کیا تو انھوں نے بنڈلوں پر لیبل چسپاں کیے۔ یہ ان لیبلوں کی ضرورت سامان بننے کے مقام اور کمپنی کو خریدار کے لیے مانوس بنانے کے لیے ہوتی تھی۔ لیبل سامان کی کوالٹی ، کی علامت بھی ہوتے تھے۔ خریدار جب لیبل پر موٹے موٹے حروف میں 'Made in Manchester' لکھا ہوا دیکھتا تھا تو توقع کی جاتی تھی کہ کپڑا خریدنے میں اسے زیادہ بھروسہ ہوگا۔
Capture5
شکل—(a)26). مانچسٹر لیبل، اوائل 20 ویں صدی۔ منڈی میں آنے والے سامان کی کوالٹی کی تصدیق کرتے ہوئے ۔ درآمد کیے ہونے کپڑے پر کارتک، لکشمی اور سرسوتی جیسی ہندوستانی دیوی دیوتاؤں کی تصویریں لیبل پر ہوتی تھیں۔  
شکل  —(b)26).مانچسٹرکے ایک لیبل پرمہاراجہ رنجیت سنگھ۔
مصنوعات کا وقار اوراحترام بڑھانے کے لیے تاریخی شبیہیں بھی لیبل پر ہوا کرتی تھیں۔

لیبلوں پر صرف الفاظ یا کوئی عبارت ہی نہیں ہوتی تھی ان میں تصویریں بھی ہوتی تھیں اور اچھی بنی ہوئی تصویر یں ہوتی تھیں۔ اگر ہم ان لیبلوں کو غور سے دیکھیں تو ہمیں، کارخانے داروں کی سوچ ان کے منصوبوں اور لوگوں کو اپیل کرنے کے ان کے طریقوں کا وافر علم ہوسکتا ہے۔
ان لیبلوں پر ہندوستانی دیوی دیوتاؤں کی شبیہیں بڑی پابندی سے ہوا کرتی تھیں۔ انھیں دیکھ کر کچھ ایسا لگتا تھا کہ جیسے دیوی دیوتاؤں سے یہ تعلق، فروخت کیے جانے والے سامان کی مقدس تصدیق کردیتا تھا۔ کرشنا یا سرسوتی کی ان چھپی ہوئی شبیہوں کا مقصد ایک بیرونی ملک کے  کارخانہ دار کو ہندوستانیوں کے لیے مانوس ظاہر کرنا بھی ہوتا تھا۔
آخر 19 ویں صدی میں کارخانے دار، اپنے سامان کو مقبول بنانے کے لیے کیلنڈر بھی چھاپنے لگے تھے۔ اخباروں اور رسالوں کے برعکس کیلنڈر وہ لوگ بھی استعمال کرتے تھے جو پڑھ نہیں سکتے تھے۔ یہ کیلنڈر، چائے خانوں اور غریبوں کے گھروں میں بھی ہوتے تھے دفتروں اور متوسط طبقے کے لوگوں کے مکانوں میں بھی۔ جو لوگ ان کیلنڈروں کو اپنے یہاں لٹکاتے تھے انھیں سارے سال روز ہی یہ اشتہارات دیکھنے پڑتے تھے ان کیلنڈروں میں بھی ہم نئی مصنوعات بیچنے کے لیے دیوی دیوتاؤں کی شبیہوں کو استعمال ہوتا ہوا دیکھتے ہیں۔
Capture6
شکل —27.سن لائٹ سوپ کیلنڈر،1934۔
یہاں لارڈ وشنو کو آسمانوں سے سورج کی روشنی کو لاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔


دیوی دیوتائوں کی شبیہوں کی طرح اہم شخصیتوں ، بادشاہوں اور نوابوں کی تصویریں بھی اشتہارات اور کیلنڈروں کو زینت بخشتی تھیں۔ پیغام عموماً یہ ہوتا تھا ’’اگر آپ شاہانہ شخصیت کا احترام کرتے ہیں تو اس چیز کی بھی عزت کیجیے۔‘‘ جب مصنوعات کو بادشاہ استعمال کررہے ہوں یا وہ شاہی حکم پر بنائی جارہی ہوں تو ان کی کوالٹی پر سوال نہیں اٹھائے جاسکتے۔
جب ہندوستانی کارخانہ داروں نے اشتہارات دیے تو نیشنلسٹ پیغام صاف اور واضح تھا۔ یعنی اگر آپ کو ملک کی پرواہ ہے تو ان چیزوں کو خریدیے جو ہندوستانی بناتے ہیں۔ اشتہارات سودیشی کے قوم پرستانہ پیغام کو پھیلانے کا ایک ذریعہ بن گئے۔
Capture7
شکل —28. ہندوستانی مل کے کپڑے کا ایک لیبل ۔ایک دیوی، احمد آباد کے ایک مل کے بنائے ہوئے کپڑے پیش کرتی ہوئی اور لوگوں سے ہندوستان میں بنی ہوئی چیزوں کو استعمال کرنے کے لئے کہتی ہوئی۔

ماحصل

صنعتوں کے عہد کا مطلب بالکل واضح  طور پر ٹکنالوجیکل تبدیلیاں تھا۔ کارخانوں کا اضافہ تھا اور نئی صنعتی مزدوروں کی نئی کھیپ کاوجودمیں آنا تھا۔ مگر بہرحال جیسا کہ آپ نے دیکھا ہے کہ چھوٹے پیمانے پرہونے والی پیداوار ،صنعتی منظر نامے کا ایک حصہ بدستور رہی۔

شکل 1 اور شکل 2 کو ایک بار پھر دیکھیے ان شبیہوں کے بارے میں اب آپ کیا کہیں گے جو ان میں پیش کی گئی ہیں؟

اختصار کے ساتھ لکھیے

مندرجہ ذیل کی وضاحت کیجیے؟
(a) برطانیہ میں، اسپننگ جینی پر مزدور عورتوں نے حملہ کیا۔
(b) سترھویں صدی میں یورپ کے شہروں کے تاجروں نے گاؤں سے ہی کسانوں اور دست کاروں کو بھرتی کرنا شروع کیا۔
(c)  سورت کی بندرگاہ اٹھارھویں صدی کے آخر میں انحطاط کا شکار ہوئی
(d) ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں بنکروں پر نظر رکھنے کے لیے گماشتے مقرر کیے۔
ہر بیان کے سامنے صحیح یا غلط لکھیے
(a)
 19 ویں صدی کے آخر میں یورپ میں مزدوروں کی مجموعی تعداد کا80فی صد اس صنعتی شعبہ میں ملازم تھا جو ٹکنالوجی کے اعتبار سے ترقی یافتہ شعبہ تھا۔
(b) نفیس کپڑے کی بین الاقوامی مارکٹ پر 18 ویں صدی تک ہندوستان کا غلبہ تھا۔
(c) امریکن سول وار کا نتیجہ ، ہندوستان سے کپاس کی برآمد میں کمی کی صورت میں نکلا۔
(d)  لائی شٹل کے آجانے سے کرگھوں پر کام کرنے والے اپنی پیداواریت کو بہتر کرنے کے لائق ہوگئے۔
Proto- industrialisation سے کیامراد ہے؟ وضاحت کیجیے۔

تبادلۂ خیال کیجیے

19ویں صدی کے یورپ میں بعض صنعت کاروں نے مشینوں کے مقابلے میں ہاتھ سے کام کرنے والے مزدوروں کو کیوں ترجیح دی؟
2۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستانی بنکروں سے سوتی اور ریشمی کپڑوں کی باقاعدہ سپلائی کس طرح حاصل کی؟
ذرا تصور کیجیے کہ آپ سے ایک انسائیکلو پیڈیا کے لیے برطانیہ اور کپاس کی تاریخ کے بارے میں ایک مضمون لکھنے کے لیے کہاگیا ہے۔ پورے باب میں دی گئی معلومات کو استعمال کرتے ہوئے اپنا مضمون لکھیے۔
پہلی عالمی جنگ کے دوران ہندوستان میں صنعتی پیداوار میں اضافہ کیوں ہوا؟

پروجیکٹ

اپنے علاقے کی کسی ایک انڈسٹری کا انتخاب کیجیے اور اس کی تاریخ معلوم کیجیے ۔ ٹکنالوجی کیوں کر بدلی؟ مزدور کہاں سے آتے ہیں؟ مصنوعات کا اشتہار کیسے ہوتا ہے اور وہ فروخت کیسے ہوتی ہیں؟ انڈسٹری کی تاریخ کے بارے میں مزدوروں اور مالکوں کے خیالات معلوم کرنے کے لیے ان سے بات کرنے کی کوش کیجیے۔