Skip to content
Jamhooriyatsiyasat Chapter-1

باب1

اقتدار میں  حصہ داری

(Power Sharing)

اجمالی تعارف

اس باب میں ہم جمہوریت کے اس سفر کا دوبارہ آغاز کریں گے جسے ہم نے گذشتہ سال شروع کیا تھا۔گذشتہ سال ہم نے یہ بیان کیا تھا کہ جمہوریت میں ریاست کے کسی ایک ادارہ میں تمام اختیارات جمع نہیں ہوتے۔ مقننہ، منتظمہ اور عدلیہ کے مابین اختیارات کی دانشمندانہ تقسیم کا جمہوریت کی تشکیل میں بڑا اہم رول ہے۔ اس میں اور آئندہ دو ابواب میں ہم تقسیم اختیارات کے اس تصور کو مزید آگے بڑھائیں گے۔ ہم سری لنکا اور بیلجیم کی دو کہانیوں سے گفتگو کا آغاز کرتے ہیں۔ ان دونوں کہانیوں کو اس حیثیت سے دیکھنا ہے کہ یہ تقسیم اختیارات کے مطالبے کو کس طرح حل کرتی ہیں۔ ان کہانیوں کے ذریعہ جمہوریت میں تقسیم اختیارات کی ضرورت کی بابت کچھ نئے نتائج سامنے آتے ہیں۔ یہ نتائج ہمیں مواقع فراہم کرتے ہیں کہ ہم تقسیم اختیارات کے ان مختلف پہلوؤں پر بحث کریں جن کا آئندہ دو ابواب میں ذکر کیا جائے گا۔

بیلجیم اور سری لنکا

بیلجیم یورپ کا ایک چھوٹا سا ملک ہے اس کا رقبہ ریاست ہریانہ سے بھی کم ہے۔ اس کی سرحدیں نیدرلینڈ، فرانس اور جرمنی سے ملتی ہیں۔ اس کی کل آبادی تقریباً ایک کروڑ ہے۔ جو کم و بیش ہریانہ کی آبادی کی نصف ہے۔ اس چھوٹے سے ملک کی نسلی ترکیب بہت پیچیدہ ہے۔ ملک کی کل آبادی کے 59 فی صد لوگ فلیمش علاقہ میں رہتے ہیں اور یہ ڈچ زبان بولتے ہیں۔ اور دوسرے 40 فی صد لوگ والونیہ علاقہ میں رہتے ہیں۔ اور یہ فرانسیسی بولتے ہیں۔ بیلجیم کے بقیہ 1 فی صد لوگ جرمن بولتے ہیں۔ دارالحکومت بروسلز میں 80 فی صد لوگ فرانسیسی بولتے ہیں جب کہ  20 فی صد ڈچ بولتے ہیں۔
فرانسیسی بولنے والا اقلیتی گروپ نسبتاً زیادہ طاقتور اور مالدار تھا۔ اسی وجہ سے ڈچ بولنے والے گروہ کو معاشی اور تعلیمی ترقی کا فیض تاخیر سے پہنچا،  یہ بات بڑی تکلیف دہ ہے۔ یہی چیز 1950-60 کی دہائیوں کے دوران ڈچ اور فرانسیسی بولنے والے گروپوں کے درمیان کشیدگی کا سبب تھی۔ اور بروسلز میں دونوں گروپوں کے مابین کشیدگی شدید تر تھی۔ بروسلز کا مسئلہ خصوصی نوعیت کا تھا۔ ڈچ بولنے والے لوگوں کی ملک میں اکثریت تھی لیکن دارالحکومت میں اقلیت میں تھے۔

میرے ذہن میں ایک سادہ مساوات ہے۔
طاقت کی حصہ داری= طاقت کی تقسیم= ملک کو کمزور کرنا
ہم ایسی گفتگو کا آغاز کرتے ہی کیوں ہیں؟
Ch1-1


آئیے اس کا موازنہ ایک دوسرے ملک سے کریں۔ سری لنکا ایک جزیرائی ملک ہے جو تامل ناڈو کے جنوبی ساحل سے محض چند کلو میٹر پر واقع ہے۔ اس کی آبادی تقریباً 2 کروڑ ہے جو کم و بیش ہریانہ کی آبادی کے برابر ہے۔ جنوبی ایشیا کے دیگر ملکوں کی طرح سری لنکا کی آبادی میں بھی بڑا تنوع ہے۔ سماج کا بڑا حصہ سنہالی بولنے والا ہے (74 فی صد) اور 18 فی صد تمل بولنے والے ہیں۔ تملوں میں بھی دو ذیلی گروپ ہیں۔ اس ملک کے اصلی باشندے تمل ہیں جنھیں ’سری لنکائی تمل‘ کہتے ہیں (13 فی صد)۔ دوسرے وہ ہیں جن کے آبا و اجداد نو آبادیاتی دور میں ہندوستان سے یہاں مزدور کی حیثیت سے آکر آباد ہوگئے تھے۔ ان کو ’ہندوستانی تمل‘ کہتے ہیں۔ جیسا کہ آپ نقشہ کی مدد سے دیکھ سکتے ہیں، سری لنکائی تمل شمالی مشرقی علاقہ میں آباد ہیں۔ بیشتر سنہالی بولنے والے لوگ بدھ مت کے پیرو ہیں جب کہ زیادہ تر تمل یا تو ہندو ہیں یا مسلم تقریباً 7 فی صد عیسائی ہیں جو تمل اور سنہالی دونوں ہیں۔
تصور کیجیے ایسے حالات میں کیا کچھ ہوسکتا ہے۔ بیلجیم میں ڈچ فرقہ اپنی عددی کثرت کا فائدہ اٹھا سکتا ہے اور اپنی مرضی فرانسیسی اور جرمن بولنے والی آبادی پر جبراً دباؤڈال سکتا ہے۔ یہ چیزان فرقوں کے مابین کشیدگی مزید آگے بڑھاسکتی ہے۔ اور یہ ملک کی تقسیم کا اہم سبب بن سکتی ہے۔ ہر دو گروپ چاہے گا کہ برسلز پر اسی کا کنٹرول رہے سری لنکا میں سنہالی فرقہ نے اپنی اکثریت کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ اپنی مرضی پورے ملک پر نافذ کرسکتے ہیں۔ آئیے اب ہم جائزہ لیں کہ فی الواقع ان ملکوں میں کیا کچھ پیش آیا۔

فرہنگ

نسلی: مشترکہ ثقافت کی بنیاد پر ایک سماجی تقسیم ایسے لوگ جو ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے ہوں اور جسمانی شباہت یا ثقافت یا دونوں میں یکسانیت کی وجہ سے اپنے عمومی ورثہ میں یقین رکھتے ہوں۔ ان کے مذہب اور قومیت میں ہمیشہ یکسانیت ضروری ہیں۔
بیلجیم کے علاقے اور فرقے 

Ch1-2
بروسلز -دارالحکومت کا علاقہ 
والی لون (فرانسیسی بولنے والے )
فلیمش (ڈچ بولنے والے )
جرمن بولنے والے 

ببیلجیم اور سری لنکا کے نقشے کو غور سے دیکھیے کن علاقوں میں آپ کو مختلف فرقوں کا ارتکاز نظر آتا ہے؟

سری لنکا میں اکثریت پسندی

سری لنکا ایک آزاد ملک کی حیثیت سے 1948 میں وجود میں آیا۔ سنہالی فرقہ کے قائدین نے اپنی اکثریت کے بل پر حکومت میں اپنے غلبہ کو برقرار رکھنے کی سعی کی۔ اس کے نتیجہ میں جمہوری طور پر منتخب حکومت نے سنہالی غلبہ کو مستحکم کرنے کے لیے اکثریتی اقدامات کا سلسلہ شروع کیا۔
1956میں تمل کو نظر انداز کرکے صرف سنہالی کو سرکاری زبان کی حیثیت سے تسلیم کرنے کے لیے ایک قانون بنایا گیا۔ حکومت نے ایسی ترجیحی پالیسی اختیار کی جس میں یونیورسٹیوں اور سرکاری ملازمتوں میں سنہالیوں کو ترجیح دی جاتی تھی۔ نئے دستور نے حکومت پر یہ شرط عائد کردی کہ وہ بدھ مت کا تحفظ کرے گی اور فروغ دے گی۔
حکومت کے یکے بعد دیگرے ان تمام اقدامات نے سری لنکائی تملوں کے اندر علیحدگی پسندی کے احساسات کو فروغ دیا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ سنہالی بدھسٹ قیادت والی کوئی بڑی پارٹی ان کی زبان اور ثقافت کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے۔ انھوں نے محسوس کیا کہ دستور اور سرکاری پالیسی دونوں نے ان کو مساوی سیاسی حقوق دینے سے انکار کردیا ہے۔ سرکاری ملازمتوں اور دوسرے مواقع کے حصول میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا ہے اور ان کے مفادات کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے۔ بالآخر سنہالیوں اور تملوں کے مابین تعلقات حالات کے ساتھ کشیدہ تر ہوتے چلے گئے۔
سری لنکا کے نسلی فرقے 
سنہالی 
سری لنکائی تمل 
ہندوستانی تمل 
مسلم 

Ch1-3

فرہنگ اکثریت پسندی: یہ اعتقاد کہ اکثریتی فرقہ کو یہ حق ہے کہ وہ اقلیتوں کی ضرورتوں اور آرزوؤں کو کچل کر جیسے چاہے ملک پر حکومت کرے۔


سری لنکائی تملوں نے پارٹیاں بنائیں اور تمل کو سرکاری زبان بنوانے، علاقائی خود مختاری حاصل کرنے، تعلیم اور ملازمت میں یکساں مواقع حاصل کرنے کی جدوجہد شروع کردی لیکن تمل اکثریتی صوبوں کے زیادہ خود مختاری کے مطالبے کو بار بار مسترد کردیا گیا۔ 1980میں بہت سی ایسی تنظیمیں وجود میں آئیں جنھوں نے سری لنکا کے شمالی مشرقی علاقے میں ایک آزاد تمل ایلم مملکت بنانے کا مطالبہ شروع کردیا۔
دونوں فرقوں کے مابین بداعتمادی نے بڑے پیمانے پر تنازعہ کی صورت اختیار کرلی اور پھر وہ جلد ہی ایسی خانہ جنگی میں تبدیل ہوگیا جس میں دونوں فرقوں کے ہزاروں لوگ موت کے گھاٹ اُتار دیے گئے، بہت سے خاندان ملک چھوڑ کر پناہ گزیں کی حیثیت سے زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے اور بہت سے ذریعہ معاش سے محروم ہوگئے، آپ دسویں جماعت کی معاشیات کی درسی کتاب باب 1 میں  سری لنکا کی صحت عامہ، تعلیم اور معاشی ترقی میں اس کے بہترین ریکارڈ کے بارے میں پڑھ چکے ہیں تاہم خانہ جنگی کی وجہ سے ملک کی سماجی، معاشی اور ثقافتی زندگی کو صدمہ پہنچا ہے۔ 2009 میں اس خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا۔

کیا حرج ہے اگر اکثریتی فرقہ حکومت کرتا ہے اگر سنہالا سری لنکا میں حکومت نہیں کریں گے تو اور کہاں کریں گے۔

Ch1-4

بیلجیم کی سکونت

بیلجیم قائدین نے ایک مختلف راہ اختیار کی انھوں نے ثقافتی رنگارنگی اور علاقائی اختلافات کو تسلیم کیا۔ 1970سے 1993کے دوران انھوں نے اپنے دستور میں چار بار ترمیم کی جس سے یہ ممکن ہوسکے کہ  ملک میں تمام لوگ ایک ساتھ شیرو شکر ہوکر رہیں انھوں نے تصفیہ کی جو راہ نکالی وہ دوسرے ملکوں سے مختلف اور انوکھی ہے۔ بیلجیم نمونہ (ماڈل) کے چند عناصر درج ذیل ہے۔

فرہنگ

خانہ جنگی: اندرون ملک دو مخالف فرقوں کے مابین پر تشدد ٹکراؤجو اتنی سنگین صورت حال اختیار کرلے کہ بظاہر جنگ کی کیفیت نظر آئے۔


  • دستور میں ہدایت کی گئی ہے کہ مرکزی حکومت میں ڈچ اور فرانسیسی بولنے والے وزیروں کی تعداد برابر ہوگی۔ بعض خصوصی قوانین ایسے ہیں جس میں تمام لسانی گروپ کے ممبروں کی اکثریت کی حمایت ضروری ہے اس طرح کوئی ایک فرقہ تنہا کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا۔

یہ کیسا حل ہے؟ میں خوش ہوں کہ میرا دستور یہ نہیں کہتاہے کہ ون وزیر کس فرقہ سے ہوگا؟

Ch1-5
  • مرکزی حکومت کے بہت سارے اختیارات ملک کے دو علاقوں کی صوبائی حکومتوں کو تفویض کردیے گئے ہیں صوبائی حکومتیں مرکزی حکومت کے ماتحت نہیں ہیں۔

Ch1-6
یہ فوٹو بلجیم کی ایک گلی کا پتہ ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جگہ کا نام  دو زبان۔ فرانسیسی اور ڈچ میں ہے۔

  • بروسلز کی ایک علیحدہ حکومت ہے جس میں دونوں فرقوں کو مساوی نمائندگی دی گئی ہے۔ فرانسیسی بولنے والوں کو برسلز میں یکساں نمائندگی اس لیے دی گئی ہے کیوں کہ ڈچ بولنے والوں کو مرکزی حکومت میں مساوی نمائندگی حاصل ہے۔
  • مرکزی اور صوبائی حکومت سے الگ، وہاں حکومت کی ایک تیسری قسم بھی ہے۔ یعنی فرقہ حکومت۔ یہ حکومت ایسے منتخب افراد کے ذریعہ وجود میں آتی ہے۔ جو ڈچ، فرانسیسی اور جرمن زبانوں میں سے کسی ایک زبان کے بولنے والے خواہ وہ کہیں بھی رہتے ہوں۔ یہ حکومت تعلیمی، لسانی اور ثقافتی امور سے متعلق مسائل کے حل میں پورا اختیار رکھتی ہے۔
آپ محسوس کریں گے کہ بیلجیم نمونہ (ماڈل) بہت پیچیدہ ہے۔ اور واقعہ یہ ہے کہ یہ خود بیلجیم کے رہنے والے لوگوں کے لیے بھی پیچیدہ ہے۔ البتہ تنازع سے بچنے کے اس انتظام کے بعد بڑے خوشگوار نتائج سامنے آتے ہیں۔ اس سے دو بڑے فرقوں کے مابین ٹکراؤ سے بچنے میں مدد ملی اور زبان کی بنیاد پر ملک تقسیم ہونے سے محفوظ رہ گیا۔ یورپ کے بہت سارے ممالک یورپی یونین کی تشکیل کے لیے جمع ہوئے تو اس کے مرکز (ہیڈ کوارٹر) کے لیے برسلز کا انتخاب عمل میں آیا۔
Ch1-7
European Union Parliament in Belgium

آؤ اخبار پڑھیں

کوئی بھی اخبار ایک ہفتہ پڑھیے اور پھر اس سے جنگ اور تنازعات سے متعلق تراشے لے کر ان کا درج ذیل صورت میں تجزیہ کیجیے۔
  • ان تنازعات کو جگہ کے تعین (اپنے صوبہ، ہندوستان اور ہندوستان سے باہر) کے ساتھ تقسیم کیجیے۔
  • ان تنازعات کے اسباب معلوم کیجیے اور دیکھیے کہ ان میں سے کتنے کا تعلق طاقت کی حصہ داری سے ہے ۔
  • ان میں کتنے تنازعات ایسے ہیں جن کو تقسیم اختیارات کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے۔

تو آپ کہہ رہے ہیں کہ طاقت کی حصہ داری ہمیں زیادہ طاقتور بناتی ہے۔ آواز کچھ مبہم ہے۔ ہمیں سوچنے دیجیے۔

Ch1-8

سری لنکا اور بیلجیم کی ان دو کہانیوں سے ہم نے کیا سیکھا؟ دونوں جمہوری ملک ہیں، دونوں مختلف طور پر طاقت کی حصہ داری کے مسئلہ سے نبرد آزما ہیں۔ بیلجیم میں قائدین یہ سمجھتے اور تسلیم کرتے ہیں کہ مختلف مذاہب اور فرقوں کے احساسات و مفادات کو ملحوظ خاطر رکھ کر ہی ہم ملک کو متحد رکھ سکتے ہیں۔ چنانچہ اس قدردانی کے نتیجہ میں باہمی تسلیم و رضا کے ذریعہ طاقت کی حصہ داری عمل میں آتی ہے۔ سری لنکا ہمارے سامنے ایک کشمکش اور مقابلہ آرائی کا نمونہ پیش کرتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ اگر اکثریتی فرقہ دوسرے فرقہ پر طاقت کے بل پر اپنا غلبہ چاہتا ہے اور تقسیم کا منکر ہے تو ملک کا اتحاد کھوکھلی بنیادوں پر قائم ہوگا۔
Ch1-9
اعلی جرمنی تکنیک 
بائیں طرف جو کارٹون دیا ہوا ہے وہ جرمنی کی رواں متحدہ حکومت کے مسائل کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ یہ متحدہ حکومت جرمنی کی دوبڑی پارٹیوں، کرسچین ڈیموکریٹک یونین اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی پر مشتمل ہے۔ یہ دونوں پارٹیاں تاریخی طور پر ایک دوسرے کی حریف رہی ہیں۔ انھوں نے ایک متحدہ حکومت تشکیل دی ہے کیوں کہ 2005 کے انتخاب میں ان میں سے کوئی بھی پارٹی واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکی تھی۔ گو کہ ان کے درمیان بہت سے پالیسی امور میں اختلاف پایا جاتا ہے پھر بھی متحدہ طور پر چل رہی ہے۔

فرہنگ

دانشمندانہ: دانشمندی کی بنیاد پر کامیابی یا ناکامی کا دانشمندانہ تخمینہ۔ دانشمندانہ فیصلہ عام طور پر خالصتاً اخلاقی غور و فکر کے نتیجہ میں عمل میں آتاہے۔ یہ آنے والے فیصلے سے مختلف ہوتا ہے

کیوں تقسیم اختیارات خوش آئند ہے؟

یوں تقسیم اختیارات کے حق میں دو مختلف قسم کے دلائل دیے جاسکتے ہیں۔پہلا تقسیم اختیارات ایک موزوں اور اچھا حل ہے کیوں کہ اس سے سماجی فرقوں کے مابین تنازعات کے امکانات کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ سماجی تنازعات بسا اوقات تشدد اور سیاسی عدم استحکام کا سبب بن جاتے ہیں، سیاسی نظام کو مستحکم کرنے کے لیے تقسیم اختیارات کی صورت میں ایک اچھی راہ نکالی گئی ہے۔ اکثریتی فرقہ کی مرضی کو دوسرے فرقوں پر مسلط کرنا، وقتی طور پر بہت خوشنما صورت نظر آتی ہے لیکن فی الواقع طویل مدتی تناظر میں یہ ملک کے اتحاد اور سا لمیت کے لیے سخت مضر ثابت ہوگی۔ اکثریت کا استبداد محض اقلیت ہی کے لیے ظالمانہ نہیں ہوگا بلکہ بسا اوقات یہ اکثریت کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ جمہوری نظام میں تقسیم اختیارات کے حق میں دوسری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ تقسیم اختیارات جمہوریت کی روح کے عین مطابق ہے۔ جمہوری حکومت ایسے تمام لوگوں کی طاقت کی حصہ داری تسلیم کرتی ہے جس سے وہ متاثر ہوئی اور جو اس کے زیر اقتدار ہوتے ہیں۔ لوگوں کا یہ حق ہے کہ ان سے مشورہ کیا جائے کہ وہ کس طرح کی حکومت میں رہنا پسند کریں گے۔ وہی حکومت جائز حکومت کہلانے کی مستحق ہے جس میں شہریوں کو نمائندگی کے ذریعہ نظام حکومت میں کوئی پوزیشن حاصل ہو۔
دلائل کی پہلی قسم کو ہم دانشمندانہ اور دوسری کو اخلاقی کا نام دے سکتے ہیں۔ دانشمندانہ دلائل میں اس بات پر زور دیا جاتاہے کہ طاقت کی حصہ داری سے بہتر نتائج سامنے آئیں گے جب کہ اخلاقی دلائل میں تقسیم اختیارات کے بہت سے عوامل کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

خلیل کاتذبذب

معمول کے مطابق و کرم موٹر سائیکل چلارہا تھا اور ویتل پیچھے بیٹھا تھا حسب عادت ویتل نے وکرم سے ایک کہانی بیان کرنی شروع کی۔ اس وقت کہانی درج ذیل موڑ پر تھی۔
’’بیروت شہر میں خلیل نام کا ایک آدمی رہتا تھا۔ اس کے والدین مختلف فرقوں سے تعلق رکھتے تھے والد کا تعلق قدامت پسند عیسائی فرقہ سے اور ماں سنی مسلم تھی۔ جدید اور آزاد خیال شہر میں یہ کوئی غیر معمولی بات نہ تھی۔ لوگ باہم شیروشکر ہوکررہتے تھے تاہم ان کے مابین بری طرح خانہ جنگی شروع ہوگئی۔ اور اس میں خلیل کے ایک چچا مارے گئے۔
اس جنگ کے خاتمہ پر لسانی قائدین سر جوڑ کر بیٹھے اور تمام فرقوں کے مابین طاقت کی حصہ داری کے ایک بنیادی اصول طے کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس اصول کے مطابق ملک کا صدر کیتھولک عیسائی وزیر اعظم سنی مسلم نائب وزیر اعظم قدامت پسند عیسائی اور اسپیکر شیعہ مسلم قرار پایا۔ اس میثاق کے مطابق عیسائی فرانسیسی تحفظ کی کوشش ترک کرنے پر رضامند ہوگئے۔ مسلم پڑوسی مملکت شام (سیریا) سے اتحاد نہ کرنے پر تیار ہوگئے۔ جب عیسائیوں اور مسلمانوں نے معاہدہ کیا اس وقت آبادی میں دونوں تقریباً برابر تھے۔ دونوں فرقوں کی طرف سے معاہدہ کا احترام کیا جارہا ہے جب کہ مسلمان اب واضح اکثریت میں ہیں۔
خلیل اس نظام کو بالکل پسند نہیں کرتا۔ وہ ایک عام آدمی ہے اس کے دل میں کچھ سیاسی تمنائیں ہیں۔ اس نظام کے تحت اعلیٰ ترین منصب اس کی دسترس سے باہر ہے۔ وہ اپنے والدین کے مذہب پر عمل پیرا نہیں ہے اور نہ وہ ان میں سے کسی کو پسند کرتا ہے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ لبنان کیوں عام ملکوں کی طرح ایک جمہوری ملک نہیں بن سکتا۔ ’’بس ایک انتخاب ہو۔ ہر ایک کو اس میں حصہ لینے کا حق ہو اور جسے بھی اکثریت حاصل ہو اسے ملک کا صدر بنادیا جائے اس سے مطلق بحث نہ ہو کہ وہ کس فرقہ سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے کہ ہم دنیا کے دوسرے ملکوں کی جمہوریت کی طرح ایسا کیوں نہیں کرسکتے؟اس کا بڑا بھائی جو خانہ جنگی کا خونی منظر دیکھ چکا ہے اس سے کہتا ہے کہ موجودہ نظام امن کا بہترین ضامن ہے‘‘

Ch1-10
کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن ٹی وی ٹاور آگیا جہاں وہ روزانہ رکا کرتے تھے۔ ویتل جلدی سے اترا اور اس نے اپنا روایتی سوال وکرم سے دہرایا۔ اگر لبنان میں آپ کو قانون سازی کا موقع دیا جاتا تو آپ کیا کرتے؟ کیا آپ وہ طرز حکومت اختیار کرتے جو خلیل کے مشورہ کے مطابق بالعموم ہر طرف رائج ہے۔ یا قدیم طرز حکومت پر قائم رہتے یا کوئی اور اختیار کرتے، ساتھ ہی ویتل نے اپنے بنیادی معاہدہ کا بھی ذکر کیا اور کہا ’’اگر آپ کے ذہن میں کوئی جواب ہے اور پھر آپ دینا نہیں چاہتے تو آپ کی قوت گویائی سردپڑ جائے گی اور پھر بالآخر آپ بھی!‘‘
کیا آپ ویتل کو جواب دینے میں بچارے وکرم کی مدد کرسکتے ہیں؟

Ch1-11

دوبارہ غور کریں

انیتا بیلجیم کے شمالی علاقہ کے ڈچ میڈیم اسکول میں پڑھتی ہے۔ اس کے اسکول کے بہت سے فرنچ بولنے والے طلبا چاہتے ہیں کہ ذریعۂ تعلیم فرانسیسی ہو۔ سلوی سری لنکا کے شمالی علاقہ کے ایک اسکول میں پڑھتی ہے۔ اس کے اسکول کے تمام طلبہ تمل بولتے ہیں۔ اور وہ چاہتے ہیں کہ ذریعہ تعلیم تمل ہو۔ 

  • اگر انیتا اور سلوی کے والدین نمائندہ حکومت سے رابطہ کرکے درخواست کریں کہ بچے کی خواہش کا احترام کیا جائے تو کس کے کامیاب ہونے کا امکان ہے اور کیوں؟

  • تقسیم اختیارات کی تشکیلات

    تقسیم اختیارات کا تصور غیر منقسم سیاسی قوت کے نظریہ کے ردعمل کے طور پر سامنے آیاہے زمانہ سے یہ خیال عام تھا کہ حکومت کے تمام اختیار ایک ہاتھ میں مرکوز رہنا چاہیے۔ اس کے پیچھے یہ سوچ کارفرما تھی کہ اگر فیصلہ کرنے والی طاقت منتشر رہے گی تو جلد فیصلہ لینا اور اسے تیزی سے نافذ کرنا دشوار ہوگا۔ لیکن یہ نظریہ جمہوریت کے وجود میں آنے کے بعد تبدیل ہوگیا۔ جمہوریت کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ عوام سیاسی طاقت کا اصل منبع ہیں۔ جمہوری نظام میں عوام خود اپنی مرضی سے اپنے اوپر حکومت کرتے ہیں۔ ایک اچھے جمہوری نظام حکومت میں سماج میں موجود مختلف نظریات اور گروپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔ عوامی پالیسی کی تشکیل میں ہر ایک کے خیال اور رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اس لیے جمہوری نظام حکومت میں شہریوں کے مابین ممکن حد تک سیاسی طاقت کی تقسیم ہونی چاہیے۔

    تارا جی کی حکومت
    Ch1-12
    ابھی جلد ہی کچھ نئے قوانین کے ذریعہ صدر کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا تھا انھیں دنوں امریکی صدر نے روس کا دورہ کیا تھا اس کارٹون کے مطابق جمہوریت اور طاقت کے ارتکاز کے مابین کیا رشتہ ہے۔ یہاں کارٹون کے ذریعہ جس نکتہ کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ کیا آپ اس کے علاوہ کوئی مثال دے سکتے ہیں؟

    جدید جمہوریتوں میں تقسیم اختیارات کے مختلف طریقے اپنائے گئے ہیں۔ آئیے ان میں سے چند مشہور طریقوں کا جائزہ لیں جن سے ہم واقف ہیں یا ہمیں سابقہ پیش آئے گا۔
    1. حکومت کے مختلف اعضامثلاً مقننہ، منتظمہ اور عدلیہ کے مابین اختیارات تقسیم ہوتے ہیں اسے ہم اختیارات کی افقی تقسیم کہہ سکتے ہیں۔ کیوں کہ اس سے یکساں سطح پر حکومت کے مختلف اعضاکو مختلف اختیارات کے استعمال کا حق ملتا ہے۔ اختیارات کی اس قسم کی تقسیم سے حکومت کا کوئی بھی شعبہ لامحدود اختیارات نہیں استعمال کرسکے گا۔ ہر شعبہ دوسرے پر نگاہ رکھے گا۔ اس کے نتیجہ میں مختلف اداروں کے مابین طاقت کا توازن قائم رہے گا۔ گذشتہ سال ہم نے پڑھا تھا کہ طاقت کا استعمال کرنے والے حکومت کے وزرا اور افسران بھی پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح مقننہ کے ذریعہ مقرر کردہ جج حضرات مقننہ کے پاس کردہ قوانین اور منتظمہ کے طریقہ عمل کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ تقسیم اختیارات کے اس طریقہ کو تحدید و توازن کا نام دیا جاسکتا ہے۔
    2. حکومتوں کے مابین مختلف سطحوں پر اختیارات تقسیم کیے جاسکتے ہیں۔ تقسیم اختیارات کے تعلق سے ایک عمومی حکومت ہوتی ہے جو پورے ملک پر حکومت کرتی ہے۔ دوسرے صوبائی حکومت جو اپنے صوبہ تک محدود رہتی ہے۔ عمومی حکومت جس کے اختیارات پورے ملک پر محیط ہوتے ہیں بالعموم اسے وفاقی حکومت کہتے ہیں۔ اور ہندوستان میں اسے مرکزی حکومت یا یونین گورنمنٹ کہتے ہیں صوبائی یا علاقائی حکومت کو مختلف ملکوں میں مختلف ناموں سے جانا جاتاہے۔ ہندوستان میں اسے ریاستی حکومت کہتے ہیں۔ اس نظام پر دنیا کے تمام ملکوں میں عمل نہیں ہوتا۔ بہت سے ممالک ایسے ہیں جہاں صوبائی یا ریاستی حکومت کا تصور ہی نہیں پایا جاتا۔ لیکن وہ ممالک، جیسے ہندوستان، جہاں مختلف سطحوں پر حکومت پائی جاتی ہے، دستور میں مختلف سطحوں کی حکومتوں کے اختیارات نہایت واضح طور پر درج کردیے گئے ہیں۔ یہی کچھ اہل بیلجیم نے بیلجیم میں کیا ہے، لیکن سری لنکا میں اسے مسترد کردیا گیا۔ اسے ہم وفاقی تقسیم اختیارات کہتے ہیں۔ ٹھیک یہی ضابطہ مقامی حکومت مثلاً میونسپلٹی اور گرام پنچایت کے لیے بھی اپنایا جاسکتا ہے۔ حکومت کے اوپری سطح سے نچلی سطح تک تقسیم اختیارات کے اس تصور کو ہم عمودی تقسیم اختیارات کا نام دے سکتے ہیں۔ دوسرے باب میں ہم اس پر قدرے تفصیل سے بات کریں گے۔
    3. مختلف مذہبی لسانی سماجی گروپوں کے مابین بھی طاقت کی حصہ داری ہونی چاہیے۔ بیلجیم میں گروہی حکومت اس طرز کی حصہ داری کی بہترین مثال ہے۔ بہت سے ملکوں میں سماج کے کمزور طبقہ اور خواتین کے لیے دستوری اور قانونی طور پر مقننہ اور منتظمہ ہیں نمائندگی دینے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ گذشتہ سال ہم نے اپنے ملک کی پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں نشستیں مخصوص کرنے کے نظام کی بابت پڑھا تھا۔ اس نظم کا مطلب یہ ہے کہ حکومت اور انتظامیہ میں گنجائش پیدا کرکے ایسے تمام عناصر کا رخ موڑا جائے جو علاحدگی پسندی کا شکار ہوسکتے ہیں۔ یہ طریقہ اقلیتی فرقہ کو طاقت میں صاف ستھری حصہ داری دینے کے لیے استعمال کیا جاتاہے۔ تیسرے باب میں ہم سماجی  رنگا رنگی کو برقرار رکھنے کی بہت سی راہوں کا مشاہدہ کریں گے۔
    Ch1-13

    میرے اسکول میں ہر مہینہ کلاس مانیٹر بدلتا رہتا ہے۔ کیا خیال ہے؟ کیا آپ اسے طاقت کی حصہ داری قرار دیں گے؟


    4. طاقت میں حصہ داری کا اہتمام سیاسی جماعتوں، فشاری گروپوں اور تحریکوں میں بھی صاف نظر آتا ہے کیوں کہ ان کے اندر برسر اقتدار گروپ کو متاثر کرنے کی زبردست صلاحیت موجود ہے۔ جمہوریت میں شہریوں کو پوری آزادی ہونی چاہیے کہ اقتدار کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے والی جس جماعت کو چاہیں منتخب کریں معاصر جمہوریت میں اس نے مختلف جماعتوں کے مابین مقابلہ آرائی کی صورت اختیار کرلی ہے اس مقابلہ آرائی سے یقینی ہوجاتاہے کہ اقتدار ایک ہی ہاتھ میں مرکوز نہیں رہے گا۔ طویل مدتی نظام میں طاقت کو مختلف نظریات اور سماجی گروپ کی نمائندگی کرنے والی مختلف جماعتوں کے مابین تقسیم کردیا جاتا ہے۔ کبھی کبھی طاقت کی یہ حصہ داری براہِ راست عمل میں آتی ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب دو یا دو سے زیادہ جماعتیں مل کر انتخاب میں حصہ لیتی ہیں اگر ان کے اتحاد کو انتخاب میں کامیابی مل جاتی ہے تو وہ متحدہ حکومت تشکیل دیتے ہیں اور یوں اقتدارکی حصہ داری عمل میں آتی ہے۔ جمہوریت میں مفاد پرست گروپ بھی ہوتے ہیں۔ اور انھیں ہم تجارت کار، صنعت کار، کسان اور صنعتی مزدور کے نام سے جانتے ہیں۔ حکومت کی طاقت اقتدار میں ان کی بھی حصہ داری ہوتی ہے اور اس کا اندازہ حکومتی کمیٹیوں میں ان کی شرکت اور فیصلہ کے مختلف مراحل میں ان کے اثرات اور نفوذ سے لگایا جاسکتاہے۔ باب 4 میں ہم سماجی تحریکوں، فشاری گروپوں اور سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں سے بحث کریں گے۔


    Ch1-14

    دوبارہ غور کریں

    طاقت کی حصہ داری کی یہاں چند مثالیں دی جارہی ہیں۔ طاقت کی حصہ داری کی چار قسموں سے کون سی قسم صحیح نمائندگی کرتی ہے؟ اور کون کس کے ساتھ طاقت کی حصہ داری کررہا ہے؟
    • ممبئی ہائی کورٹ نے مہاراشٹر کی صوبائی حکومت کو ہدایت جاری کی کہ فوراً حرکت میں آئے، اور ممبئی میں قائم سات بچوں کے گھر کے تقریباً دو ہزار متفرق بچوں کی رہائشی حالت کو بہتر بنانے کی کوشش کرے۔
    • کینڈا میں انتاریو صوبہ کی حکومت نے اصلی فرقہ کی زمینی دعویٰ داری کے مسئلہ کو حل کرنے سے اتفاق کرلیا تھا۔ مقامی  مسائل کے ذمہ دار وزیر نے اعلان کیا تھا کہ حکومت اصلی لوگوں کے ساتھ باہمی احترام و تعاون کے جذبہ سے کام کرے گی۔
    • روس کی دو بااثر جماعتوں، دی یونین آف رائٹ فورسیز اور دی لیبرل یا بلوکو موومنٹ، نے اتفاق کیا تھا کہ وہ اپنی تنظیموں کو ایک مضبوط دائیں بازو والے اتحاد کی صورت میں فروغ دینے کی کوشش کریں گے۔ انھوں نے اس تجویز سے بھی اتفاق کیا کہ وہ آئندہ انتخاب میں باہمی تعاون کے شرائط کی مشترکہ فہرست جاری کریں گے۔
    • نائیجیریا میں مختلف صوبوں کے وزرائے خزانہ جمع ہوئے اورمطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت اپنی ذرائع آمدنی کا اعلان کرے وہ یہ بھی جاننا چاہتے تھے کہ کس فارمولہ کے تحت مختلف صوبوں کے مابین مالیات کی تقسیم عمل میں آتی ہے۔

    Ch1-15

    مشق

    جدید جمہوریت میں طاقت کی حصہ داری کی کون سی مختلف شکلیں پائی جاتی ہیں۔ ہر ایک کی مثال دیجیے۔
    ہندوستانی سیاق میں طاقت کی حصہ داری کی دانشمندانہ اور اخلاقی دلیل کی ایک ایک مثال بیان کیجیے۔
    اس باب کے مطالعہ کے بعد تین طالب علم تین مختلف نتائج اخذ کرتے ہیں۔ ان میں سے آپ کس سے متفق ہیں اور کیوں؟ اپنے دلائل کو کم و بیش پچاس الفاظ میں بیان کیجیے۔
    ثمن۔ طاقت کی حصہ داری محض ایسے سماج میں ضروری ہے جو مذہبی، لسانی اور نسلی تقسیم پر مبنی ہو۔ 
    میسی۔طاقت کی حصہ داری محض ایسے بڑے ملکوں میں موزوں ہے جہاں کثرت سے مذہبی تقسیم پائی جاتی ہے۔
    آصف۔ ہر سماج کسی نہ کسی صورت میں طاقت کی حصہ داری کا خواہاں ہوتا ہے گرچہ وہ چھوٹاہو اور اس میں سماجی تقسیم مطلق نہ پائی جاتی ہو۔
    دی میور آف مرچٹم نے بروسلز سے قریب بیلجیم کے ایک قصبہ کے اسکول میں فرانسیسی بولنے پر پابندی عائد کردی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس پابندی سے اس فلیمش قصبہ میں تمام ڈچ نہ بولنے والوں کو وحدت کی لڑی میں پرونے میں مدد ملے گی۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کا اقدام بیلجیم میں طاقت کی حصہ داری کے نظام کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے؟ کم و بیش پچاس الفاظ میں اپنے دلائل پیش کیجیے۔
    درج ذیل اقتباس کو بغور پڑھئے اور طاقت کی حصہ داری کے دانش مندانہ دلائل میں سے کسی ایک دلیل کی نشاندہی کیجیے۔
    ’’ہمیں پنچائتوں کو زیادہ اختیارات دینے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے دستور سازوں کی امیدیں برآئیں اور مہاتما گاندھی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوسکے۔ پنچایت راج نظام حقیقی جمہوریت قائم کرتا ہے۔ یہ ان لوگوں کے ہاتھوں میں طاقت و اقتدار سونپتا ہے جو جمہوریت میں اصل طاقت و اقتدار کے منبع ہیں یعنی عوام پنچائتوں کو اختیارات تفویض کرنا بھی بدعنوانیوں کو کم کرنے اور انتظامی کارگزاریوں میں اضافہ کرنے کی ایک سبیل ہے۔ جب عوام ترقیاتی اسکیموں کی عمل آوری اور منصوبہ بندی میں حصہ لیں گے تو وہ فطری طور پر ان اسکیموں پر زیادہ اچھی طرح نظر رکھیں گے۔ اس سے بدعنوان دلالوں کو الگ تھلگ کرنے میں مدد ملے گی۔ یوں پنچایت راج نظام ہماری جمہوریت کی بنیادوں کو مستحکم کرے گا۔
    ذیل میں طاقت کی حصہ داری کی حمایت اور مخالفت میں بالعموم بہت سے دلائل دئے گئے ہیں۔ ان میں سے کون طاقت کی حصہ داری کے حق میں ہے نشاندہی کیجیے اور ذیل میں دیے گئے کوڈ کا استعمال کرتے ہوئے صحیح جواب منتخب کیجیے۔ تقسیم اختیارات:
    مختلف فرقوں کے مابین تنازعات کے امکانات کو کم کرتا ہے۔
    خود مختاری کے امکانات میں کمی کرتا ہے۔
    فیصلہ لینے کے عمل کو مؤخر کرتا ہے۔
    سماج کی رنگا رنگی کو برقرار رکھتا ہے۔
    عدم استحکام اور انتشار میں اضافہ کرتا ہے۔
    حکومت میں عوامی شرکت کو فروغ دیتاہے۔
    ملک کے اتحاد کی جڑیں کھوکھلی کرتا ہے۔

    (a) A B D F
    (b) A C E F
    (c) A B D G
    (d) B C D G

    Ch1-16
    بیلجیم اور سری لنکا میں تقسیم اختیارات کے اہتمام کی بابت درج ذیل بیانات کو بغور پڑھیے۔
    بیلجیم میں ڈچ بولنے والوں کی اکثریت نے فرانسیسی بولنے والے اقلیتی فرقہ پر اپنا غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔
    سری لنکا میں سرکاری پالیسی کے تحت سنہالی اکثریت کے غلبہ کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی۔
    سری لنکا کے تملوں نے اپنے کلچر، زبان اور تعلیم اور ملازمتوں میں یکساں مواقع کے تحفظ کے لیے طاقت کی حصہ داری کے وفاقی انتظام حکومت کا مطالبہ کیا۔
    بیلجیم کا وحدانی سے وفاقی طرز حکومت میں تبدیلی کے عمل نے ملک کو لسانی خطوط پر ممکنہ تقسیم سے بچایا۔
    اوپر کے دیے گئے بیانوں میں سے کون سے بیانات صحیح ہیں ؟
    (a)
    DاورA,B,C,
    (b)
    DاورA,B
    (c)
    DاورC
    (d)
    DاورB,C


    Ch1-17
    فہرست (i) کا (تقسیم اختیارات کی صورتیں) فہرست (ii) (حکومت کی صورتیں) سے موازنہ کیجیے اور ذیل میں فہرست میں دیے گئے کوڈ کا استعمال کرتے ہوئے صحیح جواب منتخب کیجیے۔
    فہرست I فہرست II
    1- حکومت کے مختلف شعبوں کے مابین اختیارات تقسیم کیے گئے  A- گروہی حکومت 
    2- نختلف سطح پر حکومتوں کے مابین اختیارات تقسیم کیے گئے َ۔ B- اختیارات کی علاحدگی 
    3- مختلف سماجی گروہوں کے مابین طاقت کی حصہ داری  C- اتحادی حکومت 

    4- دو یا دو سے زیادہ جماعتوں کے مابین طاقت کی حصے داری  D- وفاتی حکومت 


    1 2 3 4
    (a) D A B C
    (b) B C D A
    (c) B D A C
    (d) C D A B

    Ch1-18


    تقسیم اختیارات کے سلسلہ میں ذیل کے دو بیانوں پر غور کیجیے اور ذیل میں دیے گئے کوڈ کا استعمال کرتے ہوئے صحیح جواب منتخب کیجیے۔
    تقسیم اختیارات جمہوریت کے لیے بہتر ہے۔
    اس سے سماجی گروپوں کے مابین تنازعات کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
    ان بیانات میں سے کون صحیح اور کون غلط ہے؟
     
    (A(aصحیح ہے لیکنB غلظ ہے ۔
    (A(aاورB دونوں صحیح ہیں ۔
    (A(cاور Bدونوں غلط ہیں ۔
    (A(dغلط ہے لیکن B صحیح ہے ۔

    Ch1-19