Skip to content
Keemiyan II



8



بل آف ایکسچینج 

(Bill of Exchange)


سیکھنے کے مقاصد 

اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ اس قابل ہوں گے کہ
  • بل آف ایکسچینج اور اقراری نوٹ (Promissory Note) کے معنی بیان کر سکیں؛
  • بل آف ایکسچینج اور اقراری نوٹ میں فرق واضح کر سکیں؛
  • بل آف ایکسچینج کے فوائد بیان کر سکیں؛
  • لین دین بل میں استعمال ہونے والی مختلف اصطلاحات کے معنی کی وضاحت کر سکیں ۔
  • بل آف ایکسچینج سے متعلق لین دین کا جرنل میں اندراج کر سکیں؛
  • بل آف ایکسچینج کے مسترد (Dishonour)  ہونے قبل ازوقت ادائیگی ہونے، (Retirement) اور بل کی تجدید (Renewal) سے متعلق لین دین کا اندراج کر سکیں؛
  • بل قابل وصول اور بل قابل ادائیگی کتاب کے استعمال کو بتا سکیں۔
  • امدادی بل (Accomodation Bill) کے معنی اور استعمال بیان کر سکیں۔ 


اشیاء کی خریدوفروخت نقد بھی ہو سکتی ہے اور ادھار بھی۔ جب اشیاء کی خرید یا فروخت نقد ہوتی ہے تو ادائیگی فوراً ہو جاتی ہے اس کے برعکس اگر کوئی چیز ادھار خریدی یا فروخت کی جاتی ہے تو ادائیگی آئندہ کی کسی تاریخ تک کے لیے ملتوی کر دی جاتی ہے۔ اس صورت میں عام طور سے فرم مقرّرہ تاریخ پر رقم کی ادائیگی کے لیے فریق پر بھروسہ کرتی ہے لیکن کئی بار عدم ادائیگی یا ادائیگی میں تاخیر سے بچنے کے امکان سے دستاویز کا استعمال کیا جاتا ہے جس کے ذریعے خرید و فروخت کار کو یہ یقین دلاتا ہے کہ رقم کی ادائیگی طے کی گئی شرائط کے مطابق ہی کی جائے گی۔ ہندوستان میں اس اُدھار کے دستاویز (Instrument of Credit) کا استعمال بہت قدیم وقت سے ہوتا ہے جو ہُنڈی (Hundi) کے نام سے مشہور ہے۔ ’ہُنڈیاں ہندوستانی زبانوں میں لکھی جاتی ہیں اور کئی اقسام کی ہوتی ہیں (دیکھیے باکس 1)۔

باکس 1

ہُنڈیاں اور اس کی اقسام

ہمارے ملک میں کئی قسم کی ہُنڈیاں استعمال کی جاتی ہیں آئیے ان میں سے جو سب سے زیادہ عام ہیں ان پر بحث کریں۔
شاہجوگ ہُنڈی (Shahjog Hundi): یہ ہُنڈی ایک تاجر دوسرے تاجر کے ذریعے ادائیگی کے لیے لکھتا ہے جس میں موخر الذکر تاجر سے رقم کی ادائیگی شاہ کو کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ شاہ بازار کے ایک معتبر اور ذمّہ دار شخص کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ایک شاہجوگ ہنڈی ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہوتی ہوئی شاہ تک پہنچتی ہے جو ضروری معلومات کے بعد اسے اس کے منظور کنندہ کے پاس ادائیگی کے لیے پیش کرتا ہے۔
درشنی ہُنڈی (Darshani Hundi): یہ ہُنڈی دیکھتے ہی (At Sight) قابل ادا ہوتی ہے۔ یہ ہُنڈی حامل کو وصول ہونے پر مناسب مدّت میں ادائیگی کے لیے ضرور پیش کرنی ہوتی ہے۔ یہ ڈیمانڈ بل (Demand Bill) کے مشابہ ہوتی ہے۔ 
مدتی ہُنڈی (Muddati Hundi): یہ مدّتی یا معیاری ہُنڈی ایک مخصوص مدّت کے بعد قابل ادا ہوتی ہے۔ یہ ٹائم بل (Time Bill) کے مشابہ ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ کئی اور طرح کی ہُنڈیاں بھی ہوتی ہیں جیسے نام جوگ ہُنڈی، دھنی جوگ ہُنڈی، جوابی ہُنڈی، ہوکامی ہنڈی، فرمان جوگ ہُنڈی وغیرہ۔
آج کل ان اُدھار کے دستاویزوں کو بل آف ایکسچینج یا اقراری (Promissory Note) نوٹ کہا جاتا ہے۔ بل آف ایکسچینج ایک طے شدہ تاریخ پر ایک مقرّرہ رقم کی ادائیگی کا ایک غیر مشروط حکم ہے۔ جبکہ اقراری نوٹ (Promissory Note) ایک مقرّرہ تاریخ پر ایک مقرّرہ رقم کی ادائیگی کا غیر مشروط وعدہ ہے۔ 
ہندوستان میں یہ دستاویزات ہندوستانی تحویل پذیر دستاویزی قانون (Indian Negotiable Instruments Act) 1881 کے تحت آتی ہیں۔


8.1 بل آف ایکسچینج کے معنی (Meaning of Bill of Exchange)

تحویل پذیر دستاویزی قانون 1881 میں بل آف ایکسچینج کی تعریف اس طرح ہے کہ، ایک غیر مشروط تحریری حکم نامہ جو ایک شخص دوسرے شخص کے نام لکھتا ہے اور لکھنے والا اس ہدایت کے ساتھ اپنے دستخط بھی کرتا ہے کہ جس شخص کو یہ حکم نامہ دیا جارہا ہے وہ فلاں تاریخ کو اتنی رقم حامل حکم نامہ کو یا فلاں شخص کو یا پھر جس کے لیے فلاں شخص حکم کرے، ادا کردے۔ اس تعریف سے آف ایکسچینج کی مندرجہ ذیل خصوصیات ظاہر ہوتی ہیں۔
  • بل آف ایکسچینج تحریری ہوتا ہے۔
  • اس میں رقم کی ادائیگی کا حکم ہوتا ہے۔
  • اس میں رقم کی ادائیگی کا حکم غیر مشروط ہوتا ہے۔
  • اس میں بل آف ایکسچینج کے لکھنے والے کے دستحظ ہوتے ہیں۔
  • اس میں ادائیگی کی رقم مخصوص ہوتی ہے۔
  • اس میں ادائیگی کی رقم کی تاریخ بھی مقرر ہوتی ہے۔
  • بل آف ایکسچینج ایک مخصوص شخص کو قابلِ ادائیگی ہوتا ہے۔
  • بل آف ایکسچینج میں درج شدہ رقم یا تو طلب پر یا ایک مقرّرہ وقت کے خاتمے پر قابل ادا ہوتی ہے۔
  • قانون کے مطابق اس بل پر مُہر کا ہونا ضروری ہے۔
بل آف ایکسچینج عام طور سے لین دار (Creditor) کے اپنے دین دار (Debtor) کے لیے لکھتا ہے۔ یہ دین دار یا اس کی جانب سے کسی اور شخص کے ذریعے منظور کیا جاتا ہے۔ جب تک یہ منظور نہ کیا گیا ہو محض ایک ڈرافٹ ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر امت نے روہت کو 10,000 روپے کا مال تین ماہ کے لیے اُدھار بیچا۔ مقرّرہ تاریخ پر رقم کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے امت نے 10,000 روپے کا ایک بل آف ایکسچینج تین ماہ کی مدّت کا روہت پر لکھا۔ روہت کی منظوری سے پہلے یہ ڈرافٹ (Draft) کہلائے گا جب روہت اس پر لفظ ’’منظور‘‘ لکھ کر دستخط کرے گا اور منظوری کی اطلاع دے دے گا تبھی یہ بل آف ایکسچینج کہلائے گا۔

8.1.1 بل آف ایکسچینج کے فریق

(Parties to a Bill of Exchange) 

اس بل کے تین فریق ہوتے ہیں:
  1. مرتِّب (Drawer) بل کو بناتا ہے۔ فروخت کار یا لین دار جسے دین دار سے رقم وصول کرنی ہے، خریدار یا دین دار سے ادائیگی لینے کے لیے  بل بنا سکتا ہے۔ بل لکھنے کے بعد مرتّب بل پر بطور بنانے والے کے دستخط کرتا ہے۔
  2. مرتب الیہ (Drawee) وہ شخص ہوتا ہے جس پر بل بنایا یا لکھا گیا ہے مرتب الیہ سامان کا خریدار یا دین دار ہوتا ہے جس کی وجہ سے اُس پر بل لکھا جاتا ہے۔
  3. یابندہ (Payee) وہ شخص ہوتا ہے جس کو رقم وصول کرنی ہے۔ بل کا مرتب خود ہی یابندہ بھی ہوگا اگر وہ بل کو ادائیگی کی تاریخ تک اپنے پاس رکھتا ہے۔ یابندہ مندرجہ ذیل حالات میں بدل جاتا ہے۔
(a) اگر مرتب بل کو بینک سے بُھنا لیتا ہے تو جس بینک سے بل بھُنایا گیا ہے وہ یابندہ ہوگا۔
(b) اگر مرتب نے بل کا بیچان (Endorsement of Bill) اپنے کسی لین دار کے حق میں کر دیا تو لین دار یابندہ بن جائے گا۔
عام طور پر مرتب اور یابندہ ایک ہی شخص ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ممتا نے جیوتی کو 10,000 روپے کا مال بیچا اور ایک بل اس رقم کا تین ماہ کی مدّت کا لکھا۔ یہاں ممتا بل کی مرتب ہے اور جیوتی مرتب الیہ اگر ممتا بل کو تین ماہ تک اپنے پاس رکھتی ہے اور ادائیگی کی تاریخ پر 10,000 روپے وصول کرتی ہے تو ممتا یابندہ کہلائے گی۔ اگر ممتا اس بل کا بیچان اپنی لین دار روچی کو کر دیتی ہے تو روچی یابندہ کہلائے گی۔ اگر ممتا بل کو بینک سے بھُنا لیتی ہے تو بینکر (Banker) یابندہ کہلائیں گے۔
مندرجہ بالا بل میں ممتا مرتب ہے اور جیوتی مرتب الیہ چونکہ جیوتی نے بل کو منظور کیا ہے اس لیے جیوتی منظور کنندہ (Acceptor) ہے۔ مان لیں جیوتی کی جگہ اگر بل اشوک نے منظور کیا ہے تو اشوک منظور کنندہ کہلائے گا۔

اپنے فہم کی جانچ کریں -I

نیچے دیے گئے بل آف ایکسچینج سے متعلق بیانات کے آگے صحیح یا غلط لکھیں:
(i) ایک بل آف ایکسچینج یابندہ منظور کرتا ہے۔
(ii) ایک بل آف ایکسچینج لین دار بناتا یا لکھتا ہے۔
(iii) ایک بل آف ایکسچینج سبھی نقد لین دینوں کے لیے بنایا جاتا ہے۔
(iv) عندالطلب (On Demand) قابل ادائیگی بل وقتی بل کہلاتا ہے۔
(v) بل آف ایکسچینج میں جس شخص کو رقم کی ادائیگی کی جاتی ہے وہ یابندہ کہلاتا ہے۔
(vi) ایک تحویل پذیر دستاویز (Negotiable Instrument) پر اُس کے بنانے والے کے دستخط کی ضرورت نہیں ہوتی۔
(vii) معجّل یا دیکھتے ہی واجب الادا ہُنڈی کو درشنی ہُنڈی کہتے ہیں۔
(viii) ایک تحویل پذیر دستاویز کی منتقلی آزادانہ نہیں ہوتی۔
(ix) اقراری نوٹ (Promissory Note) پر مہر لگانا ضروری نہیں ہے۔
(x) تحویل پذیر دستاویز کی ادائیگی کی تاریخ مقرّر نہیں ہوتی۔


8.2  اقراری نوٹ (Promissory Note)

تحویل پذیر دستاویزی قانون 1881 کے تحت اقراری نوٹ کی تعریف اس طرح ہے ’’ ایک تحریری دستاویز (بینک نوٹ یا کرنسی نوٹ نہیں) ہے جس کو لکھنے والا اس پر دستخط کرتا ہے اور غیر مشروط طور پر ایک متعینہ رقم کسی شخص کو یا اس کے حکم کے مطابق کسی دوسرے شخص کو یا اُس شخص کو جو اس اقراری نوٹ کو پیش کر دینے کا وعدہ کرتا ہے۔‘‘ ریزرو بینک آف انڈیا کے قانون (Reserve Bank of India Act) کے تحت ایک اقراری نوٹ حامل (Bearer) کو قابلِ ادا ہونا غیر قانونی ہے اس لیے ایک اقراری نوٹ کسی بھی حامل کو قابل ادا نہیں ہو سکتا۔
اس تعریف کے مطابق جب ایک شخص ایک غیر مشروط تحریری و عدہ کسی متعین شخص یا اس کے حکم کے مطابق کسی دوسرے شخص کو ایک متعینہ رقم کی ادائیگی کے لیے کرتا ہے تو ایسے دستاویز کو اقراری نوٹ کہتے ہیں۔
مندرجہ بالا تعریف سے اقراری نوٹ کی مندرجہ ذیل خصوصیات ظاہر ہوتی ہیں:
  • یہ تحریری ہوتا ہے۔
  • اس میں رقم کی ادائیگی کا غیر مشروط وعدہ ہوتا ہے۔
  • اس میں ادا کی جانے والی رقم متعین ہوتی ہے۔
  • اس پر بنانے والے کے دستخط ہوتے ہیں۔
  • اس میں بنانے والے کے دستخط ضروری ہوتے ہیں۔
  • یہ ایک متعین شخص کو قابلِ ادا ہوتا ہے۔
  • اس پر مہر لگی ہونی چاہئے۔
ایک اقراری نوٹ کو کسی کی منظور کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ اس کا بنانے والا خود اقراری نوٹ کی رقم ادا کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔

8.2.1   اقراری نوٹ کے فریق

(Parties to a Promissory Note)

اقراری نوٹ کے دو فریق ہوتے ہیں:
  • بنانے والا یا مرتّب (Drawer or Maker) وہ شخص ہوتا یہ جو اقراری نوٹ بناتا یا لکھتا ہے اور اقراری نوٹ میں لکھی ہوئی معینہ رقم ادا کرتا ہے اسے وعدہ کرنے والا (Promisor) بھی کہتے ہیں۔
  • مرتّب الیہ یا یابندہ (Drawee or Payee) وہ شخص ہوتا ہے جس کے حق میں اقراری نوٹ لکھا جاتا ہے۔ اسے موعودلہ (Promisee) کہتے ہیں۔ عام طور سے مرتب الیہ یابندہ بھی ہوتا ہے بشرطیکہ یہ اقراری نوٹ میں لکھا ہو۔
اقراری نوٹ کے نمونے (دیکھیے شکل 8.2)۔ اشوک کمار اقراری نوٹ کا مرتب یا بنانے والا ہے جو 30,000 روپے دینے کا وعدہ کرتا ہے اور ہریش چندر مرتب الیہ یا یابندہ ہے جسے رقم کی ادائیگی کی جانی ہے۔ اگر ہریش اس اقراری نوٹ کا بیچان روہت کے حق میں کرتا ہے تو روہت یابندہ کہلائے گا۔ اسی طرح اگر ہریش چندر اس اقراری نوٹ کو بینک سے بھُنا لیتا ہے تو بینک یابندہ کہلائے گا۔

باکس 2

بل آف ایکسچینج اور اقراری نوٹ میں فرق

بل آف ایکسچینج اور اقراری نوٹ دونوں ہی اُدھار کے دستاویز ہیں اور کئی طرح سے ایک دوسرے کے مشابہ ہیں پھر بھی ان دونوں میں کچھ بنیادی فرق ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں۔


نمبر شمار بُنیاد (Basis) بل آف ایکسچینج اقراری نوٹ
مرتب  یہ لین دار کے ذریعے لکھا جاتا ہے یہ دین دار کے ذریعے لکھا جاتا ہے
حکم یا وعدہ اور فریق اس میں رقم کی ادائیگی کا حکم ہوتا ہے۔ اس میں تین فریق ہوسکتے ہیں۔ مرتب، مرتب الیہ اور یابندہ۔ اس میں رقم کی ادائیگی کا وعدہ ہوتا ہے۔ اس میں دو فریق ہوتے ہیں مرتب اور یابندہ۔
منظوری اس میں مرتب الیہ یا اس کی طرف سے کسی اور شخص کی منظوری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں کسی منظوری کی ضرورت نہیں ہوتی۔
یابندہ مرتب اور یابندہ ایک ہی فریق ہو سکتے ہیں۔ نوٹ کا مرتب اس کا یابندہ نہیں ہو سکتا۔
نوٹس یا اطلاع بل کے مسترد ہونے کی صورت میں بل کا حامل اس کے مسترد ہونے کی اطلاع مرتب کر دیتا ہے۔ اس میں مسترد ہونے کی اطلاع دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

شکل 8.3 :  بل آف ایکسچینج اور اقراری نوٹ میں فرق


8.3 بل آف ایکسچینج کے فوائد (Advantages of Bill of Exchange)

بل آف ایکسچینج کاروبار میں اُدھار کے دستاویز کے طور پر مندرجہ ذیل فوائد کی وجہ سے بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔
  • تعلقات کا ماحول (Framework for Relationship): بل آف ایکسچینج ایک ایسا طریقہ پیش کرتا ہے جس کی وجہ سے فروخت کار یا لین دار اور خریدار یا دین دار کے بیچ اُدھار لین دین پر کاروبار کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
  • شرائط اور پابندیوں کا تیقن (Certainty of Terms and Conditions): لین دار جانتا ہے کہ کس وقت اسے رقم حاصل ہوگی اور دین دار مکمل طور پر اس تاریخ سے باخبر ہوتا ہے جس وقت اسے رقم ادا کرنی ہے۔ یہ اس حقیقت کے سبب ہے کہ بل آف ایکسچینج میں دین دار اور لین دار کے درمیان تمام شرائط پابندیاں تحریری ہوتی ہیں جیسے ادا کی جانے والی رقم، ادائیگی کی تاریخ، ادا کیے جانے والا سود، (اگر ہو) اور  ادائیگی کی جگہ وغیرہ۔
  • اُدھار کا سہل ذریعہ (Convenient means of credit): بل آف ایکسچینج خریدار کو یہ آسانی فراہم کرتا ہے کہ وہ اُدھار مال خرید کر اس کی رقم کی ادائیگی اُدھار کی مدت ختم ہونے کے بعد کرے جبکہ مال کے فروخت کار کو اُدھار کی طویل مدّت ہونے کے باوجود رقم فوراً یا تو بل کو بینک سے بھُناکر یا پھر اس کا بیچان کسی تیسرے فریق کے حق میں کر کے مل جاتی ہے۔
  • قطی ثبوت (Conclusive Proof): بل آف ایکسچینج اُدھار کے لین دین کا ایک قانونی ثبوت ہے جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ تجارتی عمل کے دوران خریدار نے فروخت کار سے اُدھار سامان حاصل کیا ہے۔ اس لیے اسے فروخت کار کو رقم کی ادائیگی کرنی ہوگی۔ رقم کی ادائیگی سے انکار کی صورت میں قانونی طور پر لین دار کو ناظر (Notary) سے ایک سر ٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوتا ہے جو کہ واقعہ کا ثبوت ہوتا ہے۔
  • آسان منتقلی (Easy Transferability): قرض کی ادائیگی بل آف ایکسچینج کے بیچان اور سپردگی کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔

8.4  بل کی تکمیل مدّت یا پختگی (Maturity of Bill)

تکمیل مدّت یا پختگی لفظ سے مراد اُس تاریخ سے ہے جس تاریخ کو بل آف ایکسچینج یا اقراری نوٹ کی رقم کی ادائیگی کی جانی ہے۔ بل کی واجب الاداتاریخ یا ادائیگی کی تاریخ (Maturity Date) نکالنے کے لیے جس تاریخ کو اُدھار کی مدّت ختم ہوتی ہے اس میں تین دن جنہیں رعایت کے دن کہتے ہیں، جوڑ دیے جاتے ہیں، اور پھر اُسی تاریخ پر دستاویز قابلِ ادا ہوتی ہے۔ اس لیے اگر ایک بل 05 مارچ کو لکھا جاتا ہے جو 30 دن کے بعد قابلِ ادا ہونا ہے تو اس کی ادائیگی کی تاریخ 07 اپریل ہوگی یعنی 5 مارچ سے 33 دن۔ اگر ادائیگی کی مدّت ایک ماہ ہے تو ادائیگی کی تاریخ 08 اپریل ہوگی یعنی 05 مارچ سے ایک ماہ اور تین دن جبکہ اگر ادائیگی کے دن عوامی چھٹّی ہے تو بل کی ادائیگی آخری رعایتی دن سے پہلے کے کاروباری دن میں ہوگی۔ اوپر کی مثال کے مطابق اگر 08 اپریل کو عام چھٹّی ہے تو ادائیگی کی تاریخ 07 اپریل ہوگی۔ تحویل پذیر دستاویزی قانون 1881 کے تحت اگر حکومت ہندنے کسی ایسے دن کی ہنگامی چھٹی کا اعلان کر دیا ہے جو کہ ادائیگی کی تاریخ ہے تو ایسی صورت میں چھٹی کے بعد کا اگلا کاروباری دن ادائیگی کی تاریخ کا دن مانا جائے گا۔ مثلاً گُپتا نے 20,000 روپے کا ایک بل ورما پر لکھا جس کی ادائیگی کی تاریخ 08 اپریل ہے اور حکومت نے 08 اپریل کی چھٹی کا اعلان کر دیا، اب چونکہ 08 اپریل کی چھٹّی ہے تو تحویل پذیر دستاویزی قانون کے تحت اس بل کی ادائیگی کی تاریخ 09 اپریل ہوگی۔

8.5  بل کو بھُنانا (Discounting of Bill)

اگر بل کے حامل کو پیسے کی ضرورت ہے تو وہ ادائیگی کی تاریخ سے پہلے بھی بینک پہنچ کر بل کے بدلے نقد حاصل کر سکتا ہے۔ اس صورت میں بینک کچھ سود (اس حالت میں کٹوتی (Discount) کہا جاتا ہے) کاٹ کر بل کی ادائیگی کر دے گا۔ بینک سے بل کے بدلے نقد حاصل (Encashing) کرنے کے عمل بل کا بھُنانا کہتے ہیں۔ بینک مرتب الیہ سے ادائیگی کی تاریخ پر رقم وصول کر لیتا ہے۔

8.6  بل کا بیچان (Endorsement of Bill)

کوئی بھی حامل (Holder) بل کو منتقل کر سکتا ہے تاوقتیکہ اس کی منتقلی پر پابندی عائد نہ کی گئی ہو یعنی بل کو اس کی منتقلی کی ممانعت کے الفاظ کے ساتھ سکارا (Negotiated) گیا ہے۔ مرتب بل کو بآسانی بل کے پیچھے اپنے دستخط کر کے اور بیچان کیے جانے والے کا نام لکھ کر بل کو منتقل کر سکتا ہے۔ اس طرح بل پر دستخط کرنے اور منتقل کرنے کا عمل بیچان کہلاتا ہے۔

8.7 کھاتہ داری کا عمل (Accounting Treatment)

وہ شخص جو بل کو لکھتا ہے اور بل پھر منظوری کے بعد اس کے پاس واپس آجاتا ہے تو یہ بل اُس شخص کے لیے قابل وصول بل (Bills Receivable) ہے۔ وہ شخص جو اس بل کو منظور کرتا ہے اُس کے لیے وہ قابل ادا بل (Bill Payable) ہے۔ اقراری نوٹ کی صورت میں بل لکھنے والے کے لیے یہ بل قابلِ ادا ہے جبکہ جس کے حق میں یہ اقراری بنایا گیا ہے اس کے لیے یہ بل قابل وصول ہے۔ قابلِ وصول بل اثاثہ ہے جبکہ بل قابلِ ادا دین داری۔ بل اور نوٹ کا استعمال ادل بدل کر ہوتا ہے۔

8.7.1  مرتب یا وعدہ کرنے والے کی کتابوں میں

    (In the Books of Drawer/ Promissor)
ایک قابلِ وصول بل کو وصول کرنے والا چار طرح سے استعمال کر سکتا ہے :
وہ بل کو ادائیگی کی تاریخ تک اپنے پاس رکھ سکتا ہے اور 
(a) ادائیگی کی تاریخ پر براہ راست جاکررقم وصول کر لیتا ہے، یا
(b) اپنے بینکر کے ذریعے رقم وصول کرتا ہے۔
وہ بل کو بینک سے بھُنا سکتا ہے۔
وہ بل کا بیچان اپنے کسی لین دار (Creditor) کے حق میں کر سکتا ہے۔
مرتب یا بل وصول کرنے والے کی کتابوں میں اوپر دی گئی چاروں متبادل صورتوں کے کھاتے داری کا عمل نیچے دیا گیا ہے یہ مانتے ہوئے کہ بل کی ادائیگی منظور کنندہ نے ادائیگی کی تاریخ پرکردی ہے۔
(1) جب مرتب بل کو ادائیگی کی تاریخ تک اپنے پاس رکھتا ہے۔
بل وصول کرنے پر
Bills Receivable A/c Dr.
To Debtors A/c
بل کی مدت تکمیل پوری ہونے پر 
Cash/Bank A/c Dr.
To Bills Receivable A/c
جب مرتب بل کو اپنے پاس رکھتا ہے اور ادائیگی کی تاریخ سے کچھ دن پہلے بینک میں جمع کے لیے بھیج دیتا ہے تو ایسی صورت میں مندرجہ ذیل دو اندراجات کئے جاتے ہیں:
بل جمع کے لیے بھیجنے پر
Bills Sent for Collection A/c Dr.
To Bills Receivable A/c
بینک سے اطلاع ملنے پر کہ بل جمع یا وصول کر لیا گیا ہے۔
Bank A/c Dr.
To Bills Sent for Collection A/c
(2) مرتب یا وصول کرنے والا جب بل کو بینک سے بھُنالیتا ہے:
بل وصول ہونے پر
Bills Receivable A/c Dr.
To Debtors A/c
بل کو بُھنانے پر
Bank A/c Dr.
Discount A/c Dr.
To Bills Receivable A/c
واجب الادا ہونے کی تاریخ پر (On Maturity)
کوئی اندراج نہیں ہوتا کیونکہ بل اب بینک کی ملکیت ہے اس لیے بینک بل کی رقم کو منظور کنندہ سے وصول کرتا ہے اور مرتب کی کتابوں کے جرنل میں کوئی اندراج نہیں ہوتا۔
(3) جب بل کا وصول کرنے والا بل کا بیچان اپنے لین دار کے حق میں کر دیتا ہے :
بل وصول ہونے پر 
Bills Receivable A/c Dr.
To Debtor’s A/c
بل کا بیچان کرنے پر
Creditor’s A/c Dr.
To Bills Receivable A/c

واجب الادا ہونے کی تاریخ پر 

کوئی اندراج نہیں ہوتا کیونکہ بل لین دار کے حق میں منتقل کیا جا چکا ہے اس لیے اب لین دار بل کا مالک ہے اور ادائیگی کی تاریخ پر وہی رقم وصول کرے گا۔ اس لیے مرتب یا بیچان کرنے والے کی کتابوں میں کوئی اندراج نہیں ہوگا۔

8.7.2 منظور کنندہ کی کتابوں میں

(In the Books of Acceptor/Promissor)

منظور کنندہ کی کتابوں میں سبھی چاروں متبادل صورتوں میں مندرجہ ذیل جرنل اندراجات کی جائیں گی۔ چاہے بل کو اپنے پاس رکھا گیا ہو، بھُنا لیا گیا ہو یا بیچان کر دیا گیا۔
بل منظور کرنے پر
Creditor’s A/c Dr.
To Bills Payable A/c
بل کے واجب الادا ہونے کی تاریخ پر (On Maturity of the Bill)
Bills Payable A/c Dr.
To Bank A/c

باکس 3



جب مرتب بل کو ادائیگی کی تاریخ تک اپنے پاس رکھتا ہے اور ادائیگی کی تاریخ پر براہِ راست بل کی رقم وصول کر لیتا ہے۔


لین دین مرتب یا لین دار کی کتابیں منظور کنندہ یا دین دار کی کتابیں
اشیا کی فروخت/خریداری Debtor’s A/c Dr.
To Sales A/c
Purchases A/c           Dr.
To Creditor’s A/c
بل کے وصول یابی /منظوری پر Bills Receivable A/c Dr.
 To Debtor’s A/c
Creditor’s A/c Dr.
To Bills Payable A/c
بل کے جمع کرنے پر Cash/Bank A/c Dr.
To Bills Receivable A/c
Bills Payable A/c Dr.
To Cash/Bank A/c

جب مرتب بل کو اپنے پاس رکھتا ہے اورادائیگی کی تاریخ سے کچھ دن پہلے وہ بینک میں جمع کرنے بھیج دیتا ہے


لین دین مرتب یا لین دار کی کتابیں منظور کنندہ یا دین دار کی کتابیں
اشیاء کی فروخت /خریدار Debtor’s A/c Dr.
 To Sales A/c
.Purchases A/c Dr
To Creditor’s A/c
بل کے وصول کرنے / منظور کرنے پر .Bills Receivable A/c Dr
To Debtor’s A/c
.Creditor’s A/c  Dr
To Bills Payable A/c
بل جمع کرنے کے لیے بھیجنے پر .Bills sent for collection A/c Dr
 To Bill Receivable A/c
No entry
بینک سے اطلاع ملنے پر کہ بل جمع ہو چکا ہے .Bank A/c     Dr
To Bill Sent for
 Collection A/c
.Bills Payable A/c Dr
To Bank A/c


جب مرتب بل کو بینک سے بھُنا لیتا ہے

لین دین مرتب یا لین دار کی کتابیں منظور کنندہ یا دین دار کی کتابیں
اشیائی کی فروخت/ خریداری پر .Debtor’s A/c Dr
To Sales A/c
.Purchases A/c       Dr
To Creditor’s A/c
بل کے وصول کرنے / منظور کرنے پر .Bills Receivable A/c Dr
To Debtor’s A/c
.Creditor’s A/c Dr
To Bills payable A/c
بل کے بھُنانے پر .Bank A/c Dr. Discount A/c Dr
To Bills Receivable A/c
No Entry
ادائیگی کی تاریخ پر No entry .Bills payable A/c      Dr
 To Bank A/c

جب مرتب بل کا بیچان اپنے کسی لین دار کے حق میں کر دیتا ہے۔

لین دین مرتب یا لین دار کی کتابیں منظور کنندہ یا دین دار کی کتابیں
اشیاء کی فروخت/خریداری پر .Debtor’s A/c Dr
To Sales A/c
.Purchase A/c       Dr
To Creditor’s A/c
بل کے وصول کرنے / منظور کرنے پر .Bills Receivable A/c Dr.
To Debtor’s A/c
.Creditor’s A/c Dr 
To Bills payable A/c
بل کے بیچان پر .Creditor’s A/c Dr
To Bills Receivable A/c
No entry
بل کی ادائیگی کی تاریخ پر تکمیل مدت (Maturety) No entry .Bills payable A/c Dr
 To Bank A/c


چاروں متبادل صورتوں میں مرتب اور منظور کنندہ کی کتابوں میں کی جانے والی جرنل اندراجات اوپر دی گئی ہیں۔

مثال 1

1 جنوری 2017 کو امِت نے سمت کو 20,000 روپے کا مال اُدھار بیچا۔ امت نے ایک بل اس رقم کا سمت پر تین ماہ کی مدّت کا لکھا۔ سمت نے بل منظور کرکے امت کو واپس کر دیا۔ ادائیگی کی تاریخ پر امت نے اپنی منظوری دیدی۔ 
مندرجہ ذیل صورتوں میں جنرل اندراجات کریں۔
(i) امت نے ادائیگی کی تاریخ تک بل کو اپنے پاس رکھا اور پھر براہِ راست رقم وصول کی۔
(ii) امت نے بل کو بینک سے 12% سالانہ کی در سے بھُنالیا۔
(iii) امت نے بل کا بیچان اپنے لین دار انکِت کے حق میں کر دیا
(iv) امت نے 31، مارچ 2017 تک بل اپنے پاس رکھ کر اُسے بینک میں جمع کے لیے بھیج دیا اور 05، اپریل 2017 کو بینک سے اطلاع موصول ہوئی۔

حل

امت کی کتابیں

جرنل 
(i) جب بل ادائیگی کی تاریخ (Maturity) تک روکا جاتا ہے۔

جمع رقم  نام رقم  L.F تفصیلات تاریخ
20،000 20,000 Dr.
Sumit's A/c
 To Sales A/c
 (سمِت کو اُدھار مال فروخت)
2017
01 جنوری 
20,000 20,000 Dr. 
Bills Receivable A/c
To Sumit’s A/c 
(تین ماہ کے لیے مدّت کی سمت کی منظوری ملی)
01 جنوری 
20,000 20,000 Dr. 
Bank A/c
To Bills Receivable A/c 
(سمت سے ادائیگی کی تاریخ پر رقم)
05 اپریل
(ii) جب بل کو ادائیگی کی تاریخ تک مرتب اپنے پاس رکھتا ہے۔

جرنل 


جمع رقم  نام رقم  L.F تفصیلات تاریخ
20,000 20,000
Dr. 
Sumit's A/c
بکری کھاتہ 
(سمِت کو اُدھار مال فروخت)
2017
01 جنوری
20,000 19,400
Dr. 
Bills Receivable A/c
To Sumit’s A/c
 (سمت سے تین ماہ کی منظوری ملی)
01 جنوری
20,000 600 .Bank A/c Dr
 چھوٹ (رعایت) کھاتہ
Dr. To Bil Recivable A/c (سمت کی منظوری کو بینک سے بھُنالیا)
01 جنوری
(iii) جب امت بل کا بیچان اپنے لین دار انکت کے حق میں کر دیتا ہے۔

جرنل 


جمع رقم  نام رقم  L.F تفصیلات تاریخ
20,000 20,000                          Dr.                                   سمت کھاتہ
 To Sales A/c 
(سمِت کو اُدھار مال بیچا)
2017 
01 جنوری 
20,000 20,000             Dr.                                                     
Bills Receivable A/c
 To Sumit’s A/c
(سمت سے تین ماہ کی منظوری ملی)
01 جنوری 
20,000 20,000             Dr.                                                                          انکت کھاتہ
To Bil Recivable A/c 
(سمت کی منظوری کا بیچان انکت کے حق میں ہوا)
01 جنوری 
(iv) جب امِت بل کو بینک میں جمع ہونے کے لیے بھیج دیتا ہے

جرنل 


جمع رقم  نام رقم  L.F تفصیلات تاریخ
20,000 20,000 Dr.                    
                  Sumit’s A/c
To Sales A/c
 (سمِت کو اُدھار مال بیچا)
2017
01 جنوری
20,000 20,000
Dr.
Bills Receivable A/c  
 To Sumit’s A/c
(سمت سے تین ماہ کی منظوری ملی)
01 جنوری 
20,000 20,000
Dr.
Bills Sent for Collection A/c
 To Bil Recivable A/c 
(بل جمع ہونے بھیج دیا)
31 مارچ 
20,000 20,000
Dr. 
Bank A/c
To Bills sent for collection A/c
 (بل بینک کے ذریعے جمع کر لیا گیا)
05 اپریل 
سُمِت کی کتابوں میں ان سبھی چار صورتوں میں مندرجہ ذیل جرنل اندراجات کی جائیں گی۔

سمت کی کتابوںمیں

جرنل


جمع رقم  نام رقم  L.F تفصیلات تاریخ
20,000 20,000
Dr.
Purchase A/c
 To Amit's A/c
(امِت سے اُدھار مال خریدا)
2017
01 جنوری
20,000 20,000
Dr. 
Amit's A/c
To Bills Payable A/c
 (امت کے بل کو تین ماہ کی منظوری دی)
01 جنوری
20,000 20,000
Dr. 
Bills Payable A/c
To Bank A/c
 (تکمیل مدت پر رقم ادا کی)
04 اپریل


مثال 2

15، مارچ 2006 کو رمیش نے 8000 روپے کا اُدھار مال دیپک کو بیچا، دیپک نے رمیش کا لکھا ہوا تین ماہ کی مدّت کا ایک بل منظور کیا۔ 15، اپریل کو رمیش نے اس بل کا بیچان اپنی لین دار پونم کے حق میں 8250 روپے کے قرضے بدلے مکمل حساب کے طور پر کر دیا۔ 15 مئی کو پونم نے 12% سالانہ در سے بینک سے بل بھنالیا۔ ادائیگی کی تاریخ پر دیپک نے بل کی رقم ادا کردی۔ رمیش، دیپک اور پونم کی کتابوں میں ضروری جرنل اندراجات کریں۔

رمیش کی کتابیں

جرنل


جمع رقم  نام رقم  کھاتہ نمبر تفصیلات تاریخ
8,000 8,000
Dr.
دیپک کھاتہ
 بکری کھاتہ کو
(دیپک کو اُدھار مال بیچا)
2017
15 مارچ 
8,000 8,000
Dr.
Bills Receivable A/c
 To Deepak A/c
(دیپک کی منظوری تین ماہ کے لیے ملی)
15 مارچ 
8,000
250
8,250
Dr.
Poonam's A/c
 To Bills Receivable A/c
To Discount Received A/c (پونم کو بل کا بیچان 8250 روپے کے قرض کے مکمل حساب کے طور پر کیا گیا)
15 مارچ 

دیپک کی کتابیں

جرنل


جمع رقم  نام رقم  کھاتہ نمبر  تفصیلات تاریخ
8,000 8,000 Dr.
Purchases A/c
 To Ramesh A/c
 (رمیش سے اُدھار مال خریدا)
2017
05 مارچ
8,000 8,000 Dr.
To Ramesh's A/c
To Bills Payable A/c
 (رمیش کے لکھے بل کو تین ماہ کی منظوری دی)
05 مارچ 
8,000 8,000 Dr.
Bills Payable A/c
 To Bank A/c
 (ادائیگی کی تاریخ پر رقم ادا کی)
18 جون

پونم کی کتابیں

جرنل


جمع رقم  نام رقم  کھاتہ نمبر تفصیلات تاریخ
82,500 82,500
250
Dr.
Bills Receivable A/c
 Discount Allowed A/c Dr. 

To Ramesh's A/c 
(رمیش نے دیپک کی منظوری کا بیچان ہمارے حق میں کیا جو 8250 روپے کی ادائیگی تھی مکمل حساب کے طور پر)
2017 
15 مارچ
8,000 7,920
80
Bank A/c
Dr. Discount Allowd A/c Dr.
 To Deepak A/c 
(بل کو بینک سے بھُنا لیا گیا)
15 مارچ

8.8  بل کا استرداد/ناقابل ادائیگی ہونا (Dishonour of a Bill)

جب مرتب الیہ (Drawee) ادائیگی کی تاریخ پر بل کی رقم ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اُسے بل کا استرداد (Dishonour) ہو جانا کہتے ہیں۔ ایسی صورت میں منظور کنندہ کی دین داری پہلے جیسی بنی رہتی ہے۔ اس لیے بل وصول کرنے کی اُلٹی انٹری یا اندراج کر دینا چاہئے۔ مثلاً انجو کو منجو سے منظور کیا ہوا بل وصول ہوا جو کہ مسترد ہو گیا۔ استرداد کے ان اندراجات کو انجو (وصول کنندہ) کی کتابوں میں مندرجہ ذیل طریقے سے دکھائیں گے۔
جب انجو بل کو ادائیگی کی تاریخ (Maturity) تک اپنے پاس رکھتی ہے
Manju’s A/c Dr.
To Bill Receivables A/c
جب انجو بل کا بیچان سندھیا کے حق میں کر دیتی ہے
Manju’s A/c Dr.
To Sandhaya’s A/c
جب انجو بل کو بینک سے بھُنا لیتی ہے
Manju’s A/c Dr.
To Bank A/c
جب انجو بل کو بینک میں جمع ہونے کے لیے بھیج دیتی ہے
Manju’s A/c Dr.
To Bill Sent for Collection A/c

مثال 3

01، جنوری 2006 کو شیبا نے وشال کو 10,000 روپے کا مال بیچا اور اُس پر ایک بل آف ایکسچینج دو ماہ کی مدّت کا لکھا۔ وشال نے بل منظور کیا اور شیبا کو واپس کر دیا۔ ادائیگی کی تاریخ پر وشال کے ذریعے بل ناقابل ادا ہو گیا۔ نیچے دی ہوئی سبھی صورتوں کا اندراج شیبا اور وشال کی کتابوں میں کرو:
(i) جب شیبا بل کو ادائیگی کی تاریخ تک اپنے پاس رکھتی ہے؛
(ii) جب شیبا بل کو 200 روپے کی کٹوتی پر بھُنا لیتی ہے؛
(iii) جب شیبا بل کا بیچان لال چند کو کر دیتی ہے۔

حل

(i) جب شیبا نے بل کو ادائیگی کی تاریخ تک اپنے پاس رکھا۔

شیبا کی کتابیں

جرنل


جمع رقم  نام رقم  کھاتہ نمبر تفصیلات تاریخ
10,000 10,000 Dr. 
Vishal's A/c
To Ramesh's A/c
 (وشال کو اُدھار مال بیچا)
2017
01 جنوری
10,000 10,000
Dr.                                                                   
Bills Receivable A/c
To Vishal's A/c
(وشال کی منظوری ملی)
01 جنوری 
10,000 10,000
Dr.                                                                    
Vishal's A/c
 To Bills Receivable A/c
(وشال نے اپنی منظوری کومسترد کیا)
04 مارچ
(ii) جب شیبا نے بل کو بھُنا لیا

جرنل



جمع رقم  نام رقم  کھاتہ نمبر تفصیلات تاریخ
10,000 10,000 Dr.
Vishal's A/c
 To Sales A/c
(وشال کو مال بیچا)
2017
01 جنوری 
10,000 10,000 Dr. 
Bills Receivable A/c
To Vishal's A/c
(وشال کی منظوری ملی)
01 جنوری 
10,000 9,800
200
Dr.
Bank A/c
 Discount A/c To Bills Receivable A/c
(بل کو بینک سے بھُنا لیا)
01 جنوری 
10,000 10,000 Dr.
Vishal's A/c
 To Bank A/c
(وشال نے اپنی منظوری کو مسترد کیا)
04 مارچ
(ii) جب شیبا نے بل کا بیچان لال چند کو کر دیا

جرنل


جمع رقم  نام رقم  کھاتہ نمبر تفصیلات تاریخ
10,000 10,000 Dr.
Vishal's A/c
 To Sales A/c
 (وشال کو مال بیچا)
2017 
01 جنوری 
10,000 10,000 Dr.
Bills Receivable A/c
 To Vishal's A/c
(وشال کی منظوری ملی)
01 جنوری 
10,000 10,000 Dr. 
Lal Chand's A/c
To Bills Receivable A/c
(وشال کی منظوری کا بیچان لال چند کو کیا)
01 جنوری 
10,000 10,000 Dr.
Vishal's A/c
 To Lal Chand's A/c
 (بیچان کیے ہوئے بل کو وشال نے مسترد کیا)
04 مارچ

جبکہ وشال کی کتابوں میں مندرجہ ذیل اندراجات کیے جائیں گے۔

وشال کی کتابیں (جرنل)


جمع رقم  نام رقم  L.F تفصیلات تاریخ
10,000 10,000 Dr.
Purchases A/c
 To Shieba's A/c
 (شیبا سے مال خریدا)
2017
01 جنوری 
10,000 10,000 Dr. 
Shieba's  A/c
to Bills Payable A/c
 (شیبا کے ڈرافٹ کو منظوری دی)
01 جنوری
10,000 10,000 Dr. 
Bills Payable A/c
To Shieba's A/c
 (شیبا کے حق میں دی گئی منظوری مسترد ہوئی)
04 مارچ 

8.8.1   ناظری اخراجات (Noting Charges)

بل آف ایکسچینج تکمیل مدت (Maturity) پر ادائیگی کے لیے ضرور پیش کیا جانا چاہئے۔ اگر ادائیگی کی تاریخ پر بل پیش نہ کیا جائے تو مرتب الیہ اپنی دین داری سے بری الذمّہ (Absolved) ہو جاتا ہے۔ بل کے صحیح طور پر پیش کرنے سے مراد یہ ہے کہ بل منظور کنندہ کو ادائیگی کی تاریخ پر کاروباری اوقات (Working hour) کے دوران ہی پیش کیا جانا چاہئے۔ بل صحیح طور پر پیش کیے جانے کے باوجود مسترد ہو گیا۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے اسے کسی عوامی ناظِر (Notary Public) کی تصدیق یا اس کی نوٹنگ (Noting) کی ضرورت ہوتی ہے۔ نوٹنگ سے ادائیگی نہ ہونے (Dishonour) کی تصدیق ہوتی ہے۔ اپنی اس خدمت کے بدلے عوامی ناظر کچھ فیس وصول کرتا ہے جسے ناظِری اخراجات (Noting Charges) کہتے ہیں۔

ناظر عام طور سے مندرجہ ذیل امور کی تصدیق کرتا ہے:

  • استرداد کی تاریخ، حقائق اور وجوہات؛
  • اگر بل واضح یا ظاہری طور پر مسترد نہیں ہوا تو وہ وجوہات جن کی بنا پر اُس نے بل کو مسترد مانا؛
  • ناظری اخراجات کی رقم

مرتب کی کتابوں میں ناظری اخراجات کے مندرجہ ذیل اندراجات ہوتے ہیں۔

جب مرتب ناظری اخراجات خود ادا کرتا ہے
Drawee’s A/c Dr.
To Cash A/c
جب بیچان پانے والا ادا کرتا ہے
Drawee’s A/c Dr.
To Endorsee A/c
جب بینک بھنائے گئے بل پر ادا کرتا ہے
Drawee’s  A/c Dr.
To Bank A/c
بل کو بینک میں جمع کے لیے بھیجے جانے کی صورت میں بینک ادا کرے
Drawee’s  A/c Dr.
To Bank A/c
یہاں یہ بات دھیان میں رکھنے کی ہے کہ ناظری اخراجات کوئی بھی ادا کرے، آخر کار یہ مرتب الیہ کو ہی برداشت کرنے ہوں گے۔ اسی لیے مرتب الیہ کو ہی مرتب کی کتابوں میں ڈیبٹ کرتے ہیں ایسا اس لیے کرتے ہیں چونکہ بل کے مسترد (Dishonour) کا ذمّہ دار وہی ہے اس لیے اسی کو ان اخراجات کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔ ناظری اخراجات کے اندراج کے لیے مرتب الیہ (Drawee) اپنی کتابوں میں ناظری اخراجات کا کھاتہ کھولتا ہے وہ ناظری اخراجات کو ڈیبٹ میں اور مرتب کو جمع کھاتے یا کریڈٹ میں درج کرتا ہے۔ مثال کے طور پر 01، جنوری 2006 کو آزاد نے بنٹی کو 15,000 کا مال بیچا اور فوراً ایک بل تین ماہ کی مدّت کا اُس پر لکھ دیا۔ ادائیگی کی تاریخ پر بل مسترد ہو گیا اور بل کے حامل نے 50 روپے ناظری اخراجات کے طور پر ادا کیے مندرجہ ذیل صورتحال میں آزاد اور بنٹی کی کتابوں میں مندرجہ ذیل جرنل اندراجات ہوں گی:
(a) جب آزاد نے ادائیگی کی تاریخ تک بل کو اپنے پاس رکھا۔
(b) جب آزاد نے فوراً بینک سے 12% سالانہ در سے بل کو بھُنا لیا۔
(c) جب آزاد نے بل کا بیچان اپنی لین دار چترا کے حق میں کر دیا۔
آزاد کی کتابوںمیں مندرجہ ذیل اندراجات ہوں گی:

آزاد کی کتابیں (جرنل)


جمع رقم  نام رقم  L.F تفصیلات تاریخ
15,000 15,000 Dr.
Bunty's A/c
 To Sales A/c
(بنٹی کو سامان بیچا)
2017
01 جنوری 
15,000 15,000 Dr.
Bills Receivable A/c
 To Bunty's A/c
(بنٹی کی منظوری ملی)
01 جنوری 
15,000
50
15,050 Dr.
Bunty's A/c
 To Bills Receivable A/c
 To Cash A/c
(بنٹی کی منظوری مسترد ہو گئی اور ناظری اخراجات 50 روپے ادا کیے)
04 اپریل 
(ii) جب بل کو بینک سے بھُنالیا گیا۔

جرنل



جمع رقم  نام رقم  L.F تفصیلات تاریخ
15,000 15,000 Dr.
Bunty's A/c
 To Sales A/c
 (بنٹی کو سامان بیچا)
2017
01 جنوری
15,000 15,000 Dr.
Bills Receivable A/c
 To Bunty's A/c
(بنٹی کی منظوری تین ماہ کی لیے ملی)
01 جنوری
15,000 14,550
450
Dr.
Bank A/c
 Discount A/c Dr. To Bills Receivable A/c
 (بنٹی کی منظوری کا بل بھُنا لیا گیا)
01 جنوری
15,050 15,050 Dr. 
Bunty's A/c
To Bank A/c
(بنٹی کی منظوری مسترد ہو گئی اور بینک نے ناظری اخراجات اداکیے)
04 اپریل

(iii) جب بل کا بیچان چترا کو کر دیا گیا 

جرنل


جمع رقم  نام رقم  کھاتہ نمبر تفصیلات تاریخ
15,000 15,000 Dr.
Bunty's A/c
 To Sales A/c
(بنٹی کو سامان بیچا)
2017
01 جنوری
15,000 15,000 Dr.
Bills Receivable A/c
 To Bunty's A/c
 (بنٹی کی منظوری ملی)
01 جنوری
15,000 15,000 Dr.
Chitra's A/c
 To Bills Receivable A/c
 (بنٹی کی منظوری کا بیچان چترا کو کیا)
01 جنوری
15,050 15,050 Dr.
Bunty's A/c
 
To Chitra's A/c
 (بنٹی کی منظوری مسترد ہو گئی اور چترا نے 50 روپے کے ناظری اخراجات ادا کیے)
04 اپریل 

مندرجہ بالا تینوں صورتوں میں بنٹی کی کتابوں میں مندرجہ ذیل اندراجات ہوں گے۔

بنٹی کی کتابیں

جرنل


جمع رقم  نام رقم  L.F تفصیلات تاریخ
15,000 15,000 Dr.
Purchases A/c
 To Azad's A/c
 (آزاد سے سامان خریدا)
2017 
01 جنوری 
15,000 15,000 Dr. 
Azad'a A/c
To Bills Payable A/c
(آزاد کے ڈرافٹ کو منظوری دی)
01 جنوری 
15,050 15,000
50
Dr.
Bills Payable A/c
Dr.
 Noting Charges A/c
 To Azad's
(آزاد کو دی ہوئی منظوری مسترد ہو گئی)
04 اپریل

8.9  بل کی تجدید (Renewal of the Bill)

کبھی کبھی بل کا منظور کنندہ بل کی ادائیگی کی تاریخ پر ادا کرنے میں قاصر ہوتا ہے۔ لہٰذا ایسی صورت میں وہ مرتب (Drawer) کے پاس ادائیگی کی مدّت بڑھانے کی درخواست کرتا ہے۔ اگر یہ درخواست مان لی جاتی ہے تو پرانا بل منسوخ ہو جاتا ہے اور نیا بل ادائیگی کی نئی شرائط کے مطابق منظور کر کے لکھ دیا جاتا ہے۔ یہ عمل بل کی تجدید کہلاتا ہے۔ چونکہ بل آپسی رضامندی سے منسوخ کیا گیا ہے اس لیے بل کی تصدیق مسترد (Noting) کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔

مرتب الیہ بڑھائی گئی اُدھار کی مدّت کے عوض میں مرتب کو سود دیتا ہے۔ یہ سود یا تو نقد دیا جاتا ہے یا پھر نئے بل میں جوڑ دیا جاتا ہے۔ کبھی کبھی ادائیگی کی رقم کا ایک حصّہ ادا کر دیا جاتا ہے اور بقیہ رقم کا نیا بل لکھ دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر 10,000 روپے کا بل 3,000 روپے کی نقد ادائیگی پر منسوخ کر دیا گیا اور ایک نیا بل 7000 روپے کا سود سمیت فریقین کی آپسی رضامندی سے منظور کر لیا گیا۔ مرتب اور مرتب الیہ کی کتابوں میں جرنل اندراج ویسے ہی رہیں گے جیسے بل کے مسترد کا اندراج ہوتا ہے۔ اگر سود کی رقم نقد ادا نہیں کی جاتی تو مرتب، مرتب الیہ کے کھاتے کو ڈیبٹ میں اور سود کو جمع کھاتے یا کریڈٹ میں دکھاتا ہے جبکہ مرتب الیہ اپنی کتابوں میں سود کوڈیبٹ کرتا ہے اور مرتب کے کھاتے میں کریڈٹ دکھاتا ہے۔

تجدید کی صورت میں مرتب اور مرتب الیہ کی کتابوں میں پرانے بل کی منسوخی، سود اور نئے بل کی منظوری سے متعلق جرنل اندراجات مندرجہ ذیل طریقے سے ہوں گے:


لین دین  مرتب کی کتابیں مرتب الیہ کی کتابیں
پرانے بل کے منسوخ ہونے پر Drawee’s A/c Dr. To Bills Receivable A/c Bills Payable A/c Dr. To Drawer’s A/c
سود Drawee’s A/c Dr. To Interest A/c Interest A/c Dr. To Drawer’s A/c
نیابل Bill Receivable A/c Dr. To Drawee’s A/c Drawer’s A/c Dr. To Bills Payable A/c

مثال کے طور پر 1، فروری 2006 کو روی نے موہن کو 18,000 روپے کا اُدھار مال بیچا۔ موہن نے 3000 روپے کی نقد ادائیگی اور بقیہ رقم کے لیے تین ماہ کی مدّت کا بل منظور کیا۔ ادائیگی کی تاریخ پر موہن نے روی سے پرانا بل منسوخ کرنے اور اس کی جگہ دو ماہ کی مدّت کا نیا بل لکھنے کی درخواست کی۔ موہن نے 12% سالانہ کی در سے سود نقد دینے کا فیصلہ کیا۔ روی نے موہن کی درخواست مانتے ہوئے پرانا بل منسوخ کر کے ایک نیا بل لکھا۔ ادائیگی کی تاریخ پر موہن نے بل کی رقم ادا کر دی۔ اس صورت میں روی اور موہن کی کتابوں میں مندرجہ ذیل اندراجات ہوں گے۔

روی کی کتابیں (جرنل)



جمع رقم  نام رقم  L.F تفصیلات تاریخ
18,000 18,000 Dr.
Mohan's A/c  To Sales A/c
 (موہن کو سامان بیچا)
2017
01 فروری
18,000 3,000
15,000
Cash A/c                                  Dr.
 Bills Receivable A/c Dr.
 To Mohans' A/c
 (روی کو 3,000 روپے نقد دیے اور بقیہ کی منظوری ملی)
01 فروری
15,000
300
15,300 Mohna's A/c Dr.
 To Bills Receivable A/c
 To Interest A/c
 (پرانے بل کو منسوخی اور تجدید پر 100 روپے کے سود کا چارج)
01 مئی 
15,300 15,000
300
Bills Receivable A/c
Dr. Cash A/c Dr. To Mohan's A/c
(موہن سے نئی منطوری ملی)
04 مئی
15,000 15,000 Bank A/c          Dr.
To Bills Receivable A/c
(موہن نے بل ادا کیا)
07 جولائی

موہن کی کتابیں (جرنل)


جمع رقم  نام رقم  کھاتہ نمبر  تفصیلات تاریخ
18,000 18,000 Purchases A/c Dr.
 To Ravi A/c
 (روی سے اُدھار مال خریدا)
2017
01 فروری
3,000
15,000
18,000 Ravi's A/c Dr.
To Cash's A/c To Bill Payable A/c
(روی کو نقد اور منظوری دی)
01 فروری
15,300 15,000
300
Bills Payable A/c Dr.
 Interest A/c Dr. To Ravi A/c
(پرانا بل کو منسوخ کر تجدید پر 100 روپے کا سود)
04 مئی
15,000
300
15,300 Ravi A/c Dr.
To Bills Payable A/c To Cash A/c
 (نیا بل منظور کیا اور سود نقد دیا)
04 مئی
15,000

15,000 Bills Payable A/c Dr.
To Bank A/c
(نیا بل ادائیگی کی تاریخ پر ادا کیا)
07 جولائی 

8.10   بل کی قبل از وقت ادائیگی (Retiring of the Bill)

بہت سے ایسے مواقع پیش آتے ہیں جب بل آف ایکسچینج کی ادائیگی کا انتظام اس کی ادائیگی کی تاریخ سے پہلے مرتب اور مرتب الیہ کی مرضی سے ہو جاتا ہے۔ ایسا تب ہوتا ہے جب بل کے منظور کنندہ کے پاس بل کی رقم کی ادائیگی کے لیے اتنا پیسہ (فنڈ) ہوتا ہے کہ وہ ادائیگی کی تاریخ سے قبل بل کی ادائیگی کر دے۔ اس صورت میں وہ بل کے حامل سے واجب الادا تاریخ یا ادائیگی کی تاریخ سے قبل رقم کی ادائیگی کے لیے درخواست کرتا ہے اور جب حامل ایسا کرنے کے لیے راضی ہو جاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ بل قبل ازوقت ادا کردیا گیا ۔

مقررہ مدّت کے اختتام سے قبل بل کے ادا ہو جانے سے بل کے لین دین سے متعلق سب معاملات ختم ہو جاتے ہیں۔ بل کی قبل ازوقت ادائیگی کو بڑھاوا دینے کی غرض سے بل کا حامل کچھ رعایت یا چھوٹ (Rebate) دیتا ہے جس کا حساب بل کی قبل از وقت ادائیگی کی تاریخ اور واجب الادا تاریخ کے بیچ کی مدّت پر نکالا جاتا ہے۔

بل کی قبل ازوقت ادائیگی کے کھاتہ داری عمل کا بالکل وہی طریقہ ہے جو منظور کنندہ کے ذریعے بل کی واجب الادا تاریخ پر ادائیگی کے لیے عام طور سے اختیار کیا جاتا ہے۔ ان دونوں میں بس اتنا فرق ہے کہ قبل ازوقت بل کی ادائیگی کے لیے کچھ رعایت طلب کی جاتی ہے۔ اس کے تحت مندرجہ ذیل جرنل اندراج کیے جاتے ہیں۔

حامل کی کتابوں میں

بل کی قبل از وقت ادائیگی اور دی گئی چھوٹ

.Cash A/c Dr

.Rebate on bills A/c Dr

      To Bills Receivables A/c

مرتب الیہ کی کتابوں میں

.Bills Payable A/c Dr

.Cash  A/c Dr

To Rebate on Bills A/c

1جنوری 2017 کو امت نے ببلی کو 10,000 روپے کا مال فروخت کیا اور فوراً ہی ببلی پر ایک بل تین ماہ کی مدّت کا اس رقم کا لکھا ببلی نے بل منظور کیا اور اسے امِت کو واپس کر دیا۔ 04، مارچ 2017 کو ببلی نے اپنی منظوری کو %6 سالانہ چھوٹ کی شرح سے قبل ازوقت ادا کر دیا۔

امت کی کتابوں میں 

جرنل

جمع رقم نام رقم کھاتہ نمبر تفصیلات تاریخ
10,000

10,000

10,000
10,000

10,000

9,950
50
Babli's A/c Dr.
To Sales A/c
(ببلی کو سامان بیچا)
2017
01جنوری
Bills Receivable A/c  Dr.
To Babli's A/c
(ببلی سے تین ماہ کی منظوری ملی)
10 جنوری
.Bank A/c                             Dr
         .Rebate on Bills A/c            Dr
       To Bills Receivable
(ببلی نے بل قبل از وقت ادا کیا اور اسے چھوٹ دی گئی)
04،مارچ
ان اندراجات کو بہی کھاتہ(Ledger)میں مندرجہ ذیل طریقے سے پوسٹ (Post)کیا جائے گا۔
ببلی کا کھاتہ
.Dr.                                                                                                                                                                               Cr
رقم روپیے .J.F تفصیل تاریخ رقم روپیے .J.F تفصیل تاریخ
10.000
10.000

بل قابل ادا

2017
06،جنوری
10,000
10,000

سیلز 2017
1،جنوری
قابل وصول بل کھاتہ
.Dr.                                                                                                                                                                               Cr
رقم روپیے .J.F تفصیل تاریخ رقم روپیے .J.F تفصیل تاریخ
9,950
50
10,000
نقد
بل پر نقد چھوٹ
2017
04، جنوری
10,000

10,000
سیلز 2017
01، جنوری


ببلی کی کتابیں
جرنل
جمع رقم نام رقم کھاتہ نمبر تفصیلات تاریخ
10,000

10,000

9,950
50
10,000

10,000

10,000
.Purchases A/c           Dr
To Amit A/c         
(امت سے مال خریدا)
2017
01، جنوری
.Amit's A/c                   Dr
To Bills Payable A/c            
(امت کا تین ماہ کے بعد قابل ادائیگی ڈرافٹ منظور کیا)

04، جنوری
 .Bills Payable A/c                Dr
To Cash A/c            
To Rebate on Bills A/c            
(بل کی قبل از وقت ادائیگی کی اور چھوٹ ملی)

امت کا کھاتہ
.Dr.                                                                                                                                                                                Cr
رقم روپیے .J.F تفصیل تاریخ رقم روپیے .J.F تفصیل تاریخ
10,000
10,000

Purchases

2017
01، جنوری
10,000
10,000
Bills Payable 2017
01، جنوری
قابلِ ادا بل کھاتہ
.Dr.                                                                                                                                                                               Cr
رقم روپیے .J.F تفصیل تاریخ رقم روپیے .J.F تفصیل تاریخ
10,000

10,000
Amit 2017
01، جنوری
9,950
50
10,000
Cash Rebate on Bill 2017
01، جنوری

مثال 4

15 جنوری 2017 کو سچن نے 30,000 روپے کا مال نارائن کو بیچا اور اس پر ایک بل تین ماہ کی مدّت کا لکھا۔ نارائن نے اس بل کو منظور کر لیا۔31 جنوری 2017 کو سچن نے یہ بل اپنے بینک سے 29,250 روپے میں بھُنا لیا۔ ادائیگی کی تاریخ پر بل مسترد ہو گیا۔ نارائن 10,500 روپے نقد دینے پر راضی ہو گیا جس میں 500 روپے کا سود شامل تھا اور اس کے ساتھ ایک نیا بل بقیہ 20,000 روپے کا دو ماہ کی مدّت کے لیے منظور کر لیا۔سچن نے اس نئے بل کا بیچان اپنے ایک لین دار کپل کے حق میں 20,800 روپے کے قرض کو ادا کرنے میں کیا۔ نارائن نے اس بل کی ادائیگی مقرّرہ مدت پر کردی۔ سچن اور نارائن کی کتابوں میں ضروری جرنل اندراجات کریں۔

حل

سچن کی کتابیں 

جرنل 

جمع رقم نام رقم کھاتہ نمبر تفصیلات تاریخ
30,000 30,000 .Narain A/c         Dr
To Sales A/c        
(نارائن کو مال بیچا گیا)
2017
15جنوری
30,000 30,000 .Bill's Receivable A/c                      Dr
To Narain's A/c       
(بنٹی کی منظوری)
15جنوری
30,000 29,250
750
.Bank A/c                    Dr
 .Discount A/c        Dr      
To Bills Receivable A/c      
(نارائن کی منظوری کو بینک سے بھنایا)
31جنوری
30,000
500
30,500 .Narain's A/c     Dr
 To Bank  A/c
To Intrerest A/c
 (نارائن کی منظوری مسترد ہوگئی)     
19اپریل
30,500 10,500
20,000
.Bank A/c                         Dr
.Bills Receivable  A/c      Dr
To Narain's A/c
(نارائن سے نقد حاصل ہوا اور بقیہ رقم کا ایک نیا بل منظور ہوا)

20,000
800
20,800 .Kapil A/C                                    Dr
To Bills Receivable A/c                 
To Discount Received  A/c                 
(نارائن کی منظوری کا بیچان کپل کو کیا اور اس نے چھوٹ دی)
19اپریل

نارائن کی کتابیں

جرنل 

جمع رقم نام رقم کھاتہ نمبر تفصیلات تاریخ
30,000 30,000 .Purchases A/c                 Dr
To Sachin A/c         
(سچن سے مال خریدا)
2017
15جنوری
30,000 30,000 .Sachin's A/c              Dr
To Bills Payable A/c         
(سچن کا ڈرافٹ منظور کیا)
15جنوری
30,500 30,000
500
.Bills Payable A/c      Dr
.Interest A/c     Dr
To sachin A/c
(پرانا بل مسترد ہوا اور سچن نے سود وصول کیا)
19جنوری
10,500
20,000
30,500 .Sachin A/c          Dr
To Bank A/c
To Bill Payable A/c
(سچن کو نقد اداکیا اور نیا بل بقیہ رقم کا منظور کیا)
19جنوری
20,000 20,000 .Bills Payable A/c           Dr
To Bank A/c
(ادائیگی کی تاریخ پر نیا بل ادا کردیا)
22 اپریل

مثال 5

30 اکتوبر 2016 کو اشوک نے بِشَن کو 14,000 روپے کا مال بیچا اور تین بل لکھے۔ پہلا بل 2,000 روپے کا دوماہ کی مدّت کے لیے، دوسرا بل 4,000 روپے کا تین ماہ کی مدّت کے لیے اور تیسرا بل 8,000 روپے کا چار ماہ کی مدّت کے لیے۔ اشوک نے پہلا بل ادائیگی کی تاریخ تک اپنے پاس رکھا۔ اشوک نے دوسرے بل کا بیچان اپنے لین دار چیتن کے حق میں کیا۔ 03 دسمبر 2016 کو اس نے تیسرا بل 12% کی سالانہ در سے بھُنا لیا۔ پہلے اور دوسرے بل کی ادائیگی واجب الادا تاریخ پر کر دی گئی جبکہ تیسرا بل مسترد ہو گیا اور بینک نے ناظری اخراجات (Noting Charges) کے طور پر 50 روپے ادا کیے۔ 03 مارچ 2017 کو بِشن نے 4000 روپے اور ناظری اخراجات نقد ادا کیے اور 100 روپے کے سود سمیت بقایا رقم کا ایک نیا بل دو ماہ کی مدّت کا منظور کیا۔ بِشن نے اس نئے بل کی ادائیگی مقررہ تاریخ پر کردی۔
اشوک اور بِشَن کی کتابوں میں جرنل اندراجات کریں اور بشن کا کھاتہ اشوک کی کتابوںمیں اور اشوک کا کھاتہ بشن کی کتابوں میں بنائیں۔

اشوک کی کتابیں

جرنل 

جمع رقم نام رقم  کھاتہ نمبر تفصیلات تاریخ
14,000 14,000 .Bishan's A/c      Dr
To Sales A/c
(بش کو ادھار مال بیچا)
2016
30اکتوبر
14,000 14,000 .Bills Receivable A/c      Dr
To Bishan's A/c          
(بش کی تین منظوریاں ملیں پہلی2000روپیے کی دوماہ کے لیے، دوسری4,000روپے کی تین ماہ کے لیے اور تیسری 8,000روپے کی چار ماہ کی مدت کے لیے)
30اکتوبر
4,000 4,000 .Chetab's A/c         Dr
.To Bills Receivable A/c      
(دوسرے بل کا بیچان لین دار چیتن کے حق میں کیا)
03اکتوبر
8,000 7,760
240
.Bank A/c       Dr
.Discount A/c    Dr
To Bills Receivable A/c
(تیسرا بل%12سالانہ کی در سے بھنا لیا گیا)
03دستمبر
2,000 2,000 .Bank A/c      Dr
To Bills Receivable
(بش کی پہلی منظوری ادائیگی کی تاریخ پر مل گئی)
2016
02جنوری
8,050 8,050 .Bishan's A/c      Dr
To Bank A/c        
(بش کی تیسری منظوری مسترد ہوگئی اور بینک نے50روپے کے ناظری اخراجات اداکیے)
03مارچ
4050 4,050 .Cash A/c          Dr
To Bishan's A/c          
(بش سے نقد وصول ہوئے)
03مارچ
100 100 .Bishan's A/c         Dr
To Interest A/c    
(بش سے سود لیا گیا
03مارچ
4,100 4,100 .Bills Receivable A/c        Dr
To Bishan's A/c       
(بش کی نئی منظوری دو ماہ کے لیے)
03مارچ
4,100 4,100 .Bank A/c                    Dr
To Bills Receivable A/c
(ادائیگی کی تاریخ پر رقم وصول ہوئی)
06مئی


بشن کا کھاتہ

.Dr. Cr
رقم روپیے .J.F تفصیلات تاریخ رقم روپیے .J.F تفصیلات تاریخ
14,000


4,050
4,100
22,150
Bills


Cash
Bills Receivable
2016
30اکتوبر
2017
03مارچ
03مارچ
14,000


8,050
100
22,150
Sales


Bank
Interest
2016
30اکتوبر
2017
03مارچ
09مارچ
بشن کی کتابیں
جرنل

جمع(کریڈٹ) رقم نام(ڈیبٹ) رقم کھاتہ نمبر تفصیلات تاریخ
14,000 14,000


.Purchases A/c       Dr
To Ashoka's A/c       
(اشوک سے ادھار مال خریدا)
2016
30اکتوبر
14,000 14,000


.Ashoka's A/c           Dr
To Bills Payable A/c    
(اشوک کے تین ڈرافٹ منظور کیے، پہلا2,000روپے کا دوماہ کی مدت کے لیے دوسرا4,000روپے کا تین ماہ کے لیے اور تیسرا8,000روپے کی چار ماہ کی مدت کے لیے)
30اکتوبر
2,000 2000


.Bill Payable A/c        Dr
To Bank Receivable A/c
(اشوک کے حق میں دی گئی2,000روپے کی پہلی منظوری ادا کردی گئی)
2017
02جنوری
8,050
2,000

.Bills Payable A/c         Dr
.Noting Charges A/c     Dr
To Ashoka
(اشوک کے حق میں دی گئی تیسری منطوری مسترد ہو گئی اور ناظری
03 مارچ
4,050 8,050
50

Ashok's A/c Dr.
To Cash A/c
(اشوک نے 4,000 روپے اور ناظری اخراجات ادا کیے)
03 مارچ
100
4,050

Ashok's A/c Dr.
(اشوک کو سود دیا)
03 مارچ
4,100 41,00 Ashok's A/c Dr
(اشوک کا نیا ڈرافٹ دو ماہ کے لیے منظور کیا)
03 مارچ
4,100 4,100

Bills Payable A/c Dr.
To Bank A/c
(ادائیگی کی تاریخ پراشوک کو 4,100روپے ادا کیے)
03 مارچ

اشوک کا کھاتہ
.Dr. Cr
رقم روپیے .J.F تفصیلات تاریخ رقم روپیے .J.F تفصیلات تاریخ
14,000

8,000
50
100
22,150
Purchases
Bills Receivable
Noting Charges
Interest

2016
30اکتوبر
2017
03مارچ
09مارچ
14,000


4,050
4,100
22,150
bills Payble


Cash
Bills Payble
2016
30اکتوبر
2017
03مارچ
09مارچ

اشوک کا کھاتہ

مثال 6
آشرواد نے 10,000 روپے کا بل آف ایکسچینج تین ماہ کی مدّت کا آکرشک پر لکھا جسے آکرشک نے 01 جنوری 2006 کو منظور کر لیا۔ آشرواد نے اس بل کا بیچان آکرتی کے حق میں کر دیا۔ ادائیگی کی تاریخ سے پہلے آکرشک نے آشرواد سے %18 سالانہ در پر تین مزید ماہ کی مدّت کے لیے بل کی تجدید کی درخواست کی۔ آشرواد نے آکرشک کی پیشکش قبول کرتے ہوئے ادائیگی کی تاریخ پر آکرتی کو رقم ادا کردی۔ آشرواد کی کتابوں میں جرنل اندراجات کیجیے۔ یہ مانتے ہوئے کہ دوسرا بل ادائیگی کی تاریخ پر ادا ہو گیا۔

آشرواد کی کتابیں

جرنل 

جمع(کریڈٹ) رقم نام(ڈیبٹ) رقم LF تفصیلات تاریخ
10,000 10,000


.Bills Receivable  A/c        Dr
To Akarshak's A/c       
(آکرشک سے بل حاصل ہوا)
2016
01 جنوری
10,000 10,000


.Aakarati's A/c           Dr
To Bills Payable A/c    
(آکرشک کے بل کا بیچان آکرتی کو کیا)
01 جنوری
10,000 10,000


.Aakarshak's A/c        Dr
To Aakarti's A/c
(آکرشک کا بل مسترد ہو گیا جو آکرتی کے پاس ہے)
04 اپریل

.
10,000
10,000

.Aakaruti's A/c         Dr
To Bank A/c
(آکرتی کو رقم ادا کر دی گئی)
04 اپریل
450 450

Aakarshak's A/c Dr.
To Interest A/c
(آکرشک سے 10,000 روپے پر 18% کی سالانہ درسے تین ماہ کا سود لینا ہے)
04 اپریل
10,450
10450

Bills Receivable A/c Dr.
To Akarshak's A/c
(آکرشک سے نیا بل حاصل ہوا)
04 اپریل
10,450
10,450


Bank A/c Dr
To Bills Receivable A/c
(تجدید شدہ بل کی رقم وصول ہوئی)
07 جولائی



مثال 7

انکت، نِکتا کا 6,000 روپے کا قرض دار ہے۔ 01، اپریل 2006 کو انکت نے اس رقم کا ایک اقراری نوٹ تین ماہ کی مدّت کا نکتا کو دیا جو اس نے اپنے بینک سے 5,760 روپے میں بُھنا لیا۔ ادائیگی کی تاریخ پر بل مسترد ہو گیا اور بینک نے 15 روپے کے سود سمیت ایک نیا بل منظور کر لیا۔ یہ بل دو ماہ کی مدّت کا تھا جو ادائیگی کی تاریخ پر دوبارا مسترد ہو گیا۔ نِکتا نے 15 روپے کے ناظری اخراجات ادا کیے۔
نِکتا کی کتابوں میں جرنل اندراجات کریں۔

حل

نِکتا کی کتابیں

جرنل

جمع(کریڈٹ) رقم نام(ڈیبٹ) رقم کھاتہ نمبر تفصیلات تاریخ
6,000 6,000


.Bills Receivable  A/c        Dr
To Ankit's A/c       
(انکت کا اقراری نوٹ حاصل ہوا)
2016
01 اپریل
6,000 5,760
240

.Bank A/c            Dr
Discount A/c Dr
(انکت کا اقراریہ نوٹ 5,760 روپے کا بھُنا لیا گیا)
01 اپریل
6,000 6,015


.Ankits's A/c        Dr
To Bank A/c
(انکت کا اقراری نوٹ مسترد ہو گیا اور ناظری اخراجات بل کی رقم سمیت بینک کو دینے ہیں)
04 جولائی

.
2,000
2,000

.Cash A/c         Dr
To Ankit's A/c
(انکت سے رقم وصول ہوئی)
04 جولائی
100 100

Ankit's A/c Dr.
To Interest A/c
(دوسرے بل کا سود انکت سے لینا ہے)
04 جولائی
4,115
4,115

Bills Receivable A/c Dr.
To Ankit's A/c
(انکت کی دو ماہ کی منظوری ملی)
04 جولائی
4,115
4,115


Ankit's A/c Dr
To Bills Receivable A/c
(انکت کی منظوری مسترد ہو گئی)
07 ستمبر
15
15


Ankit's A/c Dr
To Cash A/c
(ناظری اخراجات ادا کیے جو انکت سے لینے ہیں)
07 ستمبر


مثال 8 
01، مئی 2005 کو موہت نے 6000 روپے کا ایک اقراری نوٹ تین ماہ کی مدّت کا روہت کو بھیجا۔ 04 مئی کو روہت نے اسے 18% سالانہ کی در سے بینک سے بھُنا لیا۔ ادائیگی کی تاریخ پر بل مسترد ہو گیا اور بینک نے 10 روپے کے ناظری اخراجات ادا کیے۔ روہت نے 2,130 روپے نقد (جس میں 130 روپے میں ناظری اخراجات اور سود شامل ہے) اور ایک دوسرا اقراری نوٹ 4,000 روپے کا دو ماہ کی مدّت کے لیے منظور کر لیا۔ ادائیگی کی تاریخ پر موہت نے روہت سے تین مزید ماہ کی مدّت کے لیے بل کی تجدید کی درخواست کی۔ روہت نے اس شرط پر کہ موہت 200 روپے کا سود نقد ادا کرے، موہت کی درخواست مان لی۔ یہ آخری بل تاریخ ادائیگی پر ادا ہو گیا۔ موہت اور روہت کی کتابوں میں جرنل اندراجات کریں۔

حل 

نِکتا کی کتابیں

جرنل

جمع(کریڈٹ) رقم نام(ڈیبٹ) رقم کھاتہ نمبر تفصیلات تاریخ
6,000 6,000


.Rohit's  A/c        Dr
To Bills Payable A/c       
(روہت کو اقراری نوٹ بھیجا)
2016
01 مئی
6,010 6,000
10

.Bills Payable A/c            Dr
Noting Charges A/c Dr
(اقراری نوٹ مسترد ہو گیا اور ناظری اخراجات 10 روپےروہت کو دینے ہیں)
04 اگست
120 120


.Interest A/c        Dr
To Rohit's A/c
(اقراری نوٹ کی تجدید پر روہت کو سود دینا ہے)
04 اگست

4,000
2,130
6,130

.Rohit's A/c         Dr
To Bills Payable
To Cash A/c
(2,130 روپے نقد اور 4,000 روپے کا اقراری نوٹ روہت کو بھیجا)
04 اگست
4,000 4,000

Bill Payable A/c Dr.
To Rohit A/c
(ادائیگی کی تاریخ پر بل منسوخ ہو گیا)
07 اکتوبر
200 200


Interest  A/c Dr
To Rohit's A/c
(بل کی تجدید پر روہت کو سود کی رقم دینی ہے)
07 اکتوبر
200
4,000
4,200


Rohit's A/c Dr
To Cash
To Bills Receivable A/c
(نئی منظوری اور نقد روہت کو بھیجا)
07 اکتوبر
4,000
4,000


Bills Payable A/c Dr
To Cash A/c
(ادائیگی کی تاریخ پر رقم ادا کی گئی)
2017
10 جنوری

روہت کی کتابیں

جرنل


جمع(کریڈٹ) رقم نام(ڈیبٹ) رقم LF تفصیلات تاریخ
6,000 6,000


.Bills Receivable  A/c        Dr
To Mohit's A/c       
(اس تاریخ پر موہت کا اقراری نوٹ حاصل ہوا)
2016
01 مئی
6,000 5,730
270

.Bank's A/c            Dr
Discoun A/c Dr
To Bills Receivable A/c
(موہت کے 6,000 روپے کے تین ماہ کے اقراری نوٹ کو 18%سالانہ در سے بھُنا لیا)
04 مئی
6,010 6,010


Mohit's  A/c        Dr
ToBank's A/c(موہت کا اقراری نوٹ مسترد ہو گیا اور 10 روپے کے ناظری اخراجات بینک نے ادا کیے)
04 اگست

120
120

.Mohit's A/c         Dr
To Interest A/c
(سود کی طے شدہ رقم جو موہت سے لینی ہے)
04 اگست


6,130
2,130
4,000

.Cash A/c         Dr
Bills Receivable A/c
To Mohit's A/c
(موہت سے نقد اور اقراری نوٹ حاصل ہوا)
04 اگست
4,000 4,000

Mohit's A/c Dr.
To Bills Receivable A/c
(آج ادائیگی کابل منسوخ ہو گیا)
07 اکتوبر
200 200


Mohit's  A/c Dr
To Interest A/c 
(موہت سے سود کی رقم لینی ہے)
07 اکتوبر

4,200
200
4,000


Cash A/c Dr
Bills Receivable A/c
To Mohit's A/c Dr
(موہت سے نقد و اقراری نوٹ حاصل ہوا)
07 اکتوبر
4,000
4,000


Cash/Bank A/c Dr
To Bills Receivable A/c
(ادائیگی کی تاریخ پر رقم مل گئی)
2017
10 جنوری


اپنے فہم کی جانچ کریں - II

(i) بل آف ایکسچینج ایک ______________ دستاویز ہے۔
(ii) بل آف ایکسچینج ______________ کے ذریعے ______________ پر لکھا جاتا ہے۔
(iii) اقراری نوٹ ______________ کے ذریعے ______________ کے حق میں لکھا جاتا ہے۔
(iv) بل آف ایکسچینج میں ______________ فریق ہوتے ہیں۔
(v) اقراری نوٹ میں ______________ فریق ہوتے ہیں۔

اس باب میں متعارف کرائی گئیں کلیدی اصطلاحات

(a) مرتب  (Drawer) (b) مرتب الیہ (Drawee)
(c) یابندہ  (Payee) (d) قابلِ وصول بل (Bill Receivable)
(e) قابل ادا بل  (Bill Payable) (f) بل کا بنانا یا لکھنا (Drawing of a Bill)
(g)بل کی منظوری  (Acceptance of a Bill) (h) بل کی ادائیگی (Payment of a Bill)

سیکھنے کے مقاصد کے حوالے سے خلاصہ

  1. بل آف ایکسچینج دستاویز کے طور پر (Bill of Exchange as an Instrument): بل آف ایکسچینج ایک طریقہ کار ہے جس کے ذریعے خریدار یا دین دار کو اُدھار کے سودے میں فوری طور پر رقم ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اُسے فروخت کنندہ یا لین دار کو اپنی قابل ادا رقم کے ادا کرنے کی ذمّے داری تحریری طور پر منظور کر کے مطمئن کرنا ہوتا ہے۔
  2. بل آف ایکسچینج اور اقراری نوٹ کا مفہوم (Meaning of Bill of Exchange and Promissory Note): بل آف ایکسچینج قرض کی ایک تحریری رسید ہے جو ایک شخص کے ذریعے دوسرے شخص کو دی جاتی ہے اور اس میں ادائیگی کی تمام شرائط و ضوابط شامل ہوتی ہیں۔
اقراری نوٹ دین دار کے ذریعے لین دار کو ایک مقرّرہ رقم کے ادا کرنے کا تحریری وعدہ یا اقرار ہے۔ ان تمام شرائط کے مطابق جو اس میں درج ہوں۔
3. بل اور نوٹ میں فرق (Difference Between a Bill and a Note)
(a) بل لین دار کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے اور دین دار کے ذریعے منظور کیا جاتا ہے جبکہ نوٹ دین دار کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے۔
(b) بل میں تین فریق ہوتے ہیں جبکہ نوٹ میں صرف دو فریق ہوتے ہیں۔
(c) بل کو مالی حیثیت (Financial Status) حاصل ہو جائے، اس کے لیے بل کی منظوری ضروری ہے مگر نوٹ بذاتِ خود مالی حیثیت رکھتا ہے۔
ایک بل کی خصوصیات و فوائد (Features and Advantages of a Bill)
(a) خصوصیات: بل ایک تحریری حکم نامہ ہے جسے لین دار کے ذریعے مرتّب کیا جاتا ہے اور دین دار اُسے منظور کرتا ہے۔ بل کی رقم کی ادائیگی یا تو عندالطلب (On Demand) ہوتی ہے یا ایک مقرّرہ اور متعین وقت پر۔
(b) فوائد : تعلقات کا ماحول، شرائط و پابندیوں کا یقین، اُدھار کی سہولت کا ذریعہ، قطعی ثبوت، آسان منتقلی۔
لین دار اور دین دار کے لیے بل کی قبل ازوقت ادائیگی کے مقاصد اور فوائد کی مختصر وضاحت کریں۔

عملی سوالات (Questions for Practice)

مختصر جوابی سوالات

  1. عام طور سے استعمال کی جانے والی کن ہی دو طرح کی تحویل پذیر دستاویزوں (Negotiable Instruments) کے نام بتائیے؟
  2. بل آف ایکسچینج اور اقراری نوٹ کے درمیان کوئی دو فرق لکھیے۔
  3. بل آف ایکسچینج کی کوئی چار ضروری خصوصیات بیان کریں۔
  4. بل آف ایکسچینج میں شامل تین فریقوں کے نام بیان کریں۔
  5. بل آف ایکسچینج کی تکمیل مُدّت (Maturity of a bill of exchange) سے کیا مراد ہے؟
  6. بل آف ایکسچینج کے یا ناقابل ادائیگی قرار دیے جانے (Dishonour of a bill of exchange) سے کیا مراد ہے؟
  7. اقراری نوٹ کے فریقوں کے نام بتائیں۔
  8. بل آف ایکسچینج کی منظوری (Acceptance of a bill of exchange) سے کیا مراد ہے؟
  9. بل آف ایکسچینج کی تصدیق مسترد (Noting of a bills of exchange) سے کیا مراد ہے؟
  10. بل آف ایکسچینج کی تجدید (Renawal of a bill of exchange) سے کیا مراد ہے؟
  11. قابلِ وصول بل کتاب کا نمونہ بتائیے۔
  12. قابلِ ادا بل کتاب کا نمونہ بتائیے۔
  13. بل آف ایکسچینج کی قبل ازوقت ادائیگی (Retirement of a bill of exchage) سے کیا مراد ہے؟
  14. چھوٹ یا رعایت (Rebate) کے معنی بتائیں؟
  15. بل آف ایکسچینج کا نمونہ دیجیے؟

طویل جوابی سوالات

  1. بل آف ایکسچینج میں ’’ادائیگی کا غیر مشروط وعدہ‘‘ ہوتا ہے۔ کیا آپ اس بیان سے متفق ہیں؟
  2. بل آف ایکسچینج کے استرداد (Dishonour) اور تصدیق مسترد (Noting) کے اثرات کو مختصراً بیان کریں۔
  3. بل کی ادائیگی کی تاریخ کا حساب لگانے کے طریقہ کار کو مختصراً بیان کریں اور  مثال بھی دیں۔
  4. بل آف ایکسچینج اور اقراری نوٹ میں فرق واضح کریں۔
  5. لین دار اور دین دار کے لیے بل کی قبل ازوقت ادائیگی کے مقاصد اور فوائد کی مختصرا وضاحت کریں۔
  6. قابلِ وصول بل کتاب رکھنے کے مقاصد اور فوائد کی مختصر وضاحت کریں۔
  7. قابلِ ادا بل کتاب رکھنے کے فوائد کی وضاحت کریں اور یہ بھی بیان کریں کہ اس کی پوسٹنگ (Posting) کھاتے میں کس طرح کی جاتی ہے۔

عددی سوالات (Numerical Questions)

  1. 01جنوری 2006 کو راؤ نے ریڈّی کو 10,000 روپے کا مال فروخت کیا۔ ریڈّی نے آدھی رقم کی ادئیگی فوراً کردی اور بقایا آدھی رقم کے لیے راؤ نے ریڈّی پر 30 دن کی مدّت کا ایک بل لکھا۔ ریڈّی نے بل منظور کیا اور راؤ کو واپس کر دیا۔ ادائیگی کی تاریخ پر راؤ نے بل ریڈّی کو پیش کیا اور رقم حاصل کی۔
  2. 01 جنوری 2006 کو شنکر نے پاروتی سے 8,000 روپے کا مال خریدا اور پاروتی کے حق میں تین ماہ کی قابل ادا مدّت کا ایک اقراری نوٹ لکھا۔ اقراری نوٹ کی واجب الادا تاریخ پر حکومت ہند نے تحویل پذیر دستاویزی قانون 1881 کے تحت عام چھٹّی کا اعلان کر دیا۔ پاروتی چونکہ بل کی ادائیگی کی تاریخ سے متعلق قوانین سے ناواقف تھی اس لیے اس نے بل کو اپنے وکیل کو دے دیا جس نے بل کو پیش کیا اور رقم حاصل کی۔ وکیل نے بل کی رقم ملتے ہی فوراً پاروتی کو دے دی۔ پاروتی اور شنکر کی کتابوں میں ضروری جرنل اندراجات کریں۔
  3. 05 جنوری 2006 کو وشال نے 7,000 روپے کا مال منجو کو فروخت کیا اور منجو پر دو ماہ کی مدّت کا ایک بل لکھا۔ منجو نے وشال کے ڈرافٹ کو منظور کر کے وشال کو واپس کر دیا۔ وشال نے بل کو 12% سالانہ کی در سے بینک سے بھُنا لیا۔ ادائیگی کی تاریخ پر منجو نے اپنی منظوری پوری کی۔ مندرجہ بالا لین دین کا وشال اور منجو کی کتابوں میں جنرل اندراج کریں۔
  4.  01 فروری 2006 کو جان نے 15,000 روپے کا مال جمّی (Jimmi) سے خریدا۔ اس نے 5,000 روپے کی ادائیگی فوراً چیک سے کردی اور بقایا رقم کے لیے جمّی کے ذریعے لکھا گیا ایک بل منظور کر لیا۔ بل 40 دن کے بعد قابل ادا تھا۔ ادائیگی کی تاریخ سے 05 دن کے بعد قابلِ ادا تھا۔ ادائیگی کی تاریخ سے 05 دن پہلے جمّی نے بل کو بینک میں جمع ہونے بھیج دیا۔ بینک نے بل کو جان کے پاس ادائیگی کے لیے پیش کیا جس نے رقم ادا کر دی۔ بینک نے اس کی اطلاع جمّی کو دے دی۔
جان کا کھاتہ جمّی کی کتابوں میں اور جمّی کا کھاتہ جان کی کتابوں میں بنائیں۔
15جنوری 2006 کو کرتار نے 30,000 روپے کا مال بھگوان کو فروخت کیا اور اس پر 10,000 روپے کے تین بل لکھے جو علی الترتیب ایک ماہ، دو ماہ اور تین ماہ کی مدّت کے لیے  قابل ادا تھے۔ پہلا بل کرتار نے ادائیگی کی تاریخ تک اپنے پاس رکھا۔ دوسرے بل کا بیچان کرتار نے اپنی لین دار رتنا کے حق میں کر دیا۔ تیسرا بل کرتار نے فوراً 6% سالانہ کی در سے بینک سے بھُنایا۔ ادائیگی کی تاریخ پر بھگوان نے تینوں بلوں کی ادائیگی کردی۔ کرتار اور بھگوان کی کتابوں میں جرنل اندراجات کریں اور کھاتے بنائیں۔
01 جنوری 2006 کو ارون نے سنیل کو 30,000 روپے کا مال بیچا۔ سنیل نے 50% رقم کی ادائیگی فوراً کردی جس پر ارون نے 2% نقد رعایت (Discount) دی۔ بقایا رقم کے لیے سنیل نے ارون کے حق میں 20 دن کی مدت کا ایک اقراری نوٹ لکھا۔ ادائیگی کی تاریخ پر چونکہ عام چھٹّی تھی اس لیے ارون نے بل کو تحویل پذیر دستاویزی قانون کے تحت پیش کیا جس کی ادئیگی سنیل نے کردی۔ بتائیے، ارون نے کس تاریخ پر اقراری نوٹ پیش کیا اور مندرجہ بالا لین دین کو ارون اور سنیل کی کتابوں میں درج کریں۔
8جنوری 2016 کو درشن نے ورون کو 40,000 روپے کا مال بیچا اور ورون پر ایک بل دو ماہ کی مدّت کا لکھا۔ ورون نے بل منظور کر کے درشن کو واپس کر دیا۔ ادائیگی کی تاریخ پر ورون نے بل کی ادائیگی کر دی۔ مندرجہ ذیل صورت میں درشن اور ورون کی کتابوں میں ضروری جرنل اندراجات کریں۔
  • جب درشن نے بل کو ادائیگی کی تاریخ تک اپنے پاس رکھا۔
  • جب درشن بل کو فوراً 6% سالانہ کی در سے بینک سے بھُنا لیتا ہے۔
  • جب درشن فوراً بل کا بیچان اپنے لین دار سریش کے حق میں کر دیتا ہے۔
  • جب درشن بل کو ادائیگی کی تاریخ سے تین دن پہلے بینک میں جمع ہونے دیتا ہے۔
  • بنسل ٹریڈرس اپنے یہاں سے مال کی خریداری پر قیمت فہرست کی 10% تجارتی چھوٹ یا رعایت (Discount) دیتی ہے۔ موہن ٹریڈرس جو ایک خوردہ فروش ہے، نے بنسل ٹریڈرس سے مندرجہ ذیل رقم کی خریداری کی۔
تاریخ رقم
روپے
21 دسمبر 2005 1,000
26 دسمبر 2005 1,200
28 دسمبر 2005 2,000
31 دسمبر 2005 5,000
مندرجہ بالا سبھی خریداروں کے لیے موہن ٹریڈرس نے بنسل ٹریڈرس کے حق میں 30 دن کی مدّت کے اقراری نوٹ لکھے۔ 21دسمبر 2005 کو ہوئی بکری کے عوض ملے اقراری نوٹ کو بنسل ٹریڈرس نے ادائیگی کی تاریخ تک اپنے پاس رکھا۔ 26.12.2005 کو لکھا گیا اقراری نوٹ بنسل ٹریڈرس نے 12% سالانہ کی در سے بینک سے بھُنا لیا۔ 28 دسمبر 2005 کو لکھے گئے اقراری نوٹ کا بیچان اپنے لین دار ڈریم سوپ کے حق میں 1,900 روپے کی خریداری کے بدلے مکمل تصفیۂ حساب کے طور پر کر دیا۔ 31 دسمبر 2005 کو لکھے گئے اقراری نوٹ کو بنسل ٹریڈرس نے 8جنوری 2016کو بینک میں جمع ہونے بھیج دیا۔ موہن ٹریڈرس نے سبھی اقراری نوٹوں کی ادئیگی مقرّرہ وقت پر کردی۔ مندرجہ بالا لین دین سے متعلق ضروری جرنل اندراجات بنسل ٹریڈرس اور موہن ٹریڈرس کی کتابوں میں کریں اور موہن ٹریڈرس کا کھاتہ بنسل ٹریڈرس کی کتابوں میں اور بنسل ٹریڈرس کا کھاتہ موہن ٹریڈرس کی کتابوں میں بنائیں۔

01 فروری 2006 کو نارائن نے رویندرن سے 25,000 روپے کا مال خریدا۔ رویندرن نے اس رقم کا ایک بل 30 دن کی مدّت کا نارائن پر لکھا۔ ادائیگی کی تاریخ پر نارائن نے اپنی منظوری کو مسترد کر دیا۔ مندرجہ ذیل صورت میں رویندرن اور نارائنن کی کتابوں میں ضروری جرنل اندراجات کریں۔
  • جب رویندرن بل کو ادائیگی کی تاریخ تک اپنے پاس رکھتا ہے۔
  • جب رویندرن بل کو فوراً 6% سالانہ کی در کی بینک سے بھُنا لیتا ہے۔
  • جب رویندرن بل کا بیچان اپنے لین دار گنیش کو کرتا ہے۔
  • جب رویندرن بل کو ادائیگی کی تاریخ سے کچھ دن پہلے بینک میں جمع ہونے کے لیے بھیج دیتا ہے۔
10۔ 13 فروری 2006 کو روی نے سُدرشن کو 40,000 روپے کا مال بیچا۔ روی نے سدرشن پر چار بل لکھے۔ پہلا بل 5,000 روپے کا ایک ماہ کی مدّت کا، دوسرا بل 10,000 روپے کا 40 دن کی مدّت کا، تیسرا بل 12,000 روپے کا تین ماہ کی مدّت کا اور چوتھا بل بقایا رقم کا 19 دن کی مدّت کا۔ سُدرشن نے بل منطور کر کے روی کو واپس کر دیے، روی نے پہلا بل اپنے بینک سے %6 سالانہ کی در سے بھُنا لیا۔ اس نے دوسرے بل کا بیچان اپنے لین دار مشتاق کے حق میں 10,200 روپے کے قرضے کی مکمل ادائیگی میں کر دیا۔ تیسرا بل روی نے ادائیگی کی تاریخ تک اپنے پاس رکھا۔ روی نے چوتھا بل ادائیگی کی تاریخ سے پانچ دن پہلے بینک میں جمع ہونے بھیج دیا۔ ادائیگی کی تاریخ پر سُدرشن نے روی کو % 12سالانہ کی شرح سود کے ساتھ چاروں بلوں کی نقد ادائیگی کر دی۔ روی، سُدرشن، مُشتاق اور بینک کی کتابوں میں مندرجہ بالا لین دین کے ضروری جرنل اندراج کریں۔ اس کے ساتھ روی کی کتابوں میں سُدرشن اور مشتاق کا کھاتہ بھی بنائیے۔
11۔ 01 جنوری 2006 کو نیہا نے مسکان کو 20,000 روپے کا مال فروخت کیا اور اُس پر ایک بل دو ماہ کی مدّت کا لکھ دیا۔ ادائیگی کی تاریخ سے ایک ماہ پہلے مسکان نے%  12سالانہ کی چھوٹ (Rebate) سے بل کی قبل از وقت ادائیگی کی نیہا سے درخواست کی۔ نیہا نے مسکان کی درخواست مانتے ہوئے بل کی قبل ازوقت ادائیگی قبول کرلی۔ نیہا اور مسکان کی کتابوں میں جرنل اندراجات کریں۔
12۔ 15 جنوری 2006 کو رگھو نے 35,000 روپے کی مالیت کا سامان دیویندر کو فروخت کیا اور اُس پر تین بل بنائے۔ پہلا بل 5,000روپے کا ایک ماہ کی مدّت کے لیے، دوسرا بل 20,000 روپے کا تین ماہ کی مدّت کا اور تیسرابل بقایا رقم کا چار ماہ کی مدّت کا۔ رگھو نے پہلے بل کا بیچان اپنے لین دار دیوان کے حق میں 5,200 روپے کے قرضے کی مکمل ادائیگی کے بدلے میں کر دیا۔ دوسرا بل رگھو نے % 6سالانہ کی در سے بھُنالیا اور تیسرا بل رگھو نے ادائیگی کی تاریخ تک اپنے پاس رکھا۔ ادائیگی کی تاریخ پر دیویندر نے بل مسترد کر دیا اور بینک نے ناظری اخراجات کے 30 روپے ادا کیے۔ ادائیگی کی تاریخ سے چار دن پہلے رگھو نے تیسرا بل بینک میں جمع ہونے بھیج دیا۔ تیسرا بل بھی دیویندر نے مسترد کر دیا اور بینک نے ناظری اخراجات کے 200 روپے ادا کیے۔ بلوں کے استرداد (Dishonour) کے پانچ دن بعد دیوبندر نے پوری قابلِ ادا رقم 1,000 روپے کے سود کے ساتھ رگھو کو ادا کردی۔ اس مقصد کے لیے دیویندر نے اپنے بینک سے قلیل مدّتی قرض (Loan) حاصل کیا۔
رگھو، دیویندر اور دیوان کی کتابوں میں ضروری جرنل اندراج کریں۔ ان کے ساتھ دیویندر کا کھاتہ رگھو کی کتابوںمیں اور رگھو کا کھاتہ دیویندر کی کتابوں میں بنائیں۔
13۔ وِمَل نے 15 جنوری 2006 کو 25,000 روپے کا مال کمل سے خریدا اور کمل کے ذریعے دو ماہ کی مدّت کا لکھا گیا ایک بل منظور کر لیا۔ ادائیگی کی تاریخ پر بل پیش کیا گیا اور وِمل نے بل مسترد کر دیا۔
ومل اور کمل کی کتابوں میں ضروری جرنل اندراجات کریں جب کہ
  • کمل نے بل کو ادائیگی کی تاریخ تک اپنے پاس رکھا۔
  • کمل نے فوراً بل کو 6% سالانہ کی در سے بینک سے بھُنا لیا۔
  • کمل نے بل کا بیچان اپنے لین دار شمسترد کے حق میں کر دیا۔
  • ادائیگی کی تاریخ سے پانچ دن پہلے کمل نے بل کو بینک میں جمع ہونے بھیج دیا۔
14۔ 17 جنوری 2006 کو عبداللہ نے طاہر کو 18,000 روپے کا مال فروخت کیا۔ اُس نے طاہر پر اس رقم کا ایک بل 45 دن کی مدّت کے لیے لکھا۔ اُسی تاریخ پر طاہر نے بل منظور کرکے عبداللہ کو واپس کردیا۔ ادائیگی کی تاریخ پر عبداللہ نے بل پیش کیا اور طاہر نے اُسے مسترد کر دیا۔ عبداللہ نے 40 روپے کے ناظری اخراجات ادا کیے۔ بل کے استرداد (Dishonour) کے پانچ دن بعد طاہر نے اپنی منظوری کے طور پر اپنے قرضے کی ادائیگی سود اور ناظری اخراجات سمیت 18,700 روپے کردی۔
عبداللہ اور طاہر کی کتابوں میں ضروری جرنل اندراجات کریں۔ ساتھ ہی طاہر کا کھاتہ عبداللہ کی کتابوں میں اور عبداللہ کا کھاتہ طاہر کی کتابوں میں بنائیں۔
15۔ 02 مارچ 2006 کو آشا نے نِشا کو 19,000 روپے کا مال بیچا۔ 4,000 روپے نشانے فوراً ادا کر دیے اور بقایا رقم کا ایک بل آشاکا لکھا ہوا تین ماہ کی مدّت کا منظور کر لیا۔ آشانے بل کو فوراً بینک سے بھُنا لیا۔ ادائیگی کی تاریخ پر نشانے بل مسترد کر دیا اور بینک نے 30 روپے ناظری اخراجات کے ادا کیے۔
16۔ 02، فروری 2006 کو ورمانے شرما سے 17,500 روپے کا مال خریدا۔ ورما نے 2,500 روپے فوراً ادا کر دیے اور بقایا رقم کا ایک اقراری نوٹ 60 دن کی مدّت کا شرما کو دے دیا۔ شرما نے وہ اقراری نوٹ فوراً اپنے لین دار گُپتا کو 15,400 روپے کے قرضے کے مکمل ادائیگی کے طور پر بیچان کر دیا۔ ادائیگی کی تاریخ پر گُپتا نے بل کو پیش کیا جسے ورما نے مسترد کر دیا اور گپتا نے 500 روپے ناظری اخراجات کے ادا کیے۔اُسی تاریخ پر گپتا نے بل کے استرداد کی اطلاع شرما کو دی شرما نے گپتا کے قرضے کی ادائیگی 15,500 روپے کے چیک کے ذریعے کردی جس میں ناظری اخراجات اور سود شامل تھا۔ ورما نے شرما کے قرضے کی اسی رقم کی ادائیگی چیک سے کر دی۔
شرما، گپتا اور ورما کی کتابوں میں مندرجہ بالا لین دین کے ضروری جرنل اندراجات کریں اور ساتھ میں ورما اور گُپتا کا کھاتہ شرما کی کتابوں میں بنائیں، شرما کا کھاتہ ورما کی کتابوں میں اور شرما کا کھاتہ گپتا کی کتابوں میں بنائیں۔
17۔ 1.3.2006 کو لِلی نے میتھو کو 12,000 روپے کا مال بیچا اور اس رقم کا ایک بل دو ماہ کی مدّت کا میتھیو پر لکھا۔ لِلی نے فوراً بل کو % 9سالانہ کی در سے اپنے بینک سے بھُنا لیا۔ ادائیگی کی تاریخ پر غیر کاروباری دن (چھُٹی) تھا۔ اس لیے لِلی نے بل کو ہندوستانی تحویل پذیر دستاویز قانون 1881 کی وضاحت کے تحت پیش کیا۔ میتھیو نے بل مسترد کر دیا اور لِلی نے 45 روپے کے ناظری اخراجات ادا کیے۔ میتھیو نے بل کے مسترد کے پانچ دن بعد لِلی کے قرضے کی ادائیگی چیک کے ذریعے کر دی جس میں % 12سالانہ در کا سود بھی بل کی مدّت کے مطابق شامل تھا۔ للی اور میتھیو کی کتابوں میں مندرجہ بالا اندراجات درج کریں۔ للی کی کتابوں میں میتھیو کا کھاتہ تیار کریں اور میتھیو کی کتابوں میں للی کا کھاتہ تیار کریں۔ 
18۔ 1.2.2006 کو کپل نے 21,000 روپے کا مال گورو سے خریدا اور اس رقم کا ایک بل گورو کا لکھا ہوا منظور کر لیا۔ بل ایک ماہ کے بعد قابل ادا تھا۔ 25.02.2006 کو گورو نے بل بینک میں جمع ہونے بھیج دیا۔ ادائیگی کی تاریخ پر بینک نے بل کو پیش کیا۔ کپل نے بل مسترد کر دیا اور بینک نے 100 روپے ناظری اخراجات کے ادا کر دیے۔
مندرجہ بالا لین دین کے جرنل اندراجات کپل اور گورو کی کتابوں میں کریں۔
19۔ 14 فروری 2006 کو رشمی نے الکا کو 7,500 روپے کا مال فروخت کیا۔ الکا نے 500 روپے نقد ادا کیے اور بقایا رقم کا ایک بل رشمی کے ذریعے دو ماہ کی مدّت کا لکھا گیا منظور کر لیا۔ 10 اپریل 2006 کو پیسوں کی کمی کی وجہ سے الکا رشمی کے پاس پہنچی اور بل  کو منسوخ کرنے کی درخواست کی۔ اس کے ساتھ اُس نے رشمی کو 2,000 روپے نقد لینے اور بقایا رقم کا ایک نیا بل 500 روپے کے سود کے ساتھ لکھنے کی درخواست کی۔ رشمی نے الکا کی درخواست مانتے ہوئے اس پر ایک نیا بل بقایا رقم کا دوماہ کی مدّت کے لیے لکھوادیا۔ نیا بل الکا نے منظور کر لیا۔ ادائیگی کی تاریخ پر الکا نے اس نئے بل کی ادائیگی کر دی۔رشمی اور الکا کی کتابوں میں ضروری جرنل اندراجات کریں اور الکا کا کھاتہ رشمی کی کتابوں میں اور رشمی کا کھاتہ الکا کی کتابوں میں بنائیں۔
20۔ 01 دسمبر 2005 کو نکھِل نے 23,000 روپے کا مال اکھِل کو بیچا۔ اس نے ایک بل آف ایکسچینج 2 ماہ کی مدّت کا اکھِل پر لکھا جسے اکھِل نے منظور کر کے نکھِل کو واپس کر دیا۔ نکھِل نے بل کو 12% سالانہ کی در سے فوراً اپنے بینک سے بھُنا لیا۔ ادائیگی کی تاریخ پر اکھِل نے بل مسترد کر دیا اور ناظری اخراجات کے 100 روپے بینک نے ادا کیے۔ اکھِل نے نکھِل سے نیا بل 10% سالانہ شرح سود کے ساتھ اس پر لکھنے کی درخواست کی جسے نکھِل نے منظور کر لیا۔ نیا بل دو ماہ کی مدّت پر قابلِ ادا تھا۔ دوسرے بل کی ادائیگی کی تاریخ سے ایک ہفتہ پہلے اکھِل نے دوسرے بل کو منسوخ کرنے کی درخواست کی۔ اُس نے 10,000 روپے فوراً نقد ادا کیے اور ایک تیسرا بل 500 روپے کے سود کے ساتھ لکھنے کی درخواست کی نکھِل نے اکھِل کی درخواست مان لی۔ تیسرے بل کی مدّت ایک ماہ تھی۔ اکھِل نے تیسرے بل کو ادائیگی کی تاریخ پر ادا کردیا۔ نِکھل اور اکھِل کی کتابوں میں ضروری جرنل اندراجات کریں ساتھ ہی اکھِل کا کھاتہ نکھِل کی کتابوں میں اور نکھِل کا کھاتہ اکھِل کی کتابوں میں بنائیں۔
21۔ 01 جنوری 2006 کو وبھا نے 18,000 روپے کا مال سدھا کو فروخت کیا اور ایک بل اس رقم کا دو ماہ کی مدّت کا سُدھا پر لکھ دیا۔ سُدھا نے وِبھا کے ڈرافٹ کو منظور کیا اور منظوری کے بعد وبھا کو واپس کر دیا۔ وِبھا نے فوراً اس بل کا بیچان اپنی لین دار گیتا کے حق میں کر دیا۔ پیسہ کی کمی کی وجہ سے ادائیگی کی تاریخ سے پانچ دن پہلے سُدھا نے وِبھا سے بل منسوخ کرنے کی درخواست کی۔ اس کے ساتھ اس نے ایک نیا بل 200 روپے کے سود کے ساتھ اُس پر لکھنے کی درخواست کی جسے وبھا نے مان لیا۔ وبھا نے وہ بل گیتا سے لے کر اس کی ادائیگی گیتا کو نقد کر دی اور بل منسوخ کر دیا۔ اس کے بعد سُدھا کے کہنے کے مطابق اس نے اس پر ایک نیا بل لکھ دیا۔ نیا بل ایک ماہ بعد قابلِ ادائیگی ہونا تھا۔ ادائیگی کی تاریخ پر سُدھا نے بل کی رقم ادا کر دی۔ وبھا کی کتابوں میں ضروری جرنل اندراجات کریں۔
22۔ 1.1.2006 کو گوتم کے لین داروں اور دین داروں کی حالت مندرجہ ذیل تھی:
دین دار لین دار
روپے روپے
بابو 5,000
چندرکلا 8,000
کِرن 13,500
انیتا 14,000
انجو 5,000
شیبا 12,000
منجو 6,000
جنوری ماہ 2006 میں مندرجہ ذیل لین دین کیے گئے:
02 جنوری
4,800 روپے کی مکمل ادائیگی کے لیے بابو پر دو ماہ کی مدّت کے لیے ایک بل لکھا گیا۔ بابو نے بل منظور کر کے 5.1.2006 کو واپس کر دیا۔
04 جنوری
بابو کے بل کو 4,750 روپے میں بھُنا لیا گیا۔
08 جنوری
چندرکلا نے تین ماہ کی مدّت کے لیے 8,000 روپے کا ایک اقراری نوٹ (Promissory Note) بھیجا۔
10 جنوری
چندر کلا سے موصول اقراری نوٹ کو 79,000 روپے میں بھُنا لیا۔
12 جنوری
شیبا کا ڈرافٹ دو ماہ کی مدّت کے لیے منظور کیا۔
22 جنوری
انیتا نے دو ماہ کی قابلِ ادا تاریخ کا ایک اقراری نوٹ بھیجا۔
23 جنوری
انیتا کے اقراری نوٹ کا بیچان منجو کے حق میں کر دیا۔
25 جنوری
انجو کا ڈرافٹ تین ماہ کی قابلِ ادا مدّت کے لیے منظور کیا۔
29 جنوری
کِرن نے 2,000 روپے نقد ادا کیے اور بقایا رقم کا ایک اقراری نوٹ تین ماہ کی مدّت کا بھیجا۔
مندرجہ بالا لین دین کو متعلقہ معاون کتابوںمیں درج کرو۔
23۔ 01 جنوری 2006 کو ہرش نے ایک بل 10,000 روپے کا تنو کے ذریعے لکھا گیا اور موخر الذکر کی امددا کے لیے منظور کر لیا۔ تنو نے یہ بل اُسی دن % 8سالانہ در سے بھُنا لیا۔ ادائیگی کی تاریخ پر تنو نے ایک چیک ہرش کو بھیج دیا تاکہ ہرش ادائیگی کر سکے۔ ہرش نے اپنی منظوری کی ادائیگی کر دی۔
تنو اور ہرش کی کتابوں میں جرنل اندراجات کریں۔
24۔ ریتیش اور نینا کو عارضی طور پر پیسے کی ضرورت تھی۔ 01 اگست 2005 کو ریتیش نے نینا پر ایک بل 12,000 روپے کا 4 ماہ کی مدّت کا لکھا۔ نینا نے بل منظور کر کے ریتیش کو واپس کر دیا۔ ریتیش نے بل کو%  8سالانہ در سے بھُنا لیا اور بھُنائے گئے بل کی آدھی رقم نینا کو بھیج دی۔ ادائیگی کی تاریخ پر ریتیش نے ضروری رقم نینا کو بھیج دی اور نینا نے بل کی ادائیگی کردی۔ فریقین کی کتابوں میں اس لین دین کا جرنل اندراج کریں۔
25۔ 01 جنوری 2006 کو بھانو اور نمن نے ایک دوسرے پر 8,000 روپے کا بل تین ماہ کی مدّت کا آپسی مفاد کے لیے لکھا۔ 02 جنوری کو انہوں نے اپنے بل کو اپنے اپنے بینکوں سے % 5سالانہ در سے بھُنا لیا۔ ادائیگی کی تاریخ پر دونوں کو ایک دوسرے کی منظوری مل گئی بھانو اور نمن کی کتابوں میں جرنل اندراج کریں۔
26۔ 01 نومبر 2005 کو آپسی امداد کی غرض سے سونیا نے ایک بل 15,000 روپے کا تین ماہ کی مدّت کا سنی پر لکھا۔ سنی نے بل منظور کر کے سونیا کو واپس کر دیا۔ سونیا نے اسے اپنے بینک سے % 6سالانہ در سے بھُنا لیا۔ حاصل شدہ رقم کو سونیا اور سنی نے بالترتیب 2/3 اور 1/3 کے تناسب سے بانٹ لیا۔ ادائیگی کی تاریخ پر سونیا نے اپنے حصّے کی رقم سنی کو بھیج دی لیکن وہ بل کی ادائیگی کرنے میں ناکام رہا اور آخر کار سونیا کو ادائیگی کرنی پڑی۔ سنی نے اس رقم کی 100 روپے کے سود کے ساتھ ایک نئی منظوری سونیا کو دے دی۔ سنی نے اپنی دوسری منظوری کو قابلِ ادائیگی تاریخ پر ادا کر دیا۔ سونیا اور سنی کی کتابوں میں ضروری جرنل اندراجات کریں۔

اپنی فہم کی جانچ کریں- جوابات

اپنی فہم کی جانچ کریں -I

(i) غلط (ii) صحیح (iii) غلط (iv) غلط (v) صحیح
(vi) غلط (vii) صحیح (viii) غلط (ix) غلط (x) غلط

اپنی فہم کی جانچ کریں - II

(i) وعدہ (ii) بیچان (iii) وعدہ کرنے والا (iv) بیچان کنندہ
اپنی فہم کی جانچ کریں -III
(i) تحویل پذیر (ii) مرتب، مرتب الیہ (iii) دین دار، لین دار (iv) تین (v) دو
(vi) مرتب الیہ (vii) ہُنڈی (viii) تکمیل مدت (Maturity)

نوٹ