Skip to content
Riyazee-001


13

کمپیوٹر پر مبنی حساب داری نظام

 Computerised Accounting System

تعلیمی مقاصد

اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ: 

•  کمپیوٹر پر مبنی حساب داری نظام کی تعریف کر سکیں گے۔

•  دستی کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی کے نظاموں کے درمیان امتیاز کر سکیں گے؛

•  کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی کے نظام کی خوبیوں اور خامیوں پر روشنی ڈال سکیں گے؛ اور

•  کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی نظام کے ذرائع بیان کر سکیں گے۔

با ب 12 میں آپ نے حساب نویسی میں کمپیوٹروں کے استعمال کی ضرورت اور حساب نویسی اطلاعاتی نظام (Accounting Information System) کی نوعیت اور استعمال کے بارے میں پڑھا ہے۔ اس باب میں ہم کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی نظام، اس کے فوائد ، اس کی کمیوں اور ذرائع کے بارے میں بحث کریں گے۔

13.1  کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی نظام کا تصور 

کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی کا نظام حساب نویسی کا اطلاعاتی نظام ہے جو عام طور پر تسلیم شدہ حساب داری کے اصولوں (GAAP) کے مطابق مالیاتی لین دین اور واقعات کی پروسیسنگ کرتا ہے تاکہ استعمال کنند ہ کی ضروریات کے مطابق رپورٹیں تیارکر سکے۔ ہر حساب داری نظام چاہے وہ دستی ہو یا کمپیوٹر پر مبنی دو پہلو ہیں۔ ایک تو یہ کہ  یہ بالکل واضح تصورات کے ایک مجموعے کے تحت کام کرتا ہے جسے حساب داری اصول کہا جا تا ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ جب حساب داری نظام ریکارڈوں کے رکھ رکھاؤ اور رپورٹوں کی تیاری کے لیے ایک واضح فریم ورک برائے استعمال کنندہ ہوتا ہے۔

کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی نظام میں ڈیٹا کے اسٹوریج اور پروسیسنگ کے فریم ورک کو ’’آپریٹنگ انوائرنمنٹ‘‘ کہا جا تا ہے جو ہارڈ ویر اور سافٹ ویر پر مشتمل ہوتا ہے۔ جس میں حساب نویسی نظا م عمل کرتا ہے، حساب نویسی نظام میں استعمال کی گئی قسم آپریٹنگ انوائرنمنٹ کومتعین کرتی ہے۔ ہارڈ ویر اور سافٹ ویر دونوں ایک دوسرے پر منحصر ہوتے ہیں۔ سافٹ ویر کی قسم ہارڈ ویر کی ساخت کومتعین کرتی ہے۔  مزید برآں ایک تنظیم میں ہارڈ ویر کا انتخاب استعمال کنند گان کی تعداد ، رازداری کی سطح اور عمل کرنے والے شعبوں کی مختلف سرگرمیوں کی نوعیت جیسے مختلف عوامل پر منحصر ہوتی ہے۔

مثال کے لیے ایک کلب کا معاملہ لیجیے ، جہاں لین دین یا کاروباری امور کی تعداد بھی کم ہوتی ہے اور کام بھی ہلکی نوعیت کا ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں ایک معیاری سافٹ ویر والا پرسنل کمپیوٹر یہاں کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ تاہم ،ادھر اُدھرپر بکھری ہوئی بہت سی فیکٹریوں اوردفتروں والی ایک بڑی کاروباری تنظیم کے لیے ترقی یافتہ نیٹ ورک سے منسلک زیادہ طاقتور نظام کمپیوٹر کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ بھاری بھرکم ڈیٹا اور پیچیدہ رپورٹنگ کی ضروریات کو پورا کیاجا سکے۔     اس طرح کی ضروریات کی تکمیل کے لیے کثیر استعمال کنندہ عمل کرنے والے نظاموں جیسے UNIX،Linux وغیرہ کا استعمال کیا جا تا ہے۔

جدید کمپیوٹرائزڈ (کمپیوٹرپر مبنی ) نظام ڈیٹا بیس کے تصور پر مبنی ہیں۔ ڈیٹا بیس کو عمل میں لانے کے لیے ڈیٹابیس مینجمنٹ سسٹم کا استعمال کیاجا تا ہے جو کمپیوٹر پروگراموں (یا سافٹ ویر) کے ایک مجموعے کے ذریعہ معین ہوتا ہے وہی ڈیٹا کو مؤثر طور پرسنبھالتا اورمنظم کرتا ہے اور اطلاقی پروگراموں کے ڈیٹا کاذخیرہ کرنے کے لیے رسائی فراہم کرتا ہے ۔ حساب داری ڈیٹا بیس سرگرم نقطۂ اتصال (Active Interface) کے ساتھ اچھی طرح منظم ہوتا ہے جو کہ حساب داری اطلاق پروگراموں اور رپورٹنگ نظام کا استعمال کرتا ہے۔ ہر کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی نظام میں دو دو بنیادی ضرورتیں ہوتی ہیں۔

•  حساب داری فریم ورک  :  یہ حساب نویسی کے اصولوں ، ضابطہ سازی اور گروپ بندی کے ایک مجموعے پرمشتمل ہوتا ہے ۔

•  طریق عمل :  اس میں ایک بالکل واضح عمل کرنے کا طریقہ ہوتا ہے جو تنظیم کے آپریٹنگ ماحول کے ساتھ موزوں طور پر مربوط ہوتا ہے ۔

کسی بھی ڈیٹا بیس رخی اطلاق میں کمپیوٹروں کے استعمال میں چار بنیادی ضرورتیں ہوتی ہیں جو درج ذیل ہیں  :

پیش رخی اتصال (Front-end Interface):  یہ استعمال کنندہ اور ڈیٹا بیس رخی سافٹ ویر کے درمیان ایک تفاعلی ربط یا ڈائیلاگ ہوتا ہے جس کے ذریعہ استعمال کنند ہ پس رخی (Bakc-end) ڈیٹا بیس سے ترسیل کرتا ہے ۔ مثال کے لیے اشیاء کی خریداری سے متعلق لین د ین خریداری واؤچر کے ذریعہ حساب داری نظام کا استعمال کر کے دکھایا جا سکتا ہے جو کہ ڈیٹا انٹری آپریٹرکے کمپیوٹر مانیٹر پر ظاہر ہوتا ہے اور جب نظام میں داخل ہوتا ہے توڈیٹا بیس میں اسٹور ہوتا ہے۔ اسی ڈیٹا کے بارے میں رپورٹنگ نظام مثلاً خریداری تجزیہ سافٹ ویر پروگرام کے ذریعہ معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

•  پس رخی ڈیٹا بیس : یہ ڈیٹا اسٹوریج نظام ہے جو کہ استعمال کنندہ سے چھپا ہوتا ہے اور استعمال کنندہ کی ضروریات کے لحاظ سے اس حد تک عمل کرتا ہے جس حد تک استعمال کنندہ رسائی  کا مجاز ہوتا ہے ۔

•  ڈیٹا پروسیسنگ : یہ افعال (Action) کا ایک سلسلہ ہے جو فیصلہ سازی کے لیے مفید معلومات میں ڈیٹا کو منتقل کرنے کے لیے کیا جا تا ہے ۔

•  رپورٹنگ نظام : یہ اشیاء اکا ایک مربوط مجموعہ ہے جو کہ رپورٹ کی تشکیل کرتا ہے ۔

کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی بھی ڈیٹا بیس رخی اطلاق میں سے ایک ہے جس میں لین دین ڈیٹا کو اچھی طرح منظم ڈیٹا بیس میں کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی بھی ڈیٹا بیس رخی اطلاق میں سے ایک ہے جس میں لین دین ڈیٹا کو اچھی طرح منظم ڈیٹا بیس میں اسٹور کیا جاتا ہے ۔ استعمال کنندہ ضروری اور مطلوبہ اتصال (interface)کا استعمال کرتے ہوئے اس طرح کے ڈیٹا بیس پر عمل کرتا ہے اور اس طرح اسٹور کیے ہوئے ڈیٹا کو معلومات میں مناسب طریقے پر منتقل کر کے مطلوبہ رپورٹوں کو حاصل کرتا ہے۔ لہٰذا کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی کے مبادیات کمپیوٹروں میں ڈیٹا بیس رخی اطلاق کی سبھی بنیادی ضروریات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اس کے مطابق کمپیوٹر پر مبنی حساب داری نظام میں درج بالا چار اضافی ضروریات (Requirements) ہوتی ہیں۔

13.2  دستی اورکمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی کا موازنہ 

اگر تعریف بیان کی جائے توحساب داری مالیاتی لین دین کی شناخت کرنے ، ریکارڈ کرنے ،درجہ بند کرنے اور اس کی تلخیص کرنے کا عمل ہے تاکہ حتمی تجزیے کے لیے مالیاتی رپورٹیں تیارکی جا سکیں۔ آئیے دستی اور کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی کے نظام کے سیاق و سباق میں ان سرگرمیوں کو سمجھیں۔

•  شناخت کرنا :  حساب نویسی اصولوں کے اطلاق پر مبنی لین دین کی شناخت دستی حساب نویسی نظام اور کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی نظام دونوں کے لیے عام ہے۔

•  ریکارڈنگ : دستی حساب نویسی کے نظام میں مالی لین دین کودر اصل اندر اجات کے  کھاتوں کی کتابوں سے ریکارڈ کیا جاتا  ہے جب کہ کمپیوٹر پر مبنی حساب داری نظام میں اس طرح کے لین دین کے ڈیٹا مواد کو اچھی طرح تیار کیے گئے حساب داری ڈیٹا بیس میں اسٹور کیا جاتا۔

 درجہ بندی :  دستی حساب نویسی کے نظام میں اصل اندراج کی کتا بوں میں درج کیے گئے لین دین کو لیجر کھاتوں میں چڑھا کر مزید درجہ بند کیا جا تا ہے۔نتیجتاًلین دین کے ڈیٹا کا دوہرااندراج ہوتا ہے۔ کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی میں ڈیٹا کا اس طرح کوئی دوہرااندراج لین دین کی درجہ بندی کے باعث نہیں کیا جا تا۔ لیجر کھاتوں کو تیار کرنے کے سلسلہ میں درجہ بندی کے لیے اسٹورکیے ہوئے لین دین ڈیٹا کی پروسیسنگ کی جاتی ہے تاکہ اسی کورپورٹ کی شکل میں پیش کیا جا سکے۔ اسی لین دین ڈیٹا کی مختلف شکلیں مختلف رپورٹوں میں پیش کیے جانے کے لیے دستیاب ہوتی ہیں۔ 

تلخیص :  مختلف کھاتوں کے بقایا جات کی تحقیق کر کے دستی حساب نویسی کے نظام میں ٹرائل بیلنس تیار کرنے کے لیے لین دین کا خلاصہ کیا جا تا ہے ۔ نتیجتاً ، لیجر کھاتوں کی تیاری ٹرائل بیلنس (Trial balance)تیار کرنے کی لازمی شرط بن جاتی ہے۔ تاہم ، کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی میں ابتدائی طور پر اسٹور کیے گئے لین دین ڈیٹا کی پروسیسنگ آزمائش موازنہ رپورٹ میں حتمی طور پر دکھائے جانے والے مختلف کھاتوں کے بقایا جات کی فہرست کو تیار کرنے میں کی جاتی ہے۔ 

•  تطبیقی اندراجات :  دستی نظام حساب نویسی میں یہ اندراجات لاگت محاصل ملان(Cost matching revenue)کے اصول پر کیے جاتے ہیں۔ ان اندراجات کومحاصل کےساتھ حسابی مدت کے اخراجات کے ملان کے لیے ریکارڈ کیا جا تا ہے۔ بعض دیگر تطبیقی اندراجات غلطیوں اور ان کی اصلاح کے لیے کیے جاتے ہیں۔ تاہم کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی میں جرنل واؤچر تیار اور اسٹورکیے جاتے ہیں اور لاگت محاصل ملان کے اصول کی تعمیل کی جاتی ہے، لیکن غلطیوں اور ان کی اصلاح کے لیے تطبیقی اندراجات کرنے جیسا کچھ نہیں ہوتا البتہ غلط واؤچر کی اصلاح ضرور کی جاتی ہے مثلاً ایسی صورت میں جبکہ وصولیابی لین دین کے بدلے غلط واؤچر کا استعمال ہو جائے ۔ 

13.2  دستی اورکمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی کا موازنہ 

اگر تعریف بیان کی جائے توحساب داری مالیاتی لین دین کی شناخت کرنے ، ریکارڈ کرنے درجہ بند کرنے اور اس کی تلخیص کرنے کا عمل ہے تاکہ حتمی تجزیے کے لیے مالیاتی رپورٹیں تیارکی جا سکیں۔ آئیے دستی اور کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی کے نظام کے سیاق و سباق میں ان سرگرمیوں کو سمجھیں۔

 شناخت کرنا :  حساب نویسی اصولوں کے اطلاق پر مبنی لین دین کی شناخت دستی حساب نویسی نظام اور کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی نظام دونوں کے لیے عام ہے۔

•  ریکارڈنگ : دستی حساب نویسی کے نظام میں مالی لین دین کودر اصل اندر اجات کے  کھاتوں کی کتابوں سے ریکارڈ کیا جاتا  ہے جب کہ کمپیوٹر پر مبنی حساب داری نظام میں اس طرح کے لین دین کے ڈیٹا مواد کو اچھی طرح تیار کیے گئے حساب داری ڈیٹا بیس میں اسٹور کیا جاتا۔

•  درجہ بندی :  دستی حساب نویسی کے نظام میں اصل اندراج کی کتا بوں میں درج کیے گئے لین دین کو لیجر کھاتوں میں چڑھا کر مزید درجہ بند کیا جا تا ہے۔نتیجتاًلین دین کے ڈیٹا کا دوہرااندراج ہوتا ہے۔ کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی میںڈیٹا کا اس طرح کوئی دوہرااندراج لین دین کی درجہ بندی کے باعث نہیں کیا جا تا۔ لیجر کھاتوں کو تیار کرنے کے سلسلہ میں درجہ بندی کے لیے اسٹورکیے ہوئے لین دین ڈیٹا کی پروسیسنگ کی جاتی ہے تاکہ اسی کورپورٹ کی شکل میں پیش کیا جا سکے۔ اسی لین دین ڈیٹا کی مختلف شکلیں مختلف رپورٹوں میں پیش کیے جانے کے لیے دستیاب ہوتی ہیں۔ 

تلخیص :  مختلف کھاتوں کے بقایا جات کی تحقیق کر کے دستی حساب نویسی کے نظام میں ٹرائل بیلنس تیارا کرنے کے لیے لین دین کا خلاصہ کیا جا تا ہے ۔ نتیجتاً ، لیجر کھاتوں کی تیاری ٹرائل بیلنس (Trial balance)تیار کرنے کی لازمی شرط بن جاتی ہے۔ تاہم ، کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی میں ابتدائی طور پر اسٹور کیے گئے لین دین ڈیٹا کی پروسیسنگ آزمائش موازنہ رپورٹ میں حتمی طور پر دکھائے جانے والے مختلف کھاتوں کے بقایا جات کی فہرست کو تیار کرنے میں کی جاتی ہے۔ 

•  تطبیقی اندراجات :  دستی نظام حساب نویسی میں یہ اندراجات لاگت محاصل ملان(Cost matching revenue)کے اصول پر کیے جاتے ہیں۔ ان اندراجات کومحاصل ساتھ حسابی مدت کے اخراجات کی ملان کے لیے ریکارڈ کیا جا تا ہے۔ بعض دیگر تطبیقی اندراجات غلطیوں اور ان کی اصلاح کے لیے کیے جاتے ہیں۔ تاہم کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی میں جرنل واؤچر تیار اور اسٹورکیے جاتے ہیں اور لاگت محاصل ملان کے اصول کی تعمیل کی جاتی ہے، لیکن غلطیوں اور ان کی اصلاح کے لیے تطبیقی اندراجات کرنے جیسا کچھ نہیں ہوتا البتہ غلط وائوچر کی اصلاح ضرور کی جاتی ہے مثلاً ایسی صورت میں جبکہ وصولیابی لین دین کے بدلے غلط وائوچر کا استعمال ہو جائے ۔

• مالیاتی گوشوارے :  حساب نویسی کے سالانہ نظام میں مالیاتی گوشواروں کی تیاری ٹرائل بیلنس کی دستیابی کے لیے اولین شرط ہوتی ہے۔ تاہم کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی میں ایسی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ مالیاتی گوشواروں کی تیاری ٹرائل بیلنس تیار کرنے سے بالکل الگ ہے کیوں کہ اس طرح کے گوشوارے اصلاً اسٹور شدہ لین دین ڈیٹا کی براہ راست پروسیسنگ کے ذریعہ تیار کیے جاسکتے ہیں۔

• کھاتوں کو بند کرنا :   مالیاتی رپورٹوں کو تیارکرنے کے بعد محاسب اگلی حسابی مدت کے لیے تیاری کرتے ہیں۔ یہ کام اختتامی جرنل اندراجات کو پوسٹ کر کے انجام دیا جاتا ہے ۔ کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی میں ڈیٹا بیس میں کھاتوں کے افتتاحی بقایا جات کو تخلیق کرنے اور اسٹور کرنے کے لئے سال کے ختم پرپروسیسنگ (Processing) کی جاتی ہے۔ یہ مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ تصوراتی طور پر حساب داری عمل استعمال کی گئی ٹکنالوجی کے بلالحاظ مماثل یا ایک جیسا ہی ہے۔

13.3  کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی نظام کے فوائد 

دستی حساب نویسی کے مقابلہ میں کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی کے متعدد فوائد ہیں جن کا خلاصہ در ج ذیل ہے  :

رفتار : دستی حساب نویسی کے مقابلے، کمپیوٹرائزڈ حساب نویسی کا استعمال کر کے ،ڈیٹا کو تیزی سے پروسیس کیا جاسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی کام کوانجام دینے میں انسانوں کی نسبت کمپیوٹروں کو انتہائی کم وقت درکار ہوتا ہے ۔

درستی : کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی کے نظام میں غلطی کا امکان نہیں ہوتا کیونکہ اس میں ابتدائی حساب نویسی ڈیٹا ایک ہی بار درج کیا جاتا ہے اور پھر حسب ضرورت اس کا استعمال کرنے اور اس کو پروسیس کرکے حسابی ریکارڈوں کو تیار کیا جا سکتا ہے۔ عام طور پر دستی حساب نویسی کے نظام میں مختلف طرح کی حساب داری رپورٹوں کی تیاری کرتے وقت حساب سے متعلق غلطیاں اصل ڈیٹا کے ایک ہی مجموعے کو بار بار چڑھانے کے سبب واقع ہوتی ہیں۔

معتبر یت : کمپیوٹر نظام کسی عمل کو بار بارانجام دینے کے لیے بہت مناسب اور مفید ہے۔ یہ تکان ،اکتاہٹ یا ضعف سے مبرا ہے۔ نتیجتاً کمپیوٹر انسانوں کی نسبت زیادہ معتبر ہیں۔ چونکہ کمپیوٹر پر مبنی حساب داری نظام کمپیوٹروں پر ہی زیادہ منحصر ہیں اس لیے دستی حساب نویسی کے نظاموں کی بہ نسبت زیادہ معتبر ہیں۔

تازہ ترین معلومات : کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی نظام میں جب اور جیسے حساب داری ڈیٹا داخل اور اسٹور کیا جاتا ہے حساب داری ریکارڈ خود بخود تازہ ترین ہو جاتے ہیں۔ اس لیے حساب داری رپورٹوں کو تیار کرتے وقت اور طبع کرتے وقت حاصل ہو جاتی ہیں۔

مثال کے لیے جب اشیاء کی نقد خریداری سے متعلق لین دین پر مشتمل حساب داری ڈیٹا داخل اور اسٹور کیا جاتا ہے جو اس کے اثر ات فوری طور پر نقد کھاتے، خریداری کھاتے اورمالی گوشوارے  (تجارت اور نفع ونقصان کھاتے ) پر ظاہر ہو جاتے ہیں۔

ریئل ٹائم استعمال کنندہ  اتصال (Real Time User Interface): زیادہ تر خود کار حساب نویسی نظام کمپیوٹروں کے ایک نیٹ ورک کے ذریعہ ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ اس سے ریئل ٹائم بنیاد (یعنی خود بخود) پر اسی وقت مختلف استعمال کنند گان کو معلومات کی دستیابی میں آسانی ہوتی ہے۔

دستاویز کا خود کار طور پر تیار ہونا : اکثر کمپیوٹر پر مبنی نظام حساب نویسی میں معیار بند، حساب نویسی رپورٹوں کے استعمال کنندہ  واضح فارمیٹ ہیں جن کی تخلیق خود کار طور پر ہوتی ہے۔ کیش بک ، ٹرائل بیلنس گوشوارہ حسابات جیسی حساب نویسی رپورٹیں کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی ماحول میں ماؤس کی محض ایک کلک کے ذریعہ حاصل کی جاتی ہیں ۔

کثیر الاستعمال ہونا (Scalability): کمپیوٹرپر مبنی حساب نویسی نظام میں اضافی افرادی قوت کی ضرورت اضافی واؤچروں کو اسٹور کرنے کے لیے ڈیٹا اینٹری آپریٹروں تک محدود ہوتی ہے۔ اضافی لین د ین کی پروسیسنگ کی اضافی لاگت تقریباً معمولی سی ہوتی ہے۔ نتیجتاً کمپیوٹر پر مبنی حساب داری نظام انتہائی کثیر الاستعمال ہوتے ہیں۔

واضح ہونا : کمپیوٹر کے مانیٹر پر ڈسپلے کئے گئے ڈیٹا بالکل واضح ہوتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہے کہ کیریکٹرس (علامات، حروف ہجا، اعداد وغیرہ )کو ٹائپ کرتے وقت معیاری فونٹوں (Fonts) کا استعمال کیا جاتا ہے اور اس میں وہ غلطیاں نہیں ہوتیں جو ہاتھ کی لکھی ہوئی گندی تحریروں کی وجہ سے ہو سکتی ہیں۔ 

حس کار کردگی کی صلاحیت (Efficiency): کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی نظام ،وسائل اوروقت کے بہتر استعمال کو یقینی بناتا ہے۔ اس سے فیصلہ سازی، مفید معلومات اور رپورٹوں کو تیار کرنے میں حسن کار کردگی کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔

معیاری رپوررٹیں :  ڈیٹا برتنے کی تعمیری جانچ اور اچھوتی خصوصیات صاف ستھری اورحقیقی حساب نویسی رپورٹ میں آسانی پیدا کرتی ہیں جو کہ نہایت معروضی ہوتی ہیں اور ان پر بھروسہ کیاجا سکتا ہے ۔ 
MIS رپورٹیں : کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی نظام مینجمنٹ انفارمیشن MIS رپورٹوں کو بیک وقت (Real time) تیار کرنے میں سہولت فراہم کرتا ہے جس سے انتظامیہ کو کاروبار پر مؤثر طورپر نگرانی اورکنٹرول رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ دین داروں کے تجزیہ بہتر سے نا دہندگی (یا ڈوبے قرض)کے امکان کے علاوہ بیلنس شیٹ میں قرض پر ارتکاز اور اس کے اثرات کا بھی اشارہ مل سکے گا۔ مثال کے لیے ، اگر کوئی کمپنی کسی مخصوص فریق کو ایک مقررہ مقدار تک ادھارفروخت پر پابندی لگانے کی پالیسی اپناتی ہےتو جب بھی ڈیٹا اندر اج فارم کے ذریعے کسی واؤ چر کا اندراج ہوگا تو کمپیوٹر نظام پر فوری طور پر معلومات دستیاب ہو جائیں گی ۔ تاہم دستی حساب نویسی کے نظام میں اس میں کافی تاخیر ہوتی ہے اور اس کے علاوہ ممکن ہے نتائج بھی بہت زیادہ درست نہ ہوں۔
اسٹوریج اور بازیافت : کمپیوٹر پر مبنی نظام میں استعمال کنند گان کے لیے ڈیٹا کو اس طرح اسٹور کرنے کی گنجائش ہے جس میں بہت زیادہ جگہ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ حساب نویسی ڈیٹا کو ہارڈ ڈسک CD, ROMS، فلاپیوں میں اسٹور کیا جا سکتا ہے جو کہ لیجر ، جرنل اور حساب نویسی کے دیگر رجسٹروں کے مقابلے بہت ہی کم جگہ گھیرتی ہے۔ اس کے علاوہ اس نظام میں ڈیٹا اور معلومات کی تیز اور درست بازیافت کی بھی گنجائش ہوتی ہے۔
تحرک اور ملازمین کا مفاد : کمپیوٹر نظام میں اسٹاف کی مخصوص تربیت درکار ہوتی ہے جس سے وہ خود کو گراں مایہ محسوس کرتے ہیں۔ اس سے نوکری میں دلچسپی پیدا کرنے کی تحریک ملتی ہے۔ تاہم جب ہم دستی نظام سے کمپیوٹر نظام میں جاتے ہیں تب یہ زحمت کا سبب بھی ہو سکتا ہے۔

اپنی فہم کی جانچ کیجیے

.1 ڈیٹا کا اسٹوریج اور عمل کاری کے فریم ورک کو........کہاجا تا ہے ۔

.2 ........کا استعمال کرکے ڈیٹا بیس کو عمل میں لایا جاتا ہے ۔

.3 ڈیٹا کو فیصلہ سازی کے لیے مفید معلومات میں تبدیل کرنے کے لیے کیے جانے والے عمل کے تواتر کو ......کہا جا تا ہے۔

.4  چھوٹی کاروباری تنظیم کے لیے مناسب حساب نویسی سافٹ ویر جس میں صرف ایک استعمال کنندہ اورایک آفس  ........ہوسکتا ہے ۔ 

13.4  کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی کے نظام کی کمیاں 

جہاں کمپیوٹرائزڈ حساب نویسی کا نظام رائج ہیں وہاں مندرجہ ذیل کمیاں یا خامیاں پیدا ہو سکتی ہیں :

تربیت کی لاگت : ترقی یافتہ کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی پیکیج میں عام طور پر مخصوص اسٹاف مطلوب ہوتا ہے۔نتیجے کے طور پر مسلسل بنیاد پر ہارڈو یر اور سافٹ ویر کے استعمال کو سمجھنے کے لیے بھاری بھرکم تربیتی لاگت آتی ہے کیونکہ ہارڈ ویر اور سافٹ ویر کی نئی نئی قسمیں کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی نظام کے کارگر اور مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے حاصل کرنی ہوتی ہیں۔ 
اسٹاف کی مخالفت : جب بھی حساب نویسی کے نظا م کی کمپیوٹر کاری کی جاتی ہے تو موجودہ اسٹاف حساب نویسی اس کی مزاحمت کرتا ہے جزواً اس خوف کی وجہ سے کہ ان کی ضرورت نہیں رہے گی اور کافی حد تک اس وجہ سے بھی کہ تنظیم میں ان کی اہمیت کم ہو جائے گی۔
کام میں رکاوٹ (Disruption): جب کوئی تنظیم کمپیوٹر پر مبنی نظام میں منتقل ہوتی ہے تب حساب نویسی عمل میں کام کاخاصا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ جب نئے نظام سے واقفیت ہو جاتی ہے اور نئے سسٹم کی عادت ہوجاتی ہے تبھی کام کا صحیح ماحول پیدا ہوتا ہے ۔
نظام کی ناکامی :اس نظام کے ٹوٹنے کا خطرہ ہارڈ ویر کی ناکامیوں کے سبب ہوتا ہے اور نتیجتاً کام کا نقصان کمپیوٹر پر مبنی نظام حساب نویسی کی ایک اہم خامی بن جاتی ہے ۔ تاہم مناسب تدبیر اختیا ر کرکے اس خامی کا تدارک کیا جاسکتا ہے۔ وائرس کے حملوں کے سبب سافٹ ویر کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور ناکامی واقع ہو سکتی ہے۔ یہ حساب نویسی ان نظاموں سے خصوصی طور پر متعلق ہے جو اپنے اپنے آن لائن عمل کے لیے انٹر نیٹ کی سہولت کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ وائرسوں کے ذریعہ سافٹ ویر پر حملوں کی ضرر رسانی سے نمٹنے میں ابھی تک کوئی پوری طرح محفوظ حل دستیاب نہیں ہے۔ 
ناگہانی غلطیوں کو جانچ کرنے کی اہلیت نہ ہونا :چونکہ کمپیوٹر میں رائے قائم کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہوتا ہے اس لیے وہ انسانوں کے ذریعہ کی جانے والی ناگہانی غلطیوں کو نہیں پکڑ پائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غلطیوں کی شناخت اورجانچ کرنے والا سافٹ ویر ایسے پروگراموں کا مجموعہ ہوتا ہے کہ صرف معلوم اور متوقع غلطیوں کو ہی پکڑ سکتا ہے 
تحفظ کی خلاف ورزی : کمپیوٹر سے متعلق جرائم کا پتہ لگانا مشکل ہے ،کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ڈیٹا میں نظام کی خلاف ورزی کر کے کوئی تبدیلی کردی گئی ہو اور وہ علم میں نہ آئے ۔ البتہ دستی حساب داری نظام میں ریکارڈوں میں بدلاؤ کو پہلی نظر میں ہی تلاش کیا جا سکتا ہے ۔ جعل سازی ، دھوکہ دہی اورخوردبرد کا ارتکاب عام طور پر کمپیوٹر پر مبنی نظام میں ڈیٹا پروگراموں کے بدلاؤ کے ذریعہ کیا جا تا ہے۔ پاس ورڈس یا استعمال کنندہ کے حقوق کی نا واجب رسائی حساب داری ریکارڈوں کی تبدیلی کر سکتی ہے ۔ اسے ٹیلی مواصلاتی لائنوں کو ٹیپ کرنے وائر ٹیپنگ یا خفیہ پروگراموں کو کھو ل دینے کے ذریعہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ڈیٹا کی تحریف کرنے کے لیے بھی لوگ ذمہ دار ہوتے ہیں جس کا پتہ نہیں لگا یا جا سکتا جبکہ دستی نظام میں اس کا پتہ لگانا نسبتاً آسان ہے۔
صحت پر مضر اثرات : کمپیوٹرنظاموں کا زیادہ استعمال صحت سے متعلق مختلف مسائل جیسے پیٹھ درد، آنکھوں میں کھنچاؤ اعصابی تکلیفیں وغیرہ بڑھاسکتا ہے، اس سے جہاں ایک طرف عملہ پر حساب نویسی کے کام کرنے کی صلاحیت پر خراب اثر پڑتا ہے تودوسری طرف اسٹاف کے طبی اخراجات بھی بڑھاتا ہے۔

khud

 13.5 حساب نویسی کے سافٹ ویر کی فراہمی

(Sourcing of Accounting Software)

حساب نویسی سافٹ ویر کمپیوٹر پرمبنی حساب نویسی کے نظام کا ایک لازمی جزہے۔ حساب نویسی کا سافٹ ویر حاصل کرنے سے قبل ایک اہم عامل کو سمجھا جا نا چاہئے وہ یہ کہ حساب نویسی کے کام کے لیے ذمہ دار لوگوں کوحساب نویسی میں مہارت حاصل ہو نا چاہئے۔ حساب نویسی کے لیے لوگ ذمہ دار ہوتے ہیں نہ کہ کمپیوٹر۔ حساب نویسی کے سافٹ ویرکی ضرورت دو صورت حال میں پیدا ہوتی ہے:(a) جب دستی نظام کو ہٹا کر کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی نظام کا اطلاق کیا جا تا ہے۔ (b) جب بدلتی ضرورتوں کے خیال سے موجودہ کمپیوٹر پر مبنی نظام کو ہٹانے  کی 

ضرورت پڑے۔

باکس 1 

حساب نویسی سافٹ ویر

بازار میں کئی طرح کے سافٹ ویر دستیاب ہیں۔ ہندوستان میں جن مقبول عام سافٹ ویر کا استعمال کیا جا تاہے وہ ہیں Tally اور Ex۔حساب نویسی کے تمام سافٹ ویر تمام دنیا میں یکساں خصوصیت کے حامل ہیں ۔کسی ملک کی اپنی قانونی رپورٹنگ ضروریات اور کاروباری ضرورتیں سافٹ ویر کے مواد پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ دیگر مقبول سافٹ ویر Cash Manager, Best Books, Wings 2000, Sage اور Ace Pays وغیرہ ہیں۔

13.5.1  حساب نویسی پیکیج

ہر کمپیوٹر پر مبنی حساب نویسی نظام کا استعمال حساب نویسی سرگرمی (حساب نویسی ڈیٹا کو ریکارڈ کرنے اور انہیں اسٹور کرنے) کوانجام دینے کے لیے اوراستعمال کنندہ کی ضروریات کے مطابق رپورٹوں کو تیار کرنے کے لیے کیا جا تا ہے۔ 

حساب نویسی پیکیجوں کو درج ذیل زمروں میں درجہ بند کیا جا تا ہے  :

(a) استعمال کرنے کے لیے تیار(Ready to use) 

(b)  انفرادی ضرورتوں کے مطابق بنانا (Customised)

(C) موزوں بنانا (Tailored)

یہ سبھی زمروں کی اپنی امتیازی خصوصیات ہیں۔ تاہم حساب نویسی سافٹ ویر کی پسند کسی تنظیم کے لیے اس سافٹ ویر کی موزونیت پر منحصر ہوتی ہے ۔ اس پسند کے لیے اس بات کو بھی بڑی اہمیت ہوتی ہے کہ تنظیم کی ضروریات کیا ہیں ۔

13.5.2  استعمال کے لیے تیار (Ready to use)

استعمال کے لیے تیار حساب داری سافٹ ویر ان تنظیموں کے لیے موزوں ہے جو چھوٹے یا روایتی کاروبار چلاتی ہوں، جہاں حساب داری لین دین کا حجم یا تعدد بہت ہی کم ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نصب کرنے کی لاگت عام طور پر کم ہوتی ہے اور استعمال کنند گان کی تعداد محدود ہوتی ہے۔ استعمال کے لیے تیار سافٹ ویر کے بارے میں سیکھنا نسبتاً آسان ہوتا ہے اورحسا ب داری سے وابستہ لوگ (اکاؤنٹنٹ وغیرہ) آسانی سے اس کو اختیار کر سکتے ہیں البتہ اس میں راز داری کی سطح نسبتاًکم ہوتی ہے اورسافٹ ویر ڈیٹا میں جعل سازی کرنے کا امکان رہتا ہے ۔ تربیتی ضروریات سادہ ہیں اور کبھی کبھی دوکاندار (سافٹ ویر کا سپلائر)سافٹ ویر پر مفت تربیت کی پیش کش کرتا ہے ۔ تاہم، ان سافٹ ویر میں دیگر معلوماتی نظاموں سے جڑنے کی کافی کم گنجائش رہتی ہے۔ 

 13.5.3  انفرادی گاہک کی ضرورتوں کے مطابق بنانا (Customised)

حساب داری سافٹ ویراستعمال کنند ہ کی خاص ضروریات کی تکمیل کے لحاظ سے بنائے جا سکتے ہیں۔ مثال کے لیے معیاری حساب داری سافٹ ویر میں فروخت واؤچر اور انوینٹری کی حیثیت، الگ متبادل کے طور پر شامل ہو سکتی ہیں۔ تاہم ، جب استعمال کنندہ انوینٹری یا مال نامہ کی حیثیت کو تازہ ترین کرنا چاہے تو فوری طور پر فروخت واؤچر اور طبع کی جانے والی رپورٹ کے اندراج کی بنیاد پر سافٹ ویرمیں ردو بدل کی جا سکتی ہے۔

انفرادی ضرورتوں کے مطابق بنائے گئے سافٹ ویر بڑے اور اوسط کاروبار کے لیے مناسب ہیں اور دیگر معلوماتی نظاموں سے جڑ سکتے ہیں۔ نصب کرنے اور دیکھ ریکھ کی لاگت نسبتاً زیادہ ہوتی ہے کیونکہ انفرادی ضرورتوں کے مطابق بنانے کے لیے دکاندار کو زیادہ لاگت ادا کرنی ہوتی ہے۔ انفرادی ضرورتوں کے مطابق بنانے میں سافٹ ویر کے مواد میں ترمیم اور اضافہ ، استعمال کنند گان کی مخصوص تعداد کے لیے گنجائش اور ان کی توثیق وغیرہ شامل ہوتی ہے۔ ڈیٹا اورسافٹ ویر کی رازداری کو انفرادی ضرورتوں کے مطابق بنائے گئے سافٹ ویر میں زیادہ بہتر طور پر برقرار رکھا جا سکتا ہے ۔ چونکہ سافٹ ویر استعمال کنندگان کی تربیت بہت اہم ہے اس لیے تربیت کی لاگتیں بھی اونچی ہیں۔

13.5.4  موزوں بنانا (Tailored)

حساب داری سافٹ ویر عام طور پر کثیر استعمال کنند گان اور جغرافیائی طور پر الگ الگ واقع بڑی کاروباری تنظیموں میں موزوں ہوتے ہیں۔ ان سافٹ ویر کے لیے استعمال کنند گان کی مخصوص تربیت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ موزوں یا خصوصی ضرورت کے مطابق بنائے گئے سافٹ ویر کو استعمال کنند گان کی مخصوص ضرورتوں کو پورا کرنے اور تنظیمی MIS کے اہم حصے کی شکل دینے کے لیے وضع کیا جاتا ہے۔ ایسے سافٹ ویر میں راز داری اور مستند ہونے کی جانچ بہت پکی ہوتی ہے اور استعمال کنند گان کی تعداد کے اعتبار سے ان سافٹ ویر میں بہت لچک ہوتی ہے ۔

خلاصہ کے طورپر درج ذیل جدول میں حساب داری سافٹ ویر کے مختلف زمروں کے درمیان موازنہ پیش کیا گیا ہے  :

bunyaaad

موزوں بنایا ہوا انفرادی ضرورت کے مطابق استعمال کے لیے تیار بنیاد 
بڑے مثالی کاروبار بڑے ، اوسط کاروبار چھوٹے روایتی کاروبار کاروبار کی نوعیت
اونچی نسبتاًاونچی  کم  تنصیب اور دیکھ بھال کی لاگت
نستباً اونچی نستباً اونچی کم  رازداری کی متوقع سطح
(سافٹ ویر اورڈیٹا)
غیر محدود  صراحت کے مطابق محدود   استعمال کنند گان کی تعداد 
اور ان کے ما بین اتصال
ہاں ہاں محدود  دیگر اطلاعاتی نظام سے پیوند
مخصوص نسبتاً اونچی اونچی تطابق پذیری
اونچی اوسط کم تربیتی ضرورت

اسے خود کریں 

ایک کمرشیل بینک کی شاخ اور بڑے شاپنگ کمپلیکس کا دورہ کریں۔ وہاں پر انجام دی جانے والی مختلف سرگرمیوں کو دیکھیں اورحساب داری ضرورتوں کا تجزیہ کریں۔ حساب داری سرگرمیوں کی انجام دہی کے لیے  مناسب قسم کے حساب داری پیکیج کی شناخت کریں۔

 13.6  حساب داری سافٹ ویر کی فراہمی سے قبل عمومی باتوں پر غور

حساب داری سافٹ ویر کی فراہمی سے قبل عام طور پر درج ذیل عوامل پر غور کیا جا تا ہے:

13.6.1  لچک (Flexibility)

حساب داری سافٹ ویر کی فراہمی سے قبل ایک ضروری امر ہے جیسے ڈیٹا کے اندراج اور اس سے متوقع مختلف رپورٹوں کی دستیابی اور ان کا ڈیزائن، مزید برآں اس میں سافٹ ویر کے استعمال کنندگان کے درمیان محاسبوں (استعمال کنندگان)کے درمیان منتقلی ، آپریٹنگ سسٹموں اور ہارڈ ویر میں لچک ہونی چاہئے۔ استعمال کنندہ مختلف پلیٹ فارموں اورمشینوں پر سافٹ ویر جیسے ونڈوز Linux, 98/2000 وغیرہ چلانے کا اہل ہونا چاہئے۔

13.6.2تنصیب اور دیکھ ریکھ کی لاگت

سافٹ ویر کے انتخاب میں اس بات  پر بھی بلا شبہ توجہ دی جا نی ضروری ہے کہ تنظیم ان سافٹ ویر اور ہارڈویر س کی فراہمی اور پھر ان کی دیکھ ریکھ کوبرداشت بھی کرسکتی ہے یا نہیں ۔ اس طرح کے فیصلے لینے کے لیے دستیاب متبادلوں کی لاگت سے متعلق فوائداور فرم کے لیے دستیاب مالیاتی مواقع کا تجزیہ کیا جا نا چاہئے، کبھی کبھی بعض سافٹ ویر جو خریدنے میں سستے دکھائی پڑتے ہیں، ان میں بھاری دیکھ ریکھ اورلاگتوں میں ردو بدل جیسے موڈیلوں کو شامل کرنے کی لاگت ، اسٹاف کی تربیت ، شکلوں کو تازہ ترین کرنے میں ڈیٹا کی ناکامی /بحالی لاگتیں شامل ہوتی ہیں۔ بطور متبادل، حساب داری سافٹ ویر جو کہ خریداروں کے لیے ابتدائی طور پر بہت مہنگے دکھائی دیتے ہیں اس میں دیکھ ریکھ کی کم لاگت ہوتی ہے اور اپ گریڈ نگ (بہتر بنانا) مفت ہوتا ہے اور ردو بدل کی لاگتیں بھی برائے نام ہوتی ہیں۔

13.6.3  تنظیم کا سائز 

تنظیم کا سائز اور کاروباری لین دین کا حجم سافٹ ویر کے انتخاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ چھوٹی تنظیمیں جیسے منافع میں نہ چلنے والی تنظیمیں جن میں حساب داری لین دین کی تعداد اتنی زیادہ نہ ہو، وہ اکیلے استعمال کنندہ کے ذریعہ چلائے جانے والے سافٹ ویر کو اپنا سکتی ہیں۔ جب کہ بڑی تنظیموں میں کثیر استعمال کنندہ کی ضروریات، جغرافیائی طور پر بکھرے اور پیچیدہ نیٹ ورک کے ذریعہ جڑے ہوئے مقامات کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ترقی یافتہ سافٹ ویر کی ضرورت ہوتی ہے۔

 13.6.4  تطبیق اورتربیتی ضرورتوں میں سہولت 

بعض حساب داری سافٹ ویر استعمال کنندہ کے موافق ہوتے ہیں، اس میں استعمال کنندگان کو معمولی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم بعض دیگرپیچیدہ سافٹ ویر پیکیج جو کہ دیگر معلوماتی نظاموں سے جڑے ہوتے ہیں ان میں مسلسل بنیاد پر زیادہ تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ سافٹ ویر ایسا ہو جو استعمال کنندہ کو اپنی طرف راغب کر لے  اور اگر اس میں معمولی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے تو اس کے امکانی استعمال کنندگان کو وہ سافت ویر خود ہی آمادہ کر سکے۔

13.6.5  افادیت  MIS رپورٹیں

MIS رپورٹیں اورتنظیم میں ان کے استعمال کی حد (Degree)، بھی سافٹ ویر کے حاصل کرنے میں فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ مثال کے  طور پرجن سافٹ ویر سے صرف فائنل حسابات یا نقد بہاؤ (Cash flow) تجزیۂ تناسب کا کام لیا جاتا ہے وہ ریڈی ٹو یوز  (Ready to use) قسم کے سافٹ ویرہو سکتے ہیں ۔تاہم وہ سافٹ ویر جن سے جو لاگت ریکارڈوں کو تیار کرنے کی توقع ہوتی ہے انہیں استعمال کنندہ کی ضرورتوں کے مطابق بنائے جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

13.6.6  رازداری کی متوقع سطح (سافٹ ویر اور ڈیٹا)

حساب داری سافٹ ویر کو خریدنے سے پہلے حفاظتی خصوصیات پر بھی توجہ دیے جانے کی ضرورت ہے جس سے کہ حساب داری نظام میں غیر مجاز عملہ کو رسائی اور ڈیٹا کی ہیرپھیر کرنے سے بچایا جا سکے ۔ بڑے کاروبار کے لیے موافق (Tailored) سافٹ ویر ہیں۔ استعمال کنندہ کے حقوق کو خریداری شعبہ میں خرید واؤچر بل بنانے والے محاسبوں کے ساتھ فروخت واؤچر اورخزانچی کے ساتھ خورد نقدی موڈیول رسائی تک محدود کیا جا سکتا ہے۔آپریٹنگ سسٹم میں بہت اہم معاملہ ہوتا ہے۔) (UNIX ماحول میں ونڈوز کے مقابلے کثیر استعمال کنند گان کی گنجائش ہوتی ہے (Unix) میں استعمال کنندہ کمپیوٹر نظام کو آپریٹ نہیں کر سکتا جب تک وہ پاس ورڈ کو کلک نہ کرے۔ ونڈوزمیں اس طرح کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ 

13.6.7  بر آمد/در آمد ڈیٹا سہولت

کبھی کبھی ڈیٹا بیس حساب داری سافٹ ویر کو دیگر نظاموں یا سافٹ ویر میں منتقل کیا جاتا ہے ۔تنظیموں کو زیادہ لچیلی رپورٹنگ کے لیے لیجر سے براہ راست معلومات کو اسپریڈ شیٹ سافٹ ویر جیسے لوٹس اکسل (Lotus Excel) میں منتقل کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے ۔ سافٹ ویر ایسا ہو کہ ڈیٹا اپنی اصلی شکل میں اور بنا کسی خرابی کے منتقل کیا جا سکے۔

تنظیم میں حساب داری سافٹ ویر کو MIS سافٹ ویر سے جوڑے جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کچھ ریڈی ٹو یوز (Ready-to-use) سافٹ ویر میں برآمد ، درآمد سہولت دستیاب ہوتی ہے لیکن یہ صرف ایم ۔ایس ۔آفس موڈ یول تک محدود ہے جیسے MS ورڈس، MS ایکسل وغیرہ ۔ تاہم موزوں بنائے گئے سافٹ ویر کی وضع اس طرح کی جاتی ہے کہ یہ تنظیمی MIS  کے مختلف ذیلی اجزاء کے ساتھ تفاعل اور معلومات میں شریک ہو سکیں۔

 13.6.8  فروخت کاروں کی شہرت اور اہلیت 

Vendors Reputation and Capability 

ایک اہم اور قابل توجہ ضرورت فروخت کار کی شہرت اور اہلیت ہے یہ اس بات پر منحصر ہے کہ فروخت کار سافٹ ویر کے فروغ کے کاروبار میں کتنے عرصے سے لگا ہوا ہے، اور کیا اس سافٹ ویر کو دوسرے ادارے بھی استعمال کر سکتے ہیں نیز کیا اس فروخت کے دائرۂ کار سے باہر اس سسٹم کی دیکھ ریکھ اور مرمت کے لیے کسی اور جگہ سے مدد مل سکتی ہے ۔

اس باب میں متعارف کرائی گئی کلیدی اصطلاحات 

•    کمپیوٹر پر مبنی حساب داری نظام

•    دستی حساب داری نظام

•   عام طور پر تسلیم شدہ حساب داری اصول

•    عملی ماحول (Operating Environment)

•    حساب داری سافٹ ویر

•    حساب داری پیکیج

تعلیمی مقاصد کے حوا لے سے خلاصہ 

1 کمپیوٹر پر مبنی حساب داری نظام  :  کمپیوٹر پر مبنی حساب داری نظام ایک حسا ب داری اطلاعاتی نظام ہے جو مالیاتی لین دین اور واقعات کی پروسیسنگ استعمال کنندہ کی ضرورت کے لحاظ سے رپورٹ تیار کرنے کے لیے کرتا ہے۔ یہ ڈیٹا بیس کے تصور پر مبنی ہے اور اس کی دو بنیادی ضرورتیں ہیں: (a) حساب داری فریم ورک اور (b)طریق کار (Operating Procedure)

2  کمپیوٹر پر مبنی حساب داری نظام کے فوائد 

•    رفتار

•    معتبریت                                      •    درستی

•    کثیرالاستعمال                                  •    تازہ ترین

•   حسن کارکردگی                                 •    واضح

•  MIS رپورٹیں                                 •    معیاری رپورٹ

•   اسٹوریج اوربازیافت                            •   ریئل ٹائم استعمال کنندہ اتصال

                                                    Real Time User Interface

•   خود کار دستاویز کی تیاری                       •  تحرک اور ملازمین کا مفاد

 .3  کمپیوٹر پر مبنی حساب داری نظام کی کمیاں

•  تربیت کی لاگت                                •  اسٹاف کی مخالفت

•  خلل پذیری                                    •  نظام کی ناکامی 

•  نقص تحفظ (Breache of Security) •  صحت پرمضر اثر

•  غیر متوقع غلطیوں کی جانچ کی عدم صلاحیت

.4 حساب داری پیکیجوں کے زمرے : 

•   استعمال کرنے کے لیے تیار

•  موزوں (مخصوص ضرورت کے لیے)

•  انفرادی یا گاہکوں کی ضرورت کے مطابق

مشق کے لیے سوالات

مختصر جوابات

.1    ڈیٹا بیس اطلا ق کی چار بنیادی ضروریات بیان کیجیے۔

.2    حساب داری پیکیجوں کے مختلف زمروں کے نام بتائیے ۔

.3    عملی نظاموں (Operating Systems) کی دو قسموں کی مثالیں دیجیے۔

.4    کمپیوٹر پر مبنی حساب داری نظاموں کے مختلف فوائد بیان کیجیے۔

.5    ہرتنظیم کی دو مثالیں دیجیے جہا ں علی الترتیب ’’استعمال کرنے کے لیے تیار‘‘’’ گاہک ضرورت کے مطابق ‘‘اور’’ مخصوص ضرورت کے لیے موزوں ‘‘حساب داری پیکیج  حساب داری سرگرمی انجام دینے کے لیے موزوں ہے۔

طویل جوابات

.1    کمپیوٹر پر مبنی نظام کی تعریف کیجیے۔ دستی اور کمپیوٹر پر مبنی حساب داری نظام کے درمیان امتیاز کیجیے۔

.2    دستی حساب داری نظام کے کمپیوٹر پرمبنی حساب داری نظام کے فوائد بیان کیجیے ۔

.3    حساب داری سافٹ ویر کے مختلف اقسام کو ان کے فوائد اور کمیوں کے ساتھ بیان کیجئے۔

.4    حساب داری سافٹ ویر کمپیوٹر پر مبنی حساب داری نظام کا ایک لازمی حصہ ہے ، وضاحت کیجیے۔ مختصر حساب داری سافٹ ویر کی فراہمی سے قبل عام طور جن باتوں کا خیال رکھیں گے ان کی مختصر سی فہرست بنا ئیے۔

.5 کمپیوٹر پر مبنی حساب داری نظام، حسا ب داری نظام کی سب سے عمدہ شکل ہے، کیا آپ اس بیان سے متفق ہیں، تبصرہ کیجیے۔

 اپنی فہم کی جانچ کیجئے

.1  عملی ماحول                                             .2   DBMS 

.3  ڈیٹا پروسیسنگ                                          .4  استعمال کے لیے تیار

ضمیمہ

ایکسس میں عام طورپراستعمال فنکشنوں کا بیان

تین قسم کے فنکشن ہوتے ہیں جن کا استعمال SQL بیان محسوبہ کنٹرولوں کی کنٹرول ماخذ خاصیت کو مرتب کرنے کا یا محسوبہ فیلڈ عبارت کے جز کی تشکیل کے لیے کیاجاتا ہے۔

A-1 ڈومین مجموعی فنکشن

(Domain Aggregate Function)

ان فنکشنوں کا استعمال جدول یا استفسار کے میدان میں قدروں پر مبنی شمار کوانجام دینے کے لیے کیاجاتا ہے، جدول یا کویری میں ریکارڈوں کے مجموعے کے انتخاب کی کسوٹی جوشمار کے لیے استعمال کی جاتی مطلوب ہوتی ہے اس کی بھی صراحت کی جاتی تویہ اس بات کی دلالت ہے کہ فیلڈ کے لیے مخصوص جدول یا کویری کے سبھ ریکارڈ تحسیب (Computation) کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔سبھی ڈومین مجموعی فنکشن اسی قواعد کا استعمال کرتے ہیں جیسا کہ یہاں نیچے دیاگیا ہے۔

 DFunction [''FLDName" , ''TbIName" or QryName", ''SrchCond"]جہاں D Functionڈومین مجموعی فنکشن نامی کااشارہ کرتا ہے اس کے ان پٹ دلائل کا مختصر بیان نیچے دیاگیا ہے:

FldName: یہ فیلڈ کے نام کا اشارہ کرتا ہے جسے جدول یا کویری میں تلاش کیاجاتا ہے جن کی صراحت ایک دلیل کے طورپر ہوتی ہے۔

Tb1نام (یاکویرینام): یہ جدول یا کویری کے نام کا اشارہ کرتی ہے جو اس فیلڈ پر مشتمل ہوتا ہے جوکہ دوسری ان پٹ دلیل کے طورپر صراحت ہوتی ہے۔

Srch Cond: یہ تلاش کی شرط کی دلالت پرکرتا ہے جس کی بنیاد پر متعلقہ ریکارڈ کی تلاش کی جاتی ہے۔ کچھ اہم ڈومین مجموعی فنکشن کو نیچےبیان کیاگیا ہے:

(a)

Dlookup: اس فنکشن کا مطلب معلومات کوتلاش کرنا ہے جوجدول یاکویری میں اسٹور رہتی ہے، جوایکسن فارم یا رپورٹ کااساس ماخذ نہیں ہے، یہ دیگرجدول یا کویری سے ڈیٹا کوڈسپلے کرنے کی محسوبہ کنٹرول کی کنٹرول ماخذ خاصیت کومرتب کرنے کے لئے استعمال کیاجاتا ہے۔

DLookup [''Name", ''Accounts", ''Code=110001"]

درج بالا مثال میں اس فنکشن کا اطلاق کھاتے کانام تلاش کرنے کے لیے کیاجاتا (کھاتہ جدول میں)جس کا کوڈ’110001‘ ہے۔   

(b)

DMaxاور DMin: ان فنکشنوں کا استعمال مخصوص فیلڈ میں زیادہ سے زیادہ اورکم سے کم قدروں کو علی الترتیب بحال کرنے کےلئے کیاجاتا ہے درج ذیل مثال پر غورکریں۔

DMin [''Amount", ''Vouchers", ''Debit = '711001"]

Dmax [''Amount", ''Vouchhers", ''Debit = '711001"]

درج بالا مثالوں میںکم سے کم خریداری لین دین اور زیادہ سے خریداری لین دین کی بازیافت اوررپورٹ تیار ہونی ہے یہ بات بھی نوٹ کی جاسکتی ہے کہ کھاتہ جدول میں خریداری کھاتہ کوکوڈ ’711001‘ ہے۔  

(c):

DSum یہ فنکشن مخصوص فیلڈ یا عبارت میں قدروں کا میزان شماراورحاصل کرتا ہے۔ مثال کے لیے جدول میں: Sales جو کہ فیلڈوں کے طورپر آئٹم کوڈ،قیمت اورمقدار پر مشتمل ہوتی ہے اس کا شمار D Sum () فنکشن کا استعمال درج ذیل طور پرکیا جاسکتا ہے۔

DSum (''Price*Quantity", Sales")

تاہم اگرکل فروخت کسی مخصوص مدد کے لیے شمارکی جاتی ہے جسے 1678 کے طورپر کوڈ کیاگیا ہے توDSum () فنکشن کا درج ذیل طورپراطلاق کیاجائے گا۔

DSum  (''Price*Quantity", ''Item Code = 1678

 (d)

DFirst اور DLast: ان فنکشن کا استعمال پہلے اورآخری مادی ریکارڈوں سے مخصوص فیلڈمیں قدروں کوعلی الترتیب بازیافت کرنے کے لئے استعمال کیاجاتا ہے۔

DFirst  ('Name", ''Accounts")

DLast  (''Name", ''Accounts")

درج بالا مثالوں میں پہلا نام اورآخری کھاتہ جو مادی طورپر کھاتہ جدولی میں موجود ہوتا ہے۔ یازیافت ہوتا ہے اوررپورٹ ہوتی ہے۔

 (e)

DCount:اس فنکشن کا مطلب مخصوص فیلڈمیں قدروں کو علی الترتیب بازیافت کرنے کے استعمال کیاجاتا ہے۔ درج ذیل اطلاق مثالوں پرغور کریں۔

D Count (''*", ''Accounts")

درج بالا مثال میں کھاتہ جدول میں ریکارڈوں کی تعداد کاشمار DCount () function کے ذریعہ کیاجاتا ہے اوررپورٹ کی جاتی ہے۔

SQL A-2مجموعی فنکشن

تاہم ڈومین مجموعی فنکشنوں کے برعکس ان فنکشنوں کوایکسس کے فارموں اوررپورٹوں میں استعمال کیے جانے والے کنٹرولوں میں سیدھے طورپر طلب نہیں کیاجاسکتا ہے۔ ان فنکشنوں کو SQL بیانات میں استعمال کیاجاتا ہے جوفارموں اوررپورٹوں کے اساسی ریکارڈماخذ فراہم کرتے ہیں۔ ان سبھی فنکشنوں کا جبSQL بیان میں استعمال کیاجاتا ہے تبGROUP BY فقرے کی ضرورت ہوتی ہے۔

 

(a)

Sum :اس فنکشن کا استعمال قدروں کے سیٹ کے میزان کوشمارکرنے اورواپس کرنے کےلیے استعمال کیاجاتا ہے۔ مثال کے لیے درج ذیل SQL بیان پرغورکریںاسےبابV میں ٹرائل بیلنس (ماڈل۔1) کے اساسی معلوماتی ماخذکوتیارکرنے کے لئے استعمال کیاجاتا ہے۔

(SELECT Debit As Code, Sum (Amount)As Total

                                                             FROM VOUCHERS

                                                                  GROUP By Debit

درج بالاSQL بیان میں، Sum () کا استعمال کل رقم کوشمار کرنے کے لیے کیاجاتا ہے جس کے ذریعہ لین دین کھاتوں کوڈیبٹ کیاجاتا ہے۔    

(b)

Main and Max ان فنکشنوں کا استعمال فیلڈ یا کویری عبارت کے لحاظ سے علی الترتیب کم سے کم اورزیادہ سے زیادہ مجموعہ قدرکی بازیافت کے لیے ہوتا ہے، مثال کے لیے درج ذیل SQL بیان ماڈل۔1میں کم سے کم اورزیادہ سے زیادہ فروخت لین دین کی رقم واپس کرنے کا اہل ہے۔

SELECT Min (Amount)As MinSales, Max (Amount)As Max Sales

                                                                                     From Vouchers

                                                                       'Where Credit  =  '11001

یہ نوٹ کیاجاسکتا ہے کہ فروخت کھاتہ جس کا کوڈ'811001کے طورپرکیاگیا ہے، کو جب کبھی بھی کریڈٹ کیاجاتا ہے ایک فروخت لین دین کو ریکارڈ کیاجاتا ہے۔  

 (c)

Count: یہ فنکشن کویری کے ذریعہ واپس کیے گیے ریکارڈوں کی تعداد کا شمارکرتا ہے۔ کھاتوں کی کتابوں میں فروخت لین دین کتنی بارواقع ہوا ہے اوردرج کیاگیا ہے اسے درج ذیل SQL بیان کی تعمیل کےذریعہ جانا جاسکتا ہے۔

                                                                                 SQL staement

                                                                                (*) SELECT count 

                                                                                FROM Vouchers

                                                                          'WHERE Credit = '811001

درج بالا SQL بیان میں کریڈٹ فیلڈ فروخت کے کھاتہ کوڈ کواسٹورکرتا ہے، WHERE فقرہ درج بالا SQLکے ذریعہ انہیں واپس کیے گئے ریکارڈوں کی تعداد محدود کرتا ہے جس میں کریڈٹ فیلڈ، فروخت کا کھاتہ کوڈ رکھتا ہے، اسی کے لحاظ سے شمار () فنکشن درج بالا SQL بیان کےذریعہ واپس کیے گئے ریکارڈوں کی شمار قدرکوواپس کرتا ہے۔

(d)   پہلا اورآخری: ان فنکشنوں سے مراد فیلڈ یا کویری عبارت سے متعلق قدرکے مجموعے کوپہلا اورآخری ریکارڈ کوبازیافت کرنا ہے۔

 A-3دیگر فنکشن   

(a)

IFI: اس فنکشن کا مقصد قدروں کے باہمی مخصوص مجموعے سے فیلڈ کی قدر فراہم کرنا ہے۔

IIF (<Condition>, Value-1, Value-2)

جہاں<Condition>کسی منطقی اظہار کی دلالت کرتا ہے جس میں موازنہ درج ذیل موازنہ آپریٹرکااستعمال کرکے کیاجاتا ہے۔

                                                                    equal to=

                                                                  less than>

                                                                greater than<

                                                                less than or equal to=> 

                                                               greater than or equal to=<

درج بالا موازنہ آپریٹروں کے ذریعہ شرط کی تشکیل کی جاتی ہے، جسے TRUEیاFALSEکے نتیجے کے لیے آنکا جاتا ہے۔<Value-1>اس قدر کوIIF () فنکشن کے ذریعہ فیلڈ کوواپس کیاجاتا ہے، اگرشرط FALSE میں تبدیل کی جاتی ہے۔ 

مثال: مان لیجئے ایک فیلڈ Type کیریر''Debit"کے سلسلہ میں واپس ہونا ہے تب اس کی قدراور ’کریڈٹ‘ میں واپس آنا ہے تب اس کی قدر 1ہے،() IIF  فنکشن کا استعمال درج ذیل طریقے سے کیا جاتا ہے۔  

IIT(Type=O,''Debit",''Credit""

(b)

Abs: اس فنکشن کا مقصد مطلق قدر واپس کرنا ہے۔ یہ فنکشن اپنے ان پٹ دلیل کے سبب عددی قدرحاصل کرتا ہے اورمطلق قدر واپس کرتا ہے۔ Abs () فنکشن کے استعمال کی درج ذیل مثالوں پر غورکریں۔

جب 

(-84)،Abs-84

کو ان پٹ دلیل کے طورپر دیاجاتا ہے یہ84 واپس کرتا ہے۔ 

(c)

Val : اس فنکشن کا مقصد ایک سلسلے میں شامل تعداد کوموزوں قسم کے عددی قدرکے طورپرواپس کرنا ہے۔ اس کا قواعد Val(String)ہے۔ درج بالا (Val) فنکشن کی sring argementکوئی بھی Val فنکشن Valid String expression (جائز سلسلہ وارعبارت) ہے۔

پہلے کیرکٹر پرجو عدد کے طورپر شناخت نہیں کیاجاسکتا، پڑھنا روک دیتا ہے، مثال کے لیے Val(''12431") قدر میں اعداد منسلکہ سلسلے کو تبدیل کرنے کے ذریعہ قدر 12431واپس کردیتا ہے، تاہم Val (''12,431") عددی قدر 12کوواپس کرتا ہے کیوں Val () 12 کے بعد نیم وقفہ Comma عدد کے طورپر شناخت نہیں ہوتا۔