Skip to content


باب 20

نقل و حرکت

(Locomotion and Movement)

20.1 حرکات کی اقسام

20.2 عضلے

20.3 ڈھانچے (کالبدن) کا نظام

20.4 جوڑ

20.5 انسان میں عضلاتی اور کالبدنی نظام کی کچھ اہم بیماریاں

نقل وحرکت جانداروں کی اہم خاصیت ہے۔جانور اور پودے کی حرکات میں بڑی وسعت ہے۔ یک خلوی عضویوں جیسے امیبا میں پروٹو پلازم کی اسٹریمنگ، حرکت کی سب سے آسان مثال ہے۔ کئی عضویے اپنے سیلیا فلا جیلا اور ٹنٹیکلز (Tentacles) کے ذریعے چلتے ہیں۔ انسان اپنے جبڑے، پلکیں، زبان وغیرہ ہلاتے ہیں۔ کچھ حرکات ایسی ہیں جن کی وجہ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں۔ ایسی ارادی حرکات کو لوکوموشن کہتے ہیں۔ چہل قدمی، دوڑنا، چڑھنا، اڑنا، تیرنا کچھ ایسی نقلی حرکات کی شکلیں ہیں۔ لوکوموٹری حرکات ضروری نہیں ہے کہ وہ دوسری اقسام کی حرکات پر اثر انداز ہوں۔ مثلاً پیرامیسیم کے سیلیا غذا کی حرکات کو سائیٹو فیرنگس کے ذریعے انجام دیتے ہیں اور لوکوموشن میں بھی کام آتے ہیں۔ ہائیڈرا اپنے ٹینکلز کا استعمال اپنے شکار کو پکڑنے اور لوکوموشن میں بھی کرتا ہے۔ ہم اپنے اعضاء و جوارح کا استعمال اٹھنے بیٹھنے کے لیے اور چلنے کے لیے بھی کرتے ہیں۔ مندرجہ بالا مشاہدات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حرکات اور لوکوموشن کا مطالعہ الگ الگ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ہم دونوں کو یہ کہہ کر جوڑ سکتے ہیں کہ تمام لوکوموشن حرکات ہیں لیکن تمام حرکات لوکوموشن نہیں ہیں۔    

جانوروں کے لوکوموشن کے طریقے، حالات کے تقاضے اور ان کے محل وقوع کے حساب سے مختلف ہوتے ہیں۔ تاہم ،عموماً لوکوموشن غذا، سکونت ساتھی، نسل کی افزائش کے لیے موزوں جگہ موافق موسمیاتی حالات یا دشمن سے حفاظت کے لیے کیا جاتا ہے۔    

20.1 حرکات کی اقسام (Types of Movement)     

انسانی جسم کے خلیے تین طرح کی حرکات کا اظہار کرتے ہیں: امیبائیڈ (Amoeboid)، سیلیری (Ciliary) اور عضلاتی۔    

ہمارے جسم کے کچھ مختص خلیے خون کے میکرو فیجیز (Macrophages) اور لیوکوسائٹ، امیبائیڈ نقل کرتے ہیں جو پروٹو پلازم میں اسٹریمنگ (جیسے امیبا میں) کی وجہ سے سوڈوپوڈیا (Pseudopodia) بننے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ خلوی ڈھانچے کے عنصر جیسے مائیکرو فلامنسٹز میں بھی امیبائیڈ نقل پائی جاتی ہے۔    

ہمارے اندرونی نلکی دار عضویے جن میں سیلیٹڈ ایپی تھیلیم کا استر ہے، سیلیری نقل وحرکت کرتے ہیں۔ سانس نلی میں سیلیا ارتباطی (Coordinated) حرکات کرتی ہیں جو ہمیں گرد اور دوسرے بیرونی مادے جو ہم سانس کے ساتھ اندر لیتے ہیں۔ باہر نکالنے میں مدد کرتے ہیں۔ مادہ تولیدی نلی میں بیضے کی حرکات بھی سیلیری حرکات کی وجہ سے ممکن ہو پاتی ہیں۔    

ہمارے بازو، ٹانگیں، جبڑے، زبان وغیرہ کو عضلاتی (Muscular) حرکات درکار ہوتی ہیں۔ کثیر خلوی عضویے اور انسانی عضلات کی لچک دار صلاحیت کو لوکوموشن اور دوسری حرکات کے لئے بہت موثر طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ لوکوموشن کے لیے عضلاتی ڈھانچے اور اعصابی نظام میں باہمی ارتباط کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس بات میں آپ عضویوں کی اقسام ان کی ساخت، اور ڈھانچی نظام کے اہم پہلوئوں کے بارے میں مطالعہ کریں گے۔    

20.2 عضلات (Muscle)     

عضلے، میزو ڈرم سے نکلے ہوئے مختص بافت ہیں۔ بالغ انسان کے جسم کے وزن کا تقریباً 40-50 فیصدی وزن عضلوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ برانگیختگی (Excitability)، انقباض، لچکیلا پن اور ایلاسٹی سٹی عضلات کی کچھ اہم خصوصیات ہیں۔ ان کی درجہ بندی کا انحصار مختلف پیمانوں پر ہوتا ہے۔ جیسے وقوع، شباہت اور افعال کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت۔ تین طرح کے عضلات پہچانے گیے ہیں۔(i)     ڈھانچی (ii)     نظام انہضامی اور (iii) قلبی عضلات۔    

ڈھانچی عضلات جسم کے ڈھانچی نظام سے منسلک ہیں۔ خودربین سے یہ دھاری دار (Striped) نظر آتے ہیں لہٰذا ان کو دھاری دار (Striated) عضلات کہتے ہیں۔ چونکہ ان کے فعل اعصابی نظام کے قابو میں رہتے ہیں۔ اس لیے ان کو ارادی (Voluntary) عضلات بھی کہتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ لوکوموٹری افعال انجام دیتے ہیں اور جسم میں پوسچر کے بدلاؤ سے تعلق رکھتے ہیں۔    

نظام انہضامی عضلات جسم کے اندرونی کھوکھلے عضوؤں کی اندرونی دیوار کے حصے ہیں جیسے کھانے کی نلی اور تولیدی نلی وغیرہ۔ ان میں دھاریاں نہیں ہوتیں بلکہ ہموار ہوتی ہیں لہٰذا ان کو ہموار عضلات بھی کہتے ہیں۔ (Non-striated Smooth) یہ اعصابی کنٹرول سے آزاد ہیں اس لیے ان کو غیر ارادی (Involuntary) عضلات بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کھانے کی نلی میں غذا کو آگے دھکا دینے اور تولیدی نلی میں زواجوں کی حرکت میں مدد بہم پہنچاتے ہیں۔    

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے قلبی اعضلات قلب کے عضلات ہیں۔ ان عضلات کے خلئے کئی شاخوں میں منقسم ہو کر مل جاتے ہیں۔ شباہت کی بناء پر یہ دھاری دار عضلات ہوتے ہیں۔ چونکہ اعصابی نظام کا قابو ان پر نہیں ہوتا لہٰذا یہ غیر ارادی ہوتے ہیں۔    


1st

شکل 20.1     عضلات کا کراس سیکشن عضلی بنڈل اور عضلی ریشہ دکھاتے ہوئے


اب ذرا ڈھانچی (کالبدی) عضلات کا تفصیلی مطالعہ کریں تاکہ ہم ان کی ساخت اور پھیلنے اور سکڑنے کی قابلیت کو سمجھ سکیں۔ ہر ایک منظم ڈھانچی عضلاء کئی عضلائی بنڈلز پر مشتمل ہوتا ہے، جو ایک کولیجن سے بنی ہوئی اتصالی بافت کے دبیز غلاف سے ڈھکا رہتا ہے۔ اس غلاف کو فاسیا (Fascia) کہتے ہیں۔ ہر عضلی بنڈل میں عضلی ریشے ہوتے ہیں (شکل 20.1)۔ ہر عضلی ریشہ کے اوپر پلازما جھلی ہوتی ہے جسے سارکولیما (Sarcolema) یا لحم غلاف کہتے ہیں جو سارکو پلازم کو اپنے     احاطے میں رکھتا ہے۔ ہر ریشہ میں کئی مرکزے ہوتے ہیں۔ ہر اینڈو پلازمک ریٹی کلم یعنی سارکو پلازم میں کیلشیم آئنز جمع رہتے ہیں عضلی ریشے کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ سارکو پلازم میں کئی متوازی فلامنٹ ہوتے ہیں جنہیں ماتو فلامنٹز یا مایو فائبرلز کہتے ہیں۔ ہر مایوفائبرل میں یکے بعد دیگر ے (Alternate) تاریک اور روشن بینڈ موجود ہوتے ہیں۔ ما یو فائبرل کے تفصیلی مطالعہ نے ثابت کیا ہے کہ ان کی دھاری دار شباہت دو اہم پروٹین۔ ایکٹین اور مایوسین کی ترتیب کی وجہ سے ہوتی ہے۔ روشن بینڈ میں ایکٹین ہوتے ہیں اور 'I' بینڈ یا آئسوٹرایک بینڈ کہلاتے ہیں جبکہ تاریک بینڈ 'A' یا اینائسوٹرایک بینڈ کہلاتے ہیں اور ان میں مایوسین پروٹین ہوتے ہیں۔ دونوں پروٹینز استوانی ساخت کے اور ایک دوسرے کے متوازی مرتب    ہوتے ہیں، مزید یہ کہ دونوں مایو فائبرل کے طول البلدی محور پر ہوتے ہیں ایکن فلامنٹز مایوسین کے مقابلے میں مہین ہوتے ہیں لہٰذا بالترتیب

2nd

شکل 20.2      (i) عضلات کی اناٹمی، سارکومیئر کو دکھاتے ہوئے     (ii) سارکو میئر کی لائن ڈائگرام


مہین اور لوٹے فلامنٹز کہلاتے ہیں ہر 'I' بینڈ کے وسط میں ایک لچیلہ فائبر جو 'Z' لائن کہلاتا ہے ہوتا ہے جو 'I' بینڈ کو منقسم کرتا ہے مہین فلامنٹ 'Z' لائن سے مضبوطی سے جڑا رہتا ہے۔ 'A' بینڈ میں موجود موٹے فلامنٹز بھی وسط میں ایک دوسرے سے ریشی جھلی کے ذریعے جڑے رہتے ہیں اور اسے 'M' لائن کہتے ہیں۔ 'A' اور 'I' بینڈز مایوفائبرل میں لمبائی سے یکے بعد دیگرے ترتیب شدہ رہتے ہیں۔ مایو فائبرل کا وہ حصہ جو دو لگاتار 'Z' لائن کے وسط میں ہوتا ہے سکڑنے کی صلاحیت کا فعالی اکائی ہوتا ہے اور سارکو میئر کہلاتا ہے (شکل 20.2)۔ آرام کی حالت میں موٹے فلامنٹز کے دونوں طرف موجود مہین فلامنٹز کے سرے موٹے فلامنٹز کے سروں پر قدرے چڑھے رہتے ہیں اور موٹے فلامنٹز کے وسطی حصے کو چھوڑ ریتے ہیں۔ موٹے فلامنٹز کا یہ درمیانی حصہ جو مہین فلامنٹ پر نہیں چڑھا رہتا 'H' زون کہلاتا ہے۔    

3rd

شکل 20.3 (a)     ایک ایکئیں (موٹا) فلامینٹ (b)     مایوسین مونومر (میرومایوسین)

20.2.1 انقباضی پروٹین کی ساخت (Structure of Contractile Proteins)    

ہر ایکٹن (مہین) فلامنٹ دو (دھاگے دار) 'F' ایکٹن پر مشتمل ہوتا ہے جو ایک دوہرا (Helix) بناتے ہیں اور ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے رہتے ہیں۔ ہر 'F' ایکٹن انفرادی 'G' (گلوبیولر) ایکٹن کا کثیر سالمی مرکب (Polymer) ہوتا ہے۔ ہر 'F' ایکٹن کی پوری لمبائی میں دوسرے پروٹین ٹروپو مایوسین کے دو دھاگے لگے رہتے ہیں۔ ٹروپو مایوسین پر ترتیب دار وقفے سے ایک پیچیدہ پروٹین ٹروپونین بکھرا رہتا ہے۔ آ رام کی حالت میں ٹروپونین کی ایک سب یونٹ ایکٹن پر موجود مایوسین کے لیے ایکٹو بائنڈنگ سائٹ کی نقاب پوشی کرتا ہے۔    

ہر مایوسین فلامنٹ (موٹا) بھی پروٹین کا زنجیرہ (Polymer) ہے۔ کئی انفرادی پروٹین میرومایوسین مل کر ایک موٹے فلامنٹ بناتے ہیں (شکل 20.3)۔ ہر میرومایوسین کے دو اہم حصے ہیں؟ ایک گلوبیولر سرا، جو چھوٹے بازو کے ہمراہ اور ایک دُم۔ پہلا حصہ وزنی میرومایوسین (HMM) اور دوسرا ہلکا میرومایوسین (LMM)۔ مایوسین کے زنجیرے سے ایک زوایے کے ساتھ اور ترتیب دار پر HMM باہر کی جانب ابھرے رہتے ہیں۔ ان کو کراس بازو کہتے ہیں گلوبیولر سرا ایکٹو اے ٹی خامرہ ہے اور یہاں اے ٹی پی جڑتا ہے اورقریب میں ایکٹن کی فعالی جگہ ہے۔    

20.2.2 عضلات کے انقباض (سکڑنا) کا میکنزم (Mechanism of Muscle Contrction)    

عضلی انقباض کا میکنزم، سرکنے والے فلامنٹ کے نظریے سے بہت آسانی سے سمجھایا جاسکتا ہے۔ اس کی رو سے عضلی ریشے کا سکڑنا مہین فلامنٹ پر سرکنے سے ممکن ہو پاتا ہے۔ عضلات کے سکڑنے کی ابتداء مرکزی اعصابی نظام (Central Nervous System) کے موٹر عصبے کے ذریعے بھیجے گئے اشاروں سے ہوتی ہے۔ عضلی ریشے سے جڑا ہوا موٹر عصبہ موٹر یونٹ کہلاتا ہے۔ عضلی ریشے کا سارکولیما اور موٹر عصبے کے درمیان جنکشن نیور مسکولر جنکشن یا موٹر اینڈ بلیٹ کہلاتا ہے۔ جب عصبی اشارہ (Neural Signal) اس جنکشن پر پہنچتا ہے تو یہ ایک نیوروٹرانسمیٹر (Neurotrans mitter) اسٹائل کولین خارج کرتا ہے جو سارکولیما میں ایک ایکشن پوٹینشیل (Action Potential) فعل باالقوۃ پیدا کرتا ہے۔ یہ عضلی ریشے میں پھیلتا ہے اور کیلشیم آمیز کوسارکو پلازم میں خارج کرتا ہے۔ کیلشیم ++Ca کی مقدار میں اضافے کی وجہ سے یہ ایکٹین فلامنٹ میں موجود ٹروپونین کی سب یونٹ سے چپک جاتے ہیں اور ایکٹو

4th

شکل20.4     کراس بریج بننے کے مراحل، سرکا گھمائو اور کراس بریج کا ٹوٹنا

سائٹ کو مایوسین سے بچانے والے نقاب کو ہٹا دیتا ہے جو اے ٹی پی ہائیڈولیسس کے ذریعے پیدا ہونے والی     توانائی کو استعمال کرتا ہے۔ مایوسین کا سرا اب ایکٹن کے برھنہ ایکٹوسائٹ سے جڑ جاتا ہے اور کراس بریج (Cross Bridge) بناتا ہے (شکل 20.4)۔ یہ جڑے ہوئے ایکٹن فلامنٹ کو 'A' بینڈ کے وسط میں کھینچتا ہے۔ 'Z' لائنیز جو ان ایکٹن فلامنٹر سے جڑی رہتی ہیں وہ بھی اندر کی جانب کھینچتی ہیں  نتیجتاً سارکو میٹر سکڑکر چھوٹا ہو جاتا ہے۔ ان اقدام سے صاف ظاہر ہے کہ عضلہ کے چھوٹے ہونے کے دوران اصلاً 'I' بینڈ کی لمبائی کم ہو رہی ہے جبکہ 'A' بینڈز کی لمبائی پہلے ہی جیسی ہے (شکل 20.5)۔ اے ڈی پی اور اخراج کے بعد مایوسین آرام کی حالت میں واپس چلا جاتا ہے۔ ایک نیا اے ٹی پی کا سالمہ چپکتا ہے اور کراس بریج ٹوٹتا ہے (شکل 20.5)۔ اس کی وجہ سے 'Z' لائن واپس اپنی پہلے والی حالت میں چلی جاتی ہے یعنی عضلہ پھیل جاتا ہے (شکل 20.5)۔ رد عمل (Reaction) کا وقت مختلف عضلاتی ریشوں میں الگ ہوتا ہے۔ عضلوں میں اس عمل کے بار بار دہرانے سے غیر یوانی تنفس کی وجہ سے ان میں لیکٹک ایسڈ (Lactic Acid) جمع ہو جاتا ہے جو تھکاوٹ کی وجہ بن جاتا ہے۔ عضلات میں آکسیجن جمع کرنے والا ایک سرخ پگمنٹ مایوگلابن (Myoglobin) ہوتا ہے۔ کچھ عضلات میں اس کا زیادہ مقدار ان کو سرخی مائل کر دیتی ہے ایسے عضلات سرخ عضلات (Red Muscles) کہلاتے ہیں۔ ان عضلات میں مائی ٹوکانڈریا (توانیے) کی تعداد کثرت سے ہوتی ہے جو عضلات میں جمع آکسیجن کی کثیر مقدار کو استعمال کرکے اے ٹی پی بناتے ہیں۔ یہ عضلات لہٰذا ایروبک (Aerobic) عضلات بھی کہلاتے ہیں۔ کچھ عضلات میں مایوگلابن کی مقدار بہت کم ہوتی ہے اس لیے وہ پیلے یا سفیدی مائل ہوتے ہیں۔ یہ سفید ریشے ہوتے ہیں۔ ان میں توانائیوں کی تعداد بھی کم ہوتی ہے لیکن سارکو پلازمک ریٹی کلم بہت ہوتا ہے۔ یہ انیروبک (Anaerobic) ترکیب سے توانائی حاصل کرتے ہیں۔    

5th

شکل 20.5 عضلاتی سکرائو کا سلائڈنگ فلامینٹ اصول (پتلے فلامینٹ کے حرکت اور Iبینٹ اور Hذون کے ریلیٹو سائز کا مشاہدہ کریں)

20.3 پنجری نظام     (Skeletal System)    

قالبی نظام کی بنیاد ہڈیوں اور کچھ لچکدار بافت یا کرکری ہڈی پر مشتمل ہوتی ہے۔ جسمانی نقل وحرکت میں اس نظام کا بہت     اہم کردار ہے۔ ذرا خیال کیجیے کہ بغیر جبڑوں کے غذا کو کیسے چبائیں گے یابغیر ہڈیوں والے پیر سے کیسے چلے گے؟ ہذیاں اور لچکدار بافت مختص اتصالی بافت ہیں۔ ہڈیوں میں کیلشیم نمکیات کی وجہ سے کثیف مادہ ہوتا ہے اور کونڈرو ائٹین (Chondroitin) نمکیات کی وجہ سے لچکدار بافت نرم اور لچک دار ہوتی ہیں۔ انسانی قالب میں 206 ہڈیاں اور کچھ لچکدار بافت ہوتی ہیں۔ یہ دو نما یاں گروپس میں منقسم ہوتی ہیں۔ عمودی (Axial) اور ضمیمی (Appendicular) قالب۔    

عمودی قالب جسم کے محور پر 80 ہڈیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ کھوپڑی (کاسۂ سر) ریڑھ کی ہڈیوں کا کالم سٹرنم اور پسلیاں میں ہوتا ہے۔ کاسۂ سر (شکل 20.6) میں ہڈیوں کے دوگروپس ہوتے ہیں: کرنیل (Cranial) اور فیشیل    (Facial) جن کی مجموعی تعداد 22 ہوتی ہے۔ کرنیل ہڈیوں کی تعداد آٹھ ہے۔ د ماغ کے لیے ایک سخت محافظی سرپوش بناتی ہیں جسے کرینیم کہتے ہیں۔ فیشیل خط 14 قالبی عنصر پر مشتمل ہوتا ہے جو کاسۂ سر کا اگلا حصہ بناتا ہے۔ ایک

6th

شکل 20.6     انسانی کاسۂ سر (کھوپڑی) کا تشریحی خاکہ

عدد 'U' ساخت کی ہڈی جو ہائیوئڈ (Hyoid) کہلاتی ہے وہ بھی کاسۂ سر میں شامل ہوتی ہے۔ دونوں درمیانی کا نوں میں تین خورد ہڈیاں: میلس (Mallus)، اِنسِن (Incin) اور سٹیپس (Stapes)مجموعی طور پر ایئر آسکلز (Ear Ossicles) کہلاتی ہیں۔ کاسۂ سر، ریڑھ کی کالم کے اوپری حصے سے دو آکسی پیٹل کونڈائل (Occipetal Condyles) کی مدد سے ترتیل (Articulate)     کرتا ہے۔    

ہمارا ریڑھ کا کالم (شکل 20.7) سلسلے وار ترتیب میں لگے ہوئے 26 اکائیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ جنہیں ورٹی بری (Vertebrae) کہتے ہیں اور ان کی جگہ ظہری (Dorsal) ہوتی ہے۔ یہ کاسۂ سر کے نچلے حصے سے نکلتی ہے اور دھڑ کا خاص حصہ نباتی ہے۔ ہرورٹی برا (Vertebra) کے وسط میں سوراخ (نیورل کنال) ہوتا ہے جس میں سے حرام مغز (Spinal cord)گزرتا ہے۔ پہلا ورٹی برا اٹلس کہلاتا ہے جو آکسی پٹیل کونڈائل سے ترتیل کرتا ہے۔ ریڑھ کے کالم کے کاسۂ سر کی طرف سے سروائیکل (Cervical) تھوریسک (Thorasic) 12 لمبر (Lumber) 5، سیکرل (Sacral) (ایک جڑا ہوا) اور کاکیجیل (Coceigeal) (ایک جڑا ہوا) میں بانٹا جاسکتا ہے تقریباً تمام پستانیوں (Mammals) مع انسان میں سروائیکل ورٹی بری کی تعداد سات ہوتی ہے۔ ریڑھ کا کالم حرام مغز کی حفاظت کرتا ہے، سرکو سہارا دیتا ہے اور پسلیوں کے سرے اس سے آکر جڑتے ہیں، مزید یہ کہ پیٹھ کا عضلاتی خاکہ بھی بناتا ہے۔ اسٹرنم (Sternum) ایک چپٹی ہڈی ہے جو بطنی (Ventral) جانب سینے کے وسط میں ہوتی ہے۔    

پسلیوں کے 12 جوڑے ہوتے ہیں۔ ہر پسلی پتلی اور چپٹی ہڈی ہے اور ظہری جانب ریڑھ کی کالم سے اور بطنی     جانب اسٹرنم سے جڑی رہتی ہے۔ اس کے ظہری سرے پر دو ترتیلی سطح ہوتی ہیں اس لیے اس کو بائی سیفیلک (Bicephalic) کہتے ہیں۔ شروع کے سات جوڑے حقیقی پسلیاں ہوتی ہیں ظہری جانب یہ تھوریسک ورٹی بری سے اور بطنی جانب یہ ہایا لائن لچکدار بافت کے ذریعے جڑے رہتے ہیں۔ آٹھواں، نواں اور دسواں پسلیوں کا جوڑا بالواسطہ اسٹرنم سے ترتیل نہیں کرتا بلکہ ہایا لائن لچکدار بافت کے ذریعے ساتویں پسلی سے جڑے رہتے ہیں۔ یہ ورٹی برو کونڈرل (Vertebrochondral) (غیر حقیقی) پسلیاں کہلاتی ہیں۔ پسلیوں کے آخری دو جوڑے (گیارہویں اور بارہویں) بطنی جانب نہیں جڑے ہوتے لہٰذا یہ تیرنے والی پسلیاں کہلاتی ہیں۔ تھوریسک ورٹی بری، پسلیاں اور اسٹرنم مجموعی طور پر پنجر (Rib Cage) کہلاتی ہیں (شکل 20.8)۔    

جوارح کی قالبی ہڈیاں اور ان کی پٹیاں مل کر ضمیمی قالب بناتے ہیں۔ ہر جورحہ 30 عدد ہڈیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ آگے کا جورحہ (ہاتھ) ہیومرس (Humerus)، ریڈیس (Radius) اور النا (Ulna)، کاپلیز (کلائی ہڈی 8 عدد) میٹا کائپلز (ہتھیلی ہڈی۔ 5 عدد) اور فیلنجز (Phalangs) (ڈیجٹز۔ 14 عدد) (شکل 20.9)۔ فیمر (Femur) (جانگھ کی ہڈی، سب سے طویل ہڈی) ٹیبیا(Tibia) اور فیبولا (Fibula)، ٹارسلز (Tarsals) (ایڑی کی ہڈی۔ 7 عدد) میٹا ٹارسلز (5۔ عدد) اور فیلینجز (ڈیجیٹز۔ 14 عدد)، نانگوں کی ہڈیاں ہوتی ہیں (شکل 20.9)۔ پیالہ نما ہڈی پٹیلا (Patella) گھٹنے کو ڈھنک کر رکھتی ہے جو (ٹی کیپ) کہلاتی ہے۔    


7th

شکل 20.7 ورٹیبرل کالم ۔ دایاں بغلی منظر    


8th

شکل 20.8     پسلیاں اور نیچر    


پیکٹورل اور پیلوک ہڈیاں باالترتیب ہاتھ اور ٹانگ کو عمودی قالب کے ساتھ ترتیل میں مدد دیتا ہے۔ ہر گرڈل دو نصف سے بنا ہوتا ہے۔ پیکٹورل گرڈل کا ہر نصف ایک کلیویکل (Clavicle) اور ایک اسکیپولا (Scapula) (شکل 20.9 ) پر مشتمل ہوتا ہے۔ اسکیپولا ایک بڑی اور مثلثی چپٹی ہڈی ہے جو سینے کے ظہری جانب دوسری اور ساتویں پسلیوں کے درمیان موجود ہوتی ہے۔ مسکیپولا میں ایک     ابھار ہوتا ہے جسے اسپائن (Spine) کہتے ہیں، پھیلے ہوئے     ابھار کو اکرومیون (Acromion) کہتے ہیں۔ کلیویکل اس سے ترتیل کرتا ہے۔ اکرومین کے نیچے ایک گڈھا سا ہوتا ہے جسے گلنیوئڈ کیسویٹی (Glenoid Cavity) کہتے ہیں جو ہیومرس کے سرے کے ساتھ ترتیل کرتی ہے اور کندھوں کا جوڑ بناتی ہے۔    

ہر کلیویکل ایک لمبی اور نازک ہڈی ہوتی ہے جس میں دو خم ہوتے ہیں۔ اس ہڈی کو اکثر کالر ہڈی بھی کہتے ہیں۔    

پیلرک گرڈل دوکو کسل (Coxal Bone) ہڈیوں سے بننا ہے (شکل 20.10)۔ ہر کوکسل ہڈی تین ہڈیوں الیم اسچیم اور پیولس (Ilium Ischium & Pubis) سے مل کر بنتی ہے۔ ان کے جوڑ کے بالکل اوپر ایک کیویٹی اسیٹابلم (Accetabulum) ہوتی ہے جس سے جانگھ کی ہڈی ترتیل کرتی ہے۔ اوپر کی جانب جہاں پیلویک گرڈل کے دونوں نصف ملکر پیویک سمفائسس (Pubic Symphysis) بناتے ہیں جہاں ریشی لچکدار بافت ہوتا ہے۔    

9th

شکل 20.9      دایاں پیکٹورل گرڈل اور اوپری بازو (سامنے کا منظر)


10th

شکل 20.10      دایاں پیلوک گرڈ اور نچلا جوارح ہڈی    

20.4     جوڑ (Joints)    

جسم کے ہڈیوں کے حصوں کی نقل وحرکت کے لیے جوڑ لازمی ہیں اور لوکوموٹری حرکات اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ دو ہڈیوں یا ہڈی اور لچکدار بافت کے ملنے کی جگہ کو جوڑ کہتے ہیں۔ جوڑ کے ذریعے نقل وحرکت میں عضلات میں پیدا ہونے والی توانائی استعمال ہوتی ہے اور جوڑ نصاب (Fulcrum) یا ٹیک کا کام انجام دیتے ہیں۔ ان جوڑ کی حرکات وسکنات کئی اسباب پر منحصر ہوتی ہے۔ ساخت کی بناء پر جوڑ کو تین اقسام میں بانٹا گیا ہے: فائیبرس، کارٹیلیجنس اور سائینوویل (Fibrous, Cartilaginous & Synovial)۔

فائبیرس جوڑ کسی قسم کی حرکت کی اجازت نہیں دیتے۔ اس طرح کے جوڑ کاسۂ سر کی چپٹی ہڈیوں میں پائے جاتے ہیں جو کرینیم میں ریشی اتصالی     بافت کے ذریعے سرے سے سرا ملا کر بخیے کی شکل بناتے ہیں۔    

کرکری ہڈی کے جوڑ میں ہڈیاں کرکری ہڈی کی مدد سے جڑتی ہیں۔ ریڑھ کی کالم میں متصل ورٹی بری کے درمیان اس طرح کا جوڑ بنتا ہے جو محدود حرکت کی اجازت دیتا ہے۔    

دو ہڈیوں کی ترتیلی سطح کے درمیان سیال سے بھری ہوئی سائینوویل خلاء سائینوویل جوڑ کی خاصیت ہے جوڑ کی اس نہیج کی ترتیب خاصی مرکات کی اجازت دیتی ہے۔ یہ جوڑ لوکوموشن اور دیگر حرکات و سکنات میں مدد دیتے ہیں۔ بال اور ساکٹ جوڑ (ہیومرس اور پیکٹورل گرڈل) ہنج جوڑ ا(گھٹنے کے جوڑ)، پیوٹ جوڑ (Pivot Joints) (اٹلس اور محور کے درمیان)، گلائیڈنگ جوڑ کارپلز کے درمیان) اور سیڈل جوڑ (انگوٹھے کے کاربل اور میٹا کاربل کے درمیان) ان کی چند مثالیں ہیں۔    

20.5 انسان میں عضلاتی اورپنجری نظام کی کچھ اہم بیماریاں

(Disoreders of Muscular and Skeletal System)    

میاستھینیا گریوس (Myasthenia Gravis) : آٹوامّیون بیما ری نیورو مسکولر جنکشن پر اثر انداز ہوتی ہے اور قالب میں تھکاوٹ کمزوری اور فالج پیدا کرتی ہے۔    

مسکولر ڈیس ٹرافی (Muscular Dystrophy): زیادہ تر جینی ڈس آرڈر ہے جس میں قالبی عضلات بتدریج مرتے رہتے ہیں۔    

ٹیٹانی (Tetany): عضلات کے سیال میں ++Ca کی کمی کی وجہ سے شدید القباض    

رائگرموٹس: موت کے بعد عضلات کا سخت ہو جانا۔ اے ٹی پی کی غیر موجودگی میں کراس بریج الگ نہیں ہو پاتے۔ آرتھرائی ٹس : جوڑ میں انفیکشن۔    

آسٹیوپوروسس (Osteoporosis): اس بیماری کا تعلق عمر سے ہے جس میں ہڈیوں کا حجم کم ہو جاتا ہے اور ان کے ٹوٹنے کے مواقع بڑھ جاتے ہیں۔ ایسٹروجن کی کمی اس کی عام وجہ ہے۔    

گٹھیا (Gout) : ہڈیوں کے جوڑوں میں سوجن اور یورک ایسڈ کے جماؤ کی وجہ سے ہوتا ہے۔    

خلاصہ    

نقل وحرکت ہر جاندار کی اہم خاصیت ہے۔ پروٹوپلازمک سٹریمنگ، سیلیری حرکات، جوارح، پنکھ وغیرہ جانور میں نقل و حرکت کی چند مثالیں ہیں۔ ارادی حرکات جن کی وجہ سے جانور ایک سے دوسری جگہ جا سکتے ہیں، لوکوموشن کہلاتا ہے۔ جانور عموماً خوراک کی تلاش، ساتھی، نسل کی افزائش کے موزوں جگہ موافق موسمیاتی حالات یا دشمن سے حفاظت کے لیے نقل و حرکت کرتے ہیں۔

انسانی جسم کے خلیے امیبائیڈ، سیلیری اور عضلاتی نقل و حرکت کرتے ہیں۔ لوکوموشن اور دیگر حرکات کے لیے عضلاتی افعال میں ترتیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے جسم میں تین طرح کے عضلات پائے جاتے ہیں۔ کالیدی عضلات، کالیدی عضو سے جڑے رہتے ہیں۔ یہ دھاری دار اور ارادی ہوتے ہیں۔ نظام انہضام کے عضلات، اندرونی اعضاء کی اندرونی دیواروں میں ہوتے ہیں اور ہموار اور غیر ارادی قسم کے ہوتے ہیں۔ قلبی عضلات، قلب میں پائے جاتے ہیں۔ یہ دھاری دار، کئی شاخوں میں منقسم اور غیر ارادی ہوتے ہیں۔ عضلات برانگیختگی، انقباض، لچیلاپن اور ایلاسٹی سٹی رکھتے ہیں۔

عضلی ریشے عضلات کی اناٹمیکل اکائی ہیں۔ ہر عضلی ریشے میں متوازی ترتیب میں مائیوفائبرل ہوتے ہیں۔ ہر مائیوفائبرل میں سلسلے وار اکائی سارکومیئر مرتب ہوتے ہیں جو فعلی اکائی ہے۔ ہر سارکومیئر میں وسطی 'A' بینڈ ہوتا ہے جو مایوسن فلامنٹز اور دو نصف I۔ بینڈ مہین ایکٹن فلامنٹ پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان کے دونوں اطراف لائن ہوتی ہے۔ ایکٹن اور مایوسین پروٹین کے زنجیرے ہیں جن میں انقباضیت ہوتی ہے۔ آرام کی حالت میں ایکٹن فلامنٹ پر فائیوسین کے موجود ایکٹوسائٹ پر ٹروپونین پروٹین کا نقاب پڑا رہتا ہے۔ مایوسین کے سر پر اے ٹی پینر اور اے ٹی پی کے چپکنے کی جگہ ہوتی ہے اور ایکٹن کے لیے ایکٹوسائٹ ہوتی ہے۔ عضلی ریشے کو جب موٹر عصبیے کے ذریعہ اشارہ ملتا ہے تو اس میں ایکشن پوٹینشیل پیدا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے سارکوپلازمک ریٹی کلم سے کیلشیم خارج ہوتا ہے۔ کیلشیم، ایکٹن کو فعّال بنا دیتا ہے جو مایوسین کے سر سے جڑ گراس بریج بناتا ہے۔ یہ کراس بریج ایکٹن فلامنٹز کو کھینچتے ہیں اور مایوسین فلامنٹز پر سرکتے ہیں اور اس طرح سے انقباض پیدا کرتے ہیں۔ کیلشیم واپس سارکوپلازمک ریٹی کولم میں چلا جاتا ہے اور ایکٹن اپنی پہلی آرام کی حالت میں واپس آجاتا ہے، کراس بریج ٹوٹ جاتے ہیں اور عضلات آرام کی حالت میں آجاتے ہیں۔ بار بار اس عمل کے انجام پانے سے عضلات میں تھکاوٹ آجاتی ہے۔

سُرخ رنگ کے پگمنٹ مایوگلابن کی موجودگی کی بنا پر عضلات کو سرخ اور سفید ریشوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ہڈیاں اور لچکدار بافت ہمارے قالبی نظام کی تشکیل کرتے ہیں۔ قالبی نظام کو عمودی اور ضمیمی میں تقسیم کرتے ہیں۔ کائسہ سر، ریڑھ کی کالم، پسلیاں اور اسٹرنم، عمودی ڈھانچہ بناتا ہے۔ جوارحہ کی ہڈیاں اور گرڈل، ضمیمی ڈھانچہ بناتا ہے۔ ہڈیوں یا ہڈی اور لچکدار بافت کے درمیان تین قسم کے جوڑ بنتے ہیں: فائبیرس، کرکری ہڈی اور سائینووییل، سائینووییل جوڑ بہت حد تک نقل و حرکت کی اجازت دیتا ہے لہٰذا لوکوموشن میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مشق

تصویر کے ذریعے پنجری عضلات کے سار کو میئر کے مختلف حصوں کو دکھائیے۔

عضلات کے انقباض کی فلامنٹ سرکنے والے نظریے کو بیان کیجیے۔

عضلاتی انقباض کے اہم اقدام کو بیان کیجیے۔

صحیح اور غلط لکھئے۔ اگر غلط ہو تو بیان کو تبدیل کرکے صحیح بنائیے۔    

(a) ایکٹن باریک فلامنٹ میں ہوتا ہے۔    

(b) H زون موٹے اور باریک دونوں ہی دھاری دار عضلاتی ریشوں میں ہوتا ہے۔    

(c) انسانی ڈھانچہ 206 ہڈیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔    

(d) انسان میں پسلیوں کے 11 جوڑے ہوتے ہیں۔    

(e) اسٹرنم جسم کی وینٹرل کی جانب ہوتا ہے۔    


مندرجہ ذیل میں تفریق کیجئے۔    

(a) ایکٹن اور مایوسین    

(b) سرخ اور سفید عضلات    

(c) پکٹورل اور پیلوک گرڈل

کالم I کا کالم II سے تقابل کیجئے۔    

کالم I کالم II

(a) ہموار عضلات (i) مایوگلوبین

(b) ٹروپومایوسین (ii) مہین فلامنٹ

(c) سرخ عضلات (iii) سٹرسز

(d) کاسہ سر (iv) غیر ارادی

انسانی جسم کے خلیے کتنی طرح کی نقل و حرکت دکھاتے ہیں؟

پنجری اور قلبی عضلات میں آپ کس طرح تفریق کریں گے؟

مندرجہ ذیل میں جوڑ کی قسم کا نام لکھیے:

(a) اٹلس /محور

(b) کارپل/انگوٹھے کے میٹاکارپلز

(c) فیلنجیز کے درمیان

(d) فیمر/ایسٹا بولم

(e) کرنییل ہڈیوں کے درمیان

(f) پیلوک گرڈل میں پیویک ہڈیوں کے درمیان

10۔خالی جگہوں کو بھریے:

(a) تمام پستانیوں میں (کچھ کے علاوہ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سرویکل ورٹی برا ہوتی ہیں۔

(b) ہر انسانی جوارحہ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عدد فیلنیجز ہوتے ہیں۔

(c) مائیوفائیبرل کے مہین فلامنٹ میں 2 عدد 'F' ایکٹین اور دوسری پروٹینز ہوتی ہیں ان کے نام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور    

۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیں۔

(d) عضلی ریشے میں کیلشیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں جمع رہتا ہے۔

(e) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔     اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پسلیوں کے جوڑے تیرنے والی پسلیاں کہلاتی ہیں۔

(f) انسانی کرینیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔     عدد ہڈیوں کا بنا ہوا ہوتا ہے۔