باب 7
حیوانات میں ڈھانچے کی تنظیم
(Structural Organisation in Animals)
7.1 حیوانی بافت
7.2 عضو اور عضوی نظام
7.3 کینچوا
7.4 تل چٹا
7.5 مینڈک
اس سے گذشتہ ابواب میں آپ کو حیواناتی کنگڈم کے دونوں یک خلوی اور کثیرخلوی عضویوں کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہے۔یک خلوی عضویوں میں سبھی کام جیسے ہاضمہ، تنفس اور تولید ایک ہی خلیہ کے ذریعہ عمل میں آتا ہے۔ کثیر خلوی عضویہ اس کام کو بہت سارے خلیہ کے مجموعے کے ذریعے منظم طریقے سے کرتے ہیں۔ ایک ادنیٰ جاندار جیسے ہائیڈرا کئی طرح کے خلیوں سے بنا ہوتا ہے اور ہر ایک قسم میں خلیہ کی تعداد ہزاروں میں ہوسکتی ہے۔ آدمی کا جسم دس کھرب خلیوں سے مل کر بنا ہوتا ہے جس کے ذریعے یہ سارے کام عمل پذیر ہوتے ہیں۔ جسم میں یہ سارے خلیہ کیسے ایک ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ کثیر خلوی جانوروں میں ایک طرح کے خلیے کی جماعت اور دو خلیہ کے بیچ کی چیز مل کر ایک خاص طرح کا کام انجام دیتے ہیں، اس طرح کے تنظیم کو بافت کہتے ہیں۔
سبھی پیچیدہ جانوروں کا جسم صرف چار بنیادی بافتوں کا بنا ہوتا ہے۔ یہ سبھی بافت ایک خاص طرح سے منظم ہو کر عضو بناتے ہیں جیسے پیٹ، پھیپھڑے اور گردے۔ جب دو یا دو سے زیادہ عضو اپنے طبیعی یا کیمیاوی بنیاد کے ذریعے ایک ہی طرح کا کام انجام دے تو وہ مل کر عضوی نظام بناتا ہے جیسے ہاضمہ کا نظام، نظامِ تنفس وغیرہ۔ خلیہ، بافت، عضو اور عضوی نظام ان سبھی کا کام الگ الگ ہوتا ہے اور مل کر ایک ساتھ جسم کو زندہ رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔
7.1 حیوانی بافت (Animal Tissues)
خلیہ کی بناوٹ اس کے کام کے مطابق بدلتی رہتی ہے۔ اسی لیے بافت مختلف طرح کی ہوتی ہے اور اسے چار حصوں میں تقسیم کیا گیاہے : (i) برآدمہ (ii) اتصالی (iii) عضلاتی اور (iv) اعصابی بافت
7.1.1 برآدمہ بافت (Epithelial Tissue)
ایپی تھیلیل بافت کو ہم لوگ ایپی تھیلیم کہہ سکتے ہیں (جمع ایپی تھیلیا)۔ اس بافت میں ایک آزاد سطح ہوتی ہے جو یا تو جسم کے سیال سے یا باہر کے ماحول سے لگی رہتی ہے اور اس کے ذریعے جسم کے حصے کی حفاظت کرتے ہیں خلیہ بہت کم بین الخلوی میٹرکس کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ برآدمہ بافت دو طرح کی ہو تی ہیں جس کا نام سادہ ایپی تھیلیم اور مرکب ایپی تھیلیم ہے۔ سادہ ایپی تھیلیم خلیہ کی ایک تہہ کا بنا ہوتا ہے اور جو جسم کے کہفہ، غدود اور نالیوں کو ملفوف رکھتا ہے مرکب ایپی تھیلیم دو یا دو سے زیادہ خلیوں کی تہہ کا بنا ہوتا ہے اور اس کا کام تحفظ ہے جیسا کہ ہماری جلد میں کرتا ہے۔
شکل 7.1 سادہ ایپی تھیلیم (a) اسکوامس یا فلوسی (b) کوبوائڈل یا مکعب نما (c) کالمنر یا ستونی (d سیلیئیٹڈ (Ciliated)
خلیہ کے ساخت میں ترمیم کی بنیاد پر سادہ ایپی تھیلیم کو پھر تین حصوں میں بانٹا گیا ہے۔ 1۔ اسکوامس یا 2۔ فلوس کوبوائڈل یا مکعب نما (شکل 7.1) 3۔ کالمنر یا ستونی۔
Squamous Epithelium چپٹے خلیہ کے ایک پتلی تہہ کا بنا ہوتا ہے جس میں Irregular boundaries ہوتی ہیں۔ اس طرح کی بافت خون کی نلی کی دیواروں اور پھیپھڑوں کے ہوائی تھیلوں میں پائی جاتی ہے اور نفوذی حدود جیسے کام میں مشغول رہتا ہے۔ مکعب نما ایپی تھیلیم، مکعب جیسے خلیہ کی اکیلی تہہ سے بنا ہوتا ہے۔ اس طرح کے بافت غدود کی نلی میں اور گردہ میں گردانیے (Nephron) کے Tubular حصے میں پایا جاتا ہے اور اس کا اہم کام اخراج اور انجذاب ہے۔ گردانیے کے Proximal Convoluted Tubule کے ایپی تھیلیم میں مائکروویلئی پایا جاتا ہے۔Columnar Epithelium لمبے اور پتلے خلیہ کی اکیلی تہہ سے مل کر بنا ہوتا ہے۔ اس کا مرکزی حصہ بنیاد میں پایا جاتاہے۔ آزاد سطح میں بھی مائکروویلئی (Microvilli) پایا جاسکتا ہے۔ یہ معدے اور آنتوں کے استر میں پایا جاتا ہے اور یہ اخراج اور انجذاب میں مدد کرتا ہے۔ اگر ستونی یا مکعب نما خلیہ کے آزاد سطح میں سیلیا پایا جائے تو اسے ـCiliated Epithelium کہتے ہیں (شکل 7.1d)۔ اس کا کام ایپی تھیلیم پر ایک خاص رُخ میں ذرّات یا میوکس کو لے جانا ہے۔ یہ کھوکھلے عضو کی اندرونی سطح میں پایا جاتا ہے جیسے Bronchioles اور فیلوپین نلی۔
شکل 7.2 غدودی ایپی تھیلیم (a) یک خلوی (b) کثیر خلوی
شکل 7.3 مرکب ایپی تھیلیم
کچھ ستونی یا مکعب نما خلیہ کا کام صرف اخراج ہوتا ہے اور اسے غدودی ایپی تھیلیم (Glandular Epithelium) کہتے ہیں (شکل7.2)۔یہ دو طرح کا ہوتا ہے۔ یک خلوی جس میں صرف غدودی خلیہ ہوتا ہے۔ (مثال گوبلیٹ خلیہ جو انہضامی نلی میں پایا جاتا ہے) اور کثیر خلوی جس میں مختلف قسم کے خلیے ہوتے ہیں (مثال لعابی غدود)۔ اس کے اخراج کے طریقہ کی بنیاد پر غدود کو دو حصوں میں بانٹا گیا ہے جس کا نام اکسوکرائن اور اینڈوکرائن غدود ہے۔ اکسوکرائن غدود میوکس، لعاب، ایرویکس، تیل، دودھ، ہاضمے کے خامرے اور کچھ دوسرا خلیہ کا ماحصل خارج کرتا ہے۔یہ ماحصل Ductیا نلی کے ذریعے باہر آتا ہے۔ اینڈوکرائن غدود میں نلکیاں نہیں ہوتیں۔ اس کا ماحصل جس کو ہارمونز کہتے ہیں وہ بالواسطہ کے چاروں طرف پائے جانے والے سیال میں خارج ہوتا ہے۔
مرکب ایپی تھیلیم خلیہ کے ایک سے زیادہ تہوں کا بنا ہوتا ہے اور اس لیے اس کے کردار کا اخراج اور انجذاب محدود ہوتا ہے (شکل 7.3)۔ اس کا اہم کام کیمیائی اور میکانیکی کھچاؤ کے خلاف حفاظت کرنا ہے۔ یہ جلد کی سوکھی سطح کو ڈھکتا ہے ۔ اس کے علاوہ دھاتی کہفہ کی بھیگی سطح فرنگس، لعابی غدود اور پینکرائی غدود کی نلکیوں کے اندر کی سطح کو بھی ڈھکتا ہے۔
ایپی تھیلیم میں سبھی خلیہ بین الخلوی مادے کے ذریعے باہم جڑے رہتے ہیں۔تقریباً سبھی جانوروں کے بافت میں کچھ مخصوص جنکشن اپنے انفرادی خلیوں میں فعلی اور ساختی رابطہ بنائے رکھتے ہیں۔
ایپی تھیلیم اور دوسرے بافتوں میں تین طرح کے خلوی جنکشنز پائے جاتے ہیں۔ Tight Junction مدد کرتا ہے چیزوں کو بافت کے چاروں طرف سے باہر نکلنے سے روکنے میں۔ Adhering Junctions خلیہ کو ایک ساتھ بنائے رکھنے میں مدد کرتا ہے اور Gap Junctionsایک ساتھ جُڑے خلیہ کے سائٹوپلازم (Cytoplasm) کو جوڑنے کے ساتھ ساتھ خلیے میں ایک دوسرے کے درمیان چیزوں کو آنے جانے میں مدد کرتا ہے جس کی وجہ سے برق پارے چھوٹے سالمے اور کچھ بڑے سالمے کا آنا جانا ہوتا ہے۔
7.1.2 اتصالی بافت (Connective Tissue)
پیچیدہ جانوروں کے جسم میں اتصالی بافت سب سے زیادہ اور ہر ایک جگہ پایا جاتا ہے۔ اس کا نام اتصالی بافت اس لیے ہے کیوں کہ اس کا خاص کام جسم کے دوسرے بافت اور عضو کو جوڑنا اور استحکام پہچانا ہے۔ یہ نرم اتصالی بافت
شکل 7.4 ڈھیلے اتصالی بافت (a) ایریولر بافت (b) ایڈیپوز بافت
سے لے کر ایک مخصوص کام کرنے والا تک ہوتا ہے جس میں Cartilage، ہڈی، Adipose اور خون شامل ہے (شکل 7.6)۔ خون کو چھوڑ کر سبھی اتصالی بافت میں خلیہ ساختی پروٹینز کے ریشے خارج کرتا ہے جسے Collagen یا Elastin کہتے ہیں۔ ریشوں کی وجہ سے بافت میں قوت Elasticityاور Flexibility ہوتا ہے۔ یہ خلیہ تبدیل شدہ پولی سیکرائڈز بھی خارج کرتا ہے جو خلیہ اور ریشے کے درمیان جمع رہتا ہے اور میٹرکس (گراؤنڈ اشیا) کی طرح کام کرتا ہے اتصالی بافت کو تین حصوں میں بانٹا گیا ہے: (i) ڈھیلے (Loose) اتصالی بافت (ii) گھنے (Dense) اتصالی بافت (iii) مخصوص (Specialised) اتصالی بافت (شکل 7.4 سے 7.6)۔
ڈھیلے اتصالی بافت نیم سیال بنیادی بافت میں خلیہ اور ریشے کو ڈھیلی طرح سجا کر رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر ایریولر بافت جو stem کے درمیان ہوتا ہے۔ اکثر یہ ایپی تھیلیم کے لیے استحکامی خاکے کی طرح کام کرتا ہے۔ اس میں Macophages Fibroblast اور Mast خلیہ ہوتا ہے۔
(خلیہ جو ریشے پیدا اور افراز کرتا ہو) ایڈیپوز بافت اتصالی بافت کی دوسری مثال ہے جو خاص کر جلد کے نیچے پایا جاتا ہے۔ اس بافت کے خلیہ کا کام صرف چربی کی تذخیر کرنا ہے۔ جسم میں غذا کی کثرت سے جس کا استعمال فوراً نہیں ہوتا وہ چربی میں تبدیل ہوجاتی ہے اور اس بافت میں جمع ہوجاتی ہے۔
ریشے اور fibroblastدبیز اتصالی بافت میں Compactely Packed ہوتا ہے۔ ریشے کا ریگولر اور غیر ریگولر سجاوٹ ہونے کی وجہ سے اسے گھنے ریگولر گھنے غیر ریگولر بافت کہتے ہیں۔
شکل 7.5 گھنے اتصالی بافت (a) گھنے ریگولر (b) گھنے غیر ریگولر
کثیف ریگولر اتصالی بافت میں فائبرس فائبروبلاسٹ کے بہت سارے Parallel Bundlesکے درمیان قطار میں پایا جاتا ہے۔ اس بافت کی مثال ہیں Tendons جو اسکیلیٹل عضلہ کو ہڈی سے اور Ligaments جو ایک ہڈی کو دوسرے ہڈی سے جوڑتا ہے، کثیف غیر ریگولر اتصالی بافت میں Fibroblast اور بہت سارے fibres(زیادہ تر collagen) پائے جاتے ہیں جو لگ بھگ ہر جگہ منتشر ہوتا ہے۔ یہ بافت جلد، ہڈیوں، کارٹیلیج اور خون میں پایا جاتا ہے۔
شکل 7.6 مخصوص اتصالی بافت (a) کارٹیلیج (b) ہڈی (c)خون
کارٹیلیج کے دو خلیہ کے بیچ پائی جانے والی چیز سخت اور لچیلی ہوتی ہے اور جو انقباض کی مزاحمت کرتی ہے۔ اس بافت کا خلیہ میٹرکس کے اندر چھوٹی جگہ میں ڈھکا ہوتا ہے جو اس کے ذریعے ہی خارج ہوتا ہے (شکل 7.6 (a))۔
ورٹیبریٹ امبریو میں زیادہ تر کارٹیلیج بالغ میں ہڈی کے ذریعے بدل جاتا ہے۔ بالغ میں کارٹیلیج ناک کے اوپری حصہ میں، کان کے جوڑ کے باہری حصہ میں اور ریڑھ کی دو ہڈیوں کے درمیان جوارع کارٹیلیج میں پایا جاتاہے۔
ہڈیوں میں سخت اور Non-pliable Ground اشیا پائی جاتی ہیں جس میں کیلشیم نمکیات بھرپور ہوتا ہے۔ یہ اہم بافت ہے جو جسم کو ایک خوبصورت بناوٹ دیتا ہے۔ ہڈیاں نرم بافت اور عضو کو مدد اور استحکام پہچاتی ہیں۔ پاؤں کی ہڈیاں جیسے پیٹرول کی لمبی ہڈی پورے جسم کے وزن کو سہارا دیتی ہے۔ یہ skeletal muscleکے ساتھ بھی جڑا ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس میں حرکت پائی جاتی ہے۔کچھ ہڈیوں میں بون میرو (Bone Marrow) خون کے خلیوں کو پیدا کرنے کی جگہ ہوتی ہے۔ خون ایک سیال اتصالی بافت ہے جس میں پلازمہ، WBC، RBC اور پلے ٹیلیٹ ہوتا ہے۔ یہ ایک اہم بہتا ہوا سیال ہے جو بہت طرح کی چیزوں کے نقل و حمل میں مدد کرتا ہے۔
7.1.3 عضلاتی بافت (Muscle Tissue)
ہر ایک عضلہ بہت سارے بیلن نما ریشوں سے بنا ہوتا ہے جو متوازی شکل میں مرتب ہوتا ہے۔ یہ ریشے بہت سارے مہین ریشے کے بنے ہوتے ہیں جسے مایوفائبرلس کہتے ہیں۔ عضلی ریشہ مہیج کے جواب میں چھوٹا ہوجاتا ہے اور پھر پھیل جاتا ہے یہ عمل بڑے ہی رابطہ کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کا کام جسم کو ماحول میں ہوئے بدلاؤ میں مطابقت اور جسم کے الگ الگ حصّے کی پوزیشن برقرار رکھنے میں ہوتا ہے۔ یعنی عضلی بافت کا اہم کام جسم کی سبھی حرکتوں میں ہوتا ہے۔ عضلے تین طرح کے ہوتے ہیں اسکیلیٹل، چکنا اور قلبی۔
اسکیلیٹل عضلہ، اسکیلیٹل ہڈی سے آپس میں جڑے ہوتے ہیں۔ ایک عام عضلٰی جیسے بائی سیپس میں اسٹریڈ اسکیلیٹل عضلاتی ریشم ایک ساتھ بنڈل میں جڑا ہوتا ہے۔ مضبوط اتصالی بافت کی ایک پرت عضلاتی ریشوں کے بہت سارے بنڈل سے ڈھکی رہتی ہے۔
شکل 7.7 عضلاتی بافت (a) اسکیلیٹل عضلاتی بافت (b) ہموار عضلاتی بافت (c) قلبی عضلاتی بافت
ہموار عضلی ریشے دونوں سروں (Fusifom) پر نوکیلے رہتے ہیں اور ان میں دھاریاں نہیں ہوتیں (شکل 7.7)۔ سیل جنکشن ان کو آپس میں بنائے رکھتا ہے اور یہ ایک ساتھ اتصالی بافت کی پرت سے ڈھکے ہوتے ہیں۔ عضو کی اندرونی دیوار جیسے خون کی نلیاں، معدہ اور آنتوں میں اس طرح کے عضلے پائے جاتے ہیں۔ ہموار عضلے غیرارادی ہوتے ہیں کیونکہ اس کے کام کو سیدھی طرح سے اختیار میں نہیں کیا جاسکتا ہے۔ جس طرح اسکیلیٹل مسکل کو ہم Contract کرسکتے ہیں اس طرح اس کو ہم نہیں کرسکتے۔
قلبی عضلاتی بافت ایک Contractile عضلی ہے جو صرف دل میں پایا جاتاہے۔ خلیہ جنکشن، قلبی عضلی کے خلیہ کے خلوی جھلّی کو ضم کرتا ہے جس کی وجہ سے یہ ایک دوسرے سے ملحق ہوتا ہے (شکل 7.5)۔ کچھ فیوژن پوائنٹ پر کمیونی کیشن جنکشن خلیہ کو سکڑ کر ایک ہونے کی اجازت دیتا ہے یعنی جب ایک خلیہ کو سکڑنے کا Signal ملتا ہے تو اس کے آس پاس کا خلیہ بھی سکڑنے لگتا ہے۔
7.1.4 عصبی بافت (Neural Tissue)
عصبی بافت کا سب سے زیادہ کنٹرول حالات کو بدلنے کی وجہ سے جسم کے ردِّ عمل پر ہے۔ عصبیہ عصبی نظام کی اکائی، اشتعال پذیر خلیہ ہوتا ہے۔ عصبی نظام کا باقی حصہ جو خلیہ کا بنا ہوتا ہے وہ عصبیے کی حفاظت اور مدد کرتاہے۔ ہمارے جسم میں Neurogliaعصبی بافت کا آدھے سے بھی زیادہ حصہ بناتا ہے۔
شکل 7.8 : عصبی بافت
جب ایک عصبیہ کو مناسب تحریک ملتی ہے تب برقی ارتعاش پیدا ہوتا ہے جو دھیرے دھیرے اس کے پلازما جھلی کے ساتھ سفر کرتا ہے جب یہ ڈسٹربینس (disturbance)، عصبی سرے یا آؤٹ پٹ زون (output zone) پر پہنچتا ہے، تب اس کی وجہ سے آس پاس کے عصبیے اور دوسرا خلیہ یا تو متحرک یا رک جاتا ہے۔
7.2 عضو اور عضوی نظام (Organ and Organ System)
بنیادی بافت جس کے بارے میں اوپر بتایا گیا ہے مل کر عضو بناتے ہیں جو پھر ایک ساتھ مل کر بہت سارے خلیہ سے بنے جانداروں میں عضوی نظام بناتا ہے۔ اس طرح کی تنظیم کروڑوں خلیے جس سے مل کر ایک جاندار بنتا ہے، کو کارگر اور اچھی طرح ربط دہی فعلیات کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے۔ ہر ایک عضو ہمارے جسم میں ایک یا ایک سے زیادہ طرح کے بافت سے مل کر بنا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر انسانی قلب سبھی چار طرح کے بافت سے مل کر بنتا ہے۔ یعنی برادمی، اتصالی، عضلی اور عصبی بافت۔ عضوی نظام میں پیچیدگی کچھ خاص بصارتی رجحان دکھاتے ہیں، اسے ارتقائی رجحان کہتے ہیں۔ (اس کی تفصیل آپ بارہویں جماعت میں پڑھیں گے)۔ شکلیات کا مطلب باہری صورت سے ہے جسے ہم دیکھتے ہیں۔ نباتات، حیوانات اور جراثیم میں شکلیات (Morphology) کا مطلب یہی ہوتا ہے۔ حیوانات میں اس کا مطلب جسم کے سبھی حصّے یا عضو کا باہر سے معلوم ہونا یا دیکھنا ہے۔ حیوانات میں اناٹومی کا مطلب اندرونی عضو کی شکلیات کا مطالعہ ہے۔
7.3 کینچوا (Earthworm)
کینچوا ایک سرخ بھورا زمینی غیر فقریا ہے جو نم مٹی کے اوپری سطح پر پایا جاتا ہے۔ دن کے وقت یہ مٹی میں سوراخ کرکے اور اس کو نگل کر بل میں رہتا ہے۔ باغیچہ میں اسے اس کے فضلے کے ذریعے پتا لگایا جاسکتا ہے جسے وارم کاسٹنگ کہتے ہیں۔ ہندوستانی کیچوئے کی کچھ خاص نوع فیریٹیما اور لمبریکس ہے۔
7.3.1 شکلیات (Morphology)
کینچوے کا لمبا بیلن نما جسم ہوتا ہے جو ایک جیسے بہت سارے حصّے میں بٹا ہوتا ہے (جسے Metamere کہتے ہیں جس کی تعداد تقریباً 100-120 ہوتی ہے)۔ جسم کی ظہری سطح پر ایک درمیانی ظہری لائن ہوتی ہے (ظہری شریان) جو جسم کے طول البلدی محور کی طرف ہوتا ہے۔ اس کے بطنی سطح پر Genital Opening (Pores) پایا جاتا ہے۔ اس کے اگلے سرے پر دہانا اور پروسٹومیم ہوتا ہے جس کی وجہ سے منھ چاروں طرف سے ڈھکا ہوتا ہے اور جو مٹی کو توڑنے میں مدد کرتا ہے جس سے اس کو رینگنے میں مدد ملتی ہے۔ پروسٹومیم کا کام حواسی ہے۔ جسم کے پہلے حصّے کو Peristomiumکہتے ہیں (Buccal Segment) جس میں منھ ہوتا ہے۔ ایک بالغ کینچوے میں 14-16 حصّہ غدودی بافت کا بنا ہوا نمایاں گہرے رنگ کے بینڈ کے ذریعے ڈھکا ہوتا ہے جسے Clitellum کہتے ہیں۔ اس طرح جسم تین خاص حصوں میں بنٹا ہوتا ہے Preclitellar، Clitellar اور Postclitellar (شکل 7.9)۔ دو حصّوں کے درمیان کے Groove یعنی 5 سے 9 ویں حصّے میں Ventro-lateral Side پر چار جوڑی Spermathecal Aperture پایا جاتا ہے۔ 14 ویں حصّے کے Mid-ventral line میں ایک اکیلا Female Genital Pore ہوتا ہے۔ 18ویں حصّے کے ventro-lateral sideمیں ایک جوڑی male genital poreہوتا ہے۔ جسم کی سطح پر بہت سارے چھوٹے چھوٹے پورس (Pores) پائے جاتے ہیں جسے nephridioporesکہتے ہیں۔ پہلا، آخری اور clitellumکو چھوڑ کر جسم کے ہر ایک حصّے میں S-shaped setaeکی قطار پائی جاتی ہے۔ جو ہر ایک حصّہ کے بیچ میں epidermal pitsمیں بکھرا ہوتا ہے۔ setaeاندر اور باہر ہوسکتا ہے اس کا اہم کام لوکوموشن ہے۔
شکل 7.9 کیچوئے کا جسم (a) ظہری منظر (b) بطنی منظر (c) بغلی منظر منھ دکھاتے ہوئے
7.3.2 اناٹومی (Anatomy)
کینچوے کے جسم کی دیوار باہر سے ایک پتلا غیر خلوی کیوٹیکل کے ذریعے ملفوف ہوتا ہے جس کے نیچے ایپی ڈرمس، دو عضلی ہیں (circular اور longitudinal) اور ایک سب سے اندر کی طرف coelomic epithelium ہوتا ہے۔ Epidermisایک اکیلا columnar epithelial cell کی سطح کا بنا ہوا ہوتا ہے جس میں اخراجی غدود خلیہ پایا جاتاہے۔
شکل 7.10 کینچوا کا انہضامی نلی
ہاضمے کی نلی ایک سیدھے ٹیوب کی طرح ہوتی ہے جو جسم کے پہلے سے لے کر آخری حصّے تک پائی جاتی ہے (شکل 7.10)۔ ایک میقاتی منہ دھانی کہفہ (1-3 حصّہ) میں کھلتا ہے جو بڑھ کر عضلاتی فیرنگس کے حصہ 1میں جاتا ہے۔ایک چھوٹی پتلی ٹیوب اوسوفیگس (5-7 حصّہ) آگے کی جانب بڑھ کر ایک عضلاتی گزارڈ (8-9 حصّہ) تک جاتی ہے۔ یہ مٹی کے چھوٹے چھوٹے ذرّوں اور سڑے گلی پتیاں کو پیسنے میں مدد کرتا ہے۔ معدہ 9-14 حصہ تک پایا جاتا ہے۔ کینچوے کا کھانا سڑی گلی پتیاں اور مٹی کے ساتھ ملا ہوا نامیاتی مادہ ہے۔ کیلسیفیرس غدود جو معدے میں ہوتا ہے انسان میں پائے جانے والے ہیومڈ ایسڈ کو Neutraliseکرتا ہے۔ آنت 15ویں حصّہ سے شروع ہوکر آخر والے حصّے تک ہوتی ہے۔ ایک جوڑا چھوٹا اورConical Intestinal Caecae آنت کے ویں حصّہ سے نکلتی ہے۔ 35-26 ویں حصّے کے درمیان پائی جانے والی آنت کی اہم خوبی یہ ہے کہ اس کی ظہری دیوار کے اندر درمیانی تہہ ہوتی ہے جسے typhlosoleکہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے آنت میں انجذاب کا اصلی رقبہ بڑھ جاتا ہے۔
ہاضمے کی نلی باہر کی طرف ایک چھوٹے گول سوراخ کے ذریعے کھلتی ہے جسے اینس (anus) کہتے ہیں۔ نامیاتی مرکبات سے بھرپور خامرے نگلی ہوئی مٹی ہاضمے کی نلی کے ذریعے گزرتی ہے جہاں ہضمی خامرے اس پیچیدہ چیز کو چھوٹے چھوٹے جذب ہوجانے والی اکائیوں میں توڑتا ہے۔ اب یہ چھوٹی چیزیں آنت کی جھلی کے ذریعے جذب کرلی جاتی ہیں اور پھر اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔
Pheretima میں ایک بند طرح کا خون کا دورانی نظام ہوتا ہے جو خون کی نلیوں، کیپیلریز اور قلب پر مشتمل ہوتا ہے (شکل7.11 اہم خون کی نلیاں اور کینچوے کا قلب)۔ بند دورانی نظام ہونے کی وجہ سے خون صرف قلب اور خون کی نلیاں تک محدود رہ جاتا ہے۔ سکڑنے کی وجہ سے خون ایک ہی رُخ میں بہتا ہے۔ چھوٹی خون کی نلیاں خون کو Nurve Cord, Gut اور جسم کی دیوار میں بھیجتا ہے۔
-
شکل 7.11 بند دورانی نظام
خونی غدود چوتھے، پانچویں اور چھٹے حصے میں پایا جاتاہے۔ یہ خونی خلیہ اور Haemoglobinپیدا کرتا ہے۔ جو خون کے پلازما میں محلول رہتا ہے۔ خون کا خلیہ عمل کے لحاظ سے Phagocyticہوتا ہے۔
کینچوے میں مخصوص تنفس کا اہتمام نہیں ہوتا ہے۔ تنفسی تبادلہ بھیگے جسم کی سطح کے ذریعے ہوتا ہے جس سے خون کے بہاؤ تک پہنچتا ہے۔ خارج کرنے والا عضو الگ الگ حصوں میں مرتب Coiled tubulesمیں ہوتا ہے جسے گردانیے (Nephridia) (واحد Nephridium) کہتے ہیں۔ یہ تین طرح کا ہوتا ہے : (i) Septal Nephridiaجو 15ویں حصّے سے لے کر آخری حصّے کے Intersegmental Septaکے دونوں طرف پایا جاتاہے اور آنت میں کھلتا ہے:(ii) Integumentary Nephridia جو تیسرے حصّے سے لے کر آخری حصّے کے جسم کی دیوار کے سطحوں سے جڑا ہوتا ہے اور جسم کے سطح پر کھلتا ہے۔ (iii) Pharyngeal Nephridia جو چوتھے اور پانچویں اور چھٹے حصّے میں تین تین جوڑے کے گردوپیش میں پایا جاتا ہے (شکل7.12)۔ اس سبھی مختلف طرح کے گرادنیے کی بناوٹ تقریباً ایک ہی طرح کی ہوتی ہے۔ گردانیے جسمانی سیال کی مقدار اور کمپوزیشن کو ریگولیٹ کرتا ہے۔ گردانیے ایک قیف کی طرح ہوتا ہے جو Coelomic Chamber سے اضافی سیال کو جمع کرتا ہے۔ یہ قیف گردانیے کے ٹیوبولر حصّے کے ساتھ جڑ کر پور کے ذریعے گندگی کو جسم کی دیوار کی سطح میں بھیجتا ہے جہاں سے پھر یہ ہاضمے کی نلی میں چلا جاتا ہے۔
شکل 7.12 کینچوئے میں نیفریڈیل نظام
عصبی نظام بنیادی طور پر Ganglia ہی ہوتا ہے جو ایک جوڑے نروکورڑ کے بطنی سطح پر Segmentwiseسجا ہوتا ہے۔ اگلے علاقہ میں نروکورڑ (3 اور 4واں حصّہ) دو حصّوں میں منقسم جاتا ہے جو کنارے سے فیرنگس کو گھیرتا ہے اور ظہری طرف سے Cerebral Gangliaسے جوڑتا ہے جس کی وجہ سے ایک عصبی دائرہ بنتا ہے۔ Cerebral Gangliaدائرے میں دوسرے عصبیوں کے ساتھ ساتھ حواسی اشارے اور جسم کے عضلاتی جوابی عمل کو کنٹرول کرتا ہے۔ حواسی نظام میں آنکھ نہیں ہوتی ہے لیکن روشنی اور چھونے کے لیے حسی عضو (Receptor Cells) ہوتا ہے جس کے ذریعے Light Intensitiesمیں فرق اور زمین پر ارتعاش کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ وارم (Worms) کے پاس مخصوص کیمورسیپٹرز (ذائقے کے رسیپٹرز) ہوتے ہیں جو کیمیائی محرک سے تعامل کرتے ہیں۔ یہ حسی عضو کیڑے کے اگلے حصے پر پایا جاتا ہے۔
کینچوئے دو جنسی (Bisexual) ہوتے ہیں یعنی ایک ہی جاندار میں دونوں Testes اور Ovariesپائی جاتی ہے (شکل 7.13)۔
شکل 7.13 کینچوے کا تولیدی نظام
دسویں اور گیارہویں حصّے میں دو جوڑے Testes ہوتے ہیں۔ اس کا واسا ڈفرینشیا اٹھارواں حصہ تک ہوتا ہے جہاں یہ پرواسٹیٹک نلی سے ملتا ہے۔ دو جوڑے اسیسری غدود ہوتے ہیں ایک جوڑا سترہویں اور ایک جوڑا انیسویں حصہ میں مشترک پرواسٹیٹ اور اسپرمیٹک نلی (تبدیل تفریق) ایک جوڑا Male Genital Pore کے ذریعے باہر کی طرف کھلتا ہے جو اٹھارہویں حصہ کے Ventro-lateral Side میں ہوتا ہے۔ چار جوڑے اسپرمیتھیکا چھٹے سے نویں حصے تک پایا جاتا ہے۔ (ہر ایک حصہ میں ایک جوڑا) یہ مباشرت کے وقت Spermatozoa کی وصولی اور تدخیر کرتا ہے۔ ایک جوڑا Ovary بارہویں اور تیرہویں حصہ کے Inter-segmental Septumپر جڑا ہوتا ہے۔ ovaryکے نیچے Ovarian Funnel پایا جاتا ہے جو بڑھ کر Oviductمیں جاتا ہے، ایک ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ یہ چودھویں حصہ پر ایک اکیلا Median Female Genital Poreکی بطنی جانب کھلتا ہے۔مباشرت کے درمیان دو وارمس کے بیچ آپس میں اسپرمسکی ادلا بدلی ہوتی ہے۔ایک Worm دوسرے Wormکو تلاش کرتا ہے اور پھر الٹے Juxtaposing Gonadal Opening کے ذریعہ ملتا ہے اور اسپرمس کی ادلا بدلی کرتا ہے جسےSpermatophore کہتے ہیں۔Mature Sperm اور بیضہ خلیہ اور تغذئی سیال کوکون (Cocoon) میں جمع ہوتا ہے جو Clitellumکے Gland Cellکے ذریعے پیدا ہوتا ہے۔ Fertilisationاور Development کوکون کے اندر ہوتا ہے جو مٹی میں رکھ دیا جاتا ہے۔ کوکون کے اندر اسپرم کے ذریعہ بیضہ بارآور ہوتا ہے جو پھر کیڑے کے باہر آجاتا ہے اور مٹی پر یا اندر جمع ہوجاتا ہے۔ کوکون کیڑے کے Embryosکو رکھتا ہے۔ تقریباً تین ہفتے کے بعد ہر ایک Cocoon، چار کے اوسط سے دو سے بیس بچے وارم پیدا کرتا ہے۔ اس کا نموسیدھے ہوتا ہے یعنی اس میں کوئی لاروا نہیں بنتا ہے۔
Earthwormکو کسانوں کا دوست کہا جاتا ہے کیونکہ یہ مٹی میں بل بناتا ہے اور اس کو بھر بھرا کردیتا ہے جو تنفس اور بڑھتے ہوئے پیڑ کی جڑوں کو پھیلنے میں مدد کرتا ہے۔ کیچوے کے ذریعے مٹی کی زرخیزی کو بڑھانے کے طریقے کوVermicompostingکہتےہیں اس کو مچھلی کے شکار کے وقت چارے کی طرح استعما ل کیا جاتا ہے۔
7.4 تِل چٹا (Cockroach)
تِل چٹا بھورا یا کالے جسم کا جانور ہے جسے فائلم ارتھروپوڈز کلاس انسیکٹا میں رکھا گیا ہے۔ ٹراپیکی علاقہ میں گہرے پیلے، لال اور ہرے رنگ کا بھی کاکروچ پایا جاتا ہے۔ اس کا سائز 4/1انچ سے لے کر 3 انچ (0.6-7.6 cm)تک ہوتا ہے اور لمبا انٹینا، پیر اور اوپری جسم کے دیوار کا چپٹا حصّہ جس میں سر چھپا ہوتا ہے۔ یہ رات میں نکلنے والا Omnivores ہے جو پوری دنیا میں مربوط جگہوں میں رہتا ہے۔ یہ لوگوں کے گھروں میں بھی رہتا ہے اور یہ بہت ساری بیماریوں کے لیے ویکٹر اور خطرناک پیسٹ ہے۔
7.4.1 شکلیات (Morphology)
ہر جگہ پایا جانے والا بالغ کاکروچ (Periplaneta Americana) تقریباً 34سے 55 ملی میٹر لمبا پر کے ساتھ جو دھڑ کے ٹپ سے آگے تک نر میں ہوتا ہے جب کہ یہ مادہ میں نہیں پایا جاتا۔ یہ بہت کم اڑنے والے ہوتے ہیں۔
شکل 7.14 تل چٹّا کے باہری یا ظہری خصوصیات
کاکروچ کا جسم سیگمینٹیڈ ہوتا ہے اور یہ تین حصوں میں بنٹا ہوا ہوتا ہے تھوریکس، سر اور ابڈومین (شکل 7.14 کاکروچ کے ظہری رخ کی باہری بناوٹ) پورا جسم ایک سخت کائٹین کے بنے باہری ڈھانچہ سے ڈھکا ہوتا ہے (رنگ میں بھورا)۔ہر ایک حصے کے باہری ڈھانچہ میں سخت پلیٹ ہوتا ہے جسے اسکیلرائٹز (Sclerites) کہتے ہیں جو ایک پتلی اور لچیلی آرٹیکولر جھلّی کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑا ہوتا ہے۔
سر کی شکل مثلث نما ہوتی ہے اور یہ طول البلدی جسمانی محور کے زاویہ قائمہ پر آگے کے حصے میں پایا جاتا ہے۔یہ چھ حصوں سے مل کر بنا ہوتا ہے اور لچیلی گردن ہونے کی وجہ سے سبھی رُخ میں یہ زیادہ متحرک ہوتا ہے (شکل 7.15 (a)) (کاکروچ کا سر بغلی پہلو کا)۔ اس کے ہیڈ کیپسول میں مرکب آنکھ کا ایک جوڑا ہوتا ہے۔ آنکھ کے سامنے جھلّی دار ساکیٹ سے ایک جوڑا دھاگا جیسا انٹینا نکلتا ہے۔ انٹینا میں حواسی رسیپٹرزہوتے ہیں جو ماحول کو محسوس کرنے میں مدد کرتا ہے۔ سر کے اگلے سرے پر Appendagesہوتا ہے جو دہانے کے کاٹنے اور چبانے والے حصوں کو بناتا ہے۔
منہ کے حصوں میں ایک جوڑا مینڈیبل جسے لیبیم (اوپری لپ) کہتے ہیں۔ ایک جوڑا میکسیل اور ایک لیبیم (نچلا لپ) کا بنا ہوتا ہے۔ ایک میڈین فلیکسبل لوب جو زبان (Hypopharynx) کی طرح ہوتا ہے Mouthparts کے ذریعے کہفہ کے اندر ڈھکا ہوتا ہے (شکل 7.15b)۔ تھوریکس تین حصوں کا بنا ہوتا ہے۔ پروتھوریکس، میسوتھوریکس اور میٹاتھوریکس سر پروتھوریکس کے ایک چھوٹے سے ابھار کے ذریعے تھوریکس سے جڑا ہوتا ہے جسے گردن کہتے ہیں۔ ہر ایک تھوریکس حصہ میں ایک جوڑی پیر پائے جاتے ہیں۔ پر (Wing) کا پہلا جوڑا میسو تھوریکس
شکل 7.15 تل چٹّا کے سر کا علاقہ (a) سرّی علاقہ (Head Region) کے حصّوں کو دکھاتے ہوئے (b) منھ کے حصّے (Mouth Parts)
سے اور دوسرا جوڑا میٹاتھوریکس سے نکلتا ہے۔ اگلا پر (میسوتھوریسک) جسے ٹیگمینا کہتے ہیں یہ Opaque Dark اور چمڑے دار ہوتا ہے اور جب یہ آرام کرتا ہے تب پچھلے پر کو ڈھک لیتا ہے۔ ہنڈ پر شفاف اور جھلّی دار ہوتا ہے اور جس کا کام اڑنے میں ہوتا ہے۔
تجربہ گاہ میں کاکروچ کی چیر پھاڑ کیجیے اور مندرجہ ذیل خوبیوں کو دیکھ کر اسے پہچاننے کی کوشش کیجیے کہ یہ نرہے یا مادہ۔ نر اور مادہ دونوں میں Abdomenدس حصے کا بنا ہوا ہوتا ہے۔ مادے میں ساتواں Sternumناؤ کی شکل کا ہوتا ہے اور آٹھویں اور نویں اسٹرنا کے ساتھ ایک بروڈ یا جینیٹل پاؤچ بناتا ہے جس کے اگلے حصّے میں Female gonopore spermathecal poreاور Collateral gland پایا جاتا ہے اور پچھلے حصہ جسے Vestibulum کہتے ہیں جس میں oothecaبنتا ہے۔ نر میں جینیٹل پاؤچ یا چیمبر ذمر کے پچھلے حصّہ میں ہوتا ہے جو ظہری نویں اور دسویں ٹرگا سے اور بطنی نویں سٹرنم کے ذریعے ڈھکا ہوتا ہے۔ اس کے ظہری حصے میں اینس بطنی حصے میں نر جینیٹل پور اور گونیپوفائسس ہوتا ہے۔ نر میں ایک جوڑا چھوٹا دھاگا جیسا اینل اسٹائل ہوتا ہے جو مادہ میں نہیں پایا جاتا ہے۔ دونوں نر اور مادہ کے دسویں حصے میں ایک جوڑا جڑا ہوا دھاگے دار ساخت پایا جاتا ہے جسے اینل سرسی کہتے ہیں۔
7.4.2 اناٹومی (Anatomy)
جسم میں پائے جانے والے انہضامی نلی کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ فورگٹ، مڈگٹ اور ہائنڈ گٹ (شکل 7.16)۔ منہ ایک چھوٹے ٹیوبلر فیرنگس میں کھلتا ہے جس سے ایک پتلا ٹیوبلر راستہ بنتا ہے جسے اوسوفیگس کہتے ہیں۔ جو پھر ایک تھیلے جیسے بناوٹ میں کھلتا ہے جسے کراپ کہتے ہیں جو غذا کی تذخیر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ کراپ، گزارڈ یا پرووینٹیکیولز کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے۔ اس میں عضلوں کی ایک بیرونی دبیز تہہ اور اندر کی طرف موٹا کیوٹیک(Cuticle) ہوتا ہے جو چھ کائٹینس پلیٹ بناتا ہے جسے دانت کہتے ہیں۔ گزارڈ غذا کے ٹکڑوں کو پیسنے میں مدد کرتا ہے۔ پورا فورگٹ، کیوٹیکل کے ذریعہ گھرا ہوتا ہے۔ فورگٹ اور مڈگٹ کے ملان پر 6 سے 8 بلائنڈ ٹیوبل کا ایک رِنگ پایا جاتا ہے جسے ہیپاٹک یا گیسٹرک کیسا کہتے ہیں جو ہاضمے کا رس بناتا ہے۔ مڈگٹ اور ہائنڈگٹ کے میلان پر دوسرا 100 سے 150 پیلے رنگ کا پتلا دھاگے نما Malpighian ٹیوبل پایا جاتا ہے۔ یہ ہیمولمف سے خارج ہونے والی چیز کو ہٹانے میں مدد کرتا ہے۔ ہائنڈگٹ، مڈگٹ سے بڑا ہوتا ہے اور جو کولون، ایلیم اور ریکٹم میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ ریکٹم، اینس کے ذریعے باہر کھلتا ہے۔
شکل 7.16 تل چٹّا کا انہضامی نلی
کاکروچ کا خون دورانی نظام ایک کھلے قسم کا ہوتا ہے (شکل 7.17)۔ خون کی نلی بہت کم ہوتی ہے جو ایک جگہ پر کھلتی ہے جسے ہیموسیل کہتے ہیں۔ ہیموسیل میں پائے جانے والا وسیرل عضویہ خون میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے۔ ہیمولمف بے رنگ پلازما اور ہیموسائٹز کا بنا ہوتا ہے۔ کاکروچ کا قلب لمبا عضلی ٹیوب ہوتا ہے جو تھوریکس اور ابڈومین کے درمیانی ظہری خط کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے۔ یہ قیف کی ساخت کا خانہ ہوتا ہے جس کے دونوں طرف اوسٹیا پایا جاتاہے۔ سائنس سے خون اوسٹیا کے ذریعے قلب میں داخل ہوتا ہے اور جو پھر باہر کی طرف سائنس میں چلا جاتا ہے۔
شکل 7.17 تل چٹّے کا کھلا دورانی نظام
نظامِ تنفس ٹریکیا کے جال کا بنا ہوتا ہے جو دس جوڑے چھوٹے چھوٹے سوراخ والے Spiraclesمیں کھلتا ہے جو جسم کے جانبی حصے میں پایا جاتاہے۔ پتلی شاخ والی نلی (ٹریکیل ٹیوب جو Tracheoles میں بنٹا ہوتا ہے) ہوا سے آکسیجن کو لے کر جسم کے سبھی حصوں میں پہنچاتا ہے۔ Spiracles کا کھلنا اسفنگٹرس کے ذریعے کنٹرول ہوتا ہے۔ نفوذ کے ذریعے ٹریکیولز میں گیسوں کی ادلا بدلی ہوتی ہے۔
مالپیگین ٹیوبیولز کے ذریعے اخراج عمل میں آتا ہے۔ ہر ایک غدودی ٹیوبل اور Ciliatedخلیہ سے گھرا ہوتا ہے جو نائٹروجنی بیکار ماحصل کو جذب کرتا ہے اور اسے یوریک ایسڈ میں تبدیل کردیتا ہے جو ہائنڈگٹ کے ذریعے باہر خارج ہوجاتا ہے۔ اس لیے اس طرح کے کیڑے مکوڑے کو یوریکوٹیلک کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ چربی جسم، نیفروسائٹز اور یوریکسوز غدود بھی خارج ہونے میں مدد کرتا ہے۔
کاکروچ کا عصبی نظام مختلف حصوں میں سجا ہوا گینگلیا کا بنا ہوا ہوتا ہے جو بطنی جانب پر جوڑے longitudinal Connectivesسے جڑا ہوتا ہے۔ تین گینگلیا تھوریکس میں اور چھ ابڈومین میں پایا جاتا ہے۔کاکروچ کا عصبی نظام پورے جسم میں پھیلا ہوا ہوتا ہے عصبی نظام کا تھوڑا سا ہی حصہ سر میں جب کی بیشتر باقی حصہ جسم کے بطنی جانب ہوتا ہے۔ اس لیے اب یہ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اگر کاکروچ کا سر ہم کاٹ دیں پھر بھی یہ زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے تک زندہ رہ سکتا ہے۔ سر کے حصّے میں دماغ کی نمائندگی سوپرااوسو فیجیل گینگلیون کرتا ہے۔ جو اینٹنا اور مرکب آنکھ تک اعصاب کو بھیجتا ہے۔ یہ سرکم اوسو فیجیل کومیسورس کے ذریعے سب اوسوفیجیل گینگلیون کو جوڑتا ہے اور اوسوفیگس کے چاروں طرف ایک مخصوص عصابی رنگ بناتا ہے۔ کاکروچ میں حواسی عضو، انٹینا، آنکھیں، میگسیلری، پالپ، لیبیل پالپ اور اینل، سرسی وغیرہ ہوتا ہے۔ مرکب آنکھ سر کے ظہری جانب پائی جاتی ہے۔ ہر ایک آنکھ تقریباً 2000 Hexagonal Ommatidia (واحد: Ommatidium) کا بنا ہوتا ہے۔ کاکروچ بہت سارے Ommatidia کی مدد سے ایک چیز کا بہت سارا امیج بناپاتا ہے۔ اس قسم کے دیکھنے کے طریقے کو Mosaic Visionکہتے ہیں جس میں Sensitivityزیادہ لیکن Resolutionکم ہوتا ہے، اس طرح کا راتوں میں اکثر دکھائی دیتا ہے (اس لیے اسے Nocturnal Visionکہتے ہیں)۔
تِل چٹا دو صنفی ہوتا ہے اور دونوں جنس میں تولیدی عضو کافی نمو یافتہ ہوتا ہے (شکل 7.18)۔ نر تولیدی نظام ایک جوڑا Testes کا بنا ہوتاہے جو چوتھے سے چھٹے Abdominal Segmentsمیں دونوں کنارے ایک ایک پایا جاتا ہے۔ ہر ایک Testisسے ایک پتلا Vas Deferens نکلتا ہے جو Seminal Vesicleکے ذریعے Ejaculatory Duet میں کھلتا ہے۔ Ejaculatory Duct، اینس کے بطنی جانب میں پایا جانے والا نر گونوپور میں کھلتا ہے۔ ایک مخصوص مشروم کی شکل کا غدود چھٹے سے ساتویں Abdominal Segment میں پایا جاتا ہے جو ایک Accessoryکی طرح کام کرتا ہے۔ باہری Genitalia نر Gonapophysis یا Phallomere کی نمائندگی کرتا ہے (یہ Chitinous Asymmetrical بناوٹ ہے جو نر گونوپور کے چاروں طرف پایا جاتاہے)۔ Seminal Vesicles میں اسپرم جمع ہوتا ہے اور جو ایک ساتھ جڑ کر ایک گچھے کی شکل بناتا ہے جسے اسپرمیٹوفور کہتے ہیں جو مباشرت کے دوران باہر نکلتا ہے۔ مادہ تولیدی نظام دو بڑے اوویریز کا بنا ہوتا ہے جو دوسرے سے چھٹے Abdominal Segment کےکنارے پایاجاتا ہے۔ ہر ایک اوویری آٹھ Ovarioles یا Ovarian Tubules کے ایک گچھے کا بناہوتا ہے جس میں بڑھتے ہوئے بیضے کی ایک زنجیر ہوتی ہے۔ ہر ایک اوویری کا
(a)
شکل 7.18 تل چٹّا کا تولیدی نظام (a) نر (b) مادہ
Oviducts ایک ساتھ مل کر ایک اکیلا Median oviduct بناتا ہے۔ (جسے Vagina بھی کہتے ہیں) جو Genital chamber میں کھلتا ہے۔ ایک جوڑا Spermatheca چھٹے حصّے میں پایا جاتا ہے جو Genital chamberمیں کھلتا ہے۔
اسپرم کا تبادلہ Spermatophoresکے ذریعے ہوتا ہے۔ اس کے بارآور بیضےCapsules میں بند رہتے ہیں جسے Oothecaeکہتے ہیں۔ Oothecaایک خوب سرخ سے لے کر کالا بھورا رنگ کا کیپسول ہوتا ہے جو تقریباً 3/8" (8ملی میٹر) لمبا ہوتاہے۔ یہ ایک مناسب جگہ خاص کر غذا کے آس پاس زیادہ موافق نمی والے سطح پر ہضم Crack یا Creviceمیں چپکا دیا جاتا ہے۔ اوسطاً مادہ نو سے دس Oothecaeپیدا کرتی ہے جس کے ہر ایک میں چودہ سے سولہ انڈے ہوتے ہیں۔
پی-امیریکانا پورومیٹابولس ہوتا ہے جس کا مطلب یہ نمفل مرحلہ کے ذریعے بالیدہ ہوتا ہے۔ نمفلس خوب اچھی طرح بالغ جیسا نظر آتا ہے۔ نمفل تقریباً 13بار مولٹنگ کے ذریعے بالغ کی شکل کو اختیار کرتا ہے۔ آخری نمفل مرحلہ کے ٹھیک پہلے والے مرحلہ میں ونگ پیڈس ہوتا ہے لیکن صرف بالغ تل چٹا میں ہی یہ ونگ پایا جاتا ہے۔
بہت سارے تل چٹے جنگلی نوع کے ہوتے ہیں اور ان کی ابھی تک کوئی بھی اقتصادی اہمیت نہیں معلوم ہوسکی ہے۔ کچھ نوع جو انسان کے رہنے کی جگہ کے آس پاس پائی جاتی ہے، یہ Pests ہوتے ہیں کیوں کہ یہ غذا کو خراب کردیتا ہے اور اس کے بدبودار (Smelly) Excela کے ساتھ مل کر کثیف ہوجاتا ہے۔ کھانے کی چیز کو کثیف کرکے یہ بہت ساری بیکٹیریا سے ہونے والی بیماریوں کو پھیلا سکتا ہے۔
7.5 مینڈک (Frogs)
مینڈک زمین پر اور تازہ پانی دونوں میں رہ سکتا ہے۔ یہ فائلم کارڈیٹا کے کلاس امفیبیا میں آتا ہے۔ ہندوستان میں سب سے زیادہ پائی جانے والی نوع راناٹگرینا (Rana Tigrina) ہے۔
اس کے جسم کا درجۂ حرارت یکساں برقرار نہیں رہتا۔ یعنی اس کے جسم کا درجۂ حرارت ماحول کے درجۂ حرارت کے ساتھ ساتھ بدلتا ہے۔ اس قسم کے حیوانات کو Cold Blooded یا Poikilothermsکہتے ہیں۔ آپ نے یہ دیکھا ہوگا کہ مینڈک جب گھاس میں ہویا سوکھی زمین پر ہوتا ہے تو اس کے رنگ میں تغیرات آتے ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہوتاہے؟ اس میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ یہ اپنے دشمنوں سے بچنے کے لیے اپنا رنگ بدل لیتا ہے (Camouflage)۔ اس طرح سے بچنے کے لیے رنگ بدلنے کو Mimicryکہتے ہیں۔ آپ نے یہ بھی دیکھا ہوگا کہ زیادہ گرمی اور ٹھنڈک میں مینڈک دکھائی نہیں دیتا ہے۔ اس درمیان مینڈک اپنے آپ کو زیادہ گرمی اور زیادہ ٹھنڈ سے بچانے کے لیے گہرے سوراخ میں چلا جاتا ہے۔ اسے بالترتیب سمر سلیپ (Aestivation)اور ونٹرسلیپ (Hibernation) کے نام سے جانتے ہیں۔
7.5.1 شکلیات (Morphology)
کیا آپ نے مینڈک کی جلد کو کبھی چھواہے؟ اس کی جلد چکنی اور لیس دار، میوکس کے پائے جانے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ہمیشہ اس کی جلد کی مرطوبیت (Humidity) قائم رکھتی ہے۔اس کے جسم کے ظہری کنارے کا رنگ زیادہ تر Dark Irregular Spotsکے ساتھ ساتھ زیتونی سبز ہوتا ہے۔ چمڑے کا بطنی کنارا پوری طرح ہلکا پیلا ہوتا ہے۔ مینڈک کبھی بھی پانی نہیں پتیا بلکہ اس کو جلد کے ذریعے جذب کرتا ہے۔
مینڈک کا جسم سر اور دھڑ میں بنٹا ہوا ہوتا ہے (شکل 7.19)۔ گردن اور دُم نہیں ہوتی ہے۔ منہ کے اوپر ایک جوڑا Nostrilsپایا جاتا ہے۔ آنکھیں بڑی ہوتی ہیں اور Nictitating Membraneکے ذریعے ڈھکی رہتی ہیں اور جب وہ پانی میں ہوتا ہے تو اسے محفوظ رکھتا ہے۔ آنکھوں کے دونوں طرف ایک جھلّی نما (ear) Tympanumہوتا ہے جو صوتی اشاروں کو موصول کرتا ہے۔ اگلی اور پچھلی ٹانگیں تیرنے گھومنے، کودنے اور کریدنے میں مدد کرتی ہیں۔
شکل 7.19 مینڈک کی باہری خصوصیات
پچھلی ٹانگوں میں پانچ انگلیاں ہوتی ہیں اور یہ اگلے لمبس (Limbs) کے مقابلے بڑی اور عضلی ہوتی ہیں جس میں چار انگلیاں پائی جاتی ہیں۔ اس کے پاؤں میں جال دار ڈیجیٹ (Degit) ہوتا ہے جو تیرنے میں مدد کرتا ہے۔ مینڈک Sexual Dimorphismکا مظاہرہ کرتا ہے۔ آواز پیدا کرنے والے آوازی قیلی (Vocal Sac) اور ایک Copulatory پیڈ کے پائے جانے کی بنیاد پر نر مینڈک کو مادہ مینڈک سے الگ کرسکتے ہیں جو مادہ مینڈک میں نہیں پایا جاتا ہے۔
7.5.2 اناٹومی (Anatomy)
مینڈک کا جسم نظام ہاضم، نظام تنفس، نظام عصبی، نظام اخراج اور تولیدی نظام پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان سبھی کی ایک خاص بناوٹ اور کام ہوتا ہے (شکل 7.20)۔
نظام ہاضمہ غذا کی نلی اور ہاضمے کے غدود کا بنا ہوتا ہے۔ ہاضمے کی نلی چھوٹی ہوتی ہے کیوں کہ مینڈک گوشت خور ہے اور اس لیے آنتوں کی لمبائی چھوٹی ہوتی ہے۔ منہ دھانی کہفہ میں کھلتا ہے جو فیرنگس کے ذریعے اوسوفیگس تک جاتا ہے۔ اوسوفیگس ایک چھوٹی ٹیوب ہوتی ہے جو معدے میں کھلتی ہے اور جو آگے چل کر آنت بناتی ہے۔ ریکٹم آخر میں مخرج (Cloaca) کے ذریعے باہر کھلتا ہے۔ جگر سے بائل خارج ہوتاہے جس کی تذمیر گال بلیڈر میں ہوتی ہے۔پینکریاز جو ایک ہاضمے کا غدود ہے۔ پینکریائی رس پیدا کرتا ہے جس میں ہاضمے کے خامرے ہوتے ہیں۔ غذا کو دو دھاری زبان کے ذریعے گرفت میں لیا جاتا ہے۔ HCl کے عمل اور گیسٹرک رس جو معدے کی دیوار سے خارج ہوتے ہیں، کے ذریعے غذا ہضم ہوتی ہے۔ ادھوری ہضم شدہ غذا جسے Chymeکہتے ہیں، معدے سے ہوکرچھوٹی آنتوں کے پہلے حصّے Duodemumتک جاتی ہے۔ ڈوڈیز، گال بلیڈر سے بائل اور پینکریاز سے پینکریائی رس کو ایک ہی نلکی کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔ بائل چربی کو روغناب بناتا ہے اور پینکریائی رس کاربوہائیڈریٹ اور پروٹین کو ہضم کرتا ہے۔ ہاضمے کا آخری مرحلہ آنتوں میں ہوتا ہے۔ ہضم شدہ غذا آنت کی اندرونی دیوار میں پائے جانے والے بہت سارے انگلی جیسے فولڈز کے ذریعے جذب ہو جاتی ہے جسے Villi اور Microvilliکہتے ہیں جو غذا نہیں ہضم ہو پاتی وہ ریکٹم اور مخرج کے ذریعے باہر نکل جاتی ہے۔
شکل 7.20 مینڈک کا نظام ہاضمہ
مینڈک الگ الگ طریقے سے زمین پر اور پانی میں سانس لیتا ہے۔ پانی میں جلد آبی تنفسی عضو کے طور پر کام کرتی ہے (Cutameous Respiration)۔ نفوذ کے ذریعے پانی میں محلول آکسیجن جلد کے ذریعے متبادل ہوتی ہے۔ زمین پر دھانی کہفہ، جلد اور پھیپھڑوں تنفسی عضو کے طور پر کام کرتے ہیں۔ پھیپھڑوں کے ذریعے سانس لینے اور چھوڑنے کو Pulmonary Respirationکہتے ہیں۔ ایک جوڑا لمبا، گلابی رنگ کا تھیلے کی ساخت کا جو صدر تھوریکس کے اوپری حصّہ میں پایا جاتا ہے اسے پھیپھڑا کہتے ہیں۔ ہوا دھانی کہفہ میں نتھنوں کے ذریعے داخل ہوتی ہے اور پھر پھیپھڑوں میں جاتی ہے۔ Aestivationاور Hibernation (خوابیدگی) کے دوران جلد کے ذریعے گیسی تبادلہ ہوتا ہے۔
مینڈک کا وعائی نظام ایک نمو یافتہ، بند قسم کا ہوتا ہے۔ مینڈک میں ایک لمفیٹک نظام بھی ہوتا ہے۔ خون کے وعائی نظام میں دل خون کی شریان اور خون ہوتا ہے۔ لمفیٹک نظام لمف، لمف چینل اور لمف نوڈز پر مشتمل ہوتا ہے۔ دِل ایک عضلی ساخت ہے جو جسم کی خلاء کے اوپری حصہ میں پایا جاتاہے۔ اس میں تین خانے، دو اٹریا اور ایک وینٹریکل ہوتا ہے اور ایک جھلی سے گھرا ہوتا ہے جسے پیر کارڈیم کہتے ہیں۔ ایک مثلث بناوٹ جسے Sinus Venosus کہتے ہیں دائیں والے اٹریا کو جوڑتا ہے۔ یہ خون کو اہم نس کے ذریعے موصول کرتا ہے جسے Venacavaکہتے ہیں۔ Ventricle دل کے بطنی کنارے پر پائے جانے والے ایک تھیلے جیسا Arteriosus Conus میں کھلتا ہے۔ آرٹریز کے ذریعے خون دل سے جسم کے پورے حصے میں لایا جاتا ہے۔ شریانین جسم کے الگ الگ حصے سے خون کو جمع کرکے دل تک پہنچاتی ہیں اور جو (وریدی نظام) بناتی ہے۔ مینڈک میں خاص Venous Connection جگر اور آنت کے ساتھ ساتھ گردے اور جسم کے نچلے حصّے کے درمیان پایا جاتا ہے۔پہلے والے کو ہیپاٹک پورٹل نظام اور بعد والے کو رینال پورٹل نظام کہتے ہیں۔ خون پلازما اور کارپسلزس بنا ہوتا ہے۔ بلڈ کارپسلزس، آربی سی (Red Blood Cells)یا اریتھروسائٹز، ڈبلیو بی سی (White Blood Cells) یا لیوکوسائٹس ہوتا ہے۔ آربی سی میں مرکزہ پایا جاتا ہے اور اس میں لال رنگ کا پگمینٹ ہوتا ہے جسے ہیموگلوبن کہتے ہیں۔ لمف خون سے الگ ہوتا ہے۔ اس میں پروٹینز اورآر بی سی نہیں ہوتا ہے۔ خون سرکولیشن کے دوران خاص جگہ پر غذا گیسیں اور پانی لے جاتا ہے۔عضلاتی دل کے پمپنگ ایکشن کے ذریعے خون کا بہاؤ ہوتا ہے۔
Nitrogenous Wastesکے اخراج کے لیے ایک نمو یافتہ اخراجی نظام ہوتا ہے۔ اخراجی نظام ایک جوڑا گردہ مخرج، یوریٹرس Cloaca اور یورینری بلیڈر پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ کم پیکٹ گہرے سرخ اور سیم جیسی ساخت کا ہوتا ہے جو ریڑھ کی کالم کے دونوں جانب تھوڑا پیچھے کی طرف ہوتا ہے۔ ہر ایک گردہ بہت سارے ساختی اور فعالی اکائیوں کا بنا ہوتا ہے جسے یورینفیرس ٹیوبلز گردانیے کہتے ہیں۔نرمینڈک میں گردہ سے دو Ureters نکلتے ہیں۔ جو Urinogenital Euctکی طرح کام کرتا ہے اور مخرج میں کھلتا ہے۔ پتلی دیوار کا بنا ہوا یورینری بلیڈر ریکٹم کے بطنی میں پایا جاتا ہے یہ بھی مخرج میں جاکر کھلتا ہے۔ مینڈک پیشاب خارج کرتا ہے اور اس لیے یہ یوریوٹیلک جانور ہے۔ خون کے ذریعے خارج ہونے والی چیزیں گردہ میں لائی جاتی ہے جہاں ان کی تقطیر اور اخراج ہوتا ہے۔
مینڈک میں کنٹرول اور ربط دہی کے لیے نظام پایا جاتا ہے جس میں دونوں عصبی نظام اور اینڈوکرائن غدود ہوتے ہیں۔ ہارمونز کے ذریعے الگ الگ عضو کی کیمیائی ربط دہی ہوتی ہے جن کا اینڈوکرائن غدود کے ذریعے اخراج ہوتا ہے۔ مینڈک میں پائے جانے والے نمایاں غدود پیوٹیٹری، تھائرائڈ، پیراتھائرائیڈ، تھائیمس، پینیل باڈی، پینکریائک Islets، ایڈرنل اور گوناڈز ہوتے ہیں۔ عصبی نظام مرکزی عصبی نظام میں آگینائس ہوتا ہے۔
(Spinal Cordاور Brain) ایک محیطی عصبی نظام (Cranialاور Spinal Nerves) اور ایک اٹونامک عصبی نظام (Sympatheticاور Parasympathetic) پر مشتمل ہوتا ہے۔ دس جوڑے کرینیل عصبیوں کے ہوتے ہیں جو دماغ سے نکلتے ہیں۔ دماغ ایک ہڈی سے بنے ہوئے ساخت سے ڈھکا رہتا ہے جسے برین باکس کہتے ہیں (Cranium)۔ دماغ فوربرین، مڈبرین اور ہائینڈ برین پر مشتمل ہوتا ہے۔ فوربرین میں بصارتی گوشے ایک جوڑا سیریبرل نصف کرے اور ایک ڈاین سیفلین پایا جاتا ہے۔ مڈ برین میں ایک جوڑا بصارتی گوشا ہوتا ہے۔ ہائینڈبرین، سیربیلم اور میڈولا آبلونگاٹا کا بنا ہوتا ہے۔ میڈولا آبلونگاٹا فورامین میگنم سے گزرتا ہے اور بڑھ کر حرام مغذ میں بدل جاتا ہے جو ورٹیبرل کالم سے گھرا ہوتا ہے۔
مینڈک میں الگ الگ طرح کا حواسی عضو ہوتا ہے جس کا نام لمسی عضو (Sensory Papillae)ذائقے (Tase buds) بو (Nasal epithelium)بصارت (آنکھیں) اور سماعت (Tympanum جو اندر کا کان ہوتا ہے)۔ اس کے علاوہ آنکھیں اور اندر کا کان بہت نمو یافتہ عضو ہوتے ہیں اور باقی عصبی سرے کے چاروں طرف خلوی مجموعے ہوتے ہیں۔ مینڈک میں آنکھوں کا ایک جوڑا گیند ساختی ہوتا ہے۔ کھوپڑی سر کے آربٹ میں پائی جاتی ہے۔ یہ سادہ آنکھیں ہوتی ہیں (جو صرف ایک ہوتی ہے) باہری کان مینڈک میں نہیں ہوتے ہیں اور صرف Tympanumکو باہر سے دیکھا جاسکتا ہے۔ کان سماعت کا اور توازن (Equilibrium)کا ایک عضو ہے۔
شکل 7.21 نرتولیدی نظام
شکل 7.22 مادہ تولیدی نظام
مینڈک میں نمویافتہ نر اورمادہ تولیدی نظام ہوتا ہے نر تولیدی عضو ایک جوڑا پیلا Ovoid Testesکا بنا ہوتا ہے (شکل 7.21)، جو پیرٹونیم کے دوسرے فولڈ کے ذریعے گردہ کے اوپری حصہ میں لگا ہوتاہے جسے Mesorchium کہتے ہیں۔ واسا افرینشیا تعداد میں دس سے بارہ ہوتے ہیں جو ٹیسٹس سے نکلتے ہیں۔ یہ گردہ کے بغلی جانب سے داخل ہوتے ہیں اور بیڈرس کینال میں کھلتے ہیں۔ آخر میں یہ یورینوجینیٹل نلی کے ساتھ مل جاتا ہے جو گردہ کے باہر آتا ہے اور مخرج میں کھلتا ہے۔ مخرج ایک چھوٹا، میڈین خانہ ہے جس کا استعمال Faecal Matterپیشاب اور اسپرم کو خارج کرنے میں ہوتا ہے۔
مادہ تولیدی عضو ایک جوڑا بیض دانی پر مشتمل ہوتا ہے (شکل 7.22)۔ بیض دانی گردے کے نزدیک پائی جاتی ہے مگر گردہ نہیں ہوتا۔ ایک جوڑا بیض نلی جو بیض دانی سے نکلتا ہے الگ سے مخرج میں جاکر کھلتا ہے۔ ایک وقت میں ایک بالغ مادہ 2500سے 3000بیضے دیتی ہے۔ برآوری باہری ہوتی ہے اور پانی میں ہوتی ہے۔ اس کی نمو میں ایک لارول مرحلہ آتا ہے جسے ٹیڈپول کہتے ہیں۔ ٹیڈپول کامل تغیر (Metamorphosis)کے بعد بالغ بن جاتا ہے۔
مینڈک، انسانوں کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے کیوں کہ یہ کیڑے مکوڑے کو کھاتا ہے اور فصلوں کو ان سے محفوظ رکھتا ہے۔ مینڈک ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھتا ہے کیوں کہ یہ ماحولی نظام، غذائی زنجیر اور غذائی جالے میں اہم ربط قائم کرتا ہے۔ کچھ ملکوں میں مینڈک کی عضلی ٹانگیں غذا کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔
خلاصہ
خلیہ، بافت، عضو اور عضوی نظام اس طرح سے اپنے کاموں میں الگ الگ طریقوں سے انجام دیتا ہے کہ جس کی وجہ سے جسم کی بقا ہوتی ہے۔ اور جو لیبر آف ڈویزن کا اظہار کرتا ہے۔بافت کی تعریف یہ ہے کہ خلیہ کے مجموعے اور بین الخلوی مادے جو جسم میں ایک یا ایک سے زیادہ کام کرتے ہوں، برادمہ تہہ جیسا بافت ہوتا ہے جو جسم کے سطح اور اس کے خلاء ٹیوب کو ڈھکتا ہے۔ برادمہ آزاد سطح ہوتی ہے جو جسم کے سیال یا باہری ماحول کا سامنا کرتا ہے۔ اس کے خلیے جنکشن پر ساختی اور فعلی طور پر ایک ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔
مختلف قسم کا اتصالی بافت باہم جڑا ہوتاہے جو جسم میں دوسرے بافت کو مدد، طاقت، حفاظت اور انسولیٹ کرتے ہیں۔ ملائم اتصالی بافت پروٹین ریشے کے ساتھ ساتھ بہت سارے خلیہ جو گراؤنڈ سبسٹینس ہیں، سے مرتب ہوتا ہے۔ کارٹیلیج، ہڈی، خون اور روغنی بافت مخصوص اتصالی بافت ہیں۔ کارٹیلیج اور ہڈی دونوں ساختی مادے ہوتے ہیں۔ خون ایک سیال بافت ہے جس کا کام ڈھونا ہے۔ روغنی بافت تذخیر شدہ توانائی کا ذخیرہ ہے۔ عضلی بافت جو تحریک کے جواب میں سکڑتا ہے اور جسم اور اس کے خاص حصوں کی حرکات میں مدد کرتا ہے۔ کالیدی عضلے وہ عضلی بافت ہیں جو ہڈیوں سے جڑے ہوتے ہیں۔ ہموارعضلے جسم کے اندرونی عضو کا حصّہ ہیں ۔ قلبی عضلے دل کی انقباضی دیوار بناتے ہیں، یہ تینوں بافت، اتصالی بافت کے تحت ہیں۔ جسم کی جوابی کارروائی کو عصبی بافت سب سے زیادہ کنٹرول کرتا ہے۔ عصبیے، عصبی نظام کی بنیادی اکائی ہیں اور ماحولی حالت میں مخصوص تبدیلی اور دوسرے فوری اور لمبے وقفے کی تبدیلی کی ربط دہی کرتے ہیں۔
کینچوا، تِل چٹا اور مینڈک جسم کی تنظیم میں مخصوص خوبیاں دکھاتے ہیں۔ کینچوا میں کیوٹیکل سے پورا جسم ملقوف ہوتا ہے۔جسم کا تمام حصہ سوائے 14، 15اور 16ویں خطے کے موٹا اور غدودی ہوتاہے جسے clitellumکہتے ہیں۔ ہر ایک حصّہ میں ایک S۔شکلی Chitinous Setae پایا جاتا ہے۔ یہ sataeچلنے میں مدد کرتا ہے۔بطنی جانب 5اور 6، 6 اور 7، 7 اور 8 اور 8 اور 9 ویں حصہ کے گرووس (Grooves) کے درمیان میں اسپرمیتھیکل اوپننگ پایا جاتا ہے۔ مادہ جینٹلپور 14 ویں حصہ اور نر جینٹل پور 18 ویں حصہ میں پایا جاتا ہے۔ ہاضمے کی نلی ایک پتلی ٹیوب ہے جو منہ، فیرنگس، گزارڈ، دھانی کہفہ معدے، آنت اور مخرج پر مشتمل ہوتی ہے۔
خون وعائی نظام، قلب اور والو کے ساتھ بند قسم کا ہوتا ہے۔ عصبی نظام بطنی نرو کارڈ کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے۔کینچوا، دو صنفی ہوتا ہے۔ دو جوڑے ٹیسٹز دسویں اور گیارہویں حصہ میں پایا جاتا ہے۔ ایک جوڑا اوویریز بارہویں اور تیرہویں انرسگمینٹل سیپٹم پر پایا جاتا ہے۔ یہ دوغلی بارآوری کے ساتھ ساتھ ایک پروٹینڈرس جانور ہے۔بارآوری اور نمو Clitellum کے غدود کے ذریعے خارج ہوئے کوکون میں ہوتا ہے۔
تِل چٹا کا جسم کائٹین کے بنے باہری ڈھانچہ سے گھرا ہوتا ہے۔ یہ سر،تھوریکس اور ابڈومین میں بٹا ہوا ہوتا ہے۔ سگمینٹس میں جڑے ہوئے اپینڈیج ہوتے ہیں۔ تھوریکس کا تین حصہ ہوتا ہے جس کے ہر ایک حصہ میں ایک جوڑا پاؤں ہوتا ہے۔ دو جوڑا پر ہوتاہے ہر ایک جوڑا دوسرے اور تیسرے حصے میں پایا جاتا ہے۔ ابڈومین میں دس حصّے ہوتے ہیں۔ غذا کی نلی نمو یافتہ ہوتی ہے جس میں منہ جو منہ کے حصوں سے گھرا ہوتا ہے۔ ایک فیرنگس، اوسوفیگس، کراپ، گزارڈ مڈگٹ، ہائڈگٹ اور مخرج فورگٹ اور مڈگٹ کے ملان پر ہیپاٹک کیسا پایا جاتا ہے۔ ہائنڈگٹ مڈگٹ کے ملان پر مالپیگین ٹیوبلز ہوتا ہے جو اخراج میں مدد دیتا ہے۔ ایک جوڑا لعابی غدود، کراپ کے نزدیک پایا جاتا ہے۔ خون کا وعائی نظام کھلا ہوتا ہے۔ تنفس Treacheae کے جال کے ذریعے ہوتا ہے۔ Spiracles, Tracheae کے ساتھ باہر کھلتا ہے۔ عصبی نظام کا گینگلیا حصّوں میں منظم اور بطنی عصبی کارڈ کے ذریعے نمائندگی کرتا ہے۔ ایک جوڑا ٹیسٹس چوتھے اور پانچویں حصہ میں پایا جاتا ہے اور اوویریز چوتھے، پانچویں اور چھٹے حصہ میں پایا جاتا ہے۔ بارآوری اندرونی ہوتی ہے۔ مادہ بڑھتے ہوئے ایمبرئیو کے ساتھ دس سے چالیس اوتھیکا پیدا کرتا ہے۔ ایک اوتھیکا کے ٹوٹنے کے بعد 16جوان اوتھیکا جسے نمفس کہتے ہیں باہر آتا ہے۔
ہندوستانی بل فراگ، Rana Tigrinaہندوستان میں ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ جسم جلد سے ڈھکا ہوتا ہے۔ جلد میں میوکس غدود ہوتے ہیں جس میں بہت ہی زیادہ شریانیں ہوتی ہیں اور جو پانی میں اور زمین پر تنفس میں مدد کرتا ہے۔جسم سر اور دھڑ میں بنٹا ہوتا ہے۔ ایک عضلی زبان ہوتی ہے جو سرے پر دو دھاری ہوتی ہے اور جس کا استعمال کیڑے کو پکڑنے کے لیے کیا جاتاہے۔ ہاضمے کی نلی اوسومیگس، معدے، آنت اور ایکم سے مل کر بنا ہوتا ہے جو مخرج میں کھلتا ہے۔ اہم ہاضمے والے غدود جگر اور پینکریازمیں ہوتے ہیں۔ یہ جلد کے ذریعے پانی میں، اور زمین پر پھیپھڑوں کے ذریعے تنفس کرسکتا ہے۔ دورانی نظام بند ہوتا ہے۔ آربی سی میں مرکزہ ہوتا ہے۔ عصبی نظام، محیطی، مرکزی اور آٹونومک پر مشتمل ہوتا ہے۔
یورینوجینٹل نظام کا عضو، گردہ اور یورینوجینٹل نلی ہوتا ہے جو مخرج میں کھلتا ہے۔ نر جنسی عضو ایک جوڑا ٹیسٹز ہوتا ہے۔ مادہ جنسی عضو ایک جوڑا بیض دانی پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک وقت میں مادہ 2500سے 3000 بیضہ دیتی ہے۔
بارآوری اور نمو بیرونی ہوتا ہے۔ بیضہ سے ٹیڈپول نکلتا ہے۔ جو کامل تغیر کے بعد بالغ مینڈک بن جاتا ہے۔
مشق
1۔ ایک لفظ یا ایک جملے میں جواب دیجیے:
(i) Periplanata americanaکا عام نام لکھیے۔
(ii) کینچوے میں کتنے Spermathecaeپائے جاتے ہیں؟
(iii) کاکروچ میں بیض دانی کی کیا جگہ ہے؟
(iv) کاکروچ کے ابڈومین میں کتنے حصّے پائے جاتے ہیں؟
(v) مالپیگین ٹیوبلز کہاں پائے جاتے ہیں؟
2۔ مندرجہ ذیل کو جواب دیجیے:
(i) نیفریڈیا کا کیا کام ہے؟
(ii) وقوع کے لحاظ سے کیچوے میں کتنے قسم کے نیفریڈیا پائے جاتے ہیں؟
3۔ کیچوے کے تولیدی عضوؤں کی اشارتی تصویر بنائیے۔
4۔ کاکروچ کی ہاضمے کی نلی کی اشارتی تصویر بنائیے۔
5۔ مندرجہ ذیل میں تفریق کیجیے۔
(i) پرواسٹومیم اور پیری اسٹومیم
(ii) سیپٹل نیفریڈیا اور فیرینجیل نیفریڈیا
6۔ خون کے کون کون سے خلوی حصّے ہیں؟
7۔ مندرجہ ذیل کیا ہیں اور حیوانی جسم میں یہ کہاں پائے جاتے ہیں؟
(i) کونڈرو سائٹس
(ii) ایگزانز
(iii) سیلیاوالی برآدمہ (Ciliated Epithelium)
8۔ اشارتی تصویروں کی مدد سے مختلف برآدمہ بافت کو بیان کیجیے۔
9۔ مندرجہ ذیل میں تفریق کیجیے۔
(i) سادہ برآدمہ اور مرکب برآدمہ
(ii) قلبی عضلے اور دھاری دار عضلے
(iii) کثیف ریگولر اور کثیف اریگولر اتصالی بافت
(iv) روغنی اور خون کے بافت
(v) منفرد غدود اور مرکب غدود
10۔ سیریز میں انوکھی اصطلاح پر نشان لگائیے:
(i) ہوائی بافت، خون، عصبیہ، ٹینڈن
(ii) آر بی سی، ڈبلیو بی سی، پلیٹ لٹز، کارٹیلیج
(iii) ایگزوکرائن، اینڈو کرائن، سلیوری غدود، یگامنٹ
(iv) میگزلا، مینڈبل، لیبرم، انٹینا
(v) پروٹونیما، میزو تھاریکس، میٹا تھاریکس، کو کسا
11۔ کالم Iاور کالمIIکی اصطلاح کو ملائیے:
کالم I کالم II
(a) مرکب برآدمہ (i) ہاضمے کی نلی
(b) مرکب آنکھ (ii) کاکروچ
(ci) سیپٹل نیفریڈیا (iii) جلد
(d) کھلا دورانی نظام (iv) موزیک بصارت
(e) ٹائفلوسول (v) کیچوا
(f) آسٹو سائٹس (vi) فیلومیئر
(g) جنٹیلیا (vii) ہڈی
12۔ کیچوے کے دورانی نظام کے بارے میں مختصراً لکھئے۔
13۔ مینڈک کے نظامِ ہاضمہ کی تصویر بنائیے۔
14۔ مندرجہ ذیل کے کام لکھئے:
(i) مینڈک میں یوریٹر
(ii) مالیپیگین ٹیوبیولز
(iii) کیچوے کی جسمانی دیوار