Skip to content
hidustan or asri dunya Chapter-5

5


پرنٹ کلچر اور جدید (ماڈرن) دنیا


چھپی ہوئی چیزوں کے بغیر دنیا کا تصور کرنا ہمارے لیے دشوار ہے۔چھپائی اور طباعت کی شہادتیں ہمیں اپنے چاروں طرف ہر جگہ ملتی ہیں۔کتابوں،رسالوں،اخباروں میں،معروف پنٹنگوں اور اُن تمام دوسری چیزوں،میں تھیٹر کے پروگراموں سرکاری اعلانات ،کلینڈروں ڈائریوں،اشتہاروں سڑک کے کنارے پر لگے ہوئے سینما کے پوسٹروں میں یہ شہادتیں بکھری پڑی ہیں۔ہم طباع شدہ، چھُپا ہوا ادب پڑھتے ہیں،چھپی ہوئی تصویریں دیکھتے میں اخباروں میں فریب پڑھتے ہیں،اور ان عوامی مباحثوں کی کی واقفیت حاصل کرتے ہیں جو چھپی ہوئی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔ طباعت کی دنیا ہمارے لیے کچھ ایسی ہوگئی ہے کہ ہم اکثر یہ بھول بھی جاتے ہیں کہ ایک زمانہ طباعت سے پہلے کا بھی تھا۔ہم ممکن ہے کہ یہ محسوس نہ کریں کہ طباعت کی اپنی ایک تاریخ ہے جس نے،درحقیقت ہماری آج کی دنیا کی تصویر گری کی ہے۔یہ تاریخ کیا ہے؟طبع شدہ لٹریچر کب سے رواج میں آیا؟نئی دنیا کے بنانے میں اس نے کیوں کر مدد کی؟
اس باب میں ہم طباعت کی ترقی اور اس کے فروغ ونشوونما پر نظرڈالیں گے،مشرقی ایشیا میں اس کے آغازسے لے کر یورپ اور ہندوستان میں اس کے رواج پانے تک ہم ٹکنالوجی کے پھیلاؤ کے اثرات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے اور دیکھیں پریس اور طباعت کے آنے سے سماجی زندگی اور تمدن میں کیسے تبدیلی ہوئی۔
Capture8

شکل1۔طباعت کے عہد سے قبل کتاب کی تیاری’’اخلاق ناصری1995سے۔

یہ ہندوستان میں طباعت کے آغاز سے بہت پہلے سولھویں صدی میں ایک شاہی ورک شاپ ہے۔
آپ متن کو املا کراتے اسے لکھتے اور اسے مصور بناتے دیکھ سکتے ہیں۔طباعت کے زمانے سے قبل ہاتھ سے لکھنا اور تصوریں بنانے بڑی اہمیت رکھتا تھا۔سوچیے کہ پرنٹنگ مشین کے آنے کے بعد فن کی ان اصناف پر کیا گزری۔

نئے الفاظ

Calligraphy۔حسین اور تخلیقی نقاشی میں لکھائی کا فن


1اولین مطبوعہ کتابیں


طباعت کی پہلی قسم کی ٹکنالوجی کی ایجاد چین جاپان اور کوریا میں ہوئی تھی۔یہ ہاتھ سے چھاپنے کا ایک طریقہ تھا۔594قبل مسیح اور اس کے بعد،چین میں کتابیں کاغذ کو روشنائی لگے ہوئے لکڑی کے ٹکڑوں پر گھس کر چھاپی جاتی تھیں،یہ طریقہ ایجاد بھی وہیں ہوا تھا۔چونکہ باریک اور مسام دار کا غذ پر دونوں طرف چھپائی نہیں ہوسکتی تھی،اس لیے روایتی چینی اکارڈین کتاب(accordian book)تہہ کرلی جاتی تھی اور ایک طرف سی دی جاتی تھی۔انتہائی مشاق ماہر دست کار،خوبصورت کتابت(Calligraphy)کی انتہائی صحیح نقل کردیتے تھے۔
چین میں شاہی ریاست،ایک طویل چرح تک طبع شدہ مواد تیار کرنے والا اہم ترین ادارہ رہی۔چین میں بیوروکریسی کا ایک بہت بڑا نظام تھا جو اپنے عملے کی بھرتی سول سروس امتحانوں کے ذریعے کرتا تھا۔اس امتحان کے لیے بڑی تعداد میں درسی کتابیں شاہی ریاست کی سرپرستی میں چھپتی تھیں۔16ویں صدی سے امتحان میں بیٹھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوااور اس نے طباعت کے کام کو بھی بہت بڑھا دیا۔
سترہویں صدی آتے آتے جب چین میں شہری کلچر پھولا پھلا تو طباعت کی استعمال بھی متنوع ہوئے۔طباعت اب محض پڑھے لکھے حکام ہی نہیں استعمال کرتے تھے اب تاجروں اور کاروباریوں نے بھی اپنے روزمرہ کاموں جیسے تجارتی معلومات حاصل کرتے ہیں اس کو استعمال کرنا شروع کردیا۔مطالعہ خالی اوقات کی ایک اہم سرگرمی بنتا گیا۔نئے بڑھنے والوں نے افسانوی بیانیوں،شاعری،خودنوست سوانح،ادبی شاہکاروں کے مجموعے اور رومانی ڈراموں کو ترجیح دی۔
امیر خواتین نے پڑھنا شروع کیا اور بہت سی عورتوں نے اپنے اشعار اور اپنے لکھے چھوٹے چھوٹے ڈرامے شائع کرنے شروع کیے۔تعلیم یافتہ حکام کی بیویوں نے اپنی تخلیقات چھپواتیں،داشتاؤں نے اپنی زندگیوں کے حالات لکھے۔
مطالعے کے اس نئے کلچر کے ساتھ نئی ٹکنالوجی آئی۔آخر19ویں صدی میں جب مغربی قوتوں نے چین میں اپنی چکویاں قائم کیں،مغرب کی طباعت کے طریقے اور میکانکی پریس درآمد ہونے لگے۔مغربی طرز کے اسکولوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی وجہ سے شنگھائی طباعت کے نئے کلچر کا مرکز بن گیا۔اب تبدیلی کا رخ ہاتھ کی طباعت سے بتدریج میکانکی طباعت کی طرف تھا۔
Capture9

شکل2۔ڈائمنڈستر کا ایک صفحہ

1.1طباعت جاپان میں

چین سے آنے والے بدھسٹ مشنریز نے770-768قبل مسیح کے قریب جاپان میں ہاتھ سے چھاپنے کی ٹکنالوجی کو متعارف کرایا۔868قبل مسیح میں چھپنے والی قدیم ترین جاپانی کتاب’بدھسٹ ڈائمنڈ سوتر‘ہے۔یہ چھے صفحات کے متن اور ووڈکٹ تصویروں پر مشتمل ہے۔تصویریں کپڑوں پر تاش کے پتوں اور کرنسی کے نوٹوں پر بھی چھاپی گئیں۔قرون وسطیٰ کے جاپان میں شاعروں اور نثرنگاروں کی تخلیقات باقاعدہ شائع ہوتی تھیں۔کتابیں سستی ہوتی تھیں اوربڑی تعداد میں ہوتی تھیں۔
بصری مواد کی طباعت نے پبلشنگ کے بڑے دلچسپ طورطریقوں کی طرف رہنمائی کی آخر اٹھارہویں صدی میں،ایڈو(Edo)(بعد کو جو ٹوکیوکہلایا)کے پھلتے پھولتے شہری حلقوں میں پینٹنگ کے مصور مجموعے شائع ہوئے جن میں آرٹسٹوں،داشتاؤں اور چائے خانوں کے اجتماعات کی تصویروں میں شاندار شہری تہذیب پیش کی گئی۔
لائبریریوں اور کتاب کی دوکانوں میں ہاتھ سے چھاپی ہوئی مختلف چیزوں کی بہتات تھی۔کتابیں خواتین کے بارے میں ،موسیقی کے آلات سے متعلق کتابیں،حساب کتاب اور چائے سے متعلق ہونے والی تقریبات کے موضوع پر کتابیں،فلاور ارینجمنٹ،اخلاق وآداب،کھاناپکانے اور مشہورمقامات کے بارے میں کتابوں کی فراوانی تھی۔

باکس1
Kitagawa Utamaro،1753میں ایڈومیں پیداہوا۔آرٹ کی قسم میں جو Ukiyoکہلاتی تھی اور جس کا مطلب تھا تیرتی دنیا کی تصویریں یا عام انسانی تجربات خصوصاًشہری زندگی کے تجربات کی پیش کش میں اپنی دین کے لیے مشہور تھا۔اس کی تصویروں کی نقلیں امریکہ اور یورپ پہنچیں اور Manetاور وان گاگ جیسے فن کاروں کوبہت متاثر کیا۔Tsutaya  Juzaburoجیسے پبلشرز نے موضوعات کا انتخاب کیا اور فن کاروں کو کام تفویض کیا جنھوں نے موضوعات کے خاکے بنائے۔پھر ایک ماہر کندہ کارنے ڈرائنگ کو لکڑے ایک بلاک پر چسپاں کیا اور پھر ڈرائنگ کے مطابق نقش ونگار مکڑی پر کندہ کردیئے۔اور اس طرح پینٹر کے بنائے ہوئے خطوط کا ایک پرنٹنگ بلاک بنادیا۔اس سارے عمل میں اصل ڈرائنگ توضائع ہوجاتے ہیں صرف پرنٹس بچ جاتے ہیں۔
Capture10

شکل3۔Kitagawaکا بنایا ہوا ایک Ukiyoپرنٹ


Capture11

شکل4۔صبح کا ایک منظر۔شن مان کیوبو کا ایک یوکیوپرنٹ،آخر18ویں صدی۔

ایک مرد کھڑکی سے برف باری کا منظردیکھ رہا ہے جب کہ عورتیں چائے بنارہی ہیں اور دوسرے گھریلوکاموں میں لگی ہوئی ہیں۔

2۔ یورپ  میں پرنٹ کی آمد

 شاہراہ ریشم (سلک روٹ )سے صدیوں تک چین سے ریشم اور مصالحے یورپ جاتے رہے۔گیارہویں صدی میں اسی راستے سے یورپ میں چین کا کاغذ پہنچا۔کاغذ نے کاتبوں کے بڑی احتیاط سے لکھے ہوئے مسودوں کی نقلیں تیار کرنا ممکن بنادیا۔پھر1295میں عظیم سیاح اور کھوجی مارکوپولو چین کی برسوں کی تحقیق تفتیش کے بعد اٹلی واپس آیا جیسا کہ آپ نے اوپر پڑھا ہے کہ چین ووڈبلاک پرنٹنگ ٹکنالوجی سے واقف ہوچکا تھا۔مارکوپولو اس ٹکنالوجی کو اپنے ساتھ لایا اور اب اطالویوں نے ووڈبلاکس سے کتابیں تیار کرنا شروع کردیا اور جلدی ہی یہ ٹکنالوجی یورپ کے دوسرے حصوں میں پھیل گئی۔کتابوں کے نفیس اڈیش اب بھی بہترین اور قیمتی چیری اوراق(VELLEM)پر ہاتھ سے لکھ کر تیار ہوتے تھے۔اور یہ ہوتے تھے امراء اور متمول خانقاہوں کی لائبریریوں کے لیے جو چھپی ہوئی کتابوں کو سستی اور سوقیانہ کہہ کران کا مذاق اڑاتے تھے۔تاجراور یونیورسٹیوں کے طالب علم بہرحال ان چھپی ہوئی سستی کتابوں کو ہی خریدتے تھے۔
چوں کہ کتابوں کی مانگ میں اضافہ ہوا اس لیے سارے یورپ کتب فروشوں نے بہت سے مختلف ملکوں میں کتابیں برآمد کرنی شروع کردیں۔مختلف جگہوں پر کتاب میلے لگے۔بڑھی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے قلمی مسودے تیار کرنے کے نئے نئے طریقے سوچے گئے۔ہاتھ سے لکھنے والے اور کاتبوں کو اب صرف متمول اور بارسوخ سرپرست ہی ملازم نہیں رکھتے تھے اب انھیں کتب فروش بھی اپنے یہاں رکھنے لگے۔ایک کتب فروش کے لیے اکثر ایسے پچاس زیادہ کاتب کام کرتے تھے۔
مگرقلمی نسخوں کی تیاری کتابوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کومطمئن نہ کرسکی۔نقل کرنا،ایک قیمتی،محنت طلب اور وقت طلب کاروبار تھا۔مسودے نازک ہوتےتھے،ان سے کام کرنا جوکھم کاکام ہوتاتھا،انہیں ادھر ادھر لانا لے جانا اور پڑھنا بھی آسان نہیں تھا۔اسی لیے ان کا سرکولیشن محدودہی رہا۔کتابوں کی روزافزوں مانگ کی وجہ سے ووڈبلاک پرنٹنگ بتدریج زیادہ مقبل ہوتی گئی۔پندرہویں صدی تک یورپ میں کنٹرول پر تاش کے پتوں پر چھپائی اور مذہبی تصویروں کو اور ان کے ساتھ مختصر عبارتوں کی پرنٹنگ میں ووڈبلاکس بڑے پیمانے پرہونے لگے تھے۔
متون کی جلدی اور سستی نقلوں کی ضرورت بڑے واضح طورپر بہت بڑھ گئی تھی۔یہ کام صرف پرنٹنگ کی کسی نئی ٹکنالوجی کی مدد ہی سے ممکن تھا۔ایسی ٹکنالوجی کی دریافت سرملStras bgourgجرمنی میں ہوئی جہاں جان گٹنبرگTohon Gutenbergنے1430میں پہلا پرنٹنگ پریس بنایا۔

نئے الفاظ

vellum۔جانوروں کی کھال سے تیار شدہ نفیس چرمی کاغذ

سرگرمی

تصورکیجیے کہ آپ مارکوپولوہیں۔چین سے ایک خط لکھیے اور پرنٹ کی اس دنیا کا حال بیان کیے جو آپ نے وہاں دیکھی۔

2.1گٹبرگ اور پرنٹنگ پریس


گٹنبرگ ایک مرچنٹ کالڑکاتھااور ایک بڑی زرعی ریاست پر اس کی پرورش ہوئی تھی۔بچپن سے اس نے واتن بناتے ہوئے اور زیتون کا تیل نکالتے ہوئے دیکھاتھا۔نتیجتاًاس نے پتھروں پر پالش کرتے کا فن سیکھ لیاایک ماہر سنار بنا اور چھوٹے چھوٹے زیوروں کے لیے شیشے کے سانچے بنانے میں بھی مہارت حاصل کرلی۔اپنے اس علم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گٹنبرگ نے موجودہ ٹکنالوجی کو اپنی ایجاد کو ڈیزائن کرنے میں اپنایا۔زیتون کی گھانی(olive psess)نے پرنٹنگ پریس کا نومنہ اسے فراہم کردیااور سانچے دھات کے حروف ڈھالنے میں استعمال کیے گئے۔1448تک گٹنبرگ نے پورا نظام مکمل کرلیا۔پہلی کتاب جواس نے چھاپی وہ بائبل تھی۔تقریباً180جلدیں چھاپی گئیں اور اس کام میں تین سال لگے۔اس زمانے کے معیاروں کے لحاظ سے یہ رفتارتیزتھی۔
Capture12
شکل5۔جان گٹنبرگ کی ایک تصویر

نئی ٹکنالوجی نے ہاتھ سے کتابیں تیارکرنے کے موجودہ فن کو ہٹایانہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ چھپی ہوئی کتابیں اپنی ظاہری شکل اور اپنی ترتیب وتنظیم میں ہاتھ سے لکھے ہوئے مسودوں سے بڑی قریبی مشابہت رکھتی تھیں۔دھات کے حرفوں نے ہاتھ سے لکھے ہوئے حروف کے آرائشی انداز کی پیروی کی۔صفحات کے حاشیے بیل بوٹوں اور دوسرے نمونوں سے سجائے گئے۔اور تصویروں میں رنگ بھرے گئے۔
امیروں کے چھپنے والی کتابوں میں چھپے ہوئے ورق پر جگہ خالی چھوڑدی جاتی تھی۔ہر خریدار اس پر ہنسنے ولاے ڈیزائنوںکا انتخاب کرسکتا تھااور یہ فیصلہ بھی وہی کرسکتا تھا کہ کتاب پر تصویریں پینٹنگ کا کون سا اسکول بنائے گا۔
1450اور1550کے درمیانی سوبرسوں میں پرنٹنگ پریس یورپ کے اکثر ملکوں میں لگ گئے۔کام کی تلاش اورنئے پریس لگانے میں مدد کرنے کے لیے پرنٹرس جرمنی سے دوسرے ملکوں میں گئے۔پرنٹنگ پریس بڑھے ساتھ ہی کتابوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا۔پندرہویں صدی کے نصف آخر میں چھپی ہوئی کتابوں کی دوکروڑجلدیں یورپ کے بازاروں میں تھیں16ویں صدی میں یہ تعداد بڑھ کر200ملین کے قریب ہوگئی۔ہاتھ سے چھپائی مگر میکانکی چھپائی کے طریقے طباعت میں انقلاب پیدا کردیا۔
Capture13

شکل6۔گٹنبرگ پرنٹنگ پریس

پینچ سے لگے ہوئے بڑے ہینڈل کودیکھیے۔یہ بڑاہینڈل پینچ کو گھمانے اور اس پر نٹنگ بلاک پر پینٹ کو نیچے دبانے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔جو ایک کاغذ کے ایک نم ورق کے اوپر رکھی ہوتی تھیں۔گٹنبرگ نے رومن حروف تہجی کے 26حروف دھات میں ڈھالے اور متن کے اورمختلف الفاظ لکھنے کے لیے انھیں کھسکانے یا حرکت دینے کا طریقہ نکالا۔اس کی وجہ مشین متحرک ٹائپ پرنٹنگ مشین کہلائی۔اگلے تین سوبرسوں تک یہی ٹکنالوجی پرنٹ کی بنیادی ٹکنالوجی رہی۔اس وقت کے مقابلے میں جب لکری پر پرنٹ بلاک تیار کیاجاتاتھااب کتابیں زیادہ تیزی سے چھاپی جانے لگیں۔گٹنبرگ پریس ایک گھنٹے میں 250ورق ایک طرف چھاپ سکتا تھا۔

نئے الفاظ

Platen۔چھاپے کی مشین میں لگی ہوئی ایک پلیٹ جو کاغذ کو دبائے رکھتی ہے۔ایک زمانے میں لکڑی کی بنتی تھی اب اسٹیل کی بنتی ہے۔

شکل7۔گٹنبرگ کی بائبل کے صفحات۔یورپ پہلی چھپی ہوئی کتاب- گٹنبرگ نے تقریباً180کاپیاں چھاپیں تھیں،دست وبردزمانہ سے بمشکل پچاس کاپیاں بچی ہیں۔

Capture14

بائبل کے ان صفحات کو غورسے دیکھیے یہ محض نئی ٹکنالوجی کی پیداوار نہیں تھے متن نئے گٹنبرگ پریس میں دھات کے ٹائپ سے چھاپا تھا مگر حاشیے بڑی احتیاط سے ڈیزائن کیے گئے تھے اور رنگ وغیرہ ،آرٹسٹ نے ہاتھ سے لگا ئے تھے۔کوئی دوکاپیاں یکساں نہیں تھیں۔ہر کاپی کا ہر صفحہ مختلف تھا۔بظاہراگر دوکاپیاں ایک جیسی نظرآئیں تب بھی غورسے دیکھنے سے فرق کا پتہ چل جائے گا۔رئوسااورامرا یکسانیت کی اس کمی کو پسند کرتے تھے۔ان کے پاس اس وقت جو چیز ہوتی تھی اسے آپ انوکھا کہنے کا دعویٰ کرسکتے تھے کیوں کہ کسی دوسرے کے پاس ہوبہوایسی ہی کاپی دوسری نہیں ہوسکتی تھی—متن میں بہت سی جگہوں پر آپ حروف کے اندررنگ کا استعمال دیکھیں گے۔اس کے دوفائدے تھے۔یہ صفحے کی رنگینی میں اضافہ کرنا تھا اور تمام مقدس الفاظ پر ان کی اہمیت بتانے کے لیے زوردیتا تھامگر متن کے ہر صفحے پر رنگ ہاتھ سے لگتاتھا۔گٹنبرگ نے متن سیاہی میں چھاپاتھا،جگہیں چھوڑدی تھیں تاکہ رنگ بھراجاسکے۔
Capture15

شکل8۔ایک پرنٹر کا ورک شاپ 16ویں صدی

یہ تصویر بتاتی ہے کہ سولہویں صدی میں ایک پرنٹر کا ورک شاپ کیسا دکھائی دیتا تھا۔سارے کام ایک چھت کے نیچے ہورہے ہیں،سامنے دائیں طرف ٹائپ کارکام کررہے ہیں،بائیں طرف کچے پروف تیار ہورہے ہیں،دھات کے حروف پر روشنائی لگائی جارہی ہے۔پیچھے پرنٹرس پریس کے پیچ گھمارہے ہیں ان کے قریب ہی پروف پڑھنے والے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔بالکل سامنے فائنل کام ہے۔چھپے ہوئے دوصفحوں کا ورق،سلیقے سے گڈیوں میں لگے ہوئے۔جلد بندی کے منتظر۔

نئے الفاظ

کمپوزیٹر—ٹائپ کار—وہ شخص جو متن کو چھاپے جانے کے لیے لکھتا ہے۔گیلی—کالموں کی صورت میں نکالے جانے والا کچا پروف


3    طباعت کا انقلاب اور اس کا اثر

طباعت کا انقلاب تھا کیا؟یہ محض ایک ترقی نہیں تھا،کتابیںتیار کرنے کا صرف ایک نیا طریقہ نہیں تھا،اس نے لوگوں کی زندگیاں بد ل دیں،معلومات اور علم سے ان کے رشتوں کو بدل دیا۔اس نے عوامی تصورات پر اثر ڈالا،چیزوں کو دیکھنے کی نئی راہیں واکردیں۔آئیے ہم ان میں سے کچھ تبدیلیوں کا جائزہ لیں۔

سرگرمی

آپ ایک کتب فروش ہیں۔نئی،سستی اور چھپی ہوئی کتابوں کا اشتہار دینا چاہتے ہیں—اپنی دوکان کی سامنے لگانے کے لیے ایک پوسٹر ڈیزائن کیجیے۔

3.1مطالعہ کرنے والی عوام

پرنٹنگ پریس کے ساتھ پڑھنے والی ایک نئی پبلک وجود میں آگئی۔چھپائی نے قیمتوں پر آنے والی لاگت کوکم کردیا ہر کتاب کو تیار کرنے میں جو وقت لگتا تھا اور جتنی محنت کرنا پڑتی تھی وہ کم ہوگئی۔اور بڑی آسانی سے بے شمار کاپیاں چھاپناممکن ہوگیا۔بازار میں کتابوں کا سیلاب آگیا،کتابیں پڑھنے والوں کی بڑی تعداد کی دسترس میں آگئیں۔
کتابوں تک آسان رسائی نے مطالعے کا ایک نیا کلچر جنم دے دیا۔پہلے پڑھنااورمطالعہ کرنا روسااور امرا تک محدود تھا۔عام آدمی ایک زبانی تہذیب میں زندہ تھا۔مقدس متون ان کے سامنے پڑھے جاتے تھے اور یہ سنتے تھے داستان گو داستانیں سناتے تھے اور یہ سنتے تھے۔لوک کہانیاں بیان کی جاتی تھیں اور یہ سنتے تھے ۔معلومات زبانی منتقل ہوتی تھی۔لوگ اجتماعی طور پر کہانیاں اور داستانیں سنتے تھے تماشا دیکھتے تھے۔آٹھویں باب میں آپ دیکھیں گے کہ ان لوگوں نے خاموشی کے ساتھ انفرادی طورپر کتابیں نہیں پڑھیں۔پریس اور پرنٹ کے آنے سے پہلے کتابیں نہ صرف یہ کہ مہنگی تھیں بلکہ وہ اچھی تعداد میں چھاپی بھی نہیں جاسکتی تھیں۔آج کتابیں لوگوں کے بڑے حلقوں تک پہنچ سکتی ہیں۔اگر پہلے ایک سننے والی پبلک تھی تو آج ایک پڑھنے والی جنتا ہے۔
مگر یہ تبدیلی اتنی سیدھی سادی بھی نہیں تھی۔کتابیں صرف خواندہ لوگ ہی پڑھ سکتے تھے،اور بیسویں صدی تک ،خواندگی کی شرح یورپ کے اکثر ملکوں میں بڑی نیچی تھی۔ایسی صورت حال میں پبلشرز عام آدمی کو چھپی ہوئی کتابوں کی طرف کیوں کر مائل کرسکتے تھے؟ایسا کرنے کے لیے چھپی ہوئی چیزوں کی دوررس پہنچ کو انھیں ذہن میں رکھنا تھا۔وہ لوگ بھی جو پڑھتے نہیں تھے   پڑھ کر سنائی جانے والی کتاب کو سن کر یقینا لطف اٹھاسکتے تھے۔چنانچہ پبلشرزنے مقبول داستانوں، لوک کہانیوں اور بے شمار تصویروں والی کتابیں چھاپنی شروع کیں۔یہ لوک گیت شراب خانوں اور سرایوں میں گائے گئے اور داستانیں سنائی گئیں۔
زبانی کلچر اس طرح پرنٹ میں داخل ہوا اور چھپا ہوامواد زبانی منتقل کیا گیاکہ وہ خط فاصل جو زبانی کلچر کے درمیان تھا دھندلا ہوگیا اورسننے والی پبلک اور پڑھنے والی پبلک باہم آمیز ہوگئی۔

نئے الفاظ

Ballad
کوئی تاریخی واقعہ یا کوئی لوک کہانی۔داستان۔سنائی بھی جائیں اور گائی بھی جائیں۔
Taverns
سرائے،شراب خانہ،جہاں لوگ شراب پینے،کھانا کھانے ،لوگوں سے ملنے،حالات حاضرہ سے واقف ہونے کے لیے آتے تھے۔

3.2مذہبی بحثیں اور طباعت کا خوف

چھپائی نے نظریات وخیالات کی تبلیغ اور نشرواشاعت کے امکانات پیدا کردیے۔ اور بحث وتمحیص اور تبادلہ خیال کو متعارف کرادیا۔اب وہ لوگ بھی جو صاحب اختیاراور اہل حکم سے اتفاق نہیں رکھتے وہ بھی اپنے خیالات کو چھپواسکتے ہیں اور ان کی اشاعت کرسکتے ہیں۔چھپے ہوئے پیغام کے ذریعہ یہ لوگوں کو نئے اور مختلف اندازسے سوچنے پر مائل کرسکتے ہیں۔اور انھیں عمل کرنے پر اکساسکتے ہیں۔یہ بات زندگی کے مختلف پہلوؤں کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔
چھپی ہوئی کتابوں کو ہر شخص نے خوش آمدید نہیں کہااور جن لوگوں نے ان کا استقبال کیا ان کو بھی کچھ خدشات تھے۔بہت سے لوگ ان اثرات سے ہراساں تھے جو چھپی ہوئی چیزوں کی آسان فراہمی اور ان کی فراوانی لوگوں کے دل ودماغ پر ڈال سکتی تھی۔خوف یہ تھا کہ جو کچھ چھپتا ہے اور پڑھاجاتا ہے اگر اس پر کوئی کنٹرول نہ ہوا تو باغیانہ اور غیر مذہبی خیالات پھیل سکتے ہیں۔اگر ایسا ہوتا ہے تو قابل قدر لٹریچر کی حیثیت واختیار تباہ ہوجائے گا۔مذہبی اہل حکم ،بادشاہوں اور ان کے ساتھ بہت سے ادیبوں اور فن کاروں کی ظاہر کی ہوئی یہ تشویش نئے چھپے ہوئے لٹریچر پر وسیع پیمانے پر ہونے والی نکتہ چینی کی بنیادتھی۔
آئیے ابتدائی جدید یورپ کی زندگی میں اس کے ایک حلقہ اثر یعنی مذہب پر اس کے عواقب پر غور کریں۔
1517میں مذہبی مصلح مارٹن لوتھر کنگ نے رومن کیتھولک چرچ کے طورطریقوں اور رسموں کے بارے میں پنچانوے(Ninety Five Theses)تنقیدی مضامین لکھے۔اس کی ایک چھپی ہوئی کاپی وٹن برگ میں چرچ کے دروازے پر لگائی گئی تھی۔اس نے اس کے خیالات پر بحث کرنے کی دعوت دی تھی۔مارٹن لوتھر کنگ کی تحریروں کی بڑی تعداد میں فوری نقلیں ہوئیں اور یہ بڑے پیمانے پر پڑھی گئیں۔اس کا نتیجہ خود چرچ کے اندر اختلاف اور پروٹسٹنٹ ریفارمیشن کی تحریک کے آغاز کی شکل میں سامنے آیا۔ مارٹن لوتھر کنگ کے نیوٹسٹامنٹ کی5000کاپیاں چند ہفتوں کے اندرفروخت ہوگئیں اور تین مہینے کے اندر اندر دوسرا ایڈیشن آگیا۔طباعت کا انتہائی شکر گزار ہوتے ہوئے مارٹن نے کہا’’طباعت خدا کا ایک اساسی تحفہ ہے اور عظیم ترین تحفہ ہے۔‘‘بہت سے دانشورحقیقتاً سوچتے ہیں کہ طباعت نے ایک نیا دانش ورانہ ماحول پیدا کردیا اور نئے خیالات ونظریات کو پھیلانے میں مدد کی جس نے بالا خرریفارمیشن کی طرف رہنمائی کی۔
Capture16

شکل—9.   J.V.Schley, L' Imprirmerie, 1739

ابتدائی جدید یورپ میں بنائی جانے والی تصویروں میں سے ایک یہ تصویر جس میں چھپائی کی آمد پر جشن منایاجارہاہے۔تصویر میں پرنٹنگ پریس کو آسمان سے اترتا ہوا دیکھ سکتے ہیں جسے ایک دیوی لارہی ہے۔دیوی کے دونوں طرف رحمت خداوندی پر اپنی پسندیدگی کا اظہارکرتے ہوئے منروا(عقل کی دیوی)اورمرکری(پیغامبر دیوتااستقلال کی علامت)سامنے عورتیں ہیں اپنے ہاتھوں میں،مختلف ملکوں کے چھپے اولین پرنٹرس کی تصویریں اٹھائے ہوئے۔بیچ میں بائیں طرف دائرے میں گنٹبرگ کی تصویر ہے۔

نئے الفاظ

—Protestant Reformationکیتھولک چرچ کی جس پر روم کا تسلط تھا،اصلاح کے لیے16ویںصدی کی ایک تحریک۔مارٹن لوتھر پروٹسٹنٹ مصلحین میں ایک اہم مصلح تھے۔کیتھولک عیسائیت کے خلاف بہت سی روایتیں اس تحریک سے بنیں۔

3.3پرنٹ اور اختلاف رائے

مطبوعہ تحریروں اور عام مذہبی لٹریچرنے کم پڑھے لکھے کام والوں میں بھی عقائد کی بہت سی نمایاں اور مختلف انفرادی تاویلیں لوگوں کے سامنے رکھیں۔سولہویں صدی میں اٹلی میں ا یک کارخانہ دار Monocchioنے بستی میں ملنے والی کتابوں کو پڑھنا شروع کیا۔پھر اس نے بائبل کی تعلیمات کی تاویل کی اور خدا اور تخلیق کے بارے میں ایک نقطہ نظرپیش کیا جس نے رومن کیتھولک چرچ کو مشتعل کردیا۔جب رومن چرچ نے بدعتی(Herctical)خیالات کو دبانے کے لیے اپنی تحقیق(inquisition)شروع کی توManocchioکو دودفعہ گرفتار کیاگیااور آخر میں ماردیاگیا۔عام مطالعے کے اثرات اور عقائد پر سوالات اٹھائے جانے سے پریشان ہوکر رومن چرچ نے پبلشرز اور کتب فروشوں پرسخت پابندیاں عائد کردیں اور 1558سے ممنوعہ کتابوں کی ایک فہرست رکھنا شروع کردی۔

نئے الفاظ

—Inquisitionسابق رومن کیتھولک کورٹ،بدعتیوں کی شناخت کرنے اور انھیں سزادینے کے لیے۔
—Heretical  بدعتی
—Satietyآسودگی۔تسکین
—Saditious  باغیانہ۔عمل،تقریرجوحکومت کے خلاف نظرآئے۔

ماخذA 

کتاب کا خوف

ایراسمس،ایک لاطینی اسکالر ایک کیتھولک مصلح جس نے کیتھولک عقائد کی زیادتیوں پر تنقیدکی مگر لوتھر سے دوررہا۔پرنٹنگ کے سلسلے میں گہری تشویش کا اظہارکیا۔اس نے’Adages‘(1508)میں لکھاہے:
’’دنیا کا وہ کون سا کونا ہے جہاں تک ان کی پرواز نہ ہو،یہ نئی کتابوں کے جھنڈ؟بہت ممکن ہے کہ ایک آدھ کتاب یہاں ایک آدھ کتاب وہاں کچھ ایسی باتیں بتائے جو جاننے کے قابل ہوں۔مگر ان کی یہ بہتات اسکالرشپ کے لیے نقصان دہ ہے کیوں کہ یہ ایک افراط پیدا کردیتی ہیں۔اچھی چیزوں کی افراط اور ان سے آسودگی نقصان دہ ہوتی ہے۔…(پرنٹرس)دنیا کو کتابوں سے بھردیتے ہیں اور صرف معمولی(جیساشائد میں لکھتا ہوں)چیزوں ہی سے نہیں بلکہ حماقت آمیز،جاہلانہ ،بہتان طراز،رسواکن،شوریدہ سر،غیرمذہبی اور باغیانہ کتابوں سے۔اور پھر ان کی تعداد اتنی ہے کہ قابل قدر کتابیں بھی اپنی قدروقیمت کھودیتی ہیں۔
Capture17

شکل—10.ہولناک رقص

16ویں صدی کی یہ تصویر دکھاتی ہے کہ اس زمانے میں پرنٹنگ کے خوف کو کتنے ڈرامائی انداز میں پیش کیا جاتا تھا۔اس دلچسپ ووڈکٹ میں طباعت کی آمد کو دنیا کے خاتمے سے متعلق بنا کر دکھایاگیا ہے۔پرنٹر کے ورک شاپ کا اندرونی حصہ یہاں موت کے ناچ کی ایک جگہ ہے۔انسانی ڈھانچہ پر نٹر اور اس کے کارکنوں پرقابو حاصل کرتے ہیں،اور کیا کرنا ہے اور کیا چھاپناہے،طے کرتے ہیں اور اس کے مطابق عمل کرنے کی ہدایت دیتے ہیں۔

تبادلۂ خیال کیجیے

چند لوگوں کو یہ ڈرکیوں تھا کہ طباعت کی ترقی اختلافی خیالات ونظریات کی ترویج کرے گی—مختصراً لکھیے۔


4    مطالعے کا جنون

سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں یورپ کے اکثرحصوں میں خواندگی کی شرح میں بڑا اضافہ ہوا۔مختلف مسالک کے چرچوں نے گاؤوں میں اسکول کھولے اور خواندگی کو کسانوں اور دستکاروں تک پہنچادیا۔18ویں صدی کے اختتام پر یورپ کے بعض حصوں میں خواندگی کی شرح ساٹھ سے اسی فی صد تک ہوگئی تھی۔یورپی ملکوں میں خواندگی اور اسکولوں کی تعداد میںا ضافے کی وجہ سے مطالعے کا ایک جنون ساہوگیا۔لوگوں نے کتابیں پڑھناچاہیں اور پرنٹرس نے روزافزوں بڑھتی ہوئی تعداد میں کتابیں تیار کرنا شروع کردیں۔
مقبول ادب کی مختلف اصناف طبع شدہ شکلوں میں سامنے آئیں جن کا ہدف نئے پڑھنے والے تھے۔کتب فروشوں نے پھیری والے ملازم رکھے جو چھوٹی چھوٹی کتابیں بیچنے کے لیے گاؤں گاؤں گھومے۔ان کتابوں میں لوک کہانیاں تھیں داستانیں اورجنتریاں  تھیں۔مگر مطالعاتی مواد کی دوسری قسمیں،محض تفریح کے لیے،عام پڑھنے والے تک پہنچنا شروع ہوگئیں۔انگلستان میں ایک پینی قیمت والیChapbooks پھیری والے بیچتے پھرتے تھے۔یہ پھیری والے Chapman کے نام سے جانے جاتے ہیں۔کتاب کی قیمت ایک پینی ہوتی تھی اس لیے ہر کس و ناکس اسے خریدسکتا تھا۔فرانس میں’Biliotheque Bleue‘تھیں۔ان کتابوں کی قیمت بہت کم ہوتی تھی،خراب کاغذ پر چھپی ہوئی ہوتی تھیں اور ان کا کورَ سستے نیلے رنگ کے کاغذ کا ہوتا تھا۔پھر چار سے چھ صفحات پر چھپی ہوئی عشقیہ کہانیاں ہوتی تھیں۔کچھ بہتر صورت میں تاریخ کی کتابیں ہوتی تھیں جو عام طورپر ماضی کی کہانیوں پر مشتمل ہوتی تھیں۔کتاب کے سائز مختلف ہوتے تھے اور یہ بہت سے مختلف مقاصد کو پورا کرتی تھیں اور مختلف ذوق شوق کو تسکین دیتی تھیں۔
حالات حاضرہ کی معلومات کو تفریح سے ملاتے ہوئے پریس اوائل 18ویں صدی سے فروغ پذیر ہوا۔اخباراور رسالے جنگ اور تجارت کی خبریں لائے ساتھ ہی دوسرے مقامات پر ہونے والی ترقیوں کی خبروں سے بھی آگاہ کیا۔
اسی طرح سائنس دانوں اور فلسفیوں کے نظریات اب عام لوگوں تک آسانی سے پہنچنے لگے۔قدیم اور قرون وسطیٰ کے سائنسی متون کی ترتیب وتدوین ہوئی اور انھیں شائع کیا گیا۔نقشے اور سائنس کے ڈائی گرام چھپے۔جب اسحاق نیوٹن جیسے سائنس دانوں نے اپنی دریافتوں کو شائع کرنا شروع کیا تو وہ سائنسی سوچ رکھنے والے قاریوں کے ایک بڑے حلقے کو متاثر کرسکے۔تھامس پین،والٹیر اور زان ژاک روسو جیسے مفکرین بھی زیادہ چھپے اور زیادہ پڑھے گئے۔اور اس طرح سائنس ،استدلال اور تعقل کے بارے میں ان کے خیالات نے عام لٹریچر میں راہ پائی۔

نئے الفاظ

Denomination۔ایک مذہب میں مختلف گروہ۔مسالک۔
Almanac۔اجسام فلکی سے متعلق معلومات،تاریخ، دن، مہینہ، تہوار، چھٹیاں وغیرہ۔ جنتری۔
Chap book۔پاکٹ سائز بک۔جیبی کتاب

باکس2

1791میں لندن کے ایک پبلشرجیمس لیکنگٹن نے اپنی ڈائری میں لکھا:
’’پچھلے بیس برسوں میں کتابوں کی فروخت میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے۔غریب کسان بلکہ دیہات کے غریب لوگ اس زمانے سے پہلے عموماًسردیوں کواپنی شامیں چڑیلوں،بھوتوں اورچھلاؤں کے قصے سن کر گزارتے تھے…اب اپنے لڑکوں اور لڑکیوں سے کہانیاں اور قصے پڑھوا کرسنتے ہیں اورسردیوں کی اپنی طویل راتوں کو مختصر کرتے ہیں۔اگر جان گھاس کا ایک گٹھا لے کر شہر جاتا ہے تو اس کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہPeregrine Pickle's Adventure…لانا نہ بھولے۔اگر ڈولی انڈے بیچنے کے لیے بھیجی جاتی تھی تو اس کے سریہ ذمہ داری بھی ڈال دی جاتی تھی کہ وہ ’ہسٹری آف جوزف اینڈ ریوز‘خریدنا نہ بھولے۔

4.1’’دنیا کے ظالمو’’اس سے ڈرو‘‘

18ویں صدی کے وسط تک ایک عام یقین یہ پیدا ہوگیاتھا کہ کتابیں ترقی اور روشن خیالی پھیلانے کا ایک ذریعہ ہیں۔بہت سے لوگ ماننے لگے تھے کہ کتابیں دنیا کو بدل سکتی ہیں۔سماج کو آمریت اورظلم وجبر سے نجات دلاسکتی ہیں اور ایک ایسے عہد کی خوش خبری سنا سکتی ہیں جب تعقل اور استدلال کی حکمرانی ہوگی۔18ویں صدی میں ایک فرانسیسی ناول نگار لوئی سباستین مرسیر نے کہاتھا’’پرنٹنگ پریس،ترقی کا توانا ترین انجن ہے اور رائے عامہ وہ قوت ہے جو آمریت اور مطلق العنانی کو بہالے جائے گی۔‘‘مرسیر کے بہت سے ناولوں میں ہیرو کتابیں پڑھ پڑھ کر بدل جاتے ہیں۔وہ کتابوں کو حریصانہ دیکھتے ہیں کتابوں کی پیدا کی ہوئی دنیا میں گم ہوجاتے ہیں اور اس سارے عمل سے وہ روشن خیال ہوکر نکلتے ہیں۔روشن خیالی لانے اورمطلق العنانی کی بنیادوں کو تباہ کردینے کی کتابوں کی طاقت پر کامل یقین کے بعد مرسیر نے اعلان کیا
"!Termble,therefore, tyrants of the world! Tremble the virtual writer!"

ماخذB 

اپنی ایک کتاب مرسیر چھپے ہو لفظ کے اثر اور مطالعے کی قوت کو اس طرح بیان کرتا ہے:
’’کوئی شخص جس نے مجھے پڑھتے دیکھا ہے اس نے مجھے ایک ایسا آدمی سمجھا ہوگا جو پیاس سے مررہا تھااور اب کچھ تازہ اور خالص پانی کے گھونٹ کے گھونٹ حلق سے اتاررہا ہے…اپنے لیمپ کو غیر معمولی احتیاط کے ساتھ جلاتے ہوئے میں نے اپنے آپ کومطالعے میں غرق کرلیا۔ایک آسان فصاحت،بے مشقت اور جاندار،مجھے ایک صفحے سے بے جانے،دوسرے صفحے پر لے گئی۔خاموشی کے سایوںمیں گھڑی گھنٹے بجاتی رہی اور میں نے کچھ نہیں سنا۔میرے لیمپ میں تیل ختم ہورہا تھا اور اب اس کی روشنی بھی پیلی اور مدھم ہوگئی تھی۔مگر پھر بھی میں پڑھتا رہا۔میں لیمپ کی بتی کو اپنی مسرت میں رخنہ پڑنے کے ڈرسے اونچا کرنے کے لیے بھی وقت نہ نکال سکا۔یہ نئے خیالات میرے دماغ کیوں کرگھسے!میرے ذہن نے انھیں کس طرح اپنایا!‘‘
(رابرٹ ڈارن ٹن نے حوالہ دیا۔دی فوربڈن بیسٹ سلرز آف پری ریولیوشنری فرانس، 1995)

4.2پرنٹ کلچر اور انقلاب فرانس

بہت سے مورخین کا کہنا ہے کہ پرنٹ کلچر نے ایسے حالات پیدا کیے جن میں فرانس کا انقلاب رونما ہوا۔کیا ہم ان دونوں کے درمیان کوئی ایسا رشتہ قائم کرسکتے ہیں؟
عموماً تین قسم کے دلائل پیش کیے گئے:
اول:طباعت نے روشن خیال مفکرین کے خیالات کو مقبول بنادیا۔اجتماعی طورپر ان کی تحریروں نے روایت، توہم پرستی اور مطلق العنانی پر تنقیدی رائے فراہم کی۔انھوں نے رسوم ورواج کے بجائے تعقل کی حکمرانی کے حق میں رائے دی۔اور مطالبہ کیا کہ ہر چیز کو عقلیت اور استدلال کی کسوٹی پر پرکھا جانا چاہیے۔انھوں نے چرچ کے مقدس تحکم و اختیار پر اور ریاست کی جابرانہ قوت پر حملہ کیا اور اس طرح روایت پر مبنی ایک سماجی نظام کے جواز کو رفتہ رفتہ ختم کردیا۔والسیٹراور روسو کی تحریریں بڑے پیمانے پر پڑھی گئیں اور جن لوگوں نے انھیں پڑھا انھوں نے دنیا کو نئی آنکھوں سے دیکھا،آنکھیں جو سوال کرتی تھیں،جو نکتہ چیں تھیں اور جو عقلیت پسندتھیں۔
دوم:پرنٹ نے بات چیت اور بحث وتمحیص کا ایک نیاکلچر پیدا کیا۔تمام قدروں،معیاروں اور اداروں کی قدروقیمت کا پھرسے جائزہ لیاگیا اور ایسے عوام نے ان پر بحث ومباحثہ کیا جو استدلال کی قوت سے آگاہ ہوچکے تھے اور مروجہ نظریات وعقائد پر سوال اٹھانے کی ضرورت کو تسلیم کرچکے تھے۔اس عوامی کلچر میں سماجی انقلاب کے نئے خیالات وجود میں آئے۔

نئے الفاظ

—Despotism
حکومت کا ایک نظام جس میں ساری طاقت ایک فرد کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور آئین وقانون کی کوئی بندش اس پر نہیں ہوتی۔
(مطلق العنان)

سوم:1780تک ایسے ادب کی بھرمار ہوچکی تھی جس نے شاہانہ مناصب کا مذاق اڑایا اور ان کی اخلاقیات پر تنقیدکی۔اس عمل کے دوران اس نے سماجی نظام کے بارے میں بھی سوالا ت اٹھائے۔کارٹونوں اور خاکوں میں دکھایا گیا کہ بادشاہت صرف جنسی عیاشیوں میں ڈوبی رہی جب کہ عام آدمی شدید مصائب اور دشواریوں کا شکار رہا۔یہ ادب خفیہ طورپر تقسیم ہوااور اس نے بادشاہت کے خلاف معاندانہ جذبات کے فروغ کی طرف رہنمائی۔ کی ان دلائل کے بارے میں ہمارا کیا خیال ہے؟اس باب میں کوئی شبہ نہیں کہ پرنٹ خیالات ونظریات کی ترسیل میں مدد کرتا ہے۔مگر ہمیں یہ یادرکھنا چاہیے کہ لوگوں نے صرف ایک قسم کا ادب ہی نہیں پڑھا انھوں اگر والٹیر اور روسو کے خیالات پڑھے تو دوسری طرف بادشاہی اور چرچ کے پروپیگنڈے کے روبرو بھی ہوئے۔ہر اس چیز سے جو انھوں نے دیکھی یا سنی وہ براہِ راست متاثر نہیں ہوئے۔کچھ خیالات کوانھوں نے قبول کیا اور کچھ کورد …انھوں نے چیزوں کی تاویل اپنے اندازسے کی۔پرنٹ نے براہِ راست ان کے ذہنوں کو نہیں بنایامگرہاں مختلف انداز میں سوچنے کے امکانات ضرور پیدا کیے۔

سرگرمی

تصورکیجیے کہ آپ انقلاب سے پہلے فرانس میں ایک کارٹونسٹ ہیں۔ایک کارٹون بنائیے جسے ایک پمفلٹ میں چھپنا ہے۔
Capture18

شکل —11.امرااورعوام انقلاب فرانس سے پہلے۔آخر18ویں صدی کا ایک کارٹون

کارٹون دکھاتا ہے کہ عام آدمی،کسان اور مزدور کس طرح برا وقت گزار رہے تھے اور امرازندگی کے لطف اٹھارہے تھے اور ان غریبوں پر ظلم کررہے تھے۔اس جیسے کارٹونوں کی اشاعت نے انقلاب سے پہلے لوگوں کی سوچ پر اثر ضرورڈالاتھا۔

تبادلۂ خیال کیجیے

کچھ مورخ ایسا کیوں سوچتے ہیں کہ پرنٹ کلچر نے انقلاب فرانس کی اساس رکھی۔


5۔انیسویں صدی

انیسوی صدی میں عام خواندگی نے بڑی ترقی کی۔ اور پڑھنے والوں کی لائن میں بچوں، عورتوں اور مزدوروں کی ایک نئی صف شامل ہوگئی۔

5.1  بچے، عورتیں اور کامگار

آخر انیسویں صدی سے پرائمری ایجوکیشن لازمی ہوگئی اس لیے بچے پڑھنے والوں کی اہم صف میں شامل ہو گئے۔ اسکول کی درسی کتابوں کی طباعت، پبلشنگ انڈسٹری کے لیے بڑی اہم ہوگئی۔ محض بچوں کے ادب کے لیے وقف بچوں کا پریس 1857 میں فرانس میں قائم کیا گیا۔ اس پریس نے نئی چیزیں بھی چھاپیں ساتھ ہی پرانی پریوں کی کہانیاں اور لوک کہانیاں بھی شائع کیں۔ جرمنی میں گِرم برادرز نے کسانوں سے جمع کی ہوئی روایتی لوک کہانیں مرتب کرنے میں کئی برس صرف کیے۔ ان لوگوں نے جو کچھ جمع کیا اسے 1812 میں ایک مجموعے کی شکل میں چھاپنے سے قبل باقاعدہ مرتب کیا۔ ان میں سے ہر وہ چیز نکال دی گئی جس کے بارے میں یہ خیال ہوا کہ وہ بچوں کے لیے مناسب نہ ہوگی یا اشراف کے نزدیک سوقیانہ قرار پائے گی۔ دیہی لوک کہانیوں کو اس طرح ایک فنی شکل ملی۔ پرنٹ نے قدیم کہانیوں کو یکجا کرکے محفوظ کردیا اور انہیں بدل بھی دیا۔
Capture19

شکل —12.پینی میگزین کا سرورق

’سوسائٹی فاردی ڈیفیوژن آف یوزفُل نالج ، نے 1832 اور 1835 کے درمیان لندن میں پینی میگزین چھاپا، یہ بنیادی طور پرمزدور طبقہ کے لیے تھا۔

باکس 3

 پارک شائر کے میکنک تھامس ووڈ نے بتایا کہ وہ کس طرح پرانے اخبار کرائے پر لیتا تھا اور شام کے وقت آگ کی روشنی میں انہیں پڑھتا تھا۔ موم بتیاں خریدنے کی اس میں استطاعت ہی نہیں تھی۔ غریب لوگوں کی خود نوشت سوانح ان کی اُن کوششوں کا بیان کرتی تھیں جو یہ لوگ انتہائی نامساعد حالات میں کرتے تھے۔ ایسی کوششوں کی جھلکیاں 20 ویں صدی روس کے انقلابی ادیب میکسم گور کی کی کتاب  ’مائی چائلڈہڈ‘ اور ’مائی   یونیورسٹی‘ میں ملتی ہیں۔

خواتین ،قاری اور ادیب، دونوں حیثیتوں سے بہت اہم ہوگئی۔ پینی میگزین (شکل 12 دیکھیے) خصوصی طور پر عورتوں کے لیے تھے کیوں کہ اِن میگزینوں کی حیثیت مناسب طرز عمل اور امور خانہ داری کے بنیادی قاعدے کی بھی تھی۔ جب 19 ویں صدی میں ناول لکھے جانے لگے تو عورتوں کو ایک اہم قاری کی حیثیت سے دیکھا گیا۔ بعض بہترین ناول نگار خواتین ہی تھیں۔ جین آسٹن، برونٹ سسٹرز، جارج ایلیٹ۔ ان کی تحریروں نے ایک نئی عورت کی تصویر گری کی۔ پختہ ارادے شخصیت کی توانائی، عزم اور سوچنے کی صلاحیت کا حامل ایک وجود۔
سترھویں صدی سے کتابیں دینے والی لائبریریاں وجود میں آچکی تھیں۔ 19 ویں صدی میں انگلستان میں کتابیں دینے والی یہ لائبریریاں ذہنی کام کرنے والے کامگاروں، دستکاروں اور نچلے متوسط طبقے کے لوگوں کی تعلیم کا ایک ذریعہ بن چکی تھیں۔ کبھی کبھی ورکنگ کلاس کے خود تعلیم حاصل کرنے والے ان لوگوں نے خود اپنے لیے لکھا۔وسط 19 ویں صدی کے بعد جب کام کے گھنٹوں میں بتدریج کچھ کمی ہوئی تو کام کرنے والوں کو ذاتی ترقی اور اظہار ذات کے لیے کچھ وقت ملنے لگا۔ ان لوگوں نے بڑی تعداد میں سیاسی مضامین اور خود نوشت سوانح لکھیں۔

5.2   مزید اختراعات

18 ویں صدی کے آخری زمانہ سے پریس دھات سے بننے لگے۔ 19 وی صدی میں پرنٹنگ ٹکنالوجی میں مزید اختراعات کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔ 19 ویں صدی کے وسط میں نیویارک کے رچرڈ ایم ہُونے پاور سے چلنے والا بیلن پریس (Cylindrical) بنالیا۔ اس پریس میں ایک گھنٹے میں 8000 صفحے چھاپے جاسکتے تھے۔ یہ پریس اخبارات چھاپنے کے لیے بہت مفید تھا۔ آخری 19 ویں صدی میں Offset پریس بن گیا جو ایک وقت میں چھے رنگوں کی چھپائی کرسکتا تھا۔   20 ویں صدی کے اختتام تک بجلی سے چلنے والے پریسوں نے چھپائی کے کام کو اور تیز کردیا۔ بہت سی ترقیاں اور تبدیلیاں ہوئیں۔ پریس میں کاغذ ڈالنے کا طریقہ بہتر ہوا، پلیٹوں کی کوالٹی اچھی ہوئی۔ کاغذ کی خود کار چرخیوں اور رنگوں کے فوٹو الیکٹرک کنٹرول کا استعمال ہوا۔ انفرادی میکینکل ترقیوں نے اجتماعی طور پر چھپے ہوئے متون کی ظاہری شکل کو یکسر بدل دیا۔
پرنٹرز اور پبلشرز نے اپنی چھاپی ہوئی چیزوں کو بیچنے کے نئے نئے طریقے نکالے۔ 19 ویں صدی کے رسالوں نے اہم ناول سلسلہ وار چھاپے جس نے ناول لکھنے کے ایک مخصوص انداز کی شروعات کی۔ بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں انگلستان میں پسندیدہ اور معقول تخلیقات    کم قیمت سلسلوں کی شکل میں فروخت ہوئیں۔ یہ سلسلہ شلنگ سیریز کہلاتا تھا۔ بک جیکٹ یا ڈسٹ کور بھی بیسویں صدی کی اختراع ہیں۔1930 کی کساد بازاری کے آغاز سے پبلشروں کو کتابوں کی خریداری میں انحطاط آنے کا خطرہ ہوا۔ خریداری کو برقرار رکھنے کے لیے انہوں نے کتابوں کے سستے پیپر بیک اڈیشن نکالے۔

سرگرمی

شکل  13 کو دیکھیے ۔ ایسے اشتہارات عوام کے ذہنوں پر کیا اثر ڈالتے ہیں؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ چھپے ہوئے مواد پرہرشخص کا رد عمل ایک طرح کا ہوتا ہے؟

Capture20
شکل  —13. انگلستان کے ایک ریلوے اسٹیشن پر اشتہارات ۔الفرڈکان کینن کا بنایاہوا ایک لیتھوگراف ،1874 ۔چھپے ہوئے اشتہارات اور اعلانات سڑکوں کی دیواروں پر ریلوے اسٹیشنوں پر اور پبلک عمارتوں کی دیواروں پر چپکائے جاتے تھے۔

6 ۔ ہندوستان اور پرنٹ کی دنیا


آئیے اب ہم یہ دیکھیں کہ ہندوستان میں طباعت یعنی پرنٹنگ کب شروع ہوئی اور طباعت کے زمانے سے قبل خیالات و معلومات کیوں کر ضبط تحریر میں آتی تھیں۔
Capture21
شکل 14 ۔جے دیوکی گیت گووند کے صفحات، 18ویں صدی ۔ یہ تاڑ کے پتوں پر ہاتھ سے لکھا ہوا رکارڈ ین انداز کا مسودہ ہے۔

6.1 عہد طباعت سے قبل مسودات

سنسکرت، عربی، فارسی اور دوسری دیسی زبانوں کے قلمی یعنی ہاتھ سے لکھے ہوئے مسودات کی ہندوستان میں بڑی معقول اور قدیم روایت ہے۔ مسودات تاڑ کے پتوں پریا ہاتھ سے بنائے ہوئے کاغذ پر نقل کیے جاتے تھے۔ کبھی کبھی صفحات کی بڑی خوبصورت آرائش ہوتی تھی۔ محفوظ رکھنے کے لیے انہیں یا تو لکڑی کے کورَ میں دباکر رکھا جاتا تھا یا پھر کئی صفحات کو ملاکر سی دیا جاتا تھا۔ 19 ویں صدی کے آخر تک، طباعت  کے متعارف ہونے کے کافی بعد تک مسودات بدستور تیار ہوتے تھے۔
Capture22

شکل —15.  دیوان حافظ کے صفحات، 1824 ۔

حافظ چودھویں صدی کے ایک فارسی شاعر تھے ان کے منتخب کلام کا مجموعہ ’دیوان ِحافظ‘کہلاتا ہے۔ خوبصورت خطاطی اور تفصیلی آرائش اور ڈیزائن پر غور کیجیے۔ ایسے مسودات حروف کی طباعت کی آمد سے قبل امراو رؤسا کے لیے تیار کیے جاتے تھے۔

مسودات بہر حال بڑے قیمتی اور انتہائی نازک ہوتے تھے، انہیں بڑی احتیاط کے ساتھ استعمال کرناہوتا تھا، ان کا پڑھنا بھی آسان نہیں ہوتا تھا کیوں کہ رسم الخط مختلف انداز کا ہوتا تھا اسی لیے روز مرہ کی زندگی میں ان کا استعمال کچھ بہت نہیں ہوتا تھا۔ نوآبادیاتی عہد سے قبل کے بنگال نے اگرچہ دیہی پرائمری اسکولوں کا ایک خاصا بڑا جال پھیلا رکھا تھا مگر بچے عموماً متن پڑھتے نہیں تھے۔ وہ صرف لکھنا سیکھتے تھے۔ استاد متن کے کچھ حصے اپنی یاد داشت سے املا کرادیتے تھے اور طالب علم اسے لکھ لیتے تھے۔ اس طرح بہت سے لوگ کسی قسم کا کوئی بھی متن پڑھے بغیر خواندہ ہوجاتے تھے۔

Capture23

شکل  —16. رگ وید کے صفحات 

طباعت کی آمد کے بہت بعد تک قلمی مسوادت ہندوستان میں بنتے رہے۔ ملیالم رسم الخط میں مسودہ 18 ویں صدی میں تیار ہوا تھا۔

6.2 طباعت (پرنٹ) ہندوستان آتی ہے

ہندوستان میں پرنٹنگ پریس 16 ویں صدی کے وسط میں گوا میں پرتگالی مشنریوں کے ساتھ آیا۔ جیسوئٹ پادریوں نے کونکی زبان سیکھی اور متعدد چھوٹے چھوٹے رسالے چھاپے۔ 1674 تک کونکنی اور کنارا (Kanara) زبانوں میں تقریباً 50 کتابچے چھپ چکے تھے۔ کیتھولک پادریوں نے پہلی تامل کتاب کوچین میں 1579 میں چھاپی اور 1713 میں پہلی ملیالم کتاب بھی ان ہی لوگوں نے طبع کی۔ 1710 تک پروٹسٹنٹ مشنریوں نے 32 تامل متون شائع کردیے تھے ۔ ان میں بہت سے پرانی کتابوں کے ترجمے تھے۔
ہندوستان میں انگریزی پریس بہت بعد تک بھی کچھ بہت ترقی نہیں کرسکا حالانکہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے 17ویں صدی کے آخر سے پریس کی مشینیں درآمد کرنا شروع کردی تھیں۔
1780 سے جیمس آگسٹس ہِکے نے ایک ہفتہ وار اخبار’’بنگال گزٹ‘‘ کی ادارت سنبھالی۔   ہفتہ وار نے اپنے بارے میں اعلان کیا ’’ایک کمرشیل پیپر سب کے لیے مگر کسی کے اثر میں نہیں‘‘ یہ ایک نجی انگلش مہم تھی، نوآبادیاتی اثرات سے اپنی آزادی پر مفتخر یہ آغاز تھا ہندوستان میں انگلش پرنٹنگکے لیے۔ ہِکے نے بے شمار اشتہارات شائع کیے۔ ان میں وہ اشتہارات بھی ہوتے تھے جن کا تعلق غلاموں کی خریدو فروخت سے تھا۔ مگر اُس نے ہندوستان میں کمپنی کے اعلیٰ افسروں کے بارے میں بھی بڑی بے سروپا باتیں چھاپیں۔ اس سے ناراض ہوکر گورنر جنرل وارن ہیسٹنگس نے اسے بہت پریشان کیا اور سرکاری منظوری سے نکلنے والے اخباروں کی اشاعت کی ہمت افزائی کی جو ایسی خبروں کے سیلاب پر بند باندھ سکیں جو نوآبادیاتی حکومت کی شبیہ کو داغ دار کرتی تھیں۔ 18 ویں صدی کے اختتام تک متعدد اخبار اور رسالے چھپ کر سامنے آئے۔ ہندوستانی لوگ بھی تھے جنہوں نے ہندوستانی اخبار نکالے۔ اس طرح نکلنے والوں میں پہلا اخبار گنگادھر بھٹاچاریہ کا بنگال گزٹ، تھا۔ بھٹا چاریہ رام موہن رائے کے بہت قریب تھے۔

ماخذ C 

1768 میں ایک شخص ولیم بولٹس نے کلتے میں ایک پبلک عمارت پر ایک نوٹس چسپاں کیا تھا:
’’عوام کے لیے:
مسٹر بولٹس یہ طریقہ عوام کو یہ بتانے کے لیے اختیار کررہے ہیں کہ اس شہر میں پرنٹنگ پریس کی کمی بزنس کے لیے بڑی نقصان دہ ہورہی ہے… وہ کسی شخص کی بھی انتہائی مدد کرنے پر تیار ہیں… جو اشخاص پرنٹنگ کے کاروبار سے واقفیت رکھتے ہیں۔‘‘
بولٹس بہر حال جلد ی ہی انگلینڈ واپس چلے گئے اور ان کے وعدے کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

7 مذہبی اصلاح اور عوامی مباحثے

18 ویں صدی کے اوائل سے، جیسا کہ آپ جانتے ہیں مذہبی مسائل پر شدید بحثیں چل رہی تھیں۔ مختلف گروپوں نے اُن تبدیلیوں کو چیلنج کیا جو مختلف انداز میں نوآبادیاتی سماج کے اندر ہورہی تھیں اور مختلف مذاہب کے عقائد کی نئی نئی متنوع تاویلات کیں۔ کچھ لوگوں نے موجودہ رسوم و رواج پر تنقید کی اور اصلاح کی مہم چلائی۔ جب کہ کچھ اور لوگ تھے جنہوں نے ان مصلحین کے دلائل کی مخالفت کی۔ یہ بحثیں عوامی اجتماعات میں بھی ہوئیں اور اخباروں میں بھی۔ مطبوعہ رسالوں اور اخباروں نے نہ صرف یہ کہ نئے خیالات کو پھیلایا بلکہ انہوں نے بحث کی نوعیت کو ایک شکل دی۔اب ان مباحثوں میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہوسکتی تھی اور اپنے خیالات کا اظہار کرسکتی تھی۔ آراکے اس ٹکراؤ سے نئے نظریات اور نئے خیالات سامنے آئے۔
یہ وقت سماجی اور مذہبی مصلحین اور ستی کی رسم، توحید، برہمنوں کی Priesthood اور بت پرستی جیسے مسائل پر ہندو قدامت پرستی کے درمیان زبردست تنازعات کا تھا۔ بنگال میں، جوں جوں بحث آگے بڑھی متنوع دلیلوں اور توجیہوں کی ترویج و تبلیغ کرنے والے رسالوں اور اخباروں کا انبار لگ گیا۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے کے لیے خیالات کا اظہار عام آدمی کی بول چال کی زبان اور اس کے روز مرہ میں ہوا۔ رام موہن رائے نے 1821میں’’سمباد کو مدی‘‘ شائع کی اور ہندوقدامت پرستی نے ’’سماچار چندریکا‘‘ سے ان کے خیالات کا توڑ کرنے کا کام لیا۔ 1822 سے دوفارسی اخبار ’’جام جہاں نما‘ اور’ شمس الاخبار‘ شائع ہوئے۔ اسی سال ایک گجراتی اخبار ’بمبئی سماچار‘ سامنے آیا۔
شمالی ہندوستان میں، مسلم پشتینی سلطنتوں کی مسماری پر علمابہت پریشان تھے۔ انہیں خوف تھا کہ نوآبادیاتی حکمراں تبدیل مذہب کی ہمت افزائی کریں گے اور مسلم پرسنل لاکو تبدیل کریں گے۔ اس کے تدارک کے لیے ان لوگوں نے سستے لیتھو گراف پریسوں کو استعمال کیا اور مقدس کتابوں کے اردو اور فارسی ترجمے شائع کیے، مذہبی اخبارات اور رسالے نکالے۔ دیوبند مدرسے نے جو 1867  میں ہزاروں فتوے شائع کیے جن میں مسلمان قاری کو بتایا گیا تھا کہ اسے اپنی قائم روزانہ زندگی کس طرح گزارنا چاہیے۔ ساتھ ہی اسلامی ہدایات کے مطالب کی وضاحت بھی ہوا تھا کی 19 ویں صدی کے پورے عرصے میں بہت سے مذہبی مسالک اور مدرسے قائم ہوگئے۔ ہر عقیدہ ایک نئی تاویل کے ساتھ اپنے پیروؤں کی تعداد کو بڑھانے کے لیے کوشاں اور مخالفین کے اثر کی تکذیب میں لگا ہوا تھا۔ اس لڑائی کو عوام کے بیچ لڑنے میں اردو پریس نے  بڑی مدد کی۔

نئے الفاظ

علما—   اسلام اور شریعت (اسلام کے آئین و قوانین) کے عالم۔
فتویٰ— اسلامی قانون پر آئینی رائے جو عموماً کو مفتی (آئین کا عالم) دیتا ہے
ہندوؤں میں بھی پریس نے مذہبی متون کے مطالعہ کی ہمت افزائی کی خصوصاً مقامی زبانوں میں۔ تلسی داس کا رام چرترمانس‘ 16 ویں صدی کا ایک متن، 1810 میں کلکتے سے شائع ہوا۔ 19 ویں صدی کے وسط تک ہندوستانی بازار سستے لیتھوگرافک اڈیشنوں سے اٹا پڑا تھا۔ 1880 سے لکھنؤ میں نولکشور پریس اور بمبئی میں شری وینکٹیشورپریس نے مقامی زبانوں میں بے شمار مذہبی متون چھاپے۔ ہلکے اور چھپے ہوئے ہونے کی وجہ سے عقیدت مند ان کو آسانی سے اور ہر جگہ اور ہر وقت پڑھ سکتے تھے۔ انھیں مردوں اور عورتوں کے بڑے گروپوں کے سامنے بہ آواز بلند بھی پڑھا جاسکتا تھا۔
اس لیے مذہبی متون لوگوں کے ایک بہت بڑے حلقے تک پہنچے انھوں نے مذہب کے اندر اور مذاہب کے مابین تبادلہ خیال اور بحث مباحثے کے مواقع فراہم کیے ساتھ ہی تنازعات بھی پیدا کیے۔
طباعت نے سماجکے درمیان محض آراکے اختلاف کی اشاعت نہیں کی بلکہ اس نے ہندوستان کے مختلف حصوں میں فرقوں اور لوگوں کو باہم ملایا بھی۔ اخبار ایک جگہ سے دوسری جگہ خبریں لے گئے اور اس طرح انھوں نے ایک کل ہندشناخت پیدا کی۔

ماخذ D  

اخبار کیوں؟

’مقامی دلچسپی کے ہر موضوع کے بارے میں مفید معلومات فراہم کرنے کے مقصد کے پیش نظر پونا کے باشندے کرشناجی ترمبوک راناڈے مراٹھی زبان میں ایک اخبار شائع کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اخبار ، عام افادیت ، سائنسی تحقیقات ، پرانے زمانے کی اشیا، اعداد و شمار، عجائبات ، ملک کی تاریخ ملک کا جغرافیہ خصوصاً دکن کا سے متعلق موضوعات پر آزاد انہ اظہار خیال کے لیے اخبار کے صفحات کھلے ہوں گے … عوام کی بہود اور معلومات کی تبلیغ و ترویج میں دلچسپی رکھنے والے ہر فرد کی سرپرستی اور معاونت کا خیر مقدم کیا جائے گا۔‘
بامبے ٹیلی گراف اینڈ کوریئر، 6جنوری  1849
’دیسی اخباروں اور سیاسی تنظیموں کا کام لندن کی پارلیمنٹ میں ہاؤس آف کامنس میں حزب اختلاف کے کاموں سے مماثل ہے۔ یعنی حکومت کی پالیسی کو ناقدانہ جانچنا اور عوام کے لیے غیر مفید حصوں کو خارج کراکے اس کے بہتری کے لیے مشورے دینا اور ساتھ ہی اس کے نفاذ کو یقینی بنانا ۔ ان تنظیموں کو خاص خاص مسائل کا محتاط اور غائر مطالعہ کرنا چاہیے ملک و قوم سے متعلق ضروری معلومات اکٹھا کرنا چاہیے ساتھ ہی پسندیدہ اور امکانی اصلاحات کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔ یہ بات یقینا تنظیم کے اثر و رسوخ میں معتدبہ اضافہ کرے گی۔‘ نیٹواوپینین، 3اپریل 1870۔

8 مطبوعات کی نئی اقسام


پرنٹنگ نے تحریر کی نئی نئی قسموں کے لیے بھوک بڑھادی۔ اب زیادہ سے زیادہ لوگ پڑھنے کے قابل تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ ان تحریروں میں اپنی زندگی، اپنے تجربات اپنے جذبات اور اپنے رشتوں کی عکاسی دیکھیں۔ ناول، ادب کی ایک صنف ، جس نے یورپ میں فروغ پایا تھا لوگوں کی اس ضرورت کی تکمیل بڑی حسن و خوبی سے کرتا تھا۔ ناول نے جلدی ہی خالص ہندوستانی ہیئتوں اور ہندوستانی اسٹائل کو حاصل کرلیا۔ پڑھنے والوں کے لیے اس نے تجربات کی ایک دنیا دکھائی اور ان میں حیات انسانی کے تنوعات کا واضح احساس پیدا کیا۔
مطالعے کی دنیا میں اور بھی ادبی اصناف داخل ہوئیں۔ شاعری، مختصر افسانہ، سماجی اور سیاسی مسائل سے متعلق مضامین۔ ان سب نے ، ایک مختلف انداز میں انسانی زندگی،سماج اور سیاست کی صورت گری کرنے والے اصولوں کے بارے میں نجی اور ذاتی احساسات کی نئی اہمیت کو مزید توانا کردیا۔
19 ویں صدی کے اختتام تک ایک نیا بصری کلچر معرض وجود میں آرہا تھا۔ بڑی تعداد میں پریسوں کے لگنے کی وجہ سے بصری شبیہوں کی بے شمار نقلیں بنانا ممکن ہوگیاتھا۔ راجا روی ورما جیسے آرٹسٹوں نے بڑے پیمانے پر نشر و اشاعت کے لیے تصویریں بنائیں۔ ووڈبلاکس بنانے والے غریب نقش نگاروں نے پریسوں کے قریب اپنی دوکانیں لگائیں۔ پرنٹرز نے انھیں اپنے یہاں ملازم بھی رکھا۔ سستی نقلوں اور کیلنڈروں کی بازاروں میں فراوانی ہوگئی۔ حتیٰ کہ غریب بھی، ان سے اپنے گھر اور اپنے کام کی جگہوں کی دیواروں کو سجانے کے لائق ہوگئے۔ ان پرنٹس نے روایت اور جدیدیت ، مذہب اور سیاست ،سماج اور کلچر کے بارے میں عوامی تصورات کو ایک شکل عطا کرنا شروع کردیا۔
1870 شروع ہوتے ہوتے رسالوں اور اخباروں میں، سماجی اور سیاسی مسائل پر رائے زنی کرنے والے خاکے اور کارٹون چھپنے لگے تھے۔ بعض خاکوں نے مغربی ذوق اور مغربی کپڑوں پر شیفتہ تعلیم یافتہ ہندوستانیوں کا مضحکہ اڑایا۔ بعض دوسرے خاکے تھے جن میں سماجی تبدیلیوں کے خوف کا اظہار کیا گیا تھا۔ امپیریل خاکے تھے جن میں قوم پرستوں کا مذاق اڑایا گیا تھا اور نیشنلسٹ کارٹون تھے جن میں امپیریل حکومت پر تنقید تھی۔
Capture24
شکل. —17  راجا ت ریتودھواج شہزادی مدالسا کو آسیب کے چنگل سے آزاد کراتے ہوئے۔  پرنٹ روی ورما۔ روی ورما نے بے شمار اساطیری پینٹنگ بنائیں جو روی ورما پریس میں چھپیں۔

8.1   خواتین اور پرنٹ


عورتوں کی زندگی اور ان کے احساسات کے بارے میں خصوصی شدت اور وضاحت کے ساتھ لکھا جانے لگا۔ عورتوں میں مطالعے کے رواج میں خصوصاً متوسط طبقے کے گھرانوں میں بے پناہ اضافہ ہوا۔روشن خیال شوہروں اور والدین نے اپنی خواتین کو پڑھانا شروع کیا اور انیسویں صدی کے وسط کے بعد جب شہروں اور قصبوں میں لڑکیوں کے اسکول کھلے تو ان لوگوں نے اپنی بچیوں کو اسکولوں میں بھیجا۔ بہت سے رسالوں نے خواتین کی لکھی ہوئی چیزوں کو شائع کرنا شروع کیا اور یہ بتانے کی کوشش کہ عورتوں کو تعلیم کیوں دی جانی چاہیے۔ ان رسالوں میں ایک نصاب اور اس سے متعلق مطالعے کے لیے مناسب مواد بھی دیا جانے لگا جو گھر میں ہونے والی تعلیم کے لیے مفید تھا۔
Capture25
شکل.  —18 انڈین چاری واری کا سرورق ۔انڈین چاری واری خاکے اور طنز و مزاح چھاپنے والے بہت سے رسالوں میں سے ایک تھا۔ آخر انیسویں صدی میں نکلتا تھا۔ دیکھیے امپیریل انگریز شخص کو عین مرکز میں رکھا گیا ہے۔ وہ صاحب اختیار اور شاہانہ ہے۔ دیسیوں کو بتارہا ہے کہ کیا کرنا ہے۔ دیسی لوگ اس کی دونوں طرف بیٹھے ہیں۔ غلام سرشت اور اطاعت گزار۔ ہندوستانیوں کو طنز و مزاح اور کارٹونوں کا برٹش میگزین پنچ دکھارہا ہے۔ آپ انگریز آقا کو یہ کہتے ہوئے تقریباً سن سکتے ہیں ’’یہ نمونہ ہے۔ ذرا اس کا ہندوستانی روپ نکال کر دکھاؤ۔‘‘

مگر تمام گھرانے روشن خیال نہیں تھے۔ ہندوقدامت پرست سمجھتے تھے کہ پڑھی لکھی لڑکی بیوہ ہوجائے گی، مسلمانوں کو ڈر تھا کہ لڑکیاں اردو رومانی چیزیں پڑھ کر بدچلن ہوجائیں گی۔ کبھی کبھی سرکش خواتین نے ان پابندیوں کی خلاف ورزی بھی کی۔ ہم شمالی ہندوستان کی ایک مسلم گھرانے کی ایسی لڑکی کا قصہ جانتے ہیں جس نے چھپ چھپ کر اردو پڑھنا اور لکھنا سیکھا تھا۔ اس کے خاندان والے چاہتے تھے کہ وہ صرف عربی قرآن پڑھے،جو وہ بالکل نہیں سمجھتی تھی۔ اس نے ایسی زبان پڑھنے پر اصرار کیا جو اس کی اپنی تھی۔ اوائل 19ویں صدی میں بنگال میں، ایک انتہائی قدامت پرست گھرانے میں بیاہی ہوئی راشندری دیوی نے گھر کے باورچی خانے کی تنہائی میں پڑھنا سیکھا۔ بعد کو اس نے اپنی خود نوشت سوانح عمری Amar Jiban لکھی جو 1876 میں شائع ہوئی۔ یہ پہلی طویل خود نوشت سوانح عمری تھی جو بنگالی زبان میں چھپی۔ 
سماجی اصلاحات اور ناولوں نے عورتوں کی زندگیوں اور ان کے احساسات و جذبات میں ایک عام دل چسپی پیدا کرہی دی تھی، ایک دل چسپی اس بات میں پیدا ہوئی کہ خود عورتیں اپنی زندگیوں کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گی۔ 1860 کے بعد سے کیلاش بھاشنی دیوی جیسی بنگالی خواتین نے کتابیں لکھیں جن میں عورتوں کے تجربات کو سامنے لایا گیا تھا۔ تجربات، عورتیں گھروں میں کیسے قید تھیں، انھیں کس طرح جہالت کی تاریکی میں رکھا جاتا تھا۔ سخت گھریلو کاموں کے کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا اور کس طرح وہی لوگ ان کے ساتھ بُرا سلوک کرتے تھے جن کی وہ خدمت کرتی تھیں۔ 1880 میں آج کے مہاراشٹر میں تارابائی شنڈے اور پنڈتارامابائی نے اونچے طبقے کی ہندوعورتوں خصوصاً بیواؤں کی بدحالی اور قابل نفرت زندگیوں کے بارے میں شدید غم و غصے کے ساتھ لکھا۔ تامل ناول میں ایک عورت نے بتایا کہ اُن عورتوں کے لیے جو سماجی رسوم و رواج اور قاعدے قانون کے بندھنوں میں جکڑی رہتی ہیں پڑھنے کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ ’’مختلف اسباب کی بناپر میری دنیا بہت چھوٹی ہے … میری زندگی کی آدھی سے زیادہ خوشیاں کتابوں سے آتی ہیں …‘‘
’اردو‘تامل بنگالی اور مراٹھی پرنٹ کلچر کا ارتقا تو پہلے ہوگیا تھا، ہندی طباعت سنجیدگی کے ساتھ 1870 سے شروع ہوئی۔ جلدی ہی اس کا ایک بڑا حصہ عورتوں کی تعلیم کے لیے وقف ہوگیا۔ بیسویں صدی کے اوائل میں عورتوں کے لیے لکھے جانے والے اور بسااوقات خود عورتوں کے ایڈٹ کیے ہوئے رسائل بہت مقبول ہوئے۔ ان رسالوں میں عورتوں کی تعلیم بیوگی، بیوہ کی شادی اور قومی تحریک جیسے مسائل پر بحثیں ہوئیں۔ بعض رسالوں نے امور خانہ داری اور فیشن کے بارے میں عورتوں کو بتایا اور مختصر کہانیوں اور سلسلہ وار ناولوں کے ذریعہ تفریح کا سامان مہیا کیا۔
پنجاب میں بھی اسی طرح کا عوامی ادب 20 ویں صدی کے اوائل سے بڑے پیمانے پر شائع ہوا۔ رام چڈھا نے عورتوں کو تابع دار بیویاں بننا سکھانے کے لیے بڑی تعداد میں بکنے والی کتاب ’’استری دھرم وچار‘‘ شائع کی۔خالصہ ٹریکٹ سوسائٹی نے بھی اسی پیغام کے ساتھ سستے کتابچے شائع کیے۔ ان میں اکثر کتابچے ، اچھی عورتوں کی خصوصیات کے بارے میں تھے اور مکالموں کی صورت میں تھے۔
بنگال میں، مرکزی بنگال میں ایک پورا علاقہ بٹالہ ایسی ہی مقبول عام کتابوں کی اشاعت کے لیے وقف تھا۔ یہاں آپ کو مذہبی
 رسالوں اور کتابوں کے سستے اڈیشن بھی مل سکتے تھے اور وہ ادب بھی جو فحش اور اہانت آمیز سمجھا جاتا تھا۔ 19 ویں صدی کے آخری زمانے میں ان کتابوں میں ووڈکٹس اور رنگین لیتھوگراف سے بنی ہوئی بے شمار تصویریں چھاپی جانے لگیں تھیں۔ پھیری والے بٹالہ کی مطبوعات کو گھر گھر پہنچاتے تھے اور عورتوں کو اپنے خالی وقتوں میں انھیں پڑھنے کا موقع فراہم کرتے تھے۔


ماخذ E 

1926 میں مشہور ماہر تعلیم اور ادبی شخصیت و الی بیگم رقیہ سخاوت حسین نے بنگال ویمن ایجوکیشن کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے مذہب کے نام پر عورتوں کو تعلیم سے محروم رکھنے پر مردوں کی شدید مذمت کی:
’’خواتین کی تعلیم کے مخالفین کہتے ہیں کہ عورتیں سرکش ہوجائیں گی … لعنت ہے۔ یہ لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور پھر بھی اسلام کے اُن بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں جو عورتوں کو تعلیم کا مساوی حق دیتے ہیں۔ اگر مرد تعلیم حاصل کرنے کے بعد گم راہ نہیں ہوتے تو عورتیں کیوں ہوں گی؟‘‘
Capture26

شکل. —19گھورکالی (دنیا کا خاتمہ) ،رنگین وُڈکٹ ،آخر 19ویں صدی۔

خاندانی رشتوں کی تباہی کا آرٹسٹ کا تصور۔ یہاں شوہر پر بیوی کا پورا تسلط ہے۔ بیوی اس کے کندھے پر چڑھی بیٹھی ہے۔ شوہر اپنی ماں کے لیے ظالم ہے اسے ایک جانور کی طرح کھینچ رہا ہے۔

Capture27

شکل —20. ایک ہندوستانی جوڑا۔ سفید اور سیاہ ووڈکٹ۔

تصویر آرٹسٹ کے اس خوف کو دکھاتی ہے کہ مغرب کے ثقافتی اثرات نے خاندان کو اتھل پتھل کرکے رکھ دیا ہے۔ غور کیجیے کہ مرد دنیا بجارہاہے جب کہ عورت حقہ پی رہی ہے آخر 19 ویں صدی میں عورتوں کی تعلیم کی طرف  پیش قدمی نے روایتی خاندان کی شکست و ریخت کی تشویش پیدا کردی۔

Capture28
شکل —21. ایک یورپین جوڑا کرسیوں پر بیٹھے ہوئے۔ 19 ویں صدی ووڈکٹ۔  تصویر روائتی خاندانی کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ صاحب شراب کی بوتل لیے ہوئے ہیں جب کہ میم صاحبہ وائلن بجا رہی ہیں۔

8.2   پرنٹ اور غریب لوگ

19 ویں صدی میں مدراس کے شہروں کے بازاروں میں چھوٹی چھوٹی سستی کتابیں لائی گئیں جنھیں شہر کے چوراہوں پر بیچ کر بازار میں آنے والے غریب لوگوں کو انھیں خرید نے کا موقع فراہم کیا گیا۔ 20 ویں صدی کے شروع میں پبلک لائبریریاں قائم ہوئی جنھوں نے کتابو ںتک لوگوں کی رسائی کو بڑھادیا۔ اکثر لائبریریاں شہروں اور قصبوں میں تھیں اور کبھی کبھی خوش حال گاؤں میں مقامی متمول سرپرستوں کے لیے لائبریری قائم کرنا وقار حاصل کرنے کا ذریعہ تھا۔
19ویں صدی کے آخری زمانے سے چھپنے والے بہت سے رسالوں اور مضامین میں ذات پات کے امتیازات کے مسائل پر لکھنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ نیچی ذات والوں کی اجتماعی تحریکوں کے مراٹھا سرخیل جیوتی باپھولے نے اپنے رسالے ’غلام گیری‘ (1871) میں ذات پات کے نظام کی ناانصافیوں کے بارے میں لکھا۔ 20 ویں صدی میں مہاراشٹر میں بی آر امبیڈ کر اور مدراس میں ای وی راماسوامی نائیکر (جو پیرییار کے نام سے زیادہ مشہور ہیں) نے ذات کے مسائل پر بڑے زور دار طریقے پر لکھا ۔ ان کی تحریروں کو ہندوستان بھر کے لوگوں نے پڑھا۔ مقامی احتجاجی تحریکیوں اور مختلف فرقوں نے بھی قدیم کتابوں پر تنقید کرنے والے بہت سے مقبول رسالے نکالے اور مضامین لکھے، اور ایک نئے اور منصفانہ مستقبل کا خواب دیکھا۔
فیکٹری مزدوروں پر کام کا بڑا بوجھ تھا اور اپنے تجربات کے بارے میں کچھ لکھنے کے لیے ان کے پاس تعلیم بھی کم تھی اور وقت بھی کم تھا مگر کانپور کے ایک مل مزدور کاشی بابا نے ذات اور طبقاتی استحصال کے مابین رشتوں کی نشاندہی کرنے کے لیے 1938 میں ایک کتاب ’’چھوٹے اور بڑے کا سوال‘‘ لکھی اور شائع کرائی۔ کانپور ہی کے ایک مل ورکر کی جو سدرشن چکر، کے قلمی نام سے لکھتے تھے، 1935 اور 1955 کے درمیان لکھی ہوئی نظموں کو ایک جگہ جمع کیا گیا اور ایک مجموعے ’’ساچی کو یتائیں‘‘ میں شائع کیا گیا۔ 1930 میں بنگلور کے مل مزدوروں نے بمبئی کے مزدوروں کی پیروی کرتے ہوئے خود اپنی تعلیم کے لیے لائبریریاں قائم کیں۔ اس کام میں ان کی سرپرستی سماجی کا رکنوں نے کی جو خواندگی لانے کبھی کبھی قوم پرستی کا پیغام سنانے اورحد سے گزری ہوئی شراب نوشی پر روک لگانے کی کوشش کر رہے تھے۔

سرگرمی 

شکل 19،20 اور 21 کو غور سے دیکھیے۔
سماج میں ہونے والی سماجی تبدیلیوں پر آرٹسٹ کس رائے کا اظہار کررہا ہے؟
سماج میں وہ کون سی تبدیلیاں تھیں جنھوں نے اس رد عمل کے لیے اکسایا؟
کیا آپ آرٹسٹ کے رد عمل سے متفق ہیں؟

9۔پرنٹ اور سنسرشپ


1798 سے قبل ، ایسٹ انڈیا کمپنی کے ماتحت نوآبادیاتی ریاست کو سنسرشپ سے کوئی بہت سروکار نہیں تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مطبوعہ مواد پر کنٹرول کرنے کے لیے ابتدامیں جو اقدامات کیے گئے وہ ہندوستان میں ان انگریزوں کے خلاف تھے جو کمپنی کی بدانتظامیوں پر نکتہ چینی کرتے تھے اور کمپنی کے بعض خاص افسروں کی کارگزاریوں کو ناپسند کرتے تھے۔ کمپنی کو پریشانی یہ تھی کہ ایسی تنقیدوں کو انگلستان میں ان کے ناقد ہندوستان میں تجارت پر ان کے تسلط پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

باکس 4

کبھی کبھی ، حکومت کو وفادار اخباروں کی ادارت کے لیے امیدوار ڈھونڈنا مشکل ہوجاتا تھا جب 1877 میں شروع ہونے والے اخبار اسٹیٹس مین، کے اڈیٹر سینڈرس سے درخواست کی گئی تو اس نے کس قدر گستاخانہ انداز میں پوچھا کہ آزادی سے محرومی کو جھیلنے کے لیے اسے تنخواہ کیا دی جائے گی۔ The friend of India نے حکومت کی مالی امداد کی ایک پیش کش کو ٹھکرادیا کہ یہ اسے حکومت کے احکامات کی اطاعت پر مجبور کرے گی۔

1820 میں کلکتہ سپریم کورٹ نے پریس کی آزادی پر کنٹرول کرنے کے لیے کچھ ضوابط بنائے اور کمپنی نے ان اخباروں کی ہمت افزائی شروع کی جو برطانوی حکومت کے گن گائیں۔ 1938 میں انگریزی اور مقامی زبان کے اخباروں کے اڈیٹروں کی فوری عرضیوں کے پیش نظر گورنر جنرل بینٹک نے پریس سے متعلق قوانین پر نظر ثانی کو منظور کیا۔ ایک لبرل نوآبادیاتی افسر تھامس میکالے نے نئے قاعدے بنائے جنھوں نے پچھلی آزادیاں بحال کردیں۔
1857 کی سرکشی کے بعد پریس کی آزادی کی طرف رویہ بدلا۔ تلملائے ہوئے انگریزوں نے دیسی پریس پر شکنجہ مزید کسے جانے کا مطالبہ کیا۔ مقامی زبانوں کے اخبار چونکہ زیادہ اصرار کے ساتھ نیشنلسٹ ہوئے اس لیے نوآبادیاتی حکومت نے کنٹرول کے زیادہ سخت اقدامات پر بحث شروع کی۔ 1878 میں ورناکیولر پریس ایکٹ آئرشن پریس لاز کے نمونے پر پاس ہواتھا۔ اس نے حکومت کو ورناکیولر پریس میں خبروں اور اداریوں کو سنسر کرنے کے وسیع اختیارات دے دیے۔ اس کے بعد سے حکومت نے مختلف صوبوں سے شائع ہونے والے ورناکیولر اخباروں پر باقاعدہ نظر رکھنا شروع کردیا۔ جب کسی خبر کو باغیانہ قرار دے دیا جاتا تو اخبار کو خبردار کیا جاتا اگر یہ تنبیہ نظر انداز کی جاتی تو پریس پر قبضہ کیا جاسکتا تھا اور وہاں کی مشینوں کو ضبط کیا جاسکتا تھا۔
ان جبری اقدامات کے باوجود ، نیشنلسٹ اخبارات کی تعداد میں ملک کے تمام حصوں میں اضافہ ہوا۔ ان اخباروں نے نوآبادیاتی بدانتظامیوں کی خبریں چھاپیں اور قوم پرستانہ سرگرمیوں کی ہمت افزائی کی۔ نیشنلسٹ نکتہ چینی کا گلاگھونٹنے کی کوششوں نے عسکری احتجاج اکسایا۔ اس کے رد عمل کے طور پر آزار پہنچانے اور احتجاج کرنے کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ جب 1907 میں پنجاب کے انقلابیوں کو ملک بدر کیا گیا تو بال گنگا دھر تلک نے اپنے اخبار کیسری میں ان کے بارے میں بڑے ہمدردانہ انداز میں لکھا۔ اس تحریر کی پاداش میں انھیں1908 میں جیل میں ڈال دیا گیا جس کے جواب میں سارے ملک میں احتجاج ہوئے۔

ماخذ F 

1922 میں گاندھی نے کہا:

’’بولنے کی آزادی … پریس کی آزادی… تنظیم کی آزادی … ہندوستان کی حکومت اب رائے عامہ کی تشکیل اور اس کے اظہار کے تین طاقتور ذریعوں کو کچل دینا چاہتی ہے۔ سوراج کے لیے لڑائی ، خلافت کے لیے لڑائی کا مطلب سب سے پہلے خطرے میں گھِری اس آزادی کی لڑائی ہے۔‘‘

اختصار کے ساتھ لکھیے

1۔ مندرجہ ذیل کی وجوہات بتائیے:
(a)یورپ میں ووڈ بلاک پرنٹ 1295 کے بعد ہی آیا
(b)مارٹن لوتھر کنگ پرنٹ کے حق میں تھے اور انھوں نے اس کی تعریف کی
(c)رومن کیتھولک چرچ نے سولھویں صدی کے وسط سے ممنوعہ کتابوں کی فہرست رکھنی شروع کی
(d)گاندھی نے کہا کہ سوراج کے لیے لڑائی بولنے کی آزادی ، پریس کی آزادی  اور تنظیم کی آزادی کی لڑائی ہے۔
2۔مختصر نوٹ لکھیے جس سے ظاہر ہو کہ آپ ان کے بارے میں کیا کچھ جانتے ہیں۔
 (a)گٹنبرگ پریس
 (b)چھپی ہوئی کتاب کے بارے میں ایراسمس کا خیال
 (c)دی ورناکیولر پریس ایکٹ
19ویں صدی کے ہندوستان میں مندرجہ ذیل کے لیے پرنٹ کلچر کے فروغ کا کیا مطلب تھا
 (a)عورتوں کے لیے
 (b)غریبوں کے لیے
 (c)مصلحین کے لیے

تبادلۂ خیال کیجیے

1۔اٹھارھویں صدی کے یورپ میں کچھ لوگوں نے یہ کیوں سوچا کہ پرنٹ کلچر روشن خیالی لائے گا اور آمریت اور مطلق العنانی کو ختم کرے گا۔
2۔ چھپی ہوئی سستی کتابوں کے آسانی سے ملنے کے اثرات سے کچھ لوگ ڈرتے کیوں تھے؟ دو مثالیں دیجیے ۔ ایک یورپ سے دوسری ہندوستان سے۔
19ویں صدی کے ہندوستان میں پرنٹ کلچر کے فروغ کے غریبوں کے لیے کیا اثرات تھے۔
پرنٹ کلچر نے ہندوستان میں نیشنلزم کے فروغ میں کیوں کر مدد کی ۔ وضاحت کیجیے۔

پروجکٹ

پچھلے سو برسوں میں پرنٹ ٹکنالوجی میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں کچھ مزید معلومات حاصل کیجیے۔ یہ وضاحت کرتے ہوئے کہ تبدیلیاں کیوں ہوئیں اور اس کے مابعد اثرات کیا ہوئے۔