Skip to content

Riyazee-001


نا مکمل ریکارڈ سے کھاتے  

(ACCOUNTS FROM INCOMPLETE RECORDS)

   11

سیکھنے کے مقاصد 

اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ اس قابل ہو جائیں گے کہ:
نامکمل ریکارڈوں کے مفہوم اور خصوصیات کو بیان کرسکیں؛
•  گوشوارۂ کیفیت کے طریقے کا استعمال کرکے نفع یا نقصان کا حساب لگاسکیں؛
بیلنس شیٹ اور گوشوارۂ کیفیت کے درمیان امتیاز کر سکیں ؛
•  نامکمل ریکارڈ وں سے تجارتی اور نفع و نقصان کا کھاتہ اور بیلنس شیٹ تیا کر سکیں ؛
•  با معنی اور اہم کھاتے تیار کرکے گم شدہ اعداد معلومات کا پتہ چلا سکیں ۔

اب تک ہم نے ایسی فرموں کے حسابی ریکارڈوں کا مطالعہ کیاہے جو کھاتہ داری کے دوہرے اندراج کے نظام کے مطابق کام کرتی ہیں ۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ تمام کاروباری اکائیاں اسی نظام کی پیروی کرتی ہیں ۔تاہم عملی طور پر تمام فرمیں اپنے حسابی ریکارڈ ہو بہو دوہرے اندراج کے مطابق نہیں کرتیں۔بہت سے چھوٹے کاروباری ادارے اپنے سودوں اور لین دین کے نامکمل ریکارڈ رکھتے ہیں ۔لیکن انھیں سال کے نفع یا نقصان کا ٹھیک ٹھیک علم بھی رکھنا ہوتا ہے اور سال میں اختتام پر فرم کی مالی حالت کے بارے میں بھی جاننا ضروری ہوتا ہے ۔اس با ب میں ایسی فرموں کے نفع و نقصان اور مالی حالت کے بارے میں پختہ واقفیت پرگفتگو کی گئی ہے جو اپنے ریکارڈ وں کو کھاتہ داری کے دوہرے اندراج کے مطابق نہیں رکھتیں یا جن کے ریکارڈ دوسری طرح سے نا مکمل ہیں ۔

11.1  نامکمل ریکارڈ کا مفہوم 

ایسے حسابی ریکارڈ جو ہو بہو دوہرے اندراج کے نظام کے مطابق نہ رکھے جاتے ہوں ،نا مکمل ریکارڈ کہلاتے ہیں ۔بہت سے مصنفین اسے اکہرے اندراج کا طریقہ کہتے ہیں۔ تاہم اکہرا اندراجی نظام ایک غلط نام ہے کیوں کہ حسابی ریکاڈ رکھنے کا ایسا کوئی نظام موجود نہیں ہے ۔یہ دوہرے اندراجی نظام کے متبادل کے طور پر ’’مختصر طریقہ ‘‘ بھی نہیں ہے ۔یہ تو بس ریکارڈ رکھنے کا ایک طریقہ ہے جس کے ذریعہ کچھ لین دین تو صحیح ڈیبٹ اور کریڈٹ کے ساتھ ریکارڈ کیے جاتے ہیں جب کہ دوسرے معاملات میں یا تو اکہرا اندراج کیا جاتا ہے یا کوئی اندراج کیا ہی نہیں جاتا ۔عام طور پر اس نظام میں نقد کے ریکارڈ اور قرض داروں اور قرض خواہوں کے ذاتی کھاتے تو مناسب طور پر رکھے جاتے ہیں لیکن اثاثے، واجبات مصارف اور محاصل(آمدنیاں ) جزوی طور پر ریکارڈ کیے جاتے ہیں ۔اس لئے انھیں عام طور پر نا مکمل ریکارڈ کہا جاتا ہے ۔

 11.1.1نا مکمل ریکارڈوں کی خصوصیات 

نا مکمل ریکارڈ سودوں (لین دین) کو جزوی طور پر ریکارڈ کرنے کی وجہ سے ہو سکتے ہیں، جیسا کہ چھوٹے دکانداروں مثلاً پرچون کے دکاندار اور پھیری لگانے والوں کے معاملے میں ہوتا ہے ۔بڑی تنظیموں کے معاملے میں قدرتی آفات ،چوری اور آگ وغیرہ کی وجہ سے حسابی ریکارڈ نا مکمل حالت میں چھوٹ  سکتے ہیں ۔نامکمل ریکارڈوں کی خصوصیات درج ذیل ہیں :
(a)  یہ لین دین کو ریکارڈ کرنے کا ایک بے ڈھنگا طریقہ ہے ۔
(b) عام طور پر نقد لین دین اور نجی کھاتے ٹھیک طریقے پر رکھے جاتے ہیں لیکن محاصل، دیگر وصولیابیوں ،منافع ،اخراجات اور؍ یا نقصانات اور اثاثہ جات اور واجبات کے بارے میں کوئی معلومات موجود نہیں ہوتی ۔
(c) مالکان کے ذاتی لین دین بھی کیش بک میں ریکارڈ کئے جاسکتے ہیں ۔
(d) مختلف تنظیمیں اپنی سہولیات اور ضرورتوں کے مطابق ریکارڈ رکھتی ہیں اور یکسانیت کے نہ ہونے کی وجہ سے ان کے حسابات قابل موازنہ نہیں ہوتے ۔
(e)  نفع یا نقصان معلوم کرنے یا دوسری معلومات حاصل کرنے کے لئے ضروری اعدادوشمار صرف اصلی رسیدوں سے حاصل کئے جاسکتے ہیں ،مثلاً فروخت کی بیجک یا خرید کی بیجک وغیرہ سے ۔  اس طرح اصلی رسیدوں پر انحصار ناگزیر ہو جاتا ہے ۔
(f)  اس سسٹم کے تحت سال کا نفع یا نقصان پوری طرح صحیح طو رپر معلوم نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ اس میں نفع ونقصان کا صرف ایک اندازہ ہی کیا جاسکتا ہے ۔ بیلنس شیٹ بھی اثاثوں اور واجبات کی صحیح تصویر پیش نہیں کرسکتی ۔

11.2  نامکمل ہونے کی وجوہات او راس کی خامیاں 

ایسا دیکھا گیا ہے کہ بہت سے کاروباری لوگ مندرجہ ذیل وجوہات کی بناء پر نا مکمل ریکارڈ رکھتے ہیں ۔
(a)  اس طریقے کو وہی لوگ اختیار کر سکتے ہیں جن کو حسابی اصولوں کی صحیح واقفیت اور علم نہیں ہوتا ۔
(b)  یہ ریکارڈ رکھنے کا ایک ایسا طریقہ ہے جس  میں کم خرچ آتا ہے کیوں کہ تنظیمیں ماہر محاسبوں (Accountants)کو ملازم نہیں رکھتیں ۔
(c) ریکارڈ تیار کرنے اور رکھنے میں کم وقت لگتا ہے کیونکہ چند کتابیں ہی رکھی جاتیں ہیں ۔
(d)  یہ ریکارڈ رکھنے کا ایک آسان طریقہ ہے اس لئے کہ مالک کاروبارکی ضرورتوں کے مطابق صرف اہم لین دین ریکارڈ کر کے کام چلاتا ہے۔ بہر صورت نامکمل ریکارڈوں کے طریقے میں بہت سی خامیاں ہیں۔ اس کی وجہ اس طریقے کی بنیادی نو عیت  ہے۔ 
      موٹے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب تک ریکارڈ کرنے اور رکھنے کے لئے ایک با قاعدہ اورمنظم طریقہ اختیار نہ کیا جائے، قابل اعتبار مالی گوشوارے تیا ر نہیں کئے جا سکتے۔
      نا مکمل ریکارڈوں کی کمیاں اور خامیاں مندرجہ ذیل ہیں :
(a)  کیونکہ دوہرے اندراج کا طریقہ نہیں اپنایا جاتا اس لئے بیلنس شیٹ تیا رنہیں کی جا سکتی۔ اورکھاتوں اور حسابات کے درست اور صحیح ہونے کا یقین نہیں کیا جاسکتا ۔
(b)  کاروبار کے کاموں کے مالیاتی نتائج کا پختہ علم نہیں ہو سکتا اور ان کا جائزہ بھی نہیں لیا جا سکتا ۔
(c)  کاروبارکی منفعت ،سیالیت (Liquidity) اور مقدرت (Solvency) کا تجزیہ نہیں کیا جا سکتا ۔اس بناء پر باہر کے لوگوں سے فنڈ اکٹھا کر نے اور آئندہ کے لئے کاروباری سرگرمیوں کی منصوبہ بندی میں دقت پیدا ہوسکتی ہے۔
(d)  آگ یا چوری کی وجہ سے فہرست مال (Inventory) ضائع ہوجانے کی صورت میں مالکان  کے لئے بیمہ کمپنی کو بیمہ کا دعویٰ داخل کرنے میں بڑی مشکل در پیش ہوجاتی ہے ۔
(e)  آمدنی کے قابل اعتماد ہونے کے بارے میں انکم ٹیکس کے عہدے داروں کو یقین دلانا مشکل ہو جاتا ہے ۔

 11.3نفع و نقصان کے بارے میں صحیح معلومات

ہر کاروباری فرم کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے اپنی کار کردگی اور کامیابیوں وناکامیوں کا تخمینہ لگانے کے لئے اپنے کاموں کے نتائج مکمل اور صحیح  طور پر معلوم ہوتے رہیں ۔اس کے لیے  مالی گوشوارے تیارکرنے کی ضرورت پیدا ہوتی ہے تاکہ ان دونوں باتوں کاانکشاف ہو سکے کہ : 
(a) ایک مقررہ مدت کے دوران فرم کو کتنا نفع ونقصان ہو اہے اور 
(b) حسابی مدت کی آخری تاریخ کو اثاثے اور واجبات کتنے ہیں ۔
لہٰذا اس صورت حال میں درپیش مسئلہ یہ ہے کہ نامکمل ریکارڈوں سے دستیاب معلومات کو کسی  حسابی سال میں نفع یا نقصان جاننے کے لئے استعمال کیا جائے اور ایک  فرم  کی مالی حالت کا سال کے آخر میں تعین کیا جا سکے ۔یہ کام دو طریقے سے کیا جا سکتا ہے ۔
1۔  حسابی سال کے شروع اور ختم ہونے پر گوشوارۂ کیفیت (Statement of Affairs) تیار کرنا۔ اس کو خالص مالی حیثیت کا طریقہ (Net Work Method)بھی کہا جا سکتا ہے۔
2۔  حسابی ریکارڈوں کو صحیح ترتیب میں رکھ کر تجارتی اور نفع و نقصان کا کھاتہ اور بیلنس شیٹ تیا رکرنا ،جسے طریقہ تبدیلی (Conversion method) کہا جاتا ہے ۔

11.3.1  گوشوارۂ کیفیت (Statement of Affairs)  تیار کرنا 

اس طریقہ کے کسی تحت حسابی مدت کے دوران اصل سرمایہ میں تبدیلی کی صحیح مقدار جاننے کے لئے اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے حسابی مدت کے شروع اور آخر میں تیا رکئے جاتے ہیں ۔ ایسے گوشوارہ کو گوشوارئہ کیفیت   کہا جاتا ہے جو ایک طرف اثاثوں دکھاتا ہے اوردوسری طرف واجبات کو، بالکل اسی طرح جیسا کہ بیلنس شیٹ میں کیا جاتا ہے ۔ دونوں جانب کے مجموعی میزانوں کا فرق (توازنی حساب) اصل سرمایہ ہوتا ہے (شکل 11.1دیکھیں )۔ اگرچہ گوشوارۂ کیفیت بیلنس شیٹ کے مشابہ ہوتا ہے لیکن اسے بیلنس شیٹ نہیں کہا جاتا کیوں کہ تفصیلات اور اعدادو شمار پوری طرح سے روزنامچہ (Ledger)کے بقایاجات پر مبنی نہیں ہوتے ۔قائم اثاثے، واجب الادا مصارف، اور بینک بیلنس وغیرہ جیسی مدوں کی رقمیں متعلقہ دستاویزات سے یا خارجی طور پر گن کر  معلوم کی جاتی ہے ۔

گوشوارۂ معاملات بتاریخ  ––

110

واجبات رقم
روپے
اثاثہ جات رقم 
روپے
واجب الادا بل ```` زمین اور عمارت ````
قرض خواہ ```` مشینری ````
واجب الادا مصارف ```` فرنیچر ````
اصل سرمایہ (توازنی عدد) ```` اسٹاک ````
(Balancing Figure) قرض دار ````
نقد درتحویل بینک ````
پیشگی اداشدہ مصارف ````
اصل (توازنی عدد)* ````
XXXX XXXX
نوٹ :*  جہاں واجبات کا میزان اثاثوں کے میزان سے زیادہ ہو وہاں اصل کو اثاثوں کی طرف دکھایا جائے گااور یہ اصل سرمایہ کا ڈیبٹ بیلنس ہوگا ۔

شکل 11.1  :  گوشوارہ ٔ کیفیت کا خاکہ 

ایک بار جب گوشوارۂ کیفیت کی مدد سے شروع اور آخر میں اصل سرمایہ کا حساب لگا لیا جائے تو نفع ونقصان کا گوشوارہ تیا ر کیا جاتا ہے جس سے سال کے اختتام پر نفع یا نقصان کی صحیح رقم معلوم ہوسکے ۔ابتدائی اور اختتامی سرمایہ کے درمیان کا فرق اس میں کمی یا اضافہ  کو ظاہر کرتا ہے ۔جس کی تطبیق مالک کے ذریعہ حسابی مدت میں نکالے ہوئے سرمایہ یا اس کے لگائے ہوئے نئے سرمایے کے لئے کرنا ہوتی ہے تاکہ اس مدت کے دوران ہونے والے نفع ونقصان کی رقم کا ٹھیک ٹھیک پتہ چل سکے ۔نفع ونقصان کا گوشوارہ شکل 11.2میں دکھائے گئے گوشوارہ کی طرح تیارکیا جاتا ہے ۔

اختتام سال پر نفع و نقصان کے گوشوارے کا خاکہ ....... 

111

تفصیلات   رقم
روپے 


جمع :
نفی:


نفی:
اختتام سال پرموجود پونجی (جس کا حساب سال کے ختم ہونے پرگوشوارۂ کیفیت سے نکالاگیا ) 
سال کے دوران نکالی گئی رقم
سال کے دوران لگایا گیا اضافی سرمایہ
سال کے آخر میں تطبیق شدہ سرمایہ (پونجی ) 
سال کے شروع میں موجود سرمایہ (جس کا حساب کیفیت کے گوشوارے سے سال کے شروع میں 
نکالا گیا ) 
سال کے دوران نفع یا نقصان
.....
.....
(.....)

....
(.....)

.....

شکل .  11.2  :   نفع یا نقصان کے گوشوارے کا خاکہ

 اگر مذکورہ بالا حساب لگانے کے بعد نتیجے میں مثبت رقم سامنے آتی ہے تویہ سال کے آخر میں کمایا ہوا نفع بتاتی ہے ۔ اگر آخری نتیجہ منفی رقم کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے تویہ سال کے دوران ہوئے نقصان کو بتائے گا ۔ یہی حساب مندرجہ ذیل مساوات کی شکل میں کیا جا سکتا ہے :
نفع یا نقصان  =  آخر میں سرمایہ  –  ابتداء میں سرمایہ +  سال کے دوران نکالی گئی رقمیں  –  سال کے دوران لگایا گیا نیاسرمایہ 
مثال کے طور ،  پر مس شیتو کے ریکارڈوں سے اخذ کردہ مندرجہ ذیل معلومات پر غور کیجئے ۔
روپے 
سال کے شروع یعنی یکم اپریل 2016 کو موجود سرمایہ  1,20,000
سال کے اختتام یعنی 31مارچ 2017 کو موجود  سرمایہ 2,00,000
سال کے دوران پروپرائٹر کا لایا ہوا  سرمایہ  50,000
دوران سال پروپرائٹر کے ہاتھوں نکالی گئی رقومات  30,000
سال کے لئے منافع کا حساب مندرجہ ذیل طریقے سے لگایا جائے گا :
ایک مقررہ مدت کے دوران نفع یا نقصان کا حساب درج ذیل کے مطابق لگایا جائے گا ۔
112

تفصیلات   رقم
روپے 

پونجی(سرمایہ) 31مارچ  2017کو 
2,00,000
جمع
دوران نکالی گئی رقمیں
30,000


2,30,000
نفی
  دوران سال نکالی گئی پونجی
(50,000)

سال کے آخریعنی 31مارچ 2017 کو تطبیق شدہ (Adjusted)پونجی(سرمایہ)
1,80,000

شروع میں یعنی یکم اپریل 2016کو موجودہ پونجی (سرمایہ)
(1,20,000)

دوران سال کمایا ہوا منافع
60,000

مثال 1
مسٹر مہتہ نے تیارشدہ لباس کا اپنا کاروبار یکم اپریل 2016 کو 50,000 روپے کے سرمایہ سے شروع کیا ۔انھوں نے اپنے کھاتے  دوہرے اندراج کے طریقے کے مطابق نہیں رکھے ،سال کے دوران انھوں نے 15,000روپے کی نئی پونجی کاروبار میں لگائی۔ انھوں نے اپنے ذاتی استعمال کے لئے 10,000روپے نکالے ۔31مارچ 2017 کو ان کے اثاثے اور واجبات مندرجہ ذیل تھے۔
کل قرض خواہ (لین دار) 90,000 روپے : کل قرض دار(دین دار) 1,25,600روپے :اسٹاک 24,750:ـ نقد در بینک 24,980 روپے گوشوارہ ٔکیفیت کے طریقہ کو استعمال کرتے ہوئے مسٹر مہتہ کے کاروبار کے پہلے سا ل کے نفع یا نقصان کا حساب لگایئے ۔
حل 

مسٹر مہتہ کا ریکار ڈ 

گوشوارہ ٔ کیفیت بتاریخ 31مارچ  2017 

114
z
واجبات رقم
روپے
اثاثہ جات رقم 
روپے
قرض خواہ
90,000
نقد در بینک
24,980
سرمایہ 
85,330
قرض دار
1,25,600
(توازنی عدد)) (Balancing Affairs

اسٹاک
24,750

1,75,330

1,75,330

گوشوارہ نفع و نقصان31 مارچ  2014 کو ختم ہوئے سال کے لیے

115

تفصیلات   رقم
روپے 

سرمایہ بتاریخ31مارچ2017 85,330
جمع دوران نکالی گئی رقم 10,000


95,330
نفی دوران سال لگائی ہوئی اضافی پونچی 15,000

تطبیق شدہ سرمایہ سال کے آخر میں یعنی 31مارچ2017کو 80,330

ابتدائی سال میں یعنی یکم اپریل2016کوحقیقی سرمایہ (50,000)

سال کے دوران حاصل کیا گیا منافع 30,330
مثال  2
مسز وندنا چھپائی کی ایک چھوٹی سی فرم چلاتی ہیں ۔ وہ محض چند ریکارڈ ہی رکھتی تھیں جو ان کے خیال میں کاروبار کو چلانے کے لئے کافی تھے۔ یکم اپریل 2016 کو ان کے پاس دستیاب ریکارڈوں سے حاصل کی گئی معلومات سے ظاہرہو اکہ ان کے پاس مندرجہ ذیل اثاثے اور واجبات تھے۔ پرنٹنگ پریس 
5,00,000 روپے ،عمارتیں 2,00,000 روپے ،اسٹاک 50,000،بینک میں نقدی 65,600 روپے، نقد در دست 7,980 روپے ،گاہکوں پر ادھار0 2035 روپے، قرض خواہوں کا ادھار 75,340 روپے ،اور واجب الادا اجرتیں 5,000 روپے، انھوں نے ہر ماہ 8,000 روپے اپنے ذاتی مصارف کے لئے نکالے ۔ انھوں نے سال کے دوران 15,000روپے کی نئی رقم بھی کاروبار میں لگائی ۔31مارچ 2017 کو ان کی مالی حالت اس طرح تھی ۔
پریس5,25,000، عمارتیں 2,00,000 روپے، اسٹاک 55,000 روپے، نقد در بینک40,380 روپے نقد،دردست 15,340 روپے ،گاہکوں پر ادھار 17,210روپے ، قرض خواہو ں کا ادھار 65,680 روپے۔ 
گوشوارہ ٔکیفیت کا طریقہ استعمال کر کے سال کے دوران مسز وندنا کے منافع کا حساب لگایئے ۔

گوشوارۂ معاملات مسز وندنا 

کے ریکارڈ بتاریخ یکم اپریل 2016 

اور بتاریخ 31مارچ 2017

116

واجبات یکم اپریل 2016
روپے
31مارچ 2017
روپے
اثاثہ جات یکم اپریل 2016
روپے
رقم
روپے
قرض خواہ 75,340 65,680 پرنٹنگ پریس 5,00,000 5,25,000
واجب الادااجرتیں 5,000 ___ عمارتیں 2,00,000 2,00,000
سرمایہ 7,63,590 7,87,250 قرض دار 20,350 17,210
(توازنی عدد) اسٹاک 50,000 55,000
نقددر بینک 65,600 40,340
نقد دردست 7,980 15,340
8,43,930 8,52,930 8,43,930 8,52,930

گوشوارہ نفع ونقصان 31 مارچ 2017 کو ختم ہوئے سال کے لیے

117

تفصیلات   رقم
روپے 

31مارچ 2017کو موجود سرمایہ
7,87,250
جمع  دوران سال نکالی گئی رقم 
96,000


8,83,250
نفی  دوران سال لگایا گیا اضافی سرمایہ
(15,000)

سال کے آخرمیں تطبیق شدہ سرمایہ یعنی بتاریخ 31مارچ 2017
(8,68,250)
نفی : 
یکم اپریل 2016کو موجود سرمایہ
7,63,590

سال کے دوران حاصل شدہ منافع
1,04,660

   11.3.2 گوشوارہ ٔکیفیت اور بیلنس شیٹ میں فرق 

گوشوارۂ کیفیت اور بیلنس شیٹ دونوں ایک مقررہ تاریخ میں کسی کاروبار کے اثاثے اور واجبات کو ظاہر کرتے ہیں ۔ تاہم دونوں کے درمیان کچھ بنیادی فرق ہیں ۔گوشوارۂ کیفیت نا مکمل ریکارڈوں سے تیا رکیا جاتا ہے جہاں زیادہ تر اثاثوں کو اندازوں یا تخمینوں کی بنیاد پر ریکارڈ کیا جا تا ہے جب کہ بیلنس شیٹ یعنی چٹھا ان ریکارڈوں سے تیار کیا جاتا ہے جو کھاتہ داری کے دوہرے اندراج کی بنیاد پر لکھے جاتے ہیں اور جہاں تمام اثاثوں اور واجبات کی روزنامچے کے حسابات سے تصدیق کی جا سکتی ہے ۔ لہٰذا گوشوارۂ کیفیت تیار کرنے کا مقصد اس تاریخ کو اصل سرمایہ کے کھاتے کی صحیح رقم کو معلوم کرنا ہوتا ہے جب کہ بیلنس شیٹ ایک خاص تاریخ کو کاروبار کی مالی حالت جاننے کے لئے تیا رکی جاتی ہے ۔گوشوارۂ کیفیت میں اثاثوں یا واجبات کی کوئی مد چھوٹ سکتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ غلطی پکڑی ہی نہ جاسکے کیوں کہ اس غلطی کے نتیجے کی پونجی کھاتہ کے بقایا میں تطبیق کر دی جاتی ہے اور گوشوارے کے دونوں طرف کے میزان ایک دوسرے کے برابر ہو جاتے ہیں ۔ تاہم بیلنس شیٹ کے معاملے میں کسی مد کے چھوٹ جانے کا امکان بہت کم ہوتا ہے ،اس لئے کہ اگر کوئی فروگزاشت ہوئی بھی ہے تو بیلنس شیٹ میں مطابقت نہیں پیدا ہوگی اور اکاؤنٹینٹ حسابی ریکارڈوں سے گم شدہ مد کا پتہ چلا لے گا ۔گو شوارۂ کیفیت اور بیلنس شیٹ کے فرق کو ذیل میں ایک جدول کی شکل میں دکھایا گیا ہے :
118

فرق کی بنیا د  گوشوارہ ٔمعاملات 
  بیلنس شیٹ
معتبریت 
Credibility) 
یہ کم معتبر ہوتا ہے کیوں کہ اسے نا مکمل ریکارڈوں 
سے تیار کیا جاتا ہے ۔
یہ زیادہ معتبر ہوتا ہے کیوں کہ اسے دوہرے 
اندراج کے ریکارڈوں سے تیا ر کیا جاتا ہے ۔
مقصد  کیفیت کا گوشوارہ تیا ر کرنے کا مقصد ایک خاص 
تاریخ کو پونجی کھاتہ کے بقایا کا تخمینہ لگانا ہوتا ہے۔

بیلنس شیٹ تیا رکرنے کا مقصد ایک خاص تاریخ 
کو کسی کاروباری اکائی  کی سچی اور صحیح مالی حالت کو 
دکھانا ہوتا ہے ۔
فرو گزاشت 
(چھوٹ جانا یا شامل 
ہونے سے رہ جانا) 
اثاثوں اورواجبات کی فروگزاشت کا آسانی
سے پتہ نہیں لگایا جا سکتا اور وہ حسابی ریکارڈوں 
سے ہی معلوم کی جاسکتی ہیں ۔
اثاثوں اور واجبات کی فروگزاشتوں کا پتہ آسانی سے 
لگایا جاسکتا ہے اور حساب کتاب کے ریکارڈوں سے 
ان کو معلوم کیا جاسکتا ہے۔
شکل 11.3گو شوارۂ کیفیت اور بیلنس شیٹ کے فرق 

اسے خود کیجئے

اپنےعلاقہ میں کسی چھوٹے دکاندار کا پتہ لگایئے اور اس سے ان حسابی ریکارڈوں کے بارے میں پوچھئے جو وہ خود رکھتا ہے۔ اور وہ دوہرے اندراجی طریقے کے مطابق ریکارڈ نہیں رکھتا تو اس کی وجوہات کی ایک فہرست تیار کیجئے اور اس سےپوچھے کہ وہ نفع و نقصان کاحساب کس طرح لگاتا ہے۔

 11.4تجارتی اور نفع ونقصان کا کھاتہ اوربیلنس شیٹ  تیا رکرنا 

صحیح اور ٹھیک طور پر تجارتی اور نفع ونقصان کا کھاتہ اور بیلنس شیٹ تیار کرنے کے لئے مصارف، آمدنیوں، اثاثہ جات اور واجبات کی مکمل معلومات در کار ہوتی ہے۔ نا مکمل ریکارڈوں کے معاملے میں ایسی مدوں کی تفصیلات جیسے ،قرض خواہ، نقد خریداری، قرض دار، نقد فروخت ،دیگر نقد ادائیگیاں اور وصولیاں تو بآسانی دستیاب ہوتی ہیں لیکن ایسی بھی بہت سی مدیں  ہوتی ہیں جن کی تفصیلات کے بارے میں پختہ واقفیت بالواسطہ طور پر دوہرے اندراج کو استعمال کر کے حاصل کرنی ہوتی ہے ۔سب سے زیادہ عام مدیں جو شامل ہونے سے رہ جاتی ہیں اور ان کو معلوم کرنا ضروری ہوتا ہے ،یہ ہیں : 
•  ابتدائی اسٹاک 
•  ادھار خریداریاں 
ادھار فروخت 
•  واجب الادا بل قبول کئے گئے 
•  واجب الوصول بل وصول ہوئے 
•  قرض خواہوں کی ادائیگی 
•  قرض داروں کی ادائیگیاں 
•  دیگر نقد /بینک سے متعلق مدیں 
آپ جانتے ہیں کہ ابتدائی سرمایہ سال کے شروع میں گوشوارہ ٔکیفیت تیا رکرکے معلوم کیا جا سکتا ہے ۔دوسری مدوں کے سلسلے میں ہم وضاحت کر چکے ہیں کہ دستیاب معلومات کو کس طرح استعمال کر کے ان کے غیر مذکور اعدادوشمار  کو کل قرض داروں اور کل قرض خواہوں،کل قابل وصولی بلوں اور کل قابل ادائیگی بلوں کے کھاتوں اور نقدی کے خلاصے کی مدد سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔

 11.4.1 ادھار خریداریوں کو ٹھیک طور پر معلوم کرنا 

ادھار خریداریوں کی تعداد نا مکمل ریکارڈوں سے نہیں مل سکتی ۔عین ممکن ہے کہ قرض خواہوں کے بارے میں کوئی دوسری معلومات بھی موجود نہ ہو ۔لہٰذا تمام قرض خواہوں کا کھاتہ جس کا پروفارما (خاکہ) شکل 11.4 میں دیا گیا ،تیا رکرکے ادھار خریداریوں یا قرض خواہوں سے متعلق کوئی دو سر ے اعداد وشمار کو جو موجود نہ ہوں ،توازنی عدد کے طور پرمعلوم کیا جاسکتاہے ۔

کُل قرض خواہوں کا کھاتہ 

 119
ڈیبٹ کریڈٹ
تاریخ  تفصیلات جرنل صفحہ نمبر رقم 
روپے
تاریخ  تفصیلات  جرنل صفحہ نمبر  رقم
روپے
ادا کردہ نقد ۔۔۔۔ بقایا لایا گیا  ۔۔۔۔
بینک (جاری شدہ چیک) ۔۔۔۔ بینک (ادا شدہ چیک)  ۔۔۔۔
واجب الادا بل ۔۔۔۔ واجب الادا بل  ۔۔۔۔
(قبول شدہ بل ) بل رد ہوئے 
وصول شدہ چھوٹ ۔۔۔۔ ادھار خریداریاں ۔۔۔۔
خرید کی واپسی  ۔۔۔۔
بقایا نیچے لے جایا گیا ۔۔۔۔
xxxxxxx xxxxxxx
 شکل . 11.4  قرض خواہوں کے کھاتے کا خاکہ 
مثال کے طور پرمیسرز کسان فوڈ سپلائرز کے مندرجہ ذیل لین دین کو دیکھئے : 
روپے 
قرض خواہوں کا ابتدائی بقایا  40,000
قرض خواہوں کا اختتامی بقایا  50,000
نقد ادائیگی  85,000
وصول کردہ چھوٹ 2,000
کل قرض خواہوں کا کھاتہ مندرجہ ذیل طریقے سے بنایا جائے گا :

کسان فوڈ سپلائرز کی کتابیں 

کل قرض خواہوں کا کھاتہ 

120
ڈیبٹ کریڈٹ
تاریخ  تفصیلات بہی رقم 
روپے
تاریخ  تفصیلات  بہی رقم
روپے
نقد

85,000

بقایا لایا گیا

40,000
چھوٹ

2000

ادھار خریداریاں

97,000

بقایا نیچے لے جایا گیا 

50,000






1,37,000



1,37,000

11.4.2 ادھارفروخت کو معلوم کرنا 

ادھار فروخت کی رقم بھی نامکمل ریکارڈوں سے عام طور پر نہیں مل پاتی ہے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قرض داروں سے متعلق کچھ دوسری معلومات بھی موجود نہ ہو۔ لہٰذا اگر قرض داروں کا کل کھاتہ شکل 11.5کے مطابق تیار کیا جائے تو ادھار فروخت یا کوئی دوسری نا معلوم رقم بطور توازنی رقم (Balancing Figure) معلوم کی جا سکتی ہے ۔

کل قرض داروں کا کھاتہ 


121
ڈیبٹ کریڈٹ
تاریخ  تفصیلات بہی رقم 
روپے
تاریخ  تفصیلات  بہی رقم
روپے
بقایا نیچے لایا گیا
۔۔۔۔ نقد
۔۔۔۔


 (وصول شدہ نقد) 
واجب الوصول بل
۔۔۔۔ بینک (وصول شدہ چیک) 

(مسترد کئے گئے بل )
دی گئی چھوٹ
۔۔۔۔
بینک (رد شدہ چیک)
۔۔۔۔

ادھار فروخت 
۔۔۔۔ ڈوبے قرضہ جات  ۔۔۔۔
 (توازنی رقم )

فروخت واپسی ۔۔۔۔



واجب الوصول بل ۔۔۔۔

(وصول کردہ بل ) ۔۔۔۔

بقایا نیچے لے جایا گیا
xxx
xxx
شکل .  11.5 قرض داروں کے کھاتہ کا خاکہ

کل قرض داروں کے کھاتہ سے معلوم ادھار فروخت کی بنیاد پر فروخت واپسی کو مجموعی (Gross) ادھار فروخت سے  منہا کر دینا چاہئے جس سے خالص ادھار فروخت کا پتہ چل سکے ۔مثال کے طور پر مندرجہ ذیل معلومات موہن لال ٹریڈرز کے ریکارڈوں سے لی گئی ہے ۔
روپے 
یکم اپریل 2016 کو قرض دار  50,000
31 مارچ 2017 قرض دار                                               70,000
قرض داروں سے وصول شدہ نقد                                         60,000
دی گئی چھوٹ                                                             1,000
واجب الوصول بل                                                         30,000
ڈوبے قرضے                                                                3,000
کل قرض داروں کا کھاتہ مندرجہ ذیل طریقے سے تیار کیا جائے گا :

موہن لال ٹریڈرز 

کل قرض داروں کا کھاتہ


122
ڈیبٹ کریڈٹ
تاریخ  تفصیلات بہی صفحہ رقم 
روپے
تاریخ  تفصیلات  بہی رقم
روپے
یکم اپریل

بقایا نیچے لایا گیا 


50,000


نقد 


60,000

2016




ادھار فروخت 

1,14,000

چھوٹ
1,000
(توازنی رقم )

31
واجب الوصول بل

30,000



مارچ
ڈوبے قرضے
3,000



017
بقایا نیچے لے جایا گیا

70,000


1,64,000



1,64,000

 11.4.3واجب الوصول اور واجب الادا بلوں کا پتہ لگانا 

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ واجب الوصول اور واجب الادا بلوں سے متعلق تمام تفصیلات تو دستیاب ہوتی ہیں لیکن دوران سال وصول شدہ بلوں اور منظور شدہ بلوں کی رقومات کا ذکر نہیں ہوتا ۔ایسی صورت میں کل واجب الوصول اور کل واجب الادا کے کھاتے تیار کئے جاسکتے ہیں اور غائب یا نا معلوم رقموں کا پتہ بطور توازنی رقوم لگایا جا سکتا ہے ۔کل واجب الوصول بلوں کے کھاتے کا خاکہ شکل 11.6 اور 11.7 میں دیا گیا ہے ۔

کل واجب الوصول بلوں کا کھاتہ 


123
ڈیبٹ کریڈٹ
تاریخ  تفصیلات بہی صفحہ رقم 
روپے
تاریخ  تفصیلات  بہی رقم
روپے
بقایا نیچے لایا گیا

۔۔۔۔

بینک (بل منظور کئے گئے

۔۔۔۔

 


متفرق قرض دار 
۔۔۔۔
متفرق قرض دار 
۔۔۔۔

(بل نا منظور کئے گئے ) 


(بل موصول ہوگئے )


بقایا نیچے لے جایا گیا

۔۔۔۔


xxx



xxx
شکل 11.6 .  واجب الا الوصول بلوں کے کھاتے کا خاکہ 

کل واجب الادا بلوں کا کھاتہ 


124
ڈیبٹ کریڈٹ
تاریخ  تفصیلات بہی رقم 
روپے
تاریخ  تفصیلات  بہی رقم
روپے
بینکبلوں کی مدت پوری 
(Mature)ہوگئی


۔۔۔۔


بقایا لایا گیا 


۔۔۔۔


متفرق قرض خواہ 

۔۔۔۔



(بل نا منظور ہو گئے )


متفرق قرض خواہ 

۔۔۔۔
بقایا لے جایا گیا
۔۔۔۔

بل منظور ہوگئے 




xxx


xxx

شکل 11.7 .  واجب الادا بلوں کے کھاتہ کا خاکہ 

مثال کے طور رمیسرز ایس ۔ایس سیتاپتی کے ریکارڈوں سے دستیاب تفصیلات کو دیکھئے ۔

روپے 
واجب الوصول ابتدائی بل  5,000
واجب الادا ابتدائی بل                                                   37,500
واجب الوصول بل جومسترد کردئے گئے                                2,000
مسترد کردہ واجب الادا بل                                              66,750
اختتامی واجب الادا بل                                                   52,500
دوران سال اکٹھا کیے گئے بل                                           12,000 
واجب الوصول اختتامی بل  4,000
واجب الوصول اور واجب الادا کا کھاتہ اس طرح تیا ر کیا جائے گا :

کل واجب الوصول بلوں کا کھاتہ 


125
ڈیبٹ کریڈٹ
تاریخ  تفصیلات بہی رقم 
روپے
تاریخ  تفصیلات  بہی رقم
روپے
بقایا لایا گیا 

5,000

متفرق قرض دار

2,000




(مسترد کردہ بل ) 

متفرق قرض دار
13,000

بینک (اکٹھے کیے گئے بل)

12,000
(وصول شدہ بل )





(توازنی رقم)


بقایا لے جایا گیا

4,000


18,000



18,000

کل واجب الادا بلوں کا کھاتہ 

ڈیبٹ کریڈٹ
126
ڈیبٹ کریڈٹ
تاریخ  تفصیلات بہی رقم 
روپے
تاریخ  تفصیلات  بہی رقم
روپے
مسترد کردہ بل

66,750

بقایا لایا گیا

37,500

بقایا لے جایا گیا
52,500

متفرق قرض خواہ 
81,750



(بل قبول کر لیے گئے )





(توازنی رقم )




52,500



1,19,250

127

اپنی سمجھ کا امتحان لیجئے   1 –
صحیح جواب پر (√)کا نشان لگایئے ۔
.1 کھاتہ داری کے نامکمل ریکارڈوں کا طریقہ ہے:
 (a)  سائنٹفک  (b)   غیر سائنٹفک 
(c)  بے ڈھنگا b (d)  اور cدونوں 
.2 ابتدائی سرمایہ کا پتہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تیار کر کے لگتا ہے ۔
(a) کل قرض دارکھاتہ (b) کل قرض خواہ کھاتہ 
(c) نقد کھاتہ (d) ابتدائی گوشوارۂ کیفیت 
.3 سال کے دوران اُدھار خرید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تیار کرکے معلوم کی جاتی ہے ۔
 (a)کل قرض خواہ کھاتہ  (b)  کل قرض دار کھاتہ 
 (c)نقد کھاتہ  (d)  اختتامی گوشوارۂ کیفیت 
    .4 اگر ابتدائی پونجی 60,000روپے ،نکالی گئی رقم 5,000روپے حسابی مدت کے دوران لگائی گئی نئی پونجی 10,000روپے اور اختتامی پونجی 90,000ہے تو اس مدت میں کمائے ہوئے منافع کی مالیت کتنی ہوگی۔
(a) 
20,000روپے
(b)   
 25,000روپے
(c)
30,000 روپے 
(d) 
40,000 روپے

11.4.4  نقد کے خلاصہ کے ذریعے غیر مذکورمعلومات کا تعین کرنا 

کبھی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قرض خواہوں کو ادا کی گئی رقم،یا قرض داروں سے موصول رقم ،یا ابتدائی یا اختتامی نقدیا بینک بیلنس کی رقم غائب ہو۔ وصولی یا ادائیگی کی کسی گم شدہ مد کا پتہ چلانے کے لئے ہم ایک کیش بک کاخلاصہ تیار کرسکتے ہیں جس میں سال کے دوران تمام وصولیاں اور ادائیگیاں دکھائی گئی ہوں اورتوازنی رقم کو گم شدہ مد کی رقم سمجھا گیا ہو۔
تا ہم اگر قرض خواہوںکو ادا کی گئی اور قرض داروں سے وصولی کی گئی رقمیں دونوں ہی غائب ہیں تو ان میں سے کسی ایک کو پہلے توکل قرض خواہ کھاتہ یا کل قرض دار کھاتہ سے حاصل کیا جا سکتا ہے (معاملے کے مطابق ) اور دوسری گم شدہ معلومات کا پتہ کیش بک کے خلاصہ سے اسی طرح چلایا جا سکتا ہے جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے ۔
گم شدہ (Missing) رقموں کا پتہ چلنے کے بعد فائنل حسابات سیدھے طور پر یابیلنس شیٹ تیار کرنے کے بعد تیار کیے جا سکتے ہیں۔ بیلنس شیٹ کے اجزاء اور ان کی معلومات کے ذرائع کا خلاصہ درج ذیل ہے :
128

1- اختتامی اثاثے (بجز اسٹاک ) اور واجبات 
اختتامی فہرست
2- ابتدائی اثاثے (بشمول ابتدائی اسٹاک )  ابتدائی فہرست 
3- خریداریاں
ادھارخریداریوں کو کل قرض خواہ کھاتہ سے کریڈٹ کرنا ہے اور نقد 
خریداریوں کو نقد کے خلاصہ سے
4- فروخت

ادھارفروخت کو کُل قرض داروں کے کھاتے سے کریڈٹ کرنا ہے اور 
نقد فروخت کو نقد کے خلاصہ سے 
5- ابتدائی سرمایہ
ابتدائی گوشوارۂ کیفیت
6- مصارف ومحاصل  نقد کے خلاصہ کے مطابق اور ذیلی معلومات کے ساتھ
7- نقصانات اورمنافع 
تمام کھاتوں اور بکھری ہوئی معلومات سے 
8- واجب الوصول بل وصول ہوئے
کل واجب الوصول بل کھاتہ 
9- واجب الادا بل تسلیم کئے گئے 
کل واجب الادا بل کھاتہ 
10 نقد/ بینک بقایا  
نقد کا خلاصہ
شکل .  11.7  گم شدہ معلومات کا پتہ چلانا
مثال  3
مندرجہ ذیل معلومات سے 31 مارچ 2017 کو ختم ہوئے سال کے لیے مسٹر امت کی کل فروخت کا حساب لگایئے :
رقم   روپے 
یکم اپریل 2016 کو کل قرض دار                                          40,000
یکم اپریل 2016 کو کل قرض خواہ                                         50,000
یکم اپریل 2016 کو واجب الوصول بل                                     30,000
یکم اپریل 2016 کو واجب الادا بل                                      45,000
وصول شدہ چھوٹ 5,000
ناقابل وصول قرضے                                                         2,000
آنے والے محاصل                                                          4,000
دی گئی چھوٹ                                                              3,000
نقد فروخت                                                                 10,000
نقد خریداریاں                                                               8,000
31مارچ 2017 کو کُل قرض داران                                       80,000
قرض داروں سے وصول شدہ نقد  1,00,000
قرض خواہوں کی نقد ادائیگی                                                80,000
قابل وصول بلوں سے نقد موصول رقم                                    25,000
واجب الوصول بلوں کی ادائیگی  40,000
31مارچ 2017 کو کل قرض خواہ                                         40,000
واجب الادا بل بتاریخ 31مارچ 2017                                   50,000
واجب الوصول بل بتاریخ 31مارچ2017                                35,000

حل 

کل واجب الوصول بل کھاتہ 


129
ڈیبٹ کریڈٹ
تاریخ  تفصیلات بہی رقم 
روپے
تاریخ  تفصیلات  بہی رقم
روپے
بقایا لایا گیا 
30,000

نقد

25,000

کل قرض دار 
30,000

بقایا لے جایا گیا

35,000
(توازنی رقم )






60,000



60,000

کل واجب الادا بل کھاتہ 


130
ڈیبٹ کریڈٹ
تاریخ  تفصیلات بہی رقم 
روپے
تاریخ  تفصیلات  بہی رقم
روپے
نقد
40,000

بقایا لایاگیا

45,000

بقایا لے جایا گیا
50,000

کُل قرض خواہ

45,000




(توازنی رقم)



90,000



90,000

کھاتہ کل قرض دار

134
ڈیبٹ کریڈٹ
تاریخ  تفصیلات بہی رقم 
روپے
تاریخ  تفصیلات  بہی رقم
روپے
بقایالا یا گیا 
40,000

ناقابل وصول قرضے

2,000

فروخت
1,79,000

فروخت کی واپسی 

4,000
(توازنی رقم)



دی گئی چھوٹ

3,000



نقد

1,00,000



واجب الوصول بل

30,000



واجب الوصول کھاتے سے منتقل





بقایا لے جایا گیا 

80,000

2,19,000



2,19,000

کھاتہ کل قرض خواہ

131
ڈیبٹ کریڈٹ
تاریخ  تفصیلات بہی رقم 
روپے
تاریخ  تفصیلات  بہی رقم
روپے
وصول شدہ چھوٹ
5,000

بقایا لایا گیا 

50,000

نقد 
80,000

خریداریاں (ادھار) 

1,20,000
واجب الادا بل
45,000

توازنی رقم


(واجب الادابل کھاتہ سے منتقل )


(Balancing Figure)

بقایا لے جایا گیا 
40,000




1,70,000



1,70,000

ورکنگ نوٹ :
(i) ادھار خریداریوں کا حساب کل قرض خواہ کھاتہ سے 1,20,000روپے کی شکل میں نکالا گیا ہے ۔نقد خریداریاں 8,000 روپے کی ہیں ۔کل خریداریاں 1,20,000روپے   8,000 + روپے=،1,28,000
(ii)  ادھار فروخت کا حساب کل قرض دار کھاتہ سے 1,79,000 + 10,000روپے  1,89,000 =روپے کی ہے۔ 
مثال   4
میسرزسدھاکی جانب سے فراہم کردہ مندرجہ ذیل معلومات سے ’خالص فروخت‘ کا حساب لگایئے : 
روپے 
یکم اپریل 2016 کو قرض داروں کے ذمہ  65,000
31مارچ 2017 کو قرض داروں کے ذمہ                                  50,000
یکم اپریل 2016 کو واجب الوصول بلوں کا ابتدائی بیلنس                   23,000
3مارچ 2017 کو واجب الوصول بلوں کا اختتامی بیلنس                     29,000
قرض داروں سے وصول شدہ  نقد  3,02,000
دی گئی چھوٹ                                                                8,000
واجب الوصول بلوں کے بدلے نقد وصولی                                   21,000
ناقابل وصولی قرضے                                                          14,000
واجب الوصول بل (نامنظور کئے گئے )  20,000
نقد فروخت                                                                  2,25,000
فروخت کی واپسی                                                             17,000

کل واجب الوصول بل کھاتہ 


132
ڈیبٹ کریڈٹ
تاریخ  تفصیلات بہی رقم 
روپے
تاریخ  تفصیلات  بہی رقم
روپے
ابتدائی بیلنس
23,000

کیش (نقد) 

21,000

قرض دار( واجب الوصول بل )
47,000

واجب الوصول بل (مسترد  شدہ ) 

20,000
(توازنی رقم)


اختتامی بیلنس

29,000


70,000



70,000
 کل قرض دار کھاتہ 

133
ڈیبٹ کریڈٹ
تاریخ  تفصیلات بہی رقم 
روپے
تاریخ  تفصیلات  بہی رقم
روپے
یکم اپریل





2016






ابتدائی بیلنس
65,000
31مارچ
نقد وصول شدہ 

3,02,000
واجب الوصول بل

20,000
2017
دی گئی چھوٹ

8,000
(مسترد کر دیے گئے)



فروخت کی واپسی

17,000
فروخت 

3,53,000

نا قابل وصولی قرضے

14,000
(توازنی رقم)



واجب الوصول بل

47,000




(واجب الوصول بل 
کھاتے سے منتقل )






اختتامی بیلنس 

50,000


4,38,000



4,38,000

ورکنگ  نوٹ : 

کل قرض دار کھاتہ اور کل واجب الوصول بل کھاتہ تیار ہونے کے ساتھ خالص فروخت کا حساب مندرجہ ذیل طریقے سے نکالا جائے گا۔

خالص فروخت  =  نقد فروخت  +  ادھارفروخت  – فروخت کی واپسی 

2,25,000 =روپے  3,53,000 +روپے 17,000 – روپے

 5,61,000 =روپے 

مثال  5

مسٹر اوم پرکاش نے اپنے حسابات کے ریکارڈ دوہرے اندراج کے طریقے کے تحت نہیں رکھے ،ان کے ریکارڈوں سے دستیاب مندرجہ ذیل معلومات سے اختتامی سال 31مارچ 2017 کے لئے نفع ونقصان کا کھاتہ اوراسی تاریخ کی بیلنس شیٹ  تیار کیجئے ،دُھلائی کے سازوزسامان کی فرسودگی % 10 کی در سے ہوگی ۔

نقدکھاتے کاخلاصہ


136
ڈیبٹ کریڈٹ
وصولیاں
رقم روپے 
ادائیگیاں
رقم روپے 
بقایا لایاگیا  8,000
نقد خریداریاں 
14,000
نقد فروخت  40,000
قرض خواہوں کو ادا کردہ 
20,000
قرض داروں سے موصول  30,000
متفرق مصارف 
6,000


مال کی لدائی اور ڈُھلائی 
2,000


نکالی گئی رقم 
8,000


بقایا لے جایا گیا 
28,000

78,000

78,000

 دیگرمعلومات  :

31مارچ 2017
137
31مارچ 2005روپے
31مارچ 2005روپے
قرض دار 9,000
12,000
قرض خواہ 
14,400
6,800
سامان کا اسٹاک 10,000
16,000
دھلائی کا سازوسامان  40,000
40,000
فرنیچر  3,000
3,000
سال کے دوران دی گئی چھوٹ
 1,400
سال کے دوارن وصول شدہ چھوٹ 

1,700
حل

اوم پرکاش کے ریکارڈ 
تجارتی اور نفع ونقصان کا کھاتہ
31 مارچ 2017 کو ختم ہوئے سال کے لیے 
138
مصارف ؍ نقصانات 
رقم روپے 
محاصل ؍ دیگر منافع
رقم روپے 
ابتدائی اسٹاک 10,000
فروخت
74,400
خریداریاں  28,100
اختتامی اسٹاک
16,000
ڈھلائی کا سامان 2,000


خام منافع بقایا لے جایا گیا 
50,300


90,400
90,400
متفرق مصارف 
6,000 خام منافع بقایا لایا گیا
50,300
دی گئی چھوٹ
1,400
وصول شدہ چھوٹ
1,700
خالص منافع (اصل کھاتہ میں منتقل کیا گیا )
40,600



52,000

52,000
بیلنس شیٹ بتاریخ31 مارچ2017
139
 واجبات 
رقم روپے 
اثاثہ جات
رقم روپے 
سرمایہ                55,600
دُھلائی کا سازوسامان      40,000

جمع :منافع             (40,600)
نفی: فرسودگی               (4,000)
36,000
96,000


نفی: نکالی گئی رقم        (8,000) 88,200
فرنیچر 3,000
قرض خواہان
6,800 سامان کا اسٹاک
16,000

قرض دار 
12,000

نقد
28,000
95,000

95,000

  کل قرض دار کھاتہ 

140
ڈیبٹ کریڈٹ
تاریخ  تفصیلات بہی رقم روپے تاریخ  تفصیلات  بہی رقمروپے

بقایا لایا گیا
9,000

نقد 

30,000

فروخت (ادھار) 
34,400

دی گئی چھوٹ

1,400
(توازنی رقم )








بقایا لے جایا گیا 

12,000


43,400



43,400
کل قرض خواہ کھاتہ 

141
ڈیبٹ کریڈٹ
تاریخ  تفصیلات بہی رقم روپے تاریخ  تفصیلات  بہی رقمروپے

نقد 
20,000

بقایا لایا گیا

14,400

وصول شدہ چھوٹ
1,700

خریداریاں (ادھار) 

14,100




(توازنی رقم )


بقایا لے جایا گیا 
6.800





28,500



28,500
 گوشوارۂ کیفیت بتاریخ 31مارچ2016
142
 واجبات 
رقم روپے 
اثاثہ جات
رقم روپے 
قرض خواہ  14,400
دھلائی کا سازوسامان 
40,000
پونجی  55,600
فرنیچر
3,000
(توازنی رقم )

سامان کا اسٹاک
10,000

قرض دار
9,000

نقد 
8,000
70,000

70,000

مثال  6

مسزسُرَبھی نے یکم جنوری 2016 کو 50,000 روپے نقد ،10,000روپے کے فرنیچر،2,000 روپے کے مال اور 20,000 روپے مالیت کی مشینری کے ساتھ کاروبار شروع کیا ۔سال کے دوران انھوں نے بینک میں کھاتہ کھول کر 20,000 روپے کی ایک اور رقم اپنے کاروبار میں لگائی ۔ان کے ریکارڈوں سے ماخوذمندرجہ ذیل معلومات کی بنیاد پر 31 دسمبر 2017 کو ختم شدہ سال کے لیے آپ کو فائنل حسابات تیار کرنے ہیں ۔

روپے 
قرض داروں سے وصولیاں                                            57,500
نقد فروخت                                                           45,000
نقد خریداریاں                                                        25,000
اداکردہ اجرتیں  5,000
عملہ کی تنخواہیں                                                       17,500
تجارتی مصارف                                                       6,500
فیکٹری کا بجلی بل                                                     7,500
سُربھی نے جو رقمیں نکالیں                                          3,000
قرض خواہوں کو نقد ادائیگی                                           42,000
وصول کی گئی چھوٹ                                                  1,200
وصول شدہ چھوٹ                                                    3,000
ناقابل وصول قرضے جنہیں قلمزد (Write off) کر دیا گیا          1,300
سال کے آخر میں نقد بیلنس                                          20,000
مسز سُرَبھی نے 2,500 کا مال اپنے ذاتی کاموں کے لئے استعمال کیا جس کو ریکارڈ نہیں کیا گیا ۔فرنیچر پر 10فی صدی اور مشینری پر 20 فی صدی سالانہ کی دروں سے فرسودگی لینی ہے ۔31مارچ 2017 کو ان کے قرض داروں پر 70,000 روپے قرض تھے اور ان کے قرض خواہ 35,000 روپے کے تھے ،اس تاریخ کو تجارتی اسٹاک 25,000 روپے کا تھا ۔

حل 

مسز سُرَبھی کے ریکارڈ 

تجارتی اور نفع ونقصان کھاتہ 

31 مارچ 2017 کو ختم ہوئے سال کے لیے


143
ڈیبٹ کریڈٹ
مصارف؍ نقصانات
رقم روپے 
محاصل ؍ دیگر منافع 
رقم روپے 
ابتدائی اسٹاک 20,000
فروخت             45,000

خریداریاں 
کریڈٹ            1,30,000
1,75,000
نقد : 25,000
اختتامی اسٹاک
25,000
ادھار :                   80,000

1,05,000

نفی: ذاتی استعمال        (2,500) 1,02,500


میں لایا گیا سامان 


اجرتیں  5,000


فیکٹری کا بجلی بل  7,500


خام منافع   (بقایا لے جایا گیا )  65,000


2,00,000

2,00,000
تنخواہیں  17,500
خام منافع (بقایا لایا گیا ) 
65,000
تجارتی مصارف  6,500
وصول شدہ چھوٹ
3,000
دی گئی چھوٹ 1,200


ناقابل وصول قرضے 1,300


فرسودگی 


فرنیچر                  1,000


مشینری                 4,000 5,000


خالص،منافع  36,500


(اصل کے کھاتہ میں منتقل کیا گیا) 


68,000

68,000

مسزسُرَ بھی کی بیلنس شیٹ بتاریخ 31مارچ 2013

144
واجبات
رقم روپے 
اثاثہ جات
رقم روپے 
قرض خواہ( لین دار ) 35,000
نقد 
20,000

بینک
13,000
پونجی سرمایہ             1,00,000
اسٹاک
25,000
جمع: خالص منافع       36,500

قرض دار(دین دار)  70,000
1,36,500

         
فرنیچر                 10,000

جمع: اضافی پونجی 20,000

نفی: فرسودگی            (1,000) 
9,000
1,56,500
مشینری                20,000

نفی: نکالی گئی رقم
نفی: فرسودگی           (4,000)
16,000
نقد    36,000


مال   2,500         (38,500) 1,18,000


1,53,000

1,53,000

(i) کھاتہ کل قرض دار


145
ڈیبٹ کریڈٹ
تاریخ  تفصیلات بہی رقم روپے تاریخ  تفصیلات  بہی رقمروپے

بقایا لایا گیا
صفر 

نقد 

57,500

فروخت (ادھار) 
1,30,000

دی گئی چھوٹ

1,200
(توازنی رقم )








نا قابل وصول قرضے

1,300




بقایا نیچے لے جایا گیا

70,000


1,30,000



1,30,000

(ii) کھاتہ کل قرض خواہ 


148
ڈیبٹ کریڈٹ
تاریخ  تفصیلات بہی رقم روپے تاریخ  تفصیلات  بہی رقمروپے

نقدی 
42,000

بقایا لایا گیا

صفر

وصول شدہ چھوٹ
3,000

خریداریاں (ادھار) 






(توازنی رقم )

80,000
بقایا آگے لے جایا گیا
35,000





80,000



80,000

(iii) گوشوارہ کیفیت  بتاریخ 31مارچ 2013
146
واجبات
رقم روپے 
اثاثے
رقم روپے 
اصل سرمایہ (توازنی رقم ) 1,00,0003
نقدی
50,000

اسٹاک 20,000

فرنیچر
10,000

مشینری 
20,000
1,00,000

1,00,000
(iv) نقد کا خلاصہ


147
ڈیبٹ کریڈٹ
وصولیاں 
رقم روپے 
ادائیگیاں 
رقم روپے 
بقایا لایا گیا  50,000
خریداریاں
25,000
سرمایہ (بینک)  20,000
اجرتیں 5,000
قرض دار 57,500
تنخواہیں  17,500
فروخت 45,000
تجارتی مصارف  6,500

بجلی کا بل
7,500

نکالی گئی رقم
36,000

قرض خواہ (لین دار) 
42,000

بقایا لایا گیا ۔نقد
20,000

ختتامی بقایا (توازنی رقم ) 
13,000
1,72,500

1,72,500

اپنی سمجھ کی جانچ کیجئے -II

صحیح لفظ/الفاظ لکھئے (خالی جگہ کوپر کرنا ہے )
1. ادھار فروخت کو بطور توازنی رقم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کھاتہ سے معلوم کیا جاسکتا ہے ۔
2 . ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سے زیادہ ہونا حسابی مدت کے دوران اٹھائے گئے نقصان کو ظاہر کرتا ہے ۔
3. منافع معلوم کرنے کے لئے اختتامی سرمایہ کی تطبیق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کو گھٹا کر اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کو جوڑ کر کی جانی چاہئے۔ 
4. نامکمل ریکارڈ عموماً ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔استعمال کرتے ہیں ۔

مثال  7
مسٹر بہادر کو حساب کتاب کی کھاتہ داری نہیں آتی ۔ ان کے مختلف ریکارڈوں سے مندرجہ ذیل تفصیلات دستیاب ہوئی ہیں ۔قرض داروں کے واجبات کے مشکوک قرضوں کے لئے 5فی صدی کی گنجائش رکھتے ہوئے اور موٹر کار پر 20 فی صدی کے حساب سے فرسودگی لگا کر فائنل حسابات تیا رکیجئے ۔

(i) بیلنس شیٹ بتاریخ یکم اپریل ،2016

149
واجبات
رقم روپے 
اثاثہ جات
رقم روپے 
اصل سرمایہ 92,500
موٹر کار
71,700
واجب الادابل 32,800
اسٹاک
51,500
قرض خواہ  84,200
قرض دار 
49,500

واجب الوصول بل
24,400

نقد دردست  12,400
2,09,500

2,09,500

(ii) دوران سال نقد لین دین 


150
ڈیبٹ کریڈٹ
وصولی
رقم روپے 
اثاثہ جات
رقم روپے 
بقایا لایا گیا 12,400
فرنیچر 
30,000
قرض داروں سے وصولی  1,15,000
اجرتیں
9,400
واجب الوصول بل 14,200
خریداریاں 
40,500
فروخت 1,03,000
نکالی گئی رقوم 24,000

واجب الادا بل 30,700

عام مصارف
20,700

قرض خواہوں کو ادائیگی
80,800

بقایا لے جایا گیا
8,500
2,44,600

2,44,600

(iii) دیگر معلومات 


151

تفصیلات  رقم روپے 
واجب الوصول بل موصول ہوئے 6,300
گاہکوں کی دی گئی چھوٹ 2,300
سپلائروں سے ملی چھوٹ 700
ادھار خریداریاں 29,600
اختتامی اسٹاک  41,700
قرض داروں کا اختتامی بقایا 55,000
واجب الادا بلوں کااختتامی بقایا 10,200
حل 

نقد فروخت اور نقد خریداریاں نقد لین دین سے دستیاب  ہیں ۔ادھار خرید بھی دی گئی ہے ۔لیکن ادھار فروخت قرض داروں کے افتتاحی کھاتے سے ہی صحیح طور پر معلوم ہو سکتی ہے ۔اگر چہ ادھار کی خریداری دستیاب ہے لیکن قرض خواہوں کا اختتامی بقایا معلوم نہیں ہے۔ اسی لئے قرض خواہوں کا کھاتہ کھولنا ضروری ہے ۔ چوں کہ واجب الادا اور واجب الوصول بل موجود ہیں ۔ اس لئے ان کھاتوں کا کھولنا بھی ضروری ہے ورنہ قرض خواہوں اور قرض داروں کے کھاتے مکمل نہیں ہوں گے ۔

مسٹر بہادر کی کتابیں 

تجارتی اور نفع ونقصان کھاتہ 

 31مارچ 2017 کو ختم ہوئے سال کے لیے


152

ڈیبٹ کریڈٹ
مصارف/نقصانات
رقم روپے 
محاصلات /دیگر منافع جات وغیرہ 
رقم روپے 
ابتدائی اسٹاک  51,500
فروخت

خریداریاں 


نقد                          40,500
نقد                      1,03,000

ادھار                       29,600 70,100
ادھار                    1,29,100
2,32,100
اجرتیں 
9,400
اختتامی اسٹاک 41,700
خام منافع بقایا لے جایا گیا 
1,42,800

2,73,800
2,73,800
عام مصارف 
20,700
خام منافع بقایا لایا گیا  1,42,800
دی گئی چھوٹ
2,300
وصول شدہ چھوٹ
700
موٹر کار پر فرسودگی  14,340


نا قابل وصول قرضوں کے لئے محفوظ
2,750


خالص منافع 1,03,410


1,43,500

1,43,500
بیلنس شیٹ بتاریخ 31مارچ 2017
153
واجبات 
رقم روپے 
اثاثہ جات
رقم روپے 
سرمایہ                    92,500
موٹر کار                    71,700

جمع: خالص منافع          1,03,410

نفی: فرسودگی                14,340
57,360
1,95,910
فرنیچر 
30,000
نفی: نکالی گئی رقمیں          (24,000) 1,71,910
اسٹاک
41,700
قرض خواہ  24,200
قرض دار               55,000

واجب الادا بل  10,200
نفی: بندوبست              (2750) 52,250
واجب الوصول بل
16,500

نقد
8,500

2,06,310

2,06,310

 (i)  کل واجب الوصول بل کھاتہ 


154

ڈیبٹ کریڈٹ
تاریخ  تفصیلات بہی رقم روپے تاریخ  تفصیلات  بہی رقمروپے

بقایا لایا گیا
24,400

نقد (وصولی )  

14,200

قرض دار
6,300

بقایا لے جایا گیا 

16,500
(بل وصول کیے گئے )



(توازنی رقم ) 



30,700



30,700

(ii) کل قرض دار کھاتہ 


155

ڈیبٹ کریڈٹ
تاریخ  تفصیلات بہی رقم روپے تاریخ  تفصیلات  بہی رقمروپے

بقایا لایا گیا 
49,500

نقد (وصولی ) 

1,15,000

ادھار فروخت
29,100

بل (موصولہ ) 

6,300
(توازنی رقم )








دی گئی چھوٹ

2,300



بقایا لے جایا گیا

55,000

78,600



1,78,600

(iii) کل واجب الادا بل کھاتہ 


156

ڈیبٹ کریڈٹ
تاریخ  تفصیلات بہی رقم روپے تاریخ  تفصیلات  بہی رقمروپے

نقد (ادا کردہ ) 
30,700

بقایا لایا گیا

32,800

بقایا لے جایا گیا 
10,200

قرض خواہ






(بل منظورکیے گئے) 

8,100



(توازنی رقم )


40,900



40,900

(iv) کل قرض خواہ کھاتہ 


157

ڈیبٹ کریڈٹ
تاریخ  تفصیلات بہی رقم روپے تاریخ  تفصیلات  بہی رقمروپے

نقد 
80,800

بقایا لایا گیا

84,200

واجب الادابل
8,100

ادھار خریداریاں

29,600
وصول شدہ چھوٹ

700



بقایا لے جایا گیا





(توازنی رقم ) 
24,200





1,13,800



1,13,800

مثال  8

حساب کے دوہرے اندراج کے طریقے سے واقف نہ ہونے کی بناء پر دنیش اپنے حساب کتاب کے کاغذات اور کھاتے ڈھنگ سے نہیں رکھتا ۔اس نے آپ کو مندرجہ ذیل معلومات فراہم کی ہیں:


(i)  اثاثے اور واجبات 

31 مارچ 2017

یکم اپریل 2016     31  مارچ 2017
روپے روپے
متفرق قرض دار 45,000 48,600
متفرق قرض خواہ 24,000 ؟
 نقد 4,500 ؟
فرنیچر اور لوازمات (فکسچرس )  15,000 ؟
اسٹاک 25,000 ؟
 موٹر وَین 16,000 ؟

 (ii) دوران سال لین دین 


روپے 
قرض داروں سے نقد وصولی                     80,000
قرض داروں کو دی گئی چھوٹ                            1,400
قلمزد (Written-off)  ناقابل وصول قرضے          1,800
قرض خواہوں کو نقد ادائیگی 63,000
قرض خواہ کو دی گئی چھوٹ                     1,000
فروخت کی واپسی                                3,000
خریداریوں کی واپسی                             2,000
ادا کردہ مصارف                                6,000
نکالی گئی رقوم                                   5,000
ادا کردہ بیمہ                                     2,500

(iii)  دیگر معلومات 

غیر اد اشدہ مصارف  1,200روپے ۔فرنیچر پر 10فی صدی اور موٹر وین پر 5فی صد ی فرسودگی وصول کی جانی ہے ۔ دنیش بتاتا ہے کہ وہ مال کو لاگت اور اس پر 40 فی صد اضافہ کے ساتھ فروخت کرتا ۔قرض داروں کے لئے 5فی صد کا بندوبست کیا جاناہے۔ اس کا تجارتی اور نفع ونقصان کا کھاتہ اوربیلنس شیٹ بتاریخ 31 مارچ 2017 تیا ر کیجئے۔

دنیش کے حساب کتاب کے کاغذات (کھاتے ) 

تجارتی اور نفع ونقصان کا کھاتہ برائے اختتام سال 31مارچ 2017


158
ڈیبٹ کریڈٹ
مصارف/نقصانات
رقم روپے 
محاصل /دیگر منافع
رقم روپے 
ابتدائی اسٹاک 25,000
فروخت                  89,800

خریداریاں                  69,000
نفی: واپسیاں              (3,000)
86,800
جمع : واپسیاں (2,000) 67,000
اختتامی اسٹاک
30,000
خام منافع 24,800


بقایا لے جایاگیا


1,16,800

1,16,800
دی گئی چھوٹ
1,400 خام منافع 24,800
ناقابل وصول قرضے 1,800
بقایا لایا گیا 
ادا کردہ مصارف               6,000

وصول شدہ چھوٹ
1,000
نفی: غیر ادا کردہ مصارف        1,200
7,200


ادا کردہ کرایہ
2,500


فرنیچر پر فرسودگی                1,500



موٹر وین پر فرسودگی             800
2,300


ڈوبے قرضوں کا بندوبست
2,430


خالص منافع (سرمایہ کھاتہ میں منتقل کیا گیا ) 
8,170



25,800

25,800

بیلنس شیٹ بتاریخ 31دسمبر 2017

159
واجبات 
رقم روپے 
اثاثہ جات 
رقم روپے 
غیر اداشدہ مصارف 1,200
نقد 
8,000
قرض خواہ 27,000
قرض دار                       48,600

پونجی                     81,500
نفی: بندوبست                (2,430)
46,170
نفی: نکالی گئی رقم            (5,000)
اختتامی اسٹاک
30,000
76,500

فرنیچر اور لوازمات            15,000 

جمع: خالص منافع           8,170 84,670 نفی: فرسودگی                (1,500)
13,500

موٹر وین                    16,000



نفی: فرسودگی                   (800)
15,200

1,12870

1,12870

(i)  کل قرض دار کھاتہ 


160
ڈیبٹ کریڈٹ
تاریخ  تفصیلات بہی رقم روپے تاریخ  تفصیلات  بہی رقمروپے

بقایا لایا گیا 
45,000

نقد وصول ہوا

80,000

فروخت 
89,800

دی گئی چھوٹ

1,400



نا قابل وصول قرضے
1,800




فروخت کی واپسی

3,000



بقایا لے جایا گیا

48,600

1,34,800



1,34,800

(ii)  کل قرض خواہ کھاتہ 


161
ڈیبٹ کریڈٹ
تاریخ  تفصیلات بہی رقم روپے تاریخ  تفصیلات  بہی رقمروپے

اداکردہ نقد
63,000

بقایا لایاگیا

24,000

وصول شدہ چھوٹ
1,000

خریداریاں 

69,000
خریداریوں کی واپسی
2,000



بقایا لے جایا گیا 

27,000




93,000



93,000

(iii)  نقد کا خلاصہ 


162
ڈیبٹ کریڈٹ
وصولیابیاں 
رقم روپے 
ادائیگیاں
رقم روپے 
بقایا لایا گیا  4,500
قرض خواہ 
63,000
قرض دار 80,000
اداکردہ مصارف
6,000

نکالی گئی رقمیں
5,000

ادا کردہ کرایہ
2,500

بقایا لے جایا گیا
8,000

84,500

84,500

(iv)  گوشوارۂ کیفیت بتاریخ31 مارچ 2016

163
واجبات
رقم روپے 
اثاثے 
رقم روپے 
قرض خواہ 24,000
قرض دار
45,000
ابتدائی سرمایہ 81,500
نقد
4,500
(توازنی رقم ) 
اسٹاک
25,000

فرنیچر اور لوازمات (فکسچرس)
15,000
1,05,000

1,05,000

(v)  اختتامی اسٹاک کا حساب 

روپے
 
کل فروخت                                     89,900
نفی: فروخت کی واپسی                           (3,000)
خالص فروخت                                  86,800
کل خریداریاں                                   69,000
نفی:  خریدکی واپسی                              (2,000)
                                                 (67,000)

لاگت پر خام منافع کی شرح                            % 40 


مان لیجئے فروخت کردہ مال کی لاگت ہے  100
تو خام منافع برابر ہے  40
فروخت برابر ہے                                                  140
اس لئے فروخت کردہ مال کی لاگت ہوگی :
164
62,000=86,800x100/140=فروخت=86,800روپے
اختتامی اسٹاک کی رقم کا حساب اس طرح کیا جائے گا :
خالص خریداریاں                                67,000
جمع: اختتامی اسٹاک                              25,000
فروخت کے لئے دستیاب مال کی لاگت         92,000
نفی: فروخت شدہ مال کی لاگت                (62,000)
اختتامی اسٹاک                                   30,000

اس باب کی نئی کلیدی اصطلاحات 

 نامکمل ریکارڈ    گوشوارہ ٔکیفیت (Balanceing Affairs)

خلاصہ بحوالہ اکتسابی مقاصد 

1۔  نامکمل ریکارڈ :  نامکمل ریکارڈوں سے مراد ہے حسابی ریکارڈوں کمی۔ دوہرے اندراجی طریقہ کے مطابق نامکمل ریکارڈوں کے مختلف درجے ہیں۔ یہ بہت زیادہ غیر منظم (Highly Disorganized)سے لے کر منظم (Organized) تک ہوسکتے ہیں لیکن ہوں گے بہر حال ’’نامکمل‘‘۔

2۔  گوشوارۂ کیفیت اور بیلنس شیٹ میں فرق : گوشوارۂ کیفیت ایسا گوشوارہ یا بیان ہے جس میں کسی فرم کے اثاثے اور واجبات گوشوارہ کی تاریخ کے حوالے سے دکھائے جاتے ہیں اور سرمایہ کی دونوں جانب کے فرق کے ساتھ دکھائے جاتے ہیں۔ چوں کہ ریکارڈ نامکمل ہوتے ہیں لہٰذا اثاثوں اورواجبات کی مالیت عموماًدستیاب معلومات کے تخمینہ پر مبنی ہوتی ہے ۔ یہ تخمینے بیلنس شیٹ کی طرح با قاعدہ تیار کیے گئے بہی کھاتوں کے بقایاجات کی مانند نہیں ہوتے۔ بیلنس شیٹ کو ان کھاتوں سے لیا جاتا ہے جو دوہرے اندراجی طریقے کی بنیادپر تیارکیے جاتے ہیں۔

3۔ نامکمل ریکارڈوں سے نفع اور نقصان کا حساب لگانا : جب کسی فرم کے نامکمل ریکارڈ بہت زیادہ غیر منظم  ہوں تو سرمایہ کا حساب لگانے کے لئے گوشوارہ ٔکیفیت کا استعمال کیا جاتا ہے ۔اس مدت کا ابتدائی سرمایہ(یعنی اثاثے – واجبات) معلوم کرنے کے لئے سال کے شروع کا گوشوارہ ٔ کیفیت بنایا جاتا ہے ۔ اختتامی اور ابتدائی سرمایہ  کا فرق ،کاروبار سے نکالی گئی رقموں کو پھر سے جوڑے جانے اور سال کے دوران نئے لگائے گئے سرمایہ کو گھٹانے سے اس مدت کا نفع و نقصان معلوم ہو سکے گا ۔
4۔  تجارتی اور نفع ونقصان کھاتہ اوربیلنس شیٹ تیا رکرنا : جب کسی فرم کا نقد خلاصہ دستیاب ہو اور اس کے ساتھ ساتھ قرض خواہوں اور گاہکوں کے ذاتی کھاتوں کی معلومات موجود ہو تو نفع ونقصان کھاتہ اور بیلنس شیٹ تیار کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔خریداریوں ،فروخت ،قرض دار ،قرض خواہ کے ضمن میں گم شدہ رقومات کو قرض داروں ۔قرض خواہوں، واجب الوصول اور واجب الاد ا بلوں کے کھاتے کے خاکے تیار کرکے اور دوہرے اندراج کے طریقے کو استعمال کرکے  حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ ایک بار جب نفع ونقصان کا کھاتہ اور بیلنس شیٹ تیار کر لئے جائیں تو فرم کے لئے مستقبل میں ایک مکمل حسابی نظام شروع کرنا ممکن ہے ۔

سوالات برائے مشق 

مختصر جوابات 

1۔ نامکمل ریکارڈوں کا مفہوم بیان کیجئے ؟
2۔ نامکمل ریکارڈ رکھنے کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں ؟
3۔ بیلنس شیٹ اور گوشوارۂ کیفیت کافرق بیان کیجئے ۔
4۔ نامکمل حسابی ریکارڈ رکھنے سے ایک تاجر کو کیا عملی مشکلات در پیش ہوتی ہیں ؟

طویل جوابات 

1۔ ’’گوشوارۂ کیفیت ‘‘ کا کیا مطلب ہے ؟ کسی تاجر کے نفع یا نقصان کا پتہ اس گوشوارہ کی مدد سے کس طرح معلوم کیا جا سکتا ہے؟ 
2۔ کیا کسی تاجر کے نامکمل ریکارڈوں سے نفع ونقصان کا کھاتہ اوربیلنس شیٹ  تیار کرنا ممکن ہے ؟کیا آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں؟ وضاحت کیجئے۔
3۔ وضاحت کے ساتھ بیان کیجئے کہ نامکمل ریکارڈوں سے مندرجہ ذیل کو کس طرح معلوم کیا جا سکتا ہے ؟
(a) ابتدائی اور اختتامی اسٹاک 
(b) ادھار فروخت اور ادھار خریداریاں 

(c) قرض خواہوں کو ادائیگی اور قرض داروں سے وصولی 

(d) نقد کا اختتامی بقایا ۔

اعدادی سوالات 

گوشوارۂ کیفیت سے نفع و نقصان معلوم کرنے کا طریقہ 
ذیل میں کچھ معلومات دی گئی ہیں ۔ان سے نفع یا نقصان کا گوشوارہ تیا رکیجئے ۔

روپے
اختتامی سال میں سرمایہ                      50,000
سال کے شروع میں سرمایہ                  7,50,000
اس مدت میں نکالی گئی رقومات              3,75,000
لگایا گیا اضافی سرمایہ                         50,000


[جواب  :  منافع : 75,000 روپے ]
 من ویر نے یکم اپریل 2016 کو اپنا کاروبار 4,50,000 روپے سے شروع کیا ۔31مارچ 2017 کو اس کی مالی حالت  اس طرح تھی ۔

روپے 
نقد                                                            99,000
واجب الوصول بل                                            75,000
پلانٹ                                                         48,000
زمین اور عمارت                                              1,80,000
فرنیچر                                                         50,000

اس تاریخ کو اسے اپنے دوست سُشیل سے 45,000 روپے ملے۔ اس نے ہر مہینے 8,000 روپے اپنے گھر کے خرچ کے لئے نکالے ۔31مارچ 2017 کو ختم ہوئے سال میں اس کا نفع یا نقصان معلوم کیجئے ۔
[جواب :منافع : 53,000 روپے ]

3۔ درج ذیل معلومات سے سال کا نفع معلوم کیجئے :
روپے
 ابتدائی سال میں سرمایہ                                 70,000
دوران سال لگایا گیا نیا سرمایہ                          17,500
اسٹاک                                                  59,500
متفرق قرض دار                                       25,900
کاروبارکی عمارت                                       8,600
مشینری                                                2,100
متفرق قرض خواہ                                     33,400
دوران سال نکالی گئی رقوم                           26,400

[جواب : منافع 1,600روپے]
 4۔ مندرجہ ذیل معلومات سے ابتدائی سرمایہ کا حساب لگائیے : 

روپے
سال کے آخر میں موجود سرمایہ                           4,00,000
دوران سال نکالی گئی رقوم                                60,000
دوران سال لگایا گیا نیا سرمایہ                             1,00,000
 رواں سال کا منافع                                       80,000

[جواب  :  سال کے شروع کا سرمایہ 2,60,000 روپے ]
5۔ درج ذیل معلومات سے اختتامی (آخری) سرمایہ کا حساب لگایئے ۔
یکم اپریل 2016     31مارچ 2016
روپے روپے
قرض خواہ 5,000  30,000
واجب الادا بل                  10,000                     ––
قرض                            ––                           5,000
واجب الوصول بل              30,000                     50,000
اسٹاک                          50,000                     30,000
نقد                             20,000                     2,000


[جواب : اختتامی پونجی : 20,000 روپے ]
نفع و نقصان کا حساب اور آخر سال کی گوشوارۂ کیفیت  (ابتدائی بقایا دیا ہو ا) 
6۔  مسز انو نے یکم اکتوبر 2010 کو 4,00,000 کے سرمایہ سے فرم کا آغاز کیا ۔انھوں نے اپنے دوستوں سے 1,00,000 روپے کی رقم 10فی صدسالانہ  شرح سود (سود اداشدہ) پر کاروبار کے لئے قرض لیا اور مزید 75,000 کی رقم کاروبا ر میں لگائی ۔ان کی پوزیشن یہ تھی :
روپے۔
نقدی                                                   30,000
اسٹاک                                                  4,70,000
قرض دار (دین دار)                                    3,50,000
قرض خواہ (لین دار)  3,00,000


انھوں نے پورے سال 8,000 روپے فی ماہ نکالے ۔سال کے نفع و نقصان کا حساب لگایئے اور اپنے عمل کو صاف طور پر دکھایئے ۔
[جواب  :  منافع:ـ 23,000 روپے ]
7. مسٹرآرنواپنے کاروبا ر کے ریکارڈ صحیح طور پر نہیں رکھتے ۔انھوں نے مندرجہ ذیل معلومات مہیا کی جس کی مدد سے آپ کو ایک گوشوارہ تیا رکرنا ہے جس میں سال بھر کا نفع و نقصان دکھایا گیا ہو ۔
روپے
ابتداء سال میں سرمایہ                                      15,00,000
واجب الوصول بل                                          60,000
نقدی دردست                                              80,000
فرنیچر                                                       9,00,000
عمارت                                                      10,00,000
قرض خواہ (لین دار)                                        6,00,000 
تجارت کا اسٹاک                                            2,00,000
مزید لگایا گیا سرمایہ                                         3,20,000
مدت کے دوران نکالی گئی رقوم                            80,000
 
[ جواب  :  نقصان  : 1,00,000 روپے]
مسٹر اکشت اپنے بہی کھاتوں کے ریکارڈ نامکمل رکھتے ہیں ۔انھوں نے مندرجہ ذیل معلومات فراہم کی ہیں۔

                     یکم اپریل 2016              31 مارچ 2017

                         روپے                               روپے

نقد در دست          1,000                             1,500
نقد در بینک          15,000                           10,000
اسٹاک              1,00,000                          95,000
قرض دار            42,500                            70,000
کاروباری کامپلیکس   75,000                            1,35,000
فرنیچر                9,000                              7,500
قرض خواہ           66,000                             87,000
واجب الادا بل      44,000                             58,000
سال کے دوران انھوں نے 45,000 روپے نکالے اور کاروبار میں مزید 25,000 روپے کی رقم لگائی ۔ کاروبار کے نفع و نقصان کا حساب لگایئے ۔
[جواب  :  منافع : 61,500 روپے ]
9۔گوپال حساب کتاب کے بہی کھاتے ٹھیک ڈھنگ سے نہیں رکھتا ۔اس سے درج ذیل معلومات حاصل ہوئی ہے :

                      یکم اپریل 2016                        31 مارچ 2017

                              روپے                                  روپے

نقد دردست               18,000                               12,000
نقد دربینک                1,500                                 2,000
تجارتی اسٹاک              80,000                               90,000
متفرق قرض دار          36,000                                60,000
متفرق قرض خواہ         60,000                                40,000
قرض (لیا گیا )          10,000                                 8,000
دفتر کا سازوسامان        25,000                                 30,000
زمین اور عمارتیں        30,000                                 20,000
فرنیچر                   10,000                                  10,000

سال کے دوران انھوں نے کاروبار میں مزید 20,000 روپے لگائے اور اس سے 12,000 روپے نکالے ۔دی گئی معلومات کی بنیاد پر نفع ونقصان کا گوشوارہ تیار کیجئے ۔
[جواب : منافع: 53,500 روپے ]
10. مسٹر منیش اپنے حساب کے بہی کھاتوں کو نامکمل ریکارڈو ں سے بھرتے اور رکھتے ہیں ۔ ان کے کاغذات اور نامکمل ریکارڈوں سے یہ معلومات مہیا ہوتی ہے :

                       یکم اپریل 2016                 31مارچ 2017
                           روپے                               روپے
نقد                         1,200                         1,600
واجب الوصول بل            ––                            2,400
قرض دار (دین دار)       16,800                        27,200
اسٹاک                     22,400                        24,400
سرمایہ کاری                   ––                            8,000
فرنیچر                     7,500                           8,000
قرض خواہ (لین دار)     14,000                         15,200

انھوں نے ذاتی مصارف کے لئے 300 روپے ماہانہ نکالے ۔انھوں نے اپنی لگائی ہوئی 16,000 روپے کی پونجی کو 2 فی صد ی کے منافع سے فروخت کر دیا اور اس رقم کو کاروبارمیں لگا دیا۔ 
[جواب  :  منافع  :  9,780 روپے ]
  11. مسٹر گردھاری لال دوہر ے اندراج کے پورے ریکارڈ نہیں رکھتے ۔یکم اپریل 2016 کو ان کا بیلنس اس طرح ہے ۔
165
واجبات
رقم روپے 
اثاثہ جات
رقم روپے 
متفرق قرض خواہ 35,000
نقد دردست
5,000  
متفرق قرض خواہ 35,000
نقد دربینک 
20,000
سرمایہ 40,000
متفرق قرض داران 18,000

اسٹاک 22,000

فرنیچر 8,000


پلانٹ
17,000

90,000

90,000
سال کے آخر میں ان کی مالی حالت یہ ہے :

روپے
 
نقد دردست  7,000
اسٹاک                                              8,600
قرض دار                                           23,800
فرنیچر                                              15,000
پلانٹ                                              20,350
واجب الادا بل                                     20,200
قرض خواہ                                          15,000
 
انھوں نے 500 روپے ماہانہ نکالے جس میں سے 1,500روپے کاروباری مقصد کے لئے خرچ کئے ۔نفع یا نقصان کا گوشوارہ تیا ر کیجئے ۔
(جواب : منافع 4,050 روپے) 
12.  مسٹر اشوک اپنے بہی کھاتے صحیح طور پر نہیں رکھتے۔ ان کے ریکارڈوں سے مندرجہ ذیل معلومات دستیاب ہے ۔

                          یکم اپریل 2016        31مارچ 2017
    روپے                   روپے 
 
متفرق قرض خواہ       45,000                     93,000
بیوی سے لیا گیا قرض   66,000                    57,000
متفرق قرض دار        22,500                       ––
زمین اورعمارت       89,600                       90,000
نقد دردست           7,500                        8,700
بینک اوور ڈرافٹ       25,000                      ––
فرنیچر                   1,300                       1,300
اسٹاک                  34,000                     25,000
 
دوران سال مسٹر اشوک نے اپنی نجی کار 50,000 میں بیچ دی اور اس رقم کو کاروبار میں لگا دیا ۔وہ کاروبار سے 1,500روپے ماہانہ31 اکتوبر2011 تک نکالتے رہے اور اس کے بعد 4,500 روپے فی ماہ نکالے ۔آپ کو 31مارچ 2017 کانفع یانقصان کا گوشوارہ تیار کرنا ہے ۔
[جواب  : نقصان:  57,900روپے ]
13۔  کرشنا کلکرنی حساب کے کھاتے صحیح طریقے سے نہیں رکھتیں۔ مندرجہ ذیل معلومات کی بنیاد پر ان کا 31دسمبر 2013 کی تاریخ کو ختم ہوئے سال کے لئے نفع یا نقصان کا گوشوارہ تیا رکیجئے ۔

                        یکم اپریل 2016                   31مارچ 2017
                              روپے                                 روپے
 
نقد در دست               10,000                         36,000
قرض داران (دین دار)    20,000                          80,000
قرض خواہان (لین دار)    10,000                          46,000
واجب الوصول بل         20,000                          24,000
واجب الادابل             4,000                             42,000
کار                         ––                                 80,000
اسٹاک                    40,000                            30,000
فرنیچر                    8,000                              48,000
سرمایہ کاری              40,000                            50,000
بینک بیلنس              1,00,000                          90,000

مندرجہ ذیل تطبیقات کی گئیں :
(a) کرشنا 5,000 روپے ماہانہ ذاتی استعمال کے لئے نکالتی رہیں ۔
(b)   کار پر فرسودگی%5کی در سے اور فرنیچر پر%10کے حساب سے ۔
(c)   غیر ادا شدہ کرایہ 6,000 روپے ۔
(d) سال کے دورا ن لگایا گیا نیا سرمایہ  پونجی 30,000 روپے۔ 
[جواب  :  منافع 1,41,200روپے ؛گوشوارۂ کیفیت تطبیق کے ساتھ : 4,29,200 روپے ]۔
14۔ میسرزثانیہ اسپورٹس ایکویپمنٹ ٹھیک ریکارڈ نہیں رکھتے ہیں ۔درج ذیل معلومات سے نفع یا نقصان معلوم کیجئے اور 31مارچ 2017 کو ختم ہونے والے سال کے لیے بیلنس شیٹ (چٹھا ) بھی تیار کیجئے ۔

                        یکم اپریل2016                    31مارچ 2017
                             روپے                                   روپے
نقد دردست              6,000                                24,000
بینک اوور ڈرافٹ         30,000                               ––
اسٹاک                    50,000                              80,000

متفرق قرض خواہ              26,000                          40,000

متفرق قرض دار          60,000                              1,40,000

واجب الادا بل           6,000                                 12,000
فرنیچر                    40,000                                60,000
واجب الوصول بل       8,000                                   28,000
مشینری                  50,000                                 1,00,000
سرمایہ کاری             30,000                                 80,000

ذاتی استعمال کے لئے نکالی گئی رقمیں 10,000روپے ماہانہ ،دوران سال لگائی گئی نئی پونجی 2,00,000 روپے، ناقابل وصول قرضے 2,000 روپے اور قرض داروں پر % 5کا پروویژن (بندوبست) لگانا ہے ،غیر ادا شدہ تنخواہ 2,400 روپے ، پہلے سے ادا کردہ بیمہ 700 روپے ،فرنیچر اور مشین پر عائد فرسودگی%10 سالانہ کی شرح سے۔ 
[جواب  : نفع 1,71,300:روپے ،گوشوارۂ کیفیت مع تطبیق  :  4,87,700 روپے]

گم شدہ رقوم معلوم کرنا 

15۔ مندرجہ ذیل معلومات سے قرض خواہوں کو ادا کی جانے والی رقم کا حساب لگایئے :

                                                                  روپے
31مارچ2017 کو متفرق قرض خواہ                           1,80,425
 وصول شدہ چھوٹ                                               26,000
دی گئی چھوٹ                                                 24,000
واپسی خرید 37,200
واپسی فروخت                                                  32,200
 بل قبول کیے گئے                                            1,99,000
قرض خواہوں کے لیے منظور شدہ بل                         26,000
یکم اپریل 2016 کو قرض خواہ                                 2,09,000
کل خریداریاں                                                 8,97,000
نقد خریداریاں                                                 1,40,000


[جواب  :  قرض خواہوں کو ادا کردہ نقد  :4,40,175 روپے]۔
16۔ مندرجہ ذیل سے ادھار خریداریاں معلوم کیجئے :

    روپے
 یکم اپریل 2016 کو قرض خواہوں کا بقایا (بیلنس)               45,000
31مارچ2017 کو قرض خواہوں کا بقایا                          36,000
قرض خواہوں کو اداکردہ نقد                                      1,80,000
قرض خواہ کو جاری کردہ چیک                                    60,000
نقد خریداریاں                                                    75,000
قرض خواہوں سے وصول شدہ چھوٹ                            5,400
دی گئی چھوٹ                                                    5,000
قرض خواہ کو دیےجانے والے واجب الادا بل                   12,750
خرید کی واپسی                                                    7,500
مسترد شدہ  واجب الادا بل                                      3,000
واجب الوصول بل جو قرض خواہوں کے نام کئے گئے روپے     4,500
واجب الوصول بل جو قرض کے نام کئے گئے رد ہوگئے روپے   1,800
فروخت کی واپسی                                                 3,700

 

[جواب  : ادھار خریداریاں  :2,56,350 روپے]

17.   مندرجہ ذیل معلومات کی بنیاد پر کل خریداریوں کا حساب لگایئے ۔

روپے
 
یکم اپریل2016، کو قرض خواہ                            30,000
31 مارچ 2017 کو قرض خواہ                           20,000
واجب الادا بلوں کا ابتدائی بقایا                            25,000
واجب الادا بلوں کا اختتامی بقایا                            35,000
قرض خواہوں کو ادا کردہ نقد                             1,51,000
ادا  کردہ بل                                              44,500
نقد خریداریاں                                            1,29,000
خرید کی واپسی                                            6,000
    

[جواب  :  کل خریداریاں  :3,30,500 روپے]
18۔ درج ذیل معلومات دی جارہی ہیں ۔آپ کو سال کے دوران کی گئی ادھار خریداریوں کا حساب لگانا ہے ۔

          روپے
 
ابتدائی قرض خواہ                                        60,000
قرض خواہوں کو اداکردہ نقد                             30,000
اختتامی قرض خواہ                                        36,000
فروخت کی واپسی                                        13,000
میعاد پوری ہوئے بل                                    27,000 
مسترد شدہ  بل                                          8,000
 خریدکی واپسی                                             12,000

ادا کردہ چھوٹ                                            5,000
    
[جواب ادھار خریداریاں  :  37,000 روپے ]
19۔ مندرجہ ذیل معلوما ت سے سال کے دوران قبول شدہ بلوں کی رقم کا حساب لگایئے ۔

روپے
یکم اپریل 2016 کو واجب الادا بل  1,80,000
31 مارچ2017 کو واجب الادابل  2,20,000
سال کے دوران مسترد شدہ واجب الادابل                    28,000
سال کے دوران قبول ہوئے  واجب الادا بل                 50,000


[جواب :قبول شدہ بل 1,18,000 روپے ]
20۔ درج ذیل معلومات کی بنیاد پر دوران سال ان بلوں کی رقم معلوم کیجئے جن کی میعاد پوری ہوچکی ہے :

روپے
 مسترد  شدہ واجب الادابل                                37,000
واجب الادا بلوں کا اختتامی بقایا                           85,000
واجب الادا بلوں کا افتتاحی بقایا                            70,000
قبول شدہ واجب الادابل                                  90,000
نامنظور چیک  23,000


[جواب  :  بل جن کی میعاد پوری ہوگئی(Matured):
38,000 روپے ]
21۔ نیچے دی گئی معلومات سے واجب الادابل کھاتہ تیار کیجئے اور اگر کوئی گم شدہ رقم ہے تو اس کا پتہ لگایئے ۔

روپے
 قبول شدہ بل                                             1,05,000
وصول شدہ چھوٹ                                       17,000
خرید شدہ مال کی واپسی                                   9,000
فروخت کردہ مال کی واپسی                                12,000
واجب الاداکھاتوں کو ادا کردہ نقد                          50,000
واجب الوصول بلوں کو قرض خواہوں کے نام کیا گیا       45,000
مسترد  شدہ بل                                            17,000
ناقابل وصول قرضے                                       14,000
واجب الادا کھاتوں کا بیلنس (اختتامی )                    85,000
ادھار خریداریاں                                          2,15,000
     
      
[جواب  :  قرض خواہوں کا ابتدائی بقایا  :  79,000 روپے ]
22۔   دوران سال واجب الوصو ل بلوں کی رقم کا حساب لگایئے ۔

روپے
واجب الوصول بلوں کا افتتاحی بقایا                         75,000
مسترد شدہ بل                                            25,000
وصول شدہ بل (منظور شدہ )                             1,30,000
واجب الوصول بل جو قرض خواہوں کے نام کئے گئے     15,000
واجب الوصول بلوں کا اختتامی بقایا                         65,000

 
[جواب  :  1,60,000روپے ]
23۔ مندرجہ ذیل معلومات سے مسترد شدہ  واجب الوصول بلوں کی رقم کا حساب لگایئے ۔

روپے
 واجب الوصول بلوں کا افتتاحی بقایا  1,20,000

وصول شدہ                                              1,85,000
واجب الوصول جنھیں لوگوں کے نام کیا گیا  22,800
واجب الوصول بلوں کا اختتامی بقایا                            50,700
 واجب الوصول بل وصول پائے                         1,50,000

 
[جواب  :  11,500 روپے ]
24.   درج ذیل تفصیلا ت سے ادھار فروخت اور کل فروخت معلوم کیجئے ۔
روپے
ابتدائی قرض دار  45,000
اختتامی قرض دار 56,000
دی گئی چھوٹ 2,500
فروخت کی واپسی                                    8,500
ناقابل حصول رقم                                   4,000
 واجب الوصول بل وصول ہوئے                   12,000
 واجب الوصول بل رد ہوئے 3,000
مسترد شدہ  چیک                                   7,700
نقد فروخت                                        80,000
قرض دارسے وصول شدہ نقد                      2,30,000
قرض دارسے وصول شدہ  چیک                  25,000
 
 
[جواب  : کل فروخت  :3,62,300 روپے ]
  25. مندرجہ ذیل معلومات کی مددسے واجب الوصول بل کھاتہ اور کل قرض دار کھاتہ 31مارچ 2017 کو ختم ہوئے سال کے لیے تیار کیجئے ۔
روپے
 
قرض داروں کا افتتاحی بقایا (بیلنس) 1,80,00 
واجب الوصول بلوں کا افتتاحی بقایا 55,000
دوران سال کی گئی نقد فروخت  95,000
دوران سال کی گئی ادھار فروخت                    14,50,000
فروخت کردہ مال کی واپسی                           78,000
قرض داروں سے نقد وصول  10,25,000

قرض داروں کو دی گئی چھوٹ                                   55,0000

واجب الوصول بل جو قرض خواہوں کے نام کئے گیے ہیں  60,000
وصول شدہ  نقد (بلوں کی میعاد پوری ہوگئی )                          80,500
ناقابل وصول رقم  10,000
واجب الوصول بلوں کا اختتامی بقایا بتاریخ 31مارچ2017              75,500

[جواب  : وصول شدہ بل  :  1,61,000روپے قرض داروں کا اختتامی بقایا  :3,01,000 روپے]
26. موزوں حسابات تیار کیجئے اور اگر کوئی گم شدہ رقم ہے تو اس کا پتہ لگایئے ۔

روپے
قرض داروں کا ابتدائی بقایا (بیلنس)  14,00,000
واجب الوصول بلوں کا ابتدائی بقایا                                  7,00,000
واجب الوصول بلوں کا اختتامی بقایا                                  3,50,000
مسترد شدہ چیک                                                    27,000
قرض داروں سے نقد وصول                                       10,75,000
وصول ہوا اور بینک میں جمع کیا گیا                                8,25,000
دی گئی چھوٹ                                                     37,500
نا قابل وصول رقم                                                17,500
فروخت کردہ مال کی واپسی                                        28,000
گاہکوں سے واجب الوصول بل وصول ہوا                         1,05,000
واجب الوصول بل جن کی میعاد پوری ہوگئی                      2,80,000
منہا شدہ بل                                                     65,000
بل جن کی تصدیق قرض خواہو ں کے نام کی گئی                70,000


[جواب  :  ادھار فروخت 5,16,000 روپے]
27.   درج ذیل معلومات کی بنیاد پر متفرق قرض داروں کا افتتاحی بقایا اور متفرق قرض خواہوں کا اختتامی بقایا معلوم کیجئے ۔

روپے
ابتدائی اسٹاک  30,000
اختتامی اسٹاک  25,000
ابتدائی قرض خواہوں (لین دار)                                     50,000
اختتامی قرض دار                                                   75,000
قرض خواہوں کی جانب سے دی گئی چھوٹ                        1,500
گاہکوں کو دی گئی چھوٹ                                            2,500
قرض خواہوں کو نقدادائیگی                                          1,35,000
مذکورہ مدت کے دوران واجب الوصول بل قبول ہوئے 30,000
مذکورہ مدت کے دوران واجب الوصول بل وصول ہوئے            75,000
گاہکوں سے وصول شدہ نقد  2,20,000
واجب الوصول بل جومسترد ہوئے                                    3,500
خریداریاں  2,95,000


خام منافع کی شرح فروخت کی قمیت پر %5 ہے اور کل فروخت میں سے نقد فروخت 85,000 کی تھی ۔
166
(اشارہ:کل فروخت=4,00,000روپے3,00,000x100/75روپے)
[جواب  :  قرض داروں کا ابتدائی بیلنس 54,000 روپے ،قرض خواہوں کا اختتامی بقایا  :1,78,500 روپے ]
  28.   مسز بھاؤنا اپنے حسابی کھاتے اکہرے اندراج کے مطابق رکھتی ہیں ۔آپ کو 31مارچ2017 کوختم شدہ سال کے لئے ان کے کاروبار کے فائنل حسابات تیار کرنا ہیں ۔  نقد وصولیابیاں اور نقد ادائیگیوں کی بابت مذکورہ بالامدت کے دوران ان کے ریکارڈوں سے مندرجہ ذیل تفصیلات سامنے آئی ہیں :

نقد کا خلاصہ 

                   
 167
وصولیابیاں
رقم روپے 
ادائیگیاں
رقم روپے 
نقد کا ابتدائی بقایا 12,000
قرض خواہوں کو ادا کردہ
53,000
مزید سرمایہ 20,000
کاروباری مصارف
12,000
قرض داروں سے موصول 1,20,000
ادا کردہ اجرت
30,000

بھاؤنا کے ذریعے نکالی گئی رقوم 15,000

31 مارچ2017کو بینک بیلنس 35,000


7,000

1,52,000

1,52,000

مندرجہ ذیل معلومات بھی دستیاب ہے :
168

ان کی تمام خرید اور فروخت اُدھار پر تھیں ۔پلانٹ اور بلڈنگ پر فرسودگی 10فی صدی اور مشینری پر 5فی صدی لگائیں۔ ناقابل وصول قرضوں کے لئے %5 کا بندوبست مہیا کریں ۔
[جواب: خام منافع 95,000 روپے ؛خالص منافع 41,250 روپے : کل بیلنس شیٹ 5,75,250 روپے ]

اپنی سمجھ کا امتحان لیجئے

اپنی سمجھ کو جانچئے 1– 
169
اپنی سمجھ کوجانچئے  II–
کل قرض دار                          2۔ ابتدائی پونجی ،اختتامی پونجی 
3۔ نیا لگایا گیا سرمایہ، نکالی گئی رقوم نکالی ہوئی رقمیں   4۔ چھوٹے تاجر