باب2 1
معدنی تغذیہ
(Mineral Nutrition)
12.1 پودوں میں معدنیاتی ضروریات کا مطالعہ کرنے کے طریقے
12.2 لازمی معدنی عناصر
12.3 عناصر کے انجذاب کا طریقہ کار
12.4 منحل کا ٹرانسلوکیشن
12.5 مٹی لازمی عناصر کا ذخیرہ
12.6 نائٹروجن کا تحول
سبھی جاندار عضویوں کی بنیادی ضروریات یکساں ہوتی ہیں۔ انھیں اپنی نمو اور نشو و نما کے لیے بڑے سالموں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے کہ کاربوہائڈریٹ، پروٹین، چربی، پانی اور معدنیات۔
یہ باب خاص طور سے پودوں کے غیر نامیاتی تغذیہ کے بارے میں بحث کرتا ہے۔ جس میں آپ پودوں کی نمو اور نشو ونما کے لیے لازمی عناصر کو پہچاننے کے طریقوں اور ان کی ضرورت کو متعین کرنے والے معیارات کا مطالعہ کریں گے۔ آپ لازمی عناصر کے کردار، ان کی کمی کی علامات، ان کے انجذاب کی طریقہ کار کا بھی مطالعہ کریں گے۔ یہ باب آپ کو حیاتیاتی نائٹروجن تثبیت کے بارے میں مختصراً متعارف کرائے گا۔
12.1 پودوں کی معدنیاتی ضروریات کے مطالعہ کےطریقے (Methods to Study the Mineral Requirements of Plants)
1860 میں جرمنی کے ممتاز ماہر نباتیات جولیس ساکس نے پہلی بار یہ دکھایا کہ ایک پودے کو مٹی کی عدم موجودگی میں غذائیت والے محلول میں پختگی حاصل کرنے تک اگایا جاسکتا ہے۔ اسی تکنیک کو آبی کاشت (Hydroponics) کہتے ہیں۔ ان سب میں پودوں کو غذائیت والے محلول میں مٹی کے بغیر ہی اگایا گیا۔اس کے بعد سے پودوں میں مغذیات کی ضرورت کا تعین کرنے کے لیے کئی عمدہ طریقے دریافت کیے گئے ان طریقوں میں خالص پانی اور معدنیاتی مغذیات کی ضرورت ہوتی ہے کیا آپ اس بات کی وضاحت کر سکتے ہیں کہ یہ اتنا ضروری کیوں ہے؟
سلسلے وار تجربات کے تحت جس میں پودے کی جڑوں کو مغذیاتی محلول میں ڈبویا گیا اور اس میں ایک عنصر کو ڈالا گیا یا اوراس میں سے نکالا گیا یا ان عناصر کے مختلف ارتکازوالے محلول میں رکھا گیا اور اس طرح پودے کی نمو کے لیے ایک موزوں غذائی محلول حاصل ہوا۔ اس طریقے کے ذریعے لازمی عناصرکی شناخت اور ان کی کمی کے باعث پیدا ہونے والی علامات کی دریافت ہوئی۔ ہائڈرویونکس ٹیکنیک کو سلاد، بغیر بیج والے کھیرے اور ٹماٹر جیسی سبزیوں کو تجارتی پیمانے پر پیدا کرنے کے لیے کامیابی سے استعمال کیا گیا ۔ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ پودے کی مناسب نمو کے لیے غذائی محلول میں ہوائی بھرپور مقدارداخل ہوتی رہے۔ بتائیے اگر اس محلول میں ہوا کی مناسب مقدار نہ ہو تو کیا نتائج ہوں گے؟ ہائیڈو پونکس تکنیک کا تصویری خاکہ شکل 12.1 اور 12.2 میں دیا گیا ہے۔
شکل 12.1 مغذیاتی محلول کلچر کے لیے مثالی کا خاکہ
شکل 12.2 ہائڈروپونک (Hydroponic) تکنیک سے پودے کی پیداوار۔ پودوں کو ٹیوب یا ٹرے میں اگا کر ایک ڈھلواں سطح پر رکھا جاتا ہے۔ ایک پمپ کے ذریعے مغذیاتی محلول کو ایک چھوٹے ٹینک سے اس ٹیوب کے اوپری کنارے پر پہنچایا جاتا ہے۔ محلول ڈھلان اور کشش ثقل کی وجہ سے نیچے کی جانب بہنے لگتا ہے اور واپس اسی ٹینک میں آ جاتا ہے۔ انسیٹ میں ایک پودا دکھایا گیا ہے جس کی جڑیں مسلسل ہوا آمیزمغذیاتی محلول سے تر رہتی ہیں۔ تیروں کی مدد سے محلول کے بہاؤ کے رخ کو دکھایا گیا ہے۔
12.2 ضروری معدنی عناصر
(Essential Mineral Elements)
مٹی میں موجوداکثر معدنیات پودوں کے اندر جڑوں کے ذریعہ داخل ہوتے ہیں۔ دریافت کیے گئے 105 عناصر میں سے 60 سے بھی زیادہ عناصر پودوں میں پائے جاتے ہیں۔ پودوں کی کچھ انواع سیلینیم کا ذخیرہ کرتی ہیں، تو کچھ سونے کا جبکہ وہ پودے جونیوکلیائی تجربات کے مقامات کے آس پاس اگتے ہیں وہ تابکار اسٹرونشیم تک کو جذب کر لیتے ہیں۔ اب ایسی تکنیک دستیاب ہے جو معدنیات کے بہت قلیل ارتکاز
کو بھی معلوم کرلیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ تمام طرح کے معدنیات جو پودے میں موجود ہوتے ہیں مثلاً سونا اور سیلینیم، کیا پودے کے لیے لازمی ہیں۔ ہم اس بات کا فیصلہ کیسے کریں کہ پودوں کے لیے کون سے معدنیات ضروری ہیں اور کون سے نہیں؟
12.2.1 لازمی ہونے کے معیارات
(Criteria for Essentiality)
کسی عنصر کے لازمی ہونے کے معیارات مندرجہ ذیل ہیں۔
(a) یہ عنصر پودوں کی عام نشوو نما اور تولید کے لیے بے حد ضروری ہو۔ اس عنصر کے بغیر پودے کا دور حیات پورا نہ ہوسکے گا یا اس میں بیج نہیں بن سکیں گے۔
(b) اس عنصر کی ضرورت خصوصی ہونی چاہیے اور کسی دوسرے عنصر سے اس کا بدل ممکن نہ ہو۔ بالفاظ دیگرکسی ایک عنصر کی کمی ہونے پر دوسرا عنصر مہیّا کرانے سے ضرورت پوری نہیں ہو سکتی ہو۔
(c) عنصر پودے کے تحول میں براہ راست ملوث ہونا چاہیے۔
مذکورہ بالا معیارات کی بنیاد پر چند عناصرہی پودوں کی نمواور تحویل کے لیے لازمی قرار دیے گئے ہیں۔ ان عناصر کو ان کی ضروریات کی بنا پر مزید دو وسیع زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
(i) کلاں مغذیات (Macronutrients)، اور
(ii) خرد مغذیات (Micronutrients)
کلاں مغذیات پودوں میں عموماً زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں (خشک وزن کا 10m mole kg1سے زیادہ) میکروخرد مغذیات میں کاربن ہائیڈروجن، آکسیجن، نائٹروجن، فاسفورس، سلفر، پوٹیشیم، کیلشیم اور میگنیشیم شامل ہیں۔ ان میں سے کاربن ہائیڈروجن اور آکسیجن CO2 اور H2O سے حاصل ہوتے ہیں، جبکہ بقیہ مٹی سے معدنیات کی شکل میں جذب کیے جاتے ہیں۔
خرد مغذیات یا قلیل عناصر کی بہت ہی کم مقدار میں ضرورت ہوتی ہے(0.1 ملی گرام فی لیٹرخشک وزن کے برابر یا اس سے کم)۔ ان میں لوہا، مینگنیز، تانبہ، مولب ڈینم، زنک، بوران،کلورین، اور نکل شامل ہیں۔
17 لازمی عناصر جن کے نام اوپر دئیے گئے ہیں، ان کے علاوہ کچھ اور مفید عناصر بھی ہیں جیسے سوڈیم، سلی کان، کوبالٹ، سلینیم۔ ان کی ضرورت بڑے پودوں کو ہوتی ہے۔
لازمی عناصر کو چار بڑے گروپوں میں رکھا جاسکتا ہے۔ یہ گروہ بندی ان کے کام کی بنا پر کی گئی ہے۔
(i) لازمی عناصر حیاتیاتی سالمات کے اجزا ہیں لہٰذا خلیے کے ساختی اجزا ہیں۔(مثلاً کاربن، ہائڈروجن، آکسیجن اور نائٹروجن)
(ii) لازمی عناصر جو پودوں میں توانائی سے متعلق کیمیائی مرکبات کے اجزا ہیں (جیسے میگنیشیم میں کلوروفل میں ہونا اور فاسفورس ATP کا ہونا۔)
(iii) لازمی عناصر جو خامرے کو عمل انگیز بناتے ہیں یا پھر ان کے کام کی فراحمت کرتے ہیں جیسے کہ +Mg2 رابیونوربائی فاسفیٹ کاربوکسیلیز اور فاسفوانیول پائیروومٹ کاربوکسیلیز دونوں کے لیے محرک کا کام کرتاہے۔ نائٹروجن تحویل کے دوران ضیائی تالیف کے دوران کاربن کی تبثیت کے لیے اہم ہیں، +Zn2 الکوحل ڈیہائڈروجینزکے لیے کام کرتا ہے یہ دونوں انزائم نائٹروجنیز کو فعال بناتے ہیں۔ کیا آپ ایسے مزید عناصر کے نام بتاسکتے ہیں جو اس زمرے میں آتے ہیں؟ اس کے لیے آپ کو ان حیاتیاتی کیمیائی راستوں کو یاد کرنا پڑے گا جو آپ پہلے پڑھ چکے ہیں۔
(iv) کچھ لازمی عناصر خلیہ کے ولوجی مضمر(Osmotic Potential)کو تبدیل کرتے ہیں۔ جو اسٹومیٹا کے کھلنے اور بند ہونے میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ خلیے کا تعین کرنے کے لیے آپ منحل کے طور پر معدنیات کے کردار کو یاد کیجیے۔
12.2.2 کلاں اور خرد مغذیات کا کردار (Role of Macro- and Micro- Nutrients)
لازمی عناصر کئی رول ادا کرتے ہیں۔ یہ پودے کے خلیوں کے مختلف تحولی عملیات میں حصہ لیتے ہیں مثلاً خلیہ جھلی کے سرائیت پذیری، خلیہ مائع کے ولوجی ارتکاز کو قائم رکھنا، الیکٹران ٹرانسپورٹ سسٹم، بفرینگ ایکشن، خامراتی عمل اور میکرومالیکیولز اور کوائنرائیم کے اہم جز بھی ہوتے ہیں۔
معدنیاتی عناصر کی مختلف شکلیں اور کامندرجہ ذیل ہیں۔
نائٹروجن (Nitrogen : یہ ایسا معدنیاتی عنصر ہے جو پودے کو سب سے زیادہ مقدار میں درکار ہوتا ہے۔ اس کا انجذاب خاص طورپر
کی صورت میں ہوتاہے لیکن کچھ مقدار
نائٹروجن پودے کے ہر حصہ کے لیے ضروری ہے، خاص طور سے منقسمی بافتوں اور تحولی طور پر فعال خلیوں کے لیے۔ نائٹروجن پروٹین، نیوکلیائی تیزاب، ٹامن اور ہارمونس کا اہم جزو ہے۔
فاسفورس (Phosphorus) : پودے فاسفورس کو مٹی سے فاسفیٹ آینوں
کی صورت میں جذب کرتے ہیں۔ فاسفورس خلیہ جھلّی، کچھ پروٹینز، سارے نیوکلیائی تیزابوں اور نیوکلیوٹایڈس کا جزوترکیبی ہے اور سارے فاسفورائلیشن تعاملوں کے لیے ضروری ہے۔
پوٹاشیم (Potassium) : یہ پوٹاشیم آینوں (+K) کی شکل میں جذب ہوتا ہے۔ پودوں میں یہ منقسمی بافتوں، پتوں، جڑوں کے سروں اور کونپلوں میں بہت زیادہ مقدار میں درکار ہوتا ہے۔یہ خلیوں کے اندر پوٹاشیم این آین –کیٹ آین توازن کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ پروٹین کے بننے اور اسٹومیٹا کے کھلنے اور بند ہونے، خامرے کو افعا بنانے اور خلیوں کی ٹرجیڈیٹی کو برقرار رکھنے میں کام آتا ہے۔
کیلشیم (Calcium) : پودے کیلشیم کوکیلشیم آینوں (+Ca2)کی شکل میں جذب کرتے ہیں۔ منقسمی اور تفریق پذیر بافتوں کو کیلشیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ خلوی تقسیم کے دوران یہ خلوی دیوارکی تالیف، خاص طور سے درمیانی لیمیلا میں کیلشیم پیکیٹیٹ کے طور پر کام آتا ہے۔ یہ مائٹوٹک اسپنڈل کے بننے کے دوران بھی کام آتا ہے اور پرانی پتیوں میں رہتاہے۔ خلوی جھلّی کی کارکردگی میں بھی کیلشیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ کچھ خامروں کو فعال بنانے میں مدد دیتا ہے اور تحول کو باقاعدہ بنانے میں بھی اہم رول ادا کرتا ہے۔
میگنیشیم (Magnesium): پودے اسے دوگرفتی میگنیشیم آین(+Mg2) کی صورت میں جذب کر لیتے ہیں۔ یہ ضیائی تالیف اور تنفس میں حصّہ لینے والے خامروں کو عمل انگیز کرتا ہے اور RNA,DNA کے بننے میں شامل ہوتا ہے۔ میگنیشیم کلوروفل کے کی حلقہ دار ساخت کا ایک حصہ ہے اور رائبوزوم کی ساخت کو برقرار رکھنے میں بھی رول ادا کرتا ہے۔
سلفر (Sulphur): پودے سلفر کو سلفیٹ
کی صورت میں جذب کر لیتے ہیں۔ سلفر دو امینوں ایسڈز سسٹین اور میتھائیونین میں پایا جاتا ہے۔ کافی سارے کوانزائم، وٹامنس (Thiamine, Biotin, Coenzyme A) اور فیرے ڈاکسین کااہم جزوہے۔
لوہا (Iron) : پودے آئرن کوفیرک آئنز (+Fe3)کی صورت میں جذب کرتے ہیں۔ دوسرے خرد مغذیات کے مقابلے میں اس کی سب سے زیادہ مقدار میں ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ان پروٹین کا اہم حصہ ہے جو کہ الیکٹران کے نقل وحمل میں کام آتے ہیں جیسے کہ فیرے ڈاکسین اور سائٹوکرومز- الیکٹران ٹرانسفر کے دوران اس کی +Fe2سے +Fe3میں تکسید ہوجاتی ہے۔ یہ کیٹالیس انزائم کو تحریک دیتا ہے اور کلوروفل کے بننے میں کام آتا ہے
مینگنیز (Manganese) : اسے میگنیشیم آینوں(+Mn2) کی صورت میں جذب کیا جاتا ہے اور تنفس، ضیائی تالیف اور نائٹروجن کے تحول میں شامل انزائموں کو فعال بناتا ہے۔ یہ ضیائی تالیف کے دوران آکسیجن خارج کرنے کے لیے پانی کے ٹوٹنے میں اہم رول ادا کرتا ہے۔
زِنک (Zinc) : پودوں کو زنک +Zn2آینوںکی صورت میں حاصل ہوتا ہے اور یہ بہت سے خامروں کو خاص طور سے کاربوکسیلیز کو تحریک دیتا ہے اورآکِسن (Auxin) کے بننے میں بھی کام آتا ہے۔
تانبہ (Copper) : یہ کیوپرک آینوں( Cu2+) (Cupric Ions)
کی صورت میں جذب کیا جاتا ہے۔ یہ پودے میں مجموعی تحول کے لیے ضروری ہے۔ لوہے کی طرح یہ بھی ریڈوکس تعاملات میں مخصوص انزائموں کے ساتھ شامل رہتا ہے اور رجعتی طور پر اس کی +Cu سے +Cu2 میں تکسید ہوجاتی ہے+Cuسے +Cu2 میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
بورون (Boron) : اسے
کی صورت میں جذب کیا جاتا ہے۔ بورون +Ca2کوجذب کرنے اور اسے استعمال کرنے، جھلی کے کام کرنے، خلیوں کے لمبا ہونے، خلوی تفریق اور کاربوہائڈریٹ کے نقل وحمل ،پولن جرمنیشن (pollen germination)کے لیے لازمی ہے۔
مولیبڈینم (Molybdenum) :یہ مولیبڈیٹ آینوں (Molybdate Ions)
کی صورت میں جذب ہوتا ہے۔ یہ بہت سے خامروں کاجزو ہے جیسے کہ نائٹروجینیز اور نائٹریٹ ریڈکٹیز جونائٹروجن کے تحول میں حصّہ لیتے ہیں۔
کلورین (Chlorine) :یہ کلورائڈ آینوں (Chloride Anion) (Cl–)کی صورت میں جذب ہوتا ہے۔+Na اور+K کے ہمراہ یہ خلیوں میں منحل کے ارتکاز کو متعین کرنیکٹائین- انائین توازن کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ ضیائی تالیف میں H2O کے ٹوٹنے میں کلورین کا اہم رول ہے۔ جس کے نتیجے میں آکسیجن پیدا ہوتی ہے۔
12.2.3 لازمی عناصر کی کمی کی علامات
(Deficiency Symptoms of Essential Elements)
جب بھی کسی لازمی عنصر کی مقدار کم ہو جاتی ہے تو پودے کا بڑھنا کم ہو جاتا ہے۔ لازمی عنصر کا وہ ارتکاز جس کے کم ہونے پر پودوں کی نشو ونما رک جاتی ہے اسے فاصل ارتکازCritical Concentration) (کہتے ہیں۔ اگرپودوں میں ان کی مقدار فاصل ارتکاز سے کم ہوجاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ پودے میں اس عنصر کی قلت ہے ۔چونکہ پودے میں ہر عنصر کا ایک یا ایک سے زیادہ ساختی یا فعلیاتی کردار ہیں، لہٰذا کسی ایک عنصر کی کمی ہونے سے پودے میں کچھ ساختی تبدیلیاں ظاہر ہوجاتی ہیں۔ یہ ساختی تبدیلیاں کسی عنصر کی کمی کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور ان کوعلامات قلت(Deficiency Symptoms)کہتے ہیں۔ یہ علامات قلت مختلف عناصر کے لیے مختلف ہوتی ہیں۔ ان عناصر کی کمی کی علامت پودے میں صاف نظر آتی ہیں اور جیسے ہی اس عنصر کی مقدار بڑھائی جاتی ہے یہ علامات غائب ہو جاتی ہیں۔ لیکن اگر یہ کمی برقرار رہے تو پودا مرسکتا ہے۔ پودے کا کون سا حصہ علامت قلت کا اظہار کرے گا اس کا انحصار پودے میں عناصر کی حرکت پذیری پر ہوتا ہے۔ پودوں میں جہاں عناصر فعال طور پر حرکت پذیر رہتے ہیں اور جوان نمو پذیر بافتوں میں چلے جاتے ہیں وہاں کمی کی علامات پرانے بافتوں میں پہلے نظر آتی ہیں۔ مثال کے طور پر پوٹیشیم، نائٹروجن اور میگنیشیم کی کمی کی علامات پہلے پرانے پتوں میں نظر آتی ہیں۔ پرانے پتوں کے اندر ایسے حیاتی سالمات جن میں یہ عناصر موجود ہوتے ہیں، ٹوٹ کر انہیں نئے پتوں کو پہنچاتے ہیں۔
جب عناصر غیر متحرک ہوتے ہیں اور پختہ اعضا سے باہر ان کی نقل وحمل نہیں ہوتی تو کمی کی علامات نئی بافتوں میں نظر آتی ہیں جیسے کہ سلفر اور کیلشیم جو کہ خلیوں کی ساختی اجزا کا حصہ ہیں اور اس لیے ان کا اخراج آسان نہیں ہوتا۔ پودوں میں معدنیاتی تغذیہ کا یہ پہلو ذراعت اور باغبانی کے لیے بہت اہمت کا حامل ہے۔
پودوں میں لازمی عناصر کی کمی کی علامات یہ ہیں : کلوروسس، نیکروسس، نشوونما کا رک جانا، وقت سے پہلے پتوں اور کونپلوں کا جھڑ جانا اور خلیوں کی تقسیم میں رکاوٹ۔ کلوروسس کا مطلب ہے کلوروفل کا گھٹ جانا اور پتوں کا زرد ہو جانا۔یہ علامات ،Zn، Mn، Fe، S، Mg،K، N اور Mo کی کمی کی ہیں۔ اسی طرح سے نیکروسس کا مطلب بافتوں کا بے جان ہو جانا ہے اور یہ K، Cu، Mg، Ca،کی کمی کی علامت ہے۔Mo،N،K،S کی کم مقدار یا عدم موجودگی کی وجہ سے خلیوں کی تقسیم رک جاتی ہے۔مثلاً Mo،S،Nجیسے کچھ عناصر کے ارتکاز کی کمی سے پھول کافی دیر سے کھلتے ہیں ۔
مندرجہ بالا بحث میں آپ نے دیکھا کہ کسی عنصر کی کمی کے باعث کئی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں اور وہ علامت ایک یا مختلف عناصر کی کمی کی وجہ سے ظاہر ہو سکتی ہے۔ لہٰذا جس عنصر کی قلت ہے اس کی پہچان کے لیے پودے کے مختلف حصوں میں ظاہر ہونے والی تمام علامات کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور اس کا موازنہ موجودہ معیاری جدول سے ہے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ایک ہی عنصر کی کمی کے باعث مختلف پودوں کا رد عمل مختلف ہوتا ہے۔
12.2.4 خرد مغذیات کی سمیت (Toxicity of Micronutrients)
خرد مغذیات کی ضرورت ہمیشہ کم مقدار میں ہوتی ہے۔ان کی تھوڑی سی کمی علامات قلت کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ اور ذراسی زیادتی ان میں سمیت پیدا کردیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ عناصر ایک چھوٹی رینج میں ہی مناسب طور پر کام کرتے ہیں۔ معدنی آئن کا وہ ارتکاز جو بافتوں کے خشک وزن میں دس فیصدی تک کی کمی کر دیتا ہے سمّی مانا جاتا ہے۔ یہ فاصل ارتکاز مختلف خرد مغذیات میں مختلف ہوتا ہے۔ سمّی علامات کو پہچاننا بہت ہی مشکل ہے۔ کسی عنصر کی سمیت بھی ایک پودے سے دوسرے پودے میں بدلتی رہتی ہے۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک عنصر کی زیادتی کی وجہ سے دوسرے عنصر کو جذب کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ Mn کی کمی کی وجہ سے کلوروٹک ورید) (Chlorotic Viens کے آس پاس بھورے رنگ کے دھبے پڑ جاتے ہیں۔ Mn، Feاور Mg کے ساتھ جذب ہونے کے لیے اور Mg کے ساتھ خامروں سے جڑجانے کے لیے مقابلہ کرتا ہے۔ تنوں کے سروں میں Mn کیلشیم کے نقل وحمل کو بھی روکتا ہے۔ اس لیے Mn کی زیادتی سے لوہے Mg اور کیلشیم کی کمی ہو جاتی ہے۔ لہٰذا جو علامت ہمیں مینگنیز کی کمی کی وجہ سے نظر آتی ہے در اصل وہ لوہے، میگنیشیم اور کیلشیم کی کمی کی علامات ہیں۔ کیا یہ معلومات کسان، باغبان یا پھر خود آپ کو آپ کے اپنے باغ کے لیے کسی طور پر کام آسکتی ہے۔
12.3عناصر کے انجذاب کا طریقہ کار
(Mechanism of Absorption of Elements)
پودوں کے ذریعے عناصر کے انجذاب کی طریقہ کار کا بیشتر مطالعہ علاحدہ خلیوں بافتوں اوراعضاپر کیا گیا ہے۔ ان مطالعوں سے معلوم ہوا کہ انجذاب کے عمل کو دو مرحلوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ پہلے مرحلے میں آین خلیوں کی خالی جگہ (ایپوپلاسٹ) میں تیزی سے داخل ہوتے ہیں، یہ عمل غیر فعال طور پر (Passively) ہوتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں آین سست رفتار سے خلیوں کے اندرون(Symplast) میں داخل ہوتے ہیں۔ ایپوپلاسٹ میں آینوں کی غیرفعال حرکت عموماً آین چینلوں کے ذریعہ ہوتی ہے جوٹرانس جھلی پروٹیں ہیں اور انتخابی سوراخ کی طرح کام کرتے ہیں۔ دوسری طرف سمپلاسٹ میں آینوں کے داخل ہونے اور باہر آنے کے لیے تحویل توانائی کی ضرورت ہوتی ہے جو ایک فعال طریقہ کار ہے۔ آینوں کی حرکت کو فلکس کہتے ہیں، خلیوں کے اندر داخل ہونا انفلکس (Influx)کہلاتا ہے اور ان سے باہر نکلنا ایفلکس (Efflux)کہلاتا ہے۔ آپ پودوں میں معدنی مغذیات کے انجذاب اور ان کی پار منتقلی کے بارے میں باب 11 میں پڑھ چکے ہیں۔
12.4منحلوں کی پار منتقلی (Translocation of Solutes)
معدنیاتی منحلوں کی پار منتقلی زائلم کے ذریعہ سے ہوتی ہے جو پانی کے ساتھ سریانی کھینچاؤ سے اوپر جاتے ہیں۔ اگر زائلم رس(مائع) کی جانچ کی جائے تو ان میں معدنیاتی نمک کی موجودگی ملے گی۔معدنی عناصر کے ریڈیو آئی سوٹوپس کا استعمال کرکے بھی زائیلم کے رس(مائع) میں معدنیاتی نمک کی موجودگی کا ثبوت مل جائے گا۔ آپ پہلے ہی باب11 میں زائلم میں پانی کی نقل وحمل کا ذکر کر چکے ہیں۔
12.5 مٹی ضروری عناصر کے ذخیرہ کے طور پر
(Soil As Reservoir Of Essential Elements)
زیادہ تر معدنیات جو کہ پودے کی نشوونماکے لیے ضروری ہیں انہیں پودوں کی جڑیں چٹانوں کی فرسودگی سے حاصل کرتی ہیں۔ ان عملوں کی وجہ سے مٹی غیر نامیاتی نمکوں اور حل شدہ آینوں سے مالا مال ہوجاتی ہے۔ چونکہ انھیں چٹانی معدنیات سے حاصل کیا جاتا ہے لہٰذا پودوں کے تغذئیے میں ان کے رول کو معدنیاتی تغذیہ کہتے ہیں۔ مٹی میں متعدد اشیا ہوتی ہیں۔ مٹی میں صرف معدنیات ہی نہیں بلکہ نائٹروجن کو تثبیت کرنے والے بیکٹیریا بھی ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ مٹی میں دیگر جراثیم بھی پائے جاتے ہیں اور یہ پانی کوروک کر رکھتی ہے۔ جڑوں کو ہوا مہیا کرتی ہے اور پودے کو کھڑا رہنے میں مدد کرتی ہے۔ چونکہ لازمی معدنیات کی کمی فصل کی پیداوار کومتاثر کرتی ہے اس لیے مٹی میں فرٹیلائزر ملانے کی ضرورت پیش آ جاتی ہے۔ فرٹیلائزر میں میکرو مغذیات (N,P,K,S) اور مائکرو مغذیات(Cu,Zn,Fre,Mn) دونوں ہوتے ہیں اور انہیں حسب ضرورت استعمال کیا جاتا ہے۔
12.6 نائٹروجن کا تحول
(Metabolism of Nitrogen)
12.6.1 نائٹروجن سائیکل (Nitrogen Cycle)
کاربن، ہائیڈروجن اور آکسیجن کے علاوہ،جانداراجسام میں نائٹروجن اہم ترین عنصر ہے۔ نائٹروجن، امینو ایسڈ، پروٹین، ہارمون، کلوروفل اور بہت سے وٹا منوں کا جز وترکیبی ہے۔ مٹی میں موجودمحدود نائٹروجن کے لیے پودے، خرد عضویوں سے مقابلہ کرتے ہیں۔ لہٰذا قدرتی اور ذراعتی ماحولیاتی نظام دونوں کے لیے نائٹروجن ایک تحدیدی مغذی ہے۔ نائٹروجن، دو نائٹروجن ایٹموں پرمشتمل ہوتی ہے جو قوی تہرے شریک گرفت بانڈ سے جڑے رہتے ہیں (N ≡ N) نائٹروجن(N2) کا امونیا میں تبدیل ہونا کو نائٹروجنی تثبیت (Nitrogen Fixation) کہلاتاہے۔ قدرتی ماحول میں آسمانی بجلی اور الٹراوائلٹ اشعاع نائٹروجن کو نائٹروجن آکسائڈ (NO,NO2,N2O)میں تبدیل کرنے کے لیے کافی توانائی مہیا کرتے ہیں۔ نائٹروجن آکسائڈوں کے اور بھی ذرائع ہیں جیسے صنعتی احتراق جنگلوں میں لگنے والی آگ،موٹر گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں اوربجلی گھر(پاور اسٹیشن)مردہ پودوں اور جانوروں میں موجود نامیاتی نائٹروجن کے امونیا میں تبدیل ہو جانے کو امونی فیکیشن(Ammonification)کہتےہیں۔اس میں سے کچھ امونیا بخارات کی شکل میں دوبارہ کرہ باد میں واپس لوٹ جاتی ہے لیکن زیادہ تر جراثیموں کی مدد سے نائٹریٹ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
امونیاکی پہلے نائٹرائیٹ میں تکسید ہوتی ہے (Nitrococcus یا Nitrosomonas کی مدد سے) اس کے بعد پھر نائٹروبیکٹیر کی مدد سے نائٹرائٹ کی نائٹریٹ میں تکسید ہوتی ہے ۔ ان دو عملوں کو نائٹریفیکیشن کہتے ہیں۔ (شکل 12.3) ان (Nitrifying) بیکٹیریا کو کیموآٹوٹرافس کہتے ہیں۔
اب نائٹریٹ کو پودے جذب کر لیتے ہیں اور یہ پتوں میں پہنچتاہے۔ پتوں میں اس کی امونیا میں تحویل ہوجاتی ہے جو آخر کار امینو ایسڈ کے امینوگروپ بناتے ہیں۔ مٹی میں موجود نائٹریٹ بھی ڈی نائٹریفیکیشن سے نائٹروجن میں تحویل ہوتا ہے۔ اس کام کو سوڈوموناس(Pseudomonas)اورتھایوبیسیلس (Thiobacillus) انجام دیتے ہیں۔
شکل12.3 نائٹروجن دور-نائٹروجن کے تین اہم ذرائع مٹی، آب و ہوا اور بائیو ماس کے درمیان تعلق دکھاتے ہوئے
12.6.2 نائٹروجن کی حیاتیاتی تثبیت (Biological Nitrogen Fixation)
جانداروں کی مدد سے نائٹروجن کی امونیا میںتثبیت نائٹروجن کی حیاتیاتی تثبیت کہلاتی ہے۔ اس کے لیے ایک مخصوص خامرے، نائٹروجینیز کی ضرورت ہوتی ہے جو صرف پروکیریوٹس میں ہی پایا جاتا ہے۔ ایسے جراثیم کو نائٹروجن فکسرکہتے ہیں۔
نائٹر و جن کی تثبیت کرنے والے خرد عضویے آزادانہ طور پر زندگی بسر کرنے والے ہم باش (Symbiotic) عضویے ہوسکتے ہیں۔ آزادانہ طور پر زندگی بسر کرنے والے ایسے خرد عضویے جو نائٹروجن کی تثبیت کرتے ہیں ان کے نام یوں ہیں: ایزو ٹو بیکٹر اور بیچر نیکیا جب کہ روڈ واسائر لیم اینار بک اور آزادانہ زندگی بسر کرنے والے ہیں۔ سائنوبیکٹیریا جیسے اینا بینا اور ناسٹک بھی آزادانہ زندگی بسر کرنے والے نائٹروجن کی تثبیت ہیں۔
ہم باش نائٹروجنی تثبیت میں شامل جانداروں کے کئی ایسوسی ایشن ہیں۔ ان میں سے سب سے بہترین مثال لیگیوم- بیکٹیریا کے تعلق کی ہے۔ لیگیومز جیسے الفا الفا، سویٹ کلوور، سویٹ مٹر وغیرہ کی جڑوں کے ساتھ رائزوبیم بیکٹیریا رہتے ہیں جو نائٹروجن کی تثبیت میں شرکت کرتے ہیں۔ بیکٹیریا لیگیوم کی جڑ میں نوڈیولز (گانٹھیں)بناتے ہیں جو کہ چھوٹے شاحیانہ ہوتے ہیں۔ مائیکروب فرانکیا بھی غیرپھلی دار پودوں کی جڑوں (مثلاً آلنس) میں نائٹروجن کی تثبیتکرنے والی گانٹھیں بناتا ہے۔ زائیزوبیم اور فرانکیا دونوں زمین میں رہنے والے آزاد بیکٹریا ہیں لیکن پودوںکے ساتھ باہمی رابطے کی وجہ سے ہوائی نائٹروجن کی تثبیت کرسکتے ہیں۔ پھول آنے سے ذرا پہلے کسی دال والے پودے کو اکھاڑئیے۔ اس کی جڑوں میں آپ کو گول گول دانے نظرے آئیں گے۔ یہگانٹھیں ہیں۔ اگر ان کو بیچ سے کاٹ کر دیکھیں تو آپ کو ان کا درمیانی حصہ سرخ یا گلابی رنگ کا نظر آئے گا۔ڈیولز کو گلابی کون بناتا ہے؟ یہ رنگ یا لیگ ہیموگلوبن کی وجہ سے ہوتا ہے۔
گانٹھوں کا بننا(Nodule Formation)
گانٹھوں کے بننے میں رائی زوبیم اور لیگیوم کے جڑ کے بیچ باہمی عمل کا ہونا لازمی ہے۔ نوڈلیولز بننے کے اہم مراحل ذیل میں مختصراً بیان کئے گئے ہیں۔
رائی زوبیا تقسیم ہو کر جڑوں کے آس پاس جمع ہو جاتے ہے اور پھر ایپی ڈرمل اور جڑبال خلیوں کے ساتھ جڑ جاتے ہیں۔ جڑبال (Root Hair) مڑ جاتے ہیں اور بیکٹیریا ان پر چھا جاتے ہیں۔ انفیکشن کا دھاگا بن جاتا ہے جو کہ بیکٹیریا کو جڑوں کے کارٹیکس تک پہنچاتا ہے جہاں پر وہ گانٹھوں کی تشکیل کو شروع کرتے ہیں۔ اس کے بعد بیکٹیریا انفیکشن دھاگے سے چھوٹ کر خلیوں میں داخل ہوتے ہیں جس سے کہ نائٹروجن کی تثبیت کرنے والے تحقیص شدہ خلیوں کے تفریق
شکل 12.4 (a) سویابین میں روٹ نوڈیولز کا نمو: (a) رائزوبیم بیکٹریا کا جڑبال سے اتصال اور اس کے قریب ہی تقسیم ہونا (b) کامیاب انفیکشن دھاگہ بیکٹریا کو اندرونی کارٹیکس میں لے جاتا ہے۔ بیکٹریا ڈنڈے نما بیکٹریائٹ میں تبدیل ہوکر اندرونی کارٹیکل اور پیری سائیکل خلیوں کے تقسیم ہونے کی وجہ بنتا ہے۔ کارٹیکل اور پیری سائیکل کے خلیوں کے تقسیم ہونے کی وجہ بنتا ہے۔ کارٹیکل اور پیری سائیکل خلیوں کی تقسیم اور نمو کی وجہ سے نوڈیول بنتا ہے۔ (d) جڑ کے وعائی بافت کے ہمراہ ایک مکمل بالیدہ نوڈیول۔
کو انجام دیتے ہیں۔ اب اس نوڈیول کا سیدھا تعلق پودے کے وعائی حصہ سے ہو جاتا ہے تاکہ نوڈیول اور پودا ایک دوسرے کے ساتھ مغذیات کا تبادلہ کرسکیں۔ یہ تمام مراحل شکل 12.4 میں دکھائے گئے ہیں۔
گانٹھوں میں سبھی اہم حیاتیاتی کیمیائی اجزا موجود ہوتے ہیں جیسے کہ خامرے نائٹروجینیز اور لیگ ہیموگلوبین نائٹروجینیز ایک Mo-Fe پروٹین ہے جوکہ ماحولیاتی نائٹروجن کو امونیا میں تبدیل کردیتا ہے۔ (شکل 12.5) نائٹروجن کی تثبیت کے عمل کا یہ پہلا مستحکم ماحصل ہے۔ نائٹروجنیز خامرہ آکسیجن سالمے کے تئیں بہت حساس ہے۔ اس کے لیے غیر ہوا باش (بغیر آکسیجن) ماحول لازمی ہے۔ ان خامروں کو آکسیجن سے بچانے کے لیے گانٹھ میں آکسیجن خور پروٹین موجود ہوتی ہے جسے لیگ ہیموگلوبین کہتے ہیں ۔ جب یہ بیکٹیریا نائٹروجن کی تثبیت میں مصروف نہیں ہوتے تو یہ آکسیجن میں سانس لیتے ہیں (Aerobic)۔ نیچے دیے گئے تعامل سے یہ پتا چلتا ہے کہ نائٹروجینیز کے ذریعے امونیا کو بنانے کے لیے (امونیا کے ایک سالمہ کے لیے (8ATP) چاہیے۔ یہ توانائی پودے کے ہواباش تنفس سے حاصل ہوتی ہے۔
فعلیاتی pH پر امونیا کے ساتھ ایک پروٹان مل کر امونیم آئن
بناتا ہے۔ جبکہ بیشتر پودے نائٹریٹ اور امونیم آینوں کو جذب کرسکتے ہیں لیکن آخرالذکر پودوں کے لیے زہریلا ہوتا ہے لہٰذا وہ پودوں میں جمع نہیں ہوسکتا۔ آئیے اب دیکھتے ہیں کہ امونیم آئن
پودوں میں امینو ایسڈ بنانے کے لیے کس طرح استعمال ہوتا ہے۔ اس کے دو اہم طریقے ہیں:
(i) ریڈکٹوایمینیشن (Reductive Amination)
امونیا اور a-Ketoglutaric Acid کے بیچ تعامل ہوتا ہے جس سے گلوٹیمک ایسڈ) Glutamic Acid (بن جاتا ہے۔
شکل 12.5 نائٹروجینیز خامرے کے ذریعہ کرہ باد کیN2کی امونیا NH3 میں تبادیلی-امونیا کا مزید تحول ہوتا ہے جس سے امینوایسڈ اور دوسرے نائٹروجنی مرکبات بنتے ہیں۔
ii) ٹرانس ایمی نیشن (Transamination)
اس میں ایک امینوایسڈ کا امینو گروپ کیٹو ایسڈکے کیٹوگروپ پر منتقل ہو جاتا ہے۔ اکثر ٹرانسفر گلوٹامک ایسڈ سے ہوتا ہے اور دوسرے امینو ایسڈ بن جاتے ہیں۔ اس تعامل کو ٹرانس ایمینیزچلاتا ہے۔ اسپارجین اور گلوٹامین دو سب سے اہم امائڈز، پودوں میں پائے جانے والے پروٹین کے ساختی اجزا ہوتے ہیں جو کہ بالترتیب اسپارٹک ایسڈ اور گلوٹامک ایسڈ سے ایک اور امینو گروپ کے جڑنے سے بنتے ہیں۔ ایسڈ کا ہائڈراکسل حصہ ایک NH–2 ریڈیکل سے تبدیل ہوجاتا ہے۔ چونکہ امینوایسڈز کے مقابلے میں امائیڈاز میں زیادہ نائٹروجن ہوتی ہے۔ اس لیے امائیڈ زائلم کے ذریعے پودے کے دوسرے حصوں میں پہنچایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ پودوں کی جڑگانٹھیں (مثلاً سویابین) سریانی بہاؤ کے ذریعے تثبیت شدہ نائٹروجن کو یوریڈز(Ureides) کی شکل میں بھی ایکسپورٹ کرتے ہیں۔ ان مرکبات میں بھی کاربن کے مقابلے نائٹروجن کا تناسب زیادہ ہوتا ہے۔
خلاصہ
پودے اپنے غیر نامیاتی مغذیات کو ہوا، پانی اور مٹّی سے حاصل کرتے ہیں۔ پودے مختلف قسم کے معدنی عناصر جذب کرتے ہیں۔ وہ سبھی معدنی عناصر جن کو پودے جذب کرتے ہیں، ان کے لیے ضروری نہیں ہوتے ہیں۔ 105 سے زیادہ عناصر جن کی کھوج کی جاچکی ہے ان میں سے 21 سے بھی کم پودوں کی نمو اور نشوونما کے لیے ضروری ہیں۔ وہ عناصر جن کی ضرورت پودوں کو زیادہ مقدار میں ہوتی ہے انہیں کلاں مغذیات اور جن کی ضرورت کم مقدار میں ہوتی ہے ان کوخردمغذیات کہتے ہیں۔ یہ عناصر یا تو پروٹین، کاربوہائڈریٹ، چربی، نیوکلک ایسڈ وغیرہ کے ضروری حصّے ہوتے ہیں یا پھر مختلف تحولی عملوں میں حصہ لیتے ہیں ان میں سے ہر ایک جزو کی قلت کے سبب کئی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ کلورسس، نیکروسس، نموکا رک جانا، خلوی تقسیم کامفلوج ہوجانا ان کی علامات ہیں۔ پودے اپنے جڑوں کے ذریعہ معدنی اشیاء کو جذب کرتے ہیں۔ یہ عمل یا تو فعال یا غیر فعال ہوتا ہے۔ یہ معدنی اشیا پھر زائلم کے ذریعہ پانی کی نقل و حمل کے ساتھ پودے کے مختلف حصّوں میں پہنچ جاتی ہیں۔
نائٹروجن زندگی کی بقا کے لیے بہت ضروری ہے۔ پودے فضائی نائٹروجن کو براہ راست استعمال نہیں کر سکتے۔ لیکن کچھ پودے خصوصاً لیگیوم پودوں کی جڑوں کے ذریعہ فضائی ہوانائٹروجن کی تثبیت ہوتی ہے جس سے وہ حیاتیاتی استعمال کی شکل میں آجاتی ہے۔ نائٹروجن کی تثبیت کے لیے ایک مضبوط ریڈیوسنگ ایجنٹ اور ATP کی شکل میں توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ نائٹروجن کی تثبیت نائٹروجن فکسنگ مائکروب بالخصوص رائی زوبیم کے ذریعے ہوتی ہے۔ نائٹروجینیز انزائمجو نائٹروجن کی حیاتیاتی تثبیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آکسیجن کے تئیں کافی حساس ہوتا ہے۔ اس عمل کا کافی حصّہ غیر ہواباش ماحول میں پورا ہوتا ہے۔ ATP کی شکل میں توانائی میزبان خلیہ کے اندر ہونے والا ہوا باش تنفس مہیا کراتا ہے۔ نائٹروجن کی تثبیت کے بعد جو امونیا بنتی ہے وہ امینوگروپ کی شکل میں امینو ایسڈ میں شامل ہوجاتی ہے ۔
مشق
1۔ ’’پودے کے اندر پائے جانے والے سبھی عناصر اس کی زندگی کے لیے ضروری نہیں ہوتے‘‘ تبصرہ کیجیے۔
2۔ ہائڈروپونک کے استعمال سے معدنی تغذیہ کے مطالعہ میں پانی اور مغذیاتی نمکوں کی تخلیص کیوں اہم ہے؟
3۔ مثال کے ساتھ وضاحت کیجیے:
(i) کلاں مغذیات
(ii) خرد مغذیات
(iii) مفید مغذیات
(iv) لازمی عناصر
4۔ پودوں میں کم از کم پانچ علامات قلت کے نام بتائیے۔ ان کی وضاحت کیجئے اور متعلقہ معدنی قلت کے ساتھ ان کا تعلق بیان کیجیے۔
5۔ اگر کوئی پودا کچھ ایسی علامات کو ظاہر کر رہا ہے جو کئی مغذیات کی کمی کی وجہ سے ہے تو آپ تجربہ کے ذریعہ اس مخصوص عنصر کا پتہ کیسے لگائیں گے جس کی کمی واقع ہو رہی ہے۔
6۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ کچھ پودوں میں معدنیات کی کمی کی علامات پودے کے نئے حصّوں میں پہلے نظر آتی ہیں جبکہ کچھ دوسرے پودوں میں یہ ان کے پختہ اعضا میں ظاہر ہوتی ہیں؟
7۔ پودے معدنی اشیا کو کس طرح جذب کرتے ہیں۔
8۔ رائزوبیم کے ذریعہ فضائی نائٹروجن کی تثبیت کے لیے ضروری حالات کیا ہیں؟ نائٹروجن کی تثبیت میں ان کا کیا کردارا ہے؟
9۔ روٹ نوڈیول کے بننے میں کون سے مراحل شامل ہیں؟
10۔ ان میں سے کون سا جملہ صحیح ہے؟ اگر غلط ہے تو صحیح کیجیے۔
(i) بورن کی کمی سے اسٹاؤٹ ایکسس ہوتا ہے۔
(ii) خلیہ میں موجود ہر ایک معدنی عنصر خلیہ کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
(iii) مغذیاتی عنصر کی حیثیت سے نائٹروجن پودوں میں بہت زیادہ غیر متحرک ہوتی ہے۔
(iv) خرد مغذیات کی ضرورت کو جاننا بہت آسان ہے کیونکہ یہ بہت کم مقدار میں درکارہوتے ہیں۔