باب 4
جنس، مذہب اور ذات برادری
(Gender, Religion and Caste)
اجمالی تعارف
گذشتہ باب میں ہم نے دیکھا کہ سماجی تنوع اور رنگا رنگی کا وجود جمہوریت کے لیے خطرہ نہیں ہے۔ سماجی تفریقات کا سیاسی اظہار نہ صرف ممکن بلکہ سیاسی نظام میں بسا اوقات عین مطلوب ہوتا ہے۔ اس باب میں ہم ان خیالات کو ہندوستان کے عملی جمہوری نظام پر منطبق کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہمارے سامنے سماجی تفریقات کی تین ایسی قسمیں ہیں جو سماجی تقسیم اور عدم مساوات کی شکل اختیار کرسکتی ہیں۔ یہ جنس، مذہب اور ذات برادری پر مبنی سماجی تفریقات ہیں۔ ہر معاملہ میں ہم ہندوستان میں پائی جانے والی اس تقسیم کی اصل حقیقت پر غور کریں گے اور دیکھیں گے کہ سیاسیات میں اسے کس طرح پیش کیا گیا ہے۔ ہم یہ بھی جاننا چاہیں گے کہ آیا ان تفریقات پر مبنی مختلف مظاہر ایک جمہوری نظام کے لیے صحت بخش بھی ہیں یا نہیں۔
جنس اور سیاسیات

بنگال کا ایک اشتہار جو عورت کی طاقت و قوت کی توثیق کرتا ہے
آئیے اب ہم گفتگو کا آغاز جنسی تقسیم سے کریں۔ یہ دراصل فرق مراتب والی ایسی سماجی تقسیم ہے جسے ہم کہیں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن اسے سیاسیات کے مطالعہ میں شاذ و نادر ہی تسلیم کیا جاتاہے۔ جنسی تقسیم کو فطری اور ناقابل تغیر سمجھا جاتاہے۔ تاہم یہ حیاتیاتی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ سماجی توقعات اور رسومات پر مبنی ہے۔
فرہنگ
مزدوروں کی جنسی تقسیم: ایک ایسا نظام جس میں وہ تمام خواتین جو گھر کے اندر کام کرتی ہیں خواہ وہ خاندان کی فرد ہوں یا باہر سے نظم کرکے داخلی مددگار کے طور پر اس کام پر انھیں مامور کیا جائے۔

سیاسیاست کی درسی کتاب میں ہم کیوں خانگی امور سے متعلق بحث کر رہے ہیں؟ کیا یہ سیاسیات ہے۔

کیوں نہیں؟ اگر سیاسیات میں طاقت سے بحث کی جاتی ہے، تب تو یقینا خانگی امور میں مردوں کی بالادستی کو سیاسی تصور کیا جانا چاہیے۔
سرکاری اور نجی تقسیم
لڑکوں اور لڑکیوں کے بارے میں عام طور پر یہ خیال کیا جاتاہے کہ عورتوں کی بنیادی ذمہ داری گھر کا کام کاج اور بچوں کی نگہداشت ہے۔ بیشتر خاندانوں میں کام کی جنسی تقسیم کی یہ جھلک پائی جاتی ہے۔ عورت گھر کے اندر کا سارا کام کرتی ہے مثلاً کھانا پکانا، صفائی کرنا، کپڑا دھونا، سلائی کرنا، بچوں کی دیکھ بھال کرنا وغیرہ اور مرد گھر کے باہر کے سارے امور انجام دیتاہے۔ حالانکہ ایسا نہیں کہ مرد گھر کا کام نہیں کرسکتا۔ وہ بس یہ سوچتے ہیں کہ اس طرح کے گھریلو کام کاج کی ذمہ داری عورتوں پر عائد ہوتی ہے۔ لیکن جب اس کام کی قیمت ادا کی جاتی ہے تو مرد یہ کام انجام دینے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ بیشتر ٹیلرس یا ہوٹلوں میں کام کرنے والے باورچی مرد ہیں۔ اسی طرح ایسا نہیں ہے کہ خواتین اپنے گھروں سے باہر کام نہیں کرسکتیں۔ دیہی علاقوں میں خواتین پانی نکالتی ہیں، ایندھن چنتی ہیں اور کھیتوں میں کام کرتی ہیں۔شہری علاقوں میں غریب خواتین متوسط طبقہ کے گھرانوں میں گھریلو خادم کے طور پر کام کرتی ہیں جب کہ متوسط طبقہ کی خواتین دفتروں میں کام کرتی ہیں۔ فی الواقع اکثر خواتین خانگی ذمہ داریوں کے علاوہ کچھ نہ کچھ با معاوضہ کام کرلیتی ہیں لیکن ان کے کام کو نہ تو کوئی اہمیت دی جاتی ہے اور نہ ہی اسے اچھا سمجھا جاتاہے۔
وظیفۂ عمل کی اس تقسیم کا نتیجہ یہ ہے کہ خواتین حالانکہ بنی نوع انسان کا نصف حصہ ہیں، تاہم عوامی زندگی بالخصوص سیاست میں ان کا کردار بہت سے معاشروں میں نہایت کم ہے۔ ابھی کچھ عرصے پہلے تک محض مردوں کو عوامی مسائل میں حصہ لینے، ووٹ دینے اور سرکاری ملازمت اختیار کرنے کا حق حاصل تھا۔ دھیرے دھیرے سیاست میں جنس کے مسئلہ کو اٹھایا گیا۔ دنیا کے مختلف حصوں میں خواتین منظم ہوئیں۔ اور مساوی حقوق کا مطالبہ کیا۔ مختلف ملکوں میں ووٹ دینے کے حق میں توسیع کرکے خواتین کو بھی شامل کرنے کے لیے مظاہرے کیے گئے۔ ان مظاہروں میں خواتین کے سیاسی اور قانونی معیار کو بڑھانے اور ان کی تعلیم اور روزگار کے مواقع کو فروغ دینے کا مطالعہ کیا گیا۔ زیادہ تر انقلاب پسند خواتین کی تحریک کا مقصد نجی اور خاندانی زندگی میں بھی مساوات کا حصول تھا۔ ان تحریکوں کو حامی نسواں (Feminist) تحریک کہا جاتاہے۔

معیاری خاتون کے تصورات
ٹی وی سیریل بنانے والے کے لیے
معیاری ٹی وی ناظر
برائے سماج
برائے فیشن صنعت
معیاری گھریلو عورت
معیاری حسن
برائے اجر اور مرد ملازمین
برائے متوقع قوانین
معیاری ملازمین
معیاری دلہن
ان میں سے آپ کون ہیں
ایک معیاری خاتون کے ان تمام تصورات سے بحث کیجیے جو آپ کے سماج میں رائج ہیں۔ کیا آپ ان میں سے کسی سے متفق ہیں؟ اگر نہیں تو پھر آپ کے ذہن میں ایک معیاری خاتون کا کیاتصور ہے؟
فرہنگ
حامی نسواں:ایسے مردو خواتین جو مرد وزن کے یکساں حقوق و مواقع میں یقین رکھتے ہیں۔
جنسی تقسیم کا سیاسی بیان اور اس موضوع پر سیاسی حرکت نے عوامی زندگی میں خواتین کے کردار کو بہتر بنانے میں بڑی مدد کی۔ اب ہم خواتین کو سائنسداں، ڈاکٹر، انجینئر، قانون داں منیجر اور کالج اور یونیورسٹی میں استاد کی حیثیت سے دیکھ سکتے ہیں جسے ہم ابھی کچھ دنوں پہلے تک خواتین کے لیے موزوں نہیں سمجھتے تھے۔ دنیا کے کچھ حصوں میں مثلاً اسکنڈینیوین ممالک جیسے سوئڈن، ناروے، فن لینڈ وغیرہ میں عوامی زندگی میں خواتین کی شرکت بہت زیادہ ہے۔
ہمارے ملک میں آزادی کے بعد سے کچھ سدھار ہونے کے باوجود اب بھی خواتین مردوں کے مقابلہ میں بہت پیچھے ہیں۔ ہم اب بھی مرد غلبہ والے سماج میں رہتے ہیں۔ خواتین کو ظلم و زیادتی، امتیاز اور غیر موافق صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
آئیے یہ کریں
ہمارے ملک کی چھ ریاستوں میں ایک ’’ جائزۂ اوقات کار ‘‘ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ ایک عورت روزانہ اوسطاً ساڑھے سات گھنٹے سے کچھ زیادہ کام کرتی ہے۔ جب کہ ایک مرد اوسطاً ساڑھے چھ گھنٹہ کام کرتا ہے۔ تاہم مردوں کے کام نمایاں طور پر نظر آتے ہیں کیوں کہ ان کے زیادہ تر کام آمدنی کا موجب ہوتے ہیں۔ عورتوں کے بھی بہت سے کام براہِ راست آمدنی میں اضافہ کرنے والے ہوتے ہیں لیکن ان کے زیادہ ترکام خانہ داری سے متعلق ہوتے ہیں۔ یہ کام بلامعاوضہ تو ہوتے ہیں‘ نظروں میں بھی نہیں آتے۔
یومیہ صرف شدہ اوقات (گھنٹہ: منٹ)
سرگرمیاں مرد خواتین
موجب آمدنی کام 6:00 2:40
امور خانہ داری اور اس سے متعلق کام 0:30 5:00
گفتگو اور گپ شپ 1:25 1:20
فراغت / فرصت کے اوقات 3:40 3:50
سونا، ذاتی نگہداشت، مطالعہ وغیرہ 12:25 11:10
ماخذ: حکومت ہند جائزہ اوقات کار، 1998-99
آپ اپنے گھر میں اس طرح کا جائزۂ اوقات کار کا اہتمام کرسکتے ہیں۔ ایک ہفتہ تک اپنے گھر کے تمام بالغ مرد و خواتین کا مشاہدہ کیجیے، اور ان میں سے ہر ایک درج ذیل سرگرمیوں میں کتنے گھنٹے وقت صرف کرتا ہے، نوٹ کیجیے: موجب آمدنی سرگرمی (دفتر میں، دُکان پر، فیکٹری میں یا فیلڈ وغیرہ میں کام کرنا) امور خانہ داری سے متعلق سرگرمی (پکانا، صفائی کرنا، کپڑا دھلنا، پانی لانا، بچوں یا بوڑھوں وغیرہ کی دیکھ بھال کرنا) پڑھنا، مضمون لکھنا، گفتگو کرنا/ گپ شپ کرنا، ذاتی نگہداشت، آرام کرنا یا سونا، اگر ضروری ہو تو نئے زمرے بنائیں۔ ایک ہفتہ تک تمام اوقات کو اس حد تک ان زمروں میں تقسیم کردیجیے جتنا اس وقت میں صرف ہوتا ہے پھر ہر ممبر کی یومیہ ہر سرگرمی کا تناسب نکالیے اور اس کے بعد دیکھیے کہ کیا آپ کے خاندان میں بھی خواتین زیادہ کام کرتی ہیں؟
فرہنگ
سرقبیلی: لغوی معنی باپ کی حکومت، یہ تصور یہ بتانے کے لیے استعمال کیا جاتاہے کہ یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں مردوں کو زیادہ اہمیت حاصل ہوتی ہے اور مردوں کو عورتوں پر فوقیت دی جاتی ہے۔
- مردوں میں 76 فی صد شرح خواندگی کے مقابلہ میں خواتین کی شرح خواندگی محض 54 فی صدہے۔ اسی طرح طالبات کا ایک معمولی گروپ ہی اعلیٰ تعلیم تک پہنچتا ہے۔ اگر ہم اسکول کے نتائج پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں لڑکیوں کی کا رکردگی لڑکوں سے کسی طرح کم نظر نہیں آتی البتہ کچھ جگہوں پر ان کی کارکردگی بہت اچھی نہیں ہے۔ بلکہ وہ تعلیم کا سلسلہ پہلے ہی چھوڑ دیتی ہیں کیوں کہ ان کے والدین جس قدر لڑکوں کی تعلیم پر اپنے وسائل صرف کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں اس قدر لڑکیوں پرخرچ کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتے۔
- یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ خواتین کا تناسب گراں قدر اور بڑے مشاہروں والی ملازمتوں میں اب بھی بہت کم ہے اوسطاً ایک ہندوستانی عورت ایک گھنٹہ میں جتنا کام کرتی ہے وہ اوسطاً ایک مرد کے یومیہ کام سے زیادہ ہے۔ پھر بھی اس کے بیشتر کام کی اجرت نہیں دی جاتی اور اسے قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔
- یکساں اہمیت کے حامل کام کی یکساں مزدوری ہونی چاہیے۔ اس کے باوجود تقریباً تمام میدان عمل میں کھیل اور سنیما سے لے کر میدان اور فیکٹریوں تک ہر جگہ اسے مردوں سے کم اجرت دی جاتی ہے حتیٰ کہ اس وقت بھی جب دونوں بالکل ایک کام سر انجام دیتے ہیں۔
امی ہمیشہ باہر کے لوگوں سے کہتی ہیں ’’میں کام نہیں کرتی ہوں۔ میں گھریلو عورت ہوں۔‘‘ لیکن میں انھیں مستقل کام کرتے دیکھ رہی ہوں کیا وہ جو کچھ کرتی ہیں وہ کام نہیں ہے؟ تو اس کے علاوہ کیا ہے جسے کام کہتے ہیں۔


کیا آپ اس نقشہ پر اپنے ضلع کو پہچان سکتے ہیں؟ اس میں بچوں کا جنسی تناسب کیا ہے؟ یہ کیسے مختلف رنگوں میں دوسروں سے مختلف ہے۔
ایسی ریاستوں کی شناخت کیجیے جن کے مختلف ضلعوں میں بچوں کی شرح پیدائش 850 سے کم ہے۔
اس نقشہ کا آئندہ صفحہ پر دیے گئے پوسٹر سے موازنہ کیجیے۔ان میں کون سی دو چیزیں ایسی ہیں جو ہمیں ایک ہی موضوع کی بابت معلومات فراہم کرتی ہیں۔
ہندوستان کے متعدد علاقوں میں بیٹوں کو زیادہ پسند کرتے ہیں اور بچیوں سے ان کی پیدائش سے پہلے ہی اسقاط حمل کے ذریعہ چھٹکارہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح کے منتخب جنسی اسقاط کی وجہ سے ملک میں بچوں کی شرح پیدائش (ہر ایک ہزارلڑکوں میں لڑکیوں کی تعداد) محض933 ہے۔ جیسا کہ نقشہ سے ظاہر ہے، یہ شرح 850 یا بعض جگہوں پر اس سے بھی نیچے گر گئی ہے۔
خواتین کو مختلف انداز سے خوف زدہ کرنے، تشدد کا نشانہ بنانے اور استحصال کرنے کی بہت سی رپورٹیں موجود ہیں۔ شہری علاقے خاص طور پر خواتین کے لیے غیر محفوظ ہیں۔ وہ اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں کیوں کہ وہاں بھی انھیں مارنے پیٹنے، خوف زدہ کرنے اور گھریلو تشدد کا نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
خواتین کی سیاسی نمائندگی
یہ ساری باتیں سب کو معلوم ہیں تاہم عورتوں سے متعلق کوئی بھی مسئلہ ہو اس پر مناسب توجہ نہیں دی جاتی۔ اس رویہ کی وجہ سے بہت سے حامی نسواں اور تحریک نسواں کے علمبردار اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ عورتوں کے ہاتھ میں جب تک طاقت اور اقتدار نہیں آئے گا، ان کے مسائل پر مناسب توجہ نہیں دی جائے گی۔ اس کی بس ایک ہی صورت ہے کہ عورتوں کو زیادہ سے زیادہ نمائندگی دی جائے۔

ہندوستان کی مقننہ میں عورتوں کا تناسب انتہائی کم رہا ہے مثلاً 2014 میں لوک سبھا میں منتخب خواتین ممبروں کی تعداد 12 فی صد تک پہنچ گئی ہے۔ صوبائی اسمبلیوں میں ان کی حصہ داری 5 فی صدسے بھی کم ہے۔ اس تناظر میں ہندوستان دنیا کے ملکوں میں سب سے نچلے گروپ میں شامل ہے (نیچے دیے گئے گراف دیکھیے)
ہندوستان لاطینی امریکہ اور افریقہ کے متعدد ترقی پذیر ممالک سے پیچھے ہے۔ حکومت میں کابینہ میں بڑی تعداد میں مرد ہوتے ہیں حتیٰ کہ اس وقت بھی جب وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم ایک عورت ہوتی ہے۔ اس مسئلہ کے حل کی بھی بس ایک ہی صورت یہ ہے کہ قانونی طور پر مجبور کیا جائے کہ ہر منتخب مجلس میں منصفانہ طور پر عورتوں کا تناسب ہونا چاہیے۔ یہ چیزہندوستان میں پنچایتی راج نظام میں کی جاچکی ہے۔ مقامی حکومت کی مجالس کی ایک تہائی نشستیں۔ خواہ پنچایت کی ہوں یا میونسپلٹی کی۔ اب خواتین کے لیے مخصوص کردی گئی ہیں۔ اس وقت دیہی اور شہری مقامی مجالس میں 10 لاکھ سے زیادہ منتخب خواتین نمائندے ہیں۔ خواتین تنظیمیں اور حقوق نسواں کے علمبردار مطالبہ کرتے ہیں کہ اس طرح لوک سبھا اور صوبائی اسمبلیوں کی بھی ایک تہائی نشستیں خواتین کے لیے مخصوص کی جانی چاہئیں۔ اس تجویز پر مشتمل ایک مسودۂ قانون پارلیمنٹ میں پیش ہوکر تقریباً ایک دہائی سے معرض التوا میں پڑا ہوا ہے۔ لیکن تمام جماعتیں اس موضوع پر کوئی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں اسی لیے بل پاس نہیں ہوسکا۔

کیا آپ کچھ دلائل دے سکتے ہیں کہ ہندوستان میں عورتوں کی نمائندگی اتنی کم کیوں ہے؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور یورپ عورتوں کی نمائندگی کے مطلوبہ معیار تک پہنچ گئے ہیں۔

اگر ذات پرستی اور فرقہ پرستی بری چیز ہے توخواتین پرستی کی ایجاد کیوں کی جارہی ہے۔ کیا یہ اچھی چیز ہے؟ کیوں نہ ہم ایسی تمام چیزوں کی مخالفت کریں جو سماج کو۔ مذہب ذات برادری اور جنس کسی بھی جہت سے تقسیم کرتا ہو۔
جنسی تقسیم ایک ایسی مثال ہے جو سیاست میں کسی نہ کسی شکل میں سماجی تقسیم کے اظہار کی ضرورت کا احساس کرواتی ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ محروم گروپ اسی وقت فائدہ اٹھاتا ہے جب سماجی تقسیم سیاسی موضوع بن جاتاہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ خواتین کچھ حاصل کرسکتی ہیں۔ جیسا کہ ہم اوپر لکھ چکے ہیں، اگر سیاسی میدان میں ان کے ساتھ عدم مساوات کا رویہ ختم نہ کیا گیا؟

اس کارٹون میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ خواتین ریزرویشن بل کیوں پارلیمنٹ میں پاس نہیں ہوسکا۔ کیا آپ خاکہ میں پیش کئے گئے خیال سے متفق ہیں۔
مذہب، فرقہ پرستی اور سیاسیات

چشم نم جان شوریدہ کافی نہیں
تہمت عشق پوشیدہ کافی نہیں
آج بازار میں پبجولاں چلو
فیض احمد فیض
آئیے اب ہم بالکل مختلف قسم کی سماجی تقسیم یعنی تفریق مذاہب کی بنیاد پر تقسیم کا رخ کرتے ہیں۔ یہ تقسیم جنس کی طرح عالمگیر نہیں ہے لیکن مذہبی تنوع کا دائرہ آج واضح طور پر عالمی سطح پر محیط ہے۔ بشمول ہندوستان بہت سے ممالک میں مختلف مذاہب کے ماننے والے پائے جاتے ہیں جیسا کہ ہم نے شمالی آئرلینڈ کے معاملہ میں ذکر کیا ہے، ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک ہی مذہب کے ماننے والوں کے مابین اپنے مذہب پر عمل کرنے کے طریقۂ کار کی بابت شدید اختلاف پایا جاتاہے۔جنسی تفریقات کے برعکس، مذہبی اختلافات بسااوقات میدان سیاست میں زیادہ ظاہر ہوتے ہیں۔

میں مذہبی نہیں ہوں میں کیوں فرقہ پرستی اور سیکولرزم کے جھگڑے میں پڑوں؟
درج ذیل پر غور کیجیے
- گاندھی جی کہا کرتے تھے کہ مذہب کو سیاست سے کبھی الگ نہیں کیا جاسکتا۔ مذہب سے ان کی مراد ہندومت یا اسلام کی طرح کوئی خاص مذہب نہیں تھا بلکہ وہ اخلاقی اقدار تھے جو تمام مذاہب میں مشترک ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ مذہب سے ماخوذ اخلاقیات کے ذریعہ سیاست کی رہنمائی کی جانی چاہیے۔
- حقوق انسانی کے گروپ کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کے زیادہ تر متاثرین ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کا تعلق مذہبی اقلیتوں سے ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کرے۔
- تحریک نسواں کا کہنا ہے کہ تمام مذاہب کے عائلی قوانین میں خواتین کے خلاف امتیاز روا رکھا گیا ہے۔ اس سے اس کا مطالبہ ہے کہ حکومت کو ان قوانین میں ترمیم کرنا چاہیے۔ تاکہ اسے زیادہ منصفانہ بنایا جاسکے۔
یہی سب چیز یں مذہب و سیاست کے رشتوں کو متاثر کرتی ہیں۔ لیکن لوگ اسے غلط اور خطرناک نہیں تصور کرتے۔ مختلف مذاہب سے لیے گئے خیالات، نمونے اور اقدار کو سیاست میں ایک اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ لوگوں کو بھی اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ مذہبی فرقوں کے ایک رکن کی حیثیت سے اپنی ضروریات، مفادات اور مطالبات کا اظہار کرسکیں۔ جن لوگوں کو سیاسی اقتدار حاصل ہے انھیں بھی اسی قابل ہونا چاہیے کہ وہ عملی طور پر مذہبی امور انجام دے کر ظلم و امتیاز کو روک سکیں۔ اس طرح کے سیاسی افعال اس وقت تک غلط نہیں جب تک وہ تمام مذاہب کے ساتھ یکساں برتاؤکرتے ہیں ۔
فرقہ پرستی
یہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مذہب کو ملکی اساس تصور کیا جاتاہے۔ باب 3 میں دی گئی شمالی آئرلینڈ کی مثال سے پتہ چلتا ہے کہ فرقہ پرستی کا طریقۂ کار خطرناک ہے۔ مسئلہ اس وقت زیادہ خطرناک صورت اختیار کرلیتا ہے جب بڑے پیمانہ پر مذہب تنہا سیاست میں دخیل ہوجاتاہے۔ اور اس کے متبعین دوسروں کو حقیر اور کمتر سمجھتے اور آمادۂ پیکار رہتے ہیں۔ یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کسی مذہب کا ماننے والا اپنے مذہب کو دوسرے مذاہب کے مقابلہ میں برتر تصور کرتا ہے، اور جب ایک مذہبی گروپ کے مطالبے دوسرے مذاہب کے خلاف تشکیل دیے جاتے ہیں۔اور جب سرکاری مشینری کے ذریعہ کسی ایک مذہبی گروپ کو بقیہ تمام لوگوں پر مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو سیاست میں مذہب کے اس طرح کے استعمال کو فرقہ وارانہ سیاست کہتے ہیں۔

میں اکثر لوگوں سے ایک مذہب کے بارے میں مذاق کرتا ہوں کیا یہ چیز مجھے فرقہ پرست بناتی ہے؟
فرقہ وارانہ سیاست کی بنیاد اس تصور پر قائم ہے کہ مذہب معاشرتی قوم کی بنیادی اساس ہے۔ فرقہ پرستی درج ذیل خطوط پر سوچنے کی عادی ہے۔ فرقہ پرستوں کا خیال ہے کہ کسی مخصوص مذہب کے متبعین کو کسی ایک فرقہ میں رہنا چاہیے۔ ان کے بنیادی مفادات یکساں ہوتے ہیں۔ کوئی فرق اگر ہوسکتا ہے تو وہ معمولی اور غیر اہم ہے۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ جو مختلف مذاہب کے پیرو ہیں وہ ایک ہی معاشرتی فرقہ میں نہیں رہ سکتے۔ اگر مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے مابین موافقت وہم آہنگی پائی جاتی ہے تو گویا یہ مافوق الفطرت اور غیر اہم ہیں، ان کے مفادات لازماً ایک دوسرے سے مختلف اور تنازعات کا موجب ہوتے ہیں۔ اپنی انتہائی شکل میں فرقہ پرستی کا نظریہ یہ ہے کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ملک میں برابر کے شہری کی حیثیت سے نہیں رہ سکتے۔ اس کی ایک ہی صورت ہے کہ ان میں سے ایک بقیہ تمام پر غلبہ حاصل کرے یا وہ اپنا اپنا الگ ملک بنا لیں۔
یہ نظریہ بنیادی طور پر تباہ کن ہے۔ ایک مذہب کے لوگ ہر سیاق و سباق میں یکساں مفادات اور آرزوئیں نہیں رکھتے۔ ہر ایک متعدد دوسرے کردار، احوال اور شناختیں رکھتا ہے۔
ہر کمیونٹی کے اندر بہت سی آوازیں، بہت سے خیالات و نظریات ہوتے ہیں۔ ہر آواز کا یہ حق ہے کہ وہ سنی جائے ہر نظریہ اور خیال کا یہ حق ہے کہ اسے آزادانہ طور پر پیش کیا جائے۔ اس لیے کسی مذہب کے تمام ماننے والوں کو کسی دوسرے مذہب کے خلاف متحد کرنے کی کوئی کوشش اس کمیونٹی کے اندر بہت سی آوازوں کو دبانے اور بہت سے خیالات کو کچلنے کے مترادف ہوگی۔
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتون کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
فیض احمد فیض

فرہنگ
عائلی قوانین: ایسے قوانین جوگھریلو مسائل سے تعلق رکھتے ہیں جیسے نکاح، طلاق، متبنیٰ، وراثت وغیرہ ہمارے ملک میں مختلف عائلی قوانین کا اطلاق مختلف مذاہب پر ہوتا ہے۔
فرقہ پرستی سیاست میں مختلف شکلیں اختیار کرسکتی ہے۔
- فرقہ پرستی کا عمومی اظہار روز مرہ کے خیالات و نظریات سے جھلکتا ہے۔ اس میں مذہبی تعصبات اور مذہبی کمیونٹی کے تنگ نظریات کارفرما ہوتے ہیں جس میں کسی ایک مذہب کا بقیہ تمام مذاہب پر غلبہ کا نظریہ بھی شامل ہے۔ یہ بڑی عام بات ہے اور اگر خود ہمارا بھی نظریہ یہی ہے تو بسا اوقات ہم محسوس بھی نہیں کرپاتے۔
- فرقہ وارانہ ذہنیت رکھنے والا خود اپنے مذہبی فرقہ کے سیاسی غلبہ کی کوشش کا رجحان رکھتاہے۔ اس لیے ایسے تمام لوگ جو اکثریتی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں وہ اکثریتی فرقہ کی حکومت تشکیل دینا چاہتے ہیں اور جن لوگوں کا تعلق اقلیتی فرقہ سے ہوتا ہے وہ علاحدہ ایک سیاسی اکائی تشکیل دینا چاہتے ہیں۔
- مذہبی نقطۂ نظر سے سیاسی تحریک فرقہ پرستی کی ایک دوسری کثیر الوقوع قسم ہے۔اس تحریک کے تحت خفیہ علامتیں، مذہبی قیادت، جذباتی اپیل کا استعمال اور خوف کا ماحول تیار کرکے ایک مذہب کے ماننے والوں کو سیاسی میدان میں متحد کیا جاتاہے۔
- انتخابی سیاست میں ایسا اکثر ہوتا ہے کہ دوسروں کے مقابلہ میں کسی ایک مذہب کے رائے دہندگان کو جذبات کی رو میں بہانے اور مفادات کا سبز باغ دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
- کبھی کبھی فرقہ پرستی، فرقہ وارانہ تشدد فسادات اور قتل عام کے اپنے کریہہ چہرہ کے ساتھ نمودار ہوتی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں تقسیم کے موقع پر بدترین فرقہ وارانہ فسادات جھیل چکے ہیں۔ آزادی کے بعد زمانہ میں بھی بڑے پیمانہ پر فرقہ وارانہ تشدد دیکھنے میں آیا ہے۔
سیکولر ریاست
فرقہ پرستی ہمارے ملک میں جمہوریت کے لیے مستقل ایک بڑا چیلنج رہی ہے۔ ہمارے دستور ساز اس چیلنج سے واقف تھے۔ اسی لیے انھوں نے سیکولر مملکت کے نمونہ کو منتخب کیا۔ یہ انتخاب دستور کی ان متعدد توضیحات سے جھلکتا ہے جن کا ہم گذشتہ سال مطالعہ کرچکے ہیں۔
- ہندوستانی ریاست کا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہے جیسا کہ سری لنکا میں بدھ مت کو، پاکستان میں اسلام کو اور انگلینڈ میں عیسائیت کو اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے برعکس ہمارا دستور کسی مذہب کو خصوصی مقام نہیں دیتا۔
- ہمارا دستور تمام افراد و جماعت کو یہ آزادانہ مواقع فراہم کرتا ہے کہ وہ جس مذہب کو چاہیں قبول کریں، اس پر عمل کریں اور اس کی تبلیغ کریں یا کسی مذہب کو نہ مانیں۔

یہ کرسی خصوصی طور پر وزیر اعلیٰ کے لیے تیار کی گئی ہے تاکہ ان کا سیکولر کردار پیش کیا جاسکے۔یہ کرسی ہر طرف جھولے گی۔
- دستور مذہب کی بنیاد پر امتیاز کوناجائز قراردیتا ہے۔
- اسی طرح ساتھ ہی دستور ریاست کو مذہبی فرقوں کے اندر مساوات قائم کرنے کے لیے مذہبی امور میں مداخلت کی اجازت دیتا ہے۔ مثلاً وہ چھوت چھات پر پابندی عائد کرتا ہے۔
اس معنی میں یہ بات طے ہے کہ سیکولرزم کچھ لوگوں یا جماعتوں کا محض ایک خیال نہیں بلکہ یہ نظریہ ہمارے ملک کی ایک مستحکم بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ہندوستان میں فرقہ پرستی کو محض کچھ لوگوں کے لیے ہی خطرہ نہیں ہے۔ یہ ہندوستان کی اساس اور اس کے پورے نظریہ ہی کے لیے خطرہ ہے۔ اس لیے فرقہ پرستی کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ ہمارے دستور کی طرح ایک سیکولر دستور ضروری ہے لیکن فرقہ پرستی سے لڑنے کے لیے کافی نہیں۔ فرقہ وارانہ تعصب اور پروپیگنڈہ کا روز مرّہ کی زندگی میں توڑ کرنے اور مذہب پر مبنی تحریک کو میدان سیاست میں ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
ذات برادری اور سیاست
ہم میدان سیاست میں سماجی تقسیم کے اظہار کے دو شواہد دیکھ چکے ہیں، ایک بڑی حد تک مثبت اور دوسرا بڑی حد تک منفی۔ آئیے اب اپنے آخری مسئلہ کی طرف رخ کریں جو ذات برادری اور سیاست سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے بھی مثبت اور منفی دو پہلو ہیں۔
ذات برادری پر مبنی عدم مساوات
ذات برادری پر مبنی تقسیم ہندوستان میں خصوصی نوعیت کی ہے۔ تمام معاشرہ میں سماجی عدم مساوات کی کچھ قسمیں اور مزدور کی تقسیم کی بعض شکلیں پائی جاتی ہیں۔ زیادہ تر معاشرہ میں پیشہ کی بنیاد پر تقسیم عمل میں آتی ہے جو نسل در نسل چلتی رہتی ہے۔ ذات برادری نظام اس کی انتہائی شکل ہے۔ جو چیز اسے دوسرے معاشرہ سے الگ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس نظام میں موروثی پیشہ وارانہ تقسیم کو مذہبی رسومات کے ذریعہ تصدیق کردی گئی اور اسے مذہب کا نام دے دیا گیا۔ ایک ہی ذات و برادری سے تعلق رکھنے والے گروپ کے اراکین سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ ایک ایسی کمیونٹی تشکیل دیں گے جو اپنے آبائی پیشے پر عمل پیرا رہیں گے، اپنی ہی ذات برادری کے گروپ میں شادی کریں گے اور دوسرے گروپ کی ذات و برادری کے اراکین کے ساتھ کھانے پینے سے پرہیز کریں گے۔
ذات پات نظام ذات یا ہر گروپ کے خلاف امتیاز اور برادری سے اخراج کی بنیاد پر تھا۔ وہ چھوت چھات کے غیر انسانی سلوک کے شکار تھے جس کے بارے میں آپ نویں جماعت میں مطالعہ کرچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی رہنماؤں اور سماجی کارکنوں جیسے جیوتی باپھولے، گاندھی جی، بی۔آر۔ امبیڈکر اور پیریار راما سوامی نائیکر وغیرہ نے ذات برادری سے پاک معاشرہ کے قیام کی حمایت اور کوشش کی ہے ۔
کچھ ان کی کوششوں اور کچھ دوسری سماجی معاشی تبدیلیوں کی وجہ سے، جدید ہندوستان میں ذات برادری اور ذات برادری نظام میں زبردست تبدیلی آئی ہے۔ معاشی ترقی بڑے پیمانہ پر شہر کاری، خواندگی اور تعلیم میں اضافہ، پیشہ وارانہ حرکت۔ دیہاتوں میں زمین مالکان کی حالت میں کمزوری کے ساتھ ذات پات پر مبنی نظام ٹوٹ کر ختم ہورہا ہے۔ اب اکثر شہری علاقوں میں یہ مسئلہ نہیں رہا کہ ہمارے نزدیک گلی میں کون آرہا ہے یا کسی ہوٹل میں دوسری میز پر کون کھا رہا ہے۔ دستور ہند میں ذات پات پر مبنی کسی بھی امتیاز کو روا رکھنے سے روک دیا گیا ہے، اور ذات پات کے نظام کو ختم کرنے کی پالیسی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ اگر کوئی ایسا شخص جو ایک صدی پہلے تھا ہندوستان واپس آئے تواسے تقریباً ایک صدی کے اندر آئی تبدیلی کو دیکھ کر سخت حیرت ہوگی۔
ہندوستان کا سماجی اور مذہبی تنوع
ہندوستان کی مردم شماری میں ہر دس سال بعد ہر مذہب اور ہر شہری کا ریکارڈ رکھا جاتاہے۔ جو شخص مردم شماری فارم پر کرتا ہے، وہ ہر گھر جاتاہے اور گھر کے تمام افراد کا ان کے بیان کے مطابق ان کا مذہب نوٹ کرتا ہے۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ اس کا کوئی مذہب نہیں، یا وہ ایک ’ملحد‘ ہے۔ یہ چیز ہو بہو ریکارڈ میں درج کردیا گیا ہے۔ یوں ہمارے پاس ملک کے مختلف مذاہب کے تناسب سے متعلق معلومات حقائق پر مبنی ہیں اور سالانہ اس میں کس طرح تبدیلی رونما ہوتی ہے اس کا بھی قابل اعتماد ریکارڈ ہے۔ درج ذیل پائی چارٹ ملک میں چھ بڑے مذہبی گروپوں کی آبادی کا تناسب پیش کر رہا ہے۔ آزادی کے بعد ہر مذہبی گروہ کی آبادی حقیقی طور پر بڑھی ہے لیکن ملکی آبادی میں ان کے تناسب پر کوئی بہت بڑا فرق نہیں پڑا ہے۔ فی صد کے نقطۂ نظر سے 1961کے بعد سے ہندو،جینی اور عیسائیوں کی آبادی میں معمولی گراوٹ آئی ہے۔ مسلمانوں، سکھوں اور بدھسٹوں کی آبادی کے تناسب میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ایک عام اور گمراہ کن تاثر یہ ہے کہ ملک کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب دوسرے مذہبی گروپوں سے آگے جارہا ہے۔ وزیر اعظم کی اعلیٰ سطحی کمیٹی (جو سچر کمیٹی کے نام سے مشہور ہے) کے ماہرین تخمینہ نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ آئندہ سال میں امید ہے کہ مسلمانوں کا تناسب معمولی طور پر تقریباً 3 سے 4 فی صد تک بڑھے گا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مجموعی طور پر مختلف مذہبی گروہوں کی آبادی کے توازن میں کسی بڑی تبدیلی کے آنے کا امکان نہیں ہے۔
یہی بات ذات برادری کے بڑے گروپوں کے باب میں بھی درست ہے ہندوستان کی مردم شماری نے دو سماجی گروپ کو شمار کیا ہے: ایک درج فہرست ذات اور دوسرے درج فہرست قبائل یہ دونوں بڑے گروپ سیکڑوں ایسی ذاتیں، برادریاں اور قبائل اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں جن کے نام سرکاری فہرست میں ہیں۔ اسی سے ان کے ناموں کے ساتھ ’’فہرست بند‘‘ لگا ہے۔ درج فہرست ذاتیں عام طورپر دلت کی حیثیت سے جانی جاتی ہیں۔ ان میں وہ تمام ذاتیں شامل ہیں جو ہندو سماجی نظام میں پہلے ذات باہر (outcaste) تصور کی جاتی تھیں اور چھوت چھات اور اخراج کا نشانہ بنتی تھیں۔ درج فہرست قبائل کوآدی باسی حیثیت سے جاناجاتا تھا جس میں وہ تمام کمیونٹیاں شامل تھیں جو بالعموم قبائلیوں کی طرح پہاڑوں اور جنگلوں میں رہتے تھے اور جن کا بقیہ سماج سے بہت کم رشتہ تھا۔ 2011میں درج فہرست ذات کے لوگ ملک کی کل آبادی کا 16.6 فی صد اور فہرست قبائل 8.6 فی صد تھے۔
تاہم مردم شماری میں ان دوسری پسماندہ ذاتوں کے گروپوں کو شمار نہیں کیا گیا جن پر ہم نے نویں جماعت میں بحث کی تھی۔ یہیں سے ملک کی آبادی میں ان کے تناسب کی بابت کچھ اختلاف پایا جاتاہے۔ 2004۔2005کا قومی نمونہ جائزہ میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ ان کی آبادی تقریباً 41 فی صد ہوگی اس طرح درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل اور دوسری پسماندہ داتوں کو اکٹھا کرکے شمار کیا گیا تو ان کی آبادی ملکی آبادی کی تقریباً دو تہائی اور ہندو آبادی کی تقریباً تین چوتھائی، پہنچ گئی ہے۔
ہندوستان میں مختلف مذہبی گروہوں کی آبادی 2011تک

پھر بھی ذات برادری موجودہ ہندوستان سے بالکل ختم نہیں ہوئی ہے۔ ذات پات کے کچھ قدیم پہلو اب بھی پائے جاتے ہیں۔ آج بھی زیادہ تر لوگ اپنی ہی ذات و قبیلہ میں شادی کرتے ہیں۔ دستوری پابندی کے باوجود چھوت چھات کا مکمل خاتمہ نہیں ہوسکا۔ فوقیت اور عدم فوقیت کے صدیوں کے اثرات مستقل آج بھی محسوس کیے جارہے ہیں۔ ایسے ذات پات کے گروپ جن کو ماضی میں تعلیم تک رسائی حاصل نہیں تھی، جدید تعلیم کے حصول میں بھی انھوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ گروپ جن کی تعلیم تک رسائی نہیں تھی یا جنہیں اسے حاصل کرنے کی اجازت نہ تھی، وہ فطری طور پر پیچھے رہ گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں غیر متوازن طور پر شہری متوسط طبقوں کے مابین اونچی ذات کے لوگ موجود ہیں۔ ذات کا معاشی معیار سے ہمیشہ بڑا گہرا تعلق رہا ہے۔ (دیکھئے مثبت باکس صفحہ 57)
اب آپ اسے پسند نہیں کرتیں؟ کیا آپ نے ہم سے یہ نہیں کہا تھا کہ جہاں کہیں بھی غلبہ اور تسلط ہو، ہمیں اس پر سیاسیات میں بحث کرنی چاہیے؟ تو کیا ذات پات کا تصور ختم ہوسکتا ہے، اگر ہم اس کی بابت خاموش رہے؟

مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ میری ذات کیا ہے۔ ہم یہ سب چیزیں درسی کتاب میں کیوں بحث کرتے ہیں؟ کیا ہم اس پر گفتگو کرکے اسے فروغ نہیں دے رہے ہیں؟

فرہنگ
شہرکاری:آبادی کا دیہی علاقوں سے شہری علاقہ میں منتقل ہونا
پیشہ وارانہ حرکت : ایک پیشہ چھوڑ کر دوسرا پیشہ اختیار کرنا۔ خاص طور پر نئی نسل جب اپنا آبائی پیشہ چھوڑ کر دوسرا پیشہ اختیار کرتی ہے۔
ذات پات درجہ بندی:
ایک زینہ کی ترتیب جس میں اعلیٰ سے ادنیٰ ذات کے تمام گروپ موجود ہوتے ہیں
سیاست میں ذات پات
فرقہ پرستی کی طرح جاتی واد کی جڑیں اس نظریہ میں پیوست ہیں کہ ذات برادری معاشرتی کمیونٹی کی واحد بنیاد ہے۔ اس طرز پر سوچنے کے مطابق جو لوگ ایک ذات سے تعلق رکھتے ہیں وہ فطری طور پر ایک ہی معاشرتی گروپ سے منسلک ہوتے ہیں اور ان کے مفادات بھی یکساں ہوتے اور کسی دوسری ذات سے ان کا کوئی اشتراک نہیں ہوتا۔ جیسا کہ ہم نے فرقہ پرستی کے معاملہ میں دیکھا، اس طرح کے نقطۂ نظر کو ہمارے تجربہ کے مطابق جھیلا نہیں جاسکتا۔ ذات پات کا ایک ہی پہلو ہمارے تجربہ میں ہے لیکن یہ بہت زیادہ متعلق یا بہت اہم پہلو نہیں ہے۔
ذات پات کا تصور سیاست میں مختلف شکلیں اختیار کرسکتاہے۔
- انتخاب میں جب سیاسی جماعتیں نمائندے منتخب کرتی ہیں تو رائے دہندگان کی ذات پات کی ترتیب کو ذہن میں رکھتی ہیں اور مختلف ذات برادریوں کے لوگوں کو اس طرح نامزد کرتی ہیں کہ انتخاب جیتنے کے لیے وہ ضروری حمایت حاصل کرسکیں۔ جب حکومت سازی کی جاتی ہے تو سیاسی جماعتیں عموماً اس بات کا خیال رکھتی ہیں کہ ان کی حکومت میں مختلف ذات و قبائل کو مناسب نمائندگی مل سکے۔
- انتخاب میں سیاسی جماعتیں اور نمائندے اجتماعی ووٹ حاصل کرنے کے لیے ذات برادری کے جذبات کو ابھارتے اور اپنے لیے ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہیں۔ بعض سیاسی جماعتیں بعض ذاتوں کی حامی سمجھی جاتی ہیں اور ان کی نمائندہ نظر آتی ہیں۔
- عام بالغ رائے دہی اور ایک شخص ایک ووٹ کااصول سیاسی رہنماؤں کو رائے عامہ ہموار کرنے کے کام میں تیزی لانے اور سیاسی حمایت حاصل کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ ان ذات برادری کے لوگوں کے اندر اپنا شعور پیدا کرتا ہے۔ جن کے ساتھ اب تک کم تر اور حقیر شخص کی حیثیت سے برتاؤ کیا جاتا تھا۔
ذات پات پر مبنی عدم مساوات آج کل
ذات پات معاشی عدم مساوات کا ایک اہم ذریعہ ہے کیوں کہ یہ مختلف قسم کے ذرائع تک رسائی کی راہ ہموار کرتی ہے۔مثلاً ماضی میں نام نہاد اچھوت، ذاتوں کو اپنی زمین رکھنے کا حق نہیں تھا، جبکہ نام نہاد، پنرجنم، ذاتوں ہی کو تعلیم حاصل کرنے کا حق تھا۔ گو کہ ذات پات پر مبنی اسی قسم کی واضح عدم مساوات کو اب غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔ اب بھی صدیوں کے مفید و غیر مفید اثرات محسوس کیے جارہے ہیں۔ مزید براں نئی قسم کی عدم مساوات بھی فروغ پا گئی ہے۔
ذات پات اور معاشی معیار کے مابین تعلق بڑی حد تک قطعی طور پر تبدیل ہوگئے ہیں۔ آج، ہر ذات میں خواہ اعلیٰ ذات کے ہوں یا ادنیٰ، بہت غریب اور بہت امیر مل جائیں گے یہ بات ابھی بیس یا تیس سال پہلے کہنا درست نہ ہوتی۔ یہ بڑی شاذو نادر بات تھی کہ نچلی ذات میں کوئی مال دار ہوتا۔ پھر بھی جیسا کہ قومی جائزہ سے پتہ چلتا ہے کہ مستقل طور پر اور مختلف جہتوں سے ذات پات کا معاشی معیار سے بڑا گہرا رشتہ اور تعلق ہے:
- قدیم درجہ بند کے مطابق ذات پات کے گروپوں کے معاشی معیار کا تناسب (جو ماہانہ قوت خرید کی زمرہ بندی کے ذریعہ ناپا گیا ہے) اب بھی قدیم تناسب کے مطابق ہے مثلاً اعلیٰ ذات کے لوگ بہت بہترین جب کہ دلت اور آدی باسی لوگوں کی حالت بہت خراب ہے اور پسماندہ ذاتیں ان دونوں کے درمیان ہیں۔
- گو کہ ہر ذات برادری میں کچھ غریب لوگ ہیں، انتہائی غربت میں زندگی گزارنے کا تناسب (سرکاری خط غربت کے نیچے)نچلی ذاتوں کا بہت زیادہ ہے اور اعلیٰ ذاتوں کا بہت کم ہے، پسماندہ ذاتیں درمیان میں ہیں۔
- گو کہ ہر ذات برادری کے کچھ لوگ مال دار ہیں، اعلیٰ ذات کے لوگوں کی نمائندگی بہت زیادہ ہے جبکہ ادنیٰ ذات کی نمائندگی کم ہے۔
خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والی آبادی کا فی صد، 1999-2000
ذات برادری اور کمیونٹی گروپ شہری دیہی
درج فہرست قبائل 35.6 45.8
درج فہرست ذات 38.3 35.9
دوسری پسماندہ ذاتیں 29.5 27.0
مسلم اعلیٰ ذاتیں 34.2 26.8
ہندو اعلیٰ ذاتیں 9.9 11.7
عیسائی اعلیٰ ذاتیں 5.4 9.6
سکھ اعلیٰ ذاتیں 4.9 0.0
دوسری اعلیٰ ذاتیں 2.7 16.0
تمام گروپ 23.4 27.0
نوٹ: یہاں اعلیٰ ذات سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی میں شامل نہیں ہیں۔ خط غربت سے نیچے سے مراد وہ لوگ ہیں جو دیہی علاقوں میں فی کس ماہانہ 327 یا اس سے کم اور شہری علاقوں میں فی کس ماہانہ 454 روپیہ یا اس سے کم خرچ کرتے ہیں۔
ماخذ: قومی نمونہ جائزہ تنظیم (NSSO) ، حکومت ہند، پچپنویں بار، 1999-2000
سیاست میں ذات و برادری پر توجہ مرکوز کرنے سے بسا اوقات یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ انتخاب تمام تر ذات پات کے بارے میں ہے اور اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ لیکن یہ درست نہیں ہے۔ مندرجہ ذیل نکتوں پر غور کیجیے:
- ملک میں کوئی ایک پارلیمانی حلقہ ایسا نہیں ہے جس میں تنہا کسی ایک ذات کی واضح اکثریت ہو۔ اس لیے، ہر نمائندہ اور جماعت کو ضرورت ہے کہ وہ انتخابات جیتنے کے لیے ایک سے زیادہ ذات اور کمیونٹی کا اعتماد حاصل کرے۔
- کوئی جماعت کسی ذات یا کمیونٹی کے تمام رائے دہندگان کے ووٹ حاصل نہیں کرسکتی۔ جب لوگ کہتے ہیں کہ فلاں ذات فلاں پارٹی کا ووٹ بینک ہے، تو اس کا بالعموم مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اس ذات کے لوگ بہت بڑی تعداد میں اس پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں۔
- بہت سی سیاسی جماعتیں ایک ہی ذات کے نمائندے کھڑا کردیتی ہیں (اگر اس ذات کے بارے میں یہ خیال کیا جاتاہے کہ اس حلقہ میں اس کی واضح اکثریت ہے۔) بعض رائے دہندگان کے پاس ان کی ذات کے ایک سے زیادہ نمائندے ہوتے ہیں جبکہ بہت سے رائے دہندگان ایسے ہوتے ہیں جن کی ذات برادری کا کوئی نمائندہ نہیں ہوتا۔
- ہمارے ملک میں برسراقتدار پارٹی اور موجودہ ایم پی یا ایم ایل اے اکثر انتخاب ہار جاتے ہیں۔ ایسا ہرگز نہ ہوتا اگر تمام ذاتیں اور فرقے اپنی سیاسی ترجیحات میں منجمد کردئے جاتے ۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سیاسی قائدین ایک ذات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ’ووٹ بینک‘ کی حیثیت سے ان کے ساتھ برتاؤ کرکے ٹھیک کرتے ہیں؟
حالانکہ واضح طور پر انتخابی سیاست میں ذات پات کے معاملات کے ساتھ دوسرے عناصر بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم رائے دہندگان اس پارٹی کے مقابلہ میں کہ جو ان کی اپنی ذات برادری یا فرقہ سے تعلق رکھتی ہے، بسا اوقات ان پارٹیوں سے زیادہ قریب ہوتے ہیں جن کی پوزیشن مستحکم ہوتی ہے ایک ہی ذات برادری اور فرقہ کے لوگ اپنے معاشی حالات کی بنیاد پر مختلف مفادات رکھتے ہیں۔ ایک ہی ذات برادری کے امیر اور غریب یا مرد و خواتین مختلف انداز سے ووٹ دیتے ہیں۔ حکومت کی کارکردگی کا عوامی تعین اور قائدین کی شہرت کی عوامی درجہ بندی بسا اوقات انتخاب میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔
ذات پات میں سیاست
ہم اب تک یہ دیکھ چکے ہیں کہ ذات برادری سیاست میں کیا گل کھلاتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ذات پات اور سیاست کے مابین رشتہ یک طرفہ ہے۔ سیاست بھی ذات پات کے نظام کو متاثر کرتی ہے۔ اور ذات پات کو میدان سیاست میں لاکر شناخت بخشتی ہے۔
اس لیے یہ سیاست نہیں جو ذات بدوش ہے بلکہ یہ ذات ہے جسے سیاست آمیز کیا گیا ہے۔ اس کی مختلف شکلیں ہیں۔
- ہر ذات کا گروپ اپنی پڑوسی ذاتوں یا ذیلی ذاتوں کو جو ابھی حال ہی میں الگ ہوتی ہے، اپنے اندر ضم کرکے بڑا گروپ بننا چاہتا ہے۔
- بہت سی ذاتوں کے گروپ دوسری ذاتوں یافرقوں کے ساتھ مل کر اتحاد قائم کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس طرح بات چیت اور گفت و شنید میں شریک ہوسکیں۔
- پسماندہ اور ترقی یافتہ، ذاتوں کے گروپ کی طرح ذات گروپوں کی نئی قسم میدان سیاست میں وجود میں آگئی ہے۔

یوں ذات برادری، سیاست میں مختلف قسم کا کردار ادا کرتی ہے۔ بعض حالات میں، سیاست میں ذات پات کی تفریق کا اظہار طاقت کی حصہ داری کے حصول میں محروم یا پسماندہ برادریوں کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس معنی میں ذات پات کی سیاست دلت اور دوسری پسماندہ ذاتوں کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے کیوں کہ اس کے ذریعہ پارلیمنٹ تک ان کی رسائی بہتر طور پر ہوسکتی ہے۔ متعدد سیاسی اور غیر سیاسی تنظیمیں کسی مخصوص ذات کے خلاف امتیاز کو ختم کرنے، ان کی عزت و توقیر اور زمین تک رسائی میں اضافہ کرنے، وسائل اور مواقع فراہم کرنے کا مطالبہ اور احتجاج کرتی ہی ہیں۔
اس طرح ذات پات پر بہت زیادہ زور دینے سے منفی نتیجہ نکل سکتا ہے۔ جیسا کہ مذہب کے معاملہ میں ہے، محض ذات پات کی بنیاد پر سیاست کی شناخت جمہوریت میں بہت زیادہ مفید صحت بخش اور مستحکم علامت نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے غربت، ترقی اور بدعنوانی جیسے اہم مسائل سے توجہ ہٹ سکتی ہے۔ بہت سے معاملات میں ذات پات کی تقسیم سے کشیدگی، تنازعہ اور تشدد جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

1۔ زندگی کے ان مختلف پہلوؤں کا ذکر کیجیے جن میں ہندوستان میں خواتین کو امتیاز اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
2۔ فرقہ وارانہ سیاست کی مختلف شکلوں کی کم از کم ایک ایک مثال دے کر بیان کیجیے۔
3۔ بتائیے کہ کیسے ہندوستان میں اب بھی ذات پات پر مبنی عدم مساوات کا سلسلہ جاری ہے۔
4۔ اس بات کی دو دلیل پیش کیجیے کہ تنہا ذات پات انتخابی نتائج کا تعین نہیں کرتی۔
5۔ ہندوستان کی مجلس قانون ساز میں خواتین کی نمائندگی کاتناسب کیا ہے؟
6۔ دستور کی کسی ایسی دو توضیحات کا ذکر کیجیے جو ہندوستان کو سیکولر ریاست بناتی ہیں۔
7۔ جب ہم جنسی تقسیم کی بات کرتے ہیں تو عام طور پر ہم حوالہ دیتے ہیں۔
(a) مرد و خواتین کے مابین حیا تیاتی فرق۔
(b) معاشرہ کے ذریعہ مرد و خواتین کو غیر مساوی رول تفویض کیا جانا۔
(c) بچوں کی غیر مساوی جنسی شرح۔
(d) جمہوریت میں خواتین کے ووٹ کے حق کی عدم موجودگی۔
8۔ ہندوستان میں خواتین کی نشستیں مخصوص کر دی گئی ہیں۔ کس میں؟
(a) لوک سبھا (b) صوبائی مجلس قانون ساز
(c) کابینہ (d) پنچائتی راج مجلسوں میں
9۔ فرقہ وارانہ سیاست کے معنی و مفہوم سے متعلق درج ذیل بیانات پر غور کیجیے فرقہ وارانہ سیاست کی بنیاد اس نظریہ پر قائم ہے کہ
A۔ ایک مذہب دوسرے کے مقابلہ میں برتر ہے۔
B۔ مختلف مذاہب کے لوگ مساوی شہری کی حیثیت سے ایک ساتھ ہنسی خوشی رہ سکتے ہیں۔
C۔ ایک مخصوص مذہب کے متبعین پر مشتمل ایک فرقہ وجود میں آتاہے۔
D۔ سرکاری اختیارات کسی ایک مذہب کو دوسرے مذاہب پر فوقیت دینے کے لیے نہیں استعمال کیا جانا چاہیے۔
درج بالا میں سے کون سا بیان درست ہے/ یاہیں
10۔ درج ذیل بیانات میں سے کون سا بیان دستور ہند کی بابت غلط ہے؟ یہ
(a) مذہب کی بنیاد پر امتیاز کو ختم کرتا ہے۔
(b) ایک زبان کو سرکاری زبان کا درجہ عطا کرتا ہے۔
(c) تمام شہریوں کو کسی بھی مذہب کو قبول کرنے کی آزادی دیتا ہے۔
(d) مذہبی فرقوں کے اندر شہریوں کے مساوات یقینی بناتاہے۔
11۔ سماجی تقسیموں____ کی بنیاد پر ہندوستان کی عجیب و غریب چیز ہیں۔
12۔ فہرست Iکا فہرست IIکے ساتھ موازنہ کیجیے اور ذیل کی فہرست میں دیے گئے اشارات کا استعمال کرتے ہوئے صحیح جواب منتخب کیجیے۔
| فہرست I | فہرست II |
| 1ایک ایسا شخص جو مرد و خواتین کے لیے یکساں مواقع اور حقوق میں یقین رکھتا ہے 2 ایک ایسا شخص جس کا کہنا ہے کہ مذہب کمیونٹی کی بنیادی اساس ہے 3 ایک ایسا شخص جس کا کہنا ہے کہ ذات پات کمیونٹی کی بنیادی اساس ہے 4ایک ایسا شخص جو مذہبی عقیدہ کی بنیاد پر دوسرے سے امتیاز کا برتاؤ نہیں کرتا |
A- فرقہ پرست B حامی نسواں C۔ سیکولرسٹ D۔ ذات پات پرست |
| 1 | 2 | 3 | 4 | |
| (a) | B | C | A | D |
| (b) | B | A | D | C |
| (c) | D | C | A | B |
| (d) | C | A | B | D |
