Skip to content

باب 13

بڑے پودوں میں ضیائی تالیف

(Photosynthesis in Higher Plants)

13.1 ہم کیا جانتے ہیں؟
13.2 ابتدائی تجربات
13.3 ضیائی تالیف کہاں واقع ہوتی ہے؟
13.4 ضیائی تالیف میں کتنے پگمنٹس حصہ لیتے ہیں؟
13.5 نوری تعامل کیا ہے؟
13.6الیکٹران ٹرانسپورٹ
13.7 اے ٹی پی اور این اے ڈی پی ایچ کہاں استعمال ہوتے ہیں؟
13.8 C4 پاتھ وے
13.9 ضیائی تنفس
13.10 ضیائی تالیف کو متاثر کرنے والے عوامل

انسان سمیت تمام جانور اپنی غذا کے لیے پودوں پر منحصر ہیں۔کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ پودے اپنی غذا کہاں سے حاصل کرتے ہیں؟ سبز پودوں کو دراصل اپنی غذا خود بنانی پڑتی ہے اور باقی سبھی جاندار عضویے اپنی غذائی ضروریات کے لیے پودوں پر منحصر رہتے ہیں۔ سبز پودے ضیائی تالیف کرتے ہیں جو طبیعی کیمیائی عمل ہے جس میں وہ نوری توانائی کا استعمال کرکے نامیاتی (Organic) مرکبات کی تالیف کرتے ہیں۔ بالآخر توانائی کے لیے زمین پر رہنے والے جاندار عضویوں کا انحصار سورج کی روشنی پر ہوتا ہے۔ پودوں میں ضیائی تالیف کے دوران سورج کی روشنی کا استعمال زمین پر زندگی کی بنیاد ہے۔ ضیائی تالیف، دو وجوہات کی بنا پر اہم ہے :زمین پر تمام غذا کا یہ ابتدائی منبع ہے اور یہ سبز پودوں سے آکسیجن فضا میں خارج کرنے کے لیے ذمہ دار ہے۔ آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اگر سانس لینے کے لیے آکسیجن نہ ہو تو کیا ہوگا؟ اس باب میں ضیائی تالیف کی مشینری کی ساخت اور ان عملوں         کے بارے میں پڑھیں گے جو نوری توانائی کو کیمیائی توانائی میں تبدیل کرتے ہیں۔

13.1 ہم کیا جانتے ہیں؟ (What do we know?)        

ذرا یہ معلوم کریں کہ ہم ضیائی تالیف کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ کچھ آسان تجربات آپ نے گذشتہ جماعتوں میں کئے ہوں گے جن سے یہ معلوم ہوا ہوگا کہ ضیائی تالیف کے لیے کلوروفل (پتوں میں موجود سبز پگمنٹ) سورج کی روشنی اور کاربن ڈائی آکسائڈ (CO2) کی ضرورت ہوتی ہے۔
Pic1 Capture13
شکل 13.1         پریسلے کا تجربہ        
آپ نے یہ تجربات کیے ہوں گے کہ داغ دار (Variegated) پتوں میں نشاستہ(اسٹارچ) بنتا ہے یا ایک پتی کو کالے کاغذ سے ڈھک کر اور دوسری کو کھلا رکھ کر اور جانچ کے بعد یہ معلوم ہوا ہوگا کہ صرف سبز پتیوں میں روشنی کی موجودگی میں ضیائی تالیف ہوتی ہے۔        
دوسرا تجربہ آپ نے آدھی پتی کا کیا ہوگا جس میں پتی کا آدھا حصہ جانچ نلی میں رکھ دیا جاتا ہے جس میں پہلے سے KOH میں ڈبوئی ہوئی روئی (جو CO2         کو جذب کر لیتی ہے) موجود تھی جبکہ دوسرا نصف حصہ ہوا میں کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے اس پودے کو دھوپ میں کچھ دیر کے لیے رکھ دیا جاتا ہے۔ بعد میں دونوں نصف پتیوں میں نشاستے کی موجودگی کی جانچ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کھلی ہوئی نصف پتی میں نشاستہ (Starch) موجود ہے جبکہ جانچ نلی والی پتی میں نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ضیائی         تالیف کے لیے CO2 ضروری ہے۔ کیا آپ بتا سکتے کہ اس تجربے سے یہ نتیجہ کیوں اخذ کیا گیا؟

13.2 ابتدائی تجربات (Early Experiments)        

آسان تجربات کی مدد سے ضیائی تالیف کے بارے میں ہماری معلومات میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔ جوزف پریسلے (Joseph Priestley 1733-1804) نے 1770 کی دھائی میں سلسلے وار تجربات کرکے یہ بتایا کہ سبز پودے کی نمو میں ہوا کا بہت اہم کردار ہے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ پریسلے نے 1774 میں آکسیجن کی دریافت کی۔ پریسلے نے مشاہدہ کیا کہ اگر موم بتی کو بند فضا مثلاً بیل جار میں جلایا جائے تو جلد ہی بجھ جاتی ہے (شکل 13.1 a,b,c,d)۔ اسی طری بند فضا میں چوہا بہت جلد گھٹن محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ جلتی ہوئی موم بتی یا سانس لیتا ہوا جانور کسی نہ کسی شکل میں ہوا کو نقصان پہنچاتا ہے۔ لیکن جب اس نے ایک سبز پودا بھی اس بیل جار میں رکھ د یا تو چوہا بھی زندہ رہا اور موم بتی بھی جلتی رہی۔ پریسلے نے یہ نتیجہ نکالا کہ سانس لینے والا جانور اور جلتی ہوئی موم بتی جو چیز ہوا سے نکال لیتی ہے اس کو پودا بحال کردیتا ہے۔        
کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ پریسلے نے موم بتی اور پودے کا استعمال اس تجربے میں کیسے کیا ہوگا؟ یاد رکھیے کہ اسے موم بتی کو کچھ دنوں کے بعد دوبارہ جلانا تھا۔ یہ معلوم کرنے کے لیے کہ وہ دوبارہ جلتی ہے یا نہیں؟ اس سیٹ اپ میں بغیر خلل ڈالے موم بتی جلانے کے آپ کتنے طریقے سوچ سکتے ہیں؟
اس طرح کے تجرباتی سیٹ اپ کو ایک بار اندھیرے میں اور ایک بار سورج کی روشنی میں استعمال کرکے جان انجن ہاؤز (1730 - 1799) نے ثابت کیا کہ پودے کے لیے سورج کی روشنی لازمی ہے۔ پودے ضیائی تالیف کے ذریعہ ہوا کو صاف کرتے ہیں جو جلتی ہوئی موم بتی یا سانس لینے والے جانور نے خراب کردی تھی۔ انجن ہائوز نے آبی پودے پر ایک عمدہ تجربہ کرکے بتایا کہ سورج کی روشنی کی موجودگی میں سبز حصے کے پاس چھوٹے چھوٹے بلبلے بنتے ہیں جبکہ یہ اندھیرے میں رکھنے پر نہیں بنتے۔ بعد میں اس نے دکھایا کہ یہ بلبلے آکسیجن کے ہوتے ہیں لہٰذا اس نے نتیجہ نکالا کہ صرف پودے کے سبز حصے ہی آکسیجن خارج کرسکتے ہیں۔        
1854 کے آس پاس جولیس وان ساکس (Julius Von Sachs) نے ثبوت پیش کیے کہ پودوں کی نمو کے دوران گلوکوز کی تالیف ہوتی ہے۔ اس کے بعد کے مطالعے سے  یہ معلوم ہوا کہ پودوں میں یہ سبز مادہ (جسے ہم اب کلوروفل کے نام سے جانتے ہیں) خلیوں میں موجود مخصوص ساختوں (کلوروپلاسٹ) میں پایا جاتا ہے۔ اس نے یہ بھی معلوم کیا کہ گلوکوز ان سبز حصوں میں  ہی بنتاہے، اور یہ کہ گلوکوز نشاستہ کی شکل میں جمع ہوجاتا ہے۔        
ایک دلچسپ تجربہ ٹی۔ ڈبلیو۔ اینگل مین (1843 - 1909) نے کیا۔ انہوں نے ایک سبز الجی کلیڈو فورا کو ہواباش بیکٹیریا کے معلقہ میں رکھا اور ایک پرزم (منثور) کے ذریعے روشنی کو اس کے سات قدرتی رنگوں میں توڑ کر اس سبز الجی پر ڈالا تو بیکٹیریا نے آکسیجن کے اخراج کی جگہوں کو ڈھونڈ نکالا۔ اس نے مشاہدہ کیا کہ اسپیکٹرم (طیف) کے نیلے اور لال خطوں کے پاس جمع ہوگئے۔ اس طرح ضیائی تالیف کا پہلاایکشن اسپیکٹرم(Action Spectrum) وجود میں آیا۔ یہ کلوروفل aاور bکے انجذابی اسپیکٹرم سے مشابہت رکھتا ہے (جس کے بارے میں 13.4 میں بحث کریں گے)۔
انیسویں صدی کے وسط تک ضیائی تالیف کی کلیدی خصوصیات معلوم ہو چکی تھیں۔ وہ یہ کہ پودے CO2 اور پانی سے روشنی کی موجودگی میں کاربوہائڈریٹ بناتے ہیں۔ آکسیجن خارج کرنے والے عضویوں میں ضیائی تالیف کے مجموعی عمل کو ظاہر کرنے والی تجرباتی مساوات (Equation) کو اس وقت مندرجہ ذیل طریقے سے سمجھا گیا۔
Pic2 Capture13
جہاں [CH2O] کاربو ہائیڈریٹ کو ظاہر کرتا ہے (مثلاً گلوکوز، چھ کاربن ایٹوں پر مشتمل         شکر)۔
ضیائی تالیف سے متعلق ہماری معلومات میں اضافہ ایک مائیکرو بائیولوجسٹ کارنیلیس وان نیل (1897 - 1985) نے کیا اوریہ تعاون سنگ میل کی حیثیت رکھتاہے۔ جامنی اور سبز بیکٹیریا کے مطالعے کی بنیاد پر اس نے دکھایا کہ ضیائی تالیف کا انحصار روشنی پر ہے۔ جس میں تکسید ہونے والے مرکبات سے ہائیڈروجن نکل کر کاربن ڈائی آکسائیڈ کی تحویل (Reduction) کرتی ہے۔ اسے ہم مندرجہ ذیل مساوات سے دکھا سکتے ہیں:        
Pic3 Capture13
سبز پودوں میں H2O ہائیڈروجن  مطی ہے اوراس کی O2 میں تکسید ہو جاتی ہے۔ کچھ عضویے ضیائی تالیف کے دوران O2 خارج نہیں کرتے۔ جامنی اور سبز سلفر بیکٹیریا میں جہاں H2S پر ہائیڈروجن  معطی ہے وہاں تکسیدی ماحصلات سلفر یا سلفیٹ ہوتے ہیں اور اس کا انحصار عضویہ پرہوتا ہے نہ کہ O2 پر۔ اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ سبز پودوں میں O2، کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بجائے H2Oسے نکلتی ہے۔ اس کو بعد میں ریڈیو آئسوٹوپک تکنیک کی مددسے ثابت کیا گیا۔ لہٰذا ضیائی تالیف کی صحیح نمائندگی کرنے والی مساوات مندرجہ ذیل ہے:
Pic4 Capture13
� C6H12O6گلوکوز ہے۔ پانی سے آکسیجن خارج ہوتی ہے؛ اس کو ریڈیو آئسوٹوپک تکنیک سے ثابت کیا گیا۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ مندرجہ بالا مساوات میں پانی کے 12 سالمیسبس ٹریٹ(Substrate) کی حیثیت سے کیوں استعمال کیے گیے ہیں؟

13.3 ضیائی تالیفکا عمل کہاں واقع ہوتا ہے؟

        (Where Does Photosynthesis Take Place?)        

باب 8 میں جو کچھ آپ نے پہلے پڑھا ہے اس کی بنیاد پر آپ کا جواب ہوگا کہ سبز پتی یا کلوروپلاسٹ میں۔ آپ بالکل صحیح ہیں۔ قطعی طور پر ضیائی تالیف کا عمل سبز پتیوں میں واقع ہوتا ہے۔ لیکن یہ پودے کے دوسرے سبز حصوں میں بھی واقع ہوتا ہے۔ کیا آپ ان حصوں کے نام بتا سکتے ہیں جہاں آپ سمجھتے ہیں کہ ضیائی تالیف ہوسکتی ہے؟
گذشتہ باب کی بنا پر یاد کیجیے کہ پتیوں کے میزوفل خلیوں میں بڑی تعداد میں کلورو پلاسٹ ہوتے ہیں۔ عموماً کلوروپلاسٹ میزوفل خلیے کی دیوار سے ساتھ صف بندی لیتے ہیں تاکہ انہیں روشنی کی مناسب مقدار حاصل ہو سکے۔ آپ کے خیال میں کب کلوروپلاسٹ اپنی چپٹی سطح کو دیوار کے متوازی رکھتے ہیں اور کب وقوع پذیر روشنی کے لحاظ سے عمودی پر ہوتے ہیں۔        
آپ نے کلورو پلاسٹ کی ساخت کے بارے میں باب 8 میں پڑھا ہے۔ کلوروپلاسٹ کے اندر گرینا، اسٹروما لیمیلی اور اسٹروما سیال پر مشتمل جھیلوں کا نظام ہوتا ہے۔ (شکل 13.2)صاف ظاہر ہے کہ کلورو پلاسٹ میں  محنت کی تقسیم موجود ہے۔ جھلیوں کے نظام کی ذمہ داری روشنی کی توانائی کو قید کرنا اور اے ٹی پی اور این اے ڈی پی ایچ کی تالیف ہے۔ اسٹروما میں خامروں کی مدد سے CO2 پودے میں داخل ہو کر شکر کی تالیف کرتی ہے جو بعد میں نشاستے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اول الذکر عملوں میں چونکہ روشنی کا دخل ہے لہٰذا یہ نوری تعاملات(Light reactions) کہلاتے ہیں۔ آخر الذکر عملوں کا انحصار و روشنی پر براہ راست نہیں ہوتا لیکن وہ لائٹ ری ایکشن کے ماحصلات اے ٹی پی اور این اے ڈی پی ایچ پر منحصر ہوتے ہیں۔لہٰذا فرق کرنے کے لیے اس عمل کو تاریک تعامل (Dark reaction) کہتے ہیں۔ لیکن اس سے یہ اخذ کرنا کہ یہ صرف تاریکی میں ہی عمل پذیر ہوتے ہیں یا وہ روشنی پر منحصر نہیں ہوتے غلط ہوگا۔        
بیرونی جھلی
اندرونی جھلی
انٹرومل لیمیلا
گرینا
اسٹروما
راٍبوسومز
نشاستے دانے
لپڈ کے چھوٹے قطرے
شکل 13.2         کلوروپلاسٹ کا الیکٹران مائیکروگراف         


13.4 ضیائی تالیف میں کتنے پگمنٹس حصہ لیتے ہیں؟        

(How Many Pigments are Involved in Photosynthesis?)     

پودوں کو دیکھ کر کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ایک ہی پودے میں سبز رنگ کے اتنے سارے شیڈ کیوں اور کیسے ہوتے ہیں؟ پیپر کرومیٹو گرافی کے ذریعے پتیوں کے پگمنٹس کو الگ کرکے ہم اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ پتیوں کے پگمنٹس کو کرومیٹو گرافک تکنیک کے ذریعے الگ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ پتیوں کا رنگ صرف ایک پگمنٹ کی وجہ سے نہیں بلکہ چار پگمنٹس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ وہ پگمنٹس کلوروفل a(چمکدار اور گرومیٹو گرام میں نیلا سبز) کلوروفل بی (زرد سبز) زینتھوفل (زرد) اور کیروٹینائیڈ (زرد سے زرد نارنجی تک)۔آئیے اب دیکھیں کہ ضیائی تالیف میں کون سا پگمنٹ کیا کردار ادا کرتا ہے۔
         پگمنٹس وہ مادے ہیں جو خاص طول موج (Waveleagth) کی روشنی کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کیا آپ قیاس لگا سکتے ہیں کہ اس دنیا میں کون سا پگمنٹ کثرت سے ملتا ہے؟ اب ذرا اس گراف کو دیکھیے (شکل 13.3a) جو مختلف طول موج پر کلوروفل اے کے ذریعے امختلف طول موج کی روشنی کوجذب کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔         امیدہے کہ آپ مرئی اسپیکٹرم (Visible Spectrum) اور (VIBGYOR) سے تو واقف ہوں گے۔        
        شکل 13.3a سے کیا آپ معلوم کرسکتے ہیں کہ کس طول موج (روشنی کارنگ) پر کلوروفل اے سب سے زیادہ انجذاب کرتا ہے؟ کیا یہ کسی اور طول موج پر انجذابی چوٹی (Absorption Peak) دکھاتاہے؟ اگر ہاں تو کس پر؟
        اب شکل (13.3b) کو دیکھیے یہ اس طول موج کوظاہر کرتی ہے جس پر پودوں میں سب سے زیادہ ضیائی تالیف ہو رہی ہے۔ کیا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ طول موج جن پر کلوروفل اے کے ذریعے سب سے زیادہ انجذاب ہو رہا ہے یعنی نیلے اور سرخ خطوں میں، وہیں پر ضیائی تالیف شرح کی سب سے زیادہ ہے۔ شکل 13.3c کو دیکھ کر کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ کلوروفل اے کے انجذابی اسپیکٹرم اور ضیائی تالیف کے ایکشن اسپیکٹرم کے درمیان مکمل یکسانیت ہے؟
Pic5 Capture13
Pic6 Capture13
شکل 13.3a کلوروفل اے، بی اور کیروٹینائیڈکے انجذابی اسپیکٹرم کا گراف
شکل 13.3b ضیائی تالیف کے ایکشن اسپیکٹرم کا گراف
شکل 13.3c ضیائی تالیف کے ایکشن اسپیکٹرم کلوروفل اے کے انجذابی اسپیکٹرم پرمنطقگراف

یہ گراف، مجموعی طور پر، بتاتے ہیں کہ زیادہ تر ضیائی تالیف، اسپیکٹرم کے نیلے اور سرخ خطوں میں ہوتی ہے۔ کچھ ضیائی تالیف مرئی اسپیکٹرم کی دوسری طول موج میں بھی ہوتی ہے۔ اب دیکھیں یہ ہوتا کیسے ہے؟ حالانکہ کلوروفل روشنی کو قید کرنے کے لیے سب سے اہم پگمنٹ ہے لیکن تھائلا کوائڈ کے دوسرے پگمنٹس مثلاً کلوروفل بی، زنیتھوفل اور کیروٹینائیڈ جن کو دیگر پگمنٹس کہتے ہیں وہ بھی روشنی کو جذب کرتے ہیں اور توانائی کو کلوروفل اے پر منتقل کردیتے ہیں۔ لہٰذا دیگر پگمنٹس نہ صرف آنے والے روشنی کی دوسری طول موج کو ضیائی تالیف کے لیے استعمال کرتے ہیں بلکہ کلوروفل اے کی ضیائی تکسید کو بھی روکتے ہیں۔

13.5 نوری تعامل کیا ہے؟         (What is a Light Reaction?)        

نوری تعامل یا ضیائی کیمیائی دور میں نوری انجذاب ، آب پاشیدگی (Hydrolysis)، آکسیجن کا اخراج اور بہت زیادہ توانائی والے کیمیائی ضمنی ماحصلات جیسے اے ٹی پی اور این اے ڈی پی ایچ کی تشکیل شامل ہیں۔ اس عمل میں کئی کمپلیکس بنتے ہیں۔ پگمنٹس دو نمایاں ضیائی کیمیائی لائٹ ہارویسٹنگ کمپلیکس(LHC) جسے فوٹوسسٹم (PSI) I اور فوٹوسسٹم (PS II) II کہتے ہیں۔ ان کے نام ان کی دریافت کی ترتیب کے لحاظ سے رکھے گئے ہیں ناکہ نوری تعامل میں ان کاموں کی ترتیب کے حساب سےLHC پروٹین سے جڑے سینکڑوں پگمنٹ سالموں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر فوٹو سسٹم میں کلوروفل اے کے علاوہ تمام پگمنٹس مل کر لائٹ ہارویسٹنگ نظام بناتے ہیں جسے انٹینا کہتے ہیں۔ (شکل 13.4) مختلف طول موج کو جذب کرکے یہ پگمنٹس ضیائی تالیف کے عمل کو مزید کارگر بناتے ہیں۔ لوروفل اے کاواحد سالمہ مرکزِ تعامل کی تشکیل کرتا ہے۔ یہ مرکز تعامل سینٹر دونوں نوری نظاموں میں مختلف ہوتا ہے۔ PS I میں مرکز تعامل کلوروفل اے کی انجذابی چوٹی 700nmہوتی ہے لہٰذااسے P700 کہتے ہیں جبکہ PS II میں انجذابی میکزما (Absorption maxima) 680(nm) پر ہوتا ہے اور P680 کہلاتا ہے۔        
Pic7 Capture13

13.6 الیکٹران ٹرانسپورٹ (The Electron Transport)        

فوٹو سسٹم II میں ری ایکشن سینٹر کلوروفل اے680nm طول موج وال سرخ روشنی کو جذب کرتا ہے جس کی وجہ سے الیکٹران آزاد ہو جاتے ہیں اور کود کر ایٹمی مرکزے سے ایک آربٹ اور دور چلے جاتے ہیں۔ الیکٹران قبول کنندہ مرکب ان کو قبول کرکے سائٹو کرومز پر مشتمل الیکٹران ٹرانسپورٹ نظام کو سونپ دیتا ہے (شکل 13.5)۔ تحویل تکسید یاریڈاکس مضمر پیمانے کے اعتبار سے یہ الیکٹران پستی کی جانب منتقل ہوتے ہیں۔ الیکٹران ٹرانسپورٹ زنجیر میں منتقلی کے عمل کے دوران یہ الیکٹران استعمال نہ ہو کر فوٹو سسٹم PS I کو منتقل کر دیے جاتے ہیں۔ بیک وقت جب فوٹوسسٹم PS I پر700nm طول موج کی سرخ روشنی پڑتی ہے تو PSI ری ایکشن سسٹم کے الیکٹران بھی آزاد ہو جاتے ہیں اور ان الیکٹران کو دوسرا مرکب قبول کرلیتا ہے جس کا تکسیدی اور تحویلی مضمر (Redox Poteatial) پہلے والے مرکب سے زیادہ ہوتا ہے۔ یہ الیکٹران بھی پستی        کی جانب منتقل ہوتے ہیں لیکن اس دفعہ یہ توانائی سے بھر پور سالمے این اے ڈی پی (NADP) اور +H کی جانب منتقل ہوتے ہیں۔ الیکٹران اس سالمے سے مل کر (+NADP)، میں تحویل ہو جاتا ہے۔ الیکٹران کی منتقلی کی پوری اسکیم جب کہ شروعات PS II سے ہوتی ہے، قبول کنندہ کی جانب اوپر جانا پھر پستی کی جانب الیکٹران ٹرانسپورٹ زنجیر سے گزر کر PSI        پر جانا آزاد ہونا، دوسرے قبول کنندہ پر منتقل ہونا اور آخیر میں پستی کی جانب NADP+تک پہنچنا اور +NADPکی        Pic9 Capture13میں تخفیف کرنے کے ان تمام عملوں کو ان کے راستوں کی شکل کے لحاظ سے 'Z' اسکیم کہتے ہیں۔ اس کی یہ شکل اسی وقت بنتی ہے جب تمام حمال تکسیدی وتحویلی مضمر کے پیمانے پر سلسلہ وار رکھے ہوئے ہوں۔        
Pic8 Capture13
شکل 13.5         نوری تعامل کی Z اسکیم        

13.6.1 ضیائی آب پاشیدگی (Splitting of Water)        

آپ پوچھ سکتے ہیں کہ PSII کس طرح الیکٹران مسلسل مہیا کرتا رہتا ہے۔ فوٹو سسٹم II سے جدا ہوئے الیکٹران کی جگہ کو پُر کرنا نہایت لازمی ہے۔ ضیائی آب پاشیدگی PSII سے تعلق رکھتی ہے۔ پانی کا سالمہ
⌈H+،⌈O اور الیکٹران میں ٹوٹتا ہے۔ یہ آکسیجن بناتا ہے جو ضیائی تالیف کا ایک ماحصل ہے۔ فوٹوسسٹم I سے نکلے ہوئے الیکٹران کی جگہوں کو فوٹوسسٹم II سے نکلے ہوئے الیکٹران پر کرتے ہیں۔        Pic10 Captur13
ہمیں یہاں اس بات پر زور دینا ہے کہ آبی پاشیدگی کمپلیکس کا تعلق فوٹو سسٹم II سے ہوتا ہے، جو طبیعی طور پر تھائلا کوائیڈ جھلی کے اندرونی جانب موجود ہوتے ہیں۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ پروٹون اور آکسیجن جو بنتے ہیں وہ کہاں خارج ہوتے ہیں۔ لیومین کے اندریا جھلی کے باہری جانب؟        

13.6.2 دائری اور غیر دائری فوٹو فوسفوریلیشن        

(Cyclic and Non-cyclic Photo-phosphorylation)        

جاندار عضویوں کی خاصیت یہ ہے کہ وہ تکسید ہونے والے سبسٹریٹ سے توانائی باہر نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اور اس توانائی کو بانڈ توانائی (Bond Energy) کی شکل میں جمع کرسکتے ہیں۔ مخصوص مرکبات جیسے اے ٹی پی اس توانائی کو اپنے کیمیائی بانڈ میں جمع کرلیتے ہیں۔ اس عمل کے ذریعے خلیے میں (مائی ٹوکانڈر یا اور کلورو پلاسٹ میں) اے ٹی پی کی تالیف ہوتی ہے، فوسفوریلیشن کہتے ہیں۔ روشنی کی موجودگی میں اے ڈی پی اور غیرنامیاتی فاسفیٹ سے اے ٹی پی کی تالیف کو فوٹو فوسفوریلیشن کہتے ہیں۔ جب دونوں فوٹوسسٹم تسلسل میں کام کرتے ہیں ، پہلے PSII اور اس کے بعد PSI تب غیر دائری فوٹو فوسفوریلیشن واقع ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے Z اسکیم میں دیکھ چکے ہیں ۔دونوں فوٹو سسٹم الیکٹران ٹرانسپورٹ زنجیر کے ذریعے آپس میں منسلک رہتے ہیں۔ ATP اور NADPH+H+ دونوں کی تالیف اس طرح کے الیکٹران بہاؤ کے ذریعے ہوتی ہے (شکل 13.5)۔        
Pic11 Captur13
جب صرف PSI کام کرتا ہے تو الیکٹران فوٹوسسٹم کے اندر ہی چکر لگاتا ہے اور فوسفوریلیشن، الیکٹران کے دائری بہاؤ کے ذریعے عمل میں آتا ہے (شکل 13.6)۔ اسٹروما لیمیلی وہ ممکن جگہ ہے جہاں یہ تمام عمل واقع ہوتے ہیں۔ گرینا کے لیمیلی کی جھلیوں میں PSI اور PSII ہوتا ہے، مگر اسٹروما لیمیلی میں PSII اور این اے ڈی پی ریڈکٹینر خامرہ نہیں ہوتا۔ آزاد الیکٹران +NADPپر نہ جاکر الیکٹران ٹرانسپورٹ زنجیر کے ذریعے واپس PSI پر آجاتا ہے (شکل 13.6)۔ لہٰذا دائری بہائو صرف اے ٹی پی کی ہی تالیف کے دوران ہوتا ہے اور +NDAPH++Hکی تالیف میں نہیں ہوتا۔ دائری فوٹو فوسفوریلیشن اس حالت میں بھی ہوتا ہے جب الیکٹران کی آزادی کے لیے 680nm سے زیادہ طول موج والی روشنی مہیا رہتی ہے۔        

13.6.3 کیمیائی ولوجی مفروضہ         (Chemiosmotic Hypothesis)        

اب ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ اصل میں کلوروپلاسٹ میں اے ٹی پی کی تالیف کیسے ہوتی ہے؟ اس کو سمجھانے کے لیے کیمیائی ولوجی نظریہ پیش کیا گیا۔ تنفس کی طرح ضیائی تالیف میں بھی اے ٹی پی کی تالیف جھلی کے آرپار         پروٹونوں کے ڈھلان سے جڑی ہوئی ہوتی ہے۔ اس دفعہ یہ جھلیاں تھائلا کوائیڈز کی ہیں لیکن ایک فرق یہ ہے کہ یہاں پروٹونوںکا ذخیرہ جھلی کی اندرونی جانب یعنی لیومین (Lumen) میں ہوتاہے۔ تنفس میں پروٹون جب                           ای ٹی ایس (Electron Transport System) سے گزرتے ہیں تو ان کا ذخیرہ مائی ٹوکانڈریا کی دو جھلیوں کے درمیان ہوتا ہے (باب 14)۔        
اب ذرا سمجھیں کہ جھلی کے آرپار پروٹونوں کے ڈھلان کی وجہ کیا ہے؟ اس کے لیے ہمیں ان عملوں کو ذہن میں رکھنا ہوگا جو پروٹونوں کی آزادی اور ان کی منتقلی کے دوران واقع ہوتے ہیں جو پروٹون ڈھلان کے پیدا ہونے کی وجہ ہیں (شکل13.7)۔        
(a) چونکہ آب پاشیدگی جھلی کے اندرونی جانب ہوتی ہے، لہٰذا اس سے بننے والے پروٹونز یا ہائیڈروجن آین کی تذخیر تھائلا کوائیڈز کے لیومین میں ہوتی ہے۔        
(b) الیکٹرانز جیسے جیسینور نظاموں(Photosystems) سے گزرتے ہیں پروٹون جھلی کے پار نکل جاتے ہیں۔ یہ اس وجہ سے ممکن ہو تا ہے کہ ابتدائی الیکٹران قبول کنندہ جو جھلی کے بیرونی جانب واقع ہوتا ہے الیکٹران کو الیکٹران کیرئیرپر نہ منتقل کرکے H کیرئیر پر منتقل کردیتا ہے۔ لہٰذا یہ سالمہ اسٹروما سے ایک پروٹون ہٹاتا ہے اور ایک وقت ایک الیکٹران کو منتقل کرتا ہے۔ جب یہ سالمہ اپنے الیکٹران کو جھلی کے اندرونی جانب موجود الیکٹران کیریئر پر منتقل کرتا ہے توایک پروٹان اندرونی جانب یا جھلی کی لیومین کی جانب خارج ہوجاتا ہے۔        
Pic12 Capture13
شکل 13.7         کیمیائی فلوج کے ذریعہ اے ٹی پی (ATP) کا بننا
(c) NADP ریڈکٹینر خامرہ جھلی میں اسٹروما کی جانب ہوتا ہے۔         +NADPسے +NADPH+H
        کی تحویل کے لیے، PSI کے الیکٹران ایکسیپٹر سے نکلے ہوئے الیکٹران اور پروٹون کی موجودگی لازمی ہے۔ یہ پروٹون اسٹروما سے بھی باہر نکلتے ہیں۔
لہٰذا کلورو پلاسٹ کے اندر اسٹروما میں پروٹونوں کی تعداد میں کمی آجاتی ہے جبکہ لیومین میں پروٹون اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ اس طرح سے تھائلا کوائیڈ جھلی کے آر پار پروٹون ڈھلان کی ایک تدریج پیدا ہوتا ہے اور لیومین کے pH میں مقابل لحاظ کمی واقع ہوجاتی ہے۔        
ہم پروٹون ڈھلان کی تدریج میں کیوں اتنی دلچسپی رکھتے ہیں؟ یہ ڈھلان اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ اس ڈھلان کا بریک ڈاؤن ہے جس سے توانائی کا اخراج ہوتا ہے۔ یہ ڈھلان اس وقت ٹوٹ جاتا ہے جب پروٹان AT Pose         کے ٹرانس ممبرین چینل کےFo کے ذریعے اسٹروما کی طرف جھلی کے آرپار حرکت کرتے ہیں۔ آپ نے اے ٹی پی اور اے ٹی پینر خامرے کے بارے میں باب 12 میں پڑھا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ اے ٹی پیز خامرہ دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے: ایک حصہ Fo کہلاتا ہے جو جھلی میں دھنسا رہتا ہے اور اس کے آر پار ایک چینل بناتا ہے جو جھلی کے پار پروٹانوں کے نفوذ کا ذریعہ بنتا ہے دوسرا حصہ F1کہلاتا ہے جو تھائلا کوائڈ کی بیرونی سطح کی طرف نکلا رہتا ہے یعنی جھلی کی اس جانب جس کا رخ اسٹروما کی طرف ہوتا ہے۔ ڈھلان بریک ڈاؤن کی وجہ سے جو توانائی پیدا ہوتی ہے اس سے اے ٹی پینر کے F1 حصے میں ساختی تبدیلی آتی ہے جس کی وجہ سے خامرہ توانائی سے بھر پور اے ٹی پی کے کئی سالموں کی تالیف کرتا ہے۔        
کیمیائی ولوج (Chemiosmosis) کے لیے ایک جھلی، ایک پروٹون پمپ، پروٹون ڈھلان اور اے ٹی پینر خامرے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تھائلا کوائڈ لیومین میں ڈھلان پیدا کرنے کے لیے یا پروٹونوں زیادہ ذخیرہ کے لیے اور پروٹون کوجھلی کے پار پروٹونوں کوپمپ کرنے کے لیے توانائی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اے ٹی پینر کے پاس ایک چینل ہے جس کے ذریعے جھلی کے پار پروٹونوں کا نفوذ ہوتا ہے، اس عمل سے جو توانائی خارج ہوتی ہے وہ اے ٹی پینرخامرے کو فعال بنانے کے لیے کافی ہوتی ہے جو اے ٹی پی کے تالیفی عمل میں مدد دیتاہے۔        
الیکٹرانوں کی منتقلی سے NADPH کی تالیف کے ساتھ ساتھ اسٹروما میں واقع ہونے والے حیاتی تالیف (Bio Synthesis)         کے عمل میں ATP فوراً کام آجاتی ہے جو CO2 کی تثبیت (Fixation) اور مختلف شکر کی تالیف کے لیے ذمہ دارہے۔        

13.7 اے ٹی پی اور این اے ڈی پی ایچ کہاں استعمال ہوتے ہیں؟        

(Where are the ATP and NADPH Used?)        

ہم جانتے ہیں کہ نوری تعامل کے ماحصل اے ٹی پی، این اے ڈی پی ایچ اور آکسیجن ہوتے ہیں۔ ان میں سے آکسیجن کلوروپلاسٹ سے باہر نفوذ ہو جاتی ہے جبکہ اے ٹی پی اور این اے ڈی پی ایچ غذا کی خاص طور پر شکر کی تالیف کے عملوں کو چلانے میں استعمال ہوتے ہیں۔ یہ ضیائی تالیف کا حیاتیات تالیفی دورہے۔ یہ عمل بالواسطہ روشنی کی موجودگی پر منحصر نہیں ہوتا بلکہ نوری تعامل کے ماحصل پر منحصر ہوتا ہے یعنی CO2         اورH2O          کے علاوہ اے ٹی پی اور این اے ڈی پی ایچ پر۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس کی تصدیق کیسے کی جاتی ہے؟ یہ بہت آسان ہے: روشنی کی غیر دستیابی کے فوراً بعد کچھ دیر تک حیاتیاتی تالیفی عمل جاری رہتا ہے اور اس کے بعد رک جاتا ہے۔ اگر اس وقت روشنی دوبارہ مہیا کر دی جائے تو یہ تالیفی عمل دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔ تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس حیاتیاتی تالیفی عمل کو تاریک تعامل کہنا اصطلاح کا غلط استعمال ہے؟ اس موضوع پر آپس میں بحث کیجیے۔        
اب معلوم کریں کہ اے ٹی پی اور این اے ڈی پی ایچ حیاتیاتی تالیفی عمل میں کس طرح استعمال ہوتے ہیں۔ ہم پہلے پڑھ چکے ہیں کہ CO2 اور H2O باہم مل کر (CH2O)n یا شکر بناتے ہیں۔ سائنسدانوں کی دلچسپی اس بات میں تھی کہ یہ تعامل کیسے آگے بڑھتا ہے، یا CO2         جب اس تعامل میں داخل ہوتی ہے تو پہلا ماحصل کیا ہوتا ہے یا CO2         کی تثبیت کیسے ہوتی ہے؟ دوسری جنگ عظیم کے فوراً بعد ریڈیو ہم جا (Radio Isotops) کو بہت سارے دیگر مفید استعمال میں لانے کے لیے کی گئی متعدد کوششوں میں، میلون کیلون کا کام قابل تقلید ہے۔ الگی میں ضیائی تالیف کے مطالعے کے دوران اس نے 14C ریڈیو ہم جا کا استعمال کیا اور یہ دریافت کیا کہ CO2         کی تثبیت کے عمل کا پہلا ماحصل تین کاربن والا نامیاتی ایسڈ ہوتا ہے۔ بعد ازاں اس نے مکمل حیاتیاتی تالیفی پاتھ وے (Biosynthetic Pathway) معلوم کیا اور اس نسبت سے اس پاتھ وے کو کیلون سائیکل کہتے ہیں۔ 3 فاسفو گلیسرک ایسڈ یا پی جی اے کی شکل میں پہلے ماحصل کی شناخت ہوئی۔ اس میں کاربن کے کتنے ایٹم ہوتے ہیں؟        
سائنسدانوں نے یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کی کہ کیاہر پودے میں پی جی اے، CO2         تثبیت کا پہلا ماحصل ہوتا ہے اور کیا دوسرے پودوں میں کوئی اور ماحصل ہوتا ہے۔ بہت سارے پودوں پر تجربات کے دوران معلوم ہوا کہ پودوں کا ایک ایسا گروپ بھی ہے جن میں CO2         تثبیت کا پہلا ماحصل ایک نامیاتی تیزاب ہی ہے مگر اس میں چار کاربن ایٹم ہوتے ہیں۔ اس کی شناخت آگزیلو اسیٹک ایسڈ یا او، اے اے کی شکل میں گئی اس انکشاف کے بعدکہا گیا کہ ضیائی تالیف کے دوران CO2         کااستحالہ دو قسم کا ہوتا ہے: وہ پودے جن میں CO2         تثبیت کا         پہلا ماحصلC3         ایسڈ (PGA)ہے یعنی C3 پاتھ وے، اور دوسرا گروپ ان پودوں کا ہوتا ہے جن میں پہلا ماحصل C4 ایسڈ (او۔ اے۔ اے) ہوتا ہے یعنی C4 پاتھ وے کہلاتا ہے۔ پودوں کے ان دونوں گروپوں سے کچھ اور خصوصیات بھی منسلک ہوتی ہیں جن کا ذکر ہم بعد میں کریں گے۔

13.7.1 کاربن ڈائی آکسائڈ کا ابتدائی قبول کنندہ (The Primary Acceptor of CO2)        

ایک سوال ہم اپنے آپ سے پوچھنا چاہتے ہیں جو ان سائنسدانوں نے پوچھا تھا جوتاریک تعامل کے بارے میں مزید سمجھنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔ اس سالمے میں کاربن کے کتنے ایٹم ہوں گے جس میں CO2 کو قبول (تثبیت کے دوران) کرنے کے بعد (پی جی اے کے) تین کاربن ہوتے ہیں؟        
خلاف توقع، تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہقبول کنندہ سالمہ پانچ کاربن ایٹم والا کیٹوز شکر (Ketose Sugar)، رائبو لوز بائی فاسفیٹ (RuBP)ہے۔ کیا آپ نے اس امکان کے بارے میں سوچا تھا؟ پریشان نہ ہوں، سائنسدانوں کو بھی بہت تجربات کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچنے میں کافی عرصہ لگا۔ پانچ کاربن والا RuBPمرکب تلاش کرنے سے پہلے ان کا بھی یہ قیاس تھا کہ چونکہ پہلا ماحصل C3 تیزاب تھا لہٰذا ابتدائی قبول کنندہ دو کاربن والا مرکب ہوگا؛ انہوں نے کئی سال دو کاربن مرکب تلاش کرنے میں صرف کردیے۔        

13.7.2کیلون دور         (The Calvin Cycle)

کیلون اور اس کے ساتھیوں نے پور ے پاتھ وے پرکام کیا اور معلوم کیا کہ یہ دوری طور (Cyclic Manner) پر چلتا ہے اور RuBPدوبارہ پیدا ہوتا ہے۔ اب ہم معلوم کریں گے کہ کیلون پاتھ وے کیسے عمل میں آتا ہے اور شکر کی تالیف کہاں ہوتی ہے۔ سب سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ کیلون پاتھ وے ہر اس پودے میں ہوتا ہے جو ضیائی تالیف کرتا ہے اور یہ اہم نہیں ہے کہ ان میں C3 یا C4 یا کوئی اور پاتھ وے ہوتا ہے (شکل13.8)۔        
آسانی کے لیے کیلون دور کو تین حصوں میں بانٹا جاسکتا ہے: کاربوکسی لیشن، تحویل اور بازتشکیل۔        
کارباکسی لیشن۔ CO2 کی مستحکم نامیاتی ضمنی ماحصلات میں تبدیلی کاربوکسی لیشن ہے۔ کاربوکسی لیشن، کیلون دور کا فیصلہ کنمرحلہ ہے جس میں CO2 کا استعمال RuBPکے کاربوکسی لیشن میں ہوتا ہے۔خامرہ RuBPکاربوکسی لیز اس تعامل میں مدد کرتا ہے اور 3 پی جی اے کے دو سالموں کی تالیف کرتا ہے۔ چونکہ یہ خامرہ آکسیجنیشن بھی کرتا ہے اس لیے بہتر ہوگا کہ اس کو RuBPکاربوکسی آکسیجینزیا RuBisCOکا نام دیا جائے۔        
تحویل:۔ یہ سلسلہ وار تعاملات ہیں جو آخیر میں گلوکوز بناتے ہیں۔ اس میں CO2 کے ایک سالمے کی تثبیت کے لیے دو اے ٹی پی کے سالمے فوسفوریلیشن میں اور تحویل کے لیے دو این اے ڈی پی ایچ کے سالمے استعمال ہوتے ہیں۔ اس پاتھ وے سے         گلوکوز کے ایک سالمے کوہٹانے کے لیے CO2کے چھسالموں کی تثبیت اور دور کے چھ چکروں کی ضرورت ہوتی ہے۔        
Pic13 Captur13
شکل 13.8         کیلون دورتین مرحلوں میں مکمل ہوتا ہے۔1۔ کاربوکسی لیشن، جس کے دوران CO2 ، رائبولوز 5-1 بائی فاسفیٹ سے کے ساتھ متحد ہوجاتی ہے۔ 2۔ باز تشکیل، اس کے دوران ضیائی کیمیائی طریقے سے بنے اے ٹی پی اور این ڈی پی ایچ کے استعمال سے کاربوہائڈریٹ بنتا ہے۔ اور         3۔ باز تشکیل کے دوران CO2 کو حاصل کرنے والا 5,1 بائی فاسفیٹ دوبارہ بنتا ہے تاکہ یہ دور جاری رہ سکے۔
بازتشکیل:۔ اگر اس دور کوبغیر کسی خلل چلتے رہنا ہے تو CO2 قبول کنندہ سالمہ RuBP کی باز تشکیل نہایت ضروری عمل ہے۔ باز تشکیل کے مراحل میں فوسفوریلیشن کے ذریعے RuBPبنانے کے لیے ایک عدد اے ٹی پی کی ضرورت پڑتی ہے۔        
لہٰذا کیلون دور میں داخل ہونے والے ہر CO2 سالموں کے لیے اے ٹی پی کے تین سالموں اور این اے ڈی پی ایچ کے دوسالموں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور شایدتاریک تعامل میں استعمال ہونے والے اے ٹی پی اور این اے ڈی پی ایچ کی تعداد میں اس کمی کو پورا کرنے کے لیے دائری فاسفوریلیشن عمل میں آتا ہے۔        
گلوکوز کا ایک سالمہ بنانے کے لیے دور کے چھ چکر درکار ہوتے ہیں۔ معلوم کیجیے کہ کیلون پاتھ وے کے ذریعے گلوکوز کے ایک سالمے کی تالیف کے لیے اے ٹی پی اور این اے ڈی پی ایچ کے کتنے سالموں کی ضرورت ہوگی؟        
اگر ہم غور کریں کہ کیلون دور میں کیا داخل ہوتا ہے اور کیا خارج ہوتا ہے تو شاید ہمیں یہ سمجھنے میں آسانی ہوجائے گی۔         

داخل خارج        

چھ CO2 ایک گلوکوز        
18 اے ٹی پی   18 اے ڈی پی        
12 این اے ڈی پی ایچ 12 این اے ڈی پی   
    

13.8 C4 پاتھ وے (The C4 Pathway)        

خشک گرم سیر علاقوں میں پائے جانے والے پودوں میں C4پاتھ وے ہوتا ہے۔ حالانکہ ان میں C4 اگزیلو اسٹیک ایسڈ CO2تثبیت کا پہلا ماحصل ہوتا ہے مگر یہ C3 پاتھ وے یا کیلون دور کا استعمال خاص حیاتیاتی تالیفی پاتھ وے کے طور پر کرتے ہیں۔ اب آپ یہ         سوال پوچھ سکتے ہیں کہ یہ C3 پودوں سے کس طرح مختلف ہیں؟
C4 خاص پودے ہیں جن کی پتیوں کی ایک مخصوص اناٹومی ہے، ان میں زیادہ درجۂ حرارت برداشت کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے، ان میں روشنی کی زیادہ شدت کے تئیں ردعمل ہوتا ہے، ان میں ضیائی تنفس (Photorespiration) نہیں ہوتا اور غیر معمولی مقدار میں بائیوماس پیدا کرتے ہیں۔        
تجربہ گاہ میں ، ایک C3 اور ایک C4 پودے کی پتی کے عمودی سیکشن کا مطالعہ کیجیے۔ کیا آپ کوئی فرق محسوس کرتے ہیں؟ کیا دونوں میں ایک ہی طرح کی میزوفل ہیں۔ ویسکولر بنڈل کے غلاف کے اطراف کے خلیے کیا ایک ہی طرح کے ہیں۔        
C4 پاتھ وے والے پودوں کے ویسکولر بنڈل کے اطراف میں خصوصاً بڑے خلیے بنڈل شیتھ خلیے کہلاتے ہیں، اور وہ پتیاں جن میں اس طرح کی اناٹومی ہوتی ہے کرانز اناٹومی (Kranz Anatomy) کہلاتی ہے۔ خلیوں کی ترتیب کی بنا پر جن کی شکل کرانز یعنی ریتھ جیسی ہوتی ہے۔ ویسکولر بنڈلز کے چاروں طرف بنڈل شیتھ خلیوں کی کئی پرتیں ہوسکتی ہیں، کلورو پلاسٹ کی کثرت سے موجودگی ان کی خاصیت ہے۔ خلوی دیواریں دبیز ہوتی ہیں جو گیس کے تبادلے کی مز احمت کرتی ہیں اور خلیوں کے درمیان خالی جگہیں نہیں ہوتیں۔ کرانز اناٹومی اور خلیوں میں میزوفل کی ترتیب کے مشاہدے کے لیے آپ C4 پودوں یعنی مکایا جوار کی پتیوں کے سیکشن کاٹیں اور اندرونی ساخت کا مطالعہ کریں۔
آپ کے لیے یہ دلچسپ مشغلہ ہوگا کہ آس پاس کے مختلف پودوں کی پتیاں جمع کریں اور ان کے عمو دی سیکشن کاٹیں اور خوردبین کے ذریعے ان کا مشاہدہ کریں خاص طور سے ویسکولر بنڈلوں  کے اطراف بنڈل شیتھ کا مطالعہ کریں۔ بنڈل شیتھ کی موجودگی آپ کو C4پودے پہچاننے میں مدد کرے گی۔        
Pic14 Captur13
شکل 13.9         ہیچ اور سلیک پاتھ وے: بہت مختصر میسوفل اور بی ایس خلیہ دکھاتے ہوئے۔

اب شکل 13.9 میں دیے گیے پاتھ وے کا مطالعہ کریں۔ اس پاتھ وے کا نام ہیچ اور سلیک پاتھ وے (Hatch and Slack Pathway) ہے اور یہ بھی دوری عمل ہے (Cyclic Process)۔
تین کاربن سالمہ فاسفواینال پائی رو ویٹ (پی ای پی) ابتدائی CO2 ایکسیپٹر ہے اور میزوفل خلیوں میں موجود ہوتا ہے۔ اس تثبیت کا ذمہ دارخامرہ پی ای پی کاربوکسی لیزیا پی ای پی کیز (PEP case) ہوتا ہے۔ خیال رہے کہ میزوفل خلیوں میں RuBisCOخامرہ نہیں ہوتا۔ C4 ایسڈ او اے اے میزوفل خلیوں میں بنتا ہے۔        
پھر یہ  میزوفل خلیوں میں دیگر چار کاربن والے مرکبات جیسے میلک ایسڈ یا الیسپارٹک ایسڈبناتا ہے، جو بنڈل شیتھ کے خلیوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔ یہاں یہ C4         ایسڈ CO2 اور تین کاربن سالموں میں ٹوٹ جاتا ہے۔ تین کاربن والے سالمے واپس میزوفل میں منتقل ہو جاتے ہیں جہاں وہ پی ای پی میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور اس طرح یہ دور تکمیل کو پہنچاتا ہے۔        
بنڈل شیتھ کے خلیوں سے خارج شدہ CO2 کیلون یا C3 پاتھ وے میں داخل ہوتی ہے جو تمام پودوں میں پائی جاتی ہے بنڈل شیتھ خلیوں میں RuBisCOکثرت سے پایا جاتا ہے لیکن ان میں PEPcaseنہیں ہوتا۔ لہٰذا بنیادی پاتھ وے جس کے نتیجے میں شکر بنتی ہے یعنی کیلون سائیکل C3 اور C2 پودوں میں مشترک ہوتی ہے۔ کیا آپ نے ذہن نشین کیا کہ C3 کیلون پاتھ وے پودوں کے تمام میزوفل میں واقع ہوتا ہے اور C4 پودوں کے میزوفل خلیوں میں نہ ہو کر صرف بنڈل شیتھ کے خلیوں میں واقع ہوتا ہے۔        

13.9 ضیائی تنفس (Photorespiration)        

اب ہم ایک اور عمل ضیائی تنفس پر یعنی غور کریں گے جو C3 اور C4 پودوں میں تفریق کرتا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں کیلون پاتھ وے کے پہلے مرحلہ یعنیCO2 کی تثبیت کے پہلے مرحلہ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنی ہوگی یعنییہ وہ تعامل ہے جہاں RuBP، CO2 سے مل کر 3 پی جی اے کے دو سالمے بناتا ہے اور RuBisCOخامرہ اس میں مدد کرتا ہے۔        
Pic15 Captur13
RuBisCO جو دنیا میں سب سے زیادہ پایا جانے والا انزائم ہے۔ (معلوم ہے کیوں؟) اپنے نام کی مناسبت سے اس کی خاصیت یہ ہے کہ اس کی ایکٹیو سائٹ سے CO2 اور O2دونوں وابستہ ہوسکتے ہیں۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ ایسا کیسے ممکن ہو پاتا ہے؟ ریوبسکو کا میلان O2 کے مقابلے CO2 سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ قیاس کیجیے کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ یہ میلان بہم آزما (Competitive) ہوتا ہے۔ اس کا فیصلہ کہ O2اور CO2 میں سے کون خامرے سے جڑے گا، ان دونوں کا نسبتی ارتکاز کرتا ہے۔
C3 پودوں میں O2، RuBisCOسے کسی حد تک جڑتی ہے لہٰذا CO2 کی تثبیت میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ یہاں RuBPپی جی اے کے دو سالموں میں تبدیل ہونے کے بجائے O2 سے مل کر صرف ایک سالمہ بناتا ہے اور ایک پاتھ وے میں فاسفو گلائیکو لیٹ ہوتا ہے جسے ضیائی تنفس کہتے ہیں۔ ضیائی تنفس کے پاتھ وے میں شکر اور اے ٹی پی کی تالیف نہیں ہوتی بلکہ یہ اے ٹی پی استعمال کرکے CO2 خارج کرتا ہے۔ اس پاتھ وے میں اے ٹی پی اور این اے ڈی پی ایچ کی بھی تالیف نہیں ہوتی۔ اس لیے ضیائی تنفس ایک فضول عمل ہے۔
ضیائی تنفس C4 پودوں میں نہیں ہوتا کیونکہ ان میں ایک نظام ہوتا ہے جس کے ذریعے خامرے کی جگہ CO2 کا ارتکاز بڑھ جاتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب میزوفل سے حاصل شدہ C4 ترشے بنڈل کے خلیوں میں ٹوٹ کر CO2 خارج کرتے ہیں اور نتیجتاً خلیوں کے اندر CO2 کا ارتکاز بڑھ جاتا ہے۔ لہٰذا RuBisCO خامرے کی آکسیجنیز(Oxygenase) سرگرمی کم ہوجاتی ہے یہ کاربوکسی لیز کی حیثیت سے عمل کرتا ہے۔        
اب جب کہ آپ کو معلوم ہوگیا کہ C4 پودوں میں ضیائی تنفس لینس ہوتا ہے یہ سمجھنا آسان ہوگا کہ ان پودوں میں پیداوار کیوں بہتر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ان پودوں میں زیادہ درجۂ حرارت کو برداشت کرنے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے۔        
مندرجہ بالا بحث کی بنا پر کیا آپ C3 اور C4 پاتھ وے والے پودوں کا موازنہ کر سکتے ہیں؟ اگلے صفحہ پر دیئے گئے جدول کا استعمال کیجیے اور اس میں خالی جگہوں کو پر کیجیے۔        

جدول 13.1         C3 اور C4 پودوں کے فرق کوواضح کرنے کے لیے کالم 2 اور 3 کو بھرئیے۔

خصوصیات         C3 پودے C4 پودے مندرجہ ذیل میں سے منتخب کیجیے
خلیوں کی قسم جن میں کیلون دور ہوتا ہے۔ میزوفل / بنڈل شیتھ/ دونوں
خلیوں کی قسم جن میں کاربوکسی لیشن کے ابتدائی عمل ہوتے ہیں۔ میزوفل / بنڈل شیتھ/ دونوں
خلیوں کی کتنی اقسام میں CO2کی تثبیت ہوتی ہے دو : بنڈل شیتھ اور میزوفل
        ایک : میزوفل   
تین : بنڈل شیتھ، پیلی سیڈ، اسپنجی میزوفل
ابتدائی CO2ایکسیپٹر کون سا ہے آریو ڈی پی / پی ای پی/ پی جی اے
ابتدائی ایکسیپٹر میں کاربن کی تعداد 5/4/3
ابتدائی CO2 تثبیت کا ماحصل کون ہے پی جی اے/ او اے اے / آریو بی پی/پی ای پی        
ابتدائی CO2 تثبیت کے ماحصل میں کاربن کی تعداد
5/4/3
کیا پودوں میں RuBisCOہوتا ہے۔ ہاں/ نہیں/ ہمیشہ نہیں
کیا پودوں میں پی ای پی کیس (PE Pcase)ہوتاہے؟ ہاں/ نہیں/ ہمیشہ نہیں
پودوں کے کون سے خلیوں میں RuBisCOہوتا ہے۔ میزوفل / بنڈل شیتھ/ کسی میں نہیں
زیادہ روشنی کی موجودگی میں CO2تثبیت کی شرح کم / زیادہ / درمیانی
کیا کم روشنی میں ضیائی تنفس واقع ہوتا ہے؟ زیادہ/ نہیں کے برابر/ کبھی کبھی
کیا زیادہ روشنی میں ضیائی تنفس واقع ہوتا ہے؟ زیادہ/ نہیں کے برابر/ کبھی کبھی
کیا کم CO2کے ارتکاز میں ضیائی تنفس واقع ہوتاہے؟ زیادہ/ نہیں کے برابر/ کبھی کبھی
کیا زیادہ CO2 کے ارتکاز میں ضیائی تنفس واقع ہوتا ہے؟ زیادہ/ نہیں کے برابر/ کبھی کبھی
معقول درجۂ حرارت         30-40 C/20-25C 40C سے زیادہ        
مثالیں         مختلف پودوں کی پتیوں کا عمودی سیکشن کاٹیے اور خوردبین سے کرانز اناٹومی کا مشاہدہ کیجیے اور موزوں کالم میں ان کی
       فہرست بنائیے۔     

13.10 ضیائی تالیف کو متاثر کرنے والے عوامل

(Factors Affecting Photosynthesis)        

ان عوامل کو سمجھنا ضروری ہے  جو ضیائی تالیف پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ پودوں اور فصلوں کی پیداوار کا تعین کرنے کے لیے ضیائی تالیف کی شرح بہت اہم ہے۔ ضیائی تالیف کئی عوامل کے زیر اثرہوتی ہے جو اندرونی (پودے) اور بیرونی ہوتے ہیں۔ اندرونی اسباب میں پتیوں کی تعداد سائز، عمر پتیوں کی بناوٹ میزوفل خلیے، کلوروپلاسٹ، اندرونی CO2 کا ارتکاز اور کلوروفل کی مقدار شامل ہیں۔ اندرونی عوامل  پودے کی نمو اور جینی رجحان پر منحصر ہوتے ہیں۔        
بیرونی اسباب میں سورج کی روشنی کی دستیابی، درجہ حرارت، CO2 کا ارتکاز اور پانی شامل ہیں۔ پودے میں ضیائی تالیف کے دوران یہ تمام اسباب بیک وقت اثر انداز ہوتے ہیں۔ چونکہ کئی باہمی عمل (Interact) کرتے ہیں لہٰذا CO2 تثبیت یا ضیائی تالیف پر بیک وقت اثر انداز ہوتے ہیں، عموماً ایک سبب ضیائی تالیف کی شرح کو محدود کرنے کا باعث بنتا ہے۔ چنانچہ کسی ایک وقت پر شرح کا تعین اس سبب سے ہوگا جو مناسب سطح سے کم دستیاب ہوگا۔        
کسی حیاتیاتی یاحیاتیاتی کیمیائی عمل پر کئی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں تو اس پر بلیک مین (1905)کا تحدیدی عوامل کاقانون (Law of Limiting Factors) نافذ ہو جاتا ہے جس کو مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان کرسکتے ہیں:
اگر کوئی کیمیائی عمل ایک سے زیادہ عوامل سے متاثر ہوتا ہے تو اس کی شرح کا تعین اس عامل کی بنیاد پر ہوگا جو اپنے کم از کم قدر کے قریب ہوگا: اگر اس عامل کی مقدار میں تبدیلی کی جائے تو یہ اس عمل کو براہ راست متاثر کرے گا۔
مثال کے طور، سبز پتے اور بھرپور روشنی اور CO2 کی موجودگی میں بھی پودا ضیائی تالیف نہیں کر پائے گا اگر درجۂ حرارت بہت کم ہو۔ اس پتی کو اگر معقول مقدار میں درجۂ حرارت مہیا کرایا جائے تو ضیائی تالیف کا عمل شروع ہو جائے گا۔
Pic16 Captur13

شکل 13.10         ضیائی تالیف کی شرح پرروشنی کی شدت کا اثر

13.10.1         روشنی (Light)        

جب ہم ضیائی تالیف پر اثر انداز ہونے والے عامل کے طور پر روشنی کا تذکرہ کرتے ہیں تو ہمیں روشنی کی قسم، روشنی کی شدت اور مدت میں فرقکرنے کی ضرورت ہے۔ کم روشنی کی موجودگی میں پتیوں پر گرنے والی روشنی اور CO2 کی تثبیت کی شرح میں  خطی تعلق (Linear Relationship) ہوتا ہے۔ زیادہ روشنی کی موجودگی میں یہ شرح بتدریج بڑھتی ہے۔ مگر ایک جگہ پہنچ کر اس سے آگے نہیں بڑھتی چونکہ اس وقت دوسرے عوامل تجدیدی (Limiting) ہوتے جاتے ہیں (شکل 13.10)۔ ایک دلچسپ         بات مشاہدے میں یہ آتی ہے کہ روشنی کی سیری (Saturation) بھر پور سورج کی روشنی کا دس فیصدی ہوتا ہے۔ چنانچہ قدرت میں سوائے ان پودوں کے جو سائے میں یا گھنے جنگلوں میں پائے جاتے ہیں روشنی شازو نادر ہی ضیائی تالیف کے لیے تحدیدی ہوتی ہے۔ آنے والی روشنی میں ایک خاص حد سے اضافہ کلوروفل کو نقصان پہنچاتا ہے اور ضیائی تالیف کی شرح کم ہو جاتی ہے۔        

13.10.2 کاربن ڈائی آکسائڈ کا ارتکاز (Carbon Dioxide Concentration)        

کاربن ڈائی آکسائڈ، ضیائی تالیف کے لیے بہت اہم تحدیدی عامل  ہے۔ CO2 کا ارتکاز فضا میں بہت کم ہوتا ہے۔ (0.03 اور 0.04 فی صدی کے درمیان)۔ اس ارتکاز میں 0.05 فی صدی تک کا اضافہ CO2 تثبیت کی شرح میں اضافہ کرسکتا ہے، اس سے زیادہ کاطویل مدتی اضافہ نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔        
CO2 کے ارتکازکے تئیں C3 اور C4 کا رد عمل مختلف ہوتا ہے۔ کم روشنی کی موجودگی میں دونوں گروپوں میں سے کوئی بھی زیادہ CO2 کے ارتکاز پر کوئی رد عمل         نہیں کرتا لیکن روشنی کی زیادہ شدت کی موجودگی میں C3 اور C4 دونوں پودے ضیائی تالیف کی شرح میں اضافہ دکھاتے ہیں۔ نوٹ کریں کہ C4 پودوں میں سیری 360ml-1 ہوتی ہے جبکہ CO2، C3 پودے ارتکاز کے اضافے پر رد عمل کرتے ہیں اور سیری450l-1 کے بعد مشاہدے میں آتی ہے۔لہٰذا اس وقت CO2 کی دستیابی کی سطح C3 پودوں کے لیے تحدیدی ہے۔        
C3 پودے CO2 کے زیادہ ارتکاز پر ردعمل کرتے ہیں اور ضیائی تالیف کی شرح میں اضافہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے پیداوار میں بھی اضافہ ہوتا ہے، اس حقیقت کا استعمال گرین ہائوس فصلوں مثلاً ٹماٹر اور شملہ مرچ پر کیا جاچکا ہے۔ ان کو کاربن ڈائی آکسائڈسے بھر پور ماحول میں اگایا جاتا ہے اور اچھی پیداوار حاصل کی جاتی ہے۔        

13.10.3         درجہ حرارت         (Temperature)        

تاریک تعامل خامروں کی موجودگی میں ہوتا ہے لہٰذا یہ درجۂ حرارت منضبط ہوتا ہے۔ حالانکہ نوری تعامل بھی درجۂ حرارت سے متاثر ہوتاہے لیکن یہ اثر بہت کم حد تک ہوتا ہے۔ C4 پودے زیادہ درجۂ حرارت پر رد عمل ظاہر کرتے ہیں اور ضیائی تالیف کی شرح بڑھا دیتے ہیں جبکہ C3 پودے یہی عمل کم درجہ حرارت پر کرتے ہیں۔        
مختلف پودوں میں ضیائی تالیف کے لیے معقول درجۂ حرارت پر انحصار ان کے مسکن پر ہوتا ہے جس سے وہ توافق کر لیتے ہیں۔ منطقہ حارہ والے پودوں میں یہ معقول درجۂ حرارت منطقہ معتدلہ والے علاقوں میں پائے جانے والے پودوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔        

13.10.4         پانی (Water)        

حالانکہ پانی نوری تعامل میں حصہ لیتا ہے مگر عامل کی حیثیت سے پانی کا اثر براہ راست ضیائی تالیف پر ہونے کے بجائے خود پودے کے ذریعے سے ہوتا ہے۔ پانی کی کمی پتیوں کے اسٹومیٹا کو بند کرنے میں مدد کرتی ہے اور اس طرح CO2 کی دستیابی میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ پانی کی کمی کی وجہ سے پتیاں مرجھا جاتی ہیں اور ان کی سطح کا رقبہ کم ہوجاتا ہے اور یہ کہ ان کی استحالی سرگرمی (Metabolic Activity) میں بھی کمی واقع ہو جاتی ہے۔

خلاصہ        

ضیائی تالیف کے ذریعے سبز پودے اپنی غذا خود تیار کرتے ہیں۔ اس عمل کے دوران فضا سے CO2 پتیوں کے اسٹومیٹاکے ذریعے اندر داخل ہوتی ہے جس کا استعمال کاربوہائیڈریٹ خاص کر گلوکوز اوراسٹارچ بنانے میں ہوتا ہے۔ پودے کے صرف سبز حصوں میں ضیائی تالیف ہوتی ہے خاص کر پتیوں میں۔ پتیوں کے اندر موجود میزوفل خلیوں میں لاتعداد کلورو پلاسٹ ہوتے ہیں جو CO2 کی تثبیت کے لیے ذمہ دارہیں۔ کلورو پلاسٹ کے اندر جھیلوں میں نوری تعاملات واقع ہوتے ہیں، جبکہ کیمیائی تالیفی پاتھ وے اسٹروما میں انجام پذیر ہوتا ہے۔ ضیائی تالیف کو دو حصوں میں بانٹا جاسکتا ہے: نوری تعامل اور CO2 کی تثبیت کا تعامل۔ نوری تعامل کے دوران نوری توانائی انٹینا میں موجود پگمینٹ کے ذریعے جذب ہوتی ہے اور مخصوص کلوروفل aسالمہ جسے مرکز تعامل کلوروفل کہتے ہیں، پر منتقل ہو جاتی ہے۔ دو فوٹوسسٹم ہوتے ہیں PSI اور PSI-PSII مرکزتعامل سینٹر میں 700nm انجذابی کلوروفل اے P700 سالمہ ہوتا ہے۔ جبکہ PSII میں P680 مرکز تعامل ہوتا ہے جو سرخ روشنی کو 680nm پر جذب کرتا ہے۔ روشنی جذب کرنے کے بعد الیکٹرون آزاد ہوجاتے ہیں اور PSII اور PSI کے ذریعے آخر میں این اے ڈی پر منتقل ہو کر این اے ڈی ایچ بناتے ہیں۔ اس عمل کے دوران تھائلا کوائیڈ کی جھلی کے آر پار پروٹون ڈھلانا پیدا ہوتا ہے۔ اے ٹی پینر خامرے کی Fo حصے کے ذریعے منتقلی کی وجہ سے پروٹون ڈھلان کے ٹوٹنے سے جو توانائی خارج ہوتی ہے وہ اے ٹی پی کی تالیف کے لیے کافی ہوتی ہے۔ پانی کی ضیائی آب پاشیدگی PSII سے منسلک ہے جس کے نتیجے میں پروٹون اور O2 خارج ہوتے ہیں اور الیکٹران PSII پر منتقل ہو جاتے ہیں۔        
کاربن کے تثبیتی دور میں، RuBisCOخامرے کی مدد سے، CO2 ایک پانچ کاربن پر مشتمل مرکب RuBPسے جڑجاتی ہے جو تبدیل ہوکر تین کاربن پر مشتمل پی جی اے کے دو سالمے کی تالیف کرتا ہے کیلون دور کے ذریعے یہ شکر میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور RuBPدو بارہ بنتا ہے۔نوری تعامل کے دوران تالیف شدہ اے ٹی پی اور این اے ڈی پی ایچ اس عمل میں استعمال ہوجاتے ہیں۔ RuBisCO         C3         پودوں میں آ کسیجنیشن عمل میں بھی مدد کرتا ہے جو ایک فضول عمل ہے اسے ضیائی تنفس کہتے ہیں۔        
منطقعہ حارّہ میں پائے جانے والے پودے ایک خاص قسم کی ضیائی تالیف کرتے ہیں جو C4         پاتھ وے کہلاتا ہے ان پودوں کے میزوفل میں ہونے والی CO2 تثبیت کا پہلا ماحصل چار کاربن پر مشتمل مرکب ہوتا ہے۔ کاربوہائیڈریٹ کی تالیف کے لیے کیلون پاتھ وے بنڈل شیتھ کے خلیوں میںانجام پذیر ہوتا ہے۔        

مشق

پودوں کی باہری ساخت کو دیکھ کر کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ پودا C3 یا C4 ہے؟ کیوں اور کیسے؟        
پودے کی کس اندرونی ساخت کو دیکھ کر آپ C3 اور C4 پودے کوپہچان سکتے ہیں؟ وضاحت کیجیے۔        
جب کہ C4پودوں کے کچھ ہی خلیے حیاتیاتی تالیفی کیلون پاتھ وے عمل انجام دے سکتے ہیں، اس کے باوجود ان میں پیداوار کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ کیا آپ اس موضوع پر بحث کرسکتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے؟        
RuBisCO وہ خامرہ ہے جو کاربوکسی لیز اور آکسیجینز دونوں کی حیثیت سے عمل کرتا ہے۔ آپ کیوں ایسا سوچتے ہیں کہ C4                  پودوں         میں RuBisCOکاربوکسی لیشن کا کام زیادہ انجام دیتا ہے؟
فرض کیجیے کہ پودوں میں کلوروفل بی کا ارتکاز زیادہ اور کلوروفل اے بالکل نہیں ہے تو کیا ایسا پودا ضیائی تالیف کر پائے گا؟ پھر پودوں میں کلوروفل بی اور دیگر پگمنٹس کیوں موجود ہوتے ہیں؟        
تاریک جگہ پر رکھی گئی پتی عموماً پیلی یا ہلکی سبز کیوں ہو جاتی ہے؟ آپ کے خیال میں کون سا پگمنٹزیادہ مستحکم ہوتا ہے۔
ایک پودے کی پتی کا معائنہ کیجیے اور اس کے سائے کی طرف دار رخ اور سورج کی طرف والے رخ کا موازنہ کیجیے یا سائے میں رکھے ہوئے پودوں کا موازنہ روشنی میں رکھے ہوئے پودوں سے کیجیے۔ ان میں سے کس پودے کی پتیاں گہری سبز ہیں؟ اور کیوں؟
شکل 13.10 میں دیا گیاگراف ضیائی تالیف پر روشنی کے اثر کو دکھا رہا ہے۔ گراف کا بغور مطالعہ کرکے مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب دیجیے:
(a) منحنی (Curve) کے کس نقطے (A، B یا C) پر روشنی تحدیدی عامل بن جاتی ہے؟        
(b) خطہ اے میں کون سا عامل یا عوامل تحدیدی ہو جاتے ہیں؟        
(c) منحنی میں Cاور D کیا ظاہر کرتے ہیں؟
مندرجہ ذیلکا موازنہ کیجئے۔        
(a) C3اور C4پاتھ ویز        
(b) دائری اور غیر دائری فوٹوفوسفوریلیشن        
(c) C3اور C4 پودوں کی پتیوں کی اناٹومی