Skip to content

باب 4

حیوانی کنگڈم

(Animal Kingdom)

4.1 درجہ بندی کی بنیاد 
4.2 جانوروں کی درجہ بندی

جب تم اپنے چاروں طرف دیکھتے ہو تو تمہیں مختلف اقسام اور مختلف شکل وساخت کے جانور دکھائی دیتے ہیں۔ ابھی تک دس لاکھ سے زیادہ انواع کے جانوروں کی پہچان ہو سکی ہے۔ اس لیے جانوروں کی درجہ بندی اور بھی ضروری ہے۔درجہ بندی سے نئے انواع کی ترتیب میں مدد ملتی ہے۔





4.1 درجہ بندی کی بنیاد(Basis of Classification)

جانوروں کی بناوٹ اور ساخت مختلف ہونے کے باوجود کچھ بنیادی چیزیں ایسی ہیں جو خلیے کی ترتیب کے لحاظ سے کچھ جانوروں میں یکساں ہیں، مثلاً جسم کی بناوٹ میں توازن، سیلوم کی خاصیت،نظامِ ہاضمہ، نظامِ دوران خون یا نظامِ تولید لہٰذا یہ خصوصیات درجہ بندی کرتے وقت ذہن میں رکھی جاتی ہیں۔ ان میں سے کچھ کا ذکر مندرجہ ذیل ہے۔

4.1.1 ترتیب کے درجات (Levels of Organisation)

انیمیلیا (Animalia) کے تمام ممبران کثیر خلوی ہوتے ہیں مگر سارے ممبران یکساں خلیے کی ترتیب کا اظہار نہیں کرتے جیسے Sponges ڈھیلے خلیوں کا مجموعہ ہے یعنی ان میں ترتیب کادرجہ خلیے تک محدود ہے حالانکہ کسی حد تک مختلف خلیے مختلف کام انجام دیتے ہیں۔ Coelenterates میں خلیے کی ترتیب کسی حد تک پیچیدہ ہے۔ ان میں ایک طرح کے کام کو انجام دینے والے خلیے بافت (Tissue) کی شکل میں مرتب ہوتے ہیں۔ ایسے جانوروں میں ترتیب بافت کی سطح (Tissue Level) پر ہوتی ہے۔ اس سے مزید پیچیدہ ترتیب کی سطح ہے۔ عضوی سطح یعنی (Organ Level)    Platyhelminthes اور اس سے اوپر کے جانوروں میں پائی جاتی ہے جہاں کئی طرح کے بافت مل کر جسم کے اعضا(Organs) بناتے ہیں اور ہر عضو ایک خاص عمل کو کرنے کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ جانور جن میں مختلف عضو آپس میں مل کر ایک مکمل نظام مرتب کرتے ہیں ان میں یہ نظام (System) ایک خاص علمی الفضائی (Physiological) کام انجام دیتا ہے۔ یہ ترتیب عضوی نظام کی سطح پر ہوتی ہے۔ اس کی مثالیں ہمیں Annelids، Arthropods، Molluscs، Echinoderms اور Chordates میں ملتی ہیں۔ ان Phylla کے ممبران عضوی نظام کی پیچیدگیوں کے کئی نمونے پیش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ جانوروں میں نظامِ ہاضمہ ادھورا ہوتا ہے اور کچھ میں یہ مکمل ہوتا ہے۔مثال کے طور پر پلیٹی ہلمنتھیز(Platyhelminthes) میں نظام ہاضمہ ادھورا ہوتا ہے۔ اس کے جسم میں صرف ایک ہی سوراخ باہر کی طرف کھلتا ہے جس کی مدد سے خوراک جسم میں داخل ہوتی ہے اور اسی سوراخ سے فضلہ باہر آتا ہے۔ مکمل نظامِ ہاضمہ میں دو سوراخ ہوتے ہیں۔ ایک کے ذریعے خوراک اندر لی جاتی ہے اور دوسرے سوراخ سے فضلہ باہر آتا ہے۔ اسی طرح نظامِ دورانِ خون (Circulatory System) بھی دو طرح کے ہو سکتے ہیں۔ 
(i)آزاد قسم (Open Type) : جس میں خون  قلب کے ذریعے باہر پمپ کیا جاتا ہے اور خون سیدھا خلیوں اور بافت تک پہنچتا ہے اور وہ خون سے نہا جاتے ہیں۔ 
(ii) بند ٹائپ (Closed Type): جس میں خون پتلی پتلی نلکیوں (Arteries, Veins and Capillaries) کے ذریعے پورے جسم میں دوڑتا ہے۔

4.1.2 تناسب (Symmetry)

تناسب کی بنیاد پر جانوروں کو تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ Sponges زیادہ تر غیرتناسب (Asymmetrical) ہوتے ہیں یعنی مرکزی حصّے سے گزرنے والی کوئی لائن انہیں دو برابر حصوں میں تقسیم نہیں کرتی۔ اس کے برعکس جب کوئی لائن جسم کے Central Axis سے گذرتی ہے اور انہیں دو یکساں حصوں میں تقسیم کر تی ہے تو Radial symmetry کہتے ہیں۔ Coelenterates، Ctenophores اور Echinoderms  اسی طرح کا تناسب رکھتے ہیں۔(شکل 4.1a)۔ جانور جیسے Annelids، Arthropods وغیرہ میں  ایک ہی لائن جسم کو یکساں دائیں اور بائیں حصوں میں تقسیم کرتی ہے اس کو Bilateral symmetry کہتے ہیں۔(شکل4.1b)
Pic1 Capture4
Pic2 Capture4
شکل 4.2  جرمینل تہہ دکھاتے ہوئے (a) ڈپلو بلاسٹک (b)ٹرپلوبلاسٹک

4.1.3 ڈپلوبلاسٹک اور ٹرپلوبلاسٹک ترتیب(Diploblastic and Triploblastic Organisation)

جانور جن میں خلیے دو خاص تہوں (Embryonic Layers) یعنی باہری ایکٹوڈرم اور اندرونی اینڈوڈرم ہوتے ہیں انہیں ڈپلوبلاسٹک جانور کہتے ہیں مثلاً Coelenterates Mesoglea Undifferentiated layer، ایکٹوڈرم اور اینڈوڈرم کے درمیان موجود ہوتے ہے۔(شکل 4.2a)۔ ان کے علاوہ وہ جانور جن میں ایک مزید درمیانی تہہ میزووڈرم ہوتی ہے انہیں ٹرپلابلاسٹک کہتے ہیں جیسے (Platyhelminthes) سے لے کر Chordates تک،شکل 4.2b)۔
Pic3 Capture4
شکل 4.3  سیلوم دکھاتے ہوئے (a) سیلومیٹ (b) سیڈوسیلومیٹ (c)اسیلومیٹ 

4.1.4 سیلوم (Coelom)

جسم کی دیوار اور غذائی نلکی کی دیوار کے درمیان Cavity کی موجودگی یا عدم موجودگی درجہ بندی میں کافی اہمیت رکھتی ہے۔ جس Body Cavity پر میزوڈرم کا غلاف ہوتا ہے، اسے سیلومیٹ(Coelomates) کہتے ہیں۔ مثلاً Annelids، Molluscs، Arthropods، Echinoderms، Hemichordates اور Chordates (شکل 4.3 (a))۔ کچھ جانوروں میں یہ جسمانی خلاء (Body cavity) میزوڈرم کے غلاف سے نہیں ڈھکا ہوتا بلکہ میزوڈرم چھوٹے چھوٹے گچھوں میں بٹا ہوتا ہے اور ایکٹوڈرم اور اینڈوڈرم کے درمیان میں بکھرا ہوا ہوتا ہے۔ اس طرح کی جسمانی خلاء کو سیوڈوسیلوم(Pseudocoelom)  اور جن جانوروں میں یہ ہوتا ہے انہیں سیوڈوسیلومیٹ (Psedocoelomates) کہتے ہیں جیسے Aschelminths (شکل 4.3 (b))۔ جن جانوروں میں یہ جسمانی خلاء بالکل غائب ہوتا ہے انہیں  اَسیلومیٹ (Acoelomates)کہتے ہیں جیسے Platyhelminthes (شکل 4.3 (c))۔

4.1.5 سیگمنٹیشن (Segmentation)

کچھ جانوروں میں جسم کے اندرونی اور باہری حصے سلسلے وار ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ اندرونی اعضاء بھی ایک کے بعد ایک ہر ٹکڑے میں دوبارہ پائے جاتے ہیں۔ کینچوئے میں یہ ترتیب نظر آتی ہے اور اس سلسلے وار ترتیب کو میٹا میرک سگمنٹیشن کہتے ہیں اور اس عمل کو میٹامیرزم(Metamersim)کہا جاتا ہے۔
4.1.6 نوٹوکارڈ (Notochord)
کچھ جانوروں میں ایمبرئیو (Embryo) جب ترقی پذیر ہوتا ہے تو جسم کے اوپری (Dorsal) حصے پر میزوڈرم سے ماخوذ ایک تنکے نما عضو ابھرتا ہے اسے نوٹوکارڈ کہتے ہیں۔ جن جانوروں میں یہ نوٹوکارڈ ہوتا ہے انہیں کارڈیٹس (Chordates) کہتے ہیں اور جن جانوروں میں نہیں ہوتا انہیں نان کارڈیٹس (Non-chordates) کہتے ہیں مثلاً پوریفیرا(Porifera) سے اکائینوڈرم تک۔
Pic4 Capture4
اکائینوڈرمیٹا میں ریڈیل یابائی لیٹرل تناسب کے پائے جانے کا انحصار مرحلے پر ہے۔
شکل 4.4  کنگڈم انیمیلیا کی مشترک بنیادی خصوصیت کے بنا پر وسیع درجہ بندی

4.2 جانوروں کی درجہ بندی (Classification of Animals)

گذشتہ ابواب میں دیے گئے عام بنیادی اصولوں کی بناء پر انیمیلیا  (Animalia) خاندان کی درجہ بندی مندرجہ ذیل ہے (شکل 4.4)۔
مختلف فائلا کے اہم خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:

4.2.1 فائلم ـ پوریفیرا (Phylum - Porifera)

اس فائلم کے ممبران کوعام طور پراسپونجز (Sponges) کہا جاتا ہے۔ یہ عام طور پر سمندری اورزیادہ تر غیر متوازی جانورہوتے ہیں (شکل 4.5)۔ یہ ابتدائی مرحلے کے کثیر خلوی جانور ہوتے ہیں اور ان میں خلوی سطح کی ترتیب ہوتی ہے۔ اسفنج میں پانی کی نلکیوں کا جال ہوتا ہے۔ پانی بہت چھوٹے چھوٹے سوراخوں کے ذریعے، جنہیں آسٹیا (Ostia) کہتے ہیں، جسم کے اندرونی خلاء میں  داخل ہوتا ہے جسے Spongocoel کہتے ہیں۔ یہاں سے پانی اسکولم (Osculum) کے ذریعہ باہر خارج ہوجاتا ہے۔ یہ راستہ پانی کی آمدورفت، غذا کو حاصل کرنے، تنفس اور فضلے کے اخراج میں مدد دیتا ہے۔ کوئیونوسائٹ (Choanocytes) یا کالر خلیے،
Pic5 Capture4
 Spongocoel اور نالیوں کی اندرونی تہہ بناتے ہیں۔ خلیوں کے اندر غذا کا ہاضمہ تکمیل پاتا ہے۔ جسم کا استحکام اسپیکیول (Spicules) یا اسپونجن دھاگوں (Spongin Fibres) کی مدد سے ہوتا ہے۔ نر اور مادہ الگ نہیں ہوتے(Hermaphroditism) ،مثال کے طور پر انڈا اور نطفہ (Sperm) ایک ہی فرد پیدا کرتا ہے۔ اسپونجز کی اجاتی تولید ٹوٹنے اور بکھرنے سے اور جاتی تولید زواجوں کی مدد سے ہوتی ہے۔ اندرونی فرٹیلائزیشن ہوتا ہے اور ان کی طرفی غیر راست یعنی (Indirect) ہوتی ہے جس میں Larval Stage ہوتا ہے جو بالغوں سے بیرونی ساخت (Morphologically) کے اعتبار سے الگ ہوتے ہیں۔ 

مثال:سائکون (سائفا)، اسپونجیلا (میٹھے پانی کے اسپونج)اور یواسپونجیا (باتھ اسپونج)۔

4.2.2 فائلم - سیلنٹریٹا (نائیڈیریا) 

اکثر سمندری پانی والے سیسائل یا آزاد تیرنے والے اور ریڈیل توازن رکھنے والے آبی جانور ہیں (شکل 4.6)۔ نائیڈیریا(Cnidaria) نام ڈنک والے خلیوں (نیمٹیو سِسٹس) یا نائیڈو بلاسٹ سے آیا ہے۔ یہ نائیڈوبلاسٹ،
Pic6 Capture4
 ٹین ٹیکلز کی ایکٹوڈرم اور جسم پر موجود ہوتے ہیں سنیڈبلاسٹ، استحکام، اپنے بچاؤ اور شکار پکڑنے کے کام آتا ہے (شکل 4.7)۔ نائیڈیریابافت کی سطح کی ترتیب کا مظہر ہیں اور ڈپلو بلاسٹک ہوتے ہیں۔ ان میں ایک مرکزی گیسٹرواسکولر خلاء ہوتا ہے جس کا ایک منہ ہوتا ہے (ہائپواسٹوم)۔ غذا کا ہاضمہ خلیے کے اندر اور باہر دونوں جگہ ہوتا ہے۔ کچھ نائیڈیریا کی مثالیں کورل (مرجان) کا ڈھانچہ کیلشیم کاربونیٹ کا ہوتا ہے۔ نائیڈیریا میں دو مختلف جسمانی ساخت پائی جاتی ہیں۔ ایک پالپ (Polyp) اور دوسری میڈوسا (Medusa) (شکل 4.6)۔ پالپ سیسائل اور نلکی نما ہوتا ہے مثلاً ہائڈرا ، اڈمسیا میڈوسا چھتری نما اور آزاد تیرنے والا ہوتا ہے جیسے اویلیا یا جیلی فش۔ اس فائلم کی وہ نوع جو دونوں ساخت میں پائی جاتی ہے تبادلۂ نسل کا اظہار کرتی ہے یعنی پالپ اجاتی تولید کے ذریعے میڈوسا بناتے ہیں اور میڈوسا جاتی تولید کے ذریعے پالپ مثلاً اوبیلیا۔
مثالیں : فائسیلیہ (Portuguese man-of-war)، اڈمسیا (Sea anemone)، پینیٹو (Sea-pen) گورگونیا (Sea-fan) اور مینڈراینا (Brain coral)۔

4.2.3   فائلم - ٹینوفورا (Phylum - Ctenophora)

ٹینوفورز عموماً سمندری اخروٹ یا کامب جیلی کہلاتے ہیں۔ یہ مخصوص طور پر سمندری، ریڈیل تناسبی، ڈپلوبلاسٹک ہوتے ہیں اور ان کی ترتیب بافتی سطح کی ہوتی ہے۔ ان کے جسم کے قطبین سے آٹھ شعاعی بالوں والی کامب پلیٹ نکلتی ہیں جو انہیں متحرک ہونے میں مدد دیتی ہیں (شکل 4.8) ہاضمہ دونوں اکسٹرا سیلولر اور انٹرا سیلولر ہوتا ہے۔ بائیو لیومنیسنس (Bioluminescence) (جانداروں سے روشنی پھوٹنے کی خاصیت) ان میں بہت نمایاں طور پر پائی جاتی ہے۔ جنس الگ الگ نہیں ہوتی اور صرف جنسی تولید ہوتی ہے۔ بیرونی بارآوری غیر راست کے ہمراہ ہوتی ہے۔
مثالیں:  پلیوروبراکیا اورٹینوپلانا

4.2.4   فائلم - پلیٹی ہیلمنتھیز(Phylum - Platyhelminthes)

اس فائلم کے ممبران کے اجسام چپٹے ہوتے ہیں لہٰذا ان کو فلیٹ ورم (Flatworm)بھی کہتے ہیں (شکل 4.9)۔ یہ زیادہ تر اندرونی طفیلیے ہوتے ہیں اور جانوروں اور انسانوں کے جسم کے اندر پائے جاتے ہیں۔ فلیٹ ورمز بائی لیٹرل تناسب والے، ٹرپلوبلاسٹک اور غیر سیلومیٹ جانور ہوتے ہیں اور ان میں عضوی سطح کی تریب پائی جاتی ہے۔ طفیلی (Parasitic) اقسام میں ہک اور سکرز (Suckers) موجود ہوتے ہیں جن کی مدد سے یہ اپنی غذا براہِ راست میزبان سے حاصل کرتے ہیں۔ مخصوص خلیے جن کو فلیم خلیے (Flame cells) کہتے ہیں، آسموریگولیشن اور فضلے
Pic7 Capture4
Pic8 Capture4

شکل 4.9 پلیٹی ہیلمنتھیز کی مثالیں: (a) ٹیپ ورم (b) لیورفلوک 

 کے اخراج میں مدد کرتے ہیں۔ جنس الگ الگ نہیں ہوتی۔ بار آوری اندرونی ہوتی ہے اور افزائش لاروے کے مختلف درجات سے گذر کر ہوتی ہے۔ کچھ افراد جیسے پلانیریا کے اندر جنیریشن کی بے پناہ قوت ہوتی ہے۔

مثالیں:  ٹینیا (ٹیپ ورم) ، فیسیولا (لیورفلوک)۔

Pic9 Capture4
Pic10 Capture4
شکل 4.11 اینیلیڈیاکی مثالیں (a) نیرس (b) ہیروڈینیریا

4.2.5 فائلم - اشھلمنتھ (Phylum - Aschelminthes)

ایسکلمنتھیز کا جسم  کراس سیکشن کاٹا جائے تو دائرے دار نظر آتا ہے اس لیے انہیں راؤنڈ ورمز کہتے ہیں (شکل 4.10)۔ یہ آزادانہ زندگی بسر کرتے ہیں اور آبی یا زمینی ہوتے ہیں یا پودوں اور جانوروں میں طفیلی زندگی (Parasitic life) گذارتے ہیں۔ راؤنڈ ورمز کی آرگن سسٹم کی  سطح کی ترتیب ہوتی ہے۔ یہ بائی لیٹرل توازن رکھتے ہیں اور ٹرپلوبلاسٹک اور سوڈوسیلومیٹ جانور ہیں۔ ہاضمے کی نلی مکمل اور لحمی فیرنگس(Muscular Pharynx) کے ہمراہ ہوتی ہے۔ ایک خارجی ٹیوب اور اس میں موجود خارجی سوراخ کے ذریعے فضلے کا اخراج عمل میں آتا ہے۔ جنس الگ الگ ہوتی ہیں ڈائیوشیس (Dioecious)، یعنی نر اور مادہ الگ الگ اجسام میں ہوتے ہیں۔ اکثر مادّہ، نر کے مقابلے میں لمبی ہوتی ہیں۔ بار آوری اندرونی ہے اور براہِ راست افزائش ہوتی ہے یعنی نوزائدہ بچے بالغ کی شکل سے ملتے جلتے ہوتے ہیں۔ افزائش غیر راست بھی ہو سکتی ہے۔
مثالیں:الیسکیرس (راؤنڈ ورمز)، وُچیریریا (فائلیریا ورم) ، انسائلیوسٹوما (ہک ورم)۔

4.2.6 فائلم - اینیلیڈا (Phylum - Annelida)

یہ آبی (سمندری یا میٹھے پانی) یا زمینی ہوتے ہیں، آزاد اور کبھی کبھی طفیلی ہوتے ہیں۔ ان میں آرگن سِسٹم کی سطح کی ترتیب ہوتی ہے اور جسم بائی لیٹرل توازن کا ہوتا ہے۔ یہ ٹرپلوبلاسٹک،  میٹامیریکلی سگمینٹیڈ اور یوسیلومیٹ جانور ہیں۔ باہری جسم کے منقسم حصوں کو سیگمنٹ یا میٹامیئر (لاطینی، اینولس یعنی چھوٹا چھلّا) کہتے ہیں اور اسی لیے اس فائلم کواینیلیڈا کہا جاتا ہے (شکل 4.11)۔ ان میں لمبائی اور گولائی میں لحمی پٹیاں ہوتی ہیں جن کی مدد سے یہ حرکت کرتے ہیں۔ آبی اینیلیڈزجیسے نیرس (Nereis) کے جسم میں بفلی اپنڈیجز ہوتی ہے جس کو پیراپوڈیا کہتے ہیں اور یہ تیرنے میں مدد دیتا ہے۔ ایک بند سرکولیٹری نظام ہوتا ہے اور نفریڈیا (واحد نفریڈیم) آسموریگولیشن اور اخراج میں مدد کرتے ہیں۔ اعصابی نظام جوڑے دار گینگلیا (واحد، گینگلیون) جو بفلی نروز (Nerve) کے ذریعے دوہری وینٹرل نروکارڈ سے جڑا ہوا ہوتا ہے پر مشتمل ہوتا ہے۔ نیرس، ایک آبی فرد ڈائیوشئیس لیکن کینچوا اور جونک مونو اشیس ہوتی ہیں اور ان میں جاتی تولید ہوتی ہے۔
مثالیں: نیرس، فیریٹیما(ارتھ ورم) اور ہیروڈینیریا (خون چوسنے والی جونک)۔

4.2.7   فائلم - آرتھروپوڈا (Phylum - Arthropoda)

انیمیلیا کا یہ سب سے بڑا فائلم ہے۔ اس میں حشرات الارض شامل ہیں۔ اب تک شناخت کیے جانے والے جانوروں میں دوتہائی سے زیادہ انواع آرتھروپوڈا سے تعلق رکھتے ہیں(شکل 4.12)۔ ان میں آرگن سسٹم کی سطح کی ترتیب ہوتی ہے۔ ان میں بائی لیٹرل تناسب ہوتا ہے۔ یہ ٹرپٹوبلاسٹک، سیگمینٹڈ اور سیلومیٹ جانور ہیں۔ آرتھر وپوڈز کے جسم کا باہری ڈھانچہ کائٹن کا بنا ہوا ہوتا ہے۔ جسم سر، تھوریکس اور ابڈامن میں بٹے ہوتے ہیں۔ ان کے جوڑ دار پیر (آرتھروز = جوڑ، پوڈا = پیر)ہوتے ہیں۔ نظامِ تنفس، گلز، بک گلز، بک لنگ یا ٹریکیا پر مشتمل ہوتا ہے۔ سرکولیٹری نظام کھلا ہوتا ہے۔ اعصابی نظام، انٹینا، آنکھیں (مرکب یا سادہ)،ا سٹیٹوسٹ یا توازنی عضو پر مشتمل ہوتا ہے۔ فضلے کا اخراج گرین گلینڈ یا مالپگین ٹیوبیولز(Malpighian tubules) کے ذریعے ہوتا ہے۔ عموماً یہ ڈایوشیس ہوتے ہیں۔ بارآوری اندرونی ہوتی ہے۔ یہ عام طور پر انڈے دینے والے جانور ہیں۔ افزائش راست یا غیر راست ہوتی ہے۔ 
مثالیں:  معاشی اہمیت والے کیڑے: ایپِس (شہد کی مکھی)، بامبیکس (ریشم کا کیڑا) لیسیفر (لاکھ والا کیڑا)؛ ویکٹرز - انافلیز، کیولیکس اور ایڈیز (مچھر)؛ جھنڈ والے کیڑے- لوکسٹ (ٹِڈّے)؛ مجیات رُکاز - لیمولَس (کنگ کریب) ۔

4.2.8  فائلم - مولسکا (Phylum - Mollusca)

انیمیلیا کا یہ دوسرا بڑا فائلم ہے (شکل 4.13)۔ یہ زمینی یا آبی (سمندری یا میٹھے پانی والے) جانور ہوتے ہیں۔ ان میں آرگن-سسٹم کی سطح کی ترتیب ہوتی ہے۔ یہ ٹرپلوبلاسٹک اور سیلومیٹ ہوتے ہیں۔ جسم کیلکیریس (Calcareous) شیل سے ڈھکا ہوا ہوتا ہے اور جسم غیر سگمینٹیڈ ہوتا ہے جو سر، گوشت دار پیر اور ویسرل ابھار (Visceral hump) میں منقسم ہوتا ہے۔ ویسرل ابھار نرم اور گدّے دار کھال کی پرت سے ڈھکا ہوا ہوتا ہے۔ ابھار اور پرت کے بیچ کے خلاء کو مینٹل خلاء کہتے ہیں اور اس میں پروں کی مانند گِلز موجود ہوتے ہیں جن کا کام نظام تنفس اور نظامِ اخراج کو قائم رکھنا ہے۔ سر کے اوپری حصّے پر اعصابی ٹینٹکلز ہوتے ہیں۔ دہن میں ایک کانٹے دار چوسنے والا عضو ہوتا ہے جسے ریڈولا کہتے ہیں۔ یہ عام طور پر ڈایوشیس اور انڈے دینے والے ہوتے ہیں اور ان کی غیر راست افزائش ہوتی ہے۔
Pic11 Capture4
شکل  4.12 آرتھروپوڈا کی مثالیں  (a) ٹڈی  (b) تتلی (c)بچھو  (d) جھینگا
Pic12 Capture4
شکل 4.13 مولسکا کی مثالیں: (a) پائلا  (b)آکٹوپس
Pic13 Captur4
شکل 4.14 اکائینو ڈرماٹا کی مثالیں: (a) امسیٹیریس  (b)اوفیورا
Pic14 Capture4
مثالیں: پائلا (گھونگا)، پنکٹاڈا (موتی والے سیٖپ)، سیپیا (کٹل فش)، لولیگو (اسکویڈ)، آکٹوپس (ڈیول فش)؛ ایپلائی سیا (سمندری خرگوش)، ڈینٹیلیم (سونڈ والا یا دانت والا گھونگا) اور کیٹوپلیورا (کائٹن)۔

2.2.9 فائلم - اکائنوڈرماٹا(Phylum - Echinodermata)

ان جانوروں میں اندرونی ڈھانچہ کیل کیرس اسیکلز کا بنا ہوتا ہے اسی لیے ان کو اکائنوڈرماٹا (کانٹے دار جسم) کہتے ہیں (شکل 4.14)۔ سبھی انواع سمندری اور آرگن۔ سسٹم کی سطح کی ترتیب کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ ٹرپلوپلاسٹک اور یوسیلومیٹ جانور ہیں۔ نظام ہاضمہ مکمل جس میں دہن نیچے اور خارجی سوراخ اوپر کی جانب ہوتا ہے۔ ان کی امتیازی خصوصیت واٹرویسکولر نظام ہے جو چلنے پھرنے میں، غذا حاصل کرنے میں، سانس لینے میں مدد بہم پہنچاتا ہے۔ حقیقی نظامِ دوران خون نہیں ہوتا۔ جنس الگ الگ ہوتی ہیں اور ان میں صنفی تولید ہوتی ہے۔ بارآوری عموماً بیرونی اور افزائش آزادانہ تیرنے والے لاروا کی مدد سے ہوتی ہے۔ 

مثالیں:امیسٹیریس(اسٹارفش)، ایکائینس (سی ارچن) ، انٹیڈان (سی للی)، کیوکومیریا (سمندری کھیرا) اور اوفیورا (برٹل اسٹار)۔

4.2.10  فائلم - ہیمی کارڈیٹا(Phylum - Hemichordata)

یہ پہلے کارڈیٹا فائلم کا سب فائلم سمجھا جاتا تھا لیکن اس کو نان کارڈیٹا کے تحت الگ فائلم بنا دیا گیا ہے۔
یہ کینچوے نما سمندری جانوروں والا ایک چھوٹا سا گروپ ہے جس میں آرگن-سسٹم سطح کی ترتیب پائی جاتی ہے۔ ان میں بائی لیٹرل توازن پایا جاتا ہے، یہ ٹرپلوبلاسٹک اور سیلومیٹ جانور ہیں۔ جسمانی ساخت سلنڈریکل ہوتی ہے  جو پروبوسس ایک کالر اور لمبی سونڈ پر مشتمل ہوتی ہے (شکل 4.15)۔ سرکولیٹری نظام بند قسم کا ہوتا ہے۔ گلز کے ذریعے سانس لیتے ہیں۔ پروبوسس گلینڈ، اخراجی عضوہے۔جنس الگ الگ بار آوری بیرونی اور افزائش غیر راست ہوتی ہے۔ 

مثالیں: بیلینو گلاسس اور سیکو گلاسس۔

4.2.11   فائلم - کارڈیٹا (Phylum - Chordata)

فائلم کارڈیٹا میں شامل جانوروں کی بنیادی خصوصیت نوٹوکارڈ (ایک اوپر نروکارڈ کی خالی نلی اور فیرینجیل گل سلٹ کے جوڑے) کی موجودگی ہے (شکل 4.16)۔ یہ بائی لیٹرل توازن، ٹرپلو بلاسٹک، یوسیلومیٹ اور آرگن -سسٹم سطح کی ترتیب والے جانور ہیں۔ ان میں اخراجی سوراخ کے بعد تک دم ہوتی ہے اور سرکولیٹری نظام بند قسم کا ہوتا ہے۔ ٹیبل 4.1 میں کارڈیٹا اور نان کارڈیٹا کی امتیازی خصوصیات کا موازنہ کیا گیا ہے۔ فائلم کارڈیٹا مزید تین سب فائلمز میں تقسیم کیا گیا ہے: یوروکارڈیٹا یا ٹیونیکیٹا، سیفیلوکارڈیٹا اور وریٹبریٹا۔
سب فائلا یوروکارڈیٹا اور سیفیلو کارڈیٹا کو اکثر پروٹوکارڈیٹا کہا جاتا ہے (شکل 4.17) اور اس میں شامل انواع ہمیشہ سمندری ہوتی ہیں۔ یوروکارڈیٹا میں نوٹوکارڈ صرف لاروا کی دم میں ہوتی ہے جبکہ سیفیلوکارڈیٹا میں یہ سر سے لے کر دم تک اور زندگی بھر موجود رہتی ہے۔

مثالیں: یوروکارڈیٹا - ایسیڈیا، سالپا، ڈولیولم؛ سیفیلو کارڈیٹا - برینکیو سٹوما (امفیوکسس یا لانسِٹ)۔

سب فائلم ورٹیبریٹا کے ممبران کے افزائش کے ابتدائی دور (ایمبر یانک زمانے) میں ٹوٹوکارڈ موجود ہوتی ہے اور بالغ ہونے پر یہ کارٹیلج یا ہڈی کی 
Pic15 Capture4
شکل 4.16  کارڈاٹا خصوصیت

ٹیبل 4.1 کارڈیٹا اور نان کارڈیٹا کا موازنہ

نمبر شمار کارڈیٹا نان کارڈیٹا
نوٹوکارڈ موجود  نوٹوکارڈ موجود نہیں (غائب)
مرکزی اعصابی نظام اوپری جانب، کھوکھلا اور ایک مرکزی اعصابی نظام نیچے کی جانب ٹھوس اور دوہرا
فیرنگس گِل سلٹز کے ذریعے سوراخ دار گل سلٹز موجود نہیں
قلب نیچے کی جانب قلب (اگر موجود ہے) اوپر کی جانب
اخراجی سوراخ کے بعد تک دم موجود اخراجی سوراخ کے بعد والی دُم موجود نہیں۔
ورٹیبرل کالم میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ لہٰذا سارے ورٹیبریٹنر کارڈیٹ  ہوتے ہیں لیکن سارے کارڈٹینر، ورٹیبریٹنر نہیں ہوتے۔ ورٹیبریٹنر میں کارڈیٹا کی اس بنیادی خصوصیت کے علاوہ دو، تین یا چار خانوں کا ایک لحمی قلب نیچے کی جانب ہوتا ہے۔، اخراج کے لیے اور اسموریگولیشن کے لیے گردے اور جوڑ دار بضلی فِنس یا لِمبز ہوتے ہیں۔
سب فائلم ورٹیبریٹا مزید منقسم ہوتا جیسا کہ اگلے صفحہ پر دیا گیا ہے۔ 

4.2.11.1 کلاس - سائیکلو اسٹوماٹا

 (Class - Cyclostomata)

سائیکلو اسٹوماٹا کے تمام ممبران کچھ مچھلیوں پر بیرونی طفیلیے (Ectoparasites) کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان کا جسم لمبا اور دہن کے دونوں طرف سانس لینے کے لیے 6 - 15 جوڑے گِل سلٹز (Gill slits) کے ہوتے ہیں۔ سائیکلوسٹومز کے دہن بغیر جبڑوں کے گول اور چوسنے والے

Pic16 Capture4

شکل 4.17  ایسیڈیا

Pic17 Capture4
 ہوتے ہیں (شکل 4.18)۔ ان کے جسم چھلکوں اور جوڑ دار فِنس سے محروم ہوتے ہیں۔ کرینیم اور ورٹیبرل کالم، کارٹلیج کی بنی ہوئی ہوتی ہے۔ سرکولیٹری نظام بند قسم کا ہوتا ہے۔ سائیکلو سٹومز سمندری جانور ہیں لیکن تولیدی عمل کے لیے میٹھے پانی کی طرف ہجرت کرتے ہیں۔ انڈے دینے کے کچھ ہی دنوں بعد ان کی موت ہو جاتی ہے۔ انڈوں میں سے نکلے لاروا میٹا مارفوسس کے بعد واپس سمندر کی جانب ہجرت کر جاتے ہیں۔

مثالیں: ہیٹرومائزون (لیمپرے) اور مکزائن (ہیگ فش)۔

Pic18 Capture4

شکل 4.18  بغیر جبڑے کا ورٹیبریٹ - پیٹرومِکسون

Pic19 Capture4

شکل 4.19  کارٹیلج والی مچھلیوں کی مثال: (a) شارک  (b) آری مچھلی

4.2.11.2  کلاس - کانڈرِکتھِس

(Class - Chondrichthyes)

یہ سمندری جانور ہیں ان کے اجسام اسٹریم لائن اور ان کا اندرونی ڈھانچہ (Endoskeleton) کارٹیلج کا بنا ہوتا ہے (شکل4.19)۔ دہن نیچے کی جانب ہوتا ہے۔ نوٹوکارڈ تاحیات رہتی ہے۔ گل سلٹز الگ الگ ہوتے ہیں اور ان پر ڈھکن یا اپرکُلم (Operculum) نہیں ہوتے۔ کھال سخت اور باہری سطح پر پلیکوائڈ چھلکے ہوتے ہیں۔ دانت بھی پلیکوائڈ اسکیلز میں تبدیل ہو کر اندر کی طرف مڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کے جبڑے بہت مضبوط ہوتے ہیں۔ یہ جانور شکاری عادات کے ہوتے ہیں۔ ہوا سے بھرے غبّاروں کے نہ ہونے کی وجہ سے ڈوبنے سے بچنے کے لیے ان کو مسلسل تیرتے رہنا پڑتا ہے۔ قلب میں دو خانے ہوتے ہیں (ایک آریکل اور ایک وینٹریکل)۔ کچھ میں برقی عضو ہوتے ہیں (جیسے ٹارپیڈو) اور کچھ میں زہریلے ڈنک (جیسے ٹرایگان) یہ سرد خونی جانور ہیں ان کو پویکلوتھرمس (Poikilothermous) جانور کہتے ہیں یعنی ان میں اپنے جسم کے درجۂ حرارت کو کنٹرول کرنے کی خاصیت نہیں ہوتی۔ جنس علیحدہ ہوتی ہیں۔ اندرونی بار آوری اور کئی نوع دیوی پیرس (یعنی نومولود پیدائش) ہوتے ہیں۔

مثالیں: اسکولیوڈان (ڈاگ فش)، پریسٹِس (آری مچھلی)، کارکیروڈان (گریٹ سفید شارک)، رینکوڈان (وہیل شارک)۔

4.2.11.3 کلاس - اُسٹیکتھس (Class - Osteichthyes)

اس کلاس میں شامل مچھلیاں سمندر اور میٹھے پانی، دونوں جگہوں پر پائی جاتی ہیں۔ ان میں ہڈیوں کا اندرونی ڈھانچہ ہوتا ہے۔ ان کے جسم اسٹریم لائنڈ ہوتے ہیں اور دہن بالکل اوپری سرے پر ہوتا ہے (شکل 4.20)۔ اس میں چار جوڑے گِلز موجود ہوتے ہیں جو اپرکولم سے ڈھکے ہوتے ہیں۔ کھال (سائیکلوائڈ ٹینوائیڈ) چھلکوں سے ڈھکی ہوئی ہوتی ہے۔ ہوائی غبارے جسم میں موجود ہوتے ہیں جو جسم کو اچھال مہیا کرتے ہیں۔ قلب دو خانوں (ایک آریکل اور ایک وینٹریکل) پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ سرد خونی جانور ہیں۔ جنس علیحدہ ہوتی ہے۔ بار آوری عموماً بیرونی ہوتی ہے۔ یہ انڈے دینے والی ہوتی ہیں اور ان میں افزائش براہِ راست ہوتی ہے۔

مثالیں: سمندری: ایکسوسیٹس (فلائنگ فش)، ہپپو کیمس (سمندری گھوڑا)؛ میٹھے پانی میں: لیبیو (روہُو  مچھلی)، کٹلا(کٹلا)، کلیریس (ماگور مچھلی)، اکویریم: بٹّیا (لڑنے والی مچھلی)، ٹیرو فلَِّم (راوئیے دار مچھلی)۔

4.2.11.4 کلاس - ایمفیبیا (Class - Amphibia)

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے (گریک: ایمفی، دو + بائیوس، حیات)، ایمفیبینز آبی اور زمینی دونوں جگہوں میں رہ سکتے ہیں (شکل 4.21)۔ اکثر انواع میں دو جوڑ لمبز ہوتے ہیں۔ جسم دو حصوں، سر اور جسم میں منقسم ہوتا ہے کچھ میں دم بھی ہو سکتی ہے۔ ایمفیبینز کی کھال نم اور بغیر چھلکوں کے ہوتی ہے۔ آنکھیں پلکوں کے ہمراہ ہوتی ہیں۔ ایک جھلّی جسے ٹمپینم کہتے ہیں، کانوں کا کام کرتی ہے۔ ہاضمے کی نلی، پیشاب اور تولیدی نلی ایک ہی باہری سوراخ میں کھلتی ہیں جس کا نام کلوکا ہے۔ نظامِ تنفس گلز، پھیپھڑوں اور نم کھال کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ قلب تین خانوں دو آریکلز اور ایک وینٹریکل) کا ہوتا ہے۔ 
Pic20 Capture4
شکل 4.20  ہڈیوں والی مچھلیوں کی مثال:
 (a) سمندری گھوڑا، (b) کٹلا
Pic21 Capture4
شکل 4.21  ایمفیبیا کی مثالیں: 
(a) سیلا مینڈر (b) فراگ (مینڈک)
یہ سرد خونی جانور ہیں۔ صنفیں علیحدہ ہوتی ہے اور  بارآوری بیرونی۔ یہ انڈے دینے والے نوع ہیں اور افزائش راست یا غیر راست ہوتی ہے۔

مثالیں: بفو (ٹوڈ)، رانا (مینڈک)، ہائلا (ٹری فراگ)، سیلامینڈرا (سیلا مینڈر)، اسٹیموفِس (بغیر نمبر کے ایمفیبیا)۔

Pic22 Capture4
شکل 4.22  ریپٹائز: (a) ٹری لزرڈ (b)کروکوڈائل (c) ٹرٹل (iv)سانپ

4.2.11.5 کلاس - ریپٹی لیا (Class - Reptilia)

اس کلاس کا نام اس میں موجود رینگنے یا سہارے سے چڑھنے والے جانوروں کی طرف اشارہ کرتا ہے (لاطینی، ریپیریا ریپٹم، رینگنا یا پیٹ کے بل چلنا)۔ یہ عموماً زمینی جانور ہوتے ہیں اور ان کے جسم کی کھال میں کانٹے دار ابھار موجود ہوتے ہیں۔ ان میں ایپی ڈرمل چھلکے موجود ہوتے ہیں (شکل 4.22)۔ ان کے کانوں کا باہری حصہ نہیں ہوتا بلکہ ٹِمپینم کانوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ لمبز اگر موجود ہوتی ہیں تو دو جوڑ میں ہوتی ہیں۔ قلب عموماً تین خانوں میں منقسم ہوتا ہے لیکن مگرمچھ کا قلب چار خانوں میں منقسم ہوتا ہے۔ ریپٹائلز پوئکلوتھرمس ہیں۔ سانپ اور چھپکلی اپنی پرانی کھال کو کینچلی کی شکل میں گرادیتے ہیں۔ جنس علیحدہ ہوتی ہیں۔ بارآوری اندرونی ہوتی ہے۔ یہ انڈے دینے والے جانور ہیں اور ان کی افزائش براہ راست ہوتی ہے۔
مثالیں: کیلون (کچھوے)، ٹِسٹوڈو (ٹورٹائیز)، کیمیلیون (شجری لزرڈ)، کالوٹز (گارڈن لزرڈ) کروکوڈائلس (مگرمچھ)، ایلیگیٹر، ہیمی ڈکٹائلَس (چھپکلی)، زہریلے سانپ- ناجا (کوبرا) بنگاروس (کریٹ)، وائپیرا (وائپر)۔

4.2.11.6 کلاس- ایوس (پرندے) (Aves)

ایوس کی امتیازی خصوصیات میں پروں کا موجود ہونا ہے اور ان میں چند  نہ اڑنے والی چڑیوں (مثلاً شتر مرغ) کے علاوہ زیادہ تر چڑیاں اُڑ سکتی ہیں۔ ان میں چونچ پائی جاتی ہے (شکل 4.23)۔ ان کے اگلے دو لمبز تبدیل ہو کر پنکھ بن گئے ہیں اور پچھلی لمبز پر چھلکے ہوتے ہیں اور یہ تبدیل ہو کر ٹانگیں بن جاتی ہیں جن سے چلنے پھرنے کا کام لیتے ہیں یا تیرنے اور شاخوں پر چڑھنے کا کام لیتے ہیں۔ ان کی جلد خشک اور بغیر غدود کے ہوتی ہے سوائے دُم کے حصے کے 
Pic23 Capture4
شکل 4.23 چند چڑیاں : (a) گدھ (b) شتر مرغ (c) طوطا (d) مور

جہاں روغنی غدود موجود ہوتے ہیں۔ اندرونی ڈھانچہ مکمل طور پر ہڈیوں کا بنا ہوا ہوتا ہے جو اندر سے کھوکھلی ہوتی ہیں۔ ان میں ہوا بھری ہوتی ہے جنہیں نیومیٹک کہتے ہیں۔ ان کے ہاضمے کی نلی میں دو اضافی خانے ہوتے ہیں جنہیں کراپ اور گذارڈ کہتے ہیں۔ قلب مکمل طور پر چار خانوں میں منقسم ہوتا ہے۔ یہ گرم خونی (Warm Blooded) یعنی ہومیوتھرماس جانور ہوتے ہیں لہٰذا یہ اپنے جسم کا درجۂ حرارت ہمیشہ ایک جیسا رکھ سکتے ہیں۔ نظامِ تنفس پھیپھڑوں پر منحصر ہوتا ہے اور ہوا سے پُرتھیلے پھیپھڑوں سے منسلک ہوتے ہیں جو تنفس میں مزید مدد کرتے ہیں۔ جنس علیحدہ ہوتی ہیں، بارآوری اندرونی ہوتی ہے، انڈے دیتے ہیں اور افزائش براہِ راست ہوتی ہے۔

مثالیں: کوروس (کوا)، کولمبا (کبوتر)، ستاکیولا (طوطا)، اسٹروتھیو (شترمرغ)، پیوہ (مور)، اپٹینو ڈائٹ (پینگوئن)، نیوفرون (Neophron) (گدھ)۔

4.2.11.7 کلاس - میمیلیا (پستانیے)(Class - Mammalia)

یہ مختلف محلّات (Habitats) میں پائے جاتے ہیں مثلاً قطب شمالی و جنوبی، صحراؤں، پہاڑوں، جنگلات، گھاس کے میدان، اور تاریکی غاروں میں۔ کچھ اپنے آپ کو اڑنے یا پانی میں رہنے کے لیے ڈھال لیتے ہیں۔ ان کی نمایاں 
Pic24 Capture4
خصوصیت دراصل مادہ میں پائے جانے والے وہ پستانی غدود ہیں جن کی مدد سے ماں اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہے۔ ان کو میمیری گلینڈ کہتے ہیں۔ ان میں دو جوڑے لمبز (جوارع) ہوتے ہیں جو چلنے، دوڑنے، چڑھنے، زمین میں بل بنانے، تیرنے یا اڑنے میں کام آتے ہیں (شکل 4.24)۔ جلد پر بالوں کی موجودگی سے جسم کی حرارت کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ پِننّی (Pinnae) کی شکل میں دوکان ہوتے ہیں۔ جبڑوں میں مختلف قسم کے دانت ہوتے ہیں۔ قلب میں چار خانے ہوتے ہیں۔ ان میں جسمانی حرارت کو برقرار رکھنے کی خاص صلاحیت ہوتی ہے (ہومیوتھرمس) تنفس صرف پھیپھڑوں کے ذریعے عمل میں آتا ہے۔ صنفین جدا ہوتی ہیں اور اندرونی بارآوری ہوتی ہے۔ چند کو چھوڑ کر یہ بچے دینے والے جانور ہیں اور افزائش براہ راست ہوتی ہے۔

مثالیں: انڈے دینے والے: آرنیتھورِنکس (پلیٹی پس یا ڈک بل) اور اکیڑنا (کانٹے دار چیونٹی خور)؛ بچے دینے والے: میکروپس(کنگارو)، مینِس (پینگولن یا چھلکے دار چیونٹی خور)، ٹیروپس (اڑنے والی لومڑی)، ڈیسموڈس (ویمپائر چمگا دڑ)، لیمور، کیمیلس (اونٹ)، مکاکا (بندر)، ریٹس (چوہا)، کینِس (کتا)، فیلس (بلّی)، ایلیفس (ہاتھی)، اکواس (گھوڑا)، ڈیلفینس (عام ڈولفن)، بیلینو پٹرا) (بلیو وہیل) پنیتھیرا ٹائگرس (شیر)، پینتھیرا لیو( ببرشیر)۔

جدول 4.2 :  کنگڈم انیمیلیا کے مختلف فائلا کی امتیازی خصوصیات

فائلم ترتیب کی سطح تشاکل سیلوم سیگمی نٹیشن نظامِ ہاضمہ سرکولیٹری نظام نظامِ تنفس امتیازی خصوصیات

پوریفیرا خلوی کئی غیرحاضر غیرحاضر غیرحاضر غیرحاضر غیرحاضر جسم سوراخوں والا اور دیوار میں نلیاں
سیلنٹریٹا بافتی ریڈیل غیرحاضر غیرحاضر نا مکمل غیرحاضر غیرحاضر نیڈوبلاسٹ موجود
ٹینوفورا بافتی ریڈیل غیرحاضر غیرحاضر نا مکمل غیرحاضر غیرحاضر کامب پلیٹ حرکت کے لیے
پلیٹی ہلمنتھس آرگن اورآرگن سسٹم بائی لیٹرل غیرحاضر غیرحاضر نا مکمل غیرحاضر غیرحاضر چپٹا جسم، سکرز موجود
اشہلمنتھس آرگن سسٹم بائی لیٹرل سوڈسیلومیٹ غیرحاضر مکمل غیرحاضر غیرحاضر غیر حاضر
انالیڈا آرگن سسٹم بائی لیٹرل یوسیلومیٹ غیرحاضر مکمل حاضر حاضر باہرجسم رنگزمیں بٹاہوا
ارتھروپوڈا آرگن سسٹم بائی لیٹرل یوسیلومیٹ غیرحاضر مکمل حاضر حاضر بیرونی ڈھانچہ کیٹکل کاپیر تین جوڑ موجود
مولسکا آرگن سسٹم بائی لیٹرل یوسیلومیٹ غیرحاضر مکمل حاضر حاضر بیرونی ڈھانچہ کاخول موجود
اکائنیوڈرمیٹا آرگن سسٹم بائی لیٹرل یوسیلومیٹ غیرحاضر مکمل حاضر حاضر آبی وعالی نظام،ریڈیل متشاکل
ہیمی کارڈیٹا آرگن سسٹم بائی لیٹرل یوسیلومیٹ غیرحاضر مکمل حاضر حاضر ورم نما،پروبوسس،کالراورٹرنک موجود
کارڈیٹا آرگن سسٹم بائی لیٹرل (دو جانبی) یوسیلومیٹ حاضر مکمل حاضر حاضر نوٹوکارڈ،اوپری جانب،کھوکھلی نروکارڈ،گل سلٹزسمبزیافنس کے ہمراہ

خلاصہ 

حیوانات کی درجہ بندی میں جانوروں کی بنیادی خصوصیات جیسے ترتیب کی سطح، متشاکل (Symmetry)، خلوی ترتیب، سیلوم، سیگمیٹیشن، نوٹوکارڈ وغیرہ نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان بنیادی خصوصیات کے علاوہ کئی اور امتیازی خصوصیات ہیں جو ہرفائلا یا کلاس کے لیے مخصوص ہیں۔
پوریفیرا میں کثیر خلوی جانور شامل ہیں جو خلوی سطح کی ترتیب کا اظہار کرتے ہیں اور ان میں سوتے دار کوئینوسائٹ موجود ہوتے ہیں۔ سیلنٹریٹ میں ٹینٹکلر اور ان پر نیڈوبلاسٹ ہوتے ہیں۔ یہ عموماً آبی، چسپاں یا آزادانہ تیرنے والے ہوتے ہیں۔ ٹینوفورز کامب پلیٹز کے ساتھ سمندری جانور ہیں۔ پلیٹی ہلمنتھس کے اجسام چپٹے اور دو جانبی متشاکل (بائی لیٹرل) کا اظہار کرتے ہیں۔ طفیلتے انواع میں نمایاں ماصے (Suckers) اور ہکس ہوتے ہیں۔ اشلمنتھِس سوڈسیلومیٹ ہوتے ہیں اور ان میں طفیلتے اور غیر طفیلتے راؤنڈ ورمز شامل ہیں۔
انالیڈز میٹامیریکلی سیگمنٹڈ اور حقیقی سیلوم والے جانور ہیں۔ آرتھروپوڈز کی تعداد جانوروں میں سب سے زیادہ ہے اور ان کی امتیازی خصوصیت ان کے جوڑا دار پیر ہیں۔ مولسکس کے جسم نہایت نرم لیکن ایک بیرونی کلکیریس خول سے ڈھکے ہوئے ہوتے ہیں۔ جسم کی بیرونی پرت کائٹن کی بنی ہوئی ہوتی ہے۔ اکائینوڈرمس کی جلد کانٹے دار اور سخت ہوتی ہے۔ ان کی امتیازی خصوصیت آبی وعائی نظام (Water Vascular System) کی موجودگی ہے۔ ہیمی کارڈیز ورم نما سمندری جانوروں کا ایک چھوٹا سا گروہ ہے۔ ان کے جسم سلنڈریکل، سونڈ، کالر اور شکم پر مشتمل ہوتے ہیں۔
کارڈیز میں وہ جانور شامل ہیں جن میں نوٹوکارڈ یا تو حیات یا ابتدائی ایمبریانک مرحلے تک موجود رہتی ہے۔ دوسری عام خاصیت اوپری، کھوکھلی نروکارڈ اور جوڑے دار گل سلٹنر کی موجودگی ہے۔ کچھ ورٹیبریٹنر(اِگناتھا) میں جبڑے نہیں ہوتے جبکہ زیادہ تر (نیتھواسٹوماٹا) میں جبڑے موجود ہوتے ہیں۔ سائیکلو سٹوماٹا گلاس اگناتھا کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ نہایت ادنیٰ کارڈیٹز ہیں اور مچھلیوں پر طفیلی زندگی بسر کرتے ہیں۔ نیتھواسٹوماٹا میں دو سپر کلاس ہیں، پائسینر اور ٹیٹراپوڈا۔ پائسینر میں کانڈرکتھس اور آسیکتھس آتے ہیں جن میں حرکت کے لیے فِنس ہوتے ہیں۔ کانڈرکتھس وہ مچھلیاں ہیں جن میں اندرونی کارٹلیج کا ڈھانچہ ہوتا ہے اور سمندری ہیں۔ کلاس ایمفی بیا، ریپٹی لیا، ایوس اور میمیلیا کی انواع میں دو جوڑ جوارح ہوتے ہیں اس لیے انہیں ٹیٹراپوڈا میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایمفی بیا زمین اور پانی دونوں جگہوں پر رہ سکتے ہیں۔ ریپٹائلز کی خاصیت خشک اور کانٹے دار جلد ہے۔ سانپوں میں جوارح موجود نہیں ہوتے۔ مچھلیاں، ایمفی بین اور ریپٹائلز پویکیلو تھرمس (سردخونی) ہیں۔ ایوز گرم خونی، ان کے جسم پر سے ڈھکے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کے اگلے جوارح تبدیل ہو کر پنکھ بناتے ہیں جو اڑنے میں مدد کرتے ہیں۔ پچھلے جوارح، دوڑنے، چلنے، تیرنے، شاخوں پر بیٹھنے اور پکڑنے کا کام کرتے ہیں۔ ان کی امتیازی خصوصیت پستانوں کی موجودگی ہے جن کو میمیری گلینڈز کہتے ہیں۔ ان کے اجسام بالوں سے ڈھکے ہوتے ہیں اور عموماً بچے پیدا کرتے ہیں۔

مشق

اگر بنیادی خصوصیات کا خیال نہ رکھا جائے تو تم کو جانوروں کی درجہ بندی میں کیا کیا مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
اگر کوئی نمونہ آپ کو دیا جائے تو اس کی درجہ بندی کے لیے آپ کن کن خصوصیات کا مشاہدہ کریں گے؟
جانوروں کی درجہ بندی میں باڈی کیویٹی (جسمی خلاء) اور سیلوم کا مشاہدہ آپ کے لیے کتنا اہم ہے؟
انٹراسیلولر اور ایکسٹرا سیلولر ہاضمے میں تفریق کیجیے۔
براہ راست اور غیر راست افزائش میں تفریق کیجیے۔
طفیلی پلیٹی ہیالمنتھز میں آپ کو کیا خصوصیات ملتی ہیں؟
حیوانوں کے خاندان میں آرتھروپوڈا کے سب سے بڑے گروہ ہونے کی کیا کیا وجوہات آپ کے ذہن میں آتی ہیں؟
مندرجہ ذیل میں آبی وعائی نظام کس گروہ کی خصوصیت ہے؟
(a) پوریفیر (b) ٹینوفورا (c) اکائینوڈرماٹا (d) کارڈیٹا
’’سارے ورٹیبرٹیز، کارڈٹینر ہیں لیکن سارے کارڈٹینر، ورٹیبرٹیز نہیں ہیں‘‘ وضاحت کیجیے۔
10۔ پائسینر (Pisces) میں ہوائی غباروں کی کیا اہمیت ہے؟
11۔ پرندوں میں کیا تبدیلیاں ہیں جن کی مدد لے کر وہ اُڑتے ہیں؟
12۔ انڈے دینے والی اور بچے دینے والی مادہ میں انڈوں اور بچوں کی تعداد برابر ہو سکتی ہے؟ اگر ہاں تو کیوں اور اگر نہیں تو کیسے؟
13۔ جسم میں سیگمینٹشن، مندرجہ ذیل میں سب سے پہلے مشاہدے میں آتا ہے؟
(a) پلیٹی ہلمنتھز (b) اشہلمنتھز (c) انالیڈا (d) آرتھروپوڈا
14۔ مندرجہ ذیل کو لائن کے ذریعہ ملائیے۔
(i) اپرکیولم (a) ٹینوفورا
(ii) پیرا پوڈیا (b) مولسکا
(iii) چھلکے (c) پوریفیرا
(iv) کامب پلیٹس (d) ریپٹیلیا
(v) ریڈولا (e) انالیڈا
(vi) بال (f) سائیکلواسٹوماٹا اور کانڈرکتھس
(vii) کوئنوسائٹ (g) میمیلیا
(viii) گل سلٹز (h) آسٹکتھس
15۔ انسان میں پائے جانے والے طفیلی جانوروں کی ایک فہرست تیار کیجیے۔