Skip to content


باب 14

پودوں میں تنفس

(Respiration in Plants)


14.1 کیا پودے سانس لیتے ہیں؟

14.2 گلائیکولیسس    

14.3 تخمیر    

14.4 ہواباش تنفس

14.5تنفس بیلنس شیٹ

14.6 امفی بولک پاتھ وے

14.7تنفسی تناسب


ہم زندرہ رہنے کے لیے سانس لیتے ہیں لیکن زندگی کے لیے سانس لینا کیوں ضروری ہے؟ جب ہم سانس لیتے ہیں تو کیا ہوتا ہے۔ کیا سبھی جاندار چیزیں مع نباتات اور جراثیم بھی سانس لیتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو کیسے؟

سبھی جاندار چیزوں کو روزمرہ کی سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ چاہے وہ انجذاب ہو، ٹرانسپورٹ ہو، چلنا پھرنا، تولید اور چاہے سانس سے متعلق سرگرمی ہو۔ ان تمام کاموں کے لیے توانائی کہاں سے آتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ توانائی کے حصول کے لیے ہم کھانا کھاتے ہیں لیکن غذا سے یہ توانائی کیسے حاصل ہوتی ہے۔ اس توانائی کا استعمال کیسے ہوتا ہے۔ کیا     تمام غذاؤںمیں توانائی کی مقدار یکساں ہوتی ہے۔ کیا پودے کھانا کھاتے ہیں؟ نباتات کہاں سے یہ توانائی حاصل کرتے ہیں۔ اور جرثومہ کیا اس توانائی کو حاصل کرنے کے لیے غذا لیتاہے؟

اوپر کیے گئے سوالات پر آپ کو تعجب ہوگا۔ ایسا لگتا ہے کہیہ سب غیر اہم سوالات ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ سانس لینے کا طریقہ اور غذا سے توانائی کے اخراج کے طریقے میں بہت اہم تعلق ہے۔آئیے اسے سمجھنے کی کوشش کریں کہ ایسا کیسے ہوتا ہے۔    

زندگی کے عملوں کوانجام دینے کے لیے ضروری تمام توانائی کلاں سالمات (جنھیں غذا کہتے ہیں) کی تکسید سے حاصل ہوتی ہے۔ صرف سبز پودے اور سائینو بیکٹیریا اپنی غذا ضیائی تالیف کے ذریعے خود ہی بناتے ہیں، اس عمل میں یہ سورج کی روشنی کو حاصل کرکے اسے کیمیائی توانائی میں تبدیل کردیتے ہیں جو کاربوہائیڈریٹ کے بانڈز میں جمع ہوجاتی ہے جسے گلوکوز یا شکر اور نشاستہ (اسٹارچ)کہتے ہیں۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سبز پودے میں بھیسبھی خلیے، بافت اورا عضا اپنے لیے غذا خود تیار نہیں کرتے، صرف مکوروپلاست پر مشتمل ایسے خلیوں میں ہی ضیائی تالیف ہوتی ہے۔ جو پودے کی سب سے باہری پرتوں میں پائے جاتے ہیں ۔جوپودے کی سب سے باہری پرتوں میں پائے جاتے ہیں۔حتیٰ کہ پودوں کے وہ اعضا، بافت اور خلیے جو سبز نہیں ہوتے، ان کوبھی تکسید کے لیے غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا غیر سبز حصوں میں بھی غذا پہنچائی جاتی ہے۔ حیوانات     دیگر پرورش (Heterotrophic)ہوتے ہیں یعنی یہ اپنی غذا     بالواسطہ (گوشت خور) یا بلاواسطہ(نباتات خور) طور پر پودوں سے حاصل کرتے ہیں۔ سیپروفائٹس جیسے فنجائی مردہ اور سڑی گلی اشیا سے اپنی غذا حاصل کرتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آخر کار زندگی کے عملوں کے لیے توانائی ضیائی تالیف سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ اس باب میں خلوی تنفس یا غذا کے ٹوٹنے کے طریقہ عمل کے بارے میں بنایا گیا ہے     توانائی پیداہوتی  ہے اور اے ٹی پی کی تالیف میں  اس توانائی کا استعمال ہوتا ہے۔

یوکیریاٹس میں ضیائی تالیف کلوروپلاسٹ میں ہوتی ہے جب کہ سائٹو پلازم اور مائٹوکانڈریا (صرف یو کریوٹس میں) میں پیچیدہ سالمے ٹوٹ کر توانائی فراہم کرتی  ہیں۔ خلیہ کے اندر تکسید کے ذریعے بڑے مرکبات کے C-Cبانڈ کو توڑنے کے دوران ایک خاص مقدار میں توانائی نکلتی ہے جسے تنفس کہتے ہیں۔ وہ مرکبات جن کی تکسید ہوتی ہے اسے تنفسی سبسٹریٹ کہتے ہیں۔ عموماً کاربوہائڈریٹس، تکسید ہوکر توانائی دیتے ہیں لیکن کچھ خاص حالات میں پروٹین چربی اور یہاں تک کی نامیاتی تیزابیوں کو کچھ پودوں میں تنفسی اشیاکی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک خلیہ کے اندر تکسید کے دوران تنفسی سبسٹریٹ میں موجود تمام توانائی خلیہ میں آزاد انہ طور پر یا صرف ایک مرحلہ میں نہیں خارج ہوتی۔ اسے بتدریج قدم بہ قدم تعامل کے ایک سلسلے میں خامروں کے ذریعے کنٹرول کرکے خارج کیا جاتا ہے۔اور اس کو اے ٹی پی کی صورت میں کیمیائی توانائی کی طرح حاصل کیا جاتا ہے۔ لہٰذا یہ سمجھنا اہم ہے کہ تنفس میں تکسید کے ذریعے جو توانائی خارج ہوتی ہے اس کا استعمال بالواسطہ نہیں بلکہ اے ٹی پی کی تالیف میں کیا جاتا ہے، جو جہاں کہیں بھی (اور جب کبھی بھی) ضرورت ہوتی ہے، ٹوٹ کر توانائی بہم پہنچاتا ہے۔ لہٰذا اے ٹی پی، خلیہ کی توانائی کرنسی ہوتی ہے۔ توانائی اے ٹی پی کی شکل میں  مقید ہوتی ہے جسے عضویوں میں استعمال کیا جاتا ہے اور تنفس کے دوران پیدا ہونے والے کاربن ڈھانچے کا استعمال خلیہ میں دوسرے جہاں توانائی کی ضرورت ہوتی ہے سالموں کی حیاتیاتی تالیف کے لیے تمہیدی شے کے طور پر کیا جاتا ہے۔    

14.1 کیا پودے سانس لیتے ہیں؟(?Do Plants Breathe)

اس سوال کا جواب سیدھا سا نہیں ہے۔ ہاں پودوں کو تنفس کے لیے O2کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ CO2 خارج کرتے ہیں۔ پودوں میں ایسے نظامات ہوتے ہیں جو O2کی دستیابی کو یقینی بناتے ہیں۔ پودوں میں جانوروں کی طرح، گیسوں کے تبادلے کے لیے خصوصی اعضا نہیں ہوتے، لیکن ان میں اس کام کو انجام دینے کے لیے اسٹومیٹا اورلینٹیکلس (Lenticels)پائے جاتے ہیں۔ پودے تنفسی اعضا کے بِنا ہی کیسے اپنا کام چلا لیتے ہیں؟ اس کی بہت ساری وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ پودے کا ہر ایک حصّہ گیس کے تبادلے کو انجام دیتا ہے۔ پودے کے ایک حصّے سے دوسرے حصے میں بہت کم گیس کا آنا جانا ہوتا ہے۔ دوسری وجہ کہ پودوں میں گیسوں کا تبادلہ کرنے کی ضرورت بہت زیادہ نہیں ہوتی۔ جڑ، تنا اور پتیاں جانوروں کی بہ نسبت بہت کم سانس لیتے ہیں۔ صرف ضیائی تالیف کے دوران زیادہ مقدار میں گیسوں کا تبادلہ ہوتا ہے۔ اور اس درمیان ہر ایک پتی اپنی ضروریات کے حساب سے گیسوں کاتبادلہ کرتی ہے۔ جب خلیہ میں ضیائی تالیف ہوتی ہے تو اس خلیہ میں O2کی دستیابی کوئی مسئلہ نہیں ہے چونکہ خلیہ کے اندر ہی O2خارج ہوتی ہے۔ تیسری وجہ وہ فاصلہ جس میں بڑے سے بڑے درخت میں گیسوںکا نفوذ ہونا ہے بہت زیادہ نہیں ہوتا۔ پودوں میں ہر ایک زندہ خلیہ پودے کی سطح کے بہت قریب ہوتا ہے۔ یہ پتیوں کے لیے تو صحیح ہے لیکن آپ پوچھ سکتے ہیں کہ موٹا چوپی تنا اور جڑوں میں کیا ہوتا ہے؟ تنوں میں یہ زندہ خلیے چھال کے اندر اور نیچے  پتلی تہہ کی شکل مرتب ہوتے ہیں  ان میں دہانے ہوتے ہیں جنھیں لنٹیکلس کہتے ہیں۔ اندرونی خلیے بے جان ہوتے ہیں اور صرف میکانیکی سہارا فرایم کرتے  ہیں، لہٰذا پودوں کے زیادہ تر خلیوں کی سطح کا کچھ حصہ ہوا کے ربط میں رہتا ہے۔ اس کام میں پتیوں اور جڑوں میں پائے جانے والے پیرنکائمہ خلیوں کی ڈھیلی ڈھاپیکنگ  کی وجہ سے مدد ملتی ہے جو ہوائی جگہوں کا باہم مربوط جال فراہم کرتے ہیں۔

گلوکوز کے مکمل احتراق کے نتیجے میں CO2اور پانی پیدا ہوتے ہیں۔ اس عمل کے دوران توانائی خارج ہوتی ہے جو زیادہ تر حرارت کی شکل میں ہوتی ہے۔ اگر یہ توانائی خلیہ کے لیے فائدہ مند ہوتا تو اسے اس لائق ہونا چاہیے کہ     اسے خلیہ کی ضرورت کے لحاظ سے دوسرے سالمات کو بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکے۔

1st

پودوں کے خلیے گلوکوز سالمے کو اس طرح توڑتے ہیں کہ تمام خارج شدہ حرارت توانائی کی صورت میں باہر نہیں نکلتی۔ اہم بات یہ ہے کہ گلوکوز کی تکسید ایک مرحلہ میں نہ ہوکر چھوٹے چھوٹے بہت سارے مرحلہ میں ہوتی ہے جن میں کچھ مرحلے اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ ان سے نکلنے والی توانائی اے ٹی پی کے بننے میں استعمال ہوتی ہے۔ یہ کیسے ہوتا ہے حقیقت میں یہی تنفس کی کہانی ہے۔

تنفس کے دوران آکسیجن کا استعمال ہوتا ہے اور کاربن ڈائی آکسائڈ پانی اور توانائی ماحصلات کی صورت میں خارج ہوتے ہیں۔ احتراقی تعامل میں آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن کچھ خلیے آکسیجن کی موجودگی اور غیرموجودگی میں بھی زندہ رہتے ہیں۔ کیا آپ ایسی صورت حال کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جہاں آکسیجن نہیں ہوتی۔ یقین کرنے کے لیے کئی وجوہات ہیں پہلا خلیہ اس کرہ ارض پر ایسے ماحول میں رہتا تھا جہاں  آکسیجن موجود نہیں تھی۔ حتیٰ کہ موجودہ جاندارعضویوں کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ کچھ عضویے غیر ہوا باش (جہاں آکسیجن نہ ہو) ماحول میں اپنے آپ کو ڈھال چکے ہیں۔ ان میں سے کچھ (Facultive) غیرہوا باش ہیں جب کہ کچھ کے لیے آکسیجن کی غیرموجودگی لازمی ہے۔ بہرحال سبھی جانداروں میں انزائموں پر مشتمل مشینری ہوتی ہے جو گلوکوز کی آکسیجن کی مدد کے بغیرجزوی طور پر تکسید کرتی ہے۔ اس طرح گلوکوز کا پائیرووک ایسڈ (Pyruvic acid)میں ٹوٹنا گلائیکولیسس کہلاتا ہے۔

14.2 گلائیکو لِسس (Glycolysis)

گلائیکولِسس لفظ کی ابتدا یونانی لفظ گلائیکوز یعنی شکر اور لِسس(Lysis)یعنی ٹوٹنے سے ہوئی ہے۔ گلائیکولیسس کا منصوبہ کسٹو امبڈن، اوٹومیریاف اور جے پارنس نے پیش کیا تھا اور اسے اکثر ای ایم پی پاتھ وے کہتے ہیں۔ غیر ہوا باش جانداروں میں تنفس کا صرف یہی طریقہ ہے۔ گلائیکولیسس خلیہ کے سائٹوپلازم میں ہوتا ہے اور یہ سبھی جانداروں میں ملتا ہے۔ اس طریقہ میں گلوکوز جزوی تکسید کے ذریعے پائرووک ایسڈ کے دو سالموں میں بدل جاتا ہے۔ پودوں میں یہ گلوکوزسکروز سے حاصل ہوتا ہے جو ضیائی تالیف یا ذخیرہ شدہ کا ربوہائڈیٹ کا آخری ماحصل ہے۔سکروز     انورٹیز (Invertase) انزائم کے ذریعے گلوکوز اور فرکٹوز میں تبدیل ہو جاتا ہے اور یہ دونوں مونو سگرائڈ آسانی سے گلائی کولیٹک پاتھ وے میں داخل ہوجاتے ہیں۔ گلوکوز اور فرکٹوزکا ہیکسوکائنیز خامرے کے ذریعے فاسفورائی لِشن ہوتا ہے جس کے نتیجے میں گلوکوز- 6- فاسفیٹ بناتا ہے۔ پھر یہ فرکٹوز-6-فاسفیٹ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ گلوکوزاورفرکٹوز کے تحول کے اگلے مراحل ایک جیسے ہی ہیں۔ گلائیکولِسس کے مختلف مرحلے شکل 14.1 میں دکھائے گئے ہیں۔ گلائیکولِسس اس دس تعاملات کا ایک سلسلہ ہے مختلف خامروں کے ذریعے کنٹرول ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں گلوکوز سے (Pyruvate) بنتا ہے۔ گلائیکولِسس کے مختلف مراحل کا مطالعہ کرتے وقت اس قدم پر دھیان دیجئے جس میں اے۔ٹی۔پی کا استعمال یا اے ٹی پی کی تالیف +    NADH+Hواقع ہوتا ہے۔

2nd

شکل 14.1 گلائکولسیس کے مرحلے   

اے ٹی پی کا استعمال دو مرحلوں میں ہوتا ہے: پہلے مرحلہ میں جب گلوکوز، گلوکوز-6- فاسفیٹ میں بدلتا ہے اور دوسرے مرحلہ میں فرکٹوز -6- فاسفیٹ کو فرکٹوز 1، 6 ڈائی فاسفیٹ میں بدلتا ہے۔

فرکٹوز 1، 6 ڈائی فاسفیٹ ٹوٹ کر ڈائی ئڈراکسی ایسی ٹون فاسفیٹ اور 3-فاسفوگلسیرل ڈیہائڈ (PGAL) بناتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا ایک مرحلہ ہے جس میںNAD+ سے NADH+H+ بنتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب3- فاسفوگلسرل ڈیہائڈ تبدیل ہوکر     1، 3 بائی فاسفوگلیسیریٹ (BPGA) بنتا ہے۔ PGAL سے دو ریڈاکس     (Redox) معادلات( دو ہائڈروجن ایٹموں کی شکل میں) الگ ہوکر NAD+ کے سالمے میںپر منتقل ہو جاتے ہیں۔ PGAL تکسید ہوکر غیر نا میاتی فاسفیٹ سے مل کر BPGA میں بدل جاتا ہے۔ BPGAکا 3-فاسفوگلیسیرک ایسڈ میں بدلنا، توانائی پیدا کرنے والا عمل ہے۔ اس توانائی کا استعمال اے ٹی پی کے بننے میں ہوتا ہے۔ PEPسے پائی رووِک ایسڈ بننے کے دوران بھی اے ٹی پی بنتا ہے۔ کیا آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ گلوکوز کے ایک سالمے سے بلاواسطہ طورپراے ٹی پی کے کتنے سالمے بنتے ہیں؟    

پائی رووک ایسڈ گلائیکولِسس کا اہم ماحصل ہے۔ پائی روویٹکاتحولی   نتیجہ کیا ہے کا انحصارخلوی ضروریات پر ہے۔ گلائیکولیسس کے دوران پیدا ہوئیپائی رووک ایسڈ کا استعمال مختلف خلیے،     تین الگ الگ طریقوں سے کرتے ہیں— لیکٹک ایسڈ تخمیر، الکحل تخمیر اورہواباش تنفس۔ زیادہ تر پروکریوٹس اور یک خلوی یوکیریوٹ میں  تخمیر آکسیجن کی غیر موجودگی میں ہوتی ہے۔ گلوکوز کی مکمل تکسید کے لیے جس میں CO2اور پانی بنتا ہے ، جاندار کریب دور کا استعمال کرتے ہیں جسے ہواباش تنفس کہتے ہیں۔ اس میں آکسیجن کی موجودگی ضروری ہے۔

14.3تخمیر (Fermentation)

تخمیر میں ایسٹ کے ذریعے گلوکوز کی آکسیجن کی غیر موجودگی میں  نا مکمل تکسید ہوتی ہے اس کے تحت مختلف مرحلوں میں پائی رووک ایسڈCO2،     اور ایتھنال میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ کچھ دوسرے جاندار عضویوںجیسے کچھ بیکٹیریا میں           پائی رووک ایسڈ سے لیکٹک ایسڈ بنتا ہے، پائی رووک ایسڈ ڈی کاربوکسی لیز اورالکحل ڈی ہائڈروجینیزجیسے انزائم ان تعاملات میں عمل انگیز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان مرحلوں کو شکل 14.2میں دکھایا گیا ہے۔ جانوروں کے عضلاتی خلیوں میں ورزش کے دوران جب خلوی کے تنفس کے لیے مقررہ مقدار میں آکسیجن نہیں ہوتی تب پائی رووک ایسڈ، لیکٹک ڈی ہائڈروجینیز کے ذریعے لیکٹک ایسڈ میں تبدیل ہوجاتا ہے اور NADH+H+ تحویلی اجینٹ ہے جس کی دونوں عملوں کے دوران NAD+ میں دوبارہ تکسید ہو جاتی ہے۔

3rd

شکل 14.2 غیر ہوا باش تنفس کے اہم مراحل   

لیکٹک ایسڈ اورالکحل تخمیر دونوںمیں بہت زیادہ توانائی نہیں نکلتی۔ گلوکوز سے 7فی صد سے کم توانائی نکلتی ہے اور اس کا بھی بیشتر حصہ اے ٹی پی (ATP) کے بہت زیادہ توانائی والے بانڈ کی شکل میں مقید نہیں ہوتا۔اس کے علاوہ یہ عمل خطرناک / نقصان دہ ہوتے ہیں خواہ اس میں ایسڈ کی تشکیل ہوتی ہو یاالکحل کی۔ گلوکوز کے ایک سالمے سے تخمیر کے بعد الکحل یا لیکٹک ایسڈبنے کے دوران کتنا اے ٹی پی بنتا ہے (یعنی Glycolysis کے دوران استعمال میں آنے والی اے ٹی پی (ATP)کی تعداد گھٹا کر دیکھیں گے کہ کتنا اے ٹی پی (ATP) بنتا ہے۔) جب الکحل کی مقدار 13 فیصد یا اس سے زیادہ ہو تو یہ مقدار ایسٹ کے مرنے کی وجہ بن جاتی ہے۔ قدرتی تخمیر سے بنے مشروب میں الکحل کا ارتکاز کتنا ہوگا؟ آپ کے مطابق الکحلی مشروب میں الکحل کی مقدارکے اس ارتکاز سے زیادہ کیسے حاصل کی جاتی ہے؟

وہ کیا طریقہ ہے جس کی ذریعے جاندارعضویوں میں گلوکوز کی مکمل تکسید ہوتی ہے اور خلوی تحول کے لیے درکار بڑی تعداد میں ATP سالمات کی تالیف کے لیے توانائی کا استخراج کیا جاتا ہے۔ یوکیروٹس میں تمام مرحلے     مائی ٹوکانڈریا میں واقع     ہوتے ہیں، جس کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہواباش تنفس کے ذریعینامیاتی اشیاکی آکسیجن کے موجودگی میں مکمل تکسید ہوتی ہے اور جس کے نتیجے میں کاربن ڈائی آکسائڈ، پانی اور توانائی نکلتی ہے۔ اس طرح کا تنفس عموماً اعلیٰ جانداروں میں ملتا ہے۔ہم اِن طریقوں کو اگلے حصّہ میں پڑھیں گے۔

14.4 ہواباش تنفس(Aerobic Respiration)

مائی ٹو کانڈریا میں ہونے والے ہوا باش تنفس کے لیے گلائیکولِسس کے آخری ماحصل پائروویٹ کو سائٹو پلازم سے مائی ٹوکانڈریا میں لے جایا جاتا ہے۔ ہواباش تنفس کے اہم مرحلے مندرجہ ذیل ہیں :

l سبھی ہائڈروجن ایٹموں کے مرحلہ وار اخراج کے ذریعے پائروویٹ کی مکمل تکسید جس میں CO2 کے تین سالمے بھی بنتے ہیں۔

l ہائڈروجن ایٹموں سے الگ ہونے والے الکٹرانوں کاسالماتی، آکسیجن پر منتقل ہونا اور اسی وقت اے ٹی پی (ATP) کی تالیف ہوتی ہے۔    

سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس کا پہلا مرحلہ مائی ٹو کانڈریا کے میٹرکس میں تکمیل پاتا ہے جب کہ دوسرا مرحلہ مائٹوں کونڈریاکی اندرونی جھلّی میں ہوتا ہے۔    

گلائکولائٹک کیٹا بولزم (Glycolytic Catabolism) کے ذریعے بننے والے پائی ویٹ جب مائی ٹو کانڈریا کے میٹرکس میں داخل ہوتا ہے اس کا تکسیدی ڈی کاربوکسیلیشن(Oxidative Decarboxylation) ہوتا ہے اور یہ عمل ہائر ووک ڈی ہائڈ روجینیز(Pyrurvic dehydrogenase) انزائم کی موجودگی میں متعدد پیچیدہ تعاملات کے ذریعے واقع ہوتا ہے۔ پائرووک ڈی ہائڈووجینیز(Pyruvic dehydrogenase) سے عمل انگیز ہونے والے تعامل میں بہت    سارے معاون خامرے (Coenzyme) حصہ لیتے ہیں۔ جیسے +    NAD اور کوانزائم -A۔

4th

5th

شکل 14.3 سائٹرک ایسڈ قرن

اس عمل کے دوران پائرووک ایسڈ) (Pyruvic acidکے دو سالموں کے تحول سے NADH کے دو سالمے بنتے ہیں ( پائرووک ایسڈ گلائیکولیسس کے دوران گلوکوز کے ایک سالمے سے بنتا ہے)۔

ایسیٹائلCoAایک دائری پاتھ وے ٹرائی کاربوکسلک ایسڈ سائیکل میں داخل ہوتا ہے۔ اس کا انکشاف Hans Krebs کے ذریعے کیاگیا اسی لیے اس کوکریب سائیکل) (Krebs Cycleکہتے ہیں۔

14.4.1     ٹرائی کاربوکسلک ایسڈ سائیکل (Tricarboxylic Acid Cycle)

ٹی سی اے سائیکل کی ابتدا ایسیٹائل گروپ Oxaloacetic acid (OAA) اور پانی کے ساتھ تکثیف سے ہوتا ہے جس کے نتیجے میں سائٹرک ایسڈ بنتا ہے۔ (شکل 14.3)۔ یہ     تعامل سٹریٹ سنتھیٹیز(Citrate synthase) خامرے کے ذریعے ہوتا ہے اور COA کا ایک سالمہ خارج ہوتا ہے۔ سٹریٹ بعدازاں(Isocitrate)میں تبدیل ہوجاتا ہے۔یہ کام ڈی آکسی کاربوکسیلیشن(decarboxylation)کے دو لگاتار مرحلوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ اس کے بعدالفا کیٹوگلو ٹینک ایسڈ(a-Ketoglutanic acid) اور اس کے بعدسکیسنائل CoA بنتا ہے۔سڑک ایسڈ کے باقی مراحل میں سکسینائل CoA آکسیلوایسٹک ایسڈ،(OAA)     میں تکسید ہوکر سائیکل کو آگے بڑھانے میں مدد کرتا ہے۔ سکسینائل CoA سے سکسنیک ایسڈ(Succinic acid) بننے کے دوران جی ٹی پی کا ایک سالمہ بنتا ہے۔ اسے سسٹریٹ لیول فاسفوریلیشن کہتے ہیں۔تعاملات کے ایک جوڑے کے نتیجے میں جی ٹی پی، جی ڈی پی میں بدلتا ہے اور    اے ڈی پی سے اے ٹی پی بنتا ہے۔سائیکل میں تین جگہیں ایسی ہوتی ہیں جس میں +    NAD کی تحول ہوتی ہے اور    +NADH+H بنتا ہے اور ایک جگہ پر +    FADکی تحویل ہوتی ہے اور FADH2 بنتا ہے۔ TCA سائیکل کے ذریعے ایسیٹک ایسڈ(acetic acid)کی  مسلسل  تکسید کے لیے آکسیلوایسٹک ایسڈ(Oxaloacetic acid)کی تجدید ضروری ہے۔ جوسائیکل کا پہلا رکن ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ NAD+ اور FAD+ بالترتیبNADH اور FADH2 دوبارہ بنتے ہیں۔ تنفس کے اس مرحلے کا مندرجہ ذیل مساوات کے ذریعے اظہار کیا جاسکتا ہے:

6th

اب ہم دیکھ چکے ہیں کہ گلوکوز کے ٹوٹنے سے کاربن ڈائی آکسائڈ خارج ہوتی ہے، NADH+H+ کے آٹھ سالمے، FADH2 کے دو سالمے اور دو اے ٹی پی کے سالمے بنتے ہیں۔ آپ کو تعجب ہوگا کہ ابھی تک تنفس کی بحث کے دوران نہ تو آکسیجن کے شامل ہونے اور نہ ہی بڑی مقدار میںاے ٹی پی کے سالموں کے بننے کا ذکر ہوا ہے اب تالیف شدہ NADH+H+اور FADH2 کا کیا کردار ہوگا۔ہمیں اب سمجھنا ہوگا کہ تنفس میں آکسیجن کا کیا کام ہے اور اے ٹی پی کیسے بنتا ہے۔

14.4.2 الیکٹران ٹرانسپورٹ نظام اور تکسیدی فاسفوریلیشن (Electron Transport System (ETS) and Oxidative Phosphorylation)

تنفس کے عمل کے اگلے مرحلے میں +NADH+H اور FADH2 میں  ذخیرہ شدہ توانائی خارج ہوتی ہے اوراسے     استعمال میں لایا جاتا ہے۔ یہ اس وقت مکمل ہوتا ہے جب اس کی تکسید الیکٹران ٹرانسپورٹ نظام کے ذریعے ہوتی ہے اور الیکٹران آکسیجن پر چلا جاتا ہے اور پانی بنتا ہے۔

تحولی پاتھ وے جس کے ذریعے الیکٹران ایک حمال (Carrier) سے دوسرے حمال پر چلاجاتا ہے، اسے الیکٹران ٹرانسپورٹ سسٹم(ETS) کہتے ہیں۔ (شکل 14.4) اور یہ مائی ٹو کانڈریا کی اندرونی جھلی میں موجود ہوتا ہے۔ مائی ٹوکانڈریا کے میٹرکس(Matrix) میں  سڑک ایسڈ سائیکل کے دوران NADH سے بننے والے الیکٹران NADH ڈی ہائڈروجینیز (کمپلیکس) خامرے کے ذریعے تکسید ہوتے ہیں۔ اور پھر الیکٹرانز اندرونی جھلی میں پائے جانے والے     (Ubiquinone) پر منتقل ہو جاتاہے۔ یوبی کیونون FADH2 (کمپلیکس II) کے ذریعہ تحویلی معادلات کو حاصل کرتا ہے جوسڑک ایسڈ سائیکل میں سکیسنیٹ کی تکسید کے دوران بنتا ہے۔تحویل شدہ یوجی کیسونول الیکٹران کوسائٹوکروم bc1 (کمپلیکس III) سے ہوتے ہوئے سائٹوکروم C پر منتقل کر کے تکسید ہوجاتا ہے۔ سائٹوکروم C ایک چھوٹا پروٹین ہے جو اندرونی جھلّی کی باہری سطح پر چپکا ہوتا ہے جو کمپلیکسIII-کو(Complex-III) اورکمپلیکس(Complex-IV)IV- کے بیچ     الیکٹرانوں کی منتقلی کے لیے متحرک حمال کا کام کرتا ہے۔کمپلیکسIV- سائٹوکروم C آکسی ڈیز کمپلیکس ہے جس میں سائٹوکروم a، a3 اور دو کاپر مرکز پائے جاتے ہیں۔

7th

شکل 14.4     الیکٹران ٹرانسپورٹ نظام (ETS)


جب الیکٹران ETC میں ایک جگہ سے دوسری جگہ تک کمپلیکسI- (Complex-I) سے کمپلیکسIV- (Complex-IV) کے ذریعے گزرتے ہیں تب یہ اے ٹی پی سنتھیز (Complex-V) سے جڑ کر اے ڈی پی اور غیر نامیاتی فاسفیٹ سے اے ٹی پی بناتا ہے۔ اس دوران بننے والے اے ٹی پی سالموں کی تعداد الکٹران معطی (Donor) پر منحصر ہوتی ہے۔ تو NADH کے ایک سالمے کی تکسید سے اے ٹی پی کے تین سالمے بنتے ہیں جب کہ FADH2 کے ایک سالمے سے اے ٹی پی کے دو سالمے بنتے ہیں۔حالانکہ تنفس کا ہوا باش طریقہ صرف آکسیجن کی موجودگی میں ہی بروئے کار لایا جاتا ہے لیکن اس عمل کے آخری مرحلہ میں آکسیجن کا رول محدود ہے ۔پھر بھی آکسیجن کا ہونا ضروری ہے کیوں کہ یہ اس نظام سے H2 (ہائیڈروجن) کو نکال کر پورے عمل کو چلاتا ہے۔ آکسیجن آخری ہائڈروجن قبول کنندہ کی صورت میں کام کرتا ہے۔ فوٹوفاسفوری لیشن کے برعکس جہاں پروٹان ڈھلان کے بننے میں روشنی کی توانائی کا استعمال فاسفوری لیشن کے لیے ہوتا ہے، تنفس کے عمل میں تکسید وتحویل کے ذریعے حاصل ہونے والی توانائی کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس عمل کو تکسیدی فاسفوری لیشن کہتے ہیں۔

جھلّی سے جڑے اے ٹی پی بننے کے طریقے کے بارے میں آپ پہلے ہی پڑھ چکے ہیں جسے گذشتہ باب میں کیمیائی ولوجی مغروضہ (Chemiosmotic hypothesis) کے بنیاد پر بتایا گیا ہے۔ جیسا کہ پہلے مذکور ہے کہ الیکٹران ٹرانسپورٹ نظام کے دوران نکلنے والی توانائی کا استعمال اے ٹی پی سنتھیز(کمپلیکسV-)کی مدد سے اے ٹی پی کے بننے میں ہوتا ہے۔یہ کمپلیکس دو اہم اجزا F0اور F1سے بنتا ہے (شکل 14.5)۔F1 ہیڈ پیس ایک محیطی جھلّی پروٹین کمپلیکس ہے جہاں پر غیرنامیاتی فاسفیٹ اور اے ڈی پی سے اے ٹی پی بنتا ہے۔ F0 ایک مسلّم جھلّی پروٹین کمپلیکس ہے جو ایسا چینل بناتا ہے جس سے ہو کر پروٹان اندرونی جھلی کو پار کرتے ہیں۔ چینل کے ذریعے پروٹانوں کا گزرF1 جزکے کیٹلائٹک مقام کے ساتھ وابستہ ہوجاتاہے اور ATP بنتا ہے۔ ہر ایک ATP کی تالیف کے لیے 2H+ آینF0سے ہوکر بین جھلی فضا سے برف کیمیائی پروٹان ڈھلان کی طرف میٹرکس میں جاتے ہیں ۔

14.5 تنفسی بیلنس شیٹ (The Respiratory Balance Sheet)

ہر ایک تکسید شدہ گلوکوز کے سالمے سے بننے والے اے ٹی پی کی تحسیب کرنا اب ممکن ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ ایک نظریاتی مشق ہی رہ گیا ہے۔ یہ تحسیب کچھ خاص مفروضات کے بنیاد پر ہی کی جاسکتی ہے۔

یہ ایک سلسلے وار مرتب، تفاعلی پاتھ وے ہے جس میں ایک سبسٹریٹ (Substrate) سے دوسرا سبسٹریٹ بنتا ہے جس میں گلائی کولِسس سے شروع ہوکر TCA سائیکل اورای ٹی ایس (ETS)یکے بعد دیگرے آتے ہیں۔

گلائیکولِسس میں بنا NADH مائٹوکانڈریا میں آتا ہے جہاں اس کا فاسفورائی لیشن ہوتا ہے۔

راستے کا کوئی بھی  ضمنی ماحصل دوسرے چیزوں کے بننے کے لیے استعمال میں نہیں آتا ہے۔

تنفس میں صرف گلوکوز کا ہی استعمال ہوتا ہے۔ کوئی دوسرا متبادل سبسٹریٹ راستے کے کسی بھی ضمنی مرحلہ پرپاتھ وے میں داخل نہیں ہوتا ہے۔

لیکن اس طرح کا مفروضہ جانداروں کے نظام کے لیے معقول نہیں ہے۔ سبھی راستے ایک کے بعد ایک نہیں، بلکہ ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔ راستے میں سبسٹریٹس ضرورت کے بنیاد پر باہر اور اندر آجاسکتے ہیں۔ حسب ضرورت اے ٹی پی کا استعمال ہوسکتا ہے۔ خامروں کے عمل کی رفتار کو بہت سارے طریقوں کے ذریعے قابو میں کیا جاتا ہے۔ پھر بھی اس عمل کا ہونا ضروری ہے کیونکہ جاندار نظاموں میں توانائی کا اخراج اور ذخیرہ اندوزی کے لیے کارکردگی قابل ستائش ہے۔ اس لیے ہواباش تنفس کے دوران گلوکوز کے ایک سالمے سے اے ٹی پی کے 36 سالمے حاصل ہوتے ہیں۔

اب ہم تخمیر (Fermentation) اور ہواباش تنفس  کا موازنہ کر سکتے ہیں۔

تخمیر میں گلوکوز جزوی طور پرہی ٹوٹ پاتا ہے جب کہ ہواباش تنفس کے دوران یہ پوری طرح ٹوٹ جاتا ہے اور کاربن ڈائی آکسائڈ اور پانی بناتا ہے۔

تخمیر میں گلوکوز کے ایک سالمے سے پائی رووک ایسڈ بننے کے دوران اے ٹی پی کے دو سالمے حاصل ہوتے ہیں جب کہ ہواباش تنفس میں بہت زیادہ اے ٹی پی کے سالمے بنتے ہیں۔

تخمیر میں NADH کی +    NAD میں تکسید دھیرے دھیرے ہوتی ہے جب کہ ہواباش تنفس میں یہ  تعامل     تیز رفتار کے ساتھ ہوتا ہے۔

9th

شکل 14.5 مائٹوکانڈریا میں ATP بننے کا خاکہ

14.6 امفی بولک پاتھ وے (Amphibolic Pathway)

تنفس کے لیے گلوکوز مناسب سبسٹریٹ ہے۔ تنفس میں سبھی کاربوہائڈریٹ استعمال میں لانے سے پہلے گلوکوز میں تبدیل ہوتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے بتایا جاچکا ہے کہ دوسرا سبسٹریٹ بھی تنفس میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن تب یہ تنفس کے پہلے مرحلے میں استعمال میں نہیں آتے ہیں۔ شکل 14.6 میں دیکھئے کہ مختلف سبسٹریٹ تنفسی پاتھ وے میں کن نقطوں پر داخل ہوتے ہیں ۔ چربی سب سے پہلے گلیسرال اور فیٹی ایسڈ میں ٹوٹتی ہے۔ اگر فیٹی ایسڈ تنفس     میں استعمال ہوتاہے تو وہ پہلے ایسیٹائل CoA بن کر راستے میں داخل ہوتا ہے۔ گلیسرال پہلے PGAL میں بدل کر تنفس کے راستے میں داخل ہوتا ہے۔ پروٹین، پروٹی ایز خامرے کے ذریعے ٹوٹ کر امینوایسڈ بناتا ہے۔ ہر ایک امینو ایسڈ (ڈی ایمینیشن کے بعد) اپنی ساخت کی بنیاد پر کریب سائیکل کے اندر مختلف مرحلوں میں داخل ہوتا ہے۔

چونکہ تنفس کے دوران سبسٹریٹ ٹوٹتے ہیں اس لیے تنفس روایتی طور پر ایک کیٹا بولک عمل ہے اور تنفس کا راستہ کیٹابولک پاتھ وے ہے۔ لیکن آپ کیا اسے ٹھیک سمجھتے ہیں؟ اوپر یہ بتایا جاچکا ہے کہ مختلف سبسٹریٹ اگر ان سے توانائی حاصل کرتی ہے تو تنفس کے راستے میں کہاں داخل ہوتے ہیں۔ یہ جاننا اہم ہے کہ یہ مرکبات اوپر بتائے گئے سبسٹریٹ کو بنانے کے لیے تنفس کے راستے سے نکالے بھی جاسکتے ہیں۔ اس لیے راستے میں داخل کرنے سے پہلے فیٹی ایسڈ جب سبسٹریٹ کی صورت میں استعمال ہو تو تنفس کے راستے میں استعمال میں آنے سے پہلے اسیٹائل CoA میں ٹوٹ جاتا ہے۔ جب جانداروں کو فیٹی ایسڈ بنانا ہوتا ہے تو تنفس کے راستے سے اسیٹائل CoA الگ ہوجاتا ہے۔ اس لیے فیٹی ایسڈ کے بننے اور ٹوٹنے کے دوران تنفس کے راستے کا استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح سے پروٹین کے بننے اور ٹوٹنے کے دوران بھی ہوتا ہے۔ جانداروں میں ٹوٹنے کے عمل کو کیٹابولزم اور بننے کے طریقے کو اینابولزم کہتے ہیں۔ چونکہ تنفس کے راستے میں اینابولزم اور کیٹابولزم دونوں ہی ہوتے ہیں، اس لیے تنفس کے راستے کو امفی بولک پاتھ وے کہتے ہیں نہ کہ کیٹابولک پاتھ وے کیونکہ یہ اینابولزم اور کیٹابولزم دونوں میں حصہ لیتا ہے۔

10th

شکل 14.6 تحولی پاتھ وے کا آپسی تعلق جس میں مختلف نامیاتی سالمے تنفس کے دورانCO2 اور H2O میں ٹوٹ جاتے ہیں۔


14.7 تنفسی تناسب (Respiratory Quotient)

اب تنفس کے دوسرے پہلو کو دیکھتے ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہواباش تنفس کے دوران آکسیجن کا استعمال ہوتا ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے۔ تنفس کے دوران خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائڈ اور استعمال ہونے والی آکسیجن کی نسبت کو تنفسی خارج قسمت یا (RQ) (Respiration Quotient) یا تنفسی تناسب کہتے ہیں۔

12th

تنفسی تناسب تنفس کے دوران استعمال میں آنے والے تنفسی سبسٹریٹ پر منحصر ہوتاہے۔ جب کاربوہائڈریٹ سبسٹریٹ کی صورت میں آکر مکمل طور پر تکسید ہوجاتا ہے تو تنفسی تناسب ایک ہوگا۔ کیونکہ برابر مقدار میں کاربن ڈائی آکسائڈ اور آکسیجن نکلتی ہے اور استعمال میں لائی جاتی ہے جیسا کہ نیچے مساوات میں بتایا گیا ہے۔

13th

جب چربی تنفس میں استعمال ہوتی ہے تو تنفسی تناسب 1.0سے کم ہوتا ہے۔ جب فیٹی ایسڈ، ٹرائی پا(Tripal mitin) کو سسبٹریٹ کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے تب تناسب کواس طرح دکھایا جاسکتا ہے۔

14th

جب پروٹین کا استعمال سبسٹریٹ کی صورت میں ہوتا ہے تب تناسب تقریباً 0.9 ہوتا ہے۔

یہاں یہ جاننا بہت ہی ضروری ہے کہ جانداروں میں تنفسی سبسٹریٹ اکثر ایک خاص پروٹینز سے زیادہ ہوتے ہیں۔خالص پروٹین یا چرجی کو کبھی بھی تنفسی سبسٹریٹ کی صورت میں استعمال نہیں کیاجاتا ہے۔


خلاصہ    

حیوانوں کی طرح پودوں میں سانس لینے یا گیسوں کے تبادلہ کے لیے کوئی خاص نظام نہیں ہوتا ہے۔ اسٹومیٹا اور لیٹیکل نفوذکے ذریعے گیسوں کے تبادلہ میں مدد کرتے ہیں۔ پودوں میں تقریباً سبھی جاندار خلیوں کی سطحیں ہوا کے تماس میں ہوتی ہیں۔

پیچیدہ نامیاتی سالموں کی تکسید کے ذریعے C-C بانڈ کے ٹوٹنے کے بعد جب خلیہ سے توانائی کی زیادہ مقدار نکلتی ہے تو اسے خلوی تنفس کہتے ہیں۔ تنفس کے لیے گلوکوز سب سے زیادہ موزوں تنفسی ہے۔ چربی اور پروٹینزکے ٹوٹنے کے بعد بھی توانائی نکلتی ہے۔ خلوی تنفس کا ابتدائی مراحلہ سائٹوپلازم میں واقع ہوتا ہے۔ہر ایک گلوکوز کا سالمہ انزائم کیٹلائز تعاملات کے سلسلے کے نتیجے میں پائی رووک ایسڈ کے دو سالموں میں ٹوٹ جاتا ہے۔ اس عمل کو گلائیکولِسس کہتے ہیں۔پائروویٹ(Pyruvate)کا مستقبل آکسیجن کی موجودگی پر اور جانداروں پر منحصر کرتا ہے۔ہواباش حالتوں میں یاتو لیکٹک ایسڈ کی تخمیر ہوتی ہے یا الکحل کی۔ بہت سارے پروکیریوٹس ،یک خلوی یوکیریوٹس اور کلے پھوٹتے ہوئے بیجوں میں تخمیر کا عمل ہواباش حالتوں میں ہوتا ہے۔ یوکیریوٹک جانداروں میں آکسیجن کی موجودگی میں ہواباش تنفس ہوتا ہے۔ (Pyruvic acid) مائی ٹو کانڈریا میں جانے کے بعدایسٹائل     CoAمیں بدل جاتا ہے، ساتھ میں کاربن ڈائی آکسائڈ نکلتی ہے۔ اس کے    بعد ایسیٹائل CoA ٹرائی کاربوکسلک پاتھ وے یا کریبس سائیکل  میں داخل ہوتا ہے جو مائی ٹو کانڈریا کے میٹرکس میں انجام پذیر ہوتی ہے۔ کریبس سائیکل میں +NADH+H اور FADH2 بنتا ہے۔ ان سالموں اور NADH+H+جو گلائیکولِسس کے دوران بنتا ہے، کی توانائی کا استعمال اے ٹی پی کے بننے میں ہوتا ہے۔ یہ مائیٹوکانڈریا کی اندرونی جھلی پر پائے جانے والے الیکٹران حمال جسے (ETS) (Electron Transport System)     کہتے ہیں، کے ذریعے تکمیل کو پہنچتا ہے۔ الیکٹران جیسے جیسے اس نظام سے ہوکر جاتا ہے اس میں نکلنے والی توانائی اے ٹی پی کو بناتی ہے۔ اسے آکسیڈیٹو فاسفوری لیشن(Oxidative Phosphorylation) کہتے ہیں۔ اس عمل میں الیکٹران کا آخری ایکسیپٹر آکسیجن ہوتی ہے جو پانی میں تحویل ہوجاتی ہے۔

تنفس پاتھ وے میں اینابولزم اور کیٹابولزم دونوں عمل حصہ لیتے ہیں لہٰذا اسے امفی بولک پاتھ وے کہتے ہیں۔ تنفسی تناسب کا انحصار، تنفس کے دوران تنفسی  سبسٹریٹ کے استعمال پر ہوتا ہے۔

مشق

تفریق کیجیے:

(a) تنفس اور احتراق

(b) گلائیکولِسس اور کریبس سائیکل

(c) ہواباش تنفس اور تخمیر

تنفسی  سبسٹریٹ(Respiratory Substrates) کیا ہیں؟ سب سے عام تنفسی سبسٹریٹ کا نام لکھئے۔

گلائیکولسس کی اسکیم کا خاکہ بنائیے۔

ہواباش تنفس کے خاص مرحلے کون سے ہیں؟ یہ عمل کہاں واقع ہوتا ہے؟

کریب سائیکل کے تمام پہلوؤں کی اسکیم کا خاکہ بنا ہے۔

ETS کو سمجھائیے۔

مندرجہ ذیل کے درمیان فرق بتائیے۔

(a) ہواباش تنس اور غیرہوا باش تنفس    

(b) گلاس کولِسس اور تخمیر

(c) گلائی کولِسس اور سٹِرل ایسڈ سائیکل

اے ٹی پی کی تحسیب کے دوران کیا کیا مفروضات کیے جاتے ہیں؟

’’تنفسی پاتھ وے ایمفی بولک پاتھ وے ہے‘‘ بحث کیجئے۔

10۔ تنفسی تناسب کی تعریف بیان کیجئے۔ چربی کا تنفسی تناسب کیا ہے؟

11۔ تکسیدی فاسفوریلیشن (Oxidative Phosphorylation) کیا ہے؟

12۔ تنفس کے دوران توانائی کے مرحلہ واراخراج کی کیا اہمیت ہے؟