اکائی 2
پودوں اور جانوروں میں ساختی تنظیم
(Structural Organisation in Plants and Animals)
باب 5
پھولدار پودوں کی ساخت
باب 6
پھولدار پودوں کی علم تشریح
باب 7
حیوانات میں ڈھانچے کی تنظیم
زمین پر رہنے والے حیات کے مختلف انواع کا بیان ان کی ساخت کو دیکھ کر یا بعد میں عدسے اور خوردبین کے ذریعے مشاہدے کی بناء پر کیا۔ یہ بیانات عموماً انواع کے بیرونی اور اندرونی ساختی خصوصیات سے متعلق ہیں۔ مزید براں، قابلِ مشاہدہ حیاتی مظہر بھی ان بیانات کا حصہ رہے۔ تجرباتی حیاتیات یا فعلیاتی علم کا بائیولوجی کا حصہ بننے سے قبل تاریخ طبیعی کے ماہروں نے صرف بائیولوجی کو ہی بیان کیا۔ لہٰذا بائیولوجی ایک لمبے عرصے تک تاریخ طبیعی ہی رہی۔ انواع کے بیان تفصیل کے لحاظ سے حیرت انگیز تھے۔ جبکہ ابتداء میں طالب علم اس سے بیزار نظر آئے گا لیکن یہ ذہن نشین کرنا ہوگا کہ تفصیلی بیان بعد میں تخفیفی بائیولوجی میں استعمال ہوا جہاں سائنسدانوں کی توجہ حیاتیاتی انواع کے بیان اور ان کی ساخت کے مقابلے میں حیاتی افعال پرزیادہ رہی۔ لہٰذا فعلیاتی علم یا ارتقائی بائیولوجی میں تحقیقی سوال اٹھانے میں یہ بیان زیادہ معنی خیز اور مددگار ثابت ہوئے۔ اس اکائی کے ابواب میں فعلیاتی علم یا تجزیۂ کردار کی ساختی بنیاد اور پودوں اور جانوروں میں ساختی تنظیم کے بارے میں مطالعہ کریں گے۔ آسانی کے لیے پودوں اور جانوروں کے لیے بیرونی اور اندرونی خصوصیات کو الگ الگ پیش کیا گیا ہے۔
Pic2 Capture7
کیتھرین عیسائو
(1898 – 1997)
کیتھرین عیسائو 1898ء میں یوکرین میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے روس اور جرمنی میں زراعت کی تعلیم حاصل کی اور 1931 میں امریکہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اپنے ابتدائی تحقیقی مقالوں میں انہوں نے بتایا کہ پودوں میں کرلی ٹاپ وائرس غذائی نلکیوں یعنی فلوئم بافت کے ذریعے پھیلتا ہے۔ ڈاکٹر عیسائو کی کتاب پلانٹ اناٹومی 1954 میں شائع ہوئی جس کی اثر آفریں نشویاتی تصور کا دنیا بھر میں بھرپور خیر مقدم کیا گیا اور جس کی وجہ سے اناٹومی مضمون میں لوگوں کی ازسرِ نو دلچسپی پیدا ہو گئی۔ اناٹومی آف سیڈپلانٹ ان کی دوسری کتاب 1960 میں شائع ہوئی۔ اس کو اکثر بائیولوجی کی ویبسٹر کہا جاتا ہے اور اس نے قاموسی کی جگہ اختیار کرلی۔ 1957 میں ان کا انتخاب نیشنل اکاڈمی آف سائنس کی ممبر کی حیثیت سے ہوا اور یہ اعزاز حاصل کرنے والی یہ چھٹی خاتون تھیں۔ اس پروقار ایوارڈ کے علاوہ ان کو صدر جارج بش نے 1989 میں نیشنل میڈل آف سائنس سے بھی نوازا۔
1997 میں ان کے انتقال کے وقت مسوری بوٹینکل گارڈن کے اناٹومی اور مارفولوجی کے ڈائریکٹر پیٹرریون نے عیسائو کو ان الفاظ کے ساتھ یاد کیا کہ ’’99 سال کی عمر میں بھی ڈاکٹر عیسائو پلانٹ بائیولوجی کے میدان میں مکمل طور پر قابض رہیں۔‘‘
باب 5
پھولدار پودوں کی ساخت
(Morphology of Flowering Plants)
5.1 جڑ
5.2 تنا
5.3 پتے
5.4 انفلورسنس یا پھولدار
5.5 پھول
5.6 پھل
5.7 بیج یا تخم
5.8 تمثیلی پودے کا نیم تکنیکی زبان میں بیان
5.9 کچھ اہم خاندان کے ممبران کا بیان
انجیواسپرم میں پھولوں کے رنگ اور ان کی ساخت کی وسعت ہمیشہ ایک دل نشین منظر پیش کرتی ہے۔ بیرونی ساخت اور رنگ میں بے انتہا گوناگونی (ڈائیورسٹی) ہونے کے باوجود ان پودوں کا بنیادی خاکہ یکساں ہوتا ہے یہ جڑ، تنا، پتے، پھول اور پھل میں منقسم ہوتی ہیں۔
باب 2اور 3 میں ہم نے پودوں کی بیرونی ساخت اور دوسری خصوصیات کی بنیاد پر درجہ بندی کے بارے میں بحث کی تھی۔ کسی بھی کامیاب نظام درجہ بندی کے لیے یا کسی پودے کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہمیں پودوں کے حصوں کے معیاری ٹیکنیکل نام یا ان کی تعریف کا علم ہو۔ اس کے علاوہ پودے کے مختلف حصوں میں جو ممکن ویریشن (انحراف) ہوتے ہیں مثلاً ضرورت کے مطابق کچھ حصے تبدیل ہو کر کوئی اور شکل اختیار کر لیتے ہیں، ان کا بھی علم ہونا ضروری ہے۔ کسی بھی خودرو (Weed) پودے کو اکھاڑ کر اس کا مشاہدہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ان میں جڑ تنا اور پتے موجود ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ان میں پھول اور پھل بھی نکلے ہوں۔ زیر زمین حصے میں جڑ کا نظام ہوتا ہے اور ہوائی حصے کو تنے کا نظام کہتے ہیں۔
5.1 جڑ (Root)
زیادہ تر دو تخم برگی (Dicotyledonous) پودوں میں ریڈیکل لمبا ہو کر پرائمری (ابتدائی) جڑ بناتا ہے جو زمین کے اندر نمو پاتی ہے۔ اس پر بغلی (Lateral) جڑیں نکلتی ہیں جن کو ثانوی (Secondary) اور تیسرے درجہ کی (Tertiary) جڑیں کہتے ہیں۔ پرائمری جڑیں اور ان پر موجود شاخیں مل کر اصل جڑ نظام (ٹیپ روٹ سسٹم) بناتی ہیں مثال کے طور پر سرسوں کے پودے میں جیسا کہ شکل 5.2a میں دیکھا جاسکتا ہے۔ یک تخم برگی (Monocotyledonous) پودوں میں پرائمری جڑ بہت جلدی ختم ہو جاتی ہے اور ان کی جگہ بہت ساری جڑیں لے لیتی ہیں۔ یہ تنے کے سب سے نچلے حصے سے نکلتی ہیں اور ان کو دھاگے دار جڑوں کا نظام (Fibrous Root System) کہتے ہیں مثلاً گیہوں (شکل 5.2b)۔ گھاس اور برگد جیسے پیڑوں میں جڑیں ریڈیکل کے بجائے پیڑ کے دوسرے حصوں سے نکلتی ہیں ان کو Adventitious جڑیں کہتے ہیں (شکل5.2c)۔ جڑ کا اصل کام پانی اور اس کے ساتھ گھلے ہوئے معدنیات (Minerals) کا زمین سے انجذاب، غذا کا اجماع، پودے کو زمین سے مضبوطی سے باندھے رکھنا اور پودے کے گروتھ ریگولیٹرز کو بنانا ہوتا ہے۔
شکل 5.1 پودے کے حصّے
5.1.1 جڑ کے حصے (Regions of the Root)
جڑ کا سرا ایک ٹوپی نما ساخت سے ڈھکا ہوتا ہے جسے روٹ کیپ کہتے ہیں (شکل 5.3)۔ جب جڑ زمین میں بڑھتی ہے تو روٹ کیپ جڑ کی نرم نوک کی حفاظت کرتا ہے۔ روٹ کیپ سے کچھ ملی میٹر اوپر میریسٹمیٹک سرگرمیوں کا حلقہ ہوتا ہے۔ اس حصے کے خلیے چھوٹے، پتلی دیوار والے اور گاڑھا پروٹوپلازم والے ہوتے ہیں۔ یہ خلیے مسلسل تقسیم ہوتے رہتے ہیں۔ اس سے اگلے حصے کے خلیے بہت سرعت سے بڑے اور لمبے ہوتے جاتے ہیں اور یہ جڑ کی لمبائی کی وجہ بن جاتے ہیں۔ اس حلقہ کو لمبائی بڑھانے والے حلقے (Region of Elongation) کہتے ہیں اور اس کے خلیے بتدریج تخصیص ہو کر پختہ ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا اس سے متصل ریجن کو ریجن آف میچوریشن کہتے ہیں۔ اس ریجن کے ایپیڈرمل خلیے بہت نازک، دھاگے دار اور لمبے اجسام میں تبدیل ہو جاتے ہیں جنھیں روٹ ہیئر کہتے ہیں۔ یہ روٹ ہیئر زمین سے پانی اور گھلے ہوئے غیر نامیاتی اجزاء کو جذب کرتے ہیں۔
شکل 5.3 جڑ کے آخری سرے کے علاقے
5.1.2 جڑوں کی تعدیل (Modifications of Roots)
عموماً جڑ کا کام انجذاب اور پودے کا استحکام ہے لیکن جن پودوں میں اصل جڑیں اور اتفاقی جڑیں اپنی اپنی ضروریات کے لحاظ سے دوسرے افعال انجام دیتی ہیں جن کے لیے ان کی ساخت میں بھی تبدیلیاں آتی ہیں۔ ثانی الذکر جڑیں متبدلہ جڑیں (Modified Roots)کہلاتی ہیں۔ یہ جڑیں غذا کے اجماع، استحکام اور تنفس کے کام انجام دیتے ہیں (شکل5.4اور5.5)۔ گاجرشلجم کی ٹیپ روٹ اور شکر قند کی اتفاقی جڑیں پھول کر اپنے اندر غذا جمع کرتی ہیں۔ کیا آپ کچھ مثالیں دے سکتے ہیں؟ کیا کبھی تمہیں یہ خیال آیا کہ برگد کے درخت کو مدد کرنے والی لٹکتی ہوئی چیزیں کیا ہیں؟ اصل میں یہ پروپ جڑیں ہیں اسی طرح مکا اور گنے کے پیڑ کے نچلے حصے سے یہ مدد گار جڑیں نکلتی ہیں۔ یہ سٹلٹ جڑیں کہلاتی ہیں۔ کچھ پودے جیسے رائزوفورا جو دلدلی زمین میں اگتے ہیں، اس کی جڑیں زمین میں سے باہر آجاتی ہیں۔ ان جڑوں کو نیو میٹو فورز کہتے ہیں جو آکسیجن حاصل کرنے کے لیے دلدلی زمین سے باہر آجاتی ہیں۔ (شکل5.5)
شکل 5.4 جڑ کی تعدیل: برگد کا پیڑ
شکل 5.5 جڑ کی تعدیل (a) کھانا جمع کرنا (b) عمل تنفس: رائذوفورا میں نیمیٹوفورا
5.2 تنا(The Stem)
وہ کون سی خصوصیات ہیں جو تنے کو جڑ سے الگ کرتی ہیں؟ تنا اوپر کی جانب بڑھتا ہوا محور کا وہ استوانی حصہ ہے جس پر شاخیں، پتیاں، پھول اور پھل لگتے ہیں۔ یہ اُگے ہوئے بیج میں موجود ایمبریو کے پلومول سے نکلتے ہیں۔ تنے میں نوڈ اور انٹرنوڈ ہوتی ہیں۔ تنے میں جہاں سے پتیاں نکلتی ہیں اس جگہ کو نوڈ کہتے ہیں اور ان جگہوں کے درمیانی حصے کو انٹرنوڈ کہتے ہیں۔ تنے پر کلیاں ہوتی ہیں جو یا تو اوپری حصے پر یا بغل میں ہوتی ہیں۔ تنا شروع میں سبز رنگ کا ہوتا ہے لیکن بعد میں پختگی کی عمر کو پہنچنے تک چوبی اور گہرا بھورا ہو جاتا ہے۔
تنے کا خاص کام پیڑ کے پھیلاؤ کو شاخوں کے ذریعے پھیلانا ہوتا ہے جن پر پھول اور پھل لگے ہوتے ہیں۔ یہ پانی غیر نامیاتی مرکبات اور ضیائی تالیف کے ذریعے بنی ہوئی غذا کو پودے کے سارے حصوں میں پہنچانے کا کام انجام دیتے ہیں۔ کچھ تنے غذا کو جمع کرنے کا کام، استحکام پہنچانے اور نباتاتی تولید کی حفاظت کا کام بھی کرتے ہیں۔
5.2.1 تنوں کی تعدیل (Modifications of Stem)
تنے ہمیشہ ویسے ہی نظر نہیں آتے جیسا انھیں لگنا چاہیے۔ وہ مختلف کاموں کو انجام دینے کے لیے اپنی شکل بدل لیتے ہیں۔ تنے حسب ضرورت دیگر افعال بھی انجام دیتے ہیں۔ ایسے تنوں کو متبدلہ تنا کہتے ہیں (شکل 5.6)۔ زیر زمین تنے مثلاً آلو، ادرک، ہلدی، زمین قند اور اروی تبدیل ہو کر اپنے اندر غذا جمع کرتے ہیں اور اسی لیے یہ نباتی پیدائش کا کام بھی انجام دیتے ہیں۔ یہ زمین میں دبے رہتے ہیں اور نئی نسل بنانے کے لیے سازگار موسم کی واپسی کا انتظار کرتے ہیں۔ بعض پودوں میں پتے کی بغل سے ایک مخصوص پیچ دار دھاگے نما ساخت نکلتی ہے جو کسی سہارے کی اطراف لپٹ کر پتے اور تنے کو سہارا دیتی ہے اور اوپر چڑھنے میں مدد کرتی ہے اس کو ٹینڈرل (Tendril) کہتے ہیں مثلاً کھیرا، کدو، تربوز اور انگور اور پیشن فلاور میں تنے کی بغلی کلیاں (Axillary Buds) تبدیل ہو کر چوبی، سیدھے اور نوک دار کانٹوں میں بھی بدل جاتی ہیں۔ کانٹے بہت سارے پودوں میں پائے جاتے ہیں مثلاً نیبو کے پیڑ، بوگین ویلیا، یہ پودے کو
شکل 5.6 تنوں کی تعدیل (a) کھانا جمع کرنا (b) سہارا (c) حفاظت (d) پھیلائو/ویجی ٹیٹیو پروپیگیشن
جانوروں سے بچاتے ہیں۔ کچھ صحرائی پودے اپنے تنے کو تختی نما ساخت میں تبدیل کر لیتے ہیں (اوپنشیا کیکٹس) یا گدے دار اور لمبے (یوفوربیا) اور گول حصوں میں بدل لیتے ہیں۔ یہ سبز رنگ کے ہوتے ہیں اور ضیائی تالیف کرتے ہیں اور اپنے اندر پانی کو بھی جمع رکھتے ہیں۔ گھاس اور اسٹرابیری جیسے پودوں کے زیر زمین تنے افقی سمت میں چاروں طرف پھیلتے ہیں اور جب پودے کے پرانے حصے مر جاتے ہیں تو ان تنوں میں سے نئے پودے پھوٹتے ہیں۔ پودینے اور یاسمین جیسے پودوں میں تنے کی اساس سے ایک جانبی شاخ نمو پاتی ہے اور اوپر کی جانب بڑھتی ہوئی ایک کمان سی بنا کر زمین کی سطح کو چھوتی ہے، اس کو اسٹولون کہتے ہیں۔ بعض آبی پودوں میں پتے کی بغل کلی سے جانبی شاخ نمو پاتی ہے جو کم و بیش دبیز اور چھوٹی ہوتی ہے۔ ایک حد تک بڑھنے کے بعد اس کے راس پر پتوں کا ایک گچھا اورنچلی جانب متعدد لمبی جڑیں نمو پاتی ہیں مثلاً پسٹیا اور جل کمبھی میں۔ کیلے، انناس اور گل داودی میں اصل تنے سے جانبی شاخیں نکلتی ہیں اور زیر زمین افقی سمت پھیلتی ہیں اور کہیں کہیں زمین سے اوپر نکل کر ایک نئے پودے کو نمودیتی ہیں۔
5.3 پتے(Leaf)
پتے، تنے کے اوپر جانبی سمت میں ہوتے ہیں، یہ چوڑے، چپٹے اشکال کے ہوتے ہیں۔ پتے، تنے کی نوڈ سے نکلتے ہیں اور ان کے بغلی زاویے (Axil) میں ایک کونپل (Axillary Bud) ہوتی ہے۔ یہ کونپل بعد میں ایک شاخ کو نمو دیتی ہے۔ پتیاں تنوں کے راسی مقسم (Apical Meristem) سے نکلتی ہیں اور راس جو سلسلہ (Acropetal order) میں منظم ہوتی ہیں۔ یہ شعاعی ترکیب کے لیے سب سے اہم نباتی عضو ہیں۔
ایک عام پتے کے تین حصے ہوتے ہیں پتے کا قاعدہ (Leaf Base) پیٹول اور لیمینا (درقہ) (شکل 5.7a)- پتا، لیف بیس کے ذریعے تنے سے جڑا رہتا ہے اور اس کے بیس پردو بغلی چھوٹی پتیاں ہوسکتی ہیں جنھیں اسٹیپول (Stipules) کہتے ہیں۔ ایک تخم برگی پودوں میں لیف بیس پھیل کر تنے کے کچھ حصے تک ایک مکمل یا نا مکمل غلاف سا بناتا ہے۔ کچھ دال والے پودوں میں لیف بیس پھیل کر Pulvinus بناتا ہے۔ پیٹیول کی مدد سے پتا روشنی میں رہتا ہے اور ہوا کے ذریعے ہلتا رہتا ہے جس سے پیڑ کے آس پاس خنکی برقرار رہتی ہے اور پتیاں ٹھنڈی رہتی ہیں ساتھ ہی پتیوں کی سطح کو تازی ہوا فراہم ہوتی ہے۔ لیمینا چوڑا اور سبز رنگ کا ہوتا ہے اور اس میں رگیں ہوتی ہیں۔ اس کے درمیان میں ایک میان رگ اور اس رگ سے کئی شاخیں پھوٹتی ہیں۔ میان رگ کو مڈرب کہتے ہیں۔ یہ رگیں پتے کو سختی مہیا کرتی ہے اور پانی کی منتقلی کی ذمے دار ہوتی ہیں۔ پتے کی شکل کنارے، سطح، نوک اور کنارے پر کٹاؤ مختلف قسم کی پتیوں میں مختلف ہوتے ہیں۔
شکل 5.7 ایک پتی کی ساخت
(a) پتی کے حصّہ (b) ریٹیکولیٹ وینیشن
(c) پیرلل وینشین
شکل 5.8 مرکب پتیاں (a) پنیٹلی کمپاؤنڈ پتی
(b) پال میٹلی کمپاؤنڈ پتی
5.3.1 رگیت (Venation)
پتے میں رگوں یا نسوں کی ترتیب کو رگیت یا رگ داری کہتے ہیں۔ جب رگیں (Veins)اور رگیزے (Veinlets) لیف بلیڈ میں پھیلنے کے بعد مہین جال کی شکل بناتی ہیں تو اس طرح کی رگیت کو جال دار یا ریٹیکولیٹ وینیشن کہتے ہیں (شکل 5.7 (b))۔ جب رگیں (Veirs) ورق یا لیمینا کے اندر ایک دوسرے کے متوازی ہوتی ہیں تو اس طرح کی رگیت کو متوازی رگیت یا پیرلل وینیشن کہتے ہیں (شکل 5.7(c))۔ دو تخم برگی پودوں میں عموماً ریٹیکولیٹ وینیشن ہوتا ہے جبکہ پیرلل وینشین یک تخم برگی پودوں کی خاصیت ہوتی ہے۔
5.3.2 پتیوں کی قسمیں(Types of Leaves)
ساخت کے اعتبار سے پتے دو قسم کے ہوتے ہیں یعنی سادہ پتے اور مرکب پتے۔ سادہ (سمپل) پتے میں لیمینا مکمل اور صرف ایک حصے پر مشتمل ہوتا ہے۔ مرکب (کمپائونڈ) پتے میں لیمینا پوری طرح دو یا دو سے زیادہ حصوں میں بھی برگچوں (Leaflets) میں منقسم ہوتا ہے۔ مرکب پتیوں کی مزید دو قسمیں ہوتی ہیں (شکل5.8)۔
مرکب پتیوں میں اگر ہر برگچے پر کی مانند مڈ رب پر ترتیب دیتے ہوئے ہوں تو ان کو پنیٹلی کمپاؤنڈ لیف کہتے ہیں مثلاً گل مہر میں اس طرح کے نظام میں مڈرب کو ریکس (Rachis) کہتے ہیں اور اگر مرکب پتے میں برگچے پنجہ کے مانند ترتیب دیتے ہوئے ہوں تو ان کو پال میٹلی کمپاؤنڈ لیف کہتے ہیں جیسے سلک کاٹن میں۔
5.3.3 برگی نظام (Phyllotaxy)
تنے یا شاخوں پر لگے ہوئے پتوں کی ترتیب کے نمونوں کو برگی نظام کہتے ہیں۔ یہ عام طور پر تین قسم کے ہوتے ہیں۔ آلٹرنیٹ یا متبادل : اس ترتیب میں ایک نوڈ سے ایک پتی ایک طرف نکلتی ہے اور دوسری متصل نوڈ سے دوسری پتی دوسری طرف نکلتی ہے جیسے چائنا روز یا گڑھل سرسوں اور سورج مکھی میں۔ اپوزٹ ترتیب : یہاں تنے کی ہر نوڈ سے پتیوں کا ایک جوڑا اس طرح نکلتا ہے کہ ایک پتی ایک طرف تو دوسری پتی دوسری طرف جیسے Calotropis اور امرود میں۔ اگر ایک نوڈ سے دو سے زیادہ پتیاں نکلیں اور تنے کے چاروں طرف ایک گھیرا بنا لیں تواس ترتیب کو وہرلڈ (Whorled) یا چکردار کہتے ہیں جیسے اسٹونیا میں۔
شکل 5.9 مختلف برگی نظام (a) الٹرنیٹ (b) اپوزٹ (c) وہرلڈ
5.3.4 پتیوں کی تعدیل(Modifications of Leaves)
پتوں کا اہم کام ضیائی ترکیب میں مدد دینا ہے۔ لیکن بعض پودوں میں پتے اپنی ضروریات کے لحاظ سے دیگر کام بھی انجام دیتے ہیں۔ ان پتوں کی ساخت میں مختلف تبدیلیاں ہوتی ہیں اور ایسے پتے متبدلہ پتے (Modified leaves) کہلاتے ہیں۔ مٹر کے پودوں میں پتے ایک ڈورے کی شکل میں تبدیل ہوجاتے ہیں جنھیں لیف ٹینڈرل کہتے ہیں یا کیکٹس میں یہ پتے کانٹوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں جو پودے کی حفاظت کرتے ہیں (شکل 5.10 a, b )۔ پیاز اور لہسن کی گداز (Fleshy) پتیاں غذا جمع کرنے کا کام انجام دیتی ہیں(شکل 5.10c)۔ کچھ پودے جیسے اسٹریلین اکیشیا میں پتیاں بہت چھوٹی اور کم عمر ہوتی ہیں لیکن ان کے پیٹیول چپٹے ہو کر سبز رنگ کے ہو جاتے ہیں اور غذا بنانے کا کام انجام دیتے ہیں۔ کیڑے خور پودوں کے پتے جیسے پچر پلانٹ اور وینس فلائی ٹریپ بھی متبدلہ پتیاں ہیں۔
شکل 5.10 متبادل پتے (a) سہارے دینے والے ٹینڈرل(b) حفاظت کانٹے (c)غذا کا اجماع: پیاز
5.4 پھولداری (The Inflorescence)
پھول اصل شاخ کی ایک متبدلہ شکل ہے جو تولیدی افعال انجام دینے کے لیے مختص ہوجاتی ہے۔ پودے کی شاخ پر پھولوں کی تنظیم کو پھولداری کہتے ہیں جہاں شاخ کا اپیکل میر سٹیم، پھول میرسٹیم میں تبدیل ہو جاتا ہے لہٰذا ایسی شاخوں کی نوڈس پر پتیوں کے بجائے پھول نکلتے ہیں۔ انٹرنوڈس لمبا نہ ہو کر کنڈینس (Condense) ہو جاتا ہے۔ اپیکس جب پھول بن جاتا ہے یا مسلسل فروغ پاتا ہے تو دو طرح کی پھولواری ہوتی ہے۔ ریسی موز اور سائموز۔ ریسی موز میں پھولداری کا محور غیر محدود ہوتا ہے اور نو عمر پھول محور کی راس پر رہتے ہیں اور معمر پھول اساس پر۔ نچلے حصے کے پھول پہلے کھلتے ہیں اور راس کے پھول بعد میں اس کو اکروپیٹل ترتیب کہتے ہیں (شکل5.11)۔ سائموز میں پھولداری کا محور، محدود طور پر نمو پاتا ہے۔ اس پر ایک پھول تیار ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کی نمی رک جاتی ہے۔ نو عمر پھول اساس کی جانب اور معمر پھول راس کی طرف تیار ہوتا ہے۔ یعنی پھولوں کے کھلنے کا طریقہ بیسی پیٹل (Basipetal) ہوتا ہے (شکل 5.12)۔
شکل 5.11 ریسی موز انفلورسنس
شکل 5.12 سائیموز انفلورسنس
5.5 پھول(Flower)
پھول اینجیواسپرم کی تولیدی اکائی ہے۔ اس کا کام صنفی تولید انجام دینا ہے۔ ایک تمثیلی پھول کے چار گھیرے ہوتے ہیں۔ یہ چاروں گھیرے ایک کے بعد ایک دبیز پیڈسیل (Pedicel) پر مرتب ہوتے ہیں۔ اس دبیز پیڈسیل کو تھیلیمس یارسیپٹکل کہتے ہیں۔ بیرونی گھیرا کیلکس، اس سے اندر کا رولا، اس کے بعد انڈروشیم اور آخر میں یا بیچ میں گائنیشیم ہوتا ہے۔ کیلکس اور کارولا دیگر گھیرے ہوتے ہیں لیکن انڈروشیم اور گائنیشیم تولیدی گھیرے ہوتے ہیں۔ کچھ پھول جیسے پیاز میں کیلکس اور کارولا میں رنگوں کی تمیز نہیں ہوتی لہٰذا انھیں پیرینتھ (Perianth) کہتے ہیں۔ جب پھولوں میں انڈروشیم اور گائنیشیم دونوں ہوتے ہیں تو ایسے پھولوں کو دوصنفی کہتے ہیں۔ وہ پھول جن میں صرف انڈرو شیم یا گائنیشیم ہوتا ہے یک صنفی کہلاتے ہیں۔
توازن کے لحاظ سے پھول ایکٹینو مارفک (ریگولر) یازائی گومارفک (بائی لیٹرل) ہوتا ہے۔ جب پھول کو مرکز سے گذرتی ہوئی کسی بھی لائن سے دویکساں حصوں میں بانٹا جاسکے تو ایسے پھولوں کو ایکٹیو مارفک کہتے ہیں جیسے سرسوں، دھتورا، مرچ۔ اور جب پھول کو دو یکساں حصوں میں صرف ایک ہی سیدھی لائن سے بانٹا جاسکے توایسے پھولوں کو زائی گومارفک کہتے ہیں مثلاً مٹر، گل مہر، سیم وغیرہ، اگر پھول کو کسی بھی سیدھی لائن سے دو یکساں حصوں میں بانٹنا ممکن نہ ہو تو ایسے پھول کو غیر متشاکل (Asymmetric) یا Irregular کہتے ہیں جیسے گل تسبیح۔
شکل 5.13 پھول کے حصّوں کی پوزیشن : (a) ہائپوگائنس (b) اور (c) پیریگائنس (d) ایپی گائنس
پھول ٹرائی مرس، ٹیٹرا مرس اور پینٹا مرس ہوسکتا ہے۔ اگر پھول کے گھیروں کی اکائی بالترتیب 3، 4 یا 5 کے ملٹی پل (Multiple) ہوں۔ اگر بریکٹ (سکڑی پتّی جو پیڈسیل کے نچلی سطح پر پائی جاتی ہے) موجود ہے تو پھول بریکٹیٹ (Bracteate) اور اگر نہ ہو تو ایبریکٹیٹ (Ebracteate) کہلاتا ہے۔
اووری کے مقابلے میں کیلکس، کارولا اور اینڈروشیم کی پوزیشن کے لحاظ سے پھول کو ہائپو گائنس، پیری گائنس اور ایپی گائنس کی اصطلاحات میں بیان کیا جاتا ہے (شکل 5.13)۔ ہائپو گائنس پھول میں گائنیشیم سب سے اونچی پوزیشن میں ہوتا ہے جبکہ دوسرے گھیرے اووری کے نیچے سے نکلتے ہیں۔ ان پھولوں میں بیضہ دانی (Ovary) سپیریر(Superior) کہلاتی ہے جیسے سرسوں، گڑھل اور بیگن میں۔ اگر گائنیشیم بیچ میں ہے اور پھول کے دوسرے گھیرے تھیلیمس کے کناروں پر موجود ہو۔ اور کنارا اووری کی آدھی اونچائی کوڈھکے ہوئے ہو تو ایسے پھول پیری گائنس کہلاتے ہیں اور اوری ہاف انفیریر کہلاتی ہے جیسے گلاب، آڑو، سیب وغیرہ میں۔ ایپی گائنس پھولوں میں تھیلیمس کے کنارے اووری کے چاروں طرف بڑھ کراسے پوری طرح سے ڈھک لیتے اور پھول کے دیگر گھیرے اووری کے اوپری حصے سے نکلتے ہیں لہٰذا اووری انفیریر ہو جاتی ہے جیسے امرود، کھیرا اور سورج مکھی کے رے فلورٹس۔
5.5.1 پھول کے حصے(Parts of a Flower)
ہر پھول میں عموماً چار گھیرے ہوتے ہیں۔ کیلکس، کارولا اینڈرو شیم اور گائنیشیم (شکل 5.14)۔
5.5.1.1 کیلکس (Calyx)
کیلکس پھول کا سب سے بیرونی گھیرا ہوتا ہے اور اس کی اکائی کو سیپل کہتے ہیں اور اکثر یہ سبز رنگ کے ہوتے ہیں۔ یہ پھول کو اس کے کلی کی حالت میں حفاظت کرتے ہیں۔ کیلکس گیمو سیپلس (سیپل ملے ہوئے) یا پالی سیپلس (سیپلر الگ الگ اور آزاد) ہوسکتا ہے۔
شکل 5.14 پھول کے حصّہ
5.5.1.2 کارولا(Corolla)
کارولا کی اکائی کو پیٹل کہتے ہیں یہ اکثر رنگین ہوتے ہیں اور اپنی خوشنمائی کی وجہ سے کیڑوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں جو پالینیشن کے عمل میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ بھی گیموپٹیلس(Gamopetalous) یا پالی پٹیلس ہوسکتے ہیں۔ مختلف پودوں میں ان کی شکل اور ساخت بہت الگ الگ ہوتی ہے۔ یہ ٹیوب نما، گھنٹی نما، قیف نمایا پہئے نما ہوسکتے ہیں۔
اسٹائیویشن :پھول کی کلی میں سیپل اور پیٹل کی اپنے اپنے گھیروں میں خاص ترتیب کو اسٹائیویشن کہتے ہیں۔ ان کی نمایاں قسمیں والویٹ (Valvate)، ٹوئسٹیڈ (Twisted)، امبریکیٹ (Imbricate) اور ویگزیلری (Vexillary) ہیں (شکل 5.15)۔ جب سیپل یا پیٹل اپنے گھیرے میں صرف ایک دوسرے کو کنارے پر چھوتے ہیں بغیر ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے جیسے کیلوٹرائس میں تو اس ترتیب کو ویلویٹ کہتے ہیں۔ اور اگر سیپل یا پیٹل کا ایک سرا دوسرے سرے کے اوپر چڑھا ہوا ہو تو اسے ٹوئسٹیڈ کہتے ہیں جیسے گڑھل، بھنڈی اور کپاس میں۔ اگر سیپل یا پیٹل کے دونوں کنارے ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے ہوں مگر کسی مخصوص رُخ میں نمو ہوں تو اس کو امبریکیٹ کہتے ہیں جیسے گل مہر کیسیا وغیرہ۔ سیم کے پھولوں میں پانچ پیٹل ہوتی ہیں۔ سب سے بڑا (اسٹینڈرڈ) پیٹل دو بغلی پیٹل
شکل 5.14 اسٹائیویشن کی مختلف قسمیں (a) والویٹ (b) ٹوئسٹیڈ (c) امبریکیٹ (d) ویگزیلری
(Wings) کے کناروں پر چڑھا رہتا ہے۔ ونگس کے دوسرے کنارے سب سے چھوٹے پیٹل (کیل)کے دونوں کناروں پر چڑھے رہتے ہیں۔ ایسی ترتیب کو ویگزیلری یا پیپی لیونشیس کہتے ہیں۔
5.5.1.3 اینڈروشیم (Androecium)
اینڈروشیم، اسٹیمنرپر مشتمل ہوتا ہے۔ ہراسٹیمن جو نر عضو تناسل کی نمائندگی کرتا ہے سٹاک یا فلامنٹ اور انتھر پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر اینتھر دو تھیلیوں کا بنا ہوا ہوتا ہے اور ہر تھیلے میں دو کمرے ہوتے ہیں جن کو پولین سیک کہتے ہیں۔ پولین سیک میں پولین گرین بنتے ہیں۔ بنجر اسٹیمن کو اسٹیمنوڈ کہتے ہیں ۔
پھولوں کے زر ریشہ (Stamen) دوسرے حصّوں جیسے پیٹل کے ساتھ یا آپس میں جڑے ہو سکتے ہیں۔ جب اسٹیمن، پیٹل سے جڑے ہوں تو اسے ایپی پیٹلس کہتے ہیں جیسے بیگن اور جب پیرینتھ سے بڑے جڑے ہوں تو اسے ایپی فائلس کہتے ہیں جیسے للیکے پھول۔ پھول میں اسٹیمن ایک دوسرے سے آزادہوسکتے ہیں (پالی اینڈرس) یا متحد ہوسکتے ہیں۔ یہ مل کر ایک گروپ بناسکتے ہیں (مونو ایڈلفس) جیسا کہ گڑھل میں یا دو گروپ میں ہوسکتے ہیں (ڈالی ایڈلفس) جیسا کہ مٹر میں یا وہ کئی گروپ بنا سکتے ہیں (پالی ایڈلفس) جیسے نیبو میں ان کے فلامنٹ کی ایک ہی پھول میں مختلف لمبائی ہوسکتی ہے جیسے سالو یا (Salvia) سرسوں میں۔
شکل 5.16 پلاسین ٹیشن کی قسمیں (a) مارجنل (b)ایگزائیل (c) پیرائٹل
(d) فری سینٹرل (e) بیسل
5.5.1.4 گائنیشیم (Gynoecium)
گائنیشیم پھول کا مادہ تولیدی حصہ ہوتا ہے جو ایک یا ایک سے زیادہ کارپیل پر مشتمل ہوتا ہے۔ کارپیل کے تین حصے ہوتے ہیں۔ اسٹگما، اسٹائل اور اووری۔ اوری ایک بڑا، گول اور نچلا حصہ ہوتا ہے اس کے اوپر ایک لمبا ٹیوب نما سٹائل نکلتا ہے جس کے اوپری سرے پر اسٹگما ہوتا ہے اسٹگما کے اوپری سطح پولین گرین کے لیے حساس ہوتی ہے۔ ہراووری میں ایک یا ایک سے زیادہ بیض دان ہوتا ہے جو گدے دار پلاسنٹا سے جڑے رہتے ہیں۔ ایک سے زیادہ کارپیل اگر آزاد ہوں جیسے کنول یا گلاب میں تو انھیں ایپوکارپس کہتے ہیں۔ اور اگر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوں تو انھیں سن کارپس (Syncarpous) کہتے ہیں جیسے سرسوں اور ٹماٹر میں۔ فرٹیلائزیشن کے بعد بیض دان بیج میں اور اووری پھل میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
پلاسین ٹیشن: اووری کے اندر بیض دان کی ترتیب کو پلاسین ٹیشن کہتے ہیں۔ یہ کئی طرح کے ہوتے ہیں جیسے مارجنل، ایگزائل، پیرائٹل، بیسل، سینٹرل اور فری سینٹرل (شکل 5.16)۔ مارجنل پلاسین ٹیشن میں پلاسینٹا ایک ابھری ہوئی لمبی لائن اووری کی اندرونی پشت پر بناتا ہے۔ اور بیض دان اس پلاسینٹا پر لگے ہوتے ہیں جیسے مٹر کی پھلی میں۔ اگر بیض دان کثیر خانوی اووری میں درمیانی ستون پر لگے ہوئے ہوتے ہیں تو اس کو ایگزائل کہتے ہیں جیسے گڑھل، ٹماٹر اور نیبو میں۔ پیرائٹل پلاسین ٹیشن میں بیض وان اووری کی اندرونی دیوار پر باہر کی طرف لگے ہوئے ہوتے ہیں۔ اووری ایک خانے کی ہوتی ہے لیکن بعد میں نقلی پردے کی وجہ سے دو خانوں میں بدل جاتی ہے جیسے سرسوں اور آرجیمون میں۔ جب بیض دان ایک سینٹرل ایکسیس پر ہوتے ہیں اور پردے غائب ہوتے ہیں جیسے Dianthus اور Primrose میں تو اسے فری سینٹرل پلاسین ٹیشن کہتے ہیں۔ بیض دان اگر اووری کے فرش پر لگا ہوا ہو اور اکیلا ہوتو اسے بیسل پلاسین ٹیشن کہتے ہیں جیسے سورج مکھی اور گیندے کے پھولوں میں۔
5.6 پھل (Fruit)
پھو اینجیواسپرم کا ایک خاص فیچر ہے۔ فرٹیلائزیشن کے بعد اووری پک کر پھل بناتی ہے۔ اور اگر پھل بغیرفرٹیلائزیشن کے بنتا ہے تو ایسے پھل کو پارتھینو کارپک کہتے ہیں۔
عموماً پھل کی ایک دیوار ہوتی ہے (پیری کارپ) اور اس میں بیج ہوتے ہیں۔ پیری کارپ سوکھا بھی ہوسکتا ہے اور رس بھرا بھی۔ جب پیری کارپ موٹا اور سیلا ہوتا ہے تو اس کی تین تہیں ہوتی ہیں۔ بیرونی ایپی کارپ، درمیانی میزوکارپ اور اندرونی اینڈوکارپ۔
آم اور ناریل کے پھل کو ڈروپ (Drupe) کہتے ہیں (شکل 5.16) یہ مونو کارپیلری، سپیریر اووری سے بنتے ہیں اور ان میں صرف ایک بیج ہوتا ہے۔ آم میں پیری کارپ تین واضح حصوں میں بٹا ہوتا ہے۔ باہر کا پتلا چھلکا ایپی کارپ درمیانی گودا جسے ہم کھاتے ہیں میزو کارپ اور اندرونی سخت تہہ جسے انڈوکارپ کہتے ہیں نارمل بھی ڈروپ کی ایک مثال ہے جس میں میزوکارپ دھاگے دار ہوتا ہے۔
شکل 5.17 پھل کے حصے (a) آم (b) ناریل
5.7 بیج یا تخم (The Seed)
بیض دان فرٹیلائزیشن کے بعد بیج میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ بیج میں باہری سیڈ کوٹ ہوتا ہے اور اندر ایک ایمبرئیو ہوتا ہے۔ اس میں ایک ریڈیکل (ابمیریونک محور) اور ایک (جیسے گیہوں، مکا) یا دو کاٹیلیڈن ہوتی ہیں جیسے چنے یا مٹر میں۔
5.7.1 ڈائی کاٹیلیڈنس بیج کی ساخت(Structure of a Dicotyledonous Seed)
بیج کی باہری تہہ سیڈ کوٹ کہلاتی ہے جس کی دو تہیں ہوتی ہیں۔ باہری ٹیسٹا اور اندرونی ٹیگمین۔ ہائلم بیج پر موجود اس نشان کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ بیج نمو پاتے وقت پھل سے جڑا رہتا ہے۔ ہائلم کے ٹھیک اوپر ایک چھوٹا سا سوراخ ہوتا ہے جسے مائیکرو پائل کہتے ہیں۔ دو دالوں اور ایمبریونل محور پر مشتمل ایمبریوسیڈکوٹ کے اندر ہوتا ہے۔ دالیں اکثر گداز اور غذا سے بھر پور ہوتی ہیں۔ ایمبریونل محور کے ایک سرے پر ایڈیکل اور دوسرے سرے پر پلومول ہوتا ہے (شکل 5.17)۔
ارنڈی جیسے پودوں میں ڈبل فرٹیلائزیشن کے نتیجے میں اینڈواسپرم بنتا ہے جس کا مخصوص کام غذا کو اپنے اندر جمع کرنا ہے اسے انڈواسپرمی (Endospermic seed)بیج کہتے ہیں۔سیم چنے اور مٹر جیسے پودوں میں انڈواسپرم نہیں ہوتا، ایسے پودوں کو نان اینڈواسپر مسم کہتے ہیں۔
شکل 5.18 ڈائی کاٹی لیڈنس بیچ کی ساخت
5.7.2 مونو کاٹی لیڈنس بیج کی ساخت(Structure of Monocotyledonous Seed)
عموماً مونو کاٹی لیڈنس بیج میں اینڈواسپرم ہوتا ہے لیکن کچھ میں جیسے آرکڈ میں اینڈواسپرم نہیں ہوتا۔ اناج کے بیجوں جیسے مکّا میں سیڈ کوٹ پارہ نما ہوتا ہے اور پھل کی دیوار سے متحد ہوتا ہے۔ ان کا اینڈواسپرم دبیز ہوتا ہے اور اپنے اندر غذا کا ذخیرہ جمع کئے رہتا ہے۔ بیرونی تہہ جو اینڈواسپرم کو ایمبریو سے علیحدہ رکھتی ہے پروٹین سے بھر پور ہوتی ہے اسے ایلیورون تہہ کہتے ہیں۔ اینڈواسپرم کے ایک کونے میں ایمبریو ہوتا ہے۔ جس کے ایک طرف بڑے ڈھکن نما بافت ہوتا ہے جسے اسکوٹیلم کہتے ہیں اور ایک چھوٹے سے محور پرایک طرف پلومول اور دوسری طرف ریڈیکل ہوتا ہے۔ پلومول اور ریڈیکل ایک تہہ سے ڈھکے رہتے ہیں جنھیں بالترتیب Coleoptile اور Coleorhiza کہتے ہیں (شکل 5.19)۔
شکل 5.19 مونو کاٹی لیڈنس بیج کی ساخت
شکل 5.20 فلورل فارمولا فلورل ڈائیگرام
5.8 تمثیلی پودے کا نیم تکنیکی زبان میں بیان
(Semi-technical Description of a Typical Flowering Plant)
اینجیواسپرم کے پودوں کو بیان کرنے کے لیے مختلف باہری صفات کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ یہ بیان مختصر آسان اور سائنسی زبان اور ایک خاص ترتیب میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ بیان پودے کی عادت (Habit) سے شروع کرتے ہیں اس کے بعد اس کے نباتی خاصیت یعنی جڑ، تنا اور پتیاں، اور پھر اس کے پھول کی خاصیت، انفلورسنس پھول کے حصے۔ پھول کے مختلف حصوں کو بتانے کے بعد فلورل شکل اور فلورل فارمولا لکھا جاتا ہے۔ فلورل فارمولا کچھ نشانیوں کی مدد سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ فلورل فارمولا میں بریکٹیٹ کے لیے 'Br'، کیلکس کے لیے 'K'، کارولا کے لیے 'C'، پیرینتھ کے لیے 'P'، اینڈروشیم کے لیے 'A' اور گائنیشیم کے لیے'G' اور Gبالترتیب سپیریر اور انفیریر گائنیشیم کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ نر کے لیے
اور
مادہ کے لیے اور دو صنفی (بائی سیکسول) کے لیے
ایکٹنو مارفک اور '%' ذائی گو مارفک پھول کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ متحدہ حصوں کے لیے تعداد کو بریکٹ میں لکھتے ہیں۔ دو مختلف گھیروں کے ممبر کے اتحاد کو پھول کے حصوں کے نشانیوں کے اوپر ایک لائن کھینچ کر دکھاتے ہیں۔ گھیروں کے ممبران کی تعداد کو ان کی ترتیب کو اور ان کے آپس کے رشتے کو فلورل ڈائیگرام کے اوپر ایک نقطے کے ذریعے مدرایکسنس بنا کر دکھاتے ہیں۔ کیلکس کارولا، اینڈروشیم اور گائنیشیم ایک کے بعد ایک بالترتیب گھیروں میں بنائے جاتے ہیں جن میں کیلکس سب سے بیرونی گھیرا اور گائنیشیم بیچ میں ہوتا ہے۔ یہ گھیروں کے اندر اور ایک دوسرے گھیروں کا آپس میں اتحاد بھی بھی دکھاتا ہے۔ مندرجہ ذیل فلورل ڈائیگرام اور فلور فارمولا سرسوں کا ہے جو براسکیسی خاندان کا فرد ہے (شکل 5.20)۔
5.9 کچھ اہم خاندان کے ممبران کا بیان
(Description of Some Important Families)
5.9.1 فابیسی (Fabaceae)
پہلے اس فیملی کا نام Papilonoideae تھا جو Leguminosae کی سب فیملی ہے۔ اس کا پھیلائو پوری دنیا میں ہے (شکل 5.21)۔
نباتاتی خصوصیات (Vegetative Characters)
درخت: جھاڑی، ہرب، جڑیں نوڈیولز کے ہمراہ
تنا: سیدھا یا بیل
پتے: الٹرنیٹ پنیٹلی مرکب یا سادہ، زلیف بیس، پلوینیٹ، اسٹپولیٹ جالدار رگیت۔
شکل 5.21 مٹر کا پودا (a) پھولدار شاخ (b) پھول (c) پیٹل (d) تولیدی عضو (e) ایل ایس کارپل (f) فلورل ڈائیگرام
پھول کی خصوصیات (Floral Characters)
انفلورسنس : ریسی موز
پھول: دو صنفی، ذائی گو مارفک، کیلکس، سیپل پانچ، گیموسیپلس، ایمریکیٹ، اسٹائی ویشن۔
کارولا: پانچ پیٹل، پالی پیٹلس، پیپی لیونیشیس، ایک پچھلا اسٹینڈرڈ، دو بغلی ونگس، دو اگلے کیل (اسٹیمن اور کارپل کو اپنے میں سمیٹتے ہوئے) ویگزیلری اسٹائی ویشن
اینڈروشیم : 1عدد، ڈائی ایڈالفس (Diadelphous)، اینتھر ڈائی تھکس
گائنیشیم: اووری سپیریر مونو کارپیلاری، یونی لاکیولر بہت سارے بیض دان کے ہمراہ، اسٹائل ایک۔
پھل: لیگیوم؛ بیج ایک یا ایک سے زیادہ نان اینڈواسپرمک (شکل 5.21)۔
معاشی اہمیت (Economic Importance)
اس خاندان سے تعلق رکھنے والے کئی پودے دال کا ذریعہ ہیں (چنا، ارہر، سیم، مونگ، سویا بین)، خوردنی تیل (سویا بین، مونگ پھلی)، رنگ (نیل)، دھاگے (جوٹ)، چارہ (سیسبانیا، ٹرائی فولیم)، باغبانی، سجاوٹ یا آرائش (لیوپن، سوئٹ پی)، دوا(مولیٹھی) ۔
5.9.2 سولانیسی (Solanaceae)
یہ بڑا خاندان ہے اور عام طور پر آلو کی فیملی کہا جاتا ہے۔ اس خاندان کے پودے بڑے پیمانے پر ٹراپک، سب ٹراپک اور یہاں تک کہ ٹیمپریٹ زون میں پائے جاتے ہیں۔
نباتی خصوصیات (Vegetative Characters)
پودے عام طور پر ہرب، جھاڑیاں اور چھوٹے درخت ہوتے ہیں۔
شکل 5.22 سولانم نائگرم (مکوئی) (a) پھول والی شاخ (b) پھول (c) ایل ایس پھول (d) اسٹیمن (e)کارپل (f) فلورل ڈائیگرام
تنا: ہربی کبھی کبھی چوبی، ہوائی، سیدھے، سیلینڈریکل، شاخ دار، ٹھوس یا بالوں والے یا چکنے زیر زمین تنے جیسے آلو (Salanum Tuberosum) ۔
پتے: الٹرنیٹ سادہ، کبھی کبھی پنیٹلی مرکب، Exstiputale جال دار رگیت
پھول کی خصوصیات (Floral Characters)
انفلورسنس : اکیلا پھول، ایگزیلری سائی موز جیسے سولینم میں۔
پھول: دو صنفی (Bisexual) ایکٹینو مارفک
کیلکس : 5 عدد سیپل، متحد برقرار رہنے والے والویٹ اسٹائی ویشن
کارولا: 5 عدد پیٹلز، متحد، والویٹ
اینڈروشیم : 5عدد اسٹیمن، ایپی پٹیلس
کائنیشیم : بائی کارپیلری سن کارپس، اووری سپیریر، بائی لاکیولر، پلاسنٹا پھولا ہوا کئی بیض دان کے ہمراہ۔
پھل : بیری (Berry) یا کیپسول
بیج: کئی اینڈواسپرمس (شکل 5.22)۔
معاشی اہمیت (Economic Importance)
خوراک مہیا کرنے والے کئی پودے اس فیملی کے فرد ہیں (ٹماٹر، بیگن، آلو) مسالہ جات مرچ، دوا (بیلاڈونا، اشوگندھا) تمباکو آرائش (پٹونیا)۔
5.9.3 للیسی (Lilaceae)
للی فیملی کے نام سے بھی جانی جاتی ہے اور مانو کاٹیلیڈنس کی مخصوص نمائندگی کرتی ہے۔ اس کے افراد دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔
نباتی خصوصیات : دیرپا زیر زمین بلب/کارم/رائزومس
پتے: اکثر بیلی، الٹرنیٹ، سیدھے، ایکس سیٹولیٹ متوازی رگیت
پھول کی خصوصیات:
انفلورسنس: اکیلا/سائی موز، اکثر امبلیٹ گچھے۔
پھول : دو صنفی، ایکٹیو مارفک
پیرینتھ : (3 + 3) 6 ٹیلیز اکثر متحد ہو کر ٹیوب بناتے ہیں۔ ولویٹ اسٹائی ویشن
اینڈروشیم : 6اسٹیمنر (3 + 3)
معاشی اہمیت : اس فیملی کے کئی پودے خوشنما باغبانی کے کام آتے ہیں۔ (ٹیولپ گلوریوسا) دوا (ایلو)، سبزری (اسپریگس) اور کالچاسین (Colchinun Autumnale)۔
شکل 5.23 ایلیم سیپا (پیاز کا پودا) (a) پودا (b) انفلورسنس (c) پھول (d) فلورل ڈائیگرام (e) فلورل فارمولہ
خلاصہ
اینجیواسپرم کے پودے سب سے زیادہ ارتقاء پذیر پودے ہیں۔ یہ پودے اپنی شکل سائز، ساخت، غذا حاصل کرنے کے ذرائع عادات اور محلات کے لحاظ سے ایک عمیق تغیر کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کی جڑ یں اور تنے بہت واضح ہیں۔ ان کے جڑ کا نظام یا تو ٹیپ روٹ یا ریشی ہوتا ہے۔ عموماً ڈائی کائی لیٹزنر پودوں میں ٹیپ روٹ پائی جاتی ہیں اور مونو کاٹی لیڈنس میں ریشی جڑیں۔ کچھ پودوں میں جڑیں تبدیل ہو کر غذا کا اجماع، استحکام اور سہارا دینے کا کام اور تنفس میں مدد کرتی ہیں۔ شوٹ کا نظام تنے پستول، پھولوں اور پھلوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ تنے کی بیرونی ساخت جیسے نوڈر اور انٹر نوڈز کی موجودگی کثیر خلوی بال اور مثبت فوٹو ٹراپکس کی عادت تنے کو جڑوں سے الگ کرتی ہے۔ تنے تبدیل ہو کر مختلف حالات میں مختلف افعال انجام دیتے ہیں جیسے غذا کا اجماع بناتی تولید، حفاظت وغیرہ پتیاں تنے پر موجود نوڈز سے جانبی اطراف میں کھلتی ہیں۔ یہ سبز رنگ کی ہوتی ہیں لہٰذا ضیائی تالیف کرنے پر قادر ہوتی ہیں۔ پتیوں کی شکل ساخت، سائز، کناروں پر کٹاؤ میں بھی بہت تغیر پایا جاتا ہے۔ پودے کے دیگر حصوں کی طرح پتیاں بھی دوسری اشکال مثلاً ٹینڈرل کانٹے میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔
پھول متبدلہ شوٹ ہے جو تولیدی عمل میں مدد کرتا ہے۔ یہ مختلف انداز میں مرتب ہوتے ہیں جن کو انفلورسنس کہتے ہیں۔ پھول بھی اپنی ساخت توازن، اوری کی پوریشن بمقابل پھول کے دوسرے حصوں کے پیٹلز، سیپلز، بیض دان کی ترتیب کے لحاظ سے بہت زیادہ تغیر کا اظہار کرتے ہیں۔ بارآوری کے بعد اوری پھل میں اور بیض داں بیجوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ بیج یک تخم برگی یا دو تخم برگی ہوسکتے ہیں۔ ان کی بھی ساخت سائز اور عرصہ حیات میں کافی تغیر ہوتا ہے۔
اینجیواسپرم میں درجہ بندی اور پودوں کی شناخت پھول کی خصوصیات پر منحصر ہے۔ شناخت کے لیے پودوں کا ایک خاص انداز میں بیان ضروری ہے جسے نیم سائنٹفک زبان کہتے ہیں۔ اس میں پودوں کی خصوصیات ایک منظم انداز میں سائنسی اصطلاحات کا استعمال کرکے ترتیب وار بیان کی جاتی ہیں۔ پھول کی خصوصیات مختصراً فلورل ڈائیگرام اور فلورل فارمولے کے تحت دکھائی جاتی ہیں۔
مشق
1۔ جڑوں کی تعدیل سے کیا مراد ہے؟ مندرجہ ذیل میں جڑوں کی کون سی تعدیل پائی جاتی ہیں؟
(a) برگد (b) شلجم (c) رائزوفورا
2۔ بیرونی ساخت کی بناء پر مندرجہ ذیل بیان کی وضاحت کیجیے۔
(a) پودے کے تمام زیر زمینی حصے ہمیشہ جڑیں نہیں ہوتیں۔
(b) پھول ایک متبدلہ شوٹ ہے۔
3۔ پنیٹلی مرکب پتی کس طرح سے پامیٹلی پتی سے مختلف ہے۔
4۔ مثالیں دیکر برگی نظام کو سمجھائیے۔
5۔ مندرجہ ذیل اصطلاحات کی تعریف بیان کیجیے۔
(a) اسٹائی ویشن (b) پلاسین ٹیشن (c) ایکٹینو مارفک
(d) ذائی گومارفک (e) سیریراوری (f) پیری گائنس پھول (g) ایپی پٹیلس اسٹیمن
6۔ مندرجہ ذیل میں تفریق کیجیے۔
(a) ریسی موز اور سائی موز انفلورسنس
(b) ریسی اور انقاتی جڑیں
(c) ایپوکارپس اور سن کارپس اوری
7۔ مندرجہ ذیل کی تصاویر بنائیے اور ان کو لیبل کیجیے۔
(a) چنے کا بیج (b) وی۔ ایس۔ مکا کا بیج
8۔ تنوں کی تعدیل تنوں کو مثالیں دیکر بیان کریں۔
9۔ مندرجہ ذیل فیملیوں کو سائنسی زبان میں بیان کریں اور ان کی معاشی اہمیت کو اجاگر کریں
(a) فابیسی (b) للیسی (c) سولانیسی
10۔ پھولدار پودوں میں پائے جانے والے پلاسن ٹیشن کی مختلف اقسام کو بیان کیجیے۔
11۔ پھول کیا ہے؟ ایک تمثیلی انجیوسپرمک پھول کے حصے بیان کریں۔
12۔ پتیوں کی متبدلہ ہیئت کن کن طرح سے پودے کی مدد کرتی ہیں؟
13۔ اصطلاح انفلورسنس کی تعریف لکھئے۔ پھولدار پودوں میں پائے جانے والے مختلف انفلورسنس کی بنیاد سمجھا کر لکھئے۔
14۔ ایک پھول کا فلورل فارمولا لکھئے جو ایکٹینو مارفک، دو صنفی پائپو گائنس پھول مع پانچ متحد سیلر پانچ آزاد پٹیلز، پانچ آزاد اسٹیمنز اور دو متحد کارپل اور سپیر اوری پر مشتمل ہے۔
15۔ پھول کے ممبران کی ترتیب ان کے تھیلیمس پر جڑے ہونے کے لحاظ سے بیان کیجیے۔