کھاتہ داری کی نظری اساس کچھ اصولوں، نظریات، قوانین اور رہنما ہدایات پر مبنی ہے اور عملی کھاتہ داری میں استحکام اور یکسانیت پیدا کرنے نیز اس سے استفادہ کرنے والوں کے واسطے اس کی افادیت کو بڑھانے کے لیے ان اصول و نظریات کے فروغ و ترویج میں بڑا وقت لگا ہے۔ اس کے علاوہ انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹینٹس آف انڈیا (آئی سی اے آئی) نے جو کہ ملک میں کھاتہ داری پالیسیوں کو معیاری بنانے کے لیے ایک ضابطہ ساز ادارہ ہے، کھاتہ داری معیارات جاری کیے ہیں جن سے توقع کی جاتی ہے کہ یہ کھاتہ داری عمل میں یکسانیت لائے گے اور کھاتہ داری کاموں میں استحکام لانے کی غرض سے ان کو دھیان میں رکھا جائے گا۔ ان کا ذکر آنے والے حصّوں میں کیا گیا ہے۔
2.1 عموماً تسلیم شدہ اصول کھاتہ داری
(Generally Accepted Accounting Principles, GAAP)
کھاتہ داری ریکارڈوں میں یکسانیت اور استحکام کو بنائے رکھنے کے لیے چند اصولوں یا قوانین کو فروغ دیا گیا ہے جو کہ کھاتہ داری کے پیشہ سے وابستہ لوگوں کے ذریعہ عموماً تسلیم کیے جاتے ہیں۔ ان قوانین کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے جیسے اصول (Principles)، نظریات (Concepts)، مفروضات (Postulates)اور ترمیمی اصول۔
اے آئی سی پی اے، نے لفظ اصول کی تعریف اس طرح کی ہے
:“A general law or rule adopted or professed as a guide to action, a settled ground or basis of conduct or practice” یعنی’’ایک عمومی قانون یا ضابطہ جس کو رہنمائے عمل کے طور پر اختیار کر لیا گیا ہو یا بطور پیشے کے اپنالیا گیا، طریقۂ کار یا پریکٹس کی ایک تسلیم
شدہ بنیاد یا اساس‘‘ اس تعریف میں لفظ ’جنرل‘ (General) کا مطلب ہے عام طور پر یعنی اس میں بہت سے لوگ، بہت سے قصنپے اور بہت سے مواقع شامل ہو جاتے ہیں۔ اس طرح عموماً تسلیم شدہ کھاتہ داری اصول سے مراد ’’کاروباری سودوں کے اندراج اور ان کی رپورٹنگ کرنے کے لیے اپنائے جانے والے قوانین سے ہے تاکہ مالی گوشواروں کی تیاری اور اظہار میں یکسانیت پیدا کی جاسکے۔ مثال کے طور پر ایک اہم قانون تمام سودوں کا تاریخی لاگت کی بنیاد پر اندراج کرنا ہے جو کہ ادا کی گئی رقم کے لیے کیش رسید جیسی دستاویزات سے قابل تصدیق ہوتی ہے۔ اس سے اندراج کے عمل میں غیر جانبداری پیدا ہوتی ہے اور کھاتہ داری گوشوارے مختلف استعمال کرنے والوں کے لیے زیادہ قابل قبول بن جاتے ہیں۔
زری اکائی کا نظریہ خامیوں سے خالی نہیں ہے۔ قیمتوں میں تبدیلی کی وجہ سے زر کی مالیت وقت کے گزرنے کے ساتھ ایک سی نہیں رہتی۔ گذشتہ دس سال کے مقابلہ میں قیمتوں میں اضافہ کے باعث آج روپے کی مالیت کافی کم ہوگئی ہے۔ اس لیے بیلنس شیٹ میں جب ہم مختلف وقتوں میں خریدے گئے مختلف اثاثوں کو جوڑتے ہیں، مثلاً 1995 میں 2 کروڑ روپے میں خریدی گئی عمارت اور 2005 میں 1 کروڑ روپے میں خریدا گیا پلانٹ، ایسی صورت میں درحقیقت ہم ایک دوسرے سے جدا مالیتوں کو جوڑ دیتے ہیں جن کو ایک دوسرے کے ساتھ نہیں ملایا جاسکتا۔ کیونکہ کھاتہ داری کی کتابوںمیں زر کی مالیت میں ہونے والی تبدیلی کا اظہار نہیں ہوتا اس لیے کھاتہ داری اعداد و شمار کسی ادارے کے امور کی حقیقی اور شفاف منظر کشی نہیں کرتے۔
2.2.3 نظریۂ ادارۂ جاری (Going Concern Concept)
نظریہ ادارۂ جاری کے تحت یہ فرض کیا جاتا ہے کہ ایک کاروباری فرم لامحدود مدت تک اپنے کاموں کو جاری رکھے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ فرم ایک خاصے طویل عرصہ تک جاری رہے گی اور مستقبل میں اس کا خاتمہ کا دیوالیہ ہو جانا محتمل الوقوع نہیں ہے۔ یہ کھاتہ داری کا ایک اہم مفروضہ ہے کیونکہ بیلنس شیٹ میں اثاثوں کی مالیت دکھانے کے لیے یہ ایک اہم بنیاد ہے۔
ایک اثاثہ کی تعریف میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک خدمات کا پلندہ (Bundle of Services) ہوتا ہے جب ہم ایک اثاثہ خریدتے ہیں مثلاً 50,000 روپے میں ایک ذاتی کمپیوٹر تو حقیقت میں ہم کمپیوٹر کی خدمات خرید رہے ہیں جو اس کی تخمینی زندگی مثلاً پانچ سال تک ہمیں حاصل رہیں گی۔ یہ مناسب نہ ہوگا کہ ہم 50,000 روپے کی رقم کو اس سال کے محاصل (Revenue) پر بار کریں جس سال میں ہم نے کمپیوٹر خریدا ہے۔ اس کے بجائے اثاثہ کا وہ حصہّ جس کی کھپت ہوئی ہے یا جس کو ایک مدت کے درمیان استعمال کیا گیا ہے اس کو ہی اس مدت کے محاصل پر بار کرنا چاہئے۔ کاروبار کے مسلسل جاری رہنے کے مفروضہ کی بنا پر ہی ہم کسی مدت کے محاصل پر اثاثہ کے اس حصّہ کو بار کرتے ہیں جو کہ اس محاصل کو کمانے میں استعمال ہوا ہے اور بقیہ رقم کو اثاثہ کی تخمینی زندگی تک لے جاتے ہیں۔ اس طرح ہم 10,000 روپے کو 5 سالوں میں ہر سال کے نفع و نقصان کھاتہ پر بار کر سکتے ہیں۔ اگر جاری ادارہ کا نظریہ نہ ہو تو تمام لاگت (موجودہ مثال میں 50,000 روپے) اسی ایک سال کے محاصل بار کرنی پڑتی جس سال اثاثہ کی خریداری کی گئی تھی۔
2.2.4حسابی /کھاتہ داری مدت کا نظریہ(Accounting Period Concept)
حسابی مدت سے مراد اس وقفۂ مدت سے ہے جس کے اختتام پر ایک ادارے کے مالی گوشوارے تیار کیے جاتے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ اس مدت کے دوران اس فرم نے منافع کمایا ہے یا اسے نقصان ہوا ہے اور اس مدت کے اختتام پر اس کے اثاثے اور واجبات کی حالت کیسی ہے۔ مختلف استعمال کنندگان کو مختلف مقاصد کے لیے ایسی معلومات کی ضرورت وقتاً فوقتاً پڑتی رہتی ہے۔کوئی بھی فرم اپنے مالی نتائج کو جاننے کے لیے طویل عرصہ تک انتظار نہیں کر سکتی کیونکہ اسے معینہ وقفوں کے بعد اس معلومات کی بنیاد پر مختلف فیصلے لینے ہوتے ہیں۔ اس لیے معینہ وقفوں پر مالی گوشوارے تیار کیے جاتے ہیں عموماً یہ ایک سال کی مدت کے بعد تیار کیے جاتے ہیں تاکہ استعمال کنندگان کو بروقت معلومات فراہم کی جاسکے۔ وقت کا یہ وقفہ، حسابی مدت (Accounting Period) کہلاتا ہے۔
کمپنی قانون 1956 اور انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت آمدنی گوشواروں (Income Statements) کو سالانہ تیار کرنا چاہئے۔ البتہ کچھ صورتوں میں عبوری مالی گوشواروں کی تیاری ضروری ہوتی ہے مثلاً ایک شریک کے ریٹائرمنٹ کے وقت، حسابی مدّت بارہ ماہ کی مدت سے مختلف ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ جن کمپنیوں کے حصص اسٹاک ایکسچینج پر فہرست شدہ (Listed) ہوتے ہیں ان کے لیے سہ ماہی نتائج شائع کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ ہر تین ماہ کی مدت کے اختتام پر مالی حالت اور منافع کمانے کی صلاحیت معلوم کی جاسکے۔
2.2.5 لاگت کا نظریہ (Cost Concept)
لاگت کے نظریہ کے تحت تمام اثاثوں کا کھاتہ داری کتابوں میں ان کی قیمت خرید (Purchase Price) پر اندراج کیا جاتا ہے جس میں اثاثے کو حاصل کرنے، اس کے ٹرانسپورٹ، اس کو لگوانے اور استعمال کے لیے تیار کرنے کی لاگت شامل ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر جون 2005 کو شیوا انٹرپرائیزیز نے ایک پُرانا پلانٹ 50 لاکھ روپے میں خریدا۔ شیوا انٹرپرائزیز کپڑے دھونے کا پاؤڈر بنانے کا کاروبار کرتا ہے۔ پلانٹ کو فیکٹری تک لانے میں 10,000 روپے ٹرانسپورٹ پر خرچ ہوئے اس کے علاوہ 15,000 روپے کا خرچ پلانٹ کو قابلِ استعمال بنانے کے لیے اس کی مرمت کرانے پر آیا اور 25,000 روپے اس کو لگوانے پر خرچ ہوئے۔ کھاتہ داری کتابوں میں جس مجموعی رقم پر پلانٹ کا اندراج کیا جائے گا وہ ان تمام لاگتوں کا جوڑ ہوگی یعنی 50,50,000 روپے۔
لاگت کا نظریہ نوعیت کے اعتبار سے تاریخی (Historical) ہے کیونکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کی ادائیگی حصول کی تاریخ کو کی جاتی ہے اور اس میں سال بہ سال تبدیلی نہیں ہوتی۔ مثلاً اگر ایک فرم نے ایک عمارت 2.5 کروڑ روپے میں خریدی ہے تو آنے والے تمام سالوں میں قیمت خریداری ایک سی ہی رہے گی چاہے بازار میں اس کی مالیت کم یا زیادہ ہو جائے۔ تاریخی لاگت کو اپنانے سے اندراج میں معروضیت آجاتی ہے کیونکہ خریداری کے دستاویزات سے بآسانی حصول کی لاگت کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔ اس کے برعکس بازاری مالیت قابل اعتماد نہیں ہوتی کیونکہ ایک اثاثہ کی مالیت میں وقتاً فوقتاً تبدیلی ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے دو مختلف مدتوں کی خریداری کا موازنہ کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
بہر حال، تاریخی لاگت کی ایک اہم خامی یہ ہے کہ یہ کاروبار کے حقیقی سرمائے کو نہیں پیش کرتی جس کی وجہ سے پوشیدہ منافعے ہو سکتے ہیں۔ قیمتوں میں اضافہ کی مدت کے دوران، بازاری قیمت یا لاگت جس پر اثاثوں کو بدلا جاسکتا ہے وہ اس لاگت سے زیادہ ہوتی ہے جس پر کہ ان کو کھاتہ داری کتابوں میں دکھایا گیا ہے اور اسی بنا پر پوشیدہ منافعے ہوتے ہیں۔
2.2.6 نظریہ ثنویت (Dual Aspect Concept)
ثنویت (Duality) کھاتہ کی اساس یا اس کا بنیادی اصول ہے جو کھاتہ داری کی کتابوں میں لین دین کے اندراج کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق ہر لین دین کا دوہرا اثر ہوتا ہے اور اس لیے ہر لین دین کا دو جگہوں پر اندراج ہونا چاہئے۔ دوسرے الفاظ میں، ایک لین دین کے اندراج میں کم از کم دو کھاتے شامل ہوں گے۔ اس کی وضاحت ایک مثال کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔ رام نے 50,00,000 روپے کے سرمائے سے کاروبار شروع کیا۔ رام کے ذریعہ لگائی گئی رقم کاروبار کے اثاثوں (نقد) میں اضافہ کرے گی اور دوسری طرف مالک کا اصل سرمایہ (Equity or Capital) بھی اس حساب سے بڑھ جائے گا۔ یہاں دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اس لین دین کے ذریعے دو چیزیں متاثر ہوئیں نقد اور اصل سرمایہ کھاتہ۔
اس کو سمجھنے کے لیے آئیے ہم ایک اور مثال لیں۔فرض کیجیے فرم نے 10,00,000 روپے کی اشیاء نقد خریدیں۔ اس سے ایک اثاثہ (اشیاء کے اسٹاک) میں اضافہ ہوگا تو دوسری طرف ایک دیگر اثاثہ (نقد) میں کمی ہو جائے گی۔ اسی طرح، اگر فرم ریلائیبل انڈسٹریز سے 30,00,000 روپے کی مشین ادھار خریدتی ہے تو اس سے ایک طرف تو ایک اثاثہ (مشین) میں اضافہ ہوگا تو دوسری طرف ایک دین (قرض خواہ) بڑھ جائے گا۔ تمام کاروباری سودوں کے نتیجہ میں اسی طرح کا دوہرا اثر ہوتاہے اور اسی کو اصول ثنویت (Dualty Principle) بھی کہا جاتا ہے۔
اصول ثنویت کا اظہار عام طور پر بنیادی کھاتہ داری مساوات کی شکل میں کیا جاتا ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہے۔
دوسرے الفاظ میں، اس مساوات کے مطابق ایک کاروبار کے اثاثے ہمیشہ کاروبار کے مالکان اور بیرونی لوگوں کے مطالبات کے برابر ہوتے ہیں۔ مالکان کے مطالبات (Claims) کو اصل سرمایے (Capital) کی اصطلاح اور بیرونی لوگوں کے مطالبات کو واجبات (Liabilities) کی اصطلاح دی گئی ہے۔ ہر لین دین کا دوہرا اثر اس طرح رونما ہوتا ہے کہ مساوات کے دونوں اطراف کی برابری قائم رہتی ہے۔
کاروبار کی حسابی کتابوں میں تمام لین دین کے دوہرے اثر کا فوراً اندراج ہونا چاہئے۔ درحقیقت، یہ نظریہ کھاتہ داری کے دوہرے اندراج کے نظام (Double Entry System) کی اصل ہے جسے باب 3 میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
2.2.7 شناخت محاصل کا نظریہ [Revenue Recognition (Realisation) Concept]
شناخت محاصل کے نظریہ کے مطابق ایک کاروباری سودے کے محاصل کو کھاتہ داری کتابوں میں اس وقت ہی درج کرنا چاہئے جب وہ وصول ہو جائیں۔ یہاں ذہن میں دو سوال اٹھتے ہیں: پہلا تو یہ کہ محاصل (Revenue) کی اصطلاح سے کیا مراد ہے؟ دوسرا یہ کہ محاصل کب وصول ہوتے ہیں؟آئیے پہلے اوّل کو لیں۔ (i) کسی ادارے کے ذریعہ اشیاء اور خدمات کی فروخت (ii)ادارے کے وسائل کو جب دوسرے لوگ استعمال کریں اور بدلے میں سود، ڈیویڈینڈ اور رائیلٹی اداکریں۔ ان دونوں صورتوں میں حاصل ہونے والا کل نقد محاصل ہے۔ دوسرے، محاصل کو اس وقت وصول مانا جاتا ہے جبکہ اس کو حاصل کرنے کا قانونی حق پیدا ہو جاتا ہے یعنی اس نقطۂ وقت پر جب اشیاء فروخت کردی گئی ہوں یا خدمات ادا کردی گئی ہوتی ہیں۔ اس طرح، ادھار فروخت کو فروخت کے دن ہی محاصل مانا جاتا ہے نہ کہ خریدار سے رقم کی وصولیابی کے وقت۔ ایسا ہی آمدنی جیسے کرایہ، کمیشن، سود وغیرہ کے ساتھ بھی ہے ان کی شناخت بھی وقت کی بنیاد پر کی جاتی ہے مثلاً اگر مارچ 2017 کے لیے کرایہ اپریل 2017 میں وصول ہو تب بھی اسے مالی سال، مارچ 2017 کے نفع و نقصان کھاتہ میں ہی درج کیا جائے گا نہ کہ شروع سال اپریل 2017 کے نفع و نقصان کھاتہ میں۔ اسی طرح اگر اپریل 2017 کے لیے سود مارچ 2017 میں پیشگی وصول ہو جائے تب بھی اسے مالی سال مارچ 2018 کے نفع و نقصان میں ہی لیا جائے گا۔
شناخت محاصل کے اس عام اصول کی چند استثنائی شکلیں بھی ہیں۔ معاہدوں کی صورت میں جیسے تعمیری کام جس کی تکمیل میں طویل وقت مثلاً 2 یا 3 سال لگ جاتے ہیں تو ایسی صورت میں محاصل کی تناسبی رقم، جو کہ مدت کے اختتام پر تکمیل شدہ معاہدے کے حصّہ پر مبنی ہوتی ہے، وصول مانی جاتی ہے۔ اسی طرح جب اشیاء ہائیر پرچیس (Hire Purchase) پر فروخت ہوتی ہیں تب قسطوں میں حاصل شدہ رقم کو وصول مانا جاتا ہے۔
2.2.8 تقابل کا نظریہ (Matching Concept)
کسی مدت کے دوران کمائے گئے منافع یا نقصان کو معلوم کرنے کے لیے اسی مدت کے دوران کمائے گئے محاصل میں سے متعلقہ اخراجات کو گھٹانا ہوتا ہے۔ تقابل کا نظریہ اسی پہلو پر زور دیتا ہے۔ اس کے مطابق ایک کھاتہ داری مدت کے دوران اٹھائے گئے اخراجات کا مقابلہ اسی مدت کے محاصل سے کرنا چاہئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان محاصل کو کمانے کے لیے کیے گئے اخراجات بھی اسی کھاتہ داری مدت سے متعلق ہونے چاہئیں۔
جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے کہ محاصل کی شناخت اس وقت کی جاتی ہے جبکہ فروخت مکمل ہو جائے یا خدمات ادا ہو جائیں نہ کہ اس وقت جب کہ نقدکی وصولیابی ہو جائے۔ اسی طرح، خرچ کی شناخت اس وقت نہیں کی جاتی جب نقد کی ادائیگی کی جاتی ہے بلکہ اس وقت کی جاتی ہے جبکہ ایک اثاثہ یا خدمت کا استعمال محاصل پیدا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اسی طرح، غیر منقولہ (Fixed) اثاثہ کی فرسودگی جیسی لاگتوں کو اس پوری مدت پر تقسیم کیا جاتا ہے جس کے دوران اثاثہ کا استعمال کیا ہوا ہو۔
آئیے سمجھیں کہ ہم اشیاء کی لاگت کا تقابل ان کے فروخت کے محاصل سے کس طرح کرتے ہیں۔ ایک کھاتہ داری سال کے نفع یا نقصان کو معلوم کرتے وقت ہمیں اس مدت کے دوران خریدی گئی یا پیدا کی گئی ان تمام اشیاء کی لاگت کو نہیں لینا چاہئے جو کہ اس سال کے دوران فروخت کی گئی ہوں بلکہ صرف ان اشیاء کی لاگت کو لینا چاہئے جو اس سال فروخت کی گئیں ہیں۔ اس مقصد کے لیے غیر فروخت شدہ اشیاء کو خریدی گئی یا پیدا کی گئی اشیاء کی لاگت میں سے نفی کر دینا چاہئے۔ آپ اس پہلو کے بارے میں مالی گوشواروں کے باب میں تفصیل سے پڑھیں گے۔
اس طرح، نظریۂ تقابل کے تحت ایک مالی سال کا نفع و نقصان معلوم کرتے وقت اس سال کے دوران کمائے گئے تمام محاصل کو مدنظر رکھنا چاہئے چاہے وہ وصول ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں اور ایسے ہی لگائی گئی تمام لاگتوں کو چاہے وہ ادا کی گئی ہوں یا نہ کی گئی ہوں مدِنظر رکھنا چاہئے۔
2.2.9مکمل انکشاف کا نظریہ (Full Disclosure Concept)
مالی گوشواروں کے ذریعہ فراہم کی جانے والی معلومات کا استعمال لوگوں کے مختلف گروپ جیسے سرمایہ کار، قرض خواہ اور سپلائیر وغیرہ مختلف طرح کی مالی فیصلہ سازی کرتے ہیں۔ کسی تنظیم کی کارپوریٹ شکل میں، ادارے کے مالکان اور اس کے معاملات کا انتظام کرنے والوں میں فرق ہوتا ہے۔ مالی گوشوارے، بہر حال تمام دلچسپی رکھنے والے فریقوں کو مالی معلومات کی ترسیل کا واحد یا بنیادی ذریعہ ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ اور زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ مالی گوشوارے اس تمام معلومات کا مکمل، شفاف اور مناسب انکشاف کریں جو کہ مالیاتی فیصلہ سازی کے لیے موزوں ہوں۔
مکمل انکشاف کے اصول کے تحت مالی گوشواروں اور ان کے ذیلی حواشی (Footnotes)میں ایک ادارے کی مالی کارگزاری سے متعلق تمام موزوں اور مادی حقائق کا مکمل انکشاف کیا جانا چاہئے۔ اس سے استعمال کو کنندگان ادارے کی مالی صحت اور منافع کمانے کی صلاحیت کی درست تشخیص کرنے میں اور معلومات پر مبنی فیصلہ سازی کرنے میں مدد ملتی ہے۔
مالی کھاتہ داری معلومات کے مناسب انکشاف کو یقینی بنانے کے لیے، ہندوستانی کمپنی قانون 1956 نے کمپنی کے مالی نفع و نقصان کھاتہ نیز کمپنی کی بیلنس شیٹ کی تیاری کے لیے ایک فارمیٹ تیار کیا ہے جس کو ان گوشواروں کی تیاری کے لیے مدِنظر رکھنا لازمی ہے۔
ضابطہ ساز (Regulatory) ادارے جیسے سیبی (SEBI) بھی کمپنیوں کے ذریعے مکمل انکشاف کو لازمی قرار دیتے ہیں تاکہ کمپنی کے معاملات اور منافع کمانے کی صلاحیت کی حقیقی اور واضح تصویر سامنے آئے۔
2.2.10 دائمیت کا نظریہ (Consistency Concept)
مالی گوشواروں کے ذریعہ فراہم کردہ کھاتہ داری معلومات کسی ادارے کی کارگزاری کے سلسلے میں نتائج اخذ کرنے کے لیے اسی وقت قابلِ استعمال ہوتی ہیں جب کہ یہ نہ صرف مختلف مدتوں میں ادارے کی کارگزاری کا موازنہ ایک دوسرے سے کریں بلکہ دوسرے اداروں کی کارگزاری کا موازنہ بھی اس ادارے کی کارگزاری سے کریں۔ اس طرح، فرموں کے درمیان اور مختلف وقتی مدتوں کے درمیان موازنہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسا اسی وقت ممکن ہے جبکہ فرم کے ذریعے اپنائی جانے والی کھاتہ داری پالیسیاں اور کام تمام وقتی مدتوں میں یکساں اور دائم ہوں۔
مثال کے طور پر ایک سرمایہ کار کسی ادارے کی رواں سال کی کارکردگی کا گذشتہ سال کی کارکردگی سے موازنہ کرنا چاہتا ہے۔ وہ اس سال کے خالص منافع کا موازنہ گذشتہ سال کے خالص منافع سے کر تو سکتا ہے لیکن اگر فرسودگی سے متعلق کھاتہ داری پالیسیاں دونوں سالوں میں مختلف رہی ہوں تب منافع کی رقوم قابلِ موازنہ نہ ہوں گی۔ کیونکہ اسٹاک کی مالیت کے لیے گذشتہ دو سالوں میں اپنایا گیا طریقہ غیر مستحکم/ غیر دائمی (Inconsistant) تھا۔ اسی لیے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ مالی گوشواروں کی تیاری میں دائمیت (Consistency) کے نظریہ کو اپنایا جائے تاکہ دو مختلف کھاتہ داری مدتوں کے نتائج قابلِ موازنہ ہوں۔ دائمیت، ذاتی جانبداری کا خاتمہ کرتی ہے اور قابلِ موازنہ نتائج کے حصول میں مدد کرتی ہے۔
مالی گوشواروں کی تیاری میں اگر ایک ہی طرح کے کھاتہ داری طریقوں اور پالیسیوں کو اپنایا جاتا ہے تو ایسی صورت میں دو اداروں کے مالی نتائج کے درمیان موازنہ بھی با معنی ہو جاتا ہے۔
بہر حال، دائمیت کھاتہ داری پالیسیوں میں تبدیلی کرنے پر روک نہیں لگاتی۔ مالی گوشواروں میں ان ضروری تبدیلیوں کا انکشاف کرکے کاروبار کے مالی نتائج پر ان کے ممکن اثرات کا اظہار کرکے کیا جاتا ہے۔
2.2.11 اعتدال پسندی کا نظریہ (Conservatism Concept)
اعتدال پسندی (جسے احتیاط پسندی بھی کہا جاتا ہے) (Prudence) کا نظریہ کھاتہ داری کتابوں میں سودوں کا اندراج کرنے کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے یہ احتیاط سے چلنے کی پالیسی پر مبنی ہے۔ اس نظریے کے مطابق آمدنی کو معلوم کرنے کے لیے خردمندانہ طریقہ کو اپنانا چاہئے تاکہ ادارے کا منافع زیادہ نہ بیان کیا جائے۔ اگر نکالے گئے منافعے حقیقی منافعوں سے زیادہ ہوتے ہیں تو اس کے نتیجہ میں ممکن ہے اصل سرمائے سے ڈیویڈینڈ کی تقسیم کرنی پڑے جو کہ درست نہیں ہے کیونکہ اس سے ادارے کے اصل سرمائے میں کمی ہو جائے گی۔
اعتدال پسندی کے نظریہ کے تحت منافعوں کا اندراج اس وقت تک نہیں کرنا چاہئے جب تک کہ یہ وصول نہ ہو جائیں لیکن تمام نقصانات (اگر ان کے واقع ہونے کا ذرا بھی امکان ہو) کھاتہ داری کتابوں میں درج کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اختتامی اسٹاک کی مالیت کو لاگت یا بازاری قیمت میں سے جو بھی کم ہوتی ہے پر لگانا، مشکوک قرضوں کے لیے بندوبست کی تشکیل کرنا، پوشیدہ اثاثے جیسے ساکھ، پیٹنٹ وغیرہ کو رائٹ آف کرنا، اعتدال پسندی کے نظریے کی چند مثالیں ہیں۔ اس طرح، اگر خریدی گئی اشیاء کی بازاری مالیت کم ہوگئی ہو تب اسٹاک کو کتابوں میں لاگت قیمت پر دکھایا جائے گا لیکن اگر بازار کی قیمت زیادہ ہوگئی ہے تو نفع کو ریکارڈ میں اس وقت تک نہیں دکھایا جائے گا جب تک کہ اسٹاک فروخت نہ ہو جائے۔ یہ نظریہ جس کے تحت نقصانات کو دکھایا جاتا ہے لیکن فائدوں کو اس وقت تک نہیں دکھایا جاتا جب تک کہ وہ حاصل نہ ہو جائیں اعتدال پسندی کا نظریہ کہلاتا ہے۔ عام طور پر اس سے اکاؤنٹینٹوں کے قنوطی رویہ کا اظہار ہو سکتا ہے لیکن یہ فرم کے اثاثوں کی ناجائز تقسیم سے قرض خواہوں کے مفادات کی حفاظت کرنے کا ایک اہم طریقہ ہے۔ بہر حال، اثاثوں کی مالیت کو جان بوجھ کر کم جوڑنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اس کے نتیجہ میں پوشیدہ منافع ہوں گے جن کو پوشیدہ ریزرو (Secret Reserves) کہا جاتا ہے۔
2.2.12 اہمیت کا نظریہ (Materiality Concept)
اہمیت کے نظریے کے مطابق کھاتہ داری کو مادّی حقائق پر توجہ رکھنی چاہئے۔ آمدنی کو معلوم کرتے وقت غیر مادّی حقائق کا نہ تو اندراج کرنا چاہئے نہ اظہار کیونکہ اس سے محنت ضائع ہوfتی ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مادّی حقائق سے کیا مراد ہے؟ کسی بات کی اہمیت/مادیت اس کی نوعیت اور اس میں شامل رقم پر منحصر ہوتی ہے۔ کسی بھی بات کو اہم / مادی اس وقت مانا جاتا ہے جب اس کا یقین ہو کہ اس کا علم مالی گوشواروں کے استعمال کنندگان کے فیصلوں پر اثر ڈالے گا۔ مثلاً ایک تھیٹر میں نشستوں کی مزید گنجائش پیداکرنے کے لیے خرچ کی گئی رقم ایک مادّی حقیقت ہے کیونکہ اس کی وجہ سے ادارے کی مستقبل میں کمانے کی صلاحیت میں اضافہ ہونے جارہا ہے۔ اسی طرح، فرسودگی کے لیے اپنائے جانے والے طریقے میں تبدیلی سے متعلق معلومات یا مستقبل قریب میں پیدا ہونے والی کوئی بھی دین داری اہم معلومات ہو سکتی ہے۔ مادی حقائق کے بارے میں ایسی تمام معلومات کو مالی گوشواروں اور ان کے ذیلی حواشی میں دکھانا چاہئے تاکہ استعمال کنندگان معلومات پر مبنی فیصلے لے سکیں۔ جب شامل رقم بہت کم ہوتی ہے تو ایسی صورت میں کھاتہ داری اصولوں پر سختی سے کاربند رہنا ضروری نہیں ہوتا۔ مثلاً پینسل، ربر، پیمانے وغیرہ کے اسٹاک کو اثاثوں کے طور پر نہیں دکھایا جاتا۔ ایک کھاتہ داری مدت میں اسٹیشنری کی خریداری پر جو بھی رقم خرچ کی جاتی ہے اسے اس مدت کے دوران کیا گیا خرچ مانا جاتا ہے چاہے اس کی کھپت ہوئی ہو یا نہیں۔ خرچ کی گئی رقم کو محاصلی خرچہ (Revenue Expenditure) مانا جاتا ہے اور اسے اس سال کے نفع و نقصان کھاتہ میں دکھایا جاتا ہے جس میں خرچہ ہوا ہے۔
2.2.13 معروضیت کا نظریہ (Objectivity Concept)
معروضیت کے نظریہ کے مطابق کھاتہ داری لین دین کا اندراج معروضی طریقے سے ہونا چاہئے اسے اکاؤنٹینٹوں اور دیگر لوگوں کی جانبداری سے پاک ہونا چاہئے۔ یہ اس وقت ہی ممکن ہے جبکہ ہر لین دین قابلِ تصدیق دستاویزات یا واؤچرس (Vouchers) پر مبنی ہو۔ مثال کے طور پر مال کی خریداری کا سودا ادا کی گئی نقد رقم کی رسید (وصولیابی) پر مبنی ہو سکتا ہے جبکہ اس کی خریداری نقد کی گئی ہے۔ اسی طرح، مشین کی خریداری کے لیے ادا کی گئی رقم کی رسید مشین کی لاگت کا دستاویزی ثبوت ہے اور اس سودے کی تصدیق کے لیے ایک معروضی بنیاد بھی تاریخی لاگت کو حسابی لین دین کے ریکارڈ کو اساس کے طور پر اپنانے کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس کی بدولت معروضیت کے اصول کو دھیان میں رکھنا ممکن بن جاتا ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا، کسی اثاثہ کے لیے ادا کی گئی حقیقی لاگت کی تصدیق دستاویزات سے کی جاسکتی ہے۔ لیکن اثاثے کی بازاری مالیت کو اس وقت تک معلوم کرنا نہایت مشکل ہے جب تک کہ اسے بازار میں فروخت نہ کردیا جائے۔ بازاری مالیت شخص اور جگہ دونوں کے حساب سے مختلف ہوتی ہے اور اسی لیے ایسی مالیت یا قیمت کو کھاتہ داری مقاصد کے لیے اپنانے سے معروضیت کو برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔
اپنی فہم کی جانچ کیجیے - II
خالی جگہوں کو درست لفظ سے پُر کیجیے:
1۔ ایک ہی مدت میں متعلقہ محاصل کے ساتھ اخراجات کی شناخت کرنا ___________ نظریہ کہلاتا ہے۔
2۔ وہ کھاتہ داری نظریہ جس سے مراد اثاثوں اور محاصل کی تفہیم اور زائد بیان کیے گئے واجبات، اخراجات سے پیدا ہونے والے شبہات نیز غیر یقینی حالات کو ختم کرنے والے اکاؤنٹینٹوں کی صلاحیت سے ہے ___________ کہلاتا ہے۔
3۔محاصل کو عموماً فروخت کے نقطے پر ___________ نظریہ کے مطابق شناخت کیا جاتا ہے۔
4۔ _______________ نظریہ کے تحت ایک حسابی مدت سے دوسری حسابی مدت میں یکساں کھاتہ داری طریقہ استعمال کیا جانا چاہئے۔
5۔ ________________ نظریے کے مطابق کھاتہ داری لین دین کو اکاؤنٹینٹوں اور دیگر لوگوں کی جانب داری سے پاک ہونا چاہئے۔
2.3 کھاتہ داری کے طریقے (Systems of Accounting)
کھاتہ داری کتابوں میں سودوں کے اندراج کے طریقوں کو عموماً دو زمروں میں بانٹا جاتا ہے یہ ہیں :دوہرے اندراج کا طریقہ (Double Entry System) اور واحد اندراج کا طریقہ (Single Entry System)۔ دوہرے اندراج کا طریقہ ثنویت (Duality) کے اصول پر مبنی ہے جس کےمطابق ہر لین دین کے دو اثرات ہوتے ہیں یعنی فائدے کو وصول کرنا اور فائدے کو ادا کرنا۔ اس لیے ہر لین دین یا سودے میں دو یا زیادہ کھاتے شامل ہوتے ہیں اور لیجر (Ledger) میں مختلف جگہوں پر ان کا اندراج کیا جاتا ہے۔ بنیادی اصول یہ اپنایا گیا ہے کہ ہر ڈیبٹ کے جواب میں ایک کریڈٹ ہو۔
دوہرے اندراج کا طریقہ ایک مکمل نظام ہے کیونکہ کھاتہ داری کتابوں میں ایک سودے کے دونوں پہلوؤں کا اندراج کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ نہایت درست اور زیادہ قابلِ اعتماد ہے کیونکہ اس میں دھوکا دہی اور خورد برد کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ ریکارڈ میں ہوئی حسابی غلطیوں کو آزمائشی میزان (Trial Balance) تیار کرکے چیک کیا جاسکتا ہے۔ دوہرے اندراج کے طریقہ کو بڑے اور چھوٹے دونوں طرح کے ادارے استعمال میں لاسکتے ہیں۔
واحد اندراج کا طریقہ مالی سودوں کے ریکارڈ رکھنے کے لیے ایک مکمل نظام نہیں ہے۔ اس میں ہر ایک لین دین کے دوہرے اثر کو ریکارڈ نہیں کیا جاتا۔ تمام کھاتوں کو بنانے کے بجائے اس طریقہ میں صرف ذاتی کھاتہ اور نقد کھاتہ کو بنایا جاتا ہے۔ درحقیقت یہ ایک نظام نہیں ہے بلکہ نظام کی کمی ہے کیونکہ سودوں کے اندراج میں یکسانیت کو قائم نہیں رکھا جاتا۔ چند سودوں کے لیے صرف ایک ہی پہلو کو ریکارڈ کیا جاتا ہے جبکہ دوسرے کے دونوں پہلوؤں کا اندراج کیا جاتاہے۔ اس طریقہ کے تحت قائم کیے جانے والے کھاتے نامکمل اور غیر منظم ہوتے ہیں اور اسی لیے قابلِ اعتماد نہیں ہوتے۔ بہرحال، چھوٹی کاروباری فرمیں اس طریقے کو اپناتی ہیں کیونکہ یہ نہایت سادہ اور لوچ دار ہوتا ہے (آپ اس کے بارے میں اس کتاب میں آگے چل کر تفصیل سے پڑھیں گے)۔
2.4 کھاتہ داری کی بنیاد (Basis of Accounting)
لاگتوں اور محاصل کی شناخت کے وقت کے نقطۂ نظر سے، کھاتہ داری کے دو اہم طریقِ عمل (Approches) ہو سکتے ہیں:
(i) نقد بنیاد (Cash Basis) اور
(ii) اکرویل بنیاد (Accrual Basis)
نقد بنیاد کے تحت کھاتہ داری کتابوں میں اندراج نقد کی وصولیابی یا ادائیگی کے وقت کیا جاتا ہے نہ کہ اس وصولیابی یا ادائیگی کے واجب ہو جانے کے وقت۔ مثلاً اگر دسمبر 2014 کے لیے دفتر کا کرایہ جنوری 2015 میں ادا کیا جاتا ہے تب کھاتہ داری کتابوں میں اس کا اندراج صرف جنوری 2015 میں کیا جائے گا۔
اسی طرح جنوری 2015 کے مہینے میں ادھار پر اشیاء کی فروخت کا اندراج جنوری میں نہیں ہوگا بلکہ اپریل میں اس وقت ہوگا جب ادائیگی وصول ہو جائے گی۔ اس طرح یہ نظام تقابل کے اصول کے برعکس ہے جس کے مطابق ایک مدت کے محاصل کا تقابل اسی مدت کی لاگت کے ساتھ ہونا چاہئے سادہ ہونے کے باوجود یہ طریقہ زیادہ تر اداروں کے لیے غیر مناسب ہے کیونکہ ایک دی گئی مدت میں منافع کو معلوم کرنے کے لیے وصولیابیوں میں سے اس مدت میں خرچ کی گئی رقم کو گھٹاتے ہیں نہ کہ سودوں کے وقوع پذیر ہونے کو۔
اکرِویل بنیاد کے تحت، بہر حال، محاصل اور لاگتوں کی شناخت اسی مدت میں کی جاتی ہے جب کہ وہ واقع ہوتے ہیں نہ کہ جب ان کی ادائیگی کی جاتی ہے۔ نقد کی ادائیگی اور نقد کے واجب الادا ہونے، اور نقد وصولیابی اور نقد کی حقِ وصولی کے درمیان تفریق کی جاتی ہے۔ اس طرح اس طریقِ عمل کے تحت ایک لین دین کے زری اثر کو اس مدت کے اندر کھاتوں میں چڑھایا جاتا ہے جس میں وہ کمائے گئے ہیں نہ کہ اس مدت میں جس میں ادارے نے ان کی ادائیگی یا وصولیابی کی ہے۔
منافع معلوم کرنے کے لیے یہ زیادہ مناسب بنیاد ہے کیونکہ اخراجات کا تقابل ان سے جڑے محاصل سے کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر لگائے گئے استعمال شدہ خام مال کا تقابل فروخت شدہ اشیاء کی لاگت سے کیا جاتا ہے۔
2.5 کھاتہ داری کے معیار (Accounting Standards)
کھاتہ داری کے معیار پالیسی کی وہ تحریری دستا ویزات ہیں ۔ جو مالی گو شواروں میں کھاتہ داری سودوں کی شناخت ، پیمائش ، تدبیر (Treatment)اور انکشاف کے پہلؤوں پر محیط ہوتی ہیں ۔ کھاتہ داری معیار ایک فیصلہ کن گوشوارہ ہے جو ICAIکے ذریعہ جاری ہوتا ہے ۔یہ (ICAI)ہمارے ملک میں کھاتہ داری سے متعلق ایک پیشہ ورانہ تنظیم ہے ۔ کھاتہ داری معیار کا مقصد کھاتہ داری کی مختلف پالیسیوں میں یکسانیت لانا ہے تاکہ مالی گوشواروں کی معتبریت بڑھانے کے لیے مالی گوشواروں کی عدم تقابلیت (Non Comparability)کو ختم کیا جا سکے ۔ دوسرے یہ کہ کھاتہ داری معیار کھاتہ داری کی معیاری پالیسیوں کا ایک مجموعہ (Set)، مالیت(Valuation)کے عام اصول اور انکشاف کی شرائط بھی فراہم کرتا ہے ۔کھاتہ داری ڈیٹا کی معتبریت میں بڑھوتری لانے کے علاوہ، کھاتہ داری معیار، انٹرپرائزوں کے اندر نیز ان کے ما بین بھی مالی کھاتوں کی تقابلیت کو بڑھاتے ہیں۔ یہ تقابل بہت موثر ہیں اور کمپنیوں کی کا کردگی کے گو شوارہ کے لیے ان کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے ۔
کھاتہ داری کےمعیاروں کی ضرورت ( Need of AccountingStandard)
کھاتہ داری معلومات کے مختلف یوزرس (Users) کی معلومات میں توسیع کرتی ہے ۔ کھاتہ داری کی معلومات سے مختلف یوزرس کا فائدہ ہو سکتا ہے بشرطیکہ کھاتہ داری کی اس معلومات میں یکسانیت ہو اور متعلقہ معلومات کا مکمل انکشاف ہو۔تدبیر (Treatment)اورمالیت (Valuation)کے متبادل اصول وقواعد بھی ہو سکتے ہیں جن سے کوئی کاروباری تنظیم استفادہ کر سکتی ہے ۔ کھاتہ داری کے معیار سے ان متبادلوں کے پھیلاو (Scope)میں آسانی پیدا ہوتی ہے، جس سے ایک سچے اور منصفانہ گوشوارہ کی بنیادی کیفی (Qualitative)خصوصیات کی تکمیل ہوتی ہے ۔
کھاتہ داری کے معیاروں کےفوائد (Benefit of Accounting Standards)
.1 مالی گوشوارے تیار کرتے وقت کھاتہ داری کے استعمال میں آنے والے فرق کو ختم کرنے کے لیے کھاتہ داری کے معیار مددگار ہوتے ہیں۔
.2 کھاتہ داری کے معیارکچھ ایسی معلومات کے انکشاف طلبگار ہوتے ہیں جن کا تقاضا قانون نہیں کرتا، جبکہ یہ معلومات عام لوگوں، سرمایہ کاروں اور لین داروں کے لیے سود مند ہو سکتی ہے ۔
.3کھاتہ داری معیار سے کمپنیوں کے داخلی اور کمپنیوں کے باہمی گو شواروں کے درمیان موازنہ میں آسانی ہوتی ہے ۔
کھاتہ داری معیاروں کی کمیاں (Limitations of Accounting Standards)
.1 کھاتہ داری معیار کھاتہ داری کے مختلف متبادل طریقوں کو استعمال کرنے کے انتخاب کو مشکل بنا دیتے ہیں۔
.2 کھاتہ داری معیار کی سختی سے پابندی کی جاتی ہے جس سے کھاتہ داری معیاروں کے استعمال میں لچک کی کمی آتی ہے ۔
.3 کھاتہ داری معیار سے صورت حال بدل نہیں سکتی ۔ معیار موجودہ صورت حال کے دائرہ میں تشکیل دیے جانے کی ضرورت ہوتی ہے ۔
کھاتہ داری معیاروں کی اطلاقیت (Application of Accounting Standards)
سوائے خالص خیراتی تنظیم کے جس کی کوئی کمرشیل، صنعتی اور کاروباری سرگرمی نہیں ہوتی ہے ، کھاتہ داری معیار مند رجہ ذیل پر قابل اطلاق ہوتا ہے ۔
.1تنہا ملکیت والی اکائی (Sole Proprietorship Unit)
.2شراکت داری والی فرم (Partnership Firm)
.3سوسائٹیاں
.4ٹرسٹ
.5غیر تقسیم شدہ ہندوخاندان
.6افراد کی انجمن (Association of Persons)
.7امداد باہمی کی سوسائٹیاں
.8کمپنیاں
.9بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ سسٹم
.10عالمی کاری، نرم کاری (Liberalisation)اور نج کاری کے ظہور کی وجہ سے عالمی اقتصادی سناریو میں بڑی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ ان تغیر پذیر کارپوریشنوں کے ظہور نے جو اپنے موجودہ کاموں کو برقرار رکھنے اور اپنی اقتصادیات کو فروغ دینے کے لیے مالیہ کی تلاش میں سرگرداں میں ساری دنیا میں تمام بین الاقوامی حد بندیوں کو درکنار کرکے سرمایہ اکٹھاکر لیا ہے ۔ چونکہ کھاتہ داری مقاصد اور مالیاتی رپورٹنگ کی غرض سے کاروباری ریکارڈس کے رکھ رکھاؤکے لیے ہر ملک سرمایہ کے اپنے الگ اصول وضوابط ہیں۔اس لیے ایسی صورت میں جب کوئی کاروباری انٹر پرائز کسی غیر ملک سے سرمایہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے کا فیصلہ کرتا ہے ۔ تو ملک کے موجودہ کھاتہ داری اصولوں اور ضابطوں پر عمل در آمد کے لیے بھدّے اور پیچیدہ طور طریقے اپنانے پڑتے ہیں۔معیشت کوزیادہ متحرک اور مسابقتی بنانے اور بین الاقوامی تجزیہ کاروں اور سرمایہ کاروں کے درمیان اعتماد میں اضافہ کرنے کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ تمام ملکوں میں کاروباری تنظیموں نے جو مالی گوشوارے پیش کیے ہیں وہ قابل موازنہ ہیں، یکساں حدود و خطوط پر مبنی، سرمایہ کار دوست، منصفانہ شفاف اور لائق فیصلہ ہیں۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے ، کھاتہ داری معیار وں کی عالمی کاری کی طرف رجحان،بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ کے لیے تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔
ُْIFRSکی ضرورت (Need of IFRS)
.1 اہم اقتصادی فیصلے مالی گو شواروں کی بنیاد پر ہی کیے جاتے ہیں۔ مالی کھاتوں میں اعدادوشمار میں ہیر پھیر سے بچنے کے لیے فیصلہ سازی کے ایک دائمی طریقہ کی ضرورت ہے اور اس کے عناصر کو شناخت کرنے اور پیمائش کرنے نیز اس بات کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ معلومات کو مالی گو شواروں میں کس طرح پیش کیا جاتا ہے ۔
IFRS کی ضرورت(Need Of IFRS)
.1 اہم اقتصادی فیصلے مالی گو شواروں کی بنیاد پر ہی کیے جاتے ہیں۔ مالی کھاتوں میں اعدادوشمار میں ہیر پھیر سے بچنے کے لیے فیصلہ سازی کے ایک دائمی طریقہ کی ضرورت ہے اور اس کے عناصر کو شناخت کرنے اور پیمائش کرنے نیز اس بات کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ معلومات کو مالی گو شواروں میں کس طرح پیش کیا جاتا ہے ۔
2. IFRS سے عالمی ہم آہنگی میں مدد ملتی ہے، کھاتہ داری سرگرمیوں میں جب تک باقاعدگی نہیں آ جاتی اس وقتتک مختلف ملک کھاتہ داری کے ان مختلف اصول وضوابط کا اطلاق کرتے رہیں گے، جو ہر ملک میں رائج ہیں، اس سے مالی گوشواروں کی یکسانیت اور تقابلیت محدود ہو جائیگی۔ اس لیےIFRSکاروبارکی ہر نشو ونما کےلیے عالمی معیاروں کو فروغ دیتاہے۔
.3 اس سے عالمی سرمایہ کاری میں سہولت پیدا ہوتی ہے ۔ مالی رپورٹنگ اور کھاتہ داری معیار کا میلان ایک قیمتی عمل ہے۔ جس سے عالمی سرمایہ کاری کے آزادانہ بہاؤ میں مدد ملتی ہے اور اس سے تمام سرمایہ بازار کے شراکت داروں کو کافی منافع حاصل ہوتے ہیں۔
یکساں حسابی پالیسیوں اور کارروائیوں کے لیے تقریباً تمام ممالک IFRSکے اطلاق کے لیےمتفق ہیں لیکن اس IFRS کا نام Ind AS ہو گیا ہے ۔ IFRS, Ind ASسے مختلف نہیں ہے ۔ Ind AS ایک کھاتہ داری معیار ہے جسے کارپوریٹ معاملات کی وزارت نے جاری کیا ہے اور جس میں موجودہ کھاتہ داری معیاروں کے مقابلہ کھاتہ داری میلان کی بہت زیادہ وسعت ہے۔ Ind ASِّ اور تقابلی تجزیہ کے موجودہ معیاروں کی فہرست یہاں دی گئی ہے ۔
| عنوان |
AS |
عنوان |
Ind AS |
حسابی پالیسیوں کا انکشاف
مالی گوشواروں کی تیاری اور پیش کش کا سانچہ (فریم ورک)
|
.1
|
مالی گوشواروں کی پیش کش |
.1 |
| مال کی فہرستوں کی مالیت |
.2 |
مال کی فہرستیں |
.2 |
| نقد بہاؤکے گو شوارے |
.3 |
نقد بہاؤکے گو شوارے |
.7 |
مدت سے قبل آئٹموں اور حسابی پالیسیوں میں تبدیلیوں کا خالص نفع اور نقصان
|
.5 |
حسابی ؍ کھاتہ داری کی پالیسیاں حسابی تخمینیں اور غلطیاں
|
.8 |
| بیلنس شیٹ تاریخ کے بعد پیش آنے والے وقائع اور انتظامات |
.4 |
بیلنس شیٹ تاریخ کے بعد کے وقائع |
.10 |
| تعمیر سے متعلق ٹھیکے |
.7 |
تعمیر سے متعلق ٹھیکے |
.11 |
| آمدنی پر ٹیکسوں کی حسابداری |
.22 |
آمدنی ٹیکس |
.12 |
| غیر منقولہ اثاثوں کی حسابداری |
.10 |
جائداد ، پلاٹ اور سازو سامان |
.16 |
| پٹے |
.19 |
پٹے (لیز) |
.17 |
| محاصل کی شناخت |
.9 |
محاصل |
.18 |
| ملازمین کے منافع |
.15 |
ملزمین کے منافع |
.19 |
| سرکاری گرانٹس کی کھاتہ داری |
.12 |
سرکاری گرانٹس اور سرکاری امداد کے انکشاف کی کھاتہ داری |
.20 |
| غیر ملکی زرمبادلہ کی شرحوں میں تبدیلیوں کے اثرات |
.11 |
غیر ملکی زرمبادلہ کی شرحوں میں تبدیلیوں کے اثرات |
.21 |
| قرض لینے کی لاگتیں |
.16 |
قرض لینے کی لاگتیں |
.23 |
| متلقہ فریق کے انکشافات |
.18 |
متعلقہ فریق کے انکشافات |
.24 |
| یکمشت مالی گو شوارے |
.21 |
یکمشت اور جداگانہ مالی گوشوارے |
.27 |
| سی ایف ایس ایسوسی ایٹس میں سرمایہ کاری کے لیے کھاتہ داری |
.23 |
ایسوسی ایٹس میں سرمایہ کاری |
.28 |
|
|
زیادہ افرا ط زروالی معیشتوں میں مالی رپورٹنگ |
.29 |
| مشترکہ کاروبار میں سود کی مالیاتی رپورٹنگ |
.27 |
مشترکہ کاروبارمیں سود |
.31 |
| مالی دستا ویز : پیش کش |
.31 |
مالی دستاویز ات |
.32 |
| فی حصّہ کمائی |
.20 |
فی حصہ کمائی |
.33 |
| میان مدتی مالی رپورٹنگ |
.25 |
میان مدتی مالی رپورٹنگ |
.34 |
| اثاثہ کا نقصان |
.28 |
اثاثوں کا نقصان |
.36 |
| فراہمیاں، اتفاقی واجبات اور اتفاقی اثاثے |
.29 |
فراہمی، اتفاقی واجبات اور اتفاقی اثاثے |
.37 |
| ناقابل لمس اثاثے |
.30 |
ناقابل لمس اثاثے |
.38 |
| مالی دستاویزات:شناخت اور پیمائش |
.13 |
مالی دستاویزات:شناخت اور پیمائش |
.39 |
| سرمایہ کاری کی کھاتہ داری |
.13 |
سرمایہ کاری جائداد |
.40
|
|
|
بین الاقوامی مالی رپورٹنگ کے معیاروں کا پہلی بار اختیار کرنا |
.101 |
| ملازم کے حصہ پر مبنی ادائیگی پر جی این |
|
حصہ پر مبنی ادائیگیاں |
.102 |
| اختلاط یا آمیزش کی کھاتہ داری |
.14 |
کاروباری اتحاد/اختلاط |
.103
|
|
|
بیمہ ٹھیکے |
.104 |
| ختم کرنے کا عمل |
.24 |
غیر چالو اثاثے (فروخت اور ختم کرنے کے لیے) |
.105 |
|
|
معدنی وسائل کی کھوج اور ان کی قدریابی |
.106 |
| مالی دستاویز-انکشاف |
.32 |
مالی دستاویزات : انکشافات |
.107 |
| سیگمنٹ رپورٹنگ |
.17 |
عمل کاری اجزا |
.108 |
(ایک ملک ایک ٹیکس)
جی ایس ٹی (اشیا اور خدمات ٹیکس) اشیا اور خدمات کے مصرف پر منزل (Destination)پر مبنی ٹیکس ہے۔ تجویز یہ ہے کہ اسے مینو فیکچرنگ کے آخری مصرف تک تمام مرحلوں پر لگایا جانے اور اس میں سابقہ مراحل پر ادا شدہ ٹیکسوں کا کریڈٹ توازن کار (Set off)کے طور پر دستیاب ہوگا۔ مختصر طور پر یہ کہ صرف اضافی قدر (Addition value)پر ٹیکس لگے گا اور ٹیکس کا بوجھ آخری صارف اٹھائے گا۔ اشیا کے مصرف پر مبنی پر منزل ٹیکس کا تصور یہ ہے کہ یہ ٹیکس اس ٹیکسنگ اتھارٹی کو حاصل ہوگا جس کے دائرہ اختیار میں مصرف کا وہ مقام یا جگہ آتی ہے جسے مقام رسد "Place of Supply"کیا جاتا ہے ۔
جی ایس ٹی کے دو پہلو ہیں، یعنی مرکز اور ریاست ایک مشترکہ ٹیکس اساس (Tax Base)پر بہ یک وقت ٹیکس لاگو کر سکتے ہیں۔ جی ایس ٹی کے تین ارکان ہیں اور وہ ہیں، SGST, CGSTاورIGST۔ CGSTکا مطلب ہے سینٹرل گڈس اور سروسز ٹیکس۔ CGSTکے تحت جمع شدہ ٹیکس مرکزی حکومت کے محاصل کو تشکیل دے گا۔ موجودہ مرکزی ٹیکس جیسے سینٹرل ایکسائز ڈیوٹی،اضافی ایکسائز ڈیوٹی، اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی، سینٹرل سیلز ٹیکس وغیرہ۔ CGSTکے تحت ہوں گے۔ SGSTکا مطلب ہے اسٹیٹ گڈس اینڈ سروسز ٹیکس۔SGSTکا مطلب ہے ریاستی حکومت کے محاصل پر تمام ریاستی ٹیکس جیسےVAT، تفریحی ٹیکس، لکژری ٹیکس، داخلہ ٹیکس وغیرہ۔ جی ایس ٹی میں ضم ہوں گے۔ مثلاً پنجاب کا ایک کاروباری رمیش پنجاب میں سیما کر 10,000روپے کی مالیت کا سامان فروخت کرتا ہے ۔ اگر GSTکی شرح %18ہے یعنی %9ـCGST, اور SGST, 9%تو 900روپے مرکزی حکومت کو اور 900روپے پنجاب ریاستی حکومت کو ملیں گے۔
IGSTکا مطلب ہے Interprated Goods & Services Tax
آئی جی ایس ٹی کے تحت جمع کیے گیے محاصل مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو حکومت کے ذریعہ طے شدہ شرحوں کے مطابق جائیں گے۔ اشیا اور خدمات کی ایک ریاست سے دوسری ریاست میں منتقلی پر آئی جی ایس ٹی وصول کیا جائے گا۔ اشیا اور خدمات کی درآمد آئی جی ایس ٹی کے تحت آئیگی ۔ مثال کے طور پر اگراشیا مدھیہ پردیش سے راجستھان منتقل ہوتی ہیں تو اس کے لین دین پر آئی جی ایس ٹی لگے گا ۔ اسی مثال سے ہم SGSTکو بھی سمجھ سکتے ہیں۔ اگر رمیش مدھیہ پردیش میں راجستھان میں آنندکے ہاتھ اشیا فروخت کرتا ہے جس کی قیمت 1,00,000روپے ہے تو GSTکی قابل اطلاق شرح %18یعنی %9 CGSTاور SGST, 9%ہوگی ۔ اس صورت میں ، ڈیلر 10,000آئی جی ایس ٹی کے طور پر لے گا جو مرکزی حکومت کو ملے گا۔
ہندوستان ایک وفاقی ملک ہے اور یہاں مرکز اور ریاستوں دونوں کو مناسب قوانین کے ذریعہ ٹیکس لگانے اور ان کو حاصل کرنے کا حق حاصل ہے ۔ مرکز اور ریاست دونوںسطح پر حکومتوں کو واضح طور پر ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ آئین میں دیے گئے اختیارات کی تقسیم کے تحت حاصل ہیں۔ ان کے لیے انھیں وسائل جٹانے کی بھی ضرورت ہے ۔ مالی وفاق کی آئینی ضرورتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے جی ایس ٹی کی ثنوی شکل کا اطلاق ہوگا۔ اسی لیے یہاں مرکز CGSTاور IGSTکو لاگو کرے گا اوران کو حاصل کرے گاجبکہ متعلقہ ریاستیں SGSTلاگو کریں گی اور ان کو کام میں لائیں گی۔ اس مقصد کے لیے ہندوستان کے آئین میں ترمیم کر دی گئی ہے۔
براہ راست ٹیکس
براہ راست ٹیکں بالواسطہ ٹیکس
آمدنی ٹیکس
جی ایس ٹی سے مل گیا ریاست مرکز
VAT سروس ٹیکس
داخلہ ٹیکس ایکسائز ٹیکس
اکٹرائی CST
لکثری ٹیکس کسٹم
اشیا اور خدمات ٹیکس کی خصوصیات
.1 جی ایس ٹی ایک ہی انتظامیہ کے تحت پورے ملک میں ایک مشترکہ قانون اور کارروائی ہے ۔
.2 جی ایس ٹی منزل پر مبنی اور آخری صارف کے ذریعہ اشیا اور خدمات کے استعمال کے وقت ایک ہی مقام پر لاگو کیا جاتا ہے ۔
.3 جی ایس ٹی اشیا اورخدمات پر ایک ہی شرحسے لاگو ہونے والا ایک جامع ٹیکس اور اس کی تحصیل ہے ۔
.4 ٹیکس کی شرحوں کی کم سے کم تعداد دو سے زیادہ نہیں ہوگی۔
.5 کسی سیس (Cess)دوبارہ فروخت ٹیکس، اضافی ٹیکس اور ٹرن اوور ٹیکس کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔
.6 اشیا اور خدمات پر ٹیکس کا کوئی ضربی ٹیکس نہیں ہے ۔ جیسے سیلز ٹیکس، داخلہ ٹیکس، اکٹرائی، تفریحی ٹیکس یا لکژری ٹیکس وغیرہ ۔
خود کیجیے
اگرسی جی ایس ٹی %9ہے۔ %9 SGSTہے اور %18 IGSTہے تو مندرجہ ذیل شکلوں میں سی جی ایس ٹی شرحیں کس طرح لاگو ہوںگی ۔
.1 مینو فیکچررنے مہاراشٹرا میں ڈیلر Aکو 10,000میں اشیا کو فروخت کیا ۔
.2 ڈیلر Aنے گجرات میں ڈیلر Bکو 25,000روپے میں اشیا کو فروخت کیا ۔
.3ڈیلر Bنے گجرات میں سنیتا کو 30,000روپے میں اشیا کو فروخت کیا ۔
.4 سنیتا نے راجستھان میں رویندرا کے ہاتھوں 65,000روپے میں اشیا کو فروخت کیا ۔
فوائد
.1 جی ایس ٹی کے متعارف ہونے سے اشیا اور خدمات کے متعدد قسم کے ٹیکس ختم ہوگئے ۔
.2 جی ایس ٹی ٹیکس کی اساس وسیع ہوئی اوراس سے مرکز اور ریاست کے محاصل میں اضافہ ہوا اورنتیجتاًحکومت کی انتظامی لاگت میں کمی آئی ۔
.3 جی ایس ٹی سے عمل درآمد کی لاگت کم ہوئی اور رضاکارانہ عمل در آمد میں اضافہ ہوا۔
.4 جی ایس ٹی سے ٹیکس کی شرحوں کو زیادہ سے زیادہ دو فلور شرحوں تک بڑھا دیا ۔
.5 جی ایس ٹی نے ٹیکسیشن کے آبشاری اثر (Cascading effect)کو ختم کر دیا ہے ۔
.6 جی ایس ٹی سے مینوفیکچرنگ میں اضافہ ہوگا اور تقسیم کے نظام میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس تقسیم کے نظام سے اشیا اور خدمات کی پیداواری لاگت اور نتیجہ میں اشیااور خدمات کی پیداوار اور مانگ متاثر ہوتی ہے ۔
.7 اس سے اقتصادی صورتحال میں بہتری آئیگی اور اقتصادی نشوونما لمبے عرصہ تک پائدار رہے گی کیونکہ جی ایس ٹی کاروباری اعمال، کاروباری ماڈلوں، تنظیمی ڈھانچوں اور جغرافیائی مقامات سے خود کو الگ رکھتی ہے ۔
جی ایس ٹی
مرکزی اور ریاستی ساتھ ساتھ جی ایس ٹی لاگو کر سکتی ہیں
ایس جی ایس ٹی سی جی ایس ٹی
ریاستی حکومت جی ایس ٹی لاگو کرتی ہے مرکز جی ایس ٹی لاگو کرتا ہے
متعارف کرائی گئیں کلیدی اصطلاحات
- اعتدال پسندی [Conservatism(Prudence)]
- کھاتہ داری نظریہ (Accounting Concept)
- جاری ادارہ (Going Concern)
- کھاتہ داری اصول Principles) (Accounting
- قابلِ موازنہ (Comparibility)
- عموماً تسلیم شدہ اصول کھاتہ داری(GAAP)
- جی ایس ٹی(GST)
خلاصہ بحوالہ سیکھنے کے مقاصد
1۔ عموماً تسلیم شدہ کھاتہ داری اصول: عموماً تسلیم شدہ کھاتہ داری اصولوں سے مراد کاروباری سودوں کے اندراج اور ترسیل کے لیے اپنائے جانے والے قوانین اور ہدایات سے ہے تاکہ مالی گوشواروں کی تیاری اور اظہار میں یکسانیت پیدا کی جاسکے۔ ان اصولوں کو نظریات (Concepts) اور دستور (Convention) بھی کہا جاتا ہے۔ عملی نقطۂ نظر سے مختلف اصطلاحات جیسے اصول، اصولِ موضوعہ، دستور، ترمیمی اصول، مفروضات وغیرہ کو ایک دوسرے کی جگہ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ موجودہ باب میں ان کو کھاتہ داری کے بنیادی نظریات کہا گیا ہے۔
2۔ کھاتہ داری کے بنیادی نظریات (Basic Concepts of Accounting): کھاتہ داری کے بنیادی نظریات سے مراد وہ بنیادی خیالات (Ideas) یا بنیادی مفروضات (Assumptions) ہیں جو کہ مالی کھاتہ داری کاموں کی بنیاد ہیں اور یہ تمام کھاتہ داری سرگرمیوں کے لیے عملی اور نظری قوانین کی حیثیت رکھتے ہیں۔
3۔ تشخص کاروبار کا نظریہ: اس نظریہ کے مطابق کاروبار اور اس کے مالکان کا جُدا تشخص ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروبار کے نقطۂ نظر سے اس مفروضہ کے تحت کاروبار اور اس کے مالکان کو دو الگ الگ تشخص مانا جاتا ہے۔
4۔ زری پیمائش یا زری اکائی نظریہ: زری پیمائش کے نظریہ کے مطابق کھاتہ داری کتابوں میں ادارے میں رونما ہونے والے صرف انہی واقعات اور سودوں کا اندراج کیا جائے گا جن کا بیان زر کی اصطلاح میں کیا جاسکتا ہو۔ اس کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے مطابق سودوں کا اندراج زری اکائی میں رکھا جاتا ہے نہ کہ طبیعی اکائی میں۔
5۔ جاری ادارہ (Going Concern): جاری ادارہ نظریہ کے تحت یہ فرض کیا جاتا ہے کہ ایک کاروباری فرم لامحدود مدّت تک اپنے کاموں کو جاری رکھے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فرم ایک خاصہ طویل عرصہ تک جاری رہے گی اور مستقبل میں اس کا کا خاتمہ یا دیوالیہ ہونا محتمل الوقوع نہیں ہے۔
6۔ حسابی مدت (Accounting Period): حسابی مدت سے مراد اس وقفۂ مدت سے ہے جس کے اختتام پر ایک ادارے کے مالی گوشوارے تیار کیے جاتے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ اس مدت کے دوران اس نے کیا منافع کمایا ہے یا اسے کیا نقصان ہوا ہے اور مدّت کے اختتام پر اس کے اثاثوں اور واجبات کی حالت کیسی ہے۔
7۔ لاگت کا نظریہ: اس نظریہ کے مطابق کھاتہ داری کتابوں میں اثاثوں کا اندراج ان کی قیمت خرید پر کیا جاتا ہے اور اس میں اثاثوں کو حاصل کرنے، ان کو لانے، لے جانے، لگوانے اور استعمال کے لیے تیار کرنے کی لاگت شامل ہوتی ہے۔
8۔ نظریۂ ثنویت: اس نظریہ کے مطابق ہر لین دین کا دوہرا اثر ہوتا ہے اور اس لیے ہر لین دین کا دو جگہوں پر اندراج ہو نا چاہئے۔ دوہرے اندراج کے اصول کا اظہار عام طور پر بنیادی کھاتہ داری مساوات کی شکل میں کیا جاتا ہے جو مندرجہ ذیل ہے:
اثاثے = واجبات + اصل سرمایہ
9۔ ان تمام نقود (Cash) کی وصولیابی:محاصل کے زمرے میں آتی ہے جو کوئی فرم سامان فروخت کر کے یا خدمات مہیار کراکے حاصل کرے۔ اس کے علاوہ فرم کے وسائل دیگر لوگ استعمال کریں اور وہ بدلے میں فرم کو سود، ڈیویڈینڈ اور رائلٹی وغیرہ ادا کریں تو وہ بھی محاصل (Revenue) ہے۔ محاصل کو اس وقت وصول مانا جاتاہے جبکہ اس کو حاصل کرنے کا قانونی حق پیدا ہو جاتا ہے۔
10۔ تقابل کا نظریہ: اس کے مطابق ایک کھاتہ داری مدت کے دوران اٹھائے گئے اخراجات کا مقابلہ اسی مدت کے محاصل سے کرنا چاہئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان محاصل کو کمانے کے لیے اٹھائے گئے اخراجات بھی اسی کھاتہ داری مدت سے متعلق ہونے چاہئیں۔
11۔ مکمل انکشاف کا نظریہ: اس نظریہ کے تحت مالی گوشواروں اور ان کے ذیلی حواشی (Footnotes) میں ایک ادارے کی مالی کارگزاری سے متعلق تمام اہم اور مادی حقائق کا مکمل انکشاف کیا جانا چاہئے۔
12۔ دائمیت (Consistency) کا نظریہ: اس نظریہ کے تحت ادارے کے ذریعہ اپنائی جانے والی کھاتہ داری پالیسیاں اور کھاتہ کاری کام تمام مدتّوں میں یکساں اور مستحکم ہونے چاہئیں تاکہ نتائج قابلِ موازنہ بن سکیں۔ نتائج کا قابلِ موازنہ ہونا ایسی صورت میں ہی ممکن ہوتا ہے جبکہ مختلف ادارے یکساں کھاتہ داری اصولوں کو موازنہ کی مدت میں اپنائیں یا پھر ایک ہی فرم مختلف مدتوں میں یکساں کھاتہ داری اصولوں کو اپنائے۔
13۔ اعتدال پسندی کا نظریہ: اس نظریہ کے تحت کاروباری سودوں کا اندراج اس طرح کرنا چاہئے کہ منافعے زیادہ نہ بیان ہو جائیں۔ اس نظریہ کے تحت منافعوں کا اندراج اس وقت تک نہیں کرنا چاہئے جب تک کہ یہ وصول نہ ہو جائیں لیکن تمام نقصانات (یہاں تک کہ اگر ان کے واقع ہونے کا ذرا بھی امکان ہو) کھاتہ داری کتابوں میں درج کیے جاتے ہیں۔
14۔ اہمیت / مادیت کا نظریہ: اس نظریہ کے تحت کھاتہ داری کو مادی اور اہم حقائق پر توجہ رکھنی چاہئے اگر کسی چیز سے سرمایہ کار یا قرص خواہ کے فیصلہ پر اثر کا امکان ہوتو اسے مادّی/ اہم خیال کیا جانا چاہئے اور مالی گوشواروں میں اس کا اظہار ہونا چاہئے۔
15۔ معروضیت: اس نظریہ کے تحت کھاتہ داری لین دین کا اندراج معروضی طریقے سے ہونا چاہئے اور اسے اکاؤنٹینٹوں اور دیگر لوگوں کی جانبداری سے پاک ہونا چاہئے۔
16۔ کھاتہ داری کے طریقے:کھاتہ داری کتابوں میں سودوں کے اندراج کے طریقوں کو عموماً دو زمروں میں بانٹا جاتا ہے یہ ہیں دوہرے اندراج کا طریقہ اور واحد اندراج کا طریقہ۔ دوہرے اندراج کا طریقہ ثنویت کے اصول پر مبنی ہے جس کے مطابق ہر لین دین کے دو اثرات ہوتے ہیں جبکہ واحد اندراج کے طریقہ کو نامکمل اندراج بھی کہا جاتا ہے۔
17۔ کھاتہ داری کی بنیاد: کھاتہ داری کے اہم طریق عمل ہیں نقد بنیاد اور اکرویل بنیاد۔ نقد بنیاد کے تحت کھاتہ داری کتابوں میں اندراج نقد کی وصولیابی یا ادئیگی کے وقت کیا جاتا ہے جبکہ اکرویل (Accrual) بنیاد کے تحت حاصل اور لاگتوں کی شناخت ان کے واقع ہونے کے وقت کی جاتی ہے نہ کہ ان کی ادائیگی کے وقت۔
18۔ کھاتہ داری معیار: کھاتہ داری معیار یکساں اور مستحکم مالی گوشواروں کو تیار کرنے کے لیے کھاتہ داری قوانین اور رہنما اصولوں کے تحریری بیانات ہیں۔ یہ معیار ملک کے کاروباری ماحول، رواج اور نافذ قوانین کے نظام کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔
19۔ جی ایس ٹی:جی ایس ٹی ایسا مقصدی ٹیکس ہے جو اشیا کے استعمال اور خدمات یعنی ان کی تیاری سے لے کر استعمال ہونے تک تمام مراحل کے لیے لگایا جاتا ہے ۔
مشقی سوالات
مختصر جوابی سوالات:
1۔ اکاؤنٹینٹوں کے لیے یہ فرض کرلینا کیوں ضروری ہے کہ کاروباری ادارہ ایک جاری ادارہ بنا رہے گا؟
2۔ محاصل کی شناخت کب کی جانی چاہئے؟ کیا عام قانون میں کچھ استثنا بھی ہیں؟
3۔ بنیادی کھاتہ داری مساوات کیا ہے؟
4۔ محاصل کی شناخت کے تحت حسابی مدت کے نفع و نقصان کو معلوم کرنے کے لیے گاہکوں کو ادھار پر بھیجی گئی اشیاء کو بھی فروخت میں شامل کیا جاتا ہے۔ ذیل میں سے کون سا کام درحقیقت اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس کو اس مدّت میں ہونے والی فروخت مانا جائے گا۔ جب اشیاء کو:
(a) روانہ کر دیا جائے (b) بیچک بنائی جائے
(c) سپرد کر دیا جائے (d) اس کے لیے ادائیگی ہو جائے
اپنے جواب کے لیے وجوہات بھی بیان کیجیے۔
5۔ مندرجہ ذیل ورک شیٹ کو مکمل کیجیے:
(i) اگر ایک فرم کو یہ یقین ہوتا ہے کہ اس کے کچھ قرض دار کوتاہی کر سکتے ہیں تو اسے کتابوں میں تمام نقصانات کے اندراج کو یقینی بنانا چاہئے۔ یہ _______________ نظریہ کی ایک مثال ہے۔
(ii) کاروبار کا اپنے مالکان سے جدا تشخص ہوتا ہے _______________ نظریہ اس کی بہترین مثال ہے۔
(iii) اگر ایک فرم خود کسی چیز کی مالک بنتی ہے تو اسے کسی دوسرے کو بھی کسی چیز کا مالک بنانا پڑتا ہے _______________ نظریہ اس واقع کو واضح کرنا ہے۔
(iv) __________ نظریہ کے مطابق اگر ایک سال فرسودگی کے لیے سیدھے خط کا طریقہ (Method) (Straight Line Method) کا استعمال کیا گیا ہے تب اگلے سال میں بھی اسی طریقہ کا استعمال ہونا چاہئے۔
(v) فرم کے پاس ایسا اسٹاک بھی ہو سکتا ہے جس کی بازار میں بہت زیادہ مانگ ہو۔ اس لیے اس اسٹاک کی بازاری مالیت میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ عام کھاتہ داری کا طریقہ اس بات کو _______________ کی وجہ سے نظر انداز کر دیتا ہے۔
(vi) اگر ایک فرم کو اشیاء کا ایک آڈر وصول ہوتا ہے تب اسے _______________ کی وجہ سے فروخت کی رقم میں شمار نہیں کیا جائے گا۔
(vii) ایک فرم کی انتظامیہ نہایت ہی نا اہل ہے لیکن فرم کے اکاؤنٹینٹ _______________ نظریہ کی وجہ سے کھاتہ داری کتابوں کی تیاری کے وقت اسے کھاتہ میں نہیں دکھاسکتے۔
طویل جوابی سوالات
1۔ کھاتہ داری نظریوں اور کھاتہ داری معیاروں کو عموماً مالی کھاتہ داری کے نچوڑ کے حوالے سے جانا جاتا ہے، تبصرہ کیجیے۔
2۔ مالی گوشواروں کی تیاری کے لیے دائمی بنیاد اپنانا کیوں اہم ہے؟ واضح کیجیے۔
3۔ ’’منافع اس وقت سمجھو جب وہ حاصل ہو جائے البتہ نقصانات کو اندراج کرلو‘‘ اس قول کی نظری بنیاد کیا ہے؟ تبصرہ کیجیے۔
4۔ تقابل کا نظریہ کیا ہے؟ ایک کاروباری ادارے کو یہ نظریہ کیوں اپنانا چاہئے؟ تبصرہ کیجیے۔
5۔ زری پیمائش کا نظریہ کیا ہے؟ وہ کون سا عامل ہے جو ایک سال کی زری مالیت کا موازنہ دوسرے سال کی زری مالیتوں سے کرنا دشوار کر دیتا ہے؟
پروجیکٹ ورک
سرگرمی 1
روچیکا کے والد ’فرینڈ گفٹس‘ کے تنہا مالک ہیں۔ یہ ایک فرم ہے جو تحائف کے سامان کی فروخت کرتی ہے۔ مالی گوشواروں کی تیاری کے عمل میں فرم کے اکاؤنٹینٹ مسٹر گوئیل بیمار پڑ گئے اور انہیں چھٹّی پر جانا پڑا۔ روچیکا کے والد کو گوشواروں کی فوری ضرورت تھی کیونکہ ان کو انہیں بینک میں جمع کرنا تھا۔ انہوں نے فرم کی توسیع کے لیے 5 لاکھ روپے کے قرض کی درخواست بینک سے کی تھی اور قرضی گوشواروں کو جمع کر کے انہیں حاصل کرنا تھا۔ روچیکا اسکول میں کھاتہ داری کا مطالعہ کر رہی تھی۔ وہ اس کام کو مکمل کرنے کے لیے رضاکارانہ طور پر رضامند ہو گئی۔ کھاتوں کی جانچ کرنے پر بینکر نے یہ پایا کہ چند سال پہلے 7 لاکھ روپے میں خریدی گئی عمارت کو کھاتے کی کتابوں میں 20 لاکھ روپے کا دکھایا گیا ہے جو کہ اس کی موجود بازاری مالیت ہے۔ اسی طرح گزشتہ سال کے مقابلہ میں، اسٹاک کی مالیت معلوم کرنے کے طریقہ میں بھی تبدیلی کی گئی تھی جس کے نتیجہ میں اشیاء کی مالیت تقریباً 15 فیصد بڑھ گئی تھی۔ اس کے علاوہ سال کے دوران ذاتی کمپیوٹر (متوقع زندگی 5 سال) پر خرچ کی گئی 70,000 روپے کی کل رقم کو رواں سال کے منافع پر ڈال دیا گیا تھا۔ بینکر نے روچیکا کے فراہم کردہ مالی اعداد وشمار پر بھروسہ نہیں کیا۔ آپ روچیکا کو بتائیے کہ اس نے مالی گوشواروں کی تیاری میں کھاتہ داری کے بنیادی نظریات کو لے کر کیا غلطیاں کی ہیں۔
سرگرمی 2
ایک گاہک نے ایک تاجر کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا جس نے اسے خراب معیار کی اشیاء سپلائی کی تھیں۔ معلوم یہ ہوا کہ عدالت نے گاہک کے حق میں فیصلہ دیا اورتاجر سے کہا گیا کہ وہ نقصان کی تلافی کرے۔ بہر حال، قانونی نقصان کی رقم یقین کے ساتھ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ کھاتہ داری سال کا اختتام بھی ہو چکا ہے اور اب نفع یا نقصان معلوم کرنے کے لیے کھاتے کتابوں کو آخری شکل دی جارہی ہے۔ تاجر کے اکاؤنٹینٹوں نے اسے مشورہ دیا ہے کہ وہ قانونی نقصانات کی ادائیگی کی وجہ سے متوقع نقصان کو حساب میں نہ رکھے کیونکہ اس کی رقم یقینی نہیں ہے اور ابھی عدالت کا آخری فیصلہ بھی نہیں ہوا ہے۔ آپ کے خیال میں کیا اکاؤنٹینٹ اپنے نظریے میں درست ہے۔
اپنی فہم کو جانچنے کے لیے جانچ فہرست
اپنی فہم کی جانچ کیجیے-I
1. (c) 2. (d) 3. (a) 4. (b)
اپنی فہم کی جانچ کیجیے - II
1۔ تقابل 2۔ اعتدال پسندی 3۔ شناخت محاصل 4۔ دائمیت 5۔ معروضیت
اپنی فہم کی جانچ کیجیے - III
1۔ %18
2۔ ڈریس مٹیریل کی فروخت قدر %5کی شرح سے 100روپے سے زیادہ نہیں اور% 12کی شرح سے 1,000روپے سے زیادہ
3۔ %5