باب 9
حیاتیاتی سالمات
(Biomolecules)
9.1 کیمیائی ترکیب کا تجزیہ کیسے کریں؟
9.2 ابتدائی اور ثانوی تحویل مرکبات
9.3 حیاتی کلاں سالمات
9.4 پروٹین
9.5 پولیسکرائڈز
9.6 نیوکلیائی تیزاب
9.7 پروٹین کی ساخت
9.8 پولیمر میں مونومرس کو جوڑنے والے بندھن
9.9 جسمانی حصوں کی متحرک حالت تحویل کا تصور
9.10 زندگی کی تحویلی بنیاد
9.11 جاندار حالات
9.12 خامرہ
ہمارے کرہ حیات میں جانداروں کی وسیع گوناگونی پائی جاتی ہے۔ اب یہ سوال اُٹھتا ہے کہ کیا سارے جاندار ایک ہی کیمیائی اشیاء یعنی عناصر اور مرکبات سے بنے ہیں۔ آپ نے علم کیمیا میں پڑھا ہے کہ عناصری تجزیہ کس طرح کیا جاتا ہے۔ اگر ہم کسی نباتاتی بافت، حیوانی بافت یا مائکروبیل پیسٹ کا عناصری تجزیہ کریں تو ہمیں مختلف عناصر جیسے کاربن، ہائڈروجن، آکسیجن اور دیگر عناصر کی ایک فہرست ملے گی اور جاندار بافت میں ہر ایک عنصر کی مقدار فی اکائی کمیت ملے گی۔ اگر یہی تجزیہ ہم زمین کی پرت کے ایک ٹکڑے کا کریں جو کہ ایک بے جان چیز ہے تو ہمیں پہلے کی جیسی فہرست ملے گی۔ تو پھر دونوں فہرست میں کیا فرق ہے۔ صحیح معنوں میں دونوں میں کوئی ایسا فرق نہیں ہے۔ دونوں طرح کی اشیاء میں ایک جیسے عناصر ہیں۔ لیکن گہری جانچ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ دوسرے عناصر کے مقابلہ کاربن اور ہائڈروجن کی مقدار کسی جاندار میں ارضی پرت کے ٹکڑے سے زیادہ ہے (شکل 9.1)۔
9.1 کیمیائی ترکیب کا تجزیہ کیسے کریں؟
(How to Analyse Chemical Composition?)
ہم لوگ اسی طریقہ سے لگاتار یہ سوال کرسکتے ہیں کہ جاندار عضویات میں کس قسم کے نامیاتی مرکبات پائے جاتے ہیں؟ جواب حاصل کرنے کے لیے کسی شخص کو کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے؟ جواب حاصل کرنے کے لیے، کیمیائی تجزیہ کا عمل کرنا پڑے گا۔ اس عمل کے لیے ہم لوگ کوئی بھی جاندار بافت (ایک سبزی یا لیور کا ایک ٹکڑا وغیرہ) لے سکتے ہیں۔ اسے موٹر اور پسٹل کی مدد سے ٹرائی کلورواسٹیک اسڈ (Cl3CCOOH) میں پیستے ہیں۔ ہمیں ایک موٹے مواد کی تہہ (سلری) ملتی ہے۔ اس کے چھاننے کے بعد ہمیں دو چیزیں ملتی ہیں۔ ایک کو مقطر(Filtrate)کہتےہیں جوکہ تیزاب میں گھلنے والی چیز ہے اور دوسری چیز تیزاب میں نہیں گھُل پاتی اور اسے ریینٹیٹ (Retentate) کہتے ہیں۔ سائنس دانوں نے تیزاب میں گھُلنے والے حصّے سے کافی سارے مرکبات حاصل کیے ہیں۔
جدول 9.1جاندار اور بے جان چیزوں میں پائے جانے والے عناصر کا موازنہ
اعلٰی ثانوی درجات میں آپ پڑھیں گے کہ کس طریقہ سے کس جاندار بافت کے نمونہ کا تجزیہ کر کے اس میں موجود مخصوص نامیاتی مرکبات کی پہچان کی جاتی ہے۔ یہاں یہ بات مزید کی جاسکتی ہے کہ سب سے پہلے مرکبات کے ملخص حاصل کیے جاتے ہیں، پھر ملخص (Extract) سے مختلف علاحدگی ترکیبوں کے ذریعہ مرکبات ایک دوسرے سے الگ کیے جاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں پہلے مرکبات کو الگ کیا جاتا ہے اور پھر اس کی تخلیص کی جاتی ہے۔ جب کسی مرکب کے ساتھ تجزیاتی ترکیبوں کا استعمال کیا جاتا ہے تو ہمیں اس مرکب کے ساخت کا اندازہ ہوتا ہے اور اس کے سالماتی ضابطہ کا تصور سامنے آتا ہے۔
سارے کاربن مرکبات جو ہمیں جاندار بافت سے حاصل ہوتے ہیں انہیں حیاتیاتی سالمات کہتے ہیں۔ حالانکہ جانداروں میں غیر نامیاتی عنصر اور مرکبات بھی ہوتے ہیں، ہم لوگ اسے کیسے جان سکتے ہیں۔ اس کے لیے ایک مختلف لیکن نقصاندہ تجربہ کرنا ہوگا۔ ایک چھوٹی سے مقدار میں جاندار بافت لے کر اسے سُکھائیے۔ سارا پانی بھاپ کی صورت میں اُڑ جائے گا۔ جو بچے گا وہ خشک وزن کہلائے گا۔ اب اگر یہ بافت جلایا جائے تو تمام کاربن مرکبات تکسید ہو کر گیس کی صورت اختیار کر لے گی (CO2 پانی کی بھاپ) اور الگ ہو جائیں گے۔ اب جو بچے گا اسے راکھ (Ash) کہتے ہیں۔اس راکھ میں غیر نامیاتی عنصر جیسے کیلشیم، میگنیشیم وغیرہ ملتے ہیں۔ غیر نامیاتی مرکبات مثلاً سلفیٹ اور فاسفیٹ وغیرہ تیزاب میں گھُلنے والے حصّے میں ملتے ہیں۔ اب ہم نے جان لیا کہ عناصری تجزیہ سے عناصر کی بناوٹ کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ تفاعلی گروپ (Functional groups) جیسے کہ Aldehydes, Ketones, Aromatic compounds وغیرہ کے بارے میں بھی پتہ لگ سکتا ہے۔ جدول 9.2 اور 9.3)۔ لیکن علم حیات کی بنیاد پر ہم انہیں Aminoacids, Nucleotide Bases, Fatty acids وغیرہ میں تقسیم کر سکتے ہیں۔
امینو ایسڈ (Aminoacids) ایسے نامیاتی مرکبات ہیں جن کے امینوگروپ اور ایسڈک گروپ ایک ہی کاربن (a کاربن) پر پائے جاتے ہیں۔ اس لیے انہیں a امینو ایسڈ کہتے ہیں۔ یہ میتھین کی جگہ لیتے ہیں ان میں چار Substituents گروپ چار ویلینسی پوزیشن (Valency Positions) کی جگہ لیتے ہیں جو کہ یوں ہیں: ہائڈروجن، مینو گروپ، کاربوکسل گروپ اور ایک گروپ جو کہ ہر ایک امینوایسڈ کے لیے مخصوص ہے جو آر گروپ کہلاتا ہے۔ آر۔ گروپس کی بنیاد پر امینوایسڈ بہت سے اقسام کے پائے جاتے ہیں۔ لیکن جو پروٹین میں پائے جاتے ہیں وہ صرف 21 ہیں۔ ان کا آر۔گروپ، ہائڈروجن ہو سکتا ہے (امینو ایسڈ (Glycine) کہلاتا ہے)، میتھائل گروپ (الائین)، ہائی ڈراکس میتھائیل (سیرین) وغیرہ۔ ان امینو ایسڈ کیمیائی اور طبیعی خصوصیات امینو کاربوکسل 'R' تفاعلی گروپ کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ امینو اور کاربوکسل گروپ کی تعداد کی بنا پر امینو ایسڈک(جیسے گلامیٹک ایسڈ یا بیسک (جیسے (Lysine)) یا نیوٹرل (جیسے ویلن) ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح کچھ امینو ایسڈ ایرومیٹک ہوتے ہیں (جیسے Tyrosine, Phenylalanine, Tryptophan)۔ امینو ایسڈ کی ایک اہم خاصیت کے –NH2 اور –COOH گروپ کا ٹوٹ جانا ہے۔ اس لیے مختلف pH والے محلول میں امینو ایسڈ کی بناوٹ B والی صورت سے بدلتی جاتی ہے B والی صورت کو Zwitterionic شکل کہتے ہیں۔
چربی (Lipids) پانی میں حل نہیں ہوتے۔ وہ عام فیٹی ایسڈس ہی ہو سکتے ہیں۔ فیٹی ایسڈ میں ایک کاربوکسل گروپ، آر۔گروپ سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔ یہ آر۔گروپ
ا پھر کافی سارے (CH2) گروپ (کاربن سے 19 کاربن) ایک ساتھ ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر پالیمٹک ایسڈ میں 16 کاربن ہوتے ہیں جن میں کاربوکسل کاربن بھی ہوتا ہے۔ Arachidonic Acid میں کاربن ایٹم 20 ہیں۔ فیٹی ایسڈس جن میں صرف Single Bond ہو سی شدہ (Saturatcd) کہلاتے ہیں اور وہ فیٹی ایسڈس جن میں ایک یا ایک سے زیادہ دہرابندھن ہوں، انہیں Unsaturated Fatly Acids کہتے ہیں۔ ایک اور لپڈ ہے گلائی کورل جو کہ Trihydroxy Propane ہے۔ بہت سارے لپڈس میں گلائی کورل اور فیٹی ایسڈس دونوں ہی ہوتے ہیں اور پھر وہ Monoglycerides، Diglycerides یا Triglycerides ہو سکتے ہیں۔ انہیں تیل یا چربی کہتے ہیں۔ ان کے نقطہ پگھلاؤ کے بنیادپر۔ تیل کا نقطہ پگھلاؤ چربی سے کم ہوتا ہے اور اس اس لیے سردیوں میں یہ بھی تیل کی شکل میں ہوتے ہیں۔ کچھ لپڈس میں فاسفورس یا فاسفورائی لیٹڈ نامیاتی مرکبات ہوتا ہے انہیں فاسفولپڈ کہتے ہیں۔ یہ خلوی جھلّی میں پائے جاتے ہیں۔ ایسے لپڈس کی ایک مثال Lecithin ہے۔ باقی لپڈس جن کی کچھ
شکل 9.1 جاندار بافتوں میں پائے جانے والے خردسالماتی وزن والے نامیاتی مرکبات کا ڈائیگرامیٹک نمائندگی
اُلجھی ہوئی بناوٹ ہے اس طرح سے ہیں Cerebrosides, Gengliosides, Ceramides, Sphingomyelins, Plasmalogensوغیرہ۔
جانداروں میں ایسے بہت سے کاربن کے مرکبات ہوتے ہیں جن میں ہیٹروسئکلک رنگ پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ نائٹروجن کے جزو ترکیبی ہوتے ہیں مثلاً ایڈینیسن، گویانین، سائٹوسین، یوریسیل اور تھائمین۔ جب ان کے ساتھ سوگر جڑ جاتا ہے تو انہیں نیوکلیوسائڈز (Nuclesdies) کہتے ہیں۔ اب اگر نیوکلیوسائڈ کے ساتھ Phosphate بھی جڑ جائے تو پھر نیوکلیوسائڈ بن جاتے ہیں۔ نیوکلیوسائڈ کی مثالیں یوں ہیں۔ Thymidine, Guanocine, Adenosine, Uridine اور Cytidine جبکہ اڈینائلک ایسڈ، تھائمی ڈائلک ایسڈ وغیرہ نیوکلیونائڈز کی مثالیں ہیں۔ نیوکلیائی تیزاب جیسے کہ DNA اور RNA میں صرف نیوکلوٹائڈ ہیں۔ DNA اور RNA جینیٹک مواد کے طور پر کام کرتے ہیں۔
9.2 ابتدائی اور ثانوی تحول مرکبات (Primary and Secondary Metabolites)
علم کیمیا کا سب سے ضروری پہلو ہے ہزاروں مرکبات کو جاندار عضویہ سے علاحدہ کرنا، ان کی ساخت معلوم کرنا اور ممکن ہونے پر ان کو بنانا۔ ان میں سے کچھ ادویہ کے طور پر بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ سب ثانوی تحول مرکبات ہیں۔
اگر ایسے حیاتی سالمات (Biomolecules) کی فہرست بنائی جائے تو اس فہرست میں ہزاروں نامیاتی مرکب ملیں گے جیسے کہ امینو ایسڈ، سوگر وغیرہ ان حیاتی سالمات کو تحول مرکبات کہتے ہیں۔ جانوروں کےبافتوں (Tissues) میں یہ مرکب کثرت سے ملیں گے جن کو جدول 9.3 میں دکھایا گیا ہے۔
جدول 9.3 کچھ ثانوی تحول مرکبات
پگمینٹ (Pigments) کیروٹینوائڈز، انتھوسائنین وغیرہ
الکیلوائڈ (Alkaloid) مارفین، کوڈین وغیرہ
ٹرپینوائڈز (Terpenoides) مونوٹرپین، ڈائی ٹرپین
ضروری تیل (Essential oils) لیمن گراس تیل وغیرہ
ٹوکسین (Toxins) البرین، رائسین
لیکٹین کونکاناوالین A
ڈر گز (Drugs) ونبلاسٹین،کورکومین وغیرہ
پولی میرک اشیاء ربر،گوند (Gums) سیلیولوز (Cellulose)
ان کو ابتدائی مرکبات کہتے ہیں۔ لیکن اگر پیڑ پودوں، فنگی (Fungi)، جراثیم کی باریک جانچ کی جائے تو ابتدائی تحول مرکبات کے علاوہ اور بھی طرح کے مرکب ملیں گے جیسے ربر، Flavonoides، الکیلوائڈس، ضروری تیل وغیرہ جنہیں ثانوی مرکبات کہتے ہیں (جدول 9.4)۔
ابتدائی تحولی مرکبات کے کام جانے پہچانے ہیں جبکہ ثانوی تحول مرکبات کے کردار کے بارے میں زیادہ جانکاری نہیں ہے۔ لیکن ان میں سے کافی سارے انسان کے لیے فائدہ مند ہیں جیسے ربر، ادویہ، مَثالیں، اِتر وغیرہ۔ کچھ ثانوی تحول مرکبات کی ماحولیاتی اہمیت ہے۔
9.3 حیاتی کلاں سالمات (Biomacromolecules)
تیزاب میں گھُلنے والے مرکباب میں ایک یکساں بات ہے۔ ان کا سالماتی وزن (Molecular weights) 18 سے 800 ڈالٹن کے درمیان ہوتے ہیں۔
تیزاب میں نہ گھُلنے والے حصّہ میں صرف چار قسم کے مرکباب پائے جاتے ہیں: پروٹین، نیوکلیائی تیزاب، پولی سکرایڈس اور چربی (Lipids)۔ لپڈ کو چھوڑ کر باقی سب کے سالماتی وزن 10000 ڈالٹن سے اوپر ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے کیمیائی مرکب جو کہ جانداروں میں پائے جاتے ہیں دو قسم کے ہیں: وہ جن کا سالماتی وزن 1000 ڈالٹن سے کم ہوتا ہے مائیکرو مالیکیول (Micromolecule) یا حیاتی سالمات (Biomolecules) کہلاتے ہیں۔ جو تیزاب میں نہ گھُلنے والے حصہ میں پائے جاتے انہیں میکرومالیکیول (Macromolacules) یا حیاتی کلاں سالمات کہتے ہیں۔
لپڈس کو چھوڑ کر باقی سارے حیاتی کلاں سالمات پالی مرس (Poly mers) ہیں۔ لپڈس کا سالماتی وزن cut نسبتاً کم ہوتا ہے اور خلیوں کی جھلّی میں بھی پائے جاتے ہیں۔ لپڈس واقعی میں (Macromolecular نہیں ہیں لیکن پانی اور تیزاب میں حل نہ ہونے کی وجہ سے اس گروہ میں رکھے جاتے ہیں۔
تیزاب میں گھُلنے والی اشیاء سائٹوپلازم کی ساخت بناتے ہیں۔ سائٹوپلازم اور Organelles سے ملنے والے مائیکرومالیکیول تیزاب میں نہ گھُلنے والے حصّہ بناتے ہیں۔ جاندار خلیہ میں پائے جانے والے کیمیائی اشیاء اور ان کی مقدار جدول 9.4 میں دکھائے جارہے ہیں۔
جدول 9.4 Average Composition of Cells
جُزّو (Components) مکمل خلیہ کا فی صد %
پانی 70 - 90
پروٹین 10 -15
کاربوہائڈریٹ 3
لپڈ 2
نیوکلیائی تیزاب 5 - 7
روان/آئینز 1
9.4 پروٹین (Proteins)
پروٹین کو پولی پیپٹائڈز (Polypeptides) کہتے ہیں۔ پروٹین امینو ایسڈس کی زنجیر ہوتی ہے جن میں امینو ایسڈس آپس میں Peptide bonds سے جُڑے ہوتے ہیں (شکل 9.3)۔
امینو ایسڈس 21 طرح کے ہوتے ہیں جیسے کہ Alanine, Cysteine, Proline, Tryptophan, Lysine وغیرہ۔ پروٹین میں چونکہ مختلف قسم کے امینوایسڈ ہوتے ہیں اس لیے اسے ہیٹروپولیمر (Heteropolymer) کہتے ہیں۔ ہمارے کھانے میں موجود پروٹین ہی ان امینوایسڈ کا ذریعہ ہیں جو امینوایسڈ صرف کھانے کے ذریعہ سے ملتے ہیں اور ہمارا جسم انہیں تیار نہیں کر سکتا وہ لازمی امینوایسڈ کہلاتے ہیں۔ Non-essential amino acids ہمارا جسم بنا سکتا ہے۔ پروٹین اور پولی سکر ائڈس اور پولی پیپٹائڈس صحیح معنوں میں میکرومالیکیولس ہیں۔ نیوکلیائی تیزاب نیوکلیوٹائڈس سے بنے ہوتے ہیں۔ نیوکلیوٹائڈس کے تین جُزو ہوتے ہیں۔ پروٹین مختلف کام کو انجام دیتے ہیں کچھ پروٹین خلوی جھلی کے آر پار تغذیتی جزو کو لانے لے جانے کا کام کرتے ہیں، کچھ بیماریوں سے جسم کی حفاظت کرتے ہیں، کچھ ہارمون اور کچھ انزائم کا کام کرتے ہیں (جدول 9.5)۔
جدول 9.5 پروٹین اور ان کے کام
پروٹین کام
کولاجین انٹراسیلولر گراؤنڈ اشیاء
ٹرپسین خامرہ (Enzyme)
انسولین ہارمون
انٹی باڈی بیماری پھیلانے والے جرثومہ کے خلاف لڑائی
ریسیپٹر مُہیّج (Stimulus) کو پہچاننا(خوشبو، مزا، ہارمون وغیرہ)
گلوٹ 4 (GLUT-4) خلیہ کے اندر گلوکوز کے نقل و حمل کو جاری رکھنے میں مدد کرتا ہے۔
9.5 پولی سیکرائڈس (Polysaccharides)
پولی سیکرائڈس شوگر کی زنجیر ہوتے ہیں۔ جیسے کی سیلولوز گلوکوز کا پولیمر ہے۔ سیلولوز ہوموپولیمر ہے۔ اسٹارچ بھی پولی سیکرائڈس ہے اور پیڑ پودوں میں توانائی کا ذخیرہ مانا جاتا ہے۔ جانوروں میں ٹھیک اسی طرح کا پولی سیکرائڈس ہوتا ہے جسے گلائی کوجین کہتے ہیں۔ Fructos Inuline کا پولی مر ہے۔ پولی سیکرائڈ پیچیدہ طرح کے بھی ہوتے ہیں جیسے Mucopolysaccharides جن میں کہ Aminosugers پائے جاتے ہیں۔ ان میں داہنے سِرّے کو رڈیوسنگ (Reducing) اور بائیں سرے کو نان رڈیوسنگ (Non-reducing) کہتے ہیں۔ اسٹارچ کی ثانوی ساخت ہیلیکل ہوتی ہے۔ اس ہیلیکل حصّہ میں اسٹارچ
شکل 9.2 گلائی کوجین کے ایک حصّہ کا خاکہ
آیوڈین کو پکڑ سکتا ہے اسٹارچ۔ آیوڈین نیلے رنگ کا ہوتا ہے۔ Cellulose میں ایسے پیچیدہ ہیلکس نہیں ہیں اس لیے آیوڈین Cellulose میں نہیں گھُس سکتاہے۔
پودوں کے خلیوں کی باہری پَرت (Cellulose) سے بنا ہوتا ہے۔ پودوں سے حاصل ہونے والا کاغذ Cellulose ہوتا ہے۔ سوت کا دھاگا بھی Cellulose ہی ہوتا ہے۔
پیچیدہ پولی سیکرائڈس میں سے بہت سارے ایسے ہیں جو کئی سارے Amino-sugars، اور کیمیائی طور پربدلے ہوئے Sugars جیسے Glucosamin، N-acetyl galactosamine وغیرہ۔ کچھ پیچیدہ پولی سیکرائڈ یوں ہیں: Liqnis, Chitin وغیرہ۔ یہ پیچیدہ پولی سیکرائڈ سارے ہیٹروپولیمرس ہیں۔
9.6 نیوکلیائی تیزاب (Nucleic Acids)
کسی بھی جاندار بافت کے تیزاب میں گھلنے والے حصّہ میں پایا جانے والا دوسرا میکرومالیکیول نیوکلیائی تیزاب ہے۔ یہ پالی نیوکلیوٹائڈز ہوتے ہیں۔ پالی سیکرائڈ اور پالی پیپٹائڈ کے ساتھ مل کر یہ جاندار بافتوں یا خلیوں کے حقیقی میکرو مالیکیولر حصّہ بناتے ہیں۔ نیوکلیائی تیزاب کی بنیادی تعمیر نیوکلیوٹائڈ ہوتے ہیں۔ ایک نیوکلیوٹائڈ میں تین کیمیائی جزو ہوتے ہیں— (i) ہیٹروسائکلک مرکبات (ii) مونوسیکرائڈ (iii) فوسفورک تیزاب یا فاسفیٹ۔
آپ شکل 9.1 میں دیکھ سکتے ہیں کہ نیوکلیائی تیزاب میں پائے جانے والے ہیٹروسائکل مرکبات پانچ قسم کے نائٹروجنی بیسیس (Nitrogenous bases) ہوتے ہیں جن کے نام اڈینین (Adenine)، گوانین (Guanine)، یوریسل (Uracil)، سائٹوسین (Cytosine) اور تھائمین (Thymine) ہیں۔ اڈینین اور گوانین کو ایک ساتھ پیورین (Purine) اور باقی تین کو منجملہ پائی ریمیڈین (Pyrimidine) کہلاتا ہے۔ پالی نیوکلیوٹائڈ میں پیا جانے والا سوگر یا تو رائبوز (Ribose) یا پھر ڈی آکس رائبوز (Deoxy Ribose) ہوتا ہے۔ یہ دونوں ٹیشوز سوگر ہوتے ہیں۔ وہ نیوکلیائی تیزاب جس میں ڈی آکس رائبوز پایا جاتا ہے اسے ڈی آکس رائبونیوکلک تیزاب (Deoxyribonucleic Acid- DNA) کہتے ہیں جبکہ وہ نیوکلیائی تیزاب جس میں رائبوز سوگر پایا جاتا ہے اسے رائبونیوکلک تیزاب (Ribonucleic Acid) یا RNA کہتے ہیں۔
9.7 پروٹین کی ساخت (Structure of Proteins)
جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ پروٹین ہیٹروپالیمرس ہوتے ہیں جن میں امینوایسڈز کی ایک زنجیر ہوتی ہے، مختلف میدان کے ماہرین مثلاً ماہر طبیعیات، ماہر نامیاتی کیمیا، ماہر غیر نامیاتی کیمیا اور ماہر حیاتیات نزدیک سالمہ کے ساخت (Structure of molecules) کے معنی الگ الگ ہوتے ہیں۔ غیر نامیاتی کیمیا میں ساخت سے مراد سالماتی فاروملا (MgCl2, NaCl وغیرہ۔) ہوتا ہے۔ نامیاتی کیمیا میں ساخت سے مراد سالمہ کا دو ابعادی (Two Dimensional) منظر ہوتا ہے۔ ماہر طبیعیات کے نزدیک سالماتی ساخت سے مراد کسی سالمہ کا سہ ابعادی (Three Dimensional)
شکل 9.3 پروٹین کی بنیادی ساخت۔ N اور C ہر پروٹین کے دو ٹرمینل کو ظاہر کرتے ہیں
منظر ہوتا ہے۔ ماہر حیاتیات پروٹین کے ساخت کی وضاحت چار سطحوں پر کرتے ہیں۔ سب سے پہلی سطح بنیادی ساخت (Perimary Structure) کہلاتی ہے جس میں امینو ایسڈ کے ترتیب مثلاً کون سا امینو ایسڈ پہلے نمبر پر اور کون سا دوسرے، تیسرے چوتھے —نمبر پر ہے، پتہ چلتا ہے (شکل 9.3)۔ پروٹین کو ایک لائن کی شکل میں تصوّر کیا جاتا ہے جس کے بائیں سرے پر پہلا امینو ایسڈ اور دائیں سرے پر آخری امینو ایسڈ ہوتا ہے۔ پہلے امینوایسڈ کو N۔ٹرمینل امینو ایسڈ بھی کہا جاتا ہے جبکہ آخری امینو ایسڈ کو -C ٹرمینل امینو ایسڈ کہتے ہیں۔ پروٹین کے دھاگے بالکل سیدھی شکل میں نہیں ہوتے بلکہ گھماؤ دار سیڑھی کی مانند ہیلکس کی شکل میں ہوتے ہیں۔ پروٹین کے اس ساخت کو ثانوی ساخت کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ پروٹین کی لمبی زنجیر اپنے آپ پر بھی مڑی ہوئی ہوتی ہے بالکل اسی طرح جیسے خالی اون کا گولا۔ پروٹین کے اس ساخت کو ثلاثی (Tertiary ثاخت کہتے ہیں (شکل 9.4 a, b)۔ یہ پروٹین کے سہ ابعادی منظر کو ظاہر کرتے ہیں۔ پروٹین کے مختلف حیاتی سرگرمیوں کے لیے ثلاثی ساخت نہایت ضروری ہوتی ہے۔
شکل 9.4 (a) پروٹین کی ثانوی ساخت (b) پروٹین کی ثلاثی ساخت
کچھ پروٹین ایک سے زیادہ پالی پیپٹائڈ یا سب یونٹ کا مجموعہ ہوتا ہے۔ یہ سارے پالی پیپٹائڈ ایک دوسرے کے ساتھ کس طریقہ سے جڑے ہوتے ہیں اور کون سی شکل تشکیل دیتے ہیں (مثلاً گولے کی لمبی زنجیر، گولے جو ایک دوسرے پر منظم ہوں اور ایک کیوب یا پلیٹ کی شکل دیتے ہوں)۔ یہ بہت ہی اہم ہوتا ہے اور پروٹین کی چہار جزوی ساخت (Quaternary structure) بناتا ہے جو ان انسانوں کے ہیموگلوبین میں 4 سب یونٹ (Sub-unit) ہوتے ہیں۔ ان میں سے دو ایک دوسرے کے مساوات (Identical) ہوتے ہیں۔ اس طریقہ سے a قسم کے دو سب یونٹ اور b قسم کے دو سب یونٹ مل کر انسانی ہیموگلوبین (Hb) بناتے ہیں۔
9.8 پولیمر میں مونومرس کو جوڑنے والے بندھن کی بناوٹ
(Nature of Bond Linking Monomers in A Polymer)
ایک پروٹین میں امینو ایسڈز پیپٹائڈ بندھن سے جُڑے ہوتے ہیں جو کہ ایک امینوایسڈ کے Carboxyl group (–COOH) اور دوسرے امینوایسڈ کے امینوگروپ (–NH2) کے بیچ میں بنتا ہے۔ یہ بندھن بننے میں پانی کا ایک زرہ صرف ہوتا ہے۔ پولی سیکرائڈ میں مونوسیکرائڈ گلائی کو سائڈک بونڈ سے جڑے ہوتے ہیں۔ یہ بھی ڈی ہائڈریشن سے ہی بنتا ہے۔ نیوکلیائی تیزاب میں فاسفیٹ ایک شوگر کے کاربن کو دوسرے شوگر کے کاربن کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔ چونکہ یہ ایسٹر بونڈس دونوں طرف سے پائے جاتے ہیں۔ اس لیے اسے Phosphodiester bond کہتے ہیں (شکل 9.4)۔
نیوکلیائی تیزاب میں کافی ساری ثانوی ساخت پائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر Watson - Crick model بھی DNA کی ایک ثانوی ساخت ہے۔ یہ نمونہ کہتا ہے کہDNA، Double helix کی صورت میں پایا
شکل 9.5 DNA کے ثانوی ساخت کا خاکہ
جاتا ہے۔ پولی نیوکلیوٹائٹرس کے دو دھاگے antiparalle یعنی کہ مخالف جانب ہوتے ہیں۔ بیک بون شوگر، فاسفیٹ، شوگر زنجیر کا بنا ہوتا ہے۔ اس بیک بون پر نائٹروجن بیس جڑے ہوتے ہیں۔ ہر ایک دھاگا ہیلیکل سیڑھی جیسا لگتا ہے۔ جس کا ہر ایک اسٹیپ (Step) ایک بنیادی جوڑ بنا ہوتا ہے۔ ایک اسٹرینڈ کا A اور G دوسرے اسٹرینڈ کے T اور C سے جڑا ہوتا یہ۔ A اور T کے درمیان دو ہائڈروجن بندھن اورGاورCکے درمیان تین ہائڈروجن بندھن ہوتے ہیں۔ ہر اسٹیپ پر دھاگا 36ºپر مُڑ جاتا ہے۔ ہیلیکل اسٹرینڈ کے ایک پورے موڑ میں 10 پائے دان یا 10 Bases پائی جاتی ہیں۔ DNA کا 3.4A° pitch اور دو اسٹیپ کے بیچ کی دوری 3.4A° ہوتی ہے۔ ایسے DNA کو B -DNA کہتے ہیں۔
9.9 جسمانی حصّوں کی متحرک حالت- تحول کا تصوّر (Dynamic State of Body Constituents - Concept of Metabolism)
اب تک ہم نے یہ جان لیا کہ جانداروں میں کافی سارے نامیاتی مرکب موجود ہوتے ہیں۔ یہ نامیاتی مرکب کسی خاص مقدار (Concentration) میں موجود ہوتے ہیں جیسے کہ Mols/Cell یا mols/litre وغیرہ یہ نامیاتی مرکب مسلسل تبدیل ہوتے جاتے ہیں مثلاً ایک بائیومالیکیولس سے دوسرا بائیو مالیکیولس بنتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ بننا اور ٹوٹنا کیمیائی ردِعمل کے ذریعہ سے ہوتا ہے جو کہ جانداروں میں لگاتار ہوتے رہتے ہیں۔ ایسے کیمیائی ردِعملوں کو ایک ساتھ تحول (Metabolism) کہتے ہیں۔ ہر ایک کیمیائی ردِ عمل سے بائیومالیکیولس تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر CO2 کا امینو ایسڈ میں سے نکل جانا جس سے امین (Amine) بنتے ہیں۔ اسی طریقہ سے نیوکلیونائڈ بیس سے امینو گروپ کا نکلنا، ڈائی سیکرائڈ کے گلائی کوسیڈک بندھن کی آب پاشیدگی (Hydrolysis) وغیرہ۔ اس طریقہ کی ہزاروں مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر تحولی ردّعمل بالکل اکیلے میں نہیں ہوتے بلکہ ہمیشہ کسی نہ کسی دوسرے ردّ عمل سے جڑے ہوتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں تحویل مرکبات (Metabolites) ایک دوسرے سے تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ جو ایک سلسلہ وار آپس میں جڑے ہوئے تعاون (Reactions) کے ذریعہ ممکن ہوتا ہے جسے میٹابولک پاتھ وے (Metabolic Pathway) کہتے ہیں۔ یہ پاتھ وے یا تو سیدھے یا دائرہ نما ہوتے ہیں۔ یہ بالکل شہر کے ٹریفک کی طرح کام کرتے ہیں۔ ان کا اپنا رخ اور اپنی رفتار ہوتی ہے۔ یہ تحول مرکبات کے بہائو دوسرے لفظوں میں جسمانی حصّوں کی متحرک حالت (Dynamic State of Body Costituents) کہلاتے ہیں۔ اس میٹابولک ٹرافک کی دو خاصیتیں ہیں۔ ایک یہ کہ میٹا بولک ٹریفک بالکل سادگی کے ساتھ چلتے رہتے ہیں اور دوسرا یہ کہ میٹابولک پاتھ وے کا پر کیمیائی تعاون ایک عمل انگیز تعاون (Catalyse Reaction) ہوتا ہے۔ عمل انگیز (Catalyst) جو کسی میٹا بولک تبدیلی کے رفتار کو تیزکر دیتے ہیں ان کے اندر پروٹین بھی شامل ہیں۔ یہ پروٹین جن کے اندر عمل انگیز قوت (Catalytic Power) ہوتی ہے اسے خامرہ (Enzyms) کہتے ہیں۔
9.10 زندگی کی تحولی بنیاد (Metabolic Basis for Living)
تحول راستہ میں سیدھی ساخت کے مرکب سے پیچیدہ ساخت کا مرکب بن سکتا ہے جسے اینابولزم کہتے ہیں یا پھر پیچیدہ مرکب سے سیدھی ساخت کے مرکب بن سکتے ہیں۔ اسے کیٹابولزم کہتے ہیں۔ اینابولک راستہ میں توانائی کی ضرورت پڑتی ہے۔ جبکہ کیٹابولک راستہ میں توانائی حاصل ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر جب گلوکوز سے Latic acid بنتا ہے تو توانائی حاصل ہوتی ہے۔ یہ میٹابولک راستہ جو کہ 10 مرحلہ میں پورا ہوتا ہے اسے گلائی کولائسیس کہتے ہیں۔ جانداروں میں یہ توانائی کیمیائی بندھنوں میں جمع رہتی ہے۔ جب بھی ضرورت پڑتی ہے تو یہ توانائی بائیوسنتھیٹک راستہ میں کام میں لائی جاتی ہے۔ یہ توانائی باقی کاموں میں بھی استعمال کی جاتی ہے۔ جانداروں میں سب سے اہم توانائی کے سکہ کی شکل(Adenosine Triphosphate (ATP) ہے۔
جاندار عضویہ کس طرح سے توانائی حاصل کرتے ہیں؟ وہ کون سا طریقہ کار اختیار کرتے ہیں؟ وہ توانائی کو کس شکل میں اور کہاں جمع رکھتے ہیں؟ اس توانائی کو کام کی شکل میں کیسے تبدیل کرتے ہیں؟ ان سب چیزوں کا مطالعہ آپ اعلیٰ درجہ میں ایک الگ شعبہ ’’بائیوانرجیٹکس‘‘ کے اندر کریں گے۔
9.11 جاندار حالت (The Living State)
اس سطح پر آپ سمجھ چکے ہوں گے کہ کسی بھی جاندار عضویہ میں پائے جانے والے ہزاروں کیمیائی مرکبات یا تحول مرکبات یا حیاتی سالمات اپنے ارتکازی خاصیت میں موجود ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی عام صحت مند فرد کے خون میں گلوکوز کا ارتکاز 4.2m mol/L – 6./m mol/L ہوتا ہے جبکہ ہارمون کا نینوگرام 1 ملی لیٹر ہوتا ہے۔ کسی حیاتیاتی نظام کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ سبھی جاندار عضویہ حالت متوازن (Steady - state) میں ہوتی ہیں اور ان میں سبھی تحول مرکبات اپنی مخصوص ارتکاز میں پائے جاتے ہیں۔ یہ حیاتی سالمات تحولی سیلان (Metabolic Flux) میں ہوتے ہیں۔ کسی قسم کا کیمیائی یا طبیعی عمل یکایک توازن کی جانب چل پڑتا ہے۔ حالت متوازن ایک غیر توازنی (Non-equilibrium) حالت ہے۔ طبیعیات کے نقطہ نظر سے ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی نظام توازن کی حالت میں کوئی کام نہیں کر سکتا ہے۔ جیسا کہ جاندار عضویہ لگاتار کام کرتے رہتے ہیں، ان کے لیے توازن کی حالت متوازن ہے تاکہ وہ کام کر سکے۔ جاندار عملیات اپنے آپ کو توازن سے بچانے کی لگاتار کوشش ہے۔ یہ توانائی کے خرچ کے ذریعہ ممکن ہوتی ہے۔ تحول یا میٹا بولزم توانائی پیدا کرنے کے لیے طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔ اسی لیے جاندار حالت اور تحول یا میٹابولزم ایک دوسرے کے ہم معنی یا مترادف ہیں۔ بغیر تحول کے جاندار حالت ممکن نہیں۔
9.12 خامرہ (Enzymes)
تقریباً سارے خامرہ پروٹین ہوتے ہیں۔ کچھ نیوکلیائی تیزاب بھی خامرہ کی طرح کام کرتے ہیں جنہیں Ribozymes کہتے ہیں خامرہ کو لائن ڈائیگرام کے ذریعہ دکھایا جاسکتا ہے۔ خامرہ میں کسی پروٹین کی طرح ایک ابتدائی ساخت ہوتی ہے۔ ثانوی ساخت اور تیسرے درجے کی ساخت بھی پائی جاتی ہیں۔ جب ہم تیسرے درجے کی ساخت دیکھیں گے تو ہمیں پتا چلے گا کہ پروٹین کا بیک بون آڑے ترچھے طریقے میں اپنے آپ ہی بندھ رہا ہے جس سے کہ اس میں ذرّے جیسے بن جاتے ہیں جنھیں Pockets یا Crevices کہتے ہیں جہاں پر کہ سبسٹریٹ جُڑ جاتا ہے۔ اسے خامرہ کا ایکٹوسائٹ کہتے ہیں۔
اس طریقہ سے خامرہ اپنے ایکٹیو سائٹ کے ذریعہ کیمیائی تعامل کو اونچی شرح پر عمل انگیز کرتا ہے۔ خامرہ عمل انگیز غیر نامیاتی عمل انگیز سے مختلف طریقہ سے الگ ہوتا ہے۔ لیکن ایک بڑا فرق ہے جو قابل ذکر ہے۔ غیر نامیاتی عمل انگیز اونچے درجۂ حرارت اور اونچے دبائو پر کام کرتا ہے جبکہ خامرہ اونچے درجۂ حرارت پر ضائع ہو جاتا ہے (40Cº سے اوپر)۔ حالانکہ وہ خامرہ جو ان عضویہ سے نکالے جاتے ہیں جو عام طور پر بہت اونچے درجۂ حرارت پر زندہ رہتے ہیں، قائم رہتے ہیں اور اپنی عمل انگیزی طاقت کو بہت اونچے درجۂ حرارت مثلاًCº90-80پر بھی بنائے رکھتے ہیں۔ اس لیے تھرموفیلک عضویہ سے نکالے گئے خامرہ میں ایک اہم خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اس کے اندر تھرمل اسٹبیلٹی (Thermal Stability) ہوتی ہے۔
9.12.1 کیمیائی تعامل (Chemical Reactions)
ہم لوگ ان خامروں کو کیسے سمجھتے ہیں؟ سب سے پہلے ہم لوگ ایک کیمیائی تعامل کو جانیں۔ کیمیائی مرکبات کے اندر دو طرح کی تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ طبیعی تبدیلی جس سے مراد شکل میں تبدیلی ہے جس میں بندھن نہیں ٹوٹتے۔ اسے طبیعی عمل کہتے ہیں۔ دوسرا طبیعی عمل وہ ہے جس میں مادہ کے حالت میں تبدیلی آتی ہے مثال کے طور پر برف کا پگھلنا اور پانی کا بھاپ بننا۔ یہ طبیعی عمل یہ۔ حالانکہ جب پرانے بندھن ٹوٹتے ہیں اور نئے بندھن بنتے ہیں تو اس قسم کی تبدیلیوں کو کیمیائی تبدیلی اور اس عمل کو کیمیائی عمل یا کیمیائی تعامل بھی کہتے ہیں مثال:
یہ ایک غیر نامیاتی کیمیائی تعامل ہے۔ اس طریقہ سے اسٹارچ کی آبپاشیدگی (Hydrolysis) جس کہ ذریعہ گلوکوز بنتا ہے۔ ایک نامیاتی کیمیائی تعامل ہے۔ طبیعی یا کیمیائی تعامل کی شرح سے مراد پروڈکٹ کی مقدار ہے جو کسی اکائی وقت میں بہتی ہے۔ اسے یوں ظاہر کیا جاسکتا ہے:
اگر رخ کا تعین ہو تو شرح کو رفتار بھی کیا جاسکتا ہے۔ طبیعی اور کیمیائی عملیات کی شرح حرارت اور دیگر عوامل کے ذریعہ متاثر ہوتی ہے۔ ایک عام دستور کے مطابق طبیعی اور کیمیائی تعامل کی شرح پر 10Cº درجۂ حرارت کے گھٹنے یا بڑھنے پر بالترتیب آدھی یا دوگنی ہو جاتی ہے۔ عمل انگیز تعامل کی رفتار غیر عمل انگیز تعامل سے کافی زیادہ ہوتی ہے۔ جب خامرہ کے عمل انگیز تعامل کا مشاہدہ کیا جاتا ہے تو اس کی شرح اس تعامل سے بہت زیادہ ہوتی ہے جو کسی خامرے کی غیر موجودگی میں ہو یا غیر عمل انگیز ہو۔ مثال کے طور پر
یہ تعامل بہت ہی دھیرے ہوتا ہے جس میں H2CO3 کے تقریباً 200 سالمے ایک گھنٹہ میں بنتے ہیں۔ لیکن جب سائٹوپلازم میں موجود ایک خامرہ (Enzyme) جسے کاربونک انہائڈریز کہتے ہیں، اس کا استعمال کیا جاتا ہے تو تعامل کی رفتار بہت زیادہ تیز ہو جاتی ہے اور پھر ایک سیکنڈ میں تقریباً 100 لاکھ گنا بڑھا دیتا ہے۔ یقینی طور پر خامرے کی صلاحیت حیرت انگیز اور ناقابل یقین ہے۔
ہزاروں قسم کے خامرے ہیں جن میں سے ہر ایک کسی مخصوص کیمیائی یا تحولی تعامل کو عمل انگیز کرتے ہیں۔ کئی مرحلوں میں ہونے والا کیمیائی تعامل جس میں ہر مرحلہ کسی ایک خامرہ یا مختلف خامرہ کے ذریعہ عمل انگیز کیا جاتا ہے، تحولی راستہ (Metabolic Pathway) کہلاتا ہے۔ مثال کے طور پر
یہ دراصل ایک میٹابولک پاتھ وے ہے جس میں گلوکوز پائی رووک ایسڈ میں 10 مختلف خامرہ کے ذریعہ عمل انگیز تحولی تعامل سے تبدیل ہوتا ہے۔ جب آپ اکائی 5 میں عمل تنفس کا مطالعہ کریں گے تو مزید جانکاری حاصل ہوگی۔ ایک ہی میٹا بولک پاتھ وے مختلف حالات میں اور مختلف مقام پر مختلف پروڈکٹ بنائے ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارے عضلہ (Muscle) میں Anaerobic حالت میں لیکٹک ایسڈ بنتا ہے جبکہ ایروبک حالت میں پائی رووک ایسڈ بنتا ہے۔ ایسٹ (Yeast) میں، فرمنٹیشن کے دوران یہی پاتھ وے ایتھونول (الکوہل) بناتا ہے۔ مختلف حالت میں مختلف پروڈکٹ ممکن ہیں۔
9.12.2 خامرہ کس طرح سے کیمیائی تبدیلی کی اونچی شرح حاصل کرتا ہے؟ (How do Enzymes bring about such High Rates of Chemical Conversions?)
اس بات کو سمجھنے کے لیے ہم لوگوں کو خامرہ کا مزید مطالعہ کرنا چاہیے۔ ہم لوگ ’ایکٹیو سائٹ‘ کے تصور سے واقف ہو چکے ہیں۔ کیمیائی یا تحولی تبدیلی سے مراد تعامل ہے۔ وہ کیمیا جسے پروڈکٹ میں بولنا ہے اسے سبسٹریٹ (Substrate) کہا جاتا ہے۔ اس طرح سے خامرہ، پروٹین کی ثلاثی ساخت جن میں ایکٹیوسائٹ ہوں، ایک سبسٹریٹ کو پروڈکٹ میں بدل دیتے ہیں۔
یہ اس طرح سے دکھایا جاسکتا ہے:
S → P
یہ بات ہمیں معلوم ہے کہ سبٹریٹ (S) خامرہ کے ایکٹیوسائٹ پر جڑتا ہے۔ اب سبسٹریٹ کو ایکٹیو سائٹ کی طرف منتشر ہوتا ہے۔ اس طرح سے 'ES' کمپلیکس بن جاتا ہے۔ جہاں پر کہ E خامرے کے لیے اور S سبسٹریٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کمپلیکس کا بننا ناپائدار ہے۔ اس وقت جب کہ اینزائم سبسٹریٹ سے جڑا ہوا ہوتا ہے، سبسٹریٹ ایک نئی صورت میں موجود ہوتا ہے جسے ٹرانزیشن اسٹیٹ کہتے ہیں۔ بہت ہی جلد بندھنوں کا ٹوٹنا اور اور جڑ جانا اختتام تک پہنچتا ہے اور حاصل (Product) ایکٹوسائٹ سے چھوٹ کر نکل آتا ہے۔ سبسٹریٹ سے پروڈکٹ بننے کے درمیان سبسٹریٹ کافی ساری صورتیں اختیار کر لیتا ہے اور ٹرانزیشن اسٹیٹ کو چھوڑ کر باقی سارے غیر یقینی ہوتے ہیں۔ کونسی ساخت کتنی یقینی ہوگی اس کا دارومدار ایک ذرے کی توانائی پر ہے۔ گراف میں اسے ایسے دکھایا جاسکتا ہے (شکل 9.6)۔
شکل 9.6 ایکیٹویشن توانائی کا تصور
y-خط پوٹینشیل قوت کی مقدار کی نمائندگی کرتا ہے۔ x-خط ساختی تبدیلی کے مدارج کی نمائندگی کرتاہے یا ٹرانزیشن اسٹیٹ کی۔ آپ کے مشاہدے میں دو باتیں آئیں گی۔ S اور P کے درمیان توانائی سطح میں اختلاف۔ اگر P کی سطح S کے مقابلے میں کم ہے تو عمل اگزوتھرمک ہوگا اور ماحصل (پروڈکٹ) بنانے کے لیے باہری توانائی (گرم کرنا) کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن اگر عمل چاہے اگزوتھرمک یا فوری یا اینڈوتھرمک یا توانائی چاہتا ہے، S کو بہت زیادہ توانائی کی سطح سے گزرنا ہوتا ہے جسے ٹرانزیشن اسٹیٹ کہتے ہیں۔ S اور اس ٹرانزیشن اسٹیٹ کی اوسط توانائی کے فرق کو ایکٹیویشن توانائی کہتے ہیں۔
S اور P کے درمیان توانائی کے فرق کو اینرجی بیرئیر کہتے ہیں۔ خامرہ اسی اینرجی بیریئر کو کم کردیتا ہے۔
9.12.3 عمل خامرہ کی فطرت (Nature of Enzyme Action)
ہر ایک خامرے میں سبسٹریٹ کے جُڑنے کی ایک مخصوص جگہ ہوتی ہے جہاں پر سبسٹریٹ جڑتا ہے اور ES کمپلیکس بن جاتا ہے۔ یہ کمپلیکس تھوڑی دیر ہی موجود رہتا ہے اور جلد ہی کمپلیکس (Enzyme Product) EP بن جاتا ہے۔ ردِ عمل کو جلدی اختتام پر پہنچانے کے لیے ES کمپلیکس کا بننا بہت ضروری ہے۔
عمل خامرہ کے عمل انگیزی دور کو یوں بیان کی جاسکتی ہے:
1۔ سب سے پہلے انزائم سبسٹریٹ کی ایکٹیو سائٹ پر جڑ جاتا ہے۔
2۔ سبسٹریٹ کے جڑ جانے سے اینزائم کی ساخت میں کافی ساری تبدیلیاں آجاتی ہیں جس سے کہ سبسٹریٹ اور مضبوطی سے جڑا رہے۔
3۔ اب انزائم کی سبسٹریٹ، ایکٹیوسائٹ کے کیمیائی بندھنوں کو توڑ دیتی ہے اور ایک نیا انزائم پروڈکٹ کمپلیکس بن جاتا ہے۔
4۔ انزائم اب پروڈکٹ کو چھوڑ دیتا ہے اور اب یہی انزائم کسی اور سبسٹریٹ مالیکیول کے ساتھ جُڑ سکتا ہے اور یہ دور یوں ہی چلتا رہتا ہے۔
9.12.4 خامرہ کے عمل پر اثر کرنے والے جُز
خامرہ (Enzyme) کے کام پر ایسے حالات سے اثر پڑتا ہے جن سے کہ ایک پروٹین کے تیسرے درجے کی ساخت بگڑ جاتی ہے۔ ان میں سے کچھ یوں ہیں: حرارت، پی ایچ، سبسٹریٹ کی مقدار میں تبدیلی یا پھر کچھ مخصوص کیمیاوی اشیاء کا انزائم کے ساتھ جُڑ جانا جو کہ انزائم کا کام باقاعدہ بناتے ہیں۔
حرارت اور pH
انزائم حرارت اور pH کے بہت ہی چھوٹے دائرے میں کام کرتے ہیں (شکل 9.6)۔ ہر ایک انزائم سب سے اونچے درجے کی کارکردگی ایک خاص حرارت اور pH پر کرتا ہے جسے Optimum pH اور Optimum حرارت کہتے ہیں۔ انزائم کا عمل Optimum ویلو سے اوپر اور Optimum ویلو سے نیچے دونوں صورتوں میں کم ہوتا جاتا ہے۔ کم حرارت پر انزائم محفوظ رہتا ہے لیکن کام نہیں کر سکتا اور زیادہ حرارت پر خامرہ تباہ ہو جاتا ہے کیونکہ حرارت سے پروٹین کی ساخت بگڑ جاتی ہے۔
سبسٹریٹ کی مقدار
سبسٹریٹ کی مقدار بڑھنے کے ساتھ ساتھ، خامری تعامل (Enzymatic Reaction) کی رفتار بھی بڑھ جاتی ہے۔ آخر کار تعامل زیادہ سے زیادہ رفتار پر پہنچتا ہے جسے Vmax کہتے ہیں۔ اس کے بعد اگر سبسٹریٹ کی مقدار بڑھ بھی جائے تو ردِ عمل کی رفتار نہیں بڑھ سکتی۔ کیونکہ اتنے انزائم کے ذرے موجود نہیں ہوتے جتنے کے سبسٹریٹ کے اس لیے کوئی انزائم کا ذرہ بچتا ہی نہیں ہے جو کہ سبسٹریٹ کے ساتھ جُڑ سکے (شکل 9.6)۔ انزائم کچھ کیمیاوی اشیاء کے ساتھ بھی جُڑ سکتا ہے۔ جب ایسی اشیاء کے ساتھ جڑنے کی وجہ
شکل 9.7 pH کی تبدیلی کا اثر — (a) درجۂ حرارت (b) سبسٹریٹ کا ارتکاز (c) خامرہ کارکردگی پر
سے انزائم کا کام رُک جائے تو اسے Imhibition کہتے ہیں۔ اور کیمیاوی چیز کو انہیبیٹر (Inhibitor) کہتے ہیں۔
جب انہیبیٹر کی ساخت بالکل سبسٹریٹ سے ملتی جُلتی ہوتی ہے تو اسے مقابلہ کن انہیبیٹر کہتے ہیں۔ یکسانیت کی وجہ سے Inhibitor، سبسٹریٹ کے ساتھ انزائم سے جڑنے کے لیے مقابلہ کرتا ہے۔ اس لیے سبسٹریٹ جُڑ نہیں پاتا اور اس لیے انزائم کا کام ختم ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر میلونیٹ جو اپنے ساخت میں سوسائنیٹ (Sucunate) سے ملتا جلتا ہے سوسائنک ڈیہائڈروجینیز کے کام کو روک دیتا ہے۔ اس طرح کے مقابلہ کن (Competitive) روکنے والے (Hibitor) جرثومہ کے ذریعہ ہونے والے بیماریوں سے روکنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
9.12.5 انزائمس کی درجہ بندی اور نام رکھنے کا اصول
آج تک ہزاروں انزائمس دریافت کیے گئے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر انزائمس کی درجہ بندی ان کے تعاملوں کی بنا پر کی گئی ہے جنہیں یہ کیٹالائز کرتے ہیں۔ انزائمس کے 6 گروہ ہیں۔ اور یہ 6 گروہ 4 -13 سب جماعتوں میں تقسیم کیے گئے ہیں اور یہ ایک چار ڈیجٹ والے نمبر کے مطابق نام دیے گئے ہیں۔
Oxidoreductases/dehydrogenases: وہ انزائمس جو دو سبسٹریٹس (S اور S') کے درمیان ہونے والے Oxidoreduction کو کیٹالائز کرتے ہیں۔
ٹرانسفیر پریسس: وہ انزائمس جو ایک گروپ کو دو سبسٹریٹ کے درمیان منتقل کریں مثلاً S اور S' کا بیچ۔
Hydrolases: وہ Enzymes جو Ester، Ether، Peptide، Glycosidic، C-C, C-halide یا P-N بندھن کو توڑیں۔
Lyases: وہ انزائمس جو کہ Hydrolysis کو چھوڑ کر کسی اور طریقہ سے سبسٹریٹس سے گروپس کو نکال دیں۔
Isomerases: وہ سارے انزائمس جو کہ Optical، Geometric یا Positional Isomers کو ایک دوسرے میں تبدیل کریں۔
Ligases: وہ سارے انزائمس جو دو مرکب کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیں مثال کے طور پر وہ انزائمس جو C - O، C - S، C - N، P - O کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیں۔
9.12.6 کوفیکٹرس (Co-factors)
انزائمس یوں تو ایک یا پھر ایک سے زیادہ پالی پیپٹائڈ زنجیروں کے بنے ہوتے ہیں۔ حالانکہ کافی سارے خامرہ کے ساتھ نان پروٹین جُز بھی جڑے ہوتے ہیں جنہیں کوفیکٹر کہتے ہیں۔ اس کو فیکٹر کی وجہ سے انزائم کی کارکردگی اُبھرتی ہے۔ ایسے انزائمس میں پروٹین والے حصّہ کو ایپوانزائم (Apoenzyme) کہتے ہیں۔ کوفیکٹر تین طرح کے ہوتے ہیں: پروستھیٹک گروپ (Prosthetic groups)، کوانزائم (Co-enzymes) اور دھات آئن (Metal ions)۔
پروستھیٹک گروپ نامیاتی مرکب ہوتے ہیں اور باقی کوفیکٹر سے اس بنا پر الگ ہیں کیونکہ یہ بہت ہی مضبوطی سے ایپوانزائم کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر کیٹالیس اور Peroxidase، جو کہ ہائٹروجن پر آکسائڈ کو آکسیجن اور واٹر میں توڑ دیتے ہیں اور ہیم (Haem) ایک پروستھیٹک گروپ ہے جو کوانزائم خامرہ کے ایکٹیوسائٹ کا حصّہ ہے جو کہ صرف کیٹالائسس کے ہی دوران رہتا ہے۔ کوانزائم کافی سارے تعاملوں میں کوفیکٹر کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔ کافی سارے کوانزائم کے جُز وٹامن ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر خامرہ کوانزائم Nicotinamide Adenine Dinucleotide (NAD) اور NADP میں Niacin ہوتا ہے۔
دھات آئن : کافی سارے انزائمس ایسے ہوتے ہیں جنہیں کام کرنے کے لیے دھات آئن کی ضرورت پڑتی ہے۔ جو دھات آئن ان کے ایکٹیوسائٹ کے کنارے وری زنجیر کے ساتھ Cordination bonds اور ساتھ ساتھ سبسٹریٹ کے ساتھ بھی کوآرڈینیشن بندھن بناتے ہیں۔ مثلاً زنک پروٹین کو توڑنے والے Corboxypeptidase کا کوفیکٹر ہے۔
اگر کوفیکٹر ہٹایا جائے تو انزائم اپنا کام نہیں کر سکتا جو یہ ثابت کرتا ہے کہ کیٹالائسس میں کوفیکٹر کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔
خلاصہ
حالانکہ جاندار عضویہ کی حیران کن گوناگونی یہ، پھر بھی ان کے کیمیائی بناوٹ اور تحولی تعامل میں نمایاں طور پر مساوات پایا جاتا ہے۔ جاندار بافتوں اور بے جان مادہ کی عناصر بناوٹ میں بھی مساوات پایا جاتا ہے۔ جب ان کا تجزیہ مابینی اعتبار سے کیا جاتا ہے۔ جب گہری تحقیق کی جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ جاندار نظام میں کاربن، ہائڈروجن اور آکسیجن کی مقدار بے جان چیزوں کے مقابلہ زیادہ ہوتی ہے۔ جاندارجس میں سب سے زیادہ مقدار میں پائی جانے والی شئے پانی ہے۔ ہزاروں حیاتی سالمات ایسے ہیں جن کا سالماتی وزن بہت کم (Da100<) ہوتا ہے۔ امینوایسڈ، مونوسیکرائڈ اور ڈائی سیکرائڈ شوگر، فیٹی ایسڈ، گلیسیرال، نیوکلیوٹائڈ، نیوکلیوسائڈ اور نائٹروجن بیسیس کچھ ایسے نامیاتی مرکبات ہیں جو جاندار عضویہ میں پائے جاتے ہیں۔ 21 قسم کے امینوایسڈ اور 5 قسم کے نیوکلیوٹائڈ پائے جاتے ہیں۔ چربی اور تیل گلیسیرال ہوتے ہیں جس میں فیٹی ایسڈ گلیسیرال میں ایسٹیرفائڈ ہوتا ہے۔ فاسفولیپیڈ میں اس کے علاوہ ایک فاسفورائی لیٹڈ نائٹروجنی مرکب پایا جاتا ہے۔
حیاتی نظام میں صرف تین طرح کے میکرو مالیکیول پائے جاتے ہیں۔ پروٹین، نیوکلیک ایسڈ اور پالی سیکرائڈ۔ چربی (Lipid) جھلّی کے ساتھ اپنے تعلق کی وجہ سے میکرو مالیکولر حصہ (Fraction) میں آتے ہیں۔ بائیومیکرومالیکیول پالیمرس ہوتے ہیں۔ یہ سبھی مختلف بلڈنگ بلاک کے بنے ہوتے ہیں۔ پروٹین، ہیٹروپالیمر ہوتے ہیں۔ جو امینوایسڈ کے بنے ہوتے ہیں۔ نیوکلیائی تیزاب (RNA اور DNA) نیوکلیونائڈ کے بنے ہوتے ہیں۔ حیاتی کلاس سالمات (Biomacromolecules) کی ساخت ابتدائی، ثانوی، ثلاثی اور چہار جزوی ہو سکتی ہے۔ نیوکلیائی تیزاب جینی مادہ کا کام کرتے ہیں۔ پالی سیکرائڈس پودوں کے خلوی دیوار، فنجائی اور آرتھروپوڈس کے باہری ڈھانچہ میں پائے جاتے ہیں۔ ان کے اندر اسٹارچ اور گلائی کوجین کی شکل میں توانائی جمع رہتی ہے۔ پروٹین مختلف طرح کے خلوی کاموں کو انجام دیتے ہیں۔ ان میں سے کئی خامرہ ہوتے ہیں، کچھ انٹی باڈیز ہوتے ہیں، کچھ ریسیپٹرس ہوتے ہیں، کچھ ہارمون اور کچھ ساختی پروٹین ہوتے ہیں۔ کالیجن جانوروں میں سب سے زیادہ پایا جانے والا پروٹین ہے اور روبیسکو (Rubisco) مکمل کرہ حیات میں سب سے زیادہ پایا جانے والا پروٹین ہے۔
خامرہ پروٹین ہوتے ہیں جو بائیو کیمیکل تعامل کو عمل انگیز ہیں۔ رائبوزائمس ایک نیوکلک ایسڈ ہوتا ہے جس کے اندر عمل انگیزی کی طاقت ہوتی ہے۔ Proteinaceous خامرہ کس سبسٹریٹ کے ساتھ مخصوص ہوتے ہیں اور اپنے بہترین کارکردگی کے لیے انہیں مستحسن (Optimum) حرارت اور pH کی ضرورت ہوتی یہ، اونچے درجۂ حرارت پر وہ ٹوٹ جاتے ہیں۔ خامرہ تعامل کے حرکتی توانائی (Activatia Energy) کو کم کر دیتے ہیں اور تعامل کے رفتار کو بڑھا دیتے ہیں۔ نیوکلیائی تیزاب وراثتی معلومات کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور ورثہ کو والدین سے بچوں میں یا ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل (Transfer) کرتے ہیں۔
مشق
1۔ کلاں سالمات سے آپ کیا سمجھتے ہیں۔
2۔ ایک Glycosidic ، Peptide اور ایک Phospho-diester Bond السٹریٹ کیجئے۔
3۔ پروٹین کی ٹرٹیاری ساخت (Tertiary Structure) سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
4۔ چھوٹے سالماتی وزن والے 10 حیاتی سالمات کی تلاش کریں اور ان کی ساخت کو دیکھیں۔ معلوم کریں کہ کیا کوئی صنعت سے جو علاحدگی کے ذریعہ مرکبات تیار کرتا ہے۔ یہ بھی معلوم کریں کہ خریدار کون ہیں؟
5۔ پروٹین کی ابتدائی ساخت کیا ہوتی ہے۔ اگر آپ کو کسی پروٹین کے دو میں سے کسی ایک ٹرمینل پر موجود امینو ایسڈ کا پتہ لگانے کا طریقہ دیا جائے تو کیا آپ اس معلومات کے ذریعہ پروٹین کی اصلیت (Purity) یا تجانس (Homogeneity) کے بارے میں کچھ کہہ سکتے ہیں۔
6۔ علاجی کنندہ (Therapeutic Gent) کی حیثیت سے استعمال ہونے والے پروٹین کی ایک فہرست تیار کریں۔ پروٹین کے دوسرے استعمال (مثال: کوسمیٹک) لکھیں۔
7۔ ٹری گلائسرائیڈ کی کمپوزیشن وضاح کیجئے۔
8۔ کیا ہوتا ہے جب دودھ دہی میں تبدیل ہوتا ہے؟ وضاحت کریں ۔
9۔ سالمی نمونہ (Atomic Models) کے ذریعہ حیاتی سالمات کے نمونہ تیار کریں۔ بازار میں موجود بال اینڈ اسٹک نمونہ کا استعمال کر سکتے ہیں۔
10۔ ایک کمزور بیس کے خلاف ایک امینو ایسڈ کا ٹائٹریشن کریں اور امینو ایسڈ میں موجود الگ ہو رہے (Ionizable) فنگشنل تفاعلی گروپ کی تعداد تلاش کریں۔
11۔ امینو ایسڈ اور ایلانائن (Alanine) کی ساخت بنائیے۔
12۔ گوند (Gums) کس چیز کے بنے ہوتے ہیں؟ کیا فیویکول ان سے الگ ہیں؟
13۔ پروٹین، چربی اور تیل، امینو ایسڈ کی ماہیتی جانچ (Qualitative test) کیسے کریں گے؟ اس بات کی جانچ کریں کہ کیا لعاب (Saliva)، پسینہ (Sweat) اور پیشاب (Urine) میں ان میں سے کوئی چیز موجود ہے؟
14۔ انزائم کی اہم پروپرٹیز (Properties) بیان کیجئے۔