Skip to content
Riyazee-001

مالی گوشوارے I-

(FINANCIAL STATEMENTS-I)


9

 سیکھنے کے مقاصد 

اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ 

    • مالی گوشواروں کی نوعیت بیان کر سکیں گے 

    • کاروبار کے مختلف حصہ داروں کی معلوماتی ضرورتوں کی شناخت کر سکیں گے 

    • اصل سرمایہ، آمدنی سے کئے جانے والے اخراجات اور وصولیابیوں کے درمیان امتیازکر سکیں گے 

    •تجارتی اور نفع ونقصان کھاتے کے تصوراور اس کو تیار کرنے کی وضاحت کر سکیں گے 

    •  کل منافع ،خالص منافع اور تشفیلی منافع کی نوعیت بیان کر سکیں گے 

    •  بیلنس شیٹ (Balance Sheet)کے تصور اور اس کو تیار کرنے کے بارے میں بتا سکیں گے

    • اثاثوں اور واجبات کی ترتیب اور زمرہ بندی کی وضاحت کرسکیں گے 

    • کسی تنہا ملکیت والی فرم کی آمد وخرچ کا گوشوارہ اور نفع ونقصان کاکھاتہ تیارکرسکیں گے

   •  ابتدائی اندراج (Opening Entry)کرسکیں گے


آپ جان چکے ہیں کہ مالی کھاتے تیار کرنا ایک متعین اور سلسلہ وار کام ہے جو روز نامچہ(جرنل)، لیجر پوسٹنگ اور بیلنس شیٹ کی تیاری (پہلے مرحلے میں توازن قائم کرنا اور اختصار کرنا) سے شروع ہوتا ہے ۔اس باب میں ہم اگلے مرحلے یعنی مالیاتی گوشواروںکی تیاری کے بارے میں بتائیں گے اور کاروبار سے وابستہ مختلف قسم کے لوگوں کی معلوماتی ضرورتوں اور اصلی سرمایہ اور آمدنی کی مدات کے درمیان فرق اور ان کی اہمیت پر گفتگو کریں گے اور ساتھ ہی مالیاتی گوشواروں کی تیاری اور ان کی نوعیت کے بارے میں بات کریں گے ۔

 9.1  کاروبار سے وابستہ لوگ اور ان کی معلوماتی ضرورتیں 

باب اول (مالیاتی حساب وکتاب،حصہ اول) کو ذہن میں لائیں تو آپ کو یا د آجائے گا کہ کسی کاروبار کا مقصد اس سے وابستہ تمام لوگوں یا حصہ داروں کو با معنیٰ معلومات بہم پہنچانا ہے تاکہ یہ لوگ صحیح فیصلے کر سکیں۔ حصہ دار یعنی (Stakeholder) کاروبار سے وابستہ کوئی بھی شخص ہو سکتاہے خواہ اس کی وابستگی مالی ہو یا غیر مالی۔ یہ وابستگی فعال (Active)بھی ہو سکتی ہے اور غیرفعال (Passive) بھی ۔یہ وابستگی بلاواسطہ بھی ہوسکتی ہےاور بالواسطہ (Indirect) بھی۔ کاروبار کے مالک اور کاروبار کو ادھار دینے والے لوگوں کی شرکت یا وابستگی مالی ہوتی ہے ۔دوسری طرف حکومت ،صارف اور محقق کی کاروبار میں شرکت غیرمالی ہوتی ہے یعنی ان کا کوئی پیسہ داؤ پر لگا نہیں ہوتا۔ حصہ داروں کو استعمال کنندہ بھی کہا جاتا ہے۔ جن کو دوزمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے ، یعنی داخلی اور خارجی ۔اس کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ وہ کاروبار کے اندر ہیں یا اس سے باہر ہیں۔ کاروبار میں شامل ہونے کے معاملے میں تمام استعمال کنندگان کے مقاصد مختلف ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں کاروبار سے متعلق ان کی معلوماتی ضرورتیں بھی الگ الگ ہوتی ہیں ۔مختصراً یہ کہ مختلف استعمال کنندگان کی کاروبار کی مالیات کے بارے میں معلوماتی ضرورتیں مختلف النوع ہوتی ہیں ۔
مثال کے طور پر ہم نے ذیل میں مقاصد اور ان مقاصد کے لحاظ سے ہی  ان کی معلوماتی ضروریات کی صراحت کرتے ہوئے استعمال کنندگان کو داخلی وخارجی زمروں میں درجہ بند کیا ہے ۔

نام 

داخلی /خارجی
استعمال کنندگان 
کاروبار میں حصہ لینے کے مقاصد

حساب کتاب سے متعلق معلوماتی ضروریات

موجودہ مالکان داخلی دولت بڑھانے کی خاطر کاروبار
میں سرمایہ کاری ۔
گزشتہ حسابی مدت کے دوران کاروبار کے نفع کی حد اور 
اثاثہ جات ؍واجبات کی موجودہ کیفیت جاننا چاہتے ہیں۔
منیجر




داخلی




اپنی پیشہ ورانہ زندگی کی ترقی کے 
لئے یہ لوگ بنیادی طور پراپنے 
مالکان (اِیمپلایر) کے ایجنٹ کے 
طور پر کام کرتے ہیں ۔

مالیاتی گوشواروں کی شکل میں حساب کتاب کی 
معلومات ان لوگوں کے لئے رپورٹ کارڈ کی مانند 
ہوتی ہے ،اور انھیں منافع اور مالی کیفیت دونوں 
کے بارے میں جاننے کی دلچسپی ہوتی ہے ۔

حکومت 




خارجی 




اس کا کردار انضباطی نوعیت کا ہوتا 
ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ 
عوام کے بہترین مفاد میں قواعد 
وضوابط تیا ر کرے۔

اس کا سروکار تمام حصہ داروں کے حقو ق کا تحفظ کرنے 
سے ہے ۔حکومت چوں کہ کاروبار پر ٹیکس لگاتی ہے اس 
لئے اس کو خاص طور پر منافع کے بارے میں جاننے 
میں دلچسپی ہوتی ہے اور اس کے علاوہ بہت سی دیگر
معلومات کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔
مستقبل کا متوقع مالک 
خارجی
 وہ کاروبار میں اس امید سے شرکت کرے گا کہ سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی دولت کو بڑھا سکے ۔
اسے پچھلے منافع اور مالی کیفیت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں دلچسپی ہوتی ہے جس سے وہ مستقبل کی ممکنہ کار کردگی کا اندازہ کر سکے ۔

بینک
خارجی
بینک کا کام اصل اور سود دونوں کو محفوظ رکھناہے۔ 
بینک کو کاروباری منافع کے اطمینان بخش رہنے میں صرف اس لئے دلچسپی ہے کہ دراصل اورسود دونوں کی واپسی کی ضمانت مل جائے ۔اسے اتنی ہی فکر اس بات کی بھی ہے کہ کاروبار کے اثاثے کس طرح رکھے جا رہے ہیں۔جب زیادہ تر اثاثے نقد یا قریب قریب نقد کی شکل میں رکھے جاتے ہیں تو اسے نقدیت (Liquidity)کہا جاتا ہے۔


2
3
شکل 9.1; حسابی معلومات کے مختلف کنندگان کاتجزیہ

باکس 1 

عمل حساب داری (ٹرائل بیلنس تک)

1. ریکارڈ شدہ سودوں کی شناخت کیجئے 
 2.   مالی لین دین  کو روز نامچے (Journal) میں ریکارڈ کیجئے ۔صرف ان ہی لین دین کو ریکارڈ کیا جاتا ہے جن کی پیمائش مالی رقوم (Money) میں کی جاسکے ۔اندراج یا ریکارڈ کے مستعمل نظام کو دوہرے اندراج کا نظام کہتے ہیں ۔اس کے ذریعے ہر سودے کے دو پہلو یعنی کریڈٹ اور ڈیبٹ (وصولی اور ادائیگی)  ریکارڈ کئے جاتے ہیں ۔ایک ہی طرح کے باربار کئے گئے سودوں کو ذیلی کھاتوں میں ریکارڈ کیا جاتا ہے ،جنہیں خاص روزنا مچے (Special Journal)بھی کہا جاتا ہے۔ تمام سودوں کو روز نامچے میں ریکارڈ کرنے کے بجائے انھیں ذیلی روز نامچوں اور با قاعدہ روز نامچے (Journal Proper) میں ریکارڈ کیا جاتا ہے ۔مثا ل کے طور پر وصولی کی تما م فروخت ،فروخت کے کھاتے میں لکھی جائے گی اور ادائیگی کی تمام خریداریاں خرید کے کھاتے میں لکھی جائیں گی۔ ذیلی کھاتوں کی دیگر مثالیں ہیں واپس آئی اشیاء کی بھی (Return Inwards Book) اور واپس کی گئی اشیاء کی بھی(Return Outwards Book) دوسرا خا ص کھاتہ کیش بک ہے جس میں تمام نقد اور بینک کے ساتھ لین دین ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔ ایسے اندراجات جو ان میں سے کسی بھی کھاتے میں نہ لکھے جائیں انھیں ایک باقی ماندہ روز نامچے میں ریکارڈ کیا جاتا ہے جسے با قاعدہ روز نامچہ  کہتے ہیں۔
 3   مذکورہ بالا کھاتوں کے اندراجات کو بہی کھاتے(Ledger)میں متعلقہ حسابات کے تحت درج کیا جاتا ہے ۔
4.  حسابات کا موازنہ کیا جاتا ہے اور انھیں ایک تفصیلی گوشوارے میں درج فہرست کیا جاتا ہے جسے ٹرائل  بیلنس (Trial Balance) کہا جاتا ہے ۔اگر وصولی اور ادائیگی کی رقوم برابر ہوں تو حسابات کو ریاضیات کی غلطیوں سے پاک سمجھا جاتا ہے ۔
5. ٹرائل بیلنس مالی گوشوارے یعنی ٹریڈنگ اور نفع ونقصان کاحساب اور بیلنس شیٹ تیار کرنے کی بنیاد ہیں۔ 

9.2  اصل سرمایہ اور آمدنی میں فرق 

حساب کتاب کے کام میں اصل اور آمدنی کے درمیان فرق کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ ٹریڈنگ اور نفع ونقصان کا کھاتہ اور بیلنس شیٹ کے تیار کرنے میں اس امتیاز کے اہم مضمرات ہوتے ہیں ۔  آمدنی کی مدیں خرید و فروخت اور نفع ونقصان کے کھاتہ کا حصہ ہوتی ہیں۔ اصل پونجی کی مدیں بیلنس شیٹ تیار کرنے میں مددگار ہوتی ہیں۔

9.2.1  خرچ (Expenditure)

جب بھی کسی ادائیگی اور/ یا کسی چیز پر موجود واجبات کے تصفیہ کو چھوڑ کر کسی مقصد کے لئے کوئی خرچہ کیا جائے توا سے خرچ (Expenditure) کہا جاتا ہے ۔خرچ اس نقطۂ نظر سے کئے جاتے ہیں کہ ان سے کا روبار کو فائدہ ہوگا۔ کسی بھی خرچ یا صرفہ کا فائدہ ایک حسابی سال کے لیے بھی ہوسکتا ہے اور ایک سے زائد حسابی سالوں کے لیے بھی۔اگر کسی صرفہ یا خرچ کا فائدہ ایک حسابی سال کی مدت کے لئے ہوتا ہے تو اس کے لئے آمدنی کے خرچ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے ۔ ایسے خرچ عام طور پر کاروبار کے روزمرہ کے کاموں پر کئے جاتے ہیں۔ اس کی ایک مثال تنخواہوں اور کرایہ وغیرہ کی ادائیگیاں ہو سکتی ہیں ۔جاری  مدت کے دوران ادا کی گئی تنخواہوں سے اگلے حسابی سال کی مدت میں کاروبار کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا کیوں کہ مزدورموجودہ حسابی سال کے دوران ہی اپنا کام یا اپنی وہ ذمہ داری پوری طرح انجام دے لیں گے جس کی انھوں نے تنخواہ لی ہے ۔اگر ان سے اگلے سال بھی کام کرانا ہے تو انھیں اس کی تنخواہیں بھی دینی ہوں گی۔ اگر خرچ کا فائدہ ایک حسابی سال کے بعد بھی ہوتا ہے تو اسے ’’مصارف اصل‘‘ یا ’’مصارف سرمایہ ‘‘ (Capital Expenditure) کہتے ہیں ۔اس کی ایک مثال کاروبار کے استعمال کے لئے فرنیچر حاصل کرنا ہے ۔ رواں حسابی سال میں خریدا ہوا فرنیچر آنے والے کئی حسابی سالوں تک فائدہ پہنچاتا رہے گا ۔مستقل نوعیت کے اثاثے حاصل کرنے کے لئے ادائیگی یا قائم اثاثوں میں اضافہ توسیع، مصارف اصل کی سادہ مثالیں ہیں۔
مصارف اصل اور مصارف آمدنی کے درمیان امتیاز کرنے کے لئے مندرجہ ذیل نکات قابل غور ہیں :
    (a)  مصارف اصل کا روبار کی کمانے کی استعداد کو بڑھاتے ہیں ،جب کہ مصارف آمدنی کمانے کی استعداد کو بر قرار رکھنے کے لئے کئے جاتے ہیں ۔
    (b)  مصارف اصل کاروبار کے کاموں کو چلاتے رہنے کے مقصد سے مستقل نوعیت کے اثاثہ جات حاصل کرنے کے لئے کئے جاتے ہیں ،جب کہ مصارف آمدنی کاروبار کے روزمرہ کے کاموں کو چلانے کے لئے کئے جاتے ہیں ۔
    (c) صرفہ آمدنی عموماً ایک متواتر خرچ ہوتا ہے اور صرفۂ اصل اپنی نوعیت کے مطابق باربار نہ ہونے والا خرچ ہے ۔
    (d)  صرفۂ اصل ایک حسابی سال سے زیادہ عرصہ تک فائدہ پہنچاتا رہتا ہے ،جب کہ صرفۂ آمدنی (Revenue Expenditure) عام طور پر ایک حسابی سال تک ہی فائدہ مند ہوتا ہے ۔
    (e)  صرفۂ اصل بیلنس شیٹ میں (فرسودگی کی شرط کے ساتھ) ریکارڈ کیا جاتا ہے جب کہ صرفۂ آمدنی خرید وفروخت اور نفع ونقصان کے کھاتے میں (پیشگی اداشدہ اور بقایا رقوم کی تعدیل کی شرط پر)منتقل کر دیا جاتا ہے ۔
کبھی کبھی مصارف اصل  اور مصارف آمدنی کے درمیان خط امتیاز کھینچ کر انھیں دو الگ الگ زمروں میں بانٹنا مشکل ہو جاتا ہے۔ عام طور پر اشتہارات  پر ہونے والے خرچ کے لئے صرفۂ آمدنی کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے ۔کسی نئی چیزکے اشتہار وغیرہ پرکیا گیا بڑا خرچ کاروباری فرم کو ایک حسابی مدت سے زیادہ عرصہ تک فائدہ پہنچا سکتا ہے ۔آمدنی کے اس طرح کے خرچے جو ممکنہ طورپر ایک حسابی مدت سے زیادہ وقت تک فائدہ مند ہوسکتے ہیں آئندہ کے لئے ملتوی مصارف  آمدنی کہلاتے ہیں ۔
یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ خرچ ایک وسیع تر اصطلاح ہے جس میں اخراجات کے ساتھ مصارف بھی شامل ہوتے ہیں۔مصارف (Expenditures) اور اخراجات (Expenses) کے درمیان بھی فرق ہے۔ ایک کاروباری فرم کی جانب سے خرچ کی گئی کوئی بھی رقم صرفہ ہے جب کہ وہ خرچے جن کے بارے میں یہ مان لیا جائے کہ وہ رواں سال کے دوران استعمال ہوئے وہ رواں سال کے اخراجات کہلاتے ہیں ۔
مصارف کو رواں سال کا خرچ سمجھا جاتا ہے اور ان کو خرید وفروخت اور نفع ونقصان کے کھاتے میں دکھایا جاتا ہے۔ لہٰذا کاروباری فرم نے جو تنخواہیں ادا کی ہیں انھیں سال رواں کے اخراجات سمجھا جائے گا۔مصارف اصل بھی بالآخر آمدنی کے گوشوارے  میں شامل کئے جاتے ہیں اور انھیں ایک حسابی مدت سے زیادہ مدت پر پھیلا دیا جاتا ہے ۔اس لئے 50,000 روپے کی قیمت کا فرنیچر اگر پانچ سال استعمال ہونے کی امید ہے تو اسے 10,000 روپے فی سال کی شرح سے اخراجات میں شمار کیا جائے گا۔ اخراجات (Expenditure) کو تخفیف یا فرسودگی (Deprication) کا نام دیا گیا ہے۔آئندہ کے لئے ملتوی صرفۂ آمدنی صرفۂ اصل ہی ہے۔ان کے متوقع فائدوں کی مدت گزر جانے پر انھیں رد کر دیا جاتا ہے ۔

9.2.2  وصولیابیاں  (Receipts)

کاروبار کی وصولیابیوں کو بھی خرچ ہی کی طرح دیکھا جاتا ہے ۔اگر وصولیابیوں کا مطلب یہ ہے کہ پیسہ واپس کرنا واجب ہے تویہ وصولیاں اصل (Capital) کی وصولیاں مانی جائیں گی ۔اس کی مثال اس طرح دی جا سکتی ہے کہ مان لیجئے فرم کے مالک نے اضافی سرمایہ لگایا ہے یا بینک سے قرض لیا گیا ہے ۔یہ دونوں وصولیاں دوواجبات کی نشاندہی کرتی ہیں ۔پہلی تو مالک کی جسے اکوئٹی (Equity)کہا جاتا ہے اور دوسری باہر کے لوگوں کی (جنھیں دین داریاں یا واجبات) کہا جاتا ہے ۔اصل کی وصولیابی کی ایک دوسری مثال مستقل یا قائم اثاثے کی ہو سکتی ہے ،جیسے پرانی مشینری یا فرنیچر تا ہم اگر کوئی وصولیابی پیسہ لوٹانے کا بوجھ یا ذمہ داری نہیں ڈالتی ہے یا وہ کسی قائم اثاثے کی فروخت کی شکل میں نہیں ہے تو اسے آمدنی کی وصولیابی (Revenue Receipt) کا نام دیا جاتا ہے ۔فرم کی جانب سے کی گئی فروخت اور فرم کی سرمایہ کاری کا سود جو اسے ملا ہے ایسی آمدنی کی وصولیابی کی مثالیں ہیں ۔ 

9.2.3  اصل اور محاصل کے درمیان فرق کی اہمیت 

(Importance of Distinction between Capital and Revenue)

جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ خرید فروخت اور نفع ونقصان کا حساب اور بیلنس شیٹ کے تیار کرنے میں اصل اور محاصل (آمدنیوں) کی مدات میں فرق وامتیاز کی بڑی اہمیت ہوتی ہے ،کیوں کہ محاصل کی مالیت کی تمام مدات کو ٹریڈنگ اور نفع ونقصان کے حساب میں اور اصل (Capital) کی مدوں کو بیلنس شیٹ (گوشوارہ آمد وخرچ) میں دکھا یا جاتا ہے ۔اگر کسی مدکی غلط درجہ بندی کی گئی یعنی محاصل کی کسی مد کو اصل کی مد میں شمار کر لیا گیا یا پھر اس کے بر عکس کیا گیا تو نفع ونقصان کا حساب غلط ہو جائے گا ۔مثال کے طور پر کسی ایک حسابی مدت میں مجموعی آمدنی 10لاکھ روپے ہے اور دکھائے گئے اخراجات  8لاکھ روپے ہیں تو نفع کی رقم 2 لاکھ روپے ہو گی ۔ تفصیلات کی چھان بین کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ محاصل (آمدنی) کی 20,000 روپے کی ایک مد (مشینوں کی مرمت پر کئے گئے  اخراجات) کو صرفۂ اصل کے طور پر شما رکیا گیا ہے (مشینری کی قیمت میں شامل کر کے مشینری کے حساب میں سے منہا کیا گیا ہے نہ کہ مرمت کے حساب میں سے) اس لیے یہ متعلقہ مدت کے اخراجات  کا حصہ نہیں بنے گا ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس مدت کے اصل کے اخراجات  8,20,000 (آٹھ لاکھ بیس ہزار ) ہوں گے نہ کہ 8 لاکھ روپے ۔گویا صحیح منافع 1,80,000ہزار روپے ہے نہ کہ دو لاکھ روپے۔ بہ الفاظ دیگر منافع کو بڑھا کر دکھا یا گیا ہے۔ اسی طرح اگر صرفۂ اصل کو غلط طور پر صرفۂ محاصل کی صورت میں دکھایا گیا ہے (مثلاً فرنیچر کی خرید کو خرید اریوں کی مد میں رکھ کر ظاہر کیاگیا ہے تو اس کا نتیجہ ہوگا کہ منافع جات اور اثاثہ جات کم کرکے دکھائے جائیں گے اور اس طرح مالی گوشواروں سے کاروبار کے معاملات کی صحیح اور سچی تصویر ظاہر نہیں ہوگی ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہر مد کی صحیح نوعیت کی شناخت کی جائے اور کھاتے میں اسی کے مطابق اسے پیش کیا جائے ۔ یہ ٹیکس کے نقطۂ نظر سے بھی اہم ہے کیوں کہ اصل کے منافع پر محاصل کے منافع سے مختلف ٹیکس عائد کیا جاتا ہے ۔

9.3  مالیاتی گوشوارے 

یہ بات زور دے کر کہی جا چکی ہے کی فرم کے حصہ داروں یا استعمال کنندگان کی معلوماتی ضرورتیں مختلف قسم کی ہوتی ہیں ۔مخصوص استعمال کنندگان کے لئے خاص طور پر کار آمد معلومات تیار کرنے کے بجائے کاروبا ری فرم مالی تفصیلا ت کے گوشواروں کا ایک مجموعہ تیار کرتی ہے جو عمومی طور پر استعمال کنندگان کی معلومات کی تسلی کے لئے کافی ہوتا ہے ۔

مالی گوشواروں کے بنیادی مقاصد یہ ہیں  :

(a) کاروبار یعنی بزنس کی مالی کار گزاری کی صحیح اورسچی تصویر پیش کرنا ۔
(b) کاروبار کی مالی حالت  کی صحیح اور سچی تصویر پیش کرنا 
اس مقصد کے حصول کے لئے فرم مندرجہ ذیل مالی گوشوارے تیار کرتی ہے  :
1. خریدو فروخت اور نفع ونقصان کا کھاتہ 
2. آمد وخرچ کا گوشوارہ یابیلنس شیٹ
ٹریڈنگ اور نفع ونقصان کا حساب جسے آمدنی کا گوشوارہ بھی کہا جاتا ہے ،حاصل شدہ منافع یا نقصان کی شکل میں کاروبار کی کار گزاری کو ظاہر کرتا ہے ۔بیلنس شیٹ، فرم کی مالی حالت کو اثاثوں ،واجبات اور سرمایہ کی صورت میں دکھاتی ہے ۔یہ تمام گوشوارے اور حسابات ٹرائل بیلنس اور دیگر اضافی معلومات (اگر کوئی ہے) کی بنیاد پر تیار کئے جاتے ہیں ۔

مثال 1

انکت کے مندرجہ ذیلٹرائل بیلنس کوبغور دیکھئے اورحسابات کے مختلف عناصر کی صحیح توجیہ کیجئے۔ آپ دیکھیں گے کہ واجب الادا کے باقیات (Balances) یا تو اثاثوںکو یاپھر اخراجات ؍نقصانات کو ظاہر کرتے ہیں اور واجب الوصول باقیات اکوئٹی ؍ واجبات یا محاصلات اورمنافع جات کو دکھاتے ہیں ۔
انکت کا یہ ٹر ائل بیلنس پورے باب میں مالی گوشوارے تیا رکرنے کے طریق عمل کو سمجھنے کے لئے استعمال کیا جائے گا ۔

31مارچ 2017 کو انکت کا ٹرائل بیلنس

کھاتہ کا نام

لیجر فولیو
ڈیبٹ
رقم
روپے

کریڈٹ
رقم
روپے

نقد

اصل (Capital)

بینک

فروخت

اُجرتیں

قرض خواہان(Creditors)

تنخواہیں

10%ککاطویل مدتی قرض جو یکم اپریل 2016کولیا گیا


فرنیچر
وصول شدہ کمیشن
کرایہ عمارت
قرض داران (Debitors)
ناقابل وصول قرضے
خریداریاں


1,000

5,000



8,000

25,000


15,000

13,000
15,500
4,500
75,000

1,62,000







12,000




1,25,000

15,000
5,000



5,000





1,62,000






32 .32

انکت کے ٹرائل بیلنس کا تجزیہ بمطابق 31 مارچ2017

کھاتہ کانام عناصر لیجر فولیو ڈیبٹ
رقم
 روپے
کریڈٹ
 رقم
روپے
نقد اثاثہ 1,000
اصل سرمایہ اکوئٹی
1,2,000
بینک اثاثہ 5,000
فروخت محاصل 1,25,000
اُجرتیں خرچ 8,000
قرض خواہ دین داری 15,000
تنخواہیں خرچ 25,000
10%کا طویل مدتی قرض
(جو یکم اپریل 2016کو اکٹھا کیا گیا)
دین داری 5,000
فرنیچر
اثاثہ 15,000
وصول شدہ کمیشن
محاصل

5,000
کرایہ عمارت
خرچ
13,000
قرض داران
اثاثہ
15,500
ناقابل وصول قرضہ جات
خرچ
4,500
خریداریاں
خرچ
75,000


1,62,000 1,62,000

33

9.4  ٹریڈنگ اور نفع ونقصان کا کھاتہ 

ٹریڈنگ اور نفع ونقصان کا کھاتہ حسابی مدت کے دوران کاروبار کو حاصل شدہ منافع اور اٹھائے گئے نقصانات کو ٹھیک ٹھیک طور پر معلوم کرنے کے لئے تیا ر کیا جاتا ہے ۔ بنیادی طور پر یہ کاروبارکے محاصل اور اخراجات کا خلاصہ ہوتا ہے اور اس سے خالص نفع (Net profit) اور خالص نقصان کی رقمیں معلوم کرلی جاتی ہیں۔ آمدنی یا محاصل میں سے خرچ  نکالنے کے بعد بقیہ رقم منافع ہوتا ہے اگر خرچ  آمدنیوں سے زیادہ ہیں تو یہ نقصان کہلائے گا۔ ٹریڈنگ اور نفع ونقصان کا کھاتہ ایک حسابی مدت کی کارکردگی کا خلاصہ ہوتا ہے ۔محاصل اور خرچوں کے بقایاجات ٹرائل بیلنس سے ٹریڈنگ اور نفع ونقصان کھاتے میں منتقل کرکے یہ حسابی سال کی کار کردگی معلوم ہوجاتی ہے۔ ٹریڈنگ  اور نفع و نقصان کا کھاتہ بھی ایسا کھاتہ ہوتا ہے جس میں کریڈٹ اور ڈیبٹ دونوں ہوتے ہیں ۔ یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ خرچ کے باقیات (جو خرچوں  کو ظاہر کرتے ہیں ) اور نقصانات کو ٹریڈنگ  اور نفع ونقصان کی ڈیبٹ جانب منتقل کر دیا جاتا ہے ۔ اور آمدنی کے بیلنس کو (جو محاصلات ؍ منافع جات) کو ظاہر کرتا ہے ،آمد (Credit) کی جانب منتقل کر دیا جاتا ہے ۔

9.4.1  ٹریڈنگ اور نفع ونقصان کھاتے کی اہم مدیں

تجارت اور نفع و نقصان کے کھاتے میں دکھائی جانے والی مدوں کی ذیل میں وضاحت کی گئی ہے  :

ڈیبٹ سائڈکی مدیں   (Items on the debit side )

(i) ابتدائی اسٹاک :  یہ وہ اسٹاک ہے جو حسابی سال کے شروع میں موجود ہوتا ہے ۔ مال کایہ اسٹاک گزرے ہوئے سال کے مال کا ہی نیا اندراج ہوتاہے اور سال کے دوران اس میں کوئی ردو بدل نہیں کیا جا تا ۔خرید و فروخت کے حساب کھاتے میں اسے واجب الادا (Debit) کی طرف ڈالتے ہیں ،کیونکہ یہ اس مال لاگت کاحصہ ہوتا ہے جو سال رواں میں فروخت کیا گیاہے ۔
(ii)  محاصل کو منہا کرنے کے بعد خریداریاں :یہ وہ مال ہے جو دوبارہ فروخت کے لیے خریدا گیا ہے اور خرید وفروخت  (تجارت) کے کھاتے میں ڈیبٹ یا واجب  الادا (Debit Side)مد میں دکھایا جاتا ہے،اس میں نقد اور ادھار دونوںطرح کا خریدا ہوا مال شامل کر دیا جاتا ہے جو مال سپلائی کرنے والے  کو واپس کردیا جاتا ہے اس کے لئے خریداریوں کی واپسی (Purchases Return) کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے ۔اسے خریداریوں میں سے نکا ل کر کھاتے میں دکھایا جاتا ہے اور حساب کے بعد جو رقم بنتی ہے اسے خالص خریداریاں کہا جاتا ہے ۔
(iii)  اجرتیں :  اجرتوں سے مراد وہ معاوضہ ہے جو ان مزدوروں کو ادا کیا جاتا ہے جو کارخانے میں براہ راست سامان تیار کرنے میں اور مال کو چڑھانے اتارنے کے کاموں میں لگے ہوتے ہیں ۔ یہ اجرتیں ٹریڈنگ کھاتے میں ڈیبٹ کی جاتی ہیں۔
(iv)  مال کی اندر کی جانب نقل وحمل اور کرایہ بار برداری : یہ ٹرانسپورٹ کی مدوں کے اخراجات ہیں جو مال کو کاروباری مقام تک لانے پر کئے جاتے ہیں ۔ان کی ادائیگی دور ان سال کی جانے والی خریداریوں کے لئے کی جاتی ہے اور انھیں تجارتی کھاتے کے خرچ (ڈیبٹ) حصہ میں ڈال دیا جاتا ہے ۔
(v)  ایندھن؍ پانی؍ بجلی؍گیس : ان مدوں کا استعمال پیداوار کے عمل کے دوران کیا جاتا ہے اور اسی لئے یہ خرچ کا حصہ ہوتی ہیں۔
(vi)  پیکیج بنانے کا مٹیریل اور پیکنگ چارجز (Packaging material and Packing charges: مال پیک کرنے کے سامان پیکیج بنانے کے کام میں آنے والے مٹیریل پر آنے والی لاگت براہِ راست خرچ ہے کیوں کہ اس سے مراد چھوٹے ڈبے ہوتے ہیں جو فروخت کئے جانے والے  مال کا حصہ ہوتے ہیں ۔بہر حال پیکنگ کا مطلب بڑے بکس ہیں ،جن کو پیک کئے ہوئے مال کی نقل وحمل کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے با لواسطہ خرچ مانا جاتا ہے جسے نفع ونقصان کے حساب سے وضع (Debit) کیا جاتا ہے۔
(vii)  تنخواہیں  :  ا ن میں وہ تنخواہیں شامل ہیں جو انتظامی عملہ اور گودام کے اسٹاف کو ان کی ان خدمات کے لئے ادا کی جاتی ہیں جو وہ کاروبار کو چلانے کے سلسلے میں انجام دیتے ہیں ۔اگر ملازمین کو تنخواہیں کچھ سہولیات مہیا کر کے جنس (Kind)  کی شکل میں دی جاتی ہیں ، جیسے مفت مکان ،کھانا ،وردیاں ،طبی سہولتیں وغیرہ تو انھیں بھی تنخواہیں سمجھا جاتا ہے اور انھیں نفع ونقصان کے کھاتے میں خرچ کے طور پر دکھایا جاتا ہے ۔
(viii)  ادا کردہ کرایہ جات  :  ان میں دفتر اور گودام کے کرائے اور میونسپل ٹیکس نیز فیکٹری کا کرایہ اور ٹیکس وغیرہ شامل ہیں۔ کرایہ جات کی ادا شدہ رقومات کو نفع ونقصان کے کھاتے میں خرچ (Debit)کی جانب  ڈال دیا جاتا ہے ۔
(ix)  ادا کردہ سود :  قرضوں ،بینک اور ڈرافٹ (Overdraft)، مبادلہ  کے بلوں کی تجدید وغیرہ ایک خرچ ہیں اور انھیں نفع ونقصان کے کھاتے میں ڈل دیا جاتا ہے ۔
(x)  ادا کردہ کمیشن :  ایجنٹوں کی معرفت کئے گئے سودوں پر دیا گیا یاقابل ادائیگی کمیشن ایک خرچ ہے اور اسے بھی نفع ونقصان کے کھاتے میں وضع کیا جاتا ہے ۔
(xi) مرمتیں :  پلانٹ،مشینری ،فرنیچر اور دیگر نصب کردہ سازو سامان کی  مرمتیں اور چھوٹے چھوٹے تجدید نو کے کام یا پرانی چیزوں کو ہٹا کر نئی چیزیں لگانے کا کام تاکہ یہ سب اچھی اور قابل استعمال حالت میں رہیں یہ سب اس مد میں شامل کی جاتی ہیں۔ ایسے خرچ کو بھی نفع ونقصان کے کھاتے میں وضع کیا جاتاہے ۔
(xii)  متفرق خرچ  :  حالاں کہ خرچوں  کو درجہ بند اور کھاتوں میں مختلف مدوں کے تحت درج کیا جاتا ہے ،پھر بھی کچھ معمولی نوعیت کے خرچوں کو یک جا کردیا جاتا ہے اورا نھیں متفرق خرچوں  کانام دیا جاتا ہے ۔عام زبان میں انھیں متفرق یا تجارتی خرچی کہا جاتا ہے ۔

کریڈٹ سائڈ کی مدیں

(I)  واپس شدہ  مال نکالنے کے بعد کی فروخت :  ٹرائل بیلنس میں سال بھر میں ہوئی فروخت کا حساب مجموعی فروخت کو ظاہر کرتا ہے (نقد اور ادھار فروخت دونوں کو)۔ اسے تجارتی کھاتے میں جمع (کریڈٹ) کی طرف دکھایا جاتا ہے ۔گاہک جو مال واپس کرتے ہیں اسے اندر کی جانب واپسی (Return Inwards) کہا جاتا ہے اور اسے کل فروخت میں سے مُجراکردیا جاتا ہے اور باقی شمار کی ہوئی رقم، خالص فروخت کہلاتی ہے ۔

(II)  دیگر آمدنیاں :  تنخواہوں کے علاوہ دوسری حصولیابیاں اور آمدنیاں بھی نفع ونقصان کے کھاتے میں ریکارڈ کی جاتی ہیں۔ اس طرح کی آمدنیوں کی مثالیں ہیں ۔وصول شدہ کرایہ ،وصول شدہ منافع (ڈویڈینڈ) وصول شدہ سود ،وصول شدہ کٹوتی اور وصول شدہ کمیشن وغیرہ ۔

 9.4.2    اختتامی اندراجات 

تجارت اور نفع ونقصان کا کھاتہ تیار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ مدات کے کھاتوں کے بیلنس مرتب کرنے کے لئے اس کھاتے میں منتقل کر دیے جائیں ۔
• ابتدائی اسٹاک کے کھاتہ ،خریداروں کے کھاتہ ،اجرتوں کے کھاتہ ،سامان لانے (Carriage inwards) کے کھاتہ اور راست مصارف  کھاتہ کو تجارت اور نفع ونقصان کی ڈیبٹ جانب منتقل کر کے بند کر دیا جاتا ہے ۔
یہ کا م مندرجہ ذیل اندراج کو ریکارڈ کر کے کیا جاتا ہے  :
تجارتی کھاتہ  (Trading A/C) خرچ(Dr) 
ابتدائی اسٹاک کے کھاتے کو 
خریداروں کے کھاتے کو 
اجرتوں کے کھاتے کو 
سامان لانے کی بار برداری کے کھاتے کو 
دیگر تمام راست مصارف کے کھاتے کو 
•  خرید کردہ مال کی اندرونی واپسی (Purchase return inwards) اور بیرونی واپسی (Purchase return outwards) کو ان کا بیلنس خریداری کھاتے میں منتقل کرکے بند کردیا جاتا ہے ۔ اس مقصد کے لئے مندرجہ ذیل اندراج کو ریکارڈ کیا جاتا ہے  : 
خریداریوں کی واپسی کا کھاتہ خرچ  (Dr.) 
خریداری کے کھاتے کو
•   اسی طرح فروخت شدہ مال کی واپسی یا اندرونی  واپسی کا کھاتہ اس کے بقایا کو فروخت کے کھاتے میں منتقل کر کے بند کر دیا جاتا ہے۔
 فروخت کا کھاتہ  خرچ  (Dr.)
 فروخت کی واپسی کے کھاتے کو 
فروخت کے کھاتہ کو اس کے بقایا جات کریڈٹ کے خانے میں منتقل کرکے بند کیا جاتا ہے اور درج ذیل اندراجات کئے جاتے ہیں  :
فروخت کا کھاتہ     آمد  (.Cr)
تجارتی کھاتے کو 
مصارف اور نقصانات کی مدوں کو مندرجہ ذیل اندراجات کے ساتھ بند کیا جاتا ہے  :
نفع ونقصان کا کھاتہ 
مصارف  (فرداً فرداً)  کے کھاتے کو 
نقصانات  (فرداً فرداً )  کے کھاتے کو 
آمدنیوں اور دیگر وصولیابیو ں اور منافع وغیرہ کی مدوں کو درج ذیل اندراج کے ساتھ بند کیا جاتا ہے  :
آمدنی کے کھاتے کو (فرداً فرداً ) واجب الادا .Dr
دیگر وصولیابیوں (فرداً فرداً) کے کھاتے کو واجب الادا 
نفع ونقصان کے کھاتہ کو واجب الادا .Dr

آمد وخرچ کے ساتوں کھاتوںکو بند کرنے کے لئے جیسا کہ ٹرائل بیلنس میں دکھایا گیا ہے ،(دیکھئے مثال 1) مندرجہ ذیل طریقے پر اندراج کیے جاتے ہیں :
(i)   خرچ کے کھاتے کو بند کرنے کے لئے 
خرید وفروخت کا (تجارتی )کھاتہ   واجب الادا .Dr
 83,000        
خریداریوں کے کھاتے کو             75,000          
اجرتوں کے کھاتے کو         8,000       
(ii)  نفع ونقصان کا کھاتہ                           .   43,500Dr. 
تنخواہوں کے کھاتے میں 25,000
کرایہ عمارت کے کھاتے میں 13,000  
نا قابل وصول قرضوں کے کھاتے میں    4,500
(i)   محاصل (Revenues)کے کھاتے بند کرنے کے لئے 
فروخت کا کھاتہ (ڈیبٹ)
.Dr
  1,25,000 
تجارتی کھاتے کو           0 1,25,00
(ii) وصول شدہ کمیشن کا کھاتہ
.Dr
   5,000 
نفع ونقصان کے کھاتے کو           5,000
لیجر میں کیا گیا اندراج مندرجہ ذیل طریقے سے کیا جائے گا  : 

خریداریوں کا کھاتہ
ڈیبٹ کریڈٹ

تاریخ  تفصیلات بہی کھاتہ ر قم 
روپے 
تاریخ  تفصیلات بہی کھاتہ رقم 
روپے 
بقایا میزان 75,000 خریدوفروخت (تجارت) 75,000
75,000 75,000
34

اجرتوں کا کھاتہ

ڈیبٹ کریڈٹ

تاریخ  تفصیلات بہی کھاتہ ر قم 
روپے 
تاریخ  تفصیلات بہی کھاتہ رقم 
روپے 
بقایا میزان 8,000 خریدوفروخت  8,000
8,000 8,000

35


تنخواہوں کا کھاتہ

ڈیبٹ کریڈٹ

تاریخ  تفصیلات بہی کھاتہ ر قم 
روپے 
تاریخ  تفصیلات بہی کھاتہ رقم 
روپے 
بقایا میزان 25,000 نفع ونقصان 
25,000
25,000 25,000

36

کرایہ عمارت کا کھاتہ

ڈیبٹ کریڈٹ

تاریخ  تفصیلات بہی کھاتہ ر قم 
روپے 
تاریخ  تفصیلات بہی کھاتہ رقم 
روپے 
بقایا میزان 13,000 نفع ونقصان 
13,000
13,000 13,000
37

ناقابل وصول قرضوں کا کھاتہ

ڈیبٹ کریڈٹ

تاریخ  تفصیلات بہی کھاتہ ر قم 
روپے 
تاریخ  تفصیلات بہی کھاتہ رقم 
روپے 
بقایا میزان 4,500 نفع ونقصان 
4,500
4,500 4,500

38


فروخت کا کھاتہ

ڈیبٹ کریڈٹ

تاریخ  تفصیلات بہی کھاتہ ر قم 
روپے 
تاریخ  تفصیلات بہی کھاتہ رقم 
روپے 
بقایا میزان 1,25,000 تجارت 
1,25,000
1,25,000 1,25,000
ڈیبٹ  کریڈٹ
39

وصول کردہ کمیشن کا کھاتہ

ڈیبٹ کریڈٹ

تاریخ  تفصیلات بہی کھاتہ ر قم 
روپے 
تاریخ  تفصیلات بہی کھاتہ رقم 
روپے 
نفع ونقصان 5,000 بقایا میزان 5,000
5,000 5,000
ڈیبٹ  کریڈٹ
40
  پچھلی گفتگو کے نتیجے کے طور پر اب ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ ٹرائل بیلنس سے تجارت اور نفع ونقصان کے کھاتے کس طرح تیا ر کئے جا سکتے ہیں ،جن کا خاکہ شکل 9.2 میں دیا گیا ہے ۔ بہر حال یہ فہرست یہاں ختم نہیں ہو جاتی اور اس میں سب چیزوں کا احاطہ نہیں کیا گیا ہے ۔ در اصل دیگر بہت سی مدیں ہو سکتی ہیں جن کے بارے میں ہم بعد کے مرحلے میں بات کریں گے اور تب آپ دیکھیں گے کہ اس خاکہ (Format) میں ان میں سے ہر ایک مد کے تعلق سے تبدیلی واقع ہوتی ہے ۔

اے بی سی کا ٹریڈنگ اور نفع ونقصان کا کھاتہ

31مارچ 2017 کو ختم ہونے والے سال کے لئے


مصارف ؍ نقصانات رقم 
روپے 
محاصل ؍ منافع جات وغیرہ  رقم 
روپے 
ابتدائی اسٹاک ۔۔۔۔۔ فروخت ۔۔۔۔۔
خریداریاں ۔۔۔۔۔
اجرتیں ۔۔۔۔۔
مال منگانے کا کرایہ بار برداری ۔۔۔۔۔
جہاز کا مال بھاڑا ؍ لدان
خام(Gross) منافع بقایا نیچے لے جایا گیا c/d 
خام نقصان بقایا نیچے لے جایا گیاb/d 
کرایہ ،مقامی محصول، ٹیکس  ۔۔۔۔۔
خام یا مجموعی نقصان c /d1 ۔۔۔۔۔
تنخواہیں  ۔۔۔۔۔ خام منافع b/d ۔۔۔۔۔
مرمتیں ، تجدید کا کام  ۔۔۔۔۔ وصول کردہ سود  ۔۔۔۔۔
ڈوبے قرضہ جات ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
خالص منافع 2 خالص نقصان 2.
اصل کے کھاتے میں منتقل کیا گیا 
xxx xxx
2.1کسی ایک مد کا حساب لگایا گیا مددکھائی جائے گی 

ab22

abc1 
شکل. 9.2  :   تجارت اور نفع ونقصان کے کھاتہ کا ایک خاکہ 

9.4.3  خام منافع اور خالص منافع کا تصور

تجارتی اور نفع ونقصان کے کھاتے کو دوکھاتوں کا امتزاج یا میل سمجھنا چاہئے یعنی ایک ٹریڈنگ کا کھاتہ اور دوسرے نفع ونقصان کا کھاتہ ۔تجارت کا کھاتہ یعنی پہلا حصہ مجموعی یا خام منافع (Gross Profit) کی ٹھیک ٹھیک معلومات فراہم کرتا ہے جب کہ نفع ونقصان کا کھاتہ یعنی دوسرا حصہ خالص نفع (Net Profit) ونقصان بناتا ہے۔
تجارتی کھاتہ (Trading Account)
یہ کھاتہ کاروبار کی بنیادی اور عملی  سرگرمیوں سے حاصل نتیجے کے ساتھ ظاہر کرتا ہے۔ بنیادی عملی سرگرمیوں کا تعلق سامان کی مینوفیکچرنگ اور اس کی خریدوفروخت  سے ہوتا ہے ۔ یہ حساب اس لیے تیار کیا جا تا ہے کہ پختہ طور پر معلوم ہو سکے کہ آیا گاہکوں کو مال کی فروخت اور ؍یا خدمات کی انجام دہی کاروبار کے لئے منافع بخش ثابت ہوئی یا نہیں ۔کسی کاروبار میں خریداریاں مصارف کے اہم عناصر میں سے ایک ہیں ۔خریداریوں کے علاوہ باقی مصارف  کو دو زمروں میں منقسم کیا جاتا ہے یعنی بلا واسطہ  مصارف  اور با اواسطہ اخراجات ۔
بلا واسطہ مصارف سے  وہ تمام مصارف مرادہیں جن کا تعلق مال تیار کرنے ،مال خریدنے اور اسے فروخت کے مرحلے تک لانے سے ہے ۔ بلا واسطہ مصارف (Expenxes) میں آنے والے مال کی نقل وحمل ،مال بھاڑا ،اجرتیں ۔ کارخانے کی روشنی، کوئلہ ، پانی اور ایندھن اور پیداوار پر رائلٹی وغیرہ شامل ہوتی ہیں ۔ مثال نمبر 1میں خرید اریوں کے علاوہ مصارف کی چار اور مدیں درج فہرست کی گئی ہیں ۔یہ ہیں : اجرتیں ،تنخواہیں، عمارت کا کرایہ اور ناقابل وصول قرضے ان مدوں میں سے اجرتوں کو بلا واسطہ مصارف میں شمار کیا جاتا ہے جبکہ باقی تین با لواسطہ مصارف میں آتی ہیں ۔
اسی طرح کا روبار کی آمدنی میں سب سے بڑی اور اہم مدفروخت ہے۔ خریداری اور بلاواسطہ مصارف سے زائد کی فروخت سے حاصل ہونے کو  خام یا کل منافع کہا جاتا ہے اگر خریداریوں کی رقم بلا واسطہ مصارف  کو شامل کر کے فروخت سے حاصل آمدنی سے زیادہ ہو تو اس طرح حاصل رقم کو مجموعی نقصان (Gross Loss) کہا جائے گا۔ خام یا مجموعی منافع کا حساب درج ذیل مساوات کے ذریعے دکھایا جا سکتا ہے  :
خام منافع  =  فروخت  –  (خریداریاں  +  بلا واسطہ مصارف )
خام منافع یا خام نقصان کو نفع ونقصان کے کھاتے میں منتقل کر دیا جاتا ہے ۔
با لواسطہ مصارف دوسرے حصے یعنی نفع ونقصان کے واجب الادا خانے (Dr.) میں منتقل کر دیا جاتا ہے ۔فروخت کے علاوہ تمام محاصل اور وصولیابیوں کو  نفع ونقصان کھاتے کی کریڈٹ جانب  منتقل کر دیا جاتا ہے ۔ اگر نفع ونقصان کے کھاتے میں جمع (کریڈٹ) رقموں کا مجموعہ خرچ (ڈیبٹ ) رقوم سے زیادہ ہے تو یہ فرق اس مدت کا منافع ہے جس مدت کے لئے حساب تیار کیا جا رہا ہے ۔ دوسری جانب اگر خرچ (ڈیبٹ) رقومات جمع (کریڈٹ) سے زیادہ ہیں تو ان کا فرق کاروبار کو ہونے والا خالص نقصان ہے۔مساوات (Equation) کی شکل میں اسے مندرجہ ذیل طریقہ سے دکھایا جاتا ہے ۔
خالص منافع  =  خام منافع  +  دیگر وصولیاں  –  با لواسطہ مصارف
اس طرح حساب لگانے کے بعد خالص منافع یا خالص نقصان کو بیلنس شیٹ کے اصل کے کھاتے میں مندرجہ ذیل اندراج کے ساتھ منتقل کردیا جاتا ہے :
(i)  خالص منافع کی منتقلی کے لئے
نفع ونقصان کے کھاتے سے (خرچ)  Dr
اصل کے کھاتے کو          (خرچ)  Dr
(ii)  خالص نقصان کو منتقلی کرنے کے لئے 
اصل کھاتہ(Capital A/C) سے
 نفع ونقصان کے کھاتے کو
اب ہم نفع ونقصان کے حسابات کو انکت کے 31مارچ 2017کو ختم ہونے والے سال کے لئے خام منافع اور خالص منافع دکھانے کے لئے دوبارہ بناتے ہیں ۔ٹریڈنگ اور نفع ونقصان کا کھاتہ شکل 9.3میں دکھائے گئے کھاتے جیسا ہی ہوگا ۔
 

31مارچ 2017 کو ختم ہوئے سال کے لئے انکت کا 

تجارتی اور نفع ونقصان کا کھاتہ

ڈیبٹ  کریڈٹ
مصارف ؍ نقصانات رقم 
روپے 
محاصل ؍ دیگرمنافع جات وغیرہ  رقم 
روپے 
خریداریاں 75,000
فروخت 1,25,000
اجرتیں
8,000
خام منافع بقایا نیچے لے جایا گیا
42,000

1,25,000
1,25,000
تنخواہیں 
25,000 خام منافع  بی ؍ ڈی  42,000
کرایہ عمارت 
13,000 وصول کردہ کمیشن 5,000
ناقابل وصول قرضے 
4,500
خالص منافع (اصل کھاتے میں منتقل کر دیا گیا ) 
45,000



47,000

47,000
41
شکل.  : 9.3 انکت کے خام منافع اور خالص منافع کا لگایا ہوا حساب 

خام منافع جس سے کاروبار کی کارکردگی کا پتہ چلتا ہے  42,000 روپے بنتا ہے ۔خام منافع کو لین دین (تجارت) کے کھاتے سے نفع ونقصان کے کھاتے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ خام منافع کے علاوہ کاروبار کو کمیشن کی صورت میں 5,000روپے کی آمد نی ہوتی ہے اور اس نے 42,500 روپے 4,500) روپے 13,000+روپے+ 25,000روپے (مصارف  ؍ نقصانات کے ضمن میں خرچ کئے ہیں جن میں تنخواہیں ،عمارت کا کرایہ اور ڈوبے قرضہ جات شامل ہیں ۔ لہٰذا حساب لگانے کے بعد خالص منافع 4,500 روپے بنتا ہے ۔
مثال 1 
مندرجہ ذیل تفصیلات کی بنیاد پر 31مارچ 2017 کو ختم شدہ سال کے لئے تجارتی کھاتہ تیار کیجئے :
روپے 
ابتدائی اسٹاک 37,500
خریدار 1,05,000
فروخت 2,70,000
اجرتیں 30,000
حل

31مارچ 2017 کوختم شدہ سال کے لئے 

تجارتی حساب  

ڈیبٹ  کریڈٹ
مصارف؍ نقصانات   رقم 
روپے 
محاصل ؍منافع جات اور دیگر وصولیابیاں
  رقم 
روپے  
ابتدائی اسٹاک  37,500
فروخت 2,70,000
خریداریاں  105,000
اجرتیں  30,000
خام منافع 
97,500



2,70,000

2,70,000
mishal2
مثال  2
میسر زپرائم پروڈکٹس کا تجارتی (لین دین) کھاتہ 2016-17کے لیے دی گئی درج ذیل تفصیلات کی مدد سے تیار کیجئے :
روپے 
ابتدائی اسٹاک 50,000
خریداریاں 1,10,000
اندرونی واپسیاں (فروخت کردہ مال کی واپسی 5,000
فروخت 3,00,000
بیرونی واپسیاں (خریداریوں کی واپسی) 7,000
فیکٹری کا کرایہ 30,000
اجرتیں 40,000

حل 
پرائم پروڈکٹس کے کھاتے 
تجارتی کھاتہ 

31مارچ 2017 کو ختم شدہ سال کے لئے 

ڈیبٹ  کریڈٹ
مصارف ؍ نقصانات رقم 
روپے 
محاصل ؍ دیگرحصولیابیاں رقم 
روپے 
ابتدائی اسٹاک 50,000
فروخت                     3,00,000 

خریداریاں              1,10,000
نفی  :  فروخت کی واپسی   (5,000)
نفی : بیرونی واپسیاں       (7,000)  1,03,000
2,95,000
فیکٹری کا کرایہ 
30,000


اجرتیں 
40,000


خام منافع
72,000



2,95,000

2,95,000

misal3
 مثال 3
 2016-17 کی بابت درج ذیل معلومات کی بنیاد پر میسرز انجلی کا تجارتی کھاتہ تیار کیجئے ۔
روپے 
ابتدائی اسٹاک 60,000
خریداریاں 3,00,000
فروخت 705,000
خریداریوں کی واپسی 18,000
فروخت کی واپسی 30,000
خریداریوں کی بار برداری 12,000
فروخت کی بار برداری 15,000
کرایہ فیکٹری 18,000
کرایہ دفتر 18,000
گودی اورمال باہر نکالنے کا خرچ 48,000
جہاز  کا مال بھاڑا اور چنگی 6,500
کوئلہ گیس اور پانی 10,000

حل

انجلی کے کھاتے 

تجارتی کھاتہ  

مارچ 2017 کو ختم شدہ سال کے لئے 


31مارچ 2017 کو ختم ہونے والے سال کے لئے

ڈیبٹ کریڈٹ
مصارف ؍ نقصانات رقم 
روپے 
محاصل ؍ دیگرمنافع رقم 
روپے 
ابتدائی اسٹاک 60,000 فروخت               7,50,000
خریداریاں                     3,00,000  
نفی :فروخت کی واپسی (30,000) 7,20,000
نفی :خرید کردہ مال کی واپسی       (18,000)  2,82,000
خریداریوں کی مال برداری  12,000
کرایہ فیکٹری  18,000
گودی اور مال نکالنے کے اخراجات  48,000
جہاز کا مال بھاڑ ااور چنگی 6,500
کوئلہ ،گیس اور پانی   10,000


خام منافع   283,500


7,20,000
7,20,000

misal4
مثال  4
مندرجہ ذیل معلومات سے 31مارچ 2017 کو ختم ہوئے سال کے لئے نفع ونقصان کا کھاتہ تیا رکیجئے ۔
روپے
خام منافع 60,000
کرایہ عمارت 5,000
تنخواہیں 15,000
ادا کردہ کمیشن 7,000
قرض پر ادا کردہ کمیشن 5,000
اشتہارات 4,000
وصول کردہ کٹوتی (Discount)
3,000
طباعت اور اسٹیشنری 2,000
قانونی اخراجات 5,000
ناقابل وصول قرضے 1,000
فرسودگی 2,000
وصول کردہ سود 4,000
آگ سے نقصان 3,000
 
حل
31مارچ 2017 کوختم شدہ سال کے لئے 

نفع ونقصان کا کھاتہ

ڈیبٹ کریڈٹ
مصارف ؍ نقصان رقم 
روپے 
محاصل ؍ منافع جات وغیرہ  رقم 
روپے 
کرایہ مکان 5,000 ٰخام منافع  60,000
تنخواہ 15,000 وصول کردہ چھوٹ 3,000
کمیشن 
7,000 وصول کردہ سود 4,000
قرض پرادا کردہ سود  5,000
اشتہارات 4,000
طباعت اور اسٹیشنری  2,000
قانونی چارہ جوئی کے اخراجات 5,000
ناقابل وصولی قرضے  1,000


ٹوٹ پھوٹ ،فرسودگی 2,000

آگ سے نقصان  3,000  
خالص منافع


اصل کے کھاتے میں منتقل  18,000

67,000 67,000

misal5
misal-5-1

  I بتائیے صحیح ہے یا غلط 

(i) خام منافع کل آمدنی ہوتا ہے ۔
(ii) تجارت اور نفع ونقصان کے کھاتے میں ابتدائی اسٹاک خرچ (Dr.)کی طرف اس لئے دکھایا جاتا ہے کیوں کہ یہ حسابی سال رواں کی فروخت کی قیمت کا ایک حصہ ہوتا ہے ۔
(iii) کرایہ مکان ،مقامی محصولات اور ٹیکس بلا واسطہ مصارف ہیں ۔
(iv)  اگر نفع ونقصان کے کھاتے  میں جمع (Cr.)کی طرف کا مجموعہ، خرچ (Dr.)کی طرف کے مجموعے سے زیادہ ہو تو ان دونوں کے درمیان کا فرق خالص منافع ہوگا ۔
'A'  IIکے تحت دی گئی مدوں کا 'B'کی مدوں کے ساتھ صحیح میل اور جوڑ بٹھایئے
'B'   'A'
(i) اختتامی اسٹاک کو ۔۔۔۔۔میں  جمع کی طرف دکھایا جاتا ہے ۔  (a)    ٹرائل بیلنس
(ii) کھاتے کی صحت  کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آزمایا جاتا ہے ۔ (b) تجارتی حساب 
(iii) فروخت کنندہ گان کو مال واپس کرنے  پر خریدا ر ۔۔۔۔۔۔بھیجتا ہے ۔(c)     کریڈٹ نوٹ 
(iv) مالی حالت کا تعین ۔۔۔۔سے ہوتا ہے ۔ (d)    بیلنس شیٹ   
(v) خریدار کا واپس بھیجا ہوا مال موصول ہونے پر فروخت کنندہ۔۔بھیجتا ہے۔(e) ڈیبٹ نوٹ 

9.4.4  فروخت شدہ مال کی لاگت قیمت اورا ختتامی اسٹاک  –  تجارتی کھاتہ کا اعادہ 

شکل 9.3 میں تیا رکیا گیا تجارت اور نفع ونقصان کاکھاتہ  کاروبار کے بنیادی کاموں کو انجام دینے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی نفع خیزی (Profitability) کے بارے ممیں مفید معلومات بہم پہنچاتا ہے ۔اب ہم اسے مزید مطالعہ اور ملاحظہ کے لئے دوبارہ پیش کر رہے ہیں ۔

انکت کا تجارتی کھاتہ

31مارچ 2017 کوختم شدہ سال کے لئے 
ڈیبٹ کریڈٹ
مصارف ؍ نقصانات رقم 
روپے 
محاصل ؍ دیگرمنافع جات وغیرہ  رقم 
روپے 
خریداریاں  75,000 ٰفروخت  1,25,000
اجرتیں 8,000

خام (Gross)  منافع
42,000

  1,25,000 1,25,000

shakal5
 شکل  : 9.4. انکت کے تجارتی کھاتے کا ایک تمثیلی خاکہ 

 اگر کوئی ابتدائی یا اختتامی اسٹاک نہیں ہے تو خریداریوں اور بلا واسطہ مصارف کے مجموعے کوفروخت شدہ مال مانا جاتا ہے ۔ آپ غور کریں ہماری دی ہوئی مثال میں خریداریاں 75,000روپے کی ہیں اور اجرتیں 8000 روپے کی،اس لئے فروخت شدہ مال کی قیمت نکالنے کے لئے درج ذیل فارمولہ استعمال کیا جائے گا ۔
فروخت شدہ مال کی قیمت  =  خریداریاں  +  بلا واسطہ مصارف
=  75,000  روپے +  8,000  روپے 
=  83,000  روپے
چونکہ کوئی غیر فروخت شدہ اسٹاک نہیں ہے تو یہ فرض کرلیا جاتا ہے کہ خریداہوا تمام مال بیچا جا چکا ہے ۔لیکن عملی طور پر حسابی مدت کے آخر میں کچھ غیر فروخت شدہ مال بچ جاتا ہے ۔
اپنی مثال کو سامنے رکھ کر آیئے فر ض کریں کہ سال رواں میں 75,000 روپے میں خریدے ہوئے مال میں سے انکت صرف 60,000 روپے کا مال بیچ پاتا ہے ۔ایسی صورت میں کاروبار کے پا س15,000روپے کا بغیر بکا ہو امال رہ جائے گا۔ اسے اختتامی اسٹاک بھی کہا جاتا ہے ۔فروخت شدہ مال کی قیمت کی رقم کا حساب مندرجہ ذیل مساوات کے مطابق نکالا جائے گا  :
فروخت شدہ مال کی قیمت  =  خریداریاں  +  بلا واسطہ مصارف ۔ اختتامی اسٹاک
   =  75.000   روپے   +  8,000  روپے   –  15,000   روپے  
نتیجے کے طور پر خام منافع کی رقم بھی کاروبار میں اختتامی اسٹاک کی موجودگی کے ساتھ 42,000 روپے سے (جیسا کہ شکل 9.4میں حساب لگایا گیا ہے ) 57,000 میں تبدیل ہو جائے گی(دیکھئے شکل 9.5)۔

انکت کا تجارتی کھاتہ
31مارچ 2017 کوختم شدہ سال کے لئے 
ڈیبٹ کریڈٹ
مصارف ؍ نقصانات رقم 
روپے 
محاصل (آمدنی) دیگرمنافع جات وغیرہ  رقم 
روپے 
خریداریاں 
75,000 فروخت 1,25,000
اجرتیں 8,000 اختتامی اسٹاک 15,000
خام منافع
57,000


1,40,000
تنخواہیں  25,000 خام منافع b/d  57,000
 کرایہ عمارت  13,000 وصول شدہ کمیشن 5,000
ناقابل وصول قرضے 4,500
خالص منافع  19,500


(اصل کھاتے میں منتقل ) 



62,000   62,000

shakal6
شکل.  : 9.5 انکت کا تجارتی کھاتہ 


یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ عام طور پر اختتامی اسٹاک ٹرائل بیلنس  کا حصہ نہیں ہوتا اور اسے روزنامچے (Journal) میں مندرجہ ذیل اندراج کی مدد سے کھاتوں میں چڑھایا جاتا ہے ۔
اختتامی اسٹاکھاتہ کو .Dr
تجارتی کھاتے کو 
اس اندراج سے اثاثوں کاایک نیا کھاتہ کھل جاتا ہے ،یعنی اختتامی اسٹاک 15,000روپے جسے بیلنس شیٹ میں  منتقل کر دیا جاتا ہے۔ اختتامی اسٹاک آنے والے سال کا ابتدائی اسٹاک ہوگا اور سال کے دوران اسے فروخت کرنا ہوگا اس طرح اب کاروباری افتتاحی اور اختتامی دونوں اسٹاک ہوں گے اور فروخت شدہ مال کی لاگت  کا حساب مندرجہ ذیل مساوات کے مطابق کرنا ہوگا  :
فروخت شدہ مال کی لاگت   =ابتدائی اسٹاک   +خریداریاں و بلا واسطہ مصارف   –اختتامی اسٹاک 
مثال 5پر نظر ڈالئے اور دیکھئے کہ اس کا حساب کیسے لگایا گیا ہے ۔
مثال  5
سال 2017 کے لئے فروخت شدہ مال کی لاگت  کا حساب مندرجہ ذیل معلومات کی مدد سے لگایئے اور تجارتی کھاتہ تیار کیجئے ۔
روپے 
فروخت 20,00,000 
خریداریاں 15,00,000
اجرتیں 1,00,000 
اسٹاک (یکم اپریل 2004) 3,00,000
اسٹاک ( 31مارچ 2005) 4,00,000
آنے والے مال کا جہازی مال بھاڑا 1,00,000

فروخت شدہ مال کی لاگت  کا حساب 


تفصیلات رقم روپے
 ابتدائی اسٹاک 3,00,000
جمع خریداریاں 15,00,000
         بلا واسطہ مصارف :
         مال کے آنے کا جہازی مال بھاڑا 1,00,000
         اجرتیں 1,00,000
نفی ،اختتامی اسٹاک 20,00,000
فروخت شدہ مال کی لاگت (4,00,000)
16,00,000

تجاتی کھاتہ 

31مارچ 2017 کوختم شدہ سال کے لئے 

ڈیبٹ کریڈٹ
مصارف ؍ نقصانات رقم 
روپے 
محاصل ؍ دیگرمنافع جات وغیرہ  رقم 
روپے 
ابتدائی اسٹاک
3,00,000 فروخت 20,00,000
خریداریاں 15,00,000 اختتامی اسٹاک 4,00,000
مال لانے کا مال بھاڑ
100,000

اجرتیں
100,000
خام منافع   4,00,000

  24,00,000

24,00,000

shakal7
مثال  6
مسٹر ایچ ۔بالا رام کے چند کھاتوں سے حاصل شدہ مندرجہ ذیل بقایا جات (Balance) سے تجارتی اور نفع ونقصان کا کھاتہ تیار کیجئے ۔

روپے 

روپے 
یکم اپریل 2016کو موجود اسٹاک
 8,000 ناقابل وصولی قرضہ جات 1,200
سال بھر کی خریداریاں 22,000 کرایہ 1,200
مال کی فروخت
42,000 دی گئی چھوٹ 600
خریداریوں پر مصارف
2,500 اداکردہ کمیشن 1,100
تنخواہیں اور اجرتیں    3500 فروخت پر آنے والے مصارف
600
 اشتہارات 1,000
مرمتیں 
600
 31مارچ 2014 کواختتامی اسٹاک 4,500 روپے ہے ۔
shakal8


شر ی ایچ بالا رام کے کھاتے 

تجارتی کھاتہ  

31مارچ 2017 کو ختم ہوئے سال کے لیے

ڈیبٹ کریڈٹ
مصارف؍ نقصان رقم
روپے
محاصل  ؍  دیگر منافع جات وغیرہ  رقم
روپے
ابتدائی اسٹاک 8,000 فروخت 42,000
خریداریاں  22,000 اختتامی اسٹاک 4.500
خریداریوں پر خرچ  2,500
خام منافع نیچے لایا گیا  (C/d) 14,000
46,500 46,500
تنخواہیں اور اجرتیں  3,500
کرایہ کا مکان 1,200 خام (مجموعی )منافع 14,000
اشتہارات 1,000
کمیشن 1,100
دی گئی چھوٹ 600
ڈوبے قرضے 1,200
فروخت پر آنے والے مصارف 600
مرمتیں 600
خالص منافع (اصل کے کھاتے میں منتقل ) 4,200
14,000 14,000

1

9.5  تشفیلی منافع  (Operating Profit (EBIT)


یہ وہ منافع ہے جو کاروبار کے معمول کی  سرگرمیوں کے ذریعہ کمایا جاتا ہے ۔تشفیلی منافع، تشفیلی مصارف  کے بعد فاضل تشفیلی آمدنی ہے۔تشفیلی منافع کا حساب لگاتے وقت ایسی آمدنیاں اور ایسے مصارف، جو خالصتا ً مالی قسم کے ہوں،شمار نہیں کئے جاتے۔ اس طرح تشفیلی منافع سود اور ٹیکس وغیرہ اداکرنے سے پہلے کامنافع ہوتا ہے ۔ اسی طرح غیر معمولی مدات جیسے آگ وغیرہ سے ہونے والا نقصان بھی شمار نہیں کیا جاتا ۔ اس کا حساب لگانے کے لئے مندرجہ ذیل طریقہ استعمال کیا جاتا ہے  : 
تشفیلی منافع  =  خالص منافع  +  غیرتشفیلی مصارف –غیر تشفیلی آمدنیاں 
مثال 1میں انکت کے ٹرائل  بیلنس پر نظر ڈالیں ،آپ پائیں گے کہ یہ ایک ایسی مد کو دکھاتا ہے جس کا تعلق یکم اپریل 2017 کو لیے گئے طویل مدتی قرض پر  %10  کی درپر سود سے ہے ، سود کی رقم 500 روپے بنتی ہے(500x10/100روپے)جسے تجارت اور نفع ونقصان کے کھاتہ میں ڈیبٹ کی جانب دکھایا گیا ہے  (شکل 9.6)۔

انکت کا تجارتی اور نفع ونقصان کا کھاتہ 

31مارچ 2017 کوختم شدہ سال کے لئے 

ڈیبٹ کریڈٹ
مصارف؍ نقصانات رقم
روپے
محاصل (آمدنیاں) ؍  دیگر منافع جات وغیرہ  رقم
روپے
خریداریاں 75,000 فروخت 1,25,000
اجرتیں 8,000 اختتامی اسٹاک 15,000
خام منافع بقایا نیچے لے جایا گیا 57,000

1,40,000 1,40,000
تنخواہیں 25,000 خام منافع  b/d 57,000
کرایہ عمارت   13,000 وصول شدہ کمیشن 5,000
ڈوبے ہوئے قرضے 4,500

سود  500
خالص منافع (اصل کھاتے میں منتقل ) 19,000

62,000 62,000
شکل.  : 9.6منافع پر سود کو دکھانے کا طریقہ 

تشفیلی منافع یہ ہوگا  :
تشفیلی منافع   =خالص منافع   +غیر تشفیلی مصارف   –غیر تشفیلی آمدنیاں 
 تشفیلی منافع =   19,000روپے   – 500 +صفر 
  = 19,500 روپے

اپنی سمجھ کی جانچ کیجئے II – 
مندرجہ ذیل سوالات کے صحیح جواب کو منتخب کیجئے: 
.1  مالیاتی گوشوارے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پر مشتمل ہوتے ہیں 
(i)   ٹرائل بیلنس
(ii)   نفع ونقصان کا کھاتہ 
(iii)   بیلنس شیٹ 
(iv)  (i) اور (iii)
(v) (ii) اور (iv)
.2  نفع ونقصان کے کھاتے میں سے مندرجہ ذیل منافع کی صحیح تاریخی ترتیب (Chronological Order) کا انتخاب کیجیے
(i)   تشفیلی منافع ،خالص منافع ،خام منافع 
(ii)   تشفیلی منافع ،خام منافع،خالص منافع 
(iii)   خام منافع ،تشفیلی منافع ،خالص منافع 
(iv)   خام منافع ،خالص منافع ،تشفیلی منافع 
.3  تشفیلی لاگت (Operating Cost)کا حساب لگاتے وقت مندرجہ ذیل کو شامل نہیں کیا جاتا 
(i)   معمول کے مطابق سودے
 (ii)   معمول کے خلاف مدیں 
(iii)   خالصتاً مالی نوعیت 
(iv) (ii)  اور  (iii)
(v)     (i)   اور    (iii)
.4  مندرجہ ذیل میں کون صحیح ہے ؟
(i)   تشفیلی منافع  =  تشفیلی منافع   –   غیرتشفیلی مصارف  –  غیرتشفیلی آمدنی 
(ii)   تشفیلی منافع  =  خالص منافع  +  غیر تشفیلی مصارف  +  غیر تشفیلی آمدنی 
(iii)   تشفیلی منافع  =  خالص منافع  +  غیر تشفیلی مصارف  –  غیرتشفیلی آمدنی 
(iv)   تشفیلی منافع  =  خالص منافع  –  غیر تشفیلی مصارف    +   غیر تشفیلی آمدنیاں 

مثال  7
مندرجہ ذیل بقایا (بیلنس ) ایک تا جر کے کھاتوں سے نکالا گیا ہے ۔31مارچ 2017 کو ختم شدہ سا ل کے لئے اس کے خام منافع، تشفیلی منافع اور خالص منافع کا تعین کیجیے ۔
تفصیلات رقم روپے 
فروخت 75,250
خریداریاں 32,250
ابتدائی اسٹاک 7.600
فروخت شدہ مال کی واپسی 1,250
خریدکردہ مال کی واپسی 250
کرایہ 300
طباعت اور اسٹیشنری 250
تنخواہیں 3,000
متفرق اخراجات 200
اخراجات سفر 500
اشتہارات 1,800
ادا کردہ کمیشن 150
دفتری اخراجات 1,600
اجرتیں 2.600
سرمایہ کاری کی فروخت کا منافع 500
فرسودگی 800
سرمایہ کاری کا منافع 2.500
پرانے فرنیچر کو فروخت کرنے پر نقصان 300
 (31مارچ 2017) کو اختتامی اسٹاک کی مالیت 8,000 روپے 

تجارت اور نفع ونقصان کا حساب 

31مارچ 2017 کوختم شدہ سال کے لئے 

ڈیبٹ کریڈٹ
مصارف؍ نقصانات رقم
روپے
محاصل (آمدنیاں )؍ دیگر منافع جات وغیرہ  رقم
روپے
ابتدائی اسٹاک 7,600 فروخت                   75,250  
خریداریاں               32,250  نفی :فروخت کی واپسی          (1,250) 74,000
نفی: خریداریوں کی واپسی    (250) 32,000 اختتامی اسٹاک 8,000
اجرتیں 2,600
خام منافع C/d  39,800
82,000 82,000
کرایہ  300 خام منافع  b/d 39,800
طباعت اور اسٹیشنری 250
تنخواہیں  3,000
متفرق اخراجات 200
اخراجات سفر 500
اشتہارات پر خرچ 1,800
ادا کردہ کمیشن 150
دفتری اخراجات 1.600
فرسودگی  800
تشفیلی منافع بقایا  b/d 31,200
39,800 39,800
پرانے فرنیچر کی فروخت پر نقصان 300 تشفیلی منافع   b/d  31,200
خالص منافع (اصل کے کھاتے میں منتقل ) 33,900 سرمایہ کاری کی فروخت سے نقصان 500
سرمایہ کاری پر نفع  2,500
34,200 34,200
                       

4

 9.6   بیلنس شیٹ 

بیلنس شیٹ ایک گوشوارہ ہوتا ہے جس میں کسی کا روبار کی مالی پوزیشن کو دکھا یا جاتا ہے اور جس میں کسی دی گئی تاریخ کو اثاثوں اور واجبات کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے ۔ اثاثے واجب الادا میزانوں (Debit Balances) کو ظاہر کرتے ہیں جب کہ واجبات (بشمول اصل سرمایہ) ، واجب الوصول میزانوں (Credit Balances)کو ظاہر کرتے ہیں۔ بیلنس شیٹ کو  حسابی مدت کے آخر میں تجارت اور نفع ونقصان کا کھاتہ تیار کرنے کے بعد تیار کیا جاتا ہے ۔اسے بیلنس شیٹ اس لئے کہا جاتاہے کہ یہ بہی کھاتوں کے ان حسابات کے بقایا جات کا گوشوارہ ہے جو تجارت اور نفع ونقصان کے کھاتے میں منتقل نہیں کئے گئے ہیں او ر جنھیں اگلے برس اس ابتدائی اندراج کی مدد سے آگے لے جائے گا جس کو آئندہ سال کے شروع میں روزنامچے میں درج کیا جاناہے۔

9.6.1  بیلنس شیٹ تیا رکرنا 

اثاثہ جات ،واجبات اور اصل سرمایہ کے تمام حسابات کو بیلنس شیٹ میں دکھا یا جاتا ہے اصل سرمایہ اور مالی واجبات کے حسابات کو انگریزی اور ہندی میں بائیں جانب دکھایا جاتا ہے جسے مالی واجبات کہا جاتا ہے ۔اثاثوں اور دیگر واجبات کے دوسرے میزان دائیں جانب دکھائے جاتے ہیں، جنھیں کریڈٹ یا واجب الوصول کہا جاتا ہے۔ ایک فردی ملکیت اور شرکتی فرموں کے لئے بیلنس شیٹ کی کوئی طے شدہ یا مقررکردہ شکل نہیں ہوتی۔ تاہم کمپنی ایکٹ 2013کے جدول III حصہ 1 میں ایک خاکہ مقرر کیا گیا ہے اور وہ ترتیب بھی بتائی گئی ہے جس کے مطابق کمپنی کے اثاثہ جات اور واجبات کو دکھایا جانا چاہئے۔ بیلنس شیٹ تیار کرنے کے لئے عموماً استعمال کیا جانے والا ایک عام خاکہ شکل 9.7 میں دکھایا گیا ہے ۔

31 مارچ 2017   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کی بیلنس شیٹ

واجبات رقم
روپے
اثاثہ جات  رقم
روپے
 اصل سرمایہ                     .....
فرنیچر   .....
جمع منافع                         ..... ..... نقدی  .....
طویل مدتی قرضہ جات .....
بینک .....
قلیل مدتی قرضہ جات 
ساکھ .....
متفرق قرض خواہان(Creditors) .....
متفرق قرض داران (Debitors) .....
واجب الادا بل
اختتامی اسٹاک 82,000
بینک اوورڈرافٹ  
زمین اور عمارتیں  39,800

XXXX XXXX

شکل  ; 9.7.بیلنس شیٹ کا ایک خاکہ

5

 

ہماری مثال 1کی طرف رجوع کیجئے ،آپ دیکھیں گے کہ انکت کا ٹرائل  بیلنس 14کھاتوں کا ایک خاکہ  ہے ،جن میں سے 7 حسابات تجارت اور نفع ونقصان کے کھاتے میں منتقل ہو چکے ہیں (دیکھئے شکل 9.3)۔         یہ محاصل اور خرچوں کے کھاتے  ہیں۔ شکل 9.3 کے تجزیئے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کاروبار نے کل 1,25,500خرچ کئے ہیں اور آمدنیاں 1,30,000 روپے کی ہیں جس کے مطابق 4,500 روپے کا نفع ہوا ہے ۔ٹرائل بیلنس کی باقی ماندہ چھ مدیں اصل سرمایہ،اثاثہ جات اور واجبات کو دکھاتی ہیں ،یہاں ہم ایک بار پھرٹرائل  بیلنس (مثال 1) یہ دکھانے کے لئے  دوبارہ پیش کر رہے ہیں کہ انکت کے اثاثوں اور واجبات کے حسابات کو بیلنس شیٹ میں کس طرح دکھایا جائے گا ۔

31 مارچ 2017 کو انکت کا ٹرائل بیلنس

کھاتے کا نام لیجرفولیو  (Credit)خرچ 
رقم
روپے
آمد(Debit)
رقم
روپے
نقد
 1,000
اصل سرمایہ
12,000
بینک
5,000

فروخت 

1,25,000
اجرتیں 
8,000
قرض خواہان
15,000
تنخواہیں 
25,000

10%طویل مدتی قرض
(جو یکم اپریل 2013کو لیا گیا )


5,000
فرنیچر 
15,000
وصول شدہ کمیشن 
5,000
عمارت کا کرایہ
13,000
قرض داران
15,500
ڈوبے قرض
4,500
خریداریاں
75,000


1,62,000 1,62,000
شکل.  ; 9.8 انکت کے ٹرائل بیلنس میں اثاثوں اور واجبات کے حسابات

66
 

31 مارچ 2017 کو انکت کا ٹرائل بیلنس 

واجبات رقم
روپے
 اثاثہ جات رقم
روپے
اصل سرمایہ                 12,000
 فرنیچر 15,000
جمع منافع                   4,500  16,500 نقد
1,000
10%پر طویل مدتی قرض 5,000
بینک 5,000

15,000
قرض خواہ 15,500

36,500

36,500
شکل.  ; 9.8 انکت کےآزمائشی بیلنس میں اثاثہ جات اور واجبات کے کھاتوں کو دکھایا گیاہے

7


9.6.2  بیلنس شیٹ کی متعلقہ مدیں

 مدیں بیلنس شیٹ میں شامل ہوتی ہیں ،ان کی وضاحت ذیل میں کی گئی ہے :
    (1) رواں اثاثے  : (Current Assets):  رواں اثاثے ایسے اثاثے ہیں جو نقدی کی شکل میں ہوتے ہیں یا جنھیں ایک سال کے اندر نقد ی میں بدلا جا سکتا ہے ۔اس قسم کے اثاثوں کی مثالیں ہیں : اپنے پاس یا بینکوں میں موجود نقد رقم ،قابل وصول بل ،خام مال کا اسٹاک ،نیم تیار یا تیارشدہ مال ،متفرق قرض دار ،قلیل مدتی سرمایہ کاریاں، پہلے سے ادا کئے ہوئے اخراجات وغیرہ ۔
    (2) رواں واجبات : :(Current Liabilities) رواں واجبات ایسے واجبات ہیں جن کے ایک سال کے اندر ادا کئے جانے کی توقع ہوتی ہے اور جو عموماً رواں اثاثہ جات میں سے ادا کئے جاتے ہیں۔ایسے واجبات کی مثالیں ہیں بینک اوور ڈرافٹ (بینک کے کھاتے میں موجود رقم سے زیادہ کا ڈرافٹ)، ادا کئے جانے والے بل ،متفرق قرض خواہ ،قلیل مدتی قرضے غیر ادا شدہ اخراجات، وغیرہ وغیرہ ۔
    (3) قائم اثاثے : یہ وہ اثاثے ہیں جو کاروبار کے پاس طویل مدت کی بنیاد پر رہتے ہیں۔ ایسے اثاثے دوبارہ فروخت کے لئے حاصل نہیں کئے جاتے یعنی ان کی تجارت نہیں کی جاتی ۔ان کی چند مثالیں ہیں، اراضی (زمین)، عمارت ،پلانٹ اور مشینری ،فرنیچر اور عمارت میں لگی تنصیبات وغیرہ ۔کبھی کبھی ایسے اثاثوں کے لئے ’’قائم بلاک ‘‘(Fixed Block)یا ’’اصل بلاک ‘‘ (Capital Block) کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے ۔
    (4) غیر مرئی  اثاثے  :(Intagible Assets) یہ وہ اثاثے ہیں جن کو نہ چھوا جا سکتا ہے اور نہ دیکھا جا سکتا ہے ۔ساکھ، پیٹنٹ ،تجارتی مارکے (ٹریڈمارکس) ایسے اثاثوں کی کچھ مثالیں ہیں ۔
    (5) سرمایہ کاری : سرمایہ کاری یا پیسہ لگانے سے مراد ہے ایسی رقوم جو سرکاری تمسکات یا سیکورٹیوں یا کمپنیوں کے حصص (شیئر) وغیرہ میں منافع حاصل کرنے کے لئے لگائی جائیں۔کھاتوں میں انھیں لاگت قیمت کے مطابق دکھایا جاتا ہے۔ اگر ٹرائل بیلنس تیا ر کرنے کے دن سرمایہ کاری کی رقوم کی بازار قیمت، لاگت قیمت سے کم ہے تو اس کے بارے میں بیلنس شیٹ کے متعلقہ صفحہ کے نیچے ایک نوٹ ضمیمہ کے طور پر شامل کیا جاتا ہے ۔
    (6) طویل المدت واجبات:  (Long -term Liabilities): رواں واجبات کے علاوہ دیگر تمام واجبات کو طویل مدتی واجبات کہا جاتا ہے ۔ایسے واجبات عام طور پر بیلنس شیٹ بننے کی تاریخ کے ایک سال کے بعد قابل ادائیگی ہوتے ہیں۔ بینکوں یا دیگر مالی اداروں سے طویل مدتی قرضے ، طویل مدتی واجبات کی اہم مدیں ہیں۔
    (7) سرمایہ  :  باہر کے لوگوں کو ادا کئے جانے والے واجبات سے زائد اثاثے اصل سرمایہ ہوتے ہیں ،اس سے مراد وہ رقم ہے جو مالک یعنی پروپرائٹر یا شرکت داروں کی جانب سے کاروبار کے شروع میں دی جاتی ہے اور جو منافع اور سود کی وجہ سے بڑھ جاتی ہے اور نقصانات رقم نکالنے اور اس کے سود کی وجہ سے کم ہو جاتی ہے۔ 
    (8) ڈرائنگس (Drawing) :  فرم کا مالک جو رقم نکالتا ہے اسے پیسہ کا نکالنا (Drawing)کہا جاتا ہے اور اس کا اثر اس کے اصل سرمایہ کے کھاتے پرپڑتا ہے، جہاں اس کے بقایا بیلنس میں کمی آجاتی ہے ۔  ا س لئے رقم نکالنے کا کھاتہ اس کی باقی ماندہ رقم مالک کے اصل کے کھاتے میں منتقل کر کے بند کردیا جاتا ہے۔ تاہم اسے بیلنس میں اصل سرمایہ میں سے منہا کر کے دکھایا جاتا ہے ۔

9.6.3   اثاثوں اور واجبات کی زمرہ بندی اور ترتیب

حساب کتاب کا ایک اہم کام مالی گوشوارہ تیار کرنا اور اسے پیش کرنا ہے ۔اس طرح کی فراہم کردہ معلومات استعمال کنندگان کے لئے فیصلہ کن طور پر مفید اور مددگا ر ہونی چاہئے۔ لہٰذا یہ ضروری ہو جا تا ہے کہ بیلنس شیٹ میں دکھائی گئی مدوں کو مناسب  طریقے سے زمرہ بند کیا جائے اور اسے ایک مخصوص ترتیب میں پیش کیا جائے ۔

اثاثوں اور واجبات کو مرتب کرنے کا کام 

بیلنس شیٹ میں اثاثے اور واجبات نقدی (Liquidity)یا پائداری (Permanence) کے اعتبار سے ترتیب دئیے جاتے ہیں ۔ اثاثوں اور واجبات کی ایک مخصوص اعتبار سے ترتیب کو انھیں مرتب کرنا (Marshalling) کہتے ہیں ۔
پائیداری (Permanence)کے معاملے میں سب سے زیادہ پائیدار اثاثوں یا واجبا ت کو بیلنس شیٹ میں سب سے اوپر رکھا جاتا ہے اور اس کے بعد ان کی پائیداری کے درجے کی کمی کے مطابق ترتیب دیا جاتا ہے ۔

انکت کے بیلنس میں آپ دیکھیں گے کہ فرنیچر سب سے زیادہ اور پائیدار (Permanent) اثاثہ ہے ۔قرض داروں ،بینک اور نقدی میں سے نقد میں تبدیلی کے لیے سب سے زیادہ وقت قرض داروں کو لگتا ہے ۔      اسی طرح واجبات میں اصل سرمایہ ،جو مالیات مہیا کرنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے ،طویل مدتی قرض کے مقابلے کاروبار میں زیادہ دن ٹکا رہے گا ۔قرض خواہوں سے جو ایک سیال دین داری (Liquid Liability) ہیں مستقبل قریب میں نجات مل جائے گی۔انکت کی بیلنس شیٹ پائیداری کے اعتبار سے شکل 9.10 (a) میں دکھایا گیا ہے ۔

31مارچ 2017 کی انکت کی بیلنس شیٹ (پائیداری کے اعتبار سے ) 

واجبات رقم
روپے
 اثاثہ جات رقم
روپے
اصل سرمایہ                 12,000
 فرنیچر 15,000
جمع منافع                   4,500  16,500 قرض دار
15,000
10%پر طویل مدتی قرض 5,000
بینک 5,000
قرض خواہان  
15,000
نقدی  1,500

36,500

36,500

شکل   : a) 9.10.)بیلنس شیٹ کی مدیں پائیداری کے اعتبار سے


10

جہاں تک سیالیت (Liquidity) کا سوال ہے ،ترتیب الٹ جاتی ہے ۔اس طریقے کے مطابق پیش کردہ معلومات سے استعمال کنندہ کو مختلف کھاتوں کی عمر کے بارے میں بخوبی معلوم ہو جائے گا ۔نسبتاً زیادہ پائیدار  نوعیت کے اثاثے کاروبار میں زیادہ عرصہ تک باقی رہیں گے۔ جب کہ کم پائیدار اور زیادہ سیال (Liquid) کھاتے اپنی شکل کو مستقبل قریب میں تبدیل کر لیں گے اور امکان یہ ہے کہ وہ یا تو نقدی کی شکل اختیا رکر لیں گے یا نقدی کے مساوی ہو جائیں گے ۔
سیالیت کی ترتیب کے اعتبار سے انکت کی بیلنس شیٹ شکل 9.10(b) میں دکھائی گئی ہے ۔

31 مارچ 2017 کو انکت کی بیلنس شیٹ 

(سیالیت کی ترتیب میں ) 

واجبات رقم
روپے
 اثاثے رقم
روپے
قرض خواہ 15,000
نقدی 1,000
10%پر طویل مدتی قرض  5,000
بینک 5,000
اصل سرمایہ                 12,000 

قرض دار 15,500
جمع منافع                   4,500
16,500
فرنیچر 15,000

36,500

36,500
شکل : b) 9.10. )سیالیت کی ترتیب میں بیلنس شیٹ کی مدیں

11

اثاثوں اور واجبات کی زمرہ بندی  

بیلنس شیٹ میں ظاہر ہونے والی مدوں کو مناسب طور پر زمرہ بند بھی کیا جا سکتا ہے ،زمرہ بندی کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی نوعیت اور وضع کی مدوں کو ایک مشترکہ سرخی کے تحت یکجا کردیاجائے ۔ مثال کے طور پر نقدی ،بینک ،قرض داروں وغیرہ کے کھاتوں میں حساب کی  بقایا رقومات کو ایک زمرے  میں ’’ رواں اثاثہ جات‘‘ کے عنوان کے تحت اور تمام قائم اثاثوں اور طویل مدتی سرمایہ کاریوں کو ’’ غیر رواں اثاثے ‘‘ کی سرخی کی تحت دکھایا جاسکتا ہے۔

31مارچ 2017 کو انکت کی بیلنس شیٹ  

(پائیداری کی ترتیب میں )

واجبات رقم
روپے
اثاثے
رقم
روپے
مالکان کے فنڈ

غیر رواں اثاثے

اصل سرمایہ                   12,000  
فرنیچر 
15,000
جمع منافع                    4,500   16,500
رواں اثاثے

غیر رواں واجبات 

قرض دار
15,500
طویل مدتی قرض 
5,000
بینک
5,000
رواں واجبات
نقدی 
1,000
قرض خواہ 15,000



36,500

36,500
 شکل.  : c) 9.10)منطقی زمروں میں ترتیب شدہ اثاثے او ر واجبات

shakal22
خود کیجئے 
مندرجہ ذیل مدوں کو پائیداری اور سیالیت(Liquidity) کے اعتبار سے ترتیب دیجئے ۔ان کی درجہ بندی منطقی مدوں کے تحت بھی کیجئے
واجبات  (Liabilities) اثاثے  (Assets)
طویل مدتی قرضے
بینک اوور ڈرافٹ
ادا کئے جانے والے بل
مالک کی ایکوئٹی
قلیل مدتی قرضہ جات
متفرق قرض دار



عمارت
نقددردست
بینک میں نقدی
وصو ل کیے جانے والے بل
متفرق قرض خواہ
زمین
تیار مال
جاری کام
خام مال

 
khud kijiye
مثال    8
31 مارچ 2017 کو ختم ہوئے سال کے لئے مندرجہ ذیل بقا یا جات (Balance)کی مدد سے ایک تجارتی اور نفع ونقصان کا کھاتہ اور بیلنس شیٹ تیا رکیجئے ۔



کھاتہ کا نام  رقم
روپے
کھاتہ کا نام  رقم
روپے
مال بھاڑا یا بار برداری  8,000 نقدی در دست  2,500
خریداریاں  بینک اوور ڈرافٹ  30,000
فروخت شدہ مال کی بار برداری  3,500 موٹر کار  60,000
مینو فیکچرنگ مصارف 42,000 نکالے ہوئے پیسے 8,000
اشتہارات  7,000 آڈٹ فیس  2,700
آب کاری محصول  6,000 پلانٹ 1,53,900
کارخانے کی روشنی 4,400 پلانٹ کی مرمت 2,200
قرض دار 80,000 آخری اسٹاک  76,000
قرض خواہ 61,000 خریداریاں ،واپسی کو ہٹا کر 1,60,000
گودی اور سامان نکالنے کا خرچ  5,200 خریداریوں پر کمیشن 2,000
ڈاک وتا ر 800 اتفاقی تجارتی خرچے 3,200
آگ کے بیمہ کی قسط (پریمیم)  3,600 سرمایہ کاری  30,000
پیٹنٹ 12,000 سرمایہ کاری پر سود  4,500
انکم ٹیکس  24,000 اصل سرمایہ 1,00,000
دفتری اخراجات 7,200 فروخت واپسی ہٹا کر 5,20,000
اداکردہ سیلز ٹیکس 12,000
دی گئی چھوٹ 2,700
خریداریوں پر چھوٹ  3,400
12

31مارچ 2017 کو ختم ہوئے سال کے لئے  

تجارتی اور نفع ونقصان کا کھاتہ  


13
ڈیبٹ کریڈٹ
مصارف؍ نقصانات
رقم
روپے
محاصل ؍ دیگر منافع

رقم
روپے
خریداریاں واپسی کو نکال کر  1,60,000
فروخت واپسی نکال کر
5,20,000
خریداریوں پر کمیشن  2,000


خرید کردہ سامان کی باربرداری  8,000


مینو فیکچرنگ 42,000


فیکٹری کی روشنی  4,400


گودی اور سامان نکالنے کا خرچ  5,200


خام منافع c/d   2,98,400



5,20,000

5,20,000
فروخت کی با ربرداری 
3,500
خام منافع نیچے لے جایا گیا  b/d
2,98,400
اشتہارات
7,000
سرمایہ کاری پر سود 
4,500
آب کاری محصول 
6,000
خریداریوں پر ملی چھوٹ
3,400
ڈاک وتار
800


آگ بیمہ کا پریمیم 
3,600


دفتری اخراجات
7,200


آڈٹ فیس
2,700


پلانٹ کی مرمت
2,200


اتفاقیہ تجارتی اخراجات
3,200


ادا کردہ سیلز ٹیکس
12,000


ادا کردہ چھوٹ 
2,700


خالص منافع (اصل کے کھاتے میں منتقل )
2,55,400



3,06,300

3,06,300

31 مارچ 2017 کابیلنس شیٹ 

14
واجبات
رقم
روپے
محاصل ؍ دیگر منافع

رقم
روپے
بینک اوور ڈرافٹ  30,000
نقدی در دست
2,500
قرض خواہ 61,000
قرض دار
80,000
اصل سرمایہ            1,00,000  
اختتامی اسٹاک
76,000
جمع خالص منافع         2,55,400
سرمایہ کاری 
30,000
3,55,400  
موٹر کار 
60,000
نفی لگائی گئی قیمتیں       (8,000)
پلانٹ
1,53,900
3,47,400
پیٹنٹ
12,000
نفی انکم ٹیکس            (24,000)
3,23,400


4,14,400

4,14,400
مثال  9
مندرجہ ذیل بقایا جات سے تجارتی اور نفع ونقصان کا کھاتہ اور بیلنس شیٹ تیا رکیجئے ۔یہ 31مارچ 2017 کو ختم شدہ سال کے لئے ہے ۔
15
15.
کھاتہ کانام 
رقم
روپے
کھاتہ کانام 

رقم
روپے
ابتدائی اسٹاک 15,310
اصل سرمایہ
2,50,000
خریداریاں 82,400
نکالی گئی رقمیں
48,000
فروخت 2,56,000
متفرق قرض خواہ 
57,000
ڈیبٹ کے حاصلات (Return Dr) 4,000
متفرق قرض دار
12,000
کریڈٹ کے حاصلات (Return Cr) 2,400
فرسودگی 
4,200
فیکٹری کا کرایہ 18,000
خیرات
500
کسٹم ڈیوٹی  11,500
نقد بیلنس 
4,460
کوئلہ ،گیس ،بجلی 
6,000
بینک بیلنس
4,000
اجرتیں اور تنخواہیں
36,600
بینک کے خرچے
180
چھوٹ (ڈیبٹ ) 
7,500
تنصیبی اخراجات
3,600
کمیشن (کریڈٹ )
1,200
پلانٹ 
42,000
ناقابل وصول قرضے
5,850
پٹہ پر لی گئی زمین
1,50,000
وصول شدہ ڈوبے قرضے
2000
جمع کردہ سیلز ٹیکس
2,000
نو آموزی پریمیم (Apprenticeship premiumV)
4,800
ساکھ
20,000
پیداواری اخراجات
2,600
پیٹنٹ
10,000
انتظامی اخراجات
5,000
ٹریڈ مارکہ
5,000
بار برداری 
8,700
ادھار (کریڈٹ) 
25,000


قرض پر سود 
3,000
31 مارچ 2017 کو اختتامی اسٹاک کی مالیت 25,400 روپےتھی 

حل

31مارچ 2017 کو ختم شدہ سال کے لئے  

تجارتی اور نفع ونقصان کا کھاتہ  

 
16
16.
ڈیبٹ کریڈٹ
مصارف؍ نقصانات 
رقم
روپے
محاصل  ؍  دیگر منافع وغیرہ  

رقم
روپے
ابتدائی اسٹاک 15,310
فروخت 2,56,000                

خریداریاں 82,400                   
نفی : واپسیاں (4,000)            
2,52,000
نفی : حاصلات (2,400)                 80,000


فیکٹری کا کرایہ 18,000
اختتامی اسٹاک
25,400
کسٹم ڈیوٹی  11,500


کوئلہ گیس ،بجلی  6,000


اجرتیں اور تنخواہ  36,600


پیداواری خرچے 2,600


بار برداری  8,700


خام منافع  بقایا نیچے لے جایا گیا  c/d 98,690


2,77,400

2,77,400
چھوٹ (ڈیبٹ )  7,500
خام منافع نیچے لایا گیا b/d 
98,690
ڈوبے قرضے 5,850
کمیشن
1,200
انتظامی خرچے 5000
ڈوبے قرضوں کی وصولیابی
2,000
فرسودگی  4,200
نو آموزی پریمیم
4,800
خیرات 500


بینک کا خرچ 180


تنصیباتی خرچے
3,600


قرض پر سود 
3,000


خالص منافع 
76,860


(اصل سرمایہ کے کھاتے میںمنتقل )




1,06,690

1,06,690

31 مارچ 2017 کی بیلنس شیٹ 

17
واجبات 
رقم
روپے
اثاثے 

رقم
روپے
اکٹھاکیا ہوا ٹیکس 2,000
 نقد بیلنس
4,460
متفرق قرض خواہ (لین دار )  12,000
بینک بیلنس 
4,000
قرض  25,000
متفرق قرض دار
57,000
اصل سرمایہ            2,50,000
اختتامی اسٹاک
25,400
جمع خالص منافع        76,860
پٹہ کی عمارت
150,000
3,26,860
پلانٹ 
42,000
نفی نکالی گئی رقوم        (48,000) 2,78,860
پیٹنٹ
10,000

ساکھ 
5,000

تجارتی نشان (ٹریڈ مارکہ ) 
20,000

3,1780

3,1780

9.7  ابتدائی اندراج 

بیلنس شیٹ میں مختلف کھاتوں کے بقایا جات ایک حسابی مدت سے دوسری حسابی مدت میں آگے لے جائے جاتے ہیں۔ در حقیقت ایک حسابی مدت کی بیلنس شیٹ اگلی حسابی مدت کی ٹرائل بیلنس بن جاتا ہے ۔آنے والے سال کے شروع میں ایک افتتاحی اندراج کیا جاتا ہے جس سے بیلنس شیٹ میں شامل حسابات شروع کئے جاتے ہیں ۔
شکل(c)
 9.10 کی جانب رجو ع کریں ۔اس سے متعلق ابتدائی اندراج مندرجہ ذیل طریقے سے کیا جاتا ہے  :
18
 اصل سرمایہ کے کھاتہ کو 16,500
10%طویل مدتی قرض کے کھاتے کو        5,000
قرض داروں کے کھاتے کو                                    15,000

اس باب میں متعارف کی گئی کلیدی اصطلاحات 

• بیلنس شیٹ زمرہ بندی اور ترتیب
•واجب الادا بل   • بینک اوور ڈرافٹ
• اصل سرمایہ                                      • واجب الوصول بل
•اصل سرمایہ کی وصولیابیاں                        • حصول اثاثہ خرچ
•جانے والے مال کی باربرداری                    • آنے والے مال کی باربرداری
• اختتامی اندراجات                                 • نقدبینک میں
• رواں اثاثے                                      • اختتامی اسٹاک
• خریداریوں کی واپسی                              • رواں واجبات 
• فروخت کردہ مال کی واپسی                       • کرایہ
• اخراجاتِ محاصل                                  • بیرونی باربرداری
•دی جانے والی چھوٹ                             • فرسودگی
•نقد، نقدی                                        • وصول شدہ چھوٹ
• فیکٹری کے اخراجات                            • تجارتی خرچے
• قائم اثاثے                                      • مالی گوشوارے
• خام منافع                                       • جہاز کا مال بھاڑا
•آمدنی ٹیکس                                     • خام نقصان (مجموعی، یا کُل نقصان)
• نکالے جانے والے پیسہ پر سود                 • اصل پر سود
• خالص منافع                                    • خالص نقصان
• کارگزاری کے مطابق               •سیالیت کی ترتیب (Order of Liquidity)
•محاصل کی وصولیابی                            •تنخواہیں 
• فروخت                               •    فروخت شدہ مال کی واپسی

 سیکھنے کے مقاصد کے حوالے سے باب کا خلاصہ

      1 مالی گوشواروں کا مفہوم ان کی افادیت اور اقسام : ٹرائل بیلنس کا ملان (Agreement) ہونے کے بعد کاروباری ادارہ مالیاتی گوشوارے بنانا شروع کرتا ہے۔ مالی گوشوارے وہ گوشوارے ہیں جن میں متعین وقفوں سے کاروباری اداروں کے طریقہ عمل اور ایک مخصوص مدت کے دوران حصولیابیوں کے نتائج کی روداد پیش کی جاتی ہے۔ مالی گوشواروں میں تجارتی اور نفع ونقصان کا حساب کتاب ،بیلنس شیٹ  اوردیگر تفصیلات اور وضاحتی نوٹ شامل ہوتے ہیں  اور یہ ان گوشواروں کا حصہ ہوتے ہیں۔ مالی گوشواروں میں مہیا کردہ معلومات منتظمین کے لئے کاروبار کی سرگرمیوں اوراسے چلانے کے کاموں کی منصوبہ بندی کرنے اور اس پر کنٹرول رکھنے میں کارآمد ہوتی ہے ۔مالی گوشوارے قرض خواہوں، مالکان حصص (Shareholders) اور کاروبار کے ملازمین کے لیے بھی مفید ہوتے ہیں ۔
      2   تجارتی اور نفع ونقصان کھاتے کا مفہوم،اس کی ضرورت اورتیاری : نفع ونقصان کا کھاتہ کاروبار کو چلائے جانے کے دوران ایک مقررہ مدت میں حاصل شدہ منافع یا اٹھائے گئے نقصان کودکھاتا ہے۔ 
تجارت اور نفع ونقصان کا کھاتہ تیار کرنے کی ضرورت یہ ہے کہ ایک مقررہ مدت میں حاصل نتائج کی صحیح واقفیت حاصل ہو سکے ۔نفع ونقصان کا کھاتہ محاصل (Revenues)کے خرچوں اور نقصانات کی مدوں کو ڈیبٹ (واجب الادا) کی جانب دکھاتا ہے جبکہ وصولیوں اور خام منافع کو کریڈٹ (واجب الوصول ) کی جانب۔ تجارت اور نفع ونقصان کے کھاتہ کو تیار کرنے کے لئے اختتامی اندراجات ، کھاتے کے بقایاجات (Balance)کے اخراجات اور آمدنیوں کی مدوں کی طرف منتقل کرنے کے مقصد سے کیے جاتے ہیں۔ خالص منافع اور خالص نقصان کو جو نفع ونقصان کے کھاتے میں دکھائے جاتے ہیں، اصل (Capital) کے کھاتے میں منتقل کر دیا جاتا ہے ۔
      3 بیلنس شیٹ کا مفہوم ،خاصیتیں، ضرورت اور ساخت : بیلنس شیٹ  کاروبار کے اثاثوں اور واجبات کا تفصیلی بیان یا گوشوارہ ہوتا ہے اور ایک مقررہ تاریخ میں اس کی مالی حالت اور حیثیت کو ظاہر کرتا ہے ۔بیلنس شیٹ میں شامل معلومات صرف اسی مقررہ دن کے لئے درست ہوتی ہے ۔بیلنس شیٹ حتمی یا فائنل حساب کا حصہ ہوتا ہے ۔لیکن یہ بذات خود حساب کھاتا نہیں ہوتا ۔ یہ صرف ایک گوشوارہ یا تفصیلات کا بیان ہوتا ہے ۔بیلنس شیٹ میں اثاثوں اور واجبات کے مجموعے (میزان) ہمیشہ برابر ہوتے ہیں اور یہ حسابی مساوات کو ظاہر کرتی ہے ۔
کسی کاروبار کی مالی حیثیت اور اس کے اثاثہ جات اور واجبات کی مالیت اور نوعیت کو جاننے کے لئے بیلنس شیٹ تیار کرنا ضروری ہوتا ہے۔ وہ تمام کھاتے، جو نفع ونقصان کا کھاتہ تیار کرنے تک بند نہیں کئے گئے ہیں، بیلنس شیٹ میں دکھائے جاتے ہیں۔ بیلنس شیٹ میں دکھائے گئے اثاثے اور واجبات، سیالیت (Liquidity)کے اعتبار سے یا پائیداری کے اعتبار سے مرتب کئے جاتے ہیں ۔

مشقی سوالات 

مختصر جوابات 
1. مالی گوشوارے تیار کرنے کے کیا مقاصد ہیں ؟
2. تجارت اور نفع ونقصان کے کھاتے تیار کرنے کا کیا مقصد ہے ؟
3. فروخت کردہ مال کی لاگت کے تصور کی تشریح کیجئے ؟
4. بیلنس شیٹ کیا ہے ۔اس کی خصوصیات کیا ہیں ؟
5. اصل سرمایہ اور آمدنی کے خرچ کا فرق واضح کیجئے اور بتائیے کہ مندرجہ ذیل بیانات اصل کی مدیں ہیں یا آمدنیوں کی مدیں ؟
(a) ایک پرانی عمارت خریدتے وقت اس کی مرمت اور رنگ روغن کرانے پر خرچ تاکہ وہ قابل استعمال ہو سکے ۔
(b)  سرکار کے ایک حکم کی تعمیل کے لئے سنیما ہال میں باہر نکلنے کا ایک اور راستہ مہیا کرنے پر کیا گیا خرچ ۔
(c) ایک عمارت خریدتے وقت رجسٹری کرانے کی ادا شدہ فیس ۔
(d) چائے کے ایک باغ کی دیکھ ریکھ اور مرمت پر کیا گیا خرچ جہاں چار برس بعد چائے کی پیداوار شروع ہوگی ۔
(e) ایک پلانٹ کی فرسودگی کی ادائیگی ۔
(f) ایک مشین نصب کرنے کے لئے چبوترہ بنانے پر کیا گیا خرچ ۔
(g) اشتہارات پر کیا گیا خرچ جس کے فائدے چار سال تک جاری رہیں گے ۔
6 .   تشفیلی یا دائر منافع (Operating profit) کیا ہے ؟

طویل جوابات 

1. مالی گوشوارے کیا ہیں ؟ یہ کیا معلومات مہیا کرتے ہیں ؟
2.     اختتامی اندراجات کیا ہوتے ہیں ؟ان کی چا ر مثالیں دیجئے ۔
3. بیلنس شیٹ تیا رکرنے کی ضرورت پر بحث کیجئے ۔
4.    اثاثوں اور واجبات کی زمرہ بندی اور انھیں مرتب کرنے سے کیا مراد ہے؟ ان طریقوں کی وضاحت کیجئے جن سے بیلنس شیٹ کو مرتب کیا جا سکتا ہے ۔

اعدادی سوالات 

 1. 31مارچ 2017 کو ختم ہونے والے سال کے لئے  سِمّی اور وِمّی لمیٹڈ کے بہی کھاتوں سے لئے گئے مندرجہ ذیل بقایا جات کی بنیاد پر خام منافع کا حساب لگائیے ۔
روپے 
اختتامی اسٹاک 2,50,000
سال کے دوران خالص فروخت 40,00,000
سال کے دوران خالص خریداریاں 15,00,000
ابتدائی اسٹاک 15,00,000
بلا واسطہ خرچے 80,000
(جواب  :  خام منافع 11,70,000)
           .2   میسرز آہوجہ اور نندا کے بہی کھاتوں (کتابوں ) سے اخذ کئے گئے مندرجہ ذیل بقایا جات (Balances) کی مدد سے درج ذیل کی رقم کا حساب لگائیے ۔
(a)   فروخت کے لئے دستیاب مال کی لاگت 
(b) سال کے دوران فروخت شدہ مال کی لاگت 
(c)   خام یعنی کل منافع 
روپے 
ابتدائی اسٹاک 25,000
ادھار پر خریداریاں 7,50,000
نقد خریداریاں 3,00,000
ادھار فروخت 12,00,000
نقد فروخت 4,00,000
اجرتیں 1,00,000
تنخواہیں 1,40,000
اختتامی اسٹاک 30,000
واپسی فروخت 50,000
واپسی خرید 10,000
19
(جواب:(a)
11,65,000روپے
(b)
11,35,000
(c)
4,15,000روپے
3  میسرز راجیو اینڈ سنز کی کتابوں کی (اندراجات)سے ماخوذ مندرجہ ذیل بقایا جات کی بنیاد پر اختتام سال 31 مارچ 2017 کے لئے خام منافع اور تشفیلی (Gross profit and operating profit) کا حساب لگایئے۔ 
روپے
ابتدائی اسٹاک 50,000
خالص فروخت 11,00,000 
خالص خریداریاں 6,00,000 
راست اخراجات 60,000
انتظامی اخراجات 45,000 
فروخت کاری اورتقسیم کاری اخراجات 65,000
آگ لگنے سے نقصان 20,000
اختتامی اسٹاک 70,000
(جواب  :  خام منافع 4,60,000تشفیلی منافع 3,50,000روپے ) 
           .4   میسرزاروڑہ اور سچدیوانے17 -2016 میں 1,70,000 کا تعمیلی منافع کمایا ۔اسی مدت میں فرم کی غیر تعمیلی آمدنی 50,000 رہی اور غیر تشفیلی (Non-opreating) خرچے 3,75,000 روپے کے ہوئے ۔ ان کے خالص منافع کا حساب لگایئے ۔
(جواب خالص منافع 14,75,000)
31    .5مارچ 2017 کو میسرز بھولا اینڈ سنز کے بیلنس سے اخذ کردہ اعداد درج ذیل ہیں ۔
20

کھاتہ کا نام  ڈیبٹ
رقم
کریڈٹ 
رقم
ابتدائی اسٹاک 2,00,000
خریداریاں  8,10,000
فروخت 
10,10.000 10,10.000
(صرف ضروری مدیں )
اس تاریخ کو اختتامی اسٹاک ، 3,00,000کی مالیت کا تھا ۔
آپ کو محض جنرل (روز نامچے ) کے ضروری اندراجات ریکارڈ کرنا ہیں اور یہ دکھانا ہے کہ مذکورہ بالا مدیں بھولا اینڈ سنز کے تجارتی اور نفع ونقصان کے کھاتے اور بیلنس شیٹ میں کس طرح سامنے آئیں گی۔
6.  بمطابق 31 مارچ ،2017 تجارتی اور نفع ونقصان کا کھاتہ اور بیلنس شیٹ تیار کیجئے  :
21
کھاتہ کا نام 
رقم
روپے
کھاتہ کا نام 

رقم
روپے
مشینری  27,000
اصل سرمایہ 
60,000
متفرق قرض دار  21,600
واجب الادا بل
2,800
نکالی گئی رقم  2,700
متفرق قرض خواہ (لین دار) 
1,400
خریداریاں  58,500
فروخت 
73,500
اجرتیں 15,000


متفرق خرچے
600


کرایہ اور ٹیکس  1,350


مال لانے کا بار بردار ی خرچ 450

بینک  4,500

ابتدائی اسٹاک 
6,000



اختتامی اسٹاک 31مارچ ،22,400،20211
(جواب ۔ خام منافع  :  15950روپے ،خالص منافع 14000روپے کل بیلنس شیٹ 75,500روپے ) 
 7. مندرجہ ذیل ٹرائل بیلنس میسرز رام کے کھاتوں سے 31مارچ 2017 کو اخذ کیا گیا تھا ۔آپ کو اسی تاریخ کا تجارتی اور نفع ونقصان کا کھاتہ اور بیلنس تیا رکرنا ہے ۔
22
22.
کھاتہ کا نام 
رقم
روپے
کھاتہ کا نام 

رقم
روپے
قرض داران (دین دار )  12,000
نو آموزی پریمیم 
5,000
خریداریاں  50,000
قرض 
10,000
کوئلہ ،گیس اور پانی  6,000
بینک اور ڈرافٹ
1,000
فیکٹری کی اجرتیں  11,000
فروخت 
80,000
تنخواہیں  9,000
قرض خواہان (لین دار ) 
13,000
کرایہ  4,000
اصل سرمایہ
20,000
چھوٹ  3,000


اشتہارات 500

نکالی ہوئی رقم  1,000

قرض
6,000


چھوٹی موٹی نقدی 
500


فروخت کی واپسی
1,000


مشینری 
5,000


زمین اور عمارت 
10,000


انکم ٹیکس 
100


فرنیچر 
9,900


(جواب۔ خام منافع  :  12,000 روپے ،خالص منافع :500 روپے، کل بیلنس شیٹ 43,400 روپے ) 
 8. منجو چاولہ کا 31مارچ 2017 کو ٹرائل بیلنس مندرجہ ذیل ہے ۔آپ کو اسی تاریخ کا تجارتی اور نفع ونقصان کا کھاتہ اور بیلنس شیٹ  تیارکرنی ہے  :
23
23.
کھاتہ کا نام 
ڈیبٹ
رقم
روپے
 
کریڈٹ
رقم
روپے
ابتدائی اسٹاک 10,000


خریداریاں اور بِکّریاں 40,000

80,000
واپسیاں 200

600
پیداواری اجرتیں 6,000


گودی اور مال نکالنے کا خرچ  4,000


چندہ اور خیرات  600


مال پہنچانے والی گاڑی کے اخراجات 6,000


روشنی  500

جمع کردہ سیلز ٹیکس 
1,000
ناقابل وصول قرضے 600


متفرق آمدنیاں 

6,000
کرایہ داروں سے وصول کرایہ 

2,000
رائلٹی 4,000


اصل سرمایہ

40,000
نکالی ہوئی رقم  2,000


قرض داران اور قرض خواہان
6,000

7,000
نقدی 
3,000


سرمایہ کاری 
6,000


پیٹنٹ
4,000


زمین اور مشینری 
43,000



اختتامی اسٹاک 2,000 روپے ۔
(جواب  : خام منافع :18,400روپے، خالص منافع:  18,700 روپے، کل بیلنس شیٹ 64,700 روپے ) 
   9. ذیل میں مسٹر دیپک کی  بیلنس شیٹ بتاریخ 31مارچ2017 دی گئی ہے ۔آپ کو تجارتی کھاتہ ،نفع ونقصان کا کھاتہ اور اسی تاریخ بیلنس شیٹ تیار کرنی ہے  :
24
24 .
کھاتہ کا نام 
ڈیبٹ
رقم
روپے
 کھاتہ کا نام 
کریڈٹ
رقم
روپے
نکالی گئی رقم  36,000
اصل
2,50,000
بیمہ 3000
واجب الادا بل
3,600
عام اخراجات 29,000
قرض خواہان
50,000
کرایہ اور ٹیکس  14,400
موصولہ چھوٹ 
14,400
روشنی (فیکٹری)  2,800
خریداریوں کی واپسی 
8,000
اخراجات سفر 7,400
فروخت 
4,40,000
نقدی در دست 12,600


واجب الاصول بل 5,000

متفرق قرض دار  1,40,000


فرنیچر  16,000


پلانٹ اور مشینری  180,000


ابتدائی اسٹاک 40,000


خریداریاں 160,000


فروخت کی واپسی 6,000


مال لانے کی باربرداری   7,200


مال لے جانے کی بار برداری  1,600


اجرتیں 84,000


تنخواہیں 
53,000


اختتامی اسٹاک 35,000روپے۔
(جواب  :  خام منافع  :  1,83,000، خالص منافع  :  85,000، کل بیلنس شیٹ  :  3,52,600)
10.    31  مارچ 2017 کو مندرجہ ذیل تفصیلات سے تجارت اور نفع ونقصان کاکھاتہ اور بیلنس شیٹ تیا رکیجئے ۔
25
25 .
کھاتہ کا نام 
ڈیبٹ
رقم
روپے
 
کریڈٹ
رقم
روپے
خریداریاںاور فروخت  3,52,000

5,60,000
آنے والے اور جانے والے مال کی واپسیاں 9,600

12,000
آنے والے مال کی بار برداری 7,000


جانے والے مال کی بار برداری  3,360


ایندھن اور بجلی 24,800


ابتدائی اسٹاک 57,600


ڈوبے قرضے 9,950


قرض داران اور قرض خواہان  1,31,200
48,000
اصل سرمایہ

3,48,000
سرمایہ کاری  32,000


سرمایہ کاری پر سود 

3,200
قرض

16,000
مرمتیں 2,400


عام اخراجات 17,000


اجرتیں اورتنخواہیں 28,000


زمین اور عمارتیں 288,000


نقدی دردست 32,000


متفرق وصولیاں


160
جمع کردہ بکری ٹیکس


8,350
اختتامی اسٹاک 30,000روپے ۔
(جواب  :  خام منافع :1,22,200روپے ،خالص منافع :92,950 روپے، کل بیلنس شیٹ :5,13,200 روپے )
11. مسٹر اے لال کے مندرجہ ذیل ابتدائی ٹرائل بیلنس سے بتاریخ 31مارچ 2017 تجارتی ،نفع اور نقصان کا کھاتہ اوربیلنس شیٹ تیار کیجئے ۔
26
26 .
کھاتہ کا نام 
ڈیبٹ
رقم
روپے
 
کریڈٹ
رقم
روپے
یکم اپریل 2005کو موجودہ اسٹاک  16,000


خریداریاں اور فروخت  67,600

1,12,000
آنے والے اورجانے والے مال کی واپسیاں 4,600

3,200
آنے والے مال کی باربردای  1,400


عام خرچے 2,400


نا قابل وصول قرضے  600


وصول شدہ چھوٹ


بینک اوورڈرافٹ

1,400
بینک اوور ڈرافٹ پر سود  600

10,000
وصول شدہ  کمیشن

1,800
بیمہ اور ٹیکس 4,000


اسکوٹر کے اخراجات 200


تنخواہیں  8,800


نقدی دردست 4,000


اسکوٹر 8,200


فرنیچر 5,000

عمارت 
65,000


قرض داران اور قرض خواہان
6,000

16,000
اصل سرمایہ


50,000
اختتامی اسٹاک 15000روپے 
(جواب :  خام منافع :40,600 روپے ،خالص منافع : 27,200 روپے، کل بیلنس شیٹ : 1,03,200 روپے ) 
12. مندرجہ ذیل بقایا جات بتاریخ 31 مارچ 2017 کی بنیاد پر میسرز رائل ٹریڈرز کا تجارتی اور نفع ونقصان کا کھاتہ اور بیلنس شیٹ تیار کیجئے ۔
27
27 .

ڈیبٹ بیلنس
رقم
روپے
 کریڈٹ  بیلنس
رقم
روپے
اسٹاک  20,000
فروخت 
2,45,000
نقدی  5,000
قرض خواہ 
10,000
بینک  10,000
قابل ادائیگی بل
4,000
خریداریوں کی بار برداری 1,500
اصل سرمایہ
2,00,000
خریداریاں 1,90,000


نکالی گئی رقمیں 9,000


اجرتیں
55,000


مشینری  1,00,000


قرض داران 27,000


ڈاک خرچ  300


متفرق خرچے  1,700


کرایہ  4,500


فرنیچر
35,000



اختتامی اسٹاک 800 روپے 
(جواب : خام نقصان 13,500 روپے ، خالص نقصان : 20,000 روپے، کل بیلنس شیٹ : 1,85,000 روپے )
13. میسرز نیما ٹریڈرز کی درج تفصیلات بتاریخ 31مارچ 2017 سے تجارت اور نفع ونقصان کا کھاتہ تیار کیجئے ۔
28
کھاتہ کا نام 
ڈیبٹ
رقم
روپے
 کھاتہ کا نام
کریڈٹ
رقم
روپے
عمارات 23,000
فروخت 
1,80,000
پلانٹ  16,930
قرض
8,000
آنے والے مال کی بار برداری  1,000
واجب الادا بل
2,520
اجرتیں  3,300
بینک اوور ڈرافٹ
4,720
خریداریاں 1,64,000
قرض خواہان
8,000
فروخت واپسی  1,820
اصل سرمایہ
2,36,000
ابتدائی اسٹاک 
9,000
خریداری واپسی
1,910
مشینری  2,10,940


بیمہ  1,610


سود 1,100


ڈوبے قرضے 250


ڈاک
300


چھوٹ
1,000


تنخواہیں 
3,000


قرض داران
3,900


31 مارچ 2014کو موجود اسٹاک0  1,600روپے 
(جواب : خام منافع : 17,850روپے ،خالص منافع : 10,590روپے، بیلنس شیٹ کا میزان : 2,69,830 روپے )

14. میسرزنیلو ساریز کے مندرجہ ذیل بقایا جات بتاریخ 31 مارچ 2017 سے تجارتی اور نفع ونقصان کا کھاتہ تیار کیجئے ۔
29
کھاتہ کا نام 
ڈیبٹ
رقم
روپے
 کھاتہ کا نام
کریڈٹ
رقم
روپے
ابتدائی اسٹاک 10,000
فروخت
2,28,000
خریداریاں 78,000
 اصل سرمایہ
70,000
آنے والے مال کی با ربرداری 2,500
سود 
7,000
تنخواہیں 30,000
کمیشن 
8,000
کمیشن 10,000
قرض خواہان
28,000
اجرتیں 11,000
واجب الادا بل
2,370
کرایہ اور ٹیکس  2,800


مرمتیں 5,000


ٹیلی فون کے اخراجات 1,400


قانونی اخراجات 1,500


متفرق اخراجات 2,500


 نقدی دردست 1,2,000


قرض داران 30,000


مشینری  60,000


سرمایہ کاری 
90,000


نکالا گیا پیسہ
18,000


اختتامی اسٹاک 31مارچ 2017 کی تاریخ کو 22,000 روپے 
(جواب  :  خام منافع : 1,56,500روپے ،خالص منافع :   1,10,300 روپے، کل بیلنس شیٹ: 2,14,000 روپے )
 15.    31 مارچ2017کو ختم شدہ سال کے لئے میسرز اسپورٹس ایکوپ مینٹس کا تجارتی ،اور نفع نقصان کا کھاتہ تیار کیجئے اور اسی تاریخ کی بیلنس شیٹ بھی بنایئے ۔
30
کھاتہ کا نام 



ڈیبٹ
رقم
روپے
کریڈٹ
رقم
روپے
ابتدائی اسٹاک
50,000

خریداریاں اور فروخت 
3,50,000
4,21,000
حاصلاتِ فروخت
5,000

اصل سرمایہ

3,00,000
کمیشن

4,000
قرض خواہان 

1,00,000
بینک اور ڈرافٹ

28,000
دردست نقدی 
32,000

فرنیچر
1,28,000

قرض داران 
1,40,000

پلانٹ
60,000

خریداریوں کی بار برداری 
12,000

اجرتیں 
8,000

کرایہ (عمارت ) 
15,000

ڈوبے قرضے 
7,000

نکالی گئی رقمیں

24,000

 اسٹیشنری 

6,000

خرچ سفر

2,000

بیمہ

7,000

چھوٹ 

5,000

دفتری خرچ

2,000


31 مارچ 2017 کو اختتامی اسٹاک 2,500 روپے 
(جواب  :  خام (مجموعی ) نقصان 1,500 روپے 
خالص نقصان 41,500
کل بیلنس شیٹ 3,62,500)

’’اپنی سمجھ کی جانچ کیجیے‘‘

31