Skip to content
Keemiyan II




7



فرسودگی، بندوبست اور محفوظات

(Depreciation, Provisions and Reserves)

سیکھنے کے مقاصد 

اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ اس قابل ہوں گے کہ
  • فرسودگی کا مفہوم واضح کر سکیں اور مستقل تقلیل قدر اور تقلیل سے اس کا موازنہ کر سکیں؛
  • فرسودگی نکالنے کی ضرورت بیان کر سکیں اور اس کے اسباب کی نشاندہی کر سکیں؛
  • خطِ مستقیم (متعین قسط) کے طریقے اور قلم زدگی قدر (بقایہ تقلیل) کے طریقوں کو استعمال کر کے فرسودگی کا حساب نکال سکیں؛
  • اثاثوں کی فرسودگی اور ترتیب و انتظام سے متعلق لین دین کا اندراج کر سکیں؛
  • بندوبست اور محفوظات کے لیے مختص کیے جانے کا مفہوم اور مقصد واضح کر سکیں؛
  • محفوظات اور بندوبست میں فرق واضح کر سکیں؛
  • بندوبست اور محفوظات کی مختلف قسموں بشمول مخفی محفوظات کی نوعیت واضح کر سکیں۔

  • مماثل اصول (Matching Principle) کا تقاضا ہے کہ کسی دی گئی مدت کے محاصل کے بالمقابل اسی مدت کے اخراجات مماثل ہوں۔ اس سے نفع یا نقصان کی صحیح رقم کی دریافت یقینی ہو جاتی ہے۔ اگر کچھ لاگت لگائی جاتی ہے اور اس کے فوائد ایک سے زیادہ حسابی مدت کے لیے ابھی باقی رہتے ہیں تو یہ مناسب نہیں ہے کہ تمام لاگت کو اس سال کا جس میں یہ لاگت لگائی گئی ہے، خرچ مان لیا جائے۔ بلکہ اس قسم کی لاگت کو ان برسوں پر پھیلایا جانا چاہئے جن میں یہ فائدہ فراہم کرے۔ فرسودگی جو موجودہ باب کا خاص موضوع ہے، اس میں اسی قسم کی صورت حال سے بحث کی گئی ہے۔ مزید یہ کہ ہمیشہ یہ ممکن نہیں ہوتا کہ کسی خاص خرچ کی رقم کا یقین کے ساتھ تعین کیا جاسکے۔ ذرا دہرائیے کہ اعتدال پسندی (مصلحت پسندی) کا اصول مطالبہ کرتا ہے کہ اس قسم کے اخراجات کی مدوں کو نظرانداز کرنے کے بجائے رواں سال کے منافعوں کے بالمقابل مناسب بندوبست کیا جائے اور اس کی صحیح مقدار رکھی جائے۔ مزید برآں منافع کے ایک حصے کو مستقبل میں کاروبار کی ترقی، توسیع یا کچھ خاص ضرورتوں کی تکمیل کے لیے بندوبست کی شکل میں بدستور محفوظ رکھا جائے۔ اس باب میں دو ممتاز عنوانات سے بحث کی گئی ہے اور اس لیے اسے دو مختلف حصوں میں پیش کیا جارہا ہے۔پہلا حصہ فرسودگی سے اور دوسرا حصہ بندوبست سے متعلق ہے۔

    حصّہ -I

    7.1  فرسودگی (Depreciation)

    آپ واقف ہیں کہ قائم اثاثے (Fixed Assets) وہ اثاثے ہیں جو کاروبار میں ایک سے زیادہ کاروباری سال کی مدّت کے لیے استعمال میں آتے ہیں۔ قائم اثاثے (جنہیں فنّی اصطلاح میں قابلِ فرسودگی اثاثے (Depreciable Assets) کہا جاتا ہے) ایک مرتبہ استعمال میں آجانے کے بعد اپنی قدروقیمت میں کمی کا باعث ہوتے ہیں۔ عام طور پر ’’فرسودگی‘‘ اصطلاح کا مفہوم ہے کہ قائم اثاثوں کی قدرو قیمت میں ان کے استعمال، وقت کے گزرنے کے یا ناقابلِ استعمال ہو جانے کے باعث کمی واقع ہونا۔ دوسرے الفاظ میں اگر ایک کاروباری تنظیم کوئی مشین حاصل کرتی ہے اور پیداواری عمل کے لیے اسے استعمال میں لاتی ہے تو مشین کی قدروقیمت (Value) اس کے استعمال کے ساتھ ساتھ گھٹتی رہتی ہے۔ پیداواری عمل میں مشین کے استعمال نہ کیے جانے کے باوجود وقت کے گزرنے کے سبب یا نئے ماڈل کے آجانے (ناقابلِ استعمال ہو جانے) کے باعث ہم اس کی وہی قیمت فروخت حاصل کرنے کی توقع نہیں کر سکتے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ قائم اثاثوں کی قدرو قیمت میں کمی واقع ہوتی رہتی ہے اور اسی کمی کو فنّی طور پر ’’فرسودگی‘‘ کہا جاتا ہے۔
    ایک حسابی اصطلاح کے طور پر فرسودگی، قائم اثاثے کی لاگت کا وہ حصہ ہے جو اپنے استعمال یا وقت کے گزرنے کے باعث ختم ہو گئی ہو۔ لہٰذا ’’فرسودگی‘‘ ایک گزری ہوئی لاگت یا خرچ ہے جسے دی گئی حسابی مدت کے محاصل کے مقابلہ نکالا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر یکم اپریل 2017 کو ایک مشین 1,00,000 روپے کی خریدی گئی۔ اس مشین کے استعمال کی مدتِ تخمینہ 10 سال کا لگائی گئی۔ اس سے مراد ہے کہ پیداواری عمل میں اس مشین کو اگلے دس برسوں 31 مارچ 2016 تک استعمال کیا جاسکتا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ اپنی اصل نوعیت کے اعتبار سے 1,00,000 روپے ایک بڑا خرچ ہے۔ اس لیے آمدنی کھاتا (نفع اور نقصان کھاتہ) تیار کیا جائے گا تو 1,00,000 روپے کی کل رقم کو 2017-18 کے حسابی سال کے محاصل کے طور پر نہیں شمار کیا جائے گا۔ کیونکہ 1,00,000 روپے کے بڑے خرچ کے فوائد (یا محاصل) دس سال کے عرصے تک متوقع ہوں گے نہ کہ ایک سال تک۔ اس لیے 2017-18 سال کے لیے محاصل کے مقابلہ کل لاگت کا ایک حصہ مثلاً 10,000 روپے (1,00,000 روپے کا دسواں حصہ) ہی فرسودگی کے لیے نکالا جانا مناسب ہوگا۔ یہ حصّہ مشین کے استعمال کیے جانے یا وقت کے گزرنے کی بنا پر مشین کی قدرو قیمت میں لگی لاگت یا نقصان کو ظاہر کرتا ہے اور اسے ’’فرسودگی‘‘ کہا جاتا ہے۔ فرسودگی کی رقم کو منافع کے بالمقابل خرچ ہونے کی وجہ سے اسے نفع اور نقصان کھاتے میں ڈیبٹ کیا جاتا ہے۔

    7.1.1 فرسودگی کا مفہوم (Meaning of Depreciation)

    فرسودگی کو قائم اثاثوں کی قدروقیمت میں مستقل، لگاتار اور بتدریج کمی کے طور پر بیان کیا جاسکتا ہے۔ یہ کاروبار میں استعمال کیے گئے اثاثوں کی لاگت پر مبنی ہوتی ہے نہ کہ اس کی مارکیٹ قدروقیمت پر۔
    انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ (Cost) اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنگ لندن (ICMA) کے مطابق فرسودگی کی اصطلاح کا مطلب ہے ’’اثاثے کے استعمال میں آنے پر وقت گزرنے کے باعث اس کی اصل قدروقیمت میں کمی آجانا۔‘‘
    دی انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹینٹس آف انڈیا (ICAI) کے ذریعہ جاری کردہ اکاؤنٹنگ اسٹینڈرڈ - 6 میں فرسودگی کی تعریف اس طرح بیان کی گئی ہے: ’’فرسودگی کی اثاثے کی ٹوٹ پھوٹ یا اس کی قیمت میں کمی کا ایک پیمانہ ہے۔ یہ ٹوٹ پھوٹ یا قیمت میں کمی اس اثاثے کے استعمال کے سبب یا وقت گزرنے کے سبب یا پھر ٹکنالوجی میں تبدیلی اور بازار کے الٹ پھیر کے سبب واقع ہو سکتی ہے۔ فرسودگی کا تعین اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ اثاثے کی متوقع زندگی کے دورانِ حسابی سال میں اس کی قابلِ فرسودگی رقم کا تناسب سے حساب لگایا جاسکے۔ فرسودگی میں ان اثاثوں کی مستقل تقلیل قدر (Amortisation) بھی شامل ہے جن کی قابل استعمال مدت پہلے سے متعین ہوتی ہے۔‘‘

    بکس 1

    جیسا کہ اسٹینڈر- 6 (ترمیم شدہ) : فرسودگی
    • فرسودگی کی اثاثے کی ٹوٹ پھوٹ یا اس کی قیمت میں کمی کا ایک پیمانہ ہے۔ یہ ٹوٹ پھوٹ یا قیمت میں کمی اس اثاثے کے استعمال کے سبب یا وقت گزرنے کے سبب یا پھر ٹکنالوجی میں تبدیلی اور بازار کے الٹ پھیر کے سبب واقع ہو سکتی ہے۔  فرسودگی کا تعین اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ اثاثے کی متوقع زندگی کے دوران حسابی سال میں اس کی قابلِ فرسودگی رقم کا تناسب سے حساب لگایا جاسکے۔ فرسودگی میں ان اثاثوں کی مستقل تقلیل قدر بھی شامل ہے جن کی قابل استعمال مدت پہلے سے متعین ہوتی ہے۔
    • کسی کاروباری تنظیم کی مالی حالت اور کاروبار کے نتائج کے تعین و تشکیل میں فرسودگی کا خاطر خواہ اثر پڑتا ہے۔ قابلِ فرسودگی رقم کے حوالے سے ہر حسابی سال میں فرسودگی کا حساب نکالا جاتا ہے۔
    • فرسودگی کا موضوع بحث یا اس کی بنیاد وہ ’’قابلِ فرسودگی‘‘ اثاثے:
    • ’’جن کا ایک سال سے زیادہ حسابی مدت کے دوران استعمال میں لایا جانا متوقع ہوتا ہے۔
    • جن کی قابل استعمال مدت محدود ہوتی ہے؛ اورجو کسی کاروباری ادارہ کے ذریعے اس لیے رکھے جاتے ہیں تاکہ پیداوار، اشیاء  اور خدمات کی فراہمی میں ان کا استعمال ہو سکے، دوسروں کو کرائے پر دیا جاسکے یا کسی انتظامی مقصد سے استعمال میں لایا جاسکے نہ کہ کسی معمولی قسم کے کاروبار میں فروخت کرنا ان کا مقصد ہو۔‘‘
    • فرسودگی کی رقم بنیادی طور پر تین عوامل پر منحصر ہوتی ہے؛ لاگت، قابل استعمال مدت اور خالص قابلِ حصول قیمت (Cost,Useful Life and Net Realisable Value)۔
    • قائم اثاثے کی قیمت وہ مجموعی لاگت ہے: ’’جو اس حصول، تنصیب، کمیشن، اضافی مدوں اور اس کی بہتری کے لیے خرچ کی گئی ہو۔‘‘
    • کسی اثاثے کی قابلِ استعمال مدت ’’وہ مدت ہے جب تک کسی کاروباری ادارہ کے ذریعہ اس کا استعمال کیا جانا متوقع ہو۔‘‘
    • فرسودگی کی رقم کے تعین کے دو خاص طریقے ہیں:
    • خط مستقیم (متعین قسط) کا طریقہ (Straight Line Method)
    • قلم زدگی قدر (بقایہ تعلیل) کا طریقہ (Written Down Value Method)
    • مناسب طریقہ کا انتخاب مندرجہ ذیل عوامل پر منحصر ہوتا ہے
    • اثاثے کی قسم
    • اثاثے کے استعمال کی نوعیت 
    • کاروبار میں پیش آنے والے حالات
    • منتخب طریقۂ فرسودگی کو مدت بہ مدت مستقل طور پر اختیار کیا جانا چاہئے۔ صرف مخصوص حالت میں ہی فرسودگی کے طریقے کو بدلنے کی اجازت ہو سکتی ہے۔
    کسی کاروباری تنظیم کی مالی حالت اور کاروبار کے نتائج کے تعین تشکیل میں فرسودگی کا خاطر خواہ اثر پڑتا ہے۔ قابلِ فرسودگی رقم کی حد تک ہر حسابی سال میں فرسودگی کا حساب نکالا جاتا ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ فرسودگی کا موضوع بحث یا اس کی بنیاد وہ قابلِ فرسودگی اثاثے ہیں:
    • ’’جن کا ایک سال سے زیادہ حسابی مدت کے دوران استعمال میں لایا جانا متوقع ہوتا ہے؛
    • جن کی قابل استعمال مدت محدود ہوتی ہے ؛اور
    • جو کاروباری اداروں کے ذریعے اس لیے رکھے جاتے ہیں تاکہ پیداوار یا اشیاء اور خدمات کی فراہمی میں ان کا استعمال ہوسکے، دوسروں کو کرایہ پر دیا جاسکے یا کسی انتظامی مقصد سے استعمال میں لایا جاسکے نہ کہ کسی معمولی قسم کے کاروبار میں فروخت وغیرہ مقصد ہو۔‘‘

    قابلِ فرسودگی اثاثوں کی مثالیں ہیں مشینیں، پلانٹ، فرنیچر، بلڈنگ (تعمیرات و عمارتیں)، کمپیوٹر، ٹرک، گاڑیاں، اور سازوسامان (Equipments) وغیرہ۔ مزید یہ کہ فرسودگی قابلِ فرسودگی رقم کا مختص کرنا ہے۔ جو تاریخی لاگت (Historical Cost) ہے یا تاریخی لاگت کے لیے کم تخمینہ لگائی گئی حفاظتی قیمت (Salvage Value) کے لیے متبادل رقم ہے۔
    قابلِ فرسودگی رقم کے تعین میں دوسرا نکتہ ہے کسی اثاثے کی متوقع مدت استعمال ’’یعنی: (i) یا تو وہ مدت جس میں کاروباری ادارہ کے ذریعے قابلِ فرسودگی اثاثہ کا استعمال میں آنا متوقع ہے (ii) یا کاروباری ادارہ کے ذریعے اثاثہ کے استعمال سے حاصل ہونے والی متوقع یکساں اکائیوں کی پیداوار کی تعداد۔‘‘

    7.1.2 فرسودگی کی خصوصیات (Features of Depreciation)

    فرسودگی پر مذکورہ بحث فرسودگی کی مندرجہ ذیل خصوصیات پر روشنی ڈالتی ہے:
    1. یہ قائم اثاثوں کی کتابی قدر و قیمت میں کمی کا ہونا ہے۔
    2. اس میں وقت کے گزرنے کے باعث استعمال کرنے یا ناقابلِ استعمال ہونے کے باعث قدروقیمت کا نقصان شامل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک کاروباری فرم یکم اپریل 2017 کو ایک مشین 1,00,000 روپے کی خریدتی ہے۔ سال 2017 میں مشین کا نیا ماڈل مارکیٹ میں آجاتا ہے۔ نتیجتاًکاروباری فرم کے ذریعہ خریدی گئی مشین اب پرانی اور فرسودہ ہو جاتی ہے۔
    3. یہ ایک مسلسل عمل ہے۔
    4. یہ ایک گزری ہوئی لاگت ہے اور اس لیے ٹیکس کے قابل منافعوں کا حساب لگانے سے پہلے اسے وضع کرنا چاہئے۔ مثال کے طور پر اگر منافع فرسودگی اور ٹیکس سے پہلے 50,000 روپے ہے اور فرسودگی 10,000 روپے ہے تو ٹیکس سے پہلے منافع ہوگا:

    روپے
    فرسودگی اور ٹیکس سے پہلے منافع 50,000
    (–) فرسودگی (10,000)
    ٹیکس سے پہلے منافع 40,000

    یہ ایک غیر نقدی (Non-cash) خرچ ہے۔ اس میں کوئی نقد باہری بہاؤ (Outflow) شامل نہیں ہوتا۔ یہ پہلے سے کیے گئے سرمایہ جاتی خرچ (Capital Expenditure) کی قلم زدگی (Writing-off) کا عمل ہے۔

    اسے آپ خود کیجیے

    اپنے چاروں طرف دیکھیے اور اپنے گھر، اسکول، ہسپتال، پرنٹنگ پریس اور بیکری میں کم از کم پانچ قابل فرسودگی اثاثوں کی نشاندہی کیجیے۔ 


    7.2 فرسودگی اور اس جیسی دیگر اصطلاحات

    (Depreciation and other Similar Terms)

    کچھ اصطلاحات اور بھی مستعمل ہیں — جیسے تقلیل قدر اور تقلیل (Depletion and Amortisation) جو فرسودگی کے ضمن میں استعمال ہوتی ہیں۔ کھاتہ داری (Accounting) میں ان اصطلاحات کے ماحصل کی یکسانیت کی وجہ سے اس مفہوم میں ان کا استعمال کیا جاتا ہے۔ دراصل یہ اصطلاحات بھی مختلف اثاثوں کی مدت کار کے گزر جانے کو ظاہر کرتی ہے۔ 

    7.2.1  تقلیل (Depletion)

    تقلیل کی اصطلاح قدرتی وسائل جیسے کانیں، پتھر کی کانیں وغیرہ کے کھود کر نکالنے کے ضمن میں استعمال کی جاتی ہے جس سے مال یا اثاثہ کی مقدار کی موجودگی میں کمی آتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی کاروباری تنظیم کانوں کے کاروبار (Mining Business) میں سرگرم ہے اور وہ 10,00,000 روپے کی کوئلے کی کان خریدتی ہے تو کوئلے کی کان کی قدروقیمت کان سے کوئلہ نکالنے سے کم ہو جاتی ہے۔ کان کی قدر و قیمت میں آنے والی یہ کمی تقلیل کہلاتی ہے۔ تقلیل اور فرسودگی میں بنیادی فرق یہ ہے اول الذّکر (تقلیل) کا تعلق معاشی وسائل کے ختم ہو جانے سے ہے لیکن موخرالذکر (فرسودگی) کا تعلق کسی اثاثہ کے استعمال سے ہے۔ اس کے باوجود نتیجہ قدرتی وسائل کی مقدار میں کمی ہونا اور خدماتی توانائی کا ختم ہوجانا ہے اس لیے کھاتہ داری عمل میں فرسودگی اور تقلیل دونوں ہی کے ساتھ یکساں معاملہ کیا جاتا ہے۔

    7.2.2  تقلیل قدر (Amortisation)

    تقلیل قدر سے مراد ہے غیر مرئی و غیر محسوس اثاثوں (Intangible Assets) جیسے حق اجارہ (Patents)، حقِ طباعت و اشاعت (Copyright)، تجارتی مارکے (Trade Marks)، استثنائی اختیارات (Franchises)، پٹہ داری /اجارہ داری (Leasehold) وغیرہ کی لاگت کا قلم زد کیا جانا۔ ان اثاثوں کو ایک خصوصی مدت تک کے لیے استعمال کرنے کا حق ہوتا ہے۔ کسی غیر مخصوص اثاثہ کی تقلیل قدر یا اس کے کسی حصے کی لاگت کو قلم زد کرنے کا طریقہ وہی ہے جو قائم اثاثوں کی فرسودگی کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی کاروباری فرم ایک حق اجارہ 10,00,000 روپے میں خریدتی ہے اور یہ تخمینہ لگاتی ہے کہ اس کی مدت استعمال 10 سال ہوگی تو کاروباری فرم کو 10,00,000 روپوں کو 10 برسوں میں قلم زد کرنا ہوگا۔ اس طرح سے قلم زد کی گئی رقم کو فنّی اصطلاح میں تقلیل قدر کہا جاتا ہے۔

    7.3  فرسودگی کے اسباب (Causes of Depreciation)

    کھاتہ داری اسٹینڈرڈ-6 میں فرسودگی کی تعریف کے حصے کے طور پر فرسودگی کی وجوہات کو صاف طور پر بیان کیا جاچکا ہے اور اب یہاں انہیں تفصیل سے پیش کیا جارہا ہے۔

    7.3.1   استعمال کرنے یا وقت کے گزرنے کے سبب ٹوٹ پھوٹ

    (Wear and Tear due to Use or Passage of Time)

    ٹوٹ پھوٹ کا مفہوم ہے محاصل کے حصول کے لیے کسی کاروباری تنظیم میں اثاثوں کے استعمال میں آنے سے ان کی قدر و قیمت میں لگاتار کمی آنا اور ان کا انحطاط پذیر ہونا۔ اس سے اثاثہ کی فنی کارکردگی میں کمی آئی ہے جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے۔ ٹوٹ پھوٹ کا دوسرا پہلو ظاہری انحطاط ہے۔ ایک اثاثہ محض وقت کے گزرنے کے ساتھ انحطاط پذیر ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ پھر کسی استعمال کے قابل نہیں رہ جاتا خاص طور پر یہ بات اس وقت پیش آتی ہے جب اثاثے قدرتی آفات جیسے موسم، ہواؤں اور بارشوں وعیرہ کی نذر ہو جاتے ہیں۔
    7.3.2    قانونی حقوق کی میعاد کاپورا ہو جانا (Expiration of Legal Rights)
    اثاثوں کی کچھ قسمیں ایسی ہیں جن کی قدر و قیمت کسی کاروبار میں ان کے معاہدے کی متعینہ مدت پوری ہو جانے کے بعد ختم ہوجاتی ہے۔ اس طرح کے اثاثوں کی مثالیں حقِ اجارہ، حق طباعت واشاعت (Copyrights)، پٹّہ داری (Leases) وغیرہ ہیں جن کی کاروبار میں افادیت ان کی قانونی تائید کے موقوف ہوتے ہی ختم ہو جاتی ہے۔

    7.3.3    ازکار رفتگی/ متروک الاستعمال ہو جانا (Obsolescence)

    ازکار رفتگی یا متروک الاستعمال ہوجانا قائم اثاثوں کی فرسودگی سے متعلق دوسرا عنصر ہے۔ ازکار رفتگی کا مطلب ہے کہ وہ شے وقت کے لحاظ سے کارآمد نہیں رہی یا Out-of-date ہوگئی۔ ازکار رفتگی سے مراد ہے کہ موجودہ اثاثہ بہتر قسم کے اثاثہ کی موجودگی کے باعث کارآمد نہیں رہا۔ یہ صورت حال درج ذیل عوامل کے سبب رونما ہوتی ہے : 
    • تکنیکی/ فنّی تبدیلیاں؛
    • پیداواری طریقوں میں اصلاحات؛
    • کسی شے کی مارکیٹ مانگ میں یا اثاثہ کی خدمات میں تبدیلی؛
    • قانونی یا دیگر حد بندیاں۔

    7.3.4   غیر متوقع یا حادثاتی عوامل (Abnormal Factors)

    غیر متوقع یا حادثاتی عوامل بھی کسی اثاثہ کی کارکردگی میں کمی کا سبب بن جاتے ہیں جیسے آگ کے سبب ہونے والے حادثے، زلزلے، سیلاب وغیرہ۔ حادثاتی نقصان دائمی ہوتا سلسلہ وار یا تدریجی نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر ایک کار جس کی ایک حادثے کے بعد مرمت کرائی گئی، استعمال نہ کیے جانے کے باوجود مارکیٹ میں اپنی اصل قیمت نہیں اٹھائے گی۔

    7.4 فرسودگی کی ضرورت (Need for Depreciation)

    کھاتہ داری کے ریکارڈ میں فرسودگی کی فراہمی کی ضرورت کاروبار کے نظریاتی، قانونی اور عملی معاملات کے سبب پیش آتی ہے۔ یہ امور فرسودگی کو کاروباری خرچ کے طور پر ایک خاص معنویت فراہم کرتے ہیں۔

    7.4.1  لاگت اور محاصل کی مماثلت (Matching of Costs and Revenue)

    کاروباری معاملوں میں قائم اثاثوں کے حصول کا پیمانہ یہ ہے کہ یہ محاصل کی وصولیابی کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں لیکن کاروبار میں استعمال کیے جانے کے بعد ان میں کچھ نہ کچھ ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہی ہے اور اس لیے اس کی قدر و قیمت گھٹتی ہے۔ لہٰذا فرسودگی ایسے ہی ایک لاگت ہے جیسے ایک خرچ جو کاروبار کے عام معاملات جیسے تنخواہ، کرایہ بھاڑا، ڈاک خرچ (Postage) اور اسٹیشنری وغیرہ پر ہوتا ہے۔ یہ نظیری (Corresponding) مدت کے محاصل کے بالمقابل ایک خرچ ہے اور اسے ’’کھاتہ داری کے بالعموم تسلیم شدہ اصولوں‘‘ (Generally Accepted Accounting Principles) کے مطابق خالص منافع (Net Profit) نکالنے سے پہلے گھٹایا جانا ضروری ہوتا ہے۔

    7.4.2  ٹیکس کی رعایت (Consideration of Tax)

    ٹیکس کے مقصد سے فرسودگی ایک گھٹائے جانے والی لاگت ہے۔ بہر حال، یہ ضروری نہیں کہ فرسودگی کی رقم کا حساب نکالنے کے لیے ٹیکس قوانین رواں کاروباری معاملات کی طرح ہوں۔

    7.4.3 سچّی اور صاف ستھری مالی حالت

     (True and Fair Financial Position)

    اگر اثاثوں پر فرسودگی فراہم نہ کی جائے تو اثاثوں کی قدر و قیمت اصلیت سے زیادہ ہو جائے گی اور بیلنس شیٹ کاروبار کی صحیح مالی حالت کی تصویر پیش نہیں کرے گی۔ اس کے علاوہ اس کی اجازت نہ تو کھاتہ داری کے مسلّمہ امور (Established Accounting Practices) دیتے ہیں اور نہ قانون کی خصوصی دفعات۔

    7.4.4  قانون کی پابندی (Compliance with Law)

    ٹیکس کے قوانین کے علاوہ کچھ ایسے خصوصی قوانین ہیں جو کسی کاروباری تنظیموں کو اس کا پابند کرتے ہیں کہ وہ قائم اثاثوں پر فرسودگی فراہم کریں۔

    اپنے فہم و ادراک کی جانچ کیجیے-I

    بتائیے کہ مندرجہ ذیل بیانات صحیح ہیں یا غلط:
        
    1.فرسودگی ایک غیر نقدی خرچ ہے۔                                                                                                                                             
    2.فرسودگی رواں اثاثوں (Current Assets) پر بھی لگائی جاتی ہے۔                                                                                                         
    3. فرسودگی محسوس و قائم (Tangible Fixed Assets) کی بازار قیمت میں کمی کا ہونا ہے۔
    4.فرسودگی کی خاص وجہ ان اثاثوں میں استعمال کے سبب ٹوٹ پھوٹ ہونا ہے۔
    5.فرسودگی کو کاروبار کے صحیح/حقیقی نفع و نقصان معلوم کرنے کے لیے نکالنا لازمی ہے۔
    6.تقلیل کی اصطلاح غیر محسوس/ غیر مرئی اثاثوں میں استعمال کی جاتی ہے۔
    7.فرسودگی اثاثے کی تبدیلی کے لیے فنڈ فراہم کرتی ہے۔
    8.جب کسی اثاثہ کی بازار قیمت اس کی کتابی قیمت سے زیادہ ہو تو فرسودگی کا حساب نہیں نکالا جاتا ہے۔
    9.فرسودگی کسی اثاثہ کی قیمت کو اس کی بازار قیمت تک کم کرنے کے لیے نکالی جاتی ہے۔
    10.اگر کسی اثاثہ پر کی مرمت پر خاصی رقم خرچ کی جائی تو اس صورت میں فرسودگی نکالنا ضروری نہیں ہے۔


    7.5 فرسودگی کی رقم پر اثر انداز ہونے والے عوامل

     (Factors Affecting the Amount of Depreciation)

    فرسودگی کا تعین تین مقررہ حدود (Parameters) پر منحصر ہوتا ہے، یعنی لاگت، تخمینی مدت استعمال اور باقی ماندہ قدر و قیمت۔

    7.5.1  اثاثہ کی لاگت (Cost of Asset)

    کسی اثاثہ کی لاگت (جسے اصل لاگت یا تاریخی لاگت کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) میں نرخ نامہ کی قیمت (Invoice Price) اور وہ دیگر لاگتیں شامل ہوتی ہیں جو کسی اثاثہ کو قابل استعمال حالت پر رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ قیمت خرید کے ساتھ ساتھ اس میں کرایہ بھاڑا (Freight) حمل و نقل کی لاگت، عبوری بیمہ (Transit Insurance)، تنصیبی لاگت (Installation Cost)، رجسٹریشن لاگت اور اثاثہ کی خرید پر ادا کی گئی کمیشن اور سافٹ ویئر (Software) وغیرہ بھی شامل ہیں۔ پرانے اثاثے کی خریداری پر اس میں اثاثہ کو کارآمد شکل میں لانے کی ابتدائی مرمت کی لاگت بھی شامل ہوتی ہے۔ ICAI کے Accounting Standard-6 کے مطابق کسی قائم اثاثہ کی لاگت کا مطلب ہے ’’قابلِ فرسودگی اثاثہ کے حصول تک اس سے متعلق تنصیب (Installation) اور معاوضہ و حق خدمت (Commissioning) نیز کسی اضافہ یا اصلاح سے متعلق خرچ کی گئی تمام لاگتیں۔ مثال کے طور پر ایک فوٹواسٹیٹ مشین 50,000 روپے کی خریدی جاتی ہے اور 5,000 روپے اس کے ٹرانسپورٹ اور تنصیب پر خرچ کیے جاتے ہیں اس صورت میں مشین کی اصل لاگت ہوگی 55,000 روپے (50,000 + 5,000 روپے) جسے مشین کی قابل استعمال مدت پر قلم زد کیا جائے گا۔

    7.5.2  تخمینہ لگائی گئی خالص باقی ماندہ قیمت (Estimated Net Residual Value)

    تخمینہ لگائی گئی خالص باقی ماندہ قیمت (جسے کھاتہ داری کے مقصد سے بچی کھچی قیمت یا ردی قیمت بھی کہا جاتا ہے کسی اثاثہ کی خالص باقی ماندہ قیمت کو کس اثاثہ کے متروک الاستعمال ہونے پر فروخت (Disposal) کرنے کے لیے ضروری اخراجات کے گھٹانے کے بعد نکالا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک مشین کو 50,000 روپے میں خریدی اور اس کی مدت استعمال 10 سال ہے۔ دس سال کے اختتام پر توقع ہے کہ اس کی قیمت فروخت 6,000 روپے ہوگی لیکن اس کی فروخت سے متعلق اخراجات کا تخمینہ 1,000 روپے لگایا گیا ہے۔ تب اس طرح کی خالص باقی ماندہ قیمت 5,000 روپے ہوگی (یعنی 6,000 – 1,000 = 5,000)۔

    7.5.3  قابلِ فرسودگی لاگت (Depreciable Cost)

    کسی اثاثہ کی قابلِ فرسودگی لاگت اس کی لاگت (جو مذکورہ پوائنٹ نمبر 7.5.1 میں لگائی گئی ہے) نفی خالص باقی ماندہ قیمت (جو مذکورہ پوائنٹ نمبر 7.5.2 میں لگائی گئی ہے) کے برابر ہوگی۔ لہٰذا مذکورہ مثال میں مشین کی قابل فرسودگی قیمت ہے 45,000 روپے (یعنی 50,000 – 5,000 روپے) یہ قابلِ فرسودگی لاگت ہے جسے اثاثہ کی تخمینی مدت استعمال پر قابلِ فرسودگی خرچ کے طور پر تقسیم کر دیا جاتا ہے اور نکالا جاتا ہے۔ مذکورہ مثال میں 10 سال کی مدت پر 45,000 روپے بطور فرسودگی کے نکالے جائیں گے۔ یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اثاثے کی مدت استعمال پر نکالی گئی رقم قابلِ فرسودگی لاگت سے کم ہے تو سرمایہ جاتی خرچ کم وصول ہوا ہے۔ یہ محاصل اور اخراجات کی مناسب مماثلث کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔

    7.5.4  تخمینی مدت استعمال (Estimated Useful Life)

    کسی اثاثہ کی تخمینی مدت استعمال اس کی تخمینہ شدہ معاشی یا کاروباری زندگی ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لیے اس کی ظاہری زندگی اہم نہیں ہوتی کیونکہ کوئی اثاثہ ہو سکتا ہے اب تک موجود تو ہو لیکن کہ وہ کاروباری پیداوار کے قابل نہ ہو۔ مثال کے طور پر ایک مشین خریدی جاتی ہے اور یہ تخمینہ لگایا گیا کہ پیداواری عمل میں 5 سال تک اسے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ 5 سال بعد ہو سکتا ہے کہ مشین بظاہر اچھی حالت میں ہو لیکن منافع بخش پیداوار کے لیے اسے استعمال میں نہیں لایا جاسکتا، یعنی اگر اسے اس وقت بھی استعمال کیا گیا تو پیداواری لاگت بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔ اس لیے مشین مدت استعمال کو اس کے بظاہر ٹھیک ہونے کے باوجود 5 سال ہی خیال کیا جائے گا۔ کسی اثاثہ کی مدت استعمال کا تخمینہ لگانا دشوار کام ہے کیونکہ اس کا انحصار مختلف عوامل پر ہوتا ہے جیسے اثاثہ کے استعمال کی سطح، اثاثہ کی مرمّت، تکنیکی/ فنی تبدیلیاں، بازاری تبدیلیاں وغیرہ۔ کھاتہ داری اسٹینڈر-6 کے مطابق کسی اثاثے کی مدت استعمال عام طور پر وہ ہوتی ہے جس مدت تک کاروبار میں اس کا استعمال کیا جانا متوقع ہوتا ہے۔‘‘ عام طور پر مدت استعمال ظاہری زندگی سے کم ہوتی ہے کسی اثاثہ کی مدت استعمال کو سالوں کی تعداد میں ظاہر کیا جاتا ہے لیکن اسے دوسری اکائیوں میں بھی ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ جیسے ماحصل (Output) کی اکائیوں کی تعداد (جیسے کانوں کی صورت میں) یا کام کرنے کے گھنٹوں کی تعداد۔ مدت استعمال مندرجہ ذیل عوامل پر منحصر ہوتی ہے:

    • قانونی یا معاہداتی حدود کے ذریعے پہلے سے ہی متعین، جیسے پٹّہ داری اثاثہ کی صورت میں، پٹّہ داری کی مدت اس کی مدت استعمال ہوگا۔
    • شفٹوں کی تعداد جن کے لیے اثاثہ کو استعمال میں لایا جانا ہے۔
    • مرمت اور ٹوٹ پھوٹ سے کاروباری تنظیم کی متعلق پالیسی۔
    • تکنیکی/فنّی طور پر متروک الاستعمال ہو جانا۔
    • پیداواری طریقوں میں تجدید/اصلاح۔
    • قانونی یا دیگر حد بندیاں۔

    7.6 فرسودگی کی رقم نکالنے کے طریقے

     (Methods of Calculating Depreciation Amount)

    ایک حسابی سال کے دوران فرسودگی کی رقم کتنی نکائی جائے اس کا انحصار قابل فرسودگی رقم اور اس کے لیے متعین کردہ طریقے پر ہوتا ہے۔ فرسودگی کا حساب نکالنے کے لیے ہندوستان میں قانونی طور پر دو طریقے اختیار کیے جاتے ہیں اور پیشہ ورانے حسابی عمل کے ذریعہ انہیں نافذ کرا جاتا ہے۔ یہ طریقے ہیں: خطّ مستقیم (متعین قسط) کا طریقہ اور قلم زدگی قدر (بقایہ تقلیل) کا طریقہ۔ ان دو اہم طریقوں کے ساتھ کچھ دوسرے طریقے ہیں جیسے سالانہ طریقہ (Annual Method)، فرسودگی فنڈکا طریقہ دوہری تقلیل کا طریقہ (Double Declining Method) وغیرہ۔ جنہیں فرسودگی کی رقم کے تعین کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کسی مناسب طریقہ کا انتخاب درج ذیل پر منحصر ہوتا ہے؛
    • اثاثہ کا ٹائپ
    • اس اثاثہ کے استعمال کی نوعیت؛
    • کاروبار میں درپیش حالات؛
    اکاؤنٹنگ اسٹینڈر۔6 کے مطابق فرسودگی کے منتخب طریقے کو مدت بہ مدت (سال بہ سال) لگاتار اختیار کرتے رہنا چاہئے۔ فرسودگی کے طریقہ میں تبدیلی کی اجازت مخصوص حالت میں ہی دی جاسکتی ہے۔

    7.6.1  خط مستقیم/ متعین قسط کا طریقہ (Straight Line Method)

    فرسودگی فراہم کرنے کا یہ بہت زیادہ پرانا اور بہ کثرت استعمال میں آنے والا طریقہ ہے۔ یہ طریقہ اس مفروضہ پر مبنی ہے کہ اثاثہ اپنی تمام تر مدت استعمال میں یکساں استعمال ہوگا۔ اسے خطِ مستقیم اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ اگر فرسودگی کی رقم اور اس کی نظیری مدت کا گراف پر نقشہ کھینچا جائے تو اس کے نتیجے میں خط مستقیم برآمد ہوگا (شکل 7.1)۔
    اسے متعین قسط (Fixed Installment Method) بھی کہا جاتا ہے کیونکہ فرسودگی کی رقم اثاثہ کی مدت استعمال تک سال بہ سال مستقل اور ثابت (Constant) رہتی ہے۔ اس طریقے کے مطابق کسی اثاثہ کی مدت استعمال کے دوران ہر حسابی مدت میں فرسودگی کے لیے ایک متعین و مستقل اور برابر کی رقم نکالی جاتی ہے۔ فرسودگی کے طور پر سالانہ نکالی جانے والی رقم ایسی ہوتی ہے کہ اثاثہ کی مدت استعمال کے اختتام پر وہ اثاثے کی اصل (Original) قیمت کو اسکریپ قیمت پر لوٹا دی جاتی ہے۔ پر متعین فیصد کا طریقہ (Fixed Percentage on Original Cost Method) بھی کہا جاتا ہے کیونکہ سال بہ سال اصل لاگت (واقعتا قابل فرسودگی لاگت) کا وہی فیصد بطور فرسودگی قلم زد کیا جاتا ہے۔
    اس طریقے کے تحت فرسودگی کی رقم کو مندرجہ ذیل فارمولا استعمال کرکے تحسیب کیا جاتا ہے۔

    تخمینہ شدہ خالص باقی ماندہ قیمت – اثاثہ کی قیمت
    فرسودگی = ............................................................................
    اثاثہ کی تخمینہ شدہ مدت استعمال
    خطِ مستقیم کے تحت فرسودگی کی شرح اثاثہ کی مدت استعمال کے دوران بطور فرسودگی نکائی گئی اس کی کل لاگت کا فیصد ہے۔ فرسودگی کی شرح درجہ ذیل اصول سے نکالی جاتی ہے:
    فرسودگی کی سالانہ رقم
    فرسودگی کی شرح = ................................................ × 100 
    تحصیلی لاگت (Acquisitiion Cost)
    مندرجہ ذیل مثال پر غور کیجیے۔ کسی اثاثے کی اصل لاگت ہے 2,50,000 روپے۔ اثاثہ کی مدت استعمال ہے 10 سال اور خالص باقی ماندہ قیمت (Net Residual Value) ہے 50,000 روپے۔ اب ہر سال فرسودگی کی نکالی جانے والی رقم وہ ہوگی جسے ذیل میں دیا گیا ہے:

    سالانہ فرسودگی کی رقم 
    K-50
    شکل 7.1: فرسودگی کی رقم خط مستقیم طریقے کے تحت
    اثاثہ کی تحصیلی لاگت – خالص باقی ماندہ قیمت
    = ..................................................................
    اثاثہ کی تخمینہ شدہ حیات
      2,50,000 روپے – 50,000 روپے 
    یعنی = ..............................................  = 20,000 روپے

    فرسودگی کی شرح اس طرح سے نکالی جائے گی:
    فرسودگی کی شرح اس طرح سے نکالی جائے گی:
    سالانہ فرسودگی رقم 
    (i) فرسودگی کی شرح = ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔× 100 
    تحصیلی لاگت
    نقطہ (i) سے = سالانہ فرسودگی رقم ہوتی ہے 20,000 روپے
    20,000 روپے
    لہٰذا، فرسودگی کی شرح ہوگی = ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔×100=%  8 
    2,50,000روپے 



    7.6.1.1 خط مستقیم طریقے کی خوبیاں

     (Advantages of Straight Line Method)

    خط مستقیم کے کچھ خاص فوائد ہیں جنہیں ذیل میں بیان کیا گیا ہے:
    • یہ بہت سادہ ہے، اس کا سمجھنا اور استعمال کرنا بھی آسان ہے۔ سادگی نے ہی اسے عملی طور پر مقبول طریقہ بنایا ہے؛
    • فرسودگی کے سبب کوئی اثاثہ اسکریپ قیمت یا صفر قیمت تک آسکتا ہے۔ اس لیے، اس طریقے سے یہ ممکن ہوجاتا ہے کہ اثاثہ کی مدت استعمال پر کل فرسودگی لاگت کو تقسیم کر دیا جائے؛
    • ہر سال نفع و نقصان کھاتہ میں ایک ہی رقم بطور فرسودگی کے لیے نکالی جاتی ہے۔ اس سے مختلف سالوں کے منافعوں کا موازنہ کرنا آسان ہوتا ہے؛
    • یہ طریقہ ان اثاثوں کے لیے مناسب ہے جن کی مدت استعمال کا صحیح صحیح تخمینہ لگایا جاسکتا ہے اور جہاں اثاثہ کا سال بہ سال استعمال مستقل اور ثابت رہتا ہے جیسے پٹہ دار بلڈنگ (Leasehold Building)۔

    7.6.1.2 خطِ مستقیم طریقے کی خامیاں

     (Limitations of Straight Line Method)

    اس کے باوجود کہ خطِ مستقیم طریقہ سادہ اور آسان ہے اور استعمال کرنا بھی سہل ہے لیکن پھر بھی اس کی کچھ خامیاں ہیں جنہیں ذیل میں دیا گیا ہے:
    • یہ طریقہ مختلف حسابی سالوں میں اثاثہ کی یکساں افادیت کے غلط یا ناقص مفروضہ پر مبنی ہے۔
    • وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اثاثہ کی صلاحیت کار گھٹتی رہتی ہے اور مرمت کا خرچ بڑھتا رہتا ہے۔ لہٰذا اس طریقہ کے تحت فرسودگی اور مرمت کو ایک ساتھ شامل کرکے منافع کی کل رقم اثاثہ کی کل مدت استعمال میں یکساں نہیں رہے گی بلکہ یہ سال بہ سال مسلسل بڑھتی ہی رہے گی۔

    7.6.2   قلم زدگی قدر کا طریقہ (Written Down Value Method) 

    اس طریقے کے تحت فرسودگی، اثاثہ کی کتابی قیمت پر نکالی جاتی ہے کیونکہ کتابی قیمت فرسودگی کے ہر سال نکالنے کی وجہ سے گھٹتی رہتی ہے، اس لیے اسے بقایہ تقلیل کا طریقہ (Reducing Balance Method) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ طریقہ ہر حسابی مدت کے آغاز پر اثاثہ کی کتابی قیمت کے پہلے سے طے شدہ تناسب/ فی صد کے اطلاق پر مشتمل ہے ، تاکہ فرسودگی کی رقم کا حساب نکالا جاسکے۔ فرسودگی کی رقم سال بہ سال گھٹتی رہتی ہے۔
    مثال کے طور پر اثاثہ کی اصلی لاگت 2,00,000 روپے ہے اور فرسودگی کو قلم زدگی قدر/ بقایا تقلیل کے طریقے پر%  10حساب سے نکالا گیا ہے تو فرسودگی کی رقم کو درج ذیل طور پر نکالا جائے گا:
    (i) فرسودگی (پہلا سال)
    = 20,00,000 روپے× 100/10= 20,000روپے
    (ii) قلم زدگی قدر = 2,00,000 روپے – 20,000 روپے = 1,80,000 روپے
    (پہلے سال کے اختتام پر)
    (iii) فرسودگی (دوسرے سال) = 1,80,000 × 100/10= 18,000 روپے
    (iv) قلم زدگی قدر = 1,80,000 روپے – 18,000 روپے = 1,62,000 روپے
    (دوسرے سال کے اختتام پر)
    (v) فرسودگی (تیسرے سال) = 1,62,000 روپے ×100/10= 16,200 روپے
    (vi) قلم زدگی قدر = 1,62,000 روپے – 16,200 روپے = 1,45,800 روپے
    (تیسرے سال کے اختتام پر)



    اس مثال سے ظاہر ہے کہ  فرسودگی کی رقم سال بہ سال گھٹتی رہتی ہے۔ اسی وجہ سے اسے گھٹتی ہوئی قسط (Reducing Installment) یا روبہ تقلیل قدر (Diminishing Value) کا طریقہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ طریقہ اس مفروضہ پر مبنی ہے کہ جیسے جیسے اثاثہ پرانا ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے اثاثوں سے کاروبار میں حاصل ہونے والے فوائد بھی کم ہوتے جاتے ہیں۔ (حوالے کے لیے دیکھیے شکل 7.2)۔ یہ اسی وجہ سے ہے کہ ہر سال اثاثہ کھاتہ کے بتدریج گھٹتے ہوئے بقایا پر پہلے سے طے شدہ شرح کا استعمال کیا جاتا ہے۔ لہٰذا بعد کے سالوں کے مقابلہ شروع کے سالوں میں فرسودگی خرچ کی بڑی رقم حاصل کی جاتی ہے۔

    بقایا تقلیل قدر کے طریقے کو استعمال کرتے ہوئے فرسودگی 
    25،000 فرسودگی روپے 
    20،000
    15،000
    10،000
    5،000
    0
    2003      2002       2001
    Year


    K-53
    شکل 7.2  : بقایا تقلیل قدر طریقے کے استعمال سے فرسودگی کی رقم
    بقایا تقلیل قدر طریقہ کے تحت فرسودگی کی شرح مندرجہ ذیل فارمولا کو استعمال کرکے نکالی جاتی ہے:
    K-54
    R=[1-n√s/c]x100
    جہاں r = شرح فرسودگی 
        n = متوقع مدت استعمال
     s = بچی کچی قیمت (Scrap Value)
     c = کسی اثاثہ کی لاگت 
    مثال کے طور پر ایک ٹرک کی اصل لاگت 9,00,000 روپے ہے اور اس کی باقی ماندہ قیمت 16 سال کی مدت استعمال کے بعد 50,000 روپے ہے۔ فرسودگی کی مناسب شرح ذیل میں نکالی جائے گی:
    R=[1-16√50,000/9,00,000]×100=(1-0.834)×100=16.6%

    7.6.2.1 قلم زدگی قدر طریقے کی خوبیاں

    (Advantages of Written Down Value Method)

    قلم زدگی قدر طریقے کے مندرجہ ذیل فوائد ہیں:
    • یہ طریقہ اس حقیقت پسندانہ مفروضے پر مبنی ہے کہ اثاثہ سے ہونے والے فوائد وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتے جاتے ہیں۔ لہٰذا یہ لاگت کے مناسب تعین کا متقاض ہے کیونکہ شروع کے سالوں میں زیادہ فرسودگی نکالی جاتی ہے کیونکہ اس وقت اثاثہ کی افادیت بعد کے سالوں کے مقابلہ زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس وقت کم قابل استعمال ہوتے ہیں؛
    • اس طریقہ سے ہر سال فرسودگی اور مرمت اخراجات کو ایک ساتھ رکھنے کی وجہ سے نفع و نقصان کھاتہ پر تقریباً یکساں نتیجہ برآمد ہوتا ہے؛
    • انکم ٹیکس ایکٹ ٹیکس مقاصد کے لیے اس طریقے کو تسلیم کرتا ہے؛
    • کیونکہ شروع کے سالوں میں اثاثہ کی لاگت کا بڑا حصہ قلم زد کر دیا جاتا ہے اس لیے اس کے متروک الاستعمال ہونے کے سبب ہونے والا نقصان کم ہو جاتا ہے؛
    • یہ طریقہ قائم اثاثوں کے لیے زیادہ مناسب ہے جو لمبے عرصے تک باقی رہتے ہیں اور وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ جنہیں زیادہ مرمت کے اخراجات کی ضرورت ہوتی ہے۔
    اس طریقہ کو وہاں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جہاں اثاثہ کے ناقابلِ استعمال یا متروک الاستعمال ہونے کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔

    7.6.2.2 قلم زدگی قدر/بقایا تقلیل طریقہ کی خامیاں

    (Limitations of written down value Methord)

    اگرچہ یہ طریقہ زیادہ حقیقت پسندانہ مفروضہ پر مبنی ہے تاہم اس کی درج ذیل خامیاں ہیں:
    • کیونکہ فرسودگی کو اس کی قلم زد قدر کی متعین فیصد پر نکالا جاتا ہے اس لیے اثاثہ کی قابلِ فرسودگی لاگت مکمل طور پر قلم زد نہیں کی جاسکتی؛
    • فرسودگی کی مناسب شرح کا طے کرنا مشکل ہوتا ہے۔

    7.7 خط مستقیم طریقہ اور قلم زدگی قدر طریقہ: ایک تقابلی تجزیہ

     (Straight Line Method and Written Down Method: A Comparative Analysis)

    خط مستقیم اور قلم زدگی قدر کے طریقے عملی طور پر فرسودگی کی رقم کا شمار کرنے کے لیے بالعموم استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان دونوں طریقوں کے مابین مندرجہ ذیل اختلافی نکات ہیں:

    7.7.1   فرسودگی نکالنے کی بنیاد (Basis of Charging Depreciation)

    خطِ مستقیم طریقہ میں فرسودگی کو اصلی لاگت یا (تاریخی لاگت) کی بنیاد پر نکالا جاتا ہے۔ جبکہ قلم زدگی قدر طریقے میں فرسودگی نکالنے کی بنیاد سال کے شروع اثاثہ کی خالص کتابی قیمت (یعنی اصل لاگت – اس تاریخ تک کی فرسودگی) ہوتی ہے۔

    7.7.2   فرسودگی کا سالانہ حساب خرچ (Annual Charge of Depreciation)

    خط مستقیم طریقے کے تحت ہر سال فرسودگی کی سالانہ رقم مستقل اور ثابت رہتی ہے۔ جبکہ قلم زدگی قدر طریقے میں فرسودگی کی سالانہ رقم پہلے سال میں بہت زیادہ اور اس کے بعد کے سالوں میں گھٹتی رہتی ہے۔ اس فرق کا سبب دونوں طریقوں میں فرسودگی کا حساب /خرچ نکالنے کی بنیاد کا فرق ہے۔ خط مستقیم طریقے کے تحت فرسودگی کا حساب اصل لاگت پر لگایا جاتا ہے جبکہ قلم زدگی قدر طریقہ میں اسے قلم زدگی قدر پر نکالا جاتا ہے۔ 

    7.7.3   فرسودگی اور مرمت اخراجات کے تعلق سے نفع و نقصان کھاتہ کے کل خرچ 

    (Total Charge Against Profit and Loss Account on Account of Depreciation and Repair Expenses)

    یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اثاثہ کی مدت استعمال کے بعد آئندہ سالوں میں اس پر مرمت کے اخراجات بڑھتے ہیں اس لیے خط مستقیم طریقے کے تحت بعد کے سالوں میں فرسودگی اور مرمت اخراجات کے متعلق نفع و نقصان کھاتہ کے بالمقابل کل چارج (لاگت/قیمت) بڑھتا ہے۔ دوسری طرف قلم زدگی قدر طریقے میں بعد کے سالوں میں فرسودگی خرچ گھٹتا ہے۔ اس لیے فرسودگی اور خرچ کا میزان سال بہ سال یکساں یا برابر رہتا ہے۔

    7.7.4   انکم ٹیکس قانون کے ذریعے تسلیم شدہ 

    (Recognition by Income Tax Law)

    خط مستقیم کا طریقہ انکم ٹیکس قانون کے ذریعے تسلیم شدہ نہیں ہے جبکہ قلم زدگی قدر طریقہ انکم ٹیکس قانون کے ذریعے تسلیم شدہ ہے۔

    7.7.5   مناسبت (Suitability)

    خط مستقیم کا طریقہ ان اثاثوں کے لیے مناسب ہے جن میں مرمت اخراجات کم سے کم ہوتے ہیں؛ ان کے متروک الاستعمال ہونے کا امکان کم ہوتا ہے اور اثاثہ کی باقی ماندہ قیمت (Scrap Value) اس میں شامل مدت پر منحصر ہوتی ہے جیسے مطلق ملکیت کی زمین (Freehold Land) اور عمارتیں، حق اجارہ اور  تجارتی مارکے وغیرہ۔ قلم زدگی قدر طریقہ ان اثاثوں کے لیے مناسب ہے جو تکنیکی تبدیلیوں سے اثر پذیر ہوتے ہیں اور وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ جن پر مرمت کے زیادہ اخراجات آتے ہیں جیسے پلانٹ اور مشینری، گاڑیاں، (Vehicles) وغیرہ۔

    قلم زدگی قدر کا طریقہ 
    (Written Down Value Method)
    خط مستقیم طریقہ 
    (Straight Line Method)
    فرق کی بنیاد 
    (Basis of Difference)
    کتابی قیمت (یعنی اصل لاگت نفی اس وقت تک نکالی گئی فرسودگی)
     سال بہ سال گٹھتی رہتی ہے۔
     ہر سال تقریباً برابر۔
     تسلیم شدہ ہے۔
    یہ ان اثاثوں کے لیے مناسب ہے جو تکنیکی / فنی تبدیلیوں سے متاثر ہوتے ہیں اور وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ زیادہ مرمت چاہتے ہیں۔
    اصل لاگت
     قائم (ثابت) سال
     سال بہ سال غیر یکساں۔ بعد کے سالوں میں بڑھتا رہتا ہے۔
     تسلیم شدہ نہیں ہے۔
    یہ طریقہ ان اثاثوں کے لیے مناسب ہے جن میں مرمت کے اخراجات کم ہوتے ہیں۔ غیر مستعمل/ متروک الاستعمال ہونے کا امکان کم ہوتا ہے اور باقی ماندہ قدر (Scrap Value) اس میں شامل مدت پر منحصر ہوتی ہے۔
    فرسودگی نکالنے کی بنیاد
     2۔ سالانہ فرسودگی خرچ/چارج
    فرسودگی اور مرمتوں سے متعلق نفع و نقصان کھاتہ کل خرچ/ چارج
     4۔ انکم ٹیکس قانون کے ذریعے تسلیم شدہ
    مناسبت

    شکل 7.3 : خطِ مستقیم اور قلم زدگی قدر کے طریقے کا موازنہ


    7.8 فرسودگی کو ریکارڈ کرنے کے لیے طریقے

    (Methods of Recording Depreciation)

    کھاتہ داری کی کتابوں میں قائم اثاثوں پر فرسودگی کو ریکارڈ کرنے کے لیے دو طرح کے انتظامات ہو سکتے ہیں:
    • اثاثہ کھاتے سے فرسودگی چارج کرنا
    • فرسودگی/ مجتمع فرسودگی کھاتے کے لیے بندوبست فراہم کرنا۔

    7.8.1  اثاثہ کھاتے سے فرسودگی چارج کرنا

    (Charging Depreciation to Asset Account)

    اس انتظام کے تحت، فرسودگی کو اثاثے کی قابل فرسودگی لاگت سے وضع (Debuct) کرلیا جاتا ہے (اثاثہ کھاتہ میں کریڈٹ کر دیا جاتا ہے) اور نفع/نقصان کھاتے سے چارج (یا ڈیبٹ) کر دیا جاتا ہے۔ اس طریقے کے تحت جرنل اندراجات حسب ذیل ہوں گے:
    اثاثہ کی خرید ریکارڈ کرنے کے لیے (صرف خریداری کے سال میں)
    اثاثہ کھاتہ Dr. (اثاثے کی لاگت کے ساتھ بشمول تنصیب، بھاڑہ وغیرہ۔)
    بینک/وینڈر کھاتہ سے 
    ہر سال کے اختتام پر دو اندراج ریکارڈ کیے جاتے ہیں
    (a)  فرسودگی کو اثاثے کی لاگت سے وضع کرنے کے لیے
    فرسودگی کھاتہ Dr. (فرسودگی کی رقم سے)
    اثاثہ کھاتہ سے
      (b)  فرسودگی کو نفع نقصان کھاتے سے چارج کرنے کے لیے
    نفع و نقصان کھاتہ Dr. (فرسودگی کی رقم سے)
    فرسودگی کھاتہ سے 
    جب اس طریقے کا استعمال کیا جاتا ہے تو قائم اثاثہ بیلنس شیٹ میں اثاثے کی جانب اپنی خالص کتابی قیمت پر ہوتا ہے (یعنی لاگت - اب تک چارج کی گئی فرسودگی) اور اپنی ابتدائی لاگت پر (جو کہ تاریخی لاگت بھی کہلاتی ہے) نہیں ہوتا۔

    7.8.2 فرسودگی کھاتے مجموعی فرسودگی کھاتے کے لیے بندوبست کی فراہمی 

    (Creating Provision for Depreciation Account/ Accumulated Depreciation Account)
    یہ طریقہ کسی اثاثہ پر فراہم کی گئی فرسودگی کو ایک علاحدہ کھاتے میں اکٹھا کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ اس کو عام طور پر بندوبست فرسودگی یا مجتمع فرسودگی (Accumulated Depreciation) کہا جاتا ہے۔ فرسودگی کا اس طرح اکٹھا کیے جانے سے اثاثہ کھاتہ کو کسی بھی طور پر تقسیم کرنے (Distribution) کی ضرورت نہیں ہے اور اثاثہ کو اس کی مدت استعمال کے سلسلہ وار سالوں پر اس کی اصل لاگت پر دکھایا جانا جاری رہتا ہے۔ فرسودگی کے اندراج کے لیے اس طریقے کی کچھ بنیادی خصوصیات ہیں جنہیں ذیل میں دیا گیا ہے:
    • اثاثہ کھاتہ تمام زندگی ہر سال اپنی اصل لاگت میں نظر آنا؛
    • ہر حسابی سال کے اختتام پر اثاثہ کھاتہ میں تطبیق (Adjustment) کیے جانے کے بجائے فرسودگی کو ایک علاحدہ کھاتہ میں مجتمع کیا جاتا ہے۔
    اس طریقے کے تحت درج دیل اندراجات (Entries) ریکارڈ کیے جاتے ہیں:
    اثاثہ کی خرید کے اندراج کے لیے (صرف خریداری کے سال میں)
    اثاثہ کھاتہ Dr. (اثاثہ کی لاگت کے ساتھ بشمول تنصیبی اور دیگر اخراجات)
    بینک /وینڈرسے (نقد یا ادھار خریداری)
    ہر سال کے اختتام پر درج ذیل دو جرنل اندراجات کیے جاتے ہیں:
    (a) فرسودگی رقم کو فرسودگی کے لیے بندوبست کھاتہ کو میں کریڈٹ کرنے کے لیے 
    (فرسودگی کی رقم کے ساتھ) Dr. فرسودگی کھاتہ 
    فرسودگی بندوبست کھاتہ سے
    (b) نفع و نقصان کھاتہ میں فرسودگی کو خرچ کے لیے
    (فرسودگی کی رقم کے ساتھ) Dr. نفع و نقصان کھاتہ 
    فرسودگی کھاتہ سے
    بیلنس شیٹ کے اندراجات
    بیلنس شیٹ میں قائم اثاثہ، اثاثہ کی جانب اپنی اصل لاگت پر ہی دکھایا جاتا رہے گا اور تا حال نکالی گئی فرسودگی، فرسودگی بندوبست کھاتہ (Provision for Depreciation Account) میں دکھائی جائے گی جیس یا تو بیلنس شیٹ میں واجبات کی جانب یا پھر بیلنس شیٹ کی اثاثہ کی جانب متعلقہ اثاثہ کی اصل لاگت میں سے گھٹا کر دکھایا جاسکتا ہے۔

    مثال 1

    میسرز سنگھانیہ اینڈبرادرس نے ایک پلانٹ یکم اپریل 2017 کو 5,00,000 روپے کا خریدا اور اس کی تنصیب پر 50,000 روپے خرچ کیے۔ اس پلانٹ کی باقی ماندہ قیمت کا پہلے 10 سالہ مدت استعمال کے بعد 10,000 روپے تخمینہ لگایا گیا۔ سال 2016-17 کے لیے جرنل اندراجات کیجیے اور پہلے تین سال کا پلانٹ اکاؤنٹ اور فرسودگی کھاتہ تیار کیجیے کہ فرسودگی خط مستقیم طریقہ پر نکالی گئی ہے جبکہ :
    (i) کھاتوں کی کتابیں ہر سال 31 مارچ کو بند کی جاتی ہیں؛ 
    (ii) اور فرم، اثاثہ کھاتہ پر فرسودگی چارج کرتی ہے۔

    حل

    سنگھانیہ اینڈ برادرس کی کتاب
    جرنل
    تاریخ تفصیل L.F. ڈیبٹ رقم روپے  کریڈٹ رقم روپے
    2016
    01 اپریل
    پلانٹ کھاتہ                                    Dr.
     بینک کھاتہ سے
     (5,00,000 روپے میں پلانٹ خریدا)
    5,00,000 5,00,000
    01 اپریل پلانٹ کھاتہ                                          Dr.
     بینک کھاتہ سے
     (پلانٹ لگانے پر کیا گیا خرچ)
    50,000 50,000
    2017
    31 مارچ
              Dr.                                    فرسودگی کھاتہ
    پلانٹ کھاتہ سے
     (اثاثے پر فرسودگی لگائی گئی)
    54,000 54,000
    31 مارچ
                                                     Dr. نفع و نقصان کھاتہ
    فرسودگی کھاتہ سے
    (نفع و نقصان کھاتہ پر فرسودگی ڈیبٹ کی گئی)
    54,000 54,000

    پلانٹ اکاؤنٹ

    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    54,000
    4,96,000
    5,50,000
    54,000
    4,42,000
    4,96,000
    54,000
    3,88,000
    4,42,000
    فرسودگی
    بیلنس c/d

    فرسودگی
    بیلنس c/d

     فرسودگی
    بیلنس c/d
    2017
    31 مارچ


    2018
    31 مارچ

    2019
    31 مارچ
    5,00,000
    50,000

    5,50,000
    4,96,000

    4,96,000
    4,42,000

    4,42,000
    3,88,000
    بینک

    بینک
    (انسٹالیشن خرچ)

     بیلنس b/d

     بیلنس b/d

     بیلنس b/d
    2016
    01اپریل

    2017
    01 اپریل

    2018
    01اپریل

    2019
    01 اپریل
    فرسودگی کھاتہ

    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    54,000

    54,000

    54,000
    نفع و نقصان

    نفع و نقصان

    نفع و نقصان
    2017
    31 مارچ
    2018
    31 مارچ
    2019
    31 مارچ
    54,000

    54,000

    54,000
    پلانٹ

    پلانٹ

    پلانٹ
    2017
    31 مارچ
    2018
    31 مارچ
    2019
    31 مارچ

    ورکنگ نوٹس

    (1) اصل لاگت کی تحسیب
    (Rs.)
    خریداری لاگت 5,00,000
    اضافہ : لاگت تنصیب 50,000
    اصل لاگت 5,50,000
    باقی ندہ قدر 10,000
    مدت استعمال 10 سال
    (2)     رقم فرسودگی  
    Rs.5,50.000-Rs. 10,000/10=
    Rs.54,000p.a.=
    K-60

    مثال 2

    میسرز مہرا اینڈسنز نے یکم اکتوبر 2016 کو 1,80,000 میں ایک مشین خریدی اور 20,000 اس کی تنصیب پر خرچ کیے۔ فرم ہر سال اصل لاگت پر10% کی شرح سے فرسودگی کو قلمزدگی کرتی ہے۔ سال 2017 کے لیے ضروری جرنل اندراجات ریکارڈ کیجیے اور اور پہلے تین سال کے لیے مشین کھاتہ اور فرسودگی کھاتہ تیار کیجیے یہ فرض کرتے ہوئے کہ: 
    (i) کھاتوں کی کتابیں ہر سال مارچ میں بند ہوتی ہیں اور
    (ii) فرم اثاثہ کھاتہ سے فرسودگی نکالتی ہے۔

    حل

    مہرا اینڈ سنز کی کتابیں
    جرنل

    کریڈٹ رقم روپے  ڈیبٹ رقم روپے  L.F. تفصیل تاریخ
    1,80,000 1,80,000
    .Dr                                                               مشین کھاتہ
    بینک کھاتہ
     (1,80,000 میں مشین خریدی)
    2016
    01 اکتوبر
    20,000 20,000
                       Dr.                                                       
    مشین کھاتہ
     بینک کھاتہ 
    (انسٹالیشن پر خرچ کیا گیا)
    01 اکتوبر
    10,000 10,000 Dr. 
    فرسودگی کھاتہ
    مشین کھاتہ
     (اثاثے پر فرسودگی لگائی گئی)
    2017
    31 مارچ
    10,000 10,000
                                      Dr.                                                                         نفع و نقصان کھاتہ
     فرسودگی کھاتہ 
    (فرسودگی نفع و نقصان کھاتہ سے ڈیبٹ کی گئی )
    31 مارچ
    20,000 20,000                              Dr. 
    فرسودگی کھاتہ
    مشین کھاتہ
     (مشین پر فرسودگی چارج کی گئی)
    2018
    31 مارچ

    20,000 20,000
     Dr.                                                                         نفع و نقصان کھاتہ
     فرسودگی کھاتہ To
    (فرسودگی نفع و نقصان کھاتہ سے ڈیبٹ کی گئی )  
    31 مارچ
    20,000 20,000    Dr.                                                            فرسودگی کھاتہ
     مشین کھاتہTo
     (مشین پر فرسودگی چارج کی گئی)
    2018
    31 مارچ 

    20,000 20,000
     Dr.                                                                         نفع و نقصان کھاتہ
     فرسودگی کھاتہ To
    (فرسودگی نفع و نقصان کھاتہ سے ڈیبٹ کی گئی )
    31 مارچ


    میسرز مہرا اینڈسنز کی کتابیں
    مشین کھاتہ

    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    10,000
    1,90,000
    2,00,000
    20,000
    1,70,000
    1,90,000
    20,000
    1,50,000
    1,70,000
    فرسودگی
    (6 ماہ کے لیے)
     بیلنسc/d


    فرسودگی
     c/dبیلنس

    فرسودگی
     بیلنسc/d
    2017
    31مارچ

    31مارچ

    2018
    31مارچ

    2019
    31مارچ
    1,80,000
    20,000

    2,00,000
    1,90,000

    1,90,000
    1,70,000

    1,70,000
    بینک
    بینک
     (انسٹالیشن خرچ)


     بیلنسb/d


    بیلنسb/d
    2016
     01اکتوبر
    01اکتوبر

     2017
     01اپریل

     2018
    01 اپریل

    فرسودگی کھاتہ

    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    10,000
    10,000

    20,000
    20,000

    20,000
    20,000
    نفع و نقصان

    نفع و نقصان


    نفع و نقصان
    2017
    31 مارچ


    2018
    31 مارچ

    2019
    31 دسمبر
    10,000
    10,000

    20,000
    20,000

    20,000
    20,000
    مشین


    مشین



    مشین
    2017
    31 مارچ


    2018
    31 مارچ

    2019
    31 دسمبر


    یادداشت


    (1) مشین کی اصل لاگت کی تحسیب
    روپے
    خریداری لاگت 1,80,000
    اضافہ: لاگت تنصیب    20,000
    اصل لاگت 2,00,000
    (2) فرسودگی خرچ =2,00,000 روپے کا10% ہر سال
     p.a.20,000روپے

    (3) سال 2016 کے دوران فرسودگی صرف 6 سال کے لیے خارج کی جائے گی کیونکہ تاریخ حصول یکم اکتوبر 2016 ہے یعنی سال 2016-17 کے دوران اثاثہ صرف 6 ماہ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
    (4)    فرسودگی 10,000 روپے   =6/12 ×20,000=(17-2016)
    K-65

    مثال 3

    سوال نمبر 2 میں دیے گئے اعداد و شمار کی بنیاد پر جرنل اندراجا کو ریکارڈ کیجیے اور مشین کھاتہ تیار کیجیے۔ اگر فرم فرسودگی کھاتے کے لیے بندوبست کا حساب کتاب رکھتی ہے تو پہلے تین سال کے لیے فرسودگی کھاتہ اور فرسودگی کھاتے کے لیے بندوبست کا حساب تیار کیجیے۔

    حل

    مہرا اینڈ سنز کی کتابیں
    مشین کھاتہ

    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    2,00,000

    2,00,000

    2,00,000
    2,00,000
    بیلنس c/d


    بیلنس c/d
    2017
    31 مارچ


     2018
    31مارچ 
    1,80,000
    20,000


    2,00,000
    2,00,000
    2,00,000
    بینک
     بینک
     (انسٹالیشن خرچ)


     بیلنسb/d
    2016
    1 اکتوبر
    1اکتوبر

    2017
    01 اپریل
    فرسودگی کھاتے کے لیے بندوبست

    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    10,000
    10,000
    10,000
    20,000
    30,000
    30,000
    20,000
    50,000
    فرسودگی

     بیلنس b/d
     فرسودگی

    بیلنس b/d
    فرسودگی
    2016
    31 مارچ



    2017
    01 اپریل 
    31 مارچ

    2018
    1 اپریل 
    2017
    31 مارچ 

    10,000
    10,000

    30,000

    30,000


    50,000

    50,000
    بیلنسc/d


    بیلنسc/d



    بیلنسc/d
    2016
    31 مارچ

    2017
    31 مارچ


    2018
    31 مارچ


    فرسودگی کھاتہ

    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    10,000

    10,000

    20,000
    20,000
    20,000
    20,000
    نفع و نقصان

    نفع و نقصان

    نفع و نقصان
    2017
    31 مارچ

    2018
    31 مارچ

    2019
    31مارچ

    10,000
    10,000

    20,000
    20,000
    20,000
    20,000
    فرسودگی بندوبست کھاتہ

    فرسودگی بندوبست کھاتہ


    فرسودگی بندوبست کھاتہ
    2017
    31 مارچ

    2018
    31 مارچ

    2019
    31مارچ

    مثال 4

    ڈالمیا ٹیکسٹائل ملز نے یکم اپریل 2016 کو 2,00,000 روپے میں میسرز آہوجہ اینڈ سنز سے ادھار مشینری خریدی اور 10,000 روپے اس کی تنصیب پر خرچ کیے۔ قلم زد قدر کی بنیاد پر % 10کی شرح سے فرسودگی فراہم کی گئی۔ پہلے تین سال کے لیے مشینری کھاتہ تیار کیجیے۔ کتابیں ہر سال 31 مارچ کو بند کی جاتی ہیں۔
    حل
    ڈالمیا ٹیکسٹائل کی کتابیں
    مشینری کھاتہ

    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    21,000
    11,89,000
    2,10,000

    18,9002
    1,70,100
    1,89,000
    17,0103
    1,53,090
    1,70,100
    فرسودگی
    بیلنس c/d

    فرسودگی 
    بیلنس c/d


    فرسودگی 
    بیلنس c/d
    2017
    31 مارچ

    2018
    31 مارچ

    2019
    31 مارچ
    2,00,000
    10,000
    2,10,000
    1,89,000
    1,89,000
    1,70,100

    1,70,100
    1,53,090
    بینک
    بینک

    بیلنس c/d

    بیلنس c/d

    بیلنس c/d
    2016
    01 اپریل

    2017
    01 اپریل

    2018
    01 اپریل

    2020

    فرسودگی رقم کی تحسیب

    فرسودگی رقم کی تحسیب (روپے)
    01.01.2016 کو اصل لاگت              2,10,000 (یعنی + 10,000ۤ+2,00,000)
    نفی: سال 2016-17 کے لیے فرسودگی                                     1 (21,000)
    (2,10,000 کی 10% کی شرح سے    
    01.04.2017قلم زد قدر( WDV)
    1,89,000
    نفی: سال 2017-18 کے لیے فرسودگی 
    (1,89,000کی 10% کی شرح سے )                          2(18,900)
    01.04.2018 کو قلم زد قدر (WDV) 1,70,100
    نفی: سال 2018-19 کے لیے فرسودگی
    (1,70,100کی 10% شرح سے)                                  3 (17,010)
    کو قلم زد قدر  WDV) 01.04.2017)    
     1,53,090


    K-70
     K-71

    مثال 5

    میسرز سہانی انٹرپرائزیز نے یکم جولائی 2014 کو 40,000 روپے میں ایک پرنٹنگ مشین خریدی اور اس کی ڈھلائی اور تنصیب پر 5,000 روپے خرچ کیے۔ ایک دوسری مشین یکم جنوری 2003 کو 35,000 روپے میں خریدی گئی۔ قلم زد قدر پر 20% کی شرح سے فرسودگی چارج کی گئی۔ پرنٹنگ مشین کھاتہ 31 مارچ میں ختم ہوئے سالوں 2002، 2003، 2004اور  2005 کے لیے کھاتہ تیار کیجیے۔

    حل

    ساہنی انٹرپرائز کی کتابیں
    پرنٹنگ مشین کھاتہ

    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    6,7501
    38,250
    45,000
    9,4002
    63,850
    73,250
    12,7703
    51,080
    63,850
    فرسودگی 
    بیلنس c/d

    فرسودگی 
    بیلنس c/d


    فرسودگی 
    بیلنس c/d
    2015
    31 مارچ

    2016
    31 مارچ

    2017
    31 مارچ
    40,000
    5,000
    45,000
    38,250
    35,000
    73,250
    63,850
    63,850
    51,080
    بینک
    بینک

    بیلنس c/d
    بینک

    بیلنس c/d

    بیلنس c/d
    2014
    جولائی 01


     2015
     اپریل01
     جنوری01

     2016
    اپریل01
     2017
    اپریل01

    ضروری یادداشت

                                                                                      (روپے)
    یکم جولائی 2014 کو خریدی گئی مشین کی اصل لاگت                                 45,000
    نفی: 31 مارچ 2015 تک فرسودگی (9 ماہ کے لیے 20% کی شرح سے)     1(6,750)1
                                                                                 38,250
    + یکم جنوری 2016 کو خریدی گئی نئی مشین کی لاگت                              35,000
    73,250
    (–) 2015- 2016 کے لیے فرسودگی 
    (38,250 کی 10% کی شرح سے + 35000 کی 20% کی شرح سے 3 ماہ کے لیے) 2(9,400)
    31 مارچ 2016 کو قلم زد قدر                                                       63,850
    (–) سال 2016-17 کے لیے فرسودگی (73,850 روپے کی 20% کی شرح سے)   3(12,770)      
    31 مارچ 2017 کو قلم زد قدر (WDV)
                    51,080


    K-73

    اپنے فہم و ادراک کی جانچ کیجیےII 

    بساریہ کنفیکشنر نے یکم جولائی 2003 کو ایک کولڈ اسٹوریج پلانٹ 1,00,000 روپے کا خریدا۔ پہلے تین سال کے واسطے فرسودگی کے لیے نکالی گئی رقم کا موازنہ کیجیے۔ پہلے تین سالوں کے لیے درج ذیل کا استعمال کرتے ہیں :
    1۔فرسودگی کی شرح % 10اصل لاگت کی بنیاد پر؛
    2۔فرسودگی کی شرح قلم زدگی قدر کی بنیاد پر؛
    3۔فرسودگی کی نکالی گئی رقم کو گراف پر بھی پیش کیجیے۔

    7.9  اثاثہ کی فروخت (Disposal of Asset)

    اثاثہ کا متروک الاستعمال ہونا یا تو اس کی مدت استعمال کے اختتام پر ہوتا ہے یا پھر مدت استعمال کے دوران ہی ناقابلِ استعمال ہونے یا پھر دوسرے عامل کے سبب ہوتا ہے۔
    اگر اسے مدت استعمال کے اختتام پر فروخت کیا جاتا ہے تو اثاثہ کی بطور اسکریپ فروخت سے حاصل شدہ رقم کو اثاثہ کھاتے میں کریڈٹ کر دیا جائے گا اور اس کا بیلنس نفع و نقصان میں منتقل کردیا جائے گا، اس ضمن میں درج ذیل جرنل اندراجات ریکارڈ کیے جاتے ہیں:
    بطور اسکریپ اثاثہ کی فروخت کے لیے:
    بینک کھاتہ Dr.
    اثاثہ کھاتہ سے
    اثاثہ کھاتے میں بقایا رقم کی منتقلی کے لیے:
    (a) منافع کی صورت میں
    بینک کھاتہ Dr.
    نفع و نقصان کھاتہ سے
    (b) نقصان کی صورت میں
    نفع و نقصان کھاتہ Dr.
    اثاثہ کھاتہ سے
    بہرحال اگر فرسودگی کے ریکارڈ کرنے کے لیے فرسودگی بندوبست کھاتہ کو استعمال کیا گیا ہے تو مذکورہ اندراجات کرنے سے پہلے فرسودگی بندوبست کھاتہ کی بقایا رقم کو اثاثہ کھاتہ میں مندرجہ ذیل جرنل اندراج کے ذریعے منتقل کر دیجیے:
    فرسودگی بندوبست کھاتہ Dr.
    To اثاثہ کھاتہ
    مثال کے طور پر آر ایس لمیٹڈ نے ایک گاڑی 4,00,000 روپے میں خریدی۔ تخمینہ لگایا گیا کہ چار سال بعد اس کی باقی ماندہ قیمت 40,000 روپے ہوگی۔ ہر سال فرسودگی کے لیے نکالی جانے والی رقم کو خطِ مستقیم طریقے پر معلوم کیجیے اور بتائیے کہ گاڑی کھاتہ چار سال تک کس طرح نظر آئے گا جبکہ گاڑی آخر میں 50,000 روپے کی فروخت کی جائے اور جب کہ:
    (a) فرسودگی کو اثاثہ کھاتہ سے نکالا کیا گیا ہو؛ اور
    (b) فرسودگی بندوبست کھاتہ تیار کیا گیا ہو۔
    آر ایس لمیٹڈ کی حسابی کتابوں میں درج ذیل اندراجات پر غورکیجیے۔
    (a) جب کہ فرسودگی کو اثاثہ کھاتہ سے نکالا 

    آر ایس لمٹیڈ کی کتاب
    گاڑی کھاتہ

    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    90,000
    3,10,000
    4,00,000
    90,000
    2,20.000
    3,10,000
    90,000
    1,30,000
    2,20,000
    99,000
    50,000
    1,40,000
    فرسودگی
    بیلنسc/d


    فرسودگی
    بیلنسc/d

    فرسودگی
    بیلنسc/d

    فرسودگی
    بینک
    سال کے
     آخرمیں

    سال کے
     آخرمیں

    سال کے
     آخرمیں
    4,00,000
    4,00,000
    3,10,000
    3,10,000
    2,20,000
    2,20,000
    1,30,000
    10,000


    1,40,000
    بینک
    بیلنسb/d

     بیلنسb/d

    بیلنسb/d
     نفع و نقصان (گاڑی کی فروخت پر نفع)
    I
    سال

    II
    سال


    III
    سال

    IV
    سال
    (b) جبکہ فرسودگی کھاتے کے لیے بندوبست کیا گیا ہو
    آر ایس لمٹیڈ کی کتابیں
    گاڑی کھاتہ

    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    4,00,000

    4,00,000
    4,00,000

    4,00,000

    4,00,000
    3,60,000
    50,000
    4,10,000
    فرسودگی
    بیلنسc/d


    فرسودگی
    بیلنسc/d

    بیلنس c/d
     بندوبست برائے
    فرسودگی
    بینک
    سال کے
     آخرمیں

    سال کے
     آخرمیں

    سال کا آخر
    4,00,000

    4,00,000
    4,00,000
    4,00,000

    4,00,000
    4,00,000
    4,00,000
    10,000
    4,10,000
    بینک
    بیلنسc/d
    بیلنس b/d
     بیلنس b/d
     نفع و نقصان
     (گاڑی کی فروخت پر نفع)
    I
    سال

    II
    سال

    III
    year
    IV
    year

    بندوبست برائے فرسودگی 

    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    90,000
    90,000
    90,000
    90,000
    1,80,000
    1,80,000
    90,000
    2,70,000
    2,70,000
    90,000
    3,60,000
    فرسودگی

     بیلنسc/d
     فرسودگی

    بیلنسc/d
     فرسودگی

    بیلنسc/d
     فرسودگی بندوبست
    سال کے
     آخرمیں

    سال کے
     آخرمیں

    سال کے
     آخرمیں

    سال کے
     آخرمیں
    90,000
    90,000
    1,80,000
    1,80,000
    2,70,000

    2,70,000
    3,60,000


    3,60,000
    بیلنس b/d

    بیلنس b/d


    بیلنس b/d


    مشینری
    I
    سال

    II
    سال

    III
    سال

    IV
    سال

    7.9.1   متروک اثاثہ کھاتے کا استعمال

    (Use of Asset Disposal Account)

    متروک اثاثہ کھاتہ ایک ہی ہیڈ (Head) کے تحت اثاثہ کی فروخت پر مشتمل تمام لین دین کی اثاثے کی اصل لاگت اثاثے پر تازہ ترین مجتمع (Accumulated) فرسودگی، اثاثے کی قیمت فروخت، اثاثے کے فالتو پرزوں (اگر ہوں) کی قیمت اور فروخت (Disposal) پر حاصل نفع ونقصان یہ سب اس کے متعلقہ متغیرات (Variables) ہیں۔ اس رقم کا بقایا نفع اور نقصان کھاتہ میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ 
    یہ طریقہ عام طور پر اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب اثاثہ کا کوئی جزو فروخت کیا جاتا ہے اور بندوبست برائے فرسودگی کھاتہ موجود ہوتا ہے۔
    اس طریقے کے تحت ایک نیا کھاتہ بعنوان متروک اثاثہ کھاتہ کھولا جاتا ہے۔ فروخت کیے جانے والے اثاثہ کی اصل لاگت کو متروک اثاثہ کھاتہ میں ڈیبٹ کردیا جاتا ہے اور اثاثہ کی فروخت کی تاریخ تک فرسودگی بندوبست کھاتہ میں دکھائی گئی مجتمع فرسودگی رقم کو اثاثہ فروخت کھاتہ سے کریڈٹ کر دیا جاتا ہے۔ اثاثہ کی فروخت سے حاصل شدہ خالص (Net) رقم کو بھی اس کھاتے میں کریڈٹ کر دیا جاتا ہے۔ متروک اثاثہ کھاتہ کا بقایہ نفع یا نقصان ظاہر کرتا ہے جسے نفع اور نقصان کھاتے میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کا فائدہ یہ ہے کہ یہ ایک مقام پر اثاثہ کی فروخت سے متعلق تمام لین دین کی مکمل تصویر پیش کرتا ہے۔ Asset اثاثہ فروخت کھاتہ کی تیاری کے لیے مطلوبہ اندراجات مندرجہ ذیل ہیں:
    اثاثہ فروخت کھاتہ Dr. (فروخت کیے جانے والے اثاثہ کی اصل لاگت کے ساتھ)
    اثاثہ کھاتہ سے
    بندوبست برائے فرسودگی کھاتہ Dr. (فرسودگی بندوبست کھاتہ میں مجموعی بقایا کے ساتھ)
    اثاثہ فروخت کھاتہ سے
    بینک کھاتہ Dr. (خالص فروخت کی رقم کے ساتھ)
    اثاثہ فروخت کھاتہ سے
    اثاثہ فروخت کھاتہ سے بالآخر ڈیبٹ یا کریڈٹ بقایا دکھاتا ہے۔ اس کھاتہ کا ڈیبٹ بقایا فروخت پر نقصان ظاہر کرتا ہے اور اسے اس طرح سے پیش کیا جائے گا:
    نفع و نقصان کھاتہ Dr. (فروخت پر نقصان کی رقم کے ساتھ)
    اثاثہ فروخت کھاتہ سے 
    اس کھاتہ کے کریڈٹ بیلنس اور فروخت پر نفع کو مندرجہ ذیل جرنل اینٹری کے ذریعہ بند کر دیا جائے گا۔ مثال کے طور پر کرن انٹرپرائزز کی کتابوںمیں 31 مارچ 2017 کو مندرجہ ذیل بقایا (Balance) تھے۔
    مشینری (گروس قدر) 6,00,000روپے
    بندوبست برائے فرسودگی 2,50,000روپے
    یکم نومبر 2013 کو 1,00,000 روپے کی مشین خریدی، 60,000 روپے کی مجموعی فرسودگی رقم پر اسے یکم اپریل 2017 کو 35,000 روپے میں فروخت کر دیا۔ اثاثہ فروخت کھاتہ کو مندرجہ ذیل طریقہ سے تیار کیا جائے گا۔
    کرن انٹرپرائزز کی کتابیں
    مشینری فروخت کھاتہ

    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    60,000
    35,000


    5,0001
    1,00,000
    فرسودگی
    بندوبست
     بینک

     نفع و نقصان (بکری پر نقصان)
    2017
    01 اپریل

    01 اپریل
    2018
    31 مارچ
    1,00,000



    1,00,000
    مشینری 2017
    01 اپریل
    مشینری کھاتہ

    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    1,00,000

    6,00,000
    مشین
    ڈسپوزل(فروخت)
    2017
    01 اپریل

    2018
    31 مارچ
    6,00,000


    6,00,000
    بیلنس b/d 2017
    31 مارچ

    یادداشت
    (1) مشنری کی فروخت پر نقصان کی تحسیب Rs.
    فروخت کردہ اثاثے کی اصل لاگت 1,00,000
    نفی : مجتمع فرسودگی (60,000)
    40,000
    (2) بکری قدر (35,000)
    بکری پر نقصان (یعنی 35,000–40,000 روپے) 5,0001

    مثال 6

    کھوسلہ ٹرانسپورٹ کمپنی نے یکم جنوری 2015 کو 1,00,000 کے پانچ ٹرک خریدے جن میں ہر ایک کی قیمت 20,000 روپیہ تھی۔ خط مستقیم طریقے کا استعمال کرکے 10% سالانہ کی شرح سے فرسودگی فراہم کی گئی اور بندوبست برائے فرسودگی کھاتہ میں مجتمع کی گئی۔ یکم جنوری 2016 کو ایک ٹرک 15,000 روپے میں فروخت کر دیا گیا۔ یکم جنوری 2017 کو دوسرا ٹرک (جو یکم جنوری 2014 کو 20,000 روپے میں خریدا گیا تھا) 18,000 روپے میں بیچ دیا گیا۔ یکم اکتوبر 2016 کو ایک نیا ٹرک 30,000 روپے میں خریدا گیا۔آپ دسمبر 2015، 2017 - 2016 کو ختم ہونے والے سالوں کے لیے ٹرک کھاتہ، بندوبست برائے فرسودگی کھاتہ اور ٹرک فروخت (Disposal) کھاتہ تیار کیجئے اور فرض کر لیجئے کہ فرم اپنے کھاتوں کو ہر سال دسمبر میں بند کر دیتی ہے۔

    حل

    کھوسلہ ٹرانسپورٹ کمپنی کی کتاب
    ٹرک کھاتہ

    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    1,00,000
    1,00,000
    20,000
    80,000
    1,00,000
    20,000
    90,000
    1,10,000
    بیلنسc/d

     ٹرک فروخت
    بیلنسc/d

    ٹرک فروخت
     بیلنسc/d
    2015
    31 دسمبر

    2016
    01 جنوری
    31 دسمبر

    2017
    01 جولائی
    31 دسمبر
    1,00,000
    1,00,000

    1,00,000
    1,00,000

    80,000
    30,000
    1,10,000
    بینک
    (ٹرک کی
    خریداری)

    بیلنسb/d

     بیلنس b/d
    بینک
     (نئے ٹرک کی خریداری)
    2015
    01 جنوری


    2016
    01 جنوری

    2017
    01 جولائی
    01 اکتوبر
    ٹرک فر وخت (Disposal) کھاتہ

    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    2,000
    15,000
    3,0004
    20,000

    5,000
    18,000
    23,000
    بندوبست برائے فرسودگی
     بینک (بکری)
     نفع و نقصان
    (بکری پر نقصان)

     بندوبست برائے فرسودگی
    + 2,000 + روپے)
    (1,000 +2,000
     بینک (بکری)
    2016
    01جنوری
    01جنوری
    01جنوری


    2017
    01 جولائی
    01جولائی
    20,000

    20,000

    20,000

    3,000

    23,000
    مشینری

    مشینری
     نفع و نقصان
    5 (بکری پر نفع)
    2016
    01 جنوری


    2017
    01 جولائی
    01جولائی
    بندوبست برائے فرسودگی کھاتہ

    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    10,0001
    10,000
    10,000
    8,0002
    18,000
    16,000
    7,7503
    23,750
    فرسودگی

     بیلنسb/d
     فرسودگی

    بیلنسb/d
     فرسودگی
    (6000+ روپے 1000+750)
    2015
    31دسمبر


    2016
    01 جنوری
     31 دسمبر


    2017
    01 جنوری
    31 دسمبر
    10,000
    10,000

    2,000
    16,000
    18,000

    5,000
    18,750

    23,750
    بیلنسc/d

    ٹرک فروخت
     بیلنس c/d


    ٹرک فروخت
    بیلنسc/d
    2015
    31دسمبر


    2016
    01 جنوری
     31 دسمبر


    2017
    01 جنوری
    31 دسمبر

    یادداشت

    فرسودگی کی رقم کی تحسیب Rs.
    2015 سال
    ایک سال کے لیے 10,000 روپے پر %10 10,0001
    2016 سال
    ایک سال کے لیے 80,000 روپے پر %10 80002
    2017 سال
    ایک سال کے لیے 60,000 روپے پر %10 6,000
    چھ ماہ کے لیے 20,000 روپے پر %10 1,000
    تین ماہ کے لیے 30,000 روپے پر %10 7,50
    7,7503
    پہلے ٹرک کی فروخت پر نقصان
    یکم جنوری 2015 کو اصل لاگت 20,000
    نفی: فرسودگی % 10پر (2,000)
    یکم جنوری 2016 کو کتابی قیمت 18,000
    یکم جنوری 2016 کو فروخت قیمت حاصل ہوئی   (15,000)
    پہلی مشین کی فروخت پر نقصان 3,0004
    دوسرے ٹرک کی فروخت پر منافع 20,000
    دوسرے ٹرک کی اصل لاگت
    (نفی) وصول کی گئی فرسودگی  
    2,000                                                            2015
    2,000                                                            2016
    2017(جون 2016تک ) 1,000 5,000
    دوسرے ٹرک کتاب قیمت 15,000                                                                  
    دوسرے ٹرک فروخت قیمت 18,000
    فروخت پر نفمنافع 3,000

    مثال 7

    یکم اپریل 2015 کو میسرز کنشکا ٹریڈرس کی کتابوں میں درج ذیل بیلنس تھا: فرنیچر کھاتہ 50,000 روپے اور بندوبست برائے فرسودگی کھاتہ = 22,000 روپے۔ یکم اکتوبر 2015 کو اس فرنیچر کا ایک حصہ جو یکم اپریل 2011 کو 20,000 روپے خریدا گیا تھا 5,000 روپے میں فروخت کرایا گیا۔ اسی تاریخ کو 25,000 روپے کی قیمت کا نیا فرنیچر خریدا گیا۔ اثاثہ کی اصل لاگت پر % 10سالانہ کی شرح سے فرسودگی فراہم کی گئی اور فروخت کے سال میں اثاثے پر کوئی فرسودگی چارج نہیں کی گئی۔ 31 مارچ 2016 کو ختم ہونے والے سال کے لیے فرنیچر کھاتہ اور بندوبست برائے فرسودگی کھاتہ تیار کیجیے۔

    حل

    کنشکاٹریڈرس کی کتابیں

    فرنیچر کھاتہ


    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    5,000
    8,000
    7,0001

    55,000
    75,000
    بینک
    بندوبست برائے فرسودگی
    نفع و نقصان کھاتہ
     (بکری پر نقصان)

     بیلنسc/d
    2015
    01 اکتوبر

    2016
    31اپریل
    50,000
    25,000


    75,000
    بیلنسb/d
    بینک
    2015
    01 اپریل
    01 اکتوبر
    فرنیچر کھاتہ پر فرسودگی کے لیے بندوبست

    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    22,000

    4,250

    26,250
    بیلنس b/d

    فرسودگی
     (3,000+1,250 روپے)
    2015
    01 اپریل


    2016
    31 مارچ
    8,000


    18,250

    26,250
    فرنیچر
    (فرنیچر کی فروخت پر فرسودگی مجتمع کی گئی)

     بیلنسc/d
    2015
    01 اکتوبر


    2016
    31 مارچ

    یادداشت

    فرسودگی کی رقم کی تحسیب
    بکری پر نقصان کا حساب Rs.
    یکم اکتوبر 2015 کو فرنیچر کی اصل لاگت 20,000
    نفی: یکم اپریل 2011 سے 31 مارچ 2015 تک 4 سال کی فرسودگی
    (بکری کے سال میں کوئی فرسودگی نہیں) اصل لاگت پر سالانہ شرح 10% 8,000
    یکم اکتوبر 2015 کو قیمت 12,000
    بکری قیمت 5,000
    بکری پر نقصان 7,0001
    سال 2015-2016 کے لیے 30,000 روپے پر 10% کی شری سے فرسودگی
    (Rs. 50,000 – Rs. 20,000) پورے سال کے لیے 3,000
    6 ماہ کے لیے 25,000 روپے 10% 1,250
    4,250

    مثال 8

    کھاتے کے ساتھ ساتھ فرنیچر فروخت کھاتے کو بھی تیار کراتی ہے۔

    انل ٹریڈرس کی کتابیں

    فرنیچر کھاتہ


    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    20,000

    55,000
    75,000
    فرنیچر
    فروخت

    بیلنسc/d
    2015
    01 اپریل

    2016
    31 مارچ
    50,000

    25,000

    75,000
    بیلنسb/d

    بینک
    2015
    01 اپریل

    01اکتوبر

    فرنیچر کھاتہ پر فرسودگی کے لیے بندوسبت 


    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    22,000

    4,250
    26,250
    بیلنسb/d

    فرسودگی
    2015
    01 اپریل

    2016
    31 مارچ
    8,000

    18,250

    26,250
    فرنیچر
    فروخت
    بیلنسc/d
    2015
    01 اپریل

    2016
    31 مارچ

    فرنیچر فروخت کھاتہ 


    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    8,000
    5,000
    7,000

    20,000
    بندوبست برائے فرسودگی
     بینک
    نفع و نقصان کھاتہ
     (بکری پر نقصان)
    2015
    01 اکتوبر 
    20،000


    20،000
    فرنیچر 2015
    01 اکتوبر 

    مثال 9

    یکم جنوری 2012 جین اینڈ سنز نے ایک پرانا پلانٹ 2,00,000 روپے میں خریدا اور اس کی مرمت پر 10,000 روپے خرچ کیے۔ کمپنی نے پلانٹ کے ٹرانسپورٹ اور اس کی تنصیب پر بھی 5,000 روپے خرچ کیے۔ قلم زد قدر پر 20% کی شرح سے فرسودگی کی فراہمی کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ 31 جولائی 2015 کو پلانٹ آگ لگنے سے خراب ہو گیا اور 50,000 روپے کا ایک مطالبہ انشورینس کمپنی نے تسلیم کر لیا۔ پلانٹ کھاتہ، مجتمع (Accumulated) فرسودگی کھاتہ اور متروک پلانٹ کھاتہ تیار کیجیے اور یہ فرض کر لیجیے کہ کمپنی اپنی کتابوں کو ہر سال 31 دسمبر کو بند کر دیتی ہے۔

    حل

    جین اینڈسنز کی کتابیں

    پلانٹ کھاتہ


    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    2,15,000
    2,15,000

    2,15,000
    2,15,000

    2,15,000
    2,15,000

    2,15,000
    2,15,000
    بیلنسc/d


     بیلنسc/d


     بیلنسc/d


     پلانٹ فروخت
    2012
    31 دسمبر


    2013
    31 دسمبر

    2014
    31 دسمبر

    2015
    31 دسمبر
    2,15,000
    2,15,000

    2,15,000
    2,15,000

    2,15,000
    2,15,000

    2,15,000
    2,15,000
    بینک 


    بیلنسb/d


    بیلنسb/d



    بیلنسb/d
    2012
    01جنوری


    2013
    01جنوری

    2014
    01جنوری

    2015
    01جنوری

    مجتمع فرسودگی کھاتہ (Accumulated Depreciation Account)



    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    43,0001
    43,000
    43,000
    34,4002
    77,400
    77,400
    27,5203
    1,04,920
    1,04,920
    12,8434
    1,17,763
    فرسودگی

    بیلنسb/d
    فرسودگی

    بیلنسb/d
    فرسودگی
    بیلنسb/d
    فرسودگی
    2012
    31 دسمبر

    2013
    01جنوری

    2014
    جنوری01
    31 دسمبر

    2015
    01 جنوری
    31 جولائی
    43,000
    43,000

    77,400
    77,400

    1,04,920
    1,04,920

    1,17,763

    1,17,763
    بیلنسb/d

    بیلنسb/d

    بیلنسc/d
     پلانٹ فروخت
    2012
    31 دسمبر

    2013
    01جنوری

    2014
    31 دسمبر


    2015
    31جولائی

    متروک پلانٹ کھاتہ 


    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    1,17,763
    50,000
    47,2375
    2,15,000
    مجمتمع فرسودگی
     انشورینس کمپنی
    نفع و نقصان
    (بکری پر نقصان)
    2015
    31  جولائی
    2,15,000


    2,15,000
    پلانٹ 2015
    31  جولائی

    یادداشتیں
    فرسودگی کھاتے کی تحسیب (روپے)
    یکم جنوری 2012 کو اصل لاگت 2,15,000
    (2,00,000 + 10,000+ 5,000)
    سال 2012 کے لیے فرسودگی
    (2,15,000 روپے کا % 20کی شرح سے) (43,0001)
    1,72,000
    سال 2013 کے لیے فرسودگی
    (1,72,000کا % 20کی شرح سے)   (34,4002)
    1,37,600
    سال 2014 کے لیے فرسودگی
    (1,37,600روپے کا % 20کی شرح سے)   27,5203
    1,10,080
    31.07.15 تک کے لیے فرسودگی (12,8434)
    (1,10,080روپے کا% 20 کی شرح سے) 97,237
    بیمہ مطالبہ (Insurance Claim)۔ (50,000)
    فروخت پر نقصان   47,2375

    7.10 موجودہ اثاثہ کسی اضافہ یا توسیع کا اثر

     (Effect of any Addition or Extension to the Existing Asset)

    کسی موجود اثاثہ کو بہتر طور پر استعمال کرکے کچھ اضافوں یا اس میں کچھ توسیع کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ اضافے اور توسیع ضروری نہیں کہ اثاثہ کا لازمی جزو بن جائیں۔ اس قسم کے اضافے اور توسیع پر خرچ کی گئی رقم اصل سرمایہ بن جاتی ہے اور اسے اثاثہ کی مدت بقا تک بطور فرسودگی قلم زد کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ واضح کردینا ضروری ہے کہ خرچ کی گئی یہ رقم تمام مرمتوں کے اخراجات سے زائد ہوتی ہے۔ نظرثانی شدہ کھاتہ داری اسٹینڈر - 6 کے مطابق
    • کوئی بھی اضافہ یا توسیع جو موجودہ اثاثہ کا لازمی جزو ہے اس کی فرسودگی اثاثہ کی تمام قابل استعمال زندگی تک ہونی چاہئے۔
    • اس قسم کے اضافہ یا توسیع پر اثاثہ کی موجودہ شرح پر فرسودگی کا اطلاق کیا جانا چاہئے۔
    • جہاں کسی اضافہ یا توسیع کی اپنی منفرد شناخت ہوتی ہے اور وہ موجود اثاثہ کے فروخت کے بعد تک استعمال کیے جانے کے قابل رہتا ہے، وہاں اس کی اپنی مدت حیات کے دوران آزادانہ طور پر فرسودگی فراہم کی جانی چاہئے۔

    مثال10

    میسرز ڈیجیٹل اسٹوڈیو نے ایک مشین یکم اپریل 2013 کو 8,00,000 روپے کی خریدی۔ فرسودگی خط مستقیم طریقہ کی بنیاد پر نکالی گئی۔ یکم اپریل 2015 کو مشین کی کارکردگی بڑھانے کے لیے اس 80,000 روپے خرچ کرکے کافی اصلاحات کی گئیں۔ اس رقم کی خطِ مستقیم طریقہ کی بنیاد پر % 20کی شرح سے فرسودگی فراہم کی جاتی ہے۔ سال 2013-14 کے دوران رکھ رکھاؤ کے اوپر 2,000 روپے خرچ کیے گئے۔ مشین کھاتہ بندوبست برائے فرسودگی تیار کیجیے اور 31مارچ 2016 کو ختم ہونے والے حسابی سال میں نفع و نقصان کھاتہ میں خرچ کیجیے۔

    حل

    ڈیجیٹل اسٹوڈیو کی کتابیں 

    مشین کھاتہ 


    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    8,80,000

    8,80,000
    بیلنس c/d 2016
    31 مارچ
    800,000
    80,000
    8,80,000
    بیلنسb/d
    بینک
    2015 
    01 اپریل 

    بندوبست برائے فرسودگی کھاتہ 


    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    3,20,0001
    1,76,0002
    4,96,000
    بیلنسb/d
    فرسودگی
    2015
    01 اپریل

    2016
    31 مارچ

    4,96,000


    4,96,000
    بیلنس c/d 2014
    31 مارچ

    کارآمد یادداشت

    اصلاحات پر آئی لاگت کا اصل سرمایہ شمار ہوتا ہے لیکن مرمت اور رکھ رکھاؤ کارآمد یادداشت پر خرچ محاصل خرچ ہے۔
    01.04.2014 کو بندوبست برائے فرسودگی کھاتے کی بیلنس کی تحسیب
    01.04.2013 کو اصل لاگت =  8,00,000 روپے
    2013-14  اور 15-2014کے لیے فرسودگی =  3,20,0001 روپے
    (8,00,000 روپے کی % 20شرح سے)
    سال 2015-16 کے لیے فرسودگی کی تحسیب حسب ذیل ہوگی
    8,00,000روپے کی %20 شرح سے =  1,60,000 روپے
    80,000روپے کی 20% شرح سے =    16,000 روپے
    2015-16 کے لیے مجموعی فرسودگی =  1,76,0002 روپے
    نفع و نقصان کھاتے میں چارج کی جانے والی رقم
    فرسودگی   1,76,000 روپے
    مرمت اور رکھ رکھاؤ فرسودگی       2,000 روپے

    مثال 11

    میسرز نِشیت پرنٹنگ پریس نے یکم اپریل 2015 کو 6,80,000 میں ایک پرنٹنگ مشین خریدی۔ فرسودگی خط مستقیم طریقے کی بنیاد پر % 20کی شرح سے اصل لاگت پر فراہم کی گئی۔ یکم اپریل 2017 کو مشین کی فنی صلاحیت بڑھانے کے لیے اس میں اصلاحات کی گئیں جس پر 70,000 روپے خرچ ہوئے۔ لیکن اس اصلاح کے مشین کی مدت کارکردگی کسی اضافہ کی توقع نہیں ہے۔ ساتھ ہی ساتھ مشین کے اہم پرزے (Component) کو بھی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے بدلا گیا جس پر 20,000 روپے خرچ آیا۔ سال 2017-18 کے دوران عام رکھ رکھاؤ پر 5,000 روپے خرچ ہوئے۔ 31.3.2018 کو ختم ہونے والے سال کے مشینری کا کھاتہ بندوبست برائے فرسودگی کھاتہ اور نفع ونقصان کھاتہ میں چارج دکھائیے۔

    حل

    مشینری کھاتہ


    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    7,70,000

    7,70,000
    بیلنسc/d 2018
    31 مارچ
    6,80,000
    70,000
    20,000
    7,70,000
    بیلنسb/d
    بینک
    بینک
    2017
    01  اپریل 

    بندوبست برائے فرسودگی کھاتہ 


    رقم (روپے) J.F. تفصیل تاریخ رقم (روپے) J.F.
    تفصیل
    تاریخ
    2,72,0001
    1,54,0002
    4,26,000
    بیلنسb/d
    فرسودگی
    2017
    01اپریل

    2018
    31 مارچ
    4,26,000


    4,26,000
    بیلنسb/d 2018
    31 مارچ

    کارآمد یادداشت

    سال 2015کے لیے مشین کی لاگت = 6,80,000
    سال 2015-16اور سال 2016-17کے لیے فرسودگی چارج K-96
    2[20/100×6,80,000]
    = 2,72,000
    سال 2017-18 کے لیے فرسودگی = 6,80,000 روپے
    6,80,000 کی% 20کی شرح سے = 1,36,000 روپے
    *90,000کی %20کی شرح سے = 18,000 روپے
    سال 2017-18  کے لیے مجموعی فرسودگی = 1,54,0002 روپے

    حصہ -II

    بندوبست اور محفوظات(Provisions and Reserve)


    7.11  بندوبست (Provisions)

    کچھ خاص اخراجات/ نقصانات ہوتے تو ہیں رواں حسابی مدت سے متعلق لیکن ان (اخراجات /نقصانات) کی رقم یقین اور وثوق کے ساتھ معلوم نہیں ہوتی کیونکہ وہ اس وقت تک واقع نہیں ہوتے۔ اس طرح کی مدوں کے لیے صحیح اور خالص نفع کا حساب نکالنے کے لیے کچھ بندوبست ضروری ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک تاجر جوادھار فروخت کرتا ہے اسے یہ علم ہوتا ہے کہ رواں مدت کے قرض داروں میں سے کچھ لوگ ادائیگی نہ کر سکیں گے اور کچھ جزوی ادائیگی کریں گے۔ اعتدال پسندی یا احتیاط پسندی کے اصول کے مطابق جب نفع/ نقصان کا صحیح صحیح حساب لگایا جارہا ہوتو اس قسم کے متوقع نقصانات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہوجاتا ہے۔ لہٰذا تاجر مشکوک قرضوں کے لیے بندوبست (Provision for Doubtful Debts) کا سہارا لیتا ہے۔ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ قرضوں کے حصول کے وقت متوقع نقصان بھی ذہن میں رہے۔ اسی طرح مرمتوں اور جدید کاریوں کا بندوبست بھی قائم اثاثوں کی متوقع مرمت و تجدید کے لیے فراہم کیا جاتا ہے۔ بندوبست کی مثالیں ہیں:

    • بندوبست برائے فرسودگی (Provision for Depreciation)؛
    • بندوبست برائے ناقابل وصول اور مشکوک قرضہ جات
    (Provision for bad and doubtful debts)؛
    • بندوبست برائے ٹیکس (Provision for taxation)؛
    • قرض داروں کو دی جانے والی چھوٹ یا رعایت ؛ اور
    • بندوبست برائے مرمت و جدید کاری (Provision for Repairs and Renewals)۔
    یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ بندوبست برائے اخراجات و نقصانات کی رقم رواں مدت کے محاصل کے بالمقابل ایک خرچ ہے۔ بندوبست کی فراہمی (Creation of Provision) محاصل و اخراجات کی مناسب مماثلت کو یقینی بناتی ہے اور اس لیے صحیح حقیقی منافعوں کا حساب نکالا جاتا ہے۔ نفع و نقصان کھاتہ کو ڈیبٹ کرکے بندوبست کی فراہمی کی جاتی ہے۔ بیلنس شیٹ میں بندوبست کی رقم کو دکھایا جاسکتا ہے یا تو:
    • اثاثوں کی جانب متعلقہ اثاثوں سے گھٹاکر۔ مثال کے طور پر بندوبست برائے مشکوک قرضہ جات کو متعلقہ قائم اثاثوں سے متفرق قرض داروں (Sundry Debtors) کی رقم سے گھٹا کر دکھایا جاتا ہے۔
    • رواں واجبات کے ساتھ ساتھ بیلنس شیٹ کی واجبات کی جانب (Liabilities Side)۔ مثال کے طور پر بندوبست برائے ٹیکس اور بندوبست مرمت و جدیدی کاری۔


    7.11.1 بندوبست کے لیے حسابی عمل/کھاتہ داری طریقہ

     (Accounting Treatment for Provissions)

    ہر طرح کے بندوبست کے لیے کھاتہ داری عمل تقریباً یکساں ہوتا ہے۔ لہٰذا یہاں بندوبست برائے مشکوک قرضہ جات کے مسئلہ کو لے کر کھاتہ داری عمل کی وضاحت کی گئی ہے۔
    جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا کہ جب ادھار کی بنیاد پر کوئی کاروباری لین دین کیا جاتا ہے تو قرض داروں کا کھاتہ تیار کیا جاتا ہے اور اس کے بقایہ کو بیلنس شیٹ کی Asset Side میں دکھایا جاتا ہے۔ یہ قرض دار تین طرح کے ہوسکتے ہیں۔
    • اچھے قرض دار وہ ہوتے ہیں جن سے قرض کی وصولیابی یقینی ہوتی ہے۔
    • نادہند قرض دار وہ ہوتے ہیں جن سے رقم کی وصولیابی ممکن نہیں ہوتی اور انہیں دی گئی ادھار کی رقم ڈوب جاتی ہے اور نقصان یقینی ہے۔
    • مشکوک قرضے وہ ہیں کہ قرض دار ہو سکتا ہے ادائیگی کردیں لیکن کاروباری فرم کو ان سے کل رقم کی وصولیابی کا یقین نہیں ہوتا۔ واقعتا کاروباری تجربے کے طور پر اس طرح کے قرض داروں کی کچھ فیصد ایسی ہوتی ہے جو ادائیگی نہیں کر پاتے اس لیے ایسے قرضوں کو مشکوک قرضہ سمجھا جاتا ہے۔ اس امکانی نقصان مدنظر جو کچھ قرض داروں کی عدم ادائیگی کے باعث ہوتا ہے، ایک عملی طریقہ یہ ہے (اور ضروری بھی) کہ صحیح نفع اور نقصان کا حساب نکالتے وقت مشکوک قرضوں کے لیے مناسب بندوبست فراہم ناقابل وصول کیا جائے۔ مشکوک قرضوں کے لیے بندوبست کے فراہم کرنے کا عام طریقہ یہ ہے کہ تمام معلوم ناقابل وصول اور مشکوک قرضوں کو گھٹا کر/قلم زد کر کے متفرق قرض داروں سے واجب الادا تمام رقم کا ایک خاص فیصد نکال لیا جائے۔ مشکوک قرضوں کے لیے بندوبست کو بھی ’’مشکوک اور ناقابل وصول قرضوں کے لیے بندوبست‘‘ کیا جاتا ہے۔ یہ بندوبست نفع و نقصان کھاتہ کو مطلوبہ بندوبست کی رقم سے ڈیبٹ کر کے نکالا جاتا ہے اور بندوبست برائے مشکوک قرضہ جات کھاتہ کو کریڈٹ کیا جاتا ہے۔
    بندوبست برائے مشکوک قرضہ جات کی فراہمی کے لیے مندرجہ ذیل جرنل اندراج ریکارڈ کیا جاتا ہے: 
    نفع و نقصان کھاتہ Dr. (بندوبست کی رقم کے ساتھ)
    بندوبست برائے مشکوک قرضہ جات کھاتہ
    اسے مندرجہ ذیل مثال کی مدد سے واضح کیا جاتا ہے:
    31 مارچ 2014 کو ترہان ٹریڈرس کی کتابوں میں ٹرایل بیلنس کا ایک اقتباس (حصہ) دیکھیے جو ذیل میں دیا گیا ہے:

    تاریخ کھاتہ L.F. ڈیبٹ رقم روپے  کریڈٹ رقم روپے
    Sundry Debtors (متفرق قرض دار ) 68،000

    اضافی اطلاعات :

    • ناقابل وصول قرضے بٹھ کھاتے میں گئے لیکن اس 8,000 روپے کی رقم کو ریکارڈ نہیں کیا گیا:
    • قرض داروں کا 10% بندوبست کے لیے رکھا جانا ہے۔
    مشکوک قرضوں کے لیے بندوبست کا اہتمام کرنے کے لیے مندرجہ ذیل جرنل اندراجات ریکارڈ کی گئیں:

    جرنل 


    تاریخ تفصیل  L.F. ڈیبٹ رقم روپے  کریڈٹ رقم روپے
    2014 
    31 مارچ
    ناقابل وصول کھاتہ                                                    Dr.
    متفرق قرض دار کھاتہ
     (بیڈ ڈیبٹس قلم زد کیے )
    8,000
    8,000
    مارچ 31                                                                              Dr.
    نفع و نقصان کھاتہ

    ناقابل وصول کھاتہ سے
     (نفع و نقصان کھاتہ سے ناقابل وصول قرضہ جات)
    8,000
    8,000
    31 مارچ
    نفع و نقصان کھاتہ
    Dr.
    پلانٹ کھاتہ سے
     (اثاثے پر فرسودگی چارج کی)
    6,0001 6,0001

    کارآمد یادداشت:

    متفرق قرض داروں پر % 10کی شرح سے مشکوک قرضوں کے لیے بندوبست۔
    60001  روپے =( 68,000 – 8000روپے) 

    7.12 محفوظات (Reserves)

    کاروبار میں منافع کا ایک حصہ کچھ تو مستقبل کی ضروریات جیسے ترقی و توسیع کے لیے یا پھر آئندہ کے اتفاقی اخراجات (Contingencies) جیسے ملازمین کی کارکنوں کی اُجرتوں (Workmen Compensation) کی ادائیگی کے لیے علیحدہ رکھ لیا جاتا ہے۔ بندوبست کے برخلاف محفوظات منافع کا مستقبل کے لیے اختصاص ہے۔ اسے کاروبار کی مالی حالت کو مضبوط بنانے کے لیے رکھا جاتا ہے۔ محفوظات منافع کے بالمقابل خرچ نہیں ہے کیونکہ اس سے مراد کسی معلوم ذمہ داری یا مستقبل کے متوقع نقصان کی تلافی نہیں ہے۔ تاہم تحفظات (Reserves) کی شکل میں منافعوں کے باقی رکھنے سے کاروبار کے مالکین کے مابین موجود منافعوں کی رقم کی تقسیم میں کمی آتی ہے۔ اسے محفوظات اور زوائد (Surpluses) کے عنوان (Head) کے تحت اصل سرمایہ کے بعد بیلنس شیٹ کی واجبات کی جانب دکھایا جاتا ہے۔ محفوظات کی مثالیں ہیں:
    • عام محفوظ (General reserve)؛
    • کارکنون کی اجرتوں کا فنڈ (Workmen compensation fund)؛
    • سرمایہ کاری اتار چڑھاؤ فنڈ (Investment fluctuation fund)؛
    • اصل سرمایہ جاتی محفوظ (Capital reserve)؛
    • ڈیویڈینٹ مساواتی محفوظ (Dividend Equalisation Reserve)؛
    • ڈبینچر کی ادائیگی کے لیے محفوظ (Reserve for Redemption of Debenture)۔

    7.12.1 بندوبست اور محفوظ میں فرق

     (Difference Between Reserve and Provision)

    بندوبست اور محفوظ کے مابین امتیازی نکات ذیل میں بیان کیے گئے ہیں:
    1. بنیادی نوعیت (Basic Nature): بندوبست منافع کے بالمقابل ایک خرچ/ چارج ہے۔ جبکہ محفوظ منافع کا اختصاص (Appropriation of Profit) ہے۔ اس لیے خالص منافع اس وقت تک معلوم نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ تمام بندوبست کو نفع و نقصان کھاتہ سے ڈیبٹ نہ کر دیا جائے جبکہ محفوظ خالص منافع نکالنے کے بعد ہی وجود میں آتا ہے۔
    2. مقصد (Purpose): بندوبست ایک معلوم ذمہ داری یا خرچ کے لیے کیا جاتا ہے جس کا تعلق رواں کھاتہ داری مدت (Current Accounting Period) سے ہے۔ دوسری طرف محفوظ کاروبار کی مالی حالت کو مضبوط بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ کچھ محفوظات قانون کے تحت لازمی (Mandatory) ہوتے ہیں۔
    3. بیلنس شیٹ میں پیش کیا جانا (Presentation in Balance Sheet): بندوبست کو دکھایا جاتا ہے یا تو : (i)اثاثہ کی جانب اس مد (Item) میں سے گھٹاکر جس کے لیے اسے وجود میں لایا گیا ہے یا (ii) واجبات کی جانب رواں واجبات کے ساتھ دوسری طرف محفوظ کو اصل سرمایہ کے بعد واجبات کی طرف دکھایا جاتا ہے۔
    4. قابلِ ٹیکس منافعوں پر اثر (Effect on taxable profits) : بندوبست کی فراہمی ٹیکس منافعوں کے نکالنے سے پہلے کی جاتی ہے۔ اس لیے یہ قابل ٹیکس منافعوں کو کم کرتا ہے۔ محفوظ ٹیکس کے بعد منافع سے وجود میں لایا جاتا ہے اور اس لیے قابلِ ٹیکس منافع پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
    5. لازمی ہونے کا عنصر (Element of Compulsion) : ’بندوبست‘، اعتدال پسندی یا احتیاط پسندی کے نظریے کو عمل میں لاکر نفع یا نقصان کی صحیح صورت حال معلوم کرنے کے لیے بندوبست کی فراہمی ضروری ہے۔ منافعوں کے نہ ہونے کے باوجود بھی یہ فراہمی کرنی پڑتی ہے۔ تاہم کچھ حالات میں قانون نے کچھ مخصوص محفوظات جیسے (Debenture Redemption Reserve) کے لیے شرط لگائی ہے۔ محفوظ اس وقت تک نہیں فراہم کیا جاسکتا جب تک کہ منافع نہ ہوں۔
    6. ڈیویڈینڈ کی ادائیگی کے لیے استعمال(Use for the Payment of dividend) : بندوبست کو ڈیویڈینڈ کی تقسیم کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا جبکہ عام محفوظ کو ڈیویڈینڈ کی تقسیم کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    محفوظ بندوبست فرق کی بنیاد
    منافع کا اختصاص منافع کے برخلاف نکالا جاتا ہے (Charge)۔ بنیادی نوعیت
    یہ کاروباری حالت کو مضبوط کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ کچھ محفوظات قانونی طور پر لازمی ہوتے ہیں۔ یہ رواں کھاتہ داری مدت سے متعلق معلوم ذمہ داری یا خرچ کے لیے فراہم کیا جاتا ہے جس کی رقم طے نہیں ہوتی۔ مقصد
    اس کا قابلِ محصول منافعوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ قابلِ ٹیکس منافعوں کو گھٹاتا ہے۔ قابل ٹیکس منافعوں پر اثر
    اسے واجبات کی جانب سرمایہ کی رقم کے بعد واجبات کی جانب میں دکھایا جاتا ہے۔ یہ یا تو (i) اثاثہ کی جانب میں Item سے گھٹا کر دکھایا جاتا ہے جس کے لیے اس کو وجود میں لایا گیا ہے۔ (ii) یا پھر رواں واجبات کے ساتھ واجبات میں دکھایا جاتا ہے۔ 4۔بیلنس شیٹ میں اظہار
    عام طور پر محفوظ کا اہتمام کرنا انتظامیہ کی صوابدید پر ہوتا ہے۔ بغیر منافعوں کے محفوط کا اہتمام نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم کچھ حالات میں قانون نے کچھ مخصوص محفوظات کے لیے شرط لگائی ہے جیسے ڈبینچر رڈیمپشن (Debenture Redemption) نظریہ ’اعتدال پسندی‘ یا احتیاط پسندی کو عمل میں لاکر بندوبست حقیقی و صاف نفع یا نقصان کا پتہ لگانے کے لیے لازمی ہے۔ اس کا اہتمام کرنا ہی پڑتا ہے خواہ منافع ہویا نہ ہو۔ 5۔لازمیت کا عنصر
    اسے ڈیویڈینڈ کی تقسیم کے لیے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ اس کو ڈیویڈینڈ کی تقسیم کے لیے استعمال میں نہیں لایا جاسکتا۔ 6۔ ڈیویڈینڈ کی تقسیم کے لیے استعمال

    شکل 7.4 بندوبست اور محفوظات کے مابین فرق کا اظہار 

    7.12.2 محفوظ کی قسمیں (Types of Reserve)

    محفوظ جو کاروبار کے منافع کے بدستور قائم رکھ کر وجود میں لایا جاتا ہے یاعام مقصد کے لیے ہوتا ہے یا مخصوص مقصد کے لیے:
    1. عام محفوظ : جس مقصد کے لیے محفوظ وجود میں لایا جاتا ہے اگر وہ مخصوص نہیں ہوتا تو اسے عام محفوظ کہتے ہیں۔ اسے اصطلاحاً ’آزاد محفوظ‘ (Free Reserve) بھی کہا جاتا ہے کیونکہ انتظامیہ اسے آزادانہ طور پر کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ عام محفوظ (General Reserve) سے کاروبار کی مالی حالت مضبوط ہوتی ہے۔
    2. مخصوص محفوظ (Specific Reserve): مخصوص محفوظ ایسا محفوظ ہے جو کسی خاص مقصد کے لیے وجود میں لایا جاتا ہے اور اسے صرف اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مخصوص محفوظ کی مثالیں ذیل میں دی گئی ہیں:
    (i) ڈیویڈینڈ کا مساوی محفوظ (Dividend Equalisation Reserve):
     یہ محفوظ (Reserve) ڈیویڈینڈ کو مستحکم کرنے یا ڈیویڈینڈ کی شرح کو قائم رکھنے کے لیے وجود میں لایا جاتا ہے۔ زیادہ منافعوں کے سالوں میں رقم کو ڈیویڈینڈ کو مساوی محفوظ میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ کم منافعوں کے سال میں محفوظ کی اس رقم کو ڈیویڈینڈ کی شرح قائم رکھنے کے لیے استعمال میں لایا جاتا ہے۔
    (ii) کاریگر تلافی فنڈ (Workmen Compensation Fund):
     اس فنڈ کو حادثات وغیرہ کے نتیجے میں پیش آنے والے کاریگروں کے مطالبات پورا کرنے کے لیے وجود میں لایا جاتا ہے۔ 
    (iii) ڈبینچر سرمایہ کاری اتار چڑھاؤ فنڈ (Invenstment Fluctuation Fund):
     اسے بازار کے اتار چڑھاؤ کے سبب سرمایہ کاری کی قدر و قیمت میں گراوٹ کا سدبّاب کرنے کے لیے وجود میں لایا جاتا ہے۔
    (iv) ڈبینچر تلافی محفوظ (Debenture Redemption Reserve):
     اسے ڈبینچروں کی تلافی کے لیے فنڈز فراہم کرنے کے لیے وجود میں لایا جاتا ہے۔
    محفوظات کی زمرہ بندی محاصل محفوظ (Revenue Reserve) اور کیپیٹل محفوظ کے طور پر بھی کی جاتی ہے۔ یہ زمرہ بندی اس منافع کی نوعیت کے مطابق ہوتی ہے جن سے ان محفوظات کو تشکیل دیا جاتا ہے۔
    (a) محاصلی محفوظ(Revenue reserves)  : محاصلی محفوظ ان محاصلی منافعوں سے وجود میں لائے جاتے ہیں جو کاروبار کی حسبِ معمول عملی سرگرمیوں سے صورت پذیر ہوتے ہیں اور بصورتِ دیگر ان محاصل محفوظ کا استعمال ڈیویڈینڈ کی تقسیم کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ محاصلی محفوظات کی مثالیں ہیں:
    • عام محفوظ ؛
    • کاریگر تلافی فنڈ ؛
    • سرمایہ کاری اتار چڑھاؤ فنڈ ؛
    • ڈیویڈینڈ مساوی محفوظ ؛
    • ڈبینچر تلافی محفوظ ۔
    (b) سرمایہ جاتی محفوظ(Capital reserves)  : سرمایہ جاتی محفوظ سرمایہ جاتی منافعوں میں سے وجود میں لائے جاتے ہیں جو حسبِ معمول کاروباری سرگرمیوں سے نہیں نکالے جاتے۔ اس طرح کے محفوظات ڈیویڈینڈ کی تقسیم کے لیے موجود نہیں ہوتے۔ ان محفوظات کو سرمایہ جاتی نقصانات کی قلم زدگی (Writing Off) کے لیے یا پھر کمپنی کی صورت میں بونس شیئر (Bonus Shares) جاری کرنے کے لیے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ سرمایہ جاتی منافعوں کی مثالیں جنہیں سرمایہ جاتی محفوظ (Capital Reserve) کے طور پر برتا جاتا ہے خواہ انہیں بعینہ ٹرانسفر کیا گیا ہو یا نہیں، یہ ہیں:
    • شیر یا ڈبینچرز کے جاری کیے جانے پر پریمیم؛
    • قائم اثاثوں کی فروخت پر منافع؛
    • ڈبینچروں کی باز خریداری پر منافع؛
    • قائم اثاثوں اور واجبات کی باز تخمین کاری (Revaluation) پر منافع؛
    • قبل از تشکیل (Prior to Incorporation) منافع؛
    • ضبط شدہ حصص (Forfeited Shares) کے دوبارہ جاری کرنے پر منافع۔

    7.12.3 محفوظ اور سرمایہ جاتی محفوظ میں فرق ہی

     (Difference Between Revenue and Capital Reserve)

    محاصل محفوظات اور سرمایہ جاتی محفوظات (Capital Reserve) کے مابین مندرجہ ذیل بنیادوں پر فرق کیا جاسکتا ہے:
    1. تخلیق کا ذریعہ (Source of Creation): محاصلی محفوظ محاصلی منافعوں سے وجود میں آتے ہیں جو کاروبار کی حسبِ معمول عملی سرگرمیوں سے نکالے جاتے ہیں اور بصورت دیگر ڈیویڈینڈ کی تقسیم کے لیے موجود ہوتے ہیں۔ دوسری طرف سرمایہ جاتی محفوظ بنیادی طور پر سرمایہ جاتی منافعوں میں سے وجود میں آتے ہیں جو کاروبار کی حسب معمول عملی سرگرمیوں سے نہیں نکالے جاتے اور ڈیویڈینڈ کے طور پر تقسیم کے لیے موجود نہیں ہوتے۔ لیکن محاصلی منافع سرمایہ جاتی محفوظ کی تخلیق کے لیے استعمال میں لائے جاسکتے ہیں۔
    2. مقصد (Purpose) : محاصلی محفوظ مالی حالت کو مضبوط بنانے، غیر متوقع حالات سے نمٹنے یا کچھ مخصوص مقاصد کے لیے وجود میں لایا جاتا ہے۔ جبکہ سرمایہ جاتی محفوظ قانونی مطالبوں کی بجاآوری یا تجارتی حساب کتاب کے لیے وجود میں لائے جاتے ہیں۔
    3. استعمال (Usage): ایک مخصوص محاصلی محفوظ صرف متعین و مخصوص مقصد کے لیے ہی استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ عام محفوظ کسی بھی مقصد کے لیے استعمال میں لایا جاسکتا ہے جس میں ڈیویڈینڈ کی تقسیم بھی شامل ہے۔ سرمایہ جاتی محفوظ مروجّہ قانون میں فراہم شدہ مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، جیسے سرمایہ جاتی نقصانات کو قلم زد کرنا یا بونس شیئرز جاری کرنا۔


    سرمایہ جاتی محفوظ (Capital Reserve) محاصلی محفوظ (Revenue Reserve) فرق کی بنیاد (Basic of Difference)
    اسے بنیادی طور پر سرمایہ جاتی منافعوں میں سے وجود میں لایا جاتا ہے جسے کاروبار کے حسب معمول عملی سرگرمیوں میں سے نہیں نکالا جاتا اور یہ ڈیویڈینڈ کی تقسیم کے لیے موجود نہیں ہوتا۔ لیکن محاصلی منافع اس مقصد کے لیے استعمال میں لائے جاتے ہیں۔ اسے محاصلی منافعوں میں سے وجود میں لایا جاتا ہے جو کاروبار کی حسبِ معمول عملی سرگرمیوں میں سے نکالا جاتا ہے اور بصورت دیگر ڈیویڈینڈ کی تقسیم کے لیے موجود ہوتا ہے۔ تخلیق کا ذریعہ
    اسے قانونی مطالبات کی بجاآوری کے لیے یا پھر تجارتی حساب کتاب کے مقصد سے وجود میں لایا جاتا ہے۔ اسے مالی حالت کو مضبوط کرنے کے لیے وجود میں لایا جاتا ہے تاکہ غیر متوقع حالات سے نمٹا جاسکے یا پھر کسی خاص مقصد کے لیے۔ مقصد
    اسے خاص مقاصد کے لیے ہی استعمال کیاجاسکتا ہے جو مروجہ قانون میں فراہم کیے گئے ہیں جیسے سرمایہ جاتی نقصانات کو قلم زد (Write Off) کرنا، بونس شیئرزجاری کرنا۔ ایک مخصوص محاصلی محفوظ صرف متعین و مخصوص مقصد کے لیے ہی استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ عام محفوظ (General Reserve) کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے بشمول ڈیویڈینڈ کی تقسیم کے۔ استعمال
    شکل7.5سرمایہ جاتی  محفوظ اور محاصلی محفوظ کے درمیان فرق

    7.12.4 محفوظات کی اہمیت (Importance of Reserves)

    کوئی کاروباری فرم ایسی تکنیک اختیار کرنے کے بارے میں بھی سوچ سکتی ہے جس کے ذریعے وہ اپنے آپ کو ان انجانے / غیر متوقع اخراجات اور نقصانات سے بچاسکے جو اسے آئندہ کسی وقت برداشت کرنے پڑسکتے ہیں۔ وہ بعض حالات میں یہ بھی سوچ سکتی ہے کہ مالکان کے ذریعے بطور منافع نکالی جانے والی رقم کو اس لیے گھٹا دے تاکہ مستقبل میں اہم ضروریات پوری کرنے کے لیے کاروباری وسائل کو محفوظ رکھا جاسکے۔ اس قسم کی ضروریات کی ایک مثال ہے کاروباری سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر توسیع کی ضروریات۔ اسے کاروباری سرگرمیوں اور کھاتہ داری میں محفوظات کے لیے جواز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس طرح علاحدہ کی گئی رقم درج ذیل مقصد کے لیے ہو سکتی ہے:
    • مستقبل میں غیر متوقع صورت حالت سے نمٹنے کے لیے
    • کاروبار کی عام مالی حالت کو مضبوط کرنے کے لیے
    • کسی طویل المیعاد ذمہ داری کی تکمیل کے لیے جیسے ڈبینچر وغیرہ۔

    7.13 مخفی محفوظ (Secret Reserve)

    مخفی محفوظ ایسا محفوظ ہے جس کو بیلنس شیٹ میں ظاہر نہیں کیا جاتا۔ یہ ظاہری منافعوں (Disclosed Profits) اور ٹیکس کی ذمہ داری کو کم کرنے میں بھی مددگار ہوتا ہے۔ مخفی محفوظ کو بہتر منافعوں کے دکھانے کے لیے، مندی کے دور میں منافعوں کے ساتھ ملایا جاسکتا ہے۔ مینجمینٹ مطلوبہ فرسودگی سے زیادہ فرسودگی چارج کرکے مخفی محفوظ کو وجود میں لاسکتا ہے۔ اسے ’’مخفی محفوظ‘‘ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ بیرونی اسٹاک ہولڈرس کو اس کا علم نہیں ہوتا۔ مخفی محفوظ کو درج ذیل انداز سے وجود میں لایا جاسکتا ہے:
    • اشیائے مندرجہ فہرست (Inventories)/ اسٹاک کی کم قیمت لگاکر (Undervaluation)
    • سرمایہ جاتی اخراجات کو نفع و نقصان کھاتہ میں نکال کر کے
    • مشکوک قرضوں کے لیے وافر بندوبست (Excessive Provision) کرکے
    • اتفاقی / غیر متوقع واجبات کو اصل واجبات دکھا کر
    مناسب حدود میں مخفی محفوظ کو مصلحت اور احتیاط کے طور پر یا دوسری قوموں سے مقابلہ آرائی سے بچنے کے لیے مناسب حدود کے اندر وجود میں لایا جاسکتا ہے۔

    اپنے فہم وادراک کی جانچ کیجیے-III

    وجوہات کے ساتھ بتائیے کہ آیا مندرجہ ذیل بیانات صحیح ہیں یا غلط:
    (i) مشکوک قرضوں کے لیے وافر بندوبست کاروبار میں مخفی محفوظ کی بنیاد رکھتا ہے۔
    (ii) سرمایہ جاتی محفوظ (Capital Reserve) عام طور پر آزادانہ اور قابلِ تقسیم منافعوں میں سے وجود میں لائے جاتے ہیں
    (iii) ڈیویڈینڈ مساوی محفوظ (Dividend Equalisation Reserve) عام محفوظ کی ایک مثال ہے۔
    (iv) عام محفوظ کو صرف کچھ خصوصی مقاصد کے لیے ہی استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔
    (v) بندوبست منافع کے بالمقابل ایک خرچ ہے۔
    (vi) محفوظات کو آئندہ کے اخراجات یا نقصانات سے  جن کی رقم طے نہیں ہوتی نمٹنے کے لیے وجود میں لایا جاسکتا ہے۔
    (vii) محفوظات کا وجود میں لانا (Creation of Reserves) کاروبار کے قابلِ ٹیکس منافعوں کو کم کرتا ہے۔
    II۔ صحیح لفظ بھریے:
    (i) فرسودگی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کی قیمت میں کمی ہے۔
    (ii) تنصیب، کرایہ بھاڑہ اور ٹرانسپورٹ اخراجات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کا ایک حصہ ہیں۔
    (iii) بندوبست منافع کے بالمقابل ایک ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہے۔
    (iv) ڈیویڈینڈ کی ایک مستحکم شرح قائم رکھنے کے لیے جو محفوظ (ریزرو) وجود میں لایا جاتا ہے، اسے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہا جاتا ہے۔

    اس باب میں متعارف کرائی گئیں کلیدی اصطلاحات

    • فرسودگی، قابل فرسودگی لاگت، اصل لاگت، مدت استعمال؛
    • تقلیل از کار رفتگی، مستقل تقلیل قدر (Amortisation)؛
    • حفاظتی قیمت (Salvage Value)/بچی کھچی قیمت (Residual Value)/ اسکریپ قیمت ؛
    • قلم زدگی قدر (Writtend Down Value)/ بقایہ تقلیل قیمت/ گھٹتی ہوئی قیمت (Diminishing Value)؛
    • خطِ مستقیم طریقہ (Straight Line Method)/ قائم قسط طریقہ (Fixed Installment Method)؛
    • متروک اثاثہ کھاتہ (Asset Disposal Account)  
    • اثاثہ فروخت کھاتہ  فرسودگی کھاتہ کے لیے بندوبست، محفوظ (Reserve)، بندوبست (Provision)، سرمایہ جاتی محفوظ (Capital Reserve)، محاصلی محفوظ (Revenue Reserve)، عام محفوظ (General Reserve)، مخصوص محفوظ (Specific Reserve)، مخفی محفوظ (Secret Reserve)، بندوبست برائے مشکوک قرضہ جات (Provision for Doubtful Debts)۔

    سیکھنے کے مقاصد کے حوالے سے خلاصہ
    1. فرسودگی کا مفہوم: فرسودگی ایک محسوس قائم اثاثہ کی قدر و قیمت میں کمی ہونا ہے۔ کھاتہ داری میں فرسودگی ایک قائم اثاثہ کی قابل استعمال مدت پر قابلِ فرسودگی لاگت کے فراہم/ متعین کرنے کا ایک عمل ہے۔
    2. فرسودگی اور اس جیسی اصطلاحات: فرسودگی کی اصطلاح محسوس قائم اثاثوں کے ضمن میں استعمال کی جاتی ہے۔ تقلیل (Depletion) (کانوں کی صنعت کے ضمن میں) اور تقلیل قدر (غیر محسوس اثاثوں کے ضمن میں) دیگر متعلقہ اصطلاحات ہیں۔

    فرسودگی پر اثرانداز ہونے والے عوامل:

    • استعمال/وقت کے گزرنے کے سبب ٹوٹ پھوٹ
    • قانونی حقوق کا اختتام
    • ازکار رفتگی/متروک الاستعمال ہونا

    فرسودگی کی اہمیت: 

    • فرسودگی کو حقیقی اور صاف منافع یا نقصان معلوم کرنے کے لیے نکالنا لازمی ہے۔
    • فرسودگی ایک غیر نقدی کاروباری خرچ ہے۔

    فرسودگی نکالنے کا طریقے : 

    • خط مستقیم طریقہ
    • قلم زدگی قدر طریقہ

    فرسودگی کی رقم پر اثرانداز ہونے والے عوامل:

    • اصل لاگت
    • حفاظتی قدر و قیمت
    • اثاثہ کی قابل استعمال مدت

    بندوبست اور محفوظ:

     بندوبست منافع کے بالمقابل ایک خرچ ہے۔ اسے کسی معلوم رواں ذمہ داری کے لیے وجود میں لایا جاتا ہے جس کی رقم غیر یقینی ہوتی ہے۔ دوسری طرف محفوظ منافع کا اختصاص ہے، اسے کاروبار کی مالی حالت کے مضبوط کرنے کے لیے وجود میں لایا جاتا ہے۔

    محفوظ کی قسمیں: محفوظ ہو سکتا ہے :

    • عام محفوظ اور مخصوص محفوظ
    • محاصلی محفوظ اور سرمایہ جاتی محفوظ

    مخفی محفوظ:

    جب کل فرسودگی خرچ کل قابل فرسودگی لاگت سے زیادہ ہوتا ہے تو مخفی محفوظ کو وجود میں لایا جاتا ہے۔ مخفی محفوظ کو بیلنس شیٹ میں دکھایا جانا۔


    مشقی سوالات

    مختصر جوابی سوالات

    1. ’فرسودگی‘ کیا ہے؟
    2. فرسودگی فراہم کرنے کی ضرورت مختصراً بیان کیجیے۔
    3. فرسودگی کے کیا اسباب ہیں؟
    4. فرسودگی کی رقم پر اثر انداز ہونے والے بنیادی عوامل کی وضاحت کیجیے۔
    5. فرسودگی کا حساب نکالنے کے لیے خطِ مستقیم طریقہ اور قلم زدگی قدر طریقہ میں فرق واضح کیجیے۔
    6. ایک طویل المیعاد اثاثہ کی صورت میں مرمت کے اخراجات شروع کے سالوں کی بہ نسبت بعد کے سالوں میں بڑھتے ہیں۔ فرسودگی کا حساب نکالنے کے لیے کون سا طریقہ مناسب ہے اس وقت جب کہ مینجمینٹ فرسودگی اور مرمت کے تعلق سے نفع و نقصان کھاتہ کے بوجھ کو بڑھانا نہیں چاہتا۔
    7. نفع و نقصان کھاتہ اور بیلنس شیٹ پر فرسودگی کے کیا اثرات ہوتے ہیں؟
    8. بندوبست اور محفوظ کے مابین کیا فرق ہے؟
    9. ’بندوبست‘ اور ’محفوظ‘ میں ہر ایک سے چار چار مثالیں دیجیے۔
    10. ’محاصلی محفوظ‘ اور سرمایہ جاتی محفوظ، کے مابین کیا فرق ہے؟
    11. ’محاصلی محفوظ‘ اور سرمایہ جاتی محفوظ میں ہر ایک کی چار چار مثالیں دیجیے۔
    12. ’عام محفوظ‘ اور ’مخصوص محفوط‘ کے مابین فرق واضح کیجیے۔
    13. ’مخفی محفوظ‘ کے نظریہ کی وضاحت کیجیے۔

    طویل جوابی سوالات

    1. فرسودگی کے نظریہ کی وضاحت کیجیے۔ فرسودگی کا حساب نکالنے کی کیا ضرورت ہے اور فرسودگی کے کیا اسباب ہیں؟
    2. فرسودگی کے خطِ مستقیم کے طریقے اور قلم زدگی قدر طریقے پر تفصیلی بحث کیجیے۔ دونوں کے مابین فرق واضح کیجیے نیزان حالات کو پیش کیجیے جن میں یہ مفید و مستعمل ہوتے ہیں۔
    3. فرسودگی ریکارڈ کرنے کے دو طریقوں کو بیان کیجیے نیز اس ضمن میں ضروری جرنل اندراجات پیش کیجیے۔
    4. فرسودگی کی رقم کے تعین کی وضاحت کیجیے۔
    5. مختلف قسم کے محفوظات کے نام لکھیے اور تفصیل سے وضاحت کیجیے۔
    6. ’بندوبست‘ کیا ہیں؟ انہیں کس طرح وجود میں لایا جاتا ہے؟ مشکوک قرضہ جات کے لیے بندوبست کی صورت میں حسابی عمل طریقہ کار کو پیش کیجیے۔

    عددی سوالات:

    1. یکم اپریل 2010 کو بجرنگ ماربلس نے 1,80,000 روپے کی ایک مشین خریدی اور 10,000 روپے اس کے لانے لے جانے پر اور 10,000 روپے اس کی تنصیب پر خرچ کیے۔ یہ تخمینہ لگایا گیا کہ اس کی قابل استعمال مدت 10 سال ہے اور 10 سال بعد اس کی اسکریپ (Scrap) قیمت 20,000 روپے ہوگی۔
    (a) خط مستقیم طریقہ پر فرسودگی فراہمی کے ذریعے ابتدائی چار سالوں کے لیے مشین کھاتہ اور فرسودگی کھاتہ تیار کیجیے۔ کھاتے ہر سال 31 مارچ کو بند کیے جاتے ہیں۔
    (b) خطِ مستقیم پر فرسودگی فراہمی کے ذریعے ابتدائی چار سالوں کے لیے مشین کھاتہ، فرسودگی کھاتہ اور فرسودگی کھاتہ کے لیے بندوبست (یا مجتمع فرسودگی کھاتہ) تیار کیجیے۔ کھاتے ہر سال 31 مارچ کو بند کیے جاتے ہیں۔
    جواب: (a) یکم اپریل 2014 کو مشین کھاتہ کا بقایہ 1,28,000 روپے۔
     (b) یکم اپریل 2014 کو فرسودگی کے لیے بندوبست بقایہ 72,000 روپے۔
    یکم جولائی 2010 کو اشوک لمیٹڈ نے 1,08,000 روپے کی ایک مشین خریدی اور اس کی تنصیب پر 12,000 روپے خرچ کیے۔ خرید کے وقت یہ تخمینہ لگایا گیا کہ مشین کی قابل استعمال مدت 12 سال ہوگی اور 12 سال بعد اس کی حفاظتی قیمت 12,000 روپے ہوگی پہلے تین سالوں کے لیے اشوک لمیٹڈ کی کتابوں میں مشین کھاتہ اور فرسودگی کھاتہ تیار کیجیے۔ اگر فرسودگی خطِ مستقیم طریقہ کے مطابق قلم زد کی گئی ہو۔ کھاتے ہر سال 31 دسمبر کو بند کیے جاتے ہیں۔
    (جواب: مشین کھاتہ کا بقایہ یکم جنوری 2013 کو 97,500 روپے)۔
    ریلاینس لمیٹڈ نے ایک استعمال شدہ مشین 56,000 روپے کی خریدی۔ یکم اکتوبر 2011 کو اس کو کام میں لانے سے قبل اس کی مرمت کرنے پر اور تنصیب پر 28,000 روپے خرچ کیے۔ یہ متوقع ہے کہ مشین 15 سال بعد اپنی قابل استعمال مدت کے اختتام پر 6,000 روپے میں فروخت کردی جائے گی۔ مزید برآں 1,000 روپے کی تخمین شدہ لاگت متوقع ہے جسے خرچ کیا جانا ہے۔ اس کی حفاظتی قیمت 6,000 روپے حاصل کرنے کے لیے متعین قسط طریقہ کے ذریعہ پہلے تین سالوں کے لیے مشین کھاتہ اور بندوبست برائے فرسودگی کھاتہ تیار کیجیے۔ کھاتے ہر سال 31 دسمبر کو بند کیے جاتے ہیں۔
    (جواب: بندوبست برائے فرسودگی کھاتہ کا بقایہ 31مارچ  2005 کو 18,200 روپے)۔
    برلیا لمیٹڈ نے یکم جولائی 2015 کو 56,000 روپے کی ایک استعمال شدہ مشین خریدی اور اس کی مرمت و تنصیب پر 24,000 روپے خرچ کیے اور 5,000 روپے اس کے لانے لے جانے پر۔ یکم ستمبر 2016 کو اس نے 2,50,000 روپے کی ایک اور مشین خریدی اور اس کی تنصیب پر 10,000 روپے خرچ کیے۔
    (a) مشینری پر 31 دسمبر کو اس کی سالانہ اصل لاگت پر 10% شرح فرسودگی فراہم کی گئی۔ مشینری کھاتہ اور فرسودگی کھاتہ 2015 سے 2018 تک کے لیے تیار کیجیے۔
    (b) 2015 سے 2018 تک مشینری کھاتہ اور فرسودگی کھاتہ تیار کیجیے۔ اگر مشینری پر فرسودگی 10 فیصد شرح کے ساتھ فراہم کی گئی ہو تو 31 دسمبر کو قلم زدگی قدر طریقے پر سالانہ فرسودگی کھاتہ تیار کیجیے۔
    (جواب:  (a) مشین کھاتہ کا بقایہ یکم جنوری 2019 کو 2,54,583  روپے۔
    (b) مشین کھاتہ کا بقایہ یکم جنوری 2019 کو 2,62,448 روپے)۔

    گنگا لمیٹڈ نے یکم جنوری 2014 کو 5,50,000 روپے کی ایک مشینری خریدی اور اس کی تنصیب پر 50,000 روپے خرچ کیے۔ یکم ستمبر 2014 کو اس نے دوسری مشین 3,70,000 روپے کی خریدی، یکم مئی 2015 کو اس نے ایک اور مشین 8,40,000 روپے کی خریدی (بشمول تنصیبی اخراجات)۔
    (a) -2015 2014، 2016-2017 کے لیے مشینری کھاتہ اور فرسودگی کھاتہ تیار کیجیے۔
    (b) اگر فرسودگی کو بندوبست برائے فرسودگی کھاتہ میں جوڑ دیا جائے تو مشینری کھاتہ اور بندوبست برائے فرسودگی کھاتہ تیار کیجیے۔ برائے سال -2015 2014، 2016-2017۔
    (جواب : (a) یکم جنوری 2015 کو مشین کھاتہ کا بقایہ 12,22,666 روپے
    (b)  بندوبست برائے فرسودگی کھاتہ کا بقایہ یکم جنوری 2015 کو 5,87,334 روپے)۔
    آزاد لمیٹڈ نے یکم اکتوبر 2012 کو 4,50,000 روپے کا فرنیچر خریدا۔ یکم مارچ 2015 کو اس نے 3,00,000 روپے کا مزید فرنیچر خریدا۔ یکم جولائی 2016 کو اس نے 2014 کا خریدکردہ فرنیچر 2,25,000 روپے میں فروخت کر دیا۔ فرسودگی کے لیے 15% سالانہ قلم زدگی قدر کے طریقے پر ہر سال فراہم کیے گئے۔ کھاتے ہر سال 31 مارچ کو بند کیے جاتے ہیں۔ فرنیچر کھاتہ اور 31 مارچ 2015، 2017 اور 2016 کو ختم ہونے والے تین سال کا مجتمع فرسودگی کھاتہ تیار کیجیے۔ اگر فرنیچر فروخت کھاتہ کھولا گیا ہو تو مذکورہ دو کھاتے بھی پیش کیجیے۔
    (جواب: فرنیچر کی خریداری پر نقصان 1,15,546 روپے)۔
    31 مارچ 2015 کو بندوبست برائے فرسودگی کھاتہ 85,959 روپے)۔
    میسرز لو کیش فیبرکس نے ایک ٹیکسٹائل مشین یکم اپریل 2011 کو 1,00,000 روپے کی خریدی۔ یکم جولائی 2012 کو 2,50,000 روپے کی دوسری مشین خریدی۔ یکم اپریل 2011 کو خریدی مشین 25,000 روپے میں یکم اکتوبر 2015 کو فروخت کردی گئی۔ کمپنی خطِ مستقیم طریقہ پر 15% شرح سالانہ پر فرسودگی چارج کرتی ہے۔ 31 مارچ 2016 کے اختتام پر مشینری کھاتہ اور مشنری فروخت کھاتہ تیار کیجیے۔
    (جواب: مشین کھاتے کی فروخت پر نقصان 7,500 روپے۔
    یکم اپریل 2015 کو مشین کھاتہ کا بقایہ 1,09,375 روپے۔
    یکم جنوری 2015 کو کرسٹل کمپنی کی کتابوں میں مندرجہ ذیل بقایہ جات دکھائی دیتے ہیں:
    مشینری کھاتہ پر 15,00,000 روپے
    بندوبست برائے فرسودگی کھاتہ 5,50,000
    یکم جنوری 2012 کو ایک مشینری 2,00,000 روپے میں خریدی اور اسے یکم جولائی 2015 کو 75,000 روپے میں فروخت کر دیا۔ ایک نئی مشین 6,00,000 روپے میں یکم جولائی 2015 کو خریدی گئی۔ اسٹریٹ لائن طریقے پر اس پر 20% سالانہ فرسودگی ملی۔ کھاتہ 31 مارچ کو ہر سال بند کر دیے جاتے ہیں۔ 31، مارچ 2015 کے اختتامی سال کے لیے بندوبست برائے فرسودگی اور مشینری کھاتہ تیار کیجئے۔ 
    (جواب: مشین کی فروخت پر نفع 5,000 روپے)
    31 دسمبر 2015 کو مشین کھاتہ کا بقایہ 19,00,000 روپے
    بندوبست برائے فرسودگی کھاتہ کا بقایہ 31 دسمبر 2015 کو 4,90,000 روپے
    میسرز ایکسل کمپیوٹرس یکم اپریل 2010 کو کمپیوٹرس کھاتہ میں 50,000 روپے کا ڈیبٹ بیلنس ہے (اصل لاگت 1,20,000 روپے ہے۔ یکم جولائی 2010 کو اس نے دوسرا کمپیوٹر 2,50,000 روپے میں خریدا۔ یکم جنوری 2011 کو ایک اور کمپیوٹر 30,000 روپے میں خریدا گیا۔ یکم اپریل 2014 کو وہ کمپیوٹر جسے یکم جولائی 2010 کو خریدا گیا تھا، ازکار رفتہ (غیر مستعمل) ہو گیا اور اسے 20,000 روپے میں فروخت کر دیا گیا۔
    IBM کمپیوٹر کا ایک نیا ماڈل یکم اگست 2014 کو 80,000 روپے میں خریدا گیا۔ ایکسل کمپنی کی کتابوں میں 31 مارچ 2012 2011-، 2013، 2014 2015- کو ختم ہوئے سالوں کے لیے کمپیوٹرس کھاتہ دکھائیے۔  خطِ مستقیم طریقہ کی بنیاد پر % 10سالانہ شرح پر کمپیوٹر فرسودگی کی گئی۔
    (جواب: کمپیوٹر کی فروخت پر نقصان 1,36,250 روپے۔
    31 مارچ 2015 کو کمپیوٹرس کھاتہ کا بقایہ 83,917 روپے)۔
    10۔ کیرج ٹرانسپورٹ کمپنی نے یکم اپریل 2011 کو ہر 2,00,000 روپے کی لاگت پر 5 ٹرک خریدے۔ کمپنی اصل لاگت پر% 20شرح سالانہ پر فرسودگی قلم زدگی کرتی ہے اور اپنی کتابیں ہر سال 31 دسمبر کو بند کرتی ہے۔ یکم اکتوبر 2013 کو ایک ٹرک حادثہ کا شکار ہو گیا اور مکمل طور پر ضائع ہو گیا۔ بیمہ کمپنی نے مطالبہ کے کل تصفیہ میں 70,000 روپے ادا کیے۔ اسی تاریخ کو کمپنی نے ایک استعمال شدہ ٹرک 1,00,000 روپے میں خریدا اور اس کی مرمت پر 20,000 روپے خرچ کیے۔ 31؍دسمبر 2013 کے اختتام پر ٹرک کھاتہ اور بندوبست برائے فرسودگی کھاتہ تیار کیجیے۔ اگر ٹرک فروخت کھاتہ تیار کیا گیا ہو تو ٹرک کھاتہ پیش کیجیے۔
    (جواب: ٹرک بیمہ کے تصفیہ پر نقصان 30,000 روپے۔
    31؍دسمبر 2013 کو بندوبست برائے فرسودگی کھاتہ 4,46,000 روپے۔
    31 دسمبر 2013 کو ٹرک کھاتہ کا بقایہ 9,20,000 روپے)۔
    11۔ سرسوتی لمیٹڈ نے یکم جنوری 2011 کو 10,00,000 روپے کی ایک مشینری خریدی۔ یکم مئی 2012 کو 15,00,000 روپے کی ایک نئی مشینری خریدی۔ اور دوسری مشین یکم جولائی 2014 کو 12,00,000 روپے میں خریدی۔ مشینری کا ایک حصہ جس کی 2011 میں اصل لاگت 2,00,000 روپے ہے، 30اپریل 2014 کو اسے 75,000 روپے میں فروخت کر دیا گیا۔ 2011 سے 2015 تک مشینری کھاتہ، بندوبست برائے فرسودگی کھاتہ اور 2011 سے 2015 تک مشینری کھاتہ تیار کیجیے اگر فرسودگی 10% شرح سالانہ سے اصل لاگت پر فراہم کی گئی ہو، حسابی کھاتے ہر سال 31 دسمبر کو بند کیے جاتے ہیں۔
    (جواب:  مشین کی فروخت پر نقصان 58,333 روپے
    31 دسمبر 2015 کو بندوبست برائے فرسودگی کھاتہ کا بقایہ 11,30,000 روپے۔
    31  دسمبر 2015 کو مشین کھاتہ کا بقایہ 35,00,000 روپے)۔
    12۔ یکم جولائی 2011 کو اشونی نے کریڈٹ پر 2,00,000 روپے کی ایک مشین خریدی۔ 25,000 روپے انسٹالیشن اخراجات بذریعہ چیک ادا کیے۔ مشین کی لائف 5 سال اسٹیمیٹ کی گئی اور اس کی اسکریپ ویلیو 5 سال بعد 20,000 روپے مانی گئی۔ اس مشین پر فرسودگی اسٹریٹ لائن بیسس پر چارج ہونی ہے۔ 2011 سال کے لیے جرنل اینٹری دکھائیے اور پہلے تین سال کے لیے ضروری لیجر کھاتے تیار کیجئے۔ 
    (جواب: 31 دسمبر 2013 کو مشین کھاتے کا بیلنس 1,22,500 روپے ہوگا) 
    13۔ یکم اکتوبر 2010 کو لکشمی ٹرانسپورٹ کمپنی کے ذریعے ایک ٹرک 8,00,000 روپے میں خریدا گیا۔ بقایہ تقلیل طریقے سے فرسودگی کی شرح 15% سالانہ ہے۔ 31  دسمبر 2013 کو اس ٹرک کو 5,00,000 روپے میں فروخت کر دیا گیا۔ کھاتے ہر سال 31 مارچ کو بند کیے جاتے ہیں چار سالوں کے لیے ٹرک کھاتہ تیار کیجیے۔
    (جواب: ٹرک کی فروخت پر منافع 58,237)۔
    14۔ کپل لمیٹڈ نے یکم جولائی 2011 کو ایک مشنری 3,50,000 روپے میں خریدی۔ اس کمپنی نے دو مزید مشینیں خریدیں جن کی قیمت یکم اپریل 2012 کو 1,50,000 روپے اور یکم اکتوبر 2012 جو 1,00,000 روپے ہے۔ فرسودگی خطِ مستقیم طریقہ پر 10% شرح سالانہ ہے۔ یکم جنوری 2013 کو پہلی مشین تکنیکی تبدیلیوں کی وجہ سے بیکار ہو گئی۔ اس مشین کو 1,00,000 روپے میں فروخت کر دیا گیا۔ کیلنڈر سال کی بنیاد پر چار سالوں کا مشین کھاتہ تیار کیجیے۔
    (جواب: مشین کی فروخت پر نقصان 1,97,000 روپے۔
    31دسمبر 2014 کو مشین کھاتہ کا بقایہ 1,86,250 روپے)۔
    15۔ یکم جنوری 2011 کو ستکار ٹرانسپورٹ لمیٹڈ نے تین بسیں ہر ایک 10,00,000 روپے میں خریدیں۔یکم جولائی 2013 کو ایک بس حادثہ کا شکار ہو گئی اور مکمل طور پر ضائع ہو گئی اور مکمل تصفیہ کے طور پر 6,00,000 روپے بیمہ کمپنی سے حاصل ہوئے۔ بقایہ تقلیل طریقے پر فرسودگی کو 15% سالانہ شرح سے قلم زد کیا گیا۔ 2011 سے 2014 تک بس کھاتہ تیار کیجیے۔ کھاتے کی کتابیں ہر سال 31 دسمبر کو بند کی جاتی ہیں۔
    (جواب: بیمہ کمپنی سے وصول منافع 31,687 روپے۔
    بس کھاتہ کا یکم جنوری 2015 کو بقایہ 10,44,013 روپے)۔
    16۔ یکم اکتوبر 2011 کو جنیجا ٹرانسپورٹ کمپنی نے دو ٹرک دس دس لاکھ روپے کی قیمت پر خریدے۔ یکم جولائی 2013 کو ایک ٹرک حادثہ کا شکارہو گیا اور مکمل طور پر ضائع ہو گیا۔ انشورینس کمپنی سے بطور کل تصفیہ 6,00,000 روپے حاصل ہوئے۔ 31 دسمبر 2013 کو دوسرا ٹرک حادثہ کا شکار ہوا اور جزوی طور پر بیکار ہوا جس کا بیمہ نہیں کرایا گیا تھا، اسے 1,50,000 روپے کا فروخت کر دیا گیا۔ 31جنوری 2014 کمپنی نے ایک نیا ٹرک 12,00,000 کا خریدا جس پر ہر سال قلم زدگی قدر طریقہ پر 10 فیصد شرح سالانہ سے فرسودگی نکالی جاتی ہے۔ حسابی کتابیں ہر سال 31 مارچ کو بند کی جاتی ہیں۔ 2011 سے 2014 تک ٹرک کھاتہ پیش کیجیے۔
    (جواب: پہلے ٹرک پر بیمہ کی غیر وصولی سے نقصان 3,26,250روپے۔
    دوسرے ٹرک پر نقصان 7,05,000 روپے۔
    31 مارچ 2014 کو ٹرک کھاتہ کا بقایہ 11,80,000 روپے)۔
    17۔ نوئیڈا میں واقع ایک تعمیراتی کمپنی کے پاس 5 کرینیں ہیں اور اس اثاثہ کی قیمت یکم اپریل 2017 کو اس کی کتابوں میں 40,00,000 روپے ہے۔ یکم اکتوبر 2017 کو اس نے اپنی ایک کرین جس کی قیمت یکم اپریل 2017 کو 5,00,000 روپے تھی 10 فیصد منافع کے ساتھ فروخت کردی۔ اسی روز اس نے 4,50,000 فی کرین کے حساب سے دو کرینیں خریدیں۔
    کرینوں کا کھاتہ تیار کیجیے یہ کمپنی اپنی کتابیں ہر سال 31 دسمبر کو بند کرتی ہے اور قلم زدگی قدر طریقے کے مطابق 10% فرسودگی نکالتی ہے۔
    (جواب: کرین کی فروخت پر منافع 47,500 روپے۔
    کرینز کھاتہ کا بقایہ 31 دسمبر 2017 کو 41,15,000 روپے)۔
    18۔ شری کرشن مینوفیکچرنگ کمپنی نے دس مشینیں یکم جولائی 2014 کو 75,000 روپے فی مشین کے حساب سے خریدیں۔ یکم اکتوبر 2016 کو ایک مشین آگ سے ضائع ہو گئی اور بیمہ کمپنی سے 45,000 روپے کی وصولیابی ہوئی۔ اسی دن ایک دوسری مشین خریدی گئی 1,25,000 کی۔
      کمپنی قلم زدگی قدر طریقے سے 15% سالانہ شرح کے حساب سے فرسودگی نکالتی ہے۔ کمپنی اپنے مالیاتی سال کو کیلنڈر سال کے مطابق رکھتی ہے۔ 2014 سے 2017 تک مشینری کھاتہ تیار کیجیے۔
    (جواب: بیمہ کمپنی سے بیمہ کے تصفیہ پر نقصان 7,735 روپے۔
    مشین کھاتہ کا بقایا 31-12-17 کو 4,80,709روپے)۔
    19۔ یکم جنوری 2014 کو ایک لمیٹڈ کمپنی نے 20,00,000 روپے کی مشینری خریدی۔ بقایہ تقلیل کے مطابق 15% شرح سالانہ پر فرسودگی نکالی گئی ہے۔ یکم مارچ 2016 کو مشینری کا چوتھائی حصہ آگ سے ضائع ہو گیا اور بیمہ کمپنی سے کل تصفیہ کے طور پ40,000 روپے وصول ہوئے۔ یکم ستمبر 2016 کو ایک دوسری مشینری 15,00,000 روپے کی خریدی گئی۔
    2010 سے 2013 تک مشینری کھاتہ قلم زد کیجیے۔ کتابیں ہر سال 31 دسمبر کو بند کی جاتی ہیں۔
    (جواب: بیمہ وصولیابی کے تصفیہ پر نقصان 3,12,219 روپے۔
    مشین کھاتہ کا بقایہ یکم 31دسمبر 2017 کو 19,94,260 روپے)۔
    20۔ یکم جولائی 2015 کو ایک پلانٹ 3,00,000 روپے کی لاگت کا خریدا۔ 50,000 روپے اس کی تنصیب پر خرچ ہوئے۔ خط مستقیم طریقہ پر فرسودگی 15% شرح سالانہ کے حساب سے نکالی جاتی ہے۔ یکم اکتوبر 2017 کو پلانٹ 1,50,000 روپے میں فروخت کر دیا گیا اور اسی دن ایک نیا پلانٹ 4,00,000 روپے کی لاگت کا مع خریداری قیمت کے لگایا گیا۔ کھاتے ہر سال 31 دسمبر کو بند کیے جاتے ہیں۔ تین سال کا مشنری کھاتہ اور بندوبست برائے فرسودگی کھاتہ دکھائیے۔
    (جواب: پلانٹ کی فروخت پر نقصان 81,875 روپے۔
    31دسمبر 2017 کو مشین کھاتہ کا بقایہ 4,00,000 روپے۔
    31دسمبر 2017 کو بندوبست برائے فرسودگی کھاتہ کا بقایہ 15,000 روپے)۔
    21۔ ٹہلیانی اینڈ سنز انٹرپرائزیز کی کتابوں سے 31 مارچ 2017 کو ٹرائل بیلنس کا ایک اقتباس (جزو) نیچے دیا گیا ہے:

    کھاتہ کا نام ڈیبٹ رقم کریڈٹ رقم
    روپے روپے
    متفرق قرض دار 50,000
    بیڈ ڈیبٹس 6,000
    مشکوک قرض کے لیے بندوبست 4,000
    • �بیڈ ڈیبٹس وصول نہیں ہوئے مگر 2000 روپے کی رقم کے قرضے ریکارڈ نہیں کیے گئے۔
    • قرض داروں کے بندوبست % 8رکھا جاتا ہے۔
    بیڈ ڈیبٹس کی قلم زدگی اور مشکوک قرضوں پر بندوبست کھاتہ کو وجود میں لانے کے لیے ضروری جرنل اندراجات کیجیے نیز ضروری کھاتے بھی دکھائیے:
    (جواب: بیڈ ڈیبٹس کے لیے نیا بندوبست  3,840 روپے،
    نفع و نقصان کھاتہ (Dr) 7,840 روپے)
    22۔ میسرز نشا ٹریڈرس کے 31 مارچ 2017 کے ٹرائل بیلنس کے ایک جزو کی کچھ اطلاعات اس طرح ہیں:
    متفرق قرض دار (Sundry Debtors)۔   80,500روپے
    بیڈ ڈیبٹس (Bad Debts)۔ 1,000 روپے
    بندوبست برائے ڈوبے قرضے (Provision for Bad Debts)۔ 5,000روپے
    اضافی اطلاعات:
    بیڈ ڈیبٹس 500  روپے
    قرض داروں کے لیے بندوبست 2% رکھا جاتا ہے۔
    بیڈ ڈیبٹس کھاتہ بندوبست برائے بیڈ ڈیبٹس کھاتہ اور نفع و نقصان کھاتہ تیار کیجیے۔
    (جواب: نیا بندوبست 1,600 روپے۔ نفع و نقصان کھاتہ (Cr) 1,900 روپے)۔

    آپ کے فہم و ادراک کو جانچنے کے لیے جانچ فہرست

    اپنے فہم و ادراک کی جانچ کیجیے-I 

    1۔  صحیح 2۔  غلط 3۔  غلط 4۔  صحیح 5۔  صحیح 6۔  غلط 7۔  صحیح 8۔  غلط 9۔  غلط 10 ۔ غلط

    اپنے فہم و ادراک کی جانچ کیجیے-II 

    ایک سال (15-2014)کی فرسودگی =       7500روپے (چنے کے لیے وصول کی گئی )
    دو سال (16-2015)کے لیے فرسودگی     = 92,500=7500- 1,00,000      روپے 
    تین سال (2016-17)کی فرسودگی =         83050=9250- 83050           روپے
    K-103
    اپنے فہم و ادراک کی جانچ کیجیے-III 
    (i) صحیح (ii) غلط (iii) غلط (iv) غلط
    (v) صحیح (vi) غلط (vii) غلط
    (i) اثاثے (Assests) (ii) تحصیلی لاگت (Acquisition Cost)
    (iii) خرچ (Charge) (iv) ڈیویڈینڈ مساوی فنڈ (Dividend Equilisation Fund)