Skip to content
Jamhooriyatsiyasat Chapter-6

باب 6

سیاسی جماعتیں

(Political Parties)

اجمالی تعارف

جمہوریت کے اس سفر میں سیاسی جماعتوں سے ہمارا سیکڑوں بار سابقہ پڑچکا ہے۔ نویں جماعت میں ہم نے جمہوریت کے ابھرنے ، دستوری خاکہ سازی کی تشکیل ، انتخابی سیاست اور حکومتوں کے بنانے اور کام کرنے میں سیاسی جماعتوں کے کردار پر اظہار خیال کیا تھا۔ اس درسی کتاب میں ہم نے سیاسی اختیارات کی وفاقی تقسیم کاری کی حیثیت اور جمہوری سیاست کے عہد میں سماجی تقسیموں کی گفتگو کار کی حیثیت سے سیاسی جماعتوں پر سرسری نگاہ ڈالی ہے اس سفر کے خاتمہ سے پہلے آئیے اپنے ملک میں سیاسی جماعتوں کے کام کرنے کے انداز اور ان کی ساخت پر ایک نگاہ ڈالیں۔ ہم دو عمومی سوالوں کے ذریعہ  بحث کا آغاز کرتے ہیں: جماعتوں کی ہمیں ضرورت کیوں ہے؟ ایک جمہوریت کے لیے کتنی جماعتیں مناسب ہیں؟ ان سوالوں کی روشنی میں ہم آج کے ہندوستان میں قومی اور علاقائی سیاسی جماعتوں کا تعارف کراتے ہیں اور اس کے بعد اس بات پرنظر ڈالتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں میں کیا چیز نامناسب اور غلط ہے اور اس کی بابت کیا کچھ کیاجاسکتا ہے۔

ہمیں سیاسی جماعتوں کی ضرورت کیوں ہے؟

سیاسی جماعتیں جمہوریت میں سب سے زیادہ آسانی سے نظر آنے والے اداروں میں سے ایک ہیں زیادہ تر عام شہریوں کے لیے جمہوریت سیاسی جماعتوں کے مساوی ہے۔ اگر آپ ہمارے ملک کے دور دراز علاقوں کا دورہ کریں اور کم پڑھے لکھے لوگوں سے بات کریں تو آپ کو ایسے لوگ مل سکتے ہیں جو ہمارے دستور کے بارے میں یا ہماری حکومت کی ماہیت کے بارے میں کچھ بھی نہ جانتے ہوں لیکن اس کاامکان ہے کہ وہ کچھ نہ کچھ ہماری سیاسی جماعتوں کے بارے میں جانتے ہوں گے۔ لیکن ہر طرف ریاستی جماعتوں کے نظر آنے کا مطلب مقبولیت نہیں ہے۔ زیادہ تر لوگ سیاسی جماعتوں پر تنقید کا رحجان رکھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ہماری سیاسی زندگی اور ہمارے جمہوری نظام میں جو کچھ بھی خامی اور کمی ہے سیاسی جماعتیں ہی ان سب کی ذمہ دارہیں اور جماعتیں ہی ہماری سیاسی اور سماجی تقسیم کا موجب ہیں۔
تو آپ مجھ سے متفق ہیں کہ جماعتیں جانبدار کٹّراور تقسیموں کا موجب ہیں۔ جماعتیں کچھ نہیں کرتیں سوائے لوگوں کے تقسیم کرنے کے۔ یہی ان کا حقیقی وظیفۂ عمل ہے۔
CH66-1

اس لیے فطری طور پر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا ہم بہر صورت سیاسی جماعتوں کے محتاج ہیں؟ آج سے تقریباً سوسال پہلے دنیا میں چند ممالک ایسے تھے جو کوئی سیاسی جماعت رکھتے تھے۔ اس وقت چند ممالک ایسے ہیں جہاں سیاسی جماعتیں نہیں ہیں۔ کیوں سیاسی جماعتیں جمہوریت میں اتنی اہم ہو گئی ہیں کہ پوری دنیا میں ہر جگہ موجود ہیں، قبل اس کے ہم بتائیں کہ ہمیں اس کی کیوں ضرورت ہے، آئیے ہم پہلے اس کا جواب دیں کہ سیاسی جماعتیں کیا ہیں اور کیا کام کرتی ہیں؟
CH66-2
CH66-3
الیکشن کمیشن نے مدت انتخاب کے دوران جماعتوں کے ذریعہ دیواروں پر لکھنے پر سرکاری طور پر پابندی عائد کردی ہے۔ زیادہ ترسیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ ان کی مہم کا سب سے سستا طریقہ تھا۔ دوران انتخاب دیواریں حریت کن  تخلیقات اور نعروں سے بھر جاتی تھیں۔ یہاں تامل ناڈو کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔

معنی

سیاسی جماعت لوگوں کا ایک ایسا گروپ ہوتا ہے جو انتخاب میں حصہ لینے اور حکومت واقتدار حاصل کرنے کے لیے مجتمع ہوتا ہے۔ یہ لوگ اجتماعی خیر کو فروغ دینے کے نقطۂ نظر سے سماج کی ایک مشترکہ پالیسی اور پروگرام پر متفق ہوتے ہیں چونکہ کیا چیز سب کے لیے بہتر ہے اسی میں مختلف نقطۂ نظر ہو سکتا ہے اس لیے جماعتیں لوگوں کو راغب کرتی اور یقین دلاتی ہیں کہ ان کی پالیسیاں دوسروں سے بہتر ہیں۔ یہ انتخاب میں بڑے پیمانے پر حمایت حاصل کرکے ان پالیسیوں پر عمل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
اس طرح جماعتیں سماج میں بنیادی سیاسی تقسیم کا عکس پیش کرتی ہیں۔ جماعتیں تقریباً سماج کا ایک حصہ ہوتی ہیں اور یوں وہ کٹر پن میں شریک ہوتی ہیں اس لیے ایک جماعت کی پہچان یہ ہے کہ کس حصہ سے اس کا تعلق ہے، کس پالیسی کی وہ حمایت کرتی ہے اور کس کے مفادات کی وہ ترجمان ہے۔ایک سیاسی جماعت کے تین اجزائے ترکیبی ہوتے ہیں:
  • قائدین
  • سرگرم اراکین
  • حامیان
CH66-4
ایسے موقع پر ہمارے تمام رہنما کہاں چلے گئے ہیں ؟

فرہنگ

کٹّرپن: وہ شخص جو سختی کے ساتھ پارٹی، گروپ یاٹولی کے ساتھ جڑا رہے۔ کٹّرپن ایک ایسے رحجان کی علامت ہے جو ایک رخی ہے اور کسی زیر بحث موضوع پر کسی متوازن نقطۂ نظر رکھنے کی عدم صلاحیت سے پتہ چلتا ہے۔

فرائض 

ایک سیاسی جماعت کیا کرتی ہے؟ بنیادی طورپر سیاسی جماعتیں سیاسی دفاتر کو بھرتی اور سیاسی اختیارات استعمال کرتی ہیں حماعتیں متعدد فرائض ادا کرکے ایسا کرتی ہیں۔
  1. جماعتیں انتخابات میں حصہ لیتی ہیں۔ زیادہ تر جمہوریتوں میں انتخاب خاص طور پر سیاسی جماعتوں کے متعین کردہ نمائندوں کے مابین لڑے جاتے ہیں جماعتیں مختلف طریقوں سے اپنے نمائندے منتخب کرتی ہیں۔ کچھ ملکوں میں جیسے یو ایس اے حامیان جماعت اور ممبران اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ ممالک اسی طریقہ کو اختیار کررہے ہیں ۔ دوسرے ممالک جیسے ہندوستان میں جماعت کے ا علیٰ رہنما انتخابات لڑنے کے لیے نمائندوں کو منتخب کرتے ہیں۔
  2. جماعتیں مختلف پالیسیوں اور پروگراموں کو پیش کرتی ہیں اور رائے دہندگان ان میں سے منتخب کرتے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کونسی پالیسی سماج کے لیے موزوں ہے اس پر مختلف خیالات اور نقطہ ہائے نظر رکھ سکتا ہے ۔ لیکن کوئی حکومت اتنے متنوع نقطہ ہائے نظر کے مطابق کام نہیں کرسکتی۔ جمہوریت میں متعدد یکساں خیالات کو ایک ایسی ہدایت و رہنمائی کے لیے مجتمع کیا جاتا ہے جن کے ذریعہ حکومت کی پالیسیاں تشکیل پاتی ہیں۔ یہی وہ کام ہے جو جماعتیں انجام دیتی ہیں۔ ایک جماعت خیالات کی کثرت وسعت کو چند بنیادی حالات میں محدود کرکے اس کی حمایت کرتی ہے اور ایک حکومت سے یہی امید کی جاتی ہے کہ وہ برسر اقتدار جماعت کے کھینچے ہوئے خطوط پر اپنی پالیسیوں کی بنیادرکھے گی۔
  3. سیاسی جماعتیں کسی بھی ملک کی قانون سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔ رسمی طور پر ، قوانین پر بحث کی جاتی ہے اور مقننہ میں اسے پاس کیا جاتا ہے لیکن چونکہ زیادہ تر ممبران کا تعلق کسی نہ کسی  جماعت سے ہوتا ہے اس لیے وہ اپنے ذاتی خیالات کے علی الرغم پارٹی قیادت کی ہدایت کے مطابق کام کرتے ہیں۔
  4. جماعتیں حکومتیں تشکیل دیتی اور چلاتی ہیں جیسا کہ ہم نے گذشتہ سال اظہار خیال کیاتھا کہ بڑا سیاسی فیصلہ ایسی سیاسی انتظامیہ کے ذریعہ لیا جاتا ہے جو سیاسی جماعتوں سے بنتی ہے ۔ جماعتیں رہنماؤں کی بھرتی کرتی اور انھیں تربیت دیتی ہیں اور پھر اس کے بعد انھیں اپنی خواہش کے مطابق حکومت چلانے کے لیے وزارتیں دیتی ہیں۔
  5. وہ جماعتیں جو انتخابات ہار جاتی ہیں وہ حکمراں جماعت کے مقابلہ میں مختلف نقطۂ نظر پیش کرکے حزب اختلاف کا کردار ادا کرتی ہیں اور حکومت کی ناکامی یا غلط پالیسیوں پر تنقید کرتی ہیں۔ حزب مخالف جماعتیں حکومت مخالف لوگوں کو بھی اپنا ہم خیال بنانے اور آمادہ پیکار کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
  6. جماعتیں رائے عامہ بناتی ہیں وہ زیر بحث مسئلہ کو اٹھاتی اور نمایاں کرکے پیش کرتی ہیں۔جماعتوں کے لاکھوں ممبران اور سرگرم اراکین ہوتے ہیں جو ملک کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔ بہت سے فشاری گروہ سماج کے مختلف طبقات کے مابین سیاسی جماعتوں کی توسیع ہیں۔جماعتیں کبھی کبھی لوگوں کے ذریعہ جھیلے جانے والے مسائل کے حل کے لیے تحریکیں شروع کرتی ہیں۔اکثر جماعتیں جو خطوط متعین کرتی ہیں اس کے مطابق سماج میں خیالات تشکیل پاتے ہیں۔
  7. جماعتیں حکومتی مشینری تک پہنچنے اور حکومتوں کے ذریعہ عمل درآمد کی جانے والی فلاحی اسکیموں سے فائد ہ اٹھانے کی راہ ہموار کرتی ہیں۔ ایک عام شہری کے لیے حکومتی اہلکار کے مقابلے ایک مقامی جماعت کے رہنماسے رابطہ قائم کرنا آسان ہے۔ اس لیے وہ جماعتوں سے قریبی تعلق رکھتے ہیں حالانکہ وہ ان پر پوری طرح اعتماد بھی نہیں کرتے۔ جماعتیں لوگوں کی ضرورتوں اور مطالبوں کی ذمہ دار ہوتی ہیں ورنہ لوگ آئندہ انتخاب میں ان جماعتوں کو مسترد کرسکتے ہیں۔
CH66-5
ٹھیک ہے، تسلیم کہ ہم بغیر سیاسی جماعت کے نہیں رہ سکتے لیکن مجھے بتائیے کے جس قسم کی سیاسی جماعت ہمارے ساتھ ہیں ہم ان کے ساتھ کیسے رہیں۔

ضرورت

فرائض کی یہ فہرست ایک معنی میں اوپر پوچھے گئے سوال کا جواب دے رہی ہے۔ ہمیں سیاسی جماعتوںکی ضرورت ہے کیوں کہ وہ ان تمام فرائض کو ادا کرتی ہیں لیکن اب بھی ہمیں یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ سیاسی جماعتوں کے بغیر کیوں جدید جمہوریتیں باقی نہیں رہ سکتیں ہم بغیر جماعتوں کے حالات کا تصور کرکے سیاسی جماعتوں کی ضرورت کو سمجھ سکتے ہیں انتخاب میں ہر نمائندہ آزاد ہوگا۔ اس لیے کوئی ایک فرد بھی اس پوزیشن میں نہیں ہوگا کہ وہ کسی بڑی تبدیلی کی بابت لوگوں سے کوئی وعدہ کرسکے حکومت تو بنائی جاسکتی ہے لیکن اس کی افادیت مستقل غیر یقینی بنی رہے گی۔ منتخب نمائندے اپنے حلقہ کے گاؤں میں جو کچھ کریں گے وہ اس کے ذمہ دارہوں گے لیکن ملک کیسے چلتا ہے اس کا کوئی ذمہ دار نہیں ہوگا۔
ہم بہت سی ریاستوں میں پنچائت کا غیر جماعتی بنیاد پر انتخاب دیکھ کر بھی اسے سوچ اور سمجھ سکتے ہیں۔گوکہ جماعتیں رسمی طور پر انتخاب میں حصہ نہیں لیتیں تاہم یہ عام طور پر کیا جاتا ہے کہ گاؤں ایک سے زیادہ ٹولیوں میں بٹ جاتا ہے اور ہر ایک اپنے نمائندوں کی ایک فہرست رکھتا ہے۔ یہ بالکل ٹھیک وہی چیز ہے جو جماعت کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہم سیاسی جماعتوں کو دنیا کے تمام ملکوں میں پاتے ہیں خواہ یہ ممالک بڑے ہوں یا چھوٹے ، پرانے ہوں یا نئے، اور ترقی یا فتہ ہوں یاترقی پذیر۔ 

فرہنگ

حکمراں جماعت:ایسی سیاسی جماعت جو حکومت کرتی ہے یا جسے اقتدار حاصل ہو۔

سیاسی جماعتوں کے فروغ کا تعلق براہ راست نمائندہ جمہوریتوں کے ظہورسے جڑا ہوا ہے۔جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں ، وسیع و عریض سماجوں کے لیے نمائندہ جمہوریت کی ضرورت ہے۔ معاشرے بڑے اور پیچیدہ ہوگئے ہیں اس لیے انھیں کچھ ایسی ایجنسیوں کی بھی ضرورت ہے جو مختلف زیر بحث مسائل میں مختلف نقطۂ نظر کو جمع کرکے حکومت کے سامنے پیش کرے۔ انھیں ایسی راہوں کی بھی تلاش تھی جس کے ذریعہ مختلف نمائندوں کو جمع کرکے ایک جواب وہ حکومت تشکیل دی جاسکے۔ انھیں حکومت کی حمایت جس کے ذریعہ وہ حکومت کرنے یا اسے کنٹرول کرنے ،پالیسیاں بنانے اور ا سے صحیح ثابت کرنے یا اس کی مخالفت کرنے کے ایک طریقۂ کار کی ضرورت تھی سیاسی جماعتیں ان تمام ضرورتوں کو پورا کرتی ہیں جس کی ایک نمائندہ حکومت سے توقع کی جاسکتی ہے۔یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ جماعتیں جمہوریت کے لیے ایک لازمی شرط ہیں۔


CH66-6

دوبارہ غور کریں

سیاسی جماعتوں کے فرائض کے حوالے سے ان تصا ویر کے ذریعہ جو کچھ  سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے اس کی زمرہ بندی کیجیے۔ اپنے علاقہ سے مذکورہ بالا فہرست بند فرائض میں سے ہر ایک کی ایک تصویر یا نیاتراشہ حاصل کرنے کی کوشش کیجیے۔

CH66-7

وشاکھا پٹنم میں رسوئی گیس اور پیاز کی قیمتیں بڑھنے کے خلاف بی جے پی مہیلا مورچہ کے سرگرم کا رکن مظاہرہ کرتے ہوئے۔

ایک وزیر متاثرہ خاندانوں کو ان کے گھروں پر ایک لاکھ روپیے کا چیک بانٹتے ہوئے۔

سی پی آئی (ایم )، سی پی آئی، اوجی پی  اور جے ڈی (ایس) نے بھونیشور میں کورین اسٹیل کمپنی پی او ایس سی اوکے خلاف مظاہرہ کرنے کے لیے ایک ریلی نکالی تاکہ احتجاج کرے کہ کیوں صوبائی حکومت نے اڑیساسے خام لوہا چین اور کوریا کے اسٹبل پلانٹ کو برآمد کرنے کی اجازت دی

ہمیں کتنی جماعتیں رکھنی چاہئیں

جمہوریت میں شہریوں کا کوئی بھی گروہ سیاسی جماعت تشکیل دینے کے لیے آزاد ہے۔ ان رسمی معنوں میں ہر ملک میں بڑی تعداد میں سیاسی جماعتیں موجود ہیں۔ ہندوستان میں 750 سے زیادہ جماعتیں الیکشن کمیشن کے ذریعہ رجسٹرڈ کی گئی ہیں۔ لیکن یہ تمام جماعتیں انتخابات میں سنجیدگی سے حصہ لینے والی نہیں ہیں۔بالعموم محض چند جماعتیں مؤثر طور پر انتخاب جیتنے اور حکومت بنانے کی دوڑ میں شریک رہتی ہیں۔اس لیے سوال یہ ہے کہ کتنی بڑی یاموثر جماعتیں ایک جمہوریت کے لیے بہتر ہیں؟
کچھ ملکوں میں محض ایک جماعت کو کنٹرول اور حکومت کرنے کی اجازت ہے۔ اسے ایک جماعتی نظام کہتے ہیں ۔ نویں جماعت میں ، ہم نے پڑھا تھا کہ چین میں محض کمیونسٹ پارٹی کو حکومت کرنے کا حق حاصل ہے۔ گوکہ کہنے کے لیے لوگ سیاسی جماعتیں بنانے کے لیے آزاد ہیں لیکن ایسا ہوتا نہیں کیوں کہ انتخابات نظام اقتدار کے حصول کے لیے آزادانہ مسابقت کی اجازت نہیں دیتا ہم ایک جماعتی نظام کو انتخاب نہیں سمجھتے کیوں کہ یہ جمہوری پسند نہیں ہے۔ کسی بھی جمہوری نظام میں کم از کم دوجماعتوں کو انتخاب میں حصہ لینے کی لازماً اجازت دینا اور مقابلہ میں فتح یاب جماعت کو اقتدار میں آنے کا شفاف موقع فراہم کرنا چاہیے۔

سیاست میں اخلاقی طاقت ؟

نیچے پیش کیے گئے خیالی قصے کا سر چشمۂ تحریک سے شری کشن پٹنایک (1930-2004) ، جنھیں کشن جی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ 1962 میں انھیں اڈیشہ کے سنبل پور سے ممبر آف پارلیمنٹ منتخب کیا تھا۔ کشن جی کی متبادل سیاسی تشکیل سے کیا مراد ہے؟یہ سوال سدھا، کرونا، شاہین اور گریسی کے مابین بات چیت کے دوران آیا۔ یہ چارو خواتین ملک کے مختلف حصوں میں نہایت طاقتور عوامی تحریکوں کی رہنما تھیں وہ عوامی تحریکوں کے نئے مستقبل پر غور وفکر کرنے کے لیے، اپنی روزانہ کی جدوجہد سے پرے اڑیسہ کے ایک گاؤں میں میٹنگ کررہی تھیں۔
بات چیت فطری طور پر کشن جی کی طرف مڑگئی جن کی ایک دوست، سیاسی فلسفی ، اور ملک میں تمام تحریکی گروپوں کے اخلاقی رہنماکی حیثیت سے بڑی قدر کی جاتی تھی۔ انھوں نے کہا کہ عوامی تحریک کو کھلے طور پر سیاست کو گلے لگانا چاہیے ۔ ان کی بات سادہ لیکن وزن دار تھی۔ ایک زیر بحث مسئلہ پر تحریکوں کا پورا زور صرف کرنا یہ اسی وقت تک کے لیے موزوں ہے جب ہم زندگی کے ایک مخصوص شعبہ میں محدود تبدیلی لانے کے لیے خواہش مند ہوں لیکن اگر ہم کوئی بنیادی سماجی تبدیلی لانے کے آرزومند ہیں یا زندگی کے کسی شعبہ میں بھی بنیادی تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو ہمیں سیاسی تنظیم درکار ہوگی۔ عوامی تحریک کو لازماًسیاست میں ایک اخلاقی قوت کی حیثیت سے کام کرنے کے لیے ایک نئی سیاسی تشکیل عمل میں لانی ہوگی ۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک فوری ضرورت کا حامل کام ہے۔ کیوں کہ تمام موجود سیاسی جماعتیں سماجی تبدیلی کے لیے ناموزوں اور غیر متعلق ہیں۔
’’ لیکن کشن جی نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ تنظیم کیا ہوگی۔ انھوں نے ایک متبادل سیاسی تشکیل کی یاسیاست میں تیسری طاقت کی بات کہی۔ لیکن کیا ان کی مراد کسی سیاسی جماعت سے ہے؟‘‘ گریسی نے کہا۔ اس نے محسوس کیا کہ ایک قدیم سیاسی جماعت جیسا انداز سماجی تبدیلی کا موزوں آلہ نہیں ہے۔
سودھا نے اس سے اتفاق کیا اور کہا’’میں نے اس پر متعدد بار غور وفکر کیا ہے۔ میں اس سے متفق ہوں کہ وہ تمام جدوجہد جس میں ہم مصروف ہیں۔ بے دخلی کے خلاف، عالمگیریت کے خلاف، ذات پات اور جنس کے نام پر ظلم کے خلاف ، جنگ اور متبادل قسم کی ترقی کے لیے۔ یہ تمام سرگرمیاں سیاسی ہیں۔ لیکن جس لمحہ ہم جماعت سازی کریں گے ان سالوں میں ہم نے جو بھی اپنی ساکھ بنائی ہے وہ سب فوراً ختم ہوجائے گی۔ لوگ ہمارے بارے میں بھی وہی سوچیں گے جو دوسرے سیاستدانوں کے بارے میں سوچتے ہیں۔‘‘
اس کے علاوہ کرونا نے اضافہ کرتے ہوئے کہا’’ہم نے دیکھا ہے کہ موجودہ سیاسی جماعتوں پر دباؤڈال کر بہت کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے پنچائت انتخابات میں ہم نے نمائندوں کو کھڑا کیا لیکن نتائج بہت حوصلہ افزانہیںہیں۔ لوگ ہمارے کاموں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ وہ ہمیں پوچتے ہیں۔لیکن جب وہ ووٹ دینے آتے ہیں تو وہ مضبوط سیاسی جماعتوں کی طرف چلے جاتے ہیں۔‘‘
شاہین ان سے متفق نہیں تھی:’’ہمارے تصورات بالکل واضح ہونے چاہیے۔ کشن جی تمام عوامی تحریکوں کو ایک نئی سیاسی جماعت بنانا چاہتے تھے۔ یقینا وہ چاہتے تھے کہ یہ جماعت مختلف قسم کی ایک جماعت ہو۔ وہ سیاسی متبادل کے حق میں نہیں تھے بلکہ ایک متبادل قسم کی جماعت کے حق میں تھے۔‘‘
CH66-8

کشن جی اب نہیں رہے۔ ان چار سرگرم کارکنان کے لیے تمہاری کیا رہنمائی ہوگی؟ کیا وہ ایک نئی سیاسی جماعت تشکیل دیں؟ کیا کوئی سیاسی جماعت سیاست میں کوئی اخلاقی قوت بن سکتی ہے؟ وہ کس طرح کی جماعت ہونی چاہیے؟

کچھ ملکوں میں اقتدار عام طور پر دو بڑی جماعتوں کے مابین ادلتا بدلتا رہتا ہے۔ متعدد دوسری جماعتیں بھی ہوتی ہیں اور انتخاب میں حصہ لے کر قومی مقننہ کی چندنشستیں بھی حاصل کرتی ہیں۔لیکن محض دو جماعتوں کو حکومت سازی کے لیے زیادہ ترنشستیں جیتنے کا سنجیدہ موقع ملتا ہے۔ اس طرح کے جماعتی نظام کو دو جماعتی نظام کہتے ہیں۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ اور برطانیہ دو جماعتی نظام کی مثالیں ہیں۔

CH66-9
میں اتنی زیادہ جماعتوں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ تو ایک گوررکھدھندے کی طرح ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ کیسے سیاستداں اس اتحاد کو سنبھالتے ہیں ۔ میں تو ان تمام جماعتوں کے نام بھی نہیں یاد کرسکتا۔

اگر متعدد جماعتیں حصول اقتدار کے لیے کوشاں ہوں اور دوجماعتوں سے زیادہ کو اقتدار میں آنے کے خواہ اپنے بل پر یا دوسری جماعتوں کے اتحاد کے ذریعہ مواقع حاصل ہوں تو اسے ہم کثیر جماعتی نظام کہتے ہیں۔ لہٰذا ہندوستان میں ہم کثیر جماعتی نظام رکھتے ہیں۔ اس نظام میں مختلف جماعتوں کے اتحاد کے ذریعہ حکومت تشکیل پاتی ہے۔جب ایک کثیر جماعتی نظام میں متعدد جماعتیں انتخاب لڑنے اور اقتدار حاصل کرنے کے لیے ہاتھ ملاتی ہیں تواسے ایک اتحاد یا محاذ کہتے ہیں۔ مثلاً ہندوستان میں 2004کے پارلیمانی انتخابات میں اس طرح کے تین بڑے اتحاد وجود میں آئے تھے۔قومی جمہوری اتحاد،متحدہ ترقی پسند اتحاد اور بایاں محاذ۔ کثیر جماعتی نظام اکثرپیچیدگی اور سیاسی عدم استحکام کا موجب ہوتا ہے۔ بایں ہمہ یہ نظام سیاسی نمائندگی سے فیض یاب ہونے کے لیے متنوع خیالات ومفادات کی اجازت دیتا ہے اور موقع فراہم کرتا ہے۔
تو ان میں سے کون بہتر ہے؟ شاید اس عام سوال کا سب سے اچھا جواب یہ ہے کہ یہ کوئی بہت اچھا سوال نہیں ہے۔ جماعتی نظام کسی ملک کی کوئی ایسی چیز نہیں کہ جو منتخب کی جاسکے۔ یہ ایک طویل مدت میں سماج کی فطرت وہیئت اس کی سماجی اور علاقائی تقسیم ،اس کی سیاست کی تاریخ اور انتخابات کے نظام پر انحصار کرتے ہوئے نشوونما پاتا ہے۔یہ سب کچھ پلک جھپکتے تبدیل نہیں ہوسکتا۔ ہر ملک ایک ایسے جماعتی نظام کو پروان چڑھاتا ہے جو اس کے خصوصی احوال کے عین مطابق ہوتا ہے۔ مثلا اگر ہندوستان نے کثیر جماعتی نظام کو پروان چڑھایا ہے تو ایسا اس وجہ سے ہے کہ اس طرح کے ایک بڑے ملک میں سماجی اور جغرافیائی تنوع دویا تین جماعتوں میں جذب ہونا آسان نہیں ہے۔ کوئی نظام تمام ممالک اورتمام حالات کے لیے معیاری نہیں ہے۔

CH66-6

دوبارہ غور کریں

آئیے ہم نے جو کچھ جماعتی نظام کی بابت پڑھا ہے اسے ہندوستان کے مختلف صوبوں پر منطبق کریں۔ یہاں تین قسم کے بڑے جماعتی نظام صوبائی سطح پر موجود ہیں۔ کیا آپ کم از کم دو صوبوں کے نام بتاسکتے ہیں؟
  • دو جماعتی نظام
  •  کثیر جماعتی نظام مع دو اتحاد
  •  کثیر جماعتی نظام

سیاسی جماعتوں میں عوامی  شرکت

یہ اکثر کہا جاتا ہے کہ سیاسی جماعتیں بحران کاشکار ہیں کیونکہ وہ لوگوں میں بہت زیادہ نامقبول ہیں اور شہری سیاسی جماعتوں کو پسند نہیں کرتے ۔ موجودشواہد سے پتہ چلتا ہے کہ یہ خیال ہندوستان میں جزوی طور پر درست ہے۔ متعدد عشروں پر مشتمل کرائے گئے بڑے پیمانہ پر نمونہ جائزے کی بنیاد پر شواہد بتاتے ہیں کہ:
  • جنوبی ایشیا میں سیاسی جماعتوں پر بہت زیادہ اعتماد نہیں ہے۔ ان لوگوں کا تناسب جو یہ کہتے ہیں کہ میں سیاسی جماعتوں پر بہت کم اعتماد کرتا ہوں یا بالکل نہیں کرتا ان سے زیادہ ہے جو یہ کہتے ہیں کہ میں کچھ رکھتا ہوں یا بہت زیادہ رکھتا ہوں۔
  • بالکل یہی بات دوسری جمہوریتوں میں بھی درست ہے ۔سیاسی جماعتیں پوری دنیا میں ان اداروں میں سے ایک ہیں جن پر بہت کم اعتماد کیا جاتا ہے۔
  • تاہم سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی سطح واضح طور پر بہت اونچی تھی۔ یہ کہنے والوں کے تناسب کہ وہ مختلف جماعتوں کے ممبر ہیں ہندوستان میں ان بہت سے ترقی یافتہ ممالک جیسے کینڈا، اسپین اور جنوبی کوریا وغیرہ کے مقابلہ میں بہت اونچا ہے۔
  • آخری تین دہائیوں کے اوپر ان لوگوں کا تناسب جو ہندوستان میں سیاسی جماعتوں کے ممبر ہونے کی تصدیق کرتے ہیں مضبوطی کے ساتھ اوپر گیا ہے۔
  • ایسے لوگوں کا تناسب جو کہتے ہیں کہ وہ سیاسی جماعتوں سے بڑی قربت محسوس کرتے ہیں اس مدت میں ہندوستان میں اوپر گیا ہے
CH66-10
CH66-11

کمی بیشی کے باوجود ہندوستان میں جماعتی شناخت میں اضافہ ہوتا ہے ۔

وہ لوگ جو سیاسی جماعتوں سے قربت محسوس کرتے ہیں 

جماعتی رکنیت جنوبی ایشیا میں بقیہ پوری دنیا سے زیادہ ہے 

وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ وہ کسی جماعت کے ممبر ہیں 

ہندوستان میں پارٹی کی ممبر شپ بڑھی ہے 

وہ لوگ جو خود کو کسی سیاسی پارٹی کا ممبر بتاتے ہیں 

ماخذ: ایس ڈی ایس اے ٹیم اسٹیٹ آف ڈیمو کریسی ان ساؤتھ ایشیا ،دہلی آکسفورڈ یونیورسٹی پریس ،2007


 گزشتہ صفحہ میں جو اعداد و شمار گراف کے ذریعے دکھائے گئے ہیں کیا مزاحیہ خاکہ نگار اس معلومات کو نقاشی میں دکھارہا ہے۔

قومی جماعتیں 

ایسی تمام جمہوریتیں جو وفاقی نظام پر عمل پیرا ہیں وہ پوری دنیا میں دو قسم کی سیاسی جماعتیں رکھتی ہیں: ایسی جماعتیں جو محض کسی ایک وفاقی شاخ میں پائی جاتی ہیں اور ایسی جماعتیں جو متعدد یا تمام وفاقی شاخوں میں پائی جاتی ہیں۔ یہی صورت حال ہندوستان میں بھی ہے۔ کچھ ملک گیر جماعتیں ہوتی ہیں جنھیں قومی جماعتیں کہا جاتا ہے۔ یہ جماعتیں مختلف صوبوں میں اپنی شاخیں رکھتی ہیں لیکن زیادہ تریہ شاخیں انھیں پالیسیوں اور پروگراموں پر عمل پیرا ہوتی ہیں جو قومی سطح پر طے پاتا ہے۔
ملک کی ہر جماعت کا انتخابی کمیشن میں رجسٹرڑ ہونا ضروری ہے۔ یہ کمیشن تمام جماعتوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتا ہے۔ یہ بڑی اور مستحکم جماعتوں کو سہولیات دیتاہے۔ ان جماعتوں کو ایک منفردنشان دیاجاتا ہے۔ اس جماعت کے باضابطہ نمائندے ہی اس انتخابی نشان کا استعمال کرسکتے ہیں۔ جن جماعتوں کو یہ مراعات استحقاق اور کچھ دوسری خصوصی سہولیات مل جاتی ہیں انتخابی کمیشن کے ذریعہ انھیں اس مقصد کے لیے رجسٹرڈ کرلیا جاتا ہے۔ اسی لیے ان جماعتوں کو منظورشدہ سیاسی جماعتیں کہا جاتا ہے۔ انتخابی کمیشن پارٹیوں کی منظوری کے لیے ووٹوں اور نشستوں کا ایک معیار متعین کرتا ہے۔ جو جماعت صوبائی اسمبلی کی مجلس قانون ساز کے انتخاب میں مجموعی ووٹوں کا 6 فیصد ووٹ حاصل کرے اور کم ازکم دونششتیں حاصل کرے تو وہ صوبائی جماعت کی حیثیت سے منظورکرلی جائے گی۔ جو جماعت   لوک سبھا یا چار صوبوں کے اسمبلی انتخابات میں مجموعی
ووٹوں کا 6فیصد ووٹ حاصل کرے اور لوک سبھا کی کم ازکم چارنشستیں حاصل کرے تو وہ قومی جماعت کی حیثیت سے منظور کرلی جائے گی۔
اس درجہ بندی کے مطابق 2017میں ملک میں سات منظور شدہ قومی جماعتیں تھیںآئیے ان جماعتوں میں سے ہر ایک کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کریں۔

آل انڈیا ترنمول کانگریس (اے آئی ٹی سی):

CH66-12
 ممتا بنرجی کی قیادت میں یکم جنوری 1998کو اس پارٹی کی تشکیل ہوئی۔ 2016 میں اسے قومی پارٹی کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ ’’پھول اور گھاس‘‘ پارٹی کا نشان ہے۔ یہ پارٹی سیکولرزم اور وفاقیت کے نظریے کی پابندہے۔ موجودہ وقت میں یہ پارٹی مغربی بنگال میں اقتدار میں ہے اوراروناچل پردیش، منی پور اور تریپورہ میں اپنی موجودگی درج کراچکی ہے۔ 2014 کے عام انتخابات میں اسے 3.84 فی صد ووٹ حاصل ہوئے اور 34 سیٹیں جیت کر لوک سبھا میں چوتھی بڑی پارٹی بن گئی۔

بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی):

CH66-13
 1984میں کانشی رام کی قیادت میں اس کی تشکیل عمل میں آئی۔ یہ پارٹی دلتوں، آدی باسیوں، دیگر پسماندہ ذاتوں اور مذہبی اقلیتوں پر مشتمل بہوجن سماج کی نمائندگی اور اقتدار کے لیے کوشش کرتی ہے۔ ساہو مہاراج، مہاتما پھولے، پیر ییار راما سوامی نائیکر اور بابا صاحب امبیڈکر کے خیالات اور تعلیمات سے اکتساب فیض کرتی ہے۔ دلت اورمظلوم لوگوں کی فلاح وبہبود اور مفادات کے تحفظ کے لیے ٹھوس موقف اختیار کرتی ہے۔ اس کا اصل وجود صوبہ اترپردیش میں ہے اور جزوی طور پر پڑوسی ریاستیں جیسے مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، اتراکھنڈ، دہلی اور پنجاب میں بھی موجود ہے۔ مختلف وقتوں میں مختلف جماعتوں کی حمایت سے اترپردیش میں کئی بار حکومت کی تشکیل کر چکی ہے۔ 2014کے لوک سبھا کے انتخاب میں 4 فی صد ووٹ حاصل کیے لیکن لوک سبھا میں کوئی نشست حاصل نہیں کی۔

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی):

CH66-14
  1980میں اس کی تاسیس عمل میں آئی۔ یہ بھارتیہ جن سنگھ کا نیا ایڈیشن ہے۔ ہندوستان کی قدیم ثقافت واقدار کی بنیاد پر ایک نئے اور مستحکم ہندوستان کی تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ ثقافتی قوم پرستی (ہندتوا) اس کے ہندوستانی قوم پرستی اور سیاست کے تصور میں ایک اہم عنصر ہے۔ ہندوستان میں جموں اور کشمیر کا مکمل علاقاتی اور سیاسی انضمام، بغیر کسی مذہبی تفریق کے تمام ہندوستانیوں کے لیے یکساں سول کوڈ اور تبدیلی مذہب پر پابندی عائد کرنا چاہتی ہے۔ 1990 میں جزوی طور پر اس کی حمایت میں اضافہ ہوا۔ پہلے شمالی اور مغربی اور شہری علاقوں میں سمٹ کررہ گئی تھی، لیکن اب پارٹی نے جنوب ، مشرق، شمال مشرق اور دیہی علاقوں میں اپنی حمایت میں اضافہ کیا ہے۔ 1998میں متعدد علاقائی جماعتوں کے ساتھ مل کر قومی جمہوری اتحاد کے لیڈر کی حیثیت سے اقتدار میں آئی۔ 2014 کے عام انتخابات میں 282 سیٹیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی بنی۔ موجودہ مرکز کی حکومت پر این ڈی اےقابض ہے۔

کمپونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) :

CH66-15
 1925میں تشکیل عمل میں آئی۔ مارکس لینن، سیکولر اور جمہوری نظریات کی حامل ہے۔ فرقہ پرست اور طبقات پر ست طاقتوں کی مخالف ہے۔ غریبوں، کسانوں اور ملازمت پیشہ طبقوں کے مفادات کو فروغ دینے کے ذرائع کے طور پر پارلیمانی جمہوریت کو تسلیم کرتی ہے۔ 1964میں پارٹی کی شکست وریخت کے بعد کمزور ہوگئی جس کے نتیجہ میں سی پی آئی ایم کی تشکیل عمل میں آئی۔کیرالہ، مغربی بنگال، پنجاب، آندھرا پردیش اور تمل ناڈو کے صوبوں میں نمایاں حیثیت میں موجود ہے برسوں سے دھیرے دھیرے اس کی حمایت میں کمی آگئی ہے۔ اس نے 2014کے لوک سبھا انتخاب میں 1 نشست اور 1 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ تمام بائیں بازو کی پارٹیوں کو ملا کر ایک طاقتور بایاں محاذ قائم کرنے کی وکالت کرتی ہے۔ 

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا۔ مارکسسٹ (سی پی آئی ایم) :

CH66-16
1964میں تشکیل عمل میں آئی۔ مارکس اور لینن کے نظریات کی حامل ہے۔ اشتراکیت، سیکولرزم اور جمہوریت کی حمایت کرتی اور استعماریت اور فرقہ پرستی کی مخالفت کرتی ہے۔ ہندوستان میں سماجی معاشی انصاف کے مقاصد کے تحفظ کے لیے جمہوری انتخابات کو ایک مفید و معاون ذریعہ کے طور پر تسلیم کرتی ہے اسے بالخصوص غریبوں، کارخانہ ملازموں، کسانوں، زرعی مزدوروں اور دانشوروں کے مابین مغربی بنگال ، کیرالہ اور تری پورہ میں بڑے پیمانہ پر حمایت حاصل ہے۔ اس نئی معاشی پالیسی کی ناقد ہے جو بیرونی اشیاوسرمایہ کے آزادانہ پھیلاؤکی اجازت دیتی ہے۔ 34 سال تک بغیر کسی وقفے کے مغربی بنگال میں حکومت کیا۔2014کے لوک سبھا انتخابات میں اس نے تقریباً 3 فیصد ووٹ حاصل کیے اور 9 نشستیں حاصل کیں۔ 

انڈین نیشنل کانگریس (آئی این سی):

CH66-17
یہ عوامی طورپر کانگریس پارٹی کے نام سے جانی جاتی ہے۔ دنیاکی قدیم ترین پارٹیوں میں سے ایک ہے۔1885میں اس کی تاسیس عمل میں آئی اور کئی بار شکست و ریخت سے دوچار ہوئی۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک صوبائی اور قومی سطح پر ہندوستانی سیاست میں سب سے اہم اور نمایاں رول ادا کیا۔ جواہر لال نہرو کی قیادت میں پارٹی نے ہندوستان میں ایک جدید سیکولر قومی جمہوریہ قائم کرنے کی کوشش کی۔1977تک مرکز میں حکمراں جماعت کی حیثیت سے کام کیا اور پھر اس کے بعد 1980سے 1989تک۔ 1989کے بعد اس کی حمایت میں زوال آگیا پھر بھی اس کا وجود پورے ملک میں باقی رہا البتہ کچھ سماجی گروپوں نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا۔ ایک مرکز نواز پارٹی (نہ دائیں بازو والی نہ بائیں بازو والی) ہے اور اپنی نظریاتی سوچ کے مطابق سیکولر زم اور اقلیتوں اور کمزور طبقوں کی فلاح وبہبود کی حمایت کرتی ہے۔ انسانی مفادات کو سامنے رکھ کر نئی معاشی اصلاحات کی حمایت کرتی ہے۔ 2004 سے 2014 تک مرکز میں حکمراں متحدہ ترقی پسند اتحاد کی قیادت کر چکی ہے۔ 2014 کے انتخابات میں شکست کے بعد لوک سبھا میں بنیادی حزب اختلاف کی پارٹی ہے۔

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی):

CH66-18
 1999میں کانگریس میں پھوٹ کے نتیجہ میں تشکیل عمل میں آئی۔ جمہوریت، گاندھیائی سیکولرزم، اور وفاقیت کی حمایت کرتی ہے۔ حکومت کے اعلیٰ مناصب ملک میں فطری طور پر پیدا شہریوں کے لیے مخصوص کیے جانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ مہاراشٹر میں ایک بڑی پارٹی اور میگھالیہ، منی پور اور آسام میں نمایاں حیثیت میں موجود ہے۔ 

علاقائی جماعتیں

ان سات جماعتوں کے علاوہ ملک کی زیادہ تر بڑی جماعتوں کی انتخابی کمیشن نے صوبائی جماعتوں کی حیثیت سے درجہ بندی کی ہے۔ ان جماعتوں کا عام طور پرعلاقائی جماعت کی حیثیت سے ذکر کیا جاتا ہے۔تاہم ان جماعتوں کواپنے اظہار اور نظریات میں علاقائی نہیں ہونا چاہیے۔ ان میں بعض جماعتیں کل ہند جماعتیں ہیں لیکن بد قسمتی سے چند صوبوں ہی میں کامیابی حاصل کرسکی ہیں۔ سماج وادی پارٹی، سمتا پارٹی، اور راشٹریہ جنتادل جیسی جماعتیں قومی سطح کی سیاسی تنظیم رکھتی ہیں جن کی شاخیں متعدد صوبوں میں موجودہیں۔ ان جماعتوں میں سے بعض جیسے بیجو جنتادل،سکم ڈیمو کریٹک فرنٹ اور میزونیشنل فرنٹ اپنی صوبائی شناخت کی بابت آگاہ ہیں۔
آخری تین دہائیوں سے پہلے سے ان جماعتوں کی تعداد اور استحکام میں اضافہ ہوا ہے۔ اس نے ہندوستان کی پارلیمنٹ کو سیاسی طور پر زیادہ سے زیادہ متنوع بنا دیا ہے۔ کوئی ایک قومی جماعت بھی اس لائق نہیں کہ وہ لوک سبھا میں اپنی اکثریت محفوظ رکھ سکے۔ نتیجہ کے طورپر قومی جماعتیں صوبائی جماعتوں کے ساتھ مل کر اتحاد تشکیل دینے کے لیے مجبور ہوئیں۔ 1994 سے تقریباً ہر ایک صوباتی جماعت کو قومی سطح کی کسی نہ کسی اتحادی حکومت کا حصہ بننے کا موقع ملا ہے۔ اس نے ہمارے ملک میں جمہوریت اور وفاقی نظام کو مستحکم کرنے میں مدد دی ہے۔ (ان جماعتوں کی تفصیل کے لیے اگلے صفحہ پر نقشہ ملاحظہ فرمائیں)

سیاسی جماعتوں کو درپیش مسائل یا چیلنجز

ہم نے دیکھ لیا کہ سیاسی جماعتیں جمہوری نظام کے چلنے کے لیے کتنی اہم ہیں۔ جماعتیں جمہوریت کا سب سے نمایاں چہرہ ہیں، اس لیے جہاں کہیں بھی لوگ جمہوریت کی کارکردگی میں خامی یا کمی دیکھتے ہیں فطری طور پر جماعتوں ہی کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ پوری دنیا کے لوگ سیاسی جماعتوں کے اپنے فرائض  کو اچھی طرح ادا کرنے میں ناکام رہنے پرپوری شدت کے ساتھ عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہیں یہی حال ہمارے اپنے ملک میں بھی ہے۔ عوامی بے چینی اور تنقید نے سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کے حوالہ سے چارمسائل زدہ علاقوں پر توجہ مرکوز کی ہے سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ جمہوریت  کے موثر آلہ کو بر قرار رکھنے کے لیے ان تحدیات پر قابو پانے اور ان کا مقابلہ کرنے کی کوشش کریں۔پہلی تحدی (Challenge) جماعتوں کے اندر داخلی جمہوریت کی کمی ہے۔ 
پوری دنیا میں یہ رحجان پایا جاتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے چند اعلیٰ درجہ کے رہنماؤں کے ہاتھوں میں سارے اختیارات مرکوز رہتے ہیں۔ جماعتیں رکنیت کے رجسٹر نہیں رکھتیں، تنظیمیں اجلاس نہیں کرتیں اور پابندی کے ساتھ داخلی انتخابات نہیں کرواتیں جماعت کے عام ممبران کو جماعت کے اندرون میں کیا کچھ ہو رہا ہے اس کی اطمینان بخش معلومات نہیں ہوتی وہ فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے لیے جن مطلوبہ وسائل و ذرائع نہیں رکھتے نتیجہ کے طور پر رہنمائوں کو جماعت کے نام پر فیصلہ کرنے کے بے پناہ اختیارات مل جاتے ہیں ۔ چونکہ ایک یا چند رہنما ہی جماعت کے اہم ترین اختیارات استعمال کرتے ہیں اس لیے جو لوگ قیادت سے مطمئن نہیں ہوتے وہ اس کی وجہ سے پارٹی میں رہنے میں دقت محسوس کرتے ہیں۔ جماعت کے اصولوں اور پالیسیوں سے زیادہ رہنما کی ذاتی وفاداری اہم ہوگئی ہے۔

CH66-19
کیو ں جماعتیں خواتین کو زیادہ ٹکٹ نہیں دیتیں؟ کیا یہ بھی داخلی جمہوریت کی کمی کی وجہ سے ہے؟
ہندوستان کی علاقائی پارٹیں 
18اکتوبر 2017کے مطابق 
آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (2009)
آسام گن پریشد (1985)
بوڈو لینڈ پیو پلز فرنٹ 
پیوپلز پارٹی آف اروناچل 
ناگا پیوپلز فرنٹ منی پور میں
پیوپلز ڈیمو کریٹک الائنس 
میزورم پیوپلز کانفرینس (1972)
زورم نیشنلسٹ پارٹی (1972)
میزو نیشنل فرنٹ (1961)
ہل اسٹیٹ پیوپلز ڈیمو کریٹک پارٹی 
یونائیٹیڈ ڈیمو کریٹک پارٹی 
نیشنل پیوپلز پارٹی (2013)منی پور میں 
تیلگو دیشم پارٹی (1982)تلنگانہ میں بھی وائی ایس آر کانگریس پارٹی (2011)تلنگانہ میں بھی 
پٹالی مکال کاچی (1990)پڈوچیری میں بھی ۔ آل انڈیا اناّ ڈی ایم کے (1972)پڈوچیری میں بھی 
دیسیا مور پکودراوڑا کازگم (2005) ۔دراوڑ منیترا کازگم (1949)پڈوچیری میں بھی
راشٹریہ لوک دل (1998) سماج وادی پارٹی (1992)
جنتا دل (یو )( 1999)
لوک شکتی پارٹی (2000)
راشٹریہ جنتا دل (1998)جھارکھنڈ میں بھی 
راشٹریہ لوک سمتا پارٹی( 2013)
سکم ڈیمو کریٹک فرنٹ (1993)
سکم کرانتکاری مورچہ (2013)
آل انڈیا فارورڈ بلاک 
ریوولوشنری سوشلسٹ پارٹی کیرالہ میں بھی 
آل انڈیا این آر کانگریس(2013)
جھارکھنڈ مکتی مورچہ (1973)
اے جے ایس یو پارٹی (1986)
جے وی ایم (پی) (2006)
جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس (1939)
جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی 
جموں و کشمیر پیوپلز ڈیمو کریٹک پارٹی( 1999)
عام آدمی پارٹی (2012) پنجاب میں بھی 
شرومنی کالی دل (1920)
انڈین نیشنل لوک دل (1977)
مہا راشٹر نو نرمان سینا (2006)
مہاراشٹر وادی گومنتک پارٹی (1961)
گوافارورڈ پارٹی (2016)
جنتا دل (سیکولر) (1999) کیرالہ میں بھی 
تلنگانہ راشٹر سمیتی (2001)
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین 
کیرالہ کانگریس (منی ) (1964)
انڈین یونین مسلم لیگ (1948)

CH66-20

خاندانی جانشین کا دوسرا چیلنج پہلے ہی والے سے تعلق رکھتا ہے۔چونکہ زیادہ تر جماعتیں اپنے کام کرنے کے کھلے اور شفاف طریقۂ کار پر عمل نہیں کرتیں اس لیے جماعت میں ایک عام کارکن کے لیے اعلی سطح تک پہونچنے کی بہت کم راہیں ہیں۔ جو لوگ لیڈر بنتے ہیں وہ ناجائز طور پر اپنے قریبی لوگوں کو یا ان کے افراد خانہ کو مراعات دیتے ہیں۔ بہت سی جماعتوں میں ہمیشہ اعلیٰ مناسب ایک ہی خاندان کے افراد کے ذریعہ کنٹرول کیے جاتے ہیں۔ یہ اس جماعت کے دوسرے اراکین کے لیے غیر منصفانہ بات ہے۔ یہ جمہوریت کے لیے بھی ناموزوں اور غلط ہے کیوں کہ ایسے لوگ جو مناسب تجربہ یا عوامی حمایت نہیں رکھتے اقتدار پر قابض ہوجاتے ہیں۔ یہ رحجان کسی نہ کسی درجہ میں بشمول چند قدیم جمہوریتوں کے پوری دنیا میں پایا جاتا ہے۔
CH66-21
برلوسکونی اٹلی کے وزیر اعظم تھے ۔ وہ اٹلی کے اعلیٰ درجہ کے تاجر بھی تھے۔ وہ فوازا اٹالیا کے رہنما تھے جس کی تاسیس1993میں عمل میں آئی۔ ان کی کمپنی کا اپنا ٹی وی چینل تھا ان کے پاس ایک بہت اہم پبلیشنگ کمپنی تھی، ایک فٹ بال کلب (Ac Mclam)اور ایک بینک تھا۔ یہ کارٹون گزشتہ انتخاب کے دوران بنایا گیا۔

تیسرا چیلنج بالخصوص دوران انتخاب قوت بازو اور دولت کے کردار کو فروغ دینے سے تعلق رکھتا ہے۔ چونکہ جماعتوں کا مطمح نظر محض انتخاب جیتنا ہے، اس لیے وہ انتخاب جیتنے کی ذیلی راہیں استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہیں وہ ایسے نمائندوں کو نامزد کرنے کا رحجان رکھتی ہیں جو مالدار ہوں یا بڑے پیمانہ پر دولت فراہم کرنے کی پوزیشن میں ہو۔ مالدار لوگ اور کمپنیاں جو جماعتوں کو خزانہ فراہم کرتی ہیں وہ جماعت کے فیصلوں اور پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کا میلان رکھتی ہیں ۔ لیکن کبھی کبھی، جماعتیں ان مجرمین کی حمایت کرتی ہیں جو انتخاب جیت سکتے ہیں۔ پوری دنیا کے جمہوریت پسند جمہوری سیاست میں بڑی کمپنیوں اور امیروں کے بڑھتے کردار کی بابت سخت مضطرب اور پریشان ہیں۔
CH66-22

چوتھا چیلنج یہ ہے کہ زیادہ تر جماعتیں رائے دہندگان کے سامنے با معنی اختیار وانتخاب پیش کرتی نظر نہیں آتیں۔ بامعنی اختیار وانتخاب پیش کرنے کے لیے جماعتوں کو اہمیت کے طور پر لازماً ایک دوسرے سے مختلف ہونا چاہیے۔ حالیہ سالوں میں دنیا کے زیادہ تر حصوں میں جماعتوں کے مابین نظریاتی اختلافات کے باب میں ز وال آیا ہے۔ مثال کے طور پر برطانیہ میں کنزرویٹیو پارٹی اور لیبر پارٹی کے مابین اختلافات بہت معمولی رہ گیا ہے۔ زیادہ تر بنیادی پہلوؤں پر وہ متفق ہیں البتہ محض پالیسی مرتب کرنے اور اسی پر عمل درآمد کرنے کی تفصیلات طے کرنے پر اختلاف ہے۔ خود ہمارے اپنے ملک میں بھی معاشی پالیسیوں پر تمام بڑی جماعتوں کے مابین اختلافات بہت کم رہ گئے ہیں۔ وہ جماعتیں جو واقعتاً مختلف پالیسی اختیار کرنا چاہتی ہیں ان کے لیے کوئی چارہ کا ر نہیں بچا ہے کبھی کبھی لوگ مختلف رہنمائوں کا بھی انتخاب نہیں کر پاتے کیوں کہ وہی رہنما ایک جماعت سے دوسری جماعت میں تبدیل کرتے رہتے ہیں۔
CH66-23
یہ ہارے ہوئے ایم ایل اے کی نگرانی کررہا ہے 
آپ کے پاس تو پہلے ہی سے بہت پیسے ہیں ۔آپ کیوں انتخاب لڑنا چا ہتے ہیں ؟

دوبارہ غور کریں

زیادہ تر کارٹون سیاستدانوں کے مضحکہ خیز خاکے ہوتے ہیں۔ ان کارٹونوں (صفحہ83 سے 85 تک) سے کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اس سیکشن میں بیان کیے گئے چیلنجوں میں سے کس چیلنج کو ان کارٹونوں میں نمایاں کیاگیا ہے۔ان کا تعلق اٹلی، امریکہ اور ہندوستان سے ہے۔

جماعتوں کی اصلاح کیسے کی جاسکتی ہے؟

ان چیلنج کے مقابلہ کے لیے سیاسی جماعتوں کی اصلاح کی ضرورت ہے سوال یہ ہے:کیا سیاسی جماعتیں اصلاح کرنا چاہتی ہیں؟ اگر وہ چاہتی ہیں تو انھیں اب تک اصلاح کرنے سے کس نے روک رکھا تھا؟ اگر وہ نہیں چاہتیں تو کیا اصلاح کے لیے ان پر دباؤڈالنا ممکن ہے؟ پوری دنیا کے شہری ان ہی سوالوں کا سامنا کررہے ہیں جواب دینے کے لیے یہ کوئی معمولی سوال نہیں۔ جمہوریت میں آخری فیصلہ ان قائدین کے ذریعہ لیا جاتا ہے جو سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ لوگ انھیں ہٹا سکتے ہیں لیکن محض پارٹی رہنماؤں کو دوسرے سیٹ کے ذریعہ اگر ان میں سے بھی کوئی اصلاح کرنا نہیں چاہتا تو کیسے کوئی ان پر تبدیلی لانے کے لیے دباؤ ڈال سکتا ہے؟
آئیے ہم اپنے ملک کی سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنمائوں کی اصلاح کے لیے کی گئی کچھ حالیہ کوششوں اور تجاویز پر نگاہ ڈالیں:

  • منتخب ایم پی اور ایم ایل اے کو جماعتیں تبدیل کرنے سے روکنے کے لیے دستورمیں ترمیم کی گئی تھی۔ ایسا اس لیے کیا گیا تھا کیوں کہ بہت سے منتخب نمائندے وزیر بننے اور نقدی انعام حاصل کرنے کے لیے بری طرح دل بدل کے کھیل میں مصروف ہوگئے تھے۔ اب قانون یہ کہتا ہے کہ اگر کوئی ایم ایل اے یا ایم پی جماعت تبدیل کرتا ہے تو وہ مقَنّنہ کی نشست کھودے گا۔اس نئے قانون نے دل بدلی کو کم کرنے میں بڑی مدد کی ہے۔ بایں ہمہ اس نے کسی بھی اختلاف رائے کو بھی مشکل تر کردیا ہے۔ ایم پی اور ایم ایل اے کو جو کچھ بھی پارٹی رہنما طے کرتے ہیں اسے تسلیم کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
  • عدالت عظمیٰ سپر یم کورٹ نے مجرمین اور دولت کے اثر کو کم کرنے کے لیے ایک حکم جاری کیا ہے اب یہ ہر اس نمائندہ کے لیے جو انتخاب میں حصہ لینا چاہے ایک تفویضی حکم ہے کہ وہ ایک ایسا حلف نامہ داخل کرے جس میں اس کے خلاف غیر فیصلہ شدہ مجرمانہ مقدمات اور اس کی جائداد کی تفصیلات درج ہوں۔ اس نئے نظام نے عوام کو بہت ساری معلومات فراہم کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ لیکن اگر نمائندوں کے ذریعہ دی گئی معلومات صحیح ہیں تو اس کے چک (Check)کا کوئی نظام نہیں ہے اس طرح ہمیں کچھ خبر نہیں ہوگی اگر یہ نظام مجرمین اور مالداروں کے زیراثر روبہ زوال ہوگیا۔

فرہنگ

حلف نامہ: ایک دستخط شدہ دستاویز جو کسی سرکاری دفتر کے سامنے پیش کی جاتی ہے جس میں ایک شخص اپنی ذاتی معلومات کے متعلق حلفیہ بیان دیتا ہے۔
  • انتخابی کمیشن نے اپنے ایک حکم نامہ میں یہ تمام سیاسی جماعتوں کے لیے لازم قرار دیا ہے کہ وہ پابندی سے اپنا تنظیمی انتخاب کروائیں اور انکم ٹیکس ریٹرن بھریں جماعتوں نے اس پر عمل در آمد شروع کردیا ہے لیکن بسا اوقات یہ محض ایک رسمی بات ہوتی ہے۔ البتہ یہ بات واضح نہیں کہ اس اقدام سے سیاسی جماعتوں میں بڑے پیمانہ پر داخلی جمہوریت آ ئے گی۔

فرہنگ

حلف نامہ: ایک دستخط شدہ دستاویز جو کسی سرکاری دفتر کے سامنے پیش کی جاتی ہے جس میں ایک شخص اپنی ذاتی معلومات کے متعلق حلفیہ بیان دیتا ہے۔

ان کے علاوہ سیاسی جماعتوں کی  اصلاح کے لیے اکثر دوسری تجاویز بھی پیش کی جاتی ہیں۔

توجہ دیں 


CH66-24
انتخابی ضابطہ ہماری چائے کا کپ نہیں ہے 

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سب  جماعتوں کی اصلاح کی یہ شکل ان کے لیے قابل قبول ہوگی۔


  • سیاسی جماعتوں کے داخلی مسائل کو باضابطہ طے کرنے کے لیے ایک قانون بنایا جانا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں پر یہ لازم قرار دینا چاہیے کہ وہ اپنے ممبروں کا باقاعدہ ایک رجسٹر رکھیں، اپنے دستور پر عمل کریں۔ آزاد وخودمختار انتظامیہ (Authority) تشکیل دیں، جماعتی تنازعات کی صورت میں ایک قاضی(Judge)کی حیثیت سے کام کریں اور اعلیٰ مناصب کے لیے کھلے عام انتخاب کروائیں۔
  • یہ سیاسی جماعتوں کے لیے ایک تفویضی حکم قرار دینا چاہیے کہ وہ کم از کم ٹکٹوں کی تعداد یعنی تقریباً ایک تہائی خواتین نمائندوں کو دیں۔ اسی طرح پارٹی کی فیصلہ لینے والی مجلسوں میں خواتین کے لیے کوٹا متعین ہونا چاہیے۔
  • سرکاری امداد پر مبنی انتخاب ہونا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ جماعتوں کو انتخابی اخراجات برداشت کرنے کے لیے مالی امداد دے یہ امداد انھیں پٹرول، کاغذ ، اور ٹیلیفون وغیرہ کی صورت میں دی جاسکتی ہے۔ یا یہ پارٹی کے گذشتہ انتخاب میں حاصل کردہ ووٹ کی بنیاد پر نقدی کی صورت میں بھی دی جاسکتی ہے۔
یہ تجاویز سیاسی جماعتوں کے ذریعہ اب تک قبول نہیں کی گئی ہیں ۔ اگر یہ قبول کرلی گئیں تو کچھ اصلاحات ہوسکتی ہیں۔ تاہم ہمیں سیاسی مسائل کے قانونی حل کے لیے بہت محتاط رہنا چاہیے۔ جماعتوں کی بہت زیادہ ضابطہ بندی منفی ردعمل پیدا کرسکتی ہے۔ یہ چیز تمام جماعتوں کو مجبور کرے گی کہ وہ قانون کے غلط استعمال کی راہیں تلاش کریں۔ اس کے علاوہ سیاسی جماعتیں کوئی ایسا قانون پاس کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گی جسے وہ پسند نہیں کرتیں۔
دو طریقے اور ہیں جن کے ذریعہ سیاسی جماعتوں کی اصلاح کی جاسکتی ہے۔ ایک تویہ کہ لوگ سیاسی جماعتوں پر دباؤڈالیں اور یہ کام عدالت میں مقدمہ دائر کرکے ، اشتہارات دے کر اور ان کے خلاف تحریک چلاکر آسانی سے کیا جاسکتا ہے ، اور اسی سلسلہ میں عام شہری، فشاری گروہ، تحریکیں اور ذرائع ابلاغ اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اگر سیاسی جماعتیں محسوس کریں گی کہ اصلاحات نہ کرنے کی صورت میں وہ عوامی حمایت کھودیں گی تو وہ اصلاحات کے بارے میں زیادہ سنجیدہ ہوںگی۔ دوسرے یہ کہ جو لوگ سیاسی جماعتوں میں شامل ہوتے ہیں اگر وہ چاہیں تو اس کی حالت بہتر ہوسکتی ہے کیوں کہ جمہوریت کا معیار عوامی شرکت پر منحصر ہے۔ سیاست کی اصلاح بہت مشکل ہے اگر عام شہری اس میں حصہ نہیں لیتا اور محض باہر سے بیٹھ کر اس پر تنقید کرتا ہے۔بُری سیاست کا مسئلہ اس سے بہتر اور اچھی سیاست کے ذریعہ حل کیاجاسکتا ہے۔ آخری باب میں ہم اس مسئلہ پر گفتگو کریں گے۔


CH66-25

مشق


  1. جمہوریت میں سیاسی جماعتیں جو مختلف کام سر انجام دیتی ہیں بیان کیجیے۔
  2. وہ کون سے چیلنج ہیں جن کا سیاسی جماعتیں مقابلہ کررہی ہیں؟
  3. جماعتوں کو مستحکم کرنے کے لیے کچھ ایسی اصلاحات تجویز کیجیے جس سے وہ بہتر طور پر اپنے فرائض انجام دے سکیں۔
  4. سیاسی جماعت کسے کہتے ہیں؟
  5. ایک سیاسی جماعت کی کیا خصوصیات ہیں؟
  6. لوگوں کا ایک ایسا گروپ جو اکٹھا ہو کر انتخاب میں حصہ لیتا ہے اور حکومت و اقتدار پر قبضہ کرتا ہے اسے کہا جاتا ہے۔
  7. فہرست I(تنظیموں اور جدوجہد ) کا فہرست IIسے موازنہ کیجیے اور ذیل کی فہرست میں دیے گئے کوڈ کا استعمال کرتے ہوئے صحیح جواب منتخب کیجیے۔

فہرست I فہرستII
1- کانگریس پارٹی  A-قومی جمہوری اتحاد 
2- بھارتیہ جنتا پارٹی  B-صوبائی پارٹی 
3- کمیونسٹ پارٹی آپ انڈیا (مارکسسٹ) C-متحدہ ترقی پسنداتحاد
4- تیلگو دیشم پارٹی  D-بایاں محاذ


1 2 3 4
(a) C A B D
(b) C D A B
(c) D C A B
(d) D C A B

CH66-26
درج ذیل میں سے کون بہوجن سماج پارٹی کا بانی ہے
کانشی رام ساہو مہاراج
بی۔آر۔امبیڈکر جیوتی باپھولے
بھارتیہ جنتا پارٹی کارہنما فلسفہ کیا ہے؟
بہوجن سماج انقلابی جمہوریت
لازمی انسان دوستی جدیدیت
10۔ جماعتوں سے متعلق درج ذیل بیانات پر غور کیجیے۔
سیاسی جماعتیں لوگوں کے مابین اعتماد سے بہت زیادہ فیض یاب نہیں ہوتیں۔
جماعتیں اکثر پارٹی کے اعلی رہنمائووں کے  اسکینڈل میں ملوث ہونے کی وجہ سے ہلادی جاتی ہیں۔
جماعتیں ضروری نہیں ہے کہ حکومت سازی کریں۔
اوپر دیے گئے بیانات میں کون سا بیان درست ہے۔
(a)
B،AاورC  
(b)
A اور B
(c)
Bاور C
(d)
AاورC

CH66-27

11۔ درج ذیل اقتباس کو پڑھیے اور ذیل میں دیے گئے سوالات کا جواب دیجیے۔
’’محمد یونس بنگلہ دیش کے ایک مشہور ماہر معاشیات ہیں۔ انھوں نے غریبوں کے فائدہ کے لیے سماجی اور معاشی ترقی اور فروغ کی اپنی کوششوں کے لیے متعدد بین الاقوامی اعزازات حاصل کیے ہیں۔ انھوں نے اور گرامین بنک نے جسے انھوں نے شروع کیا تھا مشترکہ  طور پر 2006میں نوبل امن انعام حاصل کیا۔ فروری 2007میں انھوں نے ایک سیاسی جماعت بنانے اور پارلیمانی انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا مقصد فعال موزوں قیادت، اچھی حکومت اور نئے بنگلہ دیش کی تعمیر تھا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ محض ایک سیاسی جماعت ہی جو روایتی جماعتوں سے مختلف ہو، نیا سیاسی کلچر پروان چڑھا سکے گی۔ ان کی جماعت نچلی سطح سے جمہوری ہوگی۔
میدان عمل میں آنے والی نئی جماعت جسے ناگرک شکتی (شہریوں کی طاقت) کہتے ہیں، بنگلہ دیشیوں کے مابین ایک جوش وہلچل کا سبب بن گئی ہے۔ حالانکہ زیادہ تر لوگوں نے ان کے فیصلہ کا خیر مقدم کیا تاہم کچھ لوگ اسے پسند نہیں کرتے۔ ایک سرکاری اہلکار شاہد الاسلام کا کہنا ہے: ’’اب میں سمجھتا ہوں‘‘ کہ بنگلہ دیش کو اچھی اور بری حکومت کے مابین انتخاب کرنے اور آخر کار ایک اچھی حکومت قائم کرنے کا موقع ملے گا۔‘‘ ’’ ہمیں امید ہے کہ وہ حکومت نہ صرف اپنے آپ کو بدعنوانی سے دور رکھے گی بلکہ بدعنوانی اور کالے دھن کے خلاف لڑنے کو بھی اولین ترجیح دے گی۔‘‘
لیکن روایتی سیاسی جماعتوں کے قائدین جن کا ملک کی سیاست پر کئی دہائیوں سے غلبہ تھا فکر مند اور تشویش میں مبتلا تھے۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے ایک بزرگ رہنما نے کہا: ’’نوبل انعام جیتنے میں (ان کی شخصیت پر) کوئی تنازعہ نہیں تھا لیکن سیاست مختلف ہے۔ اس میں سخت مقابلہ اور اختلاف ہوتا ہے‘‘ کچھ دوسرے لوگ بھی سخت جیں بجیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کیوں میدان سیاست میں کود پڑے۔ ایک سیاسی مشاہد کا کہنا تھا۔’’کیا انھیں ملک کے باہر سے ان کا کوئی سرپرست اپنی سیاست میں جمانے کی کوشش کررہا ہے۔‘‘
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یونس نے ایک نئی سیاسی جماعت متعارف کرانے کا صحیح فیصلہ کیا تھا؟
کیاآپ بیانوں اور لوگوں کے ذریعہ ظاہر کیے گئے اندیشوں سے متفق ہیں؟آپ اسی نئی جماعت کو دوسری جماعتوں سے مختلف بنانے کے لیے کس طرح اس کی تنظیم کریں گے؟ اگر آپ نے اس نئی جماعت کو میدان میں اتارا ہوتا تو اس کا کیسے دفاع کرتے ؟