7
فرسودگی، بندوبست اور محفوظات
(Depreciation, Provisions and Reserves)
سیکھنے کے مقاصد
حصّہ -I
7.1 فرسودگی (Depreciation)
7.1.1 فرسودگی کا مفہوم (Meaning of Depreciation)
بکس 1
- فرسودگی کی اثاثے کی ٹوٹ پھوٹ یا اس کی قیمت میں کمی کا ایک پیمانہ ہے۔ یہ ٹوٹ پھوٹ یا قیمت میں کمی اس اثاثے کے استعمال کے سبب یا وقت گزرنے کے سبب یا پھر ٹکنالوجی میں تبدیلی اور بازار کے الٹ پھیر کے سبب واقع ہو سکتی ہے۔ فرسودگی کا تعین اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ اثاثے کی متوقع زندگی کے دوران حسابی سال میں اس کی قابلِ فرسودگی رقم کا تناسب سے حساب لگایا جاسکے۔ فرسودگی میں ان اثاثوں کی مستقل تقلیل قدر بھی شامل ہے جن کی قابل استعمال مدت پہلے سے متعین ہوتی ہے۔
- کسی کاروباری تنظیم کی مالی حالت اور کاروبار کے نتائج کے تعین و تشکیل میں فرسودگی کا خاطر خواہ اثر پڑتا ہے۔ قابلِ فرسودگی رقم کے حوالے سے ہر حسابی سال میں فرسودگی کا حساب نکالا جاتا ہے۔
- فرسودگی کا موضوع بحث یا اس کی بنیاد وہ ’’قابلِ فرسودگی‘‘ اثاثے:
- ’’جن کا ایک سال سے زیادہ حسابی مدت کے دوران استعمال میں لایا جانا متوقع ہوتا ہے۔
- جن کی قابل استعمال مدت محدود ہوتی ہے؛ اورجو کسی کاروباری ادارہ کے ذریعے اس لیے رکھے جاتے ہیں تاکہ پیداوار، اشیاء اور خدمات کی فراہمی میں ان کا استعمال ہو سکے، دوسروں کو کرائے پر دیا جاسکے یا کسی انتظامی مقصد سے استعمال میں لایا جاسکے نہ کہ کسی معمولی قسم کے کاروبار میں فروخت کرنا ان کا مقصد ہو۔‘‘
- فرسودگی کی رقم بنیادی طور پر تین عوامل پر منحصر ہوتی ہے؛ لاگت، قابل استعمال مدت اور خالص قابلِ حصول قیمت (Cost,Useful Life and Net Realisable Value)۔
- قائم اثاثے کی قیمت وہ مجموعی لاگت ہے: ’’جو اس حصول، تنصیب، کمیشن، اضافی مدوں اور اس کی بہتری کے لیے خرچ کی گئی ہو۔‘‘
- کسی اثاثے کی قابلِ استعمال مدت ’’وہ مدت ہے جب تک کسی کاروباری ادارہ کے ذریعہ اس کا استعمال کیا جانا متوقع ہو۔‘‘
- فرسودگی کی رقم کے تعین کے دو خاص طریقے ہیں:
- خط مستقیم (متعین قسط) کا طریقہ (Straight Line Method)
- قلم زدگی قدر (بقایہ تعلیل) کا طریقہ (Written Down Value Method)
- مناسب طریقہ کا انتخاب مندرجہ ذیل عوامل پر منحصر ہوتا ہے
- اثاثے کی قسم
- اثاثے کے استعمال کی نوعیت
- کاروبار میں پیش آنے والے حالات
- منتخب طریقۂ فرسودگی کو مدت بہ مدت مستقل طور پر اختیار کیا جانا چاہئے۔ صرف مخصوص حالت میں ہی فرسودگی کے طریقے کو بدلنے کی اجازت ہو سکتی ہے۔
- ’’جن کا ایک سال سے زیادہ حسابی مدت کے دوران استعمال میں لایا جانا متوقع ہوتا ہے؛
- جن کی قابل استعمال مدت محدود ہوتی ہے ؛اور
- جو کاروباری اداروں کے ذریعے اس لیے رکھے جاتے ہیں تاکہ پیداوار یا اشیاء اور خدمات کی فراہمی میں ان کا استعمال ہوسکے، دوسروں کو کرایہ پر دیا جاسکے یا کسی انتظامی مقصد سے استعمال میں لایا جاسکے نہ کہ کسی معمولی قسم کے کاروبار میں فروخت وغیرہ مقصد ہو۔‘‘
7.1.2 فرسودگی کی خصوصیات (Features of Depreciation)
- یہ قائم اثاثوں کی کتابی قدر و قیمت میں کمی کا ہونا ہے۔
- اس میں وقت کے گزرنے کے باعث استعمال کرنے یا ناقابلِ استعمال ہونے کے باعث قدروقیمت کا نقصان شامل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک کاروباری فرم یکم اپریل 2017 کو ایک مشین 1,00,000 روپے کی خریدتی ہے۔ سال 2017 میں مشین کا نیا ماڈل مارکیٹ میں آجاتا ہے۔ نتیجتاًکاروباری فرم کے ذریعہ خریدی گئی مشین اب پرانی اور فرسودہ ہو جاتی ہے۔
- یہ ایک مسلسل عمل ہے۔
- یہ ایک گزری ہوئی لاگت ہے اور اس لیے ٹیکس کے قابل منافعوں کا حساب لگانے سے پہلے اسے وضع کرنا چاہئے۔ مثال کے طور پر اگر منافع فرسودگی اور ٹیکس سے پہلے 50,000 روپے ہے اور فرسودگی 10,000 روپے ہے تو ٹیکس سے پہلے منافع ہوگا:
اسے آپ خود کیجیے
7.2 فرسودگی اور اس جیسی دیگر اصطلاحات
(Depreciation and other Similar Terms)
7.2.1 تقلیل (Depletion)
7.2.2 تقلیل قدر (Amortisation)
7.3 فرسودگی کے اسباب (Causes of Depreciation)
7.3.1 استعمال کرنے یا وقت کے گزرنے کے سبب ٹوٹ پھوٹ
(Wear and Tear due to Use or Passage of Time)
7.3.3 ازکار رفتگی/ متروک الاستعمال ہو جانا (Obsolescence)
- تکنیکی/ فنّی تبدیلیاں؛
- پیداواری طریقوں میں اصلاحات؛
- کسی شے کی مارکیٹ مانگ میں یا اثاثہ کی خدمات میں تبدیلی؛
- قانونی یا دیگر حد بندیاں۔
7.3.4 غیر متوقع یا حادثاتی عوامل (Abnormal Factors)
7.4 فرسودگی کی ضرورت (Need for Depreciation)
7.4.1 لاگت اور محاصل کی مماثلت (Matching of Costs and Revenue)
7.4.2 ٹیکس کی رعایت (Consideration of Tax)
7.4.3 سچّی اور صاف ستھری مالی حالت
(True and Fair Financial Position)
7.4.4 قانون کی پابندی (Compliance with Law)
اپنے فہم و ادراک کی جانچ کیجیے-I
7.5 فرسودگی کی رقم پر اثر انداز ہونے والے عوامل
(Factors Affecting the Amount of Depreciation)
7.5.1 اثاثہ کی لاگت (Cost of Asset)
7.5.2 تخمینہ لگائی گئی خالص باقی ماندہ قیمت (Estimated Net Residual Value)
7.5.3 قابلِ فرسودگی لاگت (Depreciable Cost)
7.5.4 تخمینی مدت استعمال (Estimated Useful Life)
کسی اثاثہ کی تخمینی مدت استعمال اس کی تخمینہ شدہ معاشی یا کاروباری زندگی ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لیے اس کی ظاہری زندگی اہم نہیں ہوتی کیونکہ کوئی اثاثہ ہو سکتا ہے اب تک موجود تو ہو لیکن کہ وہ کاروباری پیداوار کے قابل نہ ہو۔ مثال کے طور پر ایک مشین خریدی جاتی ہے اور یہ تخمینہ لگایا گیا کہ پیداواری عمل میں 5 سال تک اسے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ 5 سال بعد ہو سکتا ہے کہ مشین بظاہر اچھی حالت میں ہو لیکن منافع بخش پیداوار کے لیے اسے استعمال میں نہیں لایا جاسکتا، یعنی اگر اسے اس وقت بھی استعمال کیا گیا تو پیداواری لاگت بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔ اس لیے مشین مدت استعمال کو اس کے بظاہر ٹھیک ہونے کے باوجود 5 سال ہی خیال کیا جائے گا۔ کسی اثاثہ کی مدت استعمال کا تخمینہ لگانا دشوار کام ہے کیونکہ اس کا انحصار مختلف عوامل پر ہوتا ہے جیسے اثاثہ کے استعمال کی سطح، اثاثہ کی مرمّت، تکنیکی/ فنی تبدیلیاں، بازاری تبدیلیاں وغیرہ۔ کھاتہ داری اسٹینڈر-6 کے مطابق کسی اثاثے کی مدت استعمال عام طور پر وہ ہوتی ہے جس مدت تک کاروبار میں اس کا استعمال کیا جانا متوقع ہوتا ہے۔‘‘ عام طور پر مدت استعمال ظاہری زندگی سے کم ہوتی ہے کسی اثاثہ کی مدت استعمال کو سالوں کی تعداد میں ظاہر کیا جاتا ہے لیکن اسے دوسری اکائیوں میں بھی ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ جیسے ماحصل (Output) کی اکائیوں کی تعداد (جیسے کانوں کی صورت میں) یا کام کرنے کے گھنٹوں کی تعداد۔ مدت استعمال مندرجہ ذیل عوامل پر منحصر ہوتی ہے:
- قانونی یا معاہداتی حدود کے ذریعے پہلے سے ہی متعین، جیسے پٹّہ داری اثاثہ کی صورت میں، پٹّہ داری کی مدت اس کی مدت استعمال ہوگا۔
- شفٹوں کی تعداد جن کے لیے اثاثہ کو استعمال میں لایا جانا ہے۔
- مرمت اور ٹوٹ پھوٹ سے کاروباری تنظیم کی متعلق پالیسی۔
- تکنیکی/فنّی طور پر متروک الاستعمال ہو جانا۔
- پیداواری طریقوں میں تجدید/اصلاح۔
- قانونی یا دیگر حد بندیاں۔
7.6 فرسودگی کی رقم نکالنے کے طریقے
(Methods of Calculating Depreciation Amount)
- اثاثہ کا ٹائپ
- اس اثاثہ کے استعمال کی نوعیت؛
- کاروبار میں درپیش حالات؛
7.6.1 خط مستقیم/ متعین قسط کا طریقہ (Straight Line Method)

7.6.1.1 خط مستقیم طریقے کی خوبیاں
(Advantages of Straight Line Method)
- یہ بہت سادہ ہے، اس کا سمجھنا اور استعمال کرنا بھی آسان ہے۔ سادگی نے ہی اسے عملی طور پر مقبول طریقہ بنایا ہے؛
- فرسودگی کے سبب کوئی اثاثہ اسکریپ قیمت یا صفر قیمت تک آسکتا ہے۔ اس لیے، اس طریقے سے یہ ممکن ہوجاتا ہے کہ اثاثہ کی مدت استعمال پر کل فرسودگی لاگت کو تقسیم کر دیا جائے؛
- ہر سال نفع و نقصان کھاتہ میں ایک ہی رقم بطور فرسودگی کے لیے نکالی جاتی ہے۔ اس سے مختلف سالوں کے منافعوں کا موازنہ کرنا آسان ہوتا ہے؛
- یہ طریقہ ان اثاثوں کے لیے مناسب ہے جن کی مدت استعمال کا صحیح صحیح تخمینہ لگایا جاسکتا ہے اور جہاں اثاثہ کا سال بہ سال استعمال مستقل اور ثابت رہتا ہے جیسے پٹہ دار بلڈنگ (Leasehold Building)۔
7.6.1.2 خطِ مستقیم طریقے کی خامیاں
(Limitations of Straight Line Method)
- یہ طریقہ مختلف حسابی سالوں میں اثاثہ کی یکساں افادیت کے غلط یا ناقص مفروضہ پر مبنی ہے۔
- وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اثاثہ کی صلاحیت کار گھٹتی رہتی ہے اور مرمت کا خرچ بڑھتا رہتا ہے۔ لہٰذا اس طریقہ کے تحت فرسودگی اور مرمت کو ایک ساتھ شامل کرکے منافع کی کل رقم اثاثہ کی کل مدت استعمال میں یکساں نہیں رہے گی بلکہ یہ سال بہ سال مسلسل بڑھتی ہی رہے گی۔
7.6.2 قلم زدگی قدر کا طریقہ (Written Down Value Method)


7.6.2.1 قلم زدگی قدر طریقے کی خوبیاں
(Advantages of Written Down Value Method)
- یہ طریقہ اس حقیقت پسندانہ مفروضے پر مبنی ہے کہ اثاثہ سے ہونے والے فوائد وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتے جاتے ہیں۔ لہٰذا یہ لاگت کے مناسب تعین کا متقاض ہے کیونکہ شروع کے سالوں میں زیادہ فرسودگی نکالی جاتی ہے کیونکہ اس وقت اثاثہ کی افادیت بعد کے سالوں کے مقابلہ زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس وقت کم قابل استعمال ہوتے ہیں؛
- اس طریقہ سے ہر سال فرسودگی اور مرمت اخراجات کو ایک ساتھ رکھنے کی وجہ سے نفع و نقصان کھاتہ پر تقریباً یکساں نتیجہ برآمد ہوتا ہے؛
- انکم ٹیکس ایکٹ ٹیکس مقاصد کے لیے اس طریقے کو تسلیم کرتا ہے؛
- کیونکہ شروع کے سالوں میں اثاثہ کی لاگت کا بڑا حصہ قلم زد کر دیا جاتا ہے اس لیے اس کے متروک الاستعمال ہونے کے سبب ہونے والا نقصان کم ہو جاتا ہے؛
- یہ طریقہ قائم اثاثوں کے لیے زیادہ مناسب ہے جو لمبے عرصے تک باقی رہتے ہیں اور وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ جنہیں زیادہ مرمت کے اخراجات کی ضرورت ہوتی ہے۔
7.6.2.2 قلم زدگی قدر/بقایا تقلیل طریقہ کی خامیاں
(Limitations of written down value Methord)
- کیونکہ فرسودگی کو اس کی قلم زد قدر کی متعین فیصد پر نکالا جاتا ہے اس لیے اثاثہ کی قابلِ فرسودگی لاگت مکمل طور پر قلم زد نہیں کی جاسکتی؛
- فرسودگی کی مناسب شرح کا طے کرنا مشکل ہوتا ہے۔
7.7 خط مستقیم طریقہ اور قلم زدگی قدر طریقہ: ایک تقابلی تجزیہ
(Straight Line Method and Written Down Method: A Comparative Analysis)
7.7.1 فرسودگی نکالنے کی بنیاد (Basis of Charging Depreciation)
7.7.2 فرسودگی کا سالانہ حساب خرچ (Annual Charge of Depreciation)
7.7.3 فرسودگی اور مرمت اخراجات کے تعلق سے نفع و نقصان کھاتہ کے کل خرچ
(Total Charge Against Profit and Loss Account on Account of Depreciation and Repair Expenses)
7.7.4 انکم ٹیکس قانون کے ذریعے تسلیم شدہ
(Recognition by Income Tax Law)
7.7.5 مناسبت (Suitability)
قلم زدگی قدر کا طریقہ
(Written Down Value Method)
|
خط مستقیم طریقہ
(Straight Line Method)
|
فرق کی بنیاد
(Basis of Difference)
|
| کتابی قیمت (یعنی اصل لاگت نفی اس وقت تک نکالی گئی فرسودگی) سال بہ سال گٹھتی رہتی ہے۔ ہر سال تقریباً برابر۔ تسلیم شدہ ہے۔ یہ ان اثاثوں کے لیے مناسب ہے جو تکنیکی / فنی تبدیلیوں سے متاثر ہوتے ہیں اور وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ زیادہ مرمت چاہتے ہیں۔ |
اصل لاگت قائم (ثابت) سال سال بہ سال غیر یکساں۔ بعد کے سالوں میں بڑھتا رہتا ہے۔ تسلیم شدہ نہیں ہے۔ یہ طریقہ ان اثاثوں کے لیے مناسب ہے جن میں مرمت کے اخراجات کم ہوتے ہیں۔ غیر مستعمل/ متروک الاستعمال ہونے کا امکان کم ہوتا ہے اور باقی ماندہ قدر (Scrap Value) اس میں شامل مدت پر منحصر ہوتی ہے۔ |
1۔ فرسودگی نکالنے کی بنیاد 2۔ سالانہ فرسودگی خرچ/چارج 3۔ فرسودگی اور مرمتوں سے متعلق نفع و نقصان کھاتہ کل خرچ/ چارج 4۔ انکم ٹیکس قانون کے ذریعے تسلیم شدہ 5۔ مناسبت |
7.8 فرسودگی کو ریکارڈ کرنے کے لیے طریقے
(Methods of Recording Depreciation)
- اثاثہ کھاتے سے فرسودگی چارج کرنا
- فرسودگی/ مجتمع فرسودگی کھاتے کے لیے بندوبست فراہم کرنا۔
7.8.1 اثاثہ کھاتے سے فرسودگی چارج کرنا
(Charging Depreciation to Asset Account)
7.8.2 فرسودگی کھاتے مجموعی فرسودگی کھاتے کے لیے بندوبست کی فراہمی
- اثاثہ کھاتہ تمام زندگی ہر سال اپنی اصل لاگت میں نظر آنا؛
- ہر حسابی سال کے اختتام پر اثاثہ کھاتہ میں تطبیق (Adjustment) کیے جانے کے بجائے فرسودگی کو ایک علاحدہ کھاتہ میں مجتمع کیا جاتا ہے۔
مثال 1
حل
| تاریخ | تفصیل | L.F. | ڈیبٹ رقم روپے | کریڈٹ رقم روپے |
| 2016 01 اپریل
|
پلانٹ کھاتہ Dr. بینک کھاتہ سے (5,00,000 روپے میں پلانٹ خریدا) |
5,00,000 | 5,00,000 | |
| 01 اپریل | پلانٹ کھاتہ Dr. بینک کھاتہ سے (پلانٹ لگانے پر کیا گیا خرچ) |
50,000 | 50,000 | |
| 2017 31 مارچ
|
Dr. فرسودگی کھاتہ
پلانٹ کھاتہ سے (اثاثے پر فرسودگی لگائی گئی) |
54,000 | 54,000 | |
| 31 مارچ |
Dr. نفع و نقصان کھاتہ
فرسودگی کھاتہ سے (نفع و نقصان کھاتہ پر فرسودگی ڈیبٹ کی گئی) |
54,000 | 54,000 |
| رقم (روپے) | J.F. | تفصیل | تاریخ | رقم (روپے) | J.F. |
تفصیل |
تاریخ |
| 54,000 4,96,000 5,50,000 54,000 4,42,000 4,96,000 54,000 3,88,000 4,42,000 |
فرسودگی بیلنس c/d فرسودگی بیلنس c/d فرسودگی بیلنس c/d |
2017 31 مارچ 2018 31 مارچ 2019 31 مارچ |
5,00,000 50,000 5,50,000 4,96,000 4,96,000 4,42,000 4,42,000 3,88,000 |
بینک بینک (انسٹالیشن خرچ) بیلنس b/d بیلنس b/d بیلنس b/d |
2016 01اپریل 2017 01 اپریل 2018 01اپریل 2019 01 اپریل |
| رقم (روپے) | J.F. | تفصیل | تاریخ | رقم (روپے) | J.F. |
تفصیل |
تاریخ |
| 54,000 54,000 54,000 |
نفع و نقصان نفع و نقصان نفع و نقصان |
2017 31 مارچ 2018 31 مارچ 2019 31 مارچ |
54,000 54,000 54,000 |
پلانٹ پلانٹ پلانٹ |
2017 31 مارچ 2018 31 مارچ 2019 31 مارچ |
ورکنگ نوٹس
مثال 2
حل
| کریڈٹ رقم روپے | ڈیبٹ رقم روپے | L.F. | تفصیل | تاریخ |
| 1,80,000 | 1,80,000 | .Dr مشین کھاتہ
بینک کھاتہ
(1,80,000 میں مشین خریدی) |
2016 01 اکتوبر |
|
| 20,000 | 20,000 | Dr.
مشین کھاتہ
بینک کھاتہ
(انسٹالیشن پر خرچ کیا گیا) |
01 اکتوبر | |
| 10,000 | 10,000 | Dr. فرسودگی کھاتہ
مشین کھاتہ (اثاثے پر فرسودگی لگائی گئی) |
2017 31 مارچ |
|
| 10,000 | 10,000 | Dr. نفع و نقصان کھاتہ
فرسودگی کھاتہ
(فرسودگی نفع و نقصان کھاتہ سے ڈیبٹ کی گئی ) |
31 مارچ | |
| 20,000 | 20,000 | Dr. فرسودگی کھاتہ
مشین کھاتہ (مشین پر فرسودگی چارج کی گئی) |
2018 31 مارچ |
|
| 20,000 | 20,000 | Dr. نفع و نقصان کھاتہ
فرسودگی کھاتہ To
(فرسودگی نفع و نقصان کھاتہ سے ڈیبٹ کی گئی )
|
31 مارچ | |
| 20,000 | 20,000 | Dr. فرسودگی کھاتہ مشین کھاتہTo
(مشین پر فرسودگی چارج کی گئی)
|
2018 31 مارچ |
|
| 20,000 | 20,000 | Dr. نفع و نقصان کھاتہ
فرسودگی کھاتہ To
(فرسودگی نفع و نقصان کھاتہ سے ڈیبٹ کی گئی ) |
31 مارچ |
| رقم (روپے) | J.F. | تفصیل | تاریخ | رقم (روپے) | J.F. |
تفصیل |
تاریخ |
| 10,000 1,90,000 2,00,000 20,000 1,70,000 1,90,000 20,000 1,50,000 1,70,000 |
فرسودگی (6 ماہ کے لیے) بیلنسc/d فرسودگی c/dبیلنس فرسودگی بیلنسc/d |
2017 31مارچ 31مارچ 2018 31مارچ 2019 31مارچ |
1,80,000 20,000 2,00,000 1,90,000 1,90,000 1,70,000 1,70,000 |
بینک بینک (انسٹالیشن خرچ) بیلنسb/d بیلنسb/d |
2016 01اکتوبر 01اکتوبر 2017 01اپریل 2018 01 اپریل |
| رقم (روپے) | J.F. | تفصیل | تاریخ | رقم (روپے) | J.F. |
تفصیل |
تاریخ |
| 10,000 10,000 20,000 20,000 20,000 20,000 |
نفع و نقصان نفع و نقصان نفع و نقصان |
2017 31 مارچ 2018 31 مارچ 2019 31 دسمبر |
10,000 10,000 20,000 20,000 20,000 20,000 |
مشین مشین مشین |
2017 31 مارچ 2018 31 مارچ 2019 31 دسمبر |
یادداشت
مثال 3
حل
| رقم (روپے) | J.F. | تفصیل | تاریخ | رقم (روپے) | J.F. |
تفصیل |
تاریخ |
| 2,00,000 2,00,000 2,00,000 2,00,000 |
بیلنس c/d بیلنس c/d |
2017 31 مارچ 2018 31مارچ |
1,80,000 20,000 2,00,000 2,00,000 2,00,000 |
بینک بینک (انسٹالیشن خرچ) بیلنسb/d |
2016 1 اکتوبر 1اکتوبر 2017 01 اپریل |
| رقم (روپے) | J.F. | تفصیل | تاریخ | رقم (روپے) | J.F. |
تفصیل |
تاریخ |
| 10,000 10,000 10,000 20,000 30,000 30,000 20,000 50,000 |
فرسودگی بیلنس b/d فرسودگی بیلنس b/d فرسودگی |
2016 31 مارچ 2017 01 اپریل 31 مارچ 2018 1 اپریل 2017 31 مارچ |
10,000 10,000 30,000 30,000 50,000 50,000 |
بیلنسc/d بیلنسc/d بیلنسc/d |
2016 31 مارچ 2017 31 مارچ 2018 31 مارچ |
| رقم (روپے) | J.F. | تفصیل | تاریخ | رقم (روپے) | J.F. |
تفصیل |
تاریخ |
| 10,000 10,000 20,000 20,000 20,000 20,000 |
نفع و نقصان نفع و نقصان نفع و نقصان |
2017 31 مارچ 2018 31 مارچ 2019 31مارچ |
10,000 10,000 20,000 20,000 20,000 20,000 |
فرسودگی بندوبست کھاتہ فرسودگی بندوبست کھاتہ فرسودگی بندوبست کھاتہ |
2017 31 مارچ 2018 31 مارچ 2019 31مارچ |
مثال 4
| رقم (روپے) | J.F. | تفصیل | تاریخ | رقم (روپے) | J.F. |
تفصیل |
تاریخ |
| 21,000 11,89,000 2,10,000 18,9002 1,70,100 1,89,000 17,0103 1,53,090 1,70,100 |
فرسودگی بیلنس c/d فرسودگی بیلنس c/d فرسودگی بیلنس c/d |
2017 31 مارچ 2018 31 مارچ 2019 31 مارچ |
2,00,000 10,000 2,10,000 1,89,000 1,89,000 1,70,100 1,70,100 1,53,090 |
بینک بینک بیلنس c/d بیلنس c/d بیلنس c/d |
2016 01 اپریل 2017 01 اپریل 2018 01 اپریل 2020 |
فرسودگی رقم کی تحسیب


مثال 5
حل
| رقم (روپے) | J.F. | تفصیل | تاریخ | رقم (روپے) | J.F. |
تفصیل |
تاریخ |
| 6,7501 38,250 45,000 9,4002 63,850 73,250 12,7703 51,080 63,850 |
فرسودگی بیلنس c/d فرسودگی بیلنس c/d فرسودگی بیلنس c/d |
2015 31 مارچ 2016 31 مارچ 2017 31 مارچ |
40,000 5,000 45,000 38,250 35,000 73,250 63,850 63,850 51,080 |
بینک بینک بیلنس c/d بینک بیلنس c/d بیلنس c/d |
2014 جولائی 01 2015 اپریل01 جنوری01 2016 اپریل01 2017 اپریل01 |
ضروری یادداشت

اپنے فہم و ادراک کی جانچ کیجیےII
7.9 اثاثہ کی فروخت (Disposal of Asset)
| رقم (روپے) | J.F. | تفصیل | تاریخ | رقم (روپے) | J.F. |
تفصیل |
تاریخ |
| 90,000 3,10,000 4,00,000 90,000 2,20.000 3,10,000 90,000 1,30,000 2,20,000 99,000 50,000 1,40,000 |
فرسودگی بیلنسc/d فرسودگی بیلنسc/d فرسودگی بیلنسc/d فرسودگی بینک |
سال کے آخرمیں سال کے آخرمیں سال کے آخرمیں |
4,00,000 4,00,000 3,10,000 3,10,000 2,20,000 2,20,000 1,30,000 10,000 1,40,000 |
بینک بیلنسb/d بیلنسb/d بیلنسb/d نفع و نقصان (گاڑی کی فروخت پر نفع) |
I سال II سال III سال IV سال |
(b) جبکہ فرسودگی کھاتے کے لیے بندوبست کیا گیا ہو
| رقم (روپے) | J.F. | تفصیل | تاریخ | رقم (روپے) | J.F. |
تفصیل |
تاریخ |
| 4,00,000 4,00,000 4,00,000 4,00,000 4,00,000 3,60,000 50,000 4,10,000 |
فرسودگی بیلنسc/d فرسودگی بیلنسc/d بیلنس c/d بندوبست برائے فرسودگی بینک |
سال کے آخرمیں سال کے آخرمیں سال کا آخر |
4,00,000 4,00,000 4,00,000 4,00,000 4,00,000 4,00,000 4,00,000 10,000 4,10,000 |
بینک بیلنسc/d بیلنس b/d بیلنس b/d نفع و نقصان (گاڑی کی فروخت پر نفع) |
I سال II سال III year IV year |
| رقم (روپے) | J.F. | تفصیل | تاریخ | رقم (روپے) | J.F. |
تفصیل |
تاریخ |
| 90,000 90,000 90,000 90,000 1,80,000 1,80,000 90,000 2,70,000 2,70,000 90,000 3,60,000 |
فرسودگی بیلنسc/d فرسودگی بیلنسc/d فرسودگی بیلنسc/d فرسودگی بندوبست |
سال کے آخرمیں سال کے آخرمیں سال کے آخرمیں سال کے آخرمیں |
90,000 90,000 1,80,000 1,80,000 2,70,000 2,70,000 3,60,000 3,60,000 |
بیلنس b/d بیلنس b/d بیلنس b/d مشینری |
I سال II سال III سال IV سال |
7.9.1 متروک اثاثہ کھاتے کا استعمال
(Use of Asset Disposal Account)
| رقم (روپے) | J.F. | تفصیل | تاریخ | رقم (روپے) | J.F. |
تفصیل |
تاریخ |
| 60,000 35,000 5,0001 1,00,000 |
فرسودگی بندوبست بینک نفع و نقصان (بکری پر نقصان) |
2017 01 اپریل 01 اپریل 2018 31 مارچ |
1,00,000 1,00,000 |
مشینری | 2017 01 اپریل |
| رقم (روپے) | J.F. | تفصیل | تاریخ | رقم (روپے) | J.F. |
تفصیل |
تاریخ |
| 1,00,000 6,00,000 |
مشین ڈسپوزل(فروخت) |
2017 01 اپریل 2018 31 مارچ |
6,00,000 6,00,000 |
بیلنس b/d | 2017 31 مارچ |
مثال 6
حل
| رقم (روپے) | J.F. | تفصیل | تاریخ | رقم (روپے) | J.F. |
تفصیل |
تاریخ |
| 1,00,000 1,00,000 20,000 80,000 1,00,000 20,000 90,000 1,10,000 |
بیلنسc/d ٹرک فروخت بیلنسc/d ٹرک فروخت بیلنسc/d |
2015 31 دسمبر 2016 01 جنوری 31 دسمبر 2017 01 جولائی 31 دسمبر |
1,00,000 1,00,000 1,00,000 1,00,000 80,000 30,000 1,10,000 |
بینک (ٹرک کی خریداری) بیلنسb/d بیلنس b/d بینک (نئے ٹرک کی خریداری) |
2015 01 جنوری 2016 01 جنوری 2017 01 جولائی 01 اکتوبر |
| رقم (روپے) | J.F. | تفصیل | تاریخ | رقم (روپے) | J.F. |
تفصیل |
تاریخ |
| 2,000 15,000 3,0004 20,000 5,000 18,000 23,000 |
بندوبست برائے فرسودگی بینک (بکری) نفع و نقصان (بکری پر نقصان) بندوبست برائے فرسودگی + 2,000 + روپے) (1,000 +2,000 بینک (بکری) |
2016 01جنوری 01جنوری 01جنوری 2017 01 جولائی 01جولائی |
20,000 20,000 20,000 3,000 23,000 |
مشینری مشینری نفع و نقصان 5 (بکری پر نفع) |
2016 01 جنوری 2017 01 جولائی 01جولائی |
| رقم (روپے) | J.F. | تفصیل | تاریخ | رقم (روپے) | J.F. |
تفصیل |
تاریخ |
| 10,0001 10,000 10,000 8,0002 18,000 16,000 7,7503 23,750 |
فرسودگی بیلنسb/d فرسودگی بیلنسb/d فرسودگی (6000+ روپے 1000+750) |
2015 31دسمبر 2016 01 جنوری 31 دسمبر 2017 01 جنوری 31 دسمبر |
10,000 10,000 2,000 16,000 18,000 5,000 18,750 23,750 |
بیلنسc/d ٹرک فروخت بیلنس c/d ٹرک فروخت بیلنسc/d |
2015 31دسمبر 2016 01 جنوری 31 دسمبر 2017 01 جنوری 31 دسمبر |
یادداشت
مثال 7
حل
کنشکاٹریڈرس کی کتابیں
فرنیچر کھاتہ
| رقم (روپے) | J.F. | تفصیل | تاریخ | رقم (روپے) | J.F. |
تفصیل |
تاریخ |
| 5,000 8,000 7,0001 55,000 75,000 |
بینک بندوبست برائے فرسودگی نفع و نقصان کھاتہ (بکری پر نقصان) بیلنسc/d |
2015 01 اکتوبر 2016 31اپریل |
50,000 25,000 75,000 |
بیلنسb/d بینک |
2015 01 اپریل 01 اکتوبر |
| رقم (روپے) | J.F. | تفصیل | تاریخ | رقم (روپے) | J.F. |
تفصیل |
تاریخ |
| 22,000 4,250 26,250 |
بیلنس b/d فرسودگی (3,000+1,250 روپے) |
2015 01 اپریل 2016 31 مارچ |
8,000 18,250 26,250 |
فرنیچر (فرنیچر کی فروخت پر فرسودگی مجتمع کی گئی) بیلنسc/d |
2015 01 اکتوبر 2016 31 مارچ |
یادداشت
مثال 8
انل ٹریڈرس کی کتابیں
فرنیچر کھاتہ
| رقم (روپے) | J.F. | تفصیل | تاریخ | رقم (روپے) | J.F. |
تفصیل |
تاریخ |
| 20,000 55,000 75,000 |
فرنیچر فروخت بیلنسc/d |
2015 01 اپریل 2016 31 مارچ |
50,000 25,000 75,000 |
بیلنسb/d بینک |
2015 01 اپریل 01اکتوبر |
فرنیچر کھاتہ پر فرسودگی کے لیے بندوسبت
| رقم (روپے) | J.F. | تفصیل | تاریخ | رقم (روپے) | J.F. |
تفصیل |
تاریخ |
| 22,000 4,250 26,250 |
بیلنسb/d فرسودگی |
2015 01 اپریل 2016 31 مارچ |
8,000 18,250 26,250 |
فرنیچر فروخت بیلنسc/d |
2015 01 اپریل 2016 31 مارچ |
فرنیچر فروخت کھاتہ
| رقم (روپے) | J.F. | تفصیل | تاریخ | رقم (روپے) | J.F. |
تفصیل |
تاریخ |
| 8,000 5,000 7,000 20,000 |
بندوبست برائے فرسودگی بینک نفع و نقصان کھاتہ (بکری پر نقصان) |
2015 01 اکتوبر |
20،000 20،000 |
فرنیچر | 2015 01 اکتوبر |
مثال 9
حل
جین اینڈسنز کی کتابیں
پلانٹ کھاتہ
| رقم (روپے) | J.F. | تفصیل | تاریخ | رقم (روپے) | J.F. |
تفصیل |
تاریخ |
| 2,15,000 2,15,000 2,15,000 2,15,000 2,15,000 2,15,000 2,15,000 2,15,000 |
بیلنسc/d بیلنسc/d بیلنسc/d پلانٹ فروخت |
2012 31 دسمبر 2013 31 دسمبر 2014 31 دسمبر 2015 31 دسمبر |
2,15,000 2,15,000 2,15,000 2,15,000 2,15,000 2,15,000 2,15,000 2,15,000 |
بینک بیلنسb/d بیلنسb/d بیلنسb/d |
2012 01جنوری 2013 01جنوری 2014 01جنوری 2015 01جنوری |
مجتمع فرسودگی کھاتہ (Accumulated Depreciation Account)
| رقم (روپے) | J.F. | تفصیل | تاریخ | رقم (روپے) | J.F. |
تفصیل |
تاریخ |
| 43,0001 43,000 43,000 34,4002 77,400 77,400 27,5203 1,04,920 1,04,920 12,8434 1,17,763 |
فرسودگی بیلنسb/d فرسودگی بیلنسb/d فرسودگی بیلنسb/d فرسودگی |
2012 31 دسمبر 2013 01جنوری 2014 جنوری01 31 دسمبر 2015 01 جنوری 31 جولائی |
43,000 43,000 77,400 77,400 1,04,920 1,04,920 1,17,763 1,17,763 |
بیلنسb/d بیلنسb/d بیلنسc/d پلانٹ فروخت |
2012 31 دسمبر 2013 01جنوری 2014 31 دسمبر 2015 31جولائی |
متروک پلانٹ کھاتہ
| رقم (روپے) | J.F. | تفصیل | تاریخ | رقم (روپے) | J.F. |
تفصیل |
تاریخ |
| 1,17,763 50,000 47,2375 2,15,000 |
مجمتمع فرسودگی انشورینس کمپنی نفع و نقصان (بکری پر نقصان) |
2015 31 جولائی |
2,15,000 2,15,000 |
پلانٹ | 2015 31 جولائی |
7.10 موجودہ اثاثہ کسی اضافہ یا توسیع کا اثر
(Effect of any Addition or Extension to the Existing Asset)
- کوئی بھی اضافہ یا توسیع جو موجودہ اثاثہ کا لازمی جزو ہے اس کی فرسودگی اثاثہ کی تمام قابل استعمال زندگی تک ہونی چاہئے۔
- اس قسم کے اضافہ یا توسیع پر اثاثہ کی موجودہ شرح پر فرسودگی کا اطلاق کیا جانا چاہئے۔
- جہاں کسی اضافہ یا توسیع کی اپنی منفرد شناخت ہوتی ہے اور وہ موجود اثاثہ کے فروخت کے بعد تک استعمال کیے جانے کے قابل رہتا ہے، وہاں اس کی اپنی مدت حیات کے دوران آزادانہ طور پر فرسودگی فراہم کی جانی چاہئے۔
مثال10
حل
ڈیجیٹل اسٹوڈیو کی کتابیں
مشین کھاتہ
| رقم (روپے) | J.F. | تفصیل | تاریخ | رقم (روپے) | J.F. |
تفصیل |
تاریخ |
| 8,80,000 8,80,000 |
بیلنس c/d | 2016 31 مارچ |
800,000 80,000 8,80,000 |
بیلنسb/d بینک |
2015 01 اپریل |
بندوبست برائے فرسودگی کھاتہ
| رقم (روپے) | J.F. | تفصیل | تاریخ | رقم (روپے) | J.F. |
تفصیل |
تاریخ |
| 3,20,0001 1,76,0002 4,96,000 |
بیلنسb/d فرسودگی |
2015 01 اپریل 2016 31 مارچ |
4,96,000 4,96,000 |
بیلنس c/d | 2014 31 مارچ |
کارآمد یادداشت
مثال 11
حل
مشینری کھاتہ
| رقم (روپے) | J.F. | تفصیل | تاریخ | رقم (روپے) | J.F. |
تفصیل |
تاریخ |
| 7,70,000 7,70,000 |
بیلنسc/d | 2018 31 مارچ |
6,80,000 70,000 20,000 7,70,000 |
بیلنسb/d بینک بینک |
2017 01 اپریل |
بندوبست برائے فرسودگی کھاتہ
| رقم (روپے) | J.F. | تفصیل | تاریخ | رقم (روپے) | J.F. |
تفصیل |
تاریخ |
| 2,72,0001 1,54,0002 4,26,000 |
بیلنسb/d فرسودگی |
2017 01اپریل 2018 31 مارچ |
4,26,000 4,26,000 |
بیلنسb/d | 2018 31 مارچ |
کارآمد یادداشت

حصہ -II
بندوبست اور محفوظات(Provisions and Reserve)
7.11 بندوبست (Provisions)
- بندوبست برائے فرسودگی (Provision for Depreciation)؛
- بندوبست برائے ناقابل وصول اور مشکوک قرضہ جات
- بندوبست برائے ٹیکس (Provision for taxation)؛
- قرض داروں کو دی جانے والی چھوٹ یا رعایت ؛ اور
- بندوبست برائے مرمت و جدید کاری (Provision for Repairs and Renewals)۔
- اثاثوں کی جانب متعلقہ اثاثوں سے گھٹاکر۔ مثال کے طور پر بندوبست برائے مشکوک قرضہ جات کو متعلقہ قائم اثاثوں سے متفرق قرض داروں (Sundry Debtors) کی رقم سے گھٹا کر دکھایا جاتا ہے۔
- رواں واجبات کے ساتھ ساتھ بیلنس شیٹ کی واجبات کی جانب (Liabilities Side)۔ مثال کے طور پر بندوبست برائے ٹیکس اور بندوبست مرمت و جدیدی کاری۔
7.11.1 بندوبست کے لیے حسابی عمل/کھاتہ داری طریقہ
(Accounting Treatment for Provissions)
- اچھے قرض دار وہ ہوتے ہیں جن سے قرض کی وصولیابی یقینی ہوتی ہے۔
- نادہند قرض دار وہ ہوتے ہیں جن سے رقم کی وصولیابی ممکن نہیں ہوتی اور انہیں دی گئی ادھار کی رقم ڈوب جاتی ہے اور نقصان یقینی ہے۔
- مشکوک قرضے وہ ہیں کہ قرض دار ہو سکتا ہے ادائیگی کردیں لیکن کاروباری فرم کو ان سے کل رقم کی وصولیابی کا یقین نہیں ہوتا۔ واقعتا کاروباری تجربے کے طور پر اس طرح کے قرض داروں کی کچھ فیصد ایسی ہوتی ہے جو ادائیگی نہیں کر پاتے اس لیے ایسے قرضوں کو مشکوک قرضہ سمجھا جاتا ہے۔ اس امکانی نقصان مدنظر جو کچھ قرض داروں کی عدم ادائیگی کے باعث ہوتا ہے، ایک عملی طریقہ یہ ہے (اور ضروری بھی) کہ صحیح نفع اور نقصان کا حساب نکالتے وقت مشکوک قرضوں کے لیے مناسب بندوبست فراہم ناقابل وصول کیا جائے۔ مشکوک قرضوں کے لیے بندوبست کے فراہم کرنے کا عام طریقہ یہ ہے کہ تمام معلوم ناقابل وصول اور مشکوک قرضوں کو گھٹا کر/قلم زد کر کے متفرق قرض داروں سے واجب الادا تمام رقم کا ایک خاص فیصد نکال لیا جائے۔ مشکوک قرضوں کے لیے بندوبست کو بھی ’’مشکوک اور ناقابل وصول قرضوں کے لیے بندوبست‘‘ کیا جاتا ہے۔ یہ بندوبست نفع و نقصان کھاتہ کو مطلوبہ بندوبست کی رقم سے ڈیبٹ کر کے نکالا جاتا ہے اور بندوبست برائے مشکوک قرضہ جات کھاتہ کو کریڈٹ کیا جاتا ہے۔
| تاریخ | کھاتہ | L.F. | ڈیبٹ رقم روپے | کریڈٹ رقم روپے |
| Sundry Debtors (متفرق قرض دار ) | 68،000 |
اضافی اطلاعات :
- ناقابل وصول قرضے بٹھ کھاتے میں گئے لیکن اس 8,000 روپے کی رقم کو ریکارڈ نہیں کیا گیا:
- قرض داروں کا 10% بندوبست کے لیے رکھا جانا ہے۔
جرنل
| تاریخ | تفصیل | L.F. | ڈیبٹ رقم روپے | کریڈٹ رقم روپے |
| 2014 31 مارچ |
ناقابل وصول کھاتہ Dr. متفرق قرض دار کھاتہ (بیڈ ڈیبٹس قلم زد کیے ) |
8,000 |
8,000 | |
| مارچ 31 | Dr. نفع و نقصان کھاتہ ناقابل وصول کھاتہ سے (نفع و نقصان کھاتہ سے ناقابل وصول قرضہ جات) |
8,000 |
8,000 | |
| 31 مارچ | نفع و نقصان کھاتہ
Dr. پلانٹ کھاتہ سے
(اثاثے پر فرسودگی چارج کی)
|
6,0001 | 6,0001 |
کارآمد یادداشت:
7.12 محفوظات (Reserves)
- عام محفوظ (General reserve)؛
- کارکنون کی اجرتوں کا فنڈ (Workmen compensation fund)؛
- سرمایہ کاری اتار چڑھاؤ فنڈ (Investment fluctuation fund)؛
- اصل سرمایہ جاتی محفوظ (Capital reserve)؛
- ڈیویڈینٹ مساواتی محفوظ (Dividend Equalisation Reserve)؛
- ڈبینچر کی ادائیگی کے لیے محفوظ (Reserve for Redemption of Debenture)۔
7.12.1 بندوبست اور محفوظ میں فرق
(Difference Between Reserve and Provision)
- بنیادی نوعیت (Basic Nature): بندوبست منافع کے بالمقابل ایک خرچ/ چارج ہے۔ جبکہ محفوظ منافع کا اختصاص (Appropriation of Profit) ہے۔ اس لیے خالص منافع اس وقت تک معلوم نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ تمام بندوبست کو نفع و نقصان کھاتہ سے ڈیبٹ نہ کر دیا جائے جبکہ محفوظ خالص منافع نکالنے کے بعد ہی وجود میں آتا ہے۔
- مقصد (Purpose): بندوبست ایک معلوم ذمہ داری یا خرچ کے لیے کیا جاتا ہے جس کا تعلق رواں کھاتہ داری مدت (Current Accounting Period) سے ہے۔ دوسری طرف محفوظ کاروبار کی مالی حالت کو مضبوط بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ کچھ محفوظات قانون کے تحت لازمی (Mandatory) ہوتے ہیں۔
- بیلنس شیٹ میں پیش کیا جانا (Presentation in Balance Sheet): بندوبست کو دکھایا جاتا ہے یا تو : (i)اثاثہ کی جانب اس مد (Item) میں سے گھٹاکر جس کے لیے اسے وجود میں لایا گیا ہے یا (ii) واجبات کی جانب رواں واجبات کے ساتھ دوسری طرف محفوظ کو اصل سرمایہ کے بعد واجبات کی طرف دکھایا جاتا ہے۔
- قابلِ ٹیکس منافعوں پر اثر (Effect on taxable profits) : بندوبست کی فراہمی ٹیکس منافعوں کے نکالنے سے پہلے کی جاتی ہے۔ اس لیے یہ قابل ٹیکس منافعوں کو کم کرتا ہے۔ محفوظ ٹیکس کے بعد منافع سے وجود میں لایا جاتا ہے اور اس لیے قابلِ ٹیکس منافع پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
- لازمی ہونے کا عنصر (Element of Compulsion) : ’بندوبست‘، اعتدال پسندی یا احتیاط پسندی کے نظریے کو عمل میں لاکر نفع یا نقصان کی صحیح صورت حال معلوم کرنے کے لیے بندوبست کی فراہمی ضروری ہے۔ منافعوں کے نہ ہونے کے باوجود بھی یہ فراہمی کرنی پڑتی ہے۔ تاہم کچھ حالات میں قانون نے کچھ مخصوص محفوظات جیسے (Debenture Redemption Reserve) کے لیے شرط لگائی ہے۔ محفوظ اس وقت تک نہیں فراہم کیا جاسکتا جب تک کہ منافع نہ ہوں۔
- ڈیویڈینڈ کی ادائیگی کے لیے استعمال(Use for the Payment of dividend) : بندوبست کو ڈیویڈینڈ کی تقسیم کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا جبکہ عام محفوظ کو ڈیویڈینڈ کی تقسیم کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
| محفوظ | بندوبست | فرق کی بنیاد |
| منافع کا اختصاص | منافع کے برخلاف نکالا جاتا ہے (Charge)۔ | 1۔ بنیادی نوعیت |
| یہ کاروباری حالت کو مضبوط کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ کچھ محفوظات قانونی طور پر لازمی ہوتے ہیں۔ | یہ رواں کھاتہ داری مدت سے متعلق معلوم ذمہ داری یا خرچ کے لیے فراہم کیا جاتا ہے جس کی رقم طے نہیں ہوتی۔ | 2۔ مقصد |
| اس کا قابلِ محصول منافعوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ | یہ قابلِ ٹیکس منافعوں کو گھٹاتا ہے۔ | 3۔ قابل ٹیکس منافعوں پر اثر |
| اسے واجبات کی جانب سرمایہ کی رقم کے بعد واجبات کی جانب میں دکھایا جاتا ہے۔ | یہ یا تو (i) اثاثہ کی جانب میں Item سے گھٹا کر دکھایا جاتا ہے جس کے لیے اس کو وجود میں لایا گیا ہے۔ (ii) یا پھر رواں واجبات کے ساتھ واجبات میں دکھایا جاتا ہے۔ | 4۔بیلنس شیٹ میں اظہار |
| عام طور پر محفوظ کا اہتمام کرنا انتظامیہ کی صوابدید پر ہوتا ہے۔ بغیر منافعوں کے محفوط کا اہتمام نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم کچھ حالات میں قانون نے کچھ مخصوص محفوظات کے لیے شرط لگائی ہے جیسے ڈبینچر رڈیمپشن (Debenture Redemption) | نظریہ ’اعتدال پسندی‘ یا احتیاط پسندی کو عمل میں لاکر بندوبست حقیقی و صاف نفع یا نقصان کا پتہ لگانے کے لیے لازمی ہے۔ اس کا اہتمام کرنا ہی پڑتا ہے خواہ منافع ہویا نہ ہو۔ | 5۔لازمیت کا عنصر |
| اسے ڈیویڈینڈ کی تقسیم کے لیے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ | اس کو ڈیویڈینڈ کی تقسیم کے لیے استعمال میں نہیں لایا جاسکتا۔ | 6۔ ڈیویڈینڈ کی تقسیم کے لیے استعمال |
7.12.2 محفوظ کی قسمیں (Types of Reserve)
- عام محفوظ : جس مقصد کے لیے محفوظ وجود میں لایا جاتا ہے اگر وہ مخصوص نہیں ہوتا تو اسے عام محفوظ کہتے ہیں۔ اسے اصطلاحاً ’آزاد محفوظ‘ (Free Reserve) بھی کہا جاتا ہے کیونکہ انتظامیہ اسے آزادانہ طور پر کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ عام محفوظ (General Reserve) سے کاروبار کی مالی حالت مضبوط ہوتی ہے۔
- مخصوص محفوظ (Specific Reserve): مخصوص محفوظ ایسا محفوظ ہے جو کسی خاص مقصد کے لیے وجود میں لایا جاتا ہے اور اسے صرف اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مخصوص محفوظ کی مثالیں ذیل میں دی گئی ہیں:
- عام محفوظ ؛
- کاریگر تلافی فنڈ ؛
- سرمایہ کاری اتار چڑھاؤ فنڈ ؛
- ڈیویڈینڈ مساوی محفوظ ؛
- ڈبینچر تلافی محفوظ ۔
- شیر یا ڈبینچرز کے جاری کیے جانے پر پریمیم؛
- قائم اثاثوں کی فروخت پر منافع؛
- ڈبینچروں کی باز خریداری پر منافع؛
- قائم اثاثوں اور واجبات کی باز تخمین کاری (Revaluation) پر منافع؛
- قبل از تشکیل (Prior to Incorporation) منافع؛
- ضبط شدہ حصص (Forfeited Shares) کے دوبارہ جاری کرنے پر منافع۔
7.12.3 محفوظ اور سرمایہ جاتی محفوظ میں فرق ہی
(Difference Between Revenue and Capital Reserve)
- تخلیق کا ذریعہ (Source of Creation): محاصلی محفوظ محاصلی منافعوں سے وجود میں آتے ہیں جو کاروبار کی حسبِ معمول عملی سرگرمیوں سے نکالے جاتے ہیں اور بصورت دیگر ڈیویڈینڈ کی تقسیم کے لیے موجود ہوتے ہیں۔ دوسری طرف سرمایہ جاتی محفوظ بنیادی طور پر سرمایہ جاتی منافعوں میں سے وجود میں آتے ہیں جو کاروبار کی حسب معمول عملی سرگرمیوں سے نہیں نکالے جاتے اور ڈیویڈینڈ کے طور پر تقسیم کے لیے موجود نہیں ہوتے۔ لیکن محاصلی منافع سرمایہ جاتی محفوظ کی تخلیق کے لیے استعمال میں لائے جاسکتے ہیں۔
- مقصد (Purpose) : محاصلی محفوظ مالی حالت کو مضبوط بنانے، غیر متوقع حالات سے نمٹنے یا کچھ مخصوص مقاصد کے لیے وجود میں لایا جاتا ہے۔ جبکہ سرمایہ جاتی محفوظ قانونی مطالبوں کی بجاآوری یا تجارتی حساب کتاب کے لیے وجود میں لائے جاتے ہیں۔
- استعمال (Usage): ایک مخصوص محاصلی محفوظ صرف متعین و مخصوص مقصد کے لیے ہی استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ عام محفوظ کسی بھی مقصد کے لیے استعمال میں لایا جاسکتا ہے جس میں ڈیویڈینڈ کی تقسیم بھی شامل ہے۔ سرمایہ جاتی محفوظ مروجّہ قانون میں فراہم شدہ مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، جیسے سرمایہ جاتی نقصانات کو قلم زد کرنا یا بونس شیئرز جاری کرنا۔
| سرمایہ جاتی محفوظ (Capital Reserve) | محاصلی محفوظ (Revenue Reserve) | فرق کی بنیاد (Basic of Difference) |
| اسے بنیادی طور پر سرمایہ جاتی منافعوں میں سے وجود میں لایا جاتا ہے جسے کاروبار کے حسب معمول عملی سرگرمیوں میں سے نہیں نکالا جاتا اور یہ ڈیویڈینڈ کی تقسیم کے لیے موجود نہیں ہوتا۔ لیکن محاصلی منافع اس مقصد کے لیے استعمال میں لائے جاتے ہیں۔ | اسے محاصلی منافعوں میں سے وجود میں لایا جاتا ہے جو کاروبار کی حسبِ معمول عملی سرگرمیوں میں سے نکالا جاتا ہے اور بصورت دیگر ڈیویڈینڈ کی تقسیم کے لیے موجود ہوتا ہے۔ | 1۔ تخلیق کا ذریعہ |
| اسے قانونی مطالبات کی بجاآوری کے لیے یا پھر تجارتی حساب کتاب کے مقصد سے وجود میں لایا جاتا ہے۔ | اسے مالی حالت کو مضبوط کرنے کے لیے وجود میں لایا جاتا ہے تاکہ غیر متوقع حالات سے نمٹا جاسکے یا پھر کسی خاص مقصد کے لیے۔ | 2۔ مقصد |
| اسے خاص مقاصد کے لیے ہی استعمال کیاجاسکتا ہے جو مروجہ قانون میں فراہم کیے گئے ہیں جیسے سرمایہ جاتی نقصانات کو قلم زد (Write Off) کرنا، بونس شیئرزجاری کرنا۔ | ایک مخصوص محاصلی محفوظ صرف متعین و مخصوص مقصد کے لیے ہی استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ عام محفوظ (General Reserve) کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے بشمول ڈیویڈینڈ کی تقسیم کے۔ | 3۔ استعمال |
7.12.4 محفوظات کی اہمیت (Importance of Reserves)
- مستقبل میں غیر متوقع صورت حالت سے نمٹنے کے لیے
- کاروبار کی عام مالی حالت کو مضبوط کرنے کے لیے
- کسی طویل المیعاد ذمہ داری کی تکمیل کے لیے جیسے ڈبینچر وغیرہ۔
7.13 مخفی محفوظ (Secret Reserve)
- اشیائے مندرجہ فہرست (Inventories)/ اسٹاک کی کم قیمت لگاکر (Undervaluation)
- سرمایہ جاتی اخراجات کو نفع و نقصان کھاتہ میں نکال کر کے
- مشکوک قرضوں کے لیے وافر بندوبست (Excessive Provision) کرکے
- اتفاقی / غیر متوقع واجبات کو اصل واجبات دکھا کر
اپنے فہم وادراک کی جانچ کیجیے-III
اس باب میں متعارف کرائی گئیں کلیدی اصطلاحات
- فرسودگی، قابل فرسودگی لاگت، اصل لاگت، مدت استعمال؛
- تقلیل از کار رفتگی، مستقل تقلیل قدر (Amortisation)؛
- حفاظتی قیمت (Salvage Value)/بچی کھچی قیمت (Residual Value)/ اسکریپ قیمت ؛
- قلم زدگی قدر (Writtend Down Value)/ بقایہ تقلیل قیمت/ گھٹتی ہوئی قیمت (Diminishing Value)؛
- خطِ مستقیم طریقہ (Straight Line Method)/ قائم قسط طریقہ (Fixed Installment Method)؛
- متروک اثاثہ کھاتہ (Asset Disposal Account)
- اثاثہ فروخت کھاتہ فرسودگی کھاتہ کے لیے بندوبست، محفوظ (Reserve)، بندوبست (Provision)، سرمایہ جاتی محفوظ (Capital Reserve)، محاصلی محفوظ (Revenue Reserve)، عام محفوظ (General Reserve)، مخصوص محفوظ (Specific Reserve)، مخفی محفوظ (Secret Reserve)، بندوبست برائے مشکوک قرضہ جات (Provision for Doubtful Debts)۔
- فرسودگی کا مفہوم: فرسودگی ایک محسوس قائم اثاثہ کی قدر و قیمت میں کمی ہونا ہے۔ کھاتہ داری میں فرسودگی ایک قائم اثاثہ کی قابل استعمال مدت پر قابلِ فرسودگی لاگت کے فراہم/ متعین کرنے کا ایک عمل ہے۔
- فرسودگی اور اس جیسی اصطلاحات: فرسودگی کی اصطلاح محسوس قائم اثاثوں کے ضمن میں استعمال کی جاتی ہے۔ تقلیل (Depletion) (کانوں کی صنعت کے ضمن میں) اور تقلیل قدر (غیر محسوس اثاثوں کے ضمن میں) دیگر متعلقہ اصطلاحات ہیں۔
فرسودگی پر اثرانداز ہونے والے عوامل:
- استعمال/وقت کے گزرنے کے سبب ٹوٹ پھوٹ
- قانونی حقوق کا اختتام
- ازکار رفتگی/متروک الاستعمال ہونا
3۔ فرسودگی کی اہمیت:
- فرسودگی کو حقیقی اور صاف منافع یا نقصان معلوم کرنے کے لیے نکالنا لازمی ہے۔
- فرسودگی ایک غیر نقدی کاروباری خرچ ہے۔
4۔ فرسودگی نکالنے کا طریقے :
- خط مستقیم طریقہ
- قلم زدگی قدر طریقہ
5۔ فرسودگی کی رقم پر اثرانداز ہونے والے عوامل:
- اصل لاگت
- حفاظتی قدر و قیمت
- اثاثہ کی قابل استعمال مدت
6۔ بندوبست اور محفوظ:
7۔ محفوظ کی قسمیں: محفوظ ہو سکتا ہے :
- عام محفوظ اور مخصوص محفوظ
- محاصلی محفوظ اور سرمایہ جاتی محفوظ
8۔ مخفی محفوظ:
مشقی سوالات
مختصر جوابی سوالات
- ’فرسودگی‘ کیا ہے؟
- فرسودگی فراہم کرنے کی ضرورت مختصراً بیان کیجیے۔
- فرسودگی کے کیا اسباب ہیں؟
- فرسودگی کی رقم پر اثر انداز ہونے والے بنیادی عوامل کی وضاحت کیجیے۔
- فرسودگی کا حساب نکالنے کے لیے خطِ مستقیم طریقہ اور قلم زدگی قدر طریقہ میں فرق واضح کیجیے۔
- ایک طویل المیعاد اثاثہ کی صورت میں مرمت کے اخراجات شروع کے سالوں کی بہ نسبت بعد کے سالوں میں بڑھتے ہیں۔ فرسودگی کا حساب نکالنے کے لیے کون سا طریقہ مناسب ہے اس وقت جب کہ مینجمینٹ فرسودگی اور مرمت کے تعلق سے نفع و نقصان کھاتہ کے بوجھ کو بڑھانا نہیں چاہتا۔
- نفع و نقصان کھاتہ اور بیلنس شیٹ پر فرسودگی کے کیا اثرات ہوتے ہیں؟
- بندوبست اور محفوظ کے مابین کیا فرق ہے؟
- ’بندوبست‘ اور ’محفوظ‘ میں ہر ایک سے چار چار مثالیں دیجیے۔
- ’محاصلی محفوظ‘ اور سرمایہ جاتی محفوظ، کے مابین کیا فرق ہے؟
- ’محاصلی محفوظ‘ اور سرمایہ جاتی محفوظ میں ہر ایک کی چار چار مثالیں دیجیے۔
- ’عام محفوظ‘ اور ’مخصوص محفوط‘ کے مابین فرق واضح کیجیے۔
- ’مخفی محفوظ‘ کے نظریہ کی وضاحت کیجیے۔
طویل جوابی سوالات
- فرسودگی کے نظریہ کی وضاحت کیجیے۔ فرسودگی کا حساب نکالنے کی کیا ضرورت ہے اور فرسودگی کے کیا اسباب ہیں؟
- فرسودگی کے خطِ مستقیم کے طریقے اور قلم زدگی قدر طریقے پر تفصیلی بحث کیجیے۔ دونوں کے مابین فرق واضح کیجیے نیزان حالات کو پیش کیجیے جن میں یہ مفید و مستعمل ہوتے ہیں۔
- فرسودگی ریکارڈ کرنے کے دو طریقوں کو بیان کیجیے نیز اس ضمن میں ضروری جرنل اندراجات پیش کیجیے۔
- فرسودگی کی رقم کے تعین کی وضاحت کیجیے۔
- مختلف قسم کے محفوظات کے نام لکھیے اور تفصیل سے وضاحت کیجیے۔
- ’بندوبست‘ کیا ہیں؟ انہیں کس طرح وجود میں لایا جاتا ہے؟ مشکوک قرضہ جات کے لیے بندوبست کی صورت میں حسابی عمل طریقہ کار کو پیش کیجیے۔
عددی سوالات:
- یکم اپریل 2010 کو بجرنگ ماربلس نے 1,80,000 روپے کی ایک مشین خریدی اور 10,000 روپے اس کے لانے لے جانے پر اور 10,000 روپے اس کی تنصیب پر خرچ کیے۔ یہ تخمینہ لگایا گیا کہ اس کی قابل استعمال مدت 10 سال ہے اور 10 سال بعد اس کی اسکریپ (Scrap) قیمت 20,000 روپے ہوگی۔
- �بیڈ ڈیبٹس وصول نہیں ہوئے مگر 2000 روپے کی رقم کے قرضے ریکارڈ نہیں کیے گئے۔
- قرض داروں کے بندوبست % 8رکھا جاتا ہے۔