باب 21
عصبی اختیار اور ربط دہی
(Neural Control and Coordination)
21.1 عصبی نظام
21.2 انسانی عصبی نظام
21.3 عصبیہ، عصبی نظام کی ساختی اور عملی اکائی
21.4 مرکزی عصبی نظام انسانی دماغ
21.5 اضطراری عمل اور اضطراری قوس
21.6 حسی وصولیابی اور پروسیسنگ
جیسا کہ آپ جانتے ہیں، انسانی جسم میں کئی ا عضا ہوتے ہیں جو اپنے کام خود مختارانہ طور پرنہیں کرسکتے۔ ہومیواسٹیسس کو برقرار رکھنے کے لیے ان کے عملوں میں ربط دہی لازمی ہے۔ ربط دہی اس عمل کو کہتے ہیں جس کے ذریعے دو یا دو سے زیادہ اعضا ایک دوسرے کے ساتھ باہمی عمل کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔ مثلاً جب ہم جسمانی کسرت کرتے ہیں تو اضافی عضلاتی مشق کو برقرار رکھنے کے لیے توانائی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ آکسیجن کا خرچ بھی بڑھ جاتا ہے۔ آکسیجن کا اضافی خرچ، تنفس کی شرح میں اضافے، نبض اور شریانوں کے ذریعے خون کے بہاؤ میں اضافے کوتحریک دیتاہے۔ جب جسمانی مشق روک دی جاتی ہے تو اعصاب، پھیپھڑے، قلب اور گردے وغیرہ کی سرگرمیاں رفتہ رفتہ اپنے حسبِ معمول حالات پر واپس آجاتی ہیں۔ لہٰذا جسمانی مشق کے دوران اعضا، پھیپھڑے، قلب، شریان، گردے اور دیگر اعضاکے عملوں میں ربط دہی ہوتی ہے۔
ہمارے جسم میں تمام اعضاکے کاموں کو عصبی نظام اور اینڈوکرائن نظام مل کر ربط دہی اور تکمیل کو پہنچاتے ہیں تاکہ تمام کام بیک وقت واقع ہو سکیں۔ ربط دہی میں سرعت کے واسطے نقطے تک نقطے سے نقطے تک کا ربط کے ایک منظم جال عصبی نظام مہیا کرتا ہے۔ اینڈ کرائن نظام، ہارمون کے ذریعے کیمیائی یک جہتی بہم پہنچاتا ہے۔ اس باب میں آپ انسانوں میں عصبی نظام، عصبی ربط دہی کا میکنیزم جیسے عصبی ہیجان کی ترسیل، سیناپس (Synapse) کے پار ہیجان کا ایصال اور اضطراری عمل کی فزیالوجی بارے میں پڑھیں گے۔
21.1 عصبی نظام (Neural System)
تمام جانوروں کا عصبی نظام نہایت تخصیص شدہ خلیوں،ا عصاب (Neurons) پر مشتمل ہوتا ہے جو مختلف محرکات (Stimuli) کی شناخت کرسکتے ہیں، وصول اور ارسال کر سکتے ہیں۔
نچلے درجے کے غیر فقری جانوروں میں عصبی نظام بہت سادہ ہوتا ہے مثلاً ہائڈرا میں یہ محض اعصاب کے جال پر مشتمل ہے۔ حشرات الارض میں یہ قدرے منظم ہے کیونکہ ان میں دماغ کہ علاوہ کچھ گینگلیا (Ganglia) اور عصبی بافت موجود ہوتے ہیں۔ فقری جانوروں میں عصبی نظام زیادہ ترقی یافتہ ہوتا ہے۔
21.2 انسانی عصبی نظام (Human Neural System)
انسانی عصبی نظام دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے:
(i) مرکزی عصبی نظام (CNS) اور
(ii) محیطی عصبی نظام (Peripheral Neural System, PNS)۔
CNS میں دماغ اور حرام مغز (Spinal Cord) شامل ہیں اور یہ معلومات کی پروسیسنگ اور کنٹرول کا مقام ہے۔ جسم کے تمام وہ اعصاب (Nerves) جو CNS (دماغ اور حرام مغز) سے متعلق ہیں PNS میں شامل کیے جاتے ہیں۔ PNS کے عصبی ریشے(Nerve Fibers)دو قسم کے ہوتے ہیں یعنی
(a) اے فرینٹ ریشے (Afferent Fibres) اور
(b) ای فرینٹ ریشے (Efferent Fibres)۔
اے فرینٹ ریشے ہیجان(Impulses) کو بافت /عضو سے CNS تک اور ای فرینٹ ریشیریگولیٹری ہیجانات (Regulatory Impulses) کو CNS سے متعلقہ محیطی بافت یا عضو تک ارسال کرتے ہیں۔
PNS دو ڈویژنوں میں منقسم ہوتا ہے۔ بدنی عصبی نظام (Somatic neural System) اور خود اختیاری عصبی نظام۔ بدنی عصبی نظام ہیجانات کو CNS سے پنجری عضلات تک جبکہ خود اختیاری عصبی نظام ہیجانات کو CNS سے جسم کے غیراختیاری ا عضا اور ہموار عضلات تک ارسال کرتا ہے۔ خود اختیاری عصبی نظام کی مزید درجہ بندی سمپیتھیٹک عصبی نظام اور پیراسمپیتھیٹک عصبی نظام میں کی گئی ہے۔
21.3 عصبیہ، عصبی نظام کی ساختی اور عملی اکائی (Neuron as Structural and Functional Unit of Neural System)
عصبیہ ایک خوردبینی ساخت ہے جو تین حصوں پر مشتمل ہوتا ہے یعنی خلوی جسم، ڈینڈرائٹس اور ایکس(axon) (شکل 21.1)۔ خلوی جسم میں تمثیلی خلیے کی طرح سائیٹوپلازم اور خلوی عضویچے (Cell Organelles) ہوتے ہیں اور کچھ دانے دار اجسام ہوتے ہیں جنھیں نیسل دانے(Nissl's granules) کہتے ہیں۔ خلوی جسم سے چھوٹے ریشے جو مکرر انداز میں شاخدار ہوتے ہیں اور باہر کی جانب نکلے ہوئے ہوتے ہیں اور ان میں بھی نِیسل دانے ہوتے ہیں ان کو ڈینڈرائٹس کہتے ہیں۔ یہ ریشے ہیجانات کو خلوی جسم کی جانب ارسال کرتے ہیں۔ ایکسن ایک لمبا ریشہ ہے جس کا دور والا سرا شاخ دار ہوتا ہے اور ہر شاخ ایک بلب نما ساخت پر ختم ہوتی ہے جس کو سیناپٹک ناب (Synaptic Knobs) کہتے ہیں۔ اس میں سیناپٹک ویزیکلز (Synaptic Vesicles) ہوتی ہیں اور ان میں نیوروٹرانسمیٹر(Neuro Transmiters) ہوتے ہیں۔ ایکسن عصبی ہیجانات کو خلوی جسم سے دور سیناپس یا عصبی عضلاتی جنکشن تک ارسال کرتے ہیں۔ ایکسن اور ڈینڈرائٹس کی تعداد کی بنیاد پر عصبیوں کو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے یعنی ملٹی پولر (ایک ایکسن اور دو یا دو سے زیادہ ڈینڈرائٹس جو سیریبرل کارٹیکس میں پایا جاتا ہے)، بائی پولر (ایک ایکسن اور ایک ڈینڈرائیٹ، آنکھ کی ریٹینا میں پایا جاتا ہے) اور یونی پولر (خلوی جسم صرف ایک ایکسن کے ساتھ، عموماً جنینی مرحلے میں پایا جاتا ہے)۔ دو طرح کے ایکسن ہوتے ہیں، مائیلی نیٹڈ (Myelinated) اور غیرمائیلی نیٹڈ (Non-myelinated)۔ مائیلی نیٹڈ عصبی ریشے پر شوان خلیوں (Shwann Cells) کا غلاف ہوتا ہے جو ایکسن کے اطراف میں مائیلین شیتھ بناتے ہیں۔ دو متصل مائیلین شیتھ کے درمیان خلاکو نوڈ آف رینویر (Node of Ranvier) کہتے ہیں۔ مائیلی نیٹڈ عصبی ریشے، حرام مغز اور کرینیل اعصاب میں پائے جاتے ہیں۔ غیر مائیلی نیٹڈ عصبی ریشے شوان خلیوں سے ملفوف ہوتے ہیں جو ایکسن کے چاروں طرف مائیلین شیتھ نہیں بناتے اور عموماً خود اختیاری اور جسمانی عصبی نظام میں پائے جاتے ہیں۔

شکل 21.1 عصبیہ کی ساخت
21.3.1 عصبی ہیجان کی تشکیل اور ایصال (Generation and Conduction of Nerve Impulse)
اعصاب اشتعال پذیر خلیے ہوتے ہیں کیونکہ ان کی جھلی تقطیبی حالت (Polarised State) میں ہوتی ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ اعصاب کی جھلی تقطیبیکیوںہو جاتی ہے؟ عصبی جھلیوں میں مختلف قسم کے آین چینل ہوتے ہیں۔ یہ آین چینل مختلف آینوں کے لیے انتخابی نفوذ پذیر (Selectively Permeable) ہوتے ہیں۔ جب عصبیہ کسی ہیجان کا ایصال نہیں کرتا یعنی آرام کرتا ہے تو ایگزونل جھلی نسبتاً پوٹیشیم (K+) اور کلورائڈ (Cl–) آینوں کے لیے زیادہ نفوذ پذیر اور سوڈیم (Na+) آینوں کے لیے تقریباً غیر نفوذ پذیر ہوتی ہے۔ اسی طرح ایگزوپلازم میں موجود منفی چارج والے پروٹین کے لیے بھی غیر نفوذ پذیر ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے ،ایکسن کے اندر ایگزوپلازم میں K+ کا زیادہ ارتکاز اور منفی چارج والے پروٹین اور Na+ کا کم ارتکاز ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ایکسن کے باہر کے سیال میں K+ کا کم ارتکاز، Na+ اور Cl– کا زیادہ ارتکاز ہوتا ہے۔ لہٰذا ایک ارتکازی ڈھلان بن جاتا ہے۔

شکل 21.2 ایکسن میں عصبی ہیجان کا ایصال
سوڈیم - پوٹیشیم پمپ کی مدد سے آینوں کے فعال ٹرانسپورٹ کے ذریعے ریسٹنگ (Resting) جھلی کے آر پار آینی ڈھلان قائم رہتا ہے۔ یہ پمپ تین Na+ کوخلیوں کے باہر اور دو K+ کواندر کی جانب بھیجتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایکسن جھلی کی باہری سطح پر مثبت چارج اور اندرونی سطح پر منفی چارج آجاتا ہے اور پولارائز ہو جاتی ہے۔ ریسٹنگ پلازما جھلی کے آر پار برقی مضمر فرق ریسٹنگ پوٹینشیل کہلاتا ہے۔
آپ بے شک عصبی ہیجان کی تشکیل کے میکنیزم اور ایکسن میں اس کا ایصال کے بارے میں جاننے کے خواہش مند ہوں گے۔ جب ہیجان کا اطلاق تقطیبی جھلی کی سائٹ پر ہوتا ہے(شکل 21.2مثلاً نقطہA) تو سائٹ A پر جھلی Na+ کے لیے بالکل نفوذ پذیر ہو جاتی ہے۔ اس سے Na+ بہت تیزی سے اندر داخل ہوتا ہے اور پولیریٹی A سائٹ پر الٹ جاتی ہے یعنی جھلی کی باہری سطح کا چارج منفی ہو جاتا ہے اور اندرونی سطح کا چارج مثبت ہو جاتا ہے۔ جھلی کے سائٹ A پر پولیریٹی الٹی ہو جاتی ہے اور ڈی پولارائز ہو جاتی ہے۔ پلازما جھلی کے آر پار سائٹ A پر برقی پوٹینشیل کا فرق ایکشن پوٹینشیل کہلاتا ہے جو دراصل عصبی ہیجان ہے۔ اس سے فوراً آگے والی (B سائٹ) ایکسن جھلی کی باہری سطح کا چارج مثبت ہوتا ہے اور اندرونی سطح کا چارج منفی کرنٹ کے بہاؤ کے سرکٹ کو مکمل کرنے کے لیے، اس کے نتیجے میں اندرونی سطح پر A سائٹ سے B سائٹ پر کرنٹ بہتا ہے اور باہری سطح پر سائٹ B سے سائٹ A پر کرینٹ بہتا ہے (شکل 21.2)۔ لہٰذا سائٹ A پر پولیریٹی الٹی ہو جاتی ہے اور سائٹ B پر ایکشن پوٹینشیل کی تشکیل ہوتی ہے۔ اس طرح ہیجان (ایکشن پوٹینشیل) سائٹ A سے سائٹ B پر پہنچتا ہے۔ ایکسن کی لمبائی میں یہ سلسلہ دہرایا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں ہیجان کا ایصال ہوتا ہے۔ مہیج کی وجہ سے Na+ کے لیے نفوذ میں اضافہ بہت کم وقفے کے لیے ہوتا ہے۔ اس کے فوراً بعد K+ کے لیے نفوذ میں اضافہ ہوتا ہے۔ سیکنڈ کے ایک حصے میں K+ جھلی کے باہر نکل جاتی ہے اور اشتعال کی سائٹ پر جھلی کا ریسٹنگ پوٹینشیل بحال ہوجاتا ہے اور عصبی ریشے ایک بار پھر مزید ہیجان کے لیے جوابی عمل (Responsive) کرنے لگتے ہیں۔
21.3.2 ہیجان کی ترسیل (Transmission of Impulses)
ایک عصبیے سے دوسرے عصبیے تک عصبی ہیجان کی ترسیل ایک جنکشن کے ذریعے ہوتی ہے جسے سیناپسس کہتے ہیں۔ پری سیناپٹک عصبیے اور پوسٹ-سیناپٹک عصبیے کی جھلیوں سے سیناپسس بنتا ہے، جو سیناپٹک کلیفٹ (Synaptic Cleft) کے ذریعے الگ ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔ دو طرح کے سیناپس ہوتے ہیں، برقی سیناپس اور کیمیائی سیناپس- برقی سیناپس پر پری اور پوسٹ سیناپٹک عصبیوں کی جھلیوں میں بہت قریبی تعلق ہوتا ہے۔ ان سیناپس کے پار ایک عصبیے سے دوسرے عصبیے تک برقی روبالواسطہ بہہ سکتی ہے۔ برقی سیناپسس کے پار لہروں کی ترسیل، ایک ایکسن میں لہر کی ایصال کے بہت مشابہ ہوتی ہے۔ برقی سیناپسس کے پار لہر کی ترسیل کیمیائی سیناپسس کے مقابلے میں ہمیشہ تیز ہوتی ہے۔ ہمارے نظام میں برقی سیناپسس کمیاب ہیں۔
کیمیائی سیناپس پر پری اور پوسٹ سیناپٹک عصبیوں کی جھیلوں کے درمیان کا خلاسیال سے بھرا رہتا ہے جسے سیناپٹک کلیفٹ کہتے ہیں (شکل 21.3)۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ سیناپٹک کلیفٹ کے پار، پری سیناپٹک عصبیہ، لہر (ایکشن پوٹینشیل) کی ترسیل پوسٹ سیناپٹک عصبیے تک کیسے کرتا ہے؟ ان سیناپسس پر لہر کی ترسیل نیوروٹرانسمیٹر کیمیا کے ذریعے عمل میں آتی ہے۔ ایکسن کے سروں (ٹرمینل) میں نیورو ٹرانسمیٹر کے بھرے ہوئے ویزیکلز (Vesicles) ہوتے ہیں۔ جب ایک ہیجان (ایکش پوٹینشیل) ایکسن ٹرمینل پر آتا ہے، یہ سیناپٹک ویزیکل کو جھلی کی طرف متحرک کرتا ہے جہاں وہ پلازما جھلی کے ساتھ متصل (Fuse) ہو جاتا ہے اور اپنے نیوروٹرانسمیٹرز کو سیناپٹک کلیفٹ میں خارج کردیتا ہے۔ خارج شدہ نیوروٹرانسمیٹرز پوسٹ سیناپٹک جھلی پر موجود اپنے مخصوص ریسیپٹر سے چپک جاتے ہیں۔ ان کے چپکنے سے آینوں کے راستے کھل کر آینوں کو داخلے کی اجازت دیتے ہیں اور پوسٹ سیناپٹک عصبیے میں نئے پوٹینشیل کی تشکیل کرتے ہیں۔ تشکیل پوٹینشیل یا تو اشتعالی ہوتے ہیں یا مزاحمتی۔

شکل 21.3 ایگزان ٹرمینل اور سنیاپس
21.4 مرکزی عصبی نظام (Central Neural System)
دماغ ہمارے جسم کا مرکزی انفارمیشن پروسیسنگ عضو ہے اوریہ ’’کمانڈ اور کنٹرول نظام‘‘ کی طرح کام کرتا ہے۔ یہ اختیاری حرکات، جسم کے توازن، اہم اختیاری اعضاکے عمل (مثلاً پھیپھڑے، قلب، گردے وغیرہ) تھرموریگولیشن، بھوک اور پیاس، ہمارے جسم کی سرکاڈیین (24 گھنٹے) روانی، اینڈوکرائین غدود کے عمل اور انسانی رویہ کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہیں پر بصارت، سماعت، قوتِ گفتار، یادداشت، ذہانت، جذبات اور خیالات کی پروسیسنگ بھی ہوتی ہے۔
انسانی دماغ کی حفاظت کھوپڑی کے ذریعے کی جاتی ہے۔ کھوپڑی کے اندر دماغ کرنییل مینجز (Cranial Meninges) سے ملفوف ہوتا ہے جو باہری تہہ ڈیورامیٹر (Dura mater)، ایک مہین درمیانی تہہ اریکنائیڈ (Arachnoid) اور اندرونی تہہ (جو دماغی بافت کے رابطے میں رہتی ہے) پیامیٹر (Pia mater) پر مشتمل ہوتی ہے۔ دماغ کوتین اہم حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: (i) گلا دماغ (Forebrain)، (ii) وسطی دماغ (Midbrain)، (iii) پچھلا دماغ (شکل21.4)۔

شکل 21.4 (a) دماغ کے ظہری منظر کا خاکہ (b) دماغ کا سیجیٹل تراش
21.4.1 اگلا دماغ (Forebrain)
اگلا دماغ، سیری برم (Cerebrum)، تھیلیمس (Thalamus) اور ہائپو تھیلیمس پر مشتمل ہوتا ہے۔ سیری برم انسانی دماغ کاسب سے بڑاحصہ ہے۔ ایک گہرا شگاف سیری برم کو طول البلدی طور پر دو نصف حصوں میں تقسیم کرتا ہے جن کو بایاں اور دایاں سیربرل نصف کرہ (Cerebral Hemispheres) کہتے ہیں۔ یہ نصف کرّے ایک عصبی ریشے کے دائرے کارپس کیلوسم کے ذریعے باہم جڑے رہتے ہیں۔ سیریبرل نصف کرے کے اوپر خلیوں کی تہہ کا ایک غلاف ہوتا ہے جسے سیریبرل کارٹیکس کہتے ہیں اور اس میں نمایاں تہیں/پرتیں ہوتی ہیں۔ اس کے سرمئی رنگ کی وجہ سے اس کو گرے میٹر (Grey Matter) کہتے ہیں۔ یہ رنگ عصبیوں کے خلوی اجسام کے ارتکاز کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ سیریبرل کارٹیکس میں حرکی خطے (Motor Areas)، حسی خطے (Sensory Areas) اور ایسے بڑے خطے ہوتے ہیں جو نہ تو صاف طور پر حرکی اور نہ ہی حسی عمل والے ہوتے ہیں۔ یہ خطے ایسوسی ایشن خطے کہلاتے ہیں اور بین الحواسی ایسو سی ایشن، یادداشت اورترسیل جیسے پیچیدہ عملوں کو انجام دیتے ہیں۔ یہ اس تہہ کو غیر شفاف سفید ظاہری شکل دیتے ہیں لہٰذا وہائٹ میٹر (White Matter) کہلاتا ہے۔ سیریبرم ایک ساخت کو چاروں طرف سے گھیرے رہتا ہے جسے تھیلیمس کہتے ہیں یہ حسی اور حرکی اشاروں کی ربط دہی کا مرکز ہے۔ تھیلیمس کے ٹھیک نیچے دماغ کا ایک اور اہم حصہ ہوتا ہے جسے ہائپوتھیلیمس کہتے ہیں۔ ہائپو تھیلیمس میں جسمانی درجۂ حرارت اور کھانے پینے کو کنٹرول کرنے والے بہت سے مرکز ہوتے ہیں۔ اس میں عصبی افرازوالے خلیوں کے بہت سے مجموعے بھی ہوتے ہیں جو ہارمون کو خارج کرتے ہیں اور ان اخراج کو ہائپوتھیلیمک ہارمون کہتے ہیں۔ سیریبرل نصف کرے کے اندرونی حصے اور گہرائی میں پائے جانے والے ساخت جیسے امیگڈالا، ہپّو کیمپس وغیرہ کا مجموعہ ایک پیچیدہ ساخت بناتے ہیں جس کو لمبک لوب یا لمبک نظام کہتے ہیں۔ ہائپوتھیلیمس کے ساتھ مل کر یہ جنسی رجحان، جذباتی ردِعمل (برانگیختگی، تفریح، غصہ اور خوف) اور جوش آفرینی کے ربط دہی کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
21.4.2 وسطی دماغ (Midbrain)
وسطی دماغ تھیلیمس/ہائپوتھیلیمس (اگلے دماغ کا) اور پچھلے دماغ کے پونز کے درمیان واقع ہوتا ہے۔ سیریبرل ایکواڈکٹ نامی نالی مڈبرین کے درمیان سے گزرتی ہے۔ مڈبرین کا ظہری حصہ چارگول ابھاروں (Lobes) پر مشتمل ہوتا ہے جس کو کارپوراکواڈریجیمینا (Corpora Quadrigemina) کہتے ہیں۔
21.4.3 پچھلا دماغ (Hindbrain)
پچھلا دماغ، پونز، سیری بیلم اور میڈولا (اسے میڈولا ابلنگاٹابھی کہتے ہیں) پر مشتمل ہوتا ہے۔ پونز ریشے دار دائرے کا بنا ہوا ہوتا ہے جو دماغ کے مختلف حصوں کو باہم جوڑتا ہے۔ سیری بیلم کی سطح بڑی بل کھائی ہوتی ہے جو عصبیوں کے لیے اضافی جگہ مہیا کرتی ہے۔ دماغ کا میڈولا حرام مغز سے جڑی رہتی ہے۔ میڈولا میں وہ مراکز ہوتے ہیں جو تنفس، قلیی وعائی اضطرار اور ہضم کے لیے اخراج پر قابو رکھتے ہیں۔دماغ کے خلیہ کے تین علاقے ہوتے ہیں درمیانی دماغ، پونز اور میڈولااولاگاٹا۔ دماغ کے خلیے دماغ اور ریڑھ کے درمیان رابطے قائم کرتے ہیں۔
21.5 اضطراری عمل اور اضطراری قوس (Reflex Action and Reflex Arc)
آپ نے ضرور مشاہدہ کیا ہوگا کہ جب ہمارے جسم کا کوئی حصہ بہت گرم یا سرد یا نوکیلی شئے سے چھوجاتاہے تو ہم فوری طور پر جسم کا وہ حصہ وہاں سے ہٹا لیتے ہیں یا جب کوئی خوفناک یا زہریلا جانور دیکھتے ہیں تو فوراً وہاں سے ہٹ جاتے ہیں۔ محیطی عصبی ہیجان کے خلاف یہ تمام جوابی کارروائی غیر ارادی طور پر واقع ہوتی ہے یعنی اس میں ہمارے ارادے کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ اس عمل کے ہونے کے لیے مرکزی عصبی نظام کے کچھ حصے کی دخل اندازی ضروری ہے۔ اس غیرارادی عمل کو اضطراری عمل کہتے ہیں۔ اضطراری پاتھ وے کم سے کم ایک درآید عصبیے (رسیپٹر) اور ایک برآوری عصبیے (ایفیکٹریا ایکسائٹر) جو ایک مخصوص انداز میں مرتب ہوتے ہیں پر مشتمل ہوتا ہے۔ درآید عصبیہ سگنل کو حسی عضو سے وصول کرتا ہے اور ہیجان کو ظہری عصبی روٹ کے راستے سے CNS (حرام مغز کی سطح پر) کوارسال کرتا ہے۔ برآوری عصبیہ اس سگنل کو CNS سے لے کر ایفیکٹر تک پہنچاتا ہے۔ اس طرح مہیج اور جوابی عمل /رد عمل (Response) ایک اضطراری قوس بناتے ہیں جیسا کہ نیچے گھٹنے کے اضطراری جھٹکے میں دکھایا گیا ہے۔ آپ شکل 21.5 کا غور سے مطالعہ کریں اور گھٹنے کے اضطراری جھٹکے کے میکانزم کو سمجھیں۔

شکل 21.5 اضطراری عمل کا ڈائگرام گھٹنے کے اضطراری جھٹکے کو دکھاتے ہوئے
21.6 حسی وصول یابی اور پروسیسنگ
(Sensory Reception and Processing)
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ماحول میں موسمی تبدیلیوں کو آپ کیسے محسوس کرتے ہیں؟ آپ کسی شئے کو اور اس کے رنگ کو کیسے دیکھتے ہیں؟ آپ کوئی آواز کیسے سنتے ہیں؟ ماحول میں ہوئی ہر طرح کی تبدیلیوں کو حسی عضو محسوس کرتے ہیں اور CNS کو اس کا مناسب سگنل بھیجتے ہیں جہاں آنے والے تمام سگنل کی پروسیسنگ اور تجزیہ کیا جاتا ہے۔ یہ سگنل پھر مختلف حصوں/دماغ کے مراکز کو بھیجے جاتے ہیں۔ اس طرح سے آپ ماحول کی تبدیلیوں کو محسوس کرتے ہیں۔ آگے کے سیکشن میں آپ کو آنکھ (بینائی کے لیے حسی عضو) اور کان (سماعت کے لیے حسی عضو) کی ساخت اور کاموں سے متعارف کیا جائے گا۔
21.6.1 آنکھ (Eye)
ہماری دو آنکھیں کھوپڑی کے گڈھوں (آربٹ) میں ہوتی ہیں۔ اس سیکشن میں انسانی آنکھوں کی ساخت اور کام کا مختصراً بیان دیا گیا ہے۔
21.6.1.1 آنکھ کے حصے (Parts of an Eye)
آنکھ کے اہم حصے شکل 21.6 میں دکھائے گئے ہیں۔ ایک بالغ انسان کی آنکھ کی ساخت تقریباً گول ہوتی ہے۔ آنکھ کے گولے کی دیوار میں تین تہیں ہیں۔ باہری دیوار دبیز اتصالی بافت (Connective Tissue) کی بنی ہوتی ہے اور اسکلیرا (Sclera) کہلاتی ہے۔ آگے والا حصہ کورنیا کہلاتا ہے۔ درمیانی تہہ، کورائیڈ (Choroid) میں کئی شریانیں ہوتی ہیں جن کا رنگ نیلگوں مائل ہوتا ہے۔ پچھلے دو تہائی میں کورائیڈ تہہ مہین ہوتی ہے لیکن آگے چل کر موٹی ہو جاتی ہے اور سیلیری باڈی کہلاتی ہے۔ سیلیری باڈی آگے چل کر خود رنگین اورغیر شفاف ساخت آئریس (Iris) بناتی ہے جو آنکھ میں نظر آنے والا رنگین حصہ ہے۔ آنکھ کے گولے کے اندر ایک بلوری عدسہ (Lens) ہوتا ہے جو لیگامینٹ (رباط) کے ذریعے سیلیری باڈی سے جڑا رہتا ہے۔ عدسے کے آگے ایک سوراخ ہوتا ہے جو آئریس سے گھرا رہتا ہے اسے لپیوپل (Pupil) کہتے ہیں۔ آئریس کے عضلی ریشوں کے ذریعہ پیوپل کے قطر کو حسبِ ضرورت تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
اندرونی تہہ کو ریٹینا کہتے ہیں اور اس کی تین تہیں ہوتی ہیں، یعنی اندر سے باہر کی جانب گنگیاں خلیے، بائی پولر خلیے اور فوٹورسیپٹرخلیے۔ فوٹورسیپٹر خلیے دو طرح کے ہوتے ہیں یعنی چھڑ نما (Rods) اورمخروط نما (Cones) ان خلیوں

شکل 21.6 آنکھ کے حصّوں اور شبیہ کے بننے کو دکھاتے ہوئے
میں روشنی کو محسوس کرنے والے پروٹین ہوتے ہیں جنھیں فوٹوپگمینٹز کہتے ہیں۔ مخروط نما خلیوں کا کام دن میں بصارت (فوٹوپک) اور رنگوں کو محسوس کرنے کا اورچھڑ نما خلیوں کا کام شام (اسکوٹوپک) کی روشنی کو محسوس کرنے کا ہوتا ہے۔ چھڑ نما خلیوں میں ارغوانی سرخ رنگ کا پروٹین ہوتا ہے جسے روڈاپسن کہتے ہیں۔ یہ وٹامن A کا ماخذ ہے۔ انسانی آنکھ میں تین طرح کے مخروط نماخلیے ہوتے ہیں جن میں سرخ، سبز اور نیلے رنگ کی روشنی کو محسوس کرنے والے مخصوص فوٹوپگمینٹز ہوتے ہیں۔ ان مخروط نماخلیے کے فوٹو پگمینٹز کے مختلف اتصال یا اتحاد سے مختلف رنگوں کے احساسات پیدا ہوتے ہیں۔ جب یہ مخروط نما خلیے یکساں طور پر مشتعل ہوتے ہیں تو سفید رنگ کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
بصری اعصاب آنکھ سے نکلتے ہیں اور ریٹینا کی شریانیں ان میں ایسی جگہ پر داخل ہوتی ہیں جو آنکھ کے گولے کے پیچھے درمیان سے ذرا اوپر واقع ہوتا ہے۔ یہاں فوٹورسیپٹر خلیے نہیں موجود ہوتے لہٰذا اس جگہ کو بلائینڈ اسپاٹ (Blind Spot) کہتے ہیں۔ آنکھ کے پچھلے حصے میں بلائینڈاسپاٹ کے بغل میں پیلے رنگ کا اسپاٹ ہوتا ہے، میکیولالیوٹیا (Macula Lutea) جس کے بیچ میں ایک گڈھا ہوتا ہے جس کو فوویا سینٹراٹس (Fovea Centratis) کہتے ہیں۔ فوویا، ریٹینا کا وہ پتلا ہوتا ہوا گہرا حصہ ہے جہاں صرف مخروطی کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں بصارت کی تیزی (ریزیولیوشن) سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
کارنیا اور عدسے کے درمیان کی جگہ کو ایکوس چیمبر (Aqueous Chamber) کہتے ہیں، اس میں ایک پتلا پانی جیسا سیال بھرارہتا ہے۔ اس کا نام ایکوس ہیومر (Aqueous Humor) ہے۔ عدسے اور ریٹینا کے درمیان کی جگہ کو ویٹرس چیمبر (Vitreous Chamber) کہتے ہیں۔ اس میں شفاف جِیل، ویٹریس ہیومر بھرا ہوتا ہے۔
21.6.1.2 بصارت کا میکانزم (Mechanism of Vision)
بصارتی موجِ طول کی شعاعیں کورنیا اور عدسے سے گزر کر ریٹینا پر مرکوز ہوتی ہیں اور راڈز اور کونز میں پوٹینشیل (ہیجان) پیدا کرتی ہیں۔ جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے، انسانی آنکھ میں فوٹوحساس مرکبات (فوٹوپگمینٹز)، آپسِن (Opsin) ایک پروٹین اور ریٹینل (Retinal) (وٹامن اے کا الڈیہائڈ) ہوتے ہیں۔ روشنی پڑنے پر آپسِن سے ریٹینل الگ ہو جاتا ہے اور آپسن کی ساخت میں تبدیلی آجاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں فوٹورسیٹپر خلیوں میں مضمر فرق پیدا ہوتا ہے۔ اس وجہ سے ایک سگنل پیدا ہوتا ہے جو بائی پولر خلیوں کی مدد سے گیگلیان خلیوں میں ایکشن پوٹینشیل پیدا کرتا ہے۔ آپٹک اعصاب کے ذریعے ان ایکشن پوٹینشیل (ہیجانات) کو دماغ کے بصارتی کارٹیکس (Visual Cortex) میں ارسال کیا جاتا ہے جہاں ان عصبی لہروں کا تجزیہ کیا جاتا ہے اور پرانی یادداشت اور تجربات کی بنیاد پر ریٹیناپر شبیہہ (Image) ابھرتی ہے۔
21.6.2 کان (The Ear)
کان دو حسی کاموں کو انجام دیتے ہیں، سماعت اور جسم میں توازن برقرار رکھنا۔ ازروے تشریح کان کو تین اہم حصوں میں بانٹا جاتا ہے۔ یہ باہری کان، درمیانی کان اور اندرونی کان ہیں(شکل 21.7) ۔ باہری کان، پِنّا (Pinna) یا اریکیولا اور باہری سمعی میٹس (External Auditory Meatus) پر مشتمل ہوتا ہے۔ پنّا ہوا میں ارتعاش کو جمع

شکل 21.7 کان کا خاکئی منظر
کرتا ہے جو آواز پیدا کرتا ہے۔ باہری سمعی میٹس اندر کی جانب جاتا ہے اور کان کے پردے (Tympanic Membrane) تک جاتی ہے، اس کان کے پردے کو ایرڈرم بھی کہتے ہیں۔ پنا اور میٹس کی کھال میں بہت مہین بال ہوتے ہیں اور روغن دار غدود جن سے مومی اخراج ہوتا ہے، ٹمپینک جھلی، اتصالی بافت کی بنی ہوتی ہے اور باہر سے کھال اور اندرونی جانب میوکس جھلی سے ڈھکی رہتی ہیں۔ درمیانی کان میں تین چھوٹی ہڈیاں میلیس (Melleus)، انکس (Incus) اور اسٹیپس(Stapes) جو زنجیر کی طرح آپس میں جڑی رہتی ہیں۔ میلیس، ٹمپینک جھلی سے اور اسٹیپس کا کلیا میں موجود بیضوی کھڑکی سے جڑی رہتی ہے۔ کان کی یہ ہڈیاں صوتی لہروں کو اندرونی کان تک بھیجنے کے عمل کومزید تیز تر کر دیتی ہیں۔ ایک یواسٹیشین ٹیوب (Eustachian Tube) درمیانی کان کی جگہ کو فیرنگس (Pharynx) سے جوڑتی ہیں۔ یہ ٹیوب کان کے پردے کے دونوں جانب کے دباؤ کو برابر کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
سیال سے بھرے اندرونی کان، لیبرینتھ (Labyrinth) دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے، ہڈی دار اور جھلی دار لیبرینتھ۔ ہڈی دار لیبرینتھ نالیوں کا ایک سلسلہ ہے۔ ان نالیوں میں جھلی دار لیبرینتھ ہے جو ایک سیال پیری لیمف (Perilymph) سے گھرا رہتا ہے۔ لیکن جھلی دار لیبرینتھ، اینڈولِمف سے بھرا رہتا ہے۔ لیبرینتھ کا مڑا ہوا حصہ کوکلیا(Cock lea) کہلاتا ہے۔ کوکلیا دو جھلیوں بیسی لر جھلی اور رائسز (Reissnr's) جھلی کی مدد سے تین خانوں میں بٹا رہتا ہے۔ اوپر، درمیانی اور نچلا خانہ بالترتیب اسکالاویسٹپولا، اسکالامیڈیا اور اسکالاٹمپینی کہلاتا ہے۔ اسکالا ویسٹی بولائی اور سکالی ٹمپینی، پیری لمف اور اسکالا میڈیا، اینڈولمف سے بھرا رہتا ہے۔ اسکالا ویسٹی بولائی، کاکلیا کے نیچے بیضوی کھڑ کی کے نیچے ختم ہوتا ہے جبکہ اسکالا ٹمپینی گول کھڑکی پر ختم ہوتا ہے۔
آرگن آف کارٹی (Organ of Corti) وہ ساخت ہے جو بیسی لر جھلی پر ہوتے ہیں اور ان میں بال خلیے پائے جاتے ہیں جو سمعی رسیٹپر کی طرح کام کرتے ہیں۔ بال خلیے آرگن آف کارٹی کی اندرونی جانب قطار میں ہوتے ہیں۔

شکل 21.8 اندرونی کان کا وسیع منظر
بال خلیے کا نچلا سرا درآمد عصبیے سے قریبی ربط بنائے رکھتا ہے۔ ہر بال خلیے کے اوپری سرے سے بہت سارے بال نما ابھار سے نکلے رہتے ہیں جن کو سٹیریو سیلیا (Stereo Cilia) کہتے ہیں۔ بال خلیوں کی قطار کے اوپر ایک مہین لچیلی جھلی، ٹیکٹوریل جھلی (Tectorial Membrane) ہوتی ہے۔
اندرونی کان میں ایک پیچیدہ نظام ویسٹی بیولر اپریٹس (Vestibular Apparatus) ہوتاہے جو کاکلیا کے اوپر واقع ہوتا ہے۔ ویسٹی بیولر اپریٹس، تین نیم دائری نلکیوں اور اوٹولیتھ آرگن (Otolith Organ) پر مشتمل ہوتا ہے۔ اوٹولیتھ آرگن سیکیول (Saccule) اور یوٹریکل پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہرنیم دائری نلکی ایک دوسرے سے زاویہ قائمہ پر مختلف سطحوں پر ہوتی ہے۔ جھلی دار نلکیاں ہڈی دار نلکی میں بھرے ہوئے پیری لمف میں معلّق ہوتی ہیں۔ نلکیوں کا نچلا حصہ متورم ہوتا ہے اور ایمپولا (Ampulla)کہلاتا ہے۔ اس میں ایک ابھری ہوئی لکیر ہوتی ہے جسے کرسٹا ایمپولیرس (Crista Ampullaris)کہتے ہیں جس میں بال خلیے ہوتے ہیں۔ سیکیول اور یوٹریکل میں بھی ابھری ہوئی لکیر میکیولا ہوتا ہے۔ کرسٹا اور میکیولا، ویسٹی بیولر اپریٹس کے مخصوص رسیپٹرز ہیں جو جسم کی وضع اور توازن کو قائم رکھنے کے لیے ذمہ دار ہیں۔
21.6.2.1 سماعت کا میکانزم (Mechanism of Hearing)
ہمارے کان صوتی لہروں کو عصبی لہروں میں کیسے تبدیل کرتے ہیں، جو دماغ کے ذریعے محسوس اور پروسس کی جاتی ہیں اور ہم آواز کو پہچان سکتے ہیں؟ باہری کان صوتی لہروں کو وصول کرکے ایرڈرم تک بھجتا ہے۔ ان صوتی لہروں کے ردِ عمل پر ایرڈرم میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے اور یہ ارتعاش تین چھوٹی ہڈیوں (میلیس، انکس اور اسٹیپس) کے ذریعے بیضوی کھڑکی تک پہنچاتا ہے۔ پھر یہ ارتعاش بیضوی کھڑکی سے گزر کر کاکلیا کے سیال تک پہنچتا ہے جہاں وہ لِمف میں لہریں پیدا کرتا ہے۔ لمف میں یہ لہریں بیسی لرجھلی میں ہلکی لہریں پیدا کرتی ہیں۔ بیسی لر جھلی کی یہ حرکات بال خلیوں میں خم پیدا کرتے ہیں اور ٹیکٹوریل جھلی کی طرف دباؤ ڈالتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں متعلقہ در آور عصبیوں میں عصبی ہیجانپیدا ہوتے ہیں۔ درآور ریشوں کے ذریعے ہیجان، سمعی اعصاب کے راستے سے دماغ کے سمعی کارٹیکس میں پہنچتی ہیں جہاں ان ہیجانات کا تجزیہ ہوتا ہے اور آواز کی پہچان عمل میں آتی ہے۔
خلاصہ
عصبی نظام تحولی اور ہومیواسٹیٹک اور دیگر افعال میں ربط دہی اور یک جہتی بحال کرتا ہے۔ عصبیے، عصبی نظام کی تفاعلی اکائی ہیں جو جھلی کے آرپارآینوں کے تفرقی ارتکازی ڈھلان سے مشتعل ہونے والے خلیے ہیں۔ ریسٹنگ عصبی جھلی کے آرپار برقی پوٹینشیل فرق کوریسٹنگ پوٹینشیل کہتے ہیں۔ ایکسن جھلی کے پار آغازی لہر سے پیدا ہوئے برقی پوٹینشیل فرق کو ایکشن پوٹینشیل کہتے ہیں۔ عصبی ہیجان کا ایصال ایکسن جھلی میں ڈیپولارائزیشن اور ری پولارائزیشن کی عمل کے دہرانے سے ہوتا ہے۔
پری سنیاپٹک اور پوسٹ سنیاپٹک عصبیوں کی جھلیوں سے سیناپس بنتا ہے جن کے درمیان خلاہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی ۔ اس خلا کو سیناپٹک کلیفٹ کہتے ہیں۔ دو طرح کے سیناپس ہوتے ہیں، برقی اور کیمیائی سیناپس۔ کیمیائی سیناپس میں ہیجان کی ترسیل کے لیے ہونے والے کیمیا کو نیوروٹرانسمیٹرز کہتے ہیں۔
انسانی عصبی نظام دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے (i) مرکزی عصبی نظام (CNS) اور (ii) محیطی عصبی نظام (PNS)۔ CNS دماغ اور حرام مغز پر مشتمل ہوتا ہے۔ دماغ تین اہم حصوں میں بانٹا جاسکتا ہے (i) اگلا دماغ (ii) وسطی دماغ اورپچھلا دماغ۔اگلا دماغ، سیری برم، تھیلیمس اور ہائپوتھیلیمس پر مشتمل ہوتا ہے۔ سیربرم طول البلدی طور پر دو نصف حصوں میں منقسم ہوتا ہے اور کارپس کیلوسم کے ذریعے آپس میں جڑا رہتا ہے۔اگلا دماغ کا بہت اہم حصہ ہائپوتھیلیمس، جسم کا درجۂ حرارت اور کھانے،پینے کو کنٹرول کرتا ہے۔ سیربرل نصف کرے اور متعلقہ گہرائی والے حصوں کا مجموعہ پیچیدہ ساخت لمبک نظام بناتے ہیں جو بصارت، خود اختیاری کاروائی جنسی رجحان، جذباتی ردِعمل کے اظہار اور تحریک سے متعلق ہیں۔ وسطی دماغ، بصارتی، لمسی اور سمعی اشاروں کو وصول کر کے ملاتا ہے۔ پچھلا دماغ، پانز، سیریبلم اور میڈولا پر مشتمل ہے۔ کان گی نیم دائری نلکیوں اور سمعی نظام سے آئی ہوئی اطلاعات کی تکمیل سیریبیلم کرتا ہے۔ میڈولا میں وہ مراکز ہیں جو تنفس، قلبی دعائی اضطراری اور ہاضمے والے اخراج کو کنٹرول کرتے ہیں۔ پانز ریشے دار دائرہ نما ہوتا ہے جو دماغ کے مختلف حصّوں کو باہم جوڑتا ہے۔
محیطی عصبی اشتعال کے غیرارادی جواب کے تمام عملوں کو اضطراری یا غیر شعوری عمل کہتے ہیں۔
CNS حسی اعضا کے ذریعے ماحول میں تبدیلی سے متعلق اطلاعات کا وصول، پروسس اور تجزیہ کرتا ہے اور ضروری توافق کے لیے سگنل بھیج دیا جاتا ہے۔
انسانی آنکھ کے گولے میں تین تہیں ہوتی ہیں جس کو کورائیڈ کہتے ہیں۔ سب سے اندرونی تہہ ریٹینا میں دو طرح کے فوٹورسیپٹر خلیے ہوتے ہیں، چھڑ نما اور مخروطی۔ ان خلیوں میں روشنی کے لیے حساس پروٹینز فوٹوپگمینٹ ہوتے ہیں۔ مخروطی خلیے کی روشنی میں بصارت (Photopic) اور چھڑ نما خلیے شام کی روشنی میں بصارت (Scotopic) میں مدد کرتے ہیں۔ روشنی کارنیا اور عدسے کے ذریعے آنکھ میں داخل ہوتی ہے اور چیزوں کی شبیہ ریٹینا پر بنتی ہے۔ ریٹینا میں پیدا ہوئی لہریں، بصری عصبیے کے ذریعے دماغ کے بصارتی کارٹیکس حصے میں پہنچتی ہیں جہاں یہ عصبی لہروں کا تجزیہ ہوتا ہے اور ریٹینا پر بنی ہوئی شبیہ کی شناخت ہوتی ہے۔
کان، باہری، درمیانی اور اندرونی حصوں میں منقسم ہے۔ کان کا باہری حصہ پنا اور باہری سمعی میٹس پر مشتمل ہوتا ہے۔ درمیانی کان میں تین چھوٹی ہڈیاں، میلییس، انکس اور اسٹیپس ہوتی ہیں۔ سیال سے بھرا ہوا اندرونی کان لیبرنتھ کہلاتا ہے اور لیبرنتھ کا گھماؤ والا حصہ کاکلیا کہلاتا ہے۔ کاکلیا دو جھلیوں: بیسی لر اور رائز نر جھلی کی مدد سے تین خانوں میں منقسم رہتا ہے۔ آرگن آف کارٹی وہ ساخت ہے جس میں بال خلیے جو سمعی رسیپٹرز کا کام کرتے ہیں، اور بیسی لر جھلی پر واقع ہوتے ہیں۔ کان کے پردے میں پیدا ہونے والے صوتی ارتعاش، تین چھوٹی ہڈیوں کے ذریعے، بیضوی کھڑکی سے گزر کر سیال سے بھرے اندرونی کان میں پہنچتے ہیں جہاں وہ بیسی لر جھلی میںہلکی لہریں پیدا کرتے ہیں۔ بیسی لر جھلی کی حرکت بال خلیوں کو موڑتی ہے جو ٹیکٹوریل جھلی میں دبائو ڈالتے ہیں۔ نتیجتاً، عصبی لہریں پیدا ہوتی ہیں اور درآور ریشوں کے ذریعے دماغ کے سمعی کارٹیکس تک پہنچتی ہیں۔ اندرونی کان میں بھی کاکلیا کے اوپر ایک پیچیدہ نظام موجود ہوتا ہے جس کو ویسٹی بیولر اپرٹیس کہتے ہیں۔ یہ ثقل اور حرکات سے متاثر ہوتا ہے اور جسم کی وضع اور توازن کو قائم رکھنے میں مدد کرتا ہے۔
مشق
1۔ مندرجہ ذیل کی ساخت کو مختصراً بیان کیجیے:
(a) دماغ (b) آنکھ (c) کان
2۔ مندرجہ ذیل کا موازنہ کیجیے:
(a) مرکزی عصبی نظام اور محیطی عصبی نظام
(b) ریسٹنگ پوٹینشیل اور ایکشن پوٹینشیل
(c) کورائیڈ اور ریٹینا
3۔ مندرجہ ذیل عملوں کو سمجھائیے:
(a) عصبی ریشے کی جھلی کا پولارائزیشن
(b) عصبی ریشے کی جھلی کا ڈیپولارائزیشن
(c) عصبی ریشے میں عصبی لہر کا ایصال
(d) کیمیائی سیناپس کے پار عصبی لہر کی ترسیل
4۔ مندرجہ ذیل کی اشارتی تصویر بنائیے:
(a) عصبیہ (b) دماغ (c) آنکھ (d) کان
5۔ مندرجہ ذیل کے بارے میں مختصراً لکھیے:
(a) عصبی ایصال (b) اگلا دماغ (c) وسطی دماغ (d) پچھلا دماغ
(e) ریٹینا (f) کان کی چھوٹی ہڈیاں (g) کاکلیا
(h) آرگن آف کارٹائی (i) سیناپس
6۔ مختصراً بیان کیجیے:
(a) سیناپٹک ترسیل کا میکانزم
(b) بصارت کا میکانزم
(c) سماعت کا میکانزم
7۔ مختصراً جواب دیجیے
(a) کسی شے کا رنگ آپ کیسے محسوس کرتے ہیں؟
(b) ہمارے جسم کا کون سا حصہ جسمانی توازن کو قائم رکھنے میں مدد کرتا ہے؟
(c) ریٹیناپر پڑنے والی روشنی کو ہماری آنکھ کس طرح کنٹرول کرتی ہے؟
8۔ سمجھا کر لکھیے:
(a) ایکشن پوٹینشیل کے پیدا ہونے میں Na+ کا کردار
(b) سیناپس پر نیوروٹرانسمیٹرز کے اخراج میں Ca+ کا کردار
(c) ریٹینا میں روشنی کی وجہ سے پیدا ہونے والے ہیجان کا میکانزم
(d) وہ میکانزم جس کے ذریعے آواز، اندرونی کان میں عصبی لہر پیدا کرتی ہے۔
9۔ مندرجہ ذیل کے درمیان فرق کی وضاحتکیجیے:
(a) مائیلی نیٹڈ اور غیر مائیلی نیٹڈ ایکسن
(b) ڈینڈرائٹز اور ایکسن
(c) چھڑنما اور مخروطی خلیے
(d) تھیلیمس اور ہائپوتھیلیمس
(e) سیربرم اور سیریبلم
10۔ مندرجہ ذیل سوالات کے جواب دیجئے۔
(a) کان کا کون سا حصہ آواز کی پچ کا تعین کرتا ہے؟
(b) انسانی دماغ کا کون سا حصہ سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہے؟
(c) ہمارے مرکزی عصبی نظام کا کون سا حصہ ماسٹر کلاک کا کردار ادا کرتا ہے؟
11۔فقری جانوروں کی آنکھ کا وہ حصہ جہاں سے بصری عصب ریٹیناسے باہر جاتی ہے اس کو
(a) فوویا کہتے ہیں
(b) آئرس کہتے ہیں
(c) بلائنڈ اسپاٹ کہتے ہیں
(d) آپٹک کیازما کہتے ہیں
12۔ مندرجہ ذیل میں تفریق کیجئے:
(a) اے فرنٹ نیوراں اور ای فرنٹ نیوران
(b) مائلی نیٹڈ اور غیر مائلی نیٹڈاعصاب میں ہیجان کی ترسیل
(c) ایکوس ہیومر اور وٹریسس ہیومر
(d) بلائنڈ اسپاٹ اور پیلا اسپاٹ
(f) کرنییل عصبیہ اور اسپائنل عصبیہ