باب 3
جمہوریت اور تنوع
(Democracy and Diversity)
اجمالی تعارف
گذشتہ باب میں ہم نے دیکھا کہ لسانی اور علاقائی تنوع کو باقی رکھنے کے لیے کس طرح اختیارات تقسیم کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن علاقہ اور زبان ہی ایسی خصوصیات نہیں جو لوگوں کو امتیازی شناخت عطا کرتی ہیں بلکہ بسا اوقات لوگ شخصی اظہار، طبقہ، مذہب، جنس، ذات برادری اور قبیلہ وغیرہ کی بنیادوں پر بھی اپنے آپ کو متعارف کراتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ منسلک کرتے ہیں۔ اس باب میں ہم مطالعہ کریں گے کہ جمہوریت سماجی مغائرت، مقاسمت اور عدم مساوات کا کس طرح مقابلہ کرتی اور جواب دیتی ہے۔ ہم سماجی تقسیموں کے عوامی اظہار کی ایک مثال سے گفتگو کا آغاز کریں گے۔ پھر ہم سماجی مغایرت کیسے مختلف شکلیں اختیار کرسکتی ہے، اس کی بابت چند عمومی نتائج اخذ کریں گے۔ اس کے بعد ہم، ان سماجی تنوعات سے جمہوری سیاسیات کیسے متاثر ہوتی اور کرتی ہے، اس کی طرف رخ کریں گے۔
میکسکو اولمپک کی ایک کہانی

اس صفحہ کی تصویریں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں شہری حقوق کی تحریک کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ تصاویر 1968 کے اولمپک میں جو میکسکو شہر میں ہوا تھا، 200 میٹر دوڑ کی تمغاتی تقریب کا ایک منظر پیش کررہی ہیں۔ اس وقت جب امریکہ کا قومی ترانہ پیش کیا جارہا تھا دو آدمی پورے جوش میں مٹھی بند کیے ہاتھ اوپر اٹھائے اور سر جھکائے کھڑے تھے۔ یہ دونوں کھیل کود میں حصہ لینے والے امریکی جوان ٹامی اسمتھ اور جان کارلس (Tommie Smith and John Carlos) تھے۔ یہ امریکی افریقی تھے۔ دونوں نے بالترتیب سونے اور کانسے کے تمغے (Medals) حاصل کئے تھے۔ انھوں نے اپنے تمغے حاصل کیے مگر اس شان سے کہ پیر میں جوتا نہ تھا محض کالا موزہ تھا جو سیاہ فاموں کی غربت کا اظہار تھا۔ اس ادا سے وہ امریکہ میں پائے جانے والے نسلی امتیاز کی طرف بین الاقوامی توجہ مبذول کرانا چاہتے تھے۔ کالا دستانہ پہن کر جوش میں مٹھی بند کرکے ہاتھ اوپر اٹھانے کا مطلب سیاہ فاموں کی طاقت کا علامتی اظہار تھا۔ چاندی کا تمغہ حاصل کرنے والا سفید فام آسٹریلیائی کھلاڑی (Athletic) پیٹر نارمن دو امریکیوں کے حق میں اپنی حمایت کے اظہار کے لیے تقریب کے دوران اپنی شرٹ پر انسانی حقوق کا ایک بِلاّ (Badge) لگائے ہوئے تھا۔

کارلوس اور اسمتھ کو میراسلام۔ کیا کبھی مجھ میں بھی اتنی ہمت ہوسکے گی کہ میں وہ کام کروں جو انھوں نے کیا؟
فرہنگ
امریکہ میں شہری حقوق کی تحریک 1954-1968 یہ تحریک ان مجموعۂ واقعات اور اصلاحی تحریکات کی طرف اشارہ کرتی ہے جس کا مقصد افریقی امریکیوں کے خلاف قانونی نسلی امتیاز کو ختم کرانا تھا۔ مارٹن لوتھر اور کنگ جارج کی قیادت میں اس تحریک نے نسلی امتیاز پر مبنی قوانین اور طریقۂ کار کے خلاف شہری نافرمانی کا عدم تشدد کا طریقہ اختیار کیا۔
افریقی امریکی، سیاہ فام امریکی، یا صرف ’کالے‘ ایک ایسی اصطلاح ہے جو خاص طور پر ان افریقیوں کی اولاد کی نشاندہی کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو 17 ویں صدی کے دوران اوراوائل 19 ویں صدی میں امریکہ میں بحیثیت غلام لائے گئے تھے۔
سیاہ فام طاقت
اس تحریک کا آغاز 1966میں اور اختتام 1975میں ہوا۔ یہ نسل پرستی کے خلاف ایک جنگجو یا نہ تحریک تھی جو امریکہ میں نسل پرستی کے خاتمہ کے لیے ضرورت پڑنے پر تشدد کی راہ اختیار کرنے کی حامی تھی۔

2005میں سینٹ جوز اسٹیٹ یونیورسٹی نے 20 فٹ اونچا مجسمہ ٹومی اسمتھ اور جان کارلس کے ذریعہ کیے گئے احتجاج کی نمائندگی اور یادگار کے طور پر نصب کیا۔ تمغہ تقریب منعقدہ 1968کا اصلی فوٹو اوپر دیا گیاہے۔
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کارلس اور اسمتھ کو امریکی سماج کے ایک داخلی معاملہ کو کسی بین الاقوامی فورم پر اٹھانا چاہیے تھا۔ کیا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ انھوں نے جو کچھ بھی کیا وہ ایک سیاسی معاملہ تھا؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پیٹر نارمن جو نہ سیاہ فام تھا اور نہ امریکی، اس طرز کے احتجاج میں کیوں شریک ہوا؟ اگر آپ نارمن کی جگہ ہوتے تو کیا کرتے؟
بین الاقوامی اولمپک انجمن نے کارلس اور اسمتھ کو سیاسی بیان دے کر اولمپک روح کی خلاف ورزی کرنے کا مجرم قرار دیا۔ ان کے تمغات واپس لے لیے گئے۔ گھر واپس لوٹنے پر انھیں بے شمار تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑا، نارمن کو بھی اپنے عمل کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اگلے اولمپک میں اسے آسٹریلیائی ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔ لیکن وہ سب امریکہ میں شہری حقوق کی تحریک کے لیے بین الاقوامی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ حال ہی میں سان جاز (جس کا اصل تلفظ Saan Hogeہے) اسٹیٹ یونیورسٹی نے جہاں کے وہ سابق طالب علم تھے، انھیں اعزازات سے نوازا اور یونیورسٹی کیمپ میں ان کا مجسمہ نصب کروایا ہے۔ جب نارمن کا 2006میں انتقال ہوا تو اسمتھ اور کارلس نے اس کے تابوت کو کندھا دیا اور اس کی تجہیز و تکفین میں شریک رہے۔
میں نے پاکستان کی لڑکیوں کے اس گروپ سے ملاقات کی اور محسوس کیا کہ ان کے درمیان اپنے ملک کے دوسرے حصہ کی لڑکیوں کے مقابلہ زیادہ مانوس تھا۔ کیا ایسا محسوس کرنا ملک دشمنی کے مترادف ہے۔

آئیے بحث کریں
کچھ دلت گروپ نسل پرستی کے خلاف اقوام متحدہ کی کانفرنس منعقدہ ڈربن 2001میں شریک ہونا چاہتے تھے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ذات برادری کو بھی اس کانفرنس کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔ اس تحریک کے تعلق سے تین ردعمل پائے جاتے ہیں:
امن دیپ کور (ایک سرکاری آفیسر): ہمارے دستور میں واضح طور پر اعلان کر دیا گیا ہے کہ ذات برادری پر مبنی امتیاز غیرقانونی ہے۔ اگر اب بھی کچھ ذات برادری پر مبنی اختیارات پائے جاتے ہیں تو یہ داخلی معاملہ ہے۔ میں اس معاملہ کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانے کی مخالف ہوں۔
آئی نم (ایک ماہر سماجیات): میں اس کا مخالف ہوں کیوں کہ نسل اور ذات دونوں یکساں تقسیم نہیں ہیں۔ ذات برادری ایک سماجی تقسیم ہے جب کہ نسل ایک حیاتیاتی جز ہے۔ اس کانفرنس میں ذات برادری کا مسئلہ اٹھانے کا مطلب یہ ہوگا کہ دونوں کو برابر کا درجہ دے دیا جائے۔
اشوک (ایک دلت سرگرم کارکن): داخلی معاملہ قرار دینے کی جو بات کہی گئی ہے وہ دراصل امتیاز اور ظلم پر کھلی بحث کرانے سے روکنے کی ایک تدبیر ہے۔ نسل خالص حیاتیاتی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ بھی اتنا ہی قانونی اور سماجی زمرے میں آتاہے جتنا کہ ذات برادری۔ ذات برادری کا معاملہ لازماً اس کانفرنس میں اٹھنا چاہیے۔
ان تین خیالات میں سے آپ کس سے متفق ہیں اور کیوں؟
مغائرت، مماثلت،تقسیم
مذکورہ بالا مثال میں کھلاڑی سماجی تقسیم اور عدم مساوات کا جواب دے ہے تھے۔ لیکن یہ ایک ایسے سماج کی بات تھی جو نسلی تقسیموں کا شکار تھا۔ گذشتہ دو ابواب میں ہم پہلے ہی سماجی تقسیموں کی کچھ دوسری شکلوں کا ذکر کر چکے ہیں۔ بیلجیم اور سری لنکا کی مثالیں علاقائی اور سماجی دونوں تقسیموں کو ظاہر کر رہی ہیں۔ بیلجیم کے معاملہ میں ہم لکھ چکے ہیں۔ کہ وہ لوگ جو مختلف علاقوں میں رہتے ہیں مختلف زبانیں بولتے ہیں۔ہم یہ بھی ذکر کر چکے ہیں کہ سری لنکا میں لسانی اور مذہبی تقسیم بھی موجود تھی۔ یوں سماجی تنوع مختلف سماجوں میں مختلف صورت اختیار کرسکتا ہے۔

اس طرح کے کارٹون مختلف لوگوں کے لیے مختلف معنی رکھتے ہیں۔ آپ کے خیال میں اس کارٹون کا کیا مطلب ہے؟ اور آپ کی کلاس کے دوسرے طالب علم اس میں کیا مفہوم پاتے ہیں؟
سماجی مغائرت کی بنیادیں
عام طور پر یہ سماجی تفریقات حادثاتی پیدائش کی بنیاد پر عمل میں آتی ہیں۔ عام حالات میں ہم کسی فرقہ کو منتخب کرکے خود اس میں شامل نہیں ہوتے۔ بلکہ سادہ سی بات یہ ہے کہ ہم اس سے اس لیے تعلق رکھتے ہیں کیوں کہ اس میں پیدا ہوئے۔ ہم سب لوگوں کا اپنی روز مرہ کی زندگی میں یہ تجربہ ہے کہ سماجی تفریقات کی بنیادیں محض حادثاتی پیدائش پر ہیں۔ ہمارے گرد و پیش جو بھی مرد و خواتین ہیں، وہ لمبے اور پستہ قد ہیں، مختلف رنگ و روپ کے ہیں، ان کی جسمانی صلاحیتیں الگ الگ ہیں۔ لیکن ہر قسم کی سماجی تفریقات کی بنیاد حادثاتی پیدائش پر نہیں ہے۔ کچھ تفریقات ایسی ہیں جو ہماری منتخب کردہ ہیں۔ مثلاً کچھ لوگ دہریہ ہوتے ہیں۔ وہ خدا یا کسی مذہب پر یقین نہیں رکھتے۔ کچھ لوگ اپنا پیدائشی مذہب چھوڑ کر عمل کے لیے دوسرا مذہب قبول کرلیتے ہیں۔ ہم میں اکثر لوگ جس چیز کا مطالعہ کرتے ہیں جس پیشہ کو اختیار کرتے ہیں اور جن کھیلوں یا ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، اسی کو منتخب کرتے ہیں۔ وہ تمام چیزیں جو سماجی گروپ کی تشکیل کا موجب ہوتی ہیں، ہماری اپنی منتخب کردہ ہیں۔
تمام سماجی تفریقات، سماجی تقسیم کا موجب نہیں ہوتیں، سماجی تفریقات ایک طرح کے لوگوں کو ایک دوسرے سے الگ ہی نہیں کرتیں بلکہ انھیں متحد بھی کرتی ہیں۔ مختلف سماجی گروپوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے گروپوں کی سرحدوں کو عبور کرکے مماثلت و مغایرت میں حصہ لیتے ہیں۔ مذکورہ بالا مثال میں کارلس اور اسمتھ کے مابین ایک پہلو سے مماثلت تھی (کہ دونوں افریقی امریکی تھے) یوں وہ نارمین سے مختلف تھے کیوں کہ وہ سفید فام تھا۔ لیکن ایک دوسرے پہلو سے بھی ان میں مماثلت تھی کیوں کہ تمام کھلاڑی (Athletics) نسل پرستی کے خلاف متحد کھڑے تھے۔
یہ بالکل عام بات ہے کہ بہت سے ایسے لوگ جن کا مذہب ایک ہے وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ ایک ہی فرقہ سے نہیں تعلق رکھتے کیوں کہ ان کی ذات برادری یا مسلک و جماعت بالکل مختلف ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مختلف مذاہب کے لوگ ایک ہی ذات و برادری کے ہوں اور ایک دوسرے سے بڑا قریبی تعلق رکھتے ہوں۔ ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے لوگ بسا اوقات باہم قریبی تعلق نہیں رکھتے ہیں۔ کیوں کہ وہ اپنے آپ کو ایک دوسرے سے مختلف محسوس کرتے ہیں۔ یوں ہم سب ایک سے زیادہ شناخت رکھتے ہیں اور ایک سے زیادہ سماجی لوگ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس طرح ہم مختلف تناظر میں مختلف شناختیں رکھتے ہیں۔
مشترک اور متضاد تفریقات
سماجی تقسیم اس وقت وجود میں آتی ہے جب بعض سماجی تفریقیں دوسری سماجی تفریقوں سے اشتراک کرلیتی ہیں سیاہ فام اور سفید فام کے مابین تفریق امریکہ میں سماجی تقسیم کی صورت اختیار کر گئی کیوں کہ سیاہ فام لوگ غریب، بے گھر اور نسل پرستی کا شکار تھے۔ ہمارے ملک میں دلت عموماً غریب اور بے زمین ہیں۔ وہ اکثر امتیاز اور ناانصافی کا شکار رہتے ہیں۔ جب سماجی تفریق کی کوئی قسم دوسرے کے مقابلہ میں زیادہ اہمیت اختیار کرلیتی ہے اور لوگ یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ وہ کسی دوسرے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ تو اس طرح کے حالات سماجی تقسیم کا موجب ہوتے ہیں۔

چھپی نسل پرستی
ایک دن کچھ لوگوں نے بیسویں صدی کے شہر کی دریافت کی
اور اس مشاہدے پر تحقیق ختم ہوتی ہے
ایک دلچسپ کتبہ ہے ۔
’یہ پانی کی ٹوٹی ہر ذات برادری اور مذہب کے لیے عام ہے ‘۔
اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے ۔
کہ یہ سماج بنٹا ہوا تھا ؟
کہ کچھ لوگ اعلی تھے اور کچھ لوگ ادنی ؟
بہت خوب تب تو یہ شہر زمین دوز ہو جانے کا مستحق تھا ۔
کیوں لوگ اسے مشینی دور کہتے ہیں ؟
یہ تو بیسویں صدی میں پتھر کا زمانہ ہے ۔
دیا بوار
’ماں ‘
بجھا ، بجھا ،دبلا پتلا نحیف و ناتواں جسم ۔۔۔۔ یہ میری ماں تھی ۔
صبح سے جنگل میں لکڑی چننے کے لیے گھومتی رہتی
ہم سب بھائی بیٹھے ، انتظار کرنے اس کی راہ تکتے رہتے ۔
اور اگر وہ لکڑی نہ بیچ پاتی تو ہم سب بھوکے سو جاتے ۔
ومن نمبالکر
دلت شاعروں کی لکھی ان دو نظموں کو پڑھیے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ کیوں اشتہار کا عنوان ’’چھپی نسل پرستی‘‘ دیا گیاہے؟
اگر سماجی تفریقیں ایک دوسرے کے مفادمیں ہوتی ہیں تو لوگوں کا ایک دوسرے کے خلاف صف ہونا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بعض گروپ کسی مسئلہ میں مشترکہ مفادات رکھتے ہیں ممکن ہے کسی دوسرے مسئلہ میں بالکل مختلف دو مفاد رکھتے ہوں۔ شمالی آئرلینڈ اور نیدرلینڈ کے مسائل پر غور کیجیے۔ دونوں ملکوں میں غالب اکثریت عیسائیوں کی ہے لیکن دونوں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ میں بٹے ہوئے ہیں۔ شمالی آئرلینڈ میں مذہب و جماعت ایک دوسرے میں ضم ہوگئے ہیں۔ اگر آپ کیتھولک ہیں تو زیادہ امکان ہے کہ غریب بھی ہوں گے اور اپنے خلاف امتیاز کی بھی ایک تاریخ رکھتے ہوں گے۔ نیدر لینڈ میں مذہب فرقہ کے مابین حریفانہ تعلق ہے۔ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ تقریباً دونوں یا تو مالدار ہیں یا غریب۔ نتیجہ یہ ہے کہ شمالی آئرلینڈ میں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کے مابین کشمکش رہتی ہے جبکہ نیدرلینڈ میں یہ دونوں اس طرح کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ تہہ در تہہ سماجی تفریقات گہری کشیدگی اوردور اس سماجی تقسیم کا امکان پیدا کردیتی ہیں۔ متضاد سماجی تفریقات پر آسانی سے قابو پایا جاسکتا ہے۔
فرہنگ
متجانس سماج : ایسا سماج جو ہم فکر و ہم خیال لوگوں پر مشتمل ہو، بالخصوص ایسا سماج جس میں قابل ذکر نسلی تفریق نہ پائی جاتی ہو۔
مہاجر: بالعموم کسی کام یا معاشی ضرورت کے تحت کوئی بھی شخص جو داخلی طور پر کسی ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ میں یا خارجی طور پر ایک ملک سے دوسرے ملک میں منتقل ہوجاتاہے۔
بیشتر ملکوں میں ایک یا ایک سے زیادہ سماجی تقسیمیں پائی جاتی ہیں۔ اس سے قطعاً بحث نہیں کہ ملک چھوٹا ہے یا بڑا۔ ہندوستان وسیع و عریض ملک جس میں بہت سے فرقے پائے جاتے ہیں۔ بیلجیم ایک چھوٹا ملک ہے جس میں بہت سے فرقے موجود ہیں۔ سویڈن اور جرمنی جیسے ممالک بھی، جو حد درجہ متجانس ہیں، دنیا کے دوسرے حصوں سے بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد کی وجہ سے تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں۔ مہاجرین اپنے ساتھ اپنی ثقافت اور مختلف سماجی فرقوں کو تشکیل دینے کے رجحان کو بھی ساتھ لارہے ہیں۔ اس معنی میں دنیا کے بیشتر ممالک کثیر الثقافہ ہیں۔

دوبارہ غور کریں
عمرانہ درجہ دس سیکشن (b) کی طالبہ ہے۔ وہ اور اس کی ہم جماعت طالبات گیارہویں جماعت کی ان طالبات کی مدد کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں جو بارہویں جماعت کی طالبات کو الوداعیہ دینا چاہتی ہیں۔ گذشتہ مہینہ اس نے اپنے سیکشن کی ٹیم کی طرف سے دسویں جماعت سیکشن (a) کی ٹیم کے خلاف کھو کھو کھیلی تھی۔ وہ بس سے گھر واپس جاتی ہے اور مختلف درجوں کی طالبات کے ساتھ مل جاتی ہے۔ یہ سب دہلی کے جمنا پار علاقہ سے آرہی ہیں۔ گھر واپس ہوکر، اکثر اپنی بڑی بہن نعیمہ کے ساتھ مل کر اپنے اس بھائی کے خلاف شکایت کرنے میں شریک ہوجاتی ہے جو گھر پر کام نہیں کرتا جبکہ بہنوں سے اپنی ماں کی مدد کے لیے کہا جاتا ہے۔ اس کے والد اس کی بڑی بہن کا ایک مناسب رشتہ دیکھ رہے ہیں جو ایک مسلم خاندان میں اپنی برادری اور اپنے معاشی معیار کا ہو۔
کیا آپ عمرانہ کی مختلف قسم کی شناخت کی فہرست بنا سکتے ہیں۔
گھر پر وہ ایک لڑکی ہے
مذہبی حیثیت سے وہ…… ہے
اسکول میں وہ……ہے
…… وہ……ہے
…… وہ……ہے
سماجی تقسیموں کی سیاست
یہ سماجی تقسیمیں کس طرح سیاست کو متاثر کرتی ہیں۔ اور سیاست ان سماجی تقسیموں کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرتی ہے۔ پہلی ہی نظر میں یہ معلوم ہوجائے گا کہ سیاست اور سماجی تقسیموں کا اتحاد نہایت خطرناک اور دھماکہ خیز ثابت ہوتا ہے۔ جمہوریت مختلف سیاسی جماعتوں کے مابین مسابقت میں دلچسپی رکھتی ہے۔ ان کی مسابقت سے سماج تقسیم ہوجاتاہے۔ اگر ان کی مسابقت سے سماج تقسیم ہوجاتاہے تو پھر یہ سماجی تقسیم سیاسی تقسیم میں تبدیل ہوسکتی ہے اور پھر بڑھ کر تنازعہ، تشدد یا ملک کے اتحاد و سا لمیت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اس طرح کی صورت حال بہت سے ملکوں میں پیش آتی ہے۔
نتائج کا دائرہ
شمالی آئرلینڈ کا معاملہ لیجیے جس کا ہم اوپر حوالہ دے چکے ہیں۔ حکومت برطانیہ کا یہ علاقہ سالوں تک تشدد کی آماجگاہ اور نسلی سیاسی تنازعہ کا شکار رہا ہے۔ اس کی آبادی عیسائیوں کے دو بڑے فرقوں میں بٹی ہوئی ہے۔ 53 فیصد پروٹسٹنٹ اور 44 فیصد رومن کیتھولک ہیں۔ کیتھولک کی نمائندگی قوم پرست جماعتیں کررہی تھیں جن کا مطالبہ تھا کہ شمالی آئرلینڈ کو عوامی جمہوریہ آئرلینڈ کے ساتھ متحد کرکے ایک غالب اکثریت والا کیتھولک ملک بنایا جانا چاہیے۔ پروٹسٹنٹ کی نمائندگی یونینسٹ کررہے تھے جو حکومت برطانیہ کے ساتھ برقرار رہنا چاہتے تھے جس میں غالب اکثریت پروٹسٹنٹ کی ہے۔ سیکڑوں شہری، دہشت گرد اور حفاظتی دستہ کے لوگ یونینسٹ اور قوم پرست جماعتوں کے مابین اور حکومت برطانیہ کے حفاظتی دستور اور قوم پرست جماعتوں کے مابین جنگ میں ہلاک کر دیے گئے۔ محض 1998میں حکومت برطانیہ اور قوم پرست جماعتوں کے مابین ایک معاہدہ صلح قرار پایا جس کے بعد ان کی مسلح جدوجہد ختم ہوئی۔ یوگوسلاویہ میں یہ کہانی خوش کن طور پر نہیں ختم ہوتی۔ مذہبی اور نسلی بنیادوں کے ساتھ سیاسی مسابقت نے چھ آزاد ملکوں کی صورت میں یوگوسلاویہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے رکھ دیا۔

اچھا، تو یہ چیز بشمول یورپ پوری دنیا میں پائی جاتی ہے۔ میں نے سمجھا تھا کہ یہ ہندوستان جیسے ممالک ہیں جس میں ہم سماجی تقسیم رکھتے ہیں۔
اس طرح کی مثالیں بعض لوگوں کو یہ نتیجہ اخذ کرنے کی راہ ہموار کرتی ہیں کہ سیاست اور سماجی تقسیموں کو ایک دوسرے میں خلط ملط کرنے کی مطلق اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ کہ ہمارے ملک میں کوئی سماجی تقسیم نہ ہو۔ اگر کسی ملک میں سماجی تقسیم ہو تو اسے سیاست میں کبھی نمایاں نہیں ہونا چاہیے۔

شمالی آئرلینڈ کے کچھ معاشرہ میں پروٹسٹنٹ اور کیتھولک فرقوں کے مابین دیوار حائل ہے۔ یہ دیواریں جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں مختلف تحریروں سے بھری ہے۔ آئرش عوامی جمہوریہ آرمی اور حکومت برطانیہ کے مابین 2005میں ایک معاہدہ ہوا ہے۔ یہاں دیواروں کی یہ تحریریں سماج میں کس طرح کے تنازعات کی نشاندہی کرتی ہیں۔
بلغاریہ، رومانیہ یا ہندوستان
گنیش اپنے دورہ سے واپس آیا تھا اور مہاشویتا سے رومانیہ کے عوام کے بارے میں بات کر رہا تھا۔ جو مشرقی یورپ کے بہت سے ملکوں میں رہ چکا تھا۔ اس نے یوردنکا سے ملاقات کی جو بلغاریہ میں بحیثیت نرس کام رہی تھی۔جو کچھ اس نے رومانیہ کے بارے میں بتایا وہ یہ ہے:
’’ایک نرس کی حیثیت سے کچھ لوگوں کی دیکھ بھال کرنے سے آپ انکار نہیں کرسکتی ہیں۔ لیکن یہ رومانی لوگ بہت گندے ہیں۔ اگر ان کے خاندان کے کسی ایک فرد کوکوئی معمولی بیماری بھی ہوگئی تو پورا خاندان بلکہ پڑوسی بھی ہمارے اسپتال پہنچ جائیں گے۔ اور ایک بار جب اسپتال آگئے تو پھر خاموش رہنا جانتے ہی نہیں۔ وہ بات کرتے ہیں، بیڑی اور سگریٹ پیتے ہیں اور جہاں چاہتے ہیں راکھ جھاڑ دیتے ہیں۔ جگہ جگہ دیواروں پر تھوک ڈالتے ہیں۔ صبر و تحمل ان میں ہے ہی نہیں۔ بغیر کسی توقف کے وہ سارے ڈاکٹروں کو تنگ کرنے لگتے ہیں۔ اور جب انھیں تھوڑی دیر کے لیے باہر ہی روک دیا جاتاہے تو وہ جارحیت پراتر آتے ہیں۔ان سب کے باوجود ان سیاہ فاموں کو ہم پر قیاس نہ کریے۔ ان میں رنگ کا بہت زبردست تعصب پایا جاتاہے۔ ان کے لباس کو دیکھیے۔ ملک کے دوسرے لوگوں کی طرح یہ کیوں نہیں نظر آتے۔ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ چور ہیں۔ میں نے لوگوں سے سنا ہے کہ یہ رومانی لوگ اپنا خون بیچ کر گزر اوقات کرتے ہیں ۔ ان میں سے کوئی اسپتال کی فیس ادا نہیں کرسکتا۔ لیکن جب بیمار ہوتے ہیں تو دوڑے اسپتال چلے آتے ہیں۔ اور بالآخر کسی اچھے یلغار باقی سے کہہ کر اپنی فیس ادا کروا دیتے ہیں۔‘‘
’’یہ مانوس آواز لگتی ہے، مہاشویتا نے کہا۔‘‘
’’گنیش نے مڈروزینی کے بارے میں جو رومانیہ میں رہنے والی ایک رومانی ہے، اپنی گفتگو جاری رکھی جب وہ اٹھارہ سال کی تھی تو وہ اپنی پہلی ولادت کے سلسلہ میں اسپتال گئی۔ اس کے پاس ڈاکٹر اور نرس کو دینے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ پھر بھی وہ اسپتال گئی۔ کسی نے بھی اس کے پاس آنے اور اس کی دیکھ بھال کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ بالآخر ایک خاکروب (فرّاش) نے جو خود بھی ایک رومانی تھی، پیدائش میں اس کی مدد کی، اور ایک لڑکا پیدا ہوا۔ اور اس کے بعد ایک نرس منظر عام پر جلوہ افروز ہوئی اور کہا ’’لو ایک اور مجرم آگیا۔‘‘ سرکاری اسپتال میں رومانی عوام کے ساتھ کس طرح کا برتاؤکیا جاتاہے اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے وہ کہتی ہے: یہ ڈاکٹر اپنے کمرہ کے باہر ہمیں انتظار کرواتے ہیں۔ ایک موقع پر ایک ڈاکٹر نے مجھ سے کہا کہ اگر دکھانا چاہتی ہو تو پہلے غسل کرکے آؤ، واقعی میں مہک رہی تھی۔ دوران حمل میں کوڑے دان سے کھاتی تھی کیوں کہ میں ہر وقت بہت بھوکی رہتی تھی۔ میرے شوہر نے مجھے چھوڑ دیا تھا۔ میرے دو بچے تھے اور میں تیسری بار امید سے تھی۔ سماجی کارکن نے میری غذائی امداد کی درخواست مسترد کردی تھی۔
میری پڑوسن نے بچے کی پیدائش میں میری مدد کی۔ میں اکثر یہ محسوس کرتی کہ اس سے اچھا تو اس اسپتال میں آئی ہی نہ ہوتی۔‘‘ مہاشویتا نے اس کی بات سنی اور کہا، گنیش، یہ نتیجہ اخذ کرنے کے لیے تمہیں آدھی دنیا کی سیر کرنے کی کیا ضرورت؟ یہ ایک رومانیہ اور بلغاریہ یا رومانی عوام کی کہانی نہیں بلکہ یہی کچھ خود ہمارے اپنے ملک کی کہانی ہے اور ان لوگوں کی کہانی ہے جو ہمارے نظام میں مجرم قرار پاچکے ہیں۔‘‘
- کیا تم سمجھتے ہو کہ مہاشیوتا ٹھیک کہتی ہے۔ کیا تم اپنے علاقہ کے کسی فرقہ کو جانتے ہو جس کے ساتھ رومانیوں کی طرح سلوک کیا جاتا ہو؟
- کیا تم نے کسی کی زبانی اس طرح کی بات سنی ہے جیسا کہ یوردنکا یا مڈرو زینی یہاں بیان کر رہی ہے۔ اگر ہاں تو سوچو کہ اگر تم اس طرح کی کہانی دوسری طرف سے سنو تو تمہیں یہ کہانی سن کر کیسا لگے گا؟
کیا تم سمجھتے ہو کہ بلغاریائی حکومت کو چاہیے کہ وہ یہ یقینی بنانے کی کوشش کرے کہ رومانیوں کے ساتھ وہ وہی سلوک روا رکھے جو بلغاریہ کے دوسرے لوگوں کے ساتھ رکھتی ہے؟

اس طرح سیاست میں سماجی تقسیم کا ہراظہار کسی بڑے حادثہ کا پیش خیمہ نہیں ہوتا۔ ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ سماجی تقسیموں کی کوئی نہ کوئی قسم دنیا کے بیشتر ملکوں میں پائی جاتی ہے۔ اسی طرح کی تقسیمیں جہاں بھی پائی جاتی ہیں سیاست میں ان تقسیموں کا عکس صاف نظر آتاہے۔ جمہوریت میں یہ بالکل فطری امر ہے کہ سیاسی جماعتیں ان تقسیموں کی بابت گفتگو کرتی ہیں، مختلف فرقوں سے مختلف وعدے کرتی ہیں، مختلف فرقوں کی مناسب نمائندگی کرتی ہیں اور مراعات سے محروم فرقہ کی شکایتوں کی تلافی کے لیے پالیسیاں بناتی ہیں۔ بیشتر ملکوں میں سماجی تقسیم حق رائے دہی کے استعمال کو متاثر کرتی ہے۔ ایک فرقہ کے لوگ کچھ پارٹیوں کو دوسرے کے مقابلہ میں زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ بہت سے ملکوں میں کچھ پارٹیاں ایسی ہیں جو محض کسی ایک فرقہ پر اپنی پوری توجہ صرف کرتی ہیں پھر بھی سب چیزیں ملک کے اتحاد و سالمیت کے لیے کوئی خطرہ نہیں تھیں۔
تین عناصر
تین عناصر سماجی تقسیموں کی سیاست کے نتیجہ کے تعین کے سلسلہ میں متنازعہ ہیں۔ پہلا سب سے پہلے یہ کہ نتیجہ کا انحصار اس بات پر ہے کہ لوگ اپنی شناخت کو کس حیثیت سے دیکھتے ہیں اگر لوگ اپنی شناخت تنہا اور علاحدہ طور پر دیکھتے ہیں تو اسے باقی رکھنا بہت مشکل ہے۔ اس حد تک جیسا کہ شمالی آئرلینڈ کے لوگ اپنے کو محض کیتھولک یا پروٹسٹنٹ سمجھتے تھے۔ ان کے اختلافات کا تصفیہ بہت مشکل تھا۔ لیکن مسئلہ بہت آسان ہے اگریہ کہ لوگ اپنی شناخت کو وسیع دائرہ میں دیکھنے کی کوشش کریں اور اپنی شناخت کو قومی شناخت کے ساتھ مربوط کرکے اسے تکمیلی صورت عطا کریں۔ اس وقت بیلجیائیوں کی اکثریت محسوس کرتی ہے کہ وہ اتنے ہی بیلجیاتی ہیں جتنا کہ ڈچ اور جرمن بولنے والے لوگ ہیں۔ یہ نقطۂ نظر انھیں باہم مل کر ساتھ رہنے میں مدد دیتا ہے۔ شناخت کے تعلق سے یہی نقطۂ نظر ہمارے ملک کے بیشتر لوگوں کا ہے۔ وہ اپنے آپ کو اتنا ہی ایک ہندوستانی سمجھتے جتنا کہ کسی صوبہ کا شہری، یا کسی لسانی گروپ یا کسی سماجی یا مذہبی فرقہ کا فرد تصور کرتا ہے۔
دوسرے یہ کہ اس کا انحصار ان سیاسی رہنماؤں پر ہے جو کسی فرقہ کے مطالبات کو اٹھاتے ہیں۔ایسے مطالبات جو دستور کے دائرہ میں ہوں اور جس سے کسی دوسرے فرقہ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو انھیں آسانی سے حل کیا جاسکتاہے۔ سری لنکا میں لنکا ’’محض سنہالیوں کے لیے‘‘ کا مطالبہ تامل فرقہ کی شناخت اور مفادات کو نقصان پہنچا کر کیا گیا تھا۔ یوگو سلاویہ میں، مختلف نسلی فرقوں کے رہنمائوں نے اپنے مطالبات کو اس انداز سے پیش کیا انھیں ملک کی سا لمیت کے ساتھ ساتھ حل نہیں کیا جاسکتا۔
تیسرے یہ کہ اس کا انحصار اس پر ہے کہ حکومت مختلف گروپوں کے مطالبات پر کیا رویہ اختیار کرتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے سری لنکا اور بیلجیم کی مثالوں میں دیکھا، اگر حکمراں تقسیم اختیارات چاہتے ہیں اور اقلیتی فرقہ کے مطالبات کو تسلیم کرلیتے ہیں تو سماجی تقسیم ملک کی سا لمیت کے لیے مطلق خطرہ ثابت نہیں ہوتی۔ لیکن اگر وہ قومی اتحاد کے نام پر اس طرح کے مطالبات کی حوصلہ شکنی کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اکثر نتیجہ اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ طاقت کے بل پریکجہتی قائم کرنے کی کوشش سے بسااوقات انتشار کی بنیاد پڑ جاتی ہے۔

زندگی کے مختلف پہلوؤں پر مشتمل سماجی تقسیم کے کچھ خاکے بناؤ یا جمع کرو۔ کیا تم سماجی تقسیم یا امتیاز کی ایسی مثالیں سوچ سکتے ہو جن کا تعلق کھیلوں سے ہو۔

تو آپ کا کہنا ہیکہ بہت سی چھوٹی تقسیم یں ایک بڑی تقسیم سے بہتر ہوتی ہیں؟ کیا آپ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ سیاست اتحاد کی ایک طاقت ہے۔
یوں ضرورت اس بات کی ہے کہ سماجی تقسیم کو کسی ملک میں خطرہ تصور نہ کیا جائے۔جمہوریت میں سماجی تقسیم کا سیاسی اظہار بڑی عام بات ہے اور یہ مفید بھی ہوسکتی ہے اس سے معمولی اور چھوٹے گروپوں کو اپنی شکایات بیش کرنے اور حکومت کو انھیں سننے اور اسے دور کرنے کا موقع ملے گا۔ سیاسیاست میں مختلف قسم کی سماجی تقسیموں کے بیان سے بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ان کے درمیان مفاہمت کی راہ نکل آتی ہے اور یوں ان کے مابین کشیدگی کم ہوجاتی ہے۔ اور اس سے جمہوریت کو تقویت اور استحکام ملتا ہے۔
تنوع کے تعلق سے مثبت رویہ اختیار کرنا اور اسے برقرار رکھنا کوئی آسان بات نہیں۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ انھیں حاشیہ پر ڈال دیا گیا ہے، وہ سہولیات سے محروم اور امتیاز کا شکار ہیں، وہ انصاف کے لیے لڑتے ہیں۔ اس طرح کی لڑائی اکثر اپنے مطالبات کو پرامن طور پر اور دستوری انداز میں پیش کرکے اور انتخاب کے ذریعہ صاف ستھری پوزیشن حاصل کرکے جمہوری راستے سے لڑی جاتی ہے۔ کبھی کبھی سماجی تقسیمیں ناانصافی اور عدم مساوات کی ناقابل قبول صورت اختیار کرسکتی ہیں۔ اس طرح کی عدم مساوات کے خلاف جنگ بسا اوقات تشدد اور ریاست کے خلاف بغاوت کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ تاہم تاریخ بتاتی ہے کہ جمہوریت ہی اپنی حیثیت کو منوانے کی سعی کرنے اور تنوع کو برقرار رکھنے کی بھی بہترین راہ ہے۔

مشق
1۔ ان تین عناصر سے بحث کیجیے جو سماجی تقسیموں کے سیاسی نتائج کی تعین کرتے ہیں۔
2۔ کب ایک سماجی تفریق سماجی تقسیم میں تبدیل ہوجاتی ہے؟
3۔ سماجی تقسیمیں کس حد تک سیاست کو متاثر کرتی ہیں؟ دو مثالیں دیجیے۔
4۔ __________________سماجی تفریقیں گہری سماجی تقسیموں اور کشیدگیوں کے امکانات پیدا کرتی ہیں۔
__________________سماجی تفریقیں بالعموم تنازع کا موجب نہیں ہوتیں۔
5۔ سماجی تقسیموں کے ساتھ سلوک کرنے میں درج ذیل بیانوں میں کون بیان جمہوریت کے تعلق سے صحیح نہیں ہے۔
(a) جمہوریت میں سیاسی مسابقت کی وجہ سے سیاست پر سماجی تقسیموں کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
(b) جمہوریت میں مختلف فرقوں کو اپنی شکایات پر امن طور پر پیش کرنا ممکن ہے۔
(c) سماجی تنوع کو برقرار رکھنے کے لیے جمہوریت ایک بہترین طریقہ ہے۔
(d) جمہوریت ہمیشہ سماجی تقسیموں کی بنیاد پر سماج کے انتشار کا موجب ہوتی ہے۔
6۔ درج ذیل تین بیانوں پر غور کیجیے۔
A۔ سماجی تقسیمیں اس وقت وجود میں آتی ہیں جب سماجی تفریقیں باہم مل جاتی ہیں۔
B۔ یہ ممکن ہے کہ ایک شخص کی کئی شناختیں ہوں۔
C۔ سماجی تقسیمیں صرف ہندوستان جیسے بڑے ملک میں پائی جاتی ہیں۔
مذکورہ بیانوں میں سے کون سا صحیح ہے / ہیں
7۔ درج ذیل بیانوں کو ایک معقول ترتیب سے رکھیے اور ذیل میں دیے گئے اشارات کا استعمال کرتے ہوئے صحیح جوابات منتخب کیجیے۔
A۔ سماجی تقسیموں کے تمام سیاسی اظہار ہمیشہ خطرناک نہیں ہوتے۔
B۔ بیشتر ملکوں میں ایک یا ایک سے زائد سماجی تقسیمیں پائی جاتی ہیں۔
C۔ پارٹیاں سماجی تقسیم کی اپیل کے ذریعہ سیاسی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
D۔ کچھ سماجی تفریقیں سماجی تقسیموں کا سبب بن سکتی ہیں۔
8۔ درج ذیل ملکوں میں سے کون سا ملک نسلی شناختوں اور مذاہب کی بنیاد پر سیاسی جنگ کی وجہ سے انتشار کا شکار ہے۔
(a) بیلجیم (b) ہندوستان (c) یوگوسلاویہ (d) نیدرلینڈ
9۔ 1963میں کی گئی مارٹن لوتھر کی ایک مشہور تقریر سے لیے گئے درج ذیل اقتباس کو پڑھیے کس سماجی تقسیم کی بابت وہ گفتگو کررہا ہے؟ اس کی اپنی تمنائیں اور اندیشے کیا ہیں۔ کیا آپ کو اس تقریر اور میکسکو اولمپک میں ہوئے ایک واقعہ، جس کا اس باب میں اوپر ذکر آیا ہے، کوئی ربط نظر آتاہے؟
’’میرا یہ خواب ہے کہ میرے چاروں چھوٹے بچے ایک ایسے ملک میں رہیں گے جہاں ان کی قسمت کا فیصلہ ان کی جلد کے رنگ کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کے کردار کی بنیاد پر ہوگا۔ آزادی کا بگل بجنے دو۔ اور جب ایسا ہوگا اور جب ہم آزادی کے بگل کی اجازت دیں گے۔ جب ہم اسے ہر گائوں ہر گھر، ہر صوبہ اور ہر شہر میں اسے بجائیں گے تو پھر ہم اس دن تیزی سے آگے بڑھنے کے لائق ہوجائیں گے جس دن خدا کے تمام بندے۔ سیاہ فام ہوں یا سفید فام، یہودی ہوں یا اعلیٰ ذات کے شرفا، کیتھولک ہوں یا پروٹسٹنٹ۔ متحد ہونے کے قابل ہوجائیں گے اور قدیم روحانی نیگرو الفاظ میں گائیں گے: بالآخر آزاد! بالآخر آزاد! فالحمدللّٰہ علٰی ذلک پس خدا کا شکر ہے، بالآخر ہم سب آزاد ہیں۔ میرا یہ خواب ہے کہ اس دن یہ ملک ترقی کرے گا اور اپنے مذہب و عقیدہ کے حقیقی معنی کا ترجمان ہوگا: یہ حقائق ہم ذاتی شواہد کی بنیاد پر بیان کر رہے ہیں: کہ تمام لوگ برابر پیدا کیے گئے ہیں۔‘‘