Skip to content
Hayatiyaat(Biology)
Pic1 Chaptur1
.

باب 1

جاندار دنیا 

باب 2

حیاتیاتی درجہ بندی

باب 3

کنگڈم نباتات

باب 4

حیوانی کنگڈم

اکائی 1

جاندار دنیا میں تنوع (Diversity in the Living World)

جاندار عملوں اور جاندار انواع کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کوحیاتیات(Biology) کہتے ہیں۔ یہ جاندار دنیا، جاندار عضویوں میں پائی جانے والے حیرت انگیز تنوعات پر مشتمل ہے۔ ابتداء میں انسان بے جان مادوں اور جاندار عضویوں میں آسانی سے تفریق کرلیتا تھا۔ ان بے جان مادوں (ہوا، سمندر، آگ وغیرہ) کو اس ابتدائی انسان نے حیوانات اور نباتیات کے ارکان کو دیوتاؤں کا درجہ دیا ہے۔ ان بے جان اور جان دار انواع کی اقسام میں مشترکہ خصوصیت یہ تھی کہ ان کو دیکھ کر انسان حیرت زدہ ہو جاتا تھا اور خوف طاری ہو جاتا تھا۔ انسانی تاریخ میں انسان سمیت جانداروں کی درجہ بندی کا اہتمام بہت بعد میں شروع ہوا۔ اس سماج میں جس سے حیاتیات کو صرف انسانوں کے مطالعے تک محدود رکھا، انہوں نے حیاتیاتی معلومات کے اضافے میں بہت کم ترقی کی۔ ضرورت کے تحت حیاتی انواع کے نام رکھنے اور ان کے بیان سے ایک ضخیم معلومات جمع ہوتی رہی جس نے آگے چل کر ایک تفصیلی نظامِ درجہ بندی کی شکل اختیار کرلی اور جاندار عضویوں میں افقی اور طوالبلدی طور پر باہم مشترک خصوصیات کی شناخت، اس کا سب سے اہم فائدہ ہوا۔ اور یہ کہ اس ارض پر رہنے والے موجودہ اور گذشتہ جاندار ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں ایک بڑی کھوج ثابت ہوئی اور اس حقیقت کا علم ہونے کے بعد انسان نے ثقافتی مہم چلائی اور حیاتیاتی تغیر کے تحفظ کے لیے کوشاں رہا۔ اس اکائی کے ابواب میں آپ ٹکسانوسٹ کے نظریے سے جانوروں اور پودوں کی درجہ بندی کے بارے میں مطالعہ کریں گے۔

Pic2 Capture1
ارنسٹ مائیر  
(1904 – 2004)

کیمپٹن، جرمنی میں 5 جولائی 1904 کو پیدا ہوئے۔ ارنسٹ مائیر، جوہارورڈ یونیورسٹی میں ارتقائی بائلوجسٹ ہیں کو بیسویں صدی کا چارلس ڈارون بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا شمار سو عظیم تر سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔ مائیر نے ہارورڈ کی آرٹس اور سائنس کی فیکلٹی 1953 میں جوائن کی۔ ایلگزنڈر اگاسیز اور حیاتیات کے ممتاز پروفیسر کے خطابات حاصل کرکے 1975 میں اپنے فرائض سے سبکدوش ہوئے۔ اپنے اسّی سالہ پیشے میں موصوف کا دائرہ تحقیق، ارنیتھولوجی، درجہ بندی، جغرافیہ حیوانی، ارتقاء اور تاریخ اور فلسفۂ حیات پر محیط ہے۔ انہوں نے صرف اپنی انفرادی کاوشوں سے نوعی تغیر کی ابتداء کے سوال کو ارتقائی حیاتیات کا مرکزی محور بنادیا۔ مائیرنے حیاتیائی نوع کی موجودہ تسلیم شدہ تعریف کی بھی بنیاد رکھی۔ مائیر کو ان تین انعامات سے بھی نوازا گیا جن کی حیثیت بائیولوجی میں ثلاثی تاج کی ہے: بلذان انعام 1983، بائیولوجی کا بین الاقوامی انعام 1994 میں اور کرافورڈ انعام 1999 میں۔ 2004 میں سو برس کی عمر میں مائیر کا انتقال ہوا۔

باب 1

جاندار دنیا  

(The Living World)

جاندار دنیا کتنی حیرت انگیزہے! جاندار اقسام میں موجود وسعت حیرت انگیز ہے۔ جاندار عضویوں کو ان کے غیر معمولی مساکن (Habitats)مثلاً سرد پہاڑ، جنگلات، سمندر، میٹھے پانی کی جھیلوں، صحرائوں یا گرم پانی کے چشموں میں رہتے ہوئے دیکھ کرزبان گنگ ہو جاتی ہے۔ گھوڑوں کی اچھل کود، ہجرت کرنے والے پرندوں، پھولوں کی وادی یا حملہ ور شارک کی خوبصورتی دیکھ کر عقل حیرت زدہ رہ جاتی ہے۔ ماحولیاتی تنازع، ایک آبادی کے اراکین کے درمیان یا کمیونٹی کی آبادی کے درمیان باہمی تعاون یا خلیے کے اندر سالموں کی آمدورفت ہمیں سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ آخر حیات کیا ہے؟ اس سوال میں دو سوال مضمر ہیں۔ پہلا سوال تکنیکی ہے اوراس بات کا جواب ڈھونڈتا ہے کہ جاندار اور بے جان میں کیا فرق ہے، اور   دوسرا سوال فلسفیانہ ہے جو حیات کا مقصد تلاش کرتا ہے۔ایک سائنس داں کی حیثیت سے ہم دوسرے سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش نہیں کریں گے، البتہ  اس بات پر غور کریں گے کہ ’جاندار‘ کیا ہے؟

1.1 ’جاندار‘ کیا ہے؟ (What is Living)

جب ہم جاندارکی تعریف کرتے ہیں تو ہماری نظر جاندار عضویوں کی امتیازی خصوصیات پر جاتی ہے۔ نمو، تولید ماحول کو محسوس کرنے کی صلاحیت اور مناسب ردّ عمل جیسی منفردخصوصیات فوراً ذہن میں آتی ہیں۔ اس میں مزید کچھ اورخصوصیات شامل کر سکتے ہیں مثلاً تحول(Metabolism) خود کا نقشِ ثانی بنانے کی صلاحیت، ازخود منظم ہونااور ظہور میں آنا۔ آئیے ،اب ہر ایک کے بارے میں مطالعہ کریں۔

1.1 زندہ ہونا کیا ہے؟
1.2 جاندار دنیا میں اختلاف
1.3 ٹیکسانومک زمرے
1.4 ٹیکسانومک معاون

تمام جاندار عضویے نمو پاتے ہیں۔ افراد کیکمیت (Mass) میں اضافہ اورتعداد میں اضافہ، نمو کی جڑواں خصوصیات ہیں۔ ایک کثیر خلوی عضویہ خلوی تقسیم کے ذریعے نمو پاتا ہے۔ پودوں میں خلوی تقسیم کے ذریعے یہ نمو ان کے دورِ حیات میں مسلسل جاری رہتی ہے۔ جانوروں میں یہ نمو ایک خاص عمر تک ہی ہوتی ہے حالانکہ بے کار ہو چکے خلیوں کو بدلنے کے لیے کچھ بافتوںمیں خلوی تقسیم جاری رہتی ہے۔ یک خلوی عضویے بھی خلوی تقسیم کے ذریعے نمو پاتے ہیں۔ اس امر کا مشاہدہ ان ویٹرو (In Vitro) کلچرز میں خوردبین کے ذریعے خلیوں کی تعداد گن کر بآسانی کیا جاسکتا ہے۔ بڑے پودوں اور جانوروں کی اکثریت میں، نمو اور تولید باہمی طور پر مستثنیٰ وقوعات ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا ہے کہ جسمانی کمیت میں اضافے کو نمو کہتے ہیں۔ اس تعریف کے لحاظ سے بے جان اشیامیں بھی نمو ہوتی ہے۔ پہاڑوں، چٹانوں اور ریت کے ٹیلوں میں بھی نمو ہوتی ہے۔ لیکن اس طرح کی نمو سطح پر مادے کے اجتماع سے ہوتی ہے۔ جاندار عضویوں میں نمو اندرونی ہوتی ہے۔ لہٰذا جاندار عضویوں میں نمو تعریفی خصوصیت نہیں ہو سکتی۔ تمام عضویوں میں ان حالات کو سمجھنا ہوگا جن میں نمو ہوتی ہے اور تب ہی ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ تمام جاندارنظاموں کی خاصیت ہے۔ ایک مردہ عضویہ نمو نہیں پاتا۔
اسی طرح سے تولید (Reproduction) بھی جانداروں کی خاصیت ہے۔   کثیر خلوی عضویوں میں تولید کے معنی ایسی نسل کی پیداوار ہے جن میں والدین کی کم و بیش یکساں خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ ہم اسے صنفی تولید سے منسوب کرتے ہیں۔ عضویے غیر صنفی تولید کے ذریعے بھی نمو پاتے ہیں۔ فنجائی (Fungi)کی افزائش   لاکھوں غیر بزروں کے ذریعے ہوتی ہے۔فنجائی عضویوں جیسے ایسٹ اور ہائیڈرا میں ہم بڈنگ کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ پلانیریا (فلیٹ ورم) میں ہم حقیقی باز پیدائش (Regeneration) کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ یعنی عضویوں کے ٹوٹے ہوئے حصے نمو پا کر کھوئے ہوئے حصوں  کی باز تشکیل کر لیتے ہیں اور ایک نئے عضویے کی افزائش کرتے ہیں۔ فنجائی، فلامینٹس الگی، ماس کا پروٹونما، فریگ مینٹی  ایشن کے ذریعے آسانی سے اپنی افزائش کرتے ہیں۔ یک خلوی عضویوں مثلاً بیکٹریا، یک خلوی الگی یا امیبا میں تولید نمو کے ہم معنی ہے یعنی خلیوں کی تعداد میں اضافہ۔ ہم نمو کی تعریف پہلے ہی کر چکے ہیں کہ یہ خلیوں کی تعداد یا کمیت میں اضافے کے برابر ہے۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ یک خلوی عضویوں میں ان دو اصطلاحات یعنی نمو اور تولید کے استعمال میں ابہام ہے۔ مزید برآں کئی عضویے ایسے ہیں جن میں تولید نہیں پائی جاتی مثلاً کامگارجچر  شہد کی مکھی بانجھ انسانی جوڑے وغیرہ۔ لہٰذا تولید بھی جاندار عضویوں کی پوری امتیازی تعریف نہیں ہو سکتی۔ بے شک کسی بے جان شے میں تولید یا اپنے جیسے عضویے پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔
حیات کی ایک اور خصوصیت تحول (Metabolism) ہے۔ تمام جاندار عضویے کیمیائی مرکبات کے بنے ہوئے ہیں۔ یہ کیمیائی مرکبات، بڑے یا چھوٹے اور مختلف درجوں، قامتوں، افعال وغیرہ سے تعلق رکھنے والے مسلسل بنتے رہتے ہیں اور دوسرے بائیوحیاتیاتی سالمات میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ یہ تبدیلیاں، کیمیائی یا استحالی ہوتی ہیں۔ تمام جاندار عضویوں میں چاہے وہ یک خلوی ہوں یا کثیر خلوی، ہزاروں استحالی تعامل ہوتے ہیں۔ تمام کیمیائی تعامل جو ہمارے جسم میں ہو رہے ہیں ان کا مجموعہ استحال کہلاتا ہے۔ کسی بے جان شئے میں استحالہ نہیں ہوتا۔ استحالی تعامل جسم کے باہر خلیوں سے آزاد نظام میں بھی ہو سکتے ہیں۔ عضویے کے جسم سے باہر ایک جانچ نلی میں ہونے والا ایک اکیلاتحویلی تعامل نہ تو جاندار ہے اور نہ ہی بے جان۔ لہٰذا بغیر استثنا، استحالی، تمام جانداروں کی تعریفی خصوصیت ہے لیکن اکیلا ان ویٹرو استحالی تعامل جاندار شئے میں نہیں ہو سکتا مگر یہ جاندار تعامل  ضرور ہے۔ لہٰذا جسم کی خلوی تنظیم، جاندار عضویوں کی تعریفی خصوصیت ہے۔
تمام جاندار عضویوں کی یہ صلاحیت کہ وہ اپنے اطراف کے ماحول کو محسوس کر کے ماحولیاتی اشاروں کی جوابی کارروائی کر سکتے ہیں شاید سب سے واضح اور تکنیکی طور پر پیچیدہ خصوصیت ہے۔ یہ ماحولیاتی اشارے طبعی، کیمیائی یا حیاتیاتی ہو سکتے ہیں۔ ماحول کو ہم اپنے عضوحس کے ذریعے محسوس کر سکتے ہیں۔ پودے، بیرونی اسباب مثلاً روشنی، پانی، درجۂ حرارت دوسرے عضویوں اور ماحولیاتی کثافت کے لیے جوابی کارروائی کرتے ہیں۔ پروکیریوٹس سے لے کر سب سے پیچیدہ یوکیریوٹس، تمام عضویے حساس ہوتے ہیں اور ماحولیاتی اشارو ں  پر جوابی کارروائی کرتے ہیں۔ پودوں اور جانوروں دونوں میں موسم کے لحاظ سے نسلی افزائش کرنے والے عضویوں کی تولید پرشعائی وقفہ کا اثر ہوتا ہے۔ تمام عضویے داخل ہونے والے کیمیائی مرکبات کا ازخود انتخاب کرتے ہیں۔ لہٰذا تمام عضویے اپنے اطراف کے ماحول سے مکمل طور پر باخبر رہتے ہیں۔ انسان صرف ایک ایسا عضویہ ہے جو اپنے بارے میں باخبر رہتا ہے یعنی اسے خود آگاہی ہوتی ہے۔ لہٰذا آگاہی (Consciousness) زندہ عضویوں کی تعریفی خصوصیت ہوتی ہے۔
جب بات انسانوں کی ہوتی ہے تو زندگی کی تعریف مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مریض اسپتالوں میں کوما کی حالت میں رہتے ہیں اور ان کے قلب اور پھیپھڑوں کو الگ کر کے مشینوں کی مدد سے زندہ رکھا جاتا ہے جبکہ مریض کا دماغ مردہ ہو چکا ہوتا ہے۔ مریضوں میں خود آگاہی نہیں رہ جاتی۔ تو بتائیے کہ کیا ایسے مریض جو کبھی اپنی نارمل حالت میں واپس نہیں آسکتے، زندہ ہیں یا مردہ؟
بڑی کلاسوں میں آپ کو علم ہو جائے گا کہ حیاتی مظہر باہمی عمل کی وجہ سے ہوتا ہے۔ بافت کی خصوصیات اس کو بنانے والے خلیوں میں موجود نہیں ہوتی لیکن اس کا اظہار اس کے خلیوں میں ہونے والے باہمی تعاملات کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اسی طرح، خلوی عضوچے (Organelles) کی خصوصیات اس کو بنانے والے سالموں میں نہیں ہوتیں بلکہ ان خصوصیات کا اظہار سالموں کے باہمہ گر عطیات کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ان باہمہ گری عملیات کے نتیجے میں ظاہر ہونے والی خصوصیات کا اظہار تنظیم کی اعلیٰ سطح پر ہوتا ہے۔ تنظیمی پیچیدگی کی تمام سطح کے نظام مراتب (Hierarchy) پر اس مظہر کا الحاق ہوتا ہے۔ لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ جاندار عضویے خود-افزائی، تدریجی اور خود ریگولیٹنگ باہمہ گر نظام ہیں جو بیرونی محرکات پر جوابی کاروائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کرۂ ارض پر حیات کی کہانی کو حیاتیات کہتے ہیں۔ حیاتیات، زمین پر جاندار عضویوں کے ارتقاء کی کہانی ہے۔ تمام حیاتی عضویے چاہے وہ حال، ماضی یا مستقبل کے ہوں مشترکہ جینی مادے میں حصہ دار ہونے کی حیثیت سے ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ لیکن کسی حد تک تغیر کے ساتھ۔

1.2 جاندار دنیا میں تنوع (Diversity in Living World)

آپ اپنے اطراف میں مختلف اقسام کے جاندار عضویوں کا مشاہدہ کرتے ہیں چاہے وہ گملے میں لگے پودے، کیڑے، پرندے، آپ کے پالتو جانور یا دیگر جانور یا پودے ہوں۔ بہت سارے ایسے عضویے ہیں جو آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتے لیکن وہ بھی آپ کے چاروں طرف رہتے ہیں۔ اگر اپنے مشاہدے کے گھیرے مزید بڑھائیں گے تو   عضویوں کی ساخت میں تنوع اور وسعت نظر آئے گی۔ واضح ہے کہ اگر آپ کسی گھنے جنگل میں جائیں توشاید آپ جانداروں کی اور زیادہ تعداد اور اقسام کا مشاہدہ کریں۔ پودوں، جانوروں یا عضویوں کی مختلف قسم جو آپ دیکھتے ہیں نوع (Species) کی نمائندگی کرتی ہے۔ ابھی تک سترہ سے اٹھارہ لاکھ نوع (Species) کو شناخت اور بیان کیا جاچکا ہے۔ اس کو (Biodiversity) یا زمین پر موجود عضویوں کی تعداد اور اقسام کہتے ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جیسے جیسے ہم نئی جگہوں کی کھوج کریں گے اور پرانی جگہوں پر بھی، نئے نئے عضویوں کی شناخت مسلسل جاری رہے گی۔
جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے کہ دنیا میں لاکھوں پیڑ پودے اور جانور ہیں۔ ہم اپنے اطراف کے پیڑوں اور جانوروں کو ان کے مقامی ناموں سے جانتے ہیں۔ یہ مقامی نام ایک ہی ملک میں مختلف جگہوں پر مختلف ہوتے ہیں اور اگر ہم ایک دوسرے کی زبان سے ہی واقف نہیں ہوں گے تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں یہ بتانے میں کتنی مشکل ہوگی کہ ہم کس عضویے کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ جاندار عضویوں کے ناموں کا ایسا معیاری نظام وجود میں لایا جائے جس کے تحت ایک عضویے کا نام پوری دنیا میں ایک ہی ہو۔ اس عمل کو نظام تسمیہ یا نام رکھنے کا اصول (Nomenclature) کہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ نظامِ تسمیہ اسی وقت ممکن ہے جب عضویوں کو صحیح طور پر بیان کیا جا چکا ہو اور ہمیں معلوم ہو کہ وہ بیان کس نام سے مطابقت رکھتا ہے۔ اس کو شناخت (Identification) کہتے ہیں۔
مطالعے کو آسان کرنے کی غرض سے سائنسدانوں نے ایسے ضابطے قائم کیے ہیں جس کے تحت پہچانے عضویوں کو سائنسی نام دیا جاسکے۔ ان ضوابط سے تمام دنیا کے سائنسداں متفق ہیں۔ پودوں کے لیے طے شدہ اصولوں اور معیار کی بنیاد پر سائنسی نام رکھے جاتے ہیں جن کی تفصیل بین ا لاقوامی کوڈ برائے نباتاتی نظام تسمیہ( انٹرنیشنل کوڈ فوربوٹانیکل نومین کلچر ICBN )میں دی ہوئی ہے۔ آپ پوچھیں گے کہ جانوروں کے نام کس بنیاد پر رکھے جاتے ہیں؟ حیوانیات کے ماہرین نے  بین ا لاقوامی کوڈ برائے حیوانی   نظام تسمیہ( انٹرنیشنل کوڈ فورزولوجیکل نومین کلچرICZN ) کی بنیاد رکھی۔ سائنسی نام اس بات کی ضمانت ہے کہ ہر عضویے کا صرف ایک ہی نام ہوتا ہے۔ کسی بھی عضویے کا ذکر ایسا ہونا چاہیے کہ اس کو پڑھ کر کوئی بھی شخص دنیا کے کسی بھی حصے میں ایک ہی نام والے اس عضویے کی شناخت کرے۔انہوں نے اس بات کا بھی خیال رکھا کہ وہ نام کسی اور عضویے کا نہ ہو۔
کسی بھی عضویے کو سائنسی نام دینے کے لیے ماہر حیاتیات دنیا میں تسلیم شدہ اصول اختیار کرتے ہیں۔ ہر نام کے دو حصے ہوتے ہیں۔ جینیرک (Generic) نام اورنوعی (Specific) صفت۔ نام رکھنے کے اس نظام کو جس میں نام کے دو حصے ہوتے ہیں دونامی نظام تسمیہ (Binomial Nomenclature) کہتے ہیں۔ اس نظام کو کیرولس   لنی آس نے پیش کیا جو اب دنیا بھر کے ماہر حیاتیات استعمال کر رہے ہیں۔ اس نظامِ تسمیہ میں دو ناموں کے استعمال سے بہت سہولیت ہوگئی۔ سائنسی نام رکھنے کے طریقے کو آسانی سے سمجھنے کے لیے ہم آم کی مثال لیں گے۔ آم کو سائنسی زبان میں  مینگیفیراانڈیکا) (Mangifera indica کہتے ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ کیسے یہ دو نامی نام ہے۔ اس نام میں مینگیفیرا فیرا جینس (Genus) کی نمائندگی کرتا ہے جبکہ انڈیکا ایک خاص نوع یا اسپیسی فک صفت ہے۔ نظام تسمیہ   کے دوسرے عالمی اصول مندرجہ ذیل ہیں:
حیاتیاتی نام عموماً لاطینی ہوتے ہیں اور ترچھے لکھے جاتے ہیں۔ نام کا جو بھی ماخذ ہو اس کو لاطینی زبان میں ڈھال دیا جاتا ہے۔
حیاتیاتی نام کا پہلا لفظ جینَس کو ظاہر کرتا ہے جبکہ دوسرا نام نوعی صفت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔  
حیاتیاتی نام کے دونوں الفاظ اگر ہاتھ سے لکھے جاتے ہیں تو دونوں الفاظ کے نیچے الگ الگ خط کھینچا جاتا ہے اور چھپائی کے وقت ترچھے لکھے جاتے ہیں۔ یہ بتانے کے لیے کہ ان کا ماخذ لاطینی ہے۔  
پہلا لفظ جو جینس کو ظاہر کرتاہے ہمیشہ بڑے (Capital) حرف سے شروع ہوتا ہے جبکہ نوعی صفت کو ظاہر کرنے والا لفظ چھوٹے (Small) حرف سے شروع ہوتا ہے۔ مثلاً Mangifera indica۔
مصنف کا نام نوعی صفت کے بعد لکھا جاتا ہے یعنی حیاتیاتی نام کے اختتام پر مصنف کے نام کا مخفف لکھا جاتا ہے۔ مثلاً Mangifera indica Linn یہ بتاتا ہے کہ اس نوع کا ذکر سب سے پہلے  لنی آس نے کیا۔  
چونکہ تمام جاندار عضویوں کا مطالعہ کرنا تقریباً ناممکن ہے، اس لیے اس کو ممکن بنانے کے لیے کچھ طریقوں کی ایجاد کی گئی۔ اس طریقے کو درجہ بندی (Classification) کہتے ہیں۔ درجہ بندی ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے آسانی سے مشاہدے میں آنے والی خصوصیات کی بنیاد پر اشیاکی آسانی سے جماعت بندی کی جاسکتی ہے۔ مثلاً ہم پودوں یا جانوروں یا کتوں، بلیوں یا کیڑوں کی جماعت کو آسانی سے پہچان سکتے ہیں۔ جیسے ہی ہم ان میں کسی اصطلاح کا استعمال کرتے ہیں، ہمارا ذہن کچھ خصوصیات اس جماعت کے رکن سے منسلک کر دیتا ہے۔ کتے کے بارے میں سوچ کر آپ کے ذہن میں کس طرح کی تصویر ابھرتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کے ذہن میں کتے ہی کی تصویر بنے گی نہ کہ بلی کی۔اب اگرہم نے اسیٹینس (Aisatinas) کے بارے میں سوچا ہے تو ہم جانتے ہیں کہ ہمیں کس کے بارے میں باتیں کرنا ہے ۔اسی طرح اگر ہم نے پستانیے (Mammals) کہا تو آپ ضرور ایسے جانوروں کے بارے میں سوچیں گے جن کی باہری کانیں (External Ears)ہوں اور جن کے جسم پر بال ہو۔ اسی طرح اگر ہم گیہوں کی بات کرتے ہیں تو ہر ایک کے ذہن میں گیہوں کی ہی تصویر بنے گی نہ کہ چاول یا کسی اورچیز کی۔ لہٰذا کتا، بلی، پستانیے، گیہوں، چاول، پودے، جانور وغیرہ عضویوں کے مطالعے کے لیے سہولتی جماعتیں ہیں۔ ان جماعتوں کے لیے سائنسی اصطلاح ٹیکسا (Taxa) ہے۔ یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ ٹیکسا مختلف سطح کی کسی جماعت کی طرف اشارہ کر سکتا ہے۔ پودے(Plants) بھی ٹیکسا بنا تے ہیں ۔ گیہوں’wheat ‘بھی ایک ٹیکسا کہلاتا ہے۔ اسی طرح سے جانور، پستانیہ، کتے بھی ٹیکسا ہیں۔ لیکن آپ کو معلوم ہے کہ کتا ایک پستانیہ ہے اور پستانیے جانور ہوتے ہیں لہٰذا جانور، پستانیے اور کتے مختلف سطحوں پر ٹیکسا کی نمائندگی کرتے ہیں۔
لہٰذا، خصوصیات کی بنیاد پر تمام عضویوں کی مختلف ٹیکسا میں درجہ بندی ہو سکتی ہے۔ درجہ بندی کے اس عمل کو ٹیکسا نومی (Taxonomy) کہتے ہیں۔ خصوصیات مثلاً باہری اور اندرونی ساخت، خلوی ساخت، نمو کے عمل اور عضویوں کے بارے میں ماحولیاتی معلومات، جدید ٹیکسا نومی کے مطالعے کی بنیاد ہیں اور نہایت ضروری ہیں۔
لہٰذا، خصوصیات کا مطالعہ، شناخت، درجہ بندی اورنظام تسمیہ (Nomenclature)   وہ عوامل ہیں جو ٹیکسا نومی کی بنیاد ہیں۔ ٹیکسانومی کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ انسانوں کی دلچسپی ہمیشہ مختلف عضویوں، خاص کر اپنے لیے ان کی افادیت، کے بارے میں جاننے کی رہی ہے۔ ابتدا میں انسان کی ضروریات میں غذا کی تلاش، کپڑے اور رہنے کی جگہ شامل رہے ہیں۔ چنانچہ ابتدائی درجہ بندی کی بنیاد عضویوں کی’افادیت ‘رہی ہے۔
ایک زمانے سے انسانوں کومختلف عضویوں ، ان میں موجود تغیرات اور باہمی رشتوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں دلچسپی رہی ہے۔ مطالعے کی اس شاخ کو سسٹیمیٹکس (Systematics) کہتے ہیں۔ یہ لفظ سسٹیمیٹکس لاطینی لفظ سسٹیما (Systema)سے ماخذ ہے جس کے معنی، ’عضویوں کی درجہ بند ترتیب‘ سے۔ لنیس نے اپنی کتاب کا عنوان سسٹیما نیچری (Systema Naturae) رکھا۔ سسٹیمیٹکس کی حدف میں اضافہ کر کے اس میں، شناخت،نام رکھنے کا طریقے یعنی نظام تسمیہ اور درجہ بندی کو شامل کر لیا گیا۔ یہ عضویوں کے درمیان ارتقائی رشتوں کے بارے میں بھی بحث کرتی ہے۔

1.3 ٹیکسانومک زمرے (Taxonomic Categories)

درجہ بندی کوئی یک قدمی عمل نہیں ہے، یہ اقدام کا نظامِ مراتب ہے جہاں ہر قدم ایک رینک یا زمرے کی نمائندگی کرتا ہے۔ چونکہ زمرہ تمام ترٹیکسانومک ترتیب کا ایک حصہ ہے، اس لیے اس کو ٹیکسانومک زمرہ کہتے ہیں اور تمام زمرے مل کر ٹیکسانومک نظامِ مراتب بناتے ہیں۔ ہر زمرہ درجہ بندی کی اکائی بھی کہلاتا ہے اور اصل میں رینک کی نمائندگی کرتا ہے اور عموماً ٹیکسون (Taxon : جمع ٹیکسا) کہلاتا ہے۔
ٹیکسانومک زمرے اور نظامِ مراتب کو مثال کے ذریعے سمجھیں گے۔ حشرات الارض (Insects) ایسے عضویوں کے گروپ کی نمائندگی کرتے ہیں جن میں جوڑ دار تین جوڑ ٹانگیں مشترک ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ حشرات الارض، شناخت پذیر حقیقی شئے ہیں جن کی درجہ بندی ہو سکتی ہے، اس لیے ان کو ایک درجہ یا زمرہ دیا گیا ہے۔ کیا آپ عضویوں کے ایسے کسی اور گروپ کا نام بتا سکتے ہیں؟ یاد رکھیے گروپ، زمرے کی نمائندگی کرتا ہے۔ زمرہ آگے چل کر رینک کو ظاہر کرتا ہے۔ ہر رینک یا   ٹیکسون اصل میں درجہ بندی کی اکائی ہے۔ یہ ٹیکسانومک گروپس/ زمرہ امتیازی حیاتیاتی حقیقت ہیں نہ کہ صرف مارفولاجیکل مجموعے۔
تمام شناخت شدہ عضویوں کے ٹیکسانومیکل مطالعے نے عام زمروں مثلاً کنگڈم، فائلم یا ڈویژن (پودوں کے لیے) کلاس، آرڈر، فیملی، جنس اور نوع کی تشکیل کی ہے۔ پودوں اور جانوروں سمیت تمام عضویوںکے کنگڈم میں نوع سب سے ادنیٰ زمرہ ہے۔ آپ سوال پوچھ سکتے ہیں کہ کسی عضویے کو مختلف زمروں میں کیسے رکھتے ہیں؟ اس کے لیے سب سے بنیادی ضرورت، کسی فرد یا عضویوں کی جماعت کی خصوصیات کے بارے میں معلومات ہے۔ یہ ایک طرح کے عضویوں  کے افراد سے دوسرے طرح کے افراد کے عضویوں کے افراد میں مشابہت اور غیر مشابہت کی شناخت میں مدد کرتی ہے۔

1.3.1 نوع (Species)

ٹیکسانومک مطالعے کے لحاظ سے عضویوں کے مجموعے جن میں بنیادی مشابہت ہوتی ہے نوع کہلاتے ہیں۔ نمایاں صوریاتی (Morphological) اختلاف کی بنیاد پر ہم ایک نوع اور دوسری قریبی رشتے دار نوع میں تفریق کرسکتے ہیں۔ ہم Mangifera indica (آم)، Solanum tubersoum (آلو) اور Panthera leo (ببر شیر) کی مثال لیتے ہیں۔ ان تینوں ناموں میں Mangifera، Solanum اور Panthera جینیرا ہیں اور ٹیکسا یا زمرے کی مزید اعلیٰ سطح کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ہر جینس میں ایک یا ایک سے زیادہ نوعی صفت جو دیگر عضویوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں، ہو سکتی ہے لیکن ان میں صورتی مشابہت ہوتی ہے۔ مثلاً Panthera کی ایک اور نوعی صفت Tigris ہوتی ہے اور Solanum جینس میں Nigrum، Melongena نوعی صفت ہوتی ہیں۔ ہم انسان sapiens نوعی صفت سے تعلق رکھتے ہیں جو ہومو (Homo) جینس میں آتا ہے۔ لہٰذا انسانوں کا سائنسی نام Homo sapiens ہے۔

1.3.2 جینس (Genus)

جینس رشتے دار نوعی صفتوں کا وہ گروپ ہے جس میں دوسرے جینیرا کی نوعی صفت کے مقابلے میں مزید خصوصیات مشترک ہوتی ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ جینیرا (جینس کی جمع) قریبی رشتے دار نوعی صفتوں (Related Species) کا مجموعہ ہے۔ مثال کے طور پر آلو اور بیگندو الگ نوعی صفتیں ہیں لیکن دونوں جینس Solanum سے تعلق رکھتے ہیں۔ ببر شیر (Panthera leo)، تیندوا (P. pardus) اور شیر (P. tigris) بہت ساری مشابہ خصوصیات کے ساتھ تینوں  جینس Panthera کے نوع میں آتی ہیں۔ یہ جینس دوسرے جینس Felis سے مختلف ہے جس میں بلیاں شامل ہیں۔

1.3.3 فیملی (Family)

اگلا زمرہ فیملی ہے۔ یہ جینس اور نوع کے مقابلے بے حد کم مشابہت والے نسبتی جینیرا کا گروپ ہے۔ فیملی  کی خصوصیات کی بنیاد پودے کی نباتی اور تولیدی خصوصیات ہیں۔ پودوں میں تین مختلف جینیرا Solanum، Petunia اور Datura فیملی Solanaceae میں رکھے جاتے ہیں۔ جبکہ جانوروں میں جینس Pantheraکے ببرشیر، شیر اور تیندوا، Felis (بلیاں) کے ساتھ فیملی Felidae میں رکھے گئے ہیں۔ اگر آپ بلی اور کتے کی خصوصیات کا مشاہدہ کریں تو آپ کو کچھ مشابہت اور کچھ اختلاف ملے گا۔ ان کو دو الگ الگ فیملیز باالترتیب   Felidae اورCanidae میں رکھا گیا ہے۔

1.3.4 آرڈر (Order)

آپ نے پہلے پڑھا ہے کہ زمرے نوع، جینس اور فیملی کا انحصار متعدد مشابہہ خصوصیات پر ہے۔ عموماً آرڈر اور اس سے اعلیٰ ٹیکسانومک زمروں کی پہچان خصوصیات کے مجموعے کی بنا پر ہوتی ہے۔ آرڈر چونکہ ایک اعلیٰ زمرہ ہے اس لیے یہ ان فیملیز کا مجموعہ جن میں بہت کم مشابہہ خصوصیات ہوتی ہیں۔ فیمیلی میں شامل مختلف جنیرا کے مقابلے میں مشابہہ خصوصیات کی تعداد کم ہوتی ہے۔ پودوں کی فیملیز Convolvulaceae، Solanaceae ان کے پھولوں کی خصوصیات کی بناء پر آرڈر Polynomials میں رکھی گئی ہیں۔ اسی طرح جانوروں میں آرڈر Carnivora میں فیملیز Felidae اور Canidae شامل ہیں۔

1.3.5 کلاس (Class)

اس زمرے میں نسبتی آرڈرز آتے ہیں۔ مثلا بندر، گوریلا اور گبِّن پر مشتمل آرڈر Primata کو کلاس Mammalia میں رکھا گیا ہے جس میں  شیر، بلی اور کتے والا آرڈر Carnivora بھی شامل ہے۔ ان کے علاوہ، کلاس Mammalia میں اور بہت سے آرڈرز بھی شامل ہیں۔

Pic3 Capture1

شکل 1.1   ٹیکسا نومک زمرے نظامِ مراتب کی فرازی ترتیب میں دکھاتے ہوئے

1.3.6 فائلم (Phylum)

جانور مثلاً مچھلیاں، ایمفیبیا، ریپٹائلز، چڑیاں اور میملز پر مشتمل کلاسز مل کر اگلے اعلیٰ زمرے فائلم کی تشکیل کرتے ہیں۔ یہ سب جانوروں میں نوٹوکارڈ کی اور ظہری کھوکھلی اعصابی نظام جیسی خصوصیات کی موجودگی کی بناء پر ان کو فائلم کارڈیٹا میں رکھا جاتا ہے۔ پودوں میں کلاسز جن میں مشابہہ خصوصیات بہت کم ہوتی ہیں اعلیٰ زمرے ڈویژن میں رکھے جاتے ہیں۔

1.3.7 کنگڈم (Kingdom)

جانوروں کی نظامِ درجہ بندی میں مختلف فائلا سے تعلق رکھنے والے تمام جانوروںکو اعلیٰ ترین زمرے کنگڈم   انیمیلیا (Kingdom Animalia)میں رکھا گیا ہے جبکہ تمام ڈویژن کے تمام پودوں کوکنگڈم پلانٹی (Kingdom Plantae)میں رکھا گیا ہے۔ تاکہ ان دو گروپوں کو جانوروں اور پودوں کا علاحدہ کنگڈم سمجھا جائے۔  
مختلف ٹیکسانومک زمروں کو نوع  سے کنگڈم تک شکل 1.1 میں  نوع سے شروع ہو کر بتدریج فرازی ترتیب میں دکھایا گیا ہے۔ یہ خاص زمرے ہیں۔ لیکن ٹیکسا نومسٹ نے اس نظام مراتب میں درمیانی زمرے بھی تشکیل دیے ہیں تاکہ مختلف ٹیکسا کا معقول اور معتبر سائنسی تعین ہو سکے۔
شکل 1.1 میں نظامِ مراتب کو دیکھیے۔ کیا آپ اس ترتیب کی بنیاد کی بازطلبی کر سکتے ہیں؟ مثلاً جیسے جیسے ہم اسپی شیز سے کنگڈم کی جانب چلتے ہیں، مشترکہ خصویات کی تعداد میں کمی واقع ہوتی رہتی ہے۔ اگر ٹیکسا کی سطح نیچی ہے تو ٹیکسان کے ممبران آپس میں زیادہ سے زیادہ خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔ اگر زمرہ اعلیٰ ہے تو اس سطح کے دوسرے ٹیکسا میں نسبت کا تعین اتنا ہی دشوار ہوتا رہتا ہے اور درجہ بندی کی مشکلات میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔
جدول 1.1 عام عضویوں مثلاً مکھی، انسان، آم اور گیہوں کے ٹیکسانومک زمروں کو عیاں کرتا ہے۔

جدول 1.1   عضویے اپنے ٹیکسانومک زمروں کے ساتھ

مقامی نام حیاتیاتی نام جینس فیملی آرڈر کلاس فائلم / ڈویژن
انسان ہوموسیپی ئنس ہومو ہومینی ڈی پرائماٹا میمیلیا کارڈیٹا
مکھی مسکاڈومیسٹیکا مسکا میوسی ڈی ڈیپٹیرا انسیکٹا آرتھروپوڈا
آم مینگیفیرا اینڈیکا مینجی فیرا اناکارڈیسی ساپینڈیلز ڈائی کاٹی لیڈونی انجیواسپرم
گیہوں ٹریٹیکم اسٹائیوم ٹریٹیکم پوئیسی پویلسز مونوکاٹی لیڈونی انجیواسپرم

1.4 ٹیکسانومک معاون (Taxonomical Aids)

پودوں، جانوروں اور دوسرے عضویوں کے مختلف انواع کے ٹیکسانومک مطالعے کی ضرورت زراعت، جنگل، صنعت کے لیے مفید ہے اور عام طور پر انہیں ہم حیاتیاتی ذرائع اور ان کی جداگانہ قسم کے طور پر جانتے ہیں۔ ان کے مطالعے کے لیے عضویوں کا صحیح شناخت اور درجہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔
عضویوں کی شناخت کے لیے عمیق تجربہ گاہ اور میدانی مطالعے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پودوں اور جانوروں کے حقیقی نمونوں کی فراہمی لازمی ہے اور ٹیکسانومک مطالعے کا یہ بنیادی ذریعہ ہے۔ یہ مطالعے کے لیے بنیادی ہیں اور سسٹیمیٹکس کی ترتیب کے لیے لازمی بھی ہیں۔ یہ عضویے کی درجہ بندی میں کام آتی ہے اور حاصل کی ہوئی معلومات نمونوں کے ساتھ محفوظ کر لی جاتی ہے۔ کچھ حالات میں یہ نمونے مستقبل میں مطالعے کے لیے محفوظ کر لیے جاتے ہیں۔
ماہرین حیاتیات نے ان نمونوں اور معلومات کو جمع اور محفوظ کرنے کے کچھ ضابطے اور ٹیکنیک قائم کیے ہیں۔ ان میں سے کچھ کا بیان نیچے کیا جارہا ہے تاکہ آپ کو ان معاون (Aids) کے استعمال کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

1.4.1 ہربیریم (Herbarium)

ہربیریم جمع کیے ہوئے پودوں کے نمونوں کا مخزن یا اسٹور ہاؤس ہے جو سکھا کر، دبا کر اور کاغذوں پر محفوظ کر کے رکھے جاتے ہیں۔ مزید برآں یہ نمونے عالمی سطح پر تسلیم شدہ نظامِ درجہ بندی کے مطابق ترتیب وار رکھے جاتے ہیں۔ یہ نمونے اور ہربیریم شیٹ پر ان کے متعلق کیے گئے ذکر اور بیان مستقبل میں استعمال کے لیے ایک معلوماتی خزانہ بن جاتے ہیں(شکل 1.2)۔ ہربیریم شیٹ پر ایک پرچی ہوتی ہے جس پر دیگر معلومات جیسے نمونے جمع کرنے کی تاریخ اور وقوع، اس کے علاوہ نمونے کا انگریزی، مقامی، نباتاتی نام، فیملی، جمع کرنے والے کا نام وغیرہ درج ہوتا ہے۔ ٹیکسانومک مطالعے میں ہربیریم سے اکثر مدد لی جاتی ہے۔
Pic4 Capture1

1.4.2 نباتیاتی باغات (Botanical Gardens)

ان مخصوص باغات میں حوالے کے طور پر استعمال ہونے والے پودے اگائے جاتے ہیں۔ مختلف انواع کے پودے ان باغات میں اگائے جاتے ہیں جو پودوں کی شناخت کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور ہر پودے پر ایک پرچہ چسپاں ہوتا ہے جس پر اس کا سائنسی /نباتاتی نام اور فیملی درج رہتی ہے۔ کیو(برطانیہ)، انڈین بوٹانیکل گارڈن، ہاوڑہ (ہندوستان) اور نیشنل بوٹانیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، لکھنؤ (ہندوستان) مشہور نباتیاتی باغات ہیں۔

1.4.3 عجائب گھر (Museum)

حیاتیاتی عجائب گھر(Biological Museum) عموماً تعلیمی اداروں مثلاً اسکولوں اور کالجوں میں قائم کیے جاتے ہیں۔ یہاں پودوں اور جانوروں کے نمونوں کی نمائش مطالے اور حوالے کے لیے کی جاتی ہے۔ نمونوں کو مرتبان میں حفاظتی محلول میں رکھا جاتا ہے۔ پودوں یا جانوروں کے نمونوں کو سکھا کر بھی محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ حشرات الارض (Insects) کو جمع کر کے، مار کر اور پن سے لگانے کے بعد حشرات الارض کے لیے مخصوص ڈبوں میں محفوظ کیاجاتا ہے۔  
Pic5 Capture1
شکل 1.3   ہندوستان کے مختلف چڑیاگھروں میں جانوروں کی تصاویر
بڑے جانوروں جیسے پرندے اور پستانیوں کو ان کی کھال میں روئی وغیرہ بھر کر محفوظ کیا جاتا ہے۔ میوزیم میں عموماً جانوروں کے ڈھانچوں کا بھی ذخیرہ کیا جاتا ہے۔

1.4.4 چڑیا گھر (Zoological Parks)

ان پارکوں میں زندہ جانوروں کو ان کے جنگلی محلات سے لاکر رکھا جاتا ہے۔ اس سے ہمیں ان کی غذائی عادات اور ان کے طرزِ عمل اور سلوک کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی ہیں۔چڑیا گھرکے تمام جانوروں کو حتی الامکان ان کے قدرتی ماحول مہیا کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔بچے ان پارکوں میں جانا پسند کرتے ہیں جنہیں عموماً زو(Zoo) بھی کہتے ہیں۔

1.4.5 کلید (Key)

کلید ٹیکسانومیکل مطالعے میں مدد دینے والا ایک اور ذریعہ ہے جو پودوں اور جانوروں میں مشابہت اور غیر مشابہت کی بنیاد پر ان کو شناخت کرنے میں معاون ہوتا ہے۔ کلید (Keys) عموماً متضاد خصوصیات پر مشتمل ہوتی ہیں اور عام طور پر جوڑوں میں ہوتی ہیں جن کو کپلیٹ (Couplet) کہتے ہیں۔ کلید (Key) دو متضاد خصوصیات کے درمیان کسی ایک کے انتخاب کا اظہار کرتی ہے لہٰذا کسی ایک خصوصیت کو قبول کر لیا جاتا ہے اور دوسری کو خارج کر دیا جاتا ہے۔ کلید (Key) کے ہر بیان کو لیڈ (Lead) کہتے ہیں۔ ہر ٹیکسانومک زمرے جیسے فیملی، جینس اور نوع کی شناخت کے لیے علاحدہ ٹیکسانومک کلید کی ضرورت ہوتی ہے۔
فلورا(Flora)کتابچہ (Manual)، مونوگراف اور کیٹالاگ اور دیگر ذرائع سے ذکر اور بیان کو قلم بند کیا جاتا ہے۔ یہ صحیح شناخت میں بھی مدد کرتے ہیں۔ فلورا ایسی کتاب ہے جو کسی خطے کے پودوں کے محل وقوع اوردرجہ بندی کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہے۔ یہ کسی خطے میں پائے جانے والے پودوں کی نوع کی فہرست مہیا کرتی ہے۔ کتابچہ ایسی معلومات فراہم کرتے ہیں جو کسی خطے کے نوع کی شناخت اور نام جاننے میں مدد کرتے ہیں۔ مونوگراف میں کسی ایک ٹیکسون کے بارے میں تفصیلی معلومات مہیا کی جاتی ہے۔

خلاصہ  

زندہ دنیا اختلافات سے بھرپور ہے۔ لاکھوں پودوں اور جانوروں کی شناخت ہو چکی ہے اور ان کو بیان کیا جا چکا ہے مگر اب بھی بہت ساروں کی شناخت نہیں ہو پائی ہے۔ عضویوں کی ساخت، سائز، رنگ، محل وقوع، افعال اور شکلیاتی خصوصیات میں تغیر کی وجہ سے ہمیں زندہ عضویوں کی تعریفی خصوصیات تلاش کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ عضویات کے تغیرات کے مطالعے میں آسانی کے لیے ماہرین حیاتیات   نے شناخت، نظام تسمیہ اور درجہ بندی کے کچھ اصول اور ضابطے بنائے ہیں۔ علم کی وہ شاخ جو ان موضوعات پر بحث کرتی ہے اسے ٹیکسانومی کہتے ہیں۔ پودوں اور جانوروں کے مختلف انواع کا ٹیکسانومک مطالعہ زراعت، جنگلات، صنعت کے لیے مفید ہے اس کے علاوہ ہمیں اپنے حیاتی خزانے اور اس میں موجود تغیر کے بارے میں جاننے میں مدد ملتی ہے۔ ٹیکسانومی کے بنیادی اصول جیسے شناخت، نام رکھنے کے طریقے اور عضویوں کی درجہ بندی کے لیے بین الاقوامی پیمانے پر ضابطے اور اصول بنائے گئے ہیں۔ مشابہت اور امتیازی خصوصیات کی بنیاد پر ہر عضویے کی شناخت کی جاتی ہے اور اس کو دونامی نظامِ تسمیہ کے مطابق دو لفظوں پر مشتمل ایک سائنسی نام /حیاتیاتی نام دیا جاتا ہے۔ نظامِ درجہ بندی میں عضویے کا ایک مخصوص مقام رہتا ہے۔ کئی طرح کے زمرے ارنیکس ہوتے ہیں جن کو عموماً ٹیکسانومک زمرے یا ٹیکسا کہتے ہیں۔ تمام زمرے مل کر ٹیکسانومک نظامِ مراتب بناتے ہیں۔  
عضویوں کی شناخت، نام رکھنے اور درجہ بندی میں آسانیاں فراہم کرنے کے لیے ٹیکسا نومسٹ نے کئی اقسام کے ٹیکسانومک معاون بنائے ہیں۔ اس طرح کے مطالعے اور تحقیقات جمع کئے ہوئے حقیقی نمونوں پر کی جاتی ہیں جو حوالے کے طور پر ہربیریا، میوزیم، بوٹانیکل گارڈنز اور زولاجیکل پارکس میں محفوظ کیے جاتے ہیں۔ نمونوں کو جمع کرنے اور ہر بیریا اور میوزیم میں حفاظت سے رکھنے کے لیے ہمیں مخصوص تکنیک کی ضرورت ہوتی ہے۔ پودوں اور جانوروں کے زندہ نمونے بوٹانیکل گارڈنز اور زولاجیکل پارکس میں رکھے جاتے ہیں۔ مزید ٹیکسانومک مطالعے اور معلومات کو پھیلانے کے لیے ٹیکسانومسٹ کتابچے اور مونوگراف بھی تیار کرتے ہیں۔

مشق  

زندہ عضویوں کی درجہ بندی کیوں کی جاتی ہے؟
نظامِ درجہ بندی بار بار تبدیل کیوں ہوتی ہے؟
جن آدمیوں سے آپ اکثر ملاقات کرتے ہیں ان کی درجہ بندی کے لیے آپ کیا معیار مقرر کریں گے (اشارہ: کپڑے، مادری زبان، جس صوبے میں رہتے ہیں، معاشی معیار وغیرہ)۔ اپنے استاد سے معلوم کیجیے کہ ان میں نسبت کی کمیت کا اندازہ لگانا ممکن ہے؟
آبادی اور افراد کی شناخت سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
نیچے آم کا سائنسی نام لکھا ہوا ہے۔ صحیح طریقے سے لکھے ہوئے نام کی شناخت کیجیے۔
Mangifera Indica
Mangifera indica
ٹیکسون کی تعریف بیان کیجیے۔
کیا آپ ٹیکسانومک زمرے کی صحیح ترتیب شناخت میں لاسکتے ہیں؟
(i) نوع آرڈر فائلم کنگڈم
(ii) جینس نوع آرڈر کنگڈم
(iii) نوع جینس آرڈر فائلم
نوع کے موجودہ تسلیم شدہ معنوں کو جمع کرنے کی کوشش کیجیے۔ اعلیٰ پودوں اور جانوروں میں اور بیکٹیریا سے متعلق  نوع کے معنی کے بارے میں اپنے استاد سے تبادلۂ خیال کیجیے۔
مندرجہ ذیل اصطلاحات کو سمجھ کر ان کی تعریف بیان کیجیے:
(i) فائلم (ii) کلاس (iii) فیملی (iv) آرڈر (v) جینس
10۔عضویوں کی شناخت اور درجہ بندی میں کلید کیسے معاون ہے؟
11۔ ایک پودے اور ایک جانور کی مثال لے کر ٹیکسانومک نظامِ مراتب کو تصویر کی مدد سے دکھائیے۔