باب 15
پودے کی نمو اورنشو ونما
(Plant Growth and Development)
آپ نے باب 5 میں پھولدار پودوں کی تنظیم کے بارے میں پڑھا۔ کیا آپ کو کبھی یہ خیال آیا کہ پودے کی جڑ، تنا، پتیاں، پھول، پھل اور بیج جیسی ساختیں کہاں اور کیسے اس ترتیب میں وجود میں آئیں۔ آپ اب تک بیج، پود نو عمر پوداور پختہ پودا جیسی اصطلاح سے واقف ہو گئے ہوں گے ۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ درختوں کی لمبائی اور چوڑائی میں اـضافہ ہوتا رہتا ہے۔ لیکن ایک درخت کے پتے، پھول اور پھلوں کے نہ صرف سائز محدود ہیں بلکہ یہ ہر موسم میں بنتے اور گرتے رہتے ہیں اور کچھ پودوں میں تو بار بار بنتے اور گرتے رہتے ہیں۔ پودے کی زند گی میں تولیدی مرحلہ سے پہلے پھول کیوں آتے ہیں؟ تمام پودوں کے اعضا مختلف بافتوں کے بنے ہوتے ہیں۔ کیا خلیے کی ساخت، ایک بافت، ایک عضو اور اس کے فعل میں آپس میں کوئی رشتہ ہے؟ کیا ان کی ساخت اور فعل کو بدلا جاسکتا ہے۔ پودے کے تمام خلیے، زائی گوٹ سے نمو ہوتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں اور کیسے ان کی ساخت مختلف ہے اور ان کی کار کردگی مختلف ہے؟ دوعملوں کاحاصل نشوونما (development) جمع ہے: نمو اور تفرق۔ ابتدا میں یہ سمجھ لینا ضروری اور کافی ہے کہ پختہ پودے کی نمو زائی گوٹ (ایک بار آور بیضہ) سے واقعات کے منظم تسلسل سے عمل میں آتا ہے۔ اس عرصے میں ایک بہت پیچیدہ جسمانی تنظیم کی تشکیل ہوتی ہے جو جڑوہ پتوں، شاخوں، پھولوں، پھلوںاور بیجوں کے اور آخر میں مر جاتا ہے (شکل 15.1)۔
اس باب میں آپ ان عوام کا مطالعہ کریں جو نشوونما کو ان عملوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ عوام پودے کے اندرون اور بیرون پر منحصر ہوتے ہیں۔
15.1 نمو
15.2 ڈفرینسی ایشن ڈیڈیفرینسی ایشن اور ری ڈفرینسی ایشن
15.3 نشوونما یا بالیدگی
15.4 پودے کے گروتھ ریگولیٹرز
15.5ضیارخی فوٹو پریاڈزم
15.6ورنالائی زیشن
15.1 نمو (Growth)
جاندار عضویے کے لیے نمو سب سے بنیادی اور امتیازی خصوصیت ہے۔ نمو کیا ہے؟ نمو کی تعریف کے مطابق یہ کسی عضویا اس کے حصوں یا انفرادی خلیہ میں غیر رجعتی اور مستقل اضافہ ہے۔ نمو عموماً تحولی عمل (کیٹابولک اور انابولک) کے نتیجے میں ہوتی ہے جس میں توانائی کا استعمال ہوتا ہے۔ لہٰذا پتی کا بڑھنا نمو ہے۔ لکڑی کے ٹکڑے کو پانی میں ڈالنے سے وہ پھول جاتا ہے تو اسے آپ کیسے وضاحت کریں گے؟
15.1.1 پودے کی نمو عموماًغیرمتعین ہوتی ہے(Plant Growth Generally is Indeterminate)
پودے اس لحاظ سے بے مثل ہیں کہ وہ اپنے تمام دور حیات میں نمو کی لا محدود استطاعت رکھتے ہیں۔یہ استطاعت پودوں کے جسم کے کچھ خطوں میں میریسٹم کی موجودگی ہے۔ میریسٹم کے خلیوں میں خود تقسیم ہونے اور خود دوامی ہونے کی استعداد ہوتی ہے۔ خلیوں کی تقسیم کے بعد حاصل شدہ خلیے تقسیم ہونے کی استعداد کھو دیتے ہیں اور ایسے خلیے پودے کے جسم کو بناتے ہیں۔ اس طرح کی نمو جس میں میریسٹم کی سرگرمی کے نتیجے میں خلیے ہمیشہ بنتے رہتے ہیں اور پودے کے جسم میں شامل ہوتے رہتے ہیں، نمو کی کھلی شکل کہلاتی ہے۔ اگر میریسٹم کے خلیوں کا تقسیم ہونا بند ہو جائے تو کیا ہوگا؟ کیا ایسا کبھی ہوتاہے؟
باب 6 میں آپ نے جڑکے راسی میریسٹم اور تنے راسی میریسٹم کا مطالعہ کیا ہے۔ آپ جانتے ہیں یہ پودے کی ابتدائی نمو کے لیے ذمہ دار ہیں اورخاص پودے کے محورکی سمت میں لمبائی کو بڑھانے میں مددکرتے ہیں۔ آپ کو اس بات کا بھی علم ہے کہ دو برگی پودوں اور جمنواسپرم میں جانبی میریسٹم، وعائی کیمبیم اور کارک کیمبیم، پودے کی زندگی کے آخری مرحلوں میں نمو دار ہوتے ہیں۔ یہ وہ میریسٹم ہیں جو پودے کے ان اعضاکی موٹائی میں اضافہ کرتے ہیں جن میں یہ سرگرم رہتے ہیں۔ اس کو پودے کی ثانوی نمو کہتے ہیں (شکل 15.2)۔

شکل 15.2 جڑکا راسی میریسٹم، تنے راسی میریسٹم اور ویسکلر کیمبیم کے خطوں کی ڈرائنگ ۔ تیرکے نشان خلیوں اور عضو کی نمو کی سمت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔

15.1.2 نمو کی پیمائش کی جاسکتی ہے (Growth is Measurable)
خلوی سطح پر نمو دراصل پروٹوپلازم کی مقدار میں اضافہ کا نتیجہ ہے۔ چونکہ پروٹوپلازم میں اضافے کی بلاواسطہ پیمائش مشکل ہے، اس لیے کہ عموماً ایسی مقدار کی پیمائش کی جاتی ہے جوکم و بیش اس کے تناسب ہوتی ہے۔ لہٰذا نمو کی پیمائش کے کئی طریقے رائج ہیں، مثلاً تازے وزن سوکھا وزن، لمبائی، رقبہ، حجم اور خلیوں کی تعدادمیں اضافہ۔ آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ مکا کی جڑراسی میریسٹم خلیہ تقسیم ہو کر ایک گھنٹے میں 17,500 نئے خلیے بناتا ہے جب کہ تربوز کے خلیے کی جسامت میں 3,50,000 گنا تک اضافہ ہوتا ہے۔ اول الذکر میں نمو کی پیمائش خلیوں میں اضافے کے ذریعے ظاہر کی گئی ہے جب کہ آخرالذکر میں نمو کی پیمائش خلیے کی جسامت کے لحاظ سے کی گئی ہے۔ زیرہ نلی کی نمو کی پیمائش اس کی لمبائی میں اضافے کی بنیاد پر کی جاتی ہے اور زہری بطنی پتیوں کی نمو ان کی سطح کے رقبے کے اضافے کو ناپ کر کی جاتی ہے۔
15.1.3 نمو کے مراحل (Phases of Growth)
عموماً نمو کا زمانہ تین مرحلوں میں تقسیم کیا جاتا ہے یعنی میریسٹمیٹک، لمبائی میں اضافہ اور پختگی (شکل 15.3)۔ اس کو مزید سمجھنے کے لیے جڑکے راسی حصے کا معائنہ کرنا پڑے گا۔ جڑ اور تنے کے سروں پر موجود مسلسل تقسیم ہونے والے خلیے نمو کے میریسٹمیٹک مرحلہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس خطہ کے خلیوں میں پروٹوپلازم کثرت سے ہوتا ہے اورمرکزے بھی بڑے اور نمایاں ہوتے ہیں۔ ان کی خلوی دیواریں ابتدائی نوعیت کی، پتلی اور سیلولوز پر مشتمل ہوتی ہیں ۔ جن میں پلازموڈیسمیٹل رابطے کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ جڑ کا دوسرا حصہ لمبائی میں بڑھنے والا حصہ کہلاتا ہے۔ ویکیولز میں اضافہ خلیے کی جسامت میں اضافہ اور خلوی دیوار میں نئی دبازت اس مرحلہ کی خصوصیات ہیں۔ اس کے بعد والا مرحلہ پختگی کا حصہ کہا جاتا ہے۔ اس مرحلے میں خلیے دیوار کی دبازت اورخلوی کی تبدیلی کے لحاظ سے اپنی انتہا کو پہنچ جاتے ہیں۔ زیادہ تر بافت اور خلیوں کی اقسام جن کا آپ نے باب 6 میں مطالعہ کیا ہے وہ اسی دور کی نمائندگی کرتے ہیں۔
15.1.4 نمو کی شرحیں(Growth Rates)
نمو میں فی اکائی وقت میں ہونے والے اضافے نمو کو نمو کی شرح کہتے ہیں۔ لہٰذا، نمو کو ریاضیاتی طور پر بھی بیان کیا جاسکتا ہے۔ کوئی عضویہ یا عضویے کا کوئی حصہ بہت سارے خلیے کئی طریقوں سے بنا سکتا ہے۔

شکل15.4 تشریحی نقشہ : (a) ارتھمیٹک (b) جیومیٹرک نمو اور (c) جنین کی نمو کے مختلف درجات جیومیٹرک اور ارتھمیٹک نمو کا اظہار کرتے ہوئے۔
شرح نمو اضافہ کو ظاہر کرتی ہے جو ارتھمیٹک یا جیومیٹرک ہوسکتاہے۔
ارتھمیٹک نمو میں، مائٹوٹک خلوی تقسیم کے بعد صرف ایک دخترخلیہ مزید تقسیم ہوتا رہتا ہے جبکہ دوسرا دختر خلیہ تفرق کے عمل سے گزرتے ہوئے پختگی کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ ارتھمیٹک نمو کی سب سے آسان مثال جڑ کا لمبا ہونا ہے جو یکساں شرح سے بڑھتی رہتی ہے شکل 15.5 کو دیکھئے۔ اگر کسی عضو کی لمبائی کو وقت کے بالمقابل گراف پر پلاٹ کیا جائے تو ہمیں سیدھی لائن حاصل ہوتی ہے۔ ریاضی میں اسے مندرجہ ذیل طریقے سے سمجھایا جاتا ہے:
Lt = L0 + rt
Lt = وقت پر لمبائی 't'
L0 = وقت پر لمبائی '0'
r = نمو کی شرح / فی اکائی وقت میں لمبائی

شکل 15.5 مستقل خطی نمو، لمبائیL بالمقابل وقت t کا خط

اب دیکھئے کہ جیومیٹرک نمو میں کیا ہوتا ہے؟ زیادہ تر نظاموںمیں، ابتدائی نمو آہستہ ہوتی ہے (لیگ ہیئت)، اس کے بعد نہایت تیزی سے نمو ہوتی ہے جسے قوت نمائی (Exponential) شرح کہتے ہیں۔ یہاں مائٹوٹک خلوی تقسیم کے بعد دونوں دختر خلیوں میں تقسیم کی صلاحیت رہتی ہے اور وہ مسلسل تقسیم ہوتے رہتے ہیں، لیکن غذا کی محدود مقدار کی وجہ سے نمو کی رفتار دھیمی پڑ جاتی ہے اور ساکن ہیئت (Stationary Phase) شروع ہو جاتی ہے۔ اگر اس طرح کی نمو کو وقت کیبالمقابل گراف پر پلاٹ کیا جائے تو ایک S کی شکل کا منحنی حاصل ہوتا ہے (شکل 15.6)۔ S کی شکل یا سگمائیڈ منحنی قدرتی ماحول میں نمو پانے والے عضویوں کی خاصیت ہوتی ہے۔ یہ پودے کے خلیے بافت اور عضو میں یکساں ہوتا ہے۔ کیا آپ اسی طرح کی کوئی اور مثال دے سکتے ہیں؟ موسمی سرگرمیوں کو ظاہر کرنے والے درخت میں کس قسم کے منحنی کی امید کی جاسکتی ہے۔
W1 = W0ert
W1 = آخری سائز (وزن، اونچائی تعداد وغیرہ)
W0 = ابتدائی سائز
r = نمو کی شرح
t = نمو کے لیے درکار وقت
e = نیچرل گارتھم کا اساس
یہاں r نسبتی شرح نمو ہے اور پودے کے ذریعے نئے نباتاتی مادے بنانے کی صلاحیت کا پیمانہ بھی۔ اس کو کارکردگی اشاریہ (Efficiency Index) کہتے ہیں۔ لہٰذا آخری سائز W1، ابتدائی سائز W0پر منحصر ہوتا ہے۔
جاندار عضویوں میں مقداری موازنہ دو مزید طریقوں سے بھی ہوسکتا ہے۔ (i) کل نمو کی پیمائش اور موازنہ فی اکائی وقت مطلق شرح نمو (Absolute Growth Rate) کہلاتا ہے۔ (ii) فی اکائی وقت میں دیئے ہوئے نظام کی نمو کا اظہار عام بنیاد پر کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً فی اکائی ابتدائی پیرامیٹر نسبتی شرح نموکہلاتا ہے۔

شکل 15.7 مطلق اور نسبتی نمو کی شرحوں کا ڈائیگرام کے ذریعے موازنہ۔ A اور B دونوں پتیاں دئے گئے وقت میں اپنا رقبہ 5cm2 بڑھا کر A' اور B' پتیوں کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔
شکل 15.7 میں (A) اور (B) پتیاں دکھائی گئی ہیں جو سائز میں مختلف ہیں لیکن کسی ایک وقت میں اپنے رقبے میں مطلق اضافہ کرکے A1اور B1 پتیوں کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ یہاں ایک پتی میں نسبتی نمو کی شرح بہت زیادہ ہے۔ بتائیے کہ کس میں اور کیوں؟
15.1.5 نمو کی شرائط (Conditions for Growth)
آپ کے خیال میں نمو کے لیے لازمی شرائط کیا ہوسکتی ہیں۔ اس فہرست میں پانی، آکسیجن اور غذا نمو کے لازمی عنصر ہوسکتے ہیں۔ پودے کے نباتاتی خلیوں کے سائزمیں اضافہ خلیہ کے بڑا ہونے کہ وجہ سے ہوتا ہے جس کے لیے پانی درکار ہوتا ہے۔ خلیے کی ٹرجیڈیٹی بھی نمو میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔ لہٰذا، پودے کی نمو اور اس میں مزید نشو ونماپودے میں موجود پانی سے منسلک ہوتی ہے۔ نمو کے لیے ضروری انزائمی سرگرمیوں کے لیے بھی پانی کا موجود ہونا نہایت ضروری ہے۔ آکسیجن، تحولی توانائی کے اخراج میں مدد کرتی ہے جو نمو کے لیے لازمی جز ہے۔ غذا (میکرو اور مائیکرو لازمی عناصر) پروٹو پلازم کی تالیف کے لیے اہم ہے اور توانائی بہم پہنچانے کا ذریعہ ہے۔
ان کے علاوہ ہر پودے کے لیے ایک خاص درجۂ حرارت نمو کے لیے مخصوص ہے۔ درجہ حرارت میں کسی قسم کا تغیر پودے کے لیے مضر ہے۔ ماحولیاتی اشارے مثلاً روشنی، کشش ثقل بھی پودے کی نمو پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
15.2 تفرق، غیر تفرق اور بازتفرق
(Differentiation, Dedifferentiation and Redifferentiation)
جڑ اور تنے کے ایپکل میزیسٹم اور کیمبیم سے حاصل شدہ خلیے تفرق کے بعد پختہ ہو جاتے ہیں اور خاص کاموں کو انجام دیتے ہیں۔ اس کو تفرق (Differentiation) کہتے ہیں۔ دوران تفرق خلیوں کی دیواروں اور پروٹو پلازم میں بہت ساری ساختی تبدیلیاں آتی ہیں۔ مثال کے طور پر ٹریکری عناصر کی تشکیل کے لیے خلیے اپنے پروٹو پلازم کو ضائع کردیتے ہیں۔ ان میں ایک مضبوط اور لچک دار لگنو سیلیولوز کی ثانوی خلوی دیواریں تعمیر ہوتی ہیں جن کے ذریعہ بہتزیادہ تناؤ کی صورت میں بھیپانی پودے کے مختلف حصوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ پودوں میں پائی جانے والی بہت سی اناٹومیکل خصوصیات اور ان کے ذریعے انجام دیے جانے والے کاموں کے درمیان ربط قائم کیجیے۔
پودوں میں ایک اور دلچسپ مظہر کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ جاندار اور تخصیص شدہ خلیے جو مزید تقسیم ہونے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں، کچھ حالات کے تحت کھوئی ہوئی تقسیم ہونے کی صلاحیت کو دوبارہ حاصل کر لیتے ہیں اسے ڈی ڈ فرینسی ایشن کہتے ہیں مثلاً تفرق شدہ پیرانکا ئما خلیوں سے انٹر فیسکولر کیمبیم اور کارک کیمبیم کی تشکیل ۔چنانچہ یہ میریسٹم یا بافت تقسیم ہو کر نئے خلیے بناتے ہیں جو ایک بار پھر تقسیم ہونے کی صلاحیت کھودیتے ہیں اور تفرق حاصل کر کے خاص کاموں کوانجام دیتے ہیں۔ یعنی ان میں باز تفرق) (Redifferentiation ہوتا ہے۔ دو برگی پودوں کے ان بافتوں کی فہرست بنائیے جن میں باز تفرق کا عمل ہوتا ہے۔ ٹیومر کو کیسے بیان کریں گے۔ ایسے پیرینکائما خلیوں کو آپ کیا کہیں گے جن کو ٹشو کلچر کے دوران تجربہ گاہ میں تقسیم ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
یاد کیجیے کہ سیکشن 15.1.1 میں ہم نے ذکر کیا تھا کہ پودوں کی نمو کھلی قسم کی ہوتی ہے یعنی یہ غیرمتعین یامتعین ہوسکتی ہے۔ اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ پودوں میں تفرق کا عمل ایشن بھی کھلا ہوتا ہے کیونکہ ایک ہی میریسٹم سے حاصل خلیوں کی ساخت پختگی کے وقت مختلف ہوتی ہے اور خلیوں اور بافت کی آخری ساخت اس پر منحصر ہوتی ہے کہ وہ پودے میں کس جگہ پر واقع ہے مثلاً وہ خلیے جو جڑ کی راس پر ہیں وہ روٹ کیپ میں تفرق پذیر ہوتے ہیں، وہ خلیے جو محیطی ہوتے ہیں ایپی ڈرمس بناتے ہیں۔ کیا آپ کھلے تفرق کی ایسی مزید مثالیں تلاش کرسکتے ہیں جن میں خلیہ کا مقام اور عضو میں اس کے مقام کے ساتھ تعلق کو ظاہر کیا جا سکے۔
15.3 نشوونما (Development)
نشو ونما وہ اصطلاح ہے جس میں وہ تمام تبدیلیاں شامل ہیں جو کسی عضویے کے دور حیات میں بیجوں میں کلے پھوٹنے سے لے کر اس کے مرنے تک واقع ہوتی ہیں۔ کسی بڑے پودے کے خلیے کی نشوونما سے متعلق عملوں کا تسلسل شکل 15.8 میں دکھایا گیا ہے اور یہ بافت /ا عضا پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔

شکل 15.8 نباتی خلیے میں نشو ونما سے متعلق عملوں کا تسلسل
ماحول یا زندگی کی ہئیتوں کے رد عمل میں پودے مختلف راستے اختیار کرکے مختلف ساختیں بناتے ہیں، اس صلاحیت کو پلاسٹی سٹی (Plasticity) کہتے ہیں جیسے کپاس، لارکسپر یا دھنیے میں ہیٹروفلی، ایسے پودوں میں نوعمر پودوں کی پتیوں کی شکل بالغ پودوں سے مختلف ہوتی ہے۔ دوسری طرف بٹر کپ (Buttercup) کی پتیاں بری مسکن میں اگنے والے پودوں میں آبی مسکن میں اگنے والے پودوں سے مختلف ہوتی ہیں جو ماحول کی وجہ سے ہیٹروفلس نشو ونما کا اظہار ہے (شکل 15.9)۔ ہیٹروفلی کا یہ مظہرپلاسٹی سٹی کی ایک مثال ہے۔

شکل 15.9 (a) لارک سپر اور (b) بٹر کپ میں ہیٹرو فلی
لہٰذا پودے کی زندگی میں نمو ،تفرق اور نشو ونما ایسے واقعات ہیں جو ایک دوسرے سے بہت گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ موٹے طور پر نمو اورتفرق کا حاصل جمع نشوونما ہے۔ پودوں میں نشوونما (یعنی نمو اور تفرق دونوں) اندرونی بیرونی عوامل کے زیر اثر رہتی ہے۔ اندرونی عوامل میں درون خلوی (نسلی) اور بین خلوی عوامل مثلاً (کیمیائی اشیا جیسے پودے کے گروتھ ریگولیٹرز)، جب کہ بیرونی عوامل میں روشنی، درجۂ حرارت، پانی، آکسیجن، غذا وغیرہ شامل ہیں۔
15.4 پودے کے گروتھ ریگولیٹرز (Plant Growth Regulators)
15.4.1 خصوصیات (Characteristics)
پودوں کے گروتھ ریگولیٹرز (پی، جی، آر) چھوٹے اور سادہ کیمیائی سالمے ہیں۔ یہ انڈول مرکبات (انڈول۔ 3۔ ایسیٹک ایسڈ، آئی، اے، اے)؛ ایڈینین مشتق (–N6 فرفورائل امینوپیورین، کائنیٹین) کیروٹنائڈ کے مشتق (ایبسیسسک ایسڈ ABA) ٹرپینز (جبریلک ایسڈ)، GA3 یا گیس (اتھیلین،C2H4) ہوسکتے ہیں۔ پی، جی، آر کے اور بھی کئی نام ہیں جیسے پلانٹ گروتھ اشیا پلانٹ ہارمون یا فائیٹوہا رمون۔
جاندار پودوں میں مختلف افعال کی بنیاد پر پی، جی، آر کو دو گروپوں میں بانٹا جاسکتا ہے۔ پی، جی، آر کا ایک گروپ نمو کو تحریک دینے والی سرگرمیوں میں شامل رہتا ہے۔ جیسے خلوی تقسیم، خلیے کا بڑھنا، پیٹرن کی تشکیل، ٹرایک نمو، پھول، پھل اور بیج بنانا۔ ان کوپلانٹ گروتھ پروموٹر (Plant Growth Promoters) بھی کہتے ہیں۔مثلاً آکِسن (Auxin)، جبرلنز (Gibberellins) اور سائیٹو کائنز (Cytokinins)۔ پی، جی، آر کا دوسرا گروپ پودوں کے زخم اور حیاتیاتی اور غیر حیاتیاتی تکالیف کو کم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتاہے۔ یہنمو کی مزاحمت کرنے والی بہت سی سرگرمیوں مثلاً خوابیدگی (Dormancy) اور ابسِشن (Abscission) میں بھی ملوث ہوتے ہیں۔ ایتھیلین گیس دونوں گروپوں سے تعلق رکھتی ہے۔ لیکن عموماً یہ نموسے متعلق سرگرمیوں کی مزاحمت کرتی ہے۔
15.4.2 پی جی آر کی دریافت (The Discovery of Plant Growth Regulators)

شکل 15.10 تجربہ جس میں دکھایا گیا ہے کہ کالیوپٹائل کا سرا آگزین کا سرچشمہ ہے۔ تیر روشنی کی سمت دکھا رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پی، جی، آر کے پانچ اہم گروپس کی دریافت محض اتفاق تھا۔ یہ سب چارلس ڈارون اور اس کے بیٹے فرانسس ڈارون کے اس مشاہدے سے شروع ہوا جب انہوں نے دیکھا کہ یک رخی روشنی کی وجہ سے کیناری گھاس کا کالیوپٹائل کا نمو صرف یک رخی روشنی کے طرف گھوم گیا فوٹوٹراپزم Phototropism)۔ کئی تجربات کے بعد یہ نتیجہ نکالا گیا کہ کالیوپٹائل میں کوئی ترسیلی اثر موجود ہے جس کی وجہ سے پورا کالیوپٹلائل روشنی کی جانب گھوم جاتا ہے (شکل 15.10)۔ آخر کار ایف۔ ڈبلیو۔ وینٹ نے جئی(oat) کی پود کے کالیوپٹائل کے سروں سے آکِسن کو علیحدہ کیا۔
’بکانے‘ چاول کی پود کی بیماری ہے۔ یہ جبریلا فوجی کیورائی۔ ایک فنجائی جراثیم کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ای، کوروساوا نے بیان کیا کہ جب صحت مند چاول کی پود کو اس فنگس کے جراثیم سے پاک سیال میں ڈبویا گیا تو پود میں بیماری کے آثار نمایاں ہو گئے۔ اس سیال میں سے بعد میں جبرایلک ایسڈ کشید کیا گیا۔
ایف اسکوگ اور اس کے ساتھیوں نے مشاہدہ کیا کہ تمباکو کے تنے کے انٹرنوڈ کے حصے میں کیلس (تفرقشدہ خلیوں کا مجموعہ) نمو ہو جاتا ہے، اگر آگزین کے ساتھ غذائی محلول جس میں وعائی بافت کی عرق، الیسٹ (Yeast) کا عرق، ناریل کاپانی یا ڈی این اے کا لیپ لگایا جائے۔ ملر(1955) etalنے بعد میں کائنیٹن (Kinetin) کی قلم (Crystal) علاحدہ کیے جو خلوی تقسیم کو سہارا دیتے ہیں۔
1960 کی دہائی میں تین محققین نے جدا گانہ طور پر تین مختلف موانع (Inhibitors) کو الگ کیا جن کا کیمیائی ساخت ایک ہی تھی۔ اس کا نام ایبکسیسک ایسڈ (اے بی اے) رکھا گیا۔
ایچ۔ایچ۔کوزنز (Cousins) (1910)نے پکے ہوئے سنتروں سے ایک طیران پذیر مادہ کے اخراج کا اعتراف کیا جو خام کیلوں کو اسٹور میں جلد پکنے میں مدد دیتا ہے اور بعد میں اسی تیار مادے کو ایتھیلین کی حیثیت سے پہچانا گیا جو ایک گیسی پی جی آر ہے۔
اگلے سیکشن میں ہم ان پی جی آر کی پانچ بڑی اقسام کے فزیولوجیکل اثرات کے بارے میں پڑھیں گے۔
15.4.3 پی جی آر کے فزیولوجیکل اثرات
(Physiological Effects of Plant Growth Regulators)
15.4.3.1 آگزین (Auxins)
آکِسن کو (یونانی زبان میں آکسن کا مطلب ہے : نمو پذیری) پہلی مرتبہ انسان کے پیشاب سے علاحدہ کیا گیا۔ اصطلاح آکِسن انڈول۔ 3۔ ایسٹک ایسڈ (آئی اے اے) کے لیے اور دوسرے قدرتی اور مثنوعی مرکبات جن میں نمو کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے، کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ عموماً یہ جڑوں اور تنوں کے زیر نمو راس میں پیدا ہوتا ہے اور اپنا فعل انجام دینے کے لیے پودے کے دوسرے حصوں میں منتقل ہوتا ہے۔ آئی اے اے اور انڈول بیوٹائرک ایسڈ کی ہی طرح ان کو بھی پودوں سے نکالا گیا ہے۔ این اے اے (نیفتھیلن اسٹک ایسڈ) اور 4,2 ڈی (4,2۔ ڈائی کلورو فیناکسی ایسٹک ایسڈ) مثنوئی آگزینز ہیں۔ زراعت اور باغبانی عملیات میں یہ تمام آگزینز کثرت سے استعمال کیے جاتے ہیں۔
پودوں کی افزائش جو قلم (Stem Cuttings) کے ذریعے کی جاتی ہے، ان میں یہ جڑ نکلنے کی ابتدا کرنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ انناس میں یہ پھول نکلنے کے عمل کو سہارا دیتے ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں یہ پھل اور پتیوں کو گرنے سے روکتے ہیں لیکن آخری مراحل میں پرانی اور پختہ پتیوں اور پھلوں کو گرنے میں مدد بہم پہنچاتے ہیں۔
اکثربڑے پودوں میں نموپذیر راسی کلی بغلی (Axillary) کلیوں کی نمو کو روکتی ہے جیسے راسی غلبہ (Apical Dominance) کہتے ہیں۔ تنے کی راس کو کاٹنے پر بغلی کلیوں میں نمو ہوتی ہے (شکل 15.11)۔ چائے کے باغات، باڑ بنانے میں اس طریقے کا کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ کیوں؟
آکِسن پار تھینوکارپی (Parthenocarpy) کو بھی تحریک دیتا ہے جیسے ٹماٹر۔ انہیں بوٹی کش (Herbicides) کی طرح بھی کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ 2,4 ڈی ڈائی کوٹیلڈن خودرو پودوں کو مارنے کے لیے کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے اور یہ بالغ مونوکوئیلڈن پودوں پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ باغبان اس کو لان یا پارک کو خود رو پودوں سے پاک کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ آکِسن زائلم کے تفرق کو کنٹرول کرتے ہیں اور خلوی تقسیم میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔

شکل 15.11 پودوں میں راسی غلبہ (a) راسی کلی والے پودے (b) راسی کلی نکالنے کے بعد پودا دیکھیں کہ ڈیکیپٹیشن کے بعدبغلی کلی شاخ میں تبدیل ہو رہی ہے۔
15.4.3.2 جبریلین (Gibberellins)
جبریلین دوسرے قسم کے پروموٹری پی جی آر ہیں۔ فنجائی اور اعلیٰ پودوں سے سو سے زیادہ جبریلین حاصل کیے جاتے ہیں۔ ان کو GA1، GA2، GA3 وغیرہ سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ مگر جبریلک ایسڈ (GA3) سب سے پہلے معلوم کیے جانے والے جبریلین میں سے ایک ہے۔ سب سے زیادہ مطالعہ اس کے بارے میں ہوا ہے۔ سارے جی اے تیزابی ہوتے ہیں۔ پودوں میں یہ وسیع فزیوجیکل رد عمل پیدا کرتے ہیں۔ انگور کے ڈنٹھل کو لمبا کرنے کے لیے ان کی محور کی لمبائی میں اضافے کی صلاحیت کو استعمال کیا جاتا ہے۔ سیب کو بیضوی شکل دینے کے لیے اور ان کی شکل میں نکھار لانے کے لیے جبر یلین کو استعمال کرتے ہیں۔ سینے سینس (Senescence) میں تاخیر کرتے ہیں۔ لہٰذا پھلوں کو درخت میں ہی لگا رہنے دیتے ہیں تاکہ بازار میں لمبے عرصے تک بک سکیں۔ بوزہ کش (Brewing) صنعت میں (GA3) مالٹنگ کے عمل کو تیز رو کرتا ہے۔
گنے کے تنے میں اسٹارچ، کاربوہائڈریٹ کی شکل میں جمع رہتا ہے۔ گنے کے کھیتوں میں جبریلین کا چھڑکاؤ ان کے تنوں کو لمبا کر دیتا ہے۔ لہٰذا اس کی پیداوار میں ایک ایکڑمیں تقریباً 20 ٹن کا اضافہ ہو جاتا ہے۔
نو عمر کو نی فر پر جی اے کے چھڑکاؤ سے ان کی بالیدگی سرعت سے ہوتی ہے اور جلد بیج آتے ہیں۔ جبریلین بولٹنگ (پھول لگنے سے پہلے انٹرنوڈ کی لمبائی میں اضافہ) میں مدد کرتا ہے جیسے چقندر، پتا گوبھی وغیرہ۔
15.4.3.3 سائیٹو کائنن (Cytokinins)
خلوی تقسیم میں سائیٹو کائنن کا مخصوص اثر ہے اور یہ ہیرنگ مچھلی کے اسپرم (Sperms) سے کائنیٹن (ایڈینین سکی ترمیم شدہ شکل، پیورین) کی حیثیت سے نکالا گیا۔ کائنیٹن پودوں میں نہیں پایا جاتا۔ سائیٹو کائنن کی صلاحیت رکھنے والے قدرتی مادوں کی تلاش میں ناریل کے پانی اور مکے کے بیج سے زیاٹن (Zeatin) حاصل ہوا۔ زیاٹن کے انکشاف کے بعد بہت سے قدرتی سائیٹوکائنن اور کچھ مصنوعی مرکبات جو خلوی تقسیم میں مدد کرتے ہیں پہچان میں آئے۔ قدرتی سائیٹو کائننن ان جگہوں پر بنتے ہیں جہاں خلوی تقسیم بہت تیزی کے ساتھ ہوتی ہے مثلاً جڑ اور تنے کی راس، زیر نمو کلیاں نوعمر پھل وغیرہ۔ یہ نئی پتیاں، پتیوں میں کلورو پلاسٹ، بغلی کلیوں کی نمو اور اتفاقی تنے بنانے میں مدد کرتے ہیں۔ سائیٹو کائنن راسی خلیے پر قابو پانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ مغذیات کی آمدورفت کو بھی بڑھاتے ہیں جس سے پتیوں کے گرنے میں تاخیر ہوتی ہے۔
15.4.3.4 ایتھیلین (Ethylene)
ایتھیلین سادہ گیسی پی جی آر ہے۔ یہ سینے سینس اور پھلوں کے پکنے کے وقت ان کے بافتوں میں بہت بڑے پیمانے پر بنتی ہے۔ ایتھیلین کا اثر پود کی عمودی، نمو، محور میں پھلاؤ اورڈائی کوٹ پودوں میں راسی ہک بنانے پر پڑتا ہے۔ ایتھیلین پتیوں اور پھولوں کے سینے سینس اور گرنے کو بڑھا دیتی ہے۔ ایتھیلین پھلوں کے پکنے میں بہت موثر ہوتی ہے۔ پھلوں کے پکنے کے وقت ان میں تنفس کی شرح کو بڑھا دیتی ہے۔ اس تنفس کی شرح میں اضافے کو ریسپر ریٹری کلائمیٹک(Sesipiratory climatic) کہتے ہیں۔
ایتھیلین بیج اور کلی کی ڈارمینسی(خوابیدگی) کو توڑتی ہے، مونگ پھلی کے بیج کے اگنے اور آلو کے اکھوے پھوٹنے کی شروعات کرتی ہے۔ ایتھیلین گہرے پانی میں چاول کے پودے کی انٹرنوڈ اور ڈنٹھل کی لمبائی میں اضافے کو مدد پہنچاتی ہے۔ یہ جڑ کی نمو اور جڑ کے بالوں کے بننے کو بھی بڑھاوا دیتی ہے اور اس طرح پودے کی انجذابی سطح کو بڑھاتی ہے۔
ایتھیلین انناس میں پھولوں کے آنے کی شروعات کرتی ہے اور پھولوں کے بننے میں تال میل پیدا کرتی ہے۔ آم میں بھی پھول آوری کو بڑھاتی ہے۔ چونکہ یہ بہت سارے فزیولوجیکل عملوںکو کنٹرول کرتی ہے لہٰذا زراعت میں یہ سب سے زیادہ استعمال ہونے والی پی جی آر ہے۔ مرکب ایتھیفون(Ethephon) ایتھیلین بنانے کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ ایتھیفون ایک آبی محلول ہے جو آسانی سے پودوں میں جذب ہوجاتا ہے اور مختلف جگہوں پرپہنچ جاتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ ایتھیلین خارج کرتا ہے۔ ایتھی فون سیب اور ٹماٹر کے پھلوں کے پکنے کے عمل کو تیز کردیتا ہے اور پھول اور پھل کے گرنے کو بھی تیز کرتا ہے ۔ (کپاس، چیری، اخروٹ کے پتوں میں کمی)۔ یہ کھیرے کی بیل میں مادہ پھولوں کی تعداد بڑھا دیتا ہے جس سے اس کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔
15.4.3.5 ابسسک ایسڈ (Abscisic Acid)
جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ ابسسک ایسڈ (اے بی اے) ابسشن اور ڈارمینسی میں اپنے اثرات کی وجہ سے پہچانا گیا ہے۔ لیکن دوسرے پی جی آر کی طرح، پودے کی نمو اور نشو ونما میں اس کے دوسرے اثرات بھی بہت وسیع ہیں۔ یہ پودے کی نمو کا عمومی (General) موانع ہے اور پودے کے تحول کو بھی روکتا ہے۔ اے بی اے بیج میں اکھوے پھوٹنے کو روکتا ہے۔ اے بی اے اسٹومیٹا (Stomata) کو بند کرنے کی شروعات کرتا ہے اور مختلف قسم کے دباؤبرداشت کرنے کی قوت میں اضافہ کرتا ہے، لہٰذا اس کو اسٹریس ہارمون کہتے ہیں۔ بیج کی بالیدگی، پختگی اور ڈارمینسی (خوابیدگی) میں اے بی اے بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بیج کو خوابیدگی کی حالت میں پہنچا کر یہ بیج کو سوکھنے اور نمو کے لیے دوسرے ناموافق اسباب سے بچاتا ہے۔ اکثر حالات میں اے بی اے، جی اے کا حریف ہے۔
مختصراً ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پودے کی نمو میں تفرق اور نشو ونما کے کسی نہ کسی مرحلہپر کوئی نہ کوئی پی جی آر ضرور اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ کردار مدد گار کا یا حریفانہ ہوسکتا ہے اور یہ انفرادی یا مجموعی ہوسکتا ہے۔
اسی طرح سے پودے کی زندگی میں کئی ایسے مراحل آتے ہیں جہاں ایک سے زیادہ پی جی آر کسی عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں مثلاً بیج/ کلی میں خوابیدگی، ابسشن سنے سینس راسی غلبہ وغیرہ۔
یاد رکھیے کہ پی جی آر کا کام صرف ایک قسم کا اندرونی کنٹرول ہے۔ جینومک کنٹرول اور بیرونی اسباب کے ساتھ مل کر پودے کی نمو اور بالیدگی میں یہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پودے کی نمو اور بالیدگی کو بہت سارے بیرونی اسباب مثلاً درجۂ حرارت، روشنی پی جی آر کی مدد سے قابو میں رکھتے ہیں۔ ان میں کچھ واقعات ورنالائیزیشن (Vernalisation)، پھول آوری، خوابیدگی، بیج کا پھوٹنا، پودوں میں حرکت وغیرہ ہیں۔
پھول آوری پر روشنی اور درجۂ حرارت کے اثرات (دونوں بیرونی اسباب ہیں) پر مختصر بحث کریں گے۔
15.5 ضیائی مدت (Photoperiodism)
یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ پودوں کو پھول آوری کے لیے وقفے وقفے سے روشنی درکار ہوتی ہے۔ یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ پودوں میں روشنی پڑنے کی مدت کو ناپنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر کچھ پودوں کو پھول آوری کے لیے روشنی کی ایک خاص مدت سے زیادہ کاعرصہ درکار ہوتا ہے جبکہ دوسرے پودوں میں اس مخصوص مدت سے کم عرصہ درکار ہوتا ہے۔ پہلے گروپ کو طویل یومی پودے (Long Day Plants) اور بعد والے گروپ کو قلیل یومی پودے (Short Day Plants) کہتے ہیں۔ یہ مخصوص مدت مختلف پودوں کے لیے مختلف ہوتی ہے۔ بہت سارے ایسے پودے ہیں جن میں روشنی کی مدت اور پھول آوری کا آپس میں کوئی رشتہ نہیں ہوتا، ایسے پودوں کوڈے نیچرل(Day Natural Plants) پودے کہتے ہیں (شکل 15.12)۔ اب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ صرف روشنی کی مدت کا وقفہ ہی نہیں بلکہ تاریک مدت کا وقفہ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ لہٰذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کچھ پودوں میں پھول آوری کا انحصارنہ صرف روشنی اور تاریکی کی زد میں آنے پر ہوتا ہے بلکہ ان دونوں کی متعلقہ مدت پر بھی ہوتا ہے۔ پودوں کے اس دن اور رات کے وقفے کو ضیائی مدت کہتے ہیں۔ یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ تنے کی راس جو پھول آوری کے پہلے اپنے اندر ضروری تبدیلیاں لاتی ہے وہ اس روشنی کی مدت کو نہیں پہچانتی بلکہ اس کی پہچان پتیاں کرتی ہیں۔ اب یہ نظریہ پیش کیا گیا ہے کہ پھول آوری کے لیے ہارمون ذمہ دار ہیں۔ جب پودوں کو روشنی کی ضروری مدت میسر ہو جاتی ہے تو ہارمون پتیوں سے تنے کی راس کی جانب منتقل ہو جاتے ہیں۔

شکل 15.12 ضیائی مدت: طویل یومی، قلیل یومی اور ڈے نیچرل پود
15.6 ورنالائزیشن (Vernalisation)
ایسے بہت سے پودے بھی ہیں جن میں پھول آوری کیفیتی یا مقداری (Qualitatively or Quantitatively) طور پر کم درجہ حرارت کی زد میں آنے پر منحصر ہوتی ہے۔ اس مظہر کو ورنالائزیشن کہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے فصل کے آخری مراحل تولیدی نمو کی شروعات کو روکتا ہے تاکہ پودے کو پختگی تک پہنچنے کے لیے مناسب عرصہ مل سکے۔ کم درجۂ حرارت کی مدت میں پھول آوری کی ابتدا کو ورنالائزیشن کہتے ہیں۔ کچھ اہم اجناس کے پودے مثلاًگیہوں، جو، رائی وغیرہ کی دو اقسام ہوتی ہیں: سردی اور بہار کی ویرائٹی۔ بہار کی قسم عموماً بہار کے موسم میں بوئی جاتی ہے اور فصل کے اختتام سے پہلے ان میں پھول اور دانے آجاتے ہیں۔ سردی کی قسم اگر بہار کے موسم میں بوئی جائے تو اس فصل کے آخر میں ان میں پھول اور دانے نہیں آتے لہٰذا ان کو خزاں میں بویا جاتا ہے۔ ان میں اکھوے پھوٹتے ہیں اور سردیوں میں یہ چھوٹے پودوں کے طور پر رہتے ہیں۔ بہار میں ان کی نمو دوبارہ ہوتی ہے موسم گرما کے درمیان میں ان کی فصل کاٹی جاتی ہے۔
ورنالائزیشن کی دوسری مثال دو سالہ (Biennials) پودوں میں ملتی ہے۔ یہ یک فصلی پودے ہوتے ہیں جن میں دوسرے سال میں پھول اور پھل آتے ہیں اور مرجاتے ہیں۔ چقندر بندگوبھی گاجر ان کی کچھ مثالیں ہیں۔ دوسالہ پودے پر سرد موسم گزرنے کے بعد ان کی جوابی کارروائی ضیامدتی پھول آوری کے ساتھ ہوتی ہے۔
خلاصہ
کسی بھی جاندار عضویے میں نمو سب سے اہم ہے۔ سائز، رقبہ، لمبائی، اونچائی، حجم، خلیوں کی تعداد میں اضافہ غیر رجعتی عمل ہے جس میں پروٹو پلازم کی مقدار میں اضافہ نہایت اہم عمل ہے۔ پودوں میں میریسٹم کے مقامات ہیں۔ پودے کے محور میں اضافہ جڑ اور تنے کے راسی میریسٹم اور کبھی کبھی انٹر کیلری میریسٹم کے ذریعے ہوتا ہے۔ اعلیٰ پودوں میں نمو لا محدود ہوتی ہے۔ جڑ اور تنے کے راسی میریسٹم میں خلوی تقسیم کے بعد نمو ارتھمیٹک یا جیومیٹرک ہوسکتی ہے۔ خلیے بافت عضو یا عضویے کی زندگی میں نمو کی تیز شرح یکساں نہیں ہوتی۔ نمو کی ہیئت کو تین درجات میں بانٹا جاسکتا ہے: لیگ، لاگ اور سینے سینٹ۔ جب خلیہ اپنی تقسیم ہونے کی قوت کھودیتا ہے تو اس میں تفرق ہوتاہے۔ تفرق کے نتیجے میں وہ ساخت بنتی ہیں جو ان کے فعل سے مطابقت رکھتی ہے۔ خلیہ بافت اور عضو کے تفرق کا اصول یکساں ہوتا ہے۔ ایک تفرق شدہ خلیہ ڈیڈفرنسی ایٹ ہوکر ریڈفرنسی ایٹ ہو سکتا ہے۔ چونکہ پودوں میں ڈفرنسی ایشن کھلا ہوتا ہے لہٰذا بالیدگی میں لچک ہوتی ہے یعنی نمو اورتفرق کا حاصل جمع نشو ونما ہے۔ پودوں کی نمو میں لچیلا پن ہوتا ہے۔
پودوں کی نمو اور بالیدگی اندرونی اور بیرونی اسباب کے قابو میں رہتی ہے۔ کیمیائی، مادے جوپی جی آر کہلاتے ہیں انٹر سیلولر اندرونی اسباب فراہم کرتے ہیں۔ پودوں میں پی جی آر کے مختلف گروپس ہیں جو پانچ بڑے گروپس میں بانٹے جاسکتے ہیں: آگزنز، جبرالیز، سائیٹو کائنیز، ابیسک ایسڈ اور ایتھیلین۔ یہ پی جی آر پودے کے کئی حصوں میں بنتے ہیں اور مختلف تفرق اور بالیدگی کے عمل کو قابو میں رکھتے ہیں۔ پودوںکی فزیولوجی پر پی جی آر کئی طرح سے اثر انداز ہوتا ہے۔ کئی پی جی آر ایک طرح کا اثر بھی دکھاتے ہیں۔ پی جی آر مجموعی یا ایک دوسرے کی ضد میں بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ روشنی، درجۂ حرارت غذا آکسیجن ثقل دہ بیرونی اسباب ہیں جو پودے کی نمو اور بالیدگی پر اثر ڈالتے ہیں۔
پودوں میں پھول آوری اسی وقت شروع ہوتی ہے جب ان پر کچھ خاص مدت تک روشنی پڑے۔ اس روشنی کی مدت کی ضرورت کے مطابق پودوں کو قلیل یومی پودے طویل یومی پودے اور ڈے نیچرل پودے کہتے ہیں۔ کچھ پودوں کو اپنی زندگی کے آخری مراحل میں پھول آوری کے لیے کم درجہ حرارت کے لمحات سے گزرنا پڑتا ہے جس کو ورنالائزیشن کہتے ہیں۔
مشق
1۔ نمو، تفرق، بالیدگی، ڈی ڈفرنسی ایشن، ریڈفرنسی ایشن، محور نمو، میریسٹم اور نمو کی شرح کی تعریف بیان کیجیے۔
2۔ پھولدار پودوں کی حیات میں نمو کودکھانے کے لیے کوئی ایک پیرا میٹر کافی کیوں نہیں ہے؟
3۔ مختصراً بیان کیجیے۔
(i) ارتھمیٹک نمو (ii) جیومیٹرک نمو (iii) سگمائڈ نمو منحنی (iv) مطلق (Absolute) اور نسبتی شرح نمو
4۔ پی جی آر کے پانچ بڑے گروپس کی فہرست بنائیے اور کسی ایک کے بارے میں اس کی دریافت ، فرہ یولو جیکل کام اور زراعت نیز باغبانی میں اس کے استعمال پر نوٹ لکھیے۔
5۔ ضیائی مدت اور ورنالائزیشن کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں لکھیے اور ان کی اہمیت پر روشنی ڈالیے۔
6۔ ابسسک ایسڈ کو سٹریس ہارمون بھی کیوں کہتے ہیں؟
7۔ اعلیٰ پودوں میں نمو اورتفرق دونوں کھلی نوعیت کے ہیں، اظہار خیال کیجیے۔
8۔ کسی ایک جگہ پر قلیل یومی پودے اور طویل یومی پودے میں ایک ساتھ پھول آوری ہوسکتی ہے سمجھا کر لکھیے۔
9۔ مندرجہ ذیل میں سے آپ کس پی جی آر کا استعمال کریں گے اگر آپ کو:
(i) ایک شاخ میں جڑیں بنانی ہوں
(ii) پھل کو جلدی پکانا ہو
(iii) پتی کے گرنے میں تاخیر کرنی ہو
(iv) بغلی کلی میں نمو کرنی ہو
(v) گلابی پودے کو ’بولٹ‘ کرنا ہو
(vi) پتیوں کے اسٹومیٹا کو فوراً بند کرنا ہو
10۔ کیا بغیر پتیوں کا پودا ضیائی مدتی سائیکل کے تئیں چکر کی جوابی کارروائی کرسکتا ہے؟ کیوں؟
11۔ کیا ہوگا اگر :
(i) چاول کی پود پر GA3 لگایا جائے
(ii) تقسیم ہونے والے خلیے تفرق پذیر نہ ہو پائیں
(iii) ایک سڑا ہوا پھل کچے پھلوں کے ساتھ ملا دیا جائے
(iv) کلچر میڈیم میں آپ سائیٹو کائنین ملانا بھول جائیں۔
