باب 17
سانس لینا اور گیسوں کا تبادلہ
(Breathing and Exchange of Gases)
اپنے ہاتھ کو خود کے سینے پر رکھیں، آپ محسوس کر سکتے ہیں آپ کا سینہ اوپر نیچے حرکت کر رہا ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ یہ سانس لینے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ ہم لوگ سانس کیسے لیتے ہیں؟ جیسا کہ آپ نے پہلے پڑھا ہے، جاندارعضویے آکسیجن کا استعمال غذائی سالموں جیسے گلوکوز کو توڑنے اور ان سے توانائی حاصل کر کے مختلف کاموں کو انجام دینے کے لیے کرتے ہیں۔ ان کیٹابولک تعاملات میں کاربن ڈائی آکسائڈ (CO2) پیدا ہوتی ہے جو ایک نقصاندہ گیس ہے ۔ اس طرح سے O2 خلیے کو لگاتار مہیا کرائی جاتی ہے اور CO2 جو خلیے میں پیدا ہوتی ہے اسے لگاتار جسم سے باہر نکالا جاتا ہے۔ تبادلہ کا یہ عمل جس میں فضا سے O2 خلیے میں داخل ہوتی ہے اور CO2 خلیے سے باہر آتی ہے، سانس لینا (Breathing) کہلاتا ہے جسے عام طور سے تنفس(Respiration) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تنفس جاندار عضویہ میں ہونے والا ایک لازمی عمل ہے۔اس باب کے مندرجہ ذیل حصے میں تنفسی اعضا اور سانس لینے کے طریقے کا ذکر کیا گیا ہے۔
17.1 تنفسی اعضا
17.2 سانس لینے کا طریقہ کار
17.3 گیسوں کا تبادلہ
17.4 گیسوں کا نقل و حمل
17.5تنفس کی باقاعدگی
17.6 نظام تنفس سے متعلق عارضے
17.1 تنفسی ا عضا (Respiratory Organs)
سانس لینے کا طریقہ کار مختلف قسم کے جانداروں میں مختلف ہوتا ہے جو ان کے مسکن اور تنظیم کی سطحوں پر منحصر ہوتا ہے۔ نچلے درجہ کے انورٹیبریٹس جیسے اسپنجیز، سیلنٹریٹس، فلیٹ ورم وغیرہ میں آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تبادلہ پورے جسم کی سطح سے نفوذ کے ذریعہ ہوتا ہے۔ کینچوا اپنے جسم کی نم کیوٹیکل کے ذریعہ سے سانس لیتا ہے۔حشرات میں نلیوں کا ایک جال (Tracheal Tubes) ہوتا ہے جس سے ہوا جسم کے اندر داخل ہوتی ہے تاکہ خلیے براہ راست گیس کا تبادلہ کر سکیں۔ مولسک اور آبی آتھروپوڈز میں سانس لینے کے اعضا گلپھٹر(gills) کہلاتے ہیں۔ زمین پر رہنے والے جانداروں میں یہ کام پھیپھڑے کرتے ہیں۔ فقری جانوروں میں صرف مچھلیاں گلپھٹروں کی مدد سے سانس لیتی ہیں جبکہ ریپٹائلس پرندے اور دودھ پلانے والے جانور (پستانیے )پھیپھڑوں کی مدد سے سانس لیتے ہیں۔ جل تھیلے مثلاً مینڈک اپنی نم جلد سے بھی سانس لیتے ہیں۔ پستانیوں میں ترقی یافتہ تنفسی نظام ہوتا ہے۔
17.1.1 انسانی نظام نفس (Human Respiratory System)
ہمارے جسم میں ایک جوڑی بیرونی نتھنے موجود ہوتے ہیں جوبالائی ہونٹ کے اوپر کھلے رہتے ہیں۔ یہ نیزل پیسیج سے ہوتے ہوئے نیزل چیمبر میں داخل ہوتا ہے۔ نیزل چیمبر نیزو فیرنگس میں کھلتا ہے جو فیرنگس کا ایک حصّہ ہے۔ فیرنگس غذا اور ہوا کا مشترکہ راستہ ہے۔ نیزوفیرنگس لیرنگس کے گلاٹس سے ہوتے ہوئے ٹریکیا میں کھلتا ہے۔ لیرنگس ایک مرمری ہڈیوں سے بنا ایک ڈبہ ہے جو کہ آواز کو پیدا کرنے میں مدد کرتا ہے اور اس لیے صوبی بکس (Sound Box)کہلاتا ہے۔ غذا کو نگلنے کے وقت گلاٹس کو ایک لچیلی مرمری ہڈی سے بنا ڈھکن ڈھک لیتا ہے جسے ایپی گلاٹس کہتے ہیں۔ اس سے غذا لیرنگس میں نہیں داخل ہوتی۔ ٹریکیا ایک سیدھی ٹیوب ہے جو کہ وسطی جوف صدر تک موجود ہوتی ہے اور بانچویں فقرہ تک پہنچنے کے بعد دائیں اور بائیں ابتدائی برانکائی میں تقسیم ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہر ایک برانکائی ثانوی اور تیسرے درجے کے برانکائی اور برنکیولس میں تقسیم ہوتا ہے۔ ان سب کو مرمری ہڈیوں والے نا مکمل دائرے سہارا دیتے ہیں۔ الویولی (پتلی دیواروں سے بنی تھیلیاں) ٹرمینل برنکیولس سے پیدا ہوتے ہیں (شکل 17.1)۔ پھیپھڑے برانکی، برونکیولز اور الویولی کا شاخ دار جال پر مشتمل ہوتا ہے۔ انسانوں میں دو پھیپھڑے ہوتے ہیں جن کی باہری سطح پر دو پرت والا پلیورا ہوتا ہے جس میں پلیورل سیال موجود ہوتا ہے۔ اس سے پھیپھڑوں کی سطح پر پیدا ہونے والی رگڑ کم ہوجاتی ہے۔ بیرونی پلیورل جھلی صدر کے استر کے بہت زیادہ نزدیک ہوتی ہے جبکہ اندرونی پلیورل جھلی پھیپھڑے کے سطح کے رابطے میں ہوتی ہے۔ بیرونی نتھنوں سے شروع ہو کر ٹرمنل برویکیولس تک کا حصہ تنفسی نظام کا ایصالی حصہ ہے جبکہ ایلویولی اور ان کی نالیاں تنفسی حصہ کی تشکیل کرتی ہیں۔ ایصالی حصہ کرہ باد کی ہوا کو ایلویولی تک پہنچاتا ہے، اس ہوا کے اندر موجود ذرات کو ہٹاتاہے، اسے مرطوب بناتا ہے اور ہوا کے درجۂ حرارت تک لے آتا ہے۔ تنفسی حصہ یا تبادلہ والا حصہ وہ مقام ہے جہاں حقیقتاً خون اور کرہ باد کی ہوا کے درمیان O2 اور CO2 کا نفوذ واقع ہوتا ہے۔

شکل 17.1 انسانی نظام تنفس (بائیں جانب کے پھیپھڑے کا تراش منظر دکھایا گیا ہے)
پھیپھڑے جوفِ صدر(Thorasis Chamber) میں موجود ہوتے ہیں۔ تھوریسک چیمبر آگے کی طرف سے ورٹیبرل کالم اور پیچھے کی طرف اسٹرنم اور دائیں اور بائیں کی طرف سے ریڑھ کی ہڈیوں سے اور نیچے کی طرف گیند نما ڈایا فرام سے بنا ہوا ہوتا ہے۔ تھوریکس میں پھیپھڑوں کا اندرونی نظام ایسا ہوتا ہے کہ تھوریسک چیمبر کے حجم میں کوئی بھی تبدیلی پھیپھڑوں کی کیویٹی (Cavity) میں عیاں ہو جاتی ہے۔ تنفس کے نظام میں ایسی ترتیب لازمی ہے چونکہ ہم براہِ راست پلمونری حجم میں کوئی تبدیلی ازخود نہیں لاسکتے۔
تنفس کے عمل میں مندرجہ ذیل مراحل شامل ہیں۔
(i) سانس لینا یاپلمونری وینٹیلیشن(Pulmonary Ventilation) جس کے ذریعہ فضا کی ہوا اندر آتی ہے اور الویولی میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ سے بھر پور ہوا باہر چھوڑی جاتی ہے۔
(ii) ایلویولرجھلی کے آر پار گیسوں ) CO2اور O2 (کانفوذ۔
(iii) خون کے ذریعہ گیسوں کا نقل وحمل۔
(iv) خون اور بافتوں کے بیچ O2 اور ـCO2 کانفوذ ۔
(v) کیٹابولک تعاملات کے لیے خلیوں کے ذریعے آکسیجن کااستعمال اور وہاں سے پیدا ہونے والی CO2 کو چھوڑ دینا۔
17.2 سانس لینے کا طریقہ کار (Mechanism of Breathing)
سانس لینے کے دومرحلے ہیں۔ انسپریشن (Inspiration) جس میں کہ فضائی ہوا اندر کھینچی جاتی ہے اور اکسپریشن (Expiration) جس میں کہ الویولر ہوا باہر چھوڑی جاتی ہے۔ ہوا کی باہر اور اندر کی طرف نقل وحمل ہوا کے دباؤ میں فرق کی وجہ سے وجود میں آتی ہے جو کہ پھیپھڑوں اور فضا میں پیدا ہوتا ہے۔ انسپریشن تب ہوتا ہے جب پھیپھڑوں کے اندر ہوا کا دباؤ فضا کے مقابلہ میں کم ہوتا ہے۔ اکسپریشن تب ہوتا ہے جب پھیپھڑوں کے اندر ہوا کا دباؤ فضا ئی ہوا کے دباؤ سے زیادہ ہوتا ہے۔ ہوا کے دباؤ کے اس فرق کوڈایا فرام (Diaphragm) اور پسلیوں کے درمیان موجود عضلات کے مخصوص سیٹ- بیرونی اور اندرونی انٹرکوسٹلز پیدا کرتے ہیں۔ انسپریشن ڈائی فرام کے سکڑنے سے ہوتاہے جواینٹیریوپوسٹیریئر ایکسس میں جوفِ صدرکے حجم کو بڑھا دیتا ہے۔ بیرونی انٹرکوسٹل عضلات کی سکڑنے سے ریڑھ کی ہڈیاں اور اسٹرنم اوپر اٹھتے ہیں اور تھیوریسک چیمبر کا حجم ظہری بطنی محور میں بڑھ جاتا ہے۔ تھیوریسک چیمبر کے حجم کے بڑھنے کی وجہ سے پھیپھڑوں کا حجم بڑھ جاتا ہے جس سے پھیپھڑوں کے اندر کا دباؤ کم ہو جاتا ہے اور فضائی ہوا اندر آجاتی ہے۔ اب ڈایا فرام اور انٹرکوسٹل عضلات اپنی اصل حالت میں آجاتے ہیں جس سے ڈایا فرام اور اسٹرنم واپس اپنی جگہ پر آجاتے ہیں اور تھوریسک چیمبر کا حجم پھرکم ہو جاتا ہے۔ ایسا ہونے سے پھیپھڑوں میں دباؤ فضائی دباؤ سے تھوڑازیادہ ہو جاتا ہے اور ہوا ان سے باہر آجاتی ہے (شکل 17.26)۔ ایک تندرست آدمی ایک منٹ میں 12-16 بار سانس لیتا ہے۔ ہم چاہیں تو شکم میں اضافی عضلات کے دوران کی مدد سے اسے بڑھا بھی سکتے ہیں۔ اسپائرومیٹر (Spirometer) کے استعمال سے سانس چلنے کے دوران ہوا کے جسامت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔یہ آلہ پلمونری عملوں کی کلینیکل جانچ میں مدد کرتا ہے۔

شکل 17.2 سانس لینے کا طریقۂ کار(a) سانس اندر لینا اور (b) سانس باہر چھوڑنا
17.2.1 تنفسی حجم اور گنجائش (Respiratory Volumes and Capacities)
ٹائڈل حجم (Tidal Volume): معمول کے مطابق تنفسی کے دوران اندر لی ہوئی اور باہر چھوڑی ہوئی ہوا کی مقدار کو ٹائڈل حجم کہتے ہیں۔ یہ عام طور پر 500ملی لیٹر ہوتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک تندرست آدمی ایک منٹ میں 6000 سے 8000ملی لیٹر تک ہوا اندر لے سکتا ہے اور باہر نکال سکتا ہے۔
انسپائی ریٹری ریزرو حجم(IRV) (Inspiratory Reserve Volume) : ٹائڈل حجم کے علاوہ ہوا کی وہ مقدار جسے کوئی شخص قوت لگا کراندر کھینچتا ہے اسے انسپائی ریٹری ریزرو حجم کہتے ہیں۔ یہ لگ بھگ 2500ملی لیٹرسے 3000 ملی لیٹر تک ہوتا ہے۔
ایکسپائی ریٹری ریزرو حجم (ERV) (Expiratory Reserve Volume) : ہوا کی وہ اضافی مقدار جسے کوئی شخص قوت لگا کر باہر چھوڑتا ہے اسے ایکسپائی ریٹری ریزرو حجم کہتے ہیں اور یہ تقریباً 1000ml سے 1100ml تک ہوتا ہے۔
باقی ماندہ حجم (Residual Volume) (RV): ہوا کی وہ مقدار جو ERV کو نکالنے کے بعد بھی پھیپھڑوں میں رہ جائے اسے RV کہتے ہیں۔ یہ اوسطاً 1100ml سے 1200ml تک ہوتی ہے۔
انسپائی ریٹری گنجائش (Inspiratory Capacity) (IC): ایک ایکسپائریشن کے بعد کوئی شخص ہوا کی جتنی مقدار اندر لے لیتا ہے اسے IC کہتے ہیں۔ (IC = TV + IRV)
مذکورہ بالا چند تنفسی حجموں کے علاوہ متعدد پلموتری کیپسیٹز بھی ہیں جن کا استعمال کلینیکل تشخیص میں کیا جا سکتا ہے۔
ایکسپائی ریٹری گنجائش (Expiratory Capacity) (EC) : ایک سانس اندر لینے کے بعد کوئی شخص ہوا کی جتنی مقدار باہر چھوڑتا ہے اسے ایکسپائی ریٹری گنجائش کہتے ہیں۔(EC = TV + ERV)
تفاعلی باقی ماندہ گنجائش (Functional Residual Capacity) (FRC): ہوا کی وہ مقدار جو معمول کے مطابق سانس باہر چھوڑنے کے بعد بھی پھیپھڑوں میں رہ جاتی ہے اسے FRC کہتے ہیں۔ (FRC = ERV + RV)
وائٹل کیپیسٹی (Vital Capacity) (VC): ہوا کی وہ زیادہ سے زیادہ مقدار جسے کوئی شخص قوت کے ساتھ سانس باہر چھوڑنے کے بعد اندر لے سکتا ہے اسے وائٹل کیپیسٹی کہتے ہیں۔ (VC = ERV + TV + 1RV)
ٹوٹل لنگ کیپیسٹی (Total Lung Capacity) : اس ہوا کا کل حجم جو قوت کے ساتھ سانس اندر لینے کے بعد پھیپھڑوں میں رہ سکتی ہے ٹوٹل لنگ کیپیسٹی کہلاتی ہے۔(TLC = RV+ERV + TV IRV) یا (TLC = VC + RV)
17.3 گیسوں کا تبادلہ (Exchange of Gases)
گیسوں کا تبادلہ الویولی میں ہوتا ہے۔ یہ تبادلہ خون اور بافتوں کے مابین میں بھی ہوتا ہے۔ آکسیجن اور CO2 کا تبادلہ سادہ نفوذ کے ذریعے ہوتا ہے جو خاص طور سے دباؤ/ارتکاز میں فرق کہ وجہ سے انجام پاتاہے۔ گیسوں کی حل پذیری اور نفوذ میں شامل جھلیوں کی موٹائی کچھ ایسے اہم عوامل ہیں جو نفوذ کی شرح کو متاثر کرتے ہیں۔
جدول 17.1 کرہ باد کے مقابلے میں نفوذ کے مختلف مقاموں پر O2 اور CO2 کا جزوی دباؤ (mm Hg میں)

گیسوں کے آمیزہ میں کسی ایک گیس کے دباؤ کو جزوی دباؤ (Partial Pressure) کہتے ہیں اور اسے pO2 اور pCO2 کی صورت میں لکھا جاتا ہے۔کرہ باد کی ہوا میں آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائڈ گیس کا جزوی دباؤ اور نفوذ کے دو مقامات کو مندرجہ ذیل جدول 17.1 اور شکل 17.3 میں دکھایا گیا ہے۔اعداد وشمار الویولی سے خون اور خون سے بافتوں تک آکسیجن کے ارتکازی ڈھلان کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ اسی طرح سے CO2 کے لیے ارتکاز ڈھلان مقابل سمت میں ہوتا ہے یعنی بافتوں سے خون اور خون سے الویولی کی طرف۔ چونکہ CO2 کی حل پذیری O2 سے 25-20 گنا زیادہ ہے، اس لیے CO2 کی وہ مقدار جونفوذی جھلی سے ہوکر نفوذہو سکتی ہے اس کے جزوی دباؤ میں فی اکائی فرق O2 کے مقابلہ کافی زیادہ ہوتا ہے۔ نفوذی جھلّی تین اہم سطحوں کی بنی ہوتی ہے (شکل 17-4 ) جن کے نام ہیں: الویولی کی پتلی اسکوامس ایپی تھیلیم،الویولر کیپلریز کی انڈوتھیلیم اور ان دونوں کے درمیان بیسمنٹ شے(Basement Substance) جوبیسمنٹ کی پتلی جھلی پر مشتمل اور اسکوموس ایپی تھیلیم کی معاون اور بیسمنٹ جھلی جو کیپلریز کی اینتھو لیل سیل کی اکہری جھلی سے گھری ہوتی ہے۔اس کی کل موٹائی 1mm سے بھی کم ہوتی ہے (شکل 17.3)۔ اس لیے ہمارے جسم میںO2 کا نفوذ الویولی سے بافتوں میں ہوتا ہے اور CO2 کا بافتوں سے الویولی میں ہوتا ہے۔

شکل 17.3 خون سے الویولس اور جسم کے خون مع بافتوں کے درمیان گیسوں کا تبادلہ نیز آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائڈ کی نقل وحمل کوظاہر کرتا ہوا خاکہ

شکل 17.4 پلمونری کیپلری کے ساتھ الولیولس کا تراش خاکہ
17.4 گیسوںکی نقل وحمل (Transport of Gases)
O2 اور CO2 کی نقل وحمل خون کے ذریعے سے ہوتا ہے۔ تقریباً %97آکسیجن کی نقل وحمل خون میں RBCs کرتے ہیں۔ باقی %3 آکسیجن کی نقل وحمل پلازما کے ذریعے گھلی ہوئی حالت میں ہوتی ہے۔ تقریباً 25-20 فیصد کاربن ڈائی آکسائڈRBCsکے ذریعے ہوتی ہے اور باقی %70 کی نقل وحمل بائی کاربونیٹ کی شکل میں ہوتی ہے۔ تقریباً %7 کاربن ڈائی آکسائڈ گھلی ہوئی حالت میں پلازما کے ذریعے لے جایا جاتا ہے۔
17.4.1 آکسیجن کی نقل وحمل (Transport of Oxygen)
ہیموگلوبین ولوہے پر مشتمل لال رنگ کا پگمینٹ ہے اور یہ RBCs میں پایا جاتا ہے۔O2 ہیموگلوبین کے ساتھ رجعتی انداز میں مل کر آکسی ہیموگلوبین بناتا ہے۔ ایک Hb کے سالمہ کے ساتھ O2 کے چار سالمے جڑ سکتے ہیں۔ O2 کا Hb کے ساتھ جڑ جانے کا دارومدار O2 کے جزوی دباؤ (Partial Pressure) پر ہے۔ اس کے علاوہ اس کو متاثر کرنے والے عوامل CO2 کا جزوی دباؤ، ہائڈروجن آین کا ارتکاز اور درجۂ حرارت ہے۔ Hb کے ساتھ O2 کی سیری اور O2 کے جزوی دباؤ کے بیچ بننے والا گراف سگموئڈ ہوتا ہے۔ اس منحنی کو O2 Dissocation Curve) (کہتے ہیں(شکل17.5)۔ اور یہ CO2 کا جزوی دباؤ، ہائڈروجن آئن کا ارتکاز وغیرہ کا O2 اور Hb کے جڑنے پر کیا اثر پڑتا ہے ان سب کے مطالعے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے (شکل 17.5)۔ الویولی میں جہاں پر pO2 زیادہ ہوتا ہے، pCO2 کم ہوتا ہے، H+ کا ارتکاز کم ہوتا ہے اور درجۂ حرارت کم ہوتا ہے وہاں سب چیزیں آکسی ہیموگلوبین کے بننے کے لیے موافق ہوتی ہیں۔ جب کہ بافتوں میں جہاں کہ pO2 کم، pCO2 زیادہ، +H کی مقدار زیادہ اور درجۂ حرارت بھی زیادہ ہوتا ہے وہاں آکسی ہیموگلوبین سے O2 کا نکلنا آسان ہوتا ہے (شکل 17.5)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ O2 کی ہیموگلوبن کے ساتھ آمیزش سے پھیپھڑوں کی سطح پر ہوتی ہے اور یہ بافتوں میں ہیموگلوبن سے علیحدہ ہوجاتی ہے۔ عام فزیولوجیکل حالتوں میں ہر 100 ملی لیٹر آکسی جینیٹڈ خون کے ذریعہ 5 ملی لیٹر O2 بافتوں کو پہنچائی جاتی ہے۔

شکل 17.5 آکسیجن ڈیوسی ایشن کرو
17.4.2 کاربن ڈائی آکسائڈ کا نقل وحمل (Transport of Carbon Dioxide)
ہیموگلوبین CO2 کو کاربامائنو ہیموگلوبین کی صورت میں اپنے ساتھ لے جاتاہے۔ اس اتحاد کا دارومدار pCO2 پر ہے۔ جب pCO2 زیادہ اور pO2 کم ہوتا ہے جیسا کہ بافتوں میں ہوتا ہے تو CO2 کا Hb کے ساتھ اتحاد زیادہ ہوتا ہے اور جب pCO2کم اور pO2 زیادہ ہوجاتا ہے، جیسا کہ الویولی میں ہوتا ہے تب CO2 کاربامائنو ہیموگلوبین سے علاحدہ ہو جاتی ہے۔ RBCs میں کاربونک انہائڈریز انزائم بہت زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے اور کچھ مقدار میں یہ پلازما میں بھی موجود ہوتا ہے۔ اس خامرے کی مدد سے مندرجہ ذیل تعامل دونوں سمتوں میں واقع ہوتا ہے۔

بافتوں میں جہاں پر کیٹابالزم کی وجہ سے pCO2 زیادہ ہوتا ہے، CO2خون(RBC اور پلازمہ) میں نفوذکرجاتی ہے اور H+ اور
بناتا ہے۔ الویولی میں جہاں pCO2 کم ہوتا ہے، یہتعامل مخالف سمت میں ہوتا ہے یعنی H2CO3 سے CO2 اور H2O بنتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بافتوں میں جو CO2 بائیکاربونٹ کی صورت میں موجود رہتی ہے اسے الویولی تک لے جایا جاتا ہے اور پھر CO2 کی شکل میں وہاں سے باہر کر دیا جاتا ہے (شکل 17.4)۔ ڈی آکسی جینیٹڈخون کاہر 100ملی لیٹرکے ذریعے CO2 کے 4 ملی لیٹر کو الویولی میں پہنچایا جاتا ہے۔
17.5 تنفس کی باقاعدگی (Regulation of Respiration)
انسانوں میں یہ مخصوص صلاحیت ہے کہ وہ سانس لینے کی رفتار کو جسمانی بافتوں کی ضرورت کے موافق بنا سکتا ہے۔اس کام کو نیورل سسٹم کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔ دماغ کے میڈولا میں ایک خصوصی مرکزپایا جاتا ہے اور اسے مرکز تنفس کہتے ہیں۔ ایک اور مرکز جو کہ دماغ کے پونس حلقہ میں ہوتا ہے اسے نیوموٹیکسس مرکز کہتے ہیں اور یہ مرکز تنفس (Respiratory Rhythm Centre) کے کام میں آہنگی پیدا کرتا ہے۔ اس مرکز سے ٓانے والی اعصابی سگنل انسپائریشن کی مدت کو کم کرسکتے ہیں اور اس طرح تنفس کی شرح کو بدل سکتے ہیں۔
تنفس مرکز سے متصل ایک کیمیائی حساس علاقہ ہوتا ہے جو CO2 اور ہائڈروجن آینوں کے تئیں حساس ہوتا ہے۔ ان اشیا کی مقدارمیں اضافہ اس مرکز کو فعال بنا دیتا ہے۔ اور پھر یہ مرکز تنفسی مرکزکو اس طرح سگنل بھیجتا ہے کہ وہ ان اشیا کو نکالنے کا ضروری انتظام کرسکے۔ اے اورٹک قوس اور کیروٹڈ شریان سے متعلق ریسیپٹرCO2 اور +H ارتکاز میں تبدیلی کی شناخت کرلیتے ہیں اور مرکز تنفس کو ضروری سگنل بھیجتے ہیں تاکہ تدارکی اقدامات کیے جاسکیں مرکز تنفس کی باقاعدگی میں آکسیجن کا کردار نہایت اہم ہے۔
17.6 تنفسی بیماریاں(Disorders of Respiratory System)
استھما (Asthma): اس میں سانس لینے میں دقّت ہوتی ہے۔ برانکائی اور برونکیولز میں سوزش کی وجہ سے سانس میں خرخراہٹ کی آواز آتی ہے۔
امفیسیما (Emphysema): یہ ایک کہنہ مرض ہے جس میں الویولر کی دیوار تباہ ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے تنفسی سطح کم ہو جاتی ہے۔ اس بیماری کی ایک بڑی وجہ سگریٹ نوشی ہے۔
حرفتی تنفسی عارضے(Occupational Repiratory Disorders)
کچھ صنعتوں میں خاص کر جہاں پتھر توڑنے یا پیسنے کا کام ہوتا ہے زیادہ گرد وغبار پیدا ہوتا ہے اور جسم کا دفاعی نظام اس قسم کے حالات سے پوری طرح مقابلہ نہیں کر پاتا ہے۔ زیادہ وقت تک ایسے حالات میں رہنے کی وجہ سے سوزش پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے فائبروسس (Fibrosis) ہوجاتا ہے(ریشمی بافتوں کا )اور پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ اس طرح کی صنعتوں میں کام کرنے والوں کو حفاظتی ماسک پہننا چاہیے۔
خلاصہ
خلیے تحول کے لیے آکسیجن کا استعمال کرتے ہیں اور توانائی پیدا کرتے ہیں۔ توانائی کے ساتھ ساتھ CO2 جیسی گیس بھی نکلتی ہے جو نقصان دہ گیس ہے۔ حیوانوں میں خلیوں تک آکسیجن کی نقل و حمل اور وہاں سے کاربن ڈائی آکسائڈ کو نکالنے کے لیے مختلف طریقہ کار پائے جاتے ہیں۔ ہم لوگوں میں مکمل طور پرترقی یافتہ نظام تنفس پایا جاتا ہے جو دو پھیپھڑوں اور ان سے جڑے ہوائی راستوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
تنفس کا پہل قدم سانس لینا (Breathing) ہے جس میں فضائی ہوا جسم کے اندر لی جاتی ہے (انسپریشن) اور الویولر ہوا جسم کے باہر نکالی جاتی ہے (اکسپریشن)۔ O2 اور CO2 کا آکسیجینیٹڈ خون اور الویولی کے درمیان تبادلہ، ان گیسوں کا خون کے ذریعہ جسم کے مختلف حصّوں میں پہنچنا، O2 اور CO2 کا آکسیجینیٹڈخون اور بافتوں کے درمیان تبادلہ اور خلیے کے ذریعہ آکسیجن کا استعمال (خلوی تنفس) دوسرے اقدام ہیں جو تنفسی نظام میں حصّہ لیتے ہیں۔
انسپریشن اور ایکسپریشن کا عمل کرہ باداور الویولی کے درمیان دباؤ کی ڈھلان پیدا کر کے انجام پذیر ہوتاہے۔ یہ کام ایک مخصوص عضلہ کی مدد سے ہوتا ہے جسے انٹرکوسٹلز اور ڈائی فرام کہتے ہیں۔ ان سرگرمیوںمیں ہوا کا جو حجم ملوّث ہوتا ہے اس کا اندازہ اسپائرومیٹر (Spirometer) کی مدد سے لگایا جاتا ہے جس کی کلینیکل اہمیت ہے۔ نفوذ کی شرح O2 اور CO2 کے جزوی دباؤ ان کی حل پذیری اور نفوذی سطح کی موٹائی پر منحصر ہوتی ہے۔ یہ سارے عوامل، ہمارے جسم میں نفوذ کو آسان کر دیتے ہیں تاکہ الویولی سے ڈی آکسیجینیٹڈ خون میں اور آکسیجینیٹڈ خون سے بافتوں میں O2 کا نفوذ ہو سکے۔ یہ سارے عوامل CO2 کے مقابل سمت میں نفوذ کو بھی سہارا دیتے ہیں جیسے کہ بافتوں سے الویولی میں۔
آکسیجن خاص طور پر آکسی ہیموگلوبین کی شکل میں نقل و حمل کرتا ہے۔ الویولی میں جہاں pO2 زیادہ ہوتا ہے، O2 ہیموگلوبین سے بندھ جاتی ہے جو بڑی آسانی سے بافتوں میں الگ ہو جاتی ہیں جہاں pO2 کم ہوتا ہے اور pCO2 اور +H کا ارتکاز زیادہ۔ تقریباً 70 فیصدCO2 بائی کاربونیٹ
کی شکل میں کاربونک انہائڈریز کی مدد سے نقل و حمل کرتا ہے۔ 20 سے 25 فیصد CO2 ہیموگلوبین کی مدد سے کاربامائنو- ہیموگلوبین کی شکل میں نقل و حمل کرتا ہے۔ بافتوں میں جہاں pCO2 زیادہ ہوتا ہے، یہ خون سے جڑ جاتا ہے اور الویولی میں جہاں pCO2 کم ہوتا ہے اور pO2 زیادہ، یہ خون سے الگ ہو جاتا ہے۔
تنفسی لے دماغ کے میڈولا حلقہ میں موجود تنفسی مرکز کے ذریعہ کنٹرول کیا جاتا ہے۔ دماغ کے پونس حلقہ میں موجود نیوموٹیکسک مرکز اور میڈولا میں موجود ایک کیمیائی محرک علاقہ تنفسی طریقہ کار کو بدل سکتا ہے۔
مشق
1۔ وائٹل کیپسیٹی (Vital Capacity) کی تعریف اور اہمیت بتائیے۔
2۔ ایک نارمل سانس کے بعد پھیپھڑے میں موجود ہوا کا حجم بتائیے۔
3۔ الویولر ہوا کے مقابلہ سانس میں چھوڑی گئی ہوا میں pO2 اور pCO2 کیا ہوگا؟
(i) pO2 کم pCO2 زیادہ
(ii) pO2 زیادہ pCO2 کم
(iii) pO2 زیادہ pCO2 زیادہ
(iv) pO2 کم pCO2 کم
4۔ گیسوں کا نفوذ صرف الویولر حلقہ میں ہوتا ہے، نظام تنفس باقی حصّوں میں نہیں ۔کیوں؟
5۔ CO2 کی نقل و حمل کے اہم طریقہ کار کی وضاحت کیجیے۔
6۔ عام حالتوں میں انسپائریشن (Inspiration) کے عمل کی وضاحت کیجیے۔
7۔ تنفس کو آپ کس طرح ریگولیٹ کریں گے؟
8۔ pCO2 کا آکسیجن کی نقل و حمل پر کیا اثر پڑتا ہے؟
9۔ پہاڑی پر چڑھتے ہوئے شخص کے عمل تنفس کے بارے میں بیان کیجیے۔
10۔ حشرات (Insects) میں تنفس کا طریقہ کار بتائیے۔
11۔ آکسیجن افتراق منحنی کی تعریف لکھیے۔ اس کے سگموائڈل پیٹرن کی وجہ بتائیں۔
12۔ کیا آپ نے ہائپوکسیا (Hypoxia) کے بارے میں سنا ہے۔ اس کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کی کوشش کیجیے اور اپنے دوستوں کے ساتھ بحث کیجیے۔
13۔ مندرجہ ذیل میں فرق کی وضاحت کیجیے۔
(a) آئی آر وی اور ای آر وی
(b) انسپائریشن اور ایکسپائریشنگنجائش
(c) وائٹلکیپیسٹی اور پھیپھڑوں کی کل گنجائش
14۔ ٹائڈل حجم کیا ہوتا ہے؟ ایک صحت مند انسان کا فی گھنٹہ (تقریباً قدر میں) ٹائڈل حجم معلوم کیجئے۔