اکائی 3
خلیہ : ساخت اور عملیات (Cell : Structure and Functions)
باب 8
خلیہ: حیات کی اکائی
باب 9
حیاتی سالمات
باب 10
خلوی دور اور خلوی تقسیم
جاندار عضویوں کے مطالعے کو بائیولوجی کہتے ہیں۔ ان کی ساخت اور شبہہ کے تفصیلی بیان ان میں موجود تغیر کو نمایاں کرتے ہیں جبکہ خلیہ تھیوری ان تغیرات کو مشترک کرتی ہے۔ اس اکائی کے ابواب میں خلوی ساخت اور تقسیم کے ذریعے خلوی نمو کے متعلق پڑھیں گے۔ خلیہ تھیوری نے حیاتی عملیات کے بارے میں ایک پراسرار خاکے کو بھی جنم دیا جس کے مطابق حیاتی عملیات کے لیے خلوی تنظیم کی سالمیت یا تو مشاہدے میں آئے یا ان کوکرکے دکھایا جاسکے۔ ان عملیات کو سمجھنے کے لیے ہم طبیعی و کیمیائی راستہ اختیار کر سکتے ہیں اور تجزیہ کے لیے خلیہ -آزاد نظام (Cell-free System) استعمال کر سکتے ہیں۔ ان راستوں کو استعمال کرکے ہم حیات کے مختلف افعال کی سالماتی سطح پر وضاحت کر سکتے ہیں۔ ان طبیعی و کیمیائی راستوں کا قیام حیاتی بافت کے مختلف عناصر و مرکبات کے تجزیہ کے بعد عمل میں آیا۔ یہ ہمیں بتاتے ہیں کہ حیاتی عضویات میں کس قسم کے نامیاتی مرکبات موجود ہیں۔ دوسرے مرحلے پر ہم یہ سوال کرسکتے ہیں کہ یہ مختلف مرکبات خلیے کے اندر کیا کیا فعل انجام دے رہے ہیں اور کن کن طریقوں سے مختلف فعلیاتی عمل مثلاً ہاضمہ، اخراج، یادداشت، دفاع، شناخت کو انجام دے رہے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں دراصل ہم جواب طلب کررہے ہیں کہ ان تمام عملیات کی سالماتی بنیاد کیا ہے اور اس کی وضاحت ہوگی کہ وہ کیا غیر معمولی عمل ہیں جن کی وجہ سے بیماریاں وجود میں آتی ہیں۔ حیاتی عملیات کو سمجھنے کا یہ طبیعی و کیمیائی راستہ تخفیفی حیاتیات (Reductionist Biology) کہلاتا ہے۔ حیاتیات کو سمجھنے کے لیے طبیعیات اور کیمیا کے تصورات اور تکنیک کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اس اکائی کے باب 9 میں بائیو مالیکولز کے بارے میں مختصراً بیان کیا گیا ہے۔
جی۔ این۔ راما چندرن
(1922 – 2001)
جی۔ این۔ راماچندرن پروٹین کی ساخت کے ماہر ایک غیر معمولی شخصیت ہیں اور مدراس اسکول آف کنفورمیشنل انالسس آف بائیوپالیمر کے بانی ہیں۔ 1954 میں کولاجن کی ٹرپل ہیلیکل ساخت کے بارے میں ان کا انکشاف نیچر میں شائع ہوا اور پروٹین کی ساخت کا ’راما چندرن پلاٹ‘ کے ذریعہ تجزیہ کا شمار ساختی بائیولوجی میں غیر معمولی حیثیت رکھتا ہے۔ ہندوستان کے جنوب مشرق کے ساحلی علاقے میں کوچین سے کچھ دور ایک چھوٹے سے قصبے میں 8 اکتوبر 1922 کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد ایک مقامی کالج میں ریاضی کے پروفیسر تھے اور راماچندرن میں ریاضی سے دلچسپی پیدا کرنے میں کافی موثر ثابت ہوئے۔ اسکول کی تعلیم ختم کرنے کے بعد 1942 میں مدراس یونیورسٹی سے طبیعیات میں بی ایس سی کی ڈگری امتیازی نمبروں سے حاصل کی۔ انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے 1949 میں پی ایچ ڈی کی۔ راماچندرن کی ملاقات لائینس پالنگ سے ہوئی اور ان کے اے-ہیلکس اور بی- شیٹ ساخت کے نمونوں سے متعلق مقالوں سے بہت متاثر ہوئے اور ان مقالوں نے راماچندرن کی توجہ کو لاجن کی ساخت کو حل کرنے کی طرف مرکوز کردی۔ 78 سال کی عمر میں 7 اپریل 2001 کو ان کا انتقال ہوا۔
باب 8
خلیہ: حیات کی اکائی
(Cell : The Unit of Life)
8.1 خلیہ کیا ہے؟
8.2 نظریہ خلیہ
8.3 خلیے کا جائزہ
8.4 پیش نواتی خلیے
8.5 نواتی خلیے
آپ اپنے اطراف میں جانداروں اور بے جان چیزوں کا مشاہدہ کرتے ہیں اور تعجب کرتے ہوں گے کہ جو عضویوں کو جاندار بنا دیتا ہے اور جانداروں میں کیا الگ ہے جو انھیں بے جان اشیاء سے علیحدہ کر دیتا ہے اور اس کا جواب ہے حیاتی اکائی کی موجودگی یعنی جانداروں میں خلیے کی موجودگی۔
تمام عضویے خلیوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ کچھ ایک خلیے کے ہوتے ہیں اور یک خلوی عضویے کہلاتے ہیں، جبکہ ہم جیسے کئی خلوی ہوتے ہیں اور کثیر خلوی عضویے کہلاتے ہیں۔
8.1 خلیہ کیا ہے ؟(What is a Cell?)
یک خلوی عضویے (i) آزاد زندگی گزار سکتے ہیں یعنی خود مختار ہوتے ہیں۔ (ii) حیات کے اہم اور ضروری فعل انجام دے سکتے ہیں۔ ایک نامکمل خلیہ خود مختار نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا سارے جاندار عضویوں کی بنیادی ساختی اور فعالی اکائی خلیہ ہوتی ہے۔
اینٹن وان لیووین ہاک نے پہلی بار جاندار خلیے کو دیکھا اور اسے بیان کیا۔ رابرٹ براؤن نے بعد میں مرکزے کا انکشاف کیا۔ خوردبین کی ایجاد اور بعد ازاں اس کی اصلاح اور بہتری اور الیکٹران خوردبین کے وجود میں آنے کے بعد خلیے کی ساخت کا تفصیلی انکشاف ہوا۔
8.2 نظریہ خلیہ (Cell Theory)
ماتھیس شلیڈن (Mathias Schleiden) ، جرمن نباتات کے ماہرنے 1938 میں بہت سارے پودوں کا مطالعہ کیا اور بتایا کہ تمام پودے مختلف اقسام کے خلیوں سے بنے ہوتے ہیں جو بافت کی شکل میں منظم ہوتے ہیں۔ 1939 میں ایک انگریز ماہر حیوانات تھیوڈور شوان (Theodore Schwann) نے حیوانات کا مطالعہ کیا اور بتایا کہ تمام عضویے اصل میں خلیوں سے بنے ہوئے ہیں۔ اس بات کا بھی مشاہدہ کیا کہ جانوروں کے خلیوں میں ایک باہری پرت ہوتی ہے جس کو ہم آج پلازما میمبرین کے نام سے جانتے ہیں۔ اس نے پودوں کے بافت کے مطالعے کی بناء پر بتایا کہ پودوں کے خلیوں میں موجود دیوار ان کی امتیازی خصوصیت ہے۔ اپنے اس مشاہدے کی بناء پر اس نے ایک نظریہ پیش کیا کہ جانوروں اور پودوں کے جسم خلیوں یا ان کے ماحصل کے بنے ہوتے ہیں۔
شلیڈن اور شوان دونوں نے نظریہ خلیہ (Cell Theory) پیش کیا۔ اگر چہ خلیوں کی ابتداء کے بارے میں ان کے خیالات صحت پر مبنی نہ تھے۔ 1855 میں روڈلف ورچو (Rudolf Virchow) نے کہا کہ تمام خلیے پہلے ہی سے موجود خلیوں سے پیدا ہوئے ہیں (اومنس سیلولای سیلولا)۔ ورچو شلیڈن اور شوان کے نظریے کی اصلاح کرکے نظریہ خلیہ کو قطعی طور پر پیش کیا۔ نظریہ خلیہ کی رو سے :۔
(i) تمام جاندار عضویے خلیے یا اس کے ماحصل کے بنے ہیں۔
(ii) تمام خلیے صرف پہلے ہی سے موجود خلیوں سے پیدا ہوتے ہیں۔
8.3 خلیے کا جائزہ (An Overview of Cell)
آپ پیاز کی ایپی ڈرمل پرت یا انسان کے گال کے اندرونی خلیوں کا مشاہدہ خوردبین کے ذریعے پہلے کر چکے ہیں۔ اب ان کی ساخت کا مطالعہ ایک بار پھر کرتے ہیں۔ پیاز کے خلیے جو کہ پودوں کا تمثیلی خلیہ ہے، میں ایک نمایاں دیوار ہے جو خلیے کی بیرونی حد مقرر کرتی ہے اور اس کے بالکل اندر خلیے کی جھلّی ہوتی ہے جبکہ انسان کے گال کے خلیے میں سب سے بیرونی دیوار جھلی ہوتی ہے۔ ہر خلیے کے اندر ایک مرکزہ ہوتا ہے جو ایک کثیف مادے پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کے اطراف نیوکلیئر جھلّی ہوتی ہے۔ مرکزے میں کروموزومس ہوتے ہیں جن میں وراشتی مادہ ڈی این اے ہوتا ہے۔ جن خلیوں میں مرکزہ ہوتا ہے۔ یوکیریوٹک (Eukaryotic) خلیہ اور جن میں مرکزہ نہیں ہوتا انھیں پروکیریوٹک (Prokaryotic) خلیہ کہتے ہیں۔ یوکیریوٹک اور پروکیریوٹک خلیوں میں ایک نیم سیال تودہ ہوتا ہے جسے خلیہ مایہ (Cytoplasm) کہتے ہیں اور یہ خلیے کا بیشتر حصہ بناتا ہے۔ خلیہ مایہ پودوں اور جانوروں کے خلیوں میں ہونے والے افعال کا خاص میدان ہے۔ مختلف اقسام کے کیمیائی عمل اس میں تکمیل پاتے ہیں جو خلیے کو زندہ رکھتے ہیں۔
مرکزے کے علاوہ نواتی خلیے میں جھلی سے گھرے ہوئے نمایاں اجسام ہوتے ہیں جن کو عضوچہ (Organelles) کہتے ہیں جیسے درون مائی جال (Endoplasmic Reticulum)، گالجی کمپلیکس (Golgi Complex)، لائسوسومس (Lysosomes)، مائٹوکانڈریا (Mitochondria)، مائیکرو باڈیز (Microbodies) اور ویکیولز پیش ذاتی خلیوں میں یہ جھلی سے گھرے ہوئے عضویچے نہیں پائے جاتے۔ رائبوسومز (Ribosomes) وہ غیر جھلی دار عضویچے ہیں جو دونوں نواتی اور پروکیریوٹک خلیوں میں پائے جاتے ہیں۔ خلیوں کے اندر رائبوسومز نہ صرف خلیہ مایہ میں ملتے ہیں بلکہ یہ خلیوں کے کلوروپلاسٹ (پودوں میں) اور مائٹوکانڈریا میں بھی ملتے ہیں اور درون پلازمی شبکیہ کی کھردری سطح پر بھی پائے جاتے ہیں۔
جانوروں کے خلیوں میں ایک اور غیر جھلی دار عضویچہ پایا جاتا ہے جسےCentrosomeکہتے ہیں جو خلوی تقسیم میں مدد کرتا ہے۔
خلیے اپنے سائز، ساخت اور افعال کی بناء پر بے حد مختلف ہوتے ہیں (شکل 8.1)۔ مثلاً مائیکو پلازما سب سے سے چھوٹا خلیہ جو لمبائی میں 0.3 مائیکرو میٹر ہوتا ہے جبکہ بیکٹیریا 5.3 مائیکرو میٹر لمبا ہوتا ہے۔ شتر مرغ کا بیضہ۔ سب سے بڑا منفرد خلیہ ہے۔ کثیر خلوی عضویوں میں انسانی خون میں سرخ خونی خلیہ (Red Blood Cell) کا قطر 7 مائیکرو میٹر ہوتا ہے۔ اعصابی خلیے (Nerve Cells) سب سے طویل خلیے ہوتے ہیں۔ خلیوں کی شکلیں بھی بے حد مختلف ہوتی ہیں۔ ان کی شکلوں کا انحصار ان کے افعال پر ہوتا ہے یہ خلیے چپٹے اور تختی جیسے ہوتے ہیں۔ قرص نما (Discoid)، کثیر پہلوی، ستونی، مکعبی، دھاگے دار اور ناہموار شکل کے ہوسکتے ہیں۔
شکل 8.1 خلیوں کی مختلف اشکال
شکل 8.2 نواتی اور پیش نواتی خلیوں کا موازنہ
8.4 پیش نواتی خلیے (Prokaryotic Cells)
نیلے-سبز ایلگی، مائیکو پلازما، بیکٹیریا اور پی پی ایل او (Pleuro Pneumonia Like Organisms) پیش نواتی خلیوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ نواتی خلیوں کے مقابلے میں عموماً چھوٹے (خورد بینی) ہوتے ہیں اور سرعت سے تقسیم ہوتے ہیں (شکل 8.2)۔ ان خلیوں میں ان کی جسمانی ساخت اور اشکال میں بہت اختلاف ہوتا ہے۔ بیکٹیریا کی چار بنیادی اشکال ہیں۔ بیسی لس (Bacillus) ڈنڈے نما، کوکس (گیند نما)، ورئیبر (کاما نما) اور اسپائرلم (اسپائرل)۔
پیش نواتی خلیوں کی شکل اور جسامت میں بے حد اختلافات ہونے کے باوجود ان میں بعض بنیادی خصوصیات مشترک ہوتی ہیں۔ تمام پیش نواتی خلیوں میں باہری خلوی دیوار ہوتی ہے اور یہ خلوی جھلی کو اپنے گھیرے میں رکھتی ہے۔ ایک نیم سیال تودہ (Matrix) جو خلیے میں بھرا ہوتا ہے، سائٹوپلازم (Cytoplasm) کہلاتا ہے۔ ان میں واضح مرکزہ نہیں ہوتا بلکہ نواتی مادیہ خلیہ مایہ (Protoplasm) میں بکھرا ہوا ہوتا ہے۔ نواتی جھلی (Nuclear Membrane) نواتی خلیوں میں موجود ہوتی ہے۔ پیش نواتی خلیوں میں عضوچے نہیں ہوتے مگر رائبو سومس موجود ہوتے ہیں۔ شمولات کی شکل میں پیش نواتی خلیوں میں ایک منفرد ساخت موجود ہوتی ہے۔ جو خلیہ جھلی کی مختص شکل ہوتی ہے اس کو مینرو سومس کہتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ خلیہ جھلی کی اندر کی جانب گھماؤ لیے ہوئی پرت ہوتی ہے۔
8.4.1 خلیائی غلاف اور اس کی اصلاح (Cell Envelope and its Modifications)
اکثر پیش نواتی خلیے اور خاص کر بیکٹیریائی خلیے کے غلاف کیمیائی مرکبات کے بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ خلیائی غلاف، کساہواتین پرتی ساخت کا ہوتا ہے۔ یعنی سب سے باہری گلائیکوکیلکس (Glycocalyx)، درمیانی خلیائی دیوار اور اس کے بعد پلازما جھلی۔ حالانکہ ہر پرت الگ فعل انجام دیتی ہے مگر تینوں مل کر ایک تحفظی اکائی بناتے ہیں۔ خلیائی غلاف کی گرام انگریزی ترکیب (Staining Procedure) کی بنیاد پر بیکٹیریا کی دوگرہ میں درجہ بندی کی جاسکتی ہے۔ یعنی وہ بیکٹیریا جو گرام رنگ قبول کر لیتے ہیں انھیں گرام مثبت (Gram Positive) اور دوسرے جو اس رنگ کو نہیں قبول کرتے انھیں گرام منفی (Gram Negative) بیکٹیریا کہتے ہیں۔
مختلف بیکٹیریا میں گلائیکو کیلکس اپنی تشکیل اور دبازت میں اختلات رکھتی ہے۔ کچھ میں یہ آزاد یا کھلی پرت یا سلائیم پرت (Slime Layer) اور کچھ میں دبیز اور مضبوط پرت ہوتی ہے جو کیپسول کہلاتی ہے۔ خلوی دیوار کی موجودگی خلیے کی شکل کا تقرر کرتی ہے اور بیکٹیریا کو ساختی استحکام مہیا کرتی ہے اور اس کو پھٹنے یا سکڑنے سے روکتی ہے۔ خلیے کے مشمولات ایک پتلی نفوز پذیر جھلی میں ملفوف رہتے ہیں۔ یہ پلازما جھلی (Plasma Membrane) کہلاتی ہے اور خلیے کے اندرونی ماحول کا باہری دنیا سے رابطہ رکھتی ہے۔ یہ جھلی نواتی خلیوں کی جھلی سے مماثلت رکھتی ہے۔
ایک خاص جھلی دار ساخت، میزو سومز (Mesosomes) ہوتی ہے جو پلازما جھلی کے اندرونی جانب ابھار سے بنتے ہیں۔ یہ ابھار (Extension)، چھوٹی چھوٹی تھیلیوں (Vesicles)، نلکیوں (Tubule) اور لیمیلا (Lamellae) کی شکل میں ہوتے ہیں اور یہ خلوی دیوار کی تشکیل، ڈی این اے میں تکراری اضافے اور دختری خلیوں میں ان کے داخلہ میں مدد کرتے ہیں۔ یہ نظام تنفس، عرق کے رستے کی ترکیب، اور پلازما جھلی کے رقبے میں اضافہ اور لازماً خامروں کی مقدار میں بھی اضافہ کرنے میں مدد بہم پہنچاتے ہیں۔ کچھ پیش نواتی خلیے جیسے سائینو بیکٹیریا کے مخزمایہ میں کچھ اور طرح کے جھلی کے ابھار ہوتے ہیں جنہیں کرومیٹو فورز کہتے ہیں جن میں پگمنٹ موجود ہوتا ہے۔
جینومک ڈی این اے (ایک کروموسوم / ڈی، این، اے گولا) کے علاوہ بہت سارے بیکٹیریا میں جینومک ڈی این اے کے باہر چھوٹے چھوٹے ڈی این اے کے گولے موجود ہوتے ہیں ان کو پلازمڈز کہتے ہیں۔ یہ پلازمڈز (Plasmids) بیکٹیریا کو کچھ خاص نباتی کردار جیسے اینٹی بایوٹک سے قوت مدافعت عطا کرتے ہیں۔ آگے چل کر آپ سیکھیں گے کہ یہ پلازمڈز باہری ڈی این اے کو بیکٹیریا میں داخل کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
بیکٹیریا متحرک یا غیر متحرک ہوسکتے ہیں۔ متحرک بیکٹیریا میں دھاگے دار ہدلے ہوتے ہیں۔ جنہیں فلا جیلا (Flagella) کہتے ہیں۔ تعداد اور ترتیب کے لحاظ سے بیکٹیریا میں یہ فلاجیلا مختلف اقسام کے ہوتے ہیں۔ یہ فلاجیلا تین حصوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ فلامنٹ، ہک اور بیسل باڈی۔ فلامنٹ سب سے طویل حصہ ہوتا ہے اور خلیے کی سطح سے باہر کی جانب جاتا ہے۔
فلاجیلا کے علاوہ، پیلائی (Pili) اور فیمبری (Fimbriae) بھی خلوی سطح سے متعلق ساخت ہیں لیکن یہ خلیے کو متحرک کرنے میں کوئی تعاون نہیں کرتے۔ پیلائی لمبے اور نلکی نما، خاص پروٹین کے بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ فیمبری، چھوٹے خار دار دھاگے جو خلیے سے باہر لگے ہوتے ہیں۔ کچھ بیکٹیریا میں یہ بیکٹیریا کو پانی میں موجود چٹانوں میں چسپاں کرنے میں یا میزبان بافت سے چسپاں کرنے میں مدد کرتے ہیں۔
8.4.2 رائبوسومس اور انکلیوژن باڈیز (Ribosomes and Inclusion Bodies)
پیش نواتی خلیوں میں رائبوسومس پلازمہ جھلی سے متعلق ہوتے ہیں۔ ان کا سائز 15 سے20 مائیکرومیٹر ہوتا ہے اور دو سب یونٹ یعنی 50S اور 30S یونٹ سے مل کر 70S پیش نواتی رائبوسومس بناتے ہیں اور یہی وہ جگہ ہے جہاں پروٹین کی تشکیل ہوتی ہے۔ کئی رائبوسومز ایک ایم آر این اے (mRNA) سے چیک کر ایک زنجیر بناتے ہیں جسے پالی رائبو سوم یا پالی سومس کہتے ہیں۔ یہ پالی سوم ایم آر این اے میں موجود معلومات کو پروٹین میں تبدیل کرنے میں تعاون دیتے ہیں۔
انکلیوژن باڈیز: پیش نواتی خلیوں کے مخزمایہ میں غذا انکلیوژن باڈیز کی شکل میں جمع رہتی ہے یہ کسی جھلی سے ملفوف نہیں ہوتے اور مخزمایہ میں آزاد رہتے ہیں مثلاً فاسفیٹ کے دانے، سائینو فائیسیس دانے اور گلائیکوجن کے دانے۔ گیس ویکیولس نیلے سبز اور پرپل اور سبز فوٹو سنتھیٹک بیکٹیریا میں پائے جاتے ہیں۔
8.5 نواتی خلیے (Eukaryotic Cells)
پروٹسٹ، پودے، جانور اور فنجائی میں نواتی خلیے پائے جاتے ہیں۔ نواتی خلیے کا سائٹو پلازم جھلی سے گھرے ہوئے عضویچوں کی مدد سے بہت سارے خانوں میں تقسیم شدہ ہوتا ہے۔ نواتی خلیے میں واضح مرکزہ ہوتا ہے جو نواتی غلاف
شکل 8.3 : (a) پودے کا خلیہ (b) جانور کا خلیہ
سے ملفوف ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ نواتی خلیوں میں پیچیدہ لوکوموٹری اور سائٹو اسکیلٹل ساخت کی کئی اقسام ہوتی ہیں۔ ان کا جینی مادہ کروموسومز کی شکل میں مرتب ہوتا ہے۔
سارے نواتی خلیے یکساں نہیں ہوتے۔ نباتی اور حیوانی خلیے اس طرح مختلف ہوتے ہیں کہ نباتی خلیوں میں خلوی دیوار، پلاسٹڈ اور وسط میں ایک بڑا ویکیول ہوتا ہے جبکہ یہ سب حیوانی خلیوں میں نہیں ہوتے۔ حیوانی خلیوں میں سینٹریول (Centriles) ہوتا ہے جو تمام نباتی خلیوں میں موجود نہیں ہوتا (شکل 8.3)۔
اب ذرا ایک نظر انفرادی خلیوں کے عضویچوں (Organelles) پر ڈالیں اور ان کی ساخت اور افعال کو سمجھیں۔
8.5.1 خلوی جھلّی (Cell Membrane)
جھلی کا تفصیلی مطالعہ 1950 کے آس پاس الکٹران مائیکرواسکوپ کی ایجاد کے بعد ہوسکا۔ اس سے قبل خلوی جھلی، خاص کر سرخ خونی ذرات پر کچھ کیمیائی تجربات کی بناء پر سائنس دانوں نے پلازما جھلی کی ساخت کا اندازہ لگا لیاتھا۔
ان تجربات کے ذریعہ معلوم ہوا کہ خلوی جھلی بنیادی طور پر لپڈز (Lipids) اورپروٹینس(Proteins) سے بنی ہوتی ہیں ان میں اہم لپڈزPhospholipids ہوتی ہیں جو کہ دو پرتوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ اور یہ بھی علم ہوا کہ یہ لپڈز جھلی میں اس طرح سے مرتب ہیں کہ پولرہیڈ باہری جانب اور ہائڈروفوبک دم اندر کی جانب ہیں۔ اس طرح کی ترتیب سے سیچوریٹڈ ہائڈرو کاربن سے بنی ہوئی نان پولردم آبی ماحول سے محفوظ رہتی ہے (شکل 8.4)۔Phospholipid ممبرین کے علاوہ اس میں کولیسٹرول بھی ہوتا ہے۔ بعد میں بائیوکیمیکل تحقیق سے صاف ہوگیا کہ خلوی جھلی میں پروٹین اور کاربوہائڈریٹ بھی ہوتے ہیں۔ مختلف خلیوں میں پروٹین اور لپڈ کا تناسب مختلف ہوتا ہے۔ انسانوں کے اریتھرو سائٹ جھلی میں تقریباً 52 فیصدی پروٹین اور 40 فیصدی لپڈز ہوتے ہیں۔
شکل 8.4 پلازما جھلی کا فلویڈ موزیک ماڈل
استخراج (Extraction) کی آسانی کی بنیاد پر جھلی کے پروٹین کو انٹیگرل (Integral) اور محیطی (Peripheral) میں بانٹ سکتے ہیں۔ پروٹین جھلی کی سطح میں پورے طور پر اور کسی حد تک مدغم (Buried) ہوتے ہیں۔
خلوی جھلی کی ساخت کا بہتر ماڈل سنگر اور نکلسن (Nicolson) نے 1972 میں تجویز کیا جو فلویڈ موزیک ماڈل کے نام سے مشہور ہوا (شکل 8.4)۔ اس ماڈل کے مطابق لپڈ کی نیم سیال تاثیر پروٹین کو جھلی کی دو پرتوں (Bilayer) کے اندر ہی اندر جانبی حرکت کی اجازت دیتی ہے۔ جھلی کے اندر یہ جانبی حرکت اس کی سیال تاثیر کا پیمانہ ہے۔ جھلی کی یہ سیال تاثیر اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ بہت سے افعال مثلاً، خلوی نمو، دو خلیوں کے درمیان رابطہ، رسنے (Secretion) کی صلاحیت، اینڈوسائٹوسس، خلوی تقسیم وغیرہ میں بھی تعاون دیتی ہے۔
ایک بہت اہم فعل جو یہ انجام دیتی ہے وہ یہ کہ جو کچھ خلیے میں داخل یا خارج ہوتا ہے اس کو یہ جھلی منظم کرتی ہے۔ اس کے دونوں طرف جو کچھ موجود ہے اس میں سے چنندہ سالمات کو ہی اندر اور باہر کرسکتی ہے۔ بہت سے سالمات بغیر کسی توانائی کی جھلی سے اندر اور باہر جاسکتے ہیں اس کو پیسیوٹرانسپورٹ (Passive Transports) کہتے ہیں۔ نیوٹرل محلول اس جھلی سے نفوذ (Diffusion) کے ذریعے یعنی زیادہ گاڑھے پن سے کم گاڑھے پن کی جانب نفوز پذیر ہوسکتے ہیں۔ پانی بھی اس طرح جھلی کے ذریعے گزرسکتا ہے۔نفوذ کے ذریعے پانی کی سرائیت کو ولوج (Osmosis) کہتے ہیں۔ چونکہ پولر سالمے نان پولر لپڈ دو پرت سے نہیں گزر سکتے۔ انھیں اس دو پرت سے گزرنے کے لیے جھلی میں موجود کیریئر پروٹین کی ضرورت پڑتی ہے۔ کچھ آئن یا سالمے ارتکازی درجہ داری کے اختلاف کم مرتکز مائع یا زیادہ مرتکز مائع یا زیادہ مرتکز محلول کی جانب گزرتے ہیں۔ یہ عمل نفوذ کے برعکس ہے اس کو توانائی کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کے لیے اے، ٹی، پی کا استعمال ہوتا ہے لہٰذا اسے ایکٹوٹرانسپورٹ (Active Transport) کہتے ہیں مثال کے طور پر Na+/K+ پمپ۔
8.5.2 خلوی دیوار (Cell Wall)
آپ کو یاد ہوگا کہ فنجائی اور پودوں کی پلازما جھلی کا بیرونی غلاف ایک بے جان اور سخت غلاف ہوتا ہے جسے خلوی دیوار کہتے ہیں۔ خلوی دیوار نہ صرف خلیے کو انفیکشن اور میکینکل نقصانات سے بچاتی ہے بلکہ خلیوں میں باہمی رابطہ قائم کرتی ہے اور غیر موافق کلاں سالموں کو خلیے کے اندر آنے سے روکتی ہے۔ ایلگی میں خلیے کی دیوار سیلیولوز، گیلیکٹانس، مینانز اور نمکیات جیسے کیلشیم کاربونیٹ کی بنی ہوتی ہے جبکہ دوسرے پودوں کی خلوی دیوار، سیلیولوز، ہیمی سیلیولوز، پیکٹن اور پروٹین پر مشتمل ہوتی ہے۔ نوعمر پودوں میں موجود ابتدائی دیوار نمو کی قدرت رکھتی ہے جو تخصیص شدہ خلیوں میں بتدرتج ختم ہو جاتی ہے اور اس کی جگہ ثانوی دیوار لے لیتی ہے۔
خلیے کی سطح پر ایک سمنٹ جیسا مادہ کیلشیم پکٹیٹ کا بنا ہوا ہوتا ہے جس کے ذریعے بازو کے خلیے ایک دوسرے سے جرے رہتے ہیں۔ اس دیوار کو درمیانی لیمیلا (Middle Lamella) کہتے ہیں۔ اس دیوار سے مخزمایہ کے دھاگے جنہیں پلازمو ڈاسماٹا (Plasmodesmata) کہتے ہیں، گزر کر اطراف کے خلیوں میں ربط قائم کرتے ہیں۔
8.5.3 اندرونی جھلیوں کا نظام (Endomembrane System)
حالانکہ ہر جھلی دار عضویچے اپنی ساخت اور عمل کی وجہ سے امتیازی حیثیت رکھتے ہیں، ان میں سے کئی خلیے ایک ہی جماعت میں سمجھے جاتے ہیں کیونکہ ان کے افعال میں باہمی ربط ہوتا ہے۔ اندرونی جھلیوں کے نظام میں اینڈو پلازمک ریٹی کیولم (ای، آر)، گالجی کمپلیکس، لائسوسومز اور ویکیولز ہیں۔ چونکہ مائٹوکانڈریا کلورو پلاسٹ اور پیرآکسی زومز کا رابطہ بقیہ خلیوں سے نہیں ہوتا اس لئے ان کو اندرونی جھلیوں کے نظام میں شامل نہیں کرتے۔
8.5.3.1 اینڈو پلازمک ریٹی کیولم (درون مائی جال) (ای،آر) (The Endoplasmic Reticulum, ER)
نواتی خلیوں کا الیکٹرون مائیکرو اسکوپ کے ذریعہ مشاہدے کرنے سے معلوم ہوا کہ خلیہ مایہ میں مایہ جھلی (Plasma Membrane) اور مرکزہ جھلی سے جڑا ہوا پیچیدہ نلیوں کا ایک وسیع جال جاتا ہے جسے اینڈو پلازمک ریٹی کیولم کہتے ہیں۔ (شکل 8.5)۔ لہٰذا ای، آر خلیے کے اندرونی فضا کو دو نمایاں خانوں میں تقسیم کرتے ہیں یعنی لیومینل (ای آر کے اندر) اور ایکسٹرا لیومنل (سائٹو پلازم)۔
درون مائی جال دو قسم کا ہوتا ہے ایک ہموار سطح والا (SER)، دوسرا ناہموار سطح والا (RER)۔ سطح میں ناہمواری اس لیے ہوتی ہے کہ اس پر بہ کثرت رائبوسومس (Ribosomes) پائے جاتے ہیں۔
آر ای آر پر پروٹین کی تالیف تیزی سے جاری رہتی ہے۔ یہ تیزی مرکزے سے متصل آر ای آر میں دیکھی گئی ہے۔ حیوانی خلیوں میں ایس ای آر لپڈز جیسے اسٹیرویڈ (Steroid) اور ہارمونوں کی تالیف کرتے ہیں۔
8.5.3.2 گالجی اجسام (Golgi Apparatus)
کیمیلو گالجی نامی اطالوی سائنس داں نے 1898 میں مرکزے کے نزدیک ایک رنگین اور کثیف جالی دار ساخت کا مشاہدہ کیا۔ بعد میں انہی ساخت کو گالجی باڈیز کے نام سے موسوم کیا گیا۔ یہ اجسام دراصل چپٹی ٹکیہ نمانلیاں ہیں جو ایک مجموعے کی شکل میں ایک دوسرے سے متوازی جمے رہتی ہیں۔ ان کی اکائی کو سسٹرنی (Cisternae) کہتے ہیں اور ان کا قطر 0.5 مائیکرومیٹر سے 1.0 مائیکرو میٹر تک ہوتا ہے (شکل 8.6)۔ ایک گالجی کمپلیکس میں ان کی تعداد مختلف ہوسکتی ہے۔ سسٹرنی، مرکزے کے متوازی گولائی لیے ہوئے جمے رہتے ہیں۔ ان کی
شکل 8.5 انڈوپلازمک ریٹیکولم
شکل 8.6 گالجی اجسام
کانویکس یا اندرونی سطح نمو پذیر ہوتی ہے اور کانکیو (باہری) پہلو نمو یافتہ سطح ہوتی ہے۔ اندرونی اور بیرونی پہلو بالکل مختلف ہوتے لیکن باہمی ربط قائم رہتا ہے۔
گالجی اجسام بنیادی طور پر ایسے فعل انجام دیتا ہے جہاں مخصوص حاصلات جمع کیے جاتے ہیں جہاں سے یہ حاصلات یا تو خلیے کے اندر ہی خارج ہو جاتے ہیں یا خلیے کے بیرونی حصے میں خارج کر دیے جاتے ہیں۔ یہ حاصلات چھوٹی چھوٹی تھیلیوں کی شکل میں جمع ہو کر ان کے اندرونی پہلو ای، آر میں ضم ہو جاتے ہیں جو بعد میں نمویافتہ پہلو کی طرف چلے جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ گالجی اجسام اور ای، آر میں بہت زیادہ نزدیکیاں ہوتی ہیں۔ بہت سارے پروٹین جو رائبوسومس کی مدد سے ای، آر کے تالیف ہوتے ہیں سسٹرنی میں خاطر خواہ تبدیلی کے بعد گالجی اجسام کے بیرونی پہلو سے خارج ہوتے ہیں۔ گالجی اجسام گلائیکو پروٹین اور گلائیکو لپڈ کی تالیف کا بہت اہم وقوع ہے۔
8.5.3.3 لائسوسومس (Lysosomes)
یہ جھلی سے گھرے ہوئے تھیلی دار اجسام گالجی باڈیز کے ٹوٹنے سے بنتے ہیں۔ علیحدہ لائسوسومل تھیلی میں آب پاشیدگی کے خامرے (ہائڈرولینریز لائپیزیز، پروٹیزیز، کاربوہائڈریزیز) کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں جو تیزابی پی۔ ایچ (pH) پر عمل کرتے ہیں۔ یہ خامرے کار بو ہائڈریٹ، پروٹین، لپڈز، نیوکلک ایسڈز وغیرہ کے ہاضمے میں کام آتے ہیں۔
8.5.3.4 خالیے (Vacuoles)
خالیہ جھلی سے گھری ہوئی وہ جگہ ہے جو سائٹو پلازم میں ہوتی ہے۔ ان میں پانی، عرق، اجراحی مادے اور وہ مادے پائے جاتے ہیں جن کی خلیوں کو ضرورت نہیں رہتی ہے۔ یہ ایک پرت سے ملفوف ہوتے ہیں جس کو ٹونو پلاسٹ کہتے ہیں۔ نباتی خلیے میں یہ خلیے کا تقریباً %90 حصہ گھیرے رہتے ہیں۔
پودوں میں بہت سارے آئنز اور دوسرے مادے ارتکازی درجہ داری کے غلاف ٹونو پلاسٹ سے گزر کر ان خالیوں میں مرکوز ہو جاتے ہیں لہٰذا خالیوں میں ایسے مادوں کا ارتکاز، سائٹو پلازم کے مقابلے میں زیادہ رہتا ہے۔ خالیے آبی دباؤ بھی بناتے ہیں جیسے ٹرگور پریشر کہتے ہیں اور یہ خلیے کو میکانیکی استحکام پہنچاتا ہے۔
امیبا میں، کانٹریکٹائل خالیے اوسمو ریگولیشن اور اخراج کا فعل انجام دیتے ہیں۔ دوسرے خلیوں میں جیسے پروٹسٹ میں غذائی دانوں کو حذف کرکے غذائی خالیے بناتے ہیں۔
8.5.4 توانیے (مائٹو کانڈریا) (Mitochondria)
اگر مائٹوکانڈریا (واحد : مائٹو کانڈریان) کو رنگا جائے تو خورد بین میں یہ آسانی سے نظر نہیں آتے۔ ان کی تعداد کا انحصار خلیے کے فعلیاتی اعمال کی بناء پر ہوتا ہے اور ان کی شکل اور سائز میں بھی بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔ تمثیلی طور پر ان کی شکل گردے نمایا اسطوانہ (Cylindrical) ہوتی ہے جس کا قطر 0.2 - 1.0 مائیکرومیٹر (اوسط 0.5 مائیکرومیٹر) اور لمبائی 1.0-4.1 مائیکرومیٹر ہوتی ہے۔ ہر توانیہ دو جھلیوں سے ملفوف ہوتا ہے ایک بیرونی جھلی اور دوسری اندرونی جھلی جو لیومن کو دو آبی خانوں میں تقسیم کرتی ہے۔ یعنی باہری خانہ اور اندرونی خانہ۔ اندرونی خانے جوHomogeneous substance سے بھرے ہوتے ہیںان کو میٹرکس (Matrix) کہتے ہیں۔ باہری جھلی
شکل 8.7 مائٹوکانڈریا کی ساخت (طولی تراش)
مائٹوکانڈریا کی باہری حد مقرر کرتی ہے۔ اندرونی جھلی میٹرکس میں اندر کی جانب بہت سارے تہہ بناتی ہے جنہیں کرسٹی (Cristae) کہتے ہیں (واحد : کرسٹا) (شکل 8.7)۔ کرسٹی کی تہوں کی وجہ سے اندرونی جھلی کی سطح کے رقبے میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ ان دونوں جھلیوں کے اپنے اپنے خامرے ہوتے ہیں جو مائٹوکانڈریا کے افعال سے تعلق رکھتے ہیں۔ مائٹوکانڈریا، ہوائی تنفس (Aerobic Respiration) کے عمل کا وقوع ہے اور یہ خلوی توانائی اے، ٹی، پی، کی شکل میں بناتے ہیں لہٰذا ان کو خلیے کا ’’پاور ہاؤس‘‘ کہتے ہیں۔ میٹرکس میں ایک عدد ڈی این اے کا سالمہ کچھ آر، این، اے کے سالمے، رائبوسومس (705) اور پروٹین کی تالیف (Synthesis) کے لیے ضروری سالمے موجود ہوتے ہیں۔ مائٹوکانڈریا انشقاق (Fission) کے ذریعے تقسیم ہوتے ہیں۔
8.5.5 پلاسٹڈس (Plastids)
پلاسٹڈ پودوں کے تمام خلیوں اوریوگلینا میں پایا جاتا ہے۔ یہ ساخت میں بڑے ہوتے ہیں اور خوردبین کی مدد سے آسانی سے دیکھے جاسکتے ہیں۔ ان میں کچھ مخصوص پگمنٹ ہوتے ہیں جن کی وجہ سے پودے مختلف رنگوں کے ہوتے ہیں۔ پگمنٹ کی موجودگی کی بناء پر پلاسٹڈس کئی اقسام کے ہوتے ہیں جیسے کلوروپلاسٹ، کروموپلاسٹ اور لیوکو پلاسٹ۔
کلورو پلاسٹ میں کلوروفل اور کیروٹنائڈ پگمنٹ ہوتا ہے جو روشنی کو گرفت میں لاکر ضیائی تالیف کے لیے ذمے دار ہوتے ہیں۔ کروموپلاسٹ میں چربی میں گھل جانے والے کیروٹنائڈ پگمنٹ جیسے کیروٹین، زنیتھوفل وغیرہ ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے پودوں میں پیلا، نارنگی اور سرخ رنگ پایا جاتا ہے۔ لیوکو پلاسٹ غیر رنگین اور مختلف اشکال اور جسامت کے پلاسٹڈس ہوتے ہیں جن میں غذا جمع رہتی ہے؛ امائیلوپلاسٹ کاربو ہائڈریٹ (نشاستہ) مثلاً آلو، ایلایوپلاسٹ، روغن اور چربی جبکہ ایلیوروپلاسٹ پروٹین جمع کرتے ہیں۔
سبز پودوں میں کلوروپلاسٹ کی اکثریت، پتیوں کی میزوفل خلیہ میں ملتی ہے۔ یہ عدسہ نما، بیضوی، گیند نما، تختی نما اور ریبن کی اشکال میں پائے جاتے ہیں جن کی لمبائی (10-5 ایم ایم) اور چوڑائی (4-2 ایم ایم) تک ہوتی ہے۔ ان کی تعداد ایک خلیے میں ایک جیسے کلیمائڈو موناس سے لے کر ایک سبز میزوفل کے ایک خلیے میں 40-20 تک ہوتی ہے۔
شکل 8.8 کلوروپلاسٹ کاتراشی منظر
مائٹوکانڈریا کی طرح یہ بھی دو جھلیوں میں ملفوف رہتے ہیں۔ کلورو پلاسٹ کی اندرونی جھلی نسبتاً کم نفوذ پذیر ہوتی ہے اور اس جھلی سے گھری ہوئی جگہ کو اسٹروما (Stroma) کہتے ہیں۔ اسٹروما میں جھلی سے بنے ہوئے کئی چپٹے تھیلے نما ساخت پائے جاتے ہیں جنہیں تھائلاکوائڈس (Thylakoids) کہتے ہیں (شکل 8.8)۔ تھائلاکوائڈس ایک کے اوپر ایک اس طرح منظم ہوتے جیسے سکوں کو ایک کے اوپر ایک رکھ کر جمایا جاتا ہے۔ ان کو گرینا (واحد : کرنیم) (Grana) کہتے ہیں۔ ان کے علاوہ جھلی سے ہی بنے ہوئے چپٹے نلکی ساختی ٹیوب ہوتی ہے جو گرینا کے مختلف تھائلاکوائڈس کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہیں، ان کو اسٹروما لیمیلی کہتے ہیں۔ تھائلاکوائڈ کی جھلی جس جگہ کو ملفوف کرتی ہے اسے لیومن کہتے ہیں۔ کلورو پلاسٹ کے اسٹروما میں کاربوہائڈریٹ اور پروٹین بنانے والے خامرے ہوتے ہیں۔ ان میں دو دھاگی گول ڈی این اے، رائبوسومس اور کلوروفل پگمنٹ بھی موجود ہوتے ہیں ان کے رائبوسومس، سائٹو پلازم کے رائبوسومس سے چھوٹے ہوتے ہیں۔
8.5.6 رائبوسومس (Ribosomes)
رائبوسومس کو دانے دار ساخت، کثیف دانوں کی شکل میں سب سے پہلے جارج پالاڈ (George Palade) نے الیکٹران خورد بین کی مدد سے 1953 میں مشاہدہ کیا۔ یہ رائبو نیوکلک ایسڈ (آر، این، اے) اور پروٹین کے بنے ہوئے ہوتے ہیں اور کسی جھلی سے نہیں گھرے ہوتے۔
شکل 8.9 رائبوسومس
نواتی رائبوسومس 80S اور پیش نواتی رائبوسومس 70S کے ہوتے ہیں ہررائبوسوم کی دو subunit ہوتی ہیں۔ بڑی اور چھوٹی80S subunit رائبو سوم کی دوsubunit 60Sاور40S کی ہوتی ہیں جبکہ70S رائبوسوم 50S subunit اور 30S کی ہوتی ہیں۔یہاں S سیڈ یمنٹیشن کوافیشینٹ (Sedimentation Coefficient) کے لیے استعمال ہوا ہے یہ کثافت اور سائز کا پیمانہ ہے۔ 70S اور 80S رائبوسومس دونوں دو سب یونٹ پر مشتمل ہوتے ہیں۔
8.5.7 خلوی ڈھانچہ (Cytoskeleton)
مہین دھاگے دار پروٹین سے بنا ہوا ایک وسیع جال جو مائیکرو ٹوبلس، مائیکرو فلامینٹس پر مشتمل ہوتا ہے، سائٹو پلازم میں موجود ہوتا ہے جو مجموعی طور پر خلوی ڈھانچہ کہلاتا ہے۔ خلیے میں موجود یہ ڈھانچہ کئی افعال انجام دیتا ہے جیسے استحکام، حرکت اور خلیے کی ساخت کا تعین۔
8.5.8 سیلیا اور فلاجیلا (Cilia and Flagella)
سیلیا (واحد : سیلیم) اور فلا جیلا (واحد : فلاجیلم) خلیہ جھلی کی بال نما باہری نمو ہے۔ سیلیا چھوٹے ہوتے ہیں اور چپو
شکل 8.9 سیلیا اور فلاجیلا کے مختلف حصوں کا سیکشن : (a) الیکٹران مائکروگراف (b) اندرونی ساخت کا تصویری خاکہ
(Oars) جیسا کام کرتے ہیں، جن کے عمل سے یا تو خلیہ حرکت میں ٓاتے ہیں یا اس کے اطراف کا سیال متحرک ہو جاتا ہے۔ فلاجیلا نسبتاً لمبے ہوتے ہیں اور خلیے کی حرکت کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ پیش نواتی بیکٹیریا میں بھی فلاجیلا ہوتے ہیں لیکن ساخت میں نواتی فلاجیلا بہت مختلف ہوتے ہیں۔
سیلیا یا فلاجیلا کے الیکٹران خورد بین سے مطالعے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ پلازما جھلی سے ملفوف ہیں۔ ان کا وسطی حصہ ایکسونیم (Exoneme) کہلاتا ہے اور یہ بہت سارے مائیکروٹیوبیولز پر مشتمل ہے جو ان کے محور پر متوازی چلتے ہیں۔ ایکسونیم میں مائیکروٹیوبیولز سے بنے ہوئے نو جوڑے باہری جانب مرتب ہوتے ہیں اور وسط میں مائیکروٹیوبیولز کا بنا ہوا ایک جوڑ ہوتا ہے۔ اس طرح کی ترتیب کو 2+9 ترتیب کہتے ہیں۔ وسطی ٹیوبیول ایک وسطی غلاف سے گھرا ہوتا ہے جو باہری ٹیوبیولز سے انفرادی طور پر شعاعی انداز میں جڑا ہوتا ہے۔ باہری جڑواں ٹیوبیولز آپس میں ایک دوسرے سے پل کے ذریعے جڑے رہتے ہیں۔ سیلیا اور فلاجیلا کا نمو ایک مرکزیچے (Ceutriole) نما ساخت سے ہوتا ہے جن کو بیسل باڈی (Basal Bodies) کہتے ہیں۔
8.5.9 سینٹروسومس اور سینٹریولز (Centrosomes and Centrioles)
سسینٹروسوم ایسا عضویہ ہے جس میں دو استوانی ساخت کے سینٹر یولز ہوتے ہیں جو غیر دانے دار مادے سے ملفوف ہوتے ہیں۔ سینٹروسوم میں دونوں سینٹریولز ایک دوسرے پر عمودی انداز میں جڑے رہتے ہیں جن میں ہر ایک کی شکل پہیے نما ہوتی ہے۔ یہ ٹیوبیولن سے بنے ہوئے نو محیطی فائبرل سے مل کر بنے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے سے یکساں فاصلے پر سجے رہتے ہیں۔ ہر محیطی فائبرل ثلائی (Triplets) ہوتے ہیں۔ اور ملحقہ ثلاثے ایک دوسرے سے جڑے رہتے ہیں۔ سینٹریول کا وسطی حصہ پروٹین سے بنا ہوتا ہے اور ہب (Hub) کہلاتا ہے جو قطری انداز میں محیطی ثلاثوں سے جرا رہتا ہے۔ سینٹریول، سیلیا اور فلاجیلا کی بیسل باڈی بناتا ہے اور خلوی تقسیم کے دوران بننے والے سپنڈل جسم کی سپنڈل دھاگے بھی بناتا ہے۔
8.5.10 مرکزہ (Nucleus)
مرکزے کو خلیے کی عضویہ کی حیثیت سے سب سے پہلے رابرٹ براؤن نے 1831 میں بیان کیا (شکل 8.9) بعد میں فلیمنگ نے مرکزے کے مادے کو بنیادی رنگوں (Basic Dyes) کے ذریعے مطالعہ کرکے اس کا نام کرومیٹن (Chromatin) رکھا۔
شکل 8.10 مرکزہ کی ساخت
بین ہیئت (Interphase) کے دوران (جب خلیہ کی تقسیم نہیں ہوتی) کے مرکزے ی نہایت لمبے ہوتے ہیں اور ان میں مہین نیوکلیوپروٹین کے دھاگے موجود ہوتے ہیں جنہیں کرومیٹن کہا جاتا ہے، مرکزی میٹرکس اور ایک یا ایک سے زیادہ گیند ساختی نیوکلیولائی (واحد نیوکلیولولس) ہوتے ہیں۔
الیکٹران خوردبین کے استعمال سے معلوم ہوا کہ مرکزے کا غلاف جو دو متوازی جھلیوں سے بنا ہوتا ہے۔ ان کے درمیان کی خلاء میں (10-50 ن،م) کی دوری ہوتی ہے اور اسے پیری نیوکلیر خلاء کہتے ہیں۔ یہ مرکزے میں موجود مادے کو سائٹوپلازم سے علاحدہ کرتا ہے۔ باہری جھلی، ای، آر سے تسلسل رکھتی ہے اور ان پر رائبوسومس ہوتے ہیں۔ مرکزے کا غلاف کئی جگہوں پر دونوں جھلیوں کے ملنے سے ان کا تسلسل منقطع ہو جاتا ہے اور اس طرح اس میں چھوٹے سوراخ بن جاتے ہیں۔ ان سوراخوں کے ذریعے آر، این، اے اور پروٹینز کے سالمے کی آمددرفت مرکزے اور سائٹو پلازم میں دونوں جانب ہوتی ہے۔ عموماً ایک خلیے میں ایک ہی مرکزہ ہوتا ہے لیکن ان کی تعداد ایک سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔ کیا آپ ان عضویوں کے نام یاد کرسکتے ہیں جن کے خلیوں میں ایک سے زیادہ مرکزے ہوتے ہیں؟ کچھ نمویافتہ خلیوں میں مرکزے ہوتے ہی نہیں مثلاً پستانیوں کے اریتھروسائٹز، وعائی پودوں کے سیوٹوب خلیے۔ کیا آپ ان کو جاندار خلیے کہیں گے؟
مرکزے کا میٹرکس یا نیوکلیو پلازم میں نیوکلیولس اور کرومیٹن ہوتا ہے۔ نیوکلیوپلازم میں گیند ساختی نیوکلیولائی ہوتے ہیں۔ نیوکلیولائی کا کوئی غلاف نہیں ہوتا لہٰذا اس کے مشمولات کا نیوکلیوپلازم سے تسلسل رہتا ہے۔ یہ رائبوسومس آر،این،اے کی تالیف کا وقوع ہے۔ کثرت سے پروٹینز کی تالیف کرنے والے خلیوں میں نیوکلیولائی کی تعداد اور سائز بڑا ہوتا ہے۔
آپ کو یاد ہوگا کہ بین ہئیت والے مرکزے میں نیوکلیو پروٹین کے دھاگے جوکرومیٹن بناتے ہیں کا ڈھیلا اور غیر امتیازی جال ہوتا ہے۔ لیکن خلیے کے تقسیم کے مدارج کے دوران مرکزے میں نمایاں لونی اجسام (کروموسومز) نظر آتے ہیں۔ کرومیٹن میں ڈی، این، اے اور کچھ بیسک پروٹینز جنہیں ہسٹونز (Histons) کہتے ہیں اور آر، این، اے ہوتے ہیں۔ انسان کے ایک خلیے میں تقریباً دو میٹرلمبا ڈی، این، اے کا دھاگہ ہوتا ہے جو چھیالیس لونی اجسام (23 جوڑے) میں پھیلا رہتا ہے۔ ڈی، این، اے کی پیکنگ کے بارے میں مزید معلومات آپ بارہویں جماعت میں پڑھیں گے۔
برلونی جسم (Chromosome) یہ (تقسیمی خلیوں میں نظر آتے ہیں)میں ایک ابتدائی کج (Primary Constriction) ہوتا ہے جسے سینٹرو میئر کہتے ہیں اور اس کے دونوں طرف پلیٹ ساختی کائنیٹوکور (Kinetochors) ہوتے ہیں(شکل 8.11) ایک کروموزوم کے دوکرومیٹکس کو سیٹرومز پکڑتے رہتا ہے۔ سینٹرومیئر کی پوزیشن کی بناء پو لونی جسم کو چار اقسام میں بانٹ سکتے ہیں(شکل 8.12)۔ میٹاسینٹرک (Metacentric) لونی جسم میں سینٹرومیٹر درمیان میں ہوتا جو اس کو دو بازوئوں میں تقسیم کرتا ہے۔ سب میٹاسینٹرک لونی جسم میں سینٹرومیئراس کے ایک سرے کے قریب ہوتا ہے اور لونی جسم کو ایک بڑے اور ایک چھوٹے بازو میں بانٹتا ہے۔ ایکروسینٹرک لونی جسم میں سینٹرومیئر اس کے سرے کے بہت قریب ہوتا ہے نتیجتاً یہ ایک بہت چھوٹے بازو اور ایک بہت بڑے بازو میں بٹ جاتا ہے جبکہ ٹیلو سینٹرک لونی جسم میں سینٹرو میئر بالکل سرے پر ہوتا ہے۔
کچھ لونی اجسام میں کبھی کبھی ثانوی کج (Secondry Constriction) ہوتا ہے جو رنگ قبول نہیں کرتا اور ہمیشہ ایک ہی پوزیشن پر ہوتا ہے جس کی وجہ سے لونی جسم کا ایک حصہ بالکل الگ نظر آتا ہے اسے سیٹلائٹ (Satelite) کہتے ہیں۔
شکل 8.11 کائنیٹوکور کے ہمراہ لونی جسم
8.5.11 مائیکرو باڈیز (Microbodies)
پودے اور حیوانات کے خلیوں میں جھلی ملفوف چھوٹے چھوٹے تھیلے پائے جاتے ہیں جو مائیکرو باڈیز کہلاتے ہیں اور ان میں بہت سارے خامرے پائے جاتے ہیں۔
شکل 8.12 سینٹرومیئر کی جگہ پر منحصر مختلف لونی اجسام
خلاصہ
تمام عضویے خلیوں کے یا خلیوں کے مجموعے کے بنے ہوتے ہیں۔ خلیے اپنی ساخت، سائز اور افعال میں مختلف ہوتے ہیں۔ نمایاں ملفوف مرکزہ یا غیر ملفوف مرکزے کی بنا پر عضویوں کو نواتی یا پیش نواتی عضویے کہتے ہیں۔
ایک تمثیلی نواتی خلیہ، خلیہ جھلی، مرکزہ اور سائیٹوپلازم پر مشتمل ہوتا ہے۔ پلازما جھلی چنندہ نفوز پذیر ہوتی ہے اور کئی سالموں کے آمدورفت کی ذمے دار ہوتی ہے۔ اینڈومیمبرین، ای،آر، گالجی کا مپلکس لائسوسومز اور خالیے پر مشتمل ہوتی ہے۔ خلیے کے تمام عضویے مختلف مگر خاص فعل انجام دیتے ہیں۔ نباتی خلیوں میں کلوروپلاسٹ موجود ہوتا ہے جو روشنی کو گرفت میں لے کر ضیائی تالیف کرتا ہے۔ سینٹرو سوم اور سینٹربول سیلیا اور فلاجیلا کی بیسل باڈی بناتا ہے جو حرکت میں کام آتے ہیں۔ حیوانی خلیوں میں سینٹریول خلوی تقسیم کے دوران سپنڈ جسم بھی بناتا ہے۔ مرکزے میں نیوکلیولائی اور کرومٹین ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف عضویوں کے افعال کو کنٹرول کرتا بلکہ توازن میں بھی بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اینڈوپلازمک ریٹیکلم میں ٹیوبیولز یا سسٹرنی دو قسم کے ہوتے ہیں: غیر ہموار اور ہموار۔ ای آر مادوں کی آمدورفت، پورٹینز، لائپوپروٹینز اور گلائکوجن کی تالیف میں مدد کرتا ہے گالجی اجسام جھلی دار خلیے ہیں اور چپٹے تھیلے نما ساخت کے ہوتے ہیں۔ خلیے کے خارج شدہ مادے ان تھیلوں میں جمع ہوتے ہیں بعد میں خلیے سے باہر نکال دیے جاتے ہیں۔ لائسوسومز ایک جھلی سے ملفوف ہوتے ہیں اور ان میں ہاضمے اور دوسرے بڑے سالموں کے ہاضمے کے لیے خامرے موجود ہوتے ہیں۔ رائبوسومز کا کام پروٹینز کی تالیف کرنا ہے۔ یہ سائٹوپلازم میں بکھرے رہتے ہیں یا ای آر سے جڑے رہتے ہیں۔ مائیٹو کانڈریا تکسیدی فسفریت میں مدد کرتے ہیں اور اے ٹی پی بناتے ہیں یہ دوہری جھلی سے ملفوف رہتے ہیں۔ بیرونی جھلی ہموار ہوتی ہے اور اندرونی جھلی فولڈز کی مدد سے کرسٹی بناتی ہے۔ پلاسٹڈز میں پگمینٹ ہوتا ہے یہ صرف نباتی خلیوں میں پایا جاتا ہے۔ نباتی خلیوں میں کلوروپلاسٹ نوری توانائی کو گرفت میں لینے کے ذمے دار ہیں جو ضیائی تالیف کے لیے ضروری ہے۔ پلاسٹڈز میں گرینا ضیائی عملیات کے لیے اور سٹروما تاریک عملیات کے لیے مخصوص ہیں۔ سبزرنگ کے پلاسٹڈز کلوروپلاسٹ کہلاتے ہیں جن میں کلوروفل موجود ہوتا ہے، جبکہ دیگر رنگوں کے پلاسٹڈز کو کروموپلاسٹز کہتے ہیں جن میں کیروٹین اور زینتھومل پگمنٹ ہو سکتے ہیں۔ مرکزہ، مرکزی غلاف سے ملفوف ہوتا ہے جو دوہری جھلی کا بنا ہوتا ہے اس غلاف میں سوراخ ہوتے ہیں۔ اندرونی جھلی نیوکلیوپلازم اور کرومیٹین کو ملفوف کرتی ہے۔ لہٰذا خلیہ، حیات کی ایک ساختی اور فعلی اکائی ہے۔
مشق
1۔ مندرجہ ذیل میں کیا صحیح نہیں ہے؟
(a) رابرٹ براؤن نے خلیہ دریافت کیا۔
(b) شیلڈن اور شوان سے خلیائی نظریہ پیش کیا
(c) ورچو نے بتایا کہ تمام خلیے پہلے ہی سے موجود خلیوں سے پیدا ہوتے ہیں۔
(d) یک خلوی عضویے زندگی کے تمام افعام ایک خلیے میں مکمل کرتے ہیں۔
2۔ نئے خلیے مندرجہ ذیل سے بنتے ہیں۔
(a) بیکٹیریائی فرمنٹیشن۔
(b) پرانے خلیوسں کی احیاء (Regeneration) ۔
(c) پہلے سے موجود خلیوں سے ۔
(d) بے جان مادوں سے۔
3۔ مندرجہ ذیل کو ملائیے:
کالم I کالم II
(a) کرسٹی (i) سٹروما میں چپٹے جھلی دار تھیلے
(b) سسٹرنی (ii) مائٹوکانڈریا میں اندرونی ابھار
(ci) تھائلا کوایڈز (iii) گالجی اجسام میں ڈسک ساختی تھیلے
4۔ مندرجہ ذیل میں سے کیا صحیح ہے:
(a) جاندار عضویوں کے خلیوں میں مرکزہ ہوتا ہے۔
(b) نباتی اور حیوانی دونوں خلیوں میں نمایاں خلوی دیوار ہوتی ہے۔
(c) پیش نواتی خلیوں میں عضویچے (Organells) جھلی سے ملفوف نہیں ہوتے۔
(d) خلیے بے جان مادوں سے ازسرنو پیدا ہوتے ہیں۔
5۔ پیش نواتی خلیوں (Prokaryotic Cell)میں میزوسوم کیا ہے؟ یہ کیا کام انجام دیتا ہے؟
6۔ نیوٹرل محلول (Soluts) پلازما جھلی سے کیسے گزرتے ہیں؟
7۔ خلیوں کے دوعضویوں کے نام بتائیے جو دوہری جھلی سے ملفوف ہوتے ہیں۔ ان کی کیا خاصیت ہے۔ ان کے فعل لکھئے اور تصویر بنائیے۔
8۔ پیش نواتی خلیوں کی کیا خصوصیات ہیں؟
9۔ کثیر خلوی عضویوں میں تقسیم مشقت (Division of Labour) ہوتی ہے۔ سمجھا کر لکھئے۔
10۔ خلیہ حیات کی بنیادی اکائی ہے۔ مختصراً لکھئے۔
11۔ مرکزی سوراخ (Nuclear Pores) کیا ہوتے ہیں۔ ان کا کیا کام ہوتا ہے؟
12۔ لائسوسومس اور ویکیولز دونوں اینڈوممبرین ساختی ہیں اس کے باوجود ان کے فعل مختلف ہیں۔ تشریح کیجیے۔
13۔ تصاویر کی مدد سے مندرجہ ذیل کی ساخت اجاگر کیجیے۔
(i) مرکزہ (ii) سینٹرو سوم
14۔ سینٹرو میئر کیا ہے؟ لونی اجسام کی درجہ بندی میں ان کی پوزیشن کس طرح مدد کرتی ہے۔ اپنے جواب میں مختلف اقسام کے لونی اجسام سینٹرومیئر کی پوزیشن کو دکھانے کے لیے تصویر کا سہارا لیجیے۔