Skip to content
Jamhooriyatsiyasat Chapter-5

باب 5


عوامی جدوجہد اور تحریکیں

(Popular Struggles and Movements)

اجمالی تعارف

گذشتہ باب میں ہم نے بحث کی تھی کہ جمہوریت میں تقسیم اختیارات کیوں اہم ہے اور حکومت کی مختلف سطحوں اور مختلف سماجی گروپوں کے مابین یہ کیوں کر عمل میں آتی ہے۔ اس باب میں ہم اس بحث کو مزید آگے بڑھائیں گے اور دیکھیں گے کہ جو لوگ ان اختیارات کا استعمال کرتے ہیں وہ اپنے اوپر پڑنے والے دباؤ اور اثرات سے کیسے متاثر ہوتے ہیں جمہوریت میں تقریباً یکساں طور پر نقطہ ہائے نظر اور مفادات میں ٹکراؤ پایا جاتا ہے۔ ان اختلافات کو عام طورپر منظم اندازسے پیش کیا جاتا ہے برسر اقتدار لوگوں کو چاہیے کہ وہ ان متصادم مطالبات اور دباؤ کو متوازن کرنے کی کوشش کریں۔ اس باب کا آغاز ہم اس بحث سے کرتے ہیں کہ متصادم مطالبات اور دبائو کے سایہ میں کی جانے والی جدوجہد جمہوریت کی کیسی تصویر پیش کرتی ہے۔یہ ہم کو ان طریقوں اور تنظیموں کے تجزیہ کی طرف لے جاتی ہے جن کے ذریعہ جمہوریت میں ایک عام شہری اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس باب میں ہم فشاری گروپوں اور تحریکوں کے ذریعہ سیاست کو بالواسطہ طور پر متاثر کرنے والی راہوں پر نگاہ ڈالیں گے۔ اس سے ہمیں آئندہ باب میں سیاسی جماعتوں کی صورت میں سیاسی اختیارات کوبراہ راست کنٹرول کرنے کی رہنمائی ملے گی۔

نیپال اور بولیویا میں عوامی جدوجہد 

 کیا آپ کو پولینڈ میں جمہوریت کی کامیابی کا وہ قصہ یاد ہے؟ جسے ہم نے گذشتہ سال نویں جماعت کے پہلے باب میں پڑھا تھا۔ یہ کہانی جمہوریت کے قیام میں عوامی کردار کی یاد دہانی کرتی ہے۔ آپ اسی قسم کی حالیہ ان دو کہانیوں کا مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ جمہوریت میں طاقت کس طرح استعمال کی جاتی ہے۔

نیپال میں جمہوریت کی تحریک

نیپال نے اپریل2006 میں ایک غیر معمولی عوامی تحریک کا مظاہرہ کیا۔ تحریک کا مقصد جمہوریت بحال کرنا تھا۔ نیپال ،شاید آپ کو یاد ہوگا کہ ان تین ملکوں میں سے ایک تھا جو 1990میں اپنے یہاں جمہوریت قائم کرنے میں کامیاب ہوئے تھے گوکہ بادشاہ کو رسمی طور پر بحیثیت سربراہ مملکت باقی رکھا گیا تھا تاہم حقیقی اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کو منتقل کردیاگیا تھا۔ شاہ برندرا کو جس نے مطلق العنان بادشاہت کی دستوری بادشاہت میں منتقلی کو قبول کیا تھا، 2001میں شاہی خاندان کے پر اسرار قتل عام میں قتل کردیا گیا۔ نیپال کے نئے بادشاہ، شاہ گیانندر جمہوری حکومت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔انھوں نے جمہوری طور پر منتخب حکومت کی عدم مقبولیت اور اسی کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا اور فروری 2005میں شاہ نے وزیر اعظم کو برخاست اور عوام کی منتخب کردہ پارلیمنٹ کو تحلیل کردیا۔ اپریل 2006کی تحریک کا مقصد حکومت پر بادشاہ کے بجائے دوبارہ عوامی کنٹرول حاصل کرنا تھا۔
پارلیمنٹ کی تمام بڑی جماعتوں نے مل کر ایک سات جماعتی اتحاد قائم کیا اور ملک کے دار الحکومت کٹھمنڈو میں چار روزہ ہڑتال کا اعلان کیا۔ یہ احتجاج جلدہی ایک غیر معینہ مدت کی ہڑتال میں تبدیل ہوگیا جس میں ماؤ نواز باغی اور دوسری مختلف تنظیمیں ان کے ساتھ شریک ہوگئیں۔ لوگ کرفیو کی پرواہ کیے بغیر سڑکوں پر نکل آئے۔ سلامتی دستے ان لاکھوں لوگوں کو جو روزانہ جمہوریت کی بحالی کے لیے جمع ہوتے تھے، کنٹرول کرنے میں اپنے آپ کو بے بس پارہے تھے۔ 21 اپریل تک احتجاجیوں کی تعداد تین سے پانچ لاکھ تک پہنچ گئی اور بادشاہ کا انھیں ایک الٹی میٹم ملا۔ تحریک کے رہنمائوں نے بادشاہ کی معمولی سی مراعات کو مسترد کردیا اور وہ پارلیمنٹ کی بحالی کل جماعتی حکومت کو اقتدار کی منتقلی اور ایک نئی آئین ساز اسمبلی کی تشکیل کے مطالبے پر اڑے رہے۔
CH55-1
     CH55-2
نیپال کی عوام اور سیاسی جماعتیں ایک ریلی میں اپنے ملک میں بحالی جمہوریت کا مطالبہ کرتے ہوئے۔ 
24اپریل2006کو الٹی میٹم کی آخری تاریخ تھی ۔بادشاہ کو ان تینوں مطالبات قبول کرنے پر دباؤ ڈالا گیا ایس پی اے(سات جماعتی اتحاد) نے حکومت کے نئے وزیر اعظم کی حیثیت سے گیر جا پرساد کوئرالا کو منتخب کیا۔ پارلیمنٹ بحال کردی گئی اور بادشاہ سے زیادہ تر اختیارات سلب کرنے کے لیے قوانین پاس کیے گئے۔ ایس پی اے اور ماؤ نوازوں کے مابین اس بات پر مفاہمت ہوگئی کہ نئی آئین ساز اسمبلی کا انتخاب کیسے عمل میں آئے گا۔ 2008 میں بادشاہت کو ختم کیا اور نیپال جمہوری ملک بن گیا۔ 2015 میں ایک نئے آئین کو اختیار کیا گیا۔ نیپالی عوام کی جدوجہد پوری دنیا کے جمہوریت پسندوں کے لیے فال نیک کی حیثیت رکھتی ہے۔

فرہنگ

ماؤ نواز: ایسے کمیونسٹ جو مائو کے نقطۂ نظر میں یقین رکھتے ہیں جو چینی انقلاب کا لیڈرتھا۔ یہ مسلح انقلاب کے ذریعہ اقتدار میں آنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ کسانوں اور مزدوروں کی حکومت قائم ہوسکے۔

بولیو یاکی پانی کی جنگ

پولینڈ اور نیپال کی کہانی بحالی جمہوریت یا قیام جمہوریت کی جدوجہد کے تعلق سے یکساں ہے۔ لیکن عوامی جدوجہد کاعمل قیام جمہوریت کے ساتھ ہی ختم نہیں ہو جاتا۔ بولیویا میں پانی کی نجکاری کے خلاف عوام کی کامیاب جدوجہد ہمیں یاد دہانی کراتی ہے کہ جمہوریت کی کامیابی کے لیے عوامی جدوجہد ناگزیر ہے۔
بولیویا لاطینی امریکہ کا ایک غریب ملک ہے عالمی بینک نے حکومت پر دباؤ ڈالا کہ وہ اپنے بلدیاتی پانی کی سپلائی سے دست کش ہوجائے ۔حکومت نے کوچاہا ما شہر کے ان حقوق کو ایک کثیر قومی کمپنی (ایم این سی) کو فروخت کردیا۔ کمپنی نے فوری طور پر پانی کی قیمت چار بار بڑھا دیا۔ بہت سے لوگوں کو ایک ایسے ملک میں ماہانہ ایک ہزار پانی کا بل موصول ہواجہاں اوسطاً ماہانہ آمدنی تقریباً پانچ ہزار ہے۔ اس نے اچانک عوام کے اندر احتجاج کی تحریک پیدا کردی۔

CH55-3
کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جس جگہ بھی چاہیں ایک بڑی بھیڑ اکٹھا کرکے جو چاہیں حاصل کرسکتے ہیں؟ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جمہوریت میں طاقت ہی کانام حق ہے،یعنی جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔

جنوری2000 میں مزدور، انسانی حقوق اور کمیونٹی کے لیڈروں کے ایک نئے اتحاد نے شہر میں ایک کامیاب چار روزہ عمومی ہڑتال کا اہتمام کیا۔ حکومت بات چیت پر راضی ہوگئی اور ہڑتال ختم کردی گئی لیکن کچھ بھی نہیں ہوا جب فروری میں دوبارہ احتجاج شروع کیاگیا تو پولس نے ظلم و جبر کارویہ اختیار کیا۔ اپریل میں ایک دوسری ہڑتال کا اہتمام کیاگیا اور حکومت نے مارشل لا نافذ کردیا۔ لیکن عوامی طاقت نے ایم این سی کے اہلکاروں کو شہر چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کردیا اور حکومت کو آمادہ کیاکہ وہ احتجاجیوں کے تمام مطالبات تسلیم کرے۔ ایم این سی کا معاہدہ منسوخ کردیاگیا اور پرانی قیمت پر بلدیاتی پانی سپلائی کردی گئی۔ اسی کو بولیویا کی پانی کی جنگ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

جمہوریت اور عوامی جدوحہد

یہ دوکہانیا ں بالکل مختلف سیاق وسباق سے تعلق رکھتی ہیں۔ نیپالی تحریک کا مقصد جمہوریت کا قیام تھا جبکہ بولیو یا کی جدوجہد کا تعلق ایک ایسی حکومت سے تھا جو جمہوری طور پر منتخب شدہ تھی۔ بولیوں میں عوامی جدوجہد ایک مخصوص پالیسی تھی جب کہ نیپال میں جو جدوجہد تھی اس کا تعلق ملکی سیاست کی بنیاد سے تھا۔ یہ دونوں عوامی جدوجہدکامیاب تھیں لیکن اس کے اثرات مختلف سطح کے تھے۔
ان اختلافات کے باوجود ان دونوں کہانیوں کا کچھ ایسے عناصر میں اشتراک پایا جاتا ہے جو جمہوریت کے ماضی اور مستقبل کے مطالعہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ دونوں ایسے سیاسی تنازعات کی مثالیں ہیں جو بڑھ کر عوامی جدوجہد کا موجب ہوجاتے ہیں۔ ان دونوں معاملات میں جدوجہد نے پھیل کر عوامی صورت اختیار کرلی تھی۔ عمومی حمایت کے عوامی مظاہرہ نے تنازعہ کو اپنی گرفت میں لے لیا بالآخر ان دونوں مثالوں میں سیاسی تنظیموں کا منفی کردار رہا ہے۔ اگر آپ نویں جماعت کی درسی کتاب کے پہلے باب کو یاد کریں تو دیکھیے کس طرح جمہوریت پوری دنیا میں ارتقاپذیر ہوتی ہے۔ پھر بھی ہم ان مثالوں سے چند نتائج اخذ کرسکتے ہیں۔
  • جمہوریت عوامی جدوجہد کے ذریعہ نشونما پاتی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ کچھ اہم فیصلے موافقت اور ہم آہنگی کے ذریعہ طے پا جائیں اور سرے سے کوئی تنازعہ پیدا ہی نہ ہولیکن یہ ایک استثنائی معاملہ ہوگا۔ جمہوریت کی اصل پہچان یہ ہے کہ برسر اقتدار گروپ اور اقتدار کے متمنی گروپ کے مابین تنازعہ اور کشمکش کی تحریکیں جاری رہیں۔ یہ تحریکیں اس وقت وجود میں آتی ہیں جب ملک جمہوریت کے عبوری دور سے گزر رہا ہو، جمہوریت کا توسیعی عمل جاری ہو یا جمہوریت کی جڑیں گہرائی میں پیوست ہو رہی ہوں۔
  • جمہوری تنازعہ عوامی تحریک کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے کبھی کبھی ممکن ہے کہ یہ تنازعہ وتصادم عدلیہ اور پارلیمنٹ جیسے موجود اداروں کے ذریعہ حل کیا جائے۔ لیکن جب بہت گہرا تنازعہ ہوتا ہے تو بسا اوقات یہ ادارے بھی خود اپنے آپ کو اس میں ملوث پاتے ہیں پھر اس کا حل ان اداروں سے باہر عوام کے ذریعہ سامنے آتا ہے۔
  • ان تنازعات اور تحریکات کی بنیاد و ا ساس نئی سیاسی تنظیموں پر ہے یہ صحیح ہے کہ اس طرح کی تمام تاریخی تحریکوں میں بے ساختگی کا ایک عنصر موجود ہے۔ لیکن ازخود عوامی شرکت اس وقت موثر ہوتی ہے جب انھیں منظم سیاست کی مدد حاصل ہو۔ منظم سیاست کی بہت سی ایجنسیاں ہو سکتی ہیں یہ سیاسی جماعتوں، فشاری گروپوں اور تحریکی گروپوں پر مشتمل ہیں۔
’’کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہہڑتال ، دھرنا ،بند اور مظاہرے اچھی چیزیں ہیں؟ میں تو یہ سمجھتا تھا کہ یہ سب کچھ ہمارے ملک میں ہی ہوتا ہے کیونکہ ہم ابھی تک ایک پختہ جمہوریت نہیں ہیں‘‘
CH55-4


دوبارہ غور کریں

1984میں کرناٹک حکومت نے کرناٹک پلپ و ڈلمیٹڈ نام کی ایک کمپنی بنائی اس کمپنی کو 40 سال کے لیے تقریباً 30 ہزارہیکٹیر زمین عملاً مفت دے دی گئی۔ اس زمین کا زیادہ تر حصہ مقامی کسان اپنے جانوروں کی چراگاہ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ تاہم کمپنی نے اسی زمین پر یوکلپٹس کا درخت لگانا شروع کردیا جو کاغذکا گود ا بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ 1987میں کِٹی کو۔ ہچی کو (پودا اور توڑنے کے معنی میں یعنی پودا توڑو) نام کی ایک تحریک شروع ہوئی جو عدم تشدد پر مبنی تھی اس تحریک کے مطابق لوگ اکلپٹس کے پورے کو توڑ دیتے اور اس کی جگہ ایک ایسا درخت لگا دیتے جو عوام کے لیے مفید ہوگا۔
فرض کیجیے درج ذیل گروپ میں سے کسی ایک سے آپ کا تعلق ہوتا تو اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لیے آپ کیا دلائل دیتے: ایک مقامی کسان، ایک حامی ماحولیات، اس کمپنی میں کام کرنے والے ایک سرکاری اہلکار یا محض ایک کاغذ کے خریدار۔

تحریک اور تنظیمیں

آئیے پیچھے پلٹ کر اپنی دومثالوں پرنظر ڈالیں اور ان تنظیموں کو دیکھیں جنھوں نے اس جدوجہد کو کامیاب بنایاہم نے دیکھا کہ غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان سات جماعتی اتحاد کی طرف سے کیاگیا تھا۔ یہ اتحاد بعض ان بڑی جماعتوں پر مشتمل تھا جن کے اراکین پارلیمنٹ کے ممبر تھے۔ لیکن عوام کے سیل بیکراں کے پس پشت محض ایس پی اے ہی ایک تنظیم نہیں تھی۔ نیپال کمیونسٹ پارٹی (ماؤ نواز) بھی اس میں شریک تھی جو پارلیمانی جمہوریت پر یقین نہیں رکھتی تھی یہ جماعت نیپالی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے میں ملوّث تھی اور جس نے نیپال کے بیشتر علاقوں پر کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔


CH55-6
مجھے لفظ ’تحریک‘ پسند نہیں ہے اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لوگ بھیڑ ہیں۔

سیاسی تنظیموں کے علاوہ دوسری بہت سی تنظیمیں اس جدو جہد میں شریک تھیں تمام بڑی مزدور یونینیں اور ان کے وفاق بھی اس تحریک میں شریک تھے۔ دوسری بہت سی تنظیموں جیسے ملکی لوگوں کی تنظیمیں، اساتذہ، وکلااور حقوق انسانی کے گروپ وغیرہ نے حمایت کی تحریک کو بڑی وسعت دے دی تھی۔
بولیویا میں پانی کی نجکاری کے خلاف مظاہرہ کسی سیاسی جماعت کی قیادت میں نہیں ہوا تھا بلکہ فی ڈی کور(FEDECOR)نامی ایک تنظیم کی رہنمائی میں ہوا تھا۔ یہ تنظیم مقامی پیشہ وروں پر مشتمل تھی جس میں انجینئر اور حامی ماحولیات وغیرہ شامل تھے۔ انھیں کسانوں کے وفاق جو آبپاشی کے ضروت مند تھے، صنعتی ملازمین کے منسلکین، یونینیں، کوچا بامبا یونیورسٹی کے متوسط کے طلبہ۔بے گھر گلی کے شہر کی بڑھتی آبادی کے بچوں کی حمایت حاصل تھی۔ اس تحریک کو اشتراکی پارٹی کی بھی حمایت حاصل تھی۔ 2006 میں بولیویا میں یہی پارٹی برسر اقتدار آئی تھی۔
ان دونوں مثالوں سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ جمہوریت میں کسی بڑے مظاہرے کے پیچھے متعدد مختلف قسم کی تنظیمیں کام کرتی ہیں۔ یہ تنظیمیں دو طرح سے اپنا کردار ادا کرتی ہیں، ایک تو یہ جمہوریت میں واضح طور پر فیصلہ پر اثر انداز ہونے کا طریقہ اختیار کرتی ہیں اس طریقہ کے مطابق وہ حریفانہ سیاست میں براہ راست حصہ لیتی ہیں ۔ اس کے لیے جماعتیں تشکیل دیتی ہیں، انتخاب میں حصہ لیتی ہیں، اور جیتنے کی صورت میں حکومت سازی کرتی ہیں۔ لیکن ہر شہری اس طرح براہ راست حصہ نہیں لے سکتا۔ ہوسکتا ہے ان شہریوں کواس کی خواہش اور ضرورت ہی نہ ہو ان میں اور سوائے ووٹ ڈالنے کے وہ مہارت ان میں نہ ہو جو براہ راست سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے درکار ہیں۔
CH55-7
حکومت نے غریبوں کے مسائل کم کرنے کی اسکیم شروع کی ہیں اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے اقدامات کیے ہیں لیکن ملک میں غربت اب بھی موجودہے اس طرح کے حالات کے اسباب کیا ہیں؟
دوسرے بہت سے طریقے ایسے ہیں جن کو اپنا کر لوگ اپنے مطالبات اور اپنے نقطۂ نظر کو حکومت کے گوش گزار کرسکتے ہیں۔ ایسا وہ ، تنظیم بنا کر اور اپنے مفادات اور نقطہ نظر کو فروغ دینے کی ذمہ داری قبول کرکے، کرسکتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو مفادی یا فشاری گروپ کہتے ہیں۔بسا اوقات لوگ بغیر تنظیمیں بنائے ایک ساتھ مل کر کام کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
CH55-8
کیا تم یہاں دیے گئے اخبار کے تراشوں میں فشاری گروپوں کے وظیفۂ عمل کو بتاسکتے ہو؟ وہ کیا مطالبے کررہے ہیں؟

فشاری جماعتیں اور تحریکات

فشاری جماعتیں ایسی تنظیمیں ہیں جو حکومت کی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی ہیں لیکن سیاسی جماعتوں کے برعکس فشاری جماعتیں براہ راست کنٹرول کرنے یا سیاسی اختیار حاصل کرنے کا ارادہ نہیں کرتیں یہ تنظیمیں اس وقت تشکیل پاتی ہیں جب لوگوں کے مفادات، خیالات اور آرزوئیں کسی عام مقصد کے حصول کے لیے مجتمع ہوجاتی ہیں۔
مذکورہ طریقۂ بحث سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کوئی تنظیم نہیں ہیں نیپال کی جدوجہد کو تحریک برائے جمہوریت کا نام دیاگیا تھا۔ ہم اکثر اجتماعی کاروائی کی مختلف شکلوں کی وضاحت کے لیے عوامی تحریک کالفظ سنتے ہیں: مثلاً نرمدا بچاؤ اندولن، حق اطلاع کی تحریک ، شراب مخالف تحریک، تحریک نسواں، تحریک ماحولیات وغیرہ۔ ایک مفادی گروپ کی طرح، تحریک بھی  مقابلہ آرائی میں براہ راست حصہ لینے کے بجائے سیاست کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ لیکن مفادی گروپوں کے برعکس، تحریکوں کی ایک ڈھیلی ڈھالی تنظیم ہوتی ہے۔ ان کے فیصلہ لینے کا عمل بڑا غیررسمی اور لچکدار ہوتا ہے یہ مفاوی گروپ کی نسبت، زیادہ تربے ساختہ عوامی شرکت پر انحصار کرتی ہیں۔
CH55-9
    CH55-10
احتجاج برائے حق زمین ۔انڈونیشیا میں مغربی جاوا کے کسان۔ جون 2004کو مغربی جاوا کے تقریباً000،15بے زمین کسان دار الحکومت جکارتا روانہ ہوئے۔ وہ زمینی اصلاح کے مطالبہ اور اپنے فارم کی باز یافت پر دباؤ ڈالنے کے لیے اپنے ساتھ اپنی فیملی کو بھی لے کر آتے تھے۔مظاہرین زمین نہیں، ووٹ نہیں، کانعرہ لگاتے ہوئے گویا یہ اعلان کر رہے تھے کہ اگر کسی نمائندہ نے زمینی اصلاح کے مطالبہ سے روگردانی کی یا پیچھے ہٹا تو وہ انڈونیشیا کے پہلے صدارتی انتخاب کا بائیکاٹ کریں گے۔

طبقاتی مفاد ی گروہ اور عوامی مفادی گروہ

عام طور پر مفادی گروں کسی ایک مخصوص طبقہ یا گروپ کے مفادات کو فروغ دینے کی کوشش کرتا ہے۔ ٹریڈیونینیں ،تجارتی انجمنیں، اور پیشہ ورانہ (وکلاء، ڈاکٹر ٹیچر وغیرہ) انجمنیں ، اس طرح کے گروہوں کی چند مثالیں ہیں۔ یہ سب طبقاتی مفادی گروہ ہیں کیوں کہ یہ سماج کے ایک طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں: مزدور، ملازمین، تجارت کار، صنعت کار، مذہب کے متبعین، ذات پات کے گروپ وغیرہ۔ یہ خاص طور پر اپنے ممبروں اور اراکین کی بہتری کے خواہاں ہوتے ہیں عمومی طور پر پورے سماج کے نہیں۔
کبھی کبھی یہ تنظیمیں سماج  کے محض ایک ہی طبقہ کے مفادات کی نمائندگی نہیں کرتیں بلکہ کچھ ایسے عمومی مفادات کی نمائندگی کرتی ہیں جن کا دفاع اور تحفظ لازم ہے۔ اور اس کے جس کا م کے لیے وہ سرگرم عمل ہوتی ہیں اس سے ان کے ممبران کے کچھ بھی مفادات وابستہ نہیں ہوتے۔بولیوین پانی تنظیم (FEDECOR)ّٓ اس قسم کی تنظیم کی ایک مثال ہے۔ نیپال کے سیاق و سباق میں ہم نے حقوق انسانی تنظیم کی شرکت کا ذکر کیا تھا اور نویں جماعت میں ان تنظیموں کی بابت ہم پڑھ چکے ہیں۔
ان دوسرے طرز کے گروہوں کو فروغی یا عوامی مفادی گروہ کہتے ہیں۔ یہ گروہ مخصوص نتیجہ کے بجائے اجتماعی بہتری کو فروغ دیتا ہے ان کا مقصد گروپوں کو مدد بہم پہچانا ہے نہ کہ ان کے اپنے افراد کو۔ مثلا بندھوا مزدور کے خلاف لڑنے والا گروپ اپنے مفاد کے لیے نہیں لڑتا بلکہ ان لوگوں کے لیے لڑتا ہے جو اس طرح کی غلامی کو جھیل رہے ہیں۔ کچھ مثالیں ایسی بھی ہیں جس میں عوامی مفادی گروہ کے ممبران کچھ ایسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں جس سے انھیں فیض پہنچنے کے ساتھ ساتھ دوسرے بھی مستفید ہوتے ہیں۔مثلاً بام کیف(Backward and Minorities Community Employer Federation) جو ایک ایسی تنظیم ہے جس میں بڑی تعداد میں سرکاری ملازمین ہیں جو ذات پات کے امتیاز کے خلاف مہم چلاتے ہیں۔یہ امتیاز کے شکار اپنے ممبروں کے مسائل کو موضوع بناتی ہے لیکن اس کے اصول کا تعلق پورے معاشرہ کے سماجی انصاف اور سماجی مساوات سے ہے۔

تحریکی گروپ

مفادی گروہ کے معاملہ کی طرح، تحریکوں کے ساتھ بھی بڑے پیمانے پر مختلف گروپوں کا اشتراک ہوتا ہے: بہت سی مثالیں پہلے ہی اوپر آچکی ہیں ، ان کی باتیں معمولی امتیاز کے لیے کافی ہیں۔ زیادہ تر تحریکیں مخصوص موضوعی تحریکیں ہوتی ہیں جو ایک متعین وقت میں اپنا مقصد وحید حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ دوسری زیادہ عمومی اور کلی تحریکیں ہیں جو طویل مدتی ہدف حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ 
CH55-11
سماجی تحریکیں اور فشاری جماعتیں اور شہریوں کو مختلف طریقوں سے منظم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ذیل سے کولاج کے ذریعہ ان میں سے بعض کو ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

نیپال کی تحریک برائے جمہوریت دراصل بادشاہ کے اس حکم کو مسترد کرانے کے مخصوص مقصدسے ابھری تھی جو اس نے جمہوریت کو معطل کرنے کے لیے دیاتھا۔ ہندوستان میں نرمدا بچاؤ آندولن اس طرح کی تحریک کی بہترین مثال ہے۔ یہ تحریک ان لوگوں کے مخصوص موضوع سے شروع ہوئی جو نرمدا ندی پر بننے والے سردار سرور بند سے بے گھر ہوگئے تھے ۔ اس تحریک کا مقصد تعمیر ہو رہے بند کو روکنا تھا۔ دھیرے دھیرے یہ ایک وسیع تحریک بن گئی جس نے اس طرح کے تمام بڑے بندوں پر اور ترقی کے اس معیار پر سوالیہ نشان قائم کردیا جو اس طرح کے بڑے بندوں کے لیے درکار ہے اس طرح تحریکوں کے لیے ایک شفاف قیادت اورنظام کی ضرورت ہے لیکن عام طور پر اس طرح کی تحریکوں کی سرگرم زندگیاں مختصر ہوتی ہیں۔

حق اطلاع قانون پارلیمنٹ کے حالیہ بنائے گئے قوانین میں ایک ہے؟قانون کے نفاذ میں رکاوٹ ڈالنے والے کوجو دکھایا جارہا ہے وہ کون ہے؟
CH55-12

ان ایک موضوعی تحریکوں کا ان تحریکوں کے ساتھ موازنہ کیا جاسکتا ہے جو طویل مدتی اور ایک سے زیادہ موضوعات سے دلچسپی رکھتی ہیں۔ماحولیاتی تحریک اور تحریک نسواں اس طرح کی تحریکوں کی مثالیں ہیں کوئی ایک تنظیم بھی ایسی نہیں ہے جو ان جیسی تحریکوں کو کنٹرول کرتی یا رہنمائی کرتی ہو۔ ماحولیاتی تحریک بے شمار تنظیموں اور مخصوص موضوعاتی تحریکوں کی ایک علامت ہے۔ یہ سب کی الگ اپنی ایک تنظیم، آزاد قیادت اور پالیسی سے متعلق معاملات پر بسا اوقات مختلف نقطہ ہائے نظر رکھتی ہیں۔
تاہم یہ تمام تنظیمیں وسیع مقاصد کی حامل ہیں اور ان سب کا طریقۂ کار یکساں ہے اسی لیے انھیں تحریک کہا جاتا ہے کبھی کبھی یہ وسیع تحریکیں کھلی چھتری کے مانند ایک تنظیم کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔مثلا قومی اتحاد برائے عوامی تحریک (NAPM)یہ تنظیموں کی ایک تنظیم ہے۔بہت سے تحریکی گروپ جو مخصوص موضوع کے تحت جدوجہد میں مصروف ہیں ، اس کھلی تنظیم سے وابستہ ہیں جو ہمارے ملک میں بے شمار عوامی تحریکوں کی سرگرمیوں کو مربوط رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔
یہ گروپ سیاست کو کس طرح متاثر کرتے ہیں؟
  • فشاری گروہ اور تحریکیں مختلف طریقوں سے سیاست کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
  • یہ لوگوں کو حقائق سے باخبر کرنے کے لیے مہم چلا کر اجلاس کا اہتمام کرکے اور مفاد عامہ میں مقدمہ دائر کرکے اپنی سرگرمیوں اور مقاصد کے تئیں عوامی حمایت اور ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان ہی میں سے زیادہ تر گروپ ذرائع ابلاغ کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ موضوعات پر زیادہ توجہ دے سکیں۔
  • یہ اکثر حکومتی پروگرام کو منتشر کرنے یا ہڑتال جیسی احتجاجی سرگرمیوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ ملازمین کی تنظیمیں، مزدوروں کی تنظیمیں اور بہت سے تحریکی گروپ اپنے مطالبات منوانے کے لیے حکومت پر دبائو ڈالنے کی غرض سے اکثر اس طرح کی تدبیروں کا سہارا لیتے ہیں۔
  • تجارتی گروپ اکثر پیشہ ورانہ ترغیب ور (Lobbyists) یامہنگے اشتہارات کی پیشکش کو استعمال کرتی ہیں۔ فشاری گروہوں یا تحریکی گروپوں میں سے کچھ افراد سرکاری انجمنوں یا ان کمیٹیوں میں حصہ لے سکتے ہیں جو حکومت کو مشورہ دیتی ہیں۔
جبکہ مفادی گروپ اور تحریکیں براہ راست جماعتی سیاست میں حصہ نہیں لیتیں بلکہ وہ سیاسی جماعتوں پر موثر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں بہت سی تحریکی جماعتیں سیاسی جماعت نہ ہونے کے باوجود سیاسی رنگ اختیار کرلیتی ہیں۔ اہم مسائل (Issues)پر ان کا اپنا ایک وقف اور نقطۂ نظر ہوتا ہے سیاسی جماعتوں اور فشاری گروہوں کے مابین تعلقات مختلف شکلیں اختیار کرسکتے ہیں ۔ یعنی کچھ براہ راست اور کچھ بالواسطہ۔
  • کچھ مثالیں ایسی ہیں کہ فشاری گروہوں کی تشکیل یا قیادت سیاسی جماعتوں کے قائدین کے ذریعہ عمل میں آتی ہے یا وہ خود سیاسی جماعتوں کے توسیعی بازو کی حیثیت سے کام کرتے ہیں مثلاً ہندوستان میں زیادہ تر ٹریڈ یونینیں اور طلبہ کی تنظیمیں کسی نہ کسی اہم سیاسی جماعت کی قائم کردہ یا منظور کردہ ہیں، اس طرح کے فشاری گروہوں کے زیادہ تر قائدین عام طور پر جماعت کے قائدین یا سرگرم اراکین ہیں۔
CH55-13
ان اخباری تراشوں میں کتنی سماجی تحریکوں کو فہرست میں شامل کیاگیا ہے ؟ وہ کن کوششوں میں مصروف ہیں؟ سماج کے کس حصہ کو حرکت میں لانے کی کوشش کر رہی ہیں؟
  • کبھی کبھی سیاسی جماعتیں تحریکوں سے جنم لیتی ہیں ۔مثلاً جب طلبہ کے ذریعہ غیر ملکیوں کے خلاف آسام تحریک چلائی گئی تو اس کے خاتمہ پر آسام گن پریشد کی تشکیل عمل میں آئی۔ تامل ناڈو میں ڈی ایم کے اور اے آئی ڈی ایم کے جیسی جماعتوں کی جڑیں 1930اور 1940کے دوران چلنے والی سماجی اصلاحی تحریک میں تلاش کی جاسکتی ہیں۔
  • بیشتر معاملات میں جماعتوں اور مفادی یا تحریکی گروپوں کے مابین تعلقات بہت براہ راست نہیں ہوتے۔ وہ اکثر اس طرح کے موقف اختیار کرتے ہیں کہ لگتا ہے وہ ایک دوسرے کے مخالف ہیں تاہم وہ باہم گفت وشنید اور مذاکرات بھی جاری رکھتے ہیں۔ تحریکی جماعتیں نئے مسائل اٹھاتی ہیں جسے سیاسی جماعتیں لپک لیتی ہیں اس طرح زیادہ تر سیاسی جماعتوں کے قائدین مفادی یا تحریکی جماعتوں سے آتے ہیں۔

کیا ان کا اثر صحت مند ہے؟

ابتدامیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ گروپ جو صرف ایک مخصوص طبقہ کامفاد پیشِ نظر رکھتے ہیں‘ جمہوریت میں ان کا اثر اور دباؤ صحت مند علامت نہیں ہے۔ جمہوری نظام کو چاہیے کہ وہ کسی ایک حصہ کے بجائے سماج کے تمام لوگوں کے مفادات کی نگہداشت کرے۔ بظاہر یہ بات بھی نظر آئی ہے کہ یہ جماعتیں کسی جواب دہی کے بغیر طاقت کااستعمال کرتی ہیں سیاسی جماعتیں انتخابات میں عوام کا سامنا کرتی ہیں لیکن یہ جماعتیں عوام کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتیں۔ فشاری گروہ اور تحریکیں اپنے فنڈ اور امداد کے لیے عوام پر انحصار نہیں کرتیں۔
کبھی کبھی فشاری گروہ معمولی عوامی حمایت لیکن بڑی مقدار میں پیسے خرچ کرکے عوامی بحث ومباحثہ کو اپنے محدود ایجنڈا کے حق میں ہائی جیک کرسکتا ہے۔
تاہم بطور توازن، فشاری گروہ اور تحریکیں جمہوریت پر انحصار کرتی ہیں، حکمرانوں پر دباؤڈالنا جمہوریت میں اس وقت تک کوئی صحت مند سرگرمی نہیں قرار دی جاسکتی جب تک کہ یہ مواقع ہر ایک کو حاصل نہ ہوں۔ حکومت اکثر طاقتور اور مالدار لوگوں کے ایک چھوٹے گروپ کے ناجائز دباؤ میں آسکتی ہے۔ قومی مفادی جماعتیں اور تحریکیں ناجائز دباؤ کو بے اثر کرنے اور عام شہری کے ساتھ مسائل اور ضروریات سے حکومت کو آگاہ کرنے میں مفید رول ادا کرتی ہیں۔
طبقاتی مفادی جماعتیں بھی قابل قدر کردار ادا کرتی ہیں۔ جہاں مختلف گروپ اور جماعتیں سرگرم طور پر مصروف عمل ہوتی ہیں وہاں کوئی تنہا گروپ سماج پر حاوی نہیں ہوسکتا۔ اگر کوئی گروپ یا جماعت اپنے حق میں پالیسی بنانے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالتی ہے تو دوسرا گروپ یا جماعت جوابی کاروائی کرتے ہوئے حکومت کو مجبور کرتی ہے کہ پہلے گروپ یا جماعت کی خواہش کے مطابق کوئی پالیسی نہ بنائی جائے اس طرح حکومت کو آبادی کے مختلف طبقوں  کے لوگ جو کچھ چاہتے ہیں اسے سننے کا موقع ملتا ہے اس سے متصادم مفادات کی موجودگی اورکسی حدتک متوازن طاقت کا پتہ چلتا ہے۔
آؤ ٹیلی ویژن دیکھیں 

CH55-14
آپ ایک ہفتہ تک کسی بھی نیوز ٹی وی چینل پر خبریں سنیے اور مشاہدہ کیجیے اور درج ذیل علاقہ یا طبقہ کی نمائندگی کرنے والی تحریکوں یا فشاری گروہوں سے تعلق رکھنے والی خبروں کا ایک نوٹ تیار کیجیے: کسان،تاجر، مزدور، صنعت، ماحولیات، اور خواتین ، مذکورہ طبقوں میں سے کسی کی خبر ٹیلیویثرن خبروں میں زیادہ نشر کی گئی۔ اگر آپ کے گھر پر ٹی وی نہیں ہے تو آپ یہی کام اخبار کے ذریعہ کرسکتے ہیں۔
CH55-15

دوبارہ غور کریں

سبزہ زار خطہ تحریک(The Green Belt Movement)نے کینیا کے وسیع علاقہ میں 30 ملین درخت لگائے ہیں اس کے لیڈر و نگاری ماتھئی سیاستدانوں اور سرکاری اہلکاروں کے ردعمل سے بہت مایوس ہیں:
’’1970اور 1980میں، اس وقت جب میں کسانوں کو اپنی زمین پر درخت لگانے کی حوصلہ افزائی کررہاتھا مجھے یہ انکشاف ہوا کہ بدعنوان سرکاری ایجنٹ جنھوں نے بارسوخ آباد کاروں کو زمین اور درخت غیر قانونی طور پر فروخت کردیے ہیں، جنگل کے خاتمہ کے ذمہ دار ہیں۔1990کے اوائل میں، جب صدر دینیل ارپ موئی حکومت کے عناصر نے زمین کے مسئلہ پر نسلی فرقوں کی ایک دوسرے پر حملہ کرنے کی حوصلہ افزائی کی تو رفٹ ویلی میں بہت سے کینیائیوں کے حقوق و معاش اور کی زندگیاں بھی ضائع ہوگئیں۔ حکمراں جماعت کے حامیوں نے زمین پر قبصہ کرلیا جبکہ وہ لوگ جو جمہوری تحریک کے حامیوں میں تھے، بے خانماں ہوگئے یہ حکومت کے اقتدار پر قابض رہنے کی ایک راہ تھی۔ کیوں کہ فرقے اگر زمین کے مسئلہ میں شدید باہم دست وگریباں نہیں رہیں گے تو انھیں جمہوریت کے مطالبے کا موقع مل جائے گا۔‘‘
مذکورہ بالا اقتباس میں جمہوریت اور سماجی تحریکوں کے مابین آپ کیا تعلق محسوس کرتے ہیں؟ اس تحریک کو کس حد تک حکومت کو جواب دہ ہونا چاہیے؟


CH55-17
اس کارٹون کو ’’خبر۔نہیں۔ خبر‘‘ کہا جاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ میں کون اکثر دکھائی دیتا ہے؟ اخبارات میں ہم کس کاتذکرہ زیادہ سنتے ہیں؟
CH55-18

مشق

1 کس طرح فشاری گروں اور جماعتیں سیاست پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی ہیں؟
2 فشاری گروہوں اور سیاسی جماعتوں کے مابین تعلق کی صورتیں بیان کیجیے؟
3 فشاری گروہوں کی سرگرمیاں جمہوری حکومت کی فرض کی ادائیگی میں کیوں کر مفید ہیں ، وضاحت کیجیے؟
4 فشاری گروہ کسے کہتے ہیں؟ کچھ مثالیں بیان کیجیے؟
5 فشاری گروہ اور سیاسی جماعت کے مابین کیا فرق ہے؟
6 ایسی تنظیمیں جو مخصوص سماجی طبقوں جیسے مزدوروں، ملازمین، اساتذہ اور وکلاء کے مفادات کو فروغ دینے کی سرگرمیوں کا بیڑا اٹھاتی ہیں انھیں…جماعتیں کہا جاتا ہے۔
7 درج ذیل میں کونسی ایسی خصوصیت ہے جو ایک فشاری گروہ کو ایک سیاسی جماعت سے ممتاز کرتی ہے۔
(a) پارٹیاں سیاسی مسائل سے بحث کرتی ہیں جبکہ فشاری گروہ سیاسی مسائل سے دلچسپی لینے کی زحمت نہیں کرتے۔
(b) فشاری گروہ چند لوگوں تک محدود رہتے ہیں جبکہ پارٹیوں میں لوگ بڑی تعداد میں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔
(c) فشاری گروہ اقتدار میں آنے کی کوشش نہیں کرتے جبکہ سیاسی جماعتیں ایسا کرتی ہیں۔
(d) فشاری گروہ لوگوں کو حرکت میں لانے کی کوشش نہیں کرتے جبکہ جماعتیں ایسا کرتی ہیں۔
8 فہرستI(تنظیمیں اور کوششیں) کا فہرست IIسے مقابلہ کیجیے اور نیچے دی گئی فہرست میں اشارات کا استعمال کرتے ہوئے صحیح جواب منتخب کیجیے۔


فہرست I فہرست II
ایسی تنظیمیں جو کسی مخصوص طبقہ یا گروپ کے مفادات کو فروغ دینے کی کوشش کرتی ہیں A ۔  تحریک
2۔ایسی تنظیمیں جو عام مفاد کو فروغ دینے کی کوشش کرتی ہیں B ۔   سیاسی جماعتیں 
3۔کوششیں جو کسی تنظیم کے ساتھ یا بغیر کسی سماجی مسئلہ کے حل کے لیے شروع گئیں C ۔
 طبقاتی مفادی جماعتیں
4۔ایسی تنظیمیں جو سیاسی اقتدار کے حصول کے تناظر میں لوگوں کو آمادہ کرتی ہیں D۔ عوامی مفادی جماعتیں


1 2 3 4
(a) C D B A
(b) C D A B
(c) D C B A
(d) B C D A

CH55-19
9 فہرست ْْIکا فہرست IIسے مقابلے کیجیے اور نیچے دی گئی فہرست میں اشارات کا استعمال کرتے ہوئے صحیح جواب منتخب کیجیے۔
10 فشاری گروہوں اور جماعتوں کی بابت درج ذیل بیانات پر غور کیجیے۔
فشاری گروہ مخصوص سماجی طبقوں کے نقطۂ نظر اور مفادات کا منظم اظہار ہیں۔
فشاری گروہ سیاسی زیر بحث مسائل پر فیصلہ لیتے ہیں
تمام فشاری گروہ سیاسی جماعتیں ہیں
مذکورہ بالا بیانات میں سے کون صحیح ہے
(a)  
B.AاورC  
(b)
AاورB
(c)
Bاور C
(d)
AاورC
CH55-20
11۔ میوات ہر یانہ کے بہت زیادہ پسماندہ علاقوں میں سے ایک ہے۔ یہ گڑگاؤں اور فرید آباد ضلع کے ایک حصہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ میوات کے لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ اگر یہ ایک الگ ضلع بن جائے تو اس کی حالت  بہتر ہوسکتی ہے لیکن سیاسی جماعتیں اس سے مختلف جذبات رکھتی تھیں۔ 1996میں ایک الگ ضلع کا مطالبہ میوات تعلیمی اور سماجی تنظیم اور میوات ساکشرتا سمیتی کے ذریعہ کیاگیا اس کے بعد 2000میں میوات ویکاس سبھا بنائی گئی اور عوامی بیداری کی مہم کا سلسلہ شروع کیاگیا۔ اس نے دو بڑی جماعتوں ، کانگریں اور انڈین نیشنل لوک دل  پر جولائی 2005کے اسمبلی انتخاب سے پہلے نیا ضلع بنانے کی اپنی حمایت کا اعلان کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔

اس مثال میں تحریک، سیاسی جماعتوں اور حکومت کے مابین کون سا تعلق پایا جاتا ہے جس کا آپ مشاہدہ کرتے ہیں؟ کیاآپ کوئی ایسی مثال سوچ سکتے ہیں جو اس سے مختلف تعلق ظاہر کرتی ہو؟