5
(Bank Reconciliation Statement)
سیکھنے کے مقاصد
اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ اس قابل ہوں گے کہ
باب 4 میں آپ نے پڑھا کہ کاروباری تنظیمیں اپنے نقد اور بینک لین دین کا ریکارڈ کیش بک (نقد یا روکڑ بہی) میں رکھتی ہیں۔ نقد بہی، نقد اور بینک کھاتے دونوں کے مقصد کو پورا کرتی ہے اور میعاد کے آخر میں دونوں کے بیلنس کو ظاہر کرتی ہے۔
جب ایک بار کیش بک کو متوازن (Balanced) کر لیا جائے تو اس کے تمام اندراجات اور تفصیلات کی جانچ اس بینک کے لین دین کے ریکارڈ سے کی جاسکتی ہے جس میں اس فرم کا کھاتہ ہے اور یہ ایک عام سی بات بھی ہے۔ اس جانچ کو انجام دینے کے لیے، خزانچی کو یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ کیش بک پوری آج کی تاریخ تک پوری طرح مکمل ہے اور حالیہ بینک گوشوارہ (یا بینک کی پاس بک) بینک سے حاصل کر لیا گیا ہے۔ بینک گوشوارہ یا بینک کی پاس بک بینک کھاتے کی نقل ہوتی ہے۔ اس سے بینک کے گاہک اس لائق ہو جاتے ہیں کہ وہ بینک میں اپنے فنڈس کی جانچ باقاعدگی کے ساتھ کر سکیں اور اپنے لین دین کے ریکارڈ کو تازہ ترین کر سکیں۔ رواں یا چالو کھاتے کی بینک پاس بک کا نمونہ شکل 5.1 میں دکھایا گیا ہے۔ پاس بک میں یا بینک کے گوشوارے میں دکھائی گئی بیلنس رقم کیش بک میں دکھائے گئے بیلنس کے مطابق ہونی چاہئے۔ لیکن عملاً ایسا نہیں ہوتا اور ان میں فرق پایا جاتا ہے۔ لہٰذا ہمیں اس فرق کے اسباب کا پتہ لگانا ہوگا۔ آپ دیکھیں گے کہ بینک پاس بک میں جمع کی گئی تمام رقم کریڈٹ کالم میں اور نکالی گئی تمام رقم ڈیبٹ کالم میں دکھائی جاتی ہے۔ اس طرح اگر جمع کی گئی رقم (Doposited Amount)، نکالی گئی رقم (Amount Withdraw) سے زیادہ ہے تو پاس بک کریڈٹ بیلنس دکھائے گی اور اگر نکائی گئی رقم (Withdraws) جمع کردہ رقم سے زیادہ ہے تو یہ ڈیبٹ بیلنس دکھائے گی یعنی اورڈرافٹ۔
5.1 تطبیق کی ضرورت (Need for Reconciliation)
عام تجربہ یہ ہے کہ جب بینک بیلنس کا موازنہ، فرم ی کیش بک میں دکھائے گئے بینک بیلنس سے کیا جاتا ہے تو ان دونوں بیلنس کے درمیان ملان نہیں ہوتا ہے۔ لہٰذا ہم پہلے تو اس فرق کے اسباب کا پتہ لگاتے ہیں اور اس کے بعد ایک تطبیقی گوشوارہ بناکر دونوں کے بیلنس میں تطبیق دیتے ہیں۔ اس قسم کے گوشوارہ کو بینک تطبیقی گوشوارہ (Bank Reconcilation Statement) کہا جاتا ہے۔ بینک تطبیقی گوشوارہ تیار کرنے کے لیے اس مخصوص دن کا کیش بک کے مطابق بینک بیلنس اور بینک گوشوارہ اور دونوں بہیوں کی مع تفصیلات ساتھ ہونا چاہئے۔ اگر دونوں بیلنس میں فرق ہے تب دونوں میں سے ہر ایک بہی کے اندراجات کا موازنہ کیا جاتا ہے اور جن مدوں کی وجہ سے فرق آیا ہے ان کا اور متعلقہ رقوم کا پتہ لگالیا جاتا ہے تاکہ ’’بینک تطبیقی گوشوارہ‘‘ تیار کیا جاسکے۔ بینک تطبیقی گوشوارہ کے فارمیٹ کو شکل 5.5 میں دکھایا گیا ہے۔
| رقم روپے | تفصیلات | |
| .............. ............. |
بیلنس بمطابق کیش بک چیک جاری کیے گئے لیکن (بینک میں) پیش نہیں کیے گئے سود بینک کے ذریعہ کریڈٹ کیا گیا | جمع کریں |
| ............. .............. xxxx |
چیک جمع کیا گیا لیکن بینک کے ذریعہ کریڈٹ نہیں کیا گیا بینک کے چارجز کیش بک میں درج نہیں کیے گئے بیلنس پاس بک کے مطابق | کم کریں |
شکل 5.2 بینک تطبیقی گوشوارہ کا پروفارما
یہ تطبیقی گوشوارہ رقم دکھانے والے دوکالم بناکر بھی تیار کیا جاسکتا ہے۔ اس کے اندر ایک کالم میں وہ رقم دکھائی جائے گی جس کا اضافہ ہوا یہ اس میں (+ Column) کہہ سکتے ہیں اور دوسرے کالم یعنی (– Column) میں وہ رقم دکھائی جائے گی جس کو گھٹایا گیا ہے اور آسانی کے خاطر اسی طریقے کو اپنایا بھی جاتا ہے۔
| رقم روپے(–) | رقم روپے(+) | تفصیلات |
| ...... ...... xxxx |
...... ...... ...... |
کیش بک کے مطابق بیلنس چیک جاری کیا گیا لیکن بینک میں جمع نہیں کیا گیا بینک کے ذریعہ سود کریڈٹ کیا گیا چیک جمع کیا گیا لیکن بینک کے ذریعہ کریڈٹ نہیں کیا گیا بینک چارجز کیش بک میں نہیں درج کیے گئے پاس بک کے مطابق بیلنس |
شکل 5.3 بینک تطبیقی گوشوارہ کا پروفارما (جدولی شکل)
کیش بک اور بینک کی پاس بک کی بیلنس رقوم کی تطبیق ان کے درمیان فرق کی ایک توضیح ہے۔ کیش بک اور بینک کی پاس بک کے درمیان فرق درج ذیل اسباب سے پایا جاتا ہے۔
- لین دین کو درج کرنے میں اوقات کا فرق
- کاروبار یا بینک کی غلطیاں
5.1.1 اوقات کے فرق (Timing Differences)
جب کوئی کاروباری ادارہ اپنی کیش بک کا موازنہ بینک کی پاس بک میں دکھائے گئے بقایا (بیلنس) سے کرتا ہے تو اس میں اکثر فرق پایا جاتا ہے۔ ادائیگیوں اور وصولیابیوں سے متعلق لین دین کے تمام معاملات میں وقت کی جو تقدیم و تاخیر ہوتی ہے اس کے سبب یہ فرق پیدا ہوتا ہے۔ وقت کے اس فرق کو متاثر کرنے والے عوامل حسب ذیل ہیں:
(a)۔ 5.1.1 فرم کے ذریعہ چیک جاری کیا گیا لیکن ادائیگی کے لیے ابھی نہیں پیش کیاگیا
جب فرم سپلائر یا فرم کے قرض خواہوں کو چیک جاری کیا کرتا ہے تو ان کا فوری طور پر کیش بک کے کریڈٹ جانب اندراج کر لیا جاتا ہے۔ تاہم وصول کرنے والا فریق ممکن ہے ادائیگی کے لیے بینک کو چیک فوراً نہ پیش کرے۔ بینک فرم کے کھاتے کو صرف اسی وقت ڈیبٹ کرے گا جب بینک کے ذریعہ ان چیکوں کو حقیقت میں ادا کر دیا گیا ہو۔ لہٰذا چیک جاری کرنے اور بینک میں اسے پیش کرنے کے درمیان جو تفاوت وقت ہے اس کے سبب دونوں بیلنس میں فرق پیدا ہوتا ہے۔
تاریخ: 01/09/2005 ملٹی ماڈیول پیکج
GK:OP.ID کھاتے کا گوشوارہ
01/09/2005 تا 29/12/2005 دھیریندر نیشنل بینک کناٹ پلیس
اکاؤنٹ نمبر 03355
نام: دیوپنڈٹ
کھڈوائی رونا کوتا،دہلی
پن کوڈ:110034
| تبصرہ + | بیلنس روپے | کریڈٹ روپے پیسے | ڈیبٹ روپے پیسے | چیک نمبر | تفصیلات | تاریخ |
| + + + + + + + + + + + + + + + + + + + |
50,782,30 15,782,30 5,782,30 16,455,30 25,598,30 5,598,30 31,406.30 64,355,30 334,355,30 24,355,30 18,281,30 21,427,30 11,927,30 17,247,30 35,811,30 35,691.30 15,691.30 5,691.30 21,889.30 |
Opening :Balance 10,673,00 9,143,00 25,808,00 32,949,00 3,146,00 5,320,00 18,564,00 16,198,00 |
35,000,00 10,000,00 20,000,00 30,000,00 10,000,00 6,074.00 9,500.00 120.00 20,000,00 10,000,00 |
356376 356377 356378 356381 356382 657755 356380 356383 356385 |
دہلی PLF خود کو کلیرنگ کے ذریعہ کلیرنگ کے ذریعہ خود کو کلیرنگ کے ذریعہ کلیرنگ کے ذریعہ خود کو دہلی پلاسٹک ICICI کلیرنگ کے ذریعہ خود کو کلیرنگ کے ذریعہ کلیرنگ کے ذریعہ سروسس چارجز خود کو خود کو |
04/08/2016 07/08/2016 13/08/2016 17/08/2016 21/08/2016 26/08/2016 02/09/2016 04/09/2016 08/09/2016 09/09/2016 13/09/2016 15/09/2016 15/09/2016 16/09/2016 21/09/2016 25/09/2016 27/09/2016 |
شکل 5،1 بینک گوشوارے (رواں کھاتے کا نمونہ ) برائے دھیریندر نیشنل بینک اکاؤنٹینٹ /منیجر
(b)۔ 5.1.1 بینک میں چیک کو جمع کردیا گیا لیکن بینک کو اس رقم کی کلیرنیس نہیں ملی
جب کوئی فرم اپنے گاہکوں (دین داروں) سے چیک وصول کرتی ہے تو انہیں فوری کیش بک کی ڈیبٹ جانب درج کرتی ہے۔ اس سے کیش بک کے لحاظ سے بینک بیلنس بڑھ جاتا ہے۔ تاہم، بینک، گاہک کے کھاتے میں تبھی کریڈٹ کرتی ہے جب چیکوں کی رقم واقعی وصول ہو جاتی ہے۔ چیکوں کی کلیرنگ میں عموماً کئی دن لگتے ہیں خاص طور پر باہر کے چیکوں کے معاملے میں یا پھر چیک کسی ایسی بینک کی برانچ کے ہوں جس میں فرم کا کھاتہ نہ ہو۔ اس سے کیش بک کے ذریعہ دکھائے گئے بینک بیلنس اور بینک پاس بک کے ذریعہ دکھائے گئے بیلنس کے درمیان فرق پیدا ہوتا ہے۔
(c)۔ 5.1.1 گاہک کے کھاتے میں بینک کے ذریعہ کیا گیا براہِ راست ڈیبٹ
کبھی کبھی بینک فرم کی لاعلمی میں کھاتے سے مختلف خدمات کے لیے رقم منہا کرلیتا ہے۔ فرم کو اس کے بارے میں صرف اس وقت معلوم ہوتا ہے جب بینک کا گوشوارہ پہنچتا ہے۔ اس طرح منہا کی جانے والی رقوم درج ذیل ہوسکتی ہیں: چیک جمع کرنے کا معاوضہ، ضمنی چارجز، اوورڈرافٹ پر سود، واجب الادا چیکوں پر بینکوں کے ذریعہ منہائی یعنی روکے گئے یا بغیر بھنے چیکوں کی واپسی وغیرہ۔ نتیجے کے طور پر پاس بک کا بیلنس، کیش بک کے بیلنس کے مقابلے کم ہو جائے گا۔
(d)۔ 5.1.1 بینک کھاتے میں براہِ راست جمع کی گئی رقوم
ایسی بھی مثالیں ہیں جب دین دار (گاہک)، فرم کے بینک کھاتے میں رقم براہِ راست جمع کر دیتے ہیں لیکن فرم کو کسی ذریعہ سے اس کی اطلاع اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک کہ وہ بینک کا گوشوارہ نہ حاصل کرے۔ اس معاملے میں بینک وصولی کو تو اپنے یہاں فرم کے کھاتے میں درج کرتا ہے لیکن یہ فرم کی کیش بک میں نہیں درج ہو پاتیں۔ نتیجتاً بینک کی پاس بک میں دکھایا گیا بیلنس فرم کی کیش بک میں دکھائے گئے بیلنس سے زیادہ ہوگا۔
(e)۔ 5.1.1 بینک کے ذریعے جمع کیے گئے سود اور ڈویڈینڈس
جب بینک گاہک کی طرف سے سود اور ڈویڈینڈ جمع کرتا ہے تب انہیں گاہک کے کھاتے میں فوری کریڈٹ کیا جاتا ہے۔ لیکن فرم اس کریڈٹ کے بارے میں تبھی جانے گی اور درج کرے گی جب وہ بینک کا گوشوارہ حاصل کرلے۔ تب تک کیش بک اور پاس بک کے بیلنس کے درمیان فرق باقی رہے گا۔
(f)۔ 5.1.1 گاہکوں کی طرف سے بینک کے ذریعے کی گئی براہِ راست ادائیگیاں
ایسا بھی ہوتا ہے کہ گاہک، بینک کو ایسی ہدایات دیدیتے ہیں کہ وہ مقررہ ایّام میں فلاں فلاں پارٹی/فریق کو پابندی کے ساتھ ادائیگی کر دیا کریں۔ مثال کے لیے ٹیلی فون بل، بیمہ قسط، کرایہ، ٹیکس وغیرہ براہِ راست گاہک کی طرف سے بینک کے ذریعہ ادا کیے جاتے ہیں اور کھاتے میں ڈیبٹ ہو جاتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر بینک کی پاس بک کا بیلنس کیش بک میں دکھائے گئے بیلنس کے مقابلے کم ہوگا۔
(g)۔ 5.1.1 جمع کیے گئے چیکوں/منہاشدہ ہنڈیوں کا نکارا جانا
اگر فرم کے ذریعہ کوئی چیک جمع کیا جاتا ہے یا کاروباری فرم کے ذریعہ نکالے گئے بل آف ایکسچینج کی جس کی بینک میں منہائی ہوتی ہے وہ پختگی (Maturity) کی تاریخ پر نکالا جاتا ہے تب اسے بینک کے ذریعہ گاہک کے کھاتے میں ڈیبٹ کیا جاتا ہے چونکہ یہ معلومات فرم کو فوری نہیں دستیاب ہوتی۔ اس فرم کے کیش بک میں درج بالا مدوں سے متعلق اندراج نہیں ہوگا یہ فرم کو اسی وقت معلوم ہوگا جب وہ بینک سے گوشوارہ حاصل کرے۔ نتیجے کے طور پر پاس بک کے لحاظ سے بیلنس کیش بک کے بیلنس کی نسبت کم ہوگا۔
5.1.2 غلطیوں کے سبب ہونے والے فرق (Differences Caused by Errors)
کبھی کبھی دونوں بیلنس کے درمیان فرق بینک کی غلطی کی وجہ سے یا کاروباری فرم کی کیش بک میں ہونے والی غلطی کے سبب واقع ہوتا ہے۔ یہ غلطی کیش بک میں دکھائے گئے بینک بیلنس اور بینک گوشوارے میں دکھائے گئے بیلنس کے درمیان فرق کا موجب ہوتی ہے۔
(a)۔ 5.1.2 فرم کے ذریعہ لین دین درج کرنے میں ہونے والی غلطیاں
کیش بک میں اندراجات کرتے وقت فرم کے ذریعے جاری کیے گئے یا جمع کیے گئے چیکوں سے متعلق لین دین کے اندراجات اگر کیش میں درج ہو جانے سے رہ جائیں یا غلط درج ہو جائیں یا پھر ان کا میزان غلط ہو جائے تو ایسی تمام صورتوں میں بتائیے کہ بیلنس میں فرق کا سبب کیا ہے؟ آیا اس کا سبب وقت کی تقدیم و تاخیر ہے، بینک کی غلطی ہے یا پھر فرم کی غلطی ہے، کیش بک اور بینک بیلنس میں فرق واقع ہوتا ہے۔
(b)۔ 5.1.2 بینک کے ذریعہ لین دین درج کرنے میں ہونے والی غلطیاں
پاس بک میں اندراجات چڑھاتے وقت اگر بینک جمع کیے گئے چیکوں کے لین دین کو پاس بک میں غلط درج کرتا ہے یا کوئی اندراج چھوٹ جاتا ہے یا پھر میزان کرنے میں اس سے غلطی ہو جاتی ہے تو ایسی تمام صورتوں میں پاس بک اور کیش بک بیلنس کے درمیان فرق واقع ہوتا ہے۔
اپنی فہم کی جانچ کیجیےI-
1۔ درج ذیل لین دین کو پڑھیے اور وقفے یا کاروباری فرم یا بینک کے ذریعہ کی جانے والی غلطیوں کی بنیاد پر فرق کے سبب کی شناخت کیجیے۔
| نمبر شمار | لین دین | وقفہ | کاروباری فرم یا بینک کے ذریعہ کی جانے والی غلطیاں |
| 1۔ | گاہک کو چیک جاری کیا گیا لیکن ادائیگی کے لیے نہیں پیش کیا گیا۔ | ||
| 2۔ | 5,000 روپے کی رقم کا چیک میسرز XYZ کو جاری کیا گیا لیکن کیش بک میں 500 روپے کے طور پر درج کیا گیا۔ |
||
| 3۔ | بینک کے ذریعہ سود کریڈٹ کیا گیا لیکن کیش بک میں ابھی نہیں درج کیا گیا۔ | ||
| 4۔ | چیک بینک میں جمع کیا گیا لیکن بینک کے ذریعہ ابھی وصول نہیں کیا گیا۔ | ||
| 5۔ | فرم کے رواں کھاتے میں بینک کے ذریعہ بینک چارجز ڈیبٹ کیے گئے۔ |
2۔ خالی جگہوں کو پر کیجیے:
(i) پاس بک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی نقل ہے جیسا کہ بینک کے لیجر میں پیش ہوتی ہے۔
(ii) جب بینک سے رقم نکالی جاتی ہے تب بینک گاہک کے کھاتے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کرتا ہے۔
(iii) عام طور پر کیش بک ایک ڈیبٹ بیلنس ظاہر کرتی ہے جبکہ پاس بک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیلنس دکھاتی ہے۔
(iv) کیش بک کے موافق (Favourable) بیلنس کا مطلب کیش بک کے بینک کالم میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیلنس سے ہے۔
(v) اگر کیش بک کے بیلنس کو ابتداء نقطے کے طور پر مانا جائے تو ایسی مدوں کو جو کیش بک بیلنس کو پاس بک کی نسبت چھوٹا بناتی ہیں تو تطبیق کی غرض سے ان کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جانا چاہئے۔
(vi) اگر پاس بک موافق بیلنس دکھاتی ہے اور اگر اسے بینک کے تطبیقی گوشوارہ کے لیے ابتدائی نقطہ مانا جاتا ہے تو کیش بیلنس کا پتہ لگانے کے واسطے ایسے چیکوں کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیاجانا چاہئے جن کو ادائیگی کے لیے جاری کیا جاچکا ہو لیکن انہیں بینک میں ابھی جمع نہ کیا گیا ہو۔
(vii) اگر چیکوں کو ادائیگی کے لیے نہیں پیش کیا گیا ہے تب کیش بک کا موافق بیلنس پاس بک کی نسبت ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوتا ہے۔
(viii) جب بینکر بلوں کو وصول کرتا ہے اور کھاتے میں کریڈٹ کرتا ہے پاس بک اوورڈرافٹ ۔۔۔۔۔۔ بیلنس دکھاتی ہے۔
(ix) اگر پاس بک کے اوورڈرافٹ کو ابتدائی نقطے کے طور پر لیا جاتا ہے۔، تب جاری کیے گئے لیکن پیش نہیں کیے گئے چیک کو بینک تطبیقی گوشوارے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جانے
چاہئیں۔
(x) جب پاس بک کے بیلنس کو ان مدوں کے ابتدائی نقطے کے طور پر مانا جائے جو پاس بک بیلنس کو کیش بک بیلنس کی نسبت ۔۔۔۔۔۔۔۔ بناتی ہیں تو انہیں تطبیق کے مقصد سے
کم کیا جانا چاہئے۔
5.2 بینک کا تطبیقی گوشوارہ تیار کرنا
(Preparation of Bank Reconciliation Statement)
فرق کے اسباب کی شناخت کے بعد، تطبیق کو درج ذیل دو طریقوں سے انجام دیا جاسکتا ہے:
(a) کیش بک کو ہم آہنگ (Adjusting) کیے بغیر بینک گوشوارۂ تطبیق تیار کرنا۔
(b) کیش بک بیلنس کو ہم آہنگ کرنے کے بعد بینک گوشوارۂ تطبیق تیار کرنا۔
یہ بات قابل غور ہے کہ بینک کا تطبیقی گوشوارہ عملاً کیش بک بیلنس کو ہم آہنگ کرنے کے بعد تیار کیا جاتا ہے جس کے بارے میں آپ اگلے باب میں مطالعہ کریں گے۔
5.2.1 کیش بک بیلنس کو ہم آہنگ کیے بغیر بینک تطبیقی گوشوارہ تیار کرنا
(Preparation of Bank Reconciliation Statement without adjusting Cash Book Balance)
اس طریقے کے تحت بینک گوشوارۂ تطبیق تیار کرنے کے لیے کیش بک یا پاس بک کا بیلنس شروعاتی مدد ہے۔ کیش بک کے سے ڈیبٹ بیلنس کا مطلب بینک میں جمع شدہ رقوم (Deposits) کا وہ بیلنس ہے جو بینک میں موجود ہے۔ اس طرح کے بیلنس پاس بک کے لحاظ سے کریڈٹ بیلنس ہوں گے۔ اس طرح کے بیلنس تبھی موجود ہوتے ہیں جب فرم کے ذریعے جمع کی گئی رقوم، نکالی گئی رقوم سے زیادہ ہوں۔ اس سے کیش بک کے لحاظ سے موافق (Favourable) بیلنس یا پاس بک کے لحاظ سے موافق بیلنس کا اظہار ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف کیش بک کا کریڈٹ بیلنس، بینک اوورڈرافٹ کا اظہار ہ یا دوسرے لفظوں میں بینک میں جمع کی گئی رقم ک بالمقابل نکالی گئی رقم زیادہ ہے۔ اسے کیش بک کے لحاظ سے غیرموافق (Unfavourable) بیلنس کے طور پر یا پاس بک کے لحاظ سے غیر موافق بیلنس کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔
بینک گوشوارۂ تطبیق تیار کرتے وقت ہمارے سامنے چار مختلف صورتیں پیش آسکتی ہیں، یہ ہیں:
- کیش بک کے مطابق ڈیبٹ بیلنس (موافق بیلنس) دیا گیا ہے اور پاس بک کے مطابق بیلنس کا پتہ لگانا ہے۔
- پاس بک کے مطابق کریڈٹ (موافق بیلنس) بیلنس دیا گیا ہے اور کیش بک کے مطابق بیلنس کا پتہ لگاتا ہے۔
- کیش بک کے مطابق کریڈٹ بیلنس (غیر موافق یا اوورڈرافٹ بیلنس) دیا گیا ہے اور پاس بک کے مطابق بیلنس کا پتہ لگاتا ہے۔
- پاس کے کے مطابق ڈیبٹ بیلنس (غیر موافق اوورڈرافٹ بیلنس) دیا گیا ہے اور کیش بک کے مطابق بیلنس کا پتہ لگانا ہے۔
(a)۔ 5.2.1 موافق بیلنس کو برتنا
بینک گوشوارۂ تطبیق تیار کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات شروع کیے جاسکتے ہیں:
(i) گوشوارہ تیار کرنے کی تاریخ عنوان کے ایک جزو کے طور پر سب سے اوپر لکھی جاتی ہے۔
(ii) اس گوشوارہ میں پہلی مد (Item) عام طور پر کیش بک میں دکھایا گیا بیلنس ہوتا ہے۔ البتہ پاس بک کے مطابق بیلنس بھی متبادل طور پر ابتدائی نقطہ ہو سکتا ہے۔
(iii) جمع کردہ لیکن غیر وصول شدہ چیک گھٹادیے جاتے ہیں۔
(iv) وہ سبھی چیک جو جاری کیے گئے لیکن ادائیگی کے لیے ابھی پیش نہیں کیے گئے، بینک کھاتے میں رقوم براہ راست جمع ہو گئی ہیں انہیں جمع کیا جاتا ہے۔
(v) چارجز کی تمام مدیں گھٹائی (Deduct) جاتی ہیں۔ ان مدوں میں اوورڈرافٹ پر سود، ناقابل ادائیگی قرار دیے گئے بل اور چیک تیز وہ تمام ادائیگیاں شامل ہیں جو بینک، گاہک کی
ہدایت کے مطابق مستقل طور پر انجام دیتا ہے اور جن کو پاس بک میں ڈیبٹ بھی کرتا ہے لیکن جن کا کیش بک میں اندراج نہیں ہوپاتا۔
(vi) بینک کے ذریعے دیے گئے سبھی کریڈٹ جیسے وصول یافتہ ڈویڈینڈ پر سود وغیرہ اور بینک میں براہ راست ڈپازٹ کی گئی رقوم کو جمع کیا جاتا ہے۔
(vii) غلطیوں کا تطابق غلطیوں کی درستگی کے اصولوں پرکیا جاتا ہے (غلطیوں کی درستگی کے بارے میں باب6 میں تفصیل کے ساتھ بحث کی گئی ہے)۔
(viii) گوشوارے کے ذریعہ دکھایا گیا خالص (Net) بیلنس پاس بک کے بیلنس کے مطابق ہی ہونا چاہئے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ اگر ہم پاس بک کے بیلنس کا تطابق ابتدائی نقطے کے طور پر کرتے ہیں تب اوپر کی سبھی مدوں کو اس کے بالکل برعکس برتا جائے گا (مثال 3 دیکھیں)۔
کیش بک اور پاس بک کے موافق بیلنس کی تفہیم کے لیے درج ذیل حل شدہ مثالیں مددگار ثابت ہوں گی۔
مثال 1
مسٹر ونود کی فراہم کردہ 31 مارچ 2017 تک کی درج ذیل تفصیلات سے بینک تطبیقی گوشوارہ تیار کیجیے:
- کیش بک کے مطابق بینک بیلنس 50,000 روپے۔
- چیک جاری کیے گئے لیکن ادائیگی کے لیے نہیں پیش کیے گئے 6,000 روپے۔
- بینک نے 8,000 روپے کا ڈویڈینڈ براہ راست پر وصول کیا اور بینک کھاتے میں کریڈٹ کیا لیکن کیش بک میں اندراج نہیں کیا گیا۔
- 400 روپے کے بینک چارجز کیش بک میں نہیں درج کیے گئے۔
- 6,000 روپے کے چیک جمع کیے گئے لیکن بینک کے ذریعہ وصول نہیں کیے گئے۔
حل
31 مارچ 2017 کو مسٹر ونود کا بینک تطبیقی گوشوارہ
| نمبر شمار | تفصیلات | +روپے | -روپے |
| 1۔ 2۔ 3۔ 4۔ 5۔ 6۔ |
کیش بک کے مطابق بیلنس چیک جاری کیے گئے لیکن ادائیگی کے لیے نہیں پیش کیے گئے بینک کے ذریعہ وصول کیا گیا ڈیویڈینڈ چیک جمع کیے گئے لیکن بینک کے ذریعہ کریڈٹ نہیں کیے گئے بینک کے ذریعہ بینک چارجز ڈیبٹ کیے گئے پاس بک کے مطابق بیلنس |
50,000 6,000 8,000 64,000 |
6,000 400 57,600 64,000 |
مثال 2
انیل اینڈ کمپنی کی درج ذیل تفصیلات سے 31 اگست 2017 کو بینک تطبیقی گوشوارہ تیار کیجیے۔
- کیش بک کے مطابق بیلنس 54,000 روپے۔
- بینک کے اتفاقی چارجز 100 روپے جو کہ انیل اینڈ کمپنی کھاتے کو ڈیبٹ کیے گئے اور کیش بک میں درج نہیں کیے گئے۔
- 5,450 روپے کے چیک بینک میں جمع کیے گئے لیکن چیک کے ذریعہ ابھی وصول نہیں کیے گئے۔
- انیل اینڈ کمپنی نے 20,000 روپے کا چیک جاری کیا لیکن ادائیگی کے لیے نہیں پیش کیا گیا۔
حل
31 اگست 2017 کو انیل اینڈ کمپنی کا بینک تطبیقی گوشوارہ
| نمبر شمار | تفصیلات | +روپے | -روپے |
| 1۔ 2۔ 3۔ 4۔ 5۔ 6۔ |
کیش بک کے مطابق بیلنس چیک جاری کیے گئے لیکن ادائیگی کے لیے نہیں پیش کیے گئے چیک جمع کیے گئے لیکن بینک کے ذریعہ کریڈٹ نہیں کیے گئے بینک کے ذریعہ بینک کے اتفاقی چارجز ڈیبٹ کیے گئے پاس بک کے مطابق بیلنس |
54,000 20,000 ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ 74،000 |
۔۔۔ ۔۔۔ 54,00 100 68,500 74،000 |
مثال 3
میسرز باس اینڈ کمپنی کی بینک پاس بک میں 31 مئی 2017 کو 45,000 روپے کا بیلنس ہے۔
- 25,940 روپے کی رقم کے چیک 31 مئی 2017 سے پہلے چیک جاری کیے گئے تھے لیکن بھنانے کے لیے نہیں پیش کیے گئے۔
- 3,900 روپے اور 2,350 روپے کے دو چیک 31 مئی کو بینک میں جمع کیے گئے تھے لیکن بینک نے جون2017 میں ان کو کریڈٹ کیا۔
- 2,500 روپے کے اس چیک کی رقم بھ پاس بک میں ڈیبٹ کی گئی جس کو 31.5.2017 کو ناقابل ادائیگی قرار دیا گیا تھا۔ اب 31 مئی 2017 تک کا ایک بینک تطبیقی گوشوارہ تیار کیجیے
حل
31 مئی 2017 کو بوس اینڈ کمپنی بینک تطبیقی گوشوارہ
| نمبر شمار | تفصیلات | +روپے | -روپے |
| 1۔ 2۔ 3۔ 4۔ 5۔ 6۔ |
پاس بک کے مطابق بیلنس چیک جمع کیے گئے لیکن بینک کے ذریعہ وصول نہیں کیے گئے (3,900 روپے + 2,350 روپے) ناقابل ادائیگی قرار دیے گئے چیک صرف پاس میں جمع کیے گئے چیک جاری کیے گئے لیکن ادائیگی کے لیے نہیں پیش کیے گئے کیش بک کے مطابق بیلنس |
45,000 6،250 2،500 53،750 |
25،940 27،810 53،750 |
(b) ۔ 5.2.1 اوورڈرافٹ کا معاملہ
اب تک ہم نے بینک کے گوشوارۂ تطبیق کے بارے میں پڑھا۔ یہاں بینک کے بیلنس مثبت تھے یعنی بینک کے کھاتے میں رقم موجود تھی۔ تاہم کاروباری فرم کا کبھی کبھی بینک کے ساتھ اوورڈرافٹ کا معاملہ ہوتا ہے۔ جب اوورڈرافٹ لیا جاتا ہے تب بینک کھاتے منفی ہو جاتے ہیں اور کاروبار عملاً بینک کے مقروض ہوتے ہیں۔ اسے کیش بک میں کریڈٹ بیلنس کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ بینک کے گوشوارے میں جہاں بیلنس کے بعد (کبھی کبھی OD) لکھا ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہاں اوورڈرافٹ ہے اور پاس بک کے مطابق اسے ڈیبٹ بیلنس کہا جاتا ہے۔
اوورڈرافٹ کو بینک تطبیقی گوشوارہ میں منفی رقم کے طور پر برتا جاتاہے۔ اوورڈرافٹ ہونے کی صورت میں بینک گوشوارۂ تطبیق کس طرح تیار کیا جائے گا؟ اس کو سمجھنے کے لیے درج ذیل حل شدہ مثال سے آپ کو مدد ملے گی۔
مثال 4
31 مارچ 2017 کو راکیش کے اوورڈرافٹ کی رقم 8,000 روپے تھی جیسا کہ اس کی کیش بک میں دکھایا گیا۔ 2,000 روپے کی رقم کے چیک اس نے جمع کیے تھے لیکن بینک کے ذریعہ اسے وصول نہیں کیے گئے۔ اس نے 800 روپے کے چیک جاری کیے لیکن ادائیگی کے لیے بینک میں نہیں پیش ہوئے۔ اس کے پاس بک میں 60 روپے کا سود اور 100 روپے کے بینک چارجز ڈیبٹ تھے۔ ایک بینک گوشوارۂ تطبیق تیار کیجیے۔
حل
01 اپریل، 2017 کو راکیش کا بینک گوشوارۂ تطبیق
| نمبر شمار | تفصیلات | +روپے | -روپے |
| 1۔ 2۔ 3۔ 4۔ 5۔ 6۔ |
کیش بک کے مطابق اوورڈرافٹ چیک جمع کیا گیا لیکن بینک کے ذریعہ ابھی وصول نہیں کیا گیا بینک چارجز چیک جاری کیا گیا لیکن ادائیگی کے لیے نہیں پیش کیا گیا بینک کی پاس بک کے مطابق بیلنس (اوورڈرافٹ) |
8,000 2,000 60 100 10,160 |
800 9,360 10,160 |
مثال 5
31 مارچ، 2017 کو اگروال ٹریڈر کی کیش بک کے بینک کالم 1,18,100 روپے کا کریڈٹ بیلنس دکھاگیا (اوورڈرافٹ)۔ کیش بک اور بینک گوشوارے کی جانچ پر یہ پایا گیا کہ
- 12,400 روپے کا چیک وصول کیا گیا اور کیش بک میں درج کیا گیا لیکن بینک میں وصولی کے لیے نہیں بھیجا گیا۔
- بینک کے ذریعہ گاہک سے براہ راست پر 27,300 روپے کی ادائیگی وصول کی گئی لیکن کیش بک میں کوئی اندراج نہیں کیا گیا۔
- 1,75,200 کے چیک جاری کیے گئے لیکن ادائیگی کے لیے نہیں پیش کیے گئے۔ بینک کے ذریعہ 8,800 روپے کے سود لگائے گئے لیکن کیش بک میں درج نہیں ہوئے۔ بینک تطبیقی گوشوارہ تیار کیجیے۔
حل
31 مارچ 2017 کو اگروال ٹریڈرس کا بینک گوشوارۂ تطبیق
| نمبر شمار | تفصیلات | +روپے | -روپے |
| 1۔ 2۔ 3۔ 4۔ 5۔ 6۔ |
کیش بک کے مطابق اوورڈرافٹ چیک وصول کیے گئے اور کیش بک میں درج کیے گئے لیکن وصولی کے لیے بینک نہیں بھیجے گئے۔ بینک کے ذریعہ ڈیبٹ کیے گئے بینک اوورڈرافٹ پر سود لیکن کیش بک میں اندراج نہیں کیا گیا گاہک سے براہ راست ادائیگی وصول کی گئی بینک اکاؤنٹ میں کریڈٹ کیا گیا لیکن کیش بک میں اندراج نہیں کیا گیا چیک جاری کیا گیا لیکن ادائیگی کے لیے نہیں پیش کیا گیا پاس بک کے مطابق بیلنس (موافق بیلنس) |
27,300 1,75,200 2,02,500 |
1,18,100 12,400 8,800 63,200 2,02,500 |
مثال 6
آشا اینڈ کمپنی کی درج ذیل تفصیلات سے 31 دسمبر، 2017 کو بینک گوشوارۂ تطبیق تیار کیجیے۔
پاس بک کے مطابق اوورڈرافٹ 20,000
اوورڈرافٹ پر سود 2,000
بینک کے ذریعہ ادا کی گئی بیمہ قسط 200
چیک جاری کیا گیا لیکن ادائیگی کے لیے نہیں پیش کیا گیا 6,500
چیک جمع کیا گیا لیکن ابھی کلیر نہیں ہوا 6,000
بینک کے ذریعہ غلط طور پر ڈیبٹ کیا گیا 500
حل
31 دسمبر 2017 کو آشا اینڈ کمپنی کا بینک گوشوارۂ تطبیق
| نمبر شمار | تفصیلات | +روپے | -روپے |
| 1۔ 2۔ 3۔ 4۔ 5۔ 6۔ |
اوورڈرافٹ پاس بک کے مطابق اوورڈرافٹ پر سود بینک کے ذریعہ ادا کی گئی بیمہ قسط چیک جاری کیا گیا لیکن ادائیگی کے لیے نہیں پیش کیا گیا چیک جمع کیا گیا لیکن ابھی کلیر نہیں ہوا بینک کے ذریعہ غلط طور پر ڈیبٹ کیا گیا کیش بک کے مطابق بیلنس (اوورڈرافٹ) |
2,000 200 6,000 500 17,800 26,500 |
20,000 6,500 26,500 |
مثال 7
درج ذیل تفصیلات سے 31 مارچ، 2017 کو گوشوارۂ تطبیق تیار کیجیے۔
(a)۔ کیش بک کے مطابق ڈیبٹ بیلنس 10,000 روپے ہے۔
(b)۔ 1,000 روپے کا چیک جمع کیا گیا لیکن کیش بک میں درج نہیں کیا گیا۔
(c)۔ کیش بک میں 200 روپے نقد جمع درج کیے گئے تھے جبکہ بینک کا کالم اس میں موجود نہیں تھا۔
(d)۔ 250 روپے کا ایک چیک جاری کیا گیا لیکن چیک کو کیش کالم میں 205 روپے کے طور پر درج کیا گیا ۔
(e)۔ پچھلے دن کے 1,500 روپے کے ڈیبٹ بیلنس کو اگلے دن کریڈٹ بیلنس کے طور پر دکھایا گیا۔
(f)۔ کیش بک کی ادائیگی جانب 100 روپے کم جوڑے گئے ۔
(g)۔ 112 روپے کی نقد رعایت منظور کی گئی تھی جو کہ بینک کالم میں 121 روپے کے طور پر درج کیا گیاتھا۔
(h)۔ ایک دین دار سے 500 روپے کا ایک چیک کیش بک میں درج کیا گیا تھا لیکن وصولی کے لیے بینک میں نہیں جمع کیاگیا۔
(i)۔ 300 روپے کے دیے جانے والے ایک چیک کو کیش بک میں دوبار درج کیا گیا۔
حل
30 ستمبر، 2017 کو بینک گوشوارۂ تطبیق
| نمبر شمار | تفصیلات | +روپے | -روپے |
| 1۔ 2۔ 3۔ 4۔ 5۔ 6۔ 7۔ 8۔ 9۔ 10۔ |
کیش بک کے مطابق ڈیبٹ بیلنس آگے لے جانے میں غلطی کیش بک میں چیک دوبار درج کیا گیا چیک جمع لیکن بینک کالم میں نہیں درج کیا گیا چیک جمع لیکن درج نہیں کیا گیا ادائیگی کی جانب جوڑا گیا چیک جاری ہوا لیکن اندراج نہیں ہوا نقد کٹوتی غلطی سے بینک کالم میں درج کی گئی چیک درج کیا گیا لیکن جمع نہیں کیا گیا پاس بک کے مطابق کریڈٹ بیلنس |
10,000 3,000 300 200 1,000 14,500 |
100 250 121 500 13,529 14,500 |
مثال 8
درج ذیل تفصیلات کے ساتھ 31، مارچ 2017 کو شری کرشن کا بینک گوشوارۂ تطبیق تیار کیجیے۔
(a) پاس بک کے مطابق بیلنس 10,000 روپے۔
(b) شری کرشن کی طرف سے 500 روپے کا چیک بینک نے وصول کیا لیکن غلطی سے شری کرشن کے کھاتے میں اسے کریڈٹ کر دیا گیا۔
(c) کیش بک ڈپازٹ 1,589 روپے کو بینک نے 1,598 کی رقم سمجھ کر درج کر لیا۔
(d) پاس بک کے نکالنے کے کالم میں 100 روپے کم جوڑے گئے۔
(e) پاس بک کے مطابق 1,500 روپے کا کریڈٹ بیلنس ڈیبٹ بیلنس میں درج کیا گیا۔
(f)۔ 350 روپے کے چیک کی ادائیگی کو پاس بک میں دو بار درج کیا گیا۔
(g) شری کرشن کے ذریعہ جمع کیے گئے 100 روپے کے چیک کے عوض پاس بک میں کریڈٹ بیلنس دکھایا گیا۔
حل
31 مارچ ، 2017 کو بینک گوشوارۂ تطبیق
| نمبر شمار | تفصیلات | +روپے | -روپے |
| 1۔ 2۔ 3۔ 4۔ 5۔ 6۔ 7۔ 8۔ |
پاس بک کے مطابق کریڈٹ بیلنس چیک غلطی سے دوسرے گاہک کے کھاتے میں چیک غلطی سے کریڈٹ کیا گیا آگے صفحہ پر لے جانے میں غلطی چیک دوبار درج کیا گیا کیش ڈپازٹ کے لیے زائد کریڈٹ نکالنے والے کالم میں کم جوڑا گیا غلط کریڈٹ کیش بک کے مطابق غلط بیلنس |
10,000 500 3,000 350 13,850 |
9 100 1,000 12,741 13,850 |
اپنی فہم کی جانچ کیجیے II-
درست جواب کا انتخاب کیجیے:
1۔ بینک گوشوارۂ تطبیق تیار کیا جاتا ہے :
(a) قرض خواہوں (ساہوکاروں) کے ذریعہ (b) بینک کے ذریعہ
(c) بینک میں کھاتہ دار کے ذریعہ (d) دین داروں کے ذریعہ
2۔ بینک گوشوارۂ تطبیق تیار کیا جاتا ہے:
(a) پاس بک کے بیلنس سے (b) کیش بک کے بیلنس سے
(c) پاس بک اور کیش بک دونوں کے بیلنس سے (d) ان میں سے کسی سے نہیں
3۔ پاس بک ایک نقل ہے:
(a) گاہک کھاتے کی (b) کیش بک کے بینک کالم کی
(c) کیش بک کے نقد کالم کی (d) وصولیابیوں اور ادائیگیوں کی
4۔ غیر موافق بیلنس کا مطلب ہے:
(a) پاس بک میں کریڈٹ بیلنس (b) کیش بک میں کریڈٹ بیلنس
(c) کیش بک میں ڈیبٹ بیلنس (d) ان میں سے کوئی نہیں
5۔ موافق بینک بیلنس کا مطلب ہے:
(a) کیش بک میں کریڈٹ بیلنس (b) پاس بک میں کریڈٹ بیلنس
(c) کیش بک میں ڈیبٹ بیلنس (d) b اور c دونوں
6۔ بینک گوشوارۂ تطبیق خاص طور پر تیار کیا جاتا ہے:
(a) کیش بک کے نقد بیلنس کے تطبیق کے لیے
(b) کیش بک اور بینک پاس بک کے ذریعہ دکھائے گئے بینک بیلنس کے درمیان فرق کی تطبیق کے لیے
(c) a اور b دونوں
(d) ان میں سے کوئی نہیں
اپنی فہم کی جانچ کیجیے۔III
بتائیے کہ درج ذیل بیانات میں سے کون سا بیان صحیح ہے کون سا غلط؟
- پاس بک گاہک کے کھاتے کا گوشوارہ ہے جس کا حساب کتاب بینک کے ذریعہ رکھا جاتا ہے۔
- کوئی بھی کاروباری فرم اپنے کیش بک کے بیلنس کو پاس بک کے بیلنس سے تطبیق دینے کے لیے میعادی طور پر، بینک گوشوارۂ تطبیق تیار کرتی ہے کیونکہ یہ دونوں یعنی کیش بک اور پاس بک کے بیلنس مختلف اسباب کی بنا پر اکثر مختلف ہوتے ہیں۔
- اگر چیک جاری کیے گئے لیکن ادائیگی کے لیے نہیں پیش کیے گئے تو پاس بک کا بیلنس کم ہو جائے گا۔
- چیک جمع کیے گئے بینک کے ذریعے وصولیابی نہیں ہوئی اس کے نتیجے میں کیش بک کا بیلنس پاس بک کے مقابلے بڑھ جائے گا۔
- اگر چیک جمع کیے گئے لیکن بینکر نے ان کو وصول نہیں کیا تو ایسی صورت میں پاس بک کا اورڈرافٹ کیش بک کے اورڈرافٹ سے کم ہوگا۔
- کیش بک کے مطابق بینک کھاتے کا ڈیبٹ بیلنس، بینک کی کتابوں میں کاروباری فرم کے کھاتے کے کریڈٹ بیلنس کے مساوی ہونا چاہئے۔
- جب ادائیگی کے لیے چیکوں کو پیش نہ کیا گیا ہوتو کیش بک کے لحاظ سے موافق بینک بیلنس، بینک پاس بک بیلنس کے مقابلے کم ہوگا۔
- گاہکوں کی طرف سے بینک کے ذریعہ حاصل کی گئیں سیدھی وصولیابیاں کیش بک کے بیلنس کے مقابلے بینک پاس بک کا بیلنس بڑھا دیں گی۔
- جب گاہک کے ذریعہ دیے گئے ادائیگی احکامات کے مطابق بینک ادائیگیاں تب پاس بک میں بیلنس کیش بک کے مقابلے زیادہ ہوگا.
باب میں متعارف کرائی گئیں کلیدی اصطلاحات
- بینک گوشوارۂ تطبیق
- کیش بک اور پاس بک
تعلیمی مقاصد کے حوالے کے سے خلاصہ
- بینک گوشوارۂ تطبیق: وہ گوشوارہ جو دو کھاتوں کے درمیان فرق کی مدوں کو دکھاتا ہے اور پاس بک (بینک گوشوارے) کے بیلنس کو کیش بک کے بیلنس سے تطبیق کرتا ہے۔
- فرق کے اسباب:
— لین دین درج کرنے کے اوقات
— کاروباری فرم کے ذریعہ یا بینک کے ذریعہ کی جانے والی غلطیاں
3۔ درست نقد بیلنس : یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ وصولیابیاں یا ادائیگیاں کسی بھی بہی سے غائب ہوں اوراگر کوئی غلطی ہے تو اسے درست کیے جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس وجہ سے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ دونوں گوشواروں کے اندراجات ان میں راہ پاجانے والی غلطیوں کو کیش بک بیلنس، پاس بک بیلنس اور دیگر دستیاب معلومات پر نظر رکھی جائے اور تطبیقی گوشوارے تیار کرنے سے پہلے کیش بیلنس کو درست کیا جائے اور گوشوارے کی تطبیق سے پہلے درست کیش بک بیلنس شمار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
مشق کے لیے سوالات
مختصر جوابات
- بینک گوشوارۂ تطبیق کو تیار کرنے کی ضرورت بیان کیجیے۔
- بینک اوورڈرافٹ کیا ہے؟
- بینک کے ذریعہ غلط طور پر ڈیبٹ کیا گیا۔ اس بیان کو مختصراً مثال کی مدد سے سمجھائیے۔
- تفاوت وقت (Time leg) کے سبب واقع ہونے والے فرق کے اسباب بیان کیجیے۔
- کیش بک کے مطابق موافق بیلنس کی اصطلاح کی مختصراً وضاحت کیجیے۔
- درست کیش بک بیلنس کا پتہ لگانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات دریافت کیجیے۔
طویل جوابات
- بینک تطبیق گوشوارہ (Bank Reconciliation Statement) کیا یہ اور اسے کیوں تیار کیا جاتا ہے۔
- وضاحت کیجیے کہ بینک پاس بک کا بیلنس کیوں اور کب کیش بک کے بینک کالم سے مختلف ہو جاتے ہیں۔
- ترمیم شدہ کیش بیلنس، بینک گوشوارۂ تطبیق تیار کرنے کے طریق کار (Process) کی وضاحت کیجیے۔
عددی سوالات
کیش بک اور پاس بک کے موافق بیلنس
1۔ درج ذیل تفصیلات سے 31 مارچ 2017 کو بینک گوشوارۂ تطبیق تیار کیجیے:
(i)۔ کیش بک کے مطابق بیلنس 3,200 روپے
(ii)۔ 1,800 روپے کا چیک جاری کیا گیا لیکن ادائیگی کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔
(iii)۔ 31 مارچ 2014 کو 2,000 روپے کا چیک جمع کیا گیا لیکن وصول نہیں کیا گیا
(iv)۔ 150 روپے بینک نے بینک چارجز ڈیبٹ کیے
(جواب: پاس بک کے مطابق بیلنس 2,850 روپے)
2۔ 31 مارچ 2017 کو کیش بک میں 3,700 روپے بینک کا نقد بیلنس دکھایا گیا ہے لیکن بینک کی اپ ڈیٹ شدہ پاس بک سے پتہ لگتا ہے کہ 700 روپے، 300 روپے اور 180 روپے کے جو چیک جاری کیے گئے تھے وہ ادائیگی کے لیے پیش نہیں کیے گئے۔ اس کے علاوہ 1,200 روپے کی رقم کا چیک کھاتے میں جمع کیا گیا لیکن کریڈٹ نہیں ہوا۔ بینک گوشوارۂ تطبیق تیار کیجیے۔
(جواب: پاس بک کے مطابق بیلنس 3,680 روپے)
3۔ کیش بک میں 7,800 روپے کا بینک بیلنس دکھایا گیا ہے۔ پاس بک کے ساتھ کیش بک کا موازنہ کرنے پر درج ذیل فرق ظاہر ہوئے:
(a)۔ 3,000 روپے کا چیک بینک میں جمع کیا گیا لیکن کریڈٹ نہیں ہوا
(b)۔ 1,500 روپے کا چیک جاری کیا گیا لیکن ابھی ادائیگی کے لیے نہیں پیش کیا گیا
(c)۔ 2,000 روپے بیمہ قسط بینک کے ذریعہ ادا کی گئی
(d)۔ 400 روپے کے بینک سود بینک کے ذریعہ کریڈٹ کیے گئے۔
(e) بینک کے چارجز 100 روپے
(f)۔ 4,000 روپے ایک گاہک کے ذریعہ براہِ راست جمع کیے گئے۔
(جواب : پاس بک کے مطابق 8,600 روپے بیلنس)
4۔ 31 دسمبر، 2016 کو اتل کی کیش بک کے مطابق میں 40,000 روپے کا بینک بیلنس ہے۔ یہ پایا گیا کہ 2,000 روپے، 50,000 روپے اور 8,000 روپے کے تین چیک ماہ دسمبر میں جمع کیے گئے لیکن 2 جنوری، 2017 تک پاس بک میں کریڈٹ نہیں کیے گئے۔ 7,000 اور 8,000 روپے کے دو چیک 28 دسمبر کو جاری کیے گئے لیکن 3 جنوری، 2017 تک ادائیگی کے لیے نہیں پیش کیے گئے۔ اس کے علاوہ بینک نے 325 روپے سود کے کریڈٹ کیے اور 50 روپے بینک چارجز کے طور پر ڈیبٹ کیے لیکن کیش بک میں ان کا کوئی اندراج نہیں ہوا۔
31 دسمبر 2016 کو بینک گوشوارۂ تطبیق تیار کیجیے۔
(پاس بک کے مطابق بیلنس 40,275 روپے)
5۔ نمن کی پاس بک اور کیش بک کا موازنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ 31 مارچ 2017 کو کیش بک میں دکھایا گیا 40,960 روپے کا بینک بیلنس درج ذیل کے لحاظ سے بینک بیلنس سے مختلف ہے۔
(a)۔ 31 مارچ 2017 کو 100 روپے کے بینک چارجز کیش بک میں درج نہیں تھے۔
(b)۔ 21 مارچ 2017 کو دین دار نے اپنے کھاتے کی بے باقی کے لیے کمپنی کے بینک کھاتے میں 2,000 روپے ادا کیے لیکن اس کا کمپنی کی کیش بک میں کوئی اندراج نہیں کیا گیا۔
(c)۔ 12,980 روپے کے چیک کمپنی کے ذریعہ جاری کیے گئے اور 31 مارچ 2017 سے قبل کیش بک میں درج کیے گئے لیکن اس تاریخ کے بعد تک بھی بینک کے ذریعہ کریڈٹ نہیں کیے گئے۔
(d)۔ بینک سے 6,900 روپے کے بل پر 800 روپے ڈسکاؤنٹ ملا اور اس کا اندراج کیش بک میں کیا۔
(e)۔ 31 مارچ 2017 کو بینک میں بطور ادائیگی 3520 روپے کیش بک میں دکھائے گئے لیکن اگلے دن یہ روپے کریڈٹ نہیں ہوئے۔
(f)۔
کیش بک میں بھانو سے وصول کیا گیا 650 روپے کا چیک 15 مارچ، 2017 کو ناقابل ادائیگی قرار دیا گیا تھا لیکن اس کا کیش بک میں کوئی اندراج نہیں کیا گیا۔
31 مارچ، 2017 کو گوشوارۂ تطبیق تیار کیجیے۔
(جواب : پاس بک کے مطابق بیلنس 50,870 روپے)
6۔ 31 دسمبر 2017 کو بینک گوشوارۂ تطبیق تیار کیجیے۔ اس دن مسٹر ہمانشو کی پاس بک میں 7,000 روپے کا بیلنس ہے۔
(a)۔ ایک گاہک نے 1,000 روپے کے چیک براہ راست جمع کیے
(b)۔ بینک نے سود کے طور پر 700 روپے مسٹر ہمانشو کے نام کریڈٹ کیے۔
(c)۔ 3,000 روپے کے لیے ماہ دسمبر میں چیک جاری کیے گئے تھے لیکن ان چیکوں میں 1,000 روپے کے چیک ماہ دسمبر کے دوران نہیں پیش کیے گئے۔
(جواب: کیش بک کے مطابق 3,300 روپے کا بیلنس)
7۔ 31 دسمبر 2016 کو کیش بک کا بیلنس دکھاتے ہوئے، مندرجہ ذیل تفصیلات سے ایک بینک تطبیقی گوشوارہ تیار کیجیے۔
(a)۔ 2,000 اور 5,000 روپے کے دو چیک اکتوبر 2016 میں جمع کیے گئے تھے لیکن دسمبر ماہ تک بینک کے ذریعہ کریڈٹ نہیں کیے گئے۔
(b)۔ 800 روپے کا ایک چیک جو گاہک سے وصول کیا گیا تھا وہ دسمبر 2004 میں کیش بک کے بینک کالم میں اندراج کیا گیا لیکن دسمبر 2016 میں بینک میں جمع کرنے سے رہ گیا۔
(a)۔ جنوری 2016 میں بینک میں 10,000 روپے کے چیک جاری کیے گئے لیکن 31دسمبر، 2016 کو بینک کے ذریعہ کریڈٹ نہیں کیے گئے۔
(b)۔ سرمایہ کاری پر بینک کے ذریعہ 1,000 روپے سود حاصل کیا گیا جو کہ پاس بک میں درج ہوا۔
پاس بک کے مطابق بیلنس 50,000 روپے
(جواب: کیش بک کے مطابق بیلنس 47,800 روپے)
8۔ مسٹر کمار کی پاس بک کے مطابق بیلنس 3,000 روپے ہے۔
(a) چیک بینک میں جمع کیا گیا لیکن ابھی کلیر نہیں ہوا۔
رام کمار 1,000 روپے
کشور کمار 500 روپے
(b) بینک چارجز 300 روپے
(c) چیک جاری کیا گیا لیکن پیش نہیں کیا گیا
حمید 3,000 روپے
کپور 500 روپے
(d)۔ 100 روپے سود پاس بک میں درج ہوئے لیکن کیش بک میں اس کا اندراج نہیں ہوا
بینک گوشوارۂ تطبیق تیار کیجیے۔
(جواب: کیش بک کے مطابق بیلنس 2,200 روپے)
9۔ مسٹر موہت کے رواں کھاتے کی پاس بک میں 31 دسمبر 2016 کو 20,000 روپے کا کریڈٹ بیلنس دکھایا گیا ہے۔ بینک گوشوارۂ تطبیق درج ذیل معلومات کے ساتھ تیار کیجیے۔
(a)۔ 400 روپے کا ایک چیک جو اس کے بچت کھاتے سے کاٹا گیا تھا اسے رواں کھاتے میں دکھایا گیا۔
(b) اس نے 300 اور 500 روپے کے دو چیک 25 دسمبر کو جاری کیے لیکن صرف پہلا چیک ادائیگی کے لیے پیش کیاگیا۔
(c) موہت نے 500 روپے کاایک چیک 25 دسمبر کو جاری کیا گیا لیکن اسے ادائیگی کے لیے پیش نہیں کیا گیا جبکہ کیش بک میں دو بار درج کیا گیا۔
(جواب: کیش بک کے مطابق بیلنس 18,900 روپے)۔
کیش بک کا غیر موافق بیلنس
10۔ یکم جنوری 2017 کو راکیش کا 8,000 روپے کا اوورڈرافٹ تھا جیسا کہ اس کی کیش بک بتاتی ہے۔ 2,000 روپے کی رقم کے چیک اس کے ذریعہ جمع کیے گئے لیکن یکم جنوری 2017 کو بینک کے ذریعہ وصول نہیں کیے گئے تھے۔ اس نے 800 روپے کے چیک جاری کیے جو اُس دن تک ادائیگی کے لیے بینک میں پیش نہیں کیے گئے۔ 60 روپے سود اور بینک چارجز 100 روپے اس کی پاس بک میں ڈیبٹ تھے بینک گوشوارۂ تطبیق دونوں بیلنس کے موازنہ کے لیے تیار کیجیے۔
(جواب: پاس بک کے مطابق اوور ڈرافٹ 9,360 روپے)
11۔ بینک گوشوارۂ تطبیق تیار کیجیے:
(i)۔ 31 دسمبر 2017 کو کیش بک میں 10,000 روپے کا اوورڈرافٹ دکھایا گیا۔
(ii) درج بالا مدت کے لیے 100 روپے بینک چارجز بھی ڈیبٹ کیے گئے۔
(iii)۔ 31 دسمبر 2017 کے آخر میں چھ مہینے کے لیے اوورڈرافٹ پر سود 380 روپے پاس بک میں ڈیبٹ کیا گیا۔
(iv)۔ 2,150 رقم کے چیک جاری کیے گئے لیکن 31 دسمبر 2017 سے پہلے نہیں بھنائے گئے۔
(v) بینک کے ذریعہ وصول کیے گئے سرمایہ کاری پر سود600 روپے تھا جسے پاس بک میں کریڈٹ کیا گیا۔
(vi)۔ 1,100 روپے کے چیک بینک میں جمع کیے گئے لیکن 31 دسمبر 2017 سے پہلے کلیر نہیں کیے ہوئے۔
(جواب: پاس بک کے مطابق اوورڈرافٹ 8,830 روپے تھا)۔
12۔ کمار کو پتہ چلتا ہے کہ 31 دسمبر 2017 کو اس کی کیش بک کے ذریعہ دکھایا گیا بینک بیلنس 90,600 روپے (کریڈٹ) ہے لیکن پاس بک میں درج ذیل اسباب کی بنا پربیلنس مختلف تھا۔
1,000 روپے کا ایک چیک (بعد کی تاریخ کا) کیش بک کے بینک کالم میں ڈیبٹ کیا گیا ہے لیکن ادائیگی کے لیے نہیں پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ 8,000 روپے کا ایک چیک منوہر کے حق میں نکالا گیا ہے اسے بھی ادائیگی کے لیے نہیں پیش کیا گیا۔ 1,500 روپے کے چیک بینک میں جمع کیے گئے لیکن ابھی تک وصول نہیں کیے گئے اور 5,000 روپے کا ایک چیک ناقابل ادائیگی (Dishonoured) قرار دیاگیا۔
(جواب : 90,100 روپے پاس بک کے مطابق کا اوورڈرافٹ)۔
13۔ 31 دسمبر، 2017 کو متل برادرس کی کیش بک 6,920 روپے کا ایک اوورڈرافٹ دکھاتی ہے۔ درج ذیل تفصیلات سے بینک گوشوارۂ تطبیق تیار کریں اور پاس بک کے مطابق بیلنس کا پتہ لگائیں۔
(i) اوورڈرافٹ پر سود کی مد میں 200 روپے اور بلوں (ہنڈیوں) کو وصول کرنے کے چارجز کی مد میں 50 روپے بینک کے ذریعہ ڈیبٹ کیے گئے۔
(ii)۔ 4,000 کے چیک نکالے گئے لیکن 31 دسمبر 2017سے قبل بھنائے نہیں گئے۔
(iii) بینک نے سود وصول کیا اور 600 روپے پاس بک میں کریڈٹ کیے۔
(iv) بینک میں 700 روپے کے ایک قابل وصول بل کو پہلے کٹوتی کی گئی اور پھر ناقابل ادائیگی قرار دے کر اس کو ڈیبٹ کیا گیا۔
(v) بینک میں 6,000 روپے کے چیک ادا کیے گئے لیکن وصول نہیں کیے گئے اور 31 دسمبر 2017 سے قبل کریڈٹ کیے گئے۔
(جواب : پاس بک کے مطابق 9,270 روپے کا اوورڈرافٹ)
پاس بک کا غیر موافق بیلنس
14۔ 31 دسمبر 2017 کو شری بھنڈاری کا بینک گوشوارۂ تطبیق تیار کریں:
(i)۔ 550 روپے چیک کی ادائیگی پاس بک میں دوبار درج کی گئی۔
(ii) پاس بک کے رقم نکالنے کے کالم (Withdrawal Column) میں 200 روپے کی ادائیگی کم دکھائی گئی۔
(iii) بینک کالم میں 200 روپے کا چیک ڈیبٹ کیا گیا لیکن بینک میں بھیجا ہی نہیں گیا۔
(iv) پاس بک کے بینک کالم میں 300 روپے کا چیک ڈیبٹ کیا گیا تھا جبکہ اسے بینک نہیں بھیجا گیا تھا۔
(v) ناقابل ادائیگی چیک کے 500 روپے پاس بک میں درج کیے گئے لیکن کیش بک میں نہیں۔
پاس بک کے مطابق 20,000روپے کا اوور ڈرافٹ
(کیش بک کے مطابق اوورڈرافٹ 21,350 روپے)
15۔ مسٹر مرلی کی پاس بک میں دکھایا گیا اوورڈرافٹ 20,000 روپے ہے۔ مورخہ 31 مارچ2017 کو بینک گوشوارۂ تطبیق تیار کیجیے۔
(i) پاس بک کے مطابق 500 روپے بینک چارجز ڈیبٹ کیے گئے۔
(ii) کیش بک میں 2,500 روپے کے چیک درج کیے گئے لیکن وصولی کے لیے بینک نہیں بھیجے گئے۔
(iii)۔ 4,600 روپے ادائیگی کے لیے گاہک سے سیدھے وصول کیے گئے۔
(iv)۔ 6,980 روپے کا چیک جاری کیا گیا لیکن پیش نہیں کیا گیا۔
(v)۔ 100 روپے سود بینک کے ذریعہ کریڈٹ کیا گیا ۔
(vi)۔ 2,500 روپے بینک کے ذریعہ LIC کو ادا کیے گئے۔
(vii) بینک میں چیک جمع کیے گئے لیکن 3.500 روپے وصول نہیں کیے گئے ۔
(جواب : 22,680 روپے کیش بک کے مطابق اوورڈرافٹ)
16۔ راگھو اینڈ کمپنی کے دو بینک کھاتے اکاؤنٹ I اور اکاؤنٹ II ہیں۔ اکاؤنٹ نمبر I سے متعلق درج ذیل تفصیلات سے فرم کی کیش بک کے مطابق 31 مارچ 2017 کو اس کھاتے میں بیلنس کا پتہ کیجیے ۔
(i)۔ 31 مارچ 2017 سے پہلے بینک میں 10,000 روپے کے چیک ادا کیے گئے لیکن کریڈٹ نہیں کیے گئے۔
(ii) اکاؤنٹ نمبر II سے اکاؤنٹ نمبر I کو 8,000 روپے کے فنڈ کی منتقلی کی گئی جسے بینک میں 31 مارچ 2017 کو درج کیا گیا لیکن کیش بک میں اندراج اس تاریخ کے بعد کیا گیا۔
(iii)۔ 7,429 کے چیک 31 مارچ 2017 سے پہلے جاری کیے گئے لیکن اس تاریخ کے بعد تک نہیں پیش کیے گئے۔
(iv) بینک نے 200 روپے بینک چارجز ڈیبٹ کیے لیکن کیش بک میں درج نہیں کیے گئے۔
(v) بینک کے ذریعہ 580 روپے کا سود ڈیبٹ کیا گیا لیکن کیش بک میں درج نہیں کیا گیا۔
(vi) پاس بک کے مطابق اوورڈرافٹ 18,990 روپے
(جواب : کیش بک کے مطابق اوورڈرافٹ 23,639 روپے)
17۔ درج ذیل تفصیلات سے بینک گوشوارۂ تطبیق تیار کیجیے اور کیش بک کے مطابق بیلنس دکھائیے۔
(i)۔ 31 مارچ 2017 کو پاس بک کے مطابق 20,000 روپے بیلنس سے زائد نکالے گئے۔
(ii)۔ 2,000 روپے بینک کے اوورڈرافٹ پر سود لگایا گیا۔
(iii) بینک کے ذریعہ 200 روپے بیمہ قسط کی اداکی گئی لیکن کیش بک میں درج نہیں کی گئی۔
(iv) مارچ2017 کے آخری ہفتے میں 3,000 اور 3,500 روپے کے چیک نکالے گئے لیکن ابھی تک کلیر نہیں ہوئے۔
(v) فروری 2017 کو بینک میں 6,000 روپے کے چیک جمع کیے گئے لیکن 31 مارچ 2017 کو اب بھی کلیر ہونا باقی ہیں۔
(vi) 500 روپے بینک کے ذریعہ غلط طور پر ڈیبٹ کیے گئے۔
(جواب : کیش بک کے مطابق اوورڈرافٹ 17,800 روپے)
18۔ مسٹر رندھیر کی پاس بک میں 31 مارچ 2017 کو 40,950 کا اوورڈرافٹ دکھایا گیا۔
31 مارچ 2017 کو بینک گوشوارۂ تطبیق تیار کیجیے۔
(i)۔ 27 مارچ کو مسٹر رندھیر کے ذریعے کاٹے گئے 8,000 روپے کے چیکوں میں سے 3,000 روپے کا ایک چیک 3 اپریل2017 کو بھنایا گیا۔
(ii) بینک کے ذریعہ 3,800 روپے ان کے ذریعہ وصول کیے گئے۔ سود کے لیے کریڈٹ کیا گیا لیکن رقم کیش بک میں نہیں درج کی گئی۔
(iii)۔ 31 مارچ کو مسٹر رندھیر کو 10,900 روپے نقد اور 3,800 روپے کی رقم کے ادا کیے گئے لیکن انہیں 7 اپریل کو وصول کیا گیا۔
(iv)۔ 28 مارچ کو پاس بک میں 780 روپے کا چیک کریڈٹ کیا گیا لیکن ادائیگی نہ ہونے (Dishonour) کے سبب یکم اپریل 2017 کو پاس بک میں پھر ڈیبٹ کیا گیا۔ 15 اپریل تک چیک کے نکارے جانے کے بارے میں کیش بک میں کوئی اندراج نہیں تھا۔
(جواب : کیش بک کے مطابق اوورڈرافٹ 43,170 روپے)
’اپنی فہم کو جانچنے کے لیے جانچ فہرست‘
اپنی فہم کی جانچ کیجیے۔I
1۔ 1۔تفاوت وقت 2۔غلطی 3۔تفاوت وقت
4۔تفاوت وقت 5۔تفاوت وقت
2۔
(i) گاہک کھاتہ (ii) ڈیبٹ (iii) کریڈٹ
(iv) ڈیبٹ (v) جمع کیا گیا (vi) گھٹایا
(vii) نقصان (viii) نقصان (ix) جمع کیا گیا
(x) اونچا
اپنی فہم کی جانچ کیجیے ۔II
1۔ (b)
2۔(c)
3.(a)
4.(a)
5.(c)
6.(b)
اپنی فہم کی جانچ کیجیے۔ III
1۔ (T)
2۔(T)
3.(F)
4.(T)
5.(F)
6.(T)
7.(T)
8.(T)
9.(F)