باب 2
حیاتی درجہ بندی
(Biological Classification)
2.1 کنگڈم مونیرا
2.2 کنگڈم پروٹسٹا
2.3 کنگڈم فنجائی
2.4 کنگڈم پلانٹی
2.5 کنگڈم انیمیلیا
2.6 وائرس، ویروئڈس اور لائکنس
تہذیب کی ابتداء سے جاندار عضویوں کی درجہ بندی کی کئی کوششیں کی گئی ہیں۔ یہ کسی سائنٹفک معیار کی بنیاد پر نہیں بلکہ ہماری اپنی غذا، مکان اور کپڑے کی ضروریات کی وجہ سے کی گئی کوششیں تھیں۔ درجہ بندی کی سائنسی بنیاد سب سے پہلے ارسطونے ڈالی۔ اس نے آسان شکلی ساخت (Morphology) کی خصوصیات کو استعمال کر کے پودوں کو درخت، جھاڑیوں اور بوٹیوں (Herbs) میں تقسیم کیا۔ اس نے جانوروں کو بھی دو گروہ میں تقسیم کیا، ایک وہ جن میں سرخ خون ہوتا ہے اور دوسرے جن میں خون نہیں ہوتا۔
لنی آس (Linnaeus) کے وقت میں درجہ بندی کا دو کنگڈم(Two Kingdom) نظام پلانٹی اور انیمیلیا وجود میں آیا جن میں تمام نباتات اور حیوانات کو بالترتیب رکھا گیا۔ اس نظام میں یوکیریوٹس، پروکیروٹس، یک خلوی، کثیر خلوی عضویے اور ضیائی تالیف والے (سبزالگی) اور غیر ضیائی تالیف والے (فنجائی) عضویوں میں کوئی امتیاز نہیں تھا۔ نباتات اور حیوانات کی درجہ بندی آسانی سے ہو جاتی تھی اور آسانی سے سمجھ میں بھی آجاتی تھی لیکن بہت سے عضویے ان میں سے کسی بھی زمرے میں نہیں آتے تھے۔ لہٰذا یہ دو کنگڈم درجہ بندی گو کہ بہت دنوں تک استعمال میں رہی لیکن یہ ناکافی تھی ۔بلکہ اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ شکلی ساخت کے علاوہ دوسری خصوصیات مثلاً خلوی ساخت، خلوی دیوار کی خصوصیت، غذا کا حصول، محل وقوع، تولید کے طریقے، ارتقائی نسبت وغیرہ کو بھی درجہ بندی کرتے وقت شامل کیا جائے۔ لہٰذا وقت کے ساتھ جانداروں کی درجہ بندی کے نظام میں کئی تبدیلیاں عمل میں آئیں۔ حالانکہ مختلف نظام میں نباتاتی اور حیواناتی خاندان تو قائم رہے مگر کون سا گروپ / عضویہ کس کنگڈم میں شامل کیا جائے، اس کی معلومات میں تبدیلیاں آتی رہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ مختلف سائنسدانوں کی آراء کنگڈم کی تعداد اور ان کی ُخصوصیات کے بارے میں بھی بدلتی رہیں۔
جدول 2.1 پانچ کنگڈمس کی خصوصیات
اب ہم ان پانچ کنگڈمس کی درجہ بندی سے متعلق مدعوں اور دیگر غور طلب باتوں کو سمجھنے کی کوشش کریں جو درجہ بندی کے نظام کو متاثر کرتی ہیں۔ گذشتہ نظام درجہ بندی میں پودوں کے تحت، بیکٹیریا، نیلی سبزالگی، فنجائی، ماسس، فرن، جمنواسپرم اور انجیواسپرم شامل تھے۔ پورے کنگڈم کو جس خصوصیت نے یکجا کیا وہ یہ تھا کہ ان تمام عضویوں کے خلیے میں خلوی دیوار پائی جاتی ہے جبکہ ان کی دوسری خصوصیات ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھیں۔ اس کی وجہ سے پروکیر یوٹک بیکٹیریا اور نیلی سبزالگی(Cyanobacteria) کو دوسرے گروپوں کے ساتھ رکھ دیا گیا جو یوکیریوٹک تھے۔ اس اصول کی رو سے یک خلوی اور کثیر خلوی عضویوں کو بھی ایک ہی گروپ میں رکھا گیا جیسے الگی کے تحت کلیمائیڈوموناس اور اسپائروگائرا کو رکھا گیا۔ یہ درجہ بندی ہیٹروٹرافک گروپ- فنجائی اور آٹو ٹرافک سبز پودوں میں بھی تفریق نہیں کرتی جبکہ ان کی دیوار کی بناوٹ مختلف ہے۔ فنجائی کی خلوی دیوار کائٹین کی اور سبز پودوں کی خلوی دیوار سیلیولوز کی بنی ہوئی ہوتی ہے۔ جب اس طرح کی خصوصیات زیرِ غور لائی گئیں تو فنجائی کو ایک الگ کنگڈم-کنگڈم فنجائی میں رکھا گیا۔ تمام پروکیریوٹک عضویوں کو کنگڈم مونیرا میں اور یک خلوی یوکیریوٹک عضویوں کو کنگڈم پروٹسٹا میں رکھا گیا۔ کنگڈم پروٹسٹا، کلیمائیڈو موناس اور کلوریلا (پہلے یہ پودوں کے تحت الگی میں رکھے گئے تھے اور دونوں میں خلوی دیوار ہوتی ہے) کوپیرمیسیم اور امیبا (جو پہلے انیمیلیاکنگڈم میں رکھے گئے تھے اور جن میں خلوی دیوار نہیں ہوتی ) کے قریب لے آیا۔ اس نظام میں وہ عضویے ایک ساتھ رکھے گئے جو پہلے کے درجہ بندی نظام کے تحت الگ الگ کنگڈمس میں رکھے گئے تھے۔ اس کی وجہ درجہ بندی کے معیاروں میں گاہے بہ گاہے تبدیلی ہے اور جیسے جیسے خصوصیات اور ارتقائی نسبت سے متعلق ہماری معلومات میں اضافہ ہوتا رہے گا یہ سلسلہ آئندہ بھی قائم رہے گا۔ وقت کے ساتھ ساتھ درجہ بندی کے ایک ایسے نظام کی تشکیل کی کوشش کی گئی ہے جو نہ صرف شکلی ساخت، عضویات (Physiological) اور تولیدی مشابہت پر منحصر ہو بلکہ ارتقائی نسبتوں کو بھی ذہن میں رکھے۔
اس باب میں ہم ویٹکر نظام درجہ بندی کے تحت مونیرا، پروٹسٹا اور فنجائی کی خصوصیات کے بارے میں مطالعہ کریں گے۔ پلانٹی اورکنگڈمس انیمیلیا جن کو عام زبان میں بالترتیب نباتات اور حیوانات کنگڈم کہتے ہیں، کے بارے میں آگے کے دو ابواب 3 اور 4 میں بحث کریں گے۔
2.1 کنگڈم مونیرا (Kingdom Monera)
بیکٹیریا مونیرا خاندان کے تحت آتے ہیں۔ یہ کثرت سے پائے جانے والے جراثیم ہیں اور سبھی جگہوں پر پائے جاتے ہیں۔ مٹھی بھر مٹی میں سیکڑوں بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں۔ یہ گرم پانی کے چشموں، صحراؤں، برف اور گہرے سمندروں جیسے وقوع میں بھی رہتے ہیں جہاں دوسرے جاندار مشکل سے ہی زندہ رہ پاتے ہیں۔ کئی بیکٹیریا تو دوسرے جانوروں کے اندر یا باہر طفیلئے کی شکل میں رہتے ہیں۔
بیکٹیریا کو ان کی شکلی ساخت کی بناء پر چار زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے: گول کوکس (:Coccusجمع کو کائی)، ڈنڈے نما بیسی لس (Bacillusجمع بیسی لائی)، کوماساخت وائیبریم (:Vibriumجمع وِبریو) اور اسپرنگ نما اسپائریلم (جمع اسپائریلا) (شکل 2.1)۔

شکل 2.1 بیکٹیریا کی مختلف اقسام
حالانکہ بیکٹیریا ساخت کے لحاظ سے بہت آسان ہیں لیکن اپنے اعمال میں وہ بہت پیچیدہ ہیں۔ دوسرے عضویوں کے مقابلے میں بیکٹیریا مجموعی طور پر وسیع استحالی تفریق رکھتے ہیں۔ کچھ بیکٹیریا آٹوٹرافک ہیں یعنی غیر نامیاتی مادوں سے اپنی غذا کی خود تالیف کرتے ہیں۔ یہ ضیائی تالیفی آٹو ٹرافک یا کیمیائی تالیفی آٹوٹرافک بھی ہو سکتے ہیں۔ بیکٹیریا کی بڑی تعداد ہیٹروٹرافز ہوتے ہے یعنی وہ اپنی غذا یا تو دوسرے عضویوں سے یا بے جان نامیاتی مادوں سے حاصل کرتے ہیں۔
haebacteria)
یہ خاص طرح کے بیکٹیریا ہوتے ہیں جو بہت مشکل وقوع میں رہتے ہیں جیسے نمکین جگہوں(Halophiles)، گرم پانی کے چشمے (Thermoacidophiles) اور دلدلی جگہوں (Methanogens) پر۔ آرکیو بیکٹیریا کی خلوی دیوار کی ساخت دوسرے بیکٹیریا سے مختلف ہوتی ہے اور یہی خصوصیات ان کو مشکل حالات میں زندہ رکھنے میں معاون ہے۔ میتھینوجنز مختلف رومینینٹ جانوروں (جیسے گائے، بھینس) کی غذائی نلی میں پائے جاتے ہیں اور ان کے گوبر سے میتھین (بائیوگیس) پیدا کی جاتی ہے۔
2.1.2 یوبیکٹیریا (Eubacteria)
ہزاروں مختلف اقسام کے یوبیکٹیریا یا حقیقی بیکٹیریا ہوتے ہیں جو ایک سخت خلوی دیوار سے گھرے ہوتے ہیں اور اگر متحرک ہوتے ہیں تو فلاجیلم کی موجودگی ان کی پہچان ہے۔ سائینوبیکٹیریا (نیلی سبزالگی) میں سبز پودوں کی طرح کلوروفل اے موجود ہوتا ہے اور یہ ضیائی تالیفی آٹوٹرافز ہوتے ہیں (شکل 2.2)۔ سائینوبیکٹیریا یک خلوی، کالونییل یا دھاگے دار،تازہ پانی؍ سمندری یا زمینی الگی ہیں۔ ان کی کالونی عموماً تھیلی نما غلاف سے ملفوف ہوتی ہے۔ جو کثیف پانی میں پھلتے پھولتے ہیں۔ ان میں سے کچھ عضویے جیسے ناسٹاک اور انابینا اپنے مخصوص خلیے ہیٹروسسٹ کے ذریعے فضائی نائیٹروجن کی تثبیت کر سکتے ہیں۔ کیمیائی تالیفی آٹوٹرافک بیکٹیریا غیر نامیاتی مادوں جیسے نائٹریٹ، نائٹرائیٹ اور امونیا کی تکسید کر کے اور اس سے خارج ہونے والی توانائی کو اے ٹی پی کی افزائش میں مدد کرتے ہیں۔ یہ نائٹروجن، فاسفورس، آئرن اور سلفر جیسی غذا کو دوبارہ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ہیٹروٹرافک بیکٹیریانیچر(Nature) میں کثرت سے پائے جاتے ہیں اور ان کی اکثریت ڈیکمپوزرس ہوتی ہے۔ ان کی اکثریت انسانی سرگرمیوں پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ یہ دودھ سے دہی بنانے میں، ضدحیات (اینٹی بائیوٹکس) بنانے میں، دال والے پودوں کی جڑ میں نائٹروجن کی تثبیت (Fixation) میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ کچھ بیکٹیریا انسان، فصلوں اور فارم کے اور پالتو جانوروں میں بیماریاں پیدا کرتے ہیں۔ کچھ بیکٹیریا کی وجہ سے ہیضہ، ٹائیفائیڈ، ٹیٹنیس، سٹرس کینکر جیسی بیماریاں ہوتی ہیں۔
بیکٹیریا خاص طور پر انتشار (Fission) کے ذریعے تولید کرتے ہیں (شکل2.3)۔ کبھی کبھی ناموافق حالات میں یہ بذرے (Spores) بناتے ہیں ایک بیکٹیریا سے دوسرے بیکٹیریا میں ڈی این اے منتقل کر کے یہ ایک ادنیٰ قسم کی جنسی تولید بھی کرتے ہیں۔
مائکوپلازما(Mycoplasma) ایسے عضویے ہیں جن میں خلوی دیوار بالکل نہیں ہوتی۔ یہ سب سے چھوٹے زندہ خلیے ہیں جو بغیر آکسیجن کے بھی زندرہ رہ سکتے ہیں۔ بہت سے مائکوپلازما جانوروں اور پودوں میں بیماریاں پیدا کر سکتے ہیں۔

شکل 2.2 ناسٹاکس ایک دھاگے دار نیلی سبزالگی

2.2 کنگڈم پروٹسٹا (Kingdom Protista)
سبھی یک خلوی یوکیریوٹس کو پروٹسٹا کے تحت رکھا گیا ہے لیکن اس کنگڈم کی حدود کا تعین ٹھیک طرح سے نہیں ہو پایا ہے۔ ایک ماہرحیاتیات کے لیے جو ’ضیائی تالیف والا پروٹسٹان‘ ہے وہ دوسرے کے لیے ’ایک پودا‘ ہو سکتا ہے۔ اس کتاب میں کرائسوفائٹس، ڈائینوفلاجیلیٹس، یوگلینوئیڈز، سلائم مولڈز اور پروٹوزوانز کو پروٹسٹا کے تحت رکھا گیا ہے۔ پروٹسٹا کے ممبران بنیادی طور پر آبی ہوتے ہیں۔ پودوں، جانوروں اور فنجائی سے متعلق کنگڈمس سے اس کنگڈم کے ممبران ایک تعلق پیدا کرتے ہیں۔ یوکیریوٹس ہونے کی وجہ سے ان کے خلیوں میں نمایاں مرکزہ اور جھلیوں سے گھرے دیگر آرگنیلز (Organeles) ہوتے ہیں۔ کچھ میں فلاجیلا یا سیلیا ہوتے ہیں۔ پروٹسٹا میں غیر جنسی تولید ہوتی ہے اور خلیوں کے ملاپ سے زائیگوٹ بنا کر جنسی تولید بھی کرتے ہیں۔
2.2.1 کرائیسوفائٹس (Chrysophytes)
اس گروپ کے تحت ڈائی ایٹمز (Diatoms) اور سنہرے الگی (Desmids) آتے ہیں۔ یہ میٹھے پانی اور سمندری پانی میں پائے جاتے ہیں۔ یہ خوردبینی اور پانی میں مجہولی طور پر تیرتے رہتے ہیں (Plankton) ۔ اکثر میں ضیائی تالیف ہوتی ہے۔ ڈائی ایٹمز کی خلوی دیواریں صابن دانی کی طرح ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے پتلے خول بناتی ہیں۔ ان کی دیواروں میں سلیکا (Silica) ہونے کی وجہ سے یہ ٹوٹتے نہیں ہیں اور اسی وجہ سے اپنے وقوع میں اپنے آثار بڑی تعداد میں چھوڑ جاتے ہیں۔ کروڑوں سالوں میں جمع ہوئے ان آثار کو ’ڈائی ایٹمی مٹی‘ (Diatomaceous earth)کہتے ہیں۔ سخت ہونے کی وجہ سے ان کا استعمال پالشنگ، تیل اور عرق کی تقطیر میں ہوتا ہے۔ ڈائی ایٹمز سمندر کی خاص پیداوار مانے جاتے ہیں۔
2.2.2 ڈائینوفلاجیلیٹس (Dianoflagellates)
یہ عضویے اکثر سمندری اور ضیائی تالیف کرنے والے ہوتے ہیں۔ ان کے خلیوں میں خاص پگمینٹز کی موجودگی کی بناء پر یہ پیلے، ہرے یا بھورے، نیلے یا سرخ نظر آتے ہیں۔ ان کے خلیوں کی بیرونی سطح پر سیلیولو زکی سخت پلیٹ ہوتی ہے۔ اکثریت میں دو فلاجیلا ہوتے ہیں؛ ایک طول البلدی اور دوسرا خلوی پلیٹس کے درمیان کی کھانچ (Furrow) میں بغلی ہوتا ہے۔ اکثر سرخ ڈائینوفلاجیلیٹس، تعداد میں اتنی تیزی سے بڑھتے ہیں (مثلاً گونیالیکس) کہ سمندر کا پانی سرخ نظر آنے لگتا ہے (سرخ لہریں)۔ اتنی بڑی مقدار میں نکلنے والے زہریلے مادے سے سمندری جانور مثلاً مچھلی وغیرہ مر جاتے ہیں۔
2.2.3 یوگلینائیڈز (Euglenoids)
ان کی اکثریت میٹھے پانی میں پائی جاتی ہے اور یہ رکے ہوئے پانی میں رہتے ہیں۔ خلوی دیوار کی جگہ ان میں پروٹین کی تہہ پیلیکل ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ لچیلے ہوتے ہیں۔ ان میں دو فلاجیلا پائے جاتے ہیں، ایک لمبا اور ایک چھوٹا۔ حالانکہ یہ سورج کی روشنی میں ضیائی تالیف کر سکتے ہیں لیکن روشنی کی غیر موجودگی میں یہ ہیٹروٹراف بن جاتے ہیں اور دوسرے چھوٹے جانوروں کا شکار کرکے اپنی غذا حاصل کرتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یوگلینائیڈز میں وہی پگمینٹز پائے جاتے ہیں جو اعلیٰ پودوں میں موجود ہوتے ہیں۔ مثال: یوگلینا (شکل 2.4 (a))۔
2.2.4 سلائم مولڈز (Slime Moulds)
سلائم مولڈز سیپروفائٹک پروٹسٹ ہوتے ہیں۔ ان کے جسم سڑی گلی ٹہنیوں اور پتیوں کے ساتھ بڑھتے ہیں اور نامیاتی مادوں کو اپنے اندر نگل لیتے ہیں۔ عام حالات میں یہ مجموعہ پلازموڈیم بناتے ہیں جو کئی فٹ کی لمبائی کا ہو سکتا ہے۔ ناموافق حالات میں بکھر کر سروں پر بذرے پیدا کرتا ہے۔ بذروں کی دیواریں حقیقی ہوتی ہیں۔ ان کے اندر شدید قوت مدافعت ہوتی ہے اور خراب حالات میں بھی سالوں زندہ رہتے ہیں۔ بذروں کا بکھراؤ ہوا کے دوش پر ہوتا ہے۔
2.2.5 پروٹوزوانز (Protozoans)
تمام پروٹوزوانز ہیٹروٹرافس ہوتے ہیں اور شکاری یا طفیلیے کی حیثیت سے زندہ رہتے ہیں۔ یہ جانوروں کے پرانے رشتے دار سمجھے جاتے ہیں۔ ان کو چار گروپس میں بانٹا جاسکتا ہے۔
امیبا نما پروٹوزوانز: یہ عضویے میٹھے پانی، سمندری پانی یا مربوط مٹی میں رہتے ہیں۔ یہ اپنے جھوٹے پیر (Pseudopodia) کے ذریعے شکار کر کے اپنی غذا حاصل کرتے ہیں جیسے امیبا۔ سمندری انواع کی سطح پر سلیکا کے خول ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ جیسے اینٹامیبا طفیلیے ہوتے ہیں۔
ہدبے دار پرٹوزوانز: اس گروپ کے ممبران آزادانہ یا طفیلیے ہوتے ہیں۔ ان میں فلاجیلا ہوتا ہے۔ طفیلی انوع بیماریاں پیدا کرتی ہیں جیسے سلیپنگ بیماری۔ مثال : ٹرائپنو سوما۔

شکل 2.4 (a) یوگلینا (b) پیرامیشیم
سیلیا دار پروٹوزوانز: یہ آبی اور ہزاروں سیلیا موجود ہونے کی وجہ سے بڑے متحرک عضویے ہیں۔ ان کے اندر ایک کہفہ(Gullet) ہوتی ہے جو خلوی سطح کے باہر کھلتی ہے۔ سیلیائی قطار کی حرکت میں ربط ہونے کی وجہ سے پانی میں موجود غذا کھینچ کر گلیٹ (Gullet) میں داخل ہو جاتی ہے۔ مثال: پیرا میسیم (شکل 2.4 (b))۔
اسپوروزوانز: اس گروپ میں وہ نوع شامل ہیں جن کی دورِ حیات میں وبائی (بیماری پھیلانے کی صلاحیت والے) بذرے پائے جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ خطرناک پالازموڈیم (ملیریا کے طفیلیے)ہے جس سے ملیریانام کی ایک بیماری پھیلتی ہے اور انسانوں کی آبادی پر دیر پا اثر مرتب کرتی ہے۔
2.3 کنگڈم فنجائی (Kingdoom Fungi)
ہیٹروٹرافک عضویوں میں فنجائی (پھپھوندی) کنگڈم کی جگہ بے مثال ہے ۔شکلی ساخت اور وقوع کے لحاظ سے ان میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔ آپ نے پھپھوندی والی روٹی اور سڑے ہوئے پھلوں پر فنجائی کو دیکھا ہوگا۔ عام مشروم یا کوکر متّا بھی فنجائی ہے۔ سرسوں کے پتوں پر سفید دھبے طفیلی فنگس کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ کچھ یک خلوی فنجائی مثلاً ایسٹ (Yeast) ڈبل روٹی اور بیئر بنانے میں استعمال ہوتی ہے۔ دیگر فنجائی پودوں اور جانوروں میں بیماریاں پیدا کرتے ہیں مثال کے طور پر گیہوں کارسٹ پکسینیا (Puccinia)کی وجہ سے ہوتا ہے۔ کچھ اینٹی بائیوٹکس (ضد حیات)حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں، مثلاً پینی سیلیم(Penicillium)۔ فنجائی، ہوا، پانی، مٹی، جانوروں اور پودوں پر غرض ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ نمو کے لیے یہ گرم اور مرطوب جگہ کو ترجیح دیتے ہیں۔ کبھی آپ نے سوچا ہے کہ کھانے کو ہم کیوں ریفریجیریٹر میں رکھتے ہیں؟ جی ! غذا کو بیکٹیریا یا فنگس کے انفیکشن سے بچانے کے لیے۔
فنجائی ایسٹ کے علاوہ جو یک خلوی ہوتی ہے، دھاگے دار ہوتے ہیں۔ ان کے جسم لمبے، مہین دھاگے دار ساخت کے ہائفا (Hyphae) پر مشتمل ہوتے ہیں۔ہائفا کے نیٹ ورک کو مائی سیلیم (Mycelium) کہا جاتا ہے۔کچھ ہائفاٹیوبس(Tubes) کا تسلسل ہوتے ہی جو ملٹی نیوکلیئٹڈ سائیٹوپلازم (Multinucleated Cytoplasm) سے بھرے ہوتے ہیں۔ انہیں کوئنوسائٹک ہائفا (Coenocytic hyphae)کہا جاتا ہے۔ دیگر فنجائی کے ہائفا میں کراس وال (Cross Wall) یا سیپٹی (Septae)ہوتی ہے۔فنجائی کی خلوی دیوار کائیٹن (Chitin) اور پالی سیکیرائیڈز(Polysaccharides) کی بنی ہوئی ہوتی ہے۔
بیشتر فنجائی ہیٹروٹرافک ہیں جو بے جان سبس ٹیریٹس سے نامیاتی مادوں کو جذب کرتے ہیں لہٰذا یہ سیپروفائیٹس(Saprophytes) کہلاتے ہیں۔ وہ جو اپنی غذا جاندار پودوں یا جانوروں سے حاصل کرتے ہیں انہیں پیراسائیٹس یا طفیلیے کہتے ہیں۔ یہ الگی کے ساتھ مل کر سمبائیونٹز (Symbionts) جیسے لائکینز (Lichens) یا اعلیٰ پودوں کی جڑوں میں مائیکورائزا (Mycorrhiza)کی طرح بھی رہ سکتے ہیں۔
فنجائی میں نباتی تولید ٹوٹنے، فشن اور بڈنگ کے ذریعے ہو سکتی ہے۔ غیر جنسی تولید بذروں کے ذریعے ہے جنہیں کونیڈیا یا اسپورینجیواسپورز یا زواسپورزکہتے ہیں اور جنسی تولید، اوسپورز، ایسکواسپورز اور بیسیڈیواسپورز کے ذریعے ہوتی ہے۔ مختلف بذرے ایک نمایاں ساخت بنتے ہیں جنہیں فروٹنگ جسم کہتے ہیں۔ جنسی دور تین حصوں پر مشتمل ہوتا ہے:
(i) دو متحرک یا غیر متحرک زواجوں کے پروٹوپلازم کے ملنے پر جسے پلازموگیمی(Plasmogamy) کہتے ہیں۔
(ii) دورمرکزوں کے ملنے پر جسے کیریوگیمی(Karyogamy) کہتے ہیں۔
(iii) زائگوٹ میں تخفیفی تقسیم جسے ہیپلائیڈ بذرے کہتے ہیں۔
فنگس میں جب جنسی تولید ہوتی ہے، تو مناسب ہم صحبت والے دو ہیپلائیڈ ہائفا ایک دوسرے کے قریب آکر باہم ضم ہو جاتے ہیں۔ کچھ فنجائی میں دو ہیپلائیڈ خلیوں کے ملنے کے فوراً بعد ہی ڈیپلائیڈخلیہ (2n) بن جاتا ہے لیکن دیگر فنجائی میں (ایسکو مائی سیٹیز اور بیسی ڈیومائی سیٹیز) میں ایک درمیانی وقفہ ڈائی کیریوٹک حالت (n + n یعنی دو مرکزے فی خلیہ) کا ہوتا ہے، اس حالت کو ڈائی کیریون اور ہیئت کو فنگس کی ڈائی کیریوفیز کہتے ہیں۔ بعد میں یہ پشتینی مرکزے ضم ہو کر ڈیپلائیڈ خلیے بناتے ہیں۔فنجائی پھر ایک فروٹنگ باڈی بناتا ہے، تخفیفی تقسیم ہوتی ہے اور ہیپلائیڈ بذرے بنتے ہیں۔
مائی سیلیم، بذروں کے بننے کا طریقہ اور فروٹنگ باڈیز کی ساخت کی بنیاد پر اس خاندان کو مختلف کلاسوں میں درجہ بند کیا جاسکتا ہے۔
2.3.1 فائیکومائی سیٹیز (Phycomycetes)
فائیکومائی سیٹیز کے ممبران آبی وقوع میں سڑی گلی لکڑی پر نم اور مرطوب جگہوں میں یا پودوں پر لازمی طفیلیے کے طور پر پائے جاتے ہیں۔ مائی سیلیم، اسپٹیٹ(Aseptate) اور کوئنوسائٹک ہوتے ہیں۔ غیر جنسی تولید زواسپورز (متحرک) یا اپلانواسپورز (غیر متحرک) بذروں کے ذریعے ہوتی ہے۔ یہ بذرے اسپورینجیم کے اندر پیدا ہوتے ہیں۔ زائگواسپور دوزواجوں کے ضم (Fusion) ہونے سے بنتے ہیں۔ یہ زواجے ساخت کے اعتبار سے ہم شکل ہوتے ہیں (آئسو گیمس) یا نہیں ہوتے (اینائسوگیمس یا اُوگیمس)۔ کچھ عام مثالیں میوکر (Mucor) (شکل 2.5 (a))، رائزوپس (جو ڈبل روٹی پر اُگتے ہیں، ذکر پہلے آچکا ہے) اور البیوگو (سرسوں پر اگنے والے طفیلی فنجائی)۔
2.3.2 ایسکومائی سیٹیز (Ascomycetes)
عام زبان میں اسے تھیلی فنجائی کہتے ہیں، یہ اکثر کثیر خلوی مثلاً پینی سیلیم (Penicillium) یا بہت کمیک خلوی مثلاً ایسٹ (Sacharomyces)ہوتے ہیں۔ یہ سیپروفٹک، ڈیکمپوزرس، طفیلیے یا کوپروفلس (گوبر پر اگنے والے) ہوتے ہیں۔ مائی سیلیم شاخ دار اور پردے والی (Septate) ہوتی ہے۔ اجاتی بذرے مخصوص مائی سیلیم کونیڈیوفورس پر پیدا ہوتے ہیں۔ کونیڈیا اگ کر مائی سیلیم بناتے ہیں۔ اجاتی بذرے ایسکواسپورز کہلاتے ہیں جو تھیلی نما ساخت ایسکس (Ascus) کے اندر بنتے ہیں۔ یہ ایسائی (Asci) مختلف فروٹنگ بوڈیز ایسکوکارپس میں مرتب ہوتے ہیں۔ کچھ مثالیں اسپرجِلس (Aspergillus) (شکل 2.5 (b))، کلیوی سیپس (Claviceps) اور نیورواسپورا (Neurospora) ہیں۔ جینی اور بائیوکیمیکل تحقیق میں نیورواسپورا کا بے حد استعمال ہوتا ہے۔ کچھ ممبران جیسے ماریلز اور ٹرفلز (Morels & Truffles) خوردنی ہیں اور لذت بخش سمجھے جاتے ہیں۔
2.3.3 بیسی ڈیومائی سیٹیز (Basidiomy cetes)
مشرومز، بریکٹ فنجائی اور پف بالز بیسی ڈیومائی سیٹیز کی کچھ جانی پہچانی انواع ہیں۔ یہ مٹی، کٹے ہوئے تنوں یا درخت کے سوکھے ہوئے ٹکڑوں پر اور زندہ پودوں میں طفیلیے کی طرح مثلاً رسٹ اور اسمٹ (Rusts and Smuts) پر اگتی ہیں۔ مائی سیلیم شاخ دار اور پردے والا ہوتا ہے۔ عموماً اجاتی بذرے نہیں پائے جاتے لیکن ٹوٹنے اور بکھرنے سے نباتی تولید عام ہے۔ جنسی عضو نہیں ہوتے لیکن مختلف ذات کے یا مختلف جینوٹائپ کے نباتی یا جسمی خلیوں کے باہمی ضم ہونے سے پلازموگیمی ہوتی ہے۔اس کے نتیجے میں دو مرکزوں والا خلیہ بنتا ہے جو بعد میں بیسی ڈیم (Basidium) بناتا ہے۔ اس کے مرکزے ضم ہونے کے بعد تخفیفی تقسیم کرتے ہیں اور بیسی ڈیم میں چار بیسی ڈیواسپورز بناتے ہیں۔ یہ بیسی ڈیواسپورز، بیسی ڈیم کے باہر بنتے ہیں (جمع بیسی ڈیا)۔ بیسی ڈیا فروٹنگ باڈی بیسی ڈیوکارپ میں مرتب ہوتے ہیں۔ اگیریکس (Agaricus) مشروم (شکل 2.5 (c)) اسٹی لاگو (اسمٹ) اور پکسینیا (رسٹ فنگس) کچھ عام مثالیں ہیں۔


2.3.4 ڈیوٹیرومائی سیٹیز (Deuteromycetes)
ان کو عموماً نا مکمل فنجائی کہتے ہیں کیونکہ ان کی صرف اجاتی یا نباتی دورِحیات ہی معلوم ہیں۔ اور جب ان کے جاتی نوع کا انکشاف ہوتا ہے تو ان کو دوسری مناسب کلاس میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے نباتی اور غیر جنسی مرحلوں کو ایک نام دیا گیا ہو (اور ڈیوٹیرومائی سیٹیز کے تحت رکھ دیا گیاہو) اور جنسی مرحلے کو دوسرا (اور کسی اور کلاس میں رکھ دیاگیا ہو)۔ بعد میں جب ان کا آپس کا تعلق معلوم ہو گیا تو فنجائی کی صحیح شناخت کر کے ڈیوٹیرومائی سیٹیز سے منتقل کر دیا گیا ہو۔ ڈیوٹیرومائی سیٹیز کے ممبران کے مکمل مرحلے (جنسی مرحلہ) کے معلوم ہونے کے بعد عموماً ان کو ایسکومائی سیٹیز اور بیسی ڈیومائی سیٹیز میں منتقل کیا گیا ہے۔ ڈیوٹیرومائی سیٹیز صرف اجاتی بذروں کے ذریعہ تولید کرتے ہیں جنہیں کونیڈیا کہتے ہیں۔ ان کے مائی سیلیم پردے والے (Septate) اور شاخ دار ہوتے ہیں۔ اس کے کچھ ممبران سیپروفائٹس (Saprophytes) یا طفیلیے ہوتے ہیں لیکن اکثریت کوڑے کرکٹ کی ڈیکمپوزرس ہوتی ہے اور معدنی قرن (Mineral Cycling) میں مدد کرتی ہے۔ الٹرنیریا، کولیٹوٹرائکم اور ٹرائکوڈرما اس کی کچھ مثالیں ہیں۔
2.4 کنگڈم پلانٹی (Kingdom Plantae)
پلانٹی خاندان میں وہ سب ہی عضویے شامل ہیں جو یوکیریوٹک ہیں اور جن میں کلوروفل ہوتا ہے، ان کو عام طور پر پودے کہا جاتاہے۔ کچھ ممبران جیسے کیڑے خور پودے اور طفیلیے ادھورے ہیٹروٹرافک ہوتے ہیں۔ کیڑے خور پودوں کی مثال بلیڈرورٹ اور وینس فلائی ٹریپ ہیں اور طفیلیے پودوں کی مثال کسکوٹا (امربیل) ہے۔ پودوں کے خلیے یوکیریوٹک ساخت کے ہوتے ہیں اور ان میں نمایاں کلوروپلاسٹس اور خلوی دیوار سیلیولوز کی بنی ہوتی ہے۔ یوکیریوٹک خلیے کی تفصیلی ساخت آپ آٹھویں باب میں پڑھیں گے۔ پلانٹی میں الگی، برائیوفائٹس، ٹیریڈوفائٹس، جمنواسپرمز اور انجیوسپرمز شامل ہیں۔
پودوں کے دورحیات میں دو ممتاز مرحلے ڈپلائیڈ بذری نسل (Sporophytic) اور ہیپلائیڈ زواجی نسل (Gametophytic) ہیں۔ یہ یکے بعد دیگرے ظہور میں آتے ہیں۔ ہیپلائیڈ اور ڈپلائیڈ مرحلے کی معیاد کا انحصار اس پر ہے کہ کیا یہ مرحلے آزادانہ رہتے ہیں یا دوسروں پر منحصر ہیں اور ان کی معیاد پودوں کے مختلف گروپس میں مختلف ہوتی ہے۔ اس عمل کو تبادلۂ نسل (Alternation of Generation) کہتے ہیں۔ باب 3 میں آپ اس کنگڈم کے بارے میں مزید مطالعہ کریں گے۔
2.6 وائرسیز، وائرائیڈز،پری اونس اور لائیکنز(Viruses, Viroids, Prions and Lichens)
ویٹکر کے ذریعے پیش کیے گئے پانچ کنگڈمس کی درجہ بندی میں لائیکنز اور کچھ یک خلوی عضویے مثلاً وائرسیز، وائرائیڈز اورپری اونس کا ذکر نہیں آتا ہے۔ ان کا مختصر بیان یہاں دیا جارہا ہے۔
ہم میں سے وہ جن کو زکام یا فلو ہوا ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمارے اوپر وائرس کا کیا اثر ہوتا ہے۔ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جاندار صرف وہ ہیں جن میں خلوی ساخت ہوتی ہے تو حقیقتاً وائرسیز جاندار نہیں ہیں اور اسی لیے درجہ بندی نظام میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ وائرسیز غیر خلوی عضویے ہیں جو زندہ خلیے کے باہر ایک غیر موثر قلمی (Crystalline) ساخت رکھتے ہیں۔ خلیے کے اندر داخل ہونے کے بعد میزبان خلیے کے تمام افعال کی لگام اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں اور اپنے دہرانے (Replicate) کے عمل کو انجام دیتے ہیں اور میزبان خلیے کو مار دیتے ہیں۔ کیا آپ وائرسیز کو جاندار یا بے جان کہیں گے؟
وائرس کے معنی زہر یا زہریلا سیال کے ہیں، ان کو یہ نام پاسچر نے دیا تھا۔ ڈی۔ جے۔ ایوانوسکی نے (1892) تمباکو کی موزیک بیماری کے سبھی عضویوں کو پہچانا تھا (شکل 2.6 (a))۔ یہ سائز کے لحاظ سے بیکٹیریا سے بھی چھوٹے

شکل 2.6 (a) تمباکو موزیک وائرس (ٹی ایم وی) (b) بیکٹیریوفیج
پائے گئے، کیونکہ یہ بیکٹیریا پروف فلٹر سے بھی نکل گئے تھے۔ ایم- ڈبلیو- بیجیرینک(M.W. Bejerinek) (1898) نے مشاہدہ کیا کہ بیمار تمباکو کے پودے کا عرق بھی صحت مند پودوں میں بیماری پھیلاسکتا ہے لہٰذا اس نے اس عرق کا نام کنٹیجیم وائی وم فلوئیڈم (Contagium Vivum Fluidum) (جاندار وبائی سیال) رکھا۔ ڈبلیو- ایم-ا سٹینلے (1935) نے ثابت کیا کہ وائرسیز کی قلمکاری (Cystallization) ہو سکتی ہے اور یہ کہ قلمیں بیشتر پروٹینز پر مشتمل ہیں۔ یہ اپنے خاص میزبان خلیے کے باہر قطعی غیر موثر ہیں۔ وائرسیز لازمی طفیلیے ہیں۔
وائرسیز میں پروٹین کے علاوہ جینٹک مادہ بھی ہوتا ہے، جو آراین اے (RNA) یا ڈی این اے (DNA) ہو سکتا ہے۔ کسی بھی وائرس میں آراین اے اور ڈی این اے دونوں ایک ساتھ نہیں ہوتے۔ وائرس نیوکلیوپروٹین ہے اور جینٹک مادہ وبائی ہے۔ عموماً، پودوں میں لگنے والے وائرسیز ایک دھاگے والے آر این اے اور جانوروں میں لگنے والے وائرسیز میں ایک یا دو دھاگے والے آر این اے یا دو دھاگے والے ڈی این اے ہوتے ہیں۔ بیکٹیریل وائرس یا بیکٹیریوفیجز (Bacteriophages) (وہ وائرس جو بیکٹیریا کو انفیکٹ کرتے ہیں) عموماً دو دھاگوں والے وائرسیز (شکل 2.6 (b)) ہوتے ہیں۔ پروٹین کے غلاف کو کیپسڈ کہتے ہیں(Capsid) اور اس کی نیم اکائیوں (Subunits) کو کیپسومیئرس (Capsomeres)کہتے ہیں جو نیوکلیک ایسڈ کا تحفظ کرتے ہیںیہ کیپسومیئرز سپرنگ کی شکل یا پالی ہیڈرل ہندسی اشکال میں مرتب ہوتے ہیں۔ وائرسیز سے ممپس (Mumps)، چیچک، ہرپیز اور انفلوئینزا جیسے امراض لاحق ہوتے ہیں۔ انسانوں میں ایڈز (AIDS) بھی وائرس کی ہی وجہ سے ہوتا ہے۔ پودوں میں موزیک بنانا، پتیوں کا مڑنا اور سکڑنا، پیلا پڑنا اور رگوں کا صاف ہونا، بوناپن اور نمو میں کمی ہونا وائرس کی وباء کی چند علامتیں ہیں۔
وائرائیڈز (Viroids): 1971 میں ٹی- او- ڈائنر نے ایک وبائی ایجنٹ تلاش کیا جو وائرس سے بھی چھوٹاتھا اور جس کی وجہ سے آلو میں پوٹیٹو اسپنڈل ٹیوبر بیماری ہوتی تھی۔ معلوم ہوا کہ یہ آزاد آر این اے سالمے ہوتے ہیں اور ان میں دیگر وائرسیز کی طرح پروٹین کا غلاف نہیں ہوتا۔ لہٰذا ان کو وائرائیڈ (وائرس نما) کہتے ہیں۔ وائرائیڈ کے آر این اے کا سالمی وزن (Molecular Weight) کم ہوتا ہے۔
پری اونس(Prions): جدید طب میں کچھ اعصابی بیماریاں (Neurological diseases) پائی گئیں جو غیر معمولی طور پر تہہ دار ہے ہٹن پر مشتمل ایک ایجنٹ کی وجہ سے منتقل ہوتی تھی۔ یہ ایجنٹ وائرس کی سائز کے مساوی ہوتے ہیں۔ ان ایجنٹوں کو پری اونس نام دیا گیا۔ لوائن اسپونجی فارم انسیفیلوپیتھی بی ایس ای (Bovine Spongiform Encephalopathy)جسے عام طور پر میڈ کاؤ کی بیماری) (Mad Cow Diseaseکہتے ہیں، جانوروں میں اور اس کے مشابہ سی آر جیکب بیماری(Creutzfeldt–Jakob disease —CJD) انسانوں میں پائی جانے والی ایسی بیماریاں ہیں جو اونس کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
لائیکنز (Lichens): لائیکنز معاشی نسبت (Symbiotic Associations) رکھتے ہیں یعنی الگی اور فنجائی میں باہمی فائدہ مند نسبت۔ الگی کا حصہ فائکو بائیونٹ اور فنجائی کا حصہ مائکوبائیونٹ کہلاتا ہے جو علی الترتیب آٹوٹرافک اور ہیٹروٹرافک ہوتے ہیں۔ الگی غذا کی تالیف فنجائی کے لیے کرتا ہے اور فنجائی اپنے ساتھی کے لیے رہائش اور پانی اور معدنی غذا کا انجذاب کرتا ہے۔ ان کا باہمی رشتہ اتنا قریبی ہوتا ہے کہ اگر کسی نے قدرت میں لائیکن دیکھا ہے تو اسے یہ گمان بھی نہیں ہوگا کہ دراصل یہ دو مختلف عضویوں کا مجموعہ ہے۔ لائیکنز آلودگی کا بہت عمدہ اشاریہ ہے۔ یہ آلود وقوع میں نمو نہیں پاتے۔
خلاصہ
آسان شکلی ساخت کی خصوصیات کی بنیاد پر پودوں اور جانوروں کی درجہ بندی سب سے پہلے ارسطو نے پیش کی تھی۔ بعد میں لنی اس نے تمام جانداروں کو دو خاندان — پلانٹی اور انیمیلیا میں بانٹ دیا۔ ویٹکر(Whittaker) نے اس کے بعد پانچ کنگڈم درجہ بندی کا نظام پیش کیا۔ یہ پانچ کنگڈم — مونیرا، پروٹسٹا، فنجائی، پلانٹی اور انیملیا ہیں۔ پانچ کنگڈم کی درجہ بندی کے اہم معیار، خلوی ساخت، جسمانی تنظیم، غذا حاصل کرنے کا طریقہ کار، تولید اور ارتقائی نسبت ہیں۔
پانچ کنگڈم کی درجہ بندی کے تحت بیکٹیریا کومونیرا کنگڈممیں رکھا گیا۔ بیکٹیریا ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ ان عضویوں میں وسیع استحالی تنوع پایا جاتا ہے۔ غذا حاصل کرنے کے طریقے میں بیکٹیریا آٹوٹرافک یا ہیٹروٹرافک ہو سکتے ہیں۔ کنگڈم پروٹسٹا میں یک خلوی یوکیریوٹس جیسے کرائسوفائٹس، ڈائینوفلاجیلیٹز، یوگلینوائیڈز، سلائم مولڈز اور پرٹوزوانز شامل ہیں۔ پروٹسٹ میں واضح مرکزہ اور دیگر جھلیوں سے گھرے ہوئے آرگنیلز پائے جاتے ہیں۔ ان میں جاتی اور اجاتی دونوں تولید ہوتی ہے۔کنگڈم فنجائی کے ممبران میں ساخت اور وقوع کا بے انتہا تنوع پایا جاتاہے۔ غذا حاصل کرنے کے طریقے میں فنجائی کی اکثریت سیپروفائٹک ہے۔ ان میں اجاتی اور جاتی تولید ہوتی ہے۔ اسکنگڈم کے تحت چارکلاس فائکومائی سیٹیز، ایسکومائی سیٹیز، بیسی ڈیومائی سیٹیز اور ڈیوٹیرومائی سیٹینر شامل ہیں۔ تمام یوکیریوٹک-کلوروفل رکھنے والے عضویے خاندان پلانٹی کے تحت آتے ہیں۔ اس گروپ میں الگی، برائیوفائٹس، ٹیریڈوفائٹس، جمنواسپرمز اور انجیوسپرمز شامل ہیں۔ ان سے دورِ حیات میں تبادلۂ نسل کا اظہار ہوتا ہے— زواجی اور بذری نسل۔ ہیٹروٹرافک یوکیریوٹک، کثیر خلوی عضویے جن میں خلوی دیوار نہیں ہوتی کنگڈم انیملیا میں رکھے گئے ہیں۔ ان کے غذا حاصل کرنے کا طریقہ ہولوزویک ہے۔ ان میں جاتی یا جنسی تولید ہوتی ہے۔ کچھ غیر خلوی عضویے جیسے وائرسیز، واٹرائیڈز اور لائیکنز اس پانچ کنگڈم سسٹم میں شامل نہیں کیے گئے ہیں۔
مشق
1۔ وقت کے ساتھ نظامِ درجہ بندی میں کیا کیا تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ بیان کیجیے۔
2۔ ان کی دو معاشی افادیت بیان کیجیے۔
(i) ہیٹروٹرافک بیکٹیریا
(ii) آرکی بیکٹیریا
3۔ ڈائی ایٹمز کے خلوی دیوار کی کیا خاصیت ہے؟
4۔ معلوم کیجیے کہ اصطلاحات ’الگل بلوم‘ (Algal Bloom)اور ’سرخ لہروں‘ (Red Tides)کا کیا مفہوم ہے ؟