چونکہ اب جمہوریت کا ہمارا سفر اختتام پذیر ہے اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مخصوص مرکزی موضوع کی بحث سے ہٹ کر کچھ عمومی نوعیت کے سوالات کیے جائیں۔ جمہوریت کیا کرتی ہے ؟ یا جمہوریت سے ہم معقول طور پر کن نتائج کی توقع کر سکتے ہیں؟ کیا جمہوریت ان توقعات کو حقیقی زندگی میں بھی پورا کرتی ہے؟ ہم گفتگو کا آغاز اس غورو فکر سے کرتے ہیں کہ جمہوریت کے تنائج کا تعین کیسے کیا جائے۔ اس موضوع پر کیسے غورو فکر کرنا ہے اس کی وضاحت کے بعد ہم مختلف پہلوؤں سے جمہوریت کے حقیقی نتائج اور توقعات پر نگاہ ڈالیں گے۔ حکومت کا معیار، معیشت کی بہتری، عدم مساوات، سماجی تفریقیں اور تنازع اور آخر میں آزادی اور وقار، ہمارا آخری فیصلہ، مثبت لیکن مشروط، ہماری رہنمائی کرے گا کہ ہم آئندہ اور آخری باب میں جمہوریت کے چیلنجوں کی بابت غورو فکر کریں۔
کیا آپ کو یاد ہے کہ محترمہ لِنگدوہ کی کلاس میں کتنے لڑکے جمہوریت کے بارے میں بحث کر رہے تھے؟ یہ نویں جماعت کی درسی کتاب کے باب 2 میں تھا۔ گفتگو کا سلسلہ یہاں سے آگے بڑھا تھا کہ جمہوریت آمریت یا کسی اور متبادل نظام حکومت کے مقابلہ زیادہ بہتر نظام حکومت ہے ہم محسوس کرتے ہیں کہ جمہوریت زیادہ بہتر تھی کیوں کہ یہ:
- شہریوں کے مابین مساوات کو فروغ دیتی ہے
- فرد کے وقار کو بڑھاتی ہے
- فیصلہ لینے کے عمل کو بہتر بناتی ہے
- تنازعات کے تصفیہ کا طریقہ کار فراہم کرتی ہے اور
- غلطیوں کے اصلاحات کی گنجائش پیدا کرتی ہے۔
کیا ہم محترمہ لنگدوہ کے درجہ میں ان تنائج تک پہونچے تھے؟ مجھے وہ کلاس بہت پسند تھی کیوں کہ طلبہ کو کسی بھی قسم کے نتائج اخذ نہیں کرائے جاتے تھے۔
کیا جمہوریت کے تئیں یہ ساری توقعات پوری ہوئیں؟ جب ہم اپنے گردوپیش کے لوگوں سے بات کرتے ہیں تو ان میں سے اکثر دوسرے متبادلوں مثلاً شاہی، فوجی اور مذہبی حکومتوں کے برخلاف جمہوری حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن ان میں سے بہت سے لوگ عملی طور پر جمہوریت سے غیر مطمئن اور نالاں ہوں گے۔ اس لیے ہم تذبذب کے شکار ہیں: جمہوریت اصولی طور پر دیکھنے میں اچھی لگتی ہے لیکن اپنے عمل میں اتنی اچھی محسوس نہیں ہوتی۔ یہ تذبذب (Dilemma) ہمیں جمہوریت کے نتائج کے باب میں سخت غورو فکر کی دعوت دیتی ہے۔
کیا ہم جمہوریت کو محض اخلاقی دلائل کی بنیاد پر ترجیح دیتے ہیں یا جمہوریت کی حمایت کے کچھ دانشمندانہ دلائل بھی ہیں؟
آج دنیا کے سو سے زیادہ ممالک جمہوری سیاست کی کچھ قسموں کا دعویٰ کرتے اور عمل کرتے ہیں۔ وہ باقاعدہ دستور رکھتے ہیں، انتخابات کرواتے ہیں، سیاسی جماتیں رکھتے ہیں اور شہریوں کے حقوق کی ضمانت دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ خصوصیات ان میں سے زیادہ تر کے اندر پائی جاتی ہیں تاہم یہ جمہوریتیں اپنے سماجی حالات، معاشی کامیابی اور اپنی ثقافت کے معنی میں ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ واضح طور پر ان میں سے ہر ایک جمہوریت کے تحت کیا چیز حاصل کی جاسکتی ہے اور کیا چیز نہیں یہ بہت مختلف بات ہوگی۔ لیکن کیا کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جس کی بابت ہم ہر ایک سے محض اس بنیاد پر امید کرسکتے ہیں کہ وہ جمہوریت ہے؟

ہمارے مفادات اور جمہوریت سے ہمارا والہانہ لگائو اکثر ہمیں یہ موقف اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ جمہوریت تمام سماجی معاشی اور سیاسی مسائل حل کرسکتی ہے۔ اب اگر ہماری کچھ توقعات پوری نہیں ہوئیں تو ہم تصور جمہوریت ہی کوموردِ الزام ٹھہرانے لگتے ہیں یا اگر ہم جمہوریت میں رہ رہے ہوں تو شک میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ جمہوریت کے نتائج کی بابت ہوش مندی کے ساتھ غوروفکر کرنے کا پہلا قدم یہ ہے کہ ہم تسلیم کریں کہ جمہوریت محض ایک طرز حکومت ہے۔ یہ محض کچھ چیزوں کے حصول کے حالات پیدا کرسکتی ہے۔ یہ شہریوں کا فرض ہے کہ وہ ان حالات سے فائدہ اٹھائیں اور ان مقاصد کو حاصل کریں۔ آئیے کچھ ایسی چیزوں کا جائزہ لیں جن کی ہم معقول طور سے جمہوریت سے امید کرتے ہیں اور جمہوریت کے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہیں۔
جواب دہ،ذمہ دار اور جائر حکومت
کچھ چیزیں ایسی ہیں جنھیں جمہوریت کو لازماً فراہم کرنا چاہیے۔ جمہوریت میں ہمیں یقینی طور پر یہ یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ لوگوں کو اپنا حکمراں منتخب کرنے اور انھیں کنٹرول کرنے کا پورا حق ہوگا جب بھی ممکن ہو اور ضروری ہو شہریوں کو ایسے تمام فیصلہ لینے کے عمل میں حصہ لینے کا حقدار ہونا چاہیے جس سے وہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے جمہوریت کا سب سے بنیادی نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ ایسی حکومت پیش کرے جو شہریوں کو جواب دہ ہو اور ان کی ضرورتوں اور توقعات کی ذمہ دار ہو۔
اس سوال کی تفصیل میں جانے سے پہلے، ایک دوسرا سوال ہماری راہیں روکے کھڑا ہے۔ کیا جمہوری حکومت اثر آفریں ہے؟ کیا یہ موثر ہے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جمہوریت غیر مؤثر حکومت پیش کرتی ہے۔ یہ بات یقینا درست ہے کہ غیر جمہوری حکمران اسمبلی میں شوروہنگامہ کرنے کی زحمت گوارا کرنا یا اکثریت اور عوامی رائے کو پریشان کرنا نہیں چاہتے اس لیے وہ بہت تیز اور فیصلہ کرنے اور عمل درآمد کرنے کے معاملہ میں بہت مؤثر ہو سکتے ہیں۔ جمہوریت غوروفکر اور گفت و شنید کے تصور کی بنیاد پر قائم ہے۔ اس لیے کچھ نہ کچھ تاخیر ہونا لازمی ہے۔ کیا یہ چیز جمہوری حکومت کو نا اہل بناتی ہے۔
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ حکومت کیا اور کیسے آپ اور آپ کے خاندان کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتی ہے (مثلاً راشن کارڈ اور ووٹر شناختی کارڈ)؟ حکومت کی بابت آپ کی معلومات کے ذرائع کیا ہیں؟
آئیے قیمتوں کے حوالے سے غور کرتے ہیں۔ ایک ایسی حکومت کا تصور کیجیے جو بہت سرعت کے ساتھ فیصلہ لیتی ہے لیکن وہ ایسا فیصلہ لے سکتی ہے جو لوگوں کے لیے قابل قبول نہ ہو اور اس سے مسائل پیدا ہوسکتے ہوں۔ اس کے مقابلے میں جمہوری حکومت کسی فیصلہ تک پہونچنے سے پہلے ضابطہ کی کاروائی کرنے میں زیادہ وقت لے سکتی ہے لیکن چونکہ یہ ضابطہ کے مطابق کام کرتی ہے اس لیے اس کا فیصلہ لوگوں کے لیے زیادہ قابل قبول اور زیادہ موثر ہو سکتا ہے۔ اس لیے وہ وقت جس کی قیمت جمہوریت چکاتی ہے شاید وہ اس کا مستحق ہو۔
اب دوسری طرف دیکھیے۔ جمہوریت یہ یقین دلاتی ہے کہ فیصلہ لینے کا عمل اصول و ضابطہ کے مطابق ہوگا۔ اس لیے جو شہری جاننا چاہتا ہے کہ آیا فیصلہ صحیح ضابطہ کے مطابق لیا گیا ہے تو وہ جان سکتا ہے۔ اسے حق حاصل ہے اور اس کے پاس ذرائع ہیں کہ وہ فیصلہ لینے کے عمل کا تجزیہ کرسکے۔ اسے شفافیت کہتے ہیں۔ یہ عنصر بسا اوقات غیر جمہوری حکومت سے کھوتا جارہا ہے۔ اس لیے جب ہم جمہوریت کے نتائج بیان کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو بجا طور پر جمہوریت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ضابطہ کے مطابق کام کرے گی اور عوام کے سامنے جواب دہ ہوگی۔ ہم یہ بھی امید کرتے ہیں کہ جمہوری حکومت شہریوں کے لیے ایسا نظام برپا کرے گی جس کے تحت ایک جواب دہ حکومت وجود میں آئے گی اور شہری جب بھی اپنے لیے موزوں سمجھیں گے فیصلہ کاری کے عمل میں حصہ لے سکیں گے۔
تو، جمہوریت کا سب سے بہتر نتیجہ یہ ہے کہ یہ جمہوریت ہے جسے ہم نے بڑی ہی ذہنی ورزشوں کے بعد دریافت کیا ہے۔

اگر آپ کو متوقع نتیجہ کی بنیاد پر جمہوریت کو تولنے کی ضرورت محسوس ہو تو آپ کو درج ذیل اعمال اور اداروں کو دیکھنا ہوگا: مستقل، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات، اہم پالیسیوں پر کھلے عام عوامی بحث و مباحثہ اور قانون سازیاں ؛ حکومت اور اس کی کارگردگی کی بابت معلومات کا شہری حق۔ جمہوریت کی حقیقی کارکردگی، اس موضوع پر ملا جُلا ریکارڈ پیش کرتی ہے۔ کھلے عام عوامی مباحثہ کے حالات پیدا کرنا اور مستقل آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا اہتمام کرنا جمہوریتوں کی سب سے بڑی کامیابی رہی ہے۔ جمہوری حکومتیں عوام سے خیالات کے تبادلے کے سلسلہ میں اچھا ریکارڈ نہیں رکھتیں۔ جمہوری حکومتوں کی حمایت میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ نسبتاً غیر جمہوری حکومتوں کے مقابلہ میں زیادہ بہتر ہیں۔
اصلی معنی میں جمہوریت سے ایسی حکومت کیت توقع رکھنا مناسب بات معلوم ہوتی ہے جو عوام کے مطالبات اور ضروریات پر کان دھرنے والی اور بڑی حد تک بدعنوانی سے پاک ہو ۔ جمہوریتوں کا ریکارڈ ان دو بنیادوں پر بہت حوصلہ افزانہیں ہے۔ جمہوریتیں اکثر عوام کے مطالبات سے مایوس اور اپنی آبادی کی اکثریت کے مطالبات نظر انداز کر دیتی ہیں۔ بد عنوانی کے معمول کے قصے ہمیں یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہیں کہ جمہوریت اس برائی سے پاک نہیں ہے۔لیکن اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں کہ غیر جمہوری حکومتیں کم بدعنوان یا عوامی مسائل کے باب میں زیادہ حساس ہیں۔
ایک قابل قدر پہلو ایسا ہے جس میں قطعی طور پر جمہوری حکومت اپنی متبادل حکومتوں سے بہتر ہے: جمہوری حکومت قوانین کی رو سے جائز حکومت ہے۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ سست رفتار، غیر مستعد اور بہت زیادہ ذمہ دار یا شفاف نہ ہو لیکن ایک جمہوری حکومت عوام کی اپنی حکومت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں جمہوری حکومت کے خیال کی ہمہ جہت حمایت کی جاتی ہے۔ جنوبی ایشیا کے شواہد بتاتے ہیں کہ جمہوری اور غیر جمہوری دونوں قسم کی حکومتوں میں جمہوریت کی حمایت پائی جاتی ہے۔ لوگوں کی خواہش ہے کہ ان کے اوپر ان کے اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعہ حکومت کی جائے۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ جمہوریت ان کے ملک کے لیے موزوں ہے۔ جمہوریت کی اپنی حمایت حاصل کرنے کی صلاحیت بجائے خود ایک ایسا نتیجہ ہے جیسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
محض چند لوگوں نے اپنے ملک میں جمہوریت کے موزوں ہونے پر شبہ کا اظہار کیا ہے
آپ کے ملک کے لیے جمہوریت کیسے موزوں ہے؟
جمہوریت سوائے پاکستان ہر جگہ قابل ترجیح ہے ۔
وہ لوگ جو مختلف بیانات میں سے کسی ایک سے متفق ہیں
جمہوریت کی ہمہ جہت حمایت
وہ لوگ جو عوام کے منتخب نمائندوں کی حکومت سے متفق ہیں
سری لنکا پاکستان نیپال ہندوستان بنگلہ دیش
71 37 62 70 69 جمہوریت قابل ترجیح
11 14 10 9 6 کبھی کبھی آمریت بہتر ہے
18 49 28 21 25 میرے لیے کوئی مسئلہ نہیں
مآخذ:
SDSATeam,State of Democracy in South Asia,Delhi: Oxford University Press,2007
معاشی ارتقااور ترقی
اگر جمہوریتوں سے اچھی حکومتیں پیش کرنے کی توقع کی جاتی ہے تو کیا یہ توقع کرنا صحیح نہ ہوگا کہ وہ ترقی کا بھی موجب ہوں گی؟ اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ عملی طور پر بہت سی جمہوریتیں اس توقع پر پوری نہیں اترتیں۔
اگر آپ 1950اور 2000کے درمیان پچاس سالوں کی تمام جمہوریتوں اور آمریتوں پر غور کریں تو آپ پائیں گے کہ آمریتوں میں معاشی نشوونما کی شرح میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اعلی معاشی ترقی کے حصول میں جمہوریت کی نا اہلی ہمیں پریشان کرتی ہے۔ لیکن یہی ایک چیز جمہوریت کو مسترد کرنے کی دلیل نہیں بن سکتی۔ جیسا کہ آپ پہلے ہی معاشیات میں پڑھ چکے ہیں، معاشی ترقی متعدد عناصر پر منحصر ہوتی ہے: ملک کی آبادی کی جسامت، عالمی حالات، دوسرے ملکوں سے تعاون اور ملک کے ذریعہ اختیار کی گئی معاشی ترجیحات وغیرہ۔ تاہم جمہوریتوں اور آمریتوں والے کم ترقی یافتہ ممالک کے درمیان معاشی ترقی کی شرحوں میں فرق ناقابل ذکر ہے۔ بحیثیت مجموعی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ جمہوریت معاشی ترقی کی ضامن ہے۔ لیکن ہمیں امید ہے کہ وہ اسی حوالہ سے آمریت سے پیچھے بھی نہیں رہے گی۔
جب ہم جمہوریت اور آمریت کے تحت ملکوں کے مابین معاشی ارتقا کی شرحوں میں اس طرح کا اہم فرق پاتے ہیں تو بہتر یہ ہے کہ ہم جمہوریت کو ترجیح دیں کیوں کہ یہ متعدد مثبت نتائج بھی رکھتی ہے۔ معاشی افزائش کے فوائد یکساں طور پر تقسیم ہونا چاہیے۔
جمہوریت کے معاشی نتائج
جمہوریت کی بابت دلائل بہت جذباتی رحجان رکھتے ہیں اور ایسا ہونا بھی چاہیے کیونکہ جمہوریت ہماری کچھ مضبوط اقدار سے ہم آہنگ ہے۔ یہ مباحثے سیدھے سادے انداز میں حل نہیں کیے جاسکتے۔ لیکن جمہوریت کی بابت بعض مباحثے کچھ حقائق اور اعداد کی مدد سے حل کیے جاسکتے ہیں۔ جمہوریت کے معاشی نتائج کی بابت مباحثہ، اسی طرح کا ایک مباحثہ ہے برسوں سے جمہوریت کے بہت سے طلبا نے یہ جاننے کے لیے کہ معاشی افزائش کے ساتھ جمہوریت کا کیا رشتہ ہے بہت محتاط ثبوت اکٹھا کیے ہیں مباحثے اور کارٹون یہاں کچھ شواہد پیش کرتے ہیں:
گھر کی تعمیر
صحت کی نگہداشت
اسکول کی تعلیم
بھوک
ارے !میرے ننھے تم کہاں سے گرے
آپ ہی بتایئے
- جدول نمبر 1سے پتہ چلتا ہے کہ آمرانہ حکومت کا اوسط معاشی افزائش کا ریکارڈ معمولی طورپر بہتر ہے لیکن جب ہم ان کے ریکارڈ کا موازنہ محض غریب ملکوں کے درمیان کرتے ہیں تو صحیح معنی میں کوئی فرق نہیں ہے۔
- جدول نمبر2سے پتہ چلتا ہے کہ خود جمہوریت کے اندر بہت اعلی سطح کے عدم مساوات کا مظاہرہ ہوسکتا ہے۔ جنوبی افریقہ اور برازیل جیسے جمہوری ممالک میں اعلی درجے کے 20فیصد لوگوں نے قومی آمدنی کے 60فیصد سے زیادہ حصوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ 20فیصد نچلے سطح کی آبادی کے لیے 3فیصد سے بھی کم حصہ مل سکا ہے۔ڈنمارک اورہنگری جیسے ممالک نسبتاً بہتر ہیں۔
- آپ کارٹون میں مشاہدہ کرسکتے ہیں، غریب ترلوگوں کے لیے موجود مواقع میں بھی عدم مساوات کامظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔
افزائش اور مساوی تقسیم کے معنی میں جمہوری طرز حکومت کی محض معاشی کارکردگی کوبنیاد بنا کر جمہوریت پر آپ کا کیا تبصرہ ہوگا؟
جدول نمبر 1
مختلف ممالک میں معاشی افزائش کی شرحیں 1950-تا2000
| ممالک اور طرز حکومت کی قسمیں |
شرح افزائش |
| تمام جمہوری حکومتیں |
3.95 |
تمام آمرانہ حکومتیں
|
4.42 |
| آمریت کے تحت غریب ممالک |
4.34 |
| جمہوریت کے تحت غریب ممالک |
4.28 |
جدول نمبر1
مختلف ممالک میں معاشی افزائش کی شرحیں1950-تا2000
جدول نمبر2
منتخب ممالک میں غیر مساوی آمدنی
| ممالک کے نام |
قومی آمدنی کا شرح فیصد % |
| ڈنمارک |
34.5 |
9.6 |
| ہنگری |
34.4 |
10.0 |
ماخذ: اے پرزی ورسکی، ایم ای الواریز، جے اے چیسوب اور ایف لیمونگی، ڈیموکریسی اینڈ ڈیولپمنٹ: پولیٹیکل انسٹی ٹیوشن اینڈ ویل بیٹنگ ان دی ورلڈ، 1990-1950 کیمرج، کیمرج یونیورسٹی پریس،2000
امیر
متوسط
غریب
معاشی ترقی اور آمدنی کی تقسیم حصول 2006-2000

پچھلے صفحہ،اس صفحہ اور آئندہ صفحات پر بنے کارٹون ہمیں امیرو غیرب کے مابین فرق کو بتاتے ہیں۔ کیا معاشی ترقی کے منافع مساوی طور سے تقسیم ہونے چاہیں؟ کسی ملک میں بہتر حصہ داری کے لیے غریب کیسے آواز اٹھا سکتا ہے؟ غریب ممالک عالمی معیشت میں کیسے نسبتاً بڑا حصہ حاصل کر سکتے ہیں؟
غربت اور عدم مساوات میں تخفیف
شاید ترقی سے زیادہ یہ بات معقول اور مناسب معلوم ہوتی ہے کہ جمہوریتوں سے معاشی فرق کی تخفیف کی امید کی جائے۔ کوئی ملک جب بھی معاشی افزائش حاصل کرتا ہے تو کیا دولت کو اس طرح تقسیم کیا جاتا ہے کہ ملک کے تمام شہریوں کا اس میں حصہ ہو اور وہ بہتر زندگی گزار سکیں؟ کیا جمہوریتیں مال ومواقع کی منصفانہ تقسیم کا موجب ہیں؟
جمہوریتیں سیاسی مساوات پر مبنی ہیں۔ نمائندوں کے انتخاب میں تمام افراد کی حیثیت برابر ہے۔ افراد کو دوش بدوش چلنے کے لیے سیاسی میدان میں لاکھڑا کرنے کے متوازی ہم معاشی افزائش کو عدم مساوات کاشکار پاتے ہیں غیر معمولی مالداروں کا ایک چھوٹاسا گروہ آمدنی اور دولت کے انتہائی غیر متوازن حصہ سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ محض اتنا ہی نہیں، بلکہ مجموعی آمدنی میں ان کا حصہ بڑھتا جارہا ہے۔ وہ لوگ جو سماج کی نچلی سطح پر ہیں وہ بہت قلیل آمدنی پر گزارا کرتے ہیں۔ ان کی آمدنی روزبروز گھٹتی جارہی ہے۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات بھی پوری کرنے کے قابل نہیں ہوتے جیسے کھانا، کپڑا، گھر، تعلیم اور صحت وغیرہ۔
حقیقی زندگی میں جمہوریتیں معاشی عدم مساوات کم کرنے میں بہت کامیاب ہوتی نظر نہیں آتیں۔ نویں درجے کی معاشیات کی درسی کتاب میں آپ ہندوستان میں غربت و افلاس کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔ہمارے رائے دہندگان کا ایک بڑا حصہ غریب ہے اور کوئی جماعت اپنے رائے دہندگان کو کھونا نہیں چاہتی تاہم جمہوری طور پر منتخب حکومتیں جیساکہ آپ ان سے توقع کرتے ہیں غربت کے مسئلہ کو اتنی سنجیدگی اور دلچسپی سے اٹھاتی نظر نہیں آتیں۔ کچھ دوسرے ملکوں میں حالت انتہائی بدتر ہے۔بنگلہ دیش میں نصف سے زیادہ آبادی غربت میں زندگی گزار رہی ہے۔ متعدد غریب ملکوں میں لوگ اب کھانے کی فراہمی کے لیے بھی امیر ملکوں پرمنحصر ہیں۔
جمہوریت اکثریت کی حکومت کا نام ہے اور غریب اکثریت میں ہیں اس لیے جمہوریت لازماً غریب کی حکومت کا نام ہونا چاہیے۔ لیکن معاملہ ایسا کیوں نہیں ہے؟
غریب کی آواز
دنیا کی دولت کچھ لوگوں کے قبضے میں ہے
سماجی تنوع کی ہم آہنگی
کیا جمہوریت شہریوں کے مابین پر امن اور ہم آہنگ زندگی کی رہنمائی کرتی ہے؟ یہ ایک منصفانہ توقع ہوگی کہ جمہوریت کو ایک ہم آہنگ سماجی زندگی فراہم کرنا چاہیے۔ پچھلے ابواب میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ جمہوریتیں کیسے مختلف سماجی تقسیموں میں ہم آہنگی پیدا کرتی ہیں۔ پہلے باب میں ہم نے دیکھا کہ بیلجیم نے نسلی آبادیوں کے مابین اختلافات میں کس طرح کامیاب گفت وشنید کی ہے۔ جمہوریتیں عام طور پر اپنے مقابلہ کی کاروائی کے لیے ایک ـضابطہ تیار کرتی ہیں۔ یہ چیز ان جھگڑوں کے دھماکہ خیز اور پرتشدد ہونے کے امکانات کو کم کرتی ہے۔
آپ سب لوگ کہتے ہیں کہ لوگ جمہویرت میں ایک دوسرے کے سر نہیں پھوڑتے ہیں یہ ہم آہنگی نہیں ہے کیا ہمیں اس کے بارے میں خوش ہونا چاہیے؟
کوئی سماج مستقل اور مکمل طور پر مختلف گروپوں کے مابین تنازعات کا تصفیہ نہیں کرسکتا۔لیکن ہم قطعی طور پر ان تنازعات کے حوالہ سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور اختلافات پر گفت وشنیدکے نظام کا استنباط بھی کر سکتے ہیں۔ جمہوریت اسی نتیجہ کو کم کرنے کے لیے بہت موزوں ہے۔ اکثر غیر جمہوری حکومتیں آنکھیں موند لیتی ہیں یا داخلی سماجی اختلافات دبانے اور کچلنے کی کوشش کرتی ہیں سماجی اختلافات، تقسم یں اور تنازعات کو حل کرنے کی صلاحیت، جمہوری حکومت کے حق میں ایک اور دلیل ہے لیکن سری لنکا کی مثال ہمیں یاد دہانی کراتی ہے کہ جمہوری حکومت کو اس نتیجہ کوحاصل کرنے کے لیے، دوشرطیں پوری کرنا ضروری ہے:
- یہ بات جاننا ضروری ہے کہ جمہوریت کثرت رائے کی بنیاد پر بننے والی حکومت کو نہیں کہتے کیو نکہ اکثریت ہمیشہ اقلیت کے ساتھ مل کر کام کرنا ضروری محسوس کرتی ہے اس لیے کہ حکومت کے کام عمومی نقطۂ نظر کے ترجمان ہوتے ہیں۔اقلیت واکثریت کی رائیں مستقل نہیں ہوتیں۔
دوبارہ غور کریں
یہ دو خاکے جمہوری سیاست پر سماجی تقسیم کی بنیاد پرپڑنے والے دو مختلف قسم کے ممکنہ اثرات کو دکھا رہے ہیں۔ خاکہ کی ایک مثال لیجیے اور ان دونوں حالات میں جمہوری حکومت کے نتائج کی بنیاد پر ہر ایک پر ایک ایک پیرا گراف لکھیے۔
- یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اکثریت کی حکومت مذہبی، نسلی یا لسانی گروپ وغیرہ کے معنی میں اکثریتی فرقے کی حکومت نہیں ہوسکتی۔ اکثریت کی حکومت کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ کسی بھی فیصلہ لینے کے معاملہ میں یا انتخابات کے معاملہ میں مختلف لوگ اور گروپ ایک اکثریت تشکیل دے سکتے ہیں۔ اسی وقت تک جمہوریت کی حیثیت برقرار رہتی ہے جب تک ہر شہری کو خواہ کچھ ہی وقت کے لیے ہو اکثریت میں آنے کا موقع میسررہتا ہے اگر کسی شخص کو پیدائش کی بنیاد پر اکثریت میں ہونے کا غرور ہے تو پھر اس شخص یا گروہ کے لیے جمہوری حکومت کی رواداری ختم ہوجاتی ہے۔
شہریوں کی آزادی اور وقار
جمہوریت افراد کی آزادی اور وقار کو فروغ دینے میں کسی بھی دوسری طرز حکومت کے مقابلہ زیادہ اعلی مقام رکھتی ہے۔ ہر فرد اپنے ساتھیوں سے عزت و تکریم کاخواہاں ہوتا ہے اکثر افراد کے مابین تنازعات اس لیے پیدا ہوتے ہیں کیوں کہ کچھ لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ عزت وتوقیر کا معاملہ نہیں کیا جاتا۔ عزت اور آزادی کا جذبہ جمہوریت کی بنیاد ہیں۔پوری دنیا کی جمہوریتیں بطور اصول اسے تسلیم کرتی۔ اسے مختلف جمہوریتوں میں مختلف پیمانہ پر حاصل کیاگیا ہے۔ ایسے معاشرے جو ایک زمانہ سے طبقاتی نظام کی بنیاد پر وجود میں آتے ہیں۔ تمام افراد کو برابر تسلیم کرنا ان کے لیے معمولی بات نہیں ہے۔ خواتین کے وقار کے مسئلہ کولیجیے۔ پوری دنیا کے زیادہ تر معاشرے تاریخی طور پر مردوں کے غلبہ والے معاشرے تھے۔ خواتین کی ایک طویل جدوجہد نے کچھ ایسا ماحول تیا رکر دیا ہے کہ آج خواتین کی عزت وتوقیر اور ان کے ساتھ یکساں برتاؤ کرنا جمہوری معاشرے کا ایک لازمی حصہ بن گیا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ خواتین کے ساتھ ہمیشہ عزت وتکریم کا معاملہ کیا جاتا ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک بار جب اصول کو مان لیا جاتا ہے ، تو قانونی اور اخلاقی طورپر جو چیز ناقابل تسلیم ہے اس کے خلاف خواتین کا جنگ چھیڑنا آسان ہوجاتا ہے۔
میں تو اپنے بورڈ کے امتحانات کے لیے ہی پریشان ہوں لیکن جمہوریت میں تو بہت سارے امتحانات ہوتے ہیں اور وہاں کروڑوں ممتحن بھی ہوتے ہیں۔
غیر جمہوری نظام میں ناقابل تسلیم چیزوں کی کوئی قانونی بنیاد نہیں کیوں کہ اس نظام میں انفرادی آزادی اور وقار کو کوئی قانونی اور اخلاقی حیثیت حاصل نہیں۔یہی بات ذات پات کی بنیاد پر عدم مساوات کے باب میں بھی کہی جاسکتی ہے۔ ہندوستان میں جمہوریت نے مراعات سے محروم اور امتیاز کی شکار ذاتوں کے یکساں معیار اور یکساں مواقع کے مطالبات کو مستحکم کیا ہے۔ حالانکہ اب بھی ذات پات کی بنیاد پر عدم مساوات اور ظلم و زیادتی کی شہادتیں موجود ہیں لیکن یہ اخلاقی اور قانونی بنیادوں کی کمی کی وجہ سے ہے۔ شاید یہ قدر افزائی ہی ہے جو عام شہریوں کی حیثیت کو ان کا جمہوری حق بناتی ہے۔
جمہوریت سے وابستہ توقعات بھی کسی جمہوری ملک کے پرکھنے کے معیار کی حیثیت سے کام کرتی ہیں۔ جمہوریت کی بابت ایک خاص بات یہ ہے کہ اس کا امتحان کبھی ختم نہیں ہوتا۔ جیسے ہی جمہوریت ایک ٹسٹ پاس کرتی ہے، دوسرا ٹسٹ سامنے آجاتا ہے۔ جیسے ہی لوگ جمہوریت کے منافع سے فیض یاب ہوتے ہیں، وہ مزید کامطالبہ شروع کردیتے ہیں اور جمہوریت کو اس سے بہتر بنانے کے آرزو مند ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم جمہوریت کے کام کرنے کے طریقوں کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کریں گے تو وہ ہمیشہ مزید مطالبات اور شکایتیں کریں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کا شکایت کرنا بجائے خود جمہوریت کی کامیابی کی دلیل ہے:اس سے پتہ چلتا ہے کہ لوگوں کے اندر صاحب اقتدار کو تنقیدی نگاہ سے دیکھنے اور ان سے توقعات وابستہ کرنے کی صلاحیت اور شعور میں اضافہ ہوا ہے۔اسی طرح جمہوریت کے تئیں عوامی بے چینی سے جمہوری منصوبوں کی کامیابی کا پتہ چلتا ہے۔ یہ چیز لوگوں کو غلامی سے نکال کر آزاد شہری میں تبدیل کردیتی ہے۔ آج کل زیادہ تر افراد یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا ووٹ موجودہ حکومت اور ان کے ذاتی مفادات میں اختلاف پیدا کرتا ہے۔
دوبارہ غور کریں
یہ کارٹون اور گراف اس نکتے کو پیش کرتے ہیں جس میں شہریوں کی آزادی اور وقار کی بات کہی گئی ہے۔ ان جملوں کی نشاندہی کیجیے جو اس کارٹون اور گراف سے متعلق ہیں۔
ماخذ: ایس ڈی ایس اے ٹیم، اسٹیٹ آف ڈیموکریسی ان ساوتھ ایشیا، دہلی، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس،2000
افادیت کے حساب سے ووٹ کی تاثیر کا نظریہ اوپر ذکر کر دیا گیا ہے۔

مشق
- جمہوریت ایک جواب دہ، ذمہ دار اور قانونی حکومت کیسے فراہم کرتی ہے؟
- وہ کونسی شرائط ہیں جن سے جمہوریتیں سماجی تنوع کے لیے گنجائش پیدا کرتی ہیں
- درج ذیل بیانات کی حمایت یا مخالفت میں دلائل دیجیے:
- صنعتی ممالک ہی جمہوریت کو برداشت کرسکتے ہیں لیکن غریب ممالک کو امیر بننے کے لیے آمریت کی ضرورت ہے۔
- جمہوریت مختلف شہریوں کے مابین آمدنی کی عدم مساوات کو کم نہیں کرسکتی۔
- جمہوریت میں ہر شہری کا ایک ووٹ ہے جس کا مطلب ہے کہ کسی غلبہ اور تنازع کا خطرہ نہیں ہے ۔غریب ممالک کی حکومتوں کو غربت کو کم کرنے ، صحت اور تعلیم پر کم اور صنعتوں اور بنیادی ڈھانچہ پر زیادہ خرچ کرنا چاہیے۔
- درج ذیل وضاحتوںمیں جمہوریت کے چیلنجوں کی تعین کیجیے نیز دیئے ہوئے حالات میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط کرنے کے لیے ادارہ جاتی نظام یاپالیسی تجویز کیجیے۔
- عدالت عالیہ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اڑیسہ کے ایک مندرنے،جو دلتوں اور غیردلتوں کے داخلہ کے لیے الگ الگ دروازہ رکھتاتھا، ایک ہی دروازہ سے سب کو داخلہ کی اجازت دے دی۔
- ہندوستان کے مختلف صوبوں میں بڑی تعداد میں کسان خود کشی کر رہے ہیں۔
- گنڈوارا میں جموں اور کشمیر پولس کے ہاتھوں ایک فرضی مقابلہ میں تین شہریوں کے مارے جانے کے الزام کو سنجیدگی سے لیے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے
5 جمہوریت کے سیاق وسباق میں کون سے خیالات درست ہیں۔ جمہوریتوں نے کامیابی کے ساتھ ختم کردیا ہے:
A۔ لوگوں کے مابین تنازعات
B۔ لوگوں کے مابین معاشی عدم مساوات
C۔ حاشیوں پر ڈال دیئے گئے طبقوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا جائے اس بابت رایوں کے اختلافات
D۔ سیاسی عدم مساوات کا خیال
6۔ جمہوریت کی تعین کے سیاق وسباق میں درج ذیل میں سے کون سی چیز اس میں شامل نہیں: جمہوریت کے لیے یقینی بنانا ضروری ہے:
A۔ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات B۔ فرد کا وقار
B۔ اکثریتی حکومت D۔ قانون کی نظر میں یکساں برتائو
7 جمہوریت میں سماجی اورسیاسی عدم مساوات پر مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے:
A۔ جمہوریت اور ترقی دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
B۔ جمہوریتوں میں عدم مساوات موجود ہے۔
C۔ آمریت کے تحت عدم مساوات کا وجود باقی نہیں رہتا۔
D۔ آمریت جمہوریت سے بہتر ہے۔
8۔ درج ذیل اقتباس کو پڑھیے۔
ننو روزانہ روزی کمانے والا شخص ہے۔ وہ مشرقی دہلی میں جھگیوں والی ویلکم مزدور کا لونی میں رہتا ہے۔ اس کا راشن کارڈ گم ہوگیا اور اس نے جنوری 2004میں ایک ڈپلی کیٹ راشن کارڈکی درخواست دی۔ اس نے تین مہینہ تک مقامی غذا اور شہری سپلائی آفس کے متعدد چکر لگائے لیکن کلرک او رذمہ داران اس کی طرف دیکھتے بھی نہ تھے۔ اس کا کام کرنا یا اس کی درخواست کا مرحلہ بتانا تو دیگر بات تھی ۔ آخر کار اس نے اطلاعات کے حق کے قانون کے تحت ایک درخواست دی جس میں معلوم کرنے کی کوشش کی کہ اس کی درخواست پر روزانہ کی پیش رفت کیاہے۔ وہ کون سے اہلکار ہیں جو اس کی درخواست پر کاروائی کریں گے۔ اور ضـروری کاروائی نہ کرنے کی صورت میں ان کے خلاف کیا کاروائی کی جاسکتی ہے۔ اطلاعات حاصل کرنے کے حق کے قانون کے تحت درخواست دینے کے ایک ہفتہ کے اندر محکمہ غذا کی طرف سے ایک انسپکٹر اس کے پاس پہنچا۔اس نے اسے اطلاع دی کہ کارڈ بن کر تیار ہے۔ اسے وہ آفس سے حاصل کرلے۔ دوسرے دن جب ننو کارڈ لینے آفس گیا تو اس کے ساتھ غذا اور سپلائی آفیسر کی طرف سے جو اس سرکل کا افسر تھا، بڑی گرم جوشی کا مظاہرہ کیا۔ ایف ایس او نے اسے چائے کی پیالی پیش کی اور درخواست کی اس نے جو اطلاعات حاصل کرنے کے حق کے تحت درخواست دی ہے اسے واپس لے لے کیوں کہ اس کا کام پہلے ہی سے مکمل ہوچکا ہے۔
ننو کی مثال سے کیا ظاہر ہوتا ہے۔ذمہ داران پر ننو کے ایکشن کا کیا اثر پڑا؟ اپنے والدین سے ان کے ان تجربات کو معلوم کرو جب وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے سرکاری عہدیداروں سے رابطہ کرتے ہیں۔