باب 8
جمہوریت کو درپیش چیلنج
(Challenges to Democracy)
اجمالی تعارف
یہ اختتامی باب آپ نے جمہوری سیاست سے متعلق گزشتہ دوسالوںمیں جو کچھ بھی معلومات کی ہیں ان سب بنیادی سوالات کا اجمالی ذکرکرتا ہے: وہ کون سے چیلنج درپیش ہیں جن کا مقابلہ ہمارے ملک میں یا کسی بھی دوسری جگہ جمہوریت کرتی ہے؟جمہوری سیاست کی اصلاح کیسے کی جاسکتی ہے؟ ہماری جمہوریت اپنے نتائج اور عمل میں کیسے زیادہ جمہوری ہوسکتی ہے؟ یہ باب ان سوالوں کے جوابات نہیں دیتا۔ یہ محض ان راہوں کی کچھ تجاویز پیش کرتا ہے جن پر چل کر ہم اصلاحات اور چیلنجوں کامقابلہ کرسکتے ہیں یہ آپ کو دعوت دیتا ہے کہ آپ خود ان مسائل پر غور کریں اور ذاتی غوروفکر کے نتیجہ میں ان چیلنجوں پر قابو پانے کی کوشش کریں۔ اپنے نسخۂ عمل کے ذریعہ انھیں حل کرنے کی سعی کریں اور جمہوریت کی خود اپنی تعریف متعین کریں۔
چیلنج کے بارے میں غوروفکر
کیا آپ کو اپنی نویں جماعت کی سیاسیات کی درسی کتاب کا پہلا باب یاد ہے؟ ہم نے گذشتہ سوسالوں پر مشتمل پوری دنیا میں جمہوریت کی توسیع کا جائزہ لیا ہے۔ اس کے بعد ہمارے جائزہ نے ہمارے بنیادی تاثر کو صحیح ثابت کردیاہے: جمہوریت معاصر دنیا میں ایک غالب طرز حکومت ہے ۔ اس کا کوئی سنجیدہ مقابل اور حریف نہیں ہے۔ تاہم جمہوری سیاست کے مختلف پہلوؤں کا ہمارامطالعہ ہمیں کچھ اوربھی بتاتا ہے۔ جمہوریت کا وعدہ پوری دنیا میں کہیں بھی حقیقت سے ہم آہنگ نظر نہیں آتا۔ جمہوریت کو کوئی چیلنج کرنے والے حریف نہیں تاہم اس کایہ مطلب نہیں کہ اس کے سامنے موانع ومشکلات ہیں ہی نہیں۔
جمہوریت کے اس سفر میں ہم نے مختلف عنوانات سے ایسے بہت سے اہم چیلنجوں کا ذکر کیا ہے جس کا جمہوریت پوری دنیا میں سامنا کررہی ہے۔ چیلنج کامطلب محض کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہم عام طور پر انھیں مشکلات کو چیلنج کہتے ہیں جو اہم ہوں اور جن پر قابو پایا جاسکے۔ چیلنج دراصل اس مشکل کو کہتے ہیں جس کا تعلق داخلی طور پر ترقی کے مواقع سے ہوتا ہے۔ ایک بار جب ہم ایک چیلنج پر قابو پاتے ہیں تو اس کے بعد ہمارے سامنے اس سے بڑا چیلنج آکھڑا ہوتا ہے۔
مختلف ممالک کو مختلف قسم کے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ کیا آپ جمہوری حکومتوں کا سنہ2000کابناوہ نقشہ دوبارہ ملاحظہ فرماسکتے ہیں جو آپ کی درسی کتاب میں منسلک تھا۔ تقریباً ایک چوتھائی دنیا آج بھی جمہوری حکومت کے تحت نہیں ہے۔ دنیا کے ان حصوں میں جمہوریت کے لیے چیلنج بہت سخت ہے۔ان ممالک کو جمہوریت میں بدلنے اور اس کے بعد انھیں اپنے یہاں جمہوری حکومت کو رواج دینے کے بنیادی چیلنج کا سامنا ہے۔ اس نے غیر جمہوری اثرات کو کم کرنے، فوجی حکومت سے گریز کرنے اور ایک آزاد، خود مختار اور فرائض منصبی ادا کرنے والی مملکت کو وجود میں لانے کے عمل کو پیچیدہ کردیا ہے۔ بہت سی مستحکم جمہوریتیں توسیع کے چیلنج کا سامنا کررہی ہیں۔ انھیں جمہوری حکومت کے بنیادی اصولوں کو تمام علاقوں، مختلف سماجی گروپوں اور مختلف اداروں پر منطبق کرنا پیچیدہ اور مشکل نظر آتا ہے۔ مرکزی یا صوباتی حکومتیں کو تفویض اختیارات کے تعلق سے مقامی حکومتوں کو یقین دہانی کرانا، وفاقی اصولوں کے بشمول خواتین اور اقلیتی گروپوں، تمام وفاقی اکائیوں تک توسیع کرنا، اس چیلنج میں شامل ہیں۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ غیر جمہوری انداز سے کم سے کم فیصلہ ہونا چاہیے۔ بشمول ہندوستان اور دوسری جمہوریتیں جیسے امریکہ وغیرہ زیادہ تر ممالک اس چیلنج کا سامنا کررہے ہیں۔

درجہ گیارہ میں پھر ملیں گے معلوم نہیں آپ سیاست پڑھیں گے یا نہیں ۔خدا حافظ
اب الوداع کہنے کا وقت آگیا ہے اللہ تعالی تمھیں امتحان میں کامیاب کرے خدا حافظ
جمہوریت کی جڑیں مضبوط کرنے اور مستحکم کرنے کے تیسرے چیلنج کا کسی نہ کسی شکل میں تمام جمہوریتوں کو سامنا ہے۔ یہ جمہوریت کا عمل اور اس کے اداروں کو مستحکم کرنے سے تعلق رکھتا ہے۔ جو اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب لوگ جمہوریت کے تئیں اپنی توقعات کو حقیقت کاجامہ پہنانے کی کوشش کریں۔ لیکن عام لوگ مختلف سماجوں میں جمہوریت سے مختلف توقعات وابستہ رکھتے ہیں۔ تاہم یہ چیلنج دنیا کے مختلف خطوں میں مختلف معنی ومفہوم رکھتا ہے۔عام معنی میں،یہ ان اداروں کو مستحکم کرنے کا مفہوم رکھتا ہے جن کے ذریعہ عوام کی شرکت اور کنٹرول میں مدد ملتی ہے۔ یہ حکومت کے فیصلہ لینے کے عمل میں طاقت ور لوگوں اور مالداروں کے اثرات اور کنٹرول کو کم کرنے کی کوشش کا متقاضی ہے۔
ہم نے ان مختلف مثالوں اورکہانیوں میں جسے ہم اپنی نوویں جماعت کی درسی کتاب میں پڑھ چکے ہیں اور اسی کتاب کے ابتدائی ابوب میں ان چیلنج کا ذکر کردیا ہے۔ آئیے ہم اپنے جمہوریت کے سفر میں اہم مراحل کی طرف واپس چلیں، اپنی یاد داشت کو تازہ کریں اور ان چیلنجوں کو نوٹ کریں جن میں سے ہر ایک سے جمہوریت نبرد آزما ہے۔
مختلف سیاق وسباق، مختلف چیلنج
ان میں سے ہر کاٹون جمہوریت کے ایک چیلنج کی نمائندگی کرتا ہے۔ براہِ کرم اس چیلنج کی وضاحت کریں نیز پہلے سیکشن کے مذکورہ تین زمروں میں سے کسی ایک زمرہ میں انھیں شامل کریں۔
جمہوریت کا مشاہدہ کرتے ہوئے
مبارک پھر منتخب ہو گئے

حصول دولت کی کشش
آزاد جنسی مساوات
واقعہ اور پس منظر
چائل: جزل پینوچیٹ کی حکومت شکست کھاگئی لیکن فوج اب بھی بہت سے اداروں کے کنٹرول میں ہے
پولینڈ: اتحاد کی پہلی کامیابی کے بعد، حکومت نے مارشل لا نافد کردیا اور اتحاد پر پابندی عائد کردی۔
گھانا: حصول آزادی کے فوراً بعد نکرومہ صدر منتخب ہوگئے۔
میانمار: سُوکی 15سال سے زیادہ عرصہ سے گھر میں نظر بند ہیں، فوجی حکومت نے عالمی سطح پراپنی قبولیت حاصل کرلی ہے۔
بین الاقوالی تنظیمیں: امریکہ سپر پاور ہونے کی وجہ سے اقوام متحدہ کو نظر انداز کرتا ہے اور یک طرفہ کاروائی کرتا ہے۔
میکسیکو: 2000میں پی آر آئی کو شکست دینے کا بعد دوسرے آزاد انتخاب۔ شکست کھانے والا نمائندہ دھاندلی کا الزام لگاتا ہے۔
چین: کمیونسٹ پارٹی معاشی اصلاح کی پالیسی اختیار کرتی ہے لیکن سیاسی اقتدار پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھتی ہے۔
پاکستان: جزل مشرف استصواب رائے (Referendum) کرواتے ہیں، ووٹرلسٹ میں فراڈ کے الزامات۔
عراق: ملک میں فرقہ ورانہ تشدد اس حد تک پھیل گیا کہ نئی حکومت اپنا اقتدار قائم کرنے میں نا کام دکھائی دیتی ہے۔
جنوبی افریقہ: منڈیلا سرگرم سیاست سے ریٹائر ہوگئے۔ ان کے بعد آنے والے حکمراںمبیکی پر سفید فام اقلیتوں کو دی گئی مراعات واپس لینے کا دبائو ۔
امریکہ،گوانتاناموکھاڑی: اقوام متحدہ کے سکریڑی جزل نے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا، امریکہ نے جواب دینے سے انکار کردیا
سعودی عربیہ: خواتین کو عوامی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں۔ اقلیتوں کو کوئی مذہبی آزادی حاصل نہیں۔
یوگوسلاویہ: کوسووہ صوبہ میں سرب اور البانیوں کے مابین نسلی کشیدگی میں اضافہ۔ یوگوسلاویہ انتشار کاشکار
بیلجیم: دستوری تبدیلی کا ایک دور پورا ہوگیا لیکن ڈچ کے ترجمان مطمئن نہیں ہیں۔ وہ زیادہ خود مختاری چاہتے ہیں۔
سری لنکا: حکومت اور ایل ٹی ٹی ای کے مابین مذاکرات امن ناکام ہوگئے، تشدد کا سلسلہ دوبارہ شروع۔
امریکہ، شہری حقوق: سیاہ فاموں نے مساوی حقوق حاصل کرلیے لیکن اب بھی غریب کم تعلیم یافتہ اور بے حیثیت ہیں۔
شمالی آئر لینڈ:خانہ جنگی ختم ہوگئی لیکن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کو ابھی اعتماد بحال کرنا ہے۔
نیپال: آئین ساز اسمبلی تقریباً منتخب ہوگئی ہے، ترائی کے علاقے میں بے چینی ہے، ماؤنوازوں نے ہتھیار نہیں ڈالے۔
بولیویا: پانی کی جدوجہد کے ایک حامی‘ مورایس وزیر اعظم ہوگئے، ایم این سی کو ملک چھوڑنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
ان حالات میں جمہوریت کے چیلنجوں کی آپ کی وضاحت
(مثال) تمام سرکاری اداروں پرشہری کنٹرول قائم کرنا، پہلا کثیر جماعتی انتخاب کروانا، تمام سیاسی رہنماؤں کو جلا وطنی سے واپس بلانا۔
چیلنج کی مختلف قسمیں
اب جن چیلنج کو آپ نے نوٹ کیا ہے۔آئیے ان کو جمع کرکے کچھ وسیع زمرے بنائیں۔ذیل میں جمہوری سیاست کے مقامات یادائرے دیئے گئے ہیں۔ آپ ان مخصوص چیلنج میں سے ہر ایک کے سامنے ان چیلنج کاذکر کرسکتے ہیں جسے آپ نے یا ایک سے زیادہ ملکوں یا گزشتہ ابواب کے کارٹونوں میں پایا ہے۔ مزید برآں ان میں سے ہر ایک دائرہ میں کوئی ایک چیز ہندوستان کی شامل کریں۔ الغرض اگر کچھ چیلنج ایسے ہوں جو ذیل میں دیے گئے کسی زمرہ میں نہ آتے ہوں تو آپ نیا زمرہ بناکر کچھ چیزیں اس کے تحت درج کرسکتے ہیں۔
دستوری ساخت.............................................................................................................................................................................
جمہوری حقوق:.............................................................................................................................................................................
اداروں کی کارکردگی:.......................................................................................................................................................................
انتخابات.............................................................................................................................................................................
وفاقیت، لامرکزیت.............................................................................................................................................................................
تنوع کی گنجائش.............................................................................................................................................................................
سیاسی تنظیمیں.............................................................................................................................................................................
کوئی دوسرا زمرہ.............................................................................................................................................................................
کوئی دوسرا زمرہ.............................................................................................................................................................................
آئیے دوبارہ اس کی زمرہ بندی کریں، اس بار ان چیلنجوں کی ماہیت کے مطابق اس طرح زمرہ بندی کی جائے جس طرح پہلے سیکشن میں کی گئی تھی، اورہر زمرہ میں ہندوستان سے کوئی نہ کوئی مثال شامل کی جائے۔
بنیادی چیلنج............................................................................................................................................................................
توسیع کا چیلنج............................................................................................................................................................................
جڑیں مستحکم کرنے کا چیلنج..............................................................................................................................................................
آئیے اب صرف ہندوستان کی بابت غورکریں۔ ان تمام چیلنجوں پر غور وفکر کیجیے جن سے معاصر ہندوستان دوچار ہے۔ ان پانچ چیلنجوں کی فہرست بنائیے جنکا سب سے پہلے ذکر ہونا چاہیے۔ اور یہ فہرست سازی اولیت کی بنیاد پر ہونی چاہیے مثلاً جس چیلنج کو آپ سب سے اہم سمجھتے ہیں اسے فہرست میں برابر درج کیجیے۔ اس چیلنج کی ایک مثال دیجیے اور ایسے دلائل دیجیے جن سے اس کی اولیت متعین ہوتی ہو۔
اولیت جمہوریت کا چیلنج مثال ترجیح کے دلائل
1.
2.
3.
4.
5.
سیاسی اصلاحات کی بابت غوروفکر
ان چیلنجوں میں سے ہر ایک کی اصلاح ممکن ہے۔ جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا،ہم محض اس لیے ان چیلنجوں سے بحث کر رہے ہیں کیوں کہ ان پر قابو پایا جاسکتا ہے۔عام طورپر جمہوریت کے مختلف چیلنجوں پر قابو پانے کی بابت تمام تجاویز اور مشوروں کو جمہوری اصلاح یا سیاسی اصلاح کہا جاتا ہے۔ ہم یہاں سیاسی اصلاحات کی کوئی خاطر خواہ فہرست نہیں دینے جارہے ہیں کیونکہ کوئی ایسی فہرست ہے ہی نہیں ۔ اگرتمام ممالک ایک ہی طور کا چیلنج نہیں رکھتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک سیاسی اصلاح کا ایک ہی نسخہ استعمال نہیں کرسکتا۔ ہم کار کی مرمت کا کوئی طریقۂ کار متعین نہیں کرسکتے جب تک ہمیں یہ نہ معلوم ہو کہ کار کا ماڈل کیا ہے، خرابی کیاہے، کون سے اوزار دستیاب ہیں اور کارکس جگہ ٹوٹی ہے؟ وغیرہ۔
کیا ہم آج کے سیاق سباق میں اپنے ملک کی اصلاح کے لیے کم از کم اس طرح کی کوئی فہرست رکھتے ہیں۔ ہم کچھ تجاویز کو قومی سطح پر اصلاحات کے لیے آگے بڑھا سکتے ہیں۔ لیکن اصلاحات کا حقیقی چیلنج قومی سطح پر نہیں ہوسکتا۔ صوبائی یامقامی سطح پر کچھ اہم سوالات غوروفکر کے متقاضی ہیں ۔ اس کے علاوہ، اس طرح کی کوئی فہرست کچھ دنوں بعد بے معنی ہوسکتی ہے اس لیے اس کے بجائے اپنے کچھ ایسے وسیع خطوط پر غور کریں جو ہندوستان میں سیاسی اصلاح کے وسائل و ذرائع کو ذہن میںرکھ کر ترتیب دیا جاسکے۔
- یہ سیاسی اصلاحات کی قانونی راہیں سوچنے اور ناپسندیدہ چیزوں پر پابندی لگانے کے نئے قوانین پر غوروفکر کرنے کے کے لیے نہایت حوصلہ افزا بات ہے لیکن اس حوصلہ افزائی کی مدافعت کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ، قانون سیاسی اصلاح میں ایک اہم رول ادا کرتا ہے۔ قانون میں محتاط طور پر لائی گئی تبدیلیاں غلط سیاسی عمل کی حوصلہ شکنی اور اچھے کاموں کی حوصلہ افزائی کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ لیکن قانون دستوری تبدیلیاں بجائے خود جمہوریت کے چیلنجوں پر قابو نہیں پاسکتیں۔ یہ کرکٹ کے قوانین جیسی بات ہے۔جیسے کہ ایل بی ڈبلیو فیصلوں کے قوانین میں تبدیلی نے منفی بیٹنگ کی حکمت عملی کو کم کرنے میں مدد دی۔ یہ خاص طور پر کھلاڑیوں، کوچوں، اور منتظمین کے تعاون سے کیاگیا ہے اسی طرح،جمہوری اصلاحات خاص طورپر سرگرم سیاسی کارکنوں، سیاسی جماعتوں، تحریکوں، اور سیاسی طور پر باشعور شہریوں کے ذریعہ انجام پا سکتی ہیں۔
- کسی بھی قانونی تبدیلی کے لیے محتاط طور پر یہ دیکھنا چاہیے کہ سیاست پر اس کا کیا اثر پڑے گا کبھی کبھی نتائج کے منفی اثرات بھی پڑسکتے ہیں مثلا بہت سی ریاستوں نے ان تمام لوگوں پر جن کے دوسے زیادہ بچے ہیں پنچائت کے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کردی ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس سے بہت سے غریب اور خواتین کے جمہوری مواقع بے معنی ہوگئے حالانکہ یہ مطلوب نہیں تھا۔ عام طور پر وہ قوانین جن کے ذریعہ کچھ چیزوں پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے سیاست میں زیادہ کامیاب نہیں ہوتے۔ایسے قوانین جو سیاسی کارکنوں کے اندر اچھی چیزیں کرنے کی تحریک پیدا کرتے ہیں، زیادہ تبدیلی کا موجب ہوتے ہیں۔ بہترین قوانین وہ ہیں جو لوگوں کو جمہوری اصلاحات کے مواقع فراہم کریں۔قانون حق اطلاعات ایسے قانون کی ایک بہترین مثال ہے جو لوگوں کو جمہوریت میں نگراں کی حیثیت سے کام کرنے اور یہ معلوم کرنے کا حق دیتا ہے کہ حکومت میں کیا کچھ ہو رہا ہے۔ اس طرح ایک قانون بدعنوانی کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا اور ان موجود قوانین میں اضافہ کرتا ہے جو بدعنوانی پر پابندی عائد کرتے اور سختی سے جرمانہ عائد کرتے ہیں۔
- جمہوری اصلاحات اصولی طورپر سیاسی عمل کے ذریعہ ردیہ عمل لائی جاسکتی ہیں۔ تاہم سیاسی اصلاحات کا زیادہ اور جمہوری عمل کے طریقہ کار پر ہونا چاہیے۔ جیسا کہ ہم نے سیاسی جماعتوں کے باب میں بحث کی ہے، زیادہ تر توجہ عام شہریوں کے ذریعہ سیاسی شرکت کے معیار کو بہتر بنانے اور اس میں اضافہ کرنے پر دی جانی چاہیے۔
- کسی بھی سیاسی اصلاحات کے منصوبے کے تحت محض یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ بہترین حل کیا ہے بلکہ یہ بھی سوچناچاہیے کہ کون اس پر عمل در آمد کرے گا اور کیسے۔ یہ سوچنا بڑی دانشمندی کی بات نہ ہوگی کہ مقننہ ایسے قوانین پاس کردے گی جو تمام سیاسی جماعتوں اور اراکین پارلیمنٹ کے خلاف ہوں گے۔لیکن ایسے اقدامات جو جمہوری تحریکات ، شہریوں، تنظیموں اور ذرائع ابلاغ پر اعتماد کرکے کئے گئے ہوں یقینا کامیاب ہوں گے۔
آئیے ان عمومی ہدایات کو ذہن میں رکھیں او رجمہوریت کے چیلنجوں کی چند مخصوص مثالوں پر نگاہ ڈالیں جو اصلاح کے بعض اقدامات کی متقاضی ہیں۔ آئیے ہم اصلاح کی کچھ ٹھوس تجاویز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں کچھ چیلنج ایسے ہیں جو اصلاحات کے متقاضی ہیں۔ان چیلنجوں پر تفصیل سے بحث کیجیے اور اپنے ترجیح شدہ حل کو مع دلائل بیان کیجیے۔ یاد رکھیے کہ یہاں پیش کیے گئے حق انتخاب میں نہ کوئی ’’صحیح‘‘ ہے نہ ’’غلط‘‘ آپ ایک سے زیادہ حق انتخاب بھی منتخب کرسکتے ہیں یا کچھ ایسی چیزوں کو منتخب کرسکتے ہیں جن کی یہاں پیش کش نہیں کی گئی ہے۔ لیکن آپ اپنے حل کی تفصیل اور اپنے انتخاب کے دلائل بیان کیجیے۔
ڈاکٹروں کی غیر حاضری
چیلنج
حکومت اترپردیش نے نے ایک سروے کروایا اور پایا کہ دیہی ابتدائی صحت مراکز میں متعینہ ڈاکٹروں میں سے بیشتر وہاں نہیں ہیں۔وہ قصبات میں رہتے ہیں نجی پر یکٹس کرتے ہیں اور جس گاؤں میں ان کی تقرری ہوتی ہے مہینہ میں ایک دوبار چلے جاتے ہیں۔ گاؤں والے قصبات کا سفر کرتے ہیں اور معمولی امراض کے لیے غیر سرکاری ڈاکٹروں کو بھاری فیس ادا کرتے ہیں۔
- حکومت کو چاہیے کہ وہ ڈاکٹروں کے لیے یہ لازمی قرار دے کہ وہ اسی گاؤں میں رہیں جہاں ان کی تقرری ہوئی ہے ورنہ ان کی سروس ختم کردی جائے گی۔
- ضلع انتظامیہ اور پولیس کوڈاکٹروں کی حاضری چیک کرنے کے لیے اچانک چھاپہ مارنا چاہیے۔
- ڈاکٹروں کی ایسی سالانہ رپورٹ لکھنے کے لیے دیہی پنچایت کو اختیار دیا جانا چاہیے جو گرام سبھا کے اجلاس میں پڑھی جاسکے۔
- اس طرح کے مسائل محض اسی صورت میں حل کئے جاسکتے ہیں جب اتر پردیش کو متعدد ایسے چھوٹے صوبوں میں تقسیم کردیا جائے جس کا موثر انداز سے انتظام کیا جاسکے۔
سیاسی امداد
چیلنج
اوسطاً گزشتہ انتخابات میں حصہ لینے والے تمام نمائندے ایک کروڑ سے زیادہ کی پراپرٹی کے مالک تھے۔یہ صاف بات ہے کہ محض مالدار لوگ یا جس کی امداد کی یقین دہائی کرائی گئی، وہی انتخاب میں حصہ لے سکتا ہے۔زیادہ تر سیاسی جماعتیں ایسے پیسوں پر انحصار کرتی ہیں جو بڑے بڑے تاجروں کے ذریعہ بطور عطیہ دئیے جاتے ہیں۔ مایوسی کی بات یہ ہے کہ سیاست میں دولت کی کارفرمائی غریبوں کی آواز کو، جو کچھ بھی تھوڑی بہت ہے، جمہوریت میں کم کردے گی۔
- تمام سیاسی جماعتوں کا آخری کھاتہ عوامی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ان کھاتوں کی سرکاری اہلکاروں کو جانچ کرنا چاہیے۔
- حکومتی امداد پر مبنی انتخاب ہونا چاہیے۔ جماعتوں کو حکومت کی طرف سے کچھ امداد ملنی چاہیے تاکہ وہ انتخابی ضروریات میں خرچ کرسکیں۔
- شہریوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کہ وہ سیاسی جماعتوںاور کارکنوں کو زیادہ عطیات فراہم کرائیں۔ ان عطیات کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ ہوناچاہیے۔
آپ کی پسند کا کوئی اور مسئلہ
چیلنج
اصلاح کی تجاویز
سیاستدانوں کی اصلاحات

روز نے محترمہ لنگدوہ سے کلاس کے باہر ملاقات کا پروگرام بنایا، کچھ دن سے وہ یہ کچھ کرنے کا منصوبہ بنارہی تھی۔’’میم! کینڈاکا وہ کارٹون مجھے واقعی پسند تھا۔‘‘ روز کسی بھی طرح گفتگو کا آغاز کرنا چاہتی تھی۔ ’’کون سا‘‘ محترمہ لنگدوہ کویاد نہیں آرہا تھا۔ میم، وہ جو کہتا ہے کہ98%فیصد کینڈا کے لوگ چاہتے ہیں کہ تمام سیاستدانوں کو کارکی ڈگی میں مقفل کرکے نیاگرا(Niagra)جھرنے میں بہا دینا چاہیے۔ میں اپنے سیاستدانوںکی بابت غور کررہی تھی۔ ہمیں تو بہت بڑی لاری اور برہم پترجیسی ندی کی ضرورت ہوگی!‘‘
لنگدوہ محترمہ روزکی گفتگو پر مسکرائیں۔ بیشتر ہندوستانیوں کی طرح وہ بھی ملک کے ان سیاستدانوں کے رویے سے جو حکومتوں اور جماعتوں کو چلا رہے ہیں، ناخوش تھیں۔لیکن وہ چاہتیں تھیں کہ روز مسائل کی پیچیدگی کو تسلیم کرے۔ کیا تم سمجھتی ہو کہ اگر ہم سیاستدانوں سے نجات حاصل کرلیں تو ہمارے مسائل حل ہوجائیں گے۔‘‘ انھوں نے پوچھا۔’’ہاں،میم کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمارے ملک میں جتنے بھی مسائل ہیں ا ن سب کے ذمہ دار سیاستدان ہیں یعنی بدعنوانی، انتشار ذات پات ،فرقہ وارانہ تشدد، جرائم پرستی اسی طرح کی تمام ہی چیزیں۔‘‘
میڈم لنگدوہ: اس طرح تو ہم سب لوگوں کو وقت کی بہت ساری چیزوں سے نجات حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا تمہیں یقین ہے کہ جو لوگ ان کی جگہ لیں گے وہ اس طرح کے نہیں ہوں گے؟ روز: اچھا، میں نے تو یہ سوچاہی نہیں تھا۔ لیکن ہوسکتا ہے ایسے نہ ہوں، ہوسکتا ہے ہمیں ان سے بہتر کرداروالے رہنما ملیں۔‘‘
میڈم لنگدوہ: میں تمہاری اس بات سے متفق ہوں کہ حالات بدل بھی سکتے ہیں اگر لوگ زیادہ احتیاط کا مظاہرہ کریں۔ بدعنوانی کو مسترد کرنے کے لیے مستعد رہیں، سیاستدانوں پر پابندی عائد کردیں اور صحیح آدمی کو منتخب کریں اور ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ تمام سیاستدان بدعنوان نہ ہوں…‘‘
’’میم آپ یہ کیسے کہہ سکتی ہیں‘‘ روز نے مداخلت کی۔
میڈم لنگدوہ:’’میں نے یہ نہیں کہا کہ سیاستدان بدعنوان نہیں ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ جب تم سیاستدانوں کے بارے میں سوچو تو تم ان بڑے لوگوں کے بارے میں سوچو جن کے فوٹو اخباروں میں نظر آتے ہیں۔ میں ان سیاسی رہنماؤں کے بارے میں سوچتی ہوں جنھیں میں جانتی ہوں۔ میں یہ نہیں سمجھتی کہ وہ سیاسی رہنماں جنھیں میں جانتی ہوں میرے اپنے ساتھیوں، حکومت کے اہلکاروں، ٹھیکیداروں یا دوسرے متوسط درجہ کے پیشہ وروں سے زیادہ بدعنوان ہیں ، سیاستداں کی بدعنوانی دکھائی دیتی ہے اورہمارے اندر اس سے یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ تمام سیاستداں بدعنوان ہیں۔ ان میں سے کچھ ایسے ہیں اور کچھ نہیں ہیں۔‘‘ روز خاموش نہیں رہی۔’’میم، میرا مطلب یہ ہے کہ بدعنوانی کو ختم کرنے کے اور ذات پات اور فرقہ پرستی کو ہوا دینے کے غلط عمل پر پابندی عائد کرنے کے لیے ایک سخت قانون ہونا چاہیے۔
میڈم لنگدوہ: ’’مجھے یقین نہیں روز ۔ایک بات یہاں پہلے سے سیاست میں مذہب اور ذات پات کے استعمال کرنے پر پابندی عائد کرنے والا قانون موجود ہے۔ سیاستدانوں کو اس کی ضمنی راہیں معلوم ہوتی ہیں۔قوانین اس وقت تک جب تک کہ مذہب او رذات پات کی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم کرنے اور غلط رہنمائی کرنے سے روکا نہ جائے، تقریباً بے اثر ثابت ہوتے ہیں۔جب تک لوگ اور سیاستدان مذہب اور ذات وبرادری کی رکاوٹیں دورنہیں کرتے، آپ حقیقی جمہوریت کا احساس نہیں کرسکتیں‘‘۔
جمہوریت کی تعریف نو
ہم نے گزشتہ سال جمہوریت کی ایک عمومی تعریف سے اس سفر کا آغاز کیا تھا۔کیا آپ کو وہ یاد ہے؟ گزشتہ سال آپ کی درسی کتاب کے دوسرے باب میں کیا تعریف کی گئی تھی؟ جمہوریت ایک ایسی طرز حکومت ہے جس میں عوام کے ذریعہ حکمرانوں کا انتخاب عمل میں آتا ہے۔ پھر ہم نے کئی واقعات کا مشاہدہ کیا اور اس کی خصوصیات میں اضافہ کے لیے اس کی تعریف میں معمولی توسیع کی:
- عوام کے ذریعہ منتخب حکمرانوںہی کو تمام اہم فیصلے لینا چاہیے
- انتخابات میں موجودہ حکمرانوں کو بدلنے کے لیے عوام کو منصفانہ موقع اور اختیار ملنا چاہیے۔
- یہ اختیار اور موقع مساوی طور پر تمام لوگوں کو ملنا چاہیے، اور
- اس اختیار کا استعمال لازماًایک ایسی حکومت کے لیے راستہ صاف کرے جو دستور کے بنیادی قوانین اور شہریوں کے حقوق میں محدود ہو:
ہوسکتا ہے کہ آپ اس سے مایوس ہوں کہ تعریف کسی ایسے اعلی نمونہ کی طرف رہنمائی نہیں کرتی جمہوریت میں ہم جس کی توقع کرتے ہیں۔ لیکن عملی معنی میں ہم نے دانستہ طور پر شروع میں جمہوریت کی تعریف مختصر لیکن واضح الفاظ میںکی ہے۔ اس سے ہمیں جمہوری اور غیر جمہوری حکومتوں کے مابین فرق واضح کرنے کا موقع ملا۔
یہ بات آپ کے علم میں لائی جاچکی ہے کہ جمہوری حکومت اور سیاست کے مختلف پہلوئوں پر اپنی بحث کے طریقۂ کار میں ہم نے اس تعریف سے بہت کچھ تجاوز کیاہے:
- جمہوری حقوق پر ہم نے تفصیل سے بحث کی ہے او ریہ ذکر کیا ہے کہ یہ حقوق ووٹ دینے، انتخابات میں حصہ لینے اور سیاسی تنظیمیں بنانے کے حق تک محدود نہیں ہیں ہم نے کچھ ایسے سماجی معاشی حقوق سے بھی بحث کی ہے جنھیں ایک جمہوریت کو اپنے شہریوں کو عطا کرنا چاہیے۔
- ہم نے تقسیم اختیارات کا جمہوریت کی روح کی حیثیت سے ذکر کیا ہے اور بحث کی ہے کہ حکومتیں اور سماجی گروپوں کے مابین تقسیم اختیارات جمہوریت میں کس حدتک ناگزیر ہے۔
- ہم نے جائزہ لیا کہ کیسے جمہوریت اکثریت کی ظالمانہ حکومت نہیں ہوسکتی اور کیوں کر اقلیتوں کی آواز کا احترام جمہوریت کے ـ لیے ضـروری ہے۔
- جمہوریت کی ہماری بحث حکومت اور اس کی سرگرمیوں کے ماوراتک وسیع ہوگئی ہے۔ ہم نے بحث کی ہے کہ ذات پات،مذہب اور جنس کی بنیاد پر امتیاز کا خاتمہ جمہوریت میں کس حدتک اہم ہے۔
- آخر میں ہم نے کچھ بحث ان نتائج کی بابت کی تھی جس کی توقع کوئی بھی ایک جمہوریت سے کرسکتا ہے۔
اس ساری بحث میں ہم نے گزشتہ سال جو جمہوریت کی تعریف کی تھی اس سے تجاوز نہیں کیا ہے۔ اس کے بعدہم نے جمہوریت کی ایسی تعریف کی ہے جس کے مطابق وہ کم از کم کیا چیز ہے جس کے ذریعہ کسی بھی ملک کو ایک جمہوری ملک قرار دے سکتے ہیں۔ اپنی بحث کے دائرہ میں ہم نے ان مطلوبہ شرطوں کو بھی شامل کیا ہے جنھیں ایک جمہوری ملک کو پوری کرنا چاہیے۔ ہم نے جمہوریت کی تعریف سے آگے بڑھ کر ایک اچھی جمہوریت کی وضاحت کی ہے۔
ایک اچھی جمہوریت کی ہم کس طرح تعریف کرسکتے ہیں؟ ایک اچھی جمہوریت کہی جانے کے لیے لازماً ایک جمہوریت کو کن خصوصیات کا حامل ہونا چاہیے۔ اور اگر وہ ایک اچھی جمہوریت ہے تو کیاچیزیں اس میں لازماً نہیں ہونا چاہیے؟ اس کی آپ کو وضاحت کرنی ہے۔
بین السطور پڑھتے ہوئے

بہتر جمہوریت کی آپ کی اپنی تعریف لکھنے کے لیے یہ جگہ خالی رکھی گئی ہے۔
(یہاں اپنا نام لکھیں)........................................... کی بہترین جمہوریت کی تعریف (زیادہ سے زیادہ50حروف ):
......................................................................................................................................
......................................................................................................................................
......................................................................................................................................
......................................................................................................................................
......................................................................................................................................
......................................................................................................................................
......................................................................................................................................
خصوصیات (محض اتنے ہی نکات بیان کیجیے جتنا آپ چاہتے ہوں۔اور کم سے کم نکات میں اسے سمیٹنے کی کوشش کیجیے۔
1. ......................................................................................................................................
2. ......................................................................................................................................
3. ......................................................................................................................................
4. ......................................................................................................................................
5. ......................................................................................................................................
6. ......................................................................................................................................
7. ......................................................................................................................................
آپ کو یہ مشق کیسی لگی؟ کیا یہ قابل استفادہ تھی؟ بہت مقبول تھی؟ کسی قدر مایوس کن تھی؟ کسی حدتک پریشان کن تھی؟ کیا آپ اس سے آزر دہ خاطر ہیں کہ اس درسی کتاب نے اس اہم کام میں آپ کی مدد نہیں کی کیا آپ اس سے پریشان ہیں کہ آپ کی کی گئی تعریف صحیح نہیں ہے؟
جمہوریت کی باب میں غوروفکر کرنے کے سلسلہ میں یہ آپ کا آخری باب ہے۔ اچھی جمہوریت کی کوئی متعین تعریف نہیں ہے۔ ایک اچھی جمہوریت وہ ہے جسے ہم سوچتے ہیں اور جسے ہم بنانا چاہتے ہیں یہ عجیب سالگتا ہے۔ تاہم اس پر غور کریں :کیا یہ ایک جمہوری بات ہوگی کہ کوئی ہمیں یہ پڑھائے یا سکھائے کہ ایک بہترین جمہوریت کیا ہے؟