باب2
وفاقیت
(Federalism)
اجمالی تعارف
گذشتہ باب میں ہم ذہن نشین کر چکے ہیں کہ حکومت کے مختلف سطحوں کے مابین اختیارات کی عمودی تقسیم جدید جمہوری حکومتوں میں تقسیم اختیارات کی بڑی قسموں میں سے ایک ہے۔ اس باب میں ہم تقسیم اختیارات کی اس قسم پر روشنی ڈالیں گے جسے عام طور پر وفاقیت کے نام سے جانا جاتاہے۔ پہلے ہم وفاقیت پر عمومی اصطلاح کی حیثیت سے گفتگو کریں گے۔ اس کے بعد ہندوستان میں وفاقیت کے نظریہ اور عمل کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ وفاقی دستوری دفعات پر بحث کرکے ان سیاستوں اور پالیسیوں کا تجزیہ پیش کریں گے جو عملی طور پر وفاقیت کے استحکام کا موجب ہوتی ہیں۔ باب کے آخر میں مقامی حکومت پر بات ہوگی جو ہندوستانی وفاقیت کا تیسرا انتظام ہے۔
وفاقیت کسے کہتے ہیں؟
آئیے پیچھے مڑ کر بیلجیم اور سری لنکا کے تضاد پر نظر ڈالیں ، جسے ہم گذشتہ باب میں پڑھ چکے ہیں، آپ کو یاد ہوگا کہ بیلجیم کے دستور میں جو بنیادی تبدیلی کی گئی تھی یہ تھی کہ مرکزی حکومت کے اختیارات کو کم کرکے اسے علاقائی حکومتوں کو منتقل کردیا گیا تھا۔ مقامی حکومتیں جلد ہی وجود میں آتی تھیں اور بااختیار بھی تھیں تاہم یہ اختیارات انھیں مرکزی حکومت عطا کرتی اور جب چاہتی انھیں واپس بھی لے سکتی تھی۔ 1993میں یہ تبدیلی عمل میں آئی کہ مقامی حکومتوں کو دستوری اختیارات دیے گئے اور زیادہ دنوں تک انھیں مرکزی حکومت پر انحصار نہیں کرنا پڑا۔ بائیں طور بیلجیم وحدانی سے وفاقی طرز حکومت میں تبدیل ہوگیا۔

میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ہندوستانی حکومت کو کیا کہوں؟ کیا یہ ریاستوں کی یونین ہے، وفاقی حکومت ہے یا مرکزی حکومت ہے؟
سری لنکا مستقل طور پر اپنے تمام عملی مراحل میں ایک وحدانی نظام حکومت ہے جس میں تمام اختیارات قومی حکومت کے پاس ہوتے ہیں۔ تمل رہنماؤں کا مطالبہ ہے کہ سری لنکا میں وفاقی نظام حکومت قائم ہونا چاہیے۔ وفاقیت ایک ایسا نظام حکومت ہے جس میں اختیارات مرکزی اقتدار اور ملک کی متعدد دستوری اکائیوں کے مابین تقسیم کردیے جاتے ہیں۔ عام طور پر ایک وفاق میں دو سطحی حکومتیں ہوتی ہیں۔ ایک پورے ملک کی حکومت جو چند عام قومی مفادات کے حامل موضوعات کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ دوسری صوبائی یا ریاستی حکومت جو اپنے صوبہ کے روزمرہ کے انتظامی امور کی نگرانی کرتی ہے۔ان دونوں سطحوں کی حکومتیں آزادانہ طور پر اپنے اختیارات کا استعمال کرتی ہیں۔

اگرچہ دنیا کے 192ملکوں میں سے صرف 25نے وفاقی سیاسی نظام اختیار کیا ہے لیکن ان کی آبادی دنیا کی آبادی کا چالیس فی صد ہے۔ دنیا کے زیادہ تر بڑے ممالک وفاقی ہیں۔ کیا اس نقشہ میں آپ اس ضابطہ سے الگ کوئی ملک تلاش کرسکتے ہیں۔
اس معنی میں وفاقوں کا مقابلہ وحدانی نظام حکومت سے کیا جاتا ہے۔ وحدانی نظام کے تحت محض ایک سطحی حکومت ہوتی ہے یا مرکزی حکومت کی کچھ اکائیاں ہوتی ہیں جو ماتحت حکومت کی حیثیت سے کام کرتی ہیں۔ مرکزی حکومت صوبائی اور مقامی حکومتوں کے لیے حکم نامہ جاری کرسکتی ہے لیکن وفاقی نظام حکومت میں مرکزی حکومت ریاستی حکوت کو کسی کام کے کرنے کا حکم نہیں دے سکتی۔ ریاستی حکومت کے پاس خود اپنے اختیارات ہوتے ہیں جس کے لیے وہ مرکزی حکومت کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتی۔ یہ دونوں حکومتیں علاحدہ علاحدہ طور پر عوام کے سامنے جواب دہ ہوتی ہیں۔
اس معنی میں وفاقوں کا مقابلہ وحدانی نظام حکومت سے کیا جاتا ہے۔ وحدانی نظام کے تحت محض ایک سطحی حکومت ہوتی ہے یا مرکزی حکومت کی کچھ اکائیاں ہوتی ہیں جو ماتحت حکومت کی حیثیت سے کام کرتی ہیں۔ مرکزی حکومت صوبائی اور مقامی حکومتوں کے لیے حکم نامہ جاری کرسکتی ہے لیکن وفاقی نظام حکومت میں مرکزی حکومت ریاستی حکوت کو کسی کام کے کرنے کا حکم نہیں دے سکتی۔ ریاستی حکومت کے پاس خود اپنے اختیارات ہوتے ہیں جس کے لیے وہ مرکزی حکومت کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتی۔ یہ دونوں حکومتیں علاحدہ علاحدہ طور پر عوام کے سامنے جواب دہ ہوتی ہیں۔
آئیے وفاقیت کی کچھ بنیادی خصوصیات پر نظر ڈالیں:
- یہ دو یا دو سے زیادہ سطحی نظام حکومت پر مشتمل ہوتا ہے۔
- بیک وقت شہریوں پر مختلف سطح کی حکومتیں حکومت کرتی ہیں تاہم ان میں سے ہر ایک نظم و نسق، تحصیل محاصل اور قانون سازی کے اپنے مخصوص دائرہ عمل میں رہ کر کام کرتی ہیں۔
- متعلقہ سطح یا متوازی حکومت کے دائرہ عمل کو دستور میں متعینہ طور پر بیان کردیا گیاہے۔ یوں ہر ایک متوازی حکومت کے وجود اور اختیارات کو دستوری طور پر ضمانت دی گئی ہے۔
- دستور کی بنیادی توضیحات کو ایک سطح کی حکومت کے ذریعہ یک طرفہ طور پر تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ اس طرح کی تبدیلی کے لیے دونوں سطح کی حکومتوں کے مابین باہمی رضامندی ضروری ہے۔
- عدلیہ کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ دستور کی توضیح اور مختلف سطح کی حکومتوں کے اختیارات کی تشریح کرے۔ اگر مختلف سطح کی حکومتوں کے مابین اپنے متعلقہ اختیارات کے استعمال کے تعلق سے کوئی تنازع پیدا ہوجائے تو عدالت عظمی تنازع کے تصفیہ میں امپائر کا رول ادا کرتی ہے۔
- ہر سطح کی حکومت کے مالیہ کے ذرائع کو واضح اور متعین طور پر بیان کردیا گیاہے۔ تاکہ ان کی معاشی خود مختاری کو یقینی بنایا جاسکے۔

اگر وفاقیت محض بڑے ممالک میں عمل میں آتی ہے تو پھر بیلجیم نے اسے کیوں اختیار کیا؟
7 وفاقی نظام دہرے مقاصد رکھتا ہے: ایک ملک کے اتحاد و سا لمیت کو فروغ دینا اور اسے تحفظ عطا کرنا۔ دوسرے علاقائی تنوع کو برقرار رکھنا۔ پھر بھی وفاقی نظام کے عمل اور اداروں کے دو پہلو انتہائی اہم ہیں۔ مختلف سطح کی حکومت کو چاہیے کہ وہ تقسیم اختیارات کے کچھ اصولوں سے اتفاق کریں اور ایماندارانہ طور پر ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہوئے اس پر قائم بھی رہیں۔ ایک معیاری وفاقی نظام دونوں پہلوؤں کا حامل ہوتا ہے: باہمی اعتماد اور ایک ساتھ رہنے پر باہمی اتفاق۔
مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے مابین طاقت کا حقیقی توازن مختلف وفاقوں کے درمیان مختلف ہوتا ہے۔ اس توازن کا انحصار خاص طور پر اس کے تاریخی پس منظر پر ہوتا ہے جس میں یہ وفاق وجود میں آیا۔ وفاق تشکیل دینے کے دو طریقے رائج ہیں۔ پہلے طریقہ کے مطابق آزاد ریاستیں خود جمع ہوکر اپنی ایک بڑی اکائی تشکیل دیتی ہیں اس طرح اپنے اقتدار اعلیٰ سے دست بردار ہوکر اپنی شناخت کو برقرار رکھ کر اپنے تحفظ میں اضافہ کرسکتی ہیں۔ جمع ہوکر بنے وفاق کے اس طریقہ کو ہم امریکہ، سوئٹزرلینڈ اور آسٹریلیا میں دیکھ سکتے ہیں۔ وفاق کے اس پہلے زمرے میں تمام آئینی ریاستیں عام طور پر یکساں اختیارات رکھتی ہیں اور مرکز کے مقابلہ میں زیادہ طاقت ور ہوتی ہیں۔
فرہنگ
دائرہ اختیار: ایسا علاقہ جس پر کوئی قانونی اختیار رکھتا ہے۔ ایسا علاقہ جس کی جغرافیائی معنی میں تعریف کی جائے یا مخصوص نوعیت کے موضوعات کے معنی ہیں۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ایک بڑا ملک خود اپنے اختیارات آئینی صوبوں اور قومی حکومت کے مابین تقسیم کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ ہندوستان، اسپین اور بیلجیم اس قسم کے جمع کرکے بنے وفاقوں کی مثالیں ہیں۔ اس دوسرے زمرے میں صوبائی حکومتوں کے مقابلہ میں مرکزی حکومت زیادہ طاقت ور ہوتی ہے۔ بسااوقات وفاق کی مختلف آئینی اکائیوں کے پاس غیر مساوی اختیارات ہوتے ہیں اور کچھ اکائیوں کو خصوصی اختیارات کی ضمانت دی جاتی ہے۔

دوبارہ غور کریں
کچھ نیپالی شہری اپنے نئے دستور میں وفاقی نظام اختیار کرنے پر بحث کر رہے تھے ان میں سے بعض کا خیال تھا:
خاج راج: میں وفاقی نظام کو پسند نہیں کرتا۔ورنہ یہاں بھی ہندوستان کی طرح مختلف ذات پر مبنی گروہوں کے لیے نشستیں محفوظ کردی جائیں گی۔
سریتا: ہمارا ملک بہت بڑا نہیں ہے اس لیے ہمیں وفاقی نظام کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
بابو لال: مجھے امید ہے کہ ترائی علاقہ کو اگر اس کی اپنی صوبائی حکومت قائم ہوگئی تو زیادہ خود مختاری ملے گی۔
رام گنیش: میں وفاقی نظام پسند کرتا ہوں کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اختیارات جو اس وقت راجہ کے پاس ہیں اس کا استعمال ہمارے منتخب نمائندے کریں گے۔
اگر آپ مباحثہ میں شریک ہوتے تو ان میں سے آپ کا کیا جواب ہوتا۔وفاقی نظام کے سمجھنے میں ان میں سے کسی میں غلطی نظر آتی ہے؟ کون سی چیزہندوستان کو ایک وفاقی ملک بناتی ہے؟
کون سی چیز ہندوستان کو ایک وفاقی ملک بناتی ہے؟
ہم نے اس سے قبل دیکھا ہے کہ سری لنکا اور بیلجیم جیسے چھوٹے ممالک تنوع اور رنگا رنگی کے مسائل سے دوچار ہیں۔ ہندوستان جیسے وسیع و عریض ملک کی بابت کیا خیال ہے؟ جہاں بہت سی زبانیں، مذاہب اور علاقے پائے جاتے ہیں؟ ہمارے ملک میں تقسیم اختیارات کا کیا نظم کیا گیا ہے؟
آئیے دستور سے گفتگو کا آغاز کرتے ہیں۔ ہندوستان ایک تکلیف دہ خونی تقسیم کے بعد ایک آزاد ملک کی حیثیت سے وجود میں آیا۔ آزادی کے بعد بہت سی نوابی ریاستیں ملک کا حصہ بن گئیں۔ دستور نے اعلان کیا کہ ہندوستان ریاستوں کی یونین ہوگا گو کہ اس نے وفاق کا لفظ استعمال نہیں کیا تاہم ہند یونین کی بنیاد وفاقی نظام کے اصولوں پر قائم ہے۔
وفاقی نظام کی مذکورہ بالا سات خصوصیات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ یہ تمام خصوصیات آئین ہند کی توضیحات پر پوری طرح منطبق ہوتی ہیں۔ دستور بنیادی طور پر دو سطحی نظام حکومت فراہم کرتا ہے، ایک یونین حکومت جسے ہم مرکزی حکومت کہتے ہندوستان کی یونین کی نمائندگی کرتی ہے۔ دوسرے صوبائی حکومت۔ بعد میں پنچایت اور بلدیہ کی شکل میں تیسری سطح کے وفاق کا اضافہ کیا گیا۔ کسی بھی وفاق کی طرح ان مختلف سطحوں کے الگ الگ دائرہ عمل ہیں دستور میں واضح طور پر مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے مابین قانون سازی کے اختیارات کو تین فہرستوںمیں تقسیم کیا گیاہے۔
- مرکزی فہرست: اس فہرست میں قومی اہمیت کے حامل موضوعات مثلاً دفاع، خارجہ امور، بنکاری، مواصلات اور کرنسی وغیرہ کو شامل کیا گیا ہے۔ ان موضوعات کو فہرست میں اس لیے شامل کیا گیا ہے کیوں کہ ہمیں ان امور پر پورے ملک میں یکساں پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس فہرست میں شامل تمام موضوعات پر تنہا مرکزی حکومت کو قانون سازی کا اختیار دیا گیا ہے۔
- صوبائی فہرست: اس فہرست میں ایسے موضوعات کو شامل کیا گیا ہے جو صوبائی اور مقامی اہمیت کے حامل ہیں۔ مثلاً پولس، تجارت، کاروبار، زراعت اور آب پاشی وغیرہ۔ اس فہرست میں شامل تمام موضوعات تنہا صوبائی حکومت قانون سازی کا اختیار رکھتی ہے۔
- مشترکہ فہرست: اس فہرست میں ان موضوعات کو شامل کیا گیا ہے جو یکساں طور پر صوبائی اور مرکزی اہمیت کے حامل ہیں۔ مثلاً تعلیم، جنگلات، ٹریڈ یونین، شادی، اخذ و قبول (متبنی) اور حق جانشینی وغیرہ۔ اس فہرست میں شامل موضوعات پر مرکزی اور صوبائی حکومتیں دونوں یکساں طور پرقانون سازی کرسکتی ہیں۔ البتہ ان دونوں کے قوانین پر کوئی باہمی تنازعہ پیدا ہوجائے تو مرکزی حکومت کے بنائے قوانین کو فوقیت حاصل ہوگی۔
ایسے موضوعات جو ان تینوں فہرستوں میں شامل نہیں ان کے لیے کیا ضابطہ ہوگا؟ اسی طرح وہ موضوعات جو آئین سازی کے بعد سامنے آئے مثلاً کمپیوٹر سافٹ ویئر وغیرہ انہیں کس فہرست میں شامل کیا جائے گا؟ ہمارے دستور کے مطابق ایسے تمام متفرق موضوعات پر مرکزی حکومت کو قانون سازی کا اختیار دیا گیا ہے۔
کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے؟ کیا ہمارے دستور سازوں کو وفاقیت کا علم نہیں تھا؟ یا انھوں نے اس موضوع پر گفتگو سے گریز کیا؟

ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں کہ باہم ملا کر (Holding Together) تشکیل پانے والے ایک دوسرے کو ملا کر بننے والے بیشتر وفاق اپنی آئینی اکائیوں کو مساوی اختیارات نہیں دیتے۔ اسی طرح ہند یونین کی تمام ریاستیں اپنے شناختی اختیارات نہیں رکھتیں۔ کچھ ریاستوں کو خصوصی مقام دیا گیا ہے۔ جموں و کشمیر کا اپنا ایک الگ دستور ہے۔ دستور ہند کی بہت سی توضیحات، ریاستی اسمبلی کی منظوری کے بغیر، اس ریاست پر نافذ نہیں ہوتیں۔ ہندوستان کے ایسے شہری جو اس صوبہ میں مستقل سکونت نہیں رکھتے، یہاں زمین اور مکان نہیں خرید سکتے۔ اس طرح ہندوستان کے بعض دوسری ریاستوں کے لیے خصوصی توضیحات موجود ہیں۔
ہندوستان کی بہت سی اکائیوں کو بہت کم اختیارات دیے گئے ہیں۔ یہ ایسے علاقے ہیں جو بہت چھوٹے ہیں اور فی الواقع ریاست بنانے کے قابل نہیں تاہم یہ موجود ریاستوں میں سے کسی میں ضم نہیں ہوسکتے تھے۔ یہ علاقے چندی گڑھ، لکشدیپ، اور دارالحکومت دہلی ہیں۔ جو یونین علاقے کہلاتے ہیں۔ ان علاقوں کو ریاست کے اختیارات حاصل نہیں۔ ان علاقوں کے انتظام و انصرام کے لیے مرکزی حکومت کو خصوصی اختیارات دیے گئے ہیں۔
اگر زراعت اور تجارت صوبائی موضوعات ہیں تو ہم یونین کابینہ میں کیوں وزرائے زراعت و تجارت دیکھتے ہیں۔

مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے مابین اختیارات کی تقسیم دستور کے ڈھانچہ کی بنیاد پر عمل میں آتی ہے۔ تقسیم اختیارات کے اس نظام کو آسانی کے ساتھ تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ حتیٰ کہ اس نظام کو خود پارلیمنٹ بھی تنہا اپنے بل پر تبدیل نہیں کرسکتا۔ کسی تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ پہلے پارلیمنٹ اپنے دونوں ایوانوں سے دو تہائی اکثریت سے پاس کرے اور پھر تمام ریاستوں میں سے نصف ریاستیں اس کی تصدیق کریں اس کے بعد ہی وہ تبدیلی روبہ عمل آئے گی۔
عدلیہ دستوری توضیحات و طریقہ کار کے نفاذ کی نگرانی میں بڑا اہم رول ادا کرتی ہے۔ تقسیم اختیارات کے کسی بھی تنازعہ کا عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ تصفیہ کرتی ہیں۔ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ نظام حکومت چلانے اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے جبری ٹیکس عائد کرکے وسائل کو فروغ دیں۔

آؤ ریڈیو سنیں
ایک ہفتہ تک روزانہ آل انڈیا ریڈیو سے نشر ہونے والی کوئی ایک علاقائی اور قومی خبرنامہ سنیے اور حکومت کی پالیسیوں اور فیصلوں سے متعلق نشر ہونے والی خبروں کی ایک فہرست بنائیے اور انھیں درج ذیل زمروں میں تقسیم کیجیے۔
- خبروں کا وہ مواد جو محض مرکزی حکومت سے متعلق ہے۔
- خبروں کا وہ مواد جو محض آپ کے صوبہ یا دوسرے صوبوں سے متعلق ہے۔
- خبروں کا وہ مواد جو مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے مابین رشتوں کو ظاہر کرتا ہے۔

دوبارہ غور کریں
- پوکھرن جہاں ہندوستان نے اپنے جوہری تجربات کیے تھے۔ راجستھان میں واقع ہے۔ فرض کیجیے حکومت راجستھان مرکزی حکومت کی جوہری پالیسی کی مخالف ہوتی تو کیا یہ حکومت راجستھان حکومت ہند کو جوہری تجربات کرنے سے باز رکھ سکتی تھی۔
- فرض کیجیے حکومت سکم اپنے اسکولوں میں نئی درسی کتاب متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے، لیکن مرکزی حکومت، نئی درسی کتابوں کے انداز و مشمولات سے متفق نہیں ہے۔ کیا ایسی صورت میں صوبائی حکومت کو ان درسی کتابوں کو شامل نصاب کرنے سے پہلے مرکزی حکومت سے اجازت درکار ہوگی۔
- فرض کیجیے آندھرا پردیش، چھتیس گڑھ اور اڑیسہ کے وزرائے اعلیٰ اس بارے میں مختلف پالیسیاں رکھتے ہیں کہ ان کے صوبے کی پولیس نکسلیوں کے خلاف کس طرح کی جوابی کا روائی کرے گی۔ کیا وزیر اعظم ہند مداخلت کرکے کوئی ایسا حکم جاری کرسکتا ہے۔ جس کی پیروی تمام وزرائے اعلیٰ کے لیے ضروری ہو۔
ہندوستان 1947میں

وفاقیت کیسے عمل میں آتی ہے
گوکہ وفاقیت کی کامیابی کے لیے آئینی توضیحات ضروری ہیں تاہم یہ کافی نہیں۔ اگر ہندوستان میں وفاقی تجربہ کامیاب رہا ہے تو وہ محض اس وجہ سے نہیں کہ دستور میں اس کے لیے واضح طور پر گنجائش پیدا کی گئی بلکہ ہندوستان میں وفاق کی کامیابی کا اصل سہرا ہمارے ملک کی جمہوری پالیسی کے سرجاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وفاقی نظام کی روح تنوع کے احترام اور باہم مل کر رہنے کے جذبہ و خواہش میں پنہاں ہے اور اسی نے ہمارے ملک میں ایک معیاری وفاقی نظام قائم کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ آئیے ان چند اہم طریقوں پرنظر ڈالیں جن کے ذریعہ وفاقی نظام روبہ عمل آسکا۔
لسانی ریاستیں
ہمارے ملک میں لسانی ریاستوں کی تشکیل کرکے پہلا بڑا جمہوری سیاسی تجربہ کیا گیا ہے۔اگر آپ ہندوستان کے اس وقت کے سیاسی نقشہ پر نگاہ ڈالیں جب اس نے ایک جمہوری ملک کی حیثیت سے 1947میں اپنے سفر کا آغاز کیا تھا اور اس کے بعد 2017 تک آپ کو اس میں بڑے پیمانے پر تبدیلی دیکھ کر سخت حیرت ہوگی۔ بہت سی پرانی ریاستیں نقشہ سے غائب ہوگئیں اور بہت سی نئی ریاستیں وجود میں آگئی ہیں علاقے، سرحدیں اور ریاستوں کے نام تبدیل کردیے گئے ہیں۔
1947 کے مطابق ہندوستان کی قدیم ریاستوں کی سرحدیں نئی ریاستوں کے وجود میں آنے کی وجہ سے تبدیل کردی گئیں۔ ایسا اس لیے کیا گیا تھا تاکہ یقینی طور پر ایک زبان بولنے والے لوگ ایک ہی ریاست میں رہ سکیں بعض ریاستیں ایسی ہیں جو لسانی بنیادوں پر نہیں بنی ہیں بلکہ وہ ثقافتی، نسلی اور جغرافیائی بنیادوں پر وجود میں آتی ہیں۔ ناگا لینڈ، اتراکھنڈ اور جھارکھنڈ اس قسم کی ریاستیں ہیں۔
جب لسانی بنیاد پر ریاستوں کو تشکیل دینے کا مطالبہ کیا گیا تو بعض قومی قائدین کو اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ بڑھ کر ملک کے عدم استحکام کا ذریعہ نہ بن جائے۔ مرکزی حکومت نے کچھ دنوں تک لسانی ریاستیں بنانے سے گریز کرتی رہی۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ لسانی ریاستیں تشکیل دینے سے ملک کے اتحاد و سالمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے نظم و نسق میں بھی سہولت ہوتی ہے۔
لسانی پالیسی:
ہندوستانی وفاق کا دوسرا تجربہ لسانی پالیسی ہے۔ ہمارا دستور کسی ایک زبان کو قومی زبان کا درجہ نہیں دیتا ہے۔ ہندی کی شناخت دفتری زبان کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ لیکن یہ صرف 40 فیصد شہریوں ہی کی مادری زبان ہے۔ تاہم دوسری زبانوں کو بھی بہت سے تحفظ دیے گئے۔ ہندی کے ساتھ ساتھ دستور میں 21 دوسری زبانوں کو بھی درج فہرست زبانوں کی حیثیت سے تسلیم کیا گیاہے۔ مرکزی حکومت کے ذریعہ کرائے گئے کسی امتحان میں حصہ لینے والا امیدوار ان میں سے کسی زبان میں حصہ لے سکتا ہے۔ ریاستوں کی بھی اپنی سرکاری زبانیں ہیں۔ بہت سے سرکاری کام متعلقہ ریاست کی سرکاری زبان میں انجام پاتے ہیں۔
- کیا آپ کے گاؤں اور شہر آزادی کے بعد اب تک اسی ریاست میں ہیں ؟اگر نہیں تو ،پچھلی ریاست میں ہیں ؟اگر نہیں تو پچھلی ریاست کا نام کیا تھا ؟
- کیا آپ اپنی تین ریاستوں کے نام بتا سکتے ہیں جن کے نام 1947کے بعد تبدیل ہو گئے ہیں ؟
- ایسی تین ریاستوں کی شناخت کریں جو بڑی ریاستوں سے علاحدہ کرکے بنائی گئی ہیں ۔

آندھرا پردیش کی از سر نو تشکیل کے بعد تلنگانہ 2 جون 2014کو ہندوستان کا 29 واں صوبہ بن گیا۔
سری لنکا کے برخلاف ہمارے ملک کے رہنمائوں نے ہندی کے استعمال کے فروغ میں بڑا محتاط رویہ اختیار کیا۔ دستور کے مطابق سرکاری مقاصد کے لیے انگریزی کا استعمال 1965میں روک دیا گیا۔ تاہم غیر ہندی بولنے والی ریاستوں نے مطالبہ کیا کہ انگریزی کااستعمال جاری رہنا چاہیے۔ تمل ناڈو میں اس تحریک نے تشدد کی صورت اختیار کرلی تھی۔ مرکزی حکومت نے ہندی کے ساتھ انگریزی کو بھی مستقل سرکاری دفتری زبان کی حیثیت سے استعمال کرنے کی منظوری دے دی۔ اس فیصلہ پریہ کہہ کر اعتراض کیا گیا کہ اس میں انگریز ی بولنے والے طبقۂ خواص کی حمایت کی گئی ہے۔ تاہم حکومت ہند کی ہندی کو فروغ دینے کی مستقل پالیسی رہی ہے۔ فروغ کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ حکومت ایسے لوگوں پر ہندی تھوپنے کی کوشش کرے گی جن کی زبان دوسری ہے۔ لچکدار رویہ سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستانی سیاسی رہنماؤں نے ایسے حالات سے گریز کرکے ہمارے ملک کی مدد کی ہے جس میں سری لنکا نے اپنے آپ کو مبتلا کر رکھا ہے۔
مرکز ریاست تعلقات
مرکز ریاست تعلقات کی تشکیل نو، ایک مزید ایسی راہ ہے جس کے ذریعہ وفاقی نظام کو عملی طور پر مستحکم کیا جاسکتا ہے۔ تقسیم اختیارات کا دستوری اہتمام فی الواقع کس حد تک موثراور کارگر ہے، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ برسراقتدار جماعتوں اور رہنماؤں نے عملی طور پر اسے کس قدر اہمیت دی ہے۔ ایک طویل مدت سے مرکز اور بیشتر ریاستوں میں ایک ہی جماعت کی حکومت رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ صوبائی حکومتیں خود مختار اکائیوں کی حیثیت سے اپنے اختیارات کا استعمال نہیں کرسکیں۔ اس طرح اس وقت جب صوبائی سطح پر ایسی جماعت کی حکومت ہوئی جو مرکز میں برسر اقتدار جماعت سے مختلف ہوتی تو مرکزی حکومت صوبائی حکومت کی جڑ کھودنے کے درپے ہوتی۔ ان دنوں مرکزی حکومت ان صوبائی حکومتوں کو برطرف کرنے کے لیے دستور کا غلط استعمال کرتی جن کا تعلق مخالف جماعتوں سے ہوتا تھا۔ اس رویہ نے وفاقی نظام کو بے روح بنا کر رکھ دیاتھا۔
ہندی استعمال کرو

ہندی کیوں؟ بنگالی
اور تیلگو کیوں نہیں؟
یہ تمام صورت حال بامعنی طور پر 1990میں تبدیل ہوگئی۔ اس وقفہ میں ملک کی بہت سی ریاستوں میں علاقائی سیاسی جماعتیں ابھریں۔ یہ بھی مرکز میں متحدہ حکومت کے عہد کا آغاز تھا۔ جب سے لوک سبھا میں کسی ایک جماعت کو واضح اکثریت نہیں ملتی، مرکز میں حکومت سازی کے لیے بڑی قومی جماعتوں نے بشمول علاقائی جماعت، بہت سی جماعتوں کے اتحاد میں شمولیت اختیار کرلی۔ اس سے تقسیم اختیارات اور صوبائی حکومتوں کی خود مختاری کے احترام کی ایک نئی ثقافت وجود میں آئی۔ عدالت عظمی کے اہم فیصلوں نے بھی اس رجحان کی تائید کی جس سے مرکزی حکومت کو من مانی کرکے صوبائی حکومتوں کو برطرف کرنا مشکل ہوگیا۔ اس طرح اس وقت کے مقابلہ میں جب دستور کا نفاذ عمل میں آیا تھا، آج تقسیم اختیارات کا تصور زیادہ موثر اور قابل عمل ہے۔
فرہنگ
اتحادی حکومت: کم از کم دو جماعتوں کے اتحاد کی بنیاد پر تشکیل پانے والی حکومت اتحاد کے ممبران بالعموم ایک معاہدہ تشکیل دیتے اور ایک مشترکہ پروگرام اختیار کرتے ہیں۔
ریاستوں نے مزید اختیارات دینے گہار لگائی


یہاں دو کارٹون مرکزاور ریاستوں کے مابین تعلقات کو ظاہر کرتے ہیں کیا ریاست کو کاسۂ گدائی لے کر مرکز کے پاس جانا چاہیے؟ اتحاد کا لیڈر کس طرح اپنے ارکان کو مطمئن رکھتا ہے۔

کیا تم مشورہ دیتے ہو کہ علاقائیت ہماری جمہوریت کے لیے بہتر ہے؟ کیا آپ اس باب میں سنجیدہ ہیں؟
ہندوستان کا لسانی تنوع
ہمارے ملک ہندوستان میں کتنی زبانیں ہیں؟ اس کا جواب شمار کرنے والے پر منحصر ہے۔ اس سلسلہ میں ہمارے پاس 1991 کی مردم شماری کی تازہ معلومات ہیں۔ اس مردم شماری کے مطابق 1500 زبانیں ایسی ہیں جسے لوگوں نے اپنی مادری زبان کی حیثیت سے درج کیا تھا۔ ان زبانوں کو کچھ بڑی زبانوں کے تحت گروپ بند طور پر جمع کردیا گیا ہے۔ مثلاً بھوجپوری، مگدھی، بندیل کھنڈی، بھیلی اور اسی طرح کی دوسری زبانوں کو ہندی کے گروپ میں شامل کردیا گیا ہے۔ اس گروپ بندی کے بعد بھی مردم شماری میں 144 بڑی زبانیں سامنے آتی ہیں۔ ان سب میں بشمول انگریزی 22زبانیں ایسی ہیں جنہیں آئین ہند کے فہرست بند میں شامل کیا گیاہے اور انھیں فہرست بند زبانیں کہتے ہیں۔ دوسری زبانوں کو غیر فہرست بند زبانیں کہا جاتاہے۔ زبان کی حیثیت سے شاید ہندوستان دنیا کا سب سے زیادہ متنوع ملک ہے۔
منسلک جدول پر ایک نگاہ ڈالنے کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ کوئی ایک زبان بھی ایسی نہیں جو ہمارے ملک کی اکثریت کی مادری زبان ہو۔ ہندی جو سب سے بڑی زبان مانی جاتی ہے جو محض 40 فیصد ہندوستانیوں کی مادری زبان ہے۔ اگر ہم اس میں ان لوگوں کو بھی شامل کردیں جو ہندی کو دوسری اور تیسری زبان کی حیثیت سے بولتے ہیں تو بھی 1991کی مردم شماری کے مطابق کل تعداد 50 فیصد سے زیادہ نہ ہوگی۔ یہی حال انگریزی کا ہے کہ محض صفر اعشاریہ دو فیصد لوگوں کی ہی مادری زبان انگریزی درج کی گئی ہے۔ دوسرے 11 فیصد لوگ ایسے ہیں جو اسے دوسری یا تیسری زبان کی حیثیت سے جانتے ہیں۔
اس جدول کو غور سے پڑھیے یاد کرنے کی ضرورت نہیں اور درج ذیل ہدایت پر عمل کیجیے۔
- ان معلومات کی بنیاد پر ایک فہرست مرتب کیجیے۔
- ہندوستان کے لسانی تنوع کا ایک نقشہ تیار کیجیے اور اس پر ان علاقوں کی نشاندہی کیجیے جہاں یہ زبانیں بولی جاتی ہیں۔
- ایسی تین زبانوں کی نشاندہی کیجیے جو ہندوستان میں بولی جاتی ہیں لیکن ذیل کی جدول میں شامل نہیں ہیں۔
ہندوستان کی فہرست بند زبانیں
زبان بولنے والوں کا تناسب (%)
آسامی 1.6
بنگالی 8.3
بوڈو 0.1
ڈوگری 0.2
گجراتی 4.9
ہندی 40.2
کنڑ 3.9
کشمیری 0.5
کونکنی 0.2
میتھلی 0.9
ملیالم 3.6
منی پوری 0.2
مراٹھی 7.5
نیپالی 0.3
اڑیا 3.4
پنجابی 2.8
سنسکرت 0.01
سنتھالی 0.6
سندھی 0.3
تمل 6.3
تلگو 7.9
اردو 5.2

نوٹ: اس جدول کے پہلے کالم میں ان تمام زبانوں کو درج کیا گیا ہے جو حال ہی میں دستور ہند کے آٹھویں فہرست بندمیں شامل کی گئی ہیں۔ دوسرے کالم میں ہندوستان کی مجموعی آبادی کی حیثیت سے ان تمام زبانوں کے بولنے والوں کا فیصدی تناسب دیا گیاہے۔ یہ اعداد 1991کی مردم شماری کی بنیاد پر دی گئی ہیں۔ کشمیری اور ڈوگری زبانوں کے اعداد تخمینی ہیں کیوں کہ 1991میں جموّں اور کشمیر میں مردم شماری نہیں ہوسکی تھی۔

دوبارہ غور کریں
درج ذیل اقتباس کو پڑھیے۔ یہ اقتباس مشہور مورخ رام چندر گوہا کے ایک مضمون سے لیا گیا ہے۔ جو ٹائمز آف انڈیا میں یکم نومبر 2006میں شائع ہوا تھا۔
’’ریاستی تشکیل نو کمیشن (SRC)کی رپورٹ ٹحیک پچاس سال قبل یکم نومبر 1956کو نافذ کی گئی تھی ۔ اس نے اپنے وقت اور حالات کے مطابق ملک کی سیاسی اور ادارہ جاتی زندگی کو تبدیل بھی کیا گیا ہے ۔۔۔۔۔ گاندھی اور دوسرے رہنماؤں نے اپنے حامیوں سے وعدہ کیا تھا کہ جب ملک آزاد ہو جائے گا تو نیا ملک صوبوں کی نئی ترتیب کی بنیاد پر عمل میں آئے گا اور یہ ترتیب زبان کے اصول پر انجام پائے گی ۔تا ہم جب 1947مین بالآخر ملک آزاد ہو گیا تو یہ بھی تقسیم ہو گیا۔۔۔۔
’’ تقسیم لوگوں کے عقیدہ سے بنیادی لگاؤ کے نتیجہ میں ہوتی ہے ۔کتنی مزید تقسیم عمل میں آئے گی جس کا دوسری بنیادی وفاداری یا زبان تقاضا کرتی ہے ۔نہرو پٹیل اور راجہ جی اس طرز پر سوچ رہے تھے ۔
’’ہندوستانی اکائی کی جڑ کھوکھلی کرنے کے تصور کے برعکس ، لسانی ریاستوں نے اسے مستحکم کرنے میں مدد دی ۔اس نے مکمل طور پر ثابت کر دیا ہے کہ ایک شخص کا کنٹری ہندوستانی ، بنگالی ہندوستانی ،تمل ہندوستانی اور گجراتی ہندوستانی ہونا (ملک کے اتحا دوسالمیت کے لیے ) نہایت موزوں ہے ۔یہ طے ہے کہ یہ ریاستیں زبان کی بنیاد پر بنی ہیں کبھی کبھی باہم دست و گریباں رہتی ہیں ۔
گرچہ یہ تنازعات اچھے نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سے برے بھی ہو سکتے تھے ۔
’’ہندوستان لسانی ریاستیں تشکیل دے کر ملک کے بہتر حالات سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا ۔اگر تلگو اور مراٹھی وغیرہ بولنے والوں کے فطری جذبات مجروح کیے گئے ہوتے تو یہاں جو کچھ ہوتا وہ ایسے ہوتا ’ایک زبان‘14 اور 15قومیں ‘‘
اپنی یا کسی دوسری ریاست کی مثال دیجیے جو لسانی تنظیم نو سے متاثر ہوتی تھی ۔ان دی گئی مثالوں کی روشنی میں مضمون نگار کے دلائل کی حمایت یا اس کے رد میں ایک نوٹ تحریر کیجیے ۔
َہندوستان میں لامرکزیت
ہم اوپر لکھ آئے ہیں کہ وفاقی حکومت دو یا دو سے زیادہ سطحی حکومت ہوتی ہے۔ ہم اب تک اپنے ملک میں دو سطحی نظام حکومت پر بحث کرچکے ہیں۔ لیکن ہندوستان جیسا وسیع و عریض ملک محض ان دو سطحوں پر نہیں چل سکتا۔ ہندوستان کی ریاستیں اتنی بڑی ہیں جتنی کہ یورپ کے آزاد ممالک۔ آبادی کی حیثیت سے اتر پردیش روس سے بھی بڑا ہے۔ مہاراشٹر تقریباً جرمنی کے برابر ہے۔ یہ ریاستی اکثرداخلی طور پر بڑی متنوع ہیں۔ اس لیے ان ریاستوں کے مابین داخلی طور پر بھی تقسیم اختیارات کی ضرورت ہے۔ ہندوستان میں وفاقی تقسیم اختیارات کا نظام ایک ایسی تیسری سطح کی حکومت کا متقاضی ہے جو ریاستی حکومتوں سے فروتر ہو۔ یہ طاقت کی لامرکزیت کی ایک معقول وضاحت ہے۔ یوں نتیجہ کے طور پر تیسری سطح کے نظام حکومت کو مقامی حکومت کہتے ہیں۔ جب اختیارات مرکزی اور صوبائی حکومتوں سے لے کر مقامی حکومت کو تفویض کردیا جائے تو اسی کو لامرکزیت کہتے ہیں۔ لامرکزیت کے پس پشت بنیادی سوچ یہ ہے کہ بہت سے مسائل ایسے ہیں جنہیں مقامی سطح پر زیادہ بہتر طور پر حل کیا جاسکتا ہے۔ لوگ اپنے گاؤں گھر کے مسائل زیادہ بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ وہ یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ کہاں کتنا پیسہ خرچ کرنا چاہیے اور کیسے مختلف امور کو موثر انداز سے انجام دینا ہے۔ اس کے علاوہ، مقامی سطح پر عوام کے لیے یہ ممکن ہوگاکہ وہ فیصلہ لینے کے عمل میں براہ راست شریک ہوسکیں۔ اس سے جمہوری شرکت کی عادت کو پروان چڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔ مقامی حکومت ہی وہ راہ ہے جس کے ذریعہ جمہوریت کے ایک اہم اصول کو جسے مقامی خود اختیاری حکومت کا نام دیا جاتاہے، صحیح معنوں میں سمجھا جاسکتاہے۔

توہم ٹرین کے تین ٹائر والے ڈبے کی طرح ہیں۔ مجھے تو سب سے نیچی برتھ اچھی لگتی ہے۔
ہمارے دستور میں لامرکزیت کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا تھا۔ تبھی سے دیہاتوں اور قصبات کی سطح تک احتیارات کی لامرکزیت کے بہت سے اقدامات کیے گئے تھے۔ دیہاتوں میں پنچائتیں اور شہری علاقوں میں بلدیات کا قیام تمام ریاستوں میں عمل میں لایا جاچکا تھا۔ لیکن یہ سب کچھ براہِ راست صوبائی حکومتوں کی نگرانی میں ہوتا تھا۔ ان مقامی حکومتوں کے انتخابات باقاعدگی سے نہیں کرائے جاتے تھے۔
مقامی حکومتوں کے پاس اپنے وسائل اور کسی قسم کی اختیارات نہ تھے۔ یوں موثر معنی میں بہت معمولی لامرکزیت پائی جاتی تھی۔ 1992میں لامرکزیت کی سمت ایک بڑا اہم قدم اٹھایا گیا۔ دستور میں ترمیم کرکے تیسری سطح کی جمہوریت کو زیادہ بااختیار اور موثر بنانے کی کوشش کی گئی۔
- اب دستوری طور پر مقامی حکومت کے ممبران و عہدے داران کا باقاعدگی سے انتخاب کرانا ضروری ہے۔
- ان اداروں کی انتظامیہ کے منتخب اعلیٰ عہدے داروں اور ممبروں کی نشستوں میں سے کچھ نشستیں درج فہرست ذاتوں درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ برادریوں کے لیے مخصوص کردی گئی ہیں۔
- تمام مقام کی تقریباً ایک تہائی نشستیں خواتین کے لیے مخصوص کردی گئی ہیں۔
- ایک آزاد ادارہ ،جسے صوبائی انتخابی ادارہ (The State Election Commssion) کہتے ہیں، ہر صوبہ میں بنایا گیا ہے۔ تاکہ وہ وقت پر پنچائیت اور بلدیہ کے انتخابات کرا سکے۔
- صوبائی حکومتوں کو مقامی حکومت کی انتظامیہ کے اختیارات اور مالیہ مدد کرنے کی ضرورت ہے۔ تقسیم اختیارات کی نوعیت ہر صوبہ کی مختلف ہے۔
دیہی مقامی حکومت کو عام طور پر پنچایت راج کہا جاتاہے۔ کچھ ریاستوں کے ہر گاؤں یا چند گاؤں ملا کر ایک گرام پنچایت بنائی گئی ہے۔ یہ ایک ایسی مجلس ہے جو متعدد حلقوں کے ممبروں، جسے پنچ کہتے ہیں اور ایک صدر یا سرپنچ پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ براہِ راست منتخب ہوکر آتے ہیں اور ان کا انتخاب اس حلقہ یا گاؤں میں رہنے والی بالغ آبادی کے ذریعہ عمل میں آتا ہے۔ یہ پورے گاؤں کی مجلس عاملہ ہوتی ہے۔
گرام پنچایت بحیثیت مجموعی گرام سبھا کی نگرانی میں کام کرتی ہے۔ گاؤں کے تمام رائے دہندگان اس کے ممبر ہوتے ہیں۔ گرام پنچایت کے سالانہ بجٹ کی منظوری اور اس کی کارکردگی کے جائزہ کے لیے سال میں اس کا دو یا تین بار اجلاس ہوتا ہے۔

ہندوستان میں لامرکزیت کی کوششوں کے بارے میں ان اخباروں کے تراشے کیا کہتے ہیں؟
مقامی حکومت کا ڈھانچہ اوپر ضلع سطح تک پہنچتا ہے۔ چند گرام پنچایتوں کو ملا کر جو تشکیل پاتی ہے اسے عام طور پر پنچایت سمیتی یا بلاک یا منڈل کہتے ہیں۔ اس نمائندہ مجلس کے اراکین کا انتخاب اس علاقہ کی پنچایتوں کے ممبران کے ذریعہ عمل میں آتا ہے۔ ضلع کی تمام پنچایت سمیتیوں اور منڈلوں سے مل کر ضلع پریشد بنتا ہے۔ ضلع پریشد کے تمام اراکین منتخب کیے جاتے ہیں۔ اس ضلع کے لوک سبھا اور ودھان سبھا کے تمام اراکین اور کچھ دوسرے ضلعی سطح کی مجلسوں کے اراکین بھی اس کے ممبر ہوتے ہیں۔ ضلع پریشد کا صدرضلع پریشد کا سیاسی سربراہ ہوتا ہے۔
برازیل میں ایک تجربہ
برازیل میں پورٹو الیگرنامی ایک شہر نے شراکتی جمہوریت کے ساتھ لامرکزیت کو منسلک کرنے کا ایک غیر معمولی تجربہ کیا ہے۔ شہر میں مقامی باشندوں کو اپنے شہر کا حقیقی فیصلہ لینے کے قابل بنانے کے لیے ایک متوازی تنظیم بنائی گئی ہے۔ جو میونسپل کونسل کے پہلو بہ پہلو کام کرتی ہے۔ اس شہر کے تقریباً 13 لاکھ لوگ اپنے شہر کا میزانیہ تیار کرنے میں حصہ لیتے ہیں۔ شہر کو بہت سے سیکٹروں (علاقوں) میں تقسیم کیا گیا ہے جسے اپنے یہاں وارڈ (حلقہ) کہتے ہیں۔ گرام سبھا کی طرح ہر علاقہ (سیکٹر) میں ایک میٹنگ ہوتی ہے جس میں کوئی بھی اس علاقہ میں رہنے والا شریک ہوسکتا ہے۔ کچھ لوگ جمع ہوکر پورے شہر کو متاثر کرنے والے مسائل پر بھی بحث کرتے ہیں۔ شہر کا کوئی بھی شہری ان میٹنگوں میں شریک ہوسکتا ہے۔ شہر کے میزانیہ پر بھی اس میٹنگ میں بحث ہوتی ہے۔ تجاویز کو میونسپلٹی کے سامنے پیش کیا جاتاہے۔ جو اس کے بارے میں آخری فیصلہ لینے کی مجاز ہے۔
تقریباً 20,000 ہزار لوگ ہر سال اس فیصلہ لینے کے عمل میں حصہ لیتے ہیں۔ اس طریقۂ عمل سے یہ بات قطعی طور پر طے ہوجاتی ہے کہ پیسے محض انھیں کالونیوں کے مفاد میں خرچ نہیں ہوں گے جہاں مالدار لوگ رہتے ہیں۔ اب بسیں غریب کالونیوں میں بھی دوڑتی ہیں۔ اور بلڈرس غریبوں کے گھروں کو بغیر انھیں دوسری جگہ بسائے مسمار نہیں کریں گے۔
خود ہمارے ملک میں، کیرالہ کے کچھ علاقوں میں اسی طرح کا تجربہ کیاگیاہے۔عام لوگ اپنے یہاں کی ترقی کے لیے منصوبہ سازی میں حصہ لیتے ہیں۔
اس طرح مقامی حکومت کا ڈھانچہ شہری علاقوں میں بھی پایا جاتاہے۔ قصبات میں میونسپلٹیاں قائم کی گئی ہیں اور بڑے شہروں میں میونسپل کارپوریشن بنائی گئی ہیں۔ میونسپلٹیاں اور میونسپل کارپوریشنیں دونوں کو عوامی نمائندوں پر مشتمل منتخب مجلسوں کے ذریعہ کنٹرول کیا جاتاہے۔ میونسپل کا صدر میونسپلٹی کا سیاسی سربراہ ہوتا ہے۔ میونسپل کارپوریشن میں اس طرح کے آفیسر کو میئر کہتے ہیں۔
مقامی حکومت کا یہ نیا نظام جمہوریت میں ایک ایسا طویل ترین تجربہ ہے جو دنیا میں کہیں نہیں کیا گیا۔ اس وقت پورے ہندوستان میں تقریباً 36 لاکھ پنچایتوں اور میونسپلٹیوں کے منتخب نمائندے کام کر رہے ہیں۔ یہ تعداد دنیا کے بہت سے ممالک کی کل آبادی سے زیادہ بڑی ہے۔ ہمارے ملک میں مقامی حکومت کی دستوری حیثیت جمہوریت کی جڑیں مضبوط کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہورہی ہے۔ اس سے ہماری جمہوریت میں خواتین کی نمائندگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ بہت سے مسائل بھی ہیں۔ اگرچہ انتخابات جوش و خروش اور پابندی سے ہورہے ہیں گرام سبھاؤں کا اجلاس پابندی سے نہیں ہوپارہا ہے۔ بہت سی صوبائی حکومتوں نے مقامی حکومتوں کو قابل لحاظ اختیارات منتقل نہیں کیے ہیں۔ نہ ہی انھیں وسائل فراہم کیے گئے ہیں؛ خود اختیاری حکومت کے معیار و نمونہ کو سمجھنے سے ابھی ہم کوسوں دور ہیں۔

آؤ معلوم کریں
جس قصبہ یا گائوں میں آپ رہتے ہیں وہاں کی مقامی حکومت کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے اگر آپ کسی گائوں میں ہیں تو درج ذیل ناموں کو دریافت کیجیے۔
آپ کا پنچ یا وارڈ ممبر، آپ کی پنچایت سمیتی اور ضلع پریشد کا صدر، یہ معلوم کیجیے کہ آپ کے گرام سبھا کا آخری اجلاس کب ہوا اور اس میں کتنے لوگ شریک ہوئے تھے۔
اگر آپ شہری علاقہ میں رہتے ہیں، تو اپنے میونسپل کونسلر، میونسپل کا صدر یا میئر کے نام معلوم کیجیے۔ نیز اپنے میونسپل کارپوریشن، میونسپلٹی کا میزانیہ بھی معلوم کیجیے اور یہ بھی دریافت کیجیے کہ کس کام میں بیشتر پیسہ خرچ کیا گیا۔

مشق
1۔ درج ذیل ریاستوں کی ہندوستان کے سیاسی نقشہ کے ایک سادہ خاکہ پر نشاندہی کیجیے منی پور، سکم، چھتیس گڑھ اور گوا۔
2۔ ہندوستان کے علاوہ تین وفاقی ممالک کی، دنیا کے سیاسی نقشہ کے ایک سادہ خاکہ پر، تعین و سایہ کشی کیجیے۔
3۔ ہندوستان کے عملی وفاقی نظام کی ایک ایسی خصوصیت بیان کیجیے جوبیلجیم کے وفاقی نظام کے مماثل اور دوسری ایسی جو اس سے مختلف ہو۔
4۔ وحدانی اور وفاقی نظام حکومت کے مابین بنیادی فرق کیاہے؟ ایک مثال سے واضح کیجیے۔
5۔ 1992کی دستوری ترمیم کے ماقبل و مابعد مقامی حکومت کے مابین کسی دو فرق کو بیان کیجیے۔
6۔ خالی جگہیں پُر کیجیے۔
چونکہ ریاست ہائے متحدہ وفاق کی ایک _______________ قسم ہے، اس لیے تمام دستوری ریاستیں مساوی اختیارات رکھتی ہیں اور ریاستیں وفاقی حکومت کے برخلاف _______________ ہیں۔ لیکن ہندوستان ایک وفاق کی ایک _______________ قسم ہے اور کچھ ریاستیں دوسری ریاستوں کے مقابلہ میں زیادہ بااختیار ہیں۔ ہندوستان میں، _______________ حکومت زیادہ بااختیار ہے۔
7۔ ہندوستان میں ذیل کی لسانی پالیسی کے تین رد عمل سامنے آتے ہیں۔ ان تینوں میں سے کسی ایک موقف کے حق میں کوئی مثال دلیل دیجیے۔
سنگیتا: جذب کرنے کی پالیسی نے قومی اتحاد کو فروغ دیا ہے۔
ارمان: زبان پر مبنی ریاستوں نے ہمیں تقسیم کیا ہے کیوں کہ اس سے ہر آدمی اپنی زبان کے بارے میں حساس ہوجاتاہے۔
ہرش: اس پالیسی سے محض دوسری تمام زبانوں پر انگریزی زبان کے غلبہ کو مستحکم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
8۔ وفاقی حکومت کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے :
(a) قومی حکومت صوبائی حکومت کو کچھ اختیارات تفویض کرتی ہے۔
(b) مقننہ، منتظمہ اور عدلیہ کے مابین اختیارات تقسیم کردیے جاتے ہیں۔
(c) منتخب افیسران حکومت میں اعلیٰ اختیارات استعمال کرتے ہیں۔
(d) حکومتی اختیارات حکومت کی مختلف سطحوں کے مابین تقسیم کردیے جاتے ہیں۔
9۔ آئین ہند کی مختلف فہرستوں کے چند موضوعات دیے گئے ہیں۔ ذیل میں دیے گئے نقشہ کے مطابق انھیں مرکزی، صوبائی اور مشترکہ فہرستوں میں تقسیم کیجیے۔
(a) دفاع؛ (b) پولس؛ (c) زراعت؛ (d) تعلیم؛
(e) بنکاری؛ (f) جنگلات؛ (g) مواصلات؛ (h) تجارت؛ (i) شادی
مرکزی فہرست
صوبائی فہرست
مشترکہ فہرست
10۔ ذیل کے جوڑوں کا جائزہ لیجیے جس سے ہندوستان کی حکومت کی سطح اور اس سطح پر ان میں سے ہر ایک کے سامنے دیے گئے موضوعات پر اس کے قانون سازی کے اختیارات کا پتہ چلتا ہے۔ درج ذیل جوڑوں میں کون صحیح طور پر میل نہیں کھاتا۔
| (a) | صوبائی حکومت | صوبائی فہرست |
| (b) | مرکزی حکومت | مرکزی فہرست |
| (c) | مرکزی اور صوبائی حکومتیں | مشترکہ فہرست |
| (d) | مقامی حکومتیں | باقی ماندہ اختیارات |

11۔ پہلی اور دوسری فہرست کا باہم موازنہ کیجیے اور فہرست ذیل میں دیے گئے اشارات (کوڈس) کا استعمال کرتے ہوئے صحیح جواب منتخب کیجیے۔
| فہرست I | فہرست II |
| 1-ہندو یونین | A-وزیر اعظم |
| 2- صوبہ | B- سرپیچ |
| 3- میونسپل کارپوریشن | C- گورنر |
| 4- گرام پنچایت | D- میئر |
| 1 | 2 | 3 | 4 | |
| (a) | D | A | B | C |
| (b) | B | C | D | B |
| (c) | A | C | D | B |
| (d) | C | D | A | B |

12۔ ذیل کے دو بیانات پر غور کیجیے۔
A۔ ایک وفاق میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اختیارات تفصیل سے واضح کردیے جاتے ہیں
B۔ ہندوستان ایک وفاق ہے کیوں کہ یونین اور صوبائی حکومتوں کے اختیارات دستور میں متعین کردیے گئے ہیں اور اپنے دائرہ کا ر میں وہ پوری طرح آزاد ہیں۔
C۔ سری لنکا ایک وفاق ہے کیوں کہ ملک صوبوں میں تقسیم ہے۔
D۔ ہندوستان اب بڑا وفاق نہیں ہے کیوں کہ صوبوں کے کچھ اختیارات مقامی حکومت کی مجلسوں کو دے دئے گئے ہیں۔
اوپر دیے گئے بیانات میں کون صحیح ہے ؟
(a)
,CاورB,A
(b)
Dاور C,A
(c)
Bاور Aصرف
(d)
CاورBصرف