Skip to content
Keemiyan II




6

ٹرائل بیلنس اور غلطیوں کی تصحیح

(Trial Balance and Rectification of Errors)

سیکھنے کے مقاصد 

اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ اس قابل ہوں گے کہ
  • ٹرائل بیلنس کا مفہوم بیان کرسکیں۔
  • ٹرائل بیلنس تیار کرنے کے مقاصد کا تعین کرسکیں۔
  • غلطیوں کی اقسام کی وضاحت کرسکیں۔
  • غلطیوں کی نشاندہی کے مختلف طریقوں کو بیان کرسکیں۔
  • ان غلطیوں کی شناخت کرسکیں جو ٹرائل بیلنس کی مطابقت پر اثر انداز ہوتی ہیں اور وہ جو ٹرائل بیلنس کی مطابقت پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔
  • معلق کھاتہ (Suspense Account) تیار کیے بغیر غلطیوں کی درستی کرسکیں ۔
  • معلق کھاتہ کے ذریعے غلطیوں کی درستی کرسکیں۔


  • پچھلے ابواب میں آپ نے کھاتہ داری کے بنیادی اصولوں کے حوالے سے سیکھا کہ ہر ڈیبٹس کے لیے اسی کے برابر کریڈٹس ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تمام ڈیبٹس کا جوڑ تمام کریڈٹس کے برابر ہے تو یہ مان لیا جائے گا کہ لیجر میں کریڈٹ اور ڈیبٹ کی گئی رقوم کی پوسٹنگ درست ہے۔ ٹرائل بیلنس ڈیبٹ اور کریڈٹ رقموں کی درستی کی تصدیق کا آلہ ہے۔ دہرے اندراجی نظام میں یہ ایک حسابی جانچ ہے۔ جس سے اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ ہر لین دین کے دونوں پہلوؤں کا صحیح طریقے پر اندراج کیا گیا ہے۔ اس باب میں ٹرائل بیلنس کے اور اس کے تیار کرنے کے طریقے نیز مختلف قسم کی غلطیوں اور ان کی درستگی سے متعلق وضاحت کی گئی ہے۔ 

    6.1 ٹرائل بیلنس کا مفہوم (Meaning of Trial Balance)

    ایک گوشوارہ ہے جس میں بہی کھاتے میں چڑھائے گئے تمام کھاتوں کے بقایا یا بالفظ دیگر ڈیبٹ اور کریڈٹ کے کل میزان کو ظاہر کیا جاتا ہے۔ جس کا مقصد بہی کھاتوں میں چڑھائے جانے کی حسابی درستگی کی جانچ کرنا ہے۔ کھاتہ داری کے مرحلے میں ٹرائل بیلنس ایک اہم گوشوارہ ہے۔ جو تمام کھاتوں کی اختتامی حالت کو ظاہر کرتا ہے۔ اور اس سے اختتامی گوشواروں (Final Statements) کے تیار کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اختتامی گوشواروں کی تیاری کا کام آسان ہو جاتا ہے کیونکہ کھاتہ نویس (Accountant) کھاتوں کے بقایاجات بہی کھاتے میں تلاش کرنے کے بجائے ٹرائل بیلنس سے حاصل کرسکتا ہے۔ 

    31 مارچ 2014 کا ٹرائل بیلنس 

    کریڈٹ رقم روپے ڈیبٹ رقم روپے L.F. کھاتہ کا نام
    کل میزان
    شکل 6.1 : ٹرائل بیلنس کا خاکہ 

    ٹرائل بیلنس عام طور پر کھاتہ داری سال (Accounting Year) کے اختتام پر تیار کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود کوئی ادارہ ٹرائل بیلنس کو حسب ضرورت کسی بھی مدت کے اختتام پر تیار کرسکتا ہے۔ یہ مدت ضرورت کے مطابق ماہانہ، سہ ماہی، شش ماہی یا سالانہ بھی ہوسکتی ہے۔ 
    ٹرائل بیلنس تیار کرتے وقت مندرجہ ذیل اقدام کیے جاتے ہیں:
    • کھاتہ بہی میں ہر کھاتہ کے بقایاجات کا حساب نکالنا ۔
    • ہر کھاتہ کی فہرست بنانا اور ڈیبٹ یا کریڈٹ جو بھی صورت ہو متعلقہ خانے (Column) میں اس کا بقایا رکھنا (اگر کسی کھاتہ کا بقایا صفر (Zero) ہو تو اس کھاتے کو ٹرائل بیلنس میں شامل کیا جاسکتا ہے اور اس صورت میں اس کے بیلنس کے کالم میں صفر لکھا جائے گا۔)
    • ڈیبٹ بقایاجات کے خانے کا کل میزان نکالنا۔
    • کریڈٹ بقایاجات کے خانے کا کل میزان نکالنا۔
    • اس بات کی تصدیق کرنا کہ ڈیبٹ بقایاجات کا جوڑ کریڈٹ بقایاجات کے جوڑ کے برابر ہے۔ اگر وہ دونوں برابرنہ ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ کہیں کوئی غلطی ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ تمام اثاثہ جات، اخراجات (Assets Expenses) اور قابل وصول کھاتوں (Receivables Accounts) کا بقایا ڈیبٹ ہوتا ہے۔ جبکہ تمام تر واجبات (Liabilities)، محاصل (Revenues) اور قابل ادا کھاتوں (Payable Accounts) کا بقایا کریڈٹ ہوتا ہے( دیکھئے شکل 6.2)۔

    6.2 ٹرائل بیلنس تیار کرنے کے مقاصد (Objectives of Preparing the Trial Balance)

    ٹرائل بیلنس مندرجہ ذیل مقاصد کے حصول کے لیے تیار کیا جاتا ہے:
    1. بہی کھاتوں کی حسابی درستی کو یقینی بنانا۔
    2. اس سے غلطیوں کی نشاندہی میں مدد ملتی ہے۔
    3. مالیاتی گوشواروں (Financial Statement) کی تیاری میں مدد۔
    کھاتہ کا نام  L.F. ڈیبٹ رقم روپے  کریڈٹ رقم روپے
    •سرمایہ
    • لینڈ اور بلڈنگ
     • پلانٹ اور مشینری
     •اکویپمینٹ
    •فرنیچر اور فکسچر
    •کیش ان ہینڈ
    •بینک میں جمع نقد
    •ڈیبٹرس 
    •قابل وصول بل
    •کچے مال کا اسٹاک
    •تیار شدہ مال کا اسٹاک
    •خریداریاں
    کیریج ان وارڈز
    کیریج آئوٹ وارڈز
    بکری
    بکری واپسی
    خریداریاں واپسی
    سود ادا کیا
    کیش/رعایت ملی
    تنخواہ 
    لونگ ٹرم لون
    واجب الادابل 
    کریڈیٹرس 
    ایڈوانس جو گراہکوں سے ملے
    •    ڈرائنگس 

     ✓


    ✓'












    ✓'






















    کل میزان xxx xxx
    کل میزان xxx xxx


    شکل 6.2 : ٹرائل بیلنس کا نمونہ

    6.2.1  بہی کھاتوں کی حسابی درستی کا تیقن(To Ascertain the Arithmetical Accuracy of Ledger Accounts)

    جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ٹرائل بیلنس کے تیار کرنے کا مقصد یہ پتہ لگانا ہے کہ کھاتہ بہی میں تمام ڈیبٹ اور کریڈٹ کا باقاعدہ اندراج کیا گیا یا نہیں نیز یہ کہ تمام کھاتوں کے بقایاجات صحیح طور پر نکالے گئے یا نہیں۔ جب ٹرائل بیلنس میں تمام ڈیبٹ بقایاجات اور کریڈٹ بقایاجات کا کل میزان برابر ہوتا ہے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ کھاتوں کی پوسٹنگ (Posting) اور ان کے بقایاجات حسابی طور پر درست ہیں لیکن اس کے باوجود بھی ٹرائل بیلنس کے دونوں خانوں کا برابر ہونا جامع و مانع طور پر کھاتوں کی درستی کا ثبوت نہیں ہوتا البتہ اس بات کا یقین ہو جاتا ہے کہ تمام ڈیبٹس اور اس کے مطابق کریڈٹ کو کھاتہ بہی میں صحیح طور پر ریکارڈ کر لیا گیا ہے۔ 
    6.2.2  غلطیوں کی نشاندہی میں مدد (To Help in Locating Errors)
    جب ٹرائل بیلنس میں مطابقت نہیں ہوتی (یعنی ڈیبٹ اور کریڈٹ خانوں کا کل میزان برابر نہیں ہے) تو ہم جانتے ہیں کہ کم از کم ایک غلطی تو ضرور ہوئی ہے۔ کھاتہ داری عمل کے کسی نہ کسی مرحلے میں ایک یا ایک سے زیادہ غلطیاں ضروری واقع ہوئی ہیں۔ (1) کھاتہ نویسی کی معاون کتابوں کے کل میزان میں (2) کھاتہ بہی میں جرنل اندراجات کے چڑھانے میں (3) کھاتوں کے بقایاجات نکالنے ہیں (4) ٹرائل بیلنس میں کھاتوں کے بقایاجات چڑھانے میں (5) ٹرائل بیلنس کے خانوں کے کل میزان میں۔ 
    یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ڈیبٹ اور کریڈٹ کے ٹوٹل برابر ہونے کے باوجود کھاتہ داری کے درست ہونے کی یقین دہانی نہیں کی جاسکتی۔ کیونکہ کچھ غلطیاں ڈیبٹس اور کریڈٹس کی برابری پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔ مثال کے طور پر کھاتہ نویس، جرنل میں اندراج کرتے وقت یا کھاتہ بہی میں جرنل اندراج (Journal Entry) کو پوسٹ کرتے وقت صحیح رقم کو غلط کھاتے میں ڈیبٹ کرسکتا ہے۔ یہ غلطی غلط رقم کے برابر ڈیبٹ اور کریڈٹ رکھنے کے سبب دو کھاتوں کو متاثر کرے گی لیکن اس کے باوجود ٹرائل بیلنس میں مطابقت ہوگی۔ اس غلطی سے دو کھاتوں میں غلط بقایاجات ظاہر ہوں گے لیکن ڈیبٹس اور کریڈٹس کی برابری میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ حقیقت یہ ہے ٹرائل بیلنس کے مطابق ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اصل اندراجاتی کتابوں (جرنل، کیش بک وغیرہ) میں تمام اندراجات کو صحیح طور پر ریکارڈ کیا گیا ہے اور صحیح Post کیا گیا ہے۔ بہرحال، میزان کی برابری سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف قسم کی شدید اغلاط واقع نہیں ہوئی ہیں۔ 

    6.2.3   مالیاتی گوشواروں کے تیار کرنے میں مدد 

    (To Help in the Preparation of the Financial Statements)

    ٹرائل بیلنس کو کھاتہ داری ریکارڈس اور مالیاتی گوشواروں کے تیار کرنے کے درمیان ایک مربوط کڑی خیال کیا جاتا ہے۔ مالیاتی گوشوارہ تیار کرنے کے لیے بہی کھاتے کے حوالے کی ضرورت نہیں رہتی۔ واقعتا ایک مطابق ٹرائل بیلنس کا تیار ہو جانا مالیاتی گوشواروں کی تیاری میں پہلا قدم ہے۔ تمام محاصل اور اخراجاتی کھاتے (Revenue & Expense Accounts) جو ٹرائل بیلنس میں دکھائے جاتے ہیں انہیں تجارتی نفع ونقصان کھاتہ (Trading and Profit and Loss Account) میں اور تمام ذمہ واجبات (Liabilities) اصل سرمایہ اور اثاثہ کھاتے بیلنس شیٹ میں منتقل کر دیے جاتے ہیں۔ 
    (مالیاتی گوشواروں کی تیاری کو باب 9 اور 10 میں بیان کیا گیا ہے) 

    6.3  ٹرائل بیلنس کی تیاری (Preparation of Trial Balance)

    ٹرائل بیلنس کو مندرجہ ذیل تین طرح سے تیار کیا جاسکتا ہے:
    (i) میزانی طریقہ (Total Method)
    (ii) بقایا جاتی طریقہ(Balances Method)
    (iii) میزانی و بقایا جاتی طریقہ (Total-cum-balances Method)

    6.3.1  میزانی طریقہ (Total Method)

    اس طریقے کے تحت لیجر کے ہر طرف کے میزان ڈیبٹ اور کریڈٹ کو علیحدہ علیحدہ نکالا جاتا ہے اور متعلقہ خانوں میں ٹرائل بیلنس میں دکھایا جاتا ہے۔ ٹرائل بیلنس کے ڈیبٹ خانے کا میزان ٹرائل بیلنس کے کریڈٹ خانے کے برابر ہو ہونا چاہیے کیونکہ کھاتوں کی بنیاد دہرے اندراج کے نظام پر ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ طریقہ عملی طور پر زیادہ رائج نہیں ہے کیونکہ اس کو مختلف کھاتوں کے بقایاجات کی درستی اور مالیاتی گوشواروں کی تیاری میں مدد گار نہیں خیال کیا جاتا۔ 

    6.3.2  بقایا جاتی طریقہ (Balancing Method)

    عملی طور پر یہ طریقہ سب سے زیادہ وسیع طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کے تحت ٹرائل بیلنس کو تمام کھاتوں کے بقایا جات کو دکھایا جاتا ہے اور پھر ٹرائل بیلنس کے ڈیبٹ اور کریڈٹ خانوں کا میزان کیا جاتا ہے تاکہ ان کی درستی کا یقین ہوسکے۔ کھاتوں کے بقایا جات کو استعمال میں لایا جاتا ہے کیونکہ بقایا کسی کھاتے سے متعلق تمام لین دین کے خالص اثر کا خلاصہ پیش کرتا ہے نیز اس کے مالیاتی گوشواروں کی تیاری میں بھی مدد ملتی ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ٹرائل بیلنس میں عام طور پر قرض داروں کے انفرادی کھاتوں میں بقایا جات کی جگہ متفرق قرض داروں (Sundry Debtors) کی رقم دکھائی جاتی ہے۔ اور قرض خواہوں کے انفرادی کھاتوں کی جگہ متفرق قرض خواہوں کی رقم دکھائی جاتی ہے۔ 

    6.3.3  میزانی و بقایا جاتی طریقہ (Totals-cum-balance Method)

    یہ طریقہ میزانی طریقے اور بقایا جاتی طریقے کا مجموعہ ہے۔ اس طریقے کے تحت رقم کے چارخانے (Columns) تیار کیے جاتے ہیں۔ دو خانے مختلف کھاتوں کے ڈیبٹ اور کریڈٹ کا میزان لکھنے کے لیے اور دو خانے ان کھاتوں کے ڈیبٹ اور کریڈٹ کے بقایاجات لکھنے کے لیے۔ بہر حال یہ طریقہ بھی عملی طور پر رائج نہیں ہے۔ کیونکہ اس میں وقت زیادہ صرف ہوتا ہے اور اس سے کوئی اضافی یا خصوصی مقصد بمشکل ہی حاصل ہوتا ہے۔ 
    اب ہمیں یہ جاننا ہے کہ ان تینوں طریقوں کو استعمال کرکے مندرجہ ذیل مثالوں کی مدد سے ٹرائل بیلنس کو کس طرح تیار کیا جائے۔ 
    جناب راوت کا لیجر ان کے کار وبار کے مندرجہ ذیل کھاتوں کو دکھاتا ہے۔ ٹرائل بیلنس تیار کرنے میں ان کی مدد کیجیے۔ (i) میزانی طریقہ استعمال کرکے (ii) بقایا جاتی طریقہ استعمال کرکے (iii) میزانی بقایا جاتی طریقہ استعمال کرکے۔ 

    راوت کا اصل سرمایہ کھاتہ 

    .Dr.                                                                                                                                                                     Cr
    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    40,000
    20,000
    60,000
    60,000
    b/dبیلنس
    نقد

    b/dبیلنس
    2014
    Jan.01
    2015
    Jan.01
    60,000
    60,000
    b/dبیلنس 2014
    Dec.31
    روہن کا کھاتہ 
    .Dr.                                                                                                                                                                     Cr
    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    10,000
    50,000
    60,000
    20,000
    بیلنسb/d
    خریداری


    بیلنسb/d

    2014
    01 جنوری

    2015
    1 جنوری
    40,000
    20,000

    60,000
    نقد


    بیلنسb/d
    2014
    31 دسمبر
    مشینری کھاتہ 
    .Dr.                                                                                                                                                                     Cr
    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    3,000
    17,000

    20,000
    فرسودگی
    بیلنسb/d
    2014

    31 دسمبر
    20،000
    20،000

    17،000
    بیلنسb/d

    بیلنسb/d
    2014
    31 دسمبر 

    2015
    01 جنوری
    راہل کا کھاتہ
    .Dr.                                                                                                                                                                     Cr
    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    55،000
    20،000
    75،000
    نقد


    بیلنسb/d
    2014

    31 دسمبر
    15،000
    60،000
    75،000
    20،000
    بیلنسb/d
    بکری

    بیلنسb/d
    2014
    01 جنوری

    2015
    01 جنوری
    بکری کھاتہ
    .Dr.                                                                                                                                                                     Cr
    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    60،000
    10،000
    70،000
    راہل
    نقد
    2014
    نقد کھاتہ
    .Dr.                                                                                                                                                                     Cr
    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    40،000
    5،000
    12،000
    43،000
    1،00،000
    روہن
    مزدوری
    خریداری
    بیلنسb/d
    2014


    31 دسمبر 
    15،000
    20،000
    55،000
    10،000

    1،00،000
    43،000
    بیلنسb/d

    سرمایہ
    راہل
    بکری

    بیلنسb/d
    2014
    01 جنوری 


    2015
    01 جنوری
    مزدوری کھاتہ
    .Dr.                                                                                                                                                                     Cr
    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    5،000
    5،000
    نقد 2014
    فرسودگی کھاتہ (Depreciation Account)
    .Dr.                                                                                                                                                                     Cr
    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    3،000
    3،000
    مشینری 2014
    مال خریداری کھاتہ
    .Dr.                                                                                                                                                                     Cr
    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    50،000
    12،000
    62،000
    روہن 
    نقد
    2014
    تین طریقوں کے تحت ٹرائل بیلنس مندرجہ ذیل دیا گیا ہے۔ 
    (i) ۔ 31 مارچ 2014کا ٹرائل بیلنس
    (Using Totals Method)

    کریڈٹ میزان روپے ڈیبٹ میزان روپے L.F. اکاؤنٹ ٹائٹل
    60,000
    60,000
    3,000
    55,000
    70,000
    57,000
    40,000
    20,000
    75,000
    1,00,000
    5,000
    3,000
    62,000
    راوت کا اصل سرمایہ
    روہن
    مشینری
    راہل
    بکری
    نقد
    مزدوری
    فرسودگی
    خریداریاں
    3,05,000 3,05,000
    (ii) ۔31 مارچ 2014کا ٹرائل بیلنس
    (Using Balances Method)
    کریڈٹ میزان روپے ڈیبٹ میزان روپے L.F. اکاؤنٹ ٹائٹل
    60,000
    20,000


    70,000

    17,000
    20,000


    43,000
    5،000
    3,000
    62,000
    راوت کا سرمایہ
    روہن کا سرمایہ
    مشینری
    راہل
    بکری
    نقد
    مزدوری
    فرسودگی
    مال خریداری
    1،50،000 1،50،000
    کل میزان

    (iii) ۔31 مارچ 2014 کا ٹرائل بیلنس 
    (Using Totals-cum-Balances Method)

    کریڈٹ بیلنس روپے ڈیبٹ بیلنس روپے کریڈٹ کل روپے ڈیبٹ کل روپے L.F. اکاؤنٹ ٹائٹل
    60,000
    20,000


    70,000
    17,000
    20,000
    43,000
    5،000
    3,000
    62,000
    60،000
    60،000
    3،000
    55،000
    70،000
    57،000
    40،000
    20،000
    75،000
    1،00،000
    5،000
    3،000
    62،000
    راوت کا  سرمایہ
    روہن
    مشینری
    راہل
    بکری
    نقد
    مزدوری
    فرسودگی
    مال خریداری
    1،50،000 1،50،000 3،05،000 3،05،000 کل میزان

    اپنی فہم کی جانچ کیجیے-I

    ہر رقم کے بالمقابل نشاندہی کیجیے کہ وہ ڈیبٹ بیلنس ہے یا کریڈٹ بیلنس اور مندرجہ ذیل بقایا جات کی بنیاد پر 31 مارچ 2014 کا ٹرائل بیلنس تیار کیجیے۔ 
    اکاؤنٹس ٹائٹل رقم
    روپے
    سرمایہ 1,00,000
    ڈرائنگ 16,000
    مشینری 20,000
    بکری 2,00,000
    خریداری 2,10,000
    مال واپسی 20,000
    خریداری واپسی 30,000
    مزدوری 40,000
    گڈول 60,000
    سود وصول ہوا 15,000
    رعایت دی گئی 6,000
    بینک اور ڈرافٹ 22,000
    بینک لون 90,000
    ڈیبٹرس:
    نتھو 55,000
    روپا 20,000
    کریڈیٹرس:
    رینا 35,000
    گنیش 25,000
    نقد 54,000
    1، اپریل 2014 کو اسٹاک 16,000

    6.4  ٹرائل بیلنس کی مطابقت کی اہمیت 

      (Significance of Agreement of Trial Balance)

    ایک کھاتہ نویس کے لیے ضروری ہے کہ ٹرائل بیلنس کو مطابق ہونا چاہیے۔ عام طور پر ہر ایک مطابق ٹرائل بیلنس کا مطلب ہے کہ ہر لین دین کے لیے ڈیبٹ اور کریڈٹ اندراجات کو ٹھیک طور پر کیا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود، جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے ٹرائل بیلنس کی مطابقت کھاتہ داری ریکارڈ کی درستی کا قطعی ثبوت نہیں ہے۔ ایک مطابق ٹرائل بیلنس صرف کسی حد تک یہ ثابت کرتا ہے کہ کھاتہ بہی میں پوسٹنگ حسابی طور پر صحیح ہے۔ لیکن یہ اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ اندراج بذاتِ خود صحیح ہے۔ کچھ اغلاط تو ایسی ہوتی ہیں جو کریڈٹ اور ڈیبٹ کی برابری پر اثر انداز ہوتی ہیں اور کچھ اغلاط ایسی ہوتی ہیں جو کریڈٹ اور ڈیبٹ کی برابری (Equality) پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔ کچھ عمومی اغلاط درج ذیل ہیں:
    • ٹرائل بیلنس میں ڈیبٹ اور کریڈٹ بقایا جات کے میزان میں غلطی۔
    • کھاتہ داری کی معاون کتابوں (Subsidiary Books) کے میزان میں غلطی۔
    • کھاتہ داری کی معاون کتابوں کی پوسٹنگ میں غلطی۔
    • کھاتے کے بقایاجات کو ٹرائل بیلنس کے غلط کالم میں دکھانے کی غلطی یا غلط رقم دکھانے کی غلطی۔
    • ٹرائل بیلنس میں کسی کھاتہ کا بقایا دکھانے کی فروگذاشت۔
    • لیجر کھاتہ کے بیلنس کی تحسیب میں غلطی
    • جرنل اندراج کی پوسٹنگ میں غلطی جرنل اندراج کو ٹھیک طور پر لیجر میں پوسٹ نہ کیا گیا ہو۔ یعنی یا تو غلط رقم سے یا کھاتے کی غلط سمت میں یا غلط کھاتے میں پوسٹنگ کر دی گئی ہو۔
    • جرنل میں لین دین کے ریکارڈ کرنے میں غلطی: الٹا اندراج کرنا یعنی ڈیبٹ کیے جانے والا کھاتہ کریڈٹ کر دیا گیا ہو اور کریڈٹ کی جانے والی رقم کو ڈیبٹ کر دیا گیا ہو یا غلط رقم اندراج کر دیا گیا ہو۔
    • کھاتہ داری کی معاون کتاب کے اندر کسی لین دین کے ریکارڈ کرنے میں غلط نام یا غلط رقم چڑھادینے کی غلطی۔

    6.4.1  غلطیوں کی زمرہ بندی (Classifications of Errors) 

    غلطیوں کی نوعیت کے پیش نظر، تمام اغلاط کو مندرجہ ذیل زمروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
    • اختیاری غلطیاں (Errors of Commission)
    • بھول چوک/فروگذاشت کی غلطیاں (Errors of Omission)
    • اصولی غلطیاں (Errors of Principle)
    • تلافی کن غلطیاں (Compensating Errors)

    6.4.2   اختیاری غلطیاں (Errors of Commission) 

    یہ وہ غلطیاں ہیں جو لین دین کی غلط پوسٹنگ کرنے، کھاتوں کے غلط میزان کرنے یا غلط بقایا نکالنے، کھاتے داری کی معاون کتابوں میں غلط حساب لگانے (Casting) یا ابتدائی اندراج کی کتابوں میں غلط رقم کے ریکارڈ کرنے وغیرہ کے سبب سرزد ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر راج ہنس ٹریڈرز نے پریت پال ٹریڈرز (اشیا کا سپلائر) کو 25,000 روپے ادا کیے۔ اس لین دین کا اندراج کیش بک/نقدی کتاب میں صحیح کیا گیا لیکن لیجر میں پوسٹنگ کرتے وقت پریت پال کا کھاتہ صرف 25,000 روپے سے ڈیبٹ (Debit) کیا گیا۔ یہ ایک بنیادی غلطی ہوئی۔ اس قسم کی غلطی تعریفی طور پر محررانہ (Clerical) نوعیت کی ہے اور بیشتر اختیاری غلطیاں ٹرائل بیلنس پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ 
    6.4.3  بھول چوک یا فروگذاشت کی غلطیاں (Errors of Omission)
    بھول چوک کی غلطیاں کھاتہ داری کی ابتدائی اندراج کی کتابوں میں لین دین کے ریکارڈ کرتے وقت سرزد ہوتی ہیں۔ یہ دو قسم کی ہوسکتی ہیں: 
    (i) مکمل بھول چوک کی غلطی
    (ii) جزوی بھول چوک کی غلطی
    جب کوئی لین دین (Transaction) اصل ریکارڈ میں ریکارڈ ہونے سے پورا کا پورا چھوٹ جاتا ہے  تو اسے مکمل بھول چوک کی غلطی کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر موہن کو 10,000 روپے کی ادھار فروخت کو فروخت کی کتاب میں درج نہیں کیا گیا۔ جب لین دین کا ریکارڈ کتابوں سے جزوی طور پر چھوٹ جائے تو اسے جزوی فروگذاشت کی غلطی کہا جاتا ہے۔ اگر مذکورہ مثال میں ادھار فروخت کو فروخت کی کتاب میں تو ٹھیک طور پر ریکارڈ کر لیا گیا لیکن فروخت کی کتاب سے موہن کے کھاتے میں اس کی پوسٹنگ نہیں کی گئی تو یہ ایک جزوی بھول چوک کی غلطی ہوگی۔ 

    6.4.4   اصولی غلطیاں (Errors of Principle) 

    کھاتہ داری کے اندراجات (Accounting Entries) کھاتہ داری کے عمومی تسلیم شدہ اصولوں کے مطابق ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔ اگر ان اصولوں میں کسی اصول کی خلاف ورزی ہوتی ہے یا نظر انداز کیا جاتا ہے تو اس قسم کی غلطیوں کو اصولی غلطی کہا جاتا ہے۔ ایک اصولی غلطی خرچ (Expenditure) یا وصولیابی کی غلط تقسیم کے سبب رونما ہوتی ہے۔ یہ بہت اہم ہے کیونکہ مالیاتی گوشواروں پر اس کا اثر پڑے گا۔ یہ غلطی آمدنی یا اثاثوں یا ذمہ داریوں وغیرہ کے گھٹا کر یا بڑھا کر بیان کرنے پر منتج ہو سکتی ہے مثلاً تعمیرات پر اضافی طور پر خرچ کی گئی رقم کو سرمایہ جاتی خرچ خیال کیا جانا چاہیے۔ اور اسے اثاثہ کھاتے سے ڈیبٹ کیا جانا چاہیے۔ لیکن اس کے بجائے اگر اس رقم کو مرمت کھاتہ میں ڈیبٹ کردیا جائے تو اسے گویا محاصل خرچ (Revenue Expense) خیال کیا گیا ہے۔ یہ ایک اصولی غلطی ہے۔ اسی طرح مشینری کی ادھار خرید کو اگر بجائے اصل جرنل (Journal Proper) خریداری کی کتاب (Purchases Book) میں ریکارڈ کر دیا جائے یا مالک جائیداد کو ادا کیا گیا کرایہ نقدی کتاب (Cash Book) میں مالک جائیداد کو ادائیگی کے طور پر ریکارڈ کر لیا جائے تو یہ اصولی غلطیاں شمار ہوں گی۔ ان غلطیوں سے ٹرائل بیلنس متاثر نہیں ہوتا۔ 

    6.4.5   تلافی کن غلطیاں (Compensating Errors) 

    جب دو یا دو سے زیادہ غلطیاں اس انداز سے ہوئیں کہ ان غلطیوں کا خالص اثر ڈیبٹ اور کریڈٹ کھاتوں پر کچھ نہ ہو، تو ایسی غلطیاں تلافی کن غلطیاں کہلاتی ہیں۔ یہ غلطیاں ٹرائل بیلنس کی برابری /مطابقت پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔ مثال کے طور پر اگر خریداری کھاتے (Purchases Account) میں 10000 روپے کے زائد ڈیبٹ کے نتیجہ میں خریداری کتاب (Purchases Book) 10,000 روپے سے زیادہ جائے اور فروخت واپسی کتاب (Sales Return Book) فروخت واپسی کھاتے میں کم ڈیبٹ کے نتیجے میں 10,000 روپے سے کم آنکا جائے تو یہ ایسی دو غلطیوں کا معاملہ ہے جن کے اثر کی ایک دوسرے سے تلافی ہو جاتی ہے۔ ایک جمع کو دوسرے نفی (Minus) سے برابر کر دیا جائے تو ان دونوں غلطیوں کا خالص اثر صفر (Nil) ہوگا اور اس طرح یہ غلطیاں ٹرائل بیلنس کی برابری مطابقت پر اثر انداز نہیں ہوں گی۔ 

    6.5  غلطیوں کی تلاش (Searching of Errors)

    اگر ٹرائل بیلنس برابر نہ ہو تو یہ واضح علامت ہے کہ کم از کم ایک غلطی ضروری ہوئی ہے۔ مالیاتی گوشوارے کی تیاری کرنے سے پہلے غلطی (یا غلطیوں) کی نشاندہی کرنا ضروری ہوتا ہے۔ 
    اگر ٹرائل بیلنس برابر نہ ہوتو کھاتہ نویس کو غلطیوں کی چھان بین اور تلاش کرنے میں درج ذیل اقدام کرنے چاہئیں: 
    • ٹرائل بیلنس کے ڈیبٹ اور کریڈٹ خانوں کا میزان دوبارہ کرنا۔
    • ٹرائل بیلنس میں دکھائے گئے کھاتے کے عنوان (Account Head) اور رقم کا اس کے لیجر سے موازنہ کرنا تاکہ کھاتے کی بھول چوک یا رقم کے کسی فرق کا پتہ لگایا جاسکے جس کی نہ تو توقع تھی نہ ہی اسے واضح کیا گیا تھا۔
    • کسی سال کے ایڈیشن اور ڈلیشن کی جانچ کرنے کے لیے رواں سال کے ٹرائل بیلنس سے گذشتہ سال کے ٹرائل بیلنس کو ملائیے اور دیکھئے کیا رقم میں بڑا فرق ہے جس کی نہ تو امید ہے اور نہ کوئی وضاحت کی گئی ہے۔
    • لیجر میں انفرادی کھاتوں کے بقایا جات کی درستی کو دوبارہ نکالنا اور چیک کرنا۔
    • اصل اندراج کی کتابوں سے کھاتوں میں پوسٹنک کی دوبارہ جانچ کیجئے۔
    • اگر ڈیبٹ اور کریڈٹ کے کالموں میں فرق 2 سے تقسیم ہونے والا ہے تو اس کا امکان ہے کہ اس فرق کی نصف رقم کے برابر رقم کو کسی دوسرے بہی کھاتے میں غلط سمت میں پوسٹ کر دیا ہو۔ اگر ٹرائل بیلنس کے ڈیبٹ خانے کا میزان 1500 روپے سے بڑھ جاتا ہے تو یہ عین ممکن ہے کہ 750 روپے کی کوئی کریڈٹ شے غلطی سے ایک ڈیبٹ شے کے طور پر لیجر میں پوسٹ کر دی گئی ہو۔ کھاتہ نویس کو 750 روپے کی رقم کی تمام Debit Entries کو غور سے دیکھنا چاہیے۔
    • اگر فرق آرہا ہے تو ممکن ہے پوسٹنگ کی مکمل فروگذاشت ہوئی ہو۔ مثال کے طور پر 1500 روپے کا مذکورہ فرق کریڈٹ سائڈ میں اس رقم کی پوسٹنگ کی بھول چوک کے سبب بھی ہوسکتا ہے۔ پس کھاتہ نویس کو 1500 روپے کی رقم کے تمام کریڈٹ آئٹم کی تصدیق کرنی چاہیے۔
    • اگر فرق 9 کا حاصل ضرب یا 9 سے تقسیم ہونے والا ہے تو غلطی رقموں کے الٹ پھیر کی وجہ سے ہی ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر 459 کی ڈیبٹ رقم کو 954 روپے پوسٹ کر دیا تو ٹرائل بیلنس میں ڈیبٹ کا میزان کریڈٹ جانب کے میزان سے 495 روپے (یعنی 954 – 459 = 495)بڑھ جائے گا۔ یہ فرق 9 سے تقسیم ہونے والا ہے۔ نقطہ اعشاریہ کے غلط جگہ رکھنے کی وجہ سے جو غلطی ہو اسے بھی ٹرائل بیلنس کے ذریعے چیک کیا جاسکتا ہے لہٰذا ٹرائل بیلنس میں 9 سے تقسیم ہونے والا فرق الٹ پھیر کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غلطی ٹھیک کرنے میں مدد کرتا ہے۔

    6.6  غلطیوں کی درستی(Rectification of Errors) 

    درستی یا تصحیح کے نقطہ نظر سے غلطیوں کو درج ذیل دو زمروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
    (a) وہ غلطیاں جو ٹرائل بیلنس پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔ 
    (b) وہ غلطیاں جو ٹرائل بیلنس پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ 
    یہ امتیاز اپنے اندر معنویت رکھتا ہے کیونکہ وہ غلطیاں جو ٹرائل بیلنس پر اثر انداز نہیں ہوتیں وہ، دو کھاتوں میں اس طرح واقع ہوتی ہیں کہ انہیں جرنل اندارج کے ذریعے بآسانی ٹھیک کیا جاسکتا ہے جبکہ وہ غلطیاں جو ٹرائل بیلنس پر اثر انداز ہوتی ہیں وہ عام طور پر کسی ایک کھاتے کو متاثر کرتی ہیں اور ان کی تصحیح اور درستی کے لیے جرنل اندراج ممکن نہیں ہوتی تاوقتیکہ معلق کھاتہ (Suspense Account) نہ کھولا ہو۔ 

    6.6.1  ان غلطیوں کی تصحیح جو ٹرائل بیلنس پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔ 

        (Rectification of Errors which do not Affect the Trial Balance)

    یہ غلطیاں دو یا دو سے زیادہ کھاتوں میں واقع ہوتی ہیں۔ ان کی تصحیح جرنل اندراج کے ریکارڈ کے ذریعے متعلقہ کھاتوں کو صحیح طور پر ڈیبٹ اور کریڈٹ کرکے کی جاسکتی ہے۔ 
    اس قسم کی غلطیوں کی مثالیں ہیں۔ ابتدائی اندراج کی کتابوں میں اندراج کے ریکارڈ کرنے میں مکمل بھول چوک ہوجانا، کھاتہ داری کی کتابوں میں لین دین کا غلط اندراج، غلط کھاتے کے صحیح جانب پوسٹنگ کرنے کی مکمل بھول چوک ہو جانا، اور اصولی غلطیاں۔ 
    تصحیح و درستی کا عمل لازمی طور سے مندرجہ ذیل پر مشتمل ہوتا ہے:
    • غلط ڈیبٹ یا کریڈٹ کے اثر کو الٹا کرکے منسوخ کرنا۔
    • صحیح ڈیبٹ یا کریڈٹ کے اثر کو اصلی حالت پر لانا۔ 
    اس مقصد کے لیے ہمیں کھاتوں پر کسی غلطی کے اثر کو تجزیہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، جو ہوسکتا ہے:
    (i) کسی کھاتے میں ڈیبٹ یا کریڈٹ کا کم لکھا جانا ہو۔ 
    (ii) کسی کھاتے میں ڈیبٹ یا کریڈٹ کا زیادہ لکھا جانا ہو۔ 
    لہٰذا اندراج کی تصحیح (Rectification Entry) کی جاسکتی ہے:
    (i) کم ڈیبٹ یا زیادہ کریڈٹ والے کھاتے کو ڈیبٹ کرکے۔ 
    (ii) زیادہ ڈیبٹ یا کم کریڈٹ والے کھاتے کو کریڈٹ کرکے۔ 
    اس قسم کی غلطیوں کی تصحیح کا طریقہ مندرجہ ذیل مثالوں کی مدد سے واضح کیا گیا ہے: 
    (a) موہن کو 10,000 روپے کی اُدھار فروخت کو فروخت کی کتاب (Sales Book) میں ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ یہ ایک مکمل بھول چوک کی غلطی ہے۔ اس کا اثر یہ ہے کہ موہن کا کھاتہ ڈیبٹ نہیں کیا گیا اور فروخت کھاتہ کو کریڈٹ نہیں کیا گیا۔ چنانچہ ادھار فروخت کی کے اندراج سے اس غلطی کی تصحیح ہو جائے گی۔ 
    Mohan’s A/c Dr. 10,000
    To Sales A/c 10,000
    (b) موہن کو 10,000 روپے کی ادھار فروخت کو فروخت کی کتاب میں 1,000 روپے ریکارڈ کر دیا گیا۔ یہ ایک اختیاری غلطی ہے۔ اس غلط اندراج کا اثر ذیل میں دکھایا گیا ہے: 
    Mohan’s A/c Dr. 1,000
    To Sales A/c 1,000
    صحیح اثر جو ہونا چاہیے تھا: 
    Mohan’s A/c Dr. 10,000
    To Sales A/c 10,000
    اب کیونکہ موہن کے کھاتے سے مزید 9,000 روپے ڈیبٹ کیے جاتے ہیں اور فروخت کھاتے میں مزید 9,000 روپے کریڈٹ کیے جاتے ہیں۔ اس لیے تصحیح شدہ اینٹری یہ ہوگی: 
    Mohan’s A/c Dr. 9,000
    To Sales A/c 9,000
    (c) موہن کو 10,000 روپے کی ادھار فروخت کو 12,000 روپے ریکارڈ کر لیا گیا۔ یہ ایک اختیاری غلطی ہے۔ غلط اندراج کیے جانے کا اثر یہ پڑا۔ 
    Mohan’s A/c Dr. 12,000
    To Sales A/c 12,000
    صحیح اثر یہ ہونا چاہیے تھا۔ 
    Mohan’s A/c Dr. 10,000
    To Sales A/c 10,000
    آپ دیکھ سکتے ہیں کہ موہن کے کھاتے میں 2,000 روپے زیادہ ڈیبٹ ہوگئے اور فروخت کھاتے میں 2,000 روپے زیادہ کریڈٹ ہوگئے۔ 
    تصحیح شدہ اینٹری اب اس طرح ہوگی:
    Sales A/c Dr . 2,000
    To Mohan  A/c 2,000
    (d) موہن کو 10,000روپے کی ادھار فروخت کو فروخت کی کتاب میں توصحیح ریکارڈ کیا گیا لیکن اسے رام کے کھاتے میں پوسٹ کر دیا گیا۔ یہ ایک اختیاری غلطی ہے۔ غلط پوسٹنگ کا اثر یہ ہوا ہے: 
    Ram's A/c Dr. 10,000
    To Sales  A/c 10,000
    صحیح اثر جو ہونا چاہیے تھا: 
    Mohan's A/c Dr. 10,000
    To Sales A/c 10,000
    غور کیجیے کہ فروخت کھاتے میں کوئی غلطی نہیں ہے مگر موہن کے کھاتے کے بجائے رام کے کھاتے میں 10,000 روپے ڈیبٹ کر دیے گئے۔ 
    لہٰذا تصحیح شدہ اینٹری یہ ہوگی: 
    Mohan's A/c Dr. 10,000
    To Ram's A/c 10,000
    (e) کرایہ کی 2,000 روپے کی ادائیگی کو مالک جائیداد کی ادائیگی سمجھ کر نقدی کتاب میں دکھادیا گیا۔ اس غلط اندراج کا نتیجہ یہ ہوا: 
    Landlord's A/c Dr. 2,000
    To Cash A/c 2,000
    صحیح اثر جو ہونا چاہیے تھا:
    Rent A/c Dr. 2,000
    To Cash  A/c 2,000
    کرایہ کھاتہ کو ڈیبٹ کرنے کے بجائے مالک جائیداد کا کھاتہ ڈیبٹ کر دیا گیا۔ لہٰذا تصحیح شدہ اینٹری یہ ہوگا۔ 
    Rent A/c Dr. 2,000
    To Landlord A/c 2,000

    اپنی فہم و ادراک کی جانچ کیجیے - II

    مندرجہ ذیل لین دین کے لیے تصحیح شدہ اینٹری ریکارڈ کیجیے۔ 
    رجنی کو 5,000 روپے کی ادھار فروخت خریداری کتاب میں ریکارڈ کرلی گئی: 
    یہ ایک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غلطی ہے۔
    کھاتہ داری کی کتاب میں غلط اندراج کو بیان کیجیے: 
    K-31
    صحیح اثر جو ہونا چاہیے تھا: 
    K-31
    تصحیح شدہ اینٹری ہوگی: 
    K-32
    میسرز راؤ فرنشنگ سے 8,000 روپے کا خریدا گیا فرنیچر خریداری کتاب میں اندراج کر دیا گیا۔ 
    یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غلطی ہے۔ 
    کھاتہ داری کی کتاب میں غلط ریکارڈ کی گئی اندراج کو بتائیے۔ 
    K-31
    صحیح اثر جو ہونا چاہیے تھا:
    K-31
    تصحیح شدہ اینٹری ہوگی:
    K-31
    رادھیکا کو 15,000 روپے کی نقد فروخت کو کیش بک میں حاصل شدہ کمیشن کے طور پر دکھادیا گیا۔ 
    یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غلطی ہے 
    کھاتہ داری کی کتابوں میں کی گئی غلط اندراج بتائیے۔ 
    K-31
    صحیح اثر جو ہونا چاہیے تھا: 
    K-31
    تصحیح شدہ اینٹری ہوگی۔  
    K-31
    کریم سے 6,000 روپے وصول ہوئے اور انھیں ندیم کے کھاتے میں پوسٹ کر دیا: 
    یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غلطی ہے۔
    کھاتہ داری کی کتابوں میں کی گئی غلط اندراج کو بتائیے:
    K-31
    صحیح اثر جو ہونا چاہیے تھا: 
    K-31
     تصحیح شدہ اینٹری (Entry):
    K-31

    6.6.2   ٹرائل بیلنس کو متاثر کرنے والی غلطیوں کی تصحیح

    (Rectification of Errors Affecting Trial Balance)

    وہ غلطیاں جو صرف ایک کھاتہ پر اثر انداز ہوتی ہیں انھیں متعلقہ متاثرہ کھاتہ میں ایک وضاحتی نوٹ دیکر درست کیا جاسکتا ہے۔ یا پھر معلق کھاتہ (Suspense Account) کی مدد سے جرنل اندراج کے ریکارڈ کے ذریعے درست کیا جاسکتا ہے۔ اس باب میں معلق کھاتہ کو آگے بیان کیا جائے گا اس طرح کی غلطیوں کی مثالیں ہیں: حسابی غلطی (Casting Errors)، آگے لے جانے والی غلطی (Errors of Carrying Forward)، بقایا جاتی غلطی (Errors of Balancing)، صحیح کھاتے میں غلط رقم کے ساتھ پوسٹنگ کی غلطی، صحیح کھاتے میں مگر غلط جانب کی گئی پوسٹنگ کی غلطی، غلط جانب غلط رقم کے ساتھ پوسٹنگ  کی گئی غلطی اور ٹرائل بیلنس میں کسی کھاتہ کو دکھانا بھول جانے کی غلطی۔ 
    ابتدائی اندراج کی کتابوں میں غلطی کا لیجر میں پوسٹنگ سے پہلے پتہ چل جائے تو اس کی تصحیح محض ایک سطر کے ذریعے غلط رقم کو کاٹ کر اور اس کاٹی گئی رقم کی جگہ صحیح رقم لکھ کر اور مختصر دستخط کرکے کی جاسکتی ہے۔ صحیح لیجر کھاتے میں پوسٹ کی گئی رقم میں غلطی کو بھی اسی طرح درست کیا جاسکتا ہے یا پھر باقی رقم کے لیے اضافی پوسٹنگ کرکے درست کیا جاسکتا ہے۔ لیکن غلطیوں کو کبھی بھی مٹاکر یا تحریر کے اوپر لکھ کر ٹھیک نہیں کرنا چاہیے۔ اس سے کھاتہ داری ریکارڈ کی صداقت میں کمی واقع ہوتی ہے اور اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ کچھ نہ کچھ چھپایا گیا ہے۔ لہٰذا اس کے لیے بہتر طریقہ یہی ہے کہ غلطی کے اثر کو بے اثر کرنے کے لیے مناسب جگہ پر درستی کا نوٹ دیدیا جائے۔ مثال کے طور پر شیام کا معاملہ لیجیے۔ شیام کے کھاتہ میں 190 روپے سے کریڈٹ کیے گئے۔ اس کے کھاتے میں کریڈٹ کی طرف 190 روپے کے اضافی اندراج کے ذریعہ اس غلطی کی تصحیح درج ذیل طریقے سے کی جاسکتی ہے۔ 

    شیام کا کھاتہ
    رقم (روپے) J.F. تفصیلات تاریخ رقم (روپے) J.F. تفصیلات تاریخ
    190 ۔۔۔۔۔کم پوسٹ
          کی گئی رقم
          میں فرق

    دوسری مثال لیجیے، خریداری کتاب (Purchase Book) 1,000 روپے سے کم آنکی گئی۔ اس اندراج کا اثر خریداری کھاتہ پر ڈیبٹ کی طرف ہے جہاں خریداری کتاب کا ٹوٹل پوسٹ کیا گیا ہے۔ 
    مال خریداری کھاتہ

    رقم (روپے) J.F. تفصیلات تاریخ رقم (روپے) J.F. تفصیلات تاریخ
    1,000 ماہ ۔۔۔۔۔کے لیے
    خریداری 
    کتاب
    انڈر کاسٹنگ

    معلق کھاتہ(Suspense Account) 

    یک طرفہ غلطیوں کی کی وجہ سے ٹرائل بیلنس کے برابر نہ ہونے کے باوجود کھاتہ نویس اپنے کھاتہ داری عمل کو مالیاتی گوشواری کی تیاری کے لیے آگے بڑھاتا ہے۔ اکاؤنٹینٹ اپنے ٹرائل بیلنس میں آئے فرق کو کم جانب رکھ کر بطور معلق کھاتہ کے برابر کر لیتا ہے۔ 
    معلق کھاتہ کھولنے کے عمل کو مندرجہ ذیل مثال کی مدد سے سمجھا جاسکتا ہے: 
    ایک تنظیم کی فروخت کتاب پر غور کیجیے۔
    رقم روپے L.F. گراہکوں کے نام(کھاتہ جو ڈیبٹ ہونے ہیں) انوائس نمبر تاریخ
    20،000
    10،000
    5،000
    15،000
    50،000
    اشوک ٹریڈرس
    بمل سروس سینٹر
    چوپڑہ انٹر پرائزیز
    دیواکر اینڈ سنس

    اگر دِواکر اینڈ سنز کی فروخت کو اس کے کھاتے میں پوسٹ نہیں کیا گیا تو لیجر مندرجہ ذیل حالت دکھائے گا۔ 
    اشوک ٹریڈرس کھاتہ
    رقم (روپے) J.F. تفصیلات تاریخ رقم (روپے) J.F. تفصیلات تاریخ
    20,000
    20,000
    بیلنسc/d 20,000
    20,000
    بکری

    بمل سروس سینٹر کا کھاتہ
    رقم (روپے) J.F. تفصیلات تاریخ رقم (روپے) J.F. تفصیلات تاریخ
    10,000
    10,000
    بیلنسc/d 10,000
    10,000
    بکری

    چوپڑہ انٹرپرائزیز کا کھاتہ
    رقم (روپے) J.F. تفصیلات تاریخ رقم (روپے) J.F. تفصیلات تاریخ
    5,000
    5,000
    بیلنسc/d 5,000
    5,000
    بکری

    بکری کھاتہ

    رقم (روپے) J.F. تفصیلات تاریخ رقم (روپے) J.F. تفصیلات تاریخ
    50,000 سنڈریز


    ٹرائل بیلنس جب مذکورہ بقایا جات کی بنیادوں پر بنایا گیا ہو تو وہ برابر نہیں ہوگا۔ اس کے کریڈٹ خانے کا میزان 50,000 روپے ہوگا اور ڈیبٹ خانے کا میزان 35,000 روپے۔ ٹرائل بیلنس میں 15,000 روپے کا فرق ہوگا اس فرق کو عارضی طور پر معلق کھاتہ میں رکھ دیا جائے گا اور لیجر سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے ٹرائل بیلنس بنالیا جائے گا۔ 
    مذکورہ صورت میں ٹرائل بیلنس میں فرق یک طرفہ غلطی کے سبب رونما ہوا ہے۔ (یعنی دِواکر اینڈ سنز کے کھاتے کی پوسٹنگ کی فروگذاشت کے سبب)۔ حقیقی صورت حال میں اس طرح کی اور بھی متعدد یک طرفہ غلطیاں ہوسکتی ہیں جو ٹرائل بیلنس میں فرق آنے کا سبب ہوتی ہیں اور اس کے نتیجہ کے طور پر معلق کھاتہ کھولنا پڑتا ہے۔ جب تک ٹرائل بیلنس کی مطابقت کو متاثر کرنے والی تمام غلطیوں کی نشاندہی نہ کر لی جائے ان کی تصحیح کرنا ممکن نہیں ہوتا اور اس صورت حال میں ٹرائل بیلنس کو برابر کرنا پڑتا ہے، جسے معلق کھاتہ (Suspense Account) میں دکھایا گیا ہے۔ ڈیبٹ اور کریڈٹ کے خانوں کے میزان کو نکالنا پڑتا ہے اور پھر حسابی عمل کے ساتھ آگے بڑھنا ہوتا ہے۔ 
    جب غلطیوں کی نشاندہی کر لی جاتی ہے اور ان پر مشتمل مخصوص کھاتوں اور رقموں کی شناخت کر لی جاتی ہے تو رقموں کو معلق کھاتہ سے متعلقہ کھاتوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح معلق کھاتہ بند ہو جاتا ہے معلق کھاتہ کو کھاتوں کے کسی خاص زمرے میں نہیں رکھا جاتا، یہ محض ایک وقتی مظہر ہے۔ معلق کھاتہ کو استعمال میں لاتے ہوئے یک طرفہ غلطیوں کی تصحیح کرتے وقت مندرجہ ذیل اقدام کرنے ہوتے ہیں: 

    (i) غلطی کی وجہ سے متاثر کھاتہ کی نشان دہی 
    (ii) زائد ڈیبٹ /کریڈٹ یا کم کریڈٹ/ڈیبٹ کا پتہ لگانا۔ 
    (iii) اگر غلطی متاثرہ کھاتہ میں زائد ڈیبٹ یا کم کریڈٹ کا ماحصل ہے تو زائد ڈیبٹ یا کم کریڈٹ کھاتہ کو کریڈٹ کر دیجیے۔ 
    (iv) اگر غلطی متاثرہ کھاتہ میں زائد کریڈٹ یا کم ڈیبٹ کا ماحصل ہے تو زائد کریڈٹ یا کم ڈیبٹ سے کھاتہ کو ڈیبٹ کیجیے۔ 
    (v) کیونکہ دوسرا کھاتہ دوسرے طریقے سے متاثر ہوا اس لیے معلق کھاتہ کو ڈیبٹ یا کریڈٹ کرکے Journal Entry مکمل کیجیے۔ 
    اب ہم معلق کھاتہ کو استعمال میں لاتے ہوئے تصحیح کے طریقے پر بحث کریں گے۔
    (a) موہن کو 10,000 روپے کی ادھار فروخت اس کے کھاتے میں پوسٹ نہیں کی گئی یہ ایک جزوی فروگذاشت ہے جو فروخت کتاب میں اندراجات کی پوسٹنگ کے دوران واقع ہوئی۔
    اس کا غلط اثر ہوا ہے:
    Mohan's A/c Dr. Nil
    To Sales A/c 10,000
    صحیح اثر جو ہونا چاہیے تھا: 
    Mohan's A/c Dr. 10,000
    To Sales A/c 10,000
    تصحیح شدہ اینٹری ہوگی: 
    Mohan's A/c Dr. 10,000
    To Suspense  A/c 10,000
    (b) موہن کے کھاتے میں 10,000 روپے کی ادھار فروخت 7,000 روپے پوسٹ ہوگئی۔ یہ ایک اختیاری غلطی ہے۔ موہن کا کھاتہ بجائے 10,000 روپے کے 7,000 روپے سے ڈیبٹ کر دیا گیا جس کے نتیجہ میں ڈیبٹ 3,000 روپے سے کم ہوگیا۔ 
    Mohan's A/c Dr. 7,000
    To Sales A/c 10,000
    صحیح اثر جو ہونا چاہیے تھا: 
    Mohan's A/c Dr. 10,000
    To Sales A/c 10,000
    لہٰذا تصحیح شدہ اینٹری ہوگی۔ 
    Mohan's A/c Dr. 3,000
    To Suspense  A/c 3,000
    (c) موہن کو 10,000 روپے کی ادھار فروخت اس کے کھاتے میں 12,000 پوسٹ کر دی گئی۔ یہ ایک اختیاری غلطی ہے۔ اس کا غلط اثر ہوا ہے۔ 
    Mohan's A/c Dr. 12,000
    To Sales A/c 10,000
    صحیح اثر جو ہونا چاہیے تھا: 
    Mohan's A/c Dr. 10,000
    To Sales A/c 10,000
    تصحیح شدہ اینٹری ہوگی:
    Suspense A/c Dr. 2,000
    To Mohan's A/c 2,000
    (d) خریداری کتاب میں 1000 روپے زیادہ جوڑ دیے گئے۔ معاون کتابوں میں حساب کتاب کی غلطیاں صرف ان کھاتوں پر اثر انداز ہوتی ہیں جہاں معاون کتابوں پر مشتمل میزان پوسٹ کیے جاتے ہیں۔ انفرادی فریقوں کے کھاتے متاثر نہیں ہوتے۔ درج ذیل مثال پر غور کیجیے۔ 

    خریداری بہی
    رقم روپے لیجر فولیو سپلایر کا نام (Accounts to be credited) بل نمبر تاریخ
    8,000
    7,000
    6,000
    21,000
    22,000
    دھیرو
    چندر پرکاش
    سچن

    اوور کاسٹنگ
    سے غلط میزان

    دھیرو کا کھاتہ

    رقم (روپے) J.F. تفصیلات تاریخ رقم (روپے) J.F. تفصیلات تاریخ
    8,000 خریداری

    چندر پرکاش کا کھاتہ
    رقم (روپے) J.F. تفصیلات تاریخ رقم (روپے) J.F. تفصیلات تاریخ
    7,000 خریداری


    سچن کا کھاتہ

    رقم (روپے) J.F. تفصیلات تاریخ رقم (روپے) J.F. تفصیلات تاریخ
    6,000 خریداری

    مال خریداری کھاتہ

    رقم (روپے) J.F. تفصیلات تاریخ رقم (روپے) J.F. تفصیلات تاریخ

    22،000 سنڈریز
    جیسا کہ آپ غور کرسکتے ہیں کہ دھیرو، چندر پرکاش اور سچن کے کھاتوں میں کوئی غلطی نہیں ہے۔ صرف خریداری کھاتہ 1,000 روپے سے زیادہ ڈیبٹ کر دیا گیا ہے۔ لہٰذا تصحیح شدہ Entry ہوگی۔: 
    Suspense A/c Dr. 1,000
    To Purchase A/c 1,000

    6.6.3   اگلے حسابی سال میں غلطیوں کی تصحیح

    (Rectification of Errors in the Next Accounting Year)

    اگر کچھ غلطیاں جن کی نشاندہی اس حسابی سال میں نہیں ہو پاتی اور مالیاتی گوشواروں کے اختتام سے قبل ان کی تصحیح بھی نہیں کی جاتی تو معلق کھاتہ کو بند نہیں کہا جاسکتا اور اس کا بقایا اگلے حسابی سال میں لے جایا جائے گا۔ جب کسی حسابی سال میں واقع ہوئی غلطیوں کی نشاندہی اور ان کی تصحیح اگلے حسابی سال میں ہوتی ہے تو اگلے سال کے آمدنی گوشوارہ پر پڑنے والے اثر سے بچنے کے لیے اخراجات/نقصانات اور آمدنیوں/فوائد کھاتوں کی جگہ نفع و نقصان مطابقت کھاتے کو ڈیبٹ یا کریڈٹ کیا جاتا ہے۔ اس پہلو کے حوالے سے کھاتہ داری سے متعلق آپ اپنے آئندہ ایڈوانس مطالعہ کے دوران بہت کچھ پڑھیں گے۔ 

    بکس 1

    غلطیوں کی تصحیح کے رہنما اصول

    (Guiding Principles of Rectification of Errors)

    1. اگر غلطی ابتدائی اندراج کی کتاب میں ہوئی ہے تو سمجھئے کہ تمام پوسٹنگ اسی کے مطابق ہوئی ہیں۔
    2. اگر غلطی پوسٹنگ کے مرحلے میں ہوئی ہے تو سمجھئے کہ معاون کتابوں میں رکارڈنگ ٹھیک طور پر ہوئی ہے۔
    3. اگر غلطی پوسٹنگ میں غلط کھاتہ میں (پوسٹنگ کی سمت اور رقم کے تذکرہ کے بغیر) ہوئی ہے تو سمجھئے کہ پوسٹنگ صحیح طرف اور صحیح رقم کے ساتھ ہوئی ہے۔
    4. اگر پوسٹنگ صحیح کھاتے میں ہوئی ہے لیکن غلط رقم کے ساتھ (پوسٹنگ کی سمت کا ذکر کیے بغیر) تو سمجھئے کہ پوسٹنگ صحیح طرف کی گئی ہے۔
    5. اگر غلطی غلط کھاتہ میں اور غلط اور غلط طرف ہوتی ہے (پوسٹنگ کی رقم کا ذکر کیے بغیر) تو سمجھئے کہ پوسٹنگ لین دین کے اصل رکارڈنگ کے مطابق رقم کے ساتھ ہوئی ہے۔
    6. اگر غلطی غلط کھاتہ میں اور غلط رقم کے ساتھ پوسٹنگ میں ہوئی ہے (پوسٹنگ کی سمت کا ذکر کیے بغیر) تو سمجھئے کہ پوسٹنگ صحیح طرف ہوئی ہے۔
    7. اگر پوسٹنگ صحیح کھاتہ میں اور غلط سمت میں ہوئی ہے (پوسٹنگ کی رقم کے ذکر کے بغیر) تو سمجھئے کہ پوسٹنگ اصل رکارڈنگ کے مطابق صحیح رقم کے ساتھ ہوئی ہے۔
    8. معاون کتابوں میں انفرادی لین دین کی پوسٹنگ میں کوئی غلطی صرف انفرادی کھاتہ سے متعلق ہوتی ہے، فروخت کھاتہ، خریداری کھاتہ، فروخت واپسی کھاتہ یا خریداری واپسی کھاتہ اس میں شامل نہیں ہیں۔
    9. کیش بک میں کوئی لین دین ریکارڈ کیا جاتا ہے تو پوسٹنگ میں غلطی دوسرے متاثرہ کھاتہ سے متعلق ہوتی ہے نہ کہ نقد کھاتہ/بنک کھاتہ سے۔
    10. اگر کوئی لین دین خاص جرنل (Journal Proper) سے ریکارڈ کیاگیا ہو تو فقرہ ’’خریداری لین دین پوسٹ نہیں کیا گیا‘‘ دونوں کھاتوں پر مشتمل غلطی کو ظاہر کرتا ہے یا بصورت دیگر اس کو بیان کر دیا گیا ہو۔
    11. معاون کتابوں میں حساب کتاب کی غلطی صرف اسی کھاتہ کو متاثر کرے گی جہاں اس خاص کتاب کے میزان کو پوسٹ کیا گیا ہے۔ انفرادی شخصی کھاتے غیر متاثر رہتے ہیں۔ 

    اپنے فہم و ادراک کی جانچ کیجیے- III

    جرنل اندراجات سے ہونے والے اثر کو دکھائیے:
    موہن کو 10,000 روپے کی ادھار فروخت اس کے کھاتے میں 12,000 روپے کردی گئی۔ 
    یہ ایک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غلطی ہے۔
    اس کا غلط اثر یہ ہوا ہے: 
    K-31
    صحیح اثر جو ہونا چاہیے تھا: 
    K-31
    تصحیح شدہ اینٹری ہوگی: 
    K-31
    نیہا کو 2,000 روپے نقد ادا کیے مگر وہ اس کے کھاتے میں پوسٹ نہیں کیے گئے۔ 
    یہ ایک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غلطی ہے۔ 
    اس کا غلط اثر یہ ہوا ہے: 
    K-31
    صحیح اثر جو ہونا چاہیے تھا: 
    K-31
    تصحیح شدہ اینٹری ہوگی: 
    K-31
    میگھا سے 1,600 روپے کی فروخت واپسی رقم کو اس کے کھاتے میں 1,000 روپے  پوسٹ کر دیا گیا۔ 
    یہ ایک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غلطی ہے۔ 
    اس کا غلط اثر یہ ہوا ہے۔ 
    K-31
    صحیح اثر جو ہونا چاہیے تھا: 
    K-31
    تصحیح شدہ اینٹری ہوگی: 
    K-31
    فرنیچر پر 1,500 روپے بطور فرسودگی (Depreciation) قلم گرد کیے گئے لیکن اسے فرسودگی کھاتہ میں پوسٹ نہیں کیا گیا۔ 
    یہ ایک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غلطی ہے۔ 
    اس کا غلط اثر یہ ہوا ہے: 
    K-31
    صحیح اثر جو ہونا چاہیے تھا: 
    K-31
    تصحیح شدہ اینٹری ہوگی: 
    K-31

    مثال1

    مندرجہ ذیل غلطیوں کی تصحیح کیجیے: 
    رگھو سے 20,000 روپے کی ادھار خریداری کو
    (i) ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ 
    (ii)۔ 10,000 روپے ریکارڈ کیے گئے۔
    (iii)۔ 25,000 روپے ریکارڈ کیے گئے۔
    (iv) اس کے کھاتہ میں پوسٹ نہیں کیے گئے۔
    (v) اس کے کھاتے میں 2,000 روپے پوسٹ کیے گئے۔ 
    (vi) راگھو کے کھاتے میں پوسٹ کیے گئے۔
    (vii) راگھو کے ڈیبٹ کھاتے میں پوسٹ کیے گئے۔
    (viii) راگھو کے ڈیبٹ کھاتے میں پوسٹ کر دیے گئے۔
    (ix) فروخت کتاب سے ریکارڈ کیے گئے۔

    حل:

    (i)
    Purchases A/c Dr. 20,000
    To Raghu's A/c 20,000
    (رگھو (Raghu) سے ادھار خریداریاں ریکارڈ کرنے میں فروگذاشت ہوگئی۔ اب درست کی گئی)
    (ii)
    Purchases A/c Dr. 10,000
    To Raghu's A/c 10,000
    (رگھو سے 10,000 روپے کی اُدھار خریداریوں کی جگہ 20,000 روپے ریکارڈ کیے گئے۔ اب انھیں درست کیا گیا۔)
    (iii)
    Raghu's A/c Dr. 5,000
    To Purchases A/c 5,000
    (رگھو سے 20,000 روپے کی اُدھار خریداریوں کو 25,000 روپے ریکارڈ کیا گیا۔)
    (iv)
    Suspense A/c Dr. 20,000
    To Raghu's A/c 20,000
    (رگھو سے ادھار خریداریوں کو اس کے کھاتے میں پوسٹ نہیں کیا گیا اب انھیں درست کیا گیا۔)
    (v)
    Suspense A/c Dr. 18,000
    To Raghu's A/c 18,000
    (راگھو سے 20,000 روپے کی ادھار خریداریوں کو اس کے کھاتے میں 2000 روپے پوسٹ کیا گیا۔)
    (vi)
    Raghav's A/c Dr. 20,000
    To Raghu's A/c 20,000
    (راگھو سے ادھار خریداریوں کو غلطی سے راگھو نام سے کریڈٹ کر دیا گیا اب اس کو درست کیا گیا۔)
    (vii)
    Suspense A/c Dr. 40,000
    To Raghu's A/c 40,000
    (راگھو سے 20,000 روپے کی ادھار خریداریوں کو غلطی سے راگھو کے کھاتہ میں ڈیبٹ کر دیا گیا۔ اب اسے درست کیا گیا۔)
    (viii)
    Suspense  A/c Dr. 40,000
    To Raghav's A/c 20,000
    To Raghu's A/c 20,000
    (راگھو سے 20,000 روپے کی ادھار خریداریوں کو غلطی سے راگھو کے کھاتے میں ڈیبٹ کر دیا گیا۔ اب اسے درست کیا گیا۔)
    (ix)
    Sales A/c Dr. 20,000
    Purchases A/c Dr. 20,000
    To Raghu's A/c 40,000
    (رگھو سے اُدھار خریداریوں کو فروخت کتاب میں غلطی سے ریکارڈ کیا گیا اب اسے درست کیا گیا۔)

    مثال 2

    درج ذیل غلطیوں کو درست کیجیے: 
    نقد فروخت 16,000 روپے 
    (i) فروخت کھاتے میں پوسٹ نہیں کئے گئے۔ 
    (ii) فروخت کھاتے میں 6,000 روپے پوسٹ کئے گئے۔
    (iii) کمیشن کھاتے میں پوسٹ کر دیے گئے۔ 

    حل: 

    (i)
    Suspense A/c Dr. 16,000
    To Sales A/c 16,000
    (نقد فروخت کو فروخت کھاتے میں پوسٹ نہیں کیا گیا اب اسے درست کیا گیا۔)
    (ii)
    Suspense A/c Dr. 16,000
    To Sales A/c 16,000
    (16,000 روپے کے نقد فروخت کو فروخت کھاتے میں 6,000 روپے ریکارڈ کیا گیا۔ اب اسے درست کیا گیا۔)
    (iii)
    Commission A/c Dr. 16,000
    To Sales A/c 16,000
    (نقد فروخت کو بجائے فروخت کھاتے کے کمیشن کھاتہ میں پوسٹ کر دیا گیا۔ اب درست کیا گیا۔)

    مثال 3

    مشینری پر فرسودگی 2,000 روپے قلم زد کی گئی۔ 
    (i) اسے پوسٹ نہیں کیا گیا۔
    (ii) مشینری کھاتہ میں پوسٹ نہیں کی گئی۔
    (iii) فرسودگی کھاتہ میں پوسٹ نہیں کی گئی۔ 

    حل

    (i) اسے خاص جرنل (Journal Proper) سے ریکارڈ کیا گیا۔ خاص جرنل سے تمام کھاتوں کو انفرادی طور پر پوسٹ کیا گیا۔ لہٰذا فرسودگی کھاتہ اور مشینری کھاتہ میں کوئی پوسٹنگ نہیں کی گئی اس لیے تصحیح شدہ اینٹری ہوگی۔ 
    Depreciation A/c Dr. 2,000
    To Machinery A/c 2,000
    (مشینری پر فرسودگی کو پوسٹ نہیں کیا گیا اب اسے درست کیا گیا)
    (ii) اس صورت میں مشینری کھاتے میں پوسٹنگ نہیں کی گئی۔ یہ سمجھا گیا کہ فرسودگی کھاتہ کو صحیح طور پر ڈیبٹ کیا جانا چاہیے تھا۔
    اس لیے تصحیح شدہ اینٹری ہوگی۔
    Suspense A/c Dr. 2,000
    To Machinery A/c 2,000
    (مشینری پر فرسودگی کو مشینری کھاتے میں پوسٹ نہیں کیا گیا۔ اب اسے درست کیا گیا۔)
    (iii) اس صورت میں فرسودگی کھاتہ ڈیبٹ نہیں کیا۔ اس لیے مشینری کھاتہ کو ٹھیک طور پر کریڈٹ کیا جانا چاہیے تھا۔ لہٰذا 
    تصحیح شدہ اینٹری ہوگی۔ 
    Depreciation A/c Dr. 2,000
    To Suspense A/c 2,000
    (مشینری پر فرسودگی کھاتہ میں پوسٹ نہیں کیا گیا اس سے درست کیا گیا۔)

    مثال 4

    انوراگ کا ٹرائل بیلنس برابر نہیں تھا۔ اس نے 10,000 روپے کریڈٹ زیادہ دکھائے تھے۔ انوراگ نے اس فرق کو میں ڈال دیا۔ اس نے درج ذیل غلطیوں کی نشاندہی کی۔ 
    (i) فروخت واپسی کتاب (Sales Return Book) میں 1,000 روپے کا زائد جوڑ تھا۔ 
    (ii) خریداری کتاب میں 600 روپے کم تھے۔ 
    (iii) فروخت کتاب میں صفحہ نمبر 4 کا میزان صفحہ نمبر 5 پر 1,200 روپیے کے بجائے 1,000 روپے لے جایا گیا تھا اور صفحہ نمبر 8 کا میزان صفحہ نمبر 9 پر 5,000 روپے کے بجائے 600 روپے لے جایا گیا تھا۔ 
    (iv)۔ 1,000 روپے کی رام کو واپس کی گئی اشیا فروخت کی کتاب میں ریکارڈ کی گئیں۔ 
    (v) ایم کمپنی سے8000روپے کی ادھار خریداریوں کو فروخت کتاب میں ریکارڈ کیا گیا۔ 
    (vi) ایس اینڈ کمپنی سے 5,000 روپے کی ادھار خریداریوں کو فروخت کی کتاب میں ریکارڈ کیا گیا تاہم ایس اینڈ کمپنی کو صحیح طور پر کریڈٹ کیا گیا۔ 
    (vii)۔ 2,000 روپے تنخواہ کی ادائیگی کو ملازم کے شخصی کھاتہ میں ڈیبٹ کر دیا گیا۔ 

    حل

    (i)
    Suspense A/c Dr. 1,000
    To Sales Return A/c 1,000
    (فروخت واپسی کتاب کا جوڑ 1,000 روپے زیادہ لگا دیا گیا جسے اب درست کر دیا گیا۔)
    (ii)
    Purchases A/c Dr. 600
    To Suspense A/c 600
    (فروخت کتاب میں 600 روپے کم جوڑے گئے جسے اب ٹھیک کر لیا گیا) 
    (iii)
    Sales A/c Dr. 400
    To Suspense A/c 400
    (فروخت کتاب کے میزان کو اگلے صفحہ پر لے جانے میں غلطی تھی جسے اب ٹھیک کر لیا گیا۔)
    نوٹ: کسی مدت کے دوران ایک صفحہ سے دوسرے صفحہ پر کم یا زیادہ جوڑ کی حسابی غلطی نتیجتاً اس کتاب کے میزان پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس صورت میں صفحہ نمبر 4 سے صفحہ نمبر 5 پر لے جائی گئی رقم کا نتیجہ 200 روپے کم جوڑ کی شکل میں برآمد ہوا اور صفحہ نمبر 8 سے صفحہ نمبر 9 پر لے جائی گئی رقم 600 روپے زائد جوڑ کی شکل میں برآمد ہوئی۔ مجموعی زائد جوڑ ہوا۔ 600 روپے– 200روپے = 400 روپے۔
    (iv)
    Sales A/c Dr. 1,000
    To Return Outwards A/c 1,000
    (فروخت واپسی کو فروخت کتاب میں غلط ریکارڈ کر لیا گیا جسے اب ٹھیک کیا گیا۔)
    (v)
    Purchases  A/c Dr. 8,000
    Sales A/c Dr. 8,000
    To M & Co.'s A/c 16,000
    (ادھار خریداریاں غلطی سے فروخت کتاب میں ریکارڈ کر لی گئیں تھیں جسے اب ٹھیک کر لیا گیا۔)
    (vi)
    Purchases  A/c Dr. 5,000
    Sales A/c Dr. 5,000
    To Suspense  A/c 10,000
    (ادھار خریداریوں کو غلطی سے فروخت کتاب میں ریکارڈ کر لیا گیا تاہم سپلائر کا کھاتہ صحیح طور پر کریڈٹ کیا گیا، اس غلطی کو اب درست کر لیا گیا۔)
    (vii)
    Salary A/c Dr. 2,000
    To Employee's personal A/c 2,000
    (ادا کی گئی تنخواہ کو ملازم کے شخصی کھاتے میں غلطی سے ڈیبٹ کر دیا گیا اب اسے درست کر لیا گیا)

    معلّق کھاتہ 

    رقم (روپے) J.F. تفصیلات تاریخ رقم (روپے) J.F. تفصیلات تاریخ
    600
    400
    5,000
    5,000

    11,000
    خریداریاں
     بکری
     خریداریاں
     بکری
    10,000
    1,000

    11,000
    ٹرائل بیلنس میں فرق
     بکری واپسی

    مثال 5

    راہل کا ٹرائل بیلنس برابر نہیں تھا۔ راہل نے فرق کو معلق کھاتہ میں رکھ دیا۔ اس کے بعد اس نے درج ذیل غلطیوں کا پتہ لگایا۔
    (i) مشینری کے نصب کرنے پر 600 روپے مزدوری کے ادا کیے جنہیں مزدوری کھاتہ میں پوسٹ کر دیا گیا۔
    (ii) مشینری کی مرمت پر خرچ ہوئے 100 روپے کو مشنری کھاتہ میں ڈیبٹ کر دیا گیا۔
    (iii) پرانی خریدی ہوئی مشینری کی اور بالنگ کرانے کے لیے مرمت کے 1,000 روپے ادا کیے جنہیں مرمت کھاتہ میں ڈیبٹ کر دیا گیا۔
    (iv)۔ 8,000 روپے کا نجی کاروباری مال اور 2,000 روپے بطور مزدوری بلڈنگ کی تعمیر کے لیے استعمال کیے گئے۔ کتابوں میں اس کی کوئی تطبیق (Adjustment) نہیں کی گئی۔
    (v)۔ 5,000 روپے کا خریدشدہ فرنیچر خریداری کھاتہ میں 500 روپے پوسٹ کر دیا گیا۔
    (vi) کریم کو 2,000 روپے کی کتابی قیمت (Book Volue) پر بیچی گئی پرانی مشینری کو فروخت کی کتاب سے ریکارڈ کر دیا گیا۔
    (vii) فروخت واپسی کتاب کا میزان مبلغ 3,000 روپے کو لیجر میں پوسٹ نہیں کیا گیا۔
    مذکورہ غلطیوں کو تصحیح کیجیے اور ٹرائل بیلنس میں اصل فرق کا پتہ لگانے کے لیے معلق کھاتہ تیار کیجیے۔
    (i)
    Machinery A/c Dr. 600
    To Wages A/c 600
    (مشینری کے نصب کرنے کے لیے مزدوری دی گئی مگر غلطی سے اسے مزدوری کھاتہ میں ڈیبٹ کر دیا گیا۔ اب اسے درست کر لیا گیا)
    (ii)
    Repairs A/c Dr. 400
    To Machinery A/c 400
    (مرمت کے لیے ادا کی گئی رقم کو غلطی سے مشینری کھاتہ میں ڈیبٹ کر دیا گیا۔ اب اسے درست کر لیا گیا)
    (iii)
    Machinery A/c Dr. 1000
    To Repairs A/c 1000
    (پرانی خریدی گئی مشین کو ٹھیک کرانے کے لیے مرمت کرائی گئی، جسے غلطی سے مرمت کھاتہ میں ڈیبٹ کر دیا گیا۔ اب اسے درست کر لیا گیا)
    (iv)
    Building A/c Dr. 10,000
    To Purchases A/c 8,000
    To Wages A/c 2,000
    (بلڈنگ کی تعمیر کے لیے استعمال کیا گیا سامان اور مزدوری کو بلڈنگ کھاتہ میں ڈیبٹ نہیں کیا گیا)
    (v)
    Furniture A/c Dr. 5000
    To Purchases A/c 500
    To Suspense A/c 4,500
    (5,000 روپے کا خریدا گیا فرنیچر غلطی سے بطور 500 روپے خریداری کھاتہ میں ڈیبٹ کر دیا گیا اب اسے درست کر لیا گیا ہے۔)
    (vi)
    Sales A/c Dr. 2,000
    To Machinery A/c 2,000
    (مشینری کی فروخت کو فروخت کتاب میں غلطی سے ریکارڈ کر لیا گیا۔ اب اسے درست کر لیا گیا)۔
    (vii)
    Sales Return A/c Dr. 3,000
    To Suspense A/c 3,000
    (فروخت واپسی کتاب کا میزان لیجر میں پوسٹ نہیں کیا گیا۔ اب اسے درست کر لیا گیا ہے۔)

    معلّق کھاتہ 

    رقم (روپے) J.F. تفصیلات تاریخ رقم (روپے) J.F. تفصیلات تاریخ
    4,500
    3,000
    7,500
    فرنیچر
    بکری واپسی
    7،500
    7،500
    ٹرائل بیلنس کے
     حساب سے فرق

    پس، ٹرائل بیلنس میں اصل فرق 7,500 روپے زیادہ کریڈٹ کیا گیا تھا۔

    مثال 6

    اننت رام کا ٹرائل بیلنس برابر نہیں تھا۔ وہ 16,000 روپے زیادہ کریڈٹ ظاہر کر رہا تھا۔ اس نے اس فرق کو معلق کھاتہ میں ڈال دیا۔ اس کے بعد درج ذیل غلطیاں سامنے آئیں۔
    (i) موہت سے 4,000 روپے نقد وصول ہوئے انہیں مہیش کو 1,000 روپے کے طور پر پوسٹ کر دیا۔
    (ii) ارنو سے 6,000 روپے کی مکمل بے باقی کے طور پر 5,800 روپے کا جو چیک وصول ہوا تھا وہ Dishonoured ہو گیا۔ چیک کے نہ قابل ادائیگی ہونے پر کتابوں میں کوئی
      اینٹری نہیں کی گئی۔
    (iii) کھنہ سے 800 روپے حاصل ہوئے جس کا کھاتہ پہلے ہی بطور بٹّہ کھاتہ قلم زد کر دیا گیا تھا۔ یہ روپے اس کے کھاتے میں کریڈٹ کر دیے گئے۔
    (iv) مانو کو 5,000 روپے کی ادھار فروخت کو خریداری کتاب سے 2,000 روپے کے طور پر ریکارڈ کر دیا گیا۔
    (v) خریداری کتاب کا جوڑا 1,000 روپے کم نکلا۔
    (vi) مشینری کی مرمت پر 1,600 روپے خرچ ہوئے انہیں غلطی سے مشنری کھاتہ میں 1,000 کے طور پر ڈیبٹ کر دیا گیا۔
    (vii) نتھو سے 3,000 روپے کی واپس آئی۔ اشیا کو اسٹاک میں لے لیا گیا۔ کتابوں میں اس کی کوئی اینٹری نہیں کی گئی۔

    حل

    (i)
    Mahesh A/c Dr. 1,000
    Suspense A/c Dr. 3,000
    To Mohit's A/c 4,000
    (موہت سے حاصل ہوئے 4,000 روپے غلطی سے مہیش کے نام 1,000 روپے پوسٹ ہو گئے اب اسے درست کر لیا گیا۔)
    (ii)
    Arnav's A/c Dr. 6,000
    To Bank A/c 5,800
    To Discount Allowed A/c 200
    (ارنو سے اس کے کھاتے کے 6,000 روپے کی کل ادائیگی میں 5,800 روپے کا چیک حاصل ہوا جو نہ قابل ادا ہو گیا لیکن کتابوں میں کوئی اینٹری نہیں ہوئی۔ اب اسے درست کر لیا گیا ہے۔)
    (iii)
    Khanna's A/c Dr. 800
    To Bad Debit recovered A/c 800
    (کھنہ کے کھاتے میں حاصل ہوئے بٹہ کھاتے کو غلطی سے کریڈٹ کر دیا گیا۔ اب اسے درست کر لیا گیا ہے۔)
    (iv)
    Manav's A/c Dr. 7,000
    To Purchases A/c 2,000
    To Sales A/c 5,000
    (مانو  کو 5,000 روپے کی ادھار فروخت غلطی سے خریداری کتاب میں 2,000 روپے کے طور پر ریکارڈ کردی گئی۔ اب اسے درست کر لیا گیا ہے۔)
    (v)
    Purchases A/c Dr. 1,000
    To Suspense A/c 1,000
    (خریداری کتاب میں 1,000 روپے کم جوڑے گئے)
    (vi)
    Repairs A/c Dr. 1,600
    To Machinery A/c 1,000
    To Suspense A/c 600
    (مشینری پر 1,600 روپے مرمت خرچ کو مشینری کھاتے میں 1,000 روپے کے طور پر ڈیبٹ کر دیا گیا۔ اب اسے درست کر لیا گیا ہے۔)
    (vii)
    Sales Return A/c Dr. 3,000
    To Nathu's A/c 3,000
    (نتھو سے فروخت واپسی کو ریکارڈ نہیں کیا گیا۔)

    معلّق کھاتہ (Suspense Account)

    رقم (روپے) جرنل فولیو تفصیلات تاریخ رقم (روپے) جرنل فولیو تفصیلات تاریخ
    1,000
    600
    17,400
    19,000
    خریداری
    مرمت
    بیلنس C/d
    16,000
    3,000

    19,000
    ٹرائل بیلنس
     میں فرق
    موہت

    نوٹ: معلق کھتاہ غلطیوں کی تصحیح کے باوجود 17,400 روپے کا ڈیبٹ بیلنس دکھا رہا ہے۔یہ غلطیوں کے پتہ نہ لگنے کی وجہ سے ہے جس کے سبب ٹرائل بیلنس متاثر ہوا ہے۔ معلق کھاتہ کا بقایا آئندہ سال میں لے جایا جائے گا اور اسے اس وقت ختم کیا جائے گا جب ٹرائل بیلنس کو متاثر کرنے والی باقی تمام غلطیاں سامنے آجائیں۔

    مثال 7

    کیلاش کا ٹرائل بیلنس برابر نہیں تھا اس نے اس فرق کو معلق کھاتہ میں ڈال دیا۔ درج ذیل غلطیوں کا پتہ چل سکا:
    (i) کیلاش کے ذریعے ذاتی استعمال کے لیے 500 روپے کے نکالے گئے سامان کو کتابوں میں ریکارڈ نہیں کیا گیا۔
    (ii) رمیش سے حاصل ہونے والے 2040 روپے پر اس کو 60 روپے کی رعایت (Discount) دی گئی لیکن اس کو کتابوں میں درج نہیں کیا گیا۔
    (iii) روہن کو ادا کی جانے والی 3,250 روپے کی رقم پر اس سے 50 روپے کی رعایت حاصل کی۔ لیکن اسے پوسٹ نہیں کیا گیا۔
    (iv) خلیل سے جو کہ ایک قرض دار ہے 700 روپے حاصل ہوئے اس کا کھاتہ پہلے ہی بٹہ کھاتے میں قلم زد کیا جا چکا ہے، اس رقم کو اس کے نجی کھاتے میں کریڈٹ کر دیا گیا۔
    (v) قرض دار گوئیل سے نقد 5,000 روپے حاصل ہوئے لیکن اس کے کھاتے میں 500 روپے سے لکھے گئے۔
    (vi) مہیش کو 700 روپے کا سامان واپس کیا گیا لیکن اس کے کھاتے میں انہیں 70 روپے کا دکھایا گیا۔
    (vii) ناراین سے 1,000 روپے کا قابل وصول بل رد (Dishonour) ہو گیا اور غلطی سے اسے الاؤنس کھاتہ میں 10,000 روپے میں ڈیبٹ کردیا گیا۔
    مندرجہ بالا غلطیوں کو درست کرنے کے لیے جرنل اندراجات (Journal Entries) بتائیے اور ٹرائل بیلنس میں فرق کی رقم کو متعین کرنے کے لیے ایک معض کھاتہ تیار کیجیے۔

    حل

    (i)
    Drawings A/c Dr. 500
    To Purchases A/c 500
    (مالک نے اپنے ذاتی استعمال کے لیے اشیا نکالیں لیکن انہیں ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ اب اسے درست کر لیا گیا)
    (ii)
    Discount Allowed A/c Dr. 60
    To Ramesh's A/c 60
    (رمیش کو رعایت دیا لیکن ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ اب اسے درست کر لیا گیا)
    (iii)
    Rohan's A/c Dr. 50
    To Discount Received A/c 50
    (روہن سے رعایت حاصل ہوئی لیکن اسے پوسٹ نہیں کیا گیا۔ اب اسے درست کر لیا گیا)
    (iv)
    Khalil's A/c Dr. 700
    To Bad Debit Received A/c 700
    (وصول شدہ بٹہ کھاتہ غلطی سے قرض دار کے شخصی کھاتے میں کریڈٹ کر دیا گیا۔ اب اسے درست کر لیا گیا)
    (v)
    Suspense A/c Dr. 4,500
    To Govil's A/c 4,500
    (گویل سے نقد وصولیابی مبلغ 5,000 روپے کو غلطی سے اس کے کھاتے میں 500 روپے کے طور پر پوسٹ کر دیا)
    (vi)
    Mahesh A/c Dr. 630
    To Suspense A/c 630
    (مہیش کو 700 روپے کی اشیا واپس کیں انہیں غلطی سے کھاتے میں 70 روپے پوسٹ کر دیا۔ اب اسے درست کر دیا گیا)
    (vii)
    Narain A/c Dr. 1,000
    Suspenses A/c Dr. 9,000
    To Allowances A/c 10,000
    (ناراین سے 1,000 روپے کے قابلِ وصول بل کو غلطی سے الاؤنس کھاتے میں 10,000 روپے سے ڈیبٹ کر دیا گیا)

    معلّق کھاتہ (Suspense Account)

    رقم (روپے) جرنل فولیو تفصیلات تاریخ رقم (روپے) جرنل فولیو تفصیلات تاریخ
    630
    12,870
    13,500
    مہیش
     ٹرائل بیلنس
     میں فرق
    4,500
    9,000


    13,500
    گوول
    الاؤنس

    اپنے فہم و ادراک کی جانچ کیجیے-IV

    صحیح جواب پر نشان لگائیے:

    ٹرائل بیلنس کی برابری متاثر ہوتی ہے:
    (a)   صرف یک طرفہ غلطیوں کے ذریعے
    (b) صرف دو طرفہ غلطیوں کے ذریعے
    (c)۔ a اور b دونوں کے ذریعے
    (d) ان میں سے کسی کے ذریعے نہیں
    درجہ ذیل میں سے کون سی اصولی غلطی نہیں ہے:
    (a) فرنیچر کی خریداری کو خریداری کھاتے میں ڈیبٹ کردیا
    (b) پرانے خریدے ہوئے فرنیچر کو ٹھیک کرانے پر مرمت پر آئی رقم کو مرمت کھاتہ میں ڈیبٹ کردیا گیا۔
    (c) منوج سے حاصل شدہ نقد کو سروج کے کھاتے میں پوسٹ کر دیا
    (d) پرانی کار کی فروخت کو فروخت کھاتہ میں کریڈٹ کر دیا
    درج ذیل میں سے کون سی اختیاری غلطیاں ہیں:
    (a) فروخت کتاب کا زیادہ جوڑ
    (b) رمیش کے ہاتھ 5,000 روپے کی ادھار فروخت اس کے کھاتے میں کردی گئی
    (c) مشینری کھاتہ کی غلط بقایا نکالنا
    (d) نقد فروخت کیش بک میں ریکارڈ نہیں کی گئی
    درجہ ذیل میں کون سی غلطیوں کی تصحیح معلق کھاتہ کے ذریعے کی جائے گی۔
    (a) فروخت واپسی کھاتے کا جوڑ 1,000 روپے کم نکلا
    (b) مدھو کے ذریعے فروخت واپسی مبلغ 1,000 روپے کو درج نہیں کیا گیا
    (c) مدھو کے ذریعے 1,000 روپے فروخت واپسی کو 100 روپے ریکارڈ کیا گیا 
    (d) مدھو کے ذریعے 1,000 روپے کی فروخت کو خریداری واپسی کتاب میں درج کیا گیا
    اگر ٹرائل بیلنس برابر ہے تو اس کا مطلب ہے :
    (a) کتابو ںمیں کوئی غلطی نہیں ہے
    (b) کتابوں میں دو طرفہ غلطیاں ہو سکتی ہیں
    (c) کتابوں میں یک طرفہ غلطی ہو سکتی ہے 
    (d) کتابوں میں دو طرفہ اور یک طرفہ دونوں غلطیاں ہو سکتی ہیں۔
    اگر غلطیوں کی تصحیح کے باوجود بھی معلق کھاتہ کو ختم نہیں کیا جاتا تو اس کا مطلب ہے:
    (a) کتابو ںمیں کچھ یک طرفہ غلطیاں ہیں جن کی نشاندہی ہونی ہے
    (b) اب کوئی غلطی نہیں جس کی نشاندہی باقی ہو
    (c) صرف دو طرفہ غلطیوں کی نشاندہی باقی ہے
    (d) دو طرفہ اور یک طرفہ دونوں طرح کی غلطیوں کی نشاندہی باقی ہے۔
    اگر نئی مشینری کے نصب کرنے پر ادا کی گئی مزدوری کو مزدوری کھاتہ میں ڈیبٹ کر دیا ہو تو یہ ہے:
    (a) ایک اختیاری غلطی

    (b) ایک اصولی غلطی
    (c) ایک تلافی کن غلطی
    (d) بھول چوک کی غلطی۔
    ٹرائل بیلنس ہے:
    (a)    ایک کھاتہ 
    (b)   ایک گوشوارہ
    (c)   ایک معاون کتاب
    (d)  ایک اصل کتاب (Principal Book)
    ٹرائل بیلنس تیار کیا جاتا ہے:
    (a)   مالی گوشوارہ(Financial Statement )کی تیاری کے بعد
    (b)معاون کتابوں میں لین دین کے اندراج کے بعد
    (c) لیجر میں پوسٹنگ مکمل کرکے
    (d)  لیجر میں پوسٹنگ مکمل کرکے اور کھاتوں کے بقایاجات نکال کے۔

    اس باب میں متعارف کرائی گئی کلیدی اصطلاحات

    • ٹرائل بیلنس (Trial Balance)
    • اصولی غلطی (Error of Principle)
    • اختیاری غلطی (Error of Commission)
    • معلق کھاتہ (Suspense Account)
    • بھول چوک کی غلطی (Error Omission)
    • تلافی کن غلطی (Compensating Error)

    سیکھنے کے مقاصد کے نقطۂ نظر سے خلاصہ

    ٹرائل بیلنس کا مفہوم: ایک ایسا گوشوارہ جو کھاتہ بہی (Ledger) میں مختلف کھاتوں کے بقایاجات (Credit/Debit) کا ماحصل ظاہر کرتا ہے۔
    ٹرائل بیلنس کے مقاصد: ٹرائل بیلنس کے تیار کرنے کے خاص مقاصد ہیں: (i) لیجر کھاتوں کی حسابی درستی کا تیقن (Ascertain) کرنا، (ii) غلطیوں کا پتہ لگانے میں مدد کرنا اور (iii) اختتامی کھاتوں (Final Account) کی تیاری میں مدد کرنا۔
    بقایا جاتی طریقہ سے ٹرائل بیلنس تیار کرنا: اس طریقے میں ٹرائل بیلنس کے تین خانے (کالم) ہوتے ہیں۔ پہلا خانہ کھاتے کے عنوان کے لیے (Head of the Account)، دوسرا کالم ڈیبٹ بیلنس لکھنے کے لیے اور تیسرا کالم Ledger  میں ہر کھاتے کے Credit Balance کے لیے۔
    مختلف قسم کی غلطیاں:
    (i) اختیاری غلطیاں (Errors of Commission): کسی لین دین کے غلط اندراج کے سبب ہونے والی غلطیاں، غلط میزان، غلط حساب لگانا (Wrong Costing)، غلط بقایا نکالنا (Wrong Balancing) وغیرہ۔
    (ii) بھول چوک کی غلطیاں (Errors of Omission): کھاتہ داری کی کتابوں میں کُلی یا جزوی طور پر کسی لین دین کا اندراج ہونے کے سبب رہ جانا۔
    (iii) اصولی غلطیاں (Errors of Principle): محاصل اور سرمایہ جاتی وصولیابیوں اور سرمایہ جاتی اخراجات کے درمیان وصولیابیوں اور ادائیگیوں کی غلط تقسیم کے سبب رونما ہونے والی غلطیاں۔
    (iv) تلافی کن غلطیاں (Compensating Errors): دو یا دو سے زیادہ ایسی غلطیاں جو اس طور پر واقع ہوں کہ ڈیبٹ اور کریڈٹ پر ایک دوسرے کا اثر بالکل صفر ہو جائے یا کچھ باقی نہ رہے۔
    غلطیوں کی تصحیح (Rectification of Errors) : کسی ایک کھاتے پر اثرانداز ہونے والی غلطیوں کی ایک وضاحتی نوٹ دے کر یا جرنل اندراج کے ذریعے تصحیح کی جاسکتی ہے۔
    معلّق کھاتے (Suspense Account) کا مفہوم اور افادیت: ایک کھاتہ جس میں ٹرائل بیلنس کے فرق کو رکھا جاتا ہے  اس وقت تک کے لیے جب تک کہ غلطیوں کی نشاندہی نہ ہو جائے اور ان کی تصحیح نہ کرلی جائے۔ اس سے مالیاتی گوشواروں کے تیار کرنے میں سہولت ہوتی ہے حالانکہ ٹرائل بیلنس ابھی برابر نہیں۔
    معلق کھاتہ کو ختم کرنا : جب تمام غلطیوں کی نشاندہی کرلی جاتی ہے اور پھر ان کی تصحیح بھی ہو جاتی ہے تو پھر معلق کھاتہ کا وجود ختم ہو جاتا ہے۔

    مشق کے سوالات 

    مختصر جوابی سوالات

    ٹرائل بیلنس کا مفہوم بیان کیجیے۔
    اصولی غلطیوں کی دو مثالیں دیجیے۔
    اختیاری غلطیوں کی دو مثالیں دیجیے۔
    ٹرائل بیلنس تیار کرنے کے کیا طریقے ہیں؟
    ٹرائل بیلنس میں اکاؤنٹینٹ کو غلطیوں کا پتہ لگانے کے لیے کیا اقدام کرنے پڑتے ہیں؟
    معلّق کھاتہ (Suspense Account) کیا ہے؟ کیا یہ ضروری ہے کہ اکاؤنٹینٹ کے ذریعہ پتہ لگائی گئی غلطیوں کی تصحیح کے بعد اس کھاتہ کو ختم کر دیا جائے۔ اگر ایسا نہیں تو پھر معلق کھاتہ میں اس وقت تک موجود رقم کا کیا ہوگا ؟
    کس قسم کی غلطیاں ٹرائل بیلنس میں فرق کا سبب ہوتی ہیں؟ نیز اُن غلطیوں کی مثالیں پیش کیجیے جن کا ٹرائل بیلنس میں پتہ نہیں چلتا۔
    ٹرائل بیلنس کی خامیاں بیان کیجیے۔

    طویل جوابی سوالات

    ٹرائل بیلنس کے تیار کرنے کا مقصد بیان کیجیے۔
    اصولی غلطیوں کی وضاحت کیجیے اور ان کی تصحیح کے طریقوں کے ساتھ دو مثالیں دیجیے۔
    اختیاری غلطیوں کی وضاحت کیجیے اور ان کی تصحیح کے طریقوں کے ساتھ دو مثالیں دیجیے۔
    مختلف قسم کی وہ کون سی غلطیاں ہیں جو کاروباری لین دین کے اندراج کے وقت واقع ہوتی ہیں؟
    ایک کمپنی کے اکاؤنٹینٹ کی حیثیت سے آپ کو یہ جان کر مایوسی ہوگی کہ آپ کے ٹرائل بیلنس کے میزان برابر نہیں ہیں۔ بغور تجزیہ کے بعد آپ نے صرف ایک غلطی کا پتہ لگایا۔ یعنی یہ کہ دفتری سامان کھاتہ کا بقایا ٹرائل بیلنس میں، 15,600 سے ڈیبٹ کیا گیا۔ پھر یہ بھی آپ نے پتہ لگایا کہ 3,500 روپے کے Pendrive کی اُدھار خریداری کو صحیح طور پر ریکارڈ تو کیا گیا مگر جرنل سے لیجر میں Office Equipment کو ڈیبٹ کیا گیا اور دوسرے 3,500 روپے کو قرض خواہوں (Creditors) کے کھاتوں میں ڈیبٹ کر دیا گیا۔ درج ذیل ہر سوال کا جواب دیجیے اور کسی بھی غلط اظہار کی رقم کو پیش کیجیے:
    (a) کیا ٹرائل بیلنس میں دفتری سامان کھاتے، کے بیلنس کا حساب زیادہ لگایا گیا، یا کم لگایا گیا یا صحیح لگایا گیا؟
    (b) کیا ٹرائل بیلنس میں قرض خواہوں کے کھاتوں کا جوڑ کم لگایا گیا، زیادہ لگایا یا صحیح لگایا گیا؟
    (c) کیا ٹرائل بیلنس کے ڈیبٹ میزانی کالم کا جوڑ زیادہ لگایا گیا، کم لگایا گیا یا صحیح لگایا گیا؟
    (d) کیا ٹرائل بیلنس کے کریڈٹ کالم کا جوڑ زیادہ لگایا گیا، کم لگایا گیا یا صحیح لگایا گیا؟
    (e) اگر غلطی کی تصحیح سے پہلے ٹرائل بیلنس کے ڈیبٹ کالم کا میزان 2,40,000 ہو تو کریڈٹ کالم کا 
    میزان کیا ہوگا؟

    عددی سوالات:

    مندرجہ ذیل غلطیوں کی تصحیح کیجیے:
    (i) موہن کو 7,000 روپے کی فروخت کو درج نہیں کیا گیا
    (ii) موہن سے 9,000 روپے کی خریداریوں کو درج نہیں کیا گیا
    (iii) راکیش کو 4,000 روپے کی واپسی اشیا کو درج نہیں کیا گیا
    (iv) مہیش سے 1,000 روپے کی واپسی اشیا کو درج نہیں کیا گیا

    مندرجہ ذیل غلطیوں کی تصحیح کیجیے:

    (i) موہن کو 7,000 روپے کی ادھار فروخت کو 700 روپے درج کیا گیا
    (ii) روہن سے 9,000 روپے کی ادھار خریداری کو 900 روپے درج کیا گیا
    (iii) راکیش کو 4,000 روپے کی واپس اشیا کو 400 روپے درج کیا گیا
    (iv) مہیش سے 1,000 روپے کی واپسی اشیا کو 100 روپے درج کیا گیا

    مندرجہ ذیل غلطیوں کی تصحیح کیجیے:
    (i) موہن کو 7,000 روپے کی ادھار فروخت کو 7,200 روپے درج کیا گیا
    (ii) روہن سے 9,000 روپے کی ادھار خریداریوں کو 9,900 روپے درج کیا گیا
    (iii) راکیش کو 4,000 روپے کی واپس کردہ اشیا کو 4,040 روپے درج کیا گیا
    (iv) مہیش سے 1,000 روپے کی واپس آئی اشیا کو 1,600 روپے درج کیا گیا

    مندرجہ ذیل غلطیو ںکی تصحیح کیجیے:
    (a)۔ 5,000 روپے تنخواہ کی ادائیگی کو ملازم کے شخصی کھاتے میں ڈیبٹ کردیا گیا۔
    (b)۔ 4,000 روپے کرایہ کی ادائیگی کو مالک جائیداد کے شخصی کھاتے میں پوسٹ کر دیا گیا۔
    (c)۔ 1,000 روپے کی مالک کے ذریعے نکالی گئی اشیا کو متفرق اخراجات کھاتے میں ڈیبٹ کردیا گیا۔
    (d)۔ 2,000 روپے کوہلی سے وصول ہوئے اسے کپور کے کھاتے میں پوسٹ کر دیا گیا۔
    (e)۔ 1,500 روپے بابو کو ادا کیے اسے سابو کے کھاتے میں پوسٹ کر دیا گیا۔

    مندرجہ ذیل غلطیوں کی تصحیح کیجیے:
    (a) موہن کے ہاتھ 7,000 روپے کی ادھار فروخت کو خریداری کتاب میں درج کردیا گیا۔
    (b) روہن سے 900 روپے کی ادھار خریداریوں کو فروخت کتاب میں درج کردیا گیا۔
    (c) راکیش کو 4,000 روپے کی واپس کردہ اشیا فروخت واپسی کتاب میں درج کردی گئیں۔
    (d) مہیش سے 1,000 روپے کی واپس آئی اشیا کو خریداری واپسی کتاب میں درج کر دیا گیا۔
    (e) مہیش سے 2,000 روپے کی واپس آئی اشیا کو خریداری کتاب میں درج کردیا گیا۔

    مندرجہ ذیل غلطیوں کی تصحیح کیجیے:
    (a) فروخت کتاب میں 700 روپے زیادہ حساب لگایا گیا۔
    (b) خریداری کتاب میں 500 روپے زیادہ حساب لگایا گیا۔
    (c) فروخت واپسی کتاب میں 3,000 روپے زیادہ حساب لگایا گیا۔
    (d) خریداری واپسی کتاب میں 200 روپے زیادہ حساب لگایا گیا۔

    مندرجہ ذیل غلطیوں کی تصحیح کیجیے:
    (a) فروخت کتاب میں 300 روپے کم حساب لگایا گیا۔
    (b) خریداری کتاب میں 400 روپے کم حساب لگایا گیا۔
    (c)۔ Return Inwards Book میں 400 روپے کم حساب لگایا گیا۔
    (d)۔ Return Outwards Book میں 100 روپے کم حساب لگایا گیا۔

    مندرجہ ذیل غلطیوں کی تصحیح کیجیے اور ٹرائل بیلنس میں آئے فرق کو معلق کھاتہ تیار کرکے نکالیے۔
    (a) موہن کے ہاتھ کو 7,000 روپے کی ادھار فروخت کو پوسٹ نہیں کیا گیا۔
    (b) روہن سے 9,000 روپے کی ادھار خریداری کو پوسٹ نہیں کیا گیا۔
    (c) راکیش کو 4,000 روپے کی واپس کردہ اشیا پوسٹ نہیں کی گئیں۔
    (d) مہیش سے 1,000 روپے کی واپس آئی اشیا کو پوسٹ نہیں کیا گیا۔
    (e) گنیش کو 3,000 روپے کی ادائیگی کو پوسٹ نہیں کیا گیا۔
    (f)۔ 2,000 روپے کی نقد فروخت کو پوسٹ نہیں کیا گیا۔
    (جواب: ٹرائل بیلنس میں 2,000 روپے کا زیادہ کریڈٹ بقایا)

    مندرجہ ذیل غلطیوں کی تصحیح کیجیے اور معلق کھاتہ تیار کرکے ٹرائل بیلنس کا فرق نکالیے۔
    (a) موہن کے ہاتھ 7,000 روپے کی ادھار فروخت کو 9,000 روپے پوسٹ کردی گئی۔
    (b) روہن سے 9,000 روپے کی ادھار خریداری کو 9,000 روپے پوسٹ کردیا گیا۔
    (c) راکیش کے ہاتھ 4,000 روپے کی ادھار خریداری کو 6,000 روپے پوسٹ کردیا گیا۔
    (d) مہیش سے واپس آئی 1,000 روپے کی اشیا کو 3,000 روپے پوسٹ کردیا گیا۔
    (e)۔ 2,000 روپے کی نقد فروخت کو 200 روپے پوسٹ کر دیا گیا۔
    (جواب: ٹرائل بیلنس میں 5,800 روپے کا زیادہ ڈیبٹ بقایا)

    10۔ مندرجہ ذیل غلطیوں کی تصحیح کیجیے:
    (a) موہن کے ہاتھ 7,000 روپے کی ادھار فروخت کو کرن کے کھاتے میں پوسٹ کر دیا گیا۔
    (b) روہن سے 9,000 روپے کی ادھار خریداریوں کو گوبند کے کھاتے میں پوسٹ کر دیا گیا۔
    (c) راکیش کو 4,000 روپے کی واپس کردہ اشیا نریش کے کھاتے میں پوسٹ کردی گئیں۔
    (d) مہیش سے 1,000 روپے کی واپس آئی اشیا کو منیش کے کھاتے میں پوسٹ کردیا گیا۔
    (e)۔ 2,000 روپے کی نقد فروخت کو کمیشن کھاتے میں پوسٹ کردیا گیا۔

    11۔ یہ فرض کرتے ہوئے کہ معلق کھاتہ کھولا گیا ہے، مندرجہ ذیل کی تصحیح کیجیے:
    (a) موہن کو کے ہاتھ 7,000 روپے کی ادھار فروخت کو اس کے کھاتے میں کریڈٹ کر دیا گیا۔
    (b) روہن سے 9,000 روپے کی ادھار خریداری کی گئی لیکن اس کے کھاتے میں 6,000 روپے ڈیبٹ کر دیے گئے۔
    (c) راکیش کو واپس کردہ 4,000 روپے کی اشیا کے لیے اس کے کھاتے کو کریڈٹ کر کے دکھایا گیا
    (d) مہیش سے واپس آئی 1,000 روپے کی اشیا اس کے کھاتے 2,000 روپے ڈیبٹ کرکے دکھائی گئیں
    (e)۔ 2,000 روپے کی نقد فروخت کو فروخت کھاتے میں 5,000 روپے ڈیبٹ کرکے دکھایا گیا۔
    (جواب : ٹرائل بیلنس میں 3,000 روپے کا زیادہ ڈیبٹ بقایا)

    12۔ مندرجہ ذیل غلطیوں کی تصحیح کیجیے یہ فرض کرتے ہوئے کہ معلق کھاتہ کھولا گیا ہے اور ٹرائل بیلنس میں فرق کا پتہ لگائیے:
    (a) موہن کے ہاتھ 3,000 روپے کی ادھار فروخت کرن کے کھاتے میں 5,000 روپے پوسٹ کی گئی
    (b) روہن سے 9,000 روپے کی ادھار خریداری گوبند کے ڈیبٹ کھاتے میں 10,000 پوسٹ کردی گئی۔
    (c) راکیش کو 4,000 روپے کی واپس کردہ اشیا نریش کے کھاتے میں 3,000 روپے کریڈٹ کے ساتھ پوسٹ کردی گئیں۔
    (d) مہیش سے 1,000 روپے کی واپس آئی اشیا کو منیش کے کھاتے میں 2,000 روپے ڈیبٹ کے ساتھ پوسٹ کردیا گیا۔
    (e)۔ 2,000 روپے کی نقد فروخت کو کمیشن کھاتہ میں 200 روپے پوسٹ کر دیا گیا۔
    (جواب: ٹرائل بیلنس میں 14,800 روپے فرق کا زیادہ ڈیبٹ بقایا)

    13۔ یہ فرض کرکے کہ معلق کھاتہ کھولا گیا ہے مندرجہ ذیل غلطیوں کی تصحیح کیجیے اور ٹرائل بیلنس کا فرق نکالیے:
    (a) موہن کو 7,000 روپے کی ادھار فروخت خریداری کتاب میں درج کی گئی تاہم موہن کا کھاتہ صحیح طور پر ڈیبٹ کیا گیا۔
    (b) روہن سے 9,000 روپے کی ادھار خریداریوں کو فروخت کی کتاب میں درج کرلیا گیا تاہم روہن کا کھاتہ صحیح طور پر کریڈٹ کیا گیا۔
    (c) راکیش کو 4,000 روپے کی اشیا واپس کیں انہیں فروخت واپسی کھاتہ میں درج کرلیا گیا تاہم راکیش کا کھاتہ صحیح طور پر ڈیبٹ کیا گیا۔
    (d) مہیش سے 1,000 روپے کی اشیا واپس ہوئیں جنہیں خریداری واپسی کتاب میں درج کرلیا گیا تاہم مہیش کا کھاتہ صحیح طور پر کریڈٹ کیا گیا۔
    (e) نریش کو 2,000 روپے کی اشیا واپس کیں انہیں خریداری کتاب میں درج کیا گیا تاہم نریش کا کھاتہ صحیح طور پر ڈیبٹ کردیا گیا۔
    (جواب: ٹرائل بیلنس میں فرق، 6,000 روپے زیادہ ڈیبٹ بقایا)

    14۔ مندرجہ ذیل غلطیوں کی تصحیح کیجیے:
    (a)۔ 10,000 روپے کا فرنیچر خریدا جسے غلطی سے خریداری کھاتہ میں ڈیبٹ کردیا گیا۔
    (b) رمن سے 20,000 روپے کی ادھار مشینری خریدی اسے خریداری کتاب میں درج کردیا گیا۔
    (c) مشینری پر مرمت کے 1,400 روپے مشنری کھاتے میں ڈیبٹ کر دیے گئے۔
    (d) پرانی خرید کردہ مشینری کی مرمت پر 2,000 روپے مرمت کھاتے میں ڈیبٹ کیے گئے۔
    (e)۔ 3,000 روپے کی پرانی مشنری کی فروخت کو فروخت کھاتہ میں کریڈٹ کردیا گیا۔
    15۔ مندرجہ ذیل غلطیوں کی تصحیح کیجیے یہ فرض کرکے کہ معلق کھاتہ کھولا گیا ہے نیز ٹرائل بیلنس کا فرق معلوم کیجیے:
    (a)۔ 10,000 روپے کے خریدے گئے فرنیچر کو غلطی سے خریداری کھاتہ میں 4,000 روپے میں ڈیبٹ کیا گیا۔
    (b) رمن سے 20,000 روپے کی ادھار خریدی مشنری کو خریداری کتاب میں 6,000 روپے درج کیا گیا۔
    (c) مشینری پر 1,400 روپے مرمت کے خرچ کیے مگر مشینری کھاتہ میں 2,400 روپے دکھائے گئے۔
    (d) پرانی خریدی ہوئی مشنری کو ٹھیک کرانے پر 2,000 روپے خرچ کیے جنہیں مرمت کھاتے میں 200 روپے سے ڈیبٹ کردیا گیا۔
    (e) ایک پرانی مشین کو اس کی کتاب قیمت پر 30,000 روپے میں فروخت کردیا اور اسے فروخت کھاتہ 5,000 روپے سے کریڈٹ کردیا گیا۔
    (جواب: ٹرائل بیلنس کا فرق 8,800 روپے کا زیادہ کریڈٹ بقایا)

    16۔ مندرجہ ذیل غلطیوں کی تصحیح کیجیے:
    (a) مشینری کی فرسودگی پر فراہم 4,000 روپے پوسٹ نہیں کیے گئے۔
    (b) بٹہ کھاتے کے قلم زدہ 5,000 روپے پوسٹ نہیں کیے گئے۔
    (c) ایک مقروض (Debtor) سے نقد وصولیابی پر 100 روپے کی رعایت دی گئی جسے پوسٹ نہیں کیا گیا۔
    (d) ایک مقروض کو 100 روپے کے دیے اس کی نقد ادائیگی کو وصولیابی پر اسے کھاتہ میں پوسٹ نہیں کیا گیا۔
    (e)۔ 2,000 روپے کا قابلِ وصول بل (Bils Receivable) ایک مقروض سے سے ملا جسے پوسٹ نہیں کیا گیا

    17۔ مندرجہ ذیل غلطیوں کی تصحیح کیجیے:
    (a) مشینری کی فرسودگی پر فراہم کردہ  4,000 روپے پوسٹ نہیں کیے گئے۔
    (b) بٹہ کھاتے کے قلمزدہ 5,000 روپے کو 6,000 روپے پوسٹ کردیا گیا۔
    (c) ایک مقروض سے نقد وصولیابی پر 100 روپے کی رعایت دی جسے 60 روپے پوسٹ کیا گیا۔
    (d) مالک نے 800 روپے کی اشیا اپنے ذاتی استعمال کے لیے نکالیں جنہیں 300 روپے پوسٹ کردیا گیا۔
    (e)۔ 2,000 روپے کا ایک قابل وصول بل جو ایک مقروض سے ملا اسے 3,000 روپے پوسٹ کردیا گیا۔

    18۔ یہ فرض کرکے کہ معلق کھاتہ کھولا گیا ہے مندرجہ ذیل غلطیوں کی تصحیح کیجیے اور ٹرائل بیلنس کا فرق معلوم کیجیے:
    (a) مشینری پر فراہم کردہ فرسودگی کے 4,000 روپے فرسودگی کھاتہ میں پوسٹ نہیں ہوئے۔
    (b)۔ 5,000 روپے کا قلم زد کردہ ڈوبا ہوا قرض، مقروض (Debtor) کے کھاتے میں نہی چڑھایا گیا۔ 
    (c) مقروض سے نقد وصولی پر اس کو 100 روپے کی دی گئی چھوٹ کھاتہ میں نہیں چڑھائی گئی۔ 
    (d) مالک کے ذریعے 800 روپے کے ذاتی خرچ کے لیے نکالے گئے سامان کو Drawing کھاتہ میں نہیں چڑھایا گیا۔ 
    (e)۔ 2,000 روپے کے قابل وصول بل کو جو مقروض سے حاصل ہوا تھا قابل وصول بل کھاتہ میں نہیں چڑھایا گیا۔ 
    (جواب: ٹرائل بیلنس کا فرق 1,900 روپے زیادہ کریڈٹ)

    19۔ انوج کے ٹرائل بیلنس میں فرق آرہا ہے۔ یہ 6,000 روپے زیادہ کریڈٹ دکھا رہا ہے۔ اس نے فرق کو معلق کھاتے میں ڈال دیا۔ اس نے مندرجہ ذیل غلطیوں کا پتہ چلایا۔ 
    (a) رویش سے نقد وصول 8,000 روپے اس کے کھاتے میں 6,000 روپے چڑھے۔ 
    (b) اندرون واپسی کتاب (Returns Inwards Book) میں 1,000 روپے زیادہ چڑھ گئے۔ 
    (c) فروخت کتاب کا میزان 10,000 روپے فروخت کھاتہ میں نہیں چڑھا۔ 
    (d)۔ 7,000 روپے کی نانک سے ادھار خرید فروخت کتاب میں چڑھا دی گئی۔ البتہ نانک کے کھاتے میں صحیح کریڈٹ کی گئی۔ 
    (e)۔ 10,000 روپے کی خریدی گئی مشین کو خرید کھاتہ میں5,000 روپے چڑھا دیا گیا۔ ان غلطیوں کو درست کیجئے اور معلق کھاتہ تیار کیجئے۔  
    (جواب: معلق کھاتے کا میزان 19,000 روپے) 

    20۔ راجو کا ٹرائل بیلنس 10,000 روپے زیادہ ڈیبٹ دکھا رہا ہے۔ اس نے فرق کو معلق کھاتے میں ڈال دیا اور مندرجہ ذیل غلطیوں کا پتہ چلایا۔
    (a) فرنیچر کی 6,000 روپے کی قلم زد فرسودگی فرنیچر کھاتے میں نہیں چڑھائی گئی۔ 
    (b) روپم کے ہاتھ 10,000 روپے کی ادھار فروخت 7,000 روپے ریکارڈ کی گئی۔ 
    (c) خریداری کتاب میں 2,000 روپے کم چڑھائے گئے۔ 
    (d)۔ 5,000 روپے کی رانا کے ہاتھوں فروخت چڑھائی نہیں گئی۔ 
    (e) پرانی مشینری جو 7,000 روپے میں فروخت کی گئی اس کو فروخت کھاتے میں کریڈٹ کر دیا گیا۔ 
    (f) نقد ادائیگی کرنے پر کائن سے 800 روپے کی چھوٹ ملی لیکن چڑھائی نہیں گئی۔ ان غلطیوں کی اصلاح کیجئے اور معلق کھاتہ تیار کیجئے۔ 
    (جواب: معلق کھاتے میں اگلے صفحہ پر لے جایا گیا بقایا 1,000 روپے کریڈٹ۔ 

    21۔ مدن کے ٹرائل بیلنس میں فرق آرہا ہے۔ اس نے اس فرق کو معلق کھاتے میں چڑھادیا اور مندرجہ ذیل غلطیوں کا پتہ چلایا۔ 
    (a) فروخت واپسی کتاب میں 800 روپے کم چڑھادیے گئے۔ 
    (b) خریداری واپسی کے 2,000 روپے ساہو کے کھاتے میں نہیں چڑھائے گئے۔ 
    (c) نرولا سے 4,000 روپے کا قرض سامان خریدا گیا جسے اسٹاک میں تو چڑھایا لیکن کتابوں میں اندراج نہیں کیا گیا۔ 
    (d) نئی مشینری کی تنصیب پر 500 روپے خرچ ہوئے جنھیں متفرق اخراجات کھاتے میں 50 روپے کے طور پر ڈیبٹ کر دیا گیا۔ 
    (e) مدن جو مالک ہے اس کے رہائشی مکان کے 1,400 روپے کرایہ کو کرایہ کھاتے میں 1,000 روپے ڈیبٹ کر دیا گیا۔ 
    غلطیوں کو درست کیجئے۔ معلق کھاتہ تیار کیجئے اور ٹرائل بیلنس کے فرق کا پتہ لگائیے۔ 
    (جواب:۔ ٹرائل بیلنس کا فرق 2,050 روپے زیادہ کریڈٹ) ۔

    22۔ کوہلی کا ٹرائل بیلنس برابر نہیں تھا وہ 16,300 روپے سے زیادہ ڈیبٹ دکھا رہا تھا۔ اس نے اس فرق کو معلق کھاتہ میں ڈال دیا اور پھر مندرجہ ذیل غلطیوں کا پتہ لگایا:
    (a) رجت سے 5,000 روپے نقد وصول ہوئے لیکن کمال کے کھاتے میں 6,000 روپے ڈیبٹ کر دیے گئے۔
    (b) ایک ملازم کو 2,000 روپے تنخواہ کی ادائیگی کی لیکن اس کے شخصی کھاتے میں 1,200 ڈیبٹ کردیے گئے۔
    (c) مالک کے ذریعے 1,000 روپے کی اشیا نکالی گئیں جنہیں فروخت کھاتے میں 1,600 روپے کریڈٹ کر دیا گیا۔
    (d) مشینری پر فراہم کردہ 3,000 روپے فرسودگی کو مشنری کھاتہ میں 300 روپے پوسٹ کردیا گیا۔
    (e)۔ 10,000 روپے جو پرانی کار کی فروخت سے آئے انہیں فروخت کھاتے میں 6,000 روپے کریڈٹ کر دیا گیا۔
    ان غلطیوں کی تصحیح کیجیے اور معلق کھاتہ تیار کیجیے۔

    23۔ مندرجہ ذیل غلطیوں کی تصحیح کے لیے جرنل اندراج کیجیے یہ خیال کرتے ہوئے کہ کتابوں میں معلق کھاتہ کھولا گیا ہے:
    (a)۔ 5,000 روپے کی اشیا بطور سیمپل مفت تقسیم کی تھیں انہیں کتابوں میں درج نہیں کیا گیا۔
    (b) مالک کے ذریعہ شخصی استعمال کے لیے 2,000 روپے کی اشیا نکالی گئیں انہیں کتابوں میں درج نہیں کیا گیا۔
    (c) ایک مقروض سے 6,000 روپے کا ایک قابل وصول بل حاصل کیا اسے اس کے کھاتہ میں پوسٹ نہیں کیا گیا۔
    (d)۔ 1,200 روپے کا اندرون واپسی کتاب کا ٹوٹل بیرون واپسی کھاتے (Returns Outwards Account) میں کردیا گیا۔
    (e) ریما کو 16,000 روپے نقد وصولیابی پر چھوٹ رعایت کی شکل میں دیے گئے۔ اسے کتابوں میں 70 روپے دکھایا گیا۔
    (جواب: ٹرائل بیلنس میں فرق 3600 کا زائد ڈیبٹ بقایا)

    24۔ کھاٹو کا ٹرائل بیلنس برابر نہیں تھا۔ اس نے اس فرق کو معلق کھاتہ میں ڈال دیا اور مندرجہ ذیل غلطیوں کا پتہ لگایا:
    (a) مناس کے ہاتھ 16,000 روپے کی ادھار فروخت کو خریداری کتاب میں 10,000 روپے درج کیا گیا اور مناس کے کھاتے میں 1,000 روپے ڈیبٹ کر دیے گئے۔
    (b) نور سے 6,000 روپے کا فرنیچر خریدا گیا اسے خریداری کتاب میں 5,000 روپے درج کیا گیا اور نور کے ڈیبٹ میں 2,000 پوسٹ کر دیا۔
    (c)۔ Raiکو 3,000 روپے کی اشیا واپس کیں جنہیں فروحت کی کتاب میں 1,000 روپے درج کیا گیا۔
    (d) منیش کو پرانی مشنری 2,000 روپے کی فروخت کی گئی جسے فروخت کتاب میں 1,800 روپے درج کیا گیا اور منیش کے کھاتے میں 1,200 روپے کریڈٹ کرکے پوسٹ کیا گیا۔
    (e) اندرون واپسی کتاب (Returns Inwards Book) کا کل میزان 2,800 روپے خرید کھاتے میں پوسٹ کر دیا گیا۔
    مذکورہ بالا غلطیوں کی تصحیح کیجیے اور معلق کھاتہ تیار کیجیے۔
    ٹرائل بیلنس کا فرق معلوم کرنے کے لیے معلق کھاتہ تیار کیجیے۔
    (جواب ٹرائل بیلنس میں فرق 15,000 روپے زیادہ ڈیبٹ بقایا)

    25۔ جون کا ٹرائل بیلنس برابر نہیں تھا۔ اس نے اس فرق کو معلق کھاتے میں ڈال دیا اور پھر مندرجہ ذیل غلطیوں کا پتہ چلا:
    (a) ماہ جنوری کے لیے فروخت کتاب کے صفحہ 2 کا کل میزان (Total) صفحہ 3 پر 1,200 روپے کے بجائے 1,000 روپے لے جایا گیا اور صفحہ6 کا کل میزان صفحہ 7 پر بجائے 5,000 کے 5,600 لے جایا گیا۔
    (b) مشینری نصب کرنے کی مزدوری 500 روپے کو مزدوری کھاتہ میں 50 روپے پوسٹ کیا گیا۔
    (c) آر۔ اینڈ کمپنی سے 10,000 روپے کی ادھار مشنری خریدی جسے خریداری کتاب میں 6,000 روپے درج کر دیا گیا اور پوسٹنگ میں 1,000 روپے دکھائے گئے۔
    (d) موہن کے ہاتھ 5,000 روپے کی ادھار فروخت کو خریداری کتاب میں درج کیا گیا۔
    (e)۔ 1,000 روپے کی رام کو واپس کی گئی اشیا کو فروخت کی کتاب پر چڑھائی گئیں۔
    (f) ایس۔ اینڈ کمپنی سے 6,000 روپے کی ادھار خریداری ہوئی جسے فروخت کتاب میں درج کرلیا گیا تاہم ایس ۔اینڈ کمپنی کو صحیح طور پر کریڈٹ کیا گیا۔
    (g) ایم۔ اینڈ کمپنی سے 6,000 روپے کی ادھار خریداری ہوئی جسے فروخت کتاب میں 2,000 روپے درج کردیا گیا اور ایم۔ اینڈ کمپنی کے کریڈٹ میں 1,000 روپے پوسٹ ہوئے۔
    (h) رمن کے ہاتھ 4,000 روپے کی ادھار فروخت کو راگھون کے کھاتہ میں 1,000 روپے سے کریڈٹ کردیا گیا۔
    (i) نور سے 1,600 روپے کا قابل بل وصول ناقابل ادا ہوگیا اور اسے الاؤنس (Allowance) کھاتہ میں ڈیبٹ کے ساتھ پوسٹ کیا گیا۔
    (j) مَنی کو 5,000 روپے ہماری منظوری کے مقابلہ نقد ادائیگی کی گئی اور اسے مَنو کے کھاتے میں ڈیبٹ کر دیا گیا۔
    (k)۔ 3,000 روپے کا پرانا فرنیچر فروخت کیا اسے فروخت کھاتہ میں 1,000 روپے پوسٹ کردیا گیا۔
    (l) فرنیچر پر فراہم کردہ 800 روپے فرسودگی کو پوسٹ نہیں کیا گیا۔
    (m) بلڈنگ کی تعمیر میں مال کی خریداری کے لیے 10,000 اور مزدوری کے 3,000 روپے خرچ ہوئے کتابوں میں اس کی کوئی تطبیق (Adjustment) نہیں ہوئی۔
    غلطیوں کی نشاندہی کیجیے اور ٹرائل بیلنس فرق کو معلوم کرنے کے لیے معلق کھاتہ تیار کیجیے۔
    (جواب: ٹرائل بیلنس میں فرق 13,850 روپے کا زیادہ کریڈٹ بقایا)

    اپنے فہم و ادراک کی جانچ کے لیے جانچ فہرست

    اپنے فہم و ادراک کی جانچ کیجیے-I
    کل ٹرائل بیلنس = 5,17,000 روپے
    اپنے فہم و ادراک کی جانچ کیجیے-II
    1. Purchases A/c(مال خرید کھاتہ) Dr. 5,000
    To Rajni’s A/c 5,000
    Rajni’s A/c Dr. 5,000
    To Sales A/c 5,000
    Rajni’s A/c Dr. 10,000
    To Sales A/c 5,000
    To Purchases A/c 5,000
    2. Purchases A/c Dr. 8,000
    To Rao’s A/c 8,000
    Furniture A/c (فرنیچر) Dr. 8,000
    To Purchases A/c 8,000
    3. Cash A/c Dr. 15,000
    To Commission A/c 15,000
    Cash A/c Dr. 15,000
    To Sales A/c 15,000
    Commission A/c (کمیشن) Dr. 15,000
    To Sales A/c 15,000
    4. Cash A/c Dr. 6, 000
    To Nadeem’s A/c 6,000
    Cash A/c Dr. 6,000
    To Karim’s A/c 6,000

    اپنی فہم کی جانچ کیجیے-III

    اختیاری غلطی (Error of Commission)
    Mohan’s A/c Dr. 12, 000
    To Sales A/c 12,000
    Mohan’s A/c Dr 10,000
    To Sales A/c 10,000
    Suspense (معلق)A/c Dr. 2,000
    To Mohan’s A/c 2,000
    جزوی فردگذاشت (Error of Partial Omission)
    xxx A/c Dr. 2,000
    To Cash A/c 2,000

    Neha’s A/c Dr. 2,000
    To Suspense A/c 2,000
    Neha’s A/c Dr. 2,000
    To Suspense A/c 2,000
    اختیاری غلطی (Error of Commission)
    Sales Return A/c Dr. 1,600
    To Megha’s A/c 1,600
    Sales Returns A/c(مال واپسی کھاتہ) Dr. 1,600
    To Megha’s A/c 1,600
    Suspense (معلق)A/c Dr. 600
    To Megha’s A/c 600
    اختیاری غلطی (Error of Commission)
    xxx Dr. 1,500
    To Furniture A/c 1,500
    Depreciation A/c Dr. 1,500
    To Furniture A/c 1,500
    Depreciation A/c(فرسودگی) Dr. 1,500
    To Suspense A/c 1,500

    اپنے فہم و ادراک کی جانچ کیجیے - IV

    1۔(c)   
    2۔(c)  
    3.(d)
    4.(a)
    5.(b)
    6.(a)
    7.(b)
    8.(b)
    9.(d)