Skip to content

باب 3

کنگڈم نباتات

(Plant Kingdom)

3.1 الگی
3.2 برائیوفائٹس
3.3 ٹیریڈوفائٹس
3.4 جیمنوسپرمس
3.5 انجیواسپرمس
3.6 پودوں کا دور حیات اور تبادلہ نسل

گزشتہ باب میں ہم نے جانداروں کی وسیع درجہ بندی (Broad Classification) پر ایک نظر ڈالی تھی جس میں وٹیکر/Whittaker (1969) نے پنج کنگڈم درجہ بندی (Five Kingdom Classification) کا نظریہ پیش کیا تھا۔ اس پنج کنگڈم درجہ بندی میں اس نے مونیرا(Monera)، پروٹسٹا (Protista)، فنجائی (Fungi)، انیمیلیا (Animalia) اور پلانٹی (Plantae) کو شامل کیا تھا۔ اس باب میں ہم پنج کنگڈم درجہ بندی کے ایک مجموعے یعنی کنگڈم پلانٹی (Plantae) کے بارے میں تفصیل کے ساتھ بحث کر یں گے۔ اس مجموعے کو’کنگڈم نباتات‘ بھی کہتے ہیں۔
یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ وقت کے ساتھ’کنگڈم نباتات‘ کے بارے میں ہماری معلومات میں اضافے کی وجہ سے اس میں کچھ تبدیلیاں آئی ہیں۔کنگڈمس فنجائی، مونیرا اور پروٹسٹا کنگڈم کے کچھ ممبران جن میں خلیہ کی دیوار موجود ہوتی ہے، اب پلانٹی سے انھیں نکال دیا گیا ہے جبکہ پہلے انھیں اسی خاندان میں شامل کیا جاتا تھا۔ لہٰذا سائنوبیکٹیریا (Cyanobacteria) جس کو بلو گرین الگی (Blue Green Algae) کے نام سے جانا جاتا تھا اب اس کو الگی (Algae) میں نہیں رکھا جاتا ہے۔ اس باب میں پلانٹی کی الگی، برائیوفائٹز (Bryophytes)، پٹیریڈو فائٹز (Pteridophytes)، جمنواسپرمز (Gymnosperms)اور انجیواسپرمز (Angiosperms) عنوانات کے ساتھ تفصیل پیش کی جائے گی۔

اب ذرا ان وجوہات پر نظر ڈالیں جن کے اثرات انجیواسپرمز کی درجہ بندی پر مرتب ہوئے ہیں۔ نباتات کے پرانے نظام درجہ بندی میں درجہ بندی کے لیے اوپری اور ظاہری خصوصیات کو مد نظر رکھا جاتا تھا مثلاً عادت (Habit)، رنگ، پتیوں کی تعداد اور مختلف اشکال وغیرہ۔ ان کا انحصار زیادہ تر نباتاتی خصوصیات پر تھا یا پھول کے نرکوٹ کی ساخت پر (وہ نظام جو لنی آس نے دیا)ایسے نظام مصنوعی تھے کیونکہ ایسے نظام کے تحت بہت قربت رکھنے والے انواع (Species) الگ الگ خانوں میں تقسیم ہوگئے تھے کیونکہ اس نظام میں درجہ بندی کا انحصار بہت کم خصوصیات پر مبنی تھا۔ اس کے علاوہ اس مصنوعی نظام میں جنسی اور نباتاتی خصوصیات کو برابر کا درجہ دیا گیا تھا۔ اب یہ بات قابل قبول نہیں ہے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ نباتاتی (Vegetative) خصوصیات ماحول تبدیل ہونے پر بڑی آسانی سے بدل جاتی ہیں۔اس کے برعکس قدرتی نظام درجہ بندی (Natural Classification System) وجود میں آیا جو عضویوں میں قدرتی رشتے (Affinities) پر منحصر ہے۔ اس قدرتی نظام میں نہ صرف ظاہری خصوصیات کو اہمیت دی گئی بلکہ اندرونی ساخت مثلاً الٹرااسٹرکچر، اناٹومی، امبرائیلوجی(Embryology) اور فائٹوکیمسٹری (Phytochemistry)کو بھی اہمیت دی گئی۔ پھولدار پودوں کے ایسے ہی ایک قدرتی نظام درجہ بندی کو جارج بینتھم اور جوزف ڈالٹن ہکر نے پیش کیا۔

موجودہ دور میں عضویوں کے درمیان ارتقائی رشتوں پر مبنی نظام درجہ بندی جس کو عام فہم میں ارتقائی نظام درجہ بندی (Phylogenetic Classifcation System) کے نام سے جانا جاتا ہے، سب سے زیادہ معتبر اور قابل قبول ہے۔ اس نظام میں عقیدہ یہ ہے کہ وہ عضویے جو ایک ٹیکسا (Taxa) میں رکھے جاتے ہیں وہ ایک مشترک اسلاف (Common Ancestor) کی دین ہیں۔
درجہ بندی میں آنے والی دشواریوں کو دور کرنے کے لیے آج کل اور بہت سے ذرائع (Sources) استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان کا استعمال اس وقت زیادہ اہم ہو جاتا ہے جب کہ باقیات (Fossil) کے ثبوت نہ ہوں۔ عددی تسنیفی نباتیات (Numerical Taxonomy) ایک ایسا مضمون ہے جہاں پودوں کو تقسیم (Classify) کرنے کے لیے کمپوٹر کا استعمال ہوتا ہے اور جو تمام خصوصیات کے مشاہدہ پر مبنی ہوتا ہے۔ ہر خاصیت کو ایک عدد اور ایک کوڈ دیا جاتا ہے اور کمپیوٹر کی مدد سے نتائج فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس طریقے میں  ہر خاصیت کو ایک ہی اہمیت دی جاتی ہے اور بیک وقت سیکڑوں خصوصیات پر غور کیا جا سکتا ہے۔ کروموزوم کی تعداد، ساخت اور برتاؤ  (Behaviour) کی بناء پر تقسیم کیے جانے کو سائٹوٹیکسونومی (Cytotaxonomy)کہتے ہیں۔ اگر پودے کی تقسیم (Classification) میں کیمیائی اجزاء کی مدد لی جائے تو اس کو کیموٹیکسونومی (Chemotaxonomy) کہتے ہیں۔

3.1 الگی (Algae)

الگی سبز رنگ کے مادے (Chlorophyll) کی موجودگی والے، سادہ،غصنہ(Thalluid)،آٹوٹرافک اور زیادہ تر پانی (میٹھے اور سمندری پانی) میں پائے جانے والے عضویے ہیں۔ ان کے دوسرے مساکن مرطوب پتھر ،مٹی اور لکڑی ہیں۔ ان میں سے کچھ فنجائی (لائکن) اور جانوروں (مثلاً ہندوستان اور سری لنکا کے ریچھوں (Sloth bear) پر۔
Pic1 Capture3
Pic2 Capture3

الگی مختلف اشکال اور سائز میں پائے جاتے ہیں۔ بستیوں (Colonies) کے روپ میں جیسے والوکس (Volvox) اور دھاگا نما جیسے Ulothrix اور Spirogyra (شکل3.1)۔ بعض سمندری اشکال جیسے کیلپس(Kelps) بڑی ضخیم ساخت اختیار کر لیتے ہیں ۔
الگی میں عمل تولید نباتاتی (Vegetative)، غیر جنسی (Asexual) اور جنسی (Sexual) طریقے سے ہوتا ہے۔ نباتاتی تولید ٹوٹنے کے عمل سے ہوتی ہے۔ ہر ٹوٹا ہوا حصّہ Thallus میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ غیرجنسی تولید کئی طرح کے بزروں (Spores) کے ذریعے ہوتی ہے اور عام طورپرسب سے زیادہ حیوان بذرے (Zoospores) کے ذریعے سے ہوتی ہے۔ یہ بذرے دم دار اور متحرک (Motile) ہوتے ہیں اور اگنے کے بعد ایک نئے پودے میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔جاتی تولید دوجنسی تولیدی خلیوں ،جنھیں زواجے (Gametes) کہتے ہیں، کے ملنے سے ہوتے ہیں۔ یہ زواجے ہدے دار (Flagellated) اور شکل میں یکساں ہوتے ہیں( جیسے Ulothrix)یا ہدے دار نہیں ہوتے(غیر متحرک ہوتے ہیں) لیکن یکساں شکل ہوتے ہیں (جیسے Spirogyra)۔یہ عمل تولید غیر رواج (Isogamous) کہلاتا ہے۔ دو زواجے ،جو سائز میں غیر مماثل ہوں جیسے کچھ انواع ہیں، جب ملتے ہیں تو اس تولیدی عمل کو غیر نم رواجی (Anisogamous) کہتے ہیں۔ عمل تولید جس میں مادہ زواجہ ساکت غیر ہدے دار اور جسامت میں بڑے اور نرزواجے متحرک بدے دار اور چھوٹے ہوتے ہیں تو ان کے ملاپ کو بیض زواجی (Oogamous) کہتے ہیں۔ مثلاً والوکس، فیوکس۔
الگی انسان کے لیے کئی طرح سے فائدے مند ہیں۔ زمین پر کاربن ڈائی آکسائڈ کا نصف حصہ الگی کی شعاعی تالیف کے ذریعہ بنتا ہے۔ شعاعی تالیف کی اہلیت ہونے کی وجہ سے الگی اپنے آس پاس کے ماحول میں گھلی ہوئی آکسیجن کی مقدار میں اضافہ کرلیتے ہیں لہٰذا ان کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ توانائی سے بھرپور مرکبات کےPrimary Producers ہونے کی وجہ سے وہ آبی جانوروں کے لیے غذائی تانے بانے (Food Cycles) کی بنیاد ڈالتے ہیں۔Porphyra، Laminaria اور Sargassum کے متعدد انواع کا شمار سمندری الگی کے ان 70 انواع میں ہوتا ہے جن کا استعمال خوراک کے لیے ہوتا ہے۔ کچھ بھورے اور لال الگی بڑی مقدار میں Hydrocolloids (پانی والے مرکبات) پیداکرتے ہیں، مثلاً Algin (بھورا الگی)اور Carrageen(لال الگی) کا کمرشیل استعمال ہوتا ہے۔Gelidium اور Gracilaria سے کمر شیل پروڈکٹ آگار (Agar)حاصل کیا جاتا ہے۔ اس کا استعمال Microbes کے فروغ اور آئس کریم اور جلیبی بنانے میں ہوتا ہے۔ Chlorella پروٹین سے بھرپور یک خلوی الگی ہیں جہیں خلا میں جانے والے اضافی غذا کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ الگی کی درجہ بندی تین بڑی کلاسوں Chlorophyceae، Phacophycea اور Rhodophyceae میں کی گئی ہے۔

3.1.1 کلوروفائسی (Chlorophyceae)

Chlorophyceae کے ممبران کو عام زبان میں سبز الگی کہا جاتا ہے۔ ان کے غصنہ یک  خلوی، بستیوں والے یا دھاگے دار ہوتے ہیں۔ وہ پگمنٹز کلوروفِلa اور b کی وجہ سے ہری گھاس کی طرح سبز ہوتے ہیں۔ معینہ Chloroplasts کے اندرپگمنٹز ہوتے ہیں۔ مختلف انواع میں Cloroplasts تختی نما، پلیٹ نما، جالی نما، پیالہ نما، اسپرنگ نما یا ربن نما ہوسکتے ہیں۔ زیادہ تر ممبروں میں ایک یا زیادہ اسٹورکرنے کے اعضا ہوتے ہیں جنہیں Pyrenoids کہتے ہیں۔ Pyrenoids کلوروپلاسٹ (Chloroplast) میں ہوتے ہیں۔Pyrenoids میں نشاستے (Starch) کے علاوہ پروٹین بھی ہوتے ہیں۔ کچھ الگی غذا کو تیل یا روغن کے چھوٹے قطروں کی شکل میں جمع کرتے ہیں۔ سبز الگی کی خلوی دیواریں عام طور پر سخت ہوتی ہیں۔ اندر کی دیوار سیلیولوز (Cellulose) کی اور باہر کی پیکٹوز (Pectose) کی بنی ہوتی ہے۔
نباتاتی تولید (Vegetative Reproduction) عام طور پرمختلف بذروں  کے ٹوٹنے اور بننے سے ہوتی ہے۔ غیر جنسی تولید دم دار متحرک بذروں (Zoospores) کے ذریعے ہوتی ہے اور ان کی افزائش Zoosporangia میں ہوتی ہے۔ جاتی تولید کے طریقوں اور زواجے کے بننے میں وسیع پیمانے پرتفریق پائی جاتی ہے اور یہ Isogamous، Anisogamous یا Oogamous ہوسکتے ہیں۔ Chlamydomonas ، Volvox، Ulothrix، Spirogyraاور Chara سبز الگی کی کچھ مثالیں ہیں (شکل 3.1 a)۔

3.1.2 فیوفائسی (Phaeophyceae)

Phaeophyceae یا براؤن الگی کے ممبران بنیادی طور پر سمندر میں پائے جاتے ہیں۔ اس خاندان کے ممبران کی جسامت اور اشکال میں بہت تفریق پائی جاتی ہے۔ ان کے اجسام شاخ دار دھاگے نما (Ectocarpus) سے لے کر کثیر شاخی جیسی  کلپس(Kelps) جن کی لمبائی 100 میٹر تک پہنچ جاتی ہے، ہوتے ہیں۔ ان میں، Chlorophyll a c، Carotenoids اور Xanthophylls ہوتے ہیں۔ Xanthophyll Pigment یعنی Fucoxanthin مادے کی کم اور زیادہ مقدار میں موجودگی کی بناء پر ان کے رنگ زیتونی سبز سے لے کر بھورے رنگ تک کے ہوتے ہیں۔ غذا کا اجماع پیچیدہ کاربوہائیڈٹیس جیسے Laminarin یا Mannitol کی شکل میں ہوتا ہے۔ نباتاتی خلیے کی اندرونی دیوار Cellulose کی ہوتی ہے جس کے باہر جیلی نما مرکب (Algin) کی تہہ ہوتی ہے۔ خلیہ مایہ میں Plastids کے علاوہ بیج میں ایک ویکیول (خلا) اور مرکزہ ہوتا ہے۔ پودے کا جسم ڈنٹھل(Stipe) کے علاوہ Hold Fast کے ذریعے کسی سطح سے جڑا ہوتا ہے۔ جسم کا باقی پتی نما حصہ ہے جو Photosynthetic عضو ہوتا ہے جسے Frond کہتے ہیں۔ Fragmentation کے ذریعہ ان میں نباتی تولید ہوتی ہے۔ اجاتی تولید دو دم دار بذروں (Zoospores) کے ذریعہ ہوتی جو ناشپاتی نما ہوتے ہیں اور جن میں دو چھوٹے بڑے سوطے ہوتے ہیں۔
جاتی تولید Isogamous ، Anisogamous یا Oogamous ہوسکتی ہے۔ دو صنفی زواج پانی میں یا Oogonium (Oogamousنوع)میں ہوسکتے ہے۔ زواجےPyriform( ناشپاتی کی شکل کے) ہوتے ہیں اور دومیں ہوتے ہیں  جو فلا جیلا سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ Ectocarpus، Dictyota، Laminaria، Sargassum اور Fucus اس کی کچھ عام شکلیں ہیں (شکل 3.1 b)۔

3.1.3 روڈوفائسی (Rhodophyceae)

Rhodophyceae کے ممبروں میں ایک سرخ لون، جس کا نام r-Phycoerythrin ہے، پایا جاتا ہے۔ اس سرخ مادے کی موجودگی کی وجہ سے یہ سرخ الگی بھی کہلاتا ہے۔ زیادہ ترسرخ الگی سمندر میں، بالخصوص گرم علاقوں میں پایا جاتا ہے۔وہ سمندر کی سطح اور سمندر کی عمیق گہرائیوں میں بھی ملتے ہیں جہاں روشنی کا گزر مشکل سے ہی ہوتا ہے۔
زیادہ تر سرخ الگی کے سرخ غصنے کثیر خلوی ہوتے ہیں۔ کچھ غصنے کی پیچیدہ جسمانی تنظیم ہوتی۔ ان میں غذا فلوریڈین اسٹارچ کی شکل میں ہوتی ہے جو ساخت میں امائلو پکٹن اور گلائکوجن کی طرح ہوتی ہے۔
سرخ الگی عام طور پر نباتاتی تولید یعنی Fragmentation کے ذریعہ نمو پاتی ہے۔ اجاتی تولید غیر متحرک بذرے کے ذریعے اور جاتی تولید غیر متحرک زواجوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ جاتی تولید اوگیمس (Oogamous) ہوتی ہے اور Fertilisation کے بعد Development بہت پیچیدہ ہوتا ہے۔ سرخ الگی کے کچھ عام افراد Polysiphonia ، Porphyra (شکلc 3.1)، Gracilariaاور Gelidium ہیں۔

جدول 3.1 الگی کی تفریق اور ان کی خصوصیات

999

3.2 برائیوفائٹس (Bryophytes)

برائیوفائٹس میں ماس (Mosses) اور لیورورٹس (Liverworts) آتے ہیں عام طورپرپہاڑوں میں سایہ دار اور نم جگہوں پر اگتے ہیں(شکل 3.2)۔ چونکہ یہ پودے زمین پر رہتے ہیں اور ان میں عمل تولید پانی کی موجودگی پر منحصر ہے اس لیے ان کو نباتاتی کنگڈم کا Amphibians بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عام طور پر گیلے، مرطوب اور سایہ دار خطوں میں پائے جاتے ہیں۔ یہ چٹانوں/مٹی پرپودے کےSuccession میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
برائیوفائٹس کے غصنے الگی کے مقابلے میں زیادہ متفرق (Differentiated) ہوتے ہیں۔یہ یا تو زمین پر لیٹے ہوئے ہوتے ہیں یا کھڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ یک خلوی یا کثیر خلوی ہدبے (Rhizoids) Substratum سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان میں اصلی جڑیں، تنے یا پتیاں نہیں ہوتیں گوکہ ان میں جڑ جیسے تنے جیسے یا پتیوں  جیسے حصے ہوتے ہیں۔ Bryophyte کا اصل جسم ہیپلائڈ ہوتا ہے۔یہ زواجے بناتا ہے اس لیے اس کو گیموٹوفائٹ
Pic3 Capture3

شکل 3.2 برائیوفائٹس: مارکینشیا - ایک لیوورٹ (a) مادہ تھیلس (b) نرتھیلس ماسز (c)فیونیریا، گیٹمیوفائٹ اور اسپوروفائٹ(d) اسفیگنم گیمیٹوفائٹ

کہتے ہیں۔ Bryophtesکے جنسی اعضاکثیر خلوی ہوتے ہیں۔ نرجنسی عضو انتھریڈیم(Antheridium)کہلاتا ہے جو دو دم والے انتھیروزوائڈ (Antherozoids)بناتا ہے۔ مادہ جنسی عضو آرکیگونیم(Archegonium) کہلاتا ہے جس کی ساخت صراحی نما ہوتی ہے اور اس میں صرف ایک بیضہ ہوتا ہے۔ انتیھروزوائڈ پانی میں آنے کے بعد آرکیگونیم سے اتصال کرتے ہیں اور بیضے سے مل کر ذائی گوٹ بناتے ہیں۔ ذائی گوٹ فوراً ہی تخفیفی تقسیم نہیں کرتا بلکہ ایک کثیر خلوی جسم بناتا ہے جسے اسپوروفائٹ(Sporophyte)کہتے ہیں۔ یہ اسپوروفائٹ خود مختار نہیں ہوتا بلکہphotosynthetic gametophyte سے جڑا ہواہے اور اس سے غذا حاصل کرتا ہے۔ اسپوروفائٹ کے کچھ خلیے تخفیفی تقسیم کرکے(Meiosis) ہیپلائڈ بذرے بناتے ہیں۔یہ بذرے پھوٹ کر گیمیٹوفائٹ کو پیدا کرتے ہیں۔
عام طور پربرائیوفائٹ کی معمولی  معاشی حیثیت ہوتی ہے لیکن کچھ موس سبزی خور میملز،چڑیوں اور دیگر جانوروںکو غذا فراہم کرتے ہیں۔ اسفیگنم کی نوع ایک ایسا موس ہے ایسا مادہ (Peat) فراہم کرتا ہے جس کا ایک زمانے سے ایندھن کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ اور بہت دنوں تک نم رہنے کی خاصیت کی بناء پر پیکنگ میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ ماس اور لائکن وہ پہلے عضویے ہیں جو پتھروں اور چٹانوں پر اگتے ہیں لہٰذا ان کی اکولا جیکل اہمیت بہت زیادہ ہے۔ یہ چٹانوں کی سطح کو ریت اور مٹی میں تبدیل کرکے بڑے پودوں کی افزائش کے لیے راہ ہموار کرتے ہیں۔ چونکہ ماس زمین پر ایک کثیف قالین کی شکل میں اگتے ہیں اس لیے زمین کی مٹی کو تیز رفتار بارش کی دھار سے روکتے ہیں۔ برائیوفائٹس کو دو حصوں لیورورٹس اور ماس میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

3.2.1 لیورورٹس(Liverworts)

لیورورٹس زیادہ تر نم اور سایہ دار محلوں جیس آبشاروں  کے کنارے جھاڑیوںوالے میدان، نم مٹی، درختوں کی چھالوں اور جنگلوں میں اگتے ہیں۔ ان کا جسم تختی نما ہوتا ہے جیسے مارکینشیا۔ ان غصنہ ڈارسی وینٹرل ہوتا ہے اور زمین سے مضبوطی سے جڑا رہتا ہے۔ پتیوں والے لیورورٹس میں تنے جیسی چیز پر دو قطاروں میں پتی جیسے ابھار ہوتے ہیں۔
لیورورٹس میں اجاتی تولید غصنے کے ٹوٹنے اور بکھرنے سے ہوتی ہے یا ایک خاص طرح کے عضو کے بننے سے ہوتی ہے جسے Gemmae کہتے ہیں۔(واحد Gemma)-Gammae اصل میں سبز رنگ کے کثیر خلوی اجاتی کلیاں ہوتے ہیں جو ایک پیالے نما جسم میں غصنے کے اوپری سطح پر اگتے ہیں۔ ان پیالوں کوGammae Cups کہتے ہیں۔ Gemmae
ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں اور اگ کر نئے پودوں کو جنم دیتے ہیں۔ جاتی تولید کے دوران نر اور مادہ جنسی عضو یا توایک ہی عضنے پر یا الگ الگ عضنوں پر بنتے ہیں۔ اسپوروفائٹکے ذریعہ پیر، سیٹا اورکیپسول میں بٹتے ہیں تخفیفی تقسیم کے بعد کیپسول کے اندر اسپورز بنتے ہیں ۔ یہ اسپورز اگنے کے بعد ایک نئے گیمیٹوفائٹ کو جنم دیتے ہیں۔

3.2.2 ماس (Mosses)

ماس کی زندگی کے دور (Life Cycle) کا زیادہ حصہ گیمیٹوفائٹ ہوتا ہے جو دو حصوں میں بٹا ہوا ہوتا ہے ۔پہلا حصہ پروٹونیمہ(Protonema) کہلاتا ہے جو سیدھااسپوز کے ذریعہ وجود میں آتا ہے۔ یہ اس کے زمین پر پھیلنے ، سبز، دھاگے دار اور کئی شاخوں میں بٹے ہونے کا دور ہوتا ہے۔ دوسرا دور پتیوں والا (Leafy Stage)کہلاتا ہے جو دوسرے پرونیمہ سے ایک لیٹرل پتی (Lateral bud) بناتا ہے۔ یہ حصہ نازک، سیدھا تنے دار ہوتا ہے جس پر پتیاں ایک اسپائرل کی شکل میں مرتب ہوتی ہیں۔ یہ کثیر خلوی اور شاخ دار Rhizoids کے ذریعے زمین سے جڑارہتا ہے۔ یہ اسٹیج جنسی عضو بناتاہے۔
نباتی تولید عضنے کے ٹوٹنے اور دوسرے پروٹونیمہ کی کمیوں کی وجہ سے عمل میں آتی ہے۔ جاتی تولید کے دوران پتی دار کونپل کی نوک میں جنسی انتھریڈیا اور Archegonia بنتے ہیں۔ ملاپ کے بعد ذائی گوٹ اسپوروفائٹ میں تبدل ہوجاتا ہے جو پیر، سیٹا اور کیپسول پر مشتمل ہوتا ہے۔ ماس میں اسپوروفائٹ لیورورٹس کے مقابلے زیادہ پھیلا ہوا ہوتا ہے۔ کیپسول اسپوز پر مشتمل ہوتے ہیں۔کیپسول میں تخفیفی تقسیم (Meiosis)کے بعد اسپورزبنتے ہیں۔ ماس میں بذروں (Sporesکے بکھرنے کا خاص اہتمام ہوتا ہیملس کی عام مثالیں فیونیریا، پالی ٹرائی کم، اسفیگنم (شکل 3.2) وغیرہ ہیں۔
Pic4 Capture3
Pic5 Capture3
شکل 3.3 ٹیریڈوفائٹس (a) سیلاجنیلا (b) اکیوسیٹم (c) فرن (d) سلوینیا

3.3 ٹیریڈوفائٹس (Pteridophytes)

ٹیریڈوفائٹس میں ہارس ٹیل اور فرن شامل ہیں۔ ٹیریڈوفائٹس کا استعمال ادویات میں اور زمین کو مضبوطی رہنے میں ہوتا ہے۔ وہ اکثر باغبانی کے لیے بھی اگائے جاتے ہیں۔ قانون ارتقاء کے مطابق یہ بری پودوں کا پہلا گروہ ہے جن میں s Vascular Tissue ، زائلم اور فلوئم موجود ہوتے ہیں۔ان کے بارے میں تفصیل سے باب چھ میں بحث ہوگی۔ ٹیریڈوفائٹس ٹھنڈی کے لیے سایہ دار اور نم جگہوں پر پائے جاتے ہیں۔ جبکہ کچھ ریتیلی زمین پر بھی نمو پاتے ہیں۔
آپ کو یاد ہوگا کہ برائیوفائٹس کے دورِ حیات میں زواجی نسل نمایاں  اور خود پرور ہوتی ہے۔ لیکن ٹیریڈوفائٹس میں نمایاں نسل بذری پودا ہوتا ہے جس کی تفریق، تنے اور پتے پر مشتمل ہوتی ہے (شکل 3.3)۔ ان اعضاء میں منظم رگوں کا نظام (Vascular System) موجود ہوتا ہے۔ٹیریڈوفائٹا میں دو قسم کے پتے پائے جاتے ہیں۔۔۔چھوٹے کو چک برگی (Microphylls) کہتے ہیں جسے سلاجنیلایا بڑے کلاں برگ (Macrophylls) جیسے فرن میں ہوتے ہیں۔ بذری پودے پر اسپورینجیم ہوتا ہے۔ اس کے ٹھیک نیچے ایک چھوٹا سا پتہ ہوتا ہے جسے اسپوروفل کہتے ہیں۔ کچھ قسموں میں یہ اسپوروفل بہت قریب قریب مل کر ایک عضو بناتے ہیں جنھیں Strobili یا کون (Cones) کہا جاتا ہے (سلاجنیلا،اکوئی سیٹم)Sporangiaتخفیفی تقسیم(Meiosis) کے ذریعہ اسپور مادر خلیے (Spore Mother Cells) میں بذرے بناتا ہے۔ یہ بذرے اگنے کے بعد ایک پروتھیلس (Prothallus) بناتا ہے جو چھوٹا، مگر کثیر خلوی اورغیر نمایاں ہوتا ہے۔ اس کا جسم چپٹا فقیہ نما ہوتا ہے۔ یہ زواجی نسل معنی گیمیٹو فائٹ نسل ہوتی ہے اور سبز مایہ کی موجودگی کے باعث غذائی مادے خود تیار کرتا ہے۔ یہ زواجی نسل سایہ دار خنک جگہوں پر نمو پاتے ہیں۔ ان کی اس خاص ضروریات کی وجہ سے ٹیریڈوفائٹس کا پھیلاؤ جغرافیائی طور پر بہت محدود ہوتا ہے۔ زواجی نسل کے پودے پر نر اور مادہ تولیدی اعضا نمو پاتے ہیں۔نرتولیدی عضو کو انتھیریڈیا(Antheridia) اور مادہ تولیدی عضو کو آرکیگونیا(Archegonia) کہا جاتا ہے۔ انتھروزوائڈ کو آرکیگونیم میں موجود بیضے تک پہنچنے کے لیے پانی درکار ہوتا ہے۔ بیضے کی باروری سے ذائی گوٹ بنتا ہے جو خلوی تقسیم کے بعد کثیر خلوی اور واضح اسپوروفائٹ بناتا ہے جو کہ ٹیریڈوفائٹس کی نمایاں بذری نسل کہلاتی ہے۔ ٹیریڈوفائٹس کے زیادہ پودوں میں ایک ہی طرح کے بذرے پائے جاتے ہیں لہٰذا ایسے پودوں کو ہومواسپورس(Homosporous) کہا جاتا ہے۔ سلا جنیلا اور سالونیا جیسے انواع میں دو قسم کے بذرے میکرو(لمبا)اورمائکرو(چھوٹے)اسپورس ہوتے ہیں  اس لیے ایسے انواع کی ہیٹرواسپورس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ میکرو اور مائکرو اسپورس اگنے کے بعد بالترتیب مادہ اور نر زواجی سیلس پیدا کرتے ہیں۔ مادہ زواجی نسل ان پودوں میں کچھ عرصے کے لیے پرکھے پودے پر رہتی ہے۔ ذائی گوٹ خلوی تقسیم کے بعد ایمبریو (Embryo) میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ پودے کی افزائش کا یہ حصہ ارتقائی طور پر بہت اہمیت کا حامل ہے جس کے متعلق یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ اس طرح سے تخم یا بیج کی ابتدا ہوئی ہوگی۔
ٹیریڈوفائٹس کو مزید چار کلاسوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ سائلوپسیڈا (سائلوٹم) لائکو پسیڈا (سلاجنیلا، لائکوپوڈیم)، Sphenopsida (Equisetum) اور Pteropsida (ڈرائیوٹیرس، ٹیرس اور اڈیانٹم)۔

3.4 جمنو ا سپرم(Gymnosperms)

جمنو اسپرم(بیج:Sperma و برہنہ:gymnos) یا برہنہ تخم وہ پودے ہیں جن میں بیض دان (Ovules) کے چاروں طرف کوئی دیوار نہیں ہوتی اور زواجوں کے ملاپ سے پہلے یا بعد میں بھی برہنہ رہتے ہیں۔ جمنواسپرم میں درمیانہ قدیا طویل درخت اور جھاڑیاں آتی ہیں (شکل 3.4)۔ ان میں سے ایک جس کا نام سیکویا(Sequoia) ہے، ان میں جڑ حقیقی ہوتی ہے۔ کچھ انواع میں جڑیں فنجائی (Fungi) کے ساتھ مل کر مائکورائذا (Mycorrhiza) بناتی ہیں جیسے پائنس میں، کچھ اور میں جڑیں سبز نیلگوں الگی کے ساتھ مل کر ہوا میں موجود نائٹروجن کے ساتھ مل کر مرکب بناتی ہیں جیسے سائکس(Cycas) جمنوسی میں۔ تنے چوبی اور سخت ہوتے ہیں اور شاخ دار یا غیر شاخ دار ہوتے ہیں۔ پتے سادہ یا مرکب ہوتے ہیں۔ سائکس کی مرکب پتی کئی سالوں تک تنے سے جڑی رہتی ہے۔ جمنو اسپرم کی پتیاں ہر قسم کے موسم کو برداشت کرنے کی قوت رکھتی ہیں۔ کونیفرس(Conifers) درختوں کی پتیاں سوئی دار ہوتی ہیں تاکہ سطحی رقبہ کم سے کم تر ہو جائے اور ڈوبے ہوئے اسٹوماٹا اور کیوٹکل کی موٹی تہہ پانی کے نقصان کو کم کرنے میں مددگار ہوتی ہیں۔
جمنواسپرم ہیٹرواسپورس ہیں یعنی یہ دو طرح کے اسپورس بناتے ہیں۔مائیکرو اسپورس(Microspores) اور میگا اسپورس(Megaspores)۔ دونوں بذرے اسپورینجیا میں بنتے ہیں جو اسپوروفل پر ہوتے ہیں۔ یہ اسپوروفل ایک محور پر اسپائرل انداز میں مرتب ہوتے ہیں اور ایک مخروط (Cone) یا Strobiliبناتے ہیں۔ اس میں موجود مائیکرو اسپوروفل اور مائیکروا سپورینجیا کو مائیکرواسپورینجیسئٹ کہتے ہیں یا نر مخروط کہتے ہیں۔مائیکرواسپورس پھوٹنے کے بعد نرزواجی نسل کا آغاز کرتے ہیں۔ یہ بہت محدود اور خورد ہوتا ہے اور چند خلیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس خورد زواجی نسل کو پولین گرین کہتے ہیں۔یہ مائیکرواسپورینجیا میں ارتقا پذیر ہوتا ہے۔ مخروط جن میں میگااسپوروفل بیض دان (Ovule) کے ہمراہ ہوتے ہیں ان کو میگااسپورینجیسئٹ یا مادہ اسٹروبلی کہتے ہیں۔ یہ نر اور مادہ مخروط ایک درخت (پائنس) پر یا دو الگ الگ درختوں (سائکس)پر ہوسکتے ہیں۔ بیض دان میں موجود نیوسیلس میں میگا اسپورمدر خلیہ تخفیص ہوتا ہے۔ نیوسیلس کے چاروں طرف ایک علام اس کی حفاظت کرتا ہے اور اس پورے جسم کو بیض دان (Ovaule)کہتے ہیں۔ یہ بیض دان میگا اسپوروفل پر نمو پاتا ہے اور کئی میگا اسپوروفل مل کر مادہ مخروط (Cone) بناتے ہیں۔

Pic6 Capture3

Pic7 Capture3

شکل3.4 جمنو اسپرم (a) سائکس (b) پائنس (c) جنکگو

میگا اسپور مدر خلیہ تخفیفی تقسیم کے بعد چار میگا اسپور بنتے ہیں۔ ان میں سے ایک Megasporangium (نیوسیلس)سے گھرے اسپورس خلوی تقسیم کے بعد کثیر خلوی مادہ زواجی نسل (Female Gametophyte) بناتا ہے جس میں دو یا دو سے زیادہ آرکیگونیا یا مادہ جنسی عضو ہوتے ہیں۔ یہ زواجی نسل بھی میگا اسپورینجیم میں ہی ہوتی ہے۔
برائیوفائٹس اور ٹیریڈ وفائٹس کے برعکس جمنو اسپرم میں نر اور مادہ زواجی نسلیں خود پرور اور آزاد نہیں ہوتیں بلکہ وہ اسپوروفائٹ میں موجود اسپورینجیا کے اندر ہی نمو پاتی ہیں۔پولین گرین، مائیکرواسپورینجیم سے نکل کر ہوا میں بکھر جاتے ہیں اور میگا اسپوروفل پر موجود بیض دان کے اوپری سوراخ پر گرتے ہیں۔ وہاں پولین گرین اگ کر پولین ٹیوب بناتا ہے جو نر زواجوں کو لے کر بیض دان میں موجود آرکیگونیا کی طرف بڑھتا ہے اور اپنے اندر کا مادّہ آرکیگونیا کے منہ پر ڈال دیتا ہے۔ ملاپ کے بعد زائگوٹ خلوی تقسیم کے بعد ایمبریو میں تبدیل ہو جاتا ہے اور بعد ازاں بیض دان بن جاتا ہے۔ یہ بیج کسی مزید دیوار سے ڈھکے نہیں ہوتے اس لیے یہ گروپ برہنہ تخم کہلاتا ہے۔

3.5 انجیواسپرم (Angiosperms)

جمنواسپرم کے برعکس جہاں بیض دان برہنہ ہوتے ہیں، انجیواسپرم یا پھولوں والے پودوں میں پولین گرین اور بیض دان ایک نئی شکل اختیار کر لیتے ہیں جن کو پھول کہتے ہیں۔ انجیواسپرم وہ پھول والے پودے ہیں جن میں بیج چاروں طرف سے پھل سے گھرے ہوتے ہیں۔ انجیو اسپرم پودوں کا ایک بہت بڑا گروہ ہے۔یہ مختلف طرح کے محلات (Habitats) میں پائے جاتے ہیں۔ ان پودوں کے سائزبے حد چھوٹے خوردبینی ولفیا (Wolffia) سے لے کر لمبے یوکلپٹس (تقریباً سومیٹر لمبے) ہوتے ہیں۔ یہ ہمیں غذا اورخوراک، جانوروں کا چارہ، ایندھن، ادویات اور اس کے علاوہ کئی اور معاشی سامان مہیا کرتے ہیں۔ یہ دو کلاسوں میں منقسم ہیں۔
Pic8 Capture3

شکل 3.5 انجیواسپرم(a) Dicotyledon (b) ایکMonocotyledon

دو تخمی (Dicotyledons) اور ایک تخمی (Monocotyledons) (شکل3.5)۔ دو تخمی پودوں کے بیج میں دودالیں ہوتی ہیں جبکہ یک تخمی پودوں میں صرف ایک دال ہوتی ہے۔ پھولوں میں نرجنس اسٹامن ہوتا ہے ۔ہراسٹامن فلامنٹ اور اس کے اوپر موجود انتھر پر مشتمل ہوتا ہے۔ انتھرس کے اندر پولین مدر سیل تخفیفی تقسیم کے بعد مائکرو اسپورس بناتا ہے جومیچیور ہونے پر پولین گرین میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔پھول میں مادہ جنسی عضوکوپسٹل کہتے ہیں۔ پسٹل اسٹگما اسٹائل اور اوویری (Ovary) پر مشتمل ہوتی ہے۔ اوویری کے اندرکئی بیض دان ہوتے ہیں۔عام طور پر ہر بیض دان میں میگا اسپور ہوتا ہے۔ مدرسیل تخفیفی تقسیم سے گزر کر چار ہپلائڈ میگا اسپورس بناتا ہے۔ ان میں تین تقسیم کے بعد ایمبریوسیک بنتے ہیں۔ ہر ایمبریو سیک میں تین خلوی ایگ اپریٹس یعنی ایک بیضہ اور دو سائنرجڈ، 3 اینٹی پوڈل سیلس اور دو پولر مرکزے ہوتے ہیں۔ دو پولر مرکزے آپس میں مل کر ثانوی مرکزہ بناتے ہیں۔ پولین گرین انتھرسسے جدا ہونے کے بعد ہوا کے ذریعے یا کسی اور ذرائع سے پسٹل کے اسٹگما تک پہنچتے ہیں۔ اس عمل کو پولینیشن(Pollinetion) کہتے ہیں۔ پولین گرین اسٹگما پراگ کر ایک پولین ٹیوب بناتے ہیں۔
پولین ٹیوب اسٹائل اور اسٹگما کے ٹیشوز(Tissues) سے گزر کر بیض دان تک پہنچتی ہے اور ایمبریوسیک میں داخل ہو کر اپنے اندر موجود دو نر زواجوں کو خارج کرتی ہے۔ ان میں سے ایک نر زواجہ بیضے سیل(Syngamy) سے اور دوسرا ڈپلائڈ ثانوی مرکزے سے(ٹرپل فیوزن) مل کر ٹرپلائڈ پرائمری اینڈواسپرم مرکزہ بناتے ہیں۔


شکل 3.6 انجیواسپرم کا دور حیات

Pic9 Capture3
Pic10 Capture3
شکل 3.7 دور حیات کا پیٹرن (a) ہیپلانٹک (b)ڈپلانٹک (c)ہیپلوڈپلانٹک
دو فیوژن ہونے کی وجہ سے اس عمل کو ڈبل فرٹی لائزیشن (Double Fertilisation) کہتے ہیں۔ یہ عمل انجیواسپرم میں مخصوص ہے۔ ذائی گوٹ (ایک یا دو Cotyledonsکے ساتھ) ایمبریو بناتا ہے اور ٹرپلائڈپرائمری اینڈواسپرم مرکزہ کر اینڈواسپرم بناتا ہے جو ترقی پذیر ایمبریوکے لیے غذا فراہم کرتا ہے۔ سائنرجڈاس اور اینٹی پوڈلس فرٹی لائزیشن کے بعد زائل ہو جاتے ہیں۔ ان سب عملیات کے بعد بیض دان بیج میں اوویری پھل میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ انجیو اسپرم کا دور حیات شکل3.6 میں دکھایا گیا ہے۔
3.6 پودوں کا دور حیات اور تبادلۂ نسل (Plant Life Cycles and Alternation of Generations)
پودوں میں اکہرے (ہیپلائڈ) اور دوہرے (ڈپلائڈ) خلیے خیطی تقسیم (Mitosis) کے ذریعے تقسیم ہوسکتے ہیں۔ اس خاصیت کی بناء پر پودے ہیپلائڈ اور ڈپلائڈ اجسام بناسکتے ہیں۔ خیطی تقسیم کے ذریعے ہیپلائڈ پودے زواجے (Gametes) بناسکتے ہیں اور یہ پودے زواجی نسل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ فرٹی لائزیشن کے بعد ذائی گوٹ (ڈپلائڈ) بھی خطیتی تقسیم کے بعد ڈپلائڈ بذری نسل بناتا ہے اور ہیپلائڈ بذرے تخفیفی تقسیم کے بعد بنتے ہیں۔ یہ بذرے خیطی تقسیم کے بعد ایک بار پھر ہیپلائڈ پودے بناتے ہیں۔ لہٰذا کسی بھی جاتی تولیدی پودے کی دور حیات کے درمیان ہیپلائڈ ازدواجی نسل اور ڈپلائڈ بذری نسل آپس میں تبادلہ نسل کرتے ہیں۔
مگر مختلف پودوں کے گروہ ان کی نمائندگی کرنے والے افراد مندرجہ ذیل اختلاف رکھتے ہیں۔
صرف یک خلوی ذائی گوٹ بذری نسل کی نمائندگی کرتا ہے۔ بذری خود پرورنسل نہیں ہوتی۔ ذائی گوٹ تخفیفی تقسیم کے ذریعے ہیپلائڈ بذرے بناتا ہے۔ یہ ہیپلائڈ بذرے خیطی تقسیم کے ذریعے زواجی نسل کو نمو دیتا ہے۔ ایسے پودوں میں واضح اور ضیائی تالیفی اسٹیج آزاد زواجی نسل ہوتی ہے اور اس طرح کے دور حیات کو ہیپلانٹک (Haplontic) کہتے ہیں۔الگی مثلاً والواکس سپائرو گائرا اور کلیمائڈوناموساس کے کچھ انواع پیٹرن کی نمائندگی کرتے ہیں۔ (شکل3.7)۔
دوسری طرف ایک وہ ٹائپ کے جہاں ڈپلائڈ بذری نسل واضح ضیائی تالیف کرنے والی آزاد نسل۔یہاں زواجی نسل کی نمائندگی یک خلوی یا کچھ خلوی ہیپلائڈ (Haploid) گیمیٹوفائٹ کرتے ہیں۔ ایسے دورِ حیات کو ڈپلانٹک (Diplontic) کہتے ہیں۔ سارے بیج والے پودے مثلاً جمنو اسپرم اور انجیواسپرم اسی Pattern پر نمو پاتے ہیں (شکل 3.7)۔
برائیوفائٹس اور ٹیریڈوفائٹس ایک درمیانی صورت حال(Haplo-diplontic) پیش کرتے ہیں دونوںفیز کثیر خلوی ہوتی ہیں لیکن اپنے واضح  فیز میں مختلف ہوتی ہیں۔
ہیپلائڈ زواجی نسل، واضح، آزاد، ضیائی تالیف کرنے والی تختی نما غصنہ یا کھڑے پودے والی ہوتی ہے۔ اور یہ نسل محدود کثیر خلوی خود پرور یا نیم خود پرور زواجی نسل پر منحصر بذری نسل سے تبادلہ کرتی ہے۔ برائیوفاٹس کی تمام انواع اسی طریقہ کار کو اپناتی ہیں۔
ڈپلائڈ بذری نسل، واضح،آزاد، ضیائی تالیف کرنے والی دعائی پودے ہوتے ہیں۔ یہ کثیر خلوی سیروفائٹک/ خودپرور، آزاد لیکن تھوڑی مدت والی ہیپلائڈ زواجی نسل سے تبادلہ کرتی ہیں۔ اس طرح کے دورِ حیات کو ہیپلوڈپلانٹک کہتے ہیں۔ ٹیریڈوفائٹس کی تمام انواع اسی طریقہ کار کو اپناتی ہیں (شکل 3.7)۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اکثر الگی کے پودے ہیپلانٹک ہوتے ہیں۔ ان میں  سے کچھ جیسے ایکٹوکارپس، پالی سائفونیا، کلپ ہیپلوڈپلانٹک ہوتے ہیں۔ فیوکس ایک Alga ڈپلانٹک ہوتا ہے۔

خلاصہ

کنگڈم نباتات میں الگی، برائیو فائٹس، ٹیریڈو فاٹس، جمنو اسپرم اور اینجیو اسپرم آتے ہیں۔ الگی میں کلوروفل ہوتا ہے اور ان کا جسم غصنے پر مشتمل ہوتا ہے یہ خود پرور اور عموماً آبی عضوے ہیں۔ ان میں موجود پگمنٹ اور جمع شدہ غذا کی قسم کی بناء پر الگی کو تین کلاسوں کلوروفائیسی، فیوفائی سی اور روڈ فائی سی میں بانٹا گیا ہے۔ ۔ الگی کی افزائش عموماً نباتی تولید مثلاً ٹوٹنے اور بکھرنے سے اجاتی تولید، مختلف بذروں کے بننے سے اور جاتی تولید سے ہوتی ہے۔ جاتی تولید آئسوگیمی، انائسو گیمی، اوگیمی کے ذریعے ہوتی ہے۔
برائیو فائیٹس وہ پودے ہیں جو زمین میں رہ سکتے ہیں مگر جاتی تولید کے لیے پانی پر انحصار کرتے ہیں۔ ان کی نوع الگی کے مقابلے زیادہ تخفیص کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ پودے عموماً تھیلس نما، سیدھے یا لیٹے ہوئے ہوتے ہیں اور رائزاوائڈ کی مدد سے زمین پر چسپاں رہتے ہیں ان کا جسم جڑنما تنے نما اور پتے نما اعضاء پر مشتمل ہوتا ہے۔ برائیو فائیٹس کو لیور ورٹس (Liver worts) اور ماس میں بانٹا گیا ہے۔ لیوورٹس کا جسم فیتے نما اور چپٹا ہوتا ہے اور ماس کا جسم کھڑا (عمودی) نازک اور اس کے محور کے مخروطی انداز میں پتیوں لگی ہوئی ہوتی ہیں۔ برائیو فائیٹس کا نمایاں جسم زواجی ہوتا ہے جو زواجے بناتا ہے۔ ان زواجی نسل کے پودوں پر نر جنسی عضو انتھیریڈیا اور مادہ عضو آرکیگونیا لگتے ہیں۔ نراورمادہ زواجے مل کر ذائی گوٹ بناتے ہیں جو ایک کثیر خلوی جسم بناتا ہے جسے بذری نسل کہتے ہیں۔ یہ ہیپلائڈ بذرے بناتا ہے۔ یہ بذرے اگنے کے بعد زواجی نسل کو نمو دیتا ہے۔
ٹیریڈوفائیٹس میں نمایاں نسل بذری پودا ہوتا ہے جو اصل جڑ تنے اور پتیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ پودے کے یہ حصے اصلی دعائی بافت میں تخفیص ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کی نمایاں بذری نسل اسپورینجیم بناتی ہے۔ جو بذرے بناتی ہے بذرے اُپج کر زواجی نسل کے پودے بناتے ہیں جن کو خنک نم جگہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ زواجی نسل اور مادہ جنسی عضو بناتے ہیں جنھیں انتھریڈم اور آرکیگونیم کہتے ہیں۔ پانی کی موجودگی میں نر زواجے آرکیگونیم تک پہنچتے ہیں جہاں فرٹیلائزیشن کے بعد ذائی گوٹ بناتے ہیں۔ ذائی گوٹ اگ کر بذری نسل کو نمو دیتا ہے۔
جمنواسپرم وہ پودے ہوتے ہیں جن میں بیض خانہ برہنہ ہوتا ہے اوروہ اووری کی دیوار سے گھرے ہوئے نہیں ہوتے۔ فرٹیلائزیشن کے بعد بیج برہنہ رہتے ہیں اس لیے ان کو برہنہ تخم والے پودے بھی کہا جاتا ہے۔ جمنواسپرم میں مائکرواسپور س اور میگا اسپورس مائیکرو اسپورینجیئم اور میگا اسپورینجیئم میں نمو پاتے ہیں اور یہ دونوں اجسام مائیکرو اسپورو فل پر لگتے ہوتے ہیں۔ مائیکرواسپوروفل اور میگا اسپورو فلس مخروطی انداز میں ایک محور پر لگے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کو بالترتیب نر اور مادہ مخروط کہا جاتا ہے ۔پولن گرین اگ کر پولن ٹیوب بناتے ہیں اور یہ ٹیوب نر زواجوں کو بیض دان میں خارج کر تی ہے جہاں نر زواجے آرکیگونیم میں موجود بیضے سے ملتے ہیں۔ فرٹیلائزیشن کے بعد ذائی گوٹ خلوی تقسیم کے ذریعے ایمبریو بناتا ہے اور اس طرح بیض دان بیج میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
اینجیواسپرم میں نر (اسٹیمن) اور مادہ جنسی عضو (پسٹل) پھولوں میں پائے جاتے ہیں۔ ہر اسٹیمن میں ایک فلامنٹ اور انتھر ہوتا ہے۔ اینتھر تخفیفی تقسیم کے بعد پولن گرین یعنی زواجی نسل بناتا ہے۔ پسٹل اوورل پر مشتمل ہوتی ہے جس میں ایک یا ایک سے زیادہ بیض دان ہوتے ہیں۔ بیض دان کے اندر مادہ زواجی نسل ہوتی ہے جسے ایمبریوسیک کہتے ہیں اور اس کے اندر بیضہ ہوتا ہے۔ پولین ٹیوب، ایمبریوسیک میں داخل ہو کر دو نر زواجے کا اخراج کرتی ہے۔ ایک نر زواجہ ایک سیل(سن گیمی) سے ملتا ہے اور دوسرا ڈپلائیٹ ثانوی مرکزے (ٹرپل فیوژن) سے ملتا ہے۔ دو الگ الگ ملاپ کے عمل کو ڈبل فرٹیلائزیشن کہتے ہیں اور یہ عمل انجیواسپرم کے لیے مخصوص ہے۔ اینجیواسپرم دو کلاسوں دو تخم برگی اور یک تخم برگی۔میں بانٹا گیا ہے۔
کسی بھی جاتی تولید پودے کے دور حیات میں زواجے بنانے والی ہیپلائڈ زواجی نسل، بذرے بنانے والی ڈپلائڈ بذری نسل سے تبادلہ کرتی ہیں جسے تبادلہ نسل کہتے ہیں۔ مختلف پودے کے گروہ یا افراد مختلف دور حیات کا اظہار کرتے ہیں جیسے دورِ حیات ہیپلانٹک، ڈپلانٹک یا ہیپلوڈپلانٹک دور حیات۔

مشق

الگی کی درجہ بندی کی کیا بنیاد ہے؟
لورورٹس، ماس، فرن، جمنواسپرم اور اینجیواسپرم کے دور حیات میں کب اور کہاں پر تخفیفی تقسیم ہوتی ہے؟
ان تین پودوں کے گروپ کے نام لکھئے جن میں ارکیگونیا پایا جاتا ہے۔ان میں سے کسی ایک کا دور حیات مختصر الفاظ میں بیان کیجیے۔
مندرجہ ذیل میں پلائیڈی کی سطح لکھئے ماس کا پروٹونیمہ، پرائمری اینڈواسپرم مرکزہ، دو تخم برگی پودوں میں ماس کے پتیوں کے خلیے، فرن کے پروتھیلس کے خلیے، مارکنشیا کے جیما خلیے، مک تخم برگی پودوں کے میرسیٹم خلیے، یورورٹس کے بیضے اور فرن کازائی گوٹ۔
الگی اور جمنواسپرم کی معاشی اہمیت پر ایک نوٹ لکھیے۔
جمنواسپرم اور اینجیواسپرم دونوں بیج بناتے ہیں تو ان کی درجہ بندی الگ الگ کیوں کی گئی ہے۔
ہٹیرواسپوری کیا ہے؟ اس کی اہمیت پر مختصراً لکھئے اور دو مثالیں دیجیے۔
موزوں مثالیں دے کر مندرجہ ذیل تصورات کے بارے میں مختصراً لکھئے:
(i) پروٹونیمہ
(ii) انتھریڈیم
(iii) ارکیگونیم
(iv) ڈپلانٹک
(v) اسپوروفل
(vi) آئسوگیمی
مندرجہ ذیل میں تفریق کیجیے:
(i) سرخ اور بھوری الگی
(ii) لیورورٹس اور ماس
(iii) ہومواسپورس اور ہیٹرواسپورس ٹیریڈفائس
(iv) سن گیمی اور ٹرپل فیوژن
10۔ Monocotsاور Dicots میں کیسے فرق واضح کریں گے؟
11۔ کالم I اور کالم II کو ملائیے۔
کالم I کالم II
(a) Chlamydomonas (i) Moss
(b) Cycas (ii) Pteridophyte
(c) Selaginella (iii) Algae
(d) Sphagnum (iv) Gymnosperm
12۔ جمنواسپرم کی اہم خصوصیات کو بیان کیجئے۔