Skip to content
Hayatiyaat(Biology)

Pic1 Capture11
باب 11
پودوں میں نقل و حمل
باب 12
معدنی اشیا کا تغدیہ                
باب 13
اعلیٰ پودوں میں ضیائی تالیف
باب 14
پودوں میں تنفس
باب 15
پودے کی نمو اور بالیدگی


اکائی 4

نباتاتی فعلیات (Plant Physiology)

جاندار عضویوں کی ساخت اور ان میں تغیر کی کیفیات کا بیان ایک طویل مدت کے بعد حیاتیات کے دوناقابل مصالحت پس منظروں پر ختم ہوا۔ ان دونوں پس منظروں کا انحصار یقیناً حیاتیاتی اشکال کی تنظیم کی دو سطحوں اور مظاہر پر تھا۔ ایک نے عضلات کی کیفیات نظم و نسق سے بالا میعار کی بیان کی جبکہ دوسرے نے خلوی اور سالمی (Molicular) نظم و نسق کے معیار کی پہلی نتیجتاً ماحول سے متعلق (Decipline) ہے اور دوسری فزیالوجی اور بایوکیمسٹری ہے۔ اس یونٹ کے ابواب میں پھول باور پودوں میں فزیالوجیکل عوامل کا بیان کیا گیا ہے مثلاً پودوں کے معدنی تغذیہ کے عوامل، ضیائی تالیف نقل و حرکت، تنفس اور آخر میں پودوں کی نشوونما سامی اصطلاح (Molecular Terms) میں بیان کیے گئے ہیں۔ البتہ خلوی مشاغل (Activities) کے متن میں اور عضلاتی معیار پر بھی بیان کیا گیا ہے جہاں ممکن ہو                 سکا وہاں فزیالوجیکل اور ماحولیاتی تعلق پر بھی بحث کی گئی ہے۔                
Pic2 Capture11
میلون کیلون                
میلون کیلون اپریل 1911 میں من سوٹا میں پیدا ہوئے۔ من سوٹا یونیورسٹی سے کیمسٹری میں Ph.D. کی ڈگری حاصل کی۔ برکلے میں کیلیفورنیا یونیورسٹی میں کیمسٹری میں پروفیسر کے فرائض انجام دئیے۔                
ٹھیک دوسری جنگ عظیم کے بعد جب دنیا ہیروشیما اور ناگاساکی پر بمباری سے خوف زدہ تھی اور ریڈیو ایکٹی وٹی (Radio Activity) کے خطرناک نتائج دیکھ رہی تھی کیلون اور اس کے ہم مشغلہ ساتھیوں نے ریڈیو ایکٹی وٹی کو فائدہ مند بنا دیا۔ اس نے جے۔اے۔ بھشیم کے ساتھ ایسے ری ایکشنز (Reactions) کا مطالعہ کیا جن میں کاربن ڈائی آکسائڈ (O2)، پانی اور معدنیات جیسے خام مادوں سے سبزپودوں میں شکر (Sugar) اور دیگر اشیاء بنتی ہیں کیلون نے تجویز کیا کہ پگمنٹ سالمے اور دوسری اشیاء کو نظم میں رکھ کر ایک الکٹرون (Electron) منتقل کرکے پودے ضیائی توانائی کو کیمیائی توانائی میں تبدیل کرتے ہیں۔ 1961 میں ضیائی تالیف میں کاربن کے ایسی مولیشن کے پاتھ وے کی میپنگ (Mapping) کرکے نوبل پرائز حاصل کیا۔                
کیلون کے قائم کردہ (Established) ضیائی تالیف کے اصول کو آج بھی (Renewable Resources of Energy and Material) شمسی توانائی کی تحقیق کے بنیادی مطالعہ میں استعمال ہوتا ہے۔          

باب 11

11.1 نقل وحمل کے ذرائع
11.2 پودے اور پانی کے تعلقات                
11.3 طویل فاصلوں تک پانی کی نقل وحمل
11.4 سریان
11.5 معدنی مغذیات کا انجزاب اور نقل وحمل
11.6 فلوئلم نقل وحمل:                 منبع سے منزل تک بہاؤ

پودوں میں نقل و حمل

(Transport in Plants)

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ طویل قامت درختوں میں پانی ان کی چوٹی تک کیسے پہنچتا ہے یا دیگر مادے ایک خلیے سے دوسرے خلیوں تک کیوں اور کیسے منتقل ہوتے ہیں، کیا تمام مادوں کی نقل و حمل ایک ہی طرح سے ہوتی ہے اور کیا یہ ایک ہی سمت میں حرکت کرتے ہیں اور کیا اس حرکت میں تحولی توانائی (Metabolic Energy) کی ضرورت پڑتی ہے؟ جانوروں سے زیادہ پودوں میں سالموں کو بہت دور تک منتقل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ان میں دورانی نظام (Circulatory System) بھی نہیں ہوتا۔ پانی جو جڑوں کے ذریعے جذب ہوتا ہے وہ پودوں کے مختلف حصوں حتیٰ کہ زیرِ نموتنے کے سروں تک پہنچتا ہے۔ پتیوں میں تالیف شدہ غذا بھی ہر حصے میں منتقل ہوتی ہے حتی کہ مٹی کے اندر دھنسے ہوئے جڑ کے سروں تک پہنچتی ہے۔کم فاصلوں میں خلیے کے اندر، جھلیوں کے پار اور بافت میں خلیے سے خلیے تک نقل و حرکت واقع ہوتی ہے۔ پودوں میں نقل وحمل کے ان عملوں کو سمجھنے کے لیے ہمیں خلیے کی ساخت اور پودے کی اندرونی تشکیل سے متعلق بنیادی معلومات کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔ اس کے علاوہ ہمیں نفوذ کے بارے میں معلومات کو ذہن میں رکھنا ہوگا اور کیمیائی مضمر اور آینوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنی ہوگی۔
جب ہم اشیاکی نقل و حرکت کی بات کرتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اس بات کی وضاحت کرنی ہوگی کہ کس طرح کی نقل و حرکت کی بات کر رہے ہیں اور کن اشیا کی نقل و حرکت کے بارے میں بحث کر رہے ہیں۔ ایک پھول دار پودے میں جن اشیا کی نقل و حرکت ہوتی ہے وہ پانی، معدنیاتی مغذیات ، نامیاتی مغذیات ا اور پلانٹ گروتھ ریگولیٹرز ہیں۔مختصر فاصلے نفوذ اور ایکٹو ٹرانسپورٹ کی مدد سے اور سائیٹوپلازمک سٹیریمنگ کے ذریعہ طے ہوتے ہیں۔ طویل                 فاصلے تک نقل و حمل کا کام وعائی نظام (Vascular System) کے ذریعے (زائلم اور فلوئم کے ذریعے )انجام دیا جاتا ہے اور اس کو ٹرانس لوکیشن (Translocation) کہتے ہیں۔
نقل و حرکت کی سمت، ایک اہم پہلو ہے جس کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔ جڑوں والے پودوں میں، زائلم کے اندر نقل وحمل (پانی اور معدنیات کی) لازمی طور پر ایک                 سمتی یعنی جڑ سے تنے کی طرف ہوتی ہے۔ نامیاتی اور معدنی مغذیات کی نقل وحمل کثیر سمتی ہوتی ہے۔ پتیوں میں تالیف شدہ نامیاتی مرکبات پودے کے دوسرے حصوں میں منتقل ہوتے ہیں اور ان اعضاء میں بھی جہاں غذاکا ذخیرہ ہوتاہے۔ ان تذخیری اعضاء سے بعد میں پودے کے دیگر حصوں میں دوبارہ منتقل ہوتے ہیں۔ معدنیاتی مغذیات کو جڑوں کے ذریعے جذب کیا جاتا ہے اور اوپر کی طرف تنے، پتیوں اور زیر نمو حصوں میں ان کی نقل وحمل                 کی جاتی ہے۔ پودے کا کوئی حصہ جب سینے سنس (Senescence) کے دور میں داخل ہو جاتا ہے تو اس حصے سے غذا واپس لے کر زیرِ نمو حصوں میں پہنچائی جاتی ہے۔ ہارمونز، پلانٹ گروتھ ریگولیٹرز اور کیمیائی اشارے بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجے جاتے ہیں حالانکہ ان کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ کبھی کبھی مقام تالیف سے دوسرے حصوں میں ان کی نقل وحمل انتہائی تقطیب شدہ یا یک سمتی ہوتی ہے۔ لہٰذا پھولدار پودوں میں مرکبات کا پیچیدہ ٹریفک (لیکن شاید نہایت منظم) مختلف سمتوں میں ہوتا ہے، ہر عضو کچھ اشیا کو حاصل کرلیتا ہے اور کچھ اشیا کو باہر نکال دیتا ہے۔

11.1 نقل وحمل کے ذرائع (Means of Transport)

11.1.1 نفوذ (Diffusion)

نفوذ کے ذریعے حرکت ایک غیر فعال عمل ہے۔ یہ حرکت خلیے کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک یا ایک خلیے سے دوسرے خلیے تک یا کم فاصلے تک مثلاً گپتی کی خلوی جگہوں سے باہر کی طرف ہوتی ہے۔ توانائی خرچ نہیں ہوتی۔ نفوذ کے دوران سالمات بے ترتیب انداز میں حرکت کرتے ہیں نتیجتاً مادّے زیادہ ارتکاز سے کم ارتکاز کی جانب حرکت کرتے ہیں نفوذ ایک سست عمل ہے اور اس کا انحصار کسی جاندار نظام پر نہیں ہوتا۔ گیس اور رقیق میں نفوذ بہت واضح ہے لیکن ٹھوس کے بجائے ٹھوس شے میں نفوذ زیادہ ممکن ہے۔ پودوں کے لیے نفوذ بہت مفید ہے چونکہ پودوں میں گیس کی نقل وحرکت کا صرف یہی ایک ذریعہ ہے۔
نفوذ کی شرح، ارتکاز کے ڈھلان،انھیں علیحدہ کرنے والی جھلی کی سرائیتپذیری، درجۂ حرارت اور دباؤ سے متاثر ہوتی ہے۔

11.1.2 امدادی نفوذ (Facilitated Diffusion)

جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ نفوذ کے لیے ڈھلان کا پہلے سے موجود ہونا ضروری ہے۔ نفوذ کی شرح مادے کے سائز پر منحصر ہوتی یہ؛ ظاہر ہے کہ چھوٹے سائز کے سالمے تیزی سے نفوذ کریں گے۔ جھلی کے پارکسی بھی مادے کا نفوذلِپڈ میں اس کی حل پذیری پر بھی منحصرہوتاہے چونکہ جھلی کا زیادہ حصہ لپڈ پر مشتمل ہوتا ہے۔ جو مادے لِپڈ میں حل ہو جاتے ہیں۔ جھلی کے پار ان کا نفوذ تیز رفتار ہوتا ہے۔ ایسے مادے جن میں پانی سے رغبت رکھنے والاحصہ (Hydrophilic moiety) ہوتا ہے، وہ جھلّی سے گزرنے میں دقت محسوس کرتے ہیں۔ ایسے مادوں کے نفوذ کے لیے مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ جھلّی میں موجود پروٹین ایسی جگہ فراہم کرتی                 ہیں جہاں سے ایسے سالمے جھلی سے گزرجاتے ہیں۔ ایسے سالمے ارتکازی ڈھلان نہیں قائم کرتے: ارتکازی ڈھلان پہلے سے موجود ہونا ضروری ہے چاہے ان کا نفوذپروٹین کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔ اس عمل کوامدادی نفوذ (Facilated Diffusion) کہتے ہیں۔                
Pic3 Capture11
شکل 11.1 سہولتی نفوذ                
امدادی نفوذ میں مخصوص پروٹین جھلیوں کے آر پار سالمات کی حرکت میں مدد کرتی ہیں اور اس عمل میں ATP توانائی خرچ نہیں ہوتی۔امدادی نفوذ کم ارتکاز سے زیادہ ارتکاز کی جانب سالموں کو حرکت نہیں دے سکتا،اس کے لیے توانائی کا استعمال ضروری ہے۔ جب سارے پروٹرانسپورٹر استعمال ہوتے ہیںتو نقل وحمل کی شرح سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ امدادی نفوذ بہت مخصوص ہوتا ہے: یہ خلیوں کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ جذب ہونے والے مادوں کا انتخاب کرسکیں۔ یہ موانع (Inhibitors) کے تئیں بہت حساس ہوتے ہیں۔ جو پروٹینز کی جانبی زنجیروں سے تعامل کرتے ہیں۔
یہ پروٹین جھلی میں سالموں کے گزرنے کے لیے راستے (Channels) بناتے ہیں۔ کچھ راستے تو ہمیشہ کھلے رہتے ہیں جبکہ دوسرے راستوں کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ کچھ بڑے ہوتے ہیں جو کئی قسم کے سالموں کو گزرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ پورنیز (Porins) وہ پروٹین ہیں جو پلاسٹڈز، مائی ٹوکانڈریا اور کچھ بیکٹریا کی بیرونی جھلی میں بڑے بڑے سوراخ بناتے ہیں اوراب سبھی سالموں کو گزرنے کی اجازت دیتے ہیں جن کا سائز کسی چھوٹے پروٹین کے برابر ہوتا ہے۔
شکل 11.1 میں ایکبیرون خلوی سالمہ ٹرانسپورٹ پروٹین سے چسپاں دکھایا گیا ہے؛ ٹرانسپورٹ پروٹین گردش کرتی ہے اور سالمے کو خلیے کے اندر خارج کر دیتی ہے۔ مثال کے طور پرآبی راستہ آٹھ مختلف قسم کے اکواپورین (Aquaporins) کا بنا ہوا ہوتا ہے۔

11.1.2.1                 مجہول سمپورٹس اور اینٹی پورٹس (Passive Symports and Antiports)

کچھ کیرئیر پروٹین اسی وقت نفوذ کی اجازت دیتے ہیں جب دو طرح کے سالمے ایک ساتھ گزر رہے ہوں۔ سمپورٹ میں دونوں سالمے جھلی کے پار ایک ہی سمت میں جاتے ہیں، اینٹی پورٹ میں وہ مقابل سمتوں میں جاتے ہیں۔ (شکل 11.2 ) جھلی کے پار جب سالمے کسی دوسرے سالمے کی مدد کے بغیر گزرتے ہیں تو اس عمل کو یونی پورٹ (Uniport) کہتے ہیں۔
Pic4 Capture11
شکل 11.2 سہولتی نفوذ

11.1.3                 فعال نقل وحمل (Active Transport)

ارتکازی ڈھلان کے خلاف سالموں کی نقل وحمل اور انھیں پمپ کرنے کے لیے توانائی کا استعمال کرتا ہے۔ فعال نقل وحمل جھلی میں موجود خصوصی پروٹین کے ذریعے ہوتا ہے۔ لہٰذا جھلی میں موجود مختلف پروٹین فعال اور غیر فعال دونوں ٹرانسپورٹ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پمپ ایسے پروٹینز ہیں جو مادوں کو خلوی جھلی کے دوسری طرف لے جانے کے لیے توانائی کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ پمپ مادوں کو کم مرتکز مائع سے زیادہ مرتکز مائع کی جانب لے جاسکتے ہیں (اپ ہل ٹرانسپورٹ)۔ جب جھلی کے تمام ٹرانسپورٹ پروٹین زیراستعمال ہوتے ہیں تو ٹرانسپورٹ کی شرح سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ خامروں(Enzymes) کی طرح کیریئر پروٹینز بھی اس کے لیے بہت مخصوص ہوتے ہیں کہ کس کو جھلی کے پار گزار رہے ہیں۔ یہ پروٹینزان موانع (Inhibitors) کے تئیں بہت حساس ہوتے ہیں جو پروٹینز کی جانبی زنجیر سے تعامل کرتے ہیں۔

11.1.4 نقل و حمل کے مختلف عملوں کا موازنہ

(Comparison of Different Transport Processes)

مندرجہ ذیل جدول نقل وحمل کے مختلف کا موازنہ پیش کرتا ہے۔ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جھلی کے پروٹین،امدادی نفوذ اور ایکٹیو ٹرانسپورٹ کے لیے ذمہ دار ہیں اور بہت زیادہ انتخابی ہونے کی مشترکہ خصوصیات دکھاتے ہیں، وہ سیر شدہ ہو سکتے ہیں، موانع کے تئیں رد عمل کرتے ہیں اور ہارمونل ریگولیشن کے تحت کام کرتے ہیں۔ لیکن نفوذ چاہے امدادی ہو یا نہ ہو صرف ارتکازی ڈھلان کے ساتھ کام کرتا ہے اور توانائی کا استعمال نہیں کرتا۔

جدول 11.1                  نقل وحمل کے مختلف طریقوں کا موازنہ            

خصوصیت سادہ نفوذ امدادی نقل وحمل فعال نقل وحمل                
مخصوص جھلی پروٹین کی ضرورت نہیں ہاں ہاں
                بہت زیادہ انتخابی (Highly Selective) نہیں ہاں ہاں
ٹرانسپورٹ سیر شدہ (Saturates) نہیں ہاں ہاں
اپ ہل ٹرانسپورٹ (Uphill Transport) نہیں نہیں ہاں
اے ٹی پی توانائی کی ضرورت نہیں نہیں ہاں

11.2 پانی اور پودوں کے تعلقات (Plant-Water Relations)

پانی پودوں کی سبھی فعلیاتی سرگرمیوں کے لیے نہایت ضروری ہے اور تمام جاندار عضویوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا ذریعہ ہے جس میں زیادہ تر اشیا حل ہوجاتی ہیں۔ خلیے کا پروٹوپلازم اور کچھ نہیں، پانی ہی ہے جس میں مختلف سالمے تحلیل رہتے ہیں اور کئی ذرّات معلق رہتے ہیں، تربوز میں 92 فیصدی پانی ہوتا ہے؛ بوٹیوں (Herbs) میں ان کے وزن کا صرف 10 سے 15 فیصدی سوکھا مادہ ہوتا ہے۔ بے شک پودوں میں پانی کی تقسیم مختلف ہوتی ہے۔ چوبی حصوں میں پانی نسبتاً کم ہوتا ہے، جبکہ نرم حصوں میں پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ بیج بظاہر سوکھا نظر آتا ہے مگر اس میں بھی پانی موجود ہوتا ہے ورنہ یہ جاندار نہیں رہے گا اور نہ اس میں تنفس ہوگا۔
برّی پودے روزانہ پانی کی بے انتہا مقدار جذب کرتے ہیں لیکن پتیوں سے عملِ تبخیر کے ذریعے بہت سارا پانی نکال بھی دیتے ہیں اس عمل کوسریان (Transpiration) کہتے ہیں۔ مکّا کا ایک بالیدہ پودا تقریباً تین لیٹر پانی ایک دن میں جذب کرتا ہے جبکہ سرسوں کا پودا 5 گھنٹوں میں اپنے وزن کے برابر پانی جذب کرتا ہے۔ پانی کی اس قدر ضرورت کے سبب یہ حیرت انگیز بات نہیں ہے کہ اکثر زراعتی اور قدرتی ماحول میں پودوں کی نمو کے لیے پانی تحدیدی عامل (Limiting Factor) بن جاتا ہے۔

11.2.1                 واٹر پوٹینشیل (Water Potential)                

پانی اور پودوں کے تعلقات کو سمجھنے کے لیے کچھ معیاری اصطلاحات کو جان لینا لازمی ہے۔ واٹرپوٹینشیل (Water Potential) (Yw) پانی کی حرکت کو سمجھنے کے لیے بنیادی نظریہ ہے۔ منحل پوٹینشیل (Solute Potential) (Ys) اور دباؤ پوٹینشیل (Pressure Potential) (Yp)، واٹرپوٹینشیل کا تعین کرنے والے دو خاص اجزاء ہیں۔
پانی کے سالموں میں حرکی توانائی ہوتی ہے۔ رقیق اور گیسی شکل میں یہ سالمے بے ترتیب انداز میں حرکت کرتے رہتے ہیں جو تیزی کے ساتھ اور مستقل طور پر ہوتی رہتی ہے۔ کسی نظام میں اگر پانی کا ارتکاز زیادہ ہے تو اس کی حرکی                 توانائی یا واٹر پوٹینشیل بھی زیادہ ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ بات واضح ہے کہ خالص پانی کا واٹرپوٹینشیل سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اگر پانی پر مشتمل دو نظام ایک دوسرے کے                 رابطے میں ہیں تو پانی کے سالموں کی بے ترتیب حرکت کا نتیجہ زیادہ توانائی والے نظام سے کم توانائی والے نظام کی جانب سالموں کی حرکت کی شکل برآمدہوگا۔ لہٰذا، پانی زیادہ واٹر پوٹینشیل والے نظام سے کم واٹر پوٹینشیل والے نظام کی جانب حرکت کرے گا۔ مادوں کی حرکت کا یہ عمل جو آزاد توانائی کے ڈھلان کے ساتھ چلتا ہے نفوذ (Diffusion) کہلاتا ہے۔ واٹرپوٹینشیل کا اظہار یونانی حرف سائی یا Ψ سے کیا جاتا ہے اور اس کو دباؤ کی اکائی جیسے پاسکل (Pa) میں دکھاتے ہیں خالص پانی کے واٹرپوٹینشیل کو، معیاری درجۂ حرارت (جہاں کسی بھی قسم کا دباؤ نہیں ہوتا) صفر لیاجاتاہے۔
اگر کوئی منحل خالص پانی میں گھلا ہوا ہے تو محلول میں پانی کے آزاد سالمے کم ہو جاتے ہیں، پانی کا ارتکاز کم ہو جاتا ہے جو واٹرپوٹینشیل کو کم کر دیتا ہے لہٰذا تمام محلولوں کا واٹرپوٹینشیل، خالص پانی کے واٹرپوٹینشیل سے کم ہوتا ہے۔ منحل کے گھلنے سے مقدار میں جو کمی واقع ہوتی ہے اسے سولیوٹ پوٹینشیل یا ψs کہتے ہیں۔ ψs ہمیشہ منفی ہوتا ہے۔ منحل کے سالمے جتنے زیادہ ہوتے ہیں Ψs اتنا ہی کم (زیادہ منفی) ہوتا ہے۔ فضائی دباؤ پر کسی محلول کے لیے                                                   واٹر پوٹینشیل(Ψs)سولیوٹ پوٹینشیل کے مساوی ہوتا ہے یعنی Ψw = Ψs۔
اگر خالص پانی یا محلول پرفضائی دباؤ سے زیادہ دباؤ ڈالا جائے تو اس کا واٹرپوٹینشیل بڑھ جاتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے پانی کو پمپ کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جائے۔ ہمارے جسم میںکیا کوئی ایسا نظام ہے جہاں دباؤبنایا جاتا ہے؟ پودوں میں دباؤ محلول بنتا ہے جب پانی نفوذ کے ذریعے نباتاتی خلیوں میں داخل ہوتا ہے اس سے خلوی دیوار پر دباؤ پیدا ہوتا ہے، یہ خلیے کوپھیلا دیتا ہے (دیکھیے سیکشن 11.2.2)؛ یہ پریشرپوٹینشیل کو بڑھادیتا ہے۔ پریشر پوٹینشیل عموماً مثبت ہوتا ہے، حالانکہ پودوںمیں زائلم کے آبی کالم میں منفی پوٹینشیل یا تناؤ تنے میں پانی کی نقل وحمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پریشر پوٹینشیل کو Ψp سے ظاہر کرتے ہیں۔                
خلیے کا واٹرپوٹینشیل، منحل اور پریشر پوٹینشیل دونوں سے متاثر ہوتا ہے۔ ان میں باہمیرشتہ مندرجہ ذیل مساوات کی شکل میں ظاہر کرتے ہیں۔
Ψp = Ψs + Ψp

11.2.2 ولوج (Osmosis)

نباتاتی خلیہ، خلوی جھلی اور خلوی دیوار سے گھرا رہتا ہے۔ خلوی دیوار پانی اور محلول میں موجودمادوں کے لیے آزادانہ طور پرسرائیت پذیر ہے۔ اس لیے یہ نقل و حرکت کے لیے رکاوٹ نہیں ہے۔ نباتاتی خلیے کے وسط میں عموماً بڑا خالیہ (Vacuole) ہوتا ہے جس میں خلوی عرق (Vacuolar sap)پایا جاتا ہے اور یہ خلیے کے سولیوٹ پوٹینشیل میں تعاون کرتا ہے۔ نباتاتی خلیوں میں خلوی جھلی اور خالیے کی جھلی جسے ٹونوپلاسٹ کہتے ہیں، خلیے میں سالموں کی اندر اور باہر کی طرف حرکت کا تعین کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ولوج، پانی کے نفوذ کی ایک خاص قسم ہے جس میں دو محلول کے درمیان ایک انتخابی سرائیت پذیر جھلی حائل رہتی ہے، ولوج ایک چلانے والی طاقت کے جواب میں خود بخود واقع ہوتا ہے۔ ولوج کی سمت اور شرح کا دارومدار دباؤ ڈھلان اور ارتکازی ڈھلان پر ہوتا ہے۔ پانی اپنے زیادہ کیمیائی پوٹینشیل (ارتکاز) سے کم کیمیائی پوٹینشیل کی جانب حرکت کرتا ہے اور یہ عمل اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک کہ دونوں حصوں میں ایک توازن نہ قائم ہو جائے۔ اس توازن (Equilibrium) کی حالت میں دونوں خانوں میں واٹرپوٹینشیل تقریباًمساوی ہوتا ہے۔
آپ نے اپنی گزشتہ جماعتوں میں آلو کو استعمال کر کے آسمومیٹر بنایا ہوگا۔ اگر آلو کو پانی میں رکھا جائے تو آلو کے اندر                 شکر کے مرتکز امحلول پر مشتمل جوف میں ولوج کی وجہ سے پانی داخل                 ہو جاتا ہے۔
شکل 11.3 کا مطالعہ کیجیے جس میں دو خانوں A اور B میں محلول بھرا ہوا ہے اور یہ دونوں خانے ایک نیم سرائیت پذیر جھلی سے علاحدہ کیے گئے ہیں۔
Pic5 Capture11
شکل 11.3                
(a) کس خانے کیامحلول کا واٹر پوٹینشیل کم ہے؟
(b) کس خانے کے محلول                 کا سولیوٹ پوٹینشیل کم ہے؟
(c)                 ولوج کس سمت میں واقع ہوگا؟
(d) کس محلول                 کا سولیوٹ پوٹینشیل سب سے زیادہ ہے؟
(e) توازن حاصل ہونے کے بعد کس خانے کا واٹر پوٹینشیل کم ہوگا؟
(f) اگر ایک خانے میں Yکی قدر، –2000 kPa ہے اور دوسرے میں–1000 kPa کس خانے میں  زیادہ Y ہوگا؟
(g) اگر=0.2mPa Yw                 =0.1mPa                  والے دو محلول ایک دوسرے سے انتخابی سرائیت پذیر جھلی کے ذریعے علیحدہ ہیں تو پانی کی حرکت کی سمت کیا ہوگی؟
آئیے ایک اور تجربہ پر بحث کریں جہاں سکروس کے آبی محلول کو                 ایک قیف میں لے کر اسے خالص پانی سے بھرے ہوئے پیکر میں نیم سرائیت پذیر جھلی کے ذریعے علیحدہ کیا گیا ہے۔ شکل 11.4 اس طرح کی جھلی آپ کو انڈے سے حاصل ہو سکتی ہے۔ انڈے میں ایک طرف چھوٹا سوراخ کر کے اس کی زردی اور سفیدی نکال دیں اور خول کو ہائڈروکلورک ایسڈ کے ڈائی لیوٹ محلول میں چند گھنٹے رکھیں۔ خول گھل جائے گا اور آپ کو صحیح سلامت جھلی حاصل ہو جائے گی۔ پانی قیف میں داخل ہوگا جس کے نتیجے میں قیف کے محلول کی سطح بڑھ جائے گی۔ یہ اضافہ توازن حاصل ہو جانے کے وقت تک جاری رہے گا۔ اگر سکروز جھلی سے گزر کر باہر آجائے تو کیا یہ توازن حاصل ہو سکے گا؟
قیف کے بالائی حصے پر باہری دباؤ ڈالا جاسکتا ہے تاکہ جھلی کے ذریعے قیف میں پانی کا نفوذ نہ ہو سکے۔ قیف کے اندر پانی کے نفوذ کو روکنے کے لیے یہ دباؤ ضروری ہے اس کو ولوجی دباؤ کہتے ہیں اور یہ کام منحل کے ارتکاز کا ہے؛ اگرمنحل کا ارتکاز زیادہ ہوگا تو پانی کے نفوذ کو روکنے کے لیے اتنے ہی زیادہ دباؤ کی ضرورت ہوگی۔ ولوجی دباؤکی عددی قدر، ولوجی پوٹینشیل کے مساوی ہوتی ہے، لیکن نشان الٹا ہوتا ہے۔ ولوجی دباؤ، لگایا ہوا مثبت دباؤ ہوتا ہے، جبکہ ولوجی پوٹینشیل منفی ہوتا ہے۔
Pic6 Capture11
شکل 11.4 : ولوج کا مظاہرہ۔ ایک قیف میں سکروزمحلول بھر کر جھلی باندھی ہوئی ہے۔ اس کو پانی سے بھرے ہوئے بیکر میں الٹا کر کے لٹکا دیا گیا ہے۔ (a) پانی جھلی سے نفوذ ہو کر قیف میں داخل ہوگا (تیر کی مدد سے دکھایا گیا ہے) اور محلول کی سطح بڑھ گئی۔ (b) قیف کی طرف پانی کی حرکت کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالا جاسکتا ہے جیساکہ تصویر میں دکھایا گیا ہے۔                

11.2.3 پلازمولسس (Plasmolysis)

پانی کی حرکت کے سلسلے میں نباتاتی خلیوں (یابافتوں ) کا طرز عمل ان کے اطراف میں موجود محلول پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر بیرونی محلول، سائیٹوپلازم کے ولوجی دباؤ کے برابر ہوتا ہے تومحلول آئسوٹونک کہلاتا ہے۔ اگر بیرونی محلول، سائیٹوپلازم سے کم مرتکز ہو تو ہائپوٹونک اور بیرونی محلول زیادہ مرتکز ہے تو ہائپر ٹونک کہلاتا ہے۔ ہائپوٹونک محلول میں خلیے پھول جاتے ہیں اور ہائپر ٹونک میں سکڑ جاتے ہیں۔
Pic7 Capture11
شکل 11.5                 نباتاتی خلیے میں پلازمولِسس
جب خلیے سے پانی باہر آجاتا ہے اور نباتاتی خلیے کی خلوی جھلی سکڑ کر خلوی دیوار سے الگ ہو جاتی ہے اس عمل کو پلازمولِسس کہتے ہیں۔ یہ عمل اس وقت ہوتا ہے جب خلیہ (بافت) کو ایسے محلول (جس میں  منحل زیادہ ہوتا ہے) میں رکھا جاتا ہے جوپروٹوپلازم کے تئیں ہائیروٹونک ہوتا ہے۔ پانی پہلے پروٹوپلازم سے اور اس کے بعد خلیے سے باہر آجاتا ہے۔ پانی جب نفوذ کے ذریعے خلیے سے باہر آتا ہے تو پروٹو پلازم سکڑ کر دیواروں سے ہٹ جاتا ہے۔ جھلی سے پانی گزر کر زیادہ واٹرپوٹینشیل والے حصے سے (یعنی خلیے سے) کم واٹرپوٹینشیل والے حصے کی جانب یعنی خلیے سے باہر آجاتاہے۔ (شکل 11.5)۔
پلازمولائزڈ (Plasmolysed) خلیے میں خلوی دیوار اور سکڑے ہوئے پروٹوپلاسٹ کے درمیان کی جگہ کس شے سے بھری رہتی ہے؟
جب خلیہ (یا بافت) آئسوٹونک سولیوشن (Isotonic Solution) میں رکھا جاتا ہے تو پانی کا بہاؤ نہ تو اندر کی جانب ہوتا ہے۔اور نہ باہر کی جانب ۔ اگر بیرونی محلول سائٹو پلازم کے ولوجی دباؤ کو متوازن کر دیتا ہے تووہ آئسوٹونک (Isotonic) کہلاتا ہے۔ نباتاتی خلیے میں اگر پانی کے اندر جانے کی مقدار، خلیے سے باہر آنے والے پانی کی مقدار کے برابر ہے اور توازن برقرار رہتا ہے تو خلیے کی اس حالت کو فلیسڈ (Flaccid) کہتے ہیں۔
پلازمولِسس کا عمل عموماً رجعتی (Reversible) ہوتا ہے۔ جب خلیے کو ہائپوٹونک محلول(Hypotonic Solution) (سائیٹوپلازم سے زیادہ واٹر پوٹینشیل یا ڈابی لیوٹ محلول) میں رکھتے ہیں تو پانی خلیے کے اندر نفوذ ہوتا ہے جس سے سائیٹوپلازم دیوار کے خلاف دباؤ بناتا ہے، اس کو ٹرگر پریشر(Turgor pressure)کہتے ہیں۔ پانی کے اندر داخل ہونے کی وجہ سے پروٹوپلاسٹ سخت دیوار کے خلاف جو دباؤ بناتا ہے اسے پریشر پوٹینشیل Yp کہتے ہیں۔ دیوار کے سخت ہونے کی وجہ سے دیوار ٹوٹتی نہیں ہے اور یہی ٹرگر پریشر آخر کار خلیوں کے بڑھنے اور نمو پانے کی وجہ ہے۔ فلیسڈ خلیے کا Yp کیا ہوگا؟
پودوں کے علاوہ کون سے عضویے میں خلوی دیوار ہوتی ہے؟

11.2.4 امبی بشن (Imbibition)

امبی بشن خاص طرح کا نفوذی عمل ہے جس میں ٹھوس شئے پانی کو جذب کرتی ہے۔ کولائیڈ کی وجہ سے ان کا حجم بہت بڑھ جاتا ہے۔ بیجوں اور سوکھی لکڑی کا پانی جذب کرنا امبی بشن کی مثالیں ہیں۔ سوکھی لکڑی کے پھولنے سے جو دباؤ بنتا تھا اس کی طاقت کا استعمال ماقبل تاریخی انسان چٹانوں اور بڑے پتھروں کو توڑنے میں کرتاتھا۔ اگر امبیبشن دباؤ نہ ہوتا تو تخمی پودا (Seedlings) مٹی                 سے باہر کھلی ہوا میں نہیں آسکتا تھا اور شاید زمین پر جم بھی نہیں پاتا!
امبی نفوذبھی ہے کیونکہ پانی کا بہاؤ ارتکازی ڈھلان کے ساتھ ہوتا ہے ۔ بیج یا اسی طرح کی اور چیزوں میں پانی تقریباً نہیں کے برابر ہوتا ہے لہٰذا یہ آسانی سے پانی جذب کر لیتے ہیں۔ امبی بشن کے لیے جاذب اور جذب ہونے والے پانی کے درمیان واٹرپوٹینشیل ڈھلان ضروری ہے۔ اس کے علاوہ کسی رقیق کو جذب کرنے والی شے کے لیے جاذب اور رقیق  شے  کے درمیان وابستگی بنیادی شرط ہے۔

11.3 طویل فاصلوں تک پانی کی نقل وحمل                

(Long Distance Transport of Water)

شاید کبھی آپ نے یہ تجربہ کیا ہوگا جس میں آپ نے سفید پھول والی شاخ /ٹہنی کو رنگین پانی میں رکھا ہو اور پھران پھولوں کے رنگ کو بدلتے ہوئے دیکھا ہو۔ چند گھنٹوں بعد ٹہنی کے کٹے ہوئے سرے کی جانچ کرنے پر آپ نے اس خطہ کو بھی دیکھا ہوگا جہاں سے رنگین پانی گزرا ہے۔ یہ تجربہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ پانی کی نقل وحرکت ویسکولربنڈل(Vascular bundle) ہے، خاص طور پر زائلم (Xylem)کے ذریعے۔ اب ذرا آگے بڑھ کر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پودوں میں پانی اور دیگر مادے اوپر کی طرف کس طرح  حرکت کرتے ہیں!
پودے میں مادوں کی طویل فاصلوں تک حرکت صرف نفوذ کے ذریعے نہیں ہو سکتی۔ نفوذ ایک سست عمل ہے اور اس کے ذریعے بہت کم فاصلے طے کیے جاتے ہیں۔ مثلاً ایک تمثیلی نباتاتی خلیے (تقریباً µm 50لمبائی) کے آر پار   حرکت کرنے میں ایک سالمہ 2.5 سیکنڈ کا وقت لیتا ہے۔ اس رفتار سے کیا آپ حساب لگا سکتے ہیں کہ صرف نفوذ کے ذریعہ پودے میں ایک سالمے کو 1میٹر کا فاصلہ طے کرنے میں کتنے سال لگیں گے؟
بڑے اور پیچیدہ عضویوں میں مادوں کو طویل مسافت طے کرنی پڑتی ہے۔ بسااوقات پیداوار ، انجذاب اور ذخیرہ اندوزی کے مقامات ایک دوسرے سے طویل فاصلوں پر واقع ہوتے ہیں  لہٰذا نفوذ یا ایکٹیو ٹرانسپورٹ کافی نہیں ہے۔ یہ لمبے فاصلے سرعت کے ساتھ طے کرنے کے لیے مخصوص طویل فاصلاتی ٹرانسپورٹ کے نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ پانی، معدنیات اور غذا عموماً ماس (Mass) یا بلک فلو (Bulk Flow) نظام کے ذریعے حرکت کرتے ہیں۔ بلک فلو وہ حرکت ہے جس کے ذریعے مادے وافر مقدار میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچائے جاتے ہیں اور یہ حرکت دو نقطوں کے درمیان دباؤ میں فرق کی وجہ سے عمل میں آتی ہے۔ ماس فلو کی یہ خصوصیت ہے کہ مادے چاہے وہ محلول میں ہوں یا معلّق ہوں، بہاؤ کے ساتھ ایک ہی رفتار سے حرکت کرتے ہیں جیسے بہتے ہوئے دریا میںہوتا ہے۔ یہ نفوذ جیسا عمل نہیں ہے جہاں مادے ارتکازی ڈھلان کے مطابق آزادای کے ساتھ حرکت کرتے ہیں۔ بلک فلو مثبت ہائیڈرواسٹیٹک پریشر ڈھلان (جیسے باغ کے حوض سے پائپ کے ذریعہ پانی کا نکلنا) یا منفی ہائیڈرواسٹیٹک پریشر ڈھلان (جیسے نلکی کے ذریعے شربت پینا) کے ذریعے عمل پذیر ہوتا ہے۔
پودوں میں ایصالی یا وعائی بافت یا کے ذریعہ  اشیا کا بڑے پیمانے پر بہاؤہونے کو ٹرانسلوکیشن (Translocation) کہتے ہیں۔
کیا آپ کوبڑے پودوں کی جڑوں، تنوں، پتیوں اور وعائی نظام کے کراس سیکشن کا مطالعہ یاد ہے؟ بڑے پودوں میں نہایت تخصیص شدہ وعائی بافت یعنی زائلم اور فلوئلم ہوتے ہیں۔ زائلم کے ذریعے پانی، نمکیات، کچھ نامیاتی نائٹروجن اور ہارمونز کا ٹرانسلوکیشن جڑوں سے پودے کے ہوائی حصوں میں ہوتا ہے۔ فلوئلم مختلف نامیاتی اور غیر نامیاتی منحل (Solutes) کو پتیوں سے پودے کے دیگر حصوں میں منتقل کرتا ہے۔

11.3.1 پودے پانی کو کیسے جذب کرتے ہیں؟ (How do Plants Absorb Water?)

ہم جانتے ہیں کہ پودوں میں داخل ہونے والا بیشتر پانی جڑوں کے ذریعے جذب ہوتا ہے۔ ظاہر ہے اسی لیے ہم                 پانی کو مٹی میں ڈالتے ہیں                 پتیوں پر نہیں۔ پانی اور معدنیات کے انجذاب کی ذمہ داری جڑوں کے سرے پر لاکھوں کی تعداد میں موجود جڑبالوں (Root Hairs) کی ہوتی ہے۔ جڑبال دراصل جڑ کے ایپی ڈرمل خلیوں کے ابھار ہوتے ہیں جو پتلی دیواروں والے مہین دھاگوں کی شکل میں ہوتے ہیں اور انجذاب کے لیے سطحی رقبے میں کئی گنا اضافہ کر دیتے ہیں۔ جڑبالوں کے ذریعہ پانی اور معدنیاتی منحل کا انجذاب خالصتاً نفوذ کے ذریعے سے عمل میں آتا ہے۔ جڑبالوں کے ذریعے پانی جذب ہوجانے کے بعد جڑ کی اندرونی تہوں میں دو واضح راستوں کے ذریعے منتقل ہو تاہے:
  • ایپوپلاسٹ پاتھ وے (A Poplast Pathway)
  • سمپلاسٹ پاتھ وے (Symplast Pathway)
ایپوپلاسٹ ملحقہ خلوی دیواروں کا وہ مسلسل نظام ہے جو جڑوں کی اینڈوڈرمس کی کیسپیرین پٹیوں کے علاوہ پورے پودے میں ہوتا ہے۔ پانی کی ایپوپلاسٹک نقل، کلی طور پر بین الخلوی فضاؤں اور خلوی دیوار سے گزر کر ہوتی ہے۔ ایپوپلاسٹ حرکت میں خلوی جھلی سے گزرنے کا عمل نہیں ہوتا۔ یہ نقل وحرکت ڈھلان پر منحصر ہے۔ پانی کی نقل وحرکت میں ایپوپلاسٹ کسی قسم کی رکاوٹ نہیں پیدا کرتا اور یہ حرکت ماس فلو کے ذریعے ہوتی ہے۔ جیسے جیسے پانی                                  بین الخلوی فضاؤں میں یا کرّہ باد میں تبخیر ہوتا ہے، ایپوپلاسٹ کے اندر پانی کی مسلسل دھار میں تناؤ پیدا ہوتا ہے، اس طرح پانی کی اڈہسیو اور کوہسیو                 (Adhesive and Cohesive) خصوصیات کی وجہ سے ماس فلو واقع ہوتا ہے۔
Pic8 Capture11
شکل 11.6                 پانی کی نقل و حمل کا راستہ

پروٹوپلاسٹ باہم مربوط (Interconnected Protoplasts) کا نظام، سمپلاسٹک نظام ہے۔ اطراف کے خلیے، ان سائیٹوپلازمک دھاگوں،کے ذریعے مربوط ہوتے ہیں جن کی توسیع پلازمو ڈسماٹا کے ذریعے ہوتی ہے۔ سمپلاسٹک حرکت کے دوران پانی خلیوں یعنی سائٹوپلازم سے گزر کر جاتا ہے، بین خلوی  حرکت پلازموڈسماٹا کے ذریعے عمل میں آتی ہے۔ چونکہ پانی کو خلیے میں داخل ہونے کے لیے خلوی جھلی سے گزرنا پڑتا ہے لہٰذا یہ حرکت نسبتاً سست رفتار ہوتی ہے۔ حرکت پوٹینشیل ڈھلان کے مطابق ہوتی ہے۔ سائیٹوپلازمک اسٹریمنگ کا عمل، سمپلاسٹک حرکت میں مدد کر سکتا ہے۔ آپ نے ہائیڈریلا کے خلیوں میں سائیٹوپلازمک اسٹریمنگ دیکھی ہوگی، اس اسٹریمنگ میں کلوروپلاسٹ کی حرکت آسانی سے دیکھی جاسکتی ہے۔
چونکہ کارٹیکل خلیے کی پیکنگ ڈھیلی ہوتی ہے لہٰذا جڑ میں بیشتر پانی ایپوپلاسٹ کے ذریعے منتقل ہوتاہے اور پانی کی منتقلی میں کوئی رکاوٹ نہیں آتی۔ لیکن کارٹیکس کی اندرونی حدودیعنی اینڈوڈرمس سیوبیرین کی بنی ہوئی کیسپریین پٹّی کی وجہ سے پانی کے لیے غیر نفوذ پذیر ہوتی ہیں۔ پانی کے سالمے اس تہہ میں گھس نہیں سکتے اس لیے پانی دیواروں کا رخ کرتا ہے، چونکہ وہاں سیوبیرین نہیں ہوتا اور جھلی سے ہوتا ہوا خلیے میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد پانی سمپلاسٹ کے ذریعے دوبارہ جھلی کو پار کرکے زائلم کے خلیوں میں پہنچتا ہے۔ جڑ کی تہوں سے گزرتا ہوا پانی آخر کار اینڈوڈرمس میں سمپلاسٹک کے ذریعے سے منتقل ہوتا ہے۔ صرف یہی ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے پانی اور اس میں موجودمنحل وعائی استوانہ (Vascular Cylinder) میں داخل ہو سکتے ہیں۔
ایک بار جب زائلم میں پہنچ جاتا ہے تو پانی آزادی کے ساتھ خلیوں کے درمیان اور ان سے گزر کر منتقل ہوتا ہے۔ نو عمر جڑوں میں، پانی بالواسطہ زائلم ویسلز اور ٹریکیڈز میں داخل ہوتا ہے۔ چونکہ یہ بے جان ذرائع ہیں اس لیے یہ ایپوپلاسٹ کا حصہ ہوتے ہیں۔ جڑ کے وعائی نظام میں پانی داخل ہونے کا راستہ مختصراً شکل 11.7 میں دکھایا گیا ہے۔
Pic9 Capture11
شکل 11.7 آینوں کے انجذاب سمپلاسٹک اور ایپوپلاسٹک پاتھ وے کا اناٹومیکل پہلو
کچھ پودوں میں ان سے منسلک کچھ مزید ساختیں ہوتی ہیں جو پانی (اور معدنیات) کے انجذاب میں مدد کرتی ہیں۔ مائیکورائزا، جڑ کے ساتھ ایک فنگس کا ہم باشی (Symbiotic) ربط ہے۔ نو عمر جڑ کے اطراف میں فنگس کے مہین دھاگے ایک جال بناتے ہیں اور خلیوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ ان دھاگوں کا مجموعی سطحی رقبہ بہت زیادہ ہوتا ہے اس لیے یہ مٹی کے بہت بڑے حجم سے پانی اور معدنیاتی آینوں کاانجذاب اٹھاکرتے ہیں جو شاید جڑ کبھی نہ کر سکے۔ فنگس جڑ کو پانی اور معدنیات مہیا کرتی ہے۔ بدلے میں جڑ مائیکورائزا کو شکر اور نائٹروجن کے مرکبات فراہم کرتی ہے۔ مائیکورائزا سے کچھ پودوں کا تعلق ناگزیر ہے۔ مثلاً مائیکورائزا کے بغیر پائنس کے بیج نہ تو اُگ پاتے ہیں اور نہ ہی اپنے آپ کو زمین میں قائم کر پاتے ہیں۔

11.3.2 پودوں میں پانی کی اوپر کی طرف حرکت (Water Movement up a Plant)

ہم نے دیکھا کہ پودے کس طرح مٹی سے پانی کو جذب کرتے ہیں اور اس کو وعائی بافت میں منتقل کر دیتے ہیں۔ اب ہم سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ یہ پانی پودوں کے مختلف حصوں تککس طرح پہنچتا ہے۔ کیا پانی کا پہنچنا فعال ہے یا اب بھی غیر فعال ہے؟ چونکہ پانی کو تنے میں زمین کی قوت کشش کے خلاف اوپر پہنچنا ہے تو اس کے لیے توانائی کہاں سے آتی ہے؟

11.3.2.1 جڑ دباؤ (Root Pressure)

چونکہ جڑ کے وعائی بافت میں آینوں کا انجذاب فعال(توانائی کے خرچ پر) ہوتا ہے، پانی اپنے پوٹینشیل ڈھلان کا تعاقب کرتا ہے اور زائلم کے اندر دباؤ میں اضافہ کرتا ہے، اس مثبت دباؤجڑدباؤ کہتے ہیں اور یہ تنے میں پانی کو تھوڑی اونچائی تک پہنچانے کے لیے ذمہ دار ہو سکتا ہے۔ جڑ دباؤ کی موجودگی کا مشاہدہ ہم کیسے کر سکتے ہیں؟جس دن فضا میں کافی نمی ہو ایک نرم تنے والے پودے کا انتخاب کیجیے اور صبح سویرے تیز بلیڈ سے تنے کو زمین کے قریب سے افقی طور پرکاٹ دیجیے، جلد ہی آپ کو کٹے ہوئے حصے سے پانی کا اخراج نظر آئے گا؛ یہ مثبت روٹ پریشر کی وجہ سے باہر آتا ہے۔ اگر آپ ایک ربر کی ٹیوب اس کٹے ہوئے تنے کو آستین کی طرح پہنادیں تو واقعتاً آپ اس اخراج کی شرح ناپ سکتے ہیں اوراخراج کے اجزائے ترکیب  بھی معلوم کر سکتے ہیں۔ رات اور صبح سویرے جب عملِ تبخیر سست ہوتا ہے تو اس وقت بھیجڑدباؤ کے اثر کا مشاہدہ کر سکتے ہیں جس میں اضافی پانی گھاس کی پتیوں کی نوک پر بوندوں کی شکل میں جمع ہو جاتا ہے۔ اسے ہم بہت سی جڑی بوٹیوں کی پتیوں میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ پانی کے اس طرح کے اخراج کو گٹیشن (Guttation) کہتے ہیں۔
پانی کے نقل و حمل کے اس تمام عمل میں جڑدباؤکسی حد تک مدد کرتا ہے۔ لمبے درختوں میں پانی کی نقل وحمل میں ظاہر ہے کہ یہ کوئی اہم کردار نہیں ادا کرتا۔ جڑدباؤ کا اہم کام شاید زائلم میں پانی کے سالموں کی زنجیر کے منقطع حصوں میں دوبارہ تسلسل قائم کرنا ہے، یہ ٹوٹ پھوٹ اکثر سریان (Transpiration) کے دوران پیدا ہونے والے بہت زیادہ کھنچاؤ سے ہوتی ہے۔ جڑدباؤ، پانی کی نقل وحمل میں زیادہ مدد نہیں کرتا لہٰذا پودے اس ضرورت کو سریانی کھنچاؤ (Transpirational Pull) کے ذریعے پورا کرتے ہیں۔                

11.3.2.2 سریانی کھنچاؤ (Transpiration Pull)

پودوں میں قلب اور دورانی نظام نہ ہونے کے باوجود، زائلم کے ذریعے پانی کا اوپرکی جانب بہاؤ کافی تیز رفتار اختیار کر سکتاہے، تقریباً 15 میٹر فی گھنٹہ۔ یہ تیز رفتاری کیسے حاصل ہوتی ہے؟ یہ ایک پرانا سوال ہے کہ پودے میں پانی اوپر ڈھکیلا جاتا ہے یا اوپر سے پانی کو کھینچا جاتا ہے؟ سائنسدانوں کی اکثریت اس رائے سے متفق ہے کہ پودے میں پانی کو کھینچا جاتا ہے اور اس کے لیے جوقوت درکار ہوتی ہے وہ پتیوں کے ذریعے انجام دیے جانے والے عمل سریان کے ذریعے مہیا کی جاتی ہے۔ اس کو پانی کی نقل وحمل کا کوہیزن- ٹنیشن۔ سریانی کھینچاؤ ماڈل (Cohesion-tension-transpiration Pull Model) کہتے ہیں۔ لیکن سریانی کھینچاؤ کی تشکیل کون کرتا ہے؟
پودوں میں پانی مسلسل چلتا رہتاہے، پتوں میں پہنچنے والے پانی کا ایک فیصدسے بھی کم ضیائی تالیف اور نمو میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کا بیشتر حصہ پتیوں کے اسٹومیٹا(Stomata) سے ضائع ہو جاتا ہے۔ پانی کے اس نقصان کوسریان کہتے ہیں۔
سریان کے بارے میں آپ پہلے پڑھ چکے ہیں کہ اگر صحت مند پودے کو پالی تھین کے تھیلے میں بند کر دیا جائے تو کچھ دیر بعد تھیلے کے اندر پانی کی بوندیں نمودار ہو جاتی ہیں۔ پتیوں کے ذریعے ضائع ہونے والے پانی کا مشاہدہ کو بالٹ کلورائڈ کاغذ کے استعمال سے بھی کر سکتے ہیں جو پانی جذب کرنے کے بعد اپنا رنگ تبدیل کرلیتا ہے۔

11.4 سریان(Transpiration)

پودوں سے پانی کے تبخیری نقصان کو سریان کہتے ہیں۔یہ عمل پتیوں کے اسٹومیٹا کے ذریعے سے واقع ہوتا ہے۔ سریان میں پانی کے نقصان کے علاوہ اسٹومیٹا کے ذریعے آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تبادلہ بھی ہوتا ہے۔ اسٹومیٹا عموماً دن میں کھلے رہتے ہیں اور رات میں بند ہو جاتے ہیں۔ اسٹومیٹاکے کھلنے اور بند ہونے کی فوری وجہ گارڈ خلیوں کی ٹرجیڈیٹی (Turgidity) میں تبدیلی ہے۔ ہرگارڈ خلیے کی اندرونی دیوار موٹی اور لچیلی ہوتی ہے۔ جب اسٹوما کو گھیرے ہوئے دونوں گارڈ خلیوں کی ٹرجیڈیٹی بڑھتی ہے تو بیرونی پتلی دیواریں باہر ابھر جاتی ہیں اور اندرونی دیواروں کی شکل ہلالی ہو جاتی ہے۔ گارڈ خلیے کی خلوی دیوار میں مائیکرو فائبرلز کی ترتیب بھی اسٹوما کے کھلنے میں مدد کرتی ہے۔ سیلیولوز مائیکرو فائبرلز طولی انداز میں مرتب ہونے کے بجائے شعاعی انداز میں مرتب ہوتے ہیں لہٰذا اسٹوما کے کھلنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔ پانی کے نقصان کے باعث جب گارڈ خلیے دباؤ کھو بیٹھتے ہیں (پانی کا فقدان)، تو اندرونی لچیلی دیوار اپنی پہلے والی حالت میں واپس آجاتی ہے، گارڈ خلیے فلیسڈ ہو جاتے ہیں اور اسٹوما بند ہو جاتے ہیں۔
عموماً ظہری بطنی (اکثر دو بیج پتیہ) پتوں کی نچلی سطح پراسٹومیٹا کی تعداد زیادہ ہوتی ہے جب کہ آئسوبائی لیٹرل (Isobilateral) پتیوں (اکثر یک بیج پتیہ) میں دونوں سطحوں پراسٹومیٹا کی تعداد تقریباً برابر ہوتی ہے۔ سریانکئی بیرونی اسباب سے متاثر ہوتا ہے: درجۂ حرارت، روشنی، رطوبت، ہوا کی رفتار۔ نباتی اسباب، جو سریان پر اثر انداز ہوتے ہیں ان میں اسٹومیٹاکی تعداد اور ترتیب کھلے ہوئے اسٹومیٹا کافی صد ، پودے میں پانی کی مقدار اور کینوپی کی ساخت وغیرہ ہیں۔
سریان کے ذریعے زائلم میں عرق کا اوپرچڑھنا(Ascent of Xylem Sap) پانی کی مندرجہ ذیل طبیعی خصوصیات پرمنحصر ہوتا ہے:
Pic10 Capture11
شکل 11.8 گارڈمیلس کے ہمراہ ایک اسٹومیٹل سوراخ                
  • اتصال (Cohesion)                 –                 پانی کے سالموں میں باہمی رغبت
  •                  چپکاؤ(Adhesion)                 –                 پانی کے سالموںکی قطبی سطح کے تئیں رغبت (مثلاً ٹریکیری عناصر کی سطح)
  • سطحی تناؤ (Surface Tension) – پانی کے سالمے گیسی حالت کے مقابلے                 رقیق حالت میں ایک دوسرے کی جانب زیادہ رغبت رکھتے ہیں۔
یہ خصوصیات پانی کو بہت زیادہ ٹینسائل (Tensile) قوت؛ یعنی قوت کھنچاؤ کی مزاحمت کی صلاحیت؛ اور                  کیپی لیریٹی (Capillarity) یعنی پتلی اور مہین نلکی میں اوپر چڑھنے کی قوّت فراہم کرتی ہیں۔ پودوں میں ٹریکری عناصر یعنی ٹریکیڈز اور ویسلز عناصر کا چھوٹا قطر، کیپی لیریٹی میں مدد کرتا ہے۔
ضیائی تالیف میں پانی کی ضرورت پڑتی ہے۔ زائلم ویسیلز کا نظام جڑوں سے پتیوں کی رگوں تک ضرورت کے مطابق پانی مہیا کرتا ہے۔ لیکن وہ کون سی قوت ہے جسے پودا پانی کے سالموں کو پتیوں کے پیرنکائمہ خلیوں تک، جہاں ان کی ضرورت ہے، پہنچانے کے لیے استعمال کرتا ہے؟ چونکہ خلیوں کے اوپر پانی کی مہین تہہ کا ایک سلسلہہوتا ہے اور جیسے جیسے اسٹومیٹا کے ذریعے پانی کی تبخیر ہوتی ہے اس کے نتیجے میں، پانی سالمہ در سالمہ، زائلم سے پتیوں تک کھنچتا رہتا ہے اور چونکہ فضا میں پانی کا ارتکاز، اسٹومیٹا کی خلاء اور بین خلوی فضاؤں کے مقابلے میں کم ہوتا ہے، پانی کے اطراف کی ہوا میں نفوذ ہوتا ہے اور یہ کھنچاؤ کو وجود میں لاتا ہے (شکل 11.9)۔
پانی کی اتصالی                 (Cohesive) اور اتصاقی (Adhesive) طاقت زیادہ ہوتی ہے: یہ طاقتیں پانی کے سالموں کا آپس میں ربط رکھتے ہوئے آبی کالم بناتی ہیں جو پانی کے سالموں کو زائلم کی لگنین سے بنی دیواروں کے بہت قریب رکھتا ہے اور سالموں کو ایک ساتھ رکھنے میں مدد کرتا ہے۔
پیمائش سے معلوم ہوا ہے کہ  سریان کے ذریعے وجود میں آئی طاقتیں اتنا دباؤ بنا دیتی ہیں کہ زائلم کے قطر کے برابر آبی کالم کو 130 میٹر کی اونچائی تک لے جاسکتی ہیں۔
Pic11 Capture11
شکل 11.9                 پتیوں میں پانی کی حرکت۔ پتیوں سے تبخیر کی وجہ سے باہری اور اندرونی ہوا کے درمیان ویلؤڈھلان پیدا ہوتا ہے۔ ڈھلان، ضیائی تالیفی خلیہ اور پتی کی رگ میں پانی بھرے زائلم میں منتقل کیا جاتا ہے۔

11.4.1 سریان اور ضیائی تالیف-ایک مصالحت                

(Transpiration and Photosynthesis–a Compromise)

سریان کے ایک سے زیادہ مقاصدہیں کیونکہ یہ:
  • پودوں میں انجذاب اور نقل وحملکے لیے سریانی کھنچاؤ پیدا کرتا ہے
  • ضیائی تالیف کے لیے پانی مہیا کرتا ہے
  • معدنیات کو مٹی سے پودے کے تمام حصوں میں پہنچاتا ہے
  • تبخیری خنکی کے ذریعے پتی کی سطح کو 10 سے 15 ڈگری تک ٹھنڈا کر دیتا ہے
  • خلیوں کو ٹرجڈ(Turgid) رکھ کر پودے کی شکل اور ساخت کو قائم رکھتا ہے
ایک فعال طور پر ضیائی تالیف کرنے والے پودے کو بہت زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ضیائی تالیف کی تحدید اس موجود پانی سے ہوتی ہے جو سریان کے ذریعے بہت جلد ضائع ہو سکتا ہے۔ بارانی جنگلات میں رطوبت کی بڑی وجہ پانی کا جڑوں سے پتیوں تک، پتیوں سے باہر فضا میں اور دوبارہ واپس مٹی میں جانے کی وسیع گردش ہے۔                
C4 ضیائی تالیفی نظام کا ارتقاء، CO2 کی دستیابی کو بڑھاتے ہوئے پانی کے نقصان کو کم کرنے کی ایک حکمت عملی ہے۔ کاربن کی تثبیت(شکر بنانا) کے لحاظ سے C4 پودے C3 پودوں کے مقابلے دو گنا مستعد ہوتے ہیں۔ لیکن یکساں مقدار میں CO2 کی تثبیت  کے لیے C3 پودوں کے مقابلے میں C4 پودوں میں آدھی تعداد میں پانی کا نقصان ہوتا ہے۔

11.5 معدنی مغذیات کا انجذاب اورنقل وحمل                

   (Uptake and Transport of Mineral Nutrients)

پودے اپنے لیے کاربن اور آکسیجن کی بیشتر مقدار فضا میں موجود CO2 سے حاصل کرتے ہیں لیکن بقیہ غذائی ضروریات مٹی میں موجود معدنیات سے حاصل کرتے ہیں اور ہائیڈروجن پانی سے حاصل کرتے ہیں۔

11.5.1   معدنی آینوںکا انجذاب(Uptake of Mineral Ions)

پانی کے برعکس، تمام معدنیات غیر فعال (Passively) طور پر جڑوں کے ذریعے جذب نہیں ہو سکتی ہیں۔ اس کے دو سبب ہیں: (i) مٹی میں معدنیات چارج شدہ ذرات (آین)کی حالت میں پائے جاتے ہیں جو جھلی سے نہیں گزر سکتے اور (ii) مٹی میں معدنیات کا ارتکاز عموماً جڑوں کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔ اس لیے ایپی ڈرمل خلیوں کے سائیٹوپلازم میں معدنیات کا داخلہ فعّال ٹرانسپورٹ انجذاب کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے اے ٹی پی کی شکل میں توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جڑوں میں واٹر پوٹینشیل ڈھلان کے ہونے کی وجہ کسی حد تک آینوں کا فعّال انجذاب ہے جو ولوج کے ذریعے پانی کے انجذاب کی وجہ بن جاتا ہے۔ کچھ آین ایپی ڈرمل خلیوں میں  غیر فعال طریقے سے بھی منتقل ہوتے ہیں۔
آین مٹی سے غیر فعال اور فعالی دونوں طریقوں سے جذب ہوتے ہیں۔ جڑبال خلیوں کی جھلی میں مخصوص پروٹین آینوں کو مٹی سے ایپی ڈرمل خلیوں کے سائٹو پلازم میں فعال طور پر پمپ کرتی رہتی ہیں۔تمام خلیوں کی طرح، اینڈوڈرمل خلیوں میں کئی ٹرانسپورٹ پروٹین ان کی پلازما جھلی میں جمے رہتے ہیں؛ یہ کچھ محلول کو جھلی سے گزرنے دیتے ہیں اور کچھ کو نہیں۔ اینڈوڈرمل خلیے کے ٹرانسپورٹ پروٹینز، کنٹرول پوائنٹز ہوتے ہیں، جہاں پودا محلول کو مٹی سے جذب کرتا ہے۔ ان کی اقسام اور مقدار کا تعین کرتا ہے۔ خیال رکھیے کہ جڑ کے اینڈوڈرمل خلیوں میں سیوبیرین (Suberin) کی تہہ ہونے کی وجہ سے یہ فعال نقل وحمل صرف ایک ہی سمت میں کر سکتا ہے۔

11.5.2معدنیاتی آینوں کا ٹرانس لوکیشن (Translocation of Mineral Ions)

فعال یا غیرفعال انجذاب یا دونوں عملوں کے ذریعے جب آین زائلم تک پہنچ جاتے ہیں تو اس کے بعد تنے تک اور پھر پودے کے تمام حصوں میں ان کی مزیدنقل و حمل سریان کے بہاؤ کے ذریعے ہوتی ہے۔
معدنی عناصر کی خاص منزل (Sink) پودے کے نمو پذیر حصے ہیں جیسے راسی اور بغلی میریسٹم، نو عمر پتیاں، نموپذیر پھول، پھل، بیج اور ذخیرہ کرنے والے عضو۔ معدنی آینوں کا مہین رگوں کے سروں پر نفوذ کے ذریعے واقع ہو تی ہے اور خلیوں میں فعالی انجذاب ہوتا ہے۔                
معدنی آین عموماً دوبارہ حرکت میں آتے ہیں خاص کر سن رسیدہ اور پرانے حصوں سے۔ پرانی اورمر رہی                 پتیاں اپنے معدنی عناصر کا بیشتر حصہ، نئی اور نو عمر پتیوں کو برآمد کرتی ہیں۔ اسی طرح پت جھڑ میں پتیوں کے گرنے سے پہلے معدنی عناصر پودے کے دوسرے حصوں میں منتقل ہوجاتے ہیں۔ فاسفورس، سلفر، نائٹروجن اور پوٹاشیم وہ عناصر ہیں جو سب سے زیادہ منتقل ہوتے ہیں۔ کیلشیم جیسے ساختی نوعیت کے کچھ عناصر دوبارہ منتقل نہیں ہوتے۔
زائلم کے رساؤ (Exudates) کے تجزیے بتاتے ہیں کہ کچھ نائٹروجن، غیر نامیاتی آینوں کی شکل میں مسافت طے کرتے ہیں مگر بیشتر نائٹروجن نامیاتی امینوایسڈ اور متعلقہ مرکبات کی شکل میں حرکت پذیر ہوتی ہے۔ اسی طرح فاسفورس اور سلفر کے نامیاتی مرکبات کم مقدار میں لے جائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ زائلم اور فلوئلم کے درمیان بھی مادوں کی کچھ مقدار کا مبادلہ ہوتا ہے۔ لہٰذا ہم یہ تفریق نہیں کر سکتے اور نہ ہی یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ زائلم صرف غیر نامیاتی مغذیات کی نقل وحمل کرتا ہے اور فلوئم صرف نامیاتی مغذیات کی جیسا کہ پہلے سمجھا جاتا تھا۔

11.6 فلوئم ٹرانسپورٹ : منبع سے منزل تک بہاؤ

 (Phloem Transport: Flow From Source to Sink)

غذا خاص کر سوکروز وعائی بافت فلوئلم کے ذریعے منبع سے منزل تک پہنچتی ہے۔ عموماً منبع پودے کے اس حصے کو سمجھا جاتا ہے جہاں غذا کی تالیف ہوتی ہے: یعنی پتیاں اور منز
ل اسے جہاں اس کی ضرورت یا اس کا ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ لیکن موسم یا پودے کی ضرورت کے لحاظ سے یہ ترتیب الٹ سکتی ہے۔ جڑوں میں  جمع ہونے والی شکر حرکت میں آکر بہار کے موسم میں درختوں کی کلیوں کی غذا کا ذریعہ بن سکتی ہے اور یہ کلیاں غذا کی منزل بن جاتی ہیں؛ان کو ضیائی تالیفی آلات کی نمو اور بالیدگی کے لیے توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ چونکہ منبع منزل تعلقات تغیر پذیر ہوتے ہیں، فلوئلم میں حرکت کی سمت اوپر یا نیچے کی جانب بھی ہو سکتی ہے یعنی دو سمت۔ یہ زائلم کی متضاد ہے جہاں حرکت ہمیشہ یک سمت ہوتی ہے یعنی اوپر کی طرف۔ لہٰذا، سریان میں پانی یا عرق کے یک سمتی بہاؤ سے غیر مشابہ، فلوئم میں غذائی عرق ضرورت کے مطابق کسی بھی جانب منتقل ہو سکتا ہے جب تک کہ شکر کا منبع موجود ہے اور شکر کو استعمال کرنے، ذخیرہ کرنے اور ہٹانے کے لیے منزل ہے۔
فلوئم کا عرق پانی اور سوکروز پر مشتمل ہوتا ہے، لیکن دوسری شکر، ہارمونز اور امینو ایسڈ بھی فلوئم کے ذریعے منتقل ہوتے ہیں۔

11.6.1 پریشر فلویا ماس فلو مفروضہ                

(The Pressure Flow or Mass Flow Hypothesis)

شکر کے منبع سے منزل تک پہنچانے کے تسلیم شدہ طریقہ کار کو پریشر فلو مفروضہ کہتے ہیں۔ (شکل 11.10)۔ گلوکوز کی تالیف (ضیائی تالیف کے ذریعے)منبع پر ہوتی ہے۔                 یہ سوکروز ڈائی سیکرائڈمیں تبدیل ہو جاتا ہے۔ شکر پھر سوکروز کی شکل میں حرکت کرتی ہے ساتھی خلیوں میں اور اس کے بعد جاندار فلوئم کے سیوٹیوب خلیوں میں فعالی انجذاب کے ذریعے داخل ہوتی ہے۔ منبع پر لدان کے اس عمل سے فلوئم میں ہائپرٹانک حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ ملحق زائلم سے پانی ولوج کے ذریعے فلوئم میں منتقل ہو جاتا ہے۔ جیسے ہی ولوجی دباؤ بنتا ہے، فلوئم کا عرق کم دباؤ والے حصوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔ فلوئم عرق سے سوکروز کو باہر نکال کر خلیوں میں داخل کرنے کے لیے جہاں یہ توانائی نشاستہ (اسٹارچ)یا سیلیولوز میں تبدیل ہو جاتی ہے، فعا ل  نقل وحمل                 کی ضرورت پڑتی ہے جیسے ہی شکر ہٹالی جاتی ہے، ولوجی دباؤ کم ہو جاتا ہے اور پانی فلوئم سے باہر آجاتا ہے۔
مختصراً فلوئم میں شکر کی منتقلی منبع پر شروع ہوتی ہے جہاں شکر (فعال نقل وحمل) سیوٹیوب میں لادی جاتی ہے۔ فلوئم میں لدان واٹرپوٹینشیل ڈھلان بناتا ہے جو فلوئم میں ماس ٹرانسپورٹ میں مدد کرتا ہے۔
فلوئم بافت، سیوٹیوب خلیوں پر مشتمل ہوتا ہے، جو لمبے ستون بناتا ہے جس کے سروں پر سوراخ ہوتے ہیں جنہیں سیوپلیٹ کہتے ہیں۔ ان سوراخوں سے سائٹوپلازمی دھاگے گزرتے ہیں جومسلسل فلامنٹ بناتے ہیں۔ جیسے ہی فلوئم سیوٹیوب میں آپ سکونی دباؤ بڑھتا ہے، دباؤ کی وجہ سے بہاؤ شروع ہوتا ہے اور فلوئم میں عرق حرکت میں آجاتا ہے۔ اس درمیان میں منزل پر آنے والی شکر فعال نقل وحمل کے ذریعے فلوئم پیچیدہ کاربوہائیڈریٹ کی شکل میں باہر
Pic12 Capture11
شکل 11.10  ٹرانسلوکیشن کے میکانزم کا تصویری خاکہ                
                آجاتی ہے۔                
محلول کے نقصان پر فلوئم میں واٹرپوٹینشیل بڑھ جاتا ہے اور پانی باہرآجاتا ہے اور آخر کار زائلم میں واپس داخل ہو جاتا ہے۔ غذا کی نقل وحمل کرنے والے بافت کی شناخت کے لیے ایک آسان تجربہ استعمال کیا گیا جسے ’’گرڈلنگ‘‘ کہتے ہیں ۔ ایک درخت کے تنے کی چھال میں فلوئم تہہ کی گہرائی تک انگوٹھی نما حلقہ احتیاط سے کاٹ کر ہٹا دیا گیا۔ کچھ ہفتوں بعد نیچے کی جانب غذا کی منتقلی نہ ہو پانے کی وجہ سے انگوٹھی نما حلقے کے اوپری جانب کا حصہ پھول جاتا ہے۔ یہ آسان تجربہ بتاتا ہے کہ فلوئم وہ بافت ہے جو غذا کے ٹرانسلوکیشن کے لیے ذمہ دار ہے اور یہ ٹرانسپورٹ یک سمتی ہے یعنی جڑوں کی طرف۔ یہ تجربہ آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔

خلاصہ                

پودے اپنے اطراف خاص طور سے ہوا، پانی اور مٹی سے مختلف قسم کے غیر نامیاتی عناصر (آینوں) اور نمکیات کوحاصل کرتے ہیں۔ ان غذائی عناصر کی ماحول سے پودوں میں اور پودے کے ایک خلیے سے دوسرے خلیے میں منتقلی خلوی جھلّی سے گزر کر ہوتی ہے۔ جھلی کے پار گزرنے کا عمل نفوذ، امدادی نقل وحمل یا فعال نقل وحمل کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔ جڑ کے ذریعے جذب ہوا پانی اور معدنیات زائلم کے ذریعے ٹرانسپورٹ ہوتا ہے اور پتیوں میں تالیف ہونے والے نامیاتی مادے فلوئم کے ذریعے پودے کے دوسرے حصوں میں ٹرانسپورٹ ہوتے ہیں۔
جاندار عضویوں میں، غیر فعال ٹرانسپورٹ (نفوذ اور ولوج) اور فعّال نقل و حمل ، غذا کی جھلی کے پار نقل وحمل کے دو ذرائع ہیں۔ غیرفعال                 ٹرانسپورٹ کے دو ذرائع ہیں۔ غیر فعال ٹرانسپورٹ میں، توانائی کے استعمال کے بغیر، غذا جھلی کے پار نفوذ کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔ چونکہ یہ ہمیشہ ارتکازی ڈھلان کے ساتھ ہوتی ہے لہٰذا اینٹروپی (Entropy) کی مدد سے انجام پذیر ہوتی ہے۔ مادے کا یہ نفوذ اس کے سائز، پانی میں حل پذیری یا نامیاتی محلل پر منحصر ہوتی ہے۔ ولوج ایک خاص طرح کا نفوذ ہے جس میں پانی نیم سرائیت پذیر جھلی کے پار حرکت کرتا ہے اور یہ پریشر ڈھلان اور ارتکازی ڈھلان پر منحصر ہوتا ہے۔ فعال نقل وحمل  میں، سالموں کو ارتکاز ڈھلان کے خلاف جھلی کے پار پہنچانے کے لیے اے ٹی پی کی شکل میں توانائی استعمال ہوتی ہے۔ واٹر پوٹینشیل، پانی کی مضمر توانائی ہے جو پانی کی حرکت میں مدد کرتی ہے۔ اس کا تعین منحل پوٹینشیل اور پریشر پوٹینشیل کے ذریعے ہوتا ہے۔ خلیوں کا رویہ اطراف کے محلول پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر خلیے کے اطراف کا محلول ہائپرٹانک ہے تو خلیہ میں پلازمولِسس ہے۔ بیج اور سوکھی لکڑیوں میں پانی کا انجذاب ایک قسم کے نفوذ                 کے ذریعے ہوتا ہے جسے ایمبی بشن کہتے ہیں۔
بڑے پودوں میں ٹرانسلوکیشن کے لیے وعائی نظام، زائلم اور فلوئم ذمہ دار ہے۔ پودے کے جسم کے اندر پانی، معدنیات اور غذا صرف نفوذ کے ذریعے حرکت میں نہیں آسکتی۔ اس لیے وہ ماس فلونظام کے ذریعے ٹرانسپورٹ ہوتے ہیں، یعنی دو نقطوں  کے درمیان دباؤ میں فرق کے نتیجے میں مادوں کا بڑی مقدار میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنا۔
جڑبالوں کے ذریعے انجذابی پانی جڑوں کی عمیق گہرائیوں میں دو نمایاں راستوں کے ذریعے پہنچتا ہے: یعنی ایپوپلاسٹ اور سمپلاسٹ۔ جڑدباؤکے ذریعے تنوں میں آین (Ions) اور پانی، مٹی میں جذب ہو کر کچھ ہی اونچائی تک جاسکتے ہیں۔ پانی کے ٹرانسپورٹ کو سمجھانے کے لیے سب سے زیادہ تسلیم شدہ سریانی کھنچاؤ ماڈل ہے۔ پودوں کے حصوں سے بخارات کی شکل میں اسٹومیٹاسے نکلنے والے پانی کے نقصان کوسریان کہتے ہیں۔ اس کی شرح کو درجۂ حرارت، روشنی، رطوبت، ہواکی رفتار اور اسٹومیٹا کی تعداد متاثر کرتی ہیں۔ زائد پانی پتیوں کی نوک اور حاشیوں سے بھی خارج ہوتا ہے جسے قطرہ ریزی (Guttation)کہتے ہیں۔
غذا ئی(بنیادی طور پر) سوکروز کی منبع سے منزل تک کا نقل وحمل                 فلوئم کے ذریعے عمل میں آتی ہے۔ فلوئم میں ٹرانسپورٹ دو سمتی ہوتا ہے۔ منبع منزل میں تغیری تعلق ہوتا ہے۔ فلوئم میں ٹرانسلوکیشن کو پریشر فلومفروضے کے ذریعے سمجھا جاسکتا ہے۔

مشق

کون سے عوامل اسباب نفوذ کی شرح کو متاثر کرتے ہیں؟
پورنز (Porins)کیا ہیں؟ یہ نفوذ میں کیا کردار ادا کرتے ہیں؟
پودوں میں فعال نقل وحمل کے دوران پروٹین پمپ کے ذریعے ادا کیے جانے والے کردار کی وضاحت کیجیے۔
خالص پانی کا واٹرپوٹینشیل سب سے زیادہ کیوں ہوتا ہے؟ سمجھا کر لکھیے۔
مندرجہ ذیل میں تفریق کیجیے:
(i) نفوذ اور ولوج
(ii) سریان اور عملِ تبخیر
(iii) ولوجی دباؤ اور ولوجی پوٹینشیل
(iv) ایمبی بشن اور نفوذ
(v) پودوں میں پانی کی حرکت کے لیے ایپوپلاسٹ اور سمپلاسٹ پاتھ وے
(vi) قطرہ ریزی اور سریان۔
واٹرپوٹینشیل کو مختصراً بیان کیجیے۔ کون سے عوامل اس کو متاثر کرتے ہیں؟
خالص پانی یا محلول پر فضائی دباؤ سے زیادہ دباؤ ڈالا جاتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟
(i) لیبل شدہ ڈائیگرام کی مدد سے پودوں میں پلازمولسس عمل کو بیان کیجیے؟ مناسب مثالیں دیجیے۔
(ii) سمجھائیے کہ اگر نباتی خلیے کو زیادہ واٹرپوٹینشیل والے محلول میں رکھا جائے تو کیا ہوگا؟
پودوں میں پانی اور معدنیات کے انجذاب میں مائیکورائزا کس طرح مدد کرتا ہے۔
10۔ پودوں میں پانی کی نقل و حمل میں جڑدباؤ کیا کردار ادا کرتا ہے؟
11۔ پودوں میں پانی کی نقل وحمل کے لیے سریانی کھنچاؤ ماڈل کو بیان کیجیے۔ کون سے عوامل کو سریان کو متاثر کرتے ہیں؟ یہ پودوں کے لیے کس طرح مفید ہے؟
12۔ پودوں میں زائلم عرق کے فراز کے لیے ذمہ دار اسباب کے بارے میں بحث کیجیے۔
13۔ پودوں میں معدنی انجذاب کے دوران جڑ کی اینڈو ڈرمس کون سا لازمی کردار ادا کرتی ہے؟
14۔ سمجھائیے کہ کیوں زائلم نقل وحملیک سمتی اور فلوئلم ٹرانسپورٹ دو سمتی ہوتا ہے ؟
15۔ پودوں میں شکر کے ٹرانسلوکیشن کے لیے پریشر فلو مفروضے کو سمجھائیے۔
16۔ سریان کے دوران اسٹومیٹا کے گارڈ خلیوں کے کھلنے اور بند ہونے کی کیا وجوہات ہیں؟