
اکائی 5
انسانی فزیالوجی (Human Physiology)
حیاتیاتی اشکال کے مطالعہ کے تحلیل کار طرز عمل کا نتیجہ فزیوکیمیا اور ٹیکنک کے مفہوم کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ اس مطالعہ کا کثرت سے استعمال ٹشو ماڈل یا براہ راست سیل فری نظام کے سروے کرنے پر ہوا ہے۔ مولیکیولر بایولوجی اس معلومات کا ایک دھماکہ خیز سروے کرنے پر ہوا ہے۔ مولیکیولر فزیالوجی، بایوکیمسٹری اور بایو فزکس کی بڑی حد تک مترادف ہوگئی ہے۔ حالانکہ یہ بات بڑی تیزی سے تسلیم کی جارہی ہے کہ نہ تو خالص عضلاتی طرز عمل اور تحلیل کار سالمی طرز عمل بایولوجیکل عوامل اور حیاتی مظاہر کے حقائق کا انکشاف کرسکیں گے۔ بایولوجی نظام نے اس بات کو یقینی بنا دیا ہے کہ تمام حیاتی مظاہر ہمارے زیر مطالعہ کمپونینٹس (Components) کے اشد ضروری خواص ہیں جو ان کے درمیان "Interaction's" کی وجہ ہیں۔ باقاعدگی سے مالیکیولز کا نیٹ ورک بڑے مالیکیولز اسمبلیز (Assemblies) خلیہ جات، بافتی عضلات اور حقیقتاً آبادیات اور فرقے میں سے ہر ایک ہنگامی خصوصیات پیدا کرتے ہیں۔
اس اکائی کے ابواب میں خاص انسانی فزیولوجیکل عوامل مثلاً ہاضمہ، گیسوں کا تبادلہ، دوران خون، نقل و حرکت وغیرہ کو خلیاتی اور مولیکیولر اصطلاحات میں ہی بیان کیا گیا ہے۔ آخری دو ابواب میں عصبی اختیار اور ربط دہی عضلاتی معیار کی نشاندہی کرتے ہیں۔
باب 16
ہاضمہ اور انجذاب
باب 17
سانس لینا اور گیسوں کا تبادلہ
باب 18
جسمانی سیال اور ان کا دوران
باب 19
اخراجی ماحصلات اور ان کا جسم سے باہر نکلنا
باب 20
نقل و حرکت
باب 21
عصبی کنٹرول اور تال میل
باب 22
کیمیائی تال میل اور اشتراک

الفونسو کورٹی
(1822 – 1888)
الفونسوکورٹی اٹلی کے اناٹومسٹ 1822میں پیدا ہوئے۔ کورٹی نے سائنسداں کے طور پر ریپٹائلز کے کارڈوسکولر نظام کے مطالعہ سے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ بعد میں اپنی توجہ میمیلین (Mammalian) آوڈٹری نظام کی طرف کر لی۔ 1851 میں ایک پیپر شائع کیا جس میں ایک ساخت کو بیان کیا جو بیسی لر جھلی کوہلا پر واقع کے بال خلیے آواز کے ارتعاش کو عصبی امپلس میں تبدیل کرتی ہے۔ اس ساخت کو آرگن آف کورٹی کہا جاتا ہے۔ 1888 میں کورٹی کا انتقال ہوگیا۔
باب 16
ہاضمہ اور انجذاب
(Digestion and Absorption)
16.1 نظام ہضم
16.2 غذا کا ہاضمہ
16.3 ہضم شدہ اشیا کا انجذاب
16.4 نظام ہضم سے متعلق عارضے
سبھی جانداروں کے لیے غذا بنیادی ضرورت ہے۔ ہماری غذا کے بڑے اجزا کاربوہائڈریٹ، پروٹین اور چربی ہیں۔ وٹامن اور معدنی اجزا کی ضرورت بھی کم مقدار میں پڑتی ہے۔ غذا بافتوں کی نمو اور ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کے لیے توانائی اور نامیاتی اشیا مہیا کرتی ہے۔ ہم لوگ جو پانی پیتے ہیں وہ تحولی عملوں (Metabolic Processes) میں اہم کردار ادا کرتاہے اور جسم کو نابیدگی (Dehydration) سے محفوظ رکھتا ہے۔ غذا میں موجود حیاتیاتی کلاں سالمات (Biomacromolecules) جسم میں اپنی اصل حالت میں استعمال نہیں ہوسکتے۔ انہیں نظام ہضم میں توڑ کر سادی اشیا (Simple Substances) میں تبدیل کرنا ہوتا ہے تاکہ ان کا خلیوں کے ذریعہ انجذاب ہوسکے۔ یہ عمل جس کے ذریعہ غذا کی پیچیدہ اشیا کو توڑ کر سادہ اور آسان اشیا میں تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ ان کا انجذاب ہو سکے، ہاضمہ کہلاتا ہے اوریہ کام میکانیکی اور کیمیائی طریقوں سے نظام ہضم کے ذریعہ انجام دیا جاتا ہے۔ انسانی نظام ہضم کی عام تنظیم (Organisation) کی وضاحت یہاں کی جارہی ہے۔
16.1 نظام ہضم(Digestive System)
انسانی نظام ہضم الیمینٹری کینال اور متعلقہ غدود پر مشتمل ہوتا ہے۔
16.1 الیمینٹری کینال (Alimentary Canal)
الیمینٹری کینال منھ سے شروع ہوتی ہے اور پیچھے کی جانب مبرز (Anus) میں کھلتی ہے۔

شکل 16.1 انسانی نظام ہضم
منہ کے اندر کی جانب ایک جوف (Cavity) ہوتی ہے۔ اس دہانی جوف میں بہت سارے دانت اور ایک عضلاتی زبان ہوتی ہے۔ ہر ایک دانت جبڑے کی ہڈی کے سوکیٹ میں پیوست ہوتا ہے (شکل 16.2)۔ اس طرح کے جوڑ کو تھیکوڈونٹ (Thecodont) کہتے ہیں۔ زیادہ تر پستانیہ بشمول انسان کی مکمل حیات میں دو طرح کے دانت پائے جاتے ہیں۔ ایک عارضی دودھ کے دانت جو گر جانے والے (Deciduous) ہوتے ہیں جو بعد میں مستقل دانت یا بالغ دانت سے بدل دئے جاتے ہیں۔ اس طرح کے دندانی ترتیب کو ڈائی فیوڈانٹ (Diphyodont) کہتے ہیں۔ ایک بالغ انسان میں 32مستقل دانت ہوتے ہیں جو چار مختلف قسموں پر مشتمل ہوتے ہیں ان کے نام ہیں۔ اگلے دانٹ(Incisors) (I)،کچلی(Canine) (C)، پیش داڑھ(Pre-molors) (PM) اور داڑھ(Molors) (M)۔ یہ ہیٹرو ڈانٹ (Heterodont) قسم کی دانتوں کی سجاوٹ ہوتی ہے۔ اوپری اور نچلے دونوں جبڑوں کے نصف حصوں میں دانتوںکی ترتیب I,C,PM,M کوسبھی ایک دندانی فارمولے کے ذریعہ ظاہر کرتے ہیں۔ انسانوں میں یہ فارمولا
ہے۔ دانت کی چبانے والی سطح بہت سخت ہوتی ہے جو اینمل (Enamel) کی بنی ہوتی ہے۔ یہ کھانے کو چبانے میں مدد کرتی ہے۔ زبان ایک محرک عضلاتی عضو ہے جو دہانی جوف کے فرشسے فرینولم (Frenulum)کے ذریعہ جڑی ہوتی ہے۔
زبان کی اوپری سطح پر چھوٹے چھوٹے ابھار ہوتے ہیں جنھیں پیپلی (Papillae) کہا جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ ذائقہ کلیوں پر مشتمل (Taste buds) ہوتے ہیں۔

شکل16.2 جبڑے میں ایک طرف مختلف قسم کے دانتوں اور دوسری طرف ساکیٹ کی ترتیب
دہانی جوف فیرنگس (Phyrn) کی جانب جاتی ہے جو ہوا اور خوراک دونوں مشترک گزرگاہ ہے۔ ایسوفیگس اور ٹریکیا(سانس کی نلی) فیرنگس میں کھلتے ہیں۔ ایک غضروفی (Cartilaginous) ورق جو ایپی گلاٹس کہلاتا ہے، غذا نگلنے کے دوران ہوا کی نلی میں خوراک کو داخل ہونے سے روکتا ہے۔ ایسوفیگس ایک پتلی لمبی نلی ہے جو پیچھے کی جانب گردن، سینہ اور ڈایا فرام سے ہوتے ہوئے نیچے کی جانب بڑھ کر ایک 'J' شکل کے تھیلے نما معدہ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ ایک عضلاتی گانٹھ (Gastro-oesophageal) ایسوفیگس کے معدے میں کھلنے کو قابو میں رکھتی ہے (شکل 16.3)۔

شکل 16.3 انسان کا معدہ
شکمی جوف کے اوپری حصے بائیں جانب موجودہ معدے کے تین حصّے ہوتے ہیں ایک کارڈیک (Cordiac)حصّہ جس میں ایسوفیگس کھلتا ہے، دوسرا فنڈک (Fundic)حصّہ اور تیسرا پائلورک (Pyloric)حصّہ جو چھوٹی آنت میں کھلتا ہے۔ چھوٹی آنت تین حصّوں میں منقسم ہوتی ہے ایک Cشکل کا ڈیوڈینم، دوسرا لمبا اور کوائل کی شکل کا درمیانی حصہ جسے جیجونم(Jejunum)کہتے ہیں اوربہت زیادہ مڑا ہوا حصہ ایلیم (Ileum)۔ معدے کا ڈیوڈینم میں کھلنے کا عمل ایک پائلورک گانٹھ کے ذریعہ قابو میں رہتا ہے۔ ایلیم بڑی آنت میں کھلتا ہے۔ یہ سکیم، کولن اور ریکٹم میں منقسم ہوتا ہے۔ سیکم ایک چھوٹی تھیلی نما ساخت ہوتی ہے جس کے اندر ہم باش خرد عضویہ (Symbiotic Micro-organism) ہوتے ہیں۔ سکیم سے ایک چھوٹی نلی نما ساخت نکلتی ہے جسے ورمی فارم اپنڈکس کہتے ہیں جو ایکبے فعل (Vestigial) عضو ہے۔ سیکم کولن میں کھلتا ہے۔ کولن تین حصوں میں بنٹا ہوتا ہے ایک اوپر جاتا ہوا، دوسرا عرضی اور تیسرا نیچے آتا ہوا۔ نیچے آتا ہوا حصّہ ریکٹم میں کھلتا ہے، جو مبرز کے ذریعہ باہری جانب کھلتا ہے۔

شکل16.4 انہضامی نالی کاعرضی تراش
ایسوفیگس سے ریکٹم تک الیمینٹری کینال کی دیوار چارسطحوں کی بنی ہوتی ہے (شکل 16.4)۔ جن کے نام سیروسا (Serosa)، مسکولیرس(Musculares)، سب میوکوسا(Sub-mucosa)۔اور میوکوسا(Mucosa) ہیں۔ سیروسا سب سے باہری دیوار ہوتی ہے جو باریک میزوتھیلیم اور کچھ اتصالی بافت (Connective Tissue)کی بنی ہوتی ہے۔ مسکولیرس چکنے عضلاتی بافت کی بنی ہوتی ہے جو عموماً اندرکی طرف دائرہ نما اور باہرکی طرف طولی (Longitudinal)شکل میں منظم ہوتے ہیں۔ کچھ خطوں میں ایک ترچھی عضلاتی سطح بھی پائی جاتی ہے۔ سب میوکوسا کی سطح ڈھیلے اتصالی بافت کی بنی ہوتی ہے جس میں خون، لمف اور اعصاب موجود ہوتے ہیں۔ ڈیوڈنیم کی سب میوکوسا میں غدود بھی موجود ہوتے ہیں۔ سب سے اندر کی سطح میوکوسا ہوتی ہے جو معدے میں ناہموار سطحیں (rugae)تشکیل دیتی ہے اور چھوٹی آنت میں انگلی نما ابھار جسے وِلّی (villi)کہتے ہیں، بناتی ہے (شکل 16.5)۔ وِلّیکا غلاف بنانے والے خلیے انگشت نما خوردبینی ابھار، مائیکرو وِلّی بناتے ہیں جو ایک جھاڑودار (Brush Boarder) کنارے کی شکل دیتی ہے۔ یہ تبدیلیاں بڑی حد تک باہری سطحوں کو بڑھا دیتی ہے۔ وِلّی میں باریک خون کی نلیوں کی جال کے علاوہ لمف نلی ہوتی ہے جسے لیکٹیل کہتے ہیں جو میوکس (Mucus) کا افراز کرتی ہے۔ میوکوسا معدے میں بھی غدود (Gastricglands)اور آنت میں وِلّی کی جڑوں کے درمیان کریپٹ یا شگاف (Crypts of Leiberkuhn)کی تشکیل کرتا ہے۔ سبھی چار سطحیں الیمنٹری کینال میں مختلف مقامات پر کچھ نہ کچھ ترمیم کو ظاہر کرتی ہیں۔

شکل 16.5 وِلّی کو دکھاتی ہوئی چھوٹی آنت کے میوکوساکی ایک تراش
16.1.2 ہاضم غدود (Digestive Glands)
الیمنٹری سے وابستہ ہاضم غدود میں لعابی غدود (Salivary Glands)، جگر اور لبلبہ شامل ہیں۔ لعاب خصوصاً تین جوڑی لعابی غدود میں بنتا ہے جو پیروٹڈ (گال)، سب میگسیلری/سب مینڈیبولر (نچلا جبڑا) اور سب لنگوئل (زبان کے نیچے) ہوتے ہیں۔ یہ غدودجوف دہن کے ٹھیک باہر کی طر ف واقع ہوتے ہیں اور جوف دہن میں لعابی رس کا افراز کرتے ہیں۔

شکل 16.6 جگر، پت کی تھیلی اور لبلبہ کی نلیوں کا نظام
جگر انسانی جسم میں سب سے بڑا غدہ ہے، بالغ آدمی میں یہ 1.2سے 1.5 کلو گرام تک کا ہوتا ہے۔ یہ ڈایا فرام کے نیچے شکمی جوف میں واقع ہوتا ہے۔ اس میں دولوب (Lobes) ہوتے ہیں۔ ہیپیٹک لو بیولس (hepatic lobules) جگر کی ساختی اور عملی اکائیاں ہیں جو ہیپیٹک خلیوں کے بنے ہوتے ہیں۔ یہ خلیے رسّی نما شکل میں آراستہ ہوتے ہیں۔ہرایک لوبیول ایک پتلے اتصالی بافت سے ڈھکا ہوتا ہے جسے گلیسن کیپسول (Glisson's Capsule) کہتے ہیں۔ جگر کے خلیوں سے افراز ہونے والا پت(rep)، ہیپیٹک نلیوں سے گزرتا ہوا ایک عضلاتی تھیلے میں جمع اور مرتکز ہوتارہتا ہے جسے پت کی تھیلی(Gall bladder) گال بلیڈر کی نلی (Cystic Duct)، ہیپیٹک نلی سے مل کر ایک مشترکہ پتلی نلی بناتی ہے۔ یہ پتی نلی آگے چل کر پینکریاٹک نلی کے ساتھ ڈئوڈینم میں کھلتی ہے جسے ہیپیٹو پینکریاٹک نلی کہتے ہیں۔ اس نلی کے اطراف آڈی کے انسفکٹر(Sphincter of Oddi) ہوتے ہیں۔
لبلبہ ایک مرکب (اکسوکرائن اور انڈو کرائن) غدود ہے جو ڈیوڈنیم کے 'U"نما بازوؤں کے درمیان لمبی شکل میں پایا جاتا ہے۔ اکسوکرائن حصّہ قلوی پینکریاٹک رس کاافراز کرتا ہے جس میں خامرے ہوتے ہیں جبکہ انڈوکرائن حصّہ انسولین اور گلوکا گون ہارمون کا افراز کرتا ہے۔
16.2 غذا کا ہاضمہ (Digestion of Food)
ہاضمہ کا عمل میکانیکی اور کیمیائی عملوں کے ذریعہ پورا ہوتا ہے۔
جوف دہن دو اہم کاموں کو انجام دیتا ہے۔ (i) کھانے کو چبانا (ii) کھانے کو نگلنے میں مدد کرنا۔ زبان اور دانت لعاب کی مدد سے کھانے کو چبانے اور انہیں پوری طرح ملانے کا کام کرتے ہیں۔ لعاب کا میوکس غذا کو چکنا بنا دیتا ہے اور چبائے ہوئے کھانے کے ٹکڑوں کو یکجا کر کے غذائی بولس (Bolus)بننے میں مدد کرتا ہے۔ غذائی بولس پھر فیرنگس اور ایسوفیگس میں پہنچ جاتا ہے ۔ اس عمل کو نگلنا (Swallowing or deglutition) کہتے ہیں ۔نگلنے کا عمل ایسوفیگس میں عضلاتی سکڑن کی مدد سے پورا ہوتا ہے جسے پیرسٹالسس(Peristalsis)کہتے ہیں۔ گیسٹرو ایسوفیجیل انسفنکٹرمعدے میں غذا کے پہنچنے کو کنٹرول کرتا ہے۔ جوف دہن میں افراز کیا ہوا لعاب کئی الیکٹرولائٹ (Na+,K+,Cl–,HCO3)اورخامروں(لعابی امائلیز یا ٹائلین اور لائسو زائم) پر مشتمل ہوتاہے۔
ہاضمہ کا کیمیائی عمل جوف دہن میں کاربوہائڈریٹ کو توڑنے والے خامروں کے ہائڈرولائٹک عمل سے شروع ہوتا ہے۔ اسٹارچ کا تقریباً 30فیصد حصّہ یہاں ان خامروں کی مدد سے ڈائی سیکرائڈ مالٹوز میں ٹوٹ جاتا ہے۔ (pH-6.8)۔ لعاب میں موجود لائسوذائم جراثیم کش (Antibacterial)کا کام کرتے ہیں اور تعدّیے کو روکتے ہیں۔
معدے کے میوکوسا میں گیسٹرک غدود ہوتے ہیں۔ ان میں تین مختلف قسم کے خلیے پائے جاتے ہیں۔
(i) میوکس خلیہ میوکس کا افرازکرتے ہیں؛
(ii) پیپٹک یا چیف خلیے جو پیپسینوجین نامی پروانزائم کا افراز کرتے ہیں؛ اور
(iii) پیرائٹل یا آگزینٹک خلیے جو HCl کاا فراز کرتے ہیں اور باطنی عوامل (یہ عوامل وٹامن B12کے انجذاب کے لیے ضروری ہیں)۔
معدہ کھانے کو 4سے 5گھنٹہ تک اپنے اندر رکھتا ہے۔ معدہ کی عضلاتی دیواروں کی گھماؤدار حرکت کی وجہ سے معدہ میں تیزابی گیسٹرک رس پوری طرح مل جاتا ہے۔ ایسے کھانے کو کائم (Chyme) کہتے ہیں۔ پروانزائم پیپسینوجین HCl کی موجودگی میں پیپسین میں بدل جاتا ہے۔جو پروٹین کو ہضم کرنے والا خامرہ ہے۔پیپسین پروٹین کو پیپٹون (Peptides) اور پروٹیوز میں تبدیل کردیتا ہے۔ میوکس اور بائی کاربونیٹ جو گیسٹرک رس میں موجود ہوتے ہیں میوکوسل ایپی تھیلیم کوبہت زیادہ مرتکزHCl سے محفوظ رکھنے اور چکناہٹ پیدا کرنے دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
HClایک تیزابی مرتکز (pH 1.8)فراہم کرتا ہے جس پر پیپسین کام کرتا ہے۔ رینین (Rennin)پروٹین کو ہضم کرنے والا خامرہ ہے اور گیسٹرک رس میں پایا جاتا ہے اور دودھ کے ہاضمہ میں مدد کرتا ہے۔ گیسٹرک غدود میں کچھ مقدار میں لائی پیزیز پائے جاتے ہیں جو چربی کو ہضم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔
چھوٹی آنت کے عضلاتی سطحوں کے ذریعہ کئی قسم کی حرکات پیدا ہوتی ہیں۔ یہ حرکات کھانے کو آنت میں مختلف افراز سے ملانے میں مدد کرتی ہیں اور اس طرح غذا کے ہاضمہ میں مدد ملتی ہے۔ پت، پینکریاٹک رس اور آنت کا رس چھوٹی آنت میںہونے والے افراز ہیں۔ پینکریاٹک رس اور پت ہیپیٹو پینکریاٹکنلی کے ذریعہ آتے ہیں۔ پینکریاٹک رس غیر فعال خامروں پر مشتمل ہوتے ہیں جن میں ٹرپسینوجین، کا ئموٹرپسینوجین، پروکارباکسی، پیپٹی ڈیزیز، امائی لیزیز، لائی پیزیز اور نیوکلیے زیز شامل ہیں۔ آنت کی میوکوسا سے نکلنے والے اینٹرو کائنیز خامرے ٹرپسینوجین اوریہ ایکٹیو ٹرپسین کہلاتے ہیں۔ نتیجتاً پینکریاٹک رس کے دیگر خامروں کو عمل انگیز کرتے ہیں۔ ڈیوڈینم میں افراز ہونے والے پت بائل پگمینٹ (Bilirubin اورBili-verdin)، بائل سالٹ (Bile Slat) ، کو لیسٹرال اور فاسفولیپڈز ہوتے ہیں مگر ان میں کوئی خامرہ نہیں ہوتا ہے۔ پت چربی کے ایملسیفیکشن (Emulsification) میں مدد کرتا ہے اور ان کو بہت چھوٹے ذرّات (Micelles) میں توڑ دیتا ہے۔ بائل لائپیز کو بھی عمل انگیز کرتا ہے۔
چھوٹی آنت کی میوکوسا ایپی تھیلیم میں گوبلیٹ خلیے(goblet cells) موجود ہوتے ہیں جو میوکس کا افراز کرتے ہیں۔ میوکوساکی برش بارڈر خلیے کے افراز گوبلیٹ خلیوں کے افراز کے ساتھ مل کر آنت رس (Succus Entericus) بناتے ہیں۔ یہ رس مختلف قسم کے خامروں جیسے ڈائی سیکرائڈیز، ڈائی پیپٹی ڈینریز، ڈائی گلیسری ڈینریز، نیوکلیوسائی ڈینریز وغیرہ پر مشتمل ہوتا ہے، میوکس پینکریاز سے نکلنے والے بائی کاربونیٹ سے مل کر آنت کی جھلّی کو تیزاب سے محفوظ رکھتا ہے اور ایک قلوی میڈیم (pH 7.8)بھیفراہم کرتاہے جو یہاں موجود خامرے کی کارکردگی کے لیے ضروری ہے۔ سب میوکوسا غدود (Brunners Gland)بھی اس عمل میں مدد کرتے ہیں۔
پینکریاٹک رس سے نکلنے والا پروٹیولائٹک خامرہ کائم میں موجود پروٹینز، پروٹیوز اور پیپٹون پر عمل انگیز ہوتا ہے۔

کائم میں موجود کاربوہائیڈریٹ پینکریاٹک امائی لیز کے ذریعہ ڈائی سیکرائیڈ میں تبدیل کیے جاتے ہیں۔

پت کی مدد سے لائی پیزیز خامرہ چربی کو توڑ کر ڈائی اور مونو گلیسرائیڈ بناتے ہیں۔

پینکریاٹک رس میں موجود نیوکلینریز نیوکلیائی تیزاب پر عمل انگیز ہوکر نیوکلیوٹائیڈزاور نیوکلیوسائیڈز بناتا ہے۔

آنت رس میں موجود خامرے مندرجہ بالا تعاملات کے آخری ماحصل (End Product)پر عمل انگیز ہوتے ہیں اور انھیں سادہ، جذب ہوجانے والی اشیا میں تبدیل کردیتے ہیں۔ہضم کے آخری مراحل چھوٹی آنت کے میوکوسل ایپی تھیلیم خلیوں کے بالکل نزدیک واقع ہوتے ہیں۔

اوپر دیے گئے حیاتی کلاں سالمات ڈیوڈینم میں ٹوٹتے ہیں جو چھوٹی آنت کا ایک حصہ ہے۔ اس طرح بنی سادی اشیا چھوٹی آنت کے جیجونم اور ایلیم کے حلقوں میں جذب ہوتی ہیں۔ غیر ہضم شدہ اور غیرجذب اشیا بڑی آنت میں چلی جاتی ہیں۔
بڑی آنت میں ہضم سے متعلق کوئی اہم عمل واقع نہیں ہوتا ۔بڑی آنت کے اہم کام:
(i) پانی، معدنی اشیا اور مخصوص ادویات کا انجذاب۔
(ii) میوکس کا افراز جو غیرہضم شدہ یا قابل اخراج اشیا کو اکٹھا رکھنے میں اور ان کوباہر نکلنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
غیرہضم شدہ اور غیر جذب شدہ اشیا پاخانہ کی شکل میں ریکٹم میں تب تک جمع رہتے ہیں جب تک ان کا اخراج عمل میں نہیں آتا ہے۔
منہ سے آنت تک کے راستے میں ہونے والے عمل اعصابی اور ہارمونی کنٹرول کے تحت انجام پذیر ہوتے ہیں تاکہ مختلف حصوں کے مابین مناسب ربط قائم رہے۔دیکھنے ، سونگھنے یا منہ میں کھانے کی موجودگی، لعاب کے افراز کے لیے مُہیج عطا کرتی ہے۔ اسی طرح گیسٹرک اور آنت کے افراز بھی اعصابی سگنلوں سے ہیجان پذیر ہوتے ہیں۔ الیمنٹری کینال کے مختلف حصوں میں عضلاتی حرکات کا عمل بھی اعصاب کے ذریعہ کنٹرول کیا جاتا ہے۔ یہ اعصابی عمل مقامی یا مرکزی اعصابی نظام (CNS) سے وابستہ ہوسکتا ہے ۔ہاضم رسوں کے افراز کاہارمونل کنٹرول گیسٹرک اور آنت کے میوکوسا سے نکلنے والے مقامی ہارمونوں کے ذریعہ عمل میں آتی ہے۔
16.3 ہضم شدہ اشیا کا انجذاب
(Absorption of Digested Food Products)
انجذاب ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعہ ہضم شدہ اشیا آنت کے میوکوسا سے ہوتے ہوئے خون یالمف میں پہنچتی ہیں۔ یہ عمل فعال (Active) غیر فعال(Passive)اور امدادی (Facilitated) نقل حمل کے ذریعہ پورا ہوتا ہے۔
کچھ مقدار میں مونوسیکرائیڈ جیسے گلوکوز، امینو ایسڈ اور کچھ الیکٹرولائٹ جیسے گلورائیڈ آئینو عموماً سادے نفوذ کے ذریعہ جذب ہوتے ہیں۔ ان اشیا کا خون میں دخول ان کے ارتکازی ڈھلان (Concentration gradient) پر منحصر کرتا ہے۔ حالانکہ کچھ اشیا جیسے فرکٹوز اور چند امینوایسنڈ حمال (Carrier) سالموں جیسے +Na کے ذریعہ جذب ہوتے ہیں۔ یہ عمل امدادی نقل و حمل (Facilitated Transport)کہلاتا ہے۔
پانی کا نقل حمل آسموٹکڈھلان (Osmotic Gradient)پر منحصر ہوتا ہے۔ فعال نقل و حمل (Transport Active)ارتکازی ڈھلان کے خلاف ہوتا ہے اس کے لیے توانائی درکار ہوتی ہے۔ مختلف مغذیات جیسے امینوایسڈ، مونو سیکرائیڈ جیسے گلوکوز، الیکٹرولائیٹس جیسے Na+ خون میں اسی عمل کے ذریعہ جذب ہوتے ہیں۔
فیٹی ایسڈ اور گلیسرال چونکہ غیرحل پذیر ہوتے ہیں اس لیے یہ خون میں جذب نہیں ہوپاتے ہیں۔یہ پہلے چھوٹے ذرّات میں ٹوٹتے ہیں جنہیں مسیل(Micelles) کہتے ہیں۔ مسیل آنت کے میوکوسا میں داخل ہوجاتے ہیں۔
بعد ازاںیہ مسیل پروٹین چڑھے ہوئے چربی کے گلوبیول میں تبدیل ہوجاتے ہیں جسے کائیلومائیکرون کہتے ہیں اور پھر وِلّی میں موجود لمف کی نلیوں میں لے جائے جاتے ہیں۔ یہ لمف کی نلیاں بالآخرجذب شدہ اشیا کو خون تک پہنچا دیتی ہیں۔
چیزوں کا انجذاب الیمنٹری کینال کے مختلف حصوں جیسے منہ، معدہ، چھوٹی آنت اور بڑی آنت میں ہوتا ہے۔ حالانکہ سب سے زیادہ انجذاب چھوٹی آنت میں ہوتا ہے۔ انجذاب کا خلاصہ (انجذاب کے مقامات اور جذب شدہ اشیا) نیچے جدول میں پیش کیا گیا ہے۔
جذب شدہ اشیا بالآخر بافتوں میں پہنچتی ہیں جنھیں وہ اپنی کارکردگی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس عمل کواستحالہ (Assimilation) کہتے ہیں۔
نظام ہضم کا فضلہ ریکٹم میں جمع ہوتا ہے اور عموماً ایک اعصابی ریفلیکس پیدا کرتا ہے جو اس کے اخراج کے لیے ایک خواہش یا دباؤ پیدا کرتا ہے۔ پاخانے کامبرز سے باہر نکلنا ایک اختیاری عمل ہے جو پیرسٹالٹک(Peristaltic) حرکت کے ذریعہ عمل میں آتا ہے۔
جدول۔ نظام ہضم کے مختلف حصوں میں انجذاب کا خلاصہ
بڑی آنت |
چھوٹی آنت |
معدہ |
منہ |
| پانی، کچھ معدنیات اور ادویات جذب ہوتی ہیں۔ |
مغذیات کے انجذاب کے لیے اہم عضو۔ یہاں ہاضمہ مکمل ہوتا ہے اور ہاضمہ کے آخری ماحصل جسے گلوکوز فروکٹوز، فیٹی ایسڈگلیسرول اور امینون ایسڈ میوکوسا کے ذریعہ خون اور لمف میںجذب ہوجاتے ہیں۔ |
پانی، سادہ شکر اور الکوحل کا انجذاب |
منہ کے میوکوسا اور زبان کی نچلی سطح کے پاس آنے والی مخصوص ادویات جذب ہوکر وہاں موجود خون کی کیپلیریز Capillaries میں جذب ہوجاتی ہیں۔ |
16.4 نظام ہضم سے متعلق عارضے(Disorders of Digestive System)
بیکٹیریا یا وائرس کے تعدیہ (Infection) سے ہونے والی بیماریوں میں آنتوں کی سوزش سب سے عام ہے۔ چھوٹی آنت کی عام متعدی بیماریاں ٹائیفائیڈ، ہیضہ امیبائی پیچش ہیں۔ تعدیہ آنتوں میں پائے جانے والے ورم جیسے ٹیپ ورم، (Tape worm) ، راؤنڈ ورم، تھریڈورم، ہوک ورم اور پن ورم جسیورم سے بھی ہوتا ہے۔یرقان (Jaundice)لیور (جگر) متاثر ہوتا ہے، جلداور آنکھ میں بائل پگمنٹ (Bile pigment) جمع ہوجاتے ہیں اور یہ پیلے نظر آتے ہیں۔
قے آنا: معدے میں موجود چیزوں کے منہ کے راستہ سے باہر آنے کے عمل کو قے آنا کہتے ہیں۔ یہ غیر ارادی عمل دماغ کے میڈولا سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ قے سے قبل متلی کا احساس ہوتاہے۔
اسہال :شکم کی غیر معمولی تیز حرکت اور پاخانے میں سیال مادوں کا اضافہ اسہال کہلاتا ہیں۔
ہے اس میں کھانے کا انجذاب کافی کم ہوجاتا ہے۔
قبض: قبض میں شکم کی حرکت میں کمی کے باعث پاخانہ ریکٹم میں ہی جمع رہتا ہے۔
بدہضمی:اس کیفیت میں کھانا ٹھیک طرح سے ہضم نہیں ہو پاتا ہے جس کی وجہ سے بھاری پن کا احساس ہوتا ہے۔ بدہضمی کی وجوہات میں خامروں کے افراز میں کمی، ذہنی تناؤ، غذائی سمیت، کثیر خوری، مسالہ دار کھانا شامل ہیں۔
خلاصہ
انسانی نظام ہضم الیمنٹری کینال اور اس سے منسلک ہاضمی غدود پر مشتمل ہوتا ہے۔الیمنٹری کینال میں منہ، جوف دہن، فیرنکس، ایسوفیگس، معدہ چھوٹی آنت، بڑی آنت ریکٹم اور مبرزشامل ہیں۔ لعابی غدود، جگر (پت کے تھیلے کے ساتھ) اور پینکریاز (لبلبہ)منسلک غدود ہیں۔ منہ کے اندر دانت کھانے کو چباتے ہیں۔ زبان ان کا ذائقہ لینے کے ساتھ لعاب کے ساتھ کھانے کو ملانے کا کام کرتی ہے تا کہ اس کو ٹھیک سے چبایا جاسکے۔ لعاب میں اسٹارچ کو ہضم کرنے والا خامرہ ٹائی لین (Ptylien) ہوتا ہے جو اسٹارچ کو مالٹوز (ڈائی سیکرائڈ)میں تبدیل کردیتا ہے۔ پھر کھانا فیرنگس ہوتے ہوئے ایسوفیکس میں ایک بولس (Bolus)کی شکل میں جاتا ہے۔ اب وہ مزید آگے معدے میں پیری سٹالسس کے ذریعہ جاتا ہے۔ جو ایک عضلاتی حرکت ہے۔ معدے میں خصوصاً پروٹین کا ہاضمہ ہوتا ہے۔ سادہ شکر الکوحل اور ادویات کا انجذاب بھی معدے میں ہوتا ہے۔
غذا (کائم) چھوٹی آنت کے ڈیوڈنیم میں داخل ہوتی ہے جہاں اس پر پینکرٹک رس اور پت (صفرا)عمل انگیزہوتا ہے جس کی وجہ سے کاربوہائیڈریٹ، پروٹین اور چربی کچھ حد تک ہضم ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد کھانا جیجونم اور ایلیم میں بتدریج داخل ہوتا ہے اور آنت رس کے خامرے اس پر عمل کرتے ہیں۔ یہاں ہر قسم کے کھانے کا ہاضمہ مکمل ہوتا ہے۔ بالآخر کاربوہائیڈریٹ کا ہاضمہ ہوتا ہے اسے مونوسیکرائیڈمثلاً گلوکوز میں تبدیل کردیاجاتا ہے۔ پروٹین اپنے ہاضمہ کے آخری مرحلے میں امینو ایسڈس میں ٹوٹ جاتی ہے اور چربی، فیٹی ایسڈ اور گلیسرول میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
آنت کی وِلّی میں موجود ایپی تھیلیل استر کے ذریعہ مغذیات کا انجذاب ہوتا ہے۔ غیر ہضم شدہ غذا(ileo-cecal valvel) ایلیوسیکل والو کے ذریعہ بڑی آنت کے سیکم میں داخل ہوتی ہے۔ یہ والو غیر ہضم شدہ غذا کو واپس آنے سے روکتی ہے۔ پانی کے بڑے حصّے کا انجذاب بڑی آنت میں ہی ہوتا ہے۔غیرہضم شدہ غذابتدریج ٹھوس ہوتی جاتی ہے اور ریکٹم میں جمع ہوتی ہے اور بالآخرمبرزکے ذریعہ باہر نکال دی جاتی ہے۔
مشق
I۔ مندرجہ ذیل میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجئے۔
(a) گیسٹرک جوس میں شامل ہیں
(i) پیپسین، لائبیز اور رینین
(ii) ٹرپسین، لائپیز اور رینین
(iii) ٹرپسین، پیپسین اور لائبیز
(iv) ٹرپسین، پیپسین اور رینین
(b) سکّس اینٹریکس نام ہے۔
(i) ایلیم اور بڑی آنت کے جنکشن کا
(ii) آنت رس کا
(iii) الیمنٹری کینال میں سوجن کا
(iv) اپنڈ کس کا
2۔ کالم I کا کالم II سے ملان کیجئے۔
کالم I کالم II
(a) بیلی ریوبن اور بیلی ورڈن (i) پیروٹیڈ
(b) اسٹارچ کی آب پاشیدگی (ii) بائل (صفرا)
(c) چکنائی کا ہاضمہ (iii) لائیبیز
(d) لعابی غدود (iv) ایمائیلیز
3۔ مختصر جواب دیجیے۔
(a) وِلّی آنت میں موجود ہوتے ہیں اور معدے میں نہیں۔کیوں؟
(b) اس کیمیائی شے کا نام بتائیے جو پیپسینوجین کو اس کی فعال شکل میں تبدیل کرتا ہے۔
(c) الیمنٹری کینال کی دیوار کی بنیادی سطحوں کے نام لکھیں۔
(d) بائل چربی کو ہضم کرنے میں کس طرح مدد کرتا ہے۔
4۔ پروٹین کے ہاضمے میں پینکرٹک رس کے کردار کو بتائیے۔
5۔ معدے میں پروٹین کے ہاضمے کو بیان کیجیے۔
6۔ انسانوں کے لیے دندانی (Dental) فارمولا بتائیے۔
7۔ پت رس میں خامرے نہیں ہوتے ہیں پھر بھی یہ ہاضمہ کے لیے اہم مانا جاتا ہے، کیوں؟
8۔ کائموٹرپسین کا ہاضمہ میں کیا کردار ہے؟ کون سے دو خامرے (اسی درجہ کے) اس غدود کے ذریعہ افراز ہوتے ہیں۔
9۔ پولی سیکرائیڈ اور ڈائی سیکرائیڈ کا ہاضمہ کیسے ہوتاہے۔
10۔ اگر معدے میں HCl کا افراز نہ ہو تو کیا ہوگا؟
11۔ آپ کے کھانے میں مکھن کا ہاضمہ اور انجذاب کیسے ہوتاہے؟تفصیل سے وضاحت کیجیے۔
12۔ جب غذا الیمنٹری کینال کے مختلف حصوں سے گزرتی ہے تو پروٹین کے ہضم سے متعلق اہم اقدامات پر بحث کیجیے۔
13۔ اصطلاح تھیکوڈونٹ (Thecodont) اور ڈی فیوڈونٹ(Diphyodont) کی تشریح کیجئے۔
14۔ مختلف دانتوں کے نام بتائیے اور ایک بالغ انسان میں دانتوں کی تعداد بتائیے۔
15۔ جگر کے کام بیان کیجیے؟