1
کھاتہ داری کی تمہید
(Introduction to Accounting)
سیکھنے کے مقاصد
اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ اس قابل ہوں گے کہ
- کھاتہ داری کے معنیٰ اور ضرورت کو بیان کر سکیں؛
- معلوماتی وسیلہ کی حیثیت سے کھاتہ داری کی وضاحت کر سکیں؛
- کھاتہ داری معلومات کے اندرونی اور بیرونی استعمال کنندگان کی شناخت کر سکیں؛
- کھاتہ داری کے مقاصد کی وضاحت کر سکیں؛
- کھاتہ داری کے رول کی تشریح کر سکیں؛
- کھاتہ داری میں استعمال کی جانے والی بنیادی اصطلاحات کی وضاحت کر سکیں۔
صدیوں سے کھاتہ داری کو محض ایک اکاؤنٹینٹ کے ذریعہ مالیاتی ریکارڈ رکھنے کا کام خیال کیا جاتا تھا۔ لیکن موجودہ دور میں کاروباری ماحول کے اندر بڑی تیزی سے تبدیلی آئی ہے جس نے اکاؤنٹینٹوں کو ادارے اور معاشرے دونوں کے اندر اپنے رول اور کاموں کی ازسرِنو تشخیص پر مجبور کر دیا ہے۔ اب ایک اکاؤنٹینٹ کا رول محض لین دین کا ریکارڈ سمجھنے تک ہی محدود نہیں رہا ہے بلکہ اب وہ فیصلہ ساز ٹیم کا ایک ممبر ہوتا ہے جسے فیصلہ ساز ٹیم کو متعلقہ معلومات فراہم کرنی ہوتی ہے۔ موٹے طور پر کہا جائے تو آج کھاتہ داری مالیاتی رپورٹوں کی تیاری اور کتاب داری (Book Keeping) سے کہیں زیادہ ہے۔ آج اکاؤنٹینٹ نئے ترقی یافتہ میدانوں میں کاموں کو انجام دینے کے قابل ہیں یہ میدان ہیں: فارسینک کھاتہ داری (جرائم کو حل کرنا جیسے کمپیوٹر ہیکنگ اور انٹرنیٹ پر بڑی رقموں کی چوری)، ای کامرس (ویب کی بنیاد پر ادائیگی کے نظام کی تشکیل)، مالیاتی منصوبہ بندی، ماحولیاتی کھاتہ داری، وغیرہ اس طرح اس حقیقت کا انکشاف ہوا کہ کھاتہ داری میں ان تمام معلومات کے فراہم کرنے کی صلاحیت ہے جن کی مینجروں اور دیگر دلچسپی رکھنے والوں کو بہترین کاروباری فیصلوں میں ضرورت پڑتی ہے۔ کھاتہ داری کے اس پہلو نے رفتہ رفتہ اس قدر اہمیت حاصل کر لی کہ اب یہ معلوماتی نظام کی اعلیٰ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ معلوماتی نظام/ طریقہ کے طور پر یہ اعداد و شمار کو اکٹھّا کرتی ہے اور ادارے کی معاشی معلومات کی ترسیل ان مختلف استعمال کنندگان کو کرتی ہے جن کے فیصلوں اور سرگرمیوں کا تعلق اس کی کارگزاری سے ہوتا ہے۔ اس تمہیدی باب کا تعلق کھاتہ داری کی نوعیت، ضرورت اور دائرہ عمل سے ہے۔
1.1 کھاتہ داری کے معنی (Meaning of Accounting)
امریکن انسٹی ٹیوٹ آف سرٹیفائڈ پبلک اکاؤنٹٹینس (AICPA) نے 1941 میں کھاتہ داری کی تعریف اس طرح کی: ’’ایسا فن جو مخصوص انداز سے روپے پیسوں میں سودوں کا ریکارڈ رکھتا ہے، درجہ بندی اور تلخیص کرتا ہے اور ان سودوں اور واقعات کا جو کم از کم جزوی طور پر مالی نوعیت کے ہوں ان کے نتائج کا تجزیہ کرتا ہے‘‘ روز افزوں معاشی ترقی کے ساتھ کھاتہ داری کے رول اور اس کے دائرہ کار میں بتدریج وسعت آئی۔ 1966 میں امریکن اکاؤنٹنگ ایسوسی ایشن (AAA) نے کھاتہ داری کی تعریف اس طرح کی: ’’ایسا عمل جو معاشی معلومات کی نشاندہی کرتا ہے، پیمائش کرتا ہے اور ترسیل کرتا ہے تاکہ معلومات کے استعمال کرنے والے معلومات پر مبنی رائے قائم کرسکیں اور فیصلے کرسکیں‘‘۔
مزید برآں 1970 میں اکاؤنٹنگ پرنسپلز بورڈ آف اے۔ آئی۔ سی۔ پی۔ اے (AICPA) نے کہا: کھاتہ داری کا کام معاشی اداروں سے متعلق تقداری معلومات فراہم کرنا ہے جو بنیادی طور پر مالی نوعیت کے ہوں، معاشی سرگرمیوں سے متعلق ہوں تاکہ معاشی فیصلوں میں مفید ہوں۔
اس لیے کھاتہ داری کی تعریف یوں بھی کی جاسکتی ہے: ایسا عمل جو کسی ادارہ کےمعاشی واقعات کی نشاندہی کرے، پیمائش کرے، ریکارڈ رکھے اور معلومات کے استعمال سے جن لوگوں کو دلچسپی ہے انہیں باخبرکرے۔

شکل 1.1: کھاتہ داری عمل کا اظہار
کھاتہ داری عمل
کھاتہ داری معلومات کی ترسیل، معاشی واقعات ، فیصلہ ساز (اندرونی اور بیرونی استعمال کنندگان)
کھاتہ داری کا تعلق ہوتا ہے فیصلہ سازوں اور معاشی سرگرمیوں سے اور ان کے ذریعہ لیے گئے فیصلوں کے نتائج
کھاتہ داری کی نوعیت کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے مندرجہ بالا تعریف کے اہم پہلوؤں کو سمجھنا ضروری ہے۔ جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔
- معاشی واقعات
- نشاندہی، پیمائش، اندراج اور ترسیل
- تنظیم
- معلومات کے استعمال سے دلچسپی رکھنے والے
باکس 1
کھاتہ داری کی تاریخ اور ترقی
کھاتہ داری کا تاریخی ورثہ غیرمعمولی ہے۔ کھاتہ داری کی تاریخ تمدّن جتنی ہی قدیم ہے۔ کھاتہ داری کا بیج 4000 قبل مسیح پہلے بابل اورمصرمیں سب سے پہلے بویا گیا تھا جوکہ مزدوری اور ٹیکسوں کی ادائیگی کے لین دین کا ریکارڈ مٹی کی گولیوں پر رکھا کرتے تھے تاریخی ثبوتوں سے انکشاف ہوتا ہے کہ مصری لوگ اپنے خزانوں کے لیے کس طرح کی کھاتہ داری کیا کرتے تھے جہاں پر سونا اور دیگر قیمتی سامان رکھا جاتا ہے۔ خزانوں کے نگراں کو اپنے سربراہوں کو ہر روز کی رپورٹ بھیجنی ہوتی تھی۔ یہ سربراہ وزیر کہلاتے تھے (وزیرِ اعظم) اور وہاں سے بادشاہوں کو ماہانہ رپورٹ بھیجی جاتی تھی۔ بابل کو کامرس کےشہر کے طور پر جانا جاتا ہے اس میں کھاتہ داری کا استعمال ایسے کاروباری نقصانات کو معلوم کرنے کے لیے کیا جاتا تھا جو کہ دھوکا دہی اور کام میں نا اہلی کے باعث ہوتے تھے۔ یونان میں کھاتہ داری کا استعمال وصول شدہ محاصل کو مختلف خزانوں / وزارتوں میں بانٹنے، کل وصولیابیوں اور کل ادائیگیوں کا حساب رکھنے، اور حکومت کے مالی لین دین میں توازن رکھنے کے لیے کیا جاتا تھا۔ رومن لوگ روزنامچہ/ڈے بک کا استعمال کیا کرتے تھے جس میں وصولیابیوں اور ادائیگیوں کا اندراج کیا جاتا تھا اور یہاں سے ان کو ماہانہ بنیاد پر لیجر میں منتقل کیا جاتا تھا۔ (700 قبل مسیح سے 400 عیسوی تک)۔ چین میں 2000 قبل مسیح سے بھی پہلے حکومتی کھاتہ داری کی تصنع شکل کا استعمال کیا جاتا تھا۔ ہندوستان میں کھاتہ داری کاموں کا سراغ 23 صدیوں قبل ملتا ہے اس زمانہ میں چندر گپت کی سلطنت کے ایک وزیر کوشلیا نے ارتھ شاسترہ نامی ایک کتاب لکھی جس میں اس نے بیان کیا کہ کھاتہ داری ریکارڈوں کو کس طرح لکھا جاتا تھا۔
لوکا پاسیولی جو کہ ایک تاجر تھا کی کتاب سمّاڈی ارتھمیٹیکا، جیومیٹریا، پروپورشن ایٹ پروپورشنیلیٹی (ارتھمیٹک اور جیومیٹرک پروپروشنس کی نظر ثانی) جو اس نے 1494 میں وینس میں لکھی کو دوہرے اندراج کی کتاب داری (Double Entry Book Keeping) پر اولین کتاب خیال کیا جاتا ہے۔ اس کتاب کا ایک حصہ کاروباری علم اور کتاب داری پر مشتمل ہے بہر حال، پاسیولی نے دوہرے اندراج کی کتاب داری کا موجد ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا بلکہ اس نے صرف اس کے عمل کو فروغ دیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید اس نے اپنے شاہکار کی بنیاد اس زمانے میں رائج کتاب داری کے طریقوں پر ہی رکھی تھی۔ اپنی کتاب میں اس نے موجودہ دور کی مشہور کھاتہ داری اصطلاحات ڈیبٹ (Dr.) اور کریڈٹ (Cr.) کو استعمال کیا تھا۔ یہ وہ تصورات تھے جنہیں اطالوی اصطلاحات میں استعمال کیا گیا تھا۔ ڈیبٹ اطالوی لفظ ڈیبٹو سے اخذ کیا تھا جو کہ لاطینی لفظ ڈیبٹیا اور ڈیبیو سے اخذ کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے مالک کو مقروض ہونا۔ کریڈٹ لفظ اطالوی لفظ کریڈیٹو سے اخذ کیا گیا جو کہ لاطینی لفظ کریڈیو سے اخذ کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے اعتماد و یقین (مالک میں یا مالک کے ذریعہ مقروض ہونا) دوہرے اندراجی نظام کی وضاحت میں پاسیولی نے لکھا ہے کہ تمام اندراجوں کو دوہرا اندراج ہونا پڑتا ہے یعنی کہ اگر آپ کسی کو قرض خواہ بناتے ہیں تو پھر ایسی صورت میں آپ کسی دوسرے کو ضرور قرض دار بھی بناتے ہیں، اس نے یہ بھی کہا کہ ایک تاجر کی ذمہ داری میں شامل ہے کہ وہ اپنے اداروں میں خدا کی حمدو ثنا قائم کرے۔ تمام کاروباری سرگرمیوں کو اخلاقی طور پر انجام دے کر منافع کمائے۔ اس نے میمورنڈم، جرنل، لیجر اور مخصوص کھاتہ داری کا بھی ذکر کیا ہے۔
1.1.1 معاشی واقعات (Economic Events)
کاروباری اداروں میں معاشی واقعات شامل ہوتے ہیں۔ ایک معاشی واقعہ سے مراد کسی کاروباری ادارے میں رونما ہونے والے ایسے واقعہ سے ہے جو کہ لین دین پر مشتمل ہوتا ہے اور اس لین دین کی پیسوں میں پیمائش کی جاسکتی ہو۔ مثلاً مشینری کی خریداری، اس کو لگوانا اور مال تیار کرنے کے لیے تیار حالت میں رکھنا ایک ایسا واقعہ یہ جو کہ بڑی تعداد میں مالی لین دینوں پرمشتمل ہوتا ہے جیسے کہ مشین کی خریداری، مشین کی نقل و حمل، مشین لگوانے کے لیے جگہ کی تیاری، اس کو لگوانے اور آزمائشی طور پر چلانے میں ہونے والے اخراجات۔ اس طرح کھاتہ داری ایک معاشی واقعہ سے منسوب ڈھیر سارے لین دینوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگر ایک واقعہ میں ادارے اور بیرونی فریق کے مابین لین دین شامل ہوتا ہے تب اس کو بیرونی واقعات کہا جاتا ہے ایسے لین دینوں کی مثالیں مندرجہ ذیل ہیں:
- گاہکوں کی ری بوک (Reebok) جوتوں کی فروخت۔
- ویڈیوکون لمیٹڈ کے ذریعہ گاہکوں کو خدمات کی فراہمی۔
- سپلائیروں سے خام مال کی خریداری۔
- مالک مکان کو ماہانہ کرائے کی ادائیگی۔
اندرونی واقعہ ایسے معاشی واقعہ کو کہتے ہیں جو مکمل طور پر ادارہ کے اندر پیش آئے۔ مثال کے طور پر اسٹور کے شعبہ سے پیداواری شعبہ کو خام مال اور اوزاروں کی فراہمی، کارکنوں کو اُجرتوں کی ادائیگی وغیرہ۔
1.1.2 نشاندہی، پیمائش، اندراج اور ترسیل
(Identification, Measurement, Recording and Communication)
نشاندہی: اس سے مراد یہ طے کرنا ہے کہ کیا درج کرنا ہے یعنی قابلِ اندراج واقعات کی نشاندہی کرنا ہے۔ اس میں کاروباری سرگرمیوں کا مشاہدہ کرنا اور ان واقعات کا انتخاب کرنا جو معاشی سرگرمیوں کے ثبوت کے طور پر شامل ہیں۔ مزید یہ کہ ان واقعات کا تعلق کسی مخصوص کاروباری تنظیم سے ہونا چاہیے۔ ان کاروباری لین دین اور دیگر معاشی واقعات کی حساب کتاب کے نقطۂ نظر سےجانچ کی جاتی ہے۔ انسانی وسائل کی قدرو قیمت، انتظامی پالیسیوںمیں ردوبدل یا عملہ میں تبدیلیاں بہت اہم ہیں لیکن ان میں سے کسی کو بھی حساب کتاب میں درج نہیں کیا جاتا۔ البتہ جب کوئی کمپنی خرید یا فروخت کرتی ہے چاہے یہ نقد ہو یا ادھار اس کا اندراج حساب کی کتابوں میں کیا جاتا ہے۔
پیمائش: اس سے مراد کمیت کا تعین کرنا یہ جس میں کاروباری لین دین کا ایسا اندازہ بھی شامل ہے جو مالی یعنی روپے پیسوں کی شکل میں ہو۔ اگر کسی واقعہ کی پیمائش مالی طور پر نہیں کی جاسکی تو وہ کھاتہ نویسی کی کتابوں میں درج نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ نئے منیجنگ ڈائریکٹر کا تقرر، معاہدے پر دستخط،یا عملہ میں تبدیلیاں کھاتہ نویسی کی کتابوں میں درجہ نہیں کی جاتیں۔
اندراج: معاشی واقعات کی نشاندہی اور مالی اعتبار سے پیمائش کے بعد انہیں درج کیا جاتا ہے ان پیمائش شدہ واقعات کا اندراج باقاعدہ اورترتیب سے کیا جاتا ہے اندراج اس طرح سے کیا جاتا ہے کہ ضروری مالی معلومات کا قائم شدہ کھاتہ داری عمل کے مطابق خلاصہ ہو جائے اور وقتِ ضرورت یہ بآسانی دستیاب ہو سکے۔
ترسیل: معاشی واقعات کی نشاندہی و پیمائش کی جاتی ہے اور باقاعدہ ریکارڈ رکھا جاتا ہے تاکہ منتظمہ اور دیگر اندرونی اور بیرونی استعمال کنندگان کو مناسب معلومات مل سکے۔ اس معلومات کی کھاتہ داری رپورٹوں کے ذریعہ مسلسل ترسیل کی جاتی ہے یہ رپورٹیں مختلف استعمال کنندگان کو معلومات فراہم کرتی ہیں یہ وہ استعمال کنندگان ہوتے ہیں جو ادارے کی حالت اور کارگزاری میں دلچسپی رکھتے ہیں اور کاروباری سرگرمیوں کی منصوبہ بندی اور نگرانی کرتے ہیں اور وقتاً فوقتاً ضروری فیصلہ سازی کرتے ہیں۔ کھاتہ داری کے معلوماتی نظام/طریقہ کو اس انداز سے ترتیب دینا چاہئے کہ صحیح معلومات مناسب شخص کو بر وقت مل سکے۔ استعمال کرنے والے کی ضرورت کے پیشِ نظر رپورٹیں یومیہ، ہفتہ واری، ماہانہ یا سہ ماہی ہو سکتی ہیں۔ترسیل کے اس تمام طریقہ میں اہم بات یہ ہے کہ کھاتہ نویس حاصل شدہ معلومات کی تشریح کس صلاحیت اور کس قدر ذمہ داری سے کرتا ہے۔
1.1.3 تنظیم (Organisation)
تنظیم سے مراد کاروباری ادارے سے ہے چاہے اس ادارے کا مقصد منافع کمانا ہو یا منافع نہ کمانا (غیر منفعتی ادارہ)۔ کاروباری کاموں اور سرگرمیوں کے حجم کے اعتبار سے یہ ایک تنہا ملکیتی ادارہ بھی ہو سکتا ہے۔ شراکت داری فرم، امدادِ باہمی سوسائیٹی، کمپنی، علاقائی اتھارٹی، میونسپل کارپوریشن یا اشخاص کی ایک انجمن بھی۔
1.1.4 کھاتہ داری کی معلومات کے استعمال کرنے والے
(Interested Users of Information)
کھاتہ داری ایک ایسا وسیلہ ہے جس کے ذریعہ کاروباری ادارے کے بارے میں ضروری مالی معلومات کی ترسیل کی جاتی ہے۔ اسے کاروبار کی زبان بھی کہا جاتا ہے۔ کئی استعمال کنندگان کو اہم فیصلے کرنے کے لیے مالی معلومات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان استعمال کنندگان کو موٹے طور پر دو زمروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: اندرونی استعمال کرنے والے اور بیرونی استعمال کرنے والے۔ اندرونی استعمال کرنے والوں میں شامل ہیں: چیف ایگزیکٹیو، مالیاتی افسر، نائب صدر، کاروباری اکائی کے منتظمین، پلانٹ کےمنتظمین، اسٹور کےمنتظمین، لائین کےنگراں وغیرہ۔ بیرونی استعمال کرنے والوں میں شامل ہیں: موجودہ اور اہل سرمایہ کار(حاملینِ حصص)، قرض خواہ (بینک اور دیگر مالیاتی ادارے، حاملینِ ڈبینچر اور دیگر ادھار دینے والے)، ٹیکس اتھارٹیز، ضابطہ کار ایجنسیاں (کمپنی سےمتعلق معاملات کا شعبہ،کمپنیوں کا رجسٹرار،سیکیورٹیز ایکسچینج بورڈ آف انڈیا، مزدور یونین،تجارتی انجمنیں، اسٹاک ایکسچینج اور گاہک وغیرہ کیونکہ کھاتہ داری کا ابتدائی کام فیصلہ سازی کے لیے مفید معلومات فراہم کرنا ہے۔ اس لیے یہ اختتام کے لیے ایک وسیلہ ہے کیونکہ اختتام اس فیصلہ کے ساتھ واقع ہوتا ہے جو کہ کھاتہ داری معلومات کی مدد کے ذریعہ لیا گیا ہو۔ آپ اس باب میں آگے چل کر کھاتہ داری معلومات کی اقسام اور ان کے استعمال کرنے والوں کے بارے میں پڑھیں گے۔
باکس 2
استعمال کرنے والوں کو کھاتہ داری معلومات کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟
- مالکان/ حاملین حِصص ان کا استعمال یہ دیکھنے کے لیے کرتے ہیں کہ آیا ان کو اپنی سرمایہ کاری پر مناسب منافع ہو رہا ہے یا نہیں۔ وہ ان کا استعمال کمپنی/کاروبار کی مالی صحت کو جاننے کے لیے بھی کرتے ہیں۔
l ڈائیریکٹرز/مینجرز ان کا استعمال اپنی اندرونی اور بیرونی کوششوں کا موازنہ کرکے اپنی کارکردگی کو جانچنے کے لیے کرتے ہیں۔ وہ اپنی کمپنی کے مالی تجزیہ (Financial analysis) کا موازنہ صنعت کی دوسری کمپنیوں کے ساتھ کرتے ہیں تاکہ کمپنی کی کمزوریوں اور قوتوں کو معلوم کر سکیں۔ انتظامیہ کو اس بات کی یقین دہانی بھی کرنی ہوتی ہے کہ کمپنی / ادارے میں کی گئی سرمایہ کاری پر مناسب منافع دیا جا رہا ہے اور یہ کہ کمپنی اپنے قرضات کی ادائیگی کے قابل ہے اور مالی طور پر صحت مند ہے۔
- قرض خواہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا ان کے قرضات کی واپس ادائیگی ہو سکے گی یا نہیں۔ خاص طور پر ان کی نظر کمپنی / ادارے کی سیال پذیری (Liquidity) پر ہوتی ہے جس سے مراد قرضات کے واجب ہونے پر کمپنی کے ذریعے ان کو اداکرنے کی صلاحیت سے ہے۔
- ممکنا سرمایہ کار ان کا استعمال یہ جاننے کے لیے کرتے ہیں کہ انہیں کمپنی میں اپنے پیسے کی سرمایہ کاری کرنی چاہئے یا نہیں۔
- سرکاری اور ضابطہ کار ایجنسیوں کو جیسے کمپنیوں کے رجسٹرار، کسٹم کا شعبہ، آئی آر ڈی اے، آربی آئی وغیرہ کو مختلف ٹیکسوں جیسے کہ ویلیو ایڈیڈ ٹیکس (ویٹ)، انکم ٹیکس (آئی ٹی) اور ایکسائز ڈیوٹی کی ادائیگی کےلیے معلومات کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ سرمایہ کاروں، قرض خواہوں کے مفاد کو محفوظ رکھا جاسکے اور وقتاً فوقتاً سیبی (SEBI) کے ذریعہ جاری کی گئی اور کمپنی قانون 1956 کے ذریعہ عائد شدہ قانونی ذمہ داریوں کو بھی مطمئن کیا جاسکے۔
1.2 کھاتہ داری بطور ایک معلومات کا ذریعہ
(Accounting as a Source of Information)
جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کھاتہ داری ایک دوسرے سے پیوستہ سرگرمیوں کا ایک عمل ہے ( دیکھیے شکل 1.1) جو کہ لین دین کی نشاندہی سے شروع ہوتاہے۔ اور مالی گوشواروں کی تیاری پرختم ہو تا ہے کھاتہ داری عمل کا ہر اقدام معلومات پیدا کرتا ہے۔ معلومات کی پیداوار اپنے آپ میں ایک اختتام نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا ذریعہ ہے جو مختلف استعمال کرنے والے گروپوں کے درمیان معلومات کو نشر کرنے میں مدد کرتا ہے۔ ایسی معلومات دلچسپی رکھنے والے فریقین کو مناسب فیصلہ سازی کرنے کے قابل بناتی ہے اس لیے معلومات کو نشر کرنا کھاتہ داری کا ایک اہم کام ہے۔ قابلِ استعمال ہونے کے لیے کھاتہ داری مندرجہ ذیل باتوں کی یقین دہانی کرنی چاہیے۔
- معاشی فیصلے کرنے کے لیے معلومات فراہم کرنا۔
- ایسے استعمال کرنے والوں کی خدمت کرنا جن کے لیے مالی گوشوارے ہی معلومات کا اہم ذریعہ ہیں۔
- نقد کے بھاؤ کی غیر یقینی صورتحال اور وقت، رقم کی جانچ اور اندازے کے لیے مفید معلومات فراہم کرنا۔
- انتظامیہ کی صلاحیت کو جانچنے کے لیے کہ وہ مقاصد کو حاصل کرنے میں وسائل کو کس حد تک موثر طور پر استعمال کر رہی ہے، معلومات فراہم کرنا۔
- ایسے معاملات جو کہ تشریح، جانچ، پیش گوئی یا تخمینہ طلب ہوں۔ ذیلی مفروضات کو ظاہر کر کے حقیقی اور تشریحی معلومات فراہم کرنا۔
- معاشرہ کو متاثر کرنے والی سرگرمیوں پر معلومات فراہم کرنا۔
اپنے علم کی جانچ کیجیے - I
مندرجہ ذیل جملوں کو اپنے الفاظ سے مکمل کیجیے۔
(a) مالی رپورٹوں میں معلومات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لین دین پر مبنی ہوتی ہے۔
(b) اندرونی استعمال کرنے والے کاروباری اداروں کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوتے ہیں۔
(c) ایک ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک ادارے کی مالی رپورٹ کا استعمال یہ طے کرنے کے لیے کرے گا کہ کاروباری ادارہ قرض دیے جانے کے لائق ہے یا نہیں۔
(d) انٹرنیٹ نے مالی رپورٹوں کو استعمال کرنے والوں کو جاری کرنے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کو کم کرنے میں مدد کی ہے۔
(e) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ استعمال کرنے والے کاروباری ادارے کے باہر کے گروپ ہوتے ہیں جو کہ کاروباری ادارے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے معلومات کا استعمال کرتے ہیں۔
(f) معلومات کو موزوں کہا جاتا ہے اگر یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوتی ہے۔
(g) کھاتہ داری عمل کی ابتداء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے ساتھ ہوتی ہے اور اختتام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے ساتھ ہوتا ہے۔
(h) کھاتہ داری کاروباری لین دین کی پیمائش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اکائیوں کی اصطلاح میں کرتی ہے۔
(i) نشاندہی کیے گئے اور پیمائش شدہ معاشی واقعات کا اندراج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترتیب میں ہونا چاہیے۔
کھاتہ داری معلومات کو پیدا کرنے میں ایک اکاؤنٹینٹ کا رول لین دین اور واقعات کامشاہدہ، ان کی چھٹائی اورنشاندہی کرنا ہوتا ہے تاکہ ان کی پیمائش کر کے ان کو مزید عمل کے لیے تیار کیا جائے اور اس طرح کھاتہ داری معلومات پرمشتمل رپورٹوں کو مرتب کیا جائے جن کی ترسیل استعمال کرنے والوں کو کی جاتی ہے۔ بعد ازاں انتظامیہ اور دیگر استعمال کرنے والے گروپوں کے ذریعہ ان کی تشریح کی جاتی ہے اور انہیں استعمال کیا جاتا ہے۔ فراہم کی گئی معلومات کا فیصلہ سازی کے لیے موزوں، مناسب اور قابلِ بھروسہ ہونا لازمی ہے۔ کھاتہ داری معلومات کے اندرونی اور بیرونی استعمال کرنے والوں کی ایک دوسرے سے جدا گانہ ضروریات کے نتیجہ میں کھاتہ داری علم کے اندر ذیلی شعبوں کی ترقی ہوئی ہے جن کے نام ہیں: مالی کھاتہ داری (Financial accounting)، لاگتی کھاتہ داری (Cost accounting)، اور انتظامیہ کھاتہ داری (Management accounting) (حوالہ باکس 3)۔
مالی کھاتہ داری : مالی لین دین اور مالی رپورٹوں کی تیاری اور اظہار کا ایک باقائدہ ریکارڈ رکھنے میں مدد کرتی ہے تاکہ مالی مضبوطی اور تنظیم کی کامیابی کی پیمائش کی جاسکے۔ اس کا تعلق ماضی سے ہوتا ہے یہ نگراں کا کام انجام دیتی ہے اور نوعیت کے اعتبار سے پیسوں میں ہوتی ہے۔ اس کا بنیادی کام تمام مفاد رکھنے والوں کے لیے مالی معلومات کا بندوبست کرنا ہوتا ہے۔
لاگتی کھاتہ داری : ایسے اخراجات کا تجربہ کرنے میں مدد کرتی ہے جو کہ فرم کے ذریعہ مختلف اشیاء کو بنانے یا خدمات کو فراہم کرنے اور ان کی قیمتوں کو ٹھہرانے میں ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ لاگتوں کو کنٹرول کرنے اور فیصلہ سازی کے لیے انتظامیہ کو ضروری لاگتی معلومات فراہم کرنے میں بھی مدد کرتی ہے۔
انتظامیہ کھاتہ داری : ادارے کے اندرونی لوگوں کو ضروری کھاتہ داری معلومات فراہم کرنے سے متعلق ہے تاکہ وہ کاروباری کاموں کی منصوبہ بندی، فیصلہ سازی اور انہیں کنٹرول کرنے کے قابل ہو جائیں۔ انتظامیہ کھاتہ داری زیادہ تر مالی کھاتہ داری اور لاگتی کھاتہ داری سے موزوں معلومات اخذ کرتی ہے جس سے انتظامیہ کو سرمایہ اخراجات (Capital expenditure) سے متعلق فیصلے، بجٹنگ، منافع کمانے کی صلاحیت کی تشخیص، قیمت سے متعلق فیصلے لینے وغیرہ میں مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ دیگر معلومات (مقداری اور کیفیتی، مالی اور غیر مالی) پیداکرتی ہے جس کا تعلق مستقبل سے ہوتاہے اور جو ادارے میں فیصلہ سازی کے لیے موزوں ہوتی ہے۔ ایسی معلومات میں شامل ہیں: فروخت کی پیش گوئی، نقد کے بھاؤ، خریداری کی ضروریات، عملہ کی ضروریات، ہوا، پانی، زمین، قدرتی وسائل، سبزہ و حیوان، انسانی صحت، سماجی ذمہ داریاں وغیرہ کو متاثر کرنے کے بارے میں ماحولیاتی اعداد و شمار۔
نتیجے کے طور پر کھاتہ داری کا دائرہ کار کافی وسیع ہو چکا ہے۔ نئے میدان جیسے انسانی وسائل کی کھاتہ داری، سماجی کھاتہ داری، ذمہ داری، ذمہ داری کھاتہ داری بھی کافی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔
آؤ یہ کریں (Let's Do It)
آج کے معاشرہ میں کئی لوگوں کا خیال ہے کہ کہ ایک اکاؤنٹینٹ سادہ طور پر پُر شکوہ کتاب رکھنے والا ہوتا ہے۔ لیکن اکاؤنٹینٹ کے رول میں مسلسل تبدیلی ہو رہی ہے۔ کلاس روم میں بحث کیجیے کہ حقیقتاً کھاتہ داری کا کیا رول ہے؟
1.2.1 کھاتہ داری معلومات کی کیفیتی خصوصیات
(Qualitative Characteristics of Accounting Information)
کیفیتی خصوصیات کھاتہ داری معلومات کی وہ صفات ہیں جو کہ اس کے قابلِ فہم اور قابلِ استعمال ہونے میں اضافہ کرتی ہیں۔ اس بات کی تشخیص کرنے کے لیے کہ کھاتہ داری معلومات فیصلہ سازی میں قابلِ استعمال ہے یا نہیں اس میں قابلِ بھروسہ، موزونیت، قابلِ فہم اور قابلِ موازنہ ہونے کی خصوصیات کا ہونا لازمی ہے۔
قابلِ بھروسہ (Reliability)
قابلِ بھروسہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ استعمال کرنے والے معلومات پر انحصار کرنے کے قابل ہوں۔ کھاتہ داری معلومات کے قابلِ بھروسہ ہونے کا تعین رونما ہونے والے واقعات یا لین دین، پیمائش اظہار اور ان کے بارے میں بیان کی گئی معلومات کے درمیان مماثلث کی حد سے کیا جاتا ہے۔ ایک قابلِ بھروسہ معلومات غلطی اور جانبداری سے پاک ہونی چاہئے اور اُسے نیک نیتی سے وہی پیش کرنا چاہیےجس کو پیش کرنا اس کی مراد ہو۔ قابل بھروسہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے ظاہر کی گئی معلومات کو غیر جانبدار اور نیک نیت ہونا لازمی ہے۔ اسے ایسا ہونا چاہیے کہ کوئی بھی غیر متعلق فریق پیمائش کے یکساں طریقے کو استعمال کر کے اس کی تصدیق اور یقین کر سکے (حوالہ شکل 1.3)۔
موزونیت (Relevance)
موزوں ہونے کے لیے معلومات کو بروقت دستیاب ہونا، فیڈبیک اور پیش گوئی کے قابل ہونا لازمی ہے۔ معلومات کو استعمال کنندگان کے فیصلوں کو متاثر کرنے والا بھی ہونا چاہیے۔ یہ ان کے فیصلوں کو ذیل باتوں کے ذریعہ متاثر کرتی ہے۔
(a) ماضی، حال یا مستقبل کے واقعات سے پیدا نتائج کے بارے میں پیش گوئی کرنے میں مدد کرکے۔
(b) ان کے ذریعہ ماضی میں کی گئی جانچوں کی تصحیح یا تصدیق کر کے۔
باکس 3
کھاتہ داری کی شاخیں
معاشی ترقی اور تکنالوجی میں ہونے والی بہتری کے نتیجہ میں کاموں کے پیمانے میں اضافہ ہوا ہے اور کمپنی بطور کاروباری ادارے کی مشکل کے سامنے آئی ہے۔ اس نے انتظامیہ کے کام کو زیادہ سے زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے اور کھاتہ داری معلومات کی اہمیت کو بڑھا دیا ہے۔ اس کی مختصراً ذیل میں وضاحت کی گئی ہے۔
مالی کھاتہ داری (Financial Accounting): کھاتہ داری کی اس شاخ کا مقصد تمام مالی لین دین کا ایک ریکارڈ رکھنا ہے تاکہ:
(a) ایک کھاتہ داری میعاد/مدت میں کاروبار کے ذریعہ کمائے گئے نفع یا نقصان کو معلوم کیا جاسکے۔
(b) کھاتہ داری مدت کے اختتام پر کاروبار کی مالی حالت کا پتہ لگایا جاسکے۔
(c) انتظامیہ اور دیگر دلچسپی رکھنے والے فریقین کو ضروری مالی معلومات فراہم کی جاسکے۔
لاگتی کھاتہ داری (Cost Accounting): لاگتی کھاتہ داری کا مقصد اخراجات کا تجزیہ کرنا ہے تاکہ فرم کے ذریعہ بنائی جانے والی مختلف اشیاء کی لاگت کو معلوم کیا جاسکے اور قیمتوں کو ٹھہرایا جاسکے ۔ اس سے لاگتوں کو کنٹرول کرنے اور فیصلہ سازی کے لیے انتظامیہ کی ضروری لاگتی معلومات فراہم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
انتظامیہ کھاتہ داری (Management accounting): انتظامیہ کھاتہ داری کا مقصد انتظامیہ کو معقول پالیسی فیصلات لینے میں مدد کرنا اور ان فیصلوں اور حرکات کے اثر کی جانچ کرنے میں تعاون دینا ہے۔
قابلِ فہم (Understandability)
قابلِ فہم ہونے سے مراد یہ ہے کہ فیصلہ ساز کھاتہ داری معلومات کی تشریح اس ہی مفہوم میں کریں جس میں کہ انہیں تیار کیا گیا ہے اور ان تک بہم پہنچایا گیا ہے۔ وہ خاصیتیں جو کہ ایک پیغام کی اچھی اور بُری ترسیل میں تفریق کرتی ہے وہ پیغام کے قابل فہم ہونے میں بنیادی ہوتی ہیں۔ ایک پیغام کو موثر طور پر ترسیل شدہ اس وقت کیا جاتا ہے جب پیغام کو وصول کرنے والے کے ذریعے اس کی تشریح اس ہی مفہوم میں کی جاتی ہے جس میں بھیجنے والے نے اسے بھیجا ہے۔ اکاؤنٹینٹوں کو قابلِ موازنہ معلومات اس کی موزونیت اور بھروسہ مندی کو قربان کئے بغیر نہایت دانشمندانہ طریقہ سے پیش کرنی چاہیے۔
قابلِ موازنہ (Comparability)
مالی معلومات کے لیے ایک خاص وقت اور حالات میں متعلقہ ادارے یا شخص کے لیے موزوں اور قابلِ بھروسہ ہونا ہی کافی نہیں ہے۔ اہمیت اس بات کی بھی ہے کہ عام مقاصد کے لیے مالی رپورٹوں کو استعمال کرنے والے ایک شخص یا ادارے کے مختلف پہلوؤں کا موازنہ مختلف مدتوں میں بھی کر سکیں اور مختلف اداروں کے ساتھ بھی۔ قابلِ موازنہ ہونے کے لیے کھاتہ داری رپورٹوں کو ایک یکساں مدت سے تعلق ہونا لازمی ہے۔ ان کے لیے رپورٹ کرنے کے یکساں خاکے اور پیمائش کی یکساں اکائی کا استعمال کرنا بھی لازمی ہے۔
اپنے علم کی جانچ کیجیے - II
آپ رامونہ انٹرپرائیز لمیٹڈ کے ایک سینٹر اکاؤنٹینٹ ہیں۔ اپنی کمپنی کے مالی گوشواروں کو قابلِ فہم اور فیصلہ کے لیے قابلِ استعمال بنانے کی خاطر آپ کون سے تین اقدام کریں گے؟
1۔______________________________________________________________________
2۔_____________________________________________________________________
3۔_______________________________________________________________________
(اشارہ بحوالہ کھاتہ داری معلومات کی کیفیتی خصوصیات )
1.3 کھاتہ داری کے مقاصد (Objectives of Accounting)
بطور معلوماتی نظام، کھاتہ داری کا بنیادی مقصد ان اندرونی اور بیرونی استعمال کرنے والوں کو معلومات فراہم کرنا ہے جن کے مفاد ادارے سے وابستہ ہیں۔ ضروری معلومات خصوصاً بیرونی استعمال کرنے والوں کو حسب ذیل مالی گوشواروں کی شکل میں فراہم کی جاتی ہے:
(i) نفع و نقصان کھاتہ
(ii) مالی چھٹا (بیلنس شیٹ)
اس کے علاوہ انتظامیہ کو وقتاً فوقتاً مزید معلومات کاروبار کے کھاتہ داری ریکارڈ سے فراہم کی جاتی ہے اس طرح کھاتہ داری کے بنیادی مقاصد ہیں۔
1.3.1 کاروباری لین دین کا ریکارڈ رکھنا
(Maintenance of Records of Business Transactions)
کھاتہ داری کا استعمال حساب کی کتابوں میں تمام مالی لین دینوں کا ایک باقائدہ ریکارڈ رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ انتہائی درجہ کا ذہین افسر یا منیجر بھی روز مرہ کے تمام سودوں جیسے خریداری، فروخت، وصولیابیوں، ادائیگیوں وغیرہ کو اچھی طرح سے یاد نہیں رکھ سکتا۔ اس لیے تمام کاروباری سودوں کا ایک باقائدہ اور مکمل ریکارڈ متواتر طور پر رکھا جاتا ہے۔ مزید برآں ریکارڈ کی گئی معلومات بطور ثبوت کام آتی ہے اور صلاحیتِ تصدیق پیدا کرتی ہے۔

شکل 1.3: کھاتہ داری معلومات کی کیفیتی خصوصیات
کھاتہ داری معلومات کی کیفیتی خصوصیات
فیصلہ ساز (کھاتہ داری معلومات کو استعمال کرنے والے )
قابل فہم ہونا
فیصلے کے لیے قابل استعمال ہونا
قابل بھروسہ موزونیت
نیک نیتی،قابل تصدیق،غیر جانبداری بروقتگی،فیڈ بیک ویلیو ،وقف کرنے کی مالیت
قابل موازنہ
1.3.2نفع اور نقصان کا حساب لگانا (Calculation of Profit and Loss)
کاروبار کے مالکان مدتی طور اپنے کاروباری کاموں کے نتائج کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں وہ جاننا چاہتے ہیں۔ کہ کاروبار نے منافع کمایا ہے یا نقصان۔ اس طرح؛ کھاتہ داری ایک اور مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ ایک کھاتہ داری مدت کے دوران کاروبار نے منافع کمایا ہے یا نقصان جس کا پتہ کاروبار سے متعلق آمدنیوں اور اخراجات کی مدد نفع و نقصان کھاتہ کو تیار کر کے بآسانی چلایا جاسکتا ہے۔ نفع اخراجات کے اوپر ہونے والی اضافی آمدنی ہوتا ہے۔ اگر دی گئی مدت کا کل محاصل/ آمدنی 600000 روپے ہے اور کل اخراجات 540000 روپے کے ہیں تو ایسی صورت میں کل منافع 60000 روپے کا ہوگا [600000 روپے، 540000 روپے]۔ لیکن اگر کل اخراجات کل محاصلات سے زیادہ ہوں تو پھر فرق نقصان کو ظاہر کرے گا۔
1.3.3 مالی حیثیت ظاہر کرنا (Depiction of Financial Position)
کھاتہ داری کا مقصد پر کھاتہ داری مدت کے اختتام پر کاروباری ادارے کی مالی حیثیت کو اس کے واجبات اور اثاثہ جات کی شکل میں معلوم کرنا بھی ہے کاروباری ادارے کے ذریعہ اپنے ملکیتی وسائل (اثاثہ جات) اور ان وسائل کے خلاف مطالبات (واجبات) کا ایک باقاعدہ ریکارڈ رکھا جاتا ہے جس سے ایک گوشوارہ تیار کرنے میں مدد ملتی ہے جسے بیلنس شیٹ یا حیثیت کا گوشوارہ کہتے ہیں۔
1.3.4 استعمال کرنے والوں کو معلومات بہم پہنچانا
(Providing Accounting Information to its Users)
کھاتہ داری عمل کے ذریعہ پیدا ہوئی کھاتہ داری معلومات کی ترسیل استعمال کرنے والوں کو رپورٹوں، گوشواروں، گرافوں اور چارٹوں کی شکل میں کی جاتی ہے جنہیں ان کی ضرورت مختلف حالات میں فیصلہ سازی کے لیے ہوتی ہے جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ استعمال کرنے والوں کے موٹے طور پر دو گروپ ہوتے ہیں۔ اندرونی استعمال کرنے والے، خصوصاً انتظامیہ، جیسے فروخت کی لاگت، فیصلہ سازی اور کنٹرول کرنے کی خاطر ہوتی ہے۔ بیرونی استعمال کرنے والوں کے معلومات حاصل کرنے کے اختیارات، صلاحیت اور ذرائع محدود ہوتے ہیں اور ان کا اعضاء مالی گوشواروں (بیلنس شیٹ اور نفع و نقصان کھاتہ) پر ہوتا ہے۔ بیرونی استعمال کرنے والوں کو خاص طور پر مندرجہ ذیل باتوں میں دلچسپی ہوتی ہے۔
- سرمایہ کار اور اہل سرمایہ کار: سرمایہ کاری پر منافع اور خطرات کے بارے میں معلومات؛
- ملازمین کے گروپ اور یونینیں: کاروبار کے اندر دولت کی تقسیم، منافع کمانے کی صلاحیت اور استحکام کے بارے میں معلومات؛
- قرض خواہ اور مالیاتی ادارے: کمپنی کی ادھار سے متعلق ساکھ اور اس کی قرض کی رقم اور سود چکانے کی صلاحیت کے بارے میں معلومات؛
- گاہک: کاروبار کے مسلسل جاری رہنے (اس کے وجود) کے بارے میں معلومات اور اشیاء اور ان کے حصّوں کی مسلسل ممکنا سپلائی اور خدمت بعد از فروخت (After Sale Service) کے بارے میں معلومات؛
- حکومت اور دیگر ضابطہ کار: وسائل کے استعمال اور ضابطوں کی پابندی سے متعلق معلومات؛
- سماجی ذمہ داری گروپ جیسے کہ ماحولیاتی گروپ: ماحول پر ہونے والے اثر اور ماحول کے تحفظ سے متعلق معلومات؛
- حریف (Competitors): موازنہ کرنے کے مقاصد کی خاطر اپنی مسابقت کی متعلقہ مضبوطیوں اور کمزوریوں کی معلومات۔ مندرجہ بالا زمروں کے استعمال کنندگان کمپنی کی دولت میں حصّہ دار ہوتے ہیں جبکہ حریفوں کو معلومات کی ضرورت مسابقت کے مقاصد کے لیے ہوتی ہے۔
اپنے علم کی جانچ کیجیے - III
کون سا مفاد رکھنے والا گروپ … میں سب سے زیادہ دلچسپی لیگا
_________________________________ (a) فرم کے ویٹ (VAT) اور دیگر ٹیکس کے واجبات
_________________________________ (b) انعام اور بونس کی ادائیگی کی اہلیت
_________________________________ (c) فرم کی اخلاقی یا ماحولیاتی سرگرمیاں
_________________________________ (d) فرم کا طویل مدّتی مستقبل ہے یا نہیں
_________________________________ (e) منافع کمانے کی صلاحیت اور حصص کی کارکردگی
_________________________________ (f) فرم کی اشیاء پیدا کرنے یا خدمت فراہم کرنے کی صلاحیت
1.4 کھاتہ داری کا رول (Role of Accounting)
معاشرتی مانگوں میں اضافہ اور معاشی ترقی میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ صدیوں سے کھاتہ داری کا رول بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ کھاتہ داری ایک ادارے کے اعداد و شمار کی پیمائش، زمرہ بندی اور اس کا خلاصہ کرتی ہے اور اس کی وضاحت اور تجزیہ کرتی ہے۔ کھاتہ داری ان اعداد و شمار کو اس طرح رپورٹوں اور گوشواروں میں گھٹا دیتی ہے جو کہ ادارے کے کاموں کے نتائج اور مالی حالت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس لیے اسے کاروبار کی زبان مانا جاتا ہے یہ مقداری مالی معلومات فراہم کر کے خدماتی سرگرمی بھی انجام دیتی ہے یہ معلومات استعمال کرنے والوں کی مختلف طرح سے مدد کرتی ہے۔ کھاتہ داری بطور ایک معلوماتی نظام ایک ادارے سے متعلق معاشی معلومات کو اکھٹا کرتی ہے اور مختلف مفاد رکھنے والے فریقین کو اس کی ترسیل کرتی ہے بہر حال، کھاتہ داری معلومات کا تعلق ماضی کے لین دین سے ہوتا ہے اور نوعیت کے اعتبار سے یہ مقداری اور مالی ہوتی ہے یہ کیفیتی اور غیر مالی معلومات فراہم نہیں کرتی۔ کھاتہ داری معلومات کو استعمال کرتے وقت کھاتہ داری کی ان خامیوں کو دھیان میں رکھنا چاہیے۔
اپنے علم کی جانچ کیجیے - IV
درست جواب پر صحیح (ü) کا نشان لگائیے:
1۔ مندرجہ ذیل میں سے کون سا ایک کاروباری لین دین نہیں ہے؟
(a) کاروبار کے لیے 10,000 روپے کا فرنیچر خریدا
(b) ملازمین کو 5,000 روپے تنخواہ ادا کی
(c) بیٹے کی فیس اس کے ذاتی بینک کھاتے سے 20,000 روپے ادا کی
(d) بیٹے کی فیس کاروبار سے 20,000 روپے ادا کی
2۔ دیپتی آج اپنے کاروبار کے لیے ایک عمارت خریدنا چاہتا ہے۔ ذیل میں سے کون سا اس کے فیصلہ کے لیے موزوں اعداد و شمار ہے؟
(a) یکساں کاروبار نے یہ عمارت 2000میں 10,00,000 روپے میں حاصل کی تھی
(b) عمارت کی لاگت کے بارے میں 2003 کی تفصیلات
(c) عمارت کی لاگت کے بارے میں 1998 کی تفصیلات
(d) یکساں عمارت کی لاگت اگست 2005 میں 25,00,000 روپے
3۔ بطور معلوماتی عمل کھاتہ داری کا آخری اقدام کون سا ہے؟
(a) کھاتہ داری کی کتابوں میں اعداد و شمار کا اندراج
(b) مالی گوشواروں کی شکل میں خلاصے تیار کرنا
(c) معلومات کی ترسیل
(d) معلومات کی تشریح و تجزیہ
4۔ جب کھاتہ داری معلومات کو واضح طور پر پیش کیا جاتا ہے تب کھاتہ داری معلومات کی کون سی کیفیتی خصوصیات ظاہر ہوتی ہیں؟
(a) قابلِ فہم ہونا
(b) موزونیت
(c) قابل موازنہ ہونا
(d) قابلِ بھروسہ ہونا
5۔ پیمائش کی یکساں اکائی اور رپورٹ کرنے کے یکساں خاکے کو استعمال کرنے سے بڑھاوا ملتا ہے؛
(a) قابلِ موازنہ ہونا
(b) قابلِ فہم ہونا
(c) موزونیت
(d) قابلِ بھروسہ ہونا
باکس 4
کھاتہ داری کے مختلف رول
- بطور ایک زبان : اس کو کاروبار کی زبان مانا جاتا ہے جو کہ ادارے کے بارے میں معلومات کی ترسیل کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
- بطور ایک تاریخی ریکارڈ: اسے حقیقی رقوم پر ایک ادارے کے مالی سودوں کا بالترتیب ریکارڈ بھی خیال کیا جاتا ہے۔
- بطور رواں معاشی حقیقت: اسے ایک تشخص یا ادارے کی حقیقی آمدنی کے تعیّن کا ذریعہ مانا جاتا ہے مثلاً زمانہ گذرنے کے
- ساتھ دولت/سرمائے میں ہونے والی تبدیلی۔
- بطور ایک معلوماتی نظام: اسے ایک ایسا عمل مانا جاتا ہے جو کہ ترسیل کے طریقوں کے ذریعہ معلومات کے وسیلہ (اکاؤنٹینٹ) کو وصول کرنے والوں کی جماعت (بیرونی استعمال کرنے والے) سے جوڑتا ہے۔
- بطور ایک سشر: مخصوص معلومات کو ایک خدمت مانا جاتا جس کی معاشرے میں مانگ ہوتی ہے اور جسے اکاؤنٹینٹ فراہم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور فراہم کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔
1.5 کھاتہ داری میں بنیادی اصطلاحات (Basic Terms in Accounting)
1.5.1 تشخص (Entity)
تشخص سے مراد ایک ایسی چیز سے ہے جس کا ایک خاص انفرادی وجود ہوتا ہے۔ کاروباری تشخص سے مراد ایک مخصوص قابلِ شناخت کاروباری ادارہ ہوتا ہے جیسے سُپربازار، ہائیر جیولرز، آئی ٹی سی لمیٹڈ وغیرہ ایک مخصوص کاروباری تشخص (جسے کھاتہ داری تشخص بھی کہا جاتا ہے) کے لیے ہمیشہ ایک کھاتہ داری نظام یا کھاتہ داری طریقہ کی تدبیر کی جاتی ہے۔
1.5.2 لین دین (Transaction)
ایک واقعہ جس میں دو یا دو سے زیادہ اشخاص کے درمیان کچھ مالیت شامل ہوتی ہے یہ اشیاء کی خریداری، پیسوں کی وصولی، قرض کی ادائیگی ، اخراجات کرنا وغیرہ ہو سکتا ہے۔ یہ ایک نقد لین دین یا ادھار لین دین ہو سکتا ہے۔
1.5.3 اثاثہ جات (Assets)
ہر ادارے کے معاشی ذرائع ہوتے ہیں جنہیں عمدگی سے روپے پیسوں میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ اثاثہ جات ان قیمتی چیزوں کو کہتے ہیں جنہیں کاروبار چلانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سپر بازار کے پاس بہت سے ٹرک ہیں۔ وہ انہیں خوراک کا سامان پہنچانے میں استعمال کرتا ہے۔ اس طرح یہ ٹرک ادارہ کو معاشی فائدہ پہنچاتے ہیں۔ یہ مد (آئیٹم) سپر بازار کے مالی چٹھے میں اثاثہ جات کی طرف لکھی جائے گی۔
اثاثہ جات کو دو بڑے حصّوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: قائم اثاثہ جات اور رواں اثاثہ جات۔
قائم اثاثہ جات: طویل مدت کے لیے حاصل کیے جاتے ہیں، جیسے زمین، عمارت، پلانٹ، مشین، فرنیچر اور فکسچر وغیرہ۔ یہ اثاثہ جات کاروبار کے روز مرہ کے استعمال میں آتے ہیں۔
رواں اثاثہ جات : اس سے مراد ایسے اثاثہ جات سے ہے جو کہ مختصر مدت کے لیے ہوتے ہیں، جیسے قرض دار (قابلِ وصول کھاتے)، قابلِ وصولی بل، اسٹاک (مال) عارضی قابلِ فروخت تمسکات، نقد رقم اور بینک میں جمع رقم۔

شکل 1.4: اثاثوں کی زمرہ بندی
اثاثے
رواں اثاثے غیر رواں اثاثے
دیگرغیر رواں اثاثے طویل مدتی قرض اور پیشگیاں ملقوی ٹیکس اثاثے (خالص ) غیر رواں سرمایہ کاری قائم اثاثے
دیگر رواں اثاثے نقد اور نقد مساوی مختصر مدتی قرض او ر اثاثے تجارتی قابل وصول اشیا ؍فہرستیں رواں سرمایہ کاری
ترقی پزیر غیرقابل لمس اثاثے کیپٹل ورک ان پروگریس غیر قابل لمس اثاثے قابل لمس اثاثے
1.5.4 واجبات (Liabilities)
ادارے کے ایسے قرضے یا دین داریاں جن کی ادائیگی ادارے کو مستقبل میں کسی وقت کرنی ہے، واجبات کہلاتے ہیں۔ یہ فرم کے اثاثہ جات پر قرض خواہوں کے دعوؤں کو پیش کرتے ہیں۔ کاروبار چھوٹا ہو یا بڑا ہو کسی نہ کسی وقت قرض لینا پڑتا ہے اور ادھار مال خریدنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر سپر بازار نے 25 مارچ 2005 کو ایک ماہ کے لیے فاسٹ فوڈ پروڈکٹس سے 10,000 روپے کا مال ادھار خریدا۔ اگر سپر بازار کا مالی چٹھا (بیلنس شیٹ) 31مارچ 2005 کو تیار کیا جائے تو فاسٹ فوڈ پروڈکٹس کمپنی کو بطور لین دار مالی چٹھا میں واجبات کی طرف دکھایا جائے گا۔ اگر سپر بازار کو تین سال کے لیے دہلی اسٹیٹ کوآپرٹیو بینک سے قرضہ حاصل کرنا ہے تو اسے بھی سپر بازار کے مالی چھٹے میں واجبات کی طرف دکھایا جائے گا۔ واجبات مندرجہ ذیل قسم کے ہو سکتے ہیں:
طویل مدتی/میعادی واجبات: ایسے واجبات کو کہتے ہیں جو عام طور پر ایک سال کے بعد قابلِ ادا ہوتے ہیں جیسے کسی مالی ادارے کی طرف سے مدتی قرضہ یا کسی کمپنی کی طرف سے جاری کردہ قرض نامے (Debentures)۔
مختصر مدتی/میعادی واجبات: یہ ایسے واجبات ہیں جن کی ادائیگی ایک سال کے اندر کی جانی ہے، جیسے لین دار (قابلِ ادا کھاتے)، قابلِ ادا بل، مختصر مدت کا بینک اور ڈرافٹ۔

شکل 1.5: واجبات کی زمرہ بندی
واجبات
رواں واجبات غیررواں واجبات
مختصر مدتی پرووزن دیگر رواں واجبات تجارتی ادائیگیاں مختصر مدتی قرضے
غیر رواں واجبات
طویل مدتی پرووژن دیگر طویل مدتی واجبات مدتی ٹیکس واجبات (خالص) طویل مدتی قرضے
باکس 5
رواں اور غیر رواں مدوں آئٹموں کے درمیاں امتیاز
.1 چالو دور (Operating Cycle) میں رواں الگ یا واجبات ہوتے ہیں ۔
.2 رواں اثاثوں یا واجبات کی وصولیاتی کی جاتی ہے ۔ بارہ مہینے کے اندر ان کے بارے تصیفہ ہو جاتا ہے ۔
.3 رواں آئٹم بنیادی طور پر تجارت کے لیے ہوتے ہیں ۔
.4 رواں آئٹم نقد یا نقد مساوی ہوتے ہیں۔
1.5.5 سرمایہ (Capital)
مالک کی طرف سے فرم میں لگائی گئی رقم کو سرمایہ کہتے ہیں۔ کاروباری ادارے میں سرمایہ مالک کے ذریعہ نقد یا اثاثہ جات کی شکل میں لگایا جاتا ہے سرمایہ ایک دین داری اور کاروبار کے اثاثہ جات پر ایک دعویٰ ہوتاہے اس لیے اس کو بیلنس شیٹ میں واجبات کی طرف دکھایا جاتا ہے۔
1.5.6 فروخت (Sales)
فروخت گاہکوں کو فروخت کی گئی اشیاء یا فراہم کی گئی خدمات سے حاصل ہونے والا کل محاصل ہوتا ہے۔ فروخت نقد فروخت بھی ہو سکتی ہے اور ادھار فروخت بھی۔
1.5.7 محاصل (Revenues)
ادارہ خریداروں کو پیداوار فروخت کرتا ہے، خدمت فراہم کرتا ہے اور ان سے وصولیابی ہوتی ہے اسے محاصل کہتے ہیں۔ محاصل کے دیگر ذرائع یا عنوانات جو عام طور سے کاروباری اداروں میں پائے جاتے ہیں، فروخت، فیس، کمیشن، سود، منافع رائلٹی، وصول شدہ کرایہ وغیرہ ہیں۔ محاصل کو آمدنی بھی کہا جاتا ہے۔
1.5.8 خرچ (Expenses)
کاروبار میں محاصل حاصل کرنے میں جو لاگت آتی ہے خرچہ کہلاتی ہے۔ خرچوں کا حساب عام طور سے کسی حسابی مدت میں استعمال ہونے والے اثاثہ جات کی قیمت یا مستعمل خدمات کی قیمت سے لگاتے ہیں۔ خرچوں کی عام مدیں: فرسودگی، کرایہ، مزدوری، تنخواہ، سود، پانی، روشنی اور گرم کرنے کی لاگت، ٹیلیفون وغیرہ ہیں۔
1.5.9 اخراجات (Expenditure)
جائیداد یا خدمت حاصل کرنے یا کچھ فائدہ حاصل کرنے کے لیے پیسہ خرچ کرنا یا دین داری مول لینا اخراجات کہلاتا ہے۔ کرائے کی ادائیگی، تنخواہ، اشیاء کی خریداری، مشینری کی خریداری، فرنیچر کی خریداری وغیرہ اخراجات کی مثالیں ہیں۔ اگر اخراجات کا فائدہ ایک سال کے اندر ہی ختم ہو جائے تو ایسی صورت میں اسے ایک خرچ مانا جاتا ہے [ ان کو محاصلاتی اخراجات بھی کہا جاتا ہے]۔ اس کے برعکس اگر اخراجات کا فائدہ ایک سال سے زیادہ عرصہ تک جاری رہے تب اسے ایک اثاثہ مانا جاتا ہے (ان کو سرمایہ اخراجات بھی کہا جاتا ہے) جیسے مشینری یا فرنیچر کی خریداری وغیرہ۔
1.5.10 منافع (Profit)
ایک حسابی سال کے دوران اس کے متعلقہ اخراجات کے اوپر ہونے والا اضافی محاصل، منافع کہلاتا ہے منافع مالکان کی سرمایہ کاری میں اضافہ کرتا ہے۔
1.5.11 فائدہ (Gain)
کاروبار کے ضمنی لین دین یا واقعات کے نتیجہ میں ہونے والا منافع، فائدہ کہلاتا ہے جیسے کہ قائم اثاثہ جات کی فروخت، عدالتی مقدمہ میں جیت، ایک اثاثہ کی مالیت میں اضافہ۔
1.5.12 نقصان (Loss)
ایک دی گئی مدت میں اس مدت سے متعلق محاصلات کے اوپر ہونے والا اضافی خرچ نقصان کہلاتا ہے۔ یہ مالکان کے سرمائے کو کم کر دیتا ہے۔ اسے بدلنے میں فائدہ حاصل کیے بغیر پیسوں کا لگوانہ (یا لاگت کا اٹھانا) بھی کہا جاتا ہے مثلاً آگ کے حادثہ میں یا باذریعہ چوری نقد یا اشیاء کا گنوایا جانا۔ قائم اثاثہ کی فروخت میں ہونے والا نقصان بھی اس میں شامل ہوتا ہے۔
1.5.13 کٹوتی (Discount)
کٹوتی فروخت کی گئی اشیاء کی قیمت میں کی جانے والی تخفیف ہوتی ہے۔ اس کو دو طرح سے پیش کیا جاتا ہے۔ اس کی ایک طرز تو یہ ہے کہ فروخت کرتے وقت فہرست شدہ قیمت میں سے ایک منظور شدہ فیصد کو کم کر دیا جاتا ہے ایسی کٹوتی کو تجارتی کٹوتی (Trade Discount) کہتے ہیں۔ عام طور پر اس کی پیش کش مصنوعات بنانے والے تھوک فروشوں کو اور تھوک فروش خوردہ فروشوں کو کرتے ہیں۔ اشیاء کو ادھار کی بنیاد پر فروخت کرنے کے بعد دین داروں (Debtors) کو واجب الادا رقم میں اس شرط پر کٹوتی دی جاسکتی ہے کہ اگر وہ رقم کو دی گئی مدت کے اندر یا اس سے پہلے ادا کردیں۔ یہ تخفیف/کٹوتی ادائیگی کے وقت واجب الادا رقم پر دی جاتی ہے۔ اس لیے اس کو نقد کٹوتی (Cash Discount) کہا جاتا یہ نقد کٹوتی ترغیب کا کام کرتی ہے جس کے ذریعہ دین داروں کو درست ادائیگی کرنے کے لیے حوصلہ افزائی ملتی ہے۔
1.5.14 رقم کی رسید واؤچر (Voucher)
ایک لین دین یا سودے کی حمایت میں دستاویزی ثبوت کو واؤچر کہا جاتا ہے۔ مثلاً اگر ہم اشیاء نقد خریدتے ہیں کیش میموحاصل ہوتا ہے، اگر ہم ادھار پر خریداری کرتے ہیں تو ہمیں ایک انوائس حاصل ہوتا ہے، جب ہم ادائیگی کرتے ہیں تب ہمیں ایک رسید ملتی ہے وغیرہ۔
1.5.15 اشیاء (Goods)
اس سے مراد وہ مصنوعات ہیں جن کے مسودوں سے کاروباری اکائی متعلق ہوتی ہے یعنی جن کی یہ خریدوفروخت یا پیداوار اور فروخت کرتی ہے۔ وہ چیزیں جن کی خریداری کاروبار میں استعمال کے لیے کی جاتی ہے انہیں اشیاء نہیں کہا جاتا۔ مثال کے طور پر فرنیچر کا کاروبار کرنے والے کے لیے کرسیوں اور میزوں کی خریداری کو اشیاء مانا جائے گا جبکہ دوسروں کے لیے یہ فرنیچر ہے اور اسے ایک اثاثہ مانا جائے گا۔ اسی طرح، اسٹیشنری کے تاجر کے لیے اسٹیشنری اشیاء ہے جبکہ دوسروں کے لیے یہ ایک خرچ کی چیز ہے (خریداری نہیں)۔
1.5.16 ڈرائنگس (Drawings)
مالک کے ذریعہ کاروبار سے ذاتی استعمال کے لیے نکالی گئی رقم یا اشیاء کو ڈرائنگ کہا جاتا ہے۔ ڈرائنگ مالکان کے سرمائے کو کم کر دیتی ہے۔
1.5.17 خریداری (Purchases)
حاصل شدہ مال کی مجموعی قیمت کو خریداری کہتے ہیں، کاروبار نے یہ مال نقد خریدا ہو یا ادھار۔ چاہے یہ مال کاروبار کے استعمال کے لیے ہو یا فروخت کے لیے۔ تجارتی ادارے میں تجارتی اشیاء کی خریداری دوبارہ بیچنے کے لیے کی جاتی ہے۔ دوبارہ بیچنے سے پہلے اس میں ردوبدل کیا بھی جاسکتا ہے اور نہیں بھی۔ صنعتی ادارہ خام مال خریدتا ہے۔ خام مال کو تیار شدہ مال میں تبدیل کیا جاتا ہے اور پھر فروخت کیا جاتا ہے۔ خریداری ادھار یا نقد دونوں ہو سکتی ہے۔
1.5.18 اسٹاک (Stock)
اسٹاک (مال) کاروبار میں موجودہ چیزوں کا پیمانہ ہے۔ اسٹاک میں مال تجارت، فاصل پُرزے اور دوسری اشیاء شامل ہیں۔ اسے موجودہ اسٹاک بھی کہتے ہیں۔ ایک تجارتی ادارے میں حسابی مدت کے اختتام تک جو مال تجارت فروخت نہیں ہوا ہے اس کو موجودہ اسٹاک کہا جاتا ہے۔ اسے اختتامیہ اسٹاک بھی کہتے ہیں۔ ایک صنعتی ادارے میں اختتامیہ اسٹاک میں خام مال، جزوی طور پر تیار شدہ مال اور غیرتیار شدہ مال شامل ہوتے ہیں جو حساب کی اختتامی تاریخ پر کاروبار میں موجود ہیں۔ اسی طرح ابتدائی اسٹاک (حسابی مدت کے شروع کا مال) میں مال کی وہ قیمت شامل ہوتی ہے جو حسابی سال کے شروع میں ہوتی ہے۔
1.5.19 دین دار (Debtors)
دین دار وہ اشخاص یا ادارے ہیں جنہوں نے مال تجارت یا خدمات ادھار حاصل کی ہیں اور اس کے لیے انہیں رقم ادا کرنی ہے۔ سال رواں کی اختتامی تاریخ پر ایسے اشخاص یا اداروں کے نام جو رقم لکھی ہے اسے بطور متفرق دین دار مالی چٹھے میں اثاثہ جات کی طرف لکھتے ہیں۔
1.5.20 لین دار (Creditors)
لین دار ان اشخاص یا اداروں کو کہتے ہیں جنہوں نے مالِ تجارت یا خدمات ادھار فراہم کی ہیں اور اس کے لیے انہیں ادائیگی کی جانی ہے۔ اختتامی تارخ پر ایسے اشخاص یا اداروں کے نام جو رقم لکھی ہے اسے بطور متفرق لین دار مالی چٹھے میں واجبات کی طرف دکھاتے ہیں۔
اپنے علم کی جانچ کیجیے - V
مسٹر سن رائز نے 5,00,000 روپے کی ابتدائی سرمایہ کاری کر کے اسٹیشنری خریدنے اور بیچنے کے کاروبار کی شروعات کی۔ اس رقم میں سے انہوں نے 1,00,000 روپے کا فرنیچر اور 2,00,000 کی اسٹیشنری کی اشیاء خریدیں۔ انہوں نے ایک کلرک اور ایک سیلز مین کو ملازمت دی۔ مہینہ کے آخر میں 5000 روپے بطور ان کی تنخواہوں کے ادا کیے۔ خریدی ہوئی اسٹیشنری میں سے انہوں نے کچھ اسٹیشنری 1,00,000 روپے نقد اور کچھ اسٹیشنری 1,50,000 روپے میں مسٹر روی کو ادھار بنیادی پر فروخت کی۔ اور پھر انہوں نے 1,50,000 روپے میں اسٹیشنری کی چیزیں مسٹر سیس سے خریدیں۔ اگلے مہینہ کے پہلے ہی ہفتہ میں آگ کا حادثہ ہو گیا اور 30,000 روپے کی اسٹیشنری کا نقصان ہو گیا۔ ایک مشینری کے حصّہ کو جس کی لاگت 40,000 روپے تھی 45,000 روپے میں فروخت کر دیا گیا۔
1۔ کتنی رقم سے مسٹر سن رائز نے کاروبار شروع کیا؟
2۔ کون سے قائم اثاثہ جات انہوں نے خریدے؟
3۔ خریدی گئی اشیاء کی مالیت کیا ہے؟
4۔ لین دار کون ہے اور اس کو قابلِ ادا رقم کتنی ہے؟
5۔ اخراجات کیا ہیں؟
6۔ اس نے کتنا فائدہ کمایا؟
7۔ اسے کتنا نقصان ہوا؟
8۔ دین دار کون ہے؟ اس سے قابلِ وصول رقم کتنی ہے؟
9۔ اخراجات اور نقصانات کی کل رقم کتنی ہے؟
10۔ ذیل میں سے اثاثہ جات، واجبات، محاصلات، اخراجات یا ان میں سے کوئی نہیں کا تعین کیجیے:
فروخت ، دین دار، لین دار، منیجر کو تنخواہ، دین داروں کو کٹوتی، مالک کے ذریعہ کی گئی ڈرائنگ۔
خلاصہ بحوالہ سیکھنے کے مقاصد
1۔ کھاتہ داری کے معنیٰ: کھاتہ داری ایک ایسا عمل ہے جو کاروباری لین دین کی نشاندہی کرتا ہے، پیمائش کرتا ہے اور ترسیل کرتا ہے تاکہ معلومات پر مبنی رائے قائم کر سکیں۔
2۔ کھاتہ داری بطور ایک معلومات کا ذریعہ: کھاتہ داری بطور ایک معلوماتی نظام ایک ادارے کے معاشی واقعات کی نشاندہی کرتا ہے۔ پیمائش کرتاہے، اندراج کرتا ہے اور ان کی ترسیل معلومات میں دلچسپی رکھنے والے معلومات کے استعمال کنندگان کو کرتا ہے۔
3۔ کھاتہ داری معلومات کے استعمال کرنے والے: کھاتہ داری معاشرے میں ایک اہم رول انجام دیتی ہے یہ تمام سطحوں پر انتظامیہ کو اور ادارے میں براہِ راست مالی مفاد رکھنے والے لوگوں کو معلومات فراہم کرتی ہے، مثلاً یہ موجودہ اور اہل سرمایہ کاروں اور لین داروں کو معلومات فراہم کرتی ہے۔ کھاتہ داری معلومات بالواسطہ مالی مفاد رکھنے والوں کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے جیسے ضابطہ کار ایجنسیاں، ٹیکس اتھارٹیز، گاہک، مزدور یونین، تجارتی انجمنیں، اسٹاک ایکسچینج اور دیگر لوگ۔
4۔ کھاتہ داری کی کیفیتی خصوصیات: کھاتہ داری معلومات کو فیصلوں کے لیے قابلِ استعمال ہونے کے لیے اس میں مندرجہ ذیل کیفیتی خصوصیات ہونی چاہئیں۔
- قابلِ بھروسہ قابلِ فہم
- موزونیت قابلِ موازنہ
5۔ کھاتہ داری کے مقاصد: کھاتہ داری کے بنیادی مقاصد ہیں:
- کاروباری لین دین کا ریکارڈ رکھنا
- نفع اور نقصان کا حساب لگانا
- مالی حیثیت ظاہر کرنا
- استعمال کرنے والوں کو معلومات بہم پہنچانا
6۔ کھاتہ داری کا رول: کھاتہ داری اپنے آپ میں اختتام نہیں ہے، یہ اختتام تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے۔ یہ مندرجہ ذیل رول ادا کرتی ہے۔
- ایک کاروبار کی زبان
- تاریخی ریکارڈ
- رواں معاشی حیثیت
- معلوماتی نظام/ طریقہ
- استعمال کرنے والوں کی خدمت
مشقیں
مختصر جوابی سوالات
1۔ کھاتہ داری کی تعریف بیان کیجیے۔
2۔ مالی کھاتہ داری کی اختتامی شہ کیا ہوتی ہے، بیان کیجیے۔
3۔ کھاتہ داری کے مقاصد بیان کیجیے۔
4۔ کھاتہ داری سے متعلق اطلاعات کا استعمال کون لوگ کرتے ہیں۔
5۔ طویل معیادی قرض خواہوں کو درکار کھاتہ داری معلومات کی نوعیت کو بیان کیجیے۔
6۔ معلومات کے بیرونی استعمال کرنے والے کون ہیں۔
7۔ انتظامیہ کی معلومات سے متعلق ضروریات کو بیان کیجیے۔
8۔ محاصلات (Revenues) کی تین مثالیں دیجیے۔
9۔ لین داروں اور دین داروں کے درمیان فرق واضح کیجیے؛ نفع اور فائدہ۔
10۔ ’کھاتہ داری معلومات کو قابلِ موازنہ ہونا چاہیے‘ کیا آپ اس بیان سے اتفاق کرتے ہیں، دو وجوہات دیجیے۔
11۔ اگر کھاتہ داری معلومات کو واضح طور پر پیش نہیں کیا جاتا تو ایسی صورت میں کھاتہ داری معلومات کی کسی کیفیتی خاصیت کی خلاف ورزی ہوتی ہے؟
12۔ ’’زمانہ گذرنے کے ساتھ کھاتہ داری کے رول میں تبدیلی ہوئی ہے۔‘‘ کیا آپ اتفاق کرتے ہیں؟ واضح کیجیے۔
13۔ مثالیں دے کر مندرجہ ذیل کھاتہ داری اصطلاحات کو واضح کیجیے۔
- قائم اثاثہ جات
- محاصل
- اخراجات
- مختصر میعادی/مدتی واجبات
- سرمایہ
14۔ اخراجات اور محاصلات کی تشریح کیجیے؟
15۔ کھاتہ داری علم سے آگاہی کاروباری طلباء اور دیگر لوگوں کے لیے کیوں ضروری ہے، بنیادی وجہ بیان کیجیے۔
طویل جوابی سوالات
1۔ کھاتہ داری کی تشریح کیجیے اور اس کے مقاصد بیان کیجیے۔
2۔ باقاعدہ کھاتہ داری کو ضروری بنانے والے عوامل کی وضاحت کیجیے۔
3۔ بیرونی استعمال کرنے والوں کی معلومات سےمتعلق ضروریات کو بیان کیجیے۔
4۔ اثاثہ سے آپ کی کیا مراد ہے اور اثاثہ جات کی مختلف اقسام کیا ہیں؟
5۔ منافع اور فائدے کے معنوں کو واضح کیجیے اور ان دونوں اصطلاحات میں فرق کیجیے۔
6۔ کھاتہ داری کی کیفیتی خصوصیات کی وضاحت کیجیے۔
7۔ جدید دنیا میں کھاتہ داری کے رول کی تشریح کیجیے۔
اپنے علم کی جانچ کے لیے فہرست
اپنے علم کی جانچ کیجیے – I
(a) معاشی (b) انتظامیہ/ملازمین (c) لین دار
(d) میعادی وقفہ (e) بیرونی (f) جانبداری سے پاک
(g) لین دین کی نشاندہی اور معلومات کی ترسیل
(h) روپے پیسوں میں (i) ترتیب سے
اپنے علم کی جانچ کیجیے II –
1۔ قابلِ بھروسہ یعنی قابلِ تصدیق، نیک نیت، غیر جانبدار
2۔ موزونیت یعنی بروقتگی
3۔ قابلِ فہم اور قابلِ موازنہ
اپنے علم کی جانچ کیجیے III –
(a) حکومت اور دیگر ضابطہ کار
(b) انتظامیہ
(c) سماجی ذمہ داری سے متعلق گروپ
(d) قرض خواہ
(e) سپلائیز اور لین دار
(f) گاہک
اپنے علم کی جانچ کیجیے IV –
1۔ (c) 2۔ (a) 3۔ (c) 4۔ (a) 5۔ (a)
اپنے علم کی جانچ کیجیے V –
1۔ 5,00,000 روپے 2۔ 1,00,000 روپے 3۔ 2,00,000 روپے
4۔ مسٹر ریئیس 1,50,000 روپے 5۔ 5000 روپے 6۔ 5000 روپے
7۔ 30,000 روپے 8۔ مسٹر روی، 1,00,000روپے 9۔ 35,000 روپے
10۔ اثاثہ جات : دین دار، واجبات: لین دار، ڈرائنگ؛ محاصلات: فروخت کے اخراجات، کٹوتی، تنخواہ۔
سرگرمی : مناسب جگہ پر صحیح کا نشان ( 🗸 ) لگائیے۔
| اشیا | چالو اثاثے | غیرچالو اثاثے | چالو واجبات | غیر چالو واجبات |
| مشینری | ||||
| متفرق قرض خواہ | ||||
| بینک میں جمع رقم | ||||
| تجارتی ساکھ | ||||
| قابل ادائیگی بل | ||||
| زمین اور عمارت | ||||
| فرنیچر | ||||
| کمپیوٹرسافٹ ویئر | ||||
| موٹر گاڑی | ||||
| فہرست | ||||
| سرمایہ | ||||
| بینک سے قرض | ||||
| متفرق دین داری | ||||
| پیٹنٹ | ||||
| ایئر کنڈیشنر | ||||
| خردہ اوزار |