باب 18
جسمانی سیال اور ان کا دوران
(Body Fluids and Circulation)
18.1 خون
18.2 لمف (بافتی سیال )
18.3 دوران خون کے راستے
18.4 دوہرا دوران خون
18.5 دل کے کام کی باقاعدگی
18.6 دوری نظام کی بیماریاں
آپ پڑھ چکے ہیں کہ سبھی جاندار خلیوں کو مغذیات، آکسیجن اور دیگر اہم اشیا کی ضرورت ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں، خلیوں میں بننے والے فضلہ یا نقصان دہ اشیا کو مسلسل طور پر باہر نکالنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ بافت باقاعدگی سے کام کرسکیں۔ لہٰذا خلیوں کے اندر اور باہر ان اشیا کی آمد ورفت کے لیے ایک موثر طریقہ کار کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لیے جانوروں کے مختلف گروپوں میں مختلف طریقوں کا ارتقا ہوا ہے۔ کچھ جاندار جیسے کہ اسپنجیز اور سیلینٹریٹس میں پانی جسم میں پائے جانے والے سواخوں سے دوران کرتا ہے تاکہ خلیوں کو مختلف طرح کی اشیا کا تبادلہ کرنے میں آسانی ہو۔ زیادہ پیچیدہ جاندار اپنے جسم کے اندر خاص طرح کے سیال کا استعمال کرتے ہیں تاکہ اس طرح کی اشیا آسانی سے اندر لائی جائیں اور دوسری باہر بھیجی جائیں اکثر و بیشتربڑے جاندار جیسے کہ انسان اس مقصدکے لیے خون کا استعمال کرتے ہیں۔ دوسرا جسمانی سیال لمف (Lymph) ہے جو مخصوص اشیا کے نقل وحمل کو انجام دیتا ہے۔ اس باب میں آپ خون اور لمف (بافتی سیال) کی ترکیب اور خصوصیات کا مطالعہ کریں گے۔ اس میں دوران خون کے طریقہ کار کی بھی وضاحت کی جائے گی۔
18.1 خون (Blood)
خون ایک مخصوص اتصالی بافت ہے جو کہ سیال میٹرکس، پلازمہ اور تشکیلی عناصر کا بنا ہوتا ہے۔
18.1.1 پلازمہ (Plasma)
پلازمہ ایک زردی مائل ولوجی سیال ہوتا ہے جس میں تقریباً 55 فی صد خون ہوتا ہے۔ پلازمہ میں 92-90 فیصدپانی اور 6-8 فی صد پروٹین ہوتی ہے۔ فائبرینوجین، گلوبیولین اور البومین اہم پروٹین ہیں۔ فائبرینوجین خون کو جمانے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ گلوبیولین بنیادی طور پر جسم کے دفاعی نظام کے طور پر کام آتے ہیں اور البومین ولوجی توازن میں مدد کرتے ہیں۔ پلازمہ میں ان کے علاوہ کچھ معدنیات بھی پائے جاتے ہیں جیسے کہ Na+، Ca++، Mg++، HCO–3، Clوغیرہ۔ گلوکوز، امینوایسڈ، لیپڈ وغیرہ بھی پلازمہ میں موجود ہوتے ہیں کیونکہ جسم میں ان کی روانگی ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ پلازمہ میں خون کو جمانے والے عوامل بھی موجود ہوتے ہیں۔ پلازمہ میں اگر خون کو جمانے والے عوامل موجود نہ ہوں تو اسے سیرم کہتے ہیں۔
18.1.2 تشکیلی عناصر (Formed Elements)
اریتھروسائٹس، لیوکوسائٹس اور پلیٹیلٹس کو ایک ساتھ تشکیلی عناصر کہتے ہیں (شکل 18.1) ۔ خون کا تقریباً %45 حصہ ان عناصر پر مشتمل ہوتا ہے۔ حصہ ان
خون میں سب زیادہ تعداد میں پائے جانے والے خلیے اریتھروسائٹس ہیںجنھیں سرخ دموی خلیے [Red Blood Corpuscles (RBCs)] بھی کہتے ہیں۔ ایک تندرست انسان میں فی کیوبک ملی میٹر خون میں اوسطاً 5 سے 5.5 میلین آر بی سی پائے جاتے ہیں۔ RBCs جوان ہڈیوں کے لال گودے میں بنتی ہیں۔ زیادہ تر پستان دار جانوروں کے RBCs میں نیوکلیس نہیں ہوتا اور یہ دوجوفی (Biconcave) شکل کی ہوتی ہیں۔ ان میں سرخ رنگ کا ایک پیچیدہ پروٹین ہوتا ہے جس میں لوہا ہوتا ہے جسے ہیموگلوبین کہتے ہیں۔ اسی کی وجہ سے ان خلیوں کا رنگ لال ہوتا ہے اور انھیں سرخ دموی خلیے کہا جاتا ہے۔ ایک تندرست انسان کے ہر 100 ملی لیٹر خون میں 12 تا 16 گرام ہیموگلوبین ہوتا ہے۔ یہ سالمے تنفسی گیسوں کے نقل وحمل میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ RBCs کی اوسط عمر صرف 120 دن ہے جس کے بعد وہ تلی (Spleem)کے اندر ختم ہو جاتی ہیں جسے آر بی سی کا قبرستان کہا جاتا ہے۔
لیوکوسائٹس کوسفید دموی خلیے White Blood] [Corpuscles (WBCs) بھی کہتے ہیں چونکہ ان میں ہیموگلوبین نہیں ہوتا ہے اس لیے یہ بے رنگ ہوتے ہیں۔ ان میں نیومیکس ہوتا ہے اور یہ نسبتاً کم تعداد میں پائے جاتے ہیں یعنی اوسطً 6000-8000 فی کیوبک ملی میٹر ۔ لیوکوسائٹس کا وقفہ حیات مختصر ہوتا ہے۔ WBCs دو طرح کی ہوتے ہیں۔ (i)گرینولوسائٹس (Granulocytes) اور (ii) اے گرینو لوسائٹس(Agranulocytes)۔ بیسوفِل(Basophils)،نیوٹروفل(Neutrophils) اورایسنوفل(Eosinopils) گرینولوسائٹس کی اقسام ہیں جبکہ لمفوسائٹس (Lymphocytes) اورمونوسائٹس(Monocytes) اے گرینولوسائٹس ہیں۔ WBCs میں نیوٹروفلس(Neutrophils) سب سے زیادہ (60-65%)تعداد میں اور بیسوفلس سب سے کم (0.5-1%) تعداد میں پائی جاتی ہیں۔ نیوٹروفلس اور مونوسائٹس (6-8%) فیگو سائٹک خلیے ہیں جو جسم کے باہر سے داخل ہونے والے اجسام کو ہلاک کرتے ہیں۔بیسوفلس، ہسٹیمائن(histamine)، سروٹونینSerotonin، ہیپارین(heparin) وغیرہ کا افراز کرتے ہیں جو سوزش تعاملات میں کام آتے ہیں۔ ایسنوفیلس (2-3%) تعدیہ مزاحم ہوتے ہیں اور الرجی تعاملات وابستہ ہوتے ہیں۔ لمفوسائٹس (20-25%) دو طرح کے ہوتے ہیں 'B' اور 'T' قسم جو کہ جسم کے مامونی رد عمل کے لیے ذمہ دار ہیں۔

پلیٹلیٹس(Platelets) کوتھرومبوسائٹس) (Thrombocytes بھی کہتے ہیں۔ یہ خلوی ٹکڑے ہیں جو میگا کیریوسائٹس) (Megakaryocytes (ہڈیوں کے گودے کے خاص خلیے) سے بنتے ہیں۔ خون میں پلیٹلیٹس کی تعداد 1,500,00-3,500,00 ہوتے ہیں۔پلیٹلیٹس سے کافی اشیا خارج ہوتی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر اشیا خون کوجمانے میں مدد کرتی ہیں۔ اگر ان کی تعداد کم ہوجاتی ہے تو خون صحیح طریقے سے جم نہیں سکتا جس سے جسم سے کافی سارا خون نکل سکتا ہے۔
18.1.3 بلڈ گروپ (Blood Groups)
یوں تو ہر انسان کا خون بظاہر ایک جیسا ہوتا ہے مگر ان میں کچھ پہلوؤں کی بنیاد پر فرق کیا جاتا ہے۔ مختلف طریقوں سے خون کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ اس طرح کے دو گروپ Rh اور ABO ہیں۔
18.3.1 ABO درجہ بندی (ABO Grouping)
یہ گروپنگ خون کے خلیوں (RBCs) میں پائے جانے والے اینٹی جینس (Antigens) کی بنا پرہوتی ہے۔ اینٹی جینس ایسی کیمیائی اشیا ہیں جو مامونی جوابی عمل کو تحریک دیتی ہیں۔ ان اینٹی جینس کو A اور B نام دیے گئے ہیں اسی طرح سے الگ الگ افراد کے پلازمہ (Plasma) میں دو طرح کی اینٹی بوڈیز (Antibodies) (وہ پروٹین جو اینٹی جین کے خلاف بنتے ہیں) پائی جاتی ہیں۔جدول 18.1 میں خون کے چاروں گروپوں A، B، AB اور O میں پائے جانے والے اینٹی جین اور اینٹی باڈی کو دکھایا گیا ہے۔شاید آپ کو معلوم ہوگا کہ خون چڑھانے کے دوران ہر قسم کا خون استعمال نہیں کیا جا سکتا ہے۔ خون کا عطیہ دینے والے شخص کے خون کالینے والے کے خون سے اچھی طرح ملان کیا جاتا ہے۔ تاکہ RBCs تباہ نہ ہو جائیں اور کوئی سنگین مسئلہ نہ پیدا ہو۔
مندرجہ ذیل جدول سے پتا چلتا ہے کہ 'O' گروپ خون کسی بھی بلڈ گروپ والے شخص کو چڑھایا جاسکتا ہے۔ اس لیے بلڈ گروپ 'O' والے افراد ہمہ گیر معطی رو (Universal donor) کہلاتے ہیں۔ اور بلڈ گروپ 'AB' والے افرادکو کسی طرح کا بھی خون چڑھایا جاسکتا ہے اس لیے انھیں ہمہ گیر وصول کنندہ (Universal recipients) کہتے ہیں۔
جدول 18.1

18.1.3.2 Rh گروپنگ (Rh Grouping)
ایک اور اینٹی جین ہے جسے Rhاینٹی جین کہتے ہیں ایسا ہی جیساکہ ریسس) (Rhesus بندر کی RBCs کی سطح پر پایا جاتا ہے۔ جن افراد کے خون میں یہ اینٹی جین پایا جاتا ہے انھیں Rh+ کہتے ہیں اور جن میں نہیں پایا جاتا انھیں Rh–ve کہتے ہیں۔ اگر ایک Rh–ve شخص کو Rh+ve خون چڑھایا جائے تو اس کے جسم میں اس اینٹی جین کے خلاف اینٹی بوڈیز بنتی ہیں۔ اس لیے خون چڑھانے سے پہلے Rh گروپ کی بھی جانچ ہونی چاہیے۔ Rh عدم ملان کا مشاہدہ اس وقت کیا جا سکتا ہے جب Rh–ve حاملہ عورت کے رحم میں پلنے والے بچہ کا خون Rh+ve ہو۔ پہلے حمل میں بچہ کے Rh اینٹی جین ماں کے Rh – ve خون سے متاثر نہیں ہوتے کیونکہ دونوں کا خون پلیسینٹا کے ذریعہ علاحدہ ہوا ہوتا ہے۔ پر ایسا ممکن ہے کہ پہلے بچہ کے پیدا ہونے کے دوران ماں کے خون کا بچہ کے Rh+ve خون کے ساتھ سامنا ہو اور ماں کے خون میں اینٹی بوڈیز بننی شروع ہو جائیں اور اب اگلے حمل میں بچہ کے خون کے اندر یہ اینٹی بوڈیز داخل ہو کر اس کی RBCs کو تباہ کرسکتی ہیں۔یہ اینٹی بوڈیز یا تو بچہ کو مار سکتی ہیں یا پھر انیمیا(Anaemia) یایرقان (Jaundice) کی وجہ بن سکتی ہیں۔ اس صورت کو اریتھروبلاسٹوسس فیٹالس کہتے ہیں۔ اس سب سے بچنے کے لیے بچے کی پیدائش کے فوراً بعد ماں کواینٹی بوڈیز دی جاتی ہیں۔
18.1.4 خون کا جمنا (Coagulation of Blood)
زخم ہوجانے کے بعد خون نکل کر جم جاتا ہے۔ اس طرح جسم کو خون کا نقصان نہیں ہوتا۔ خون کے جمنے پر لال بھورے رنگ کا ایک تلچھٹ سا بن جاتا ہے جسے تھکّا(Clot) کہتے ہیں۔ یہ کلاٹ (تھکا) دھاگوں کے ایک جال سے بنا ہوتا ہے۔ ان دھاگوں کو فائبرینز (Fibrins) کہتے ہیں جس میں خون کے مردہ اور تباہ شدہ تشکیلی عناصر پھنس جاتے ہیں۔ فائبرینزپلازمہ میںتھرومبین انزائم کے ذریعے غیر فعال فائبرنیوجن کے تبدیل ہونے سے بنتے ہیں۔ تھرومبین خود پروتھرومبین سے بنتے ہیں اس تعامل کے لیے تھرومیوکائنیزانزائم کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ کامپلیکس انزائم متوسط تعاملات کے ایک سلسلے کے نتیجے میں بنتے ہیں جس میں پلازمہ کے اندر غیر فعال حالت میں موجود متعدد عوامل شامل حال رہتے ہیں۔ زخم یا چوٹ لگنے کے صورت میں خون میں موجود پلیٹلیٹس مخصوص عوامل کا افراز کرتے ہیں جو تھکابننے کے عمل کو فعال بنادیتے ہیں۔ زخم کی جگہ پر موجود بافت مخصوص عوامل کا اخراج کرتے ہیں اور یہ بھی تھکا بننے کے عمل کو تحریک دیتے ہیں۔تھکا بننے کے عمل میں کیلشیم آین بہت اہم رول ادا کرتے ہیں۔
18.2 لمف (بافتی سیال) (Lymph [Tissue Fluid])
جب خون بافتوں میں کیپلیریز(Capillaires) سے گزرتا ہے تو پانی اور اس میں حل ہونے والی کچھ اشیا خلیوں کے بیچ کی جگہ کے اندر داخل ہوجاتے ہیں اور بڑے پروٹین اور زیادہ ترتشکیلی عناصر سب خون کی نلیوں میں رہ جاتے ہیں یہ سیال انٹرسٹیٹیل سیال (Interstitial Fluid) کہلاتا ہے۔ اس میں معدنیات کی تقسیم ایسے ہی ہوتی ہے جیسے کہ پلازمہ میں۔مغذیات اور گیسوں (Gases) کا تبادلہ جو کہ خون اور خلیوں کے درمیان اسی سیال کے ذریعہ ہوتا ہے۔ نلیوں (Vessels) کا ایک جال جسے لمفیٹک نظام (Lymphatic System) کہتے ہیں اس سیال کو جمع کر کے بڑی ورید میں داخل کراتا ہے۔ لمفیٹک نظام میں موجود سیال کو لمف کہتے ہیں۔ اس لیے لمف بافت کے سیال کے جیسا ہے فرق اتنا ہے کہ اس میں مغذیات اور گیسیں نہیں ہوتیں۔ لمف ایک بے رنگ سیال ہے جس میں خاص طرح کے لمفوسائیٹس ہوتے ہیں جو کہ جسم کے مومانی جوابی عمل میں کام آتے ہیں۔ لمف مغذیات اور ہارمونس وغیرہ کی بھی نقل وحمل کرتا ہے۔ چربیاں آنتوں کے وِلّی میں موجود لیکٹیلس(Lacteals) کے لمف میں جذب ہوجاتی ہیں۔
18.3 دوران خون کے راستے (Circulatory Pathways)
دوران خون کے پیٹرن دوقسم کے ہوتے ہیں۔ کھلا اور بند۔ کھلا دوران کا نظام آرتھروپوڈس(Arthropods) اورمولسک(Molluscs) میں پایا جاتا ہے جن میں دل کے ذریعہ خون پمپ ہونے کے بعدبڑی نلیوں سے گزرکر کھلی جگہوں اور جسمانی جوف میں آجاتا ہے۔ جنہیں سائنز(Sinuses)کہتے ہیں۔اینالڈس(Annelids)اورکارڈیٹس (Chordates) میں بند دوران خون کا نظام ہوتا ہے جس میں دل سے پمپ ہونے والا خون بند نلیوں کے ایک جال میں ہی دوڑتا ہے۔ یہ نظام زیادہ فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ اسی میں خون کا دوران زیادہ باقاعدگی سے ہوتاہے۔
سبھی فقری(Vertebrates) جانوروں میں عضلاتی خانوں پر مشتمل دل ہوتا ہے۔ مچھلیوں کے دل میں دو خانے ہوتے ہیں جس میں کہ ایک Atrium اور ایک Ventricle ہوتا ہے۔ ایمفیبین (Amphibians) جانداروں کے دل میں تین خانے ہوتے ہیں جس میں دو Atria اور ایک Ventricle ہوتا ہے۔ مگرمچھ، پرندوں اور پستان دار جانوروں کے دل میں چار خانے ہوتے ہیں۔ جن میں دو Atria اور دو Ventricle ہوتے ہیں۔ مچھلیوں کا دل بغیر آکسیجن کا (Deoxygenated) خون پمپ کرتا ہے جسے گلس کے ذریعہOxygenatedکیا جاتا ہے اور جسم کے سارے حصوں کو مہیّا کراتا ہے اور وہاں سے Deoxygenated خون واپس دل تک پہنچتا ہے (ایک دوران)۔ ایمفیبین اور رینگنے والے جانوروں میں بائیں طرف کے Atrium میں Oxygenated خون داخل ہوتا ہے جو کہ گلس یا پھیپھڑوں سے یا پھر جلد سے آتا ہے اور دائیں طرف کے Atrium میں Deoxygenated خون داخل ہوتا ہے جو کہ جسم کے باقی حصوں سے آتا ہے۔ لیکن یہ دونوں طرح کے خون Ventricle میں مل جاتے ہیں جو کہ پھر پمپ کیا جاتا ہے۔ اسے غیر مکمل دوہرا دوران (Incomplete Double Circulation) کہتے ہیں۔ پرندوں اور پستان دارجانوروں میں بائیں طرف کے Atria میں آنے والا خون بائیں طرف کے Ventricle میں داخل ہوتا ہے اور دائیں طرف کے Atrium میں داخل ہونے والا Deoxygenated خون دائیں طرف کے Ventricle میں جاتا ہے۔ اور یہ Ventricles اس خون کو ملائے بغیر پمپ کرتے ہیں اور اس طریقہ کار کو یعنی دوہرا دوران Double Circulation کہتے ہیں۔
18.3.1 انسانوں میں دورانِ خون کا نظام (Human Circulatory System)
انسانوں میں دوران خون کے نظام کو بلڈ ویسکولر نظام بھی کہتے ہیں، اس میں عضلاتی خانوں پر مشتمل دل، خون کی نلیوں کا جال اور خون شامل ہیں۔ دل انسان کے جوف صدر میں دو پھیپھڑوں کے بیچ ذرا سا بائیں جانب پایا جاتا ہے۔ اس کا سائز بند مٹھی کے جتنا ہوتا ہے۔ اس کے باہر دو سطح والی جھلّی ہوتی ہے جس کو پیری کارڈیم (Pericardium) کہتے ہیں۔ اس پیری کارڈیم میں پیری کارڈیل سیال (Pericardial Fluid)بھرا ہوتاہے۔
ہمارے دل میں چار خانے ہوتے ہیں۔ دو تھوڑے سے بڑے ہوتے ہیں جن کو Atria کہتے ہیں اور دو تھوڑے سے چھوٹے ہوتے ہیں جن کو Ventricles کہتے ہیں۔ ایک پتلی عضلاتی دیوار جس کو انٹر اٹریل سیپٹم(inter-atrial septum) کہتے ہیں دائیں اور بائیں جانب کے Atria کو علاحدہ کرتی ہے اور Ventricles کو ایک موٹی سی عضلاتی دیوار جسے انٹر وینٹری کولر سیپٹم (Inter-ventricular Septum) کہتے ہیں علاحدہ کرتی ہے۔ اور ایک ہی جانب کے Ventrides اور Artria کو Atrio-ventricular Septum الگ کرتے ہیں۔ لیکن ان میں سے ہر دیوار میں ایک سوراخ ہوتا ہے جو ایک ہی جانب کے خانوں کو جوڑ دیتا ہے اور دائیں جانب کے Atrium اور Ventricle کے بیچ کے سوراخ پر ایک والو (Valve) ہوتا ہے جو کہتینعضلاتی Flaps یا Cusps کا بنا ہوتا ہے۔ اس کو Tricuspid Valve کہتے ہیں۔ اور بائیں جانب کے Atrium اور Ventricle کے بیچ Bicuspid Valve موجود ہوتا ہے۔ دائیں جانب کے Ventricle جو کہ Pulmonary Artery میں کھلتا ہے اور بائیں جانب کے Ventricle جو کہ Aorta میں کھلتا ہے ان پر Semilunar Valves ہوتے ہیں۔ دل میں پائے جانے والے والو سے خون صرف ایک ہی جانب سے گزر سکتا ہے مطلب Atria سے Ventricles میں اور Artery Ventricles سے Pulmonary یا Aorta میں (شکل 18.2)۔
پورا دل قلبی عضلات سے بنا ہوتا ہے۔ Ventricles کی دیوار Atria کے مقابلے زیادہ موٹی ہوتی ہیں۔ ایک خاص طرح کا قلبی عضلہ جسے Nodal Tissue کہتے ہیں دل میں موجود ہوتا ہے۔ اس Tissue کا ایک چھوٹا سا حصہ دائیں جانب کے Atrium کے دائیں جانب کے اوپر والے کونے پر ہوتا ہے جسے Sino-atrial Node (SAN) کہتے ہیں۔ ایک ایسی ہی کمیت دائیں جانب کے Atrium میں نیچے والے بائیں جانب کے کونے پر ہوتی ہے جسے Atrio-ventricular Node (AVN) کہتے ہیں۔Nodal Fibres کا ایک گٹھا جسے (AV Bundle) Atrioventricular Bundle کہتے ہیں، AVN سے شروع ہو کر Atrio-ventricular Septa سے گزرتا ہے اور Inter Ventricular Septum کے اوپر ظاہر ہوتا ہے اور وہاں سے دائیں اور بائیں گٹھے میں تقسیم ہوتا ہے۔ ان شاخوں سے پورے Ventricles کے اوپر چھوٹے چھوٹے دھاگے نکلتے ہیں جنہیں Purkinje Fibres کہتے ہیں۔ یہ دھاگے بائیں اور دائیں بنڈلز کے ساتھ مل کر Bundle of HIS بناتے ہیں۔ Nodal Musculature میں اپنے آپ ایکشن پوٹینشیل پیدا کرنے کی قابلیت ہوتی ہے۔ نوڈل سسٹم کے الگ الگ حصوں میں ایکشن پوٹینشیل کی فی منٹ تعداد الگ الگ ہوتی ہے۔ ایکشن پوٹینشیل کی سب سے زیادہ تعداد (70-75 فی منٹ) SAN پیدا کرتا ہے اور SAN ہی دل کے اندر باقاعدہ انداز میں ہونے والی انقباضی سرگرمی کو شروع کرنے اور اسے بنائے رکھنے سکڑنے کے لیے ذمہ دار ہے۔ اس لیے اسے Pacemaker کہتے ہیں۔ ہمارا دل ایک منٹ میں اوسطاً 70 سے 75 بار دھڑکتا ہے (اوسطاً 72 دھڑکن فی منٹ)۔

شکل 18.2 انسانی دل کا سیکشن
18.3.2 قلبی دور (Cardiac Cycle)
دل کیسے کام کرتا ہے؟ آئیے دیکھیں۔ دل کے چاروں چیمبر حالت سکون میں ہوتے ہیں۔ اس کو جوائنٹ ڈئسٹول (Joint Diastole) کہتے ہیں۔ اس وقت Bicuspid Valves اور Tricuspid Valves کھلے ہوتے ہیں اور خون Pulmonary Veins اور Vena Cava سے بائیں اور دائیں Atria سے بائیں اور دائیں Ventricles میں داخل ہوتا ہے۔ اس وقت Semilunar Valves بند ہوتے ہیں۔ اب SAN ایک ایکشن پوٹینشیل کو پیدا کرتا ہے جس سے کہ دونوں Atria سکڑ جاتے ہیں۔ اسے Atrial Systole کہتے ہیں۔ اس سے Ventricles میں خون کا بہاؤ تقریباً 30 فی صد بڑھتا ہے۔ یہ ایکشن پوٹینشیل تب AVN اور AV Bundle کے ذریعہ سے وینٹریکل میں پہنچتا ہے۔ جہاں سے Bundle of HIS کے ذریعہ یہ پورے Ventricular عضلہ میں پھیلتا ہے۔ اس سے Ventricle کے عضلات سکڑجاتے ہیں۔ جسے Ventricular Systole بند کہتے ہیں۔ اس کے ساتھ Atrial Diastole ہو جاتا ہے یعنی Atria حالت سکوت میں آجانا ہے تو Ventricular Diastole سے Ventricles میں خون کا دباؤ بڑھ جاتا ہے اور Bicuspid Valves اور Tricuspid بند ہو جاتے ہیں۔ جیسے ہی دباؤ زیادہ بڑھ جاتا ہے، Semilunars Valves کھل جاتے ہیں اور خون Ventricles سے Pulmonary artery اور Aorta میں داخل ہوکر Circulatory Pathways میں چلا جاتا ہے۔ اب Ventricles حالت سکون میںآجاتے ہیں جس سے کہ Semilunar Valves بند ہو جاتے ہیں۔ جیسے ہی Ventricles میں دباؤ اور کم ہوجاتا ہے۔ تو Tricuspid Valves اور Bicuspid کھل جاتے یہ اس وجہ سے کہ اتنی دیر میں Atria میں Veins کے ذریعہ سے خون جمع ہو جاتا ہے۔ اب خون پھر سے Ventricles میں داخل ہوتا ہے اور Atria اور Ventricles ایک ساتھحالت سکوت میں آجاتے ہیں جس کو Joint Diastole کہتے ہیں۔ اب SAN پھر سے Action Potential پیدا کرتا ہے اور اس طرح سے یہ سائیکل چلتی رہتی ہے۔ اسے قلبی دور (Cardiac Cycle) کہتے ہیں اور ایک منٹ میں 72 دور پورے ہوتے ہیں۔ اس سے Cardiac Cycle کی مدت گھٹ کر Seconds 0.8 ہوسکتا ہے۔ اس چکر کے درمیان پر ایک Ventricle لگ بھگ 70 ملی لیٹر خون باہر پھیکتا ہے جسے Stroke Volume کہتے ہیں۔ Stroke Volume کو دل کی شرح (ایک منٹ میں دھڑکن کی تعداد) کے ساتھ ضرب کرنے سے Cardiac Output کا پتا چلتا ہے۔ اس لیے Cardiac Output کو اس طرح سمجھایا جاسکتا ہے کہ ایک منٹ میں ایک Ventricle کے ذریعہ خون کی جتنی مقدار پمپ کی جاتی ہے اسے Cardiac Output کہتے ہیں۔ اور ایک تندرست آدمی میں اوسطاً 5000 ملی لیٹر یا 5 لیٹر خون باہر پمپ ہو جاتا ہے۔ جسم کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ دل کے شرح کے ساتھ ساتھ یہ Stroke Volume کو بھی بدل دیتا ہے جس کے بدلنے سے Cardiac Output میں تبدیل ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک عام آدمی کے مقابلے ایک کھلاڑی کا Cardiac Output بہت زیادہ ہوتا ہے۔
پوری Cardiac Cycle میں دو طرح کی آوازیں پیدا ہوتی ہیں۔ پہلی آوازتب پیدا ہوتی ہے جب Tricuspid Valves اور Bicuspid بند ہو جاتے ہیں اس آواز کو Lub کہتے ہیں۔ دوسری آواز تب آتی ہے جب Semilunar Valves بند ہو جاتے ہیں۔ اس کو Dub کہتے ہیں۔ دونوں طرح کی آوازیں کلینیکل تشخیص کے نقطہ نظر سے بہت اہم ہیں۔
18.3.3 الیکٹرو کارڈیو گراف (Electrocardiograph) (ECG)
الکٹرو کارڈیو گراف ایک مشین ہے جو الیکٹرو کارڈیو گرام (ECG) حاصل کرنے کے کام آتی ہے۔ ECG دل کی کارکردگی کا ایک گراف ہوتا ہے جو کہ پوری قلبی سائیکل کو دکھاتا ہے۔ اس گراف کو حاصل کرنے کے لیے مریض کو 3 برقی تاروں کی مدد سے مشین کے ساتھ جوڑا جاتا ہے جس سے کہ دل کی کار کردگی کا لگاتار مظاہرہ ہوتا ہے۔ اس گراف میں پائی جانے والی ہر اونچائی کو حرف P سے T کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے۔ جو دل کی مخصوص کارکردگی کو بتاتا ہے۔ P لہر Atria کے سکڑنے کی نمائندگی کرتی ہے۔ اسے Depolarisation یا Excitation کہتے ہیں جو دونوں ایٹریا کو سکوڑتا ہے۔ QRS ایک ساتھ Ventricles کی Depolarisation کی نمائندگی کرتے ہیں جس سے کہ Ventricles کا سکڑنا شروع ہوتا ہے۔ Q کے فوراً بعد ہی سکڑنا شروع ہوتا ہے اور جو سسٹول کی شروعات کرتا ہے۔
T ہر Ventricles کے Repolarisation کی نمائندگی کرتی ہے۔ T لہرکے ختم ہوتے ہی Systole بھی اختتام پذیر ہوتا ہے۔
QRS کی تعداد سے ہی دل کی ڈھڑکنوں کو گنا جاسکتا ہے اور فرد کی شرح قلب کا تعین کیا جاسکتا ہے۔ چونکہ ہر فرد کا ECG تقریباً ایک جیسی شکل کا ہوتا ہے۔ اس شکل سے انحراف کا مطلب یہ ہے کہ دل صحیح طریقہ سے کام نہیں کر رہا اس لیے ECG کی طبی اہمیت ہے۔
18.4 دوہرا دوران خون (Double Circulation)

شکل 18.3 ایک معیاری ای سی جی کا تصوری خاکہ
جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے، دائیں وینٹریکل کے ذریعہ پمپ کیا گیا خون پلمونری آرٹری میں داخل ہوتا ہے جبکہ بائیں وینٹریکل سے خون اے اور ٹا میں پمپ کیا جاتا ہے۔ پلمونری آرٹری سے Deoxigenated خون پھیپھڑے میں داخل ہوتا ہے اور پھر یہاں سے Oxigenatedخون پلمونری وین کے ذریعہ بائیں اٹریم میں داخل ہوتا ہے۔ اس دور کو پلمونری دور کہتے ہیں۔ اورٹا سے صاف خون آرٹریز، آرٹیریولز اور کیپیلریز کے جال سے ہوتے ہوئے جسم کے بافتوں میں پہنچتا ہے جہاں سے گندا خون یا ڈی آکسیجینیٹڈ بلڈ وینیولس، وینس اور ویناکیوا کے نظام کے ذریعہ جمع کر کے دائیں اٹریم میں بھیجا جاتا ہے۔ اسے ترتیبی دور (Systemic Circulation) کہتے ہیں (شکل 18.4)۔ ترتیبی دور بافتوں کو تغذیتی جز، آکسیجن اور دوسری ضروری اشیا مہیا کراتا ہے اور ان سے کاربن ڈائی آکسائڈ اور دوسری نقصان دہ اشیا نکال کر جسم کے باہر کرتا ہے۔ ہمارے جسم میں خون کی نلیوں کا ایک خاص کورونری نظام (Coronary System) ہوتا ہے جو خون کوقلبی عضلات میں لانے اور اس سے لے جانے کا کام انجام دیتا ہے۔
18.5 قلبی سرگرمی کی باقاعدگی (Regulation of Cardiac Activity)
دل کی عام کارکردگی میں باطنی طور پر خود باقاعدگیپیدا ہوتی ہے اس لیے اسے خود ترتیب شدہ (Auto Regulated) کہتے ہیں۔ اس کام کو ایک مخصوص عضلہ ’نوڈل بافت‘ (Nodal Tissue) انجام دیتا ہے۔ اس لیے دل کو مایوجینک (Myogenic) کہتے ہیں۔ ایک خاص عصبی مرکز جو کہ میڈولا اوبلنگیٹا (Medulla Oblangata) میں ہوتا ہے دل کی کارکردگی کو بنائے رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ اس عصبی میں خود مختار عصبی نظام (Autonomic Nervous) (System) (ANS) مدد کرتا ہے۔عصبی اشارے جو کہ ANS کے سمپیتھیٹک اعصاب (Sympathetic Nerves) کے ذریعہ سے آتے ہیں۔ دل کی دھڑکنوں کو بڑھا سکتے ہیں اور ساتھ ہی Ventricle کے سکڑنے کی صلاحیتکو مضبوط کرتے ہیں جس کی وجہ سے قلبی آؤٹ پٹ (Cardiac Output) بڑھ جاتا ہے۔ دوسری جانب (Parasympathetic) عصبی اشارے دل کی دھڑکنوں کے تعداد کو کم کرتے ہیں اور ساتھ ہی Action Potential کے گزرنے کی رفتار بھی کم ہوتی ہے جس سے Cardiac Output بھی کم ہو جاتا ہے۔ ایڈرینل میڈولری ہارمون (Adrenal Medullary Hormones) بھی Cardiac Output کو بڑھا سکتے ہیں۔

شکل 18.4 انسان میں دوران خون کا خاکہ
18.6 دورانی نظام کی بیماریاں (Disorders of Circulatry System)
ہائی بلڈ پریشر (High Blood Pressure (Hypertension) :ہائی پرٹینشن کے معنی ہیں خون کا دباؤ جو معمول (Normal) 120/80)سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس پیمائش میں (120mm Hg) پارہ کا 120mm دباؤ سسٹولک پاپمپنگ پریشر اور 80mmHg ڈاسٹولک یاریسٹنگ پریشر ہوتا ہے۔ اگر کسی شخص کا بلڈ پریشر (140/90) یا اس سے زیادہ ہے تو یہ ہائی بلڈ پریشر ظاہر کرتا ہے۔ ہائی بلڈپریشر دل کی بیماری کو ظاہر کرتا ہے جو دماغ اور گردے جیسے اہم اعضاکو بھی متاثر کرتا ہے۔
کورونری آرٹری بیماری (Coronary Artery Disease (CAD) : اس بیماری کو اکثر آرتھیواسکیلیروسس بھی کہتے ہیں جو قلبی عضلات کو خون فراہم کرنے والی نالیوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ کیلشیم ،کولسٹرال، (Cholesteral) اور بافت کے جمع ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ اور اس سے شریانوں کا لیومن تنگ ہوجاتاہے۔
انجائنا (Angina) : اس کو انجائنا پیکٹورس بھی کہتے ہیں علامتاً اس میں سینہ میں ایک شدید قسم کا درد ہوتا ہے جب قلبی عضلات میں پہنچنے والی آکسیجن کی مقدار ناکافی ہوتیہے۔ انجائنا کسی بھی مرد یا عورت کو کسی بھی عمر میں ہوسکتا ہے البتہ یہ ادھیڑ اور زیادہ عمر کے لوگوں میں عام ہے۔ یہ دوران خون کو متاثر کرنے والے حالات کی وجہ سے ہی سے ہوتی ہے۔
ہارٹ فیلور (Heart Failure) : ہارٹ فیلیور سے مراد ہے دل کی وہ کیفیت جب یہ بدن کی ضرورت کے مطابق خون کی سپلائی نہیں کر رہا ہو۔ اس کو بعض اوقات کنجسٹیو ہارٹ فیلیور بھی کہاجاتا ہے۔ کیونکہ پھیپھڑوں میں اس بیماری کی خاص وجہ ہوتی ہے۔ ہارٹ فیلیور بالکل ایسا نہیں ہے جیسا کارڈک اریسٹ (جس میں دل کی حرکت بند ہوجاتی ہے) یا دل کا دورہ (جس میں خون کی ناکافی سپلائی کی وجہ سے قلبی عضلات اچانک خراب ہو جاتے ہیں) ۔
خلاصہ
فقری جانور (Vertebrates) اپنے جسم میں خون کا دوران ضروری اشیا کی نقل و حمل اور نقصان دہ اشیا کو خلیے سے باہر نکالنے کے لیے کرتے ہیں۔ دوسرا سیال لمف (بافت سیال) ہے جومخصوص اشیا کے نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
خون سیالی میٹرکس، پلازمہ اور تشکیلی عناصرسے مل کر بنا ہوتا ہے۔ پلازمہ کے اندر پروٹین، چند الیکٹرولائٹس (Electrolytes) اور دوسری مختلف اشیا موجود ہوتی ہیں۔ RBC (اریتھرو سائٹز)، MBC (لیوکوسائٹز) اور پلیٹیلیٹس (تھرومبوسائٹز) مل کرتشکیلی عناصر بناتے ہیں۔ انسان کے خون کو RBC پر موجود دو سطحی انٹی جینس (Surface antigenes) A اور B کی موجودگی یا غیر موجودگی کی بنیاد پر چار گروپوں میں تقسیم کیا جاتا ہے — A، B، AB اور O گروپ۔ خون کی دوسری گروپ بندی RBC کی سطح پر موجود ایک دوسری انٹی جین (Antigen) کی موجودگی یا غیر موجودگی کی بنا پر ہوتی ہے جسے ریہسس فیکٹر (Rhesus Factor - RH) کہتے ہیں۔
بافتوں میں خلیے کے درمیانی خلاء میں ایک سیال بھرا ہوتا ہے جو خون سے نکلا ہوا ہوتا ہے اسے بافتی سیال کہتے ہیں۔ خون کی نلیوں کا ایک نظام جسے لمفیٹک نظام (Lympathic System) کہتے ہیں بافتی سیال کو ویناکیوا (Vena Cava) تک لے جاتا ہے۔ یہ سیال جسے لمف کہتے ہیں تقریباً خون جیسا ہی ہوتا ہے۔ صرف پروٹین اورتشکیلی عناصر میں فرق ہوتا ہے۔
سبھی فقری جانوروں (Vertebrates) اور کچھغیر فقری جانوروں (Invertebrates) میں بند نظام دوران خون ہوتا ہے۔ ہم لوگوں کا نظام دوران خون ایک عضلاتی پمپنگ عضویعنی ’دل‘ خون کی نلیوں کا جال اور سیال خون سے مل کر بنا ہوتا ہے۔ انسانی دل میں دو اٹریا (Atria) اور دو وینٹریکلز (Ventricles) پائے جاتے ہیں اور ہمارا دل جوف صدر (Thoracic Chamber) میں موجود ہوتا ہے۔ ایک ہی طرف کے اٹریا اور وینٹریکلز ایٹریو۔وینٹریکولشگاف کے ذریعہ جڑے ہوتے ہیں جن میں ٹرائی کسپڈ اور بائی کسپڈ والو بہ ترتیب دائیں اور بائیں جانب پائے جاتے ہیں۔ دایاں اور بایاں وینٹریکلز سیمی لیونر والو کے ذریعہ حسب ترتیب پلمونری آرٹری اور اورٹا میں نکلتا ہے۔ سائنو اٹریل نوڈ (SAN) اٹریو وینٹریکلونوڈ (AVN)۔ اٹریو وینٹریکولر بنڈل (AV Bundle)، دایاں اور بایاں بنڈلس اور پرکنجے ریشہ دل میں ایک مخصوص نوڈل نظام عضلات بناتے ہیں۔ دل کے عضلات خود اشتعال پذیر (Auto-excitable) ہوتے ہیں۔ SAN سب سے زیادہ فی منٹ ایکشن پوٹینشیل سب سے زیادہ پیدا کرتا ہے (70 - 75 فی منٹ) اور اس لیے یہ دل کی کارکردگی کی رفتار کو طے کرتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے پیس میکر (Pacemaker) کہا جاتا ہے۔ ایکشن پوٹینشیل کی وجہ سے پہلے اٹریا اور پھر وینٹریکلز سکڑتے (Systole) ہیں اور پھر ان کے اندر پھیلاؤ (Diastole) پیدا ہوتا ہے۔ سسٹول (Systol) خون پر دباؤ ڈالتا ہے جس سے خون اٹریا سے نکل کر وینٹریکلز، پلمونری آرٹری اور پھر اورٹا میں پہنچتا ہے۔ سسٹول اور ڈایوسسٹول کا یہ ترتیبی عمل دل کے اندر دوری شکل میں دہرایا جاتا ہے جسے کارڈیک سائیکل (Cardiac Cycle) کہتے ہیں۔ ایک صحت مند انسان میں یہ دور ایک منٹ میں 72 بار (72 فی منٹ) ہوتا ہے۔ کارڈیک سائیکل کے دوران ہر وینٹریکل سے تقریباً 70 ملی لیٹر خون پمپ کیا جاتا ہے جسے اسٹروک یا دھڑکن حجم (Beat Volune) کہتے ہیں۔ دل کے ہر وینٹریکل سے فی منٹ پمپ ہونے والے خون کا حجم کارڈیک آؤٹ پٹ (Cardiac Output) کہلاتا ہے اور یہ اسٹروک حجم اور شرح قلب کے حاصل ضرب کے برابر ہوتا ہے (تقریباً 5 لیٹر)۔
ہر کارڈیک سائیکل کے دوران دو مخصوص آوازیں سنی جاسکتی ہیں (لب اور ڈب) جن کا تعلق انٹریو وینٹریکولر والو (ٹرائی کسپڈ اور بائی کسپڈ) اور سیمی لیونر والو کے بند ہونے سے ہے۔ دل کی برقی کارکردگی جسم کے سطح سے الیکٹروکارڈیو گراف کے ذریعہ ریکارڈ کی جاتی ہے جسے الیکٹروکارڈیو گرام (ECG) کہتے ہیں۔یہ کلینیکل اہمیت کا حامل ہے۔
ہم لوگوں کے پاس دوہرا دوران نظام خون ہے جسے پلمونری اور سسٹیمک (Systemic) کہتے ہیں۔ پلمونری دور ڈی آکسیجینیٹڈ خون کے دائیں وینٹریکل کے ذریعہ پمپنگ سے شروع ہوتی ہے جو خون کو پھیپھڑے تک لے جاتی ہے جہاں یہ خون آکسیجینیٹڈ ہو کر بائیں اٹریم میں واپس آتا ہے۔ بایاں اٹریم اس خون کو اورٹا میں پمپ کرتا ہے اور سسٹیمک دور کی شروعات ہوتی ہے۔ اے اورٹا سے ہوتے ہوئے یہ خون پورے جسم میں دوران کرتا ہے۔ جسمانی بافتوں سے پھر ڈی آکسیجنیٹڈ خون (Deoxygenated Blood) وریدوں (Veins) کے ذریعہ جمع کر کے دائیں اٹریم میں آتاہے۔ حالانکہ دل ایک خود اشتعال پذیر عضو ہے لیکن اس کے کاموںمیں اعصاب (Neural) اور ہارمونوں کے ذریعے باقاعدگی پیدا کی جاتی ہے۔
مشق
1۔ خون میں پائے جانے والے تشکیلی عناصر (Formed Elements) کے نام لکھیں اور ان میں سے ہر ایک کا ایک اہم کام بتائیے۔
2۔ پلازمہ پروٹین کی کیا اہمیت ہے۔
3۔ کالم I کا کالم II کا ملان کیجئے۔
کالم I کالم II
(a) ایوسنیوفلز (i) تھکا بننا
(b) آر بی سی (ii) یونیورسل ریسی پینٹ (ہمہ گیر وصول کنندہ )
(c) AB گروپ (iii) انفیکشن کی مدافعت
(d) پلیٹلیٹس (iv) قلب کا سکڑنا
(e) سسٹول (v) گیس ٹرانسپورٹ
4۔ خون کو آپ ایک اتصالی بافت (Connetive Tissue) کیوں سمجھتے ہیں۔
5۔ لمف اور خون میں کیا فرق ہے؟
6۔ دوہرا دوران نظام خون (Double Circulation) سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ اس کی کیا اہمیت ہے؟
7۔ مندرجہ ذیل میں تفریق کیجئے:
(a) خون اور لمف
(b) کھلا اور بند دوران خون کا نظام
(c) سسٹول اور ڈائسٹول
(d) P ۔ لہر اور T ۔ لہر
8۔ فقری جانوروں کے دل کے پیٹرن میں ارتقائی (Evolutonary)تبدیلی کو واضح کیجئے۔
9۔ ہم اپنے دل کو مایوجینک (Myogenic) کیوں کہتے ہیں؟
10۔ سائنوایٹریل نوڈ (SAN) ہمارے دل کا پیس میکر کہلاتا ہے، کیوں؟
11۔ دل کے کام کرنے میں اٹریو وینٹریکولرنوڈ اور اور انٹریووینٹریکولر بنڈل کی کیا اہمیت ہے؟
12۔ کارڈیک سائیکل اور کارڈیک آؤٹ پٹ کی تعریف بیان کیجیے۔
13۔ قلبی آوازوں کی وضاحت کیجیے۔
14۔ ایک معیاری ECG کا خاکہ بنائیے اور اس کے مختلف حصّوں کی وضاحت کیجیے۔