باب 6
پھولدار پودوں کی علم تشریح
(Anatomy of Flowering Plants)
6.1 بافت
6.2 بافت کا نظام
6.3 دو برگی اور یک برگی پودوں کی اناٹمی
6.4 ثانوی نمو
بڑے جانداروں کی بیرونی ساخت میں یکسانیت اور تغیرات بہت آسانی سے آپ کے مشاہدے میں آتے ہیں۔ اسی طرح اگر ہمیں اندرونی ساخت کا مطالعہ کرنا پڑے تو ان میں بھی بہت مشابہت اور اختلافات ملتے ہیں۔ یہ باب آپ کو اعلیٰ پودوں کی اندرونی شکلیاتی اور فعلیاتی ترتیب سے روشناس کرائے گا۔ اندرونی ساخت کے مطالعے کو اناٹمی کہتے ہیں۔ پودے کی بنیادی اکائی خلیہ ہے، خلیے آپس میں مرتب ہو کر بافت بناتے ہیں اور بافت مل کر عضویا آرگن بناتے ہیں۔ پودوں کے مختلف اعضا اپنے اندرونی ساخت میں اختلاف رکھتے ہیں۔ اینجیواسپرم میں یک برگی اور دو برگی پودے اناٹمی کی نظر سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ مختلف ماحول میں رہنے والے پودے اندرونی ساخت میں توافق (Adaptation) کا اظہار کرتے ہیں۔
6.1 بافت (Tissue)
مشترک مبدا والے اور عموماً ایک طرح کا فعل انجام دینے والے خلیوں کی جماعت کو بافت کہتے ہیں۔ پودا مختلف بافت کا بنا ہوا ہوتا ہے۔ بافت کو اس بناء پر کہ ان کے خلیے مزید تقسیم ہو سکتے ہیں یا نہیں، دو گروہ میں بانٹا گیا ہے، منقسمی اور پختہ (میریسٹمیٹک اور پرمانینٹ)۔
6.1.1 میریسٹمیٹک بافت (Meristematic Tissues)
پودوں میں خلوی تقسیم اس کے کچھ مخصوص حصوں میں ہوتی ہے ان کو میر یسٹم کہتے ہیں۔ (گریک، میریسٹوس: تقسیم شدہ)۔ پودوں میں ان کی مختلف اقسام ہوتی ہیں۔ میریسٹمز جو جڑ اور شوٹ کے سِروں پر ہوتے ہیں اور بنیادی
شکل 6.1 اپیکل میرسٹم (a) جڑ (روٹ) (b) تنا (شوٹ)
بافت کو نمو دیتے ہیں ان کو اپیکل (Apical) میریسٹمز کہتے ہیں (شکل 6.1)۔ روٹ ایپکل میریسٹم جڑ کی نوک پر پایا جاتا ہے جبکہ تنے کے محور کے آخری سرے پر شوٹ اپیکل میریسٹم ہوتا ہے۔ تنے کی بڑھوتری اور پتوں کی نمو کے دوران کچھ خلیے پیچھے چھوٹ جاتے ہیں اور بغلی کلیاں (Axillary buds) بناتے ہیں۔ یہ بغلی کلیاں پتیوں اور تنے کے زاویے میں ہوتی ہیں اور نئی شاخیں یا پھول بنانے کی استعطاعت رکھتی ہیں۔ پختہ بافت کے درمیان موجود میریسٹم کو انٹرکیلری میریسٹم کہتے ہیں، یہ گھاس کے نوڈر یا گانٹھوں میں موجود ہوتے ہیں اور اگر گھاس کے ٹکڑے زمین میں دبائے جائیں تو ایک نیا پودا جنم دیتے ہیں۔ اپیکل اور انٹرکیلری میریسٹم دونوں پرائمری میریسٹم کہلاتے ہیں کیونکہ یہ پودے کی زندگی کے ابتدائی دور میں نمودار ہوتے ہیں اور پرائمری پودے کے بننے میں مدد کرتے ہیں۔
میریسٹم جو کئی پودوں کی جڑیا شوٹ کے پختہ حصوں میں پائے جاتے ہیں خاص کر وہ جو جڑ اور تنے کا چوبی محور بناتے ہیں اور پرائمری میریسٹم کے بعد وجود میں آتے ہیں، ان کو ثانوی یا لیٹرل میریسٹم کہتے ہیں۔ یہ سلنڈر کی ساخت کے ہوتے ہیں۔ فیسیکولر ویسکولر کیمبیم اور کارک کیمبیم لیٹرل میریسٹم کی مثالیں ہیں۔ یہ ثانوی بافت بنانے کے ذمے دار ہوتے ہیں۔
پرائمری (ابتدائی) اور ثانوی میریسٹم میں خلوی تقسیم کے بعد جو نئے خلیے بنتے ہیں۔ یہ نئے خلیے ساخت اور کام کے اعتبار سے مخصوص ہوتے ہیں اور ان میں تقسیم کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ یہ خلیے پر مانینٹ یا میچور (پختہ) خلیے کہلاتے ہیں اور پرمانینٹ بافت بناتے ہیں۔ پودے کا ابتدائی جسم نمو پاتے وقت اپیکل میریسٹم کے مخصوص حصے ڈرمل بافت، گراؤنڈ بافت اور ویسکولر بافت بناتے ہیں۔
شکل 6.2 سادہ بافت
(a) پیرنکائما
(b) کولین کائما
(c) اسکلیرین کائما
6.1.2 پختہ بافت (Permanent Tissues)
پرمانینٹ بافت کے خلیے عموماً مزید تقسیم نہیں ہوتے۔ پرمانینٹ بافت کے تمام خلیے ساختی اور فعالی لحاظ سے ایک جیسے ہوتے ہیں اور انہیں سادہ (سِمپل) بافت کہتے ہیں۔ وہ پرمانینٹ بافت جن میں مختلف نوع کے خلیے ہوتے ہیں انہیں کمپلیکس (Complex) بافت کہتے ہیں۔
6.1.2.1 سادہ بافت (Simple Tissues)
سادہ بافت صرف ایک ہی طرح کے خلیے کا بنا ہوتا ہے۔ مختلف سادہ بافت کی مثالیں پیرینکائما، کولین کائما اور سکلیرین کائما ہیں (شکل 6.2)۔ کسی عضو کا زیادہ تر حصّہ پیرِنکائما بافت ہوتا ہے۔ اس کے خلیے آئسوڈامیٹرک ہوتے ہیں۔ خلیوں کی ساخت، گیند نما، بیضوی، گول، کثیر زاویئی یا لمبوتری ہو سکتی ہے۔ ان کی دیواریں پتلی اور سیلیولوز کی بنی ہوئی ہوتی ہیں۔ یہ خلیے یا تو آپس میں گٹھے ہوئے ہوتے ہیں یا ان کے درمیان خلاء ہو سکتی ہے جنہیں انٹرسیلولر خلاء کہتے ہیں۔ یہ خلیے مختلف فعل انجام دیتے ہیں جیسے ضیائی تالیف، غذا کا اجماع یا سیکریشن۔
کچھ دو برگی پودوں میں اپیڈرمس کے بالکل نیچے والی پرت کولین کائما کی ہوتی ہے۔ یہ پرت یا تو مسلسل ہوتی ہے یا پھر غیر مسلسل گچھوں میں۔ ان خلیوں کے کونوں میں سیلیولوز ’’ہیمی سیلیولوز اور پکٹین‘‘ جمع ہو جاتا ہے لہٰذا ان کی دیواریں کونوں پر موٹی ہو جاتی ہیں۔ ان کی ساخت بیضوی، گول یا کثیر زاویئی ہوتی ہے اور اکثر ان میں کلوروپلاسٹ موجود ہوتا ہے۔ انٹرسیلولر خلاء نہیں ہوتا۔ یہ پتے کی ڈنڈی اور نو عمر تنے کی ابتدائی نمو میں پودے کو میکانیکل استحکام پہنچاتے ہیں۔ اسکلیرین کائما کے خلیے لمبے، پتلے اور ان کی دیوار پر موٹی لگنین کی پرت ہوتی ہے جنیں کچھ یا کئی داغ (Pits) ہوتے ہیں۔ یہ خلیے بغیر پروٹوپلاسٹ کے بے جان ہوتے ہیں۔ خلیوں کی ساخت، مبدا اور نمو میں تغیرات کی بنیاد پر اسکلرین کائما فائیبر یا اسکلیریڈز ہوتے ہیں۔ فائیبرز موٹی دیواروں، لمبے اور نوکیلے ہوتے ہیں اور پودے کے جسم میں عموماً گروپس میں ہوتے ہیں۔ اسکلیریڈز گول، بیضوی یا سلنڈریکل، ان کی دیواریں بہت موٹی اور دبیز اور بہت محدود خلاء والے بے جان خلیے ہوتے ہیں۔ یہ عام طور پر پھلوں کی دیواروں میں، امرود، ناشپاتی اور چیکو کے ماسی (Flashy) حصوں، دالوں کی سیڈکوٹ، چائے کی پتی میں پائے جاتے ہیں۔ یہ خلیے عضو کی شکل کو استحکام دیتے ہیں۔
6.1.2.2 کمپلیکس بافت (Complex Tissues)
ایک سے زیادہ طرح کے خلیے مل کر کمپلیکس بافت بناتے ہیں اور آپس میں ایک اکائی کی طرح مل کر کام کرتے ہیں۔ پودوں میں زائلم (Xylem) اور فلوئیم کمپلیکس بافت ہوتے ہیں (شکل 6.3)۔
زائلم، پانی اور نامیات کو جڑ سے تنے اور پیتوں میں منتقل کرنے کا فعل انجام دیتے ہیں اور پودے کے مختلف حصوں کو میکانیکل استحکام پہنچاتے ہیں۔ اس میں موجود چار مختلف اقسام کے عنصر کے نام ٹریکیڈز، ویسلز (Vessels)، زائلم فائبیرز اور زائلم پیرنکائما ہیں۔ جمنواسپرمز کے زائلم میں ویسلز موجود نہیں ہوتے۔ ٹریکیڈز لمبے، ٹیوب نما خلیے ہیں جن کی اندرونی دیواروں پر لِگنین کی موٹی پرت اور سرے نوکیلے ہوتے ہیں۔ یہ بغیر پروٹوپلازم کے بے جان خلیے ہیں۔
پھولدار پودوں میں ٹریکیڈز اور ویسلز پانی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے والے خاص عنصر ہیں۔ ویسلز ایک لمبی سلنڈریکل، ٹیوب نما ساخت کا اور کئی خلیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر ایک کی دیوار پر لگنین کی پرت اور بیچ میں خلاء موجود ہوتا ہے۔ یہ ایک کے اوپر ایک پائپ کی شکل میں مرتب ہوتے ہیں۔ ان میں پروٹوپلازم موجود نہیں ہوتا لہٰذا بے جان خلیے ہوتے ہیں۔ ان کی دیواروں میں چھوٹے چھوٹے سوراخوں کی وجہ سے آپس میں ایک دوسرے سے رابطہ قائم رہتا ہے۔ چوبی بافت میں ان کی موجودگی اینجیواسپرم کی امتیازی خصوصیت ہے۔ زائلم فائیبرز، موٹی دیواروں والے خلیے ہیں جن میں مرکزی لیومِن (lumen) تقریباً نہیں کے برابر ہوتا ہے، ان فائیبرز میں پردے ہو سکتے ہیں اور نہیں بھی۔ زائلم پیرنکائما پتلی دیواروں والے جاندار خلیے ہیں اور ان کی دیواریں سیلیولوز کی بنی ہوتی ہیں اور نشاستے اور چربی کی شکل میں غذا کی تذخیر ہوتی ہے، ان میں ٹینین بھی ملتے ہیں۔ پانی کا شعاعی انتقال پیرنکائما خلیوں کی مدد سے ہوتا ہے۔
پرائمری زائلم دو طرح کا ہوتا ہے۔ پروٹوزائلم اور میٹازائلم، پہلے ظہور میں آنے والے پرائمری زائلم عنصر پروٹوزائلم کہلاتے ہیں اور بعد میں بننے والے پرائمری زائلم عنصر میٹازائلم کہلاتے ہیں۔ تنوں میں پروٹوزائلم کا رخ تنے کے بیچ (پتِھ) کی طرف اور میٹازائلم کا رخ عضو کے باہری جانب ہوتا ہے۔ اس طرح کے پرائمری زائلم کو اینڈارک کہتے ہیں۔ جڑوں میں زائلم کی ترتیب الٹی ہوتی ہے یعنی پروٹوزائلم باہر کی جانب اور میٹازائلم مرکز کی طرف ہوتا ہے اور اس ترتیب کو ایگزارک کہتے ہیں۔
شکل 6.3 (a) زائلم (b) فلوئلم بافت
فلوئلم غذائی مادّے کو عموماً پتیوں سے پودے کے دوسرے حصوں میں ٹرانسپورٹ کرتا ہے۔ اینجیواسپرمز میں فلوئلم، سیوٹیوبز، کمبے نین خلیے، فلوئلم پیرنکائما اور فلوئلم فائبیرز اور جینواسپرمز ایلبومینس خلیے اور سیو خلیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ جمنواسپرم میں سیوٹیوبز اور کمبے نین خلیے نہیں ہوتے۔ سیوٹیوبز کے عناصر لمبے، ٹیوب نما اور ایک کے اوپر دوسرا لمبائی میں ارینج ہوتے ہیں اور ہر سیوٹیوب کے ساتھ ایک کمپے نین (Companion) خلیہ ملحق ہوتا ہے۔ ان کے سروں پر چھلنی نما پلیٹ ہوتی ہے جن کو سیو پلیٹ کہتے ہیں۔ ایک تخصیص شدہ سیو عنصر میں سائٹوپلازم اس کی اندرونی دیواروں سے چپکا رہتا ہے اور درمیان میں بڑا ویکیول (Vacuole) ہوتا ہے اور مرکزہ (Necleus) نہیں ہوتا۔ لہٰذا ان میں ہونے والے تمام افعال کا کنٹرول کمپے نین خلیے کے مرکزے کرتے ہیں۔ کمپے نین خلیے پیرینکائما ہوتے ہیں اور ایک خاص کام کے لیے مختص ہوتے ہیں اور سیوٹیوب عناصر سے ان کا بہت قریبی تعلق ہوتا ہے۔ سیو ٹیوب عناصر اور کمپے نین خلیے، سیو ٹیوب میں پریشر گریڈینٹ کو برقرار رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔ فلوئلم پیرینکائما لمبے، سلنڈریکل خلیے ہیں جن میں گاڑھا سائیٹوپلازم اور مرکزہ ہوتا ہے۔ خلیوں کی دیوار سیلیولوز کی ہوتی ہے اور دو خلیوں کے درمیان ان میں موجود داغوں کے ذریعہ پلازموڈیسمیٹل دھاگوں کی مدد سے باہمی تعلق ہوتا ہے۔ کمپے نین خلیے، سیوٹیوب میں پریشر گریڈینٹ کو برقرار رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔ فلوئلم پیرینکائما خلیوں غذا اور دیگر اشیاء مثلاً لیٹکیس، ریزن اور میوسلیج کی تذخیر کرتی ہے۔ اکثر یک برگی پودوں میں فلوئلم پیرینکائما موجود نہیں ہوتا۔ فلوئلم فائیبرز (باسٹ فائیبرز) اسکلرین کائما کے بنے ہوتے ہیں۔ یہ عموماً پرائمری فلوئلم میں غائب اور ثانوی فلوئلم میں موجود ہوتے ہیں۔ یہ لمبے غیر شاخی، ان کے سرے بے جان ہوتے ہیں۔ جوٹ، فلیکس اور ہیمپ کے فلوئلم فائیبرز کی معاشی اہمیت ہے۔ پہلے وجود میں آنے والے پرائمری فلوئلم میں تنگ سیوٹیوبز ہوتی ہیں لہٰذا ان کو پروٹوفلوئلم اور بعد میں بننے والے پرائمری فلوئلم میں بڑی سیوٹیوبز ہوتی ہیں اور انہیں میٹا فلوئلم کہتے ہیں۔
6.2 بافت کا نظام (The Tissue System)
ابھی تک ہم مختلف خلیوں کی موجودگی کی بناء پر بافت کی اقسام کے بارے میں بحث کر رہے تھے۔ اب ہم ان بافت کے بارے میں بحث کریں گے جو پودے کے مختلف حصوں میں موجود ہوتی ہے۔ ان کی ساخت اور فعل کا انحصار بھی اس بات پر ہوتا ہے کہ پودے کے کس حصے میں وہ موجود ہیں۔ پودوں میں تین طرح کا بافتی نظام ہوتا ہے۔ ایپی ڈرمل بافتی نظام، گرائونڈ یا بنیادی بافتی نظام اور وعائی بافتی نظام۔
6.2.1 ایپی ڈرمل بافتی نظام (Epidermal Tissue System)
ایپی ڈرمل بافتی نظام پودے کی سب سے باہری غلاف بناتے ہیں اور یہ ایپی ڈرمل خلیے، اسٹوماٹا اور ایپی ڈرمل اپینڈیج جیسے ٹرائکومز پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایپی ڈرمس پرائمری پودے کے جسم کی سب سے باہری پرت ہے۔ یہ لمبے اور ایک دوسرے کے قریب اور مسلسل خلیوں کی پرت ہے۔ یہ عموماً گہری ہوتی ہے۔ ایپی ڈرمل خلیے پیرینکائما کے ہوتے ہیں اور ان میں اندرونی دیواروں پر سائٹوپلازم کی پتلی پرت ہوتی ہے اور بیچ میں بڑا ویکیول ہوتا ہے۔ ان کی باہری سطح عموماً موٹے کیوٹیکل کے غلاف سے ڈھکی ہوتی ہے جو خلیے سے پانی کے نقصان کو روکتا ہے۔ جڑوں میں یہ کیوٹیکل موجود نہیں ہوتی۔ اسٹومیٹا پتوں کی ایپی ڈرمس میں موجود ہوتے ہیں یہ ٹرانسپیریشن (سریان) اور گیس کی آمدورفت کو ریگولیٹ کرتے ہیں۔ ہر اسٹومیٹا میں دو بین (Bean) کی ساخت کے دو خلیے ہوتے ہیں جنہیں گارڈ خلیے کہتے ہیں۔ گھاس میں یہ گارڈ خلیے ڈمب بیل کی شکل کے ہوتے ہیں۔ ان کی باہری دیوار پتلی اور اندرونی دیواریں موٹی ہوتی ہیں۔ ان میں کلوروپلاسٹ موجود ہوتا ہے اور اسٹومیٹا کے دہن کو کھلنے اور بند ہونے کو ریگولیٹ کرتے ہیں۔ بسااوقات گارڈ خلیوں کے اطراف والے خلیے اپنی ساخت اور سائز کو ضرورتاً تبدیل کر لیتے ہیں ان کو سبسیڈری (Subsidiary) خلیے کہتے ہیں۔ اسٹومیٹل دہن، گارڈ خلیے اور اطراف کے سبسیڈیری خلیے ایک ساتھ اسٹومیٹل اپریٹس کہلاتے ہیں (شکل 6.4)۔
شکل 6.4 سٹومیٹل ایریٹس (a) اسٹومیٹا بین ساختی گارڈ خلیے (b) اسٹومیٹا ڈمب بیل کی شکل
ایپی ڈرمل خلیوں پر بہت سارے بال ہوتے ہیں۔ روٹ ہیئر یک خلوی اور لمبے ہوتے ہیں اور زمین سے غیر نامیاتی مرکبات اور پانی کے انجذاب میں مدد کرتے ہیں۔ تنوں کی ایپی ڈرمس پر جو بال ہوتے ہیں ان کو ٹرائکومز کہتے ہیں۔ ٹرائکومز اکثر کثیر خلوی ہوتے ہیں۔ یہ شاخ دار یا غیر شاخی، نرم یا سخت ہو سکتے ہیں۔ یہ کبھی کبھی رسیلے بھی ہوتے ہیں۔ ٹرائکومز، ٹرانسپیریشن سے ہونے والے پانی کے نقصان کو روکنے میں مدد کرتے ہیں۔
6.2.2 گرائونڈ بافتی نظام(The Ground Tissue System)
ایپی ڈرمس اور ویسکلربنڈل کے علاوہ تمام بافت گراؤنڈ بافت کہلاتے ہیں۔ یہ سادہ بافت جیسے پیرینکائما، کولِن کائما اور اسکلیرین کائما پر مشتمل ہوتا ہے۔ ابتدائی تنے میں موجود کارٹکس، پیری سائیکل، پتھ اور میڈولری ریز، پیرینکائما خلیوں کے بنے ہوتے ہیں۔ پتیوں میں گراونڈ بافت پتلی دیواروں والے خلیے جن میں کلوروپلاسٹ ہوتاہے میزوفل کہلاتے ہیں۔
6.2.3 وعائی بافتی نظام (The Vascular Tissue System)
وعائی نظام، کمپلیکس بافت، فلوئلم اور زائلم پر مشتمل ہوتا ہے اور یہ دونوں مل کر ویسکلر بنڈل بناتے ہیں (شکل 6.5)۔ دو برگی پودوں میں فلوئلم اور زائلم کے درمیان کیمبیم موجود ہوتا ہے۔ کیمبیم کی موجودگی کی وجہ سے آگے چل کر ایسے ویسکلر بنڈلز ثانوی زائلم اور فلوئلم بناتے ہیں لہٰذا یہ اوپن ویسکلر بنڈلز کہلاتے ہیں۔ یک برگی ویسکلر بنڈلز میں یہ کیمبیم موجود نہیں ہوتا لہٰذا یہ ثانوی زائلم اور فلوئلم نہیں بناتے اور بند ویسکلر بنڈلز کہلاتے ہیں۔ فلوئلم اور زائلم متبادلہ (Alternate) طور پر پائے جاتے ہیں اور ان کی ترتیب مختلف شعاعی (ریڈیل) کے ساتھ ہوتی ہے۔ کانجوائینٹ (Conjoint) ویسکلر بنڈلز میں زائلم اور فلوئلم ایک ہی ریڈیس پر ہوتے ہیں۔ اس طرح کے وعائی بنڈلز (Vascular bundles) تنوں اور جڑوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں زائلم چاروں طرف لوئلم سے گھراہوتا ہے۔
شکل 6.5 مختلف قسموں کے ویسکلر بنڈلز (i) ایڈیل (ii)کانجوائنٹ بند (iii) کانجوائینٹ کھلے
6.3 دو برگی اور یک برگی پودوں کی اناٹمی
(Anatomy of Dicotyledonous and Monocotyledonous Plants)
جڑیں، تنوں اور پتیوں میں بافتی ترتیب بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ان کے پختہ حلقوں کا ٹرانسورس سیکشنز کا مطالعہ کرنا ضروری ہے۔
6.3.1 دوبرگی جڑیں (Dicotyledonous Root)
شکل 6.6 (a) کو دیکھئے، یہ سورج مکھی کی جڑ کا ٹرانسورس سیکشن ہے۔ اس کا اندرونی بافتی نظام مندرجہ ذیل ہے:
سب سے باہری پرت (Epiblema)کہلاتی ہے۔ بہت سارے (Epiblema) خلیے لمبے ہوکر یک خلوی جڑ کے بال بناتے ہیں۔ کارٹیکس (Cortex) پیرینکائما خلیوں کی کئی پرتوں کا بنا ہوا ہوتا ہے جن میں بین الخلیاء فضائیں ہوتی ہیں۔ کارٹیکس کی سب سے اندرونی پرت اینڈوڈرمس کی ہوتی ہے جو صرف ایک پرت کی ہوتی ہے جن کے خلیے بیرل نما ہوتے ہیں۔ اس کے خلیوں کی ریڈیل اور ٹینجیشیل دیواروں پر موم جیسے مادّے سیوبیرن (Suberin) کی فیتے نما ڈیپازیشن ہوتی ہے جسے کیسپیرین اسٹرِپ کہتے ہیں۔ اس کے بعد پیرینکائما خلیوں کی کئی پرتیں ہوتی ہیں جس کو پیری سائیکل کہتے ہیں۔ ثانوی نمو کے درمیان بغلی جڑوں اور ویسکولربنڈلز کی شروعات انہیں خلیوں میں ہوتی ہے۔ پتِھ بہت کم یا بالکل نہیں ہوتا۔ زائلم اور فلوئلم کے درمیان موجود پیرینکائما خلیوں کو کنجکٹیو (Conjuctive) بافت کہتے ہیں۔ اکثر دو یا چار زائلم اور فلوئلم کے خطے ہوتے ہیں۔ بعد میں زائلم اور فلوئلم کے درمیان بافت میں کیمبیم ایک دائرے کی شکل میں نمودار ہوتا ہے۔ وہ تمام بافت مثلاً پیری سائیکل، ویسکولر بنڈلز اور پتھ جواینڈوڈرمس کے اندر موجود ہوتے ہیں اسٹیل (Stele) کہلاتے ہیں۔
6.3.2 یک برگی جڑیں (Monocotyledonous Root)
کئی لحاظ میں یک برگی جڑوں کی اناٹومی دوبرگی جڑوں سے یکساں ہوتی ہے شکل (6.6b)۔ ان میں بھی ایپی ڈرمس، کارٹیکس، اینڈوڈرمس، پیری سائیکل، ویسکلربنڈلز اور پتھ موجود ہوتا ہے۔ دوبرگی جڑوں کے مقابلے میں جن میں زائلم بنڈلز کم ہوتے ہیں، یک برگی جڑوں میں اکثر یہ چھ یا اس سے زیادہ ہوتے ہیں۔ پتھ بہت زیادہ اور کافی نمو یافتہ ہوتا ہے۔ یک برگی جڑوں میں کیمبیم نہیں ہوتا لہٰذا ان میں ثانوی نمو نہیں پائی جاتی۔
6.3.3 دو برگی تنے (Dicotyledonous Stem)
ان تنوں میں سب سے بیرونی پرت ایپی ڈرمس کی ہوتی ہے جو باہری کیوٹیکل کی پتلی تہہ سے ڈھکی رہتی ہے (شکل 6.7a)۔ اس میں ٹرائکومز اور کچھ دہن (Stomata) ہو سکتے ہیں۔ ایپی ڈرمس اور پیری سائیکل کی درمیانی جگہ میں خلیوں کی کئی پرتیں ہوتی ہیں، اس کو کارٹیکس کہتے ہیں یہ تین خطوں میں منقسم ہوتی ہے۔ باہری ہائپوڈرمس جو کولنکائما خلیوں کی دو یا تین پرتوں پر مشتمل بالکل ایپی ڈرمس کے نیچے ہوتی ہے اور نرم تنے کو استحکام پہنچاتی ہے۔ اس کے نیچے پیرینکائما کے مشتمل کئی پرتیں ہوتی ہیں جو کارٹیکل پرتیں کہلاتی ہیں۔ سب سے اندرونی پرت کو اینڈروڈرمس کہتے ہیں۔ اینڈوڈرمس کے خلیے نشاستے کے دانوں سے بھرپور ہوتے ہیں اسی لیے اس پرت کو اسٹارچ شیتھ بھی کہتے ہیں۔ اینڈوڈرمس کے نیچے اور فلوئلم کے اوپر نیم قمری شکل کے Sclerenchyma کے خطے پیری سائیکل کہلاتے ہیں۔ دوویسکلربنڈلز کے درمیانی جگہ میں پیرینکائما کے خلیے شعاعی شکل کے میڈولری ریز (Medullary rays) کہلاتے ہیں۔ بہت سارے ویسکلربنڈلز ایک دائرے کی شکل میں موجود ہوتے ہیں۔ ویسکلربنڈلز کا دائرے کی شکل میں مرتب ہونا دو برگی تنے کی امتیازی خصوصیت ہے۔ ہر ویسکلربنڈل، کونجوائنٹ، کھلا ہوا اور اینڈارک پروٹوزائلم پر مشتمل ہوتا ہے۔ تنے کے بیچ میں گول پیرینکائمیٹس خلیے جن کے درمیان بہت بڑی بڑی فضائیں ہوتی ہیں پتھ بناتا ہے۔
شکل 6.6 (i) دو برگی جڑیں (پرائمری) (ii) یک برگی جڑ
6.3.4 یک برگی تنے (Monocotyledonous Stem)
ان میں سلکرین کائما خلیوں کی ہائپوڈرمس ہوتی ہے، بہت سارے بکھرے ہوئے ویسکلر بنڈلز ہوتے ہیں جن میں سے ہر ایک اسکلیرین کائمٹس بنڈل شیتھ اور ایک بڑے نمایاں گراؤنڈ بافت سے گھرے ہوتے ہیں۔ ویسکلر بنڈلز کونجوائنٹ اور بند ہوتے ہیں (شکل 6.7b)۔ باہری بنڈلز اکثر اندرونی بنڈلز کے مقابلے میں چھوٹے ہوتے ہیں۔ فلوئلم پیرینکائما غائب ور ویسکلربنڈلز میں پانی بھری ہوئی ویکیولز ہوتے ہیں۔
6.3.5 ظہری بطنی دوبرگی پتیاں (Dorsiventral Leaf)
ظہری بطنی پتے کے ورقے (Lamina) کے پارکاورٹیکل سیکشن ہمیں تین نمایاں حصے دکھاتا ہے، ایپی ڈرمس، میزوفِل اور وعائی نظام (Vascular system)۔ ایپی ڈرمس پتے کے اوپری اور نچلی سطح کو ڈھکے رکھتی ہے اور اس کے اوپر کیوٹیکل کی ایک پرت ہوتی ہے۔ نچلی ایپی ڈرمس میں اوپری ایپی ڈرمس کے مقابلے میں زیادہ دہن (Stomata) ہوتے ہیں۔ اوپری سطح پر دہن نہیں بھی ہو سکتے ہیں۔ اوپری اور نچلی ایپی ڈرمس کے درمیان کا بافت میزوفل کہلاتا ہے۔ اس کے خلیوں میں کلوروپلاسٹ ہوتاہے جو ضیائی تالیف کرتے ہیں، یہ پیرینکائما خلیے کے بنے ہوتے ہیں۔ میزوفل میں دو طرح کے خلیے ہوتے ہیں، پیلی سیڈ پیرینکائما اور اسپونجی پیرینکائما۔ اوپری سطح پر لگے ہوئے پیلی سیڈ پیرینکائما کے لمبے خلیے ایک دوسرے کے متوازن کھڑے رہتے ہیں۔ بیضوی اور ڈھیلے اسپونجی پیرینکائما، پیلی سیڈ پیرینکائما کے ٹھیک نیچے ہوتے ہیں۔ ان کے درمیان میں بہت بڑی بڑی ہوائی فضائیں ہوتی ہیں۔ وعائی بافت میں ویسکلر بنڈلز ہوتے ہیں جو وینز اور درمیانی رگ میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ ویسکلر بنڈلز کا سائز وینز کے سائز پر منحصر ہوتا ہے۔ دو برگی پتیوں جن میں ریٹکولیٹ وینیشن ہوتا ہے، میں وینز کی موٹائی مختلف جگہوں پر مختلف ہوتی ہے۔ ویسکولربنڈلز اینڈارک جڑے ہوتے ہیں اور ہر ایک موٹی دیوار والی بنڈل شیتھ خلیے سے گھرے ہوتے ہیں۔ ویسکلربنڈلز میں زائلم کی جگہ تلاش کیجیے (شکل 6.8a)۔
6.3.6 یک برگی آئسو بائی لیٹرل پتے (Isobilateral (Monocotyledonous) Leaf)
کئی لحاظ سے آئسوبائی لیٹرل پتے ظہری بطنی پتوں سے مُشابہ ہوتے ہیں۔ یہ مندرجہ ذیل خصوصیات دکھاتے ہیں۔ ان میں دہن ایپی ڈرمس کی دونوں سطحوں پر موجود ہوتے ہیں۔ میزوفل کے پیلی سیڈ اور اسپونجی پیرینکائما میں کوئی تفریق نہیں ہوتی (شکل 6.8b)۔
گھاس کی پتیوں کی اوپری ایپی ڈرمس میں وینز کے متوازی کچھ خلیے جسامت میں بڑے اور بے رنگ ہوجاتے ہیں جن کو بُلی فارم خلیے کہتے ہیں۔ جب یہ بلی فارم خلیے پانی جذب کر کے تن جاتے ہیں تو پتی پورے طور پر کھل جاتی ہے اور جب پانی کی کمی کی وجہ سے پچک جاتے ہیں تو پتیاں ا ندرونی جانب مڑ جاتی ہے تاکہ پانی کا نقصان کم سے کم ہو۔
جیسا کہ شکل میں دکھایا گیا ہے، یک برگی پتیوں میں متوازی رگیت میں ویسکلر بنڈلز کا سائز تقریباً برابر ہوتا ہے (سوائے لمبی وینز کے)۔
6.4 ثانوی نمو (Secondary Growth)
جڑ اور تنوں کی لمبائی میں نمو اپیکل میریسٹم کے ذریعے ہوتی ہے اسے ابتدائی نمو کہتے ہیں ابتدائی نمو کے علاوہ اکثر دوبرگی پودے موٹائی میں بھی بڑھتے ہیں۔ اس نمو کو ثانوی نمو کہتے ہیں۔ یہ یک برگی پودوں کی جڑ اور تنوں میں نہیں ہوتی۔ جمنواسپرمز کی جڑوں اور تنوں میں ثانوی نمو ہوتی ہے۔ اس ثانوی نمو میں دو لیٹرل میریسٹم: ویسکلر کیمبیم اور کارک کیمبیم کا دخل ہوتا ہے۔
6.4.1 ویسکلرکیمبیم (Vascular Cambium)
وعائی بافت زائلم اور فلوئلم کو بنانے والی میریسٹمیٹک پرت کو ویسکلر کیمبیم کہتے ہیں۔ ابتدائی پودوں کی نشوونما کے وقت یہ زائلم اور فلوئلم کے درمیان ایک پرت میں ٹکڑوں کی شکل میں ہوتی ہے بعد میں جانبی اطراف میں بڑھ کر مکمل دائرہ بناتی ہے۔
6.4.1.1 کیمبیل دائرے کا بننا (Formation of Cambial Ring)
دوبرگی تنوں میں کیمبیم کے خلیے پرائمری زائلم اور پرائمری فلوئلم کے درمیان میں ہوتے ہیں اور ان کو انٹرافیسیکولرکیمبیم کہتے ہیں۔ ان سے لگے ہوئے میڈولری خلیے بعد میں میریسٹمیٹک ہو جاتے ہیں اور ان کو انٹرافیسیکولر کیمبیم کہتے ہیں اور اس طرح دونوں مل کر کیمبیم کا دائرہ مکمل کرتے ہیں۔
6.4.1.2 کیمبیل دائرے کا فعل (Activity of the Cambial Ring)
کیمبیل دائرے کے خلیے ایکٹیو (Active) ہونے کے بعد تقسیم ہو کر اندر اور باہر کی طرف نئے خلیوں کا اضافہ کرتے ہیں۔ جو خلیے پتھ کی طرف بنتے ہیں وہ ثانوی زائلم اور جو خلیے باہری جانب بنتے ہیں وہ ثانوی فلوئلم بناتے ہیں۔ کیمبیم عموماً اندرونی جانب زیادہ ایکٹیو ہوتی ہے اور اس لیے اندر کی جانب زیادہ خلیوں کا اضافہ کرتی ہے لہٰذا ثانوی زائلم کی مقدار ثانوی فلوئلم کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے اور اس لیے جلد ہی یہ ایک کمپیکٹ ماس بناتے ہیں۔ ثانوی زائلم کو نمو اور تنے کی موٹائی میں اضافے کی بنا پر پرائمری فلوئلم اور ثانوی فلوئلم ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں۔ پرائمری زائلم تقریباً اپنی جگہ پر قائم رہتا ہے۔ کچھ جگہوں کے کیمبیم، پیرینکائما خلیوں کی مدد سے پتلا، لمبائی میں فیتے نما عضو بناتا ہے جو ثانوی زائلم اور ثانوی فلوئلم سے شعاعی سمت میں گذرتا ہے ان کو ثانوی میڈولری ریز کہتے ہیں (شکل6.9)۔
شکل 6.8 پتوں کا V.S. (i) ظہری بطنی پتے (ii) اسوبائی لیٹرل پتے
شکل 6.9 ڈائی کاٹ تنے میں ثانوی نمو (Diagrammatic) مرحلے کا انٹرانسورس منظر
6.4.1.3 سپرنگ وڈ اور آٹم وڈ (Spring wood and Autumn Wood)
سپرنگ وڈ ہلکے رنگ اور کم ٹھوس دار ہوتی ہیں جبکہ آٹم وڈ (Autumn Wood) گہرے رنگ اور ٹھوس دار چوب ہوتی ہے۔ یہ دونوں چوب یکے بعد دیگرے دائروں کی شکل میں ہوتی ہیں جن کا مرکز ایک ہوتا ہے، ان کو سالانہ رنگ (Annual Ring) کہتے ہیں۔ کٹے ہوئے تنے میں ان دائروں کی تعداد درخت کی عمر کا ایک اندازہ بتاتے ہیں۔
6.4.1.4 ہارٹ وڈ اور سیپ وڈ (Heartwood and Sapwood)
پرانے درختوں میں ثانوی زائلم کا زیادہ حصہ گہرے بھورے رنگ کا ہوتا ہے، اس کی وجہ نامیاتی مرکبات جیسے ٹینن، ریزنس، تیل، گوند، خوشبووالے مادے اور ضروری تیل کا تنے کے اندرونی حصے میں جمع ہونا ہے۔ یہ مادے چوب کو بہت سخت دیرپا اور کیڑوں اور جراثیم سے مدافعت کی قوت عطا کرتے ہیں۔ یہ حصہ بے جان زائلری عنصر جن کی دیواریں لِگنین سے ڈھکی رہتی ہیں کا بنا ہوتا ہے جو ہارٹ وڈ کہلاتا ہے۔ یہ حصہ پانی کا ایصال نہیں کرتا بلکہ تنے کو استحکام پہنچاتا ہے۔ ثانوی زائلم کا باہری احاطہ ہلکے رنگ کا ہوتا ہے اور اسے سیپ وڈ کہتے ہیں۔ یہ پانی اور معدنیات کی ترسیل جڑوں سے پتوں تک کرتا ہے۔
شکل 6.10 (a) لینٹی سیل (b) چھال
6.4.2 کارک کیمبیم (Cork Cambium)
جیسے جیسے ویسکلر کیمبیم کی فعالی کی وجہ سے تنے کی موٹائی میں اضافہ ہوتا رہتا ہے، باہری کارٹیکل اور ایپی ڈرمس کی پرتیں ٹوٹتی رہتی ہیں اور ان کی جگہ نئی حفاظتی پرتوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ لہٰذا، جلد ہی دوسرا میریسٹمیٹک بافت کارک کیمبیم یا فیلوجن عموماً کارٹیکس میں نموہوتا ہے۔ فیلوجن کئی پرتوں والی موٹی تہہ ہوتی ہے۔ یہ تنگ، پتلی دیواروں والے تقریباً چوکور خلیے ہوتے ہیں۔ فیلوجن اپنے دونوں طرف نئے خلیے بناتا ہے۔ باہری تہہ تخصیص ہو کر کارک یا فیلم، اور اندرونی خلیے ثانوی کارٹیکس یا فیلوڈرم بناتے ہیں۔ کارک خلیوں کی دیواروں میں سیوبیرین کی موجودگی کی وجہ سے پانی کے لیے غیر نفوذ پذیر ہوتا ہے۔ ثانوی کارٹیکس کے خلیے پیرینکائما کے ہوتے ہیں۔ فیلوجن، فیلم اور فیلوڈرم مجموعی طور پر پیریڈرم، کہلاتے ہیں۔ کارک کیمبیم کی مسلسل کارکردگی کی وجہ سے فیلوجن سے باہری جانب کی پرتوں پر دباؤ بڑھتا ہے اور آخر کار باہری خلیے بے جان ہو کر کیمپلی کی طرح اترتے رہتے ہیں۔ فعال کارک کیمبیم کے تمام باہری خلیے مجموعی طور پر چھال (Bark) بناتے ہیں۔ ان تمام مختلف خلیوں کے نام لکھئے جو چھال بناتے ہیں۔
کئی مقامات پر فیلوجن باہری جانب بجائے کارک خلیوں کے ایسے پیرینکائما خلیے بناتا ہے جو بہت قریب قریب ہوتے ہیں اور یہ ایپی ڈرمس کو توڑ کر لینس نما چھید بناتا ہے جن کو لینٹی سیل کہتے ہیں یہ اندرونی بافت اور باہری ماحول میں گیس کے تبادلے کی اجازت دیتے ہیں اور یہ لینٹی سیل چوبی درختوں میں پائے جاتے ہیں (شکل 6.10)۔
6.4.3 جڑوں میں ثانوی نمو(Secondary Growth in Roots)
اپنی نمو کے لحاظ سے دوبرگی جڑوں میں ویسکلر کیمبیم مکمل طور پر ثانوی کردار کا ہوتا ہے۔ یہ ان بافتوں میں پیدا ہوتا ہے جو فلوئلم بنڈلز کے نیچے ’پیری سائیکل کا ایک حصہ‘ پروٹوزائلم کے اوپر کا حصہ ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے جانبی سمت میں مل کر لہر دار دائرہ بناتے ہیں جو بعد میں سیدھا دائرہ ہو جاتا ہے (شکل 6.11)۔ نمو کے بقیہ اقدام بالکل ویسے ہی ہوتے ہیں جن کی تفصیل ہم نے دو برگی تنوں کے لیے مندرجہ بالا سطور میں بیان کی ہے۔
جمنواسپرمز کے تنوں اور جڑوں میں بھی ثانوی نمو ہوتی ہے لیکن ثانوی نمو یک برگی پودوں میں نہیں پائی جاتی۔
شکل 6.11 ایک تمثیلی دو برگی جڑ میں ثانوی نمو کے مختلف درجات
خلاصہ
اناٹومی کے اعتبار سے پودا مختلف بافت کا بنا ہوتاہے۔ یہ بافت میریسٹمیٹک (ایپکل، لیٹرل اور انٹر کیلری) اور پرمنینٹ (سادہ اور مرکب) بافت میں تقسیم کیے جاسکتے ہیں۔ غذا کا انجذاب اور تذخیر، پانی کا نقل و حمل، معدنیات اور ضیائی تالیف اور میکانیکل استحکام ان بافتوں کے خاص کام ہیں۔ تین طرح کا بافتی نظام پایا جاتا ہے: ایپی ڈرمل، گرائونڈ اور ویسکلر۔ ایپی ڈرمل بافتی نظام، ایپی ڈرمل خلیے، دہن اور ایپی ڈرمل اپینڈ جز پر مشتمل ہوتا ہے۔ گرائونڈ بافتی نظام، پودے کا بڑا حصہ بناتا ہے جو تین خطوں میں تقسیم ہوتا ہے: کارٹیکس، پیری سائیکل اور پتھ۔ وعائی نظام، زائلم اور فلوئلم پر مشتمل ہوتا ہے۔ کیمبیم کی موجودگی کی وجہ سے زائلم اور فلوئلم مخصوص مقام کی بناء پر مختلف قسم کے ویسکلر بنڈلز پائے جاتے ہیں۔ ویسکلر بنڈلز ترسیلی بافت بناتے ہیں اور پانی معدنیات اور غذا کی ترسیل کرتے ہیں۔
یک برگی اور دو برگی پودے اپنے اندرونی ساخت میں بڑے تغیر کا اظہار کرتے ہیں۔ ویسکلر بنڈلز کی ٹائپ، تعداد اور وقوع (Location) میں بڑا اختلاف ہوتا ہے۔ دوبرگی پودوں کی جڑوں اور تنوں میں ویسکلر کیمبیم اور کارک کیمبیم کی وجہ سے ثانوی نمو ہوتی ہے اور ان کے قطر میں اضافہ ہوتا ہے۔ چوب دراصل ثانوی زائلم ہوتا ہے۔ خلیوں کی ترکیب کی بناء پر چوب مختلف اقسام کی ہوتی ہیں۔
مشقیں
1۔ مختلف میریسٹم کی جگہ اور ان کے فعل بیان کیجیے۔
2۔ کارک کیمبیم ایسے بافت بناتا ہے جو کارک بناتے ہیں۔ کیا آپ اس بیان سے متفق ہیں؟ کیوں؟
3۔ لائن ڈائیگرام کے ذریعے چوبی اینجیواسپرمز میں ثانوی نمو کو بیان کیجیے اور اس کی اہمیت پر روشنی ڈالیے۔
4۔ ڈرائنگ کی مدد سے مندرجہ ذیل میں اناٹومیکل تفریق کو اجاگر کیجیے۔
(a) یک برگی جڑ اور دو برگی جڑ
(b) یک برگی تنا اور دو برگی تنا
5۔ اپنے اسکول کے باغ میں سے کسی نوخیز تنے کا ٹرانسورس سیکشن کاٹئے اور اس کا خوردبین کے ذریعے معائنہ کیجیے۔ آپ کیسے تفریق کریں گے کہ یہ یک برگی یا دو برگی تنا ہے۔ وضاحت کیجیے۔
6۔ ایک پودے کا ٹرانسورس سیکشن مندرجہ ذیل اناٹومیکل نقش دکھاتا ہے۔
(i) ویسکلر بنڈلز کونجوائنٹ بکھرے ہوئے اور Sclerenchymatous بنڈل شیتھ سے گھرے ہوئے
(ii) فلوئم پیرینکائما غائب۔ آپ اس کی کہاں پہچان کریں گے۔
7۔ زائلم اور فلوئلم، کامپلکس بافت کیوں کہلاتے ہیں؟
8۔ اسٹومیٹل اپریٹس کیا ہوتا ہے؟ ڈائیگرام کی مدد سے اسٹومیٹا کی ساخت بیان کیجیے۔
9۔ زہراوی پودوں میں تین بنیادی بافتی نظام کے نام لکھئے۔ ہر نظام میں موجود بافت کا نام لکھئے۔
10۔ پودوں کی اناٹومی کا مطالعہ ہمارے لیے کس طرح سے مدد گار ہوتا ہے؟
11۔ پیری ڈرم کیا ہے؟ دو برگی پودوں میں پیری ڈرم کیسے بنتی ہے؟
12۔ ڈائیگرام کی مدد سے ظہری بطنی پتے کی اندرونی ساخت بیان کیجیے۔