باب 19
اخراجی ماحصلات اور ان کا جسم سے باہر نکلنا
(Exeretory Products and their Elimination)
19.1 انسانی نظام اخراج
19.2 پیشاب کا بننا
19.3 ٹیوبلس کے کام
19.4 مقطر کے ارتکاز کا طریقہ کار
19.5 گردہ کے کام کی باقاعدگی
19.6 مکچوریشن
19.7 اخراج میں دوسرے عضلات کی کارکردگی
19.8 اخراجی نظام کی بیماریاں
حیوانات یا تو تحولی سرگرمیوں کے ذریعے یا بہت زیادہ کھا لینے سے امونیا، یوریا، یورک ایسڈ، کاربن ڈائی آکسائڈ، پانی اور آین مثلاً Na+، K+، Cl– فاسفیٹ، سلفیٹ وغیرہ کی وجہ اکٹھا کرلیتے ہیں۔ ان اشیا کو مکمل یا جزوی طور پر جسم سے باہر نکالنا ضروری ہے۔ اس باب میں مشترک نائٹروجنی فضلہ کو دھیان میں رکھتے ہوئے ان سب چیزوں کو جسم سے نکالنے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ امونیا، یوریا اور یورک ایسڈ نائٹروجنی فضلہ کی اہم شکل ہے جسے حیوانات خارج کرتے ہیں۔ امونیا سب سے زیادہ زہریلا ہوتا ہے جسے نکالنے کے لیے بہت زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب کہ یورک ایسڈ جو سب سے کم زہریلا ہوتا ہے اس کے نکلنے میں کم سے کم پانی کا نقصان ہوتا ہے۔
امونیا کے خارج ہونے کے طریقے کو امونوٹیلزم کہتے ہیں۔ ہڈی بردار مچھلیاں، پانی میں رہنے والے امفیبین اور پانی میں رہنے والے کیڑے امونوٹیلک ہوتے ہیں۔ امونیا جیسا کہ یہ آسانی سے حل پذیر ہوتی ہے۔ عموماً جسم کے سطح کے چاروں طرف نفوذ کے ذریعے خارج ہوتی ہے یا مچھلیوں میں گلپھڑے کی سطح کے ذریعے امونیم آین خارج ہوتا ہے۔ اس کے خارج ہونے میں گردہ کی کوئی اہم حصّہ داری نہیں ہے۔ پانی کے تحفظ کے لیے بری توافق (Terrestrial Adaptation) کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ حیوانات کم سے کم زہریلا نائٹروجنی فضلہ جیسے یوریا اور یورک ایسڈ پیدا کرے۔ پستانیہ، بہت سارے خشکی امفی بینز اور سمندری مچھلیاں زیادہ تر یوریا خارج کرتی ہیں اور اسے یوریوٹیلک حیوانات کہتے ہیں۔ امونیا تحول کے ذریعے پیدا ہوتی ہے جو ان حیوانات کے کلیجہ میں یوریا میں بدل جاتا ہے اور خون میں شامل ہو جاتا ہے جو وہاں چھننے کے بعد گردہ کے ذریعے خارج ہوتا ہے۔ کچھ یوریا حیوانات کے گردے کے میٹرکس میں رہ جاتے ہیں جو ضروری ولوجویت برقرار رکھتا ہے۔ رینگنے والے جانور، پرندے بری اسنیل اور کیڑے نائٹروجنی فضلہ جیسے یورک ایسڈ کم سے کم پانی کے ساتھ پیسٹ کی صورت میں خارج کرتے ہیں اور انھیں یوریکوٹیلک حیوانات کہتے ہیں۔
حیوانات پر نظر ڈالنے کے بعد اس میں کئی طرح کی اخراجی ساخت کو دیکھا جاسکتا ہے۔ زیادہ تر غیر فقری جانوروں میں یہ بناوٹ آسان ٹیوبولر صورت میں ہوتی ہے جب کہ فقری جانوروں میں پیچیدہ ٹیوبولر عضو ہوتا ہے جسے گردے (Kidney) کہتے ہیں۔ کچھ بناوٹ کا تذکرہ یہاں کیا گیا ہے۔ پلیٹی ہیلمینتھس میں پروٹونیفریڈیا یا فلیم خلیے اخراجی ساختیں۔ کچھ انیلیڈز اور سیفیلو کارڈیٹ (امفی آکسس) میں بھی فلیم خلیہ یا پروٹونیفریڈیا کے ذریعہ عمل اخراج ہوتا ہے۔ پروٹونیفریڈیا کا اہم کام برقی اور سیال حجم کو ریگولیٹ کرنا ہے جسے اوسموریگولیشن کہتے ہیں۔ نیفریڈیا کیچوے اور دوسرے انیلیڈز کی ٹیوبولر اخراجی ساخت ہے۔ نیفریڈیا نائٹروجنی فضلہ کو نکالنے میں اور برقی اور سیالی توازن کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ مال پیگین، ٹیوبولز، تل چٹّا کے علاوہ بہت سارے کیڑوں میں اخراجی ساخت ہوتی ہے۔ مال پیگین ٹیوبولر نائٹروجنی فضلہ کو نکالنے میں اور اوسموریگولیشن میں مدد کرتا ہے۔ کرسٹیسنز جیسے جھینگا میں خارج کرنے کا کام انٹینل غدود یا گرین گلینڈ کرتا ہے۔
19.1 انسانی نظام اخراج (Human Excretory System)

شکل 19.1 انسانوں میں بولی نظام
انسانوں میں نظام اخراج ایک جوڑا گردہ، ایک جوڑا یوریٹر، ایک مثانہ اور ایک یوریتھرا سے مل کر بنا ہوتا ہے (شکل 19.1)۔ گردہ بھورے لال رنگ کا اور سیم کے بیج کی شکل کی ساخت ہے جو شکمی جوف کے ظہری اندرونی دیوار کے قریب آخری تھوریسک اور تیسری لمبرورٹیبرا کی درمیانی سطح پر پایا جاتا ہے۔ ایک بالغ آدمی میں ہر گردہ کا اوسط وزن 120-170 گرام، لمبائی 10-12 cm چوڑائی 5-7 cm اور موٹائی 2-3 cm ہوتی ہے گردہ کے اندرونی جوفی سطح کے بیچ کی طرف ایک شگاف ہوتا ہے جسے ہائلم کہتے ہیں جس کے ذریعہ خون کی نلی، یوریٹر اور اعصاب اندر کی طرف جاتا ہے۔ ہائلم کے اندر کی طرف ایک چوڑکی قیف کی شکل کی جگہ ہوتی ہے جسے رینل پیلوِس کہتے ہیںجس میں پایا جانے والا ابھار کیلکس کہلاتا ہے۔ گردہ کے باہری حصّہ میں ایک مضبوط کیپسول ہوتا ہے۔ گردہ کے اندر میں دو حصہ ہوتے ہیں، باہری کارٹیکس اور اندر کے حصہ کو میڈولا کہتے ہیں۔میڈولا تقسیم ہو کر کچھ مخروط کمیت (میڈولری پیرامیڈز بناتا ہے جو آگے بڑھ کر کیلکس سے مل جاتا ہے۔ کارٹیکس میڈولری پیرامیڈ کے درمیان بڑھ کر رینال کالم بناتا ہے جسے برٹینی کا کالم کہتے ہیں (شکل 19.2)۔
ہر ایک گروہ میں تقریباً دس لاکھ پیچیدہ ٹیوبلرساختیں ہوتی ہیں جنھیں نیفران کہتے ہیں (شکل 19.3)، جو عملی اکائی ہے۔ ہر ایک نیفران دو حصوں میں بنٹا ہوتا ہے جو گلومیرولس اور رینال ٹیوبیول کہلاتا ہے۔ گلومیرولس کیپلریز کا ایک گچھا ہے جوایٹریول (Arteriole) کا بنا ہوتا ہے جو خود ہی رینال آرٹری کی پتلی شاخ ہوتا ہے۔ گلومیرولس سے خون رینل شریان (Efferent Arteriole) کے ذریعے جسم کے سبھی حصوں میں لے جایا جاتا ہے۔

شکل 19.2 گردے کیعمودی تراش (خاکہ)
رینل ٹیوبیول کی شروعات ایک دوہری دیوار والے پیالے جیسے ساخت سے ہوتی ہے جسے بومینس کیپسول کہتے ہیں (شکل 19.4)۔ جو گلومیرولس کو ڈھکے ہوتا ہے۔ گلومیرولس اور بومینس کیپسول کو ایک ساتھ مال پیگین باڈی یا رینل کیپسول کہتے ہیں۔ یہ ٹیوبیول آگے بڑھ کر ایک بہت ہی لچھے دار پروکسیمل کا نوولیٹیڈ ٹیوبیول (PCT) کے جال کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اس ٹیوبیول کا دوسرا حصہ ایک بال پن کی شکل کاہینلے لوپ (Henle's Loop) لمب ہوتا ہے جس میں ایک نیچے کی طرف اور ایک اوپر کی طرف جاتا ہوا لمب پایا جاتا ہے۔ اوپر کی طرف بڑھتا ہوا لمب آگے بڑھ کر دوسرا بہت ہی زیادہ مڑا ہوا ٹیوبیول حلقہ میں تبدیل ہو جاتا ہے جسے ڈسٹل کانواؤلیٹیڈ ٹیویببیول (TCT) کہتے ہیں۔ زیادہ تر نیفرانوں کا DCTs سیدھے ایک ٹیوب میں جاکر کھلتا ہے جسے کلیکٹنگ ڈکٹ (Collecting Duct) کہتے ہیں جس میں سے بہت سارے ایک ساتھ جڑ کر کیلائسیز اور میڈولری پیرامیڈ کے ذریعے رینال پیلوس میں کھلتا ہے۔

شکل 19.3 بلڈویسیل کے ساتھ نیفران
نیفران مالی پیگین کارپسل، PCT اور DCT گردہ کے کارٹیکل حلقہ میں پایا جاتا ہے جب کی لوپ آف ہینلے میڈولا کے اندر ہوتا ہے۔ زیادہ تر نیفران میں Loop of Henle بہت ہی چھوٹا ہوتا ہے اور میڈولا میں تھوڑا ہی اندر کی طرف جاپاتا ہے جسے کارٹیکل نیفرانز کہتے ہیں۔ کچھ نیفران میںLoop of Henle بہت بڑا ہوتا ہے اور میڈولا کے اندر تک جاپاتا ہے۔ اس طرح کے نیفران کو جکسٹا میڈولری نیفران کہتے ہیں۔
Efferent Arteriole جو گلومیرولس سے نکلتا ہے، رینال ٹیوبول کے چاروں طرف باریک کیپلیری کا جال بناتا ہے جسے پیرٹیبولر کیپلریز کہتے ہیں۔ اس جال کا ایک چھوٹا سا ویسل Henle's Loop کے برابر دور کر 'U' کی شکل Vasa Recta بناتا ہے۔ کارٹیکل نیفران میں Vasa Recta یا تو نہیں ہوتا ہے یا بہت ہی چھوٹا پایا جاتا ہے۔

شکل 19.4 مالی پیگین کارپسل (رینال کارپسل)
19.2 پیشاب کا بننا (Urine Formation)
پیشاب کی تشکیل میں تین اہم عملیات جڑے ہوتے ہیں۔ جس کا نام گلومیرولر تقطیر، دوبارہ انجذاب اور افراز ہے، نیفران کے الگ الگ حصے میں انجام پاتا ہے۔
پیشاب کی تشکیل کا پہلا قدم خون کا چھننا ہے جسے گلومیرولس کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے اور اسے گلومیرولر تقطیر کہتے ہیں۔ گردہ کے ذریعے ایک منٹ میں اوسطاً 1100-1200 ملی لیٹر خون چھنتا ہے جو خون کا لگ بھگ 1/5 واں حصہ مقرر کرتا ہے جو ایک منٹ میں دل کے ہر ایک وینٹریکل کے ذریعہ باہر نکلتا ہے۔ گلومیرولرکیپلری کے خون کے دباؤ کی وجہ سے تین تہہ میں خون چھنتا ہے، جو گلومیرولر بلڈ ویسل کی ایپی تھیلیم، بومینس کیپسول کی ایپی تھیلیم اور ان دونوں کے درمیان کی جھلّی ہے۔ بومینس کیپسول کا ایپی تھیلیل خلیہ جسے پوڈوسائٹز کہتے ہیں۔ اس قدر پیچیدہ طریقے سے سجا ہوتا ہے کہ پلازما کا تقریباً سبھی ترکیبی اجزا سوائے پروٹین کے بومینس کیپسول کے لیومین میں داخل ہوتا ہے۔ اس لیے اس طریقے کو بالاانجذاب (Ultra Filtration) سمجھا جاتا ہے۔
ایک منٹ میں گردہ کے ذریعہ چھننے والے مقطر کی مقدار کو گلومیرولر فلٹریشن ریٹ (GFR) کہتے ہیں۔ ایک تندرست انسان میں GFR لگ بھگ ایک منٹ میں 125 ملی لیٹر یعنی 180 لیٹر ایک دن میں ہوتا ہے۔ گردہ میں گلومیرولر انجذابی شری کے باقاعدگی کے لیے مکمل طریقہ کار ہوتے ہیں۔ ایک اسی طرح کا اثر آفرین طریقہ کار جکسٹا گلومیرولر اپیریٹس (JGA) ہے۔ JGA ایک خاص اثر پذیر حصہ ہے جو ڈسٹل کنوولینیٹڈ ٹیوبل میں خلیوں کے ترمیم اور ان کے ملنے کی جگہ پر پائے جانے والے آفرینٹ آرٹیریول سے بنتا ہے۔ GFR میں گراوٹ سے JG خلیہ تابکار ہوتا ہے جس سے رینین نکلتا ہے جو خون کے گلومیرولر بہاؤ کو ابھارتا ہے اور اس طرح GFR پھر عام حالت میں آجاتا ہے۔ اگر ایک دن میں بننے والے 180 ملی لیٹر مقطر کی مقدار کا مقابلہ ایک دن میں ہونے والے پیشاب (1.5 لیٹر) سے کیا جائے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلٹریٹ کا لگ بھگ 99 فی صد رینل ٹیوبل کے ذریعے Reabsorb ہو جاتا ہے۔ اس طریقے کو Reabsorption کہتے ہیں۔ اس طرح کا کام یا تو Active یا Passive طریقے سے نیفران کے الگ الگ حصے میں پائی جانے والی ٹیوبلر ایپی تھیلیل خلیہ میں ہوتا ہے جیسے مقطر میں پائی جانے والی چیز جیسے امینوایسڈ، گلوکوز، + Naوغیرہ ایکٹو یا محاصل طریقے سے دوبارہ منجذب ہوتا یہ جب کہ نائٹروجنی اشیا غیر محاصل نقل وحمل کے ذریعہ منجذب ہوتا ہے۔ نیفران کے شروعاتی حصہ میں پانی کا دوبارہ انجذاب غیر محاصل طریقے سے بھی ہوتا ہے (شکل 19.5)۔ پیشاب کی تشکیل میں نالی نما خلیہ چیزیں جیسے + H+ ، Kاور امونیا مقطر میں افراز کرتا ہے۔ پیشاب کی تشکیل میں ٹیوبلر افراز بھی اہم کردار ادا کرتا ہے کیوں کہ یہ جسم کے سیال کے برقی اور ایسڈ بیس توازن کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔
19.3 ٹیوبلز کے کام (Function of the Tubules)
پروکسیمل کنویلیوٹیڈ ٹیوبل کی اندرونی دیوار میں ہر طرف سادہ مکعب نما برش ایپی تھیلیم ہوتا ہے (شکل 19.3) جو دوبارہ انجذاب کے لیے سطح کے رقبہ کو بڑھاتا ہے۔ اس حصے میں لگ بھگ سبھی ضروری غذایت والی خوراک اور 70-80 فی صدی برق پارے اور پانی دوبارہ منجذب کیا جاتا ہے۔ PCT مقطر میں ہائیڈروجن آئن، امونیا اور پوٹاشیم آئن کے خاص افراز اور اس HCO3کے انجذاب کے ذریعے جسم کے سیال کا برقی توازن اور pHکو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔
ہینلیز لوپ (Henle's Loop): دوبارہ انجذاب اس کے بچلے لمب میں سب سے کم ہوتا ہے۔ حالانکہ یہ حصہ میڈولری انٹر اسٹیشیل سیال کی ولوجیت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ Loop of Henle کے گرتے ہوئے لمب میں پانی اندر جاسکتا ہے لیکن زیادہ تر برق پارہ نہیں جاسکتا ہے۔ مقطر جیسے جیسے نیچے جاتا ہے یہ اسے مرتکز کرتا ہے۔ اوپر کی طرف جاتا لمب پانی کو اندر نہیں جانے دیتا ہے لیکن برق پارے کو عاملی یا غیر عاملی طریقہ سے اندر جانے کی اجازت دیتا ہے۔ اس لیے جیسے جیسے مرتکز مقطر اوپر کی طرف جاتا ہے یہ برق پارہ میڈولری سیال میں شامل ہونے کی وجہ سے ہلکا یا غیر مرتکز ہوتا جاتا ہے۔
ڈسنل کنوولیوٹیڈ ٹیوبل (DCT) (Distal Convoluted Tubule): اس حصے میں Na+ اور پانی کا مشروط انجذاب ہوتا ہے۔ DCT بھی امونیا، پوٹاشیم اور ہائیڈروجن آمیز کے خاص افراز اور کے انجذاب میں مدد کرتا ہے تاکہ خون میں سوڈیم، پوٹاشیم توازن اور pH کو برقرار رکھ سکے۔
کلیکٹنگ ڈکٹ (Collecting Duct): یہ لمبا مسامہ گردہ کے کارٹیکس سے بڑھ کر میڈولا کے اندرونی حصہ تک جاتا ہے۔ ایک مرتکز کے پیدا ہونے کے لیے اس حصہ میں پانی کی زیادہ مقدار منجذب ہوتی ہے۔یہ حصہ ولوجیت کو جاری رکھنے کے لیے میڈولری انٹراسٹیشیم میں کم مقدار میں یوریا جانے دیتا ہے۔ یہ H+ اور K+ آئنسز کے خاص افراز کے ذریعے خون کا آئنک توازن اور pH کو برقرار رکھنے میں بھی مدد کرتا ہے (شکل 19.5)۔

شکل 19.5 نیفران کے مختلف حصّوں میں اہم اشیاء کا دوبارہ انجذاب اور افراز (تیرکا نشان اشیاء /مادّہ کے حرکت کے رُخ کو بتاتا ہے)
19.4 مقطر کے ارتکاز کا طریقہ کار
(Mechanism of Concentration of the Filtrate)
پستانیہ میں ایک مرتکز پیشاب پیدا کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اس میں ہینلیز لوپ اور ویسا ریکٹا کا ایک اہم کردار ہوتا ہے۔ ہینلیز لوپ کے دونوں لمب میں مقطر الٹے رخ میں بہتا ہے اور اس طرح مخالف لہر پیدا ہوتی ہے۔ ویساریکٹا کے دونوں لمبس کے ذریعے بھی خون کا بہاؤ مخالف سمت میں ہوتا ہے۔ ہینلیزلوپ اور ویساریکٹاکے درمیان کی نزدیکی اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی مخالف لہر اندرونی میڈولری انٹراسٹیشیم کی طرف بڑھتی ہوئی ولوجیت، کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے، یعنی کارٹیکس میں 300 mOsm/L سے اندرونی میڈولا میں لگ بھگ 1200 mOsm/L تک۔ یہ گریڈینٹ NaCl اور یوریا کی وجہ سے ہوتا ہے۔ NaCl کا نقل و حمل ہینلیز لوپ کے بڑھتے ہوئے لمب کے ذریعے ہوتا ہے جو تبادلہ کے ذریعہ ویساریکٹا کے گرتے ہوئے لمب میں چلا جاتا ہے۔ پھر NaCl ویساریکٹا کے چڑھتے ہوئے حصے کے ذریعے انٹراسٹیشیم میں واپس چلا جاتا ہے۔ اسی طرح یوریا کی تھوڑی مقدار ہینلیز لوپ کے چڑھتے ہوئے پتلے حصے میں داخل ہوتی ہے جو کلیکٹینک ٹیوبل کے ذریعے انٹراسٹیشیم میں واپس چلی جاتی ہے۔ اوپر بتائی گئی ساری چیزیوں کا نقل و حمل ہینلیز لوپ اور ویساریکٹا کے خاص سجاوٹ کے ذریعے ہوتا ہے جسے کاوئنٹر کرینٹ میکانزم کہتے ہیں (شکل 19.6)۔ یہ طریقہ کار میڈولری انٹراسٹیشیم میں ارتکاز ڈھلان کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ اس طرح کی انٹراسٹیشیل ڈھلان کی وجہ سے پانی Collecting Tubule سے آسانی سے آتا جاتا رہتا ہے جس کی وجہ سے مقطر (پیشاب) مرتکز ہوتا ہے (شکل 19.6)۔ انسانی گردہ شروع میں بننے والے مقطر سے چارگنا زیادہ مرتکز پیشاب پیدا کرتا ہے۔ بے شک یہ پانی تحفّظ کرنے کا ایک طریقہ کار ہے۔

شکل 19.6 نیفران اور ویساریکٹا میں مخالف لیر طریقہ کار کو دکھاتا خاکہ
19.5 گردہ کے کام کی باقاعدگی (Regulation of Kidney Function)
گردہ کے کام کو ہارمونل فیڈبیک طریقہ کار کے ذریعہ بخوبی مانیٹر اور ریگولیٹ کیا جاسکتا ہے جس میں ہائی پوتھیلیمس، JGA اور کچھ حد تک دل حصّہ لیتا ہے۔
جسم میں موجود اوسمورریسیپٹر خون کی مقدار یا جسم کے سیال کی مقدار اور آئنک ارتکاز میں تبدیلی سے تابکار ہوتا ہے۔ جس میں بہت زیادہ سیال کی کمی ہونے پر یہ ریسیپٹر تابکار ہوتا ہے جو ہائی پوتھیلیمس کو ابھارتا ہے جس کی وجہ سے نیوروہائی وفائسس سے نکلنے والا اینٹی ڈایوریٹک ہارمون (ADH) یا ویسوپریسن خارج ہوتا ہے۔ ADH ٹیوبل کے آخری حصے سے پانی کے انجذاب کو تیز کرتا ہے جس کی وجہ سے ڈایوریسس نہیں ہوتا ہے۔ جسم کے سیال کی مقدار بڑھنے پر اوسمورسیپئر نہیں کام کرنا بند کر دیتا ہے اور ADH کا نکلنا بھی کم ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے فیڈبیک کی مقدار مکمل ہو جاتی ہے۔ ویسوپریسن (ADH) کے خون کی نلی پر کھینچاؤ کی وجہ سے اس کا اثر گردہ کے کام پر بھی پڑسکتا ہے۔ اس کی وجہ سے بلڈپریشر بڑھتا ہے جس کے بنا پر گلومیرولر خون کے بہاؤ اور اس لیے GFR میں اضافہ ہوتا ہے۔
JGA ایک بہت ہی پیچیدہ باقاعدگی کردار ادا کرتا ہے۔ گلومیرولسر خون کے بہا یا گلومیرولر خونی تناؤ یا GFR میں کمی سے JG خلیہ تابکار ہوتا ہے جس کی وجہ سے رینین نکلتا ہے جو خون میں انجیوٹینسینوجین کو انجیوٹینسین I اور پھر انجیوٹینسین II میں بدل دیتا ہے۔ انجیوٹینسین II ایک طاقتور ویسوکنٹرکٹر ہونے کی وجہ سے گلومیرولر خونی تناؤ اور GFR کو بڑھتا ہے۔ انجیوٹینسین II بھی اڈرینل کارٹیکس کو تابکار کرتا ہے جس کی وجہ سے الڈواسٹیرون نکلتا ہے۔ اس کی وجہ سے ٹیوبل کے اندر کے حصے سے پانی اور Na+ کا انجذاب ہوتا ہے جس کی وجہ سے خونی تناؤ اور GFR میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اس مشکل طریقے کار کو عموماً رینین انجیوٹینسین طریقۂ کار کہتے ہیں۔
دل کے اٹریا کے خونی بہاؤ میں اضافہ ہونے سے اٹریل نیٹری یوریٹک فیکٹر(ANF) نکلتا ہے۔ ANF کی وجہ سے ویسوڈائی لیشن (خون کی نلی کا پھیلنا) ہوتا ہے اور خونی دباؤ میں کمی آتی ہے۔ اس لیے ANF طریقے کار کا کام رینین انجیوٹینسین کو قابو میں رکھنا ہے۔
19.6 مکچوریشن (Micturition)
نیفران کے ذریعے بنا ہوا پیشاب آخر میں پیشاب کی تھیلی میں آتا ہے جہاں یہ تب تک جمع رہتا ہے جب تک کہ مرکزی نظامِ اعصاب (CNS) کوئی رضاکارانہ اشارہ نہ دے۔ اس اشارہ کی شروعات پیشاب کی تھیلی میں کھینچاؤ سے ہوتی ہے جب یہ پیشاب سے بھرا ہوتا ہے۔ جس کے جواب میں تھیلے کی دیوار پر پائے جانے والا اسٹریچ ریسیپٹر CNS کو اشارہ بھیجتا ہے۔ CNS پھر خبر دیتا ہے جس کی وجہ سے یوریتھرل اسفنکٹر کے پھیلنے کے ساتھ ساتھ تھیلی کے چکنے عضلہ میں کھینچاؤ شروع ہوتا ہے اور پھر پیشاب باہر نکلتا ہے۔ پیشاب کے باہر نکلنے کے طریقے کو مکچوریشن کہتے ہیں اور جس اعصابی طریقے سے ہوتا ہے اسے مکچوریشن ریفلیکس کہتے ہیں۔ ایک بالغ آدمی اوسطاً ایک دن میں 1 سے 1.5 لیٹر پیشاب خارج کرتا ہے۔ پیشاب کا رنگ ہلکا پیلا جو پانی جیسا سیال ہے جس کا pH تھوڑا ایسڈک (pH - 6.0) ہوتا ہے اور اس میں ایک مخصوص بو ہوتی ہے۔ اوسطاً ایک دن میں 25 سے 30 گرام یوریا باہر خارج ہوتا ہے۔ بہت ساری حالتوں کا اثر پیشاب کے خاصیت پر پڑتا ہے۔ پیشاب کے تجزیہ سے بہت سارے تحولی بیماریاں اور گردہ کے خرابی کو جاننے میں مدد ملتی ہے۔ مثال کے طور پر پیشاب میں (گلائی کوسوریا) گلوکوز اور کیٹون باڈیز (کیٹونیوریا کا پایا جانا شگر کی بیماری کو بتاتا ہے۔
19.7 دوسرے عضلات کا اخراج میں کردار (Role of other Organs in Excretion)
گردہ کے علاوہ پھیپھڑا، لیور اور جلد بھی خارج ہونے والی چیزوں کو نکالنے میں مدد کرتا ہے۔ ہمارا پھیپھڑا زیادہ مقدار میں CO2 (لگ بھگ 200ملی لیٹر فی منٹ) اور پانی کی اہم مقدار بھی خارج کرتا ہے۔ جگر ہمارے جسم کا سب سے بڑا غدود بائل والے مادے مثلاً بیلی ریوبن، بیلی ورڈن، کالسیٹرول ٹوٹے ہوئے اسٹیرائڈ ہارمونز، وٹامنز اور دوائیں خارج کرتا ہے۔ ان سے اکثر مادّے بالآخر فضلے کے ساتھ باہر آجاتے ہیں۔
جلد میں پائے جانے والے Sweat اور Sebaceous Glands اپنے افراز کی وجہ سے کچھ چیزیں نکال سکتی ہے۔ پسینا Sweat Gland سے پیدا ہوتا ہے جو پانی کی طرح کا سیال ہوتا ہے جس میں NaCl، کم مقدار میں یوریا، لیکٹک ایسڈ وغیر پایا جاتا ہے۔ پسینا کا پہلا کام جسم کی سطح کو ٹھنڈا رکھنا ہے۔ یہ کچھ چیزوں کو ہٹانے میں بھی کام آتا ہے۔ جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے Sebaceous Gland سیبیم کے ذریعے کچھ چیزیں جسے اسٹیرولس، ہائڈروکاربن اور موم کو نکالتا ہے۔ یہ افراز جلد کے لیے ایک حفاظتی آیلی خول فراہم کرتا ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ لعاب کے ذریعے معمولی تعداد میں نائٹروجن والے مادّے بھی خارج کئے جاتے ہیں؟
19.8 اخراجی نظام کی بیماریاں(Disorders of the Excretory System)
گردہ کے خرابی کی وجہ سے خون میں یوریا جمع ہو جاتا ہے جسے یوریمیا کہتے ہیں جو بہت ہی نقصان دہ ہوتا ہے۔ اس طرح کے مریض سے یوریا کو نکالا جاسکتا ہے، اس طریقہ کو ہیموڈائی لائسس کہتے ہیں۔ مناسب آرٹری سے خون چھن کر Dialysing Unit میں جاتا ہے جہاں پہلے ہی Anticoagulant جیسے Heparin اس میں رکھ دیتے ہیں۔ اس اکائی میں ایک مڑی ہوئی سیلوفین ہوتا ہے جس کے چاروں طرف Dialysing Fluid ہوتا ہے جس کا کمپوزیشن بالکل پلازمہ ہی کی طرح ہوتا ہے۔ سوائے نائٹروجنی فضلہ کو چھوڑ کر۔ ارتکازی ڈھلان کی وجہ سے اس نلی کے سورا دار سیلوفین جھلّی کے ذریعے سالموں کا آنا جانا ہوتا ہے۔ چونکہ نائٹروجنی فصلہ ڈائلائسنگ سیال میں نہیں ہوتا ہے اس لیے یہ چیز آرام سے باہر آجاتی ہے اور خون صاف ہو جاتا ہے۔ اس میں Anti-heparin ڈالنے کے بعد پھر یہ صاف خون رگ کے ذریعے جسم میں واپس چلا جاتا ہے۔ یہ طریقہ دنیا بھر میں ہزاروں یوریمک مریضوں کے لیے تحفہ ہے۔
رینل کی ناکامی کو صحیح کرنے کے لیے بس گردہ کو بدلنا ہی ایک علاج ہے۔ منتقلی میں گردہ دینے والے بہتر یہ ہے کہ اس کا کوئی نزدیکی رشتے دار ہو تاکہ گردہ حاصل کرنے والے کے جسم کا حفاظتی نظام اسے واپس نہ کرے یا اس کا امکان کم ہو جائے۔ جدید کلینیکل طریقہ اس مشکل تکنیک کی کامیابی کی شرح بڑھاچکا ہے۔
رینل کیلولائی: پتھری یا نہ گھلنے والے نمکیات کا پتھر (مثلاً آگزیلیٹ وغیرہ) گردے کے اندر بن جاتے ہیں۔
گلومیریولونیفرائٹس : گردے کے گلومیریولس میں انفیکشن ۔