Skip to content


باب 22

کیمیائی ربط دہی اور اشتراک

(Chemical Coordination and Integration)

21.1 اینڈوکرائن غدود اور ہارمونز

21.2 انسانی اینڈوکرائن نظام

21.3 قلب، گردے اور ہاضمے کی نلی کے ہارمونز

21.4 ہارمون ایکشن کا میکانزم

آپ پہلے ہی پڑھ چکے ہیں کہ عصبی نظام مختلف اعضا میں ایک نقطے سے دوسرے نقطے تک ربط دہی مہیا کرتا ہے۔ عصبی ربط دہی تیز ضرور ہوتی ہے مگر بہت کم عرصے کے لیے ہوتی ہے۔ چونکہ عصبی ریشہ جسم کے تمام خلیوں تک نہیں پہنچتا اور خلیوں کے افعال کو مسلسل ربط دہی کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا انہیں مخصوص ربط دہی اور ریگولیشن کی ضرورت درکار ہے۔ یہ کام ہارمون کرتے ہیں۔ عصبی نظام اور اینڈوکرائن نظام مل کر جسم کے عضویاتی افعال کی ربط دہی اوران کی باقاعدگی میں مدد کرتے ہیں۔

22.1 اینڈو کرائن غدود اور ہارمون

(Endocrine Glands and Hormones)

اینڈوکرائن غدود میں نالیاں نہیں ہوتیں اس لیے ان کو بے نالی غدود کہتے ہیں۔ ان کے افراز کو ہارمون کہتے ہیں۔ ہارمون کی قدیم تعریف کے مطابق یہ وہ کیمیا ئی اشیاہیں جو اینڈوکرائن غدود میں بنتے ہیں اور خون میں خارج کردیے جاتے ہیں اور دورواقع ہدفی اعضا تک لے جائے جاتے ہیں اس کی ترمیم شدہ تعریف مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان کی جارہی ہے: ’’ہارمون غیرمغذیاتی کیمیا ہیں جو بین الخلوی پیغام رساں کی حیثیت سے کام کرتے ہیں اور خفیف مقدار میں پیدا ہوتے ہیں‘‘ نئی تعریف منظم اینڈوکرائن غدود میں بننے والے ہارمون کے علاوہ کئی نئے سالموں کو اپنے احاطے میں لے لیتی ہے۔

غیر فقری جانوروں میں اینڈوکرائن نظام بہت سادہ ہوتا ہے جس میں چند ہارمون ہی تیار ہوتے ہیں۔ جبکہ  فقری جانوروںمیں کئی کیمیا ہارمونز کی طرح کام کرتے ہیں اور ربط دہی فراہم کرتے ہیں۔ انسانی اینڈوکرائن نظام ذیل میں بیان کیا گیا ہے۔

1st

شکل 22.1 اینڈوکرائن غدود کا وقوع

22.2 انسانی اینڈوکرائن نظام

    (Human Endocrine System)

اینڈوکرائن غدود اور ہارمونز بنانے والے نفوذی بافت/ خلیے ہمارے جسم کے مختلف حصوں میں پائے جاتے ہیں اور مجموعی طور پر اینڈوکرائن نظام کی تشکیل کرتے ہیں۔ ہمارے جسم میں ہائپوتھیلیمس، پٹیوٹری، پنیل، تھائرائیڈ، ایڈرینل، پنکریاز، پیراتھائرائیڈ، تھائمس اور گوناڈز (ٹیسٹزنر میں اور اوری مادہ میں) منظم اینڈوکرائن اجسام ہیں (شکل 22.1)۔ ان کے علاوہ کچھ دیگرا عضا مثلاً غذا کی نلی، جگر، گردے، قلب وغیرہ بھی ہارمون پیدا کرتے ہیں۔ آنے والے سیکشن میں ہمارے جسم میں موجود تمام اہم اینڈوکرائن غدود کی ساخت اور افعال کا مختصر بیان دیا جارہا ہے۔

22.2.1     ہائپو تھیلیمس        (The Hypothalamus)

ہم جانتے ہیں کہ ہائپو تھیلیمس اگلے دماغ کا نچلا حصہ ہے اور جسم کے کئی کاموں کو ریگولیٹ کرتا ہے (شکل 22.1)۔ اس میں عصبی افراز والے خلیوں کے کئی مجموعے ہوتے ہیں جن کو مرکزے کہاجاتا ہے جو ہارمون پیدا کرتے ہیں۔ یہ ہارمون، پٹیوٹری ہارمون کی تالیف اورافراز کو ریگولیٹ کرتے ہیں۔

ہائپوتھیلیمس میں پیدا ہونے والے ہارمون دو قسم کے ہوتے ہیں، اخراجی ہارمون (جو پٹیوٹری ہارمون کے افراز کو تحریک دیتے ہیں) اور مزاحمتی ہارمون (جو پٹیوٹری ہارمون کے افراز کو روکتے ہیں)۔مثال کے طور پر ہائپو تھیلیمک ہارمون جسے گونیڈوٹرافن ریلیزنگ ہارمون(GnRH) کہتے ہیں وہ گونیڈوٹرافن کی تالیف اور اس کے افراز کے لیے پٹیوٹری کو تحریک دیتا ہے۔ دوسری طرف ہائپو تھیلیمس سے افراز ہونے والا سومیٹو اسٹیٹن پٹیوٹری سے گروتھ ہارمون کے افراز کو روکتا ہے۔ یہ ہارمون ہائپوتھیلیمک نیوران سے شروع ہوتے ہیں، ایکسن سے ہوتے ہوئے ان کے عصبی سروں پر دوبارہ افراز ہوتے ہیں۔ یہ ہارمون پورٹل دورانی نظام کے ذریعے پیٹوٹری تک پہنچتے ہیں اور اینٹیریرپیٹوٹری کے کاموں میں باقاعدگی پیدا کرتے ہیں۔ پوسٹیریرپیٹوٹری کے کام براہ راست ہائپوتھیلیمس  کے عقبی کنٹرول میں ہوتے ہیں۔

22.2.2 پٹیوٹری غدود (The Pituitary Gland)

پٹیوٹری غدودایک ہڈی کے جوف سیلاٹر سیکا میںواقع ہوتا ہے اور ایک ڈنڈی کے ذریعے ہائپوتھیلیمس سے جڑا رہتا ہے(شکل 22.2)۔ ازروئے تشریح یہ ایڈینو ہائپوفائسس اور نیوروہائپو فائسس میں منقسم ہے۔ایڈینوہائپو فائسس کے دو حصے ہوتے ہیں، پارس ڈیسٹیلیس (Pars distalis)اور پارس انٹر میڈیا۔ پارس ڈیسٹیلیس یا اینٹیریروپٹیوٹری، گروتھ ہارمون (GH)یا پرولیکٹن (PRL)یا تھائرائیڈ اسٹیمولیٹنگ ہارمون (TSH)، ایڈرینو کارٹیکو ٹرافک ہارمون (ACTH)، لیوٹینا ئزنگ ہارمون (LH)اور فالیکل اسٹیمولٹینگ ہارمون (FSH) بناتا ہے۔ پارس انٹرمیڈیا صرف ایک ہارمون میلینو سائٹ اسٹیمولیٹنگ ہارمون (MSH)خارج کرتا ہے۔ لیکن انسانوں میں پارس انٹرمیڈیا تقریباً پارس ڈیسٹیلس میں ضم ہوگیا ہے۔ نیورو ہائپو فائسس (پارس نرووسا) جس کو پاسٹیریرپٹیوٹری بھی کہتے ہیں دو ہارمونز آکسیٹوسن اور ویسوپریسن کی ذخیرہ اندوزی اور ان کا افراز کرتاہے جن کی تالیف دراصل ہائپوتھیلیمس کرتا ہے۔

2nd

شکل 22.2     پٹیوٹری غدود اور ہائپو فیلیمس سے اس کے تعلق کو دکھاتاہوا خاکہ

GHکا اضافی اخراج جسم کی غیر معمولی نمو کرتا ہے اور عظیم الجہت  جسم بناتا ہے اور GHکا اعتدال سے کم اخراج پست قد کی نمو کرتا ہے جسے پٹیوٹری بونا پن کہتے ہیں۔ پرولیکٹین، پستانوں کی نمو کو اور ان میں دودھ بنانے کو ریگولیٹ کرتا ہے۔ تھائرائیڈ غدود سے تھائرائیڈ ہارمون کی تالیف اور اخراج کو TSHمتحرک کرتا ہے۔ ایڈرینل کارٹیکس سے اسٹیرائیڈ ہارمون گلوکو کارٹیکوائیڈز کی تالیف اور اخراج کو ACTHمتحرک کرتا ہے۔ LHاور FSHتولیدی اعضا کے عملوں کو تحریک دیتے ہیں اور گوناڈوٹرا فنز کہلاتے ہیں۔ نر میں انشیے(Testis) اینڈروجن ہارمون کی تالیف اور اخراج کو متحرک کرتا ہے۔ نر میں FSHاور اینڈروجن اسپر م کی تشکیل (Spermatogenesis)کو ریگولیٹ کرتے ہیں۔ مادہ میں LHپوری طرح سے بالیدہ فالیکل (گرافین فالیکلز) میں بیضہ بنانے کے عمل کا آغاز کرتا ہے، اور کارلپس لیوٹیم کو برقرار رکھتا ہے جو بیضہ نکلنے کے بعد گرافین فالیکلز کے بقیہ حصے سے بنتا ہے۔ مادہ میں FSH اوویرین فالیکلز کی نمو اور بالیدگی کو تحریک دیتا ہے۔ MSH میلینو سائٹس (میلینین والے خلیے) پر عمل کرتا ہے اور جلد میں پگمنٹیشن کو کنٹرول کرتا ہے۔ آکسیٹوسن ہمارے جسم کے ہموار عضلات پر عمل کرتا ہے اور ان کے انقباض کو تحریک دیتا ہے۔ مادہ میں بچے کی پیدائش کے وقت بچے دانی کا قوت کے ساتھ انقباض (Contraction)کرتا ہے اور پستانوں سے دودھ کو باہر نکالتا ہے۔ ویسو پریسن گردوں پر عمل کرتے ہیں اور ڈِسٹل ٹیوبیولز کے ذریعے پانی اور الیکٹرولائٹز کو دوبارہ جذب کرنے کے عمل میں مدد کرتا ہے اور اس طرح پیشاب کے ذریعے پانی کے نقصان کو کم کردیتا ہے (Diuresis)۔ لہٰذا اس ہارمون کو اینٹی ڈائی یوریٹک ہارمون (ADH) بھی کہتے ہیں۔

22.2.3 پینیل غدود (The Pineal Gland)

اگلے دماغ  کے ظہری جانب پینیل غدود موجود ہوتا ہے۔ یہ میلیٹونین ہارمون خارج کرتا ہے۔ ہمارے جسم کی 24 گھنٹے کی سائیکل (یومیہ) کوکو ریگولیٹ کرنے میں میلیٹونین بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مثلاً یہ سونے جاگنے کے دور کے تناسب کو، جسم کے درجۂ حرارت کو قائم رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ میلیٹونین تحول ، جسم کے رنگ اور ماہواری نیز ہمارے جسم کی دفاعی صلاحیت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

22.2.4 تھائرائیڈ غدود (Thyroid Gland)

تھائرائیڈ غدود دو لوبیولس پر مشتمل ہوتا ہے جوٹریکیا کے دونوں جانب واقع ہوتا ہے (شکل 22.3)۔ دو لوبیولس آپس میں ایک پتلے فیتے نما اتصالی بافت سے باہم جڑے رہتے ہیں جن کو استھمس کہتے ہیں۔ تھائرائیڈ غدود فالیکلز اور اسٹرومل بافت کا بنا ہوتا ہے۔ ہر تھائرائیڈ فالیکل، فالیکیولر خلیوں کا بنا ہوتا ہے اور ایک گڈھے کے چاروں طرف ہوتا ہے۔ یہ فالیکیولر خلیے دو ہارمونز ٹیڑا ٓیوڈو تھائیرونین یا تھائروگزین (T4)اور ٹرائی ایوڈو تھائیرونین (T3)بناتے ہیں۔ تھائرائیڈ ہارمون کے تالیف کی حسب معمول شرح کے لیے آیوڈین بہت اہم ہے۔ ہماری غذا اور پانی میں آیوڈین کی کمی کی وجہ سے ہائپوتھائرائیڈزم ہوجاتا ہے اور تھائرائیڈ غدود بڑھ جاتے ہیں۔ اس حالت کو گوائٹر (Goitre) کہتے ہیں۔ حاملہ خواتین میں ہائپوتھائیرائیڈزم کی وجہ سے بچے کی ناقص نمو اور بالیدگی ہوتی ہے جوآگے چل کر پست قد ’کریٹینزم‘ (Cretenism)، ذہنیکمزوری، ادنیٰ ذہانت میں کمی، غیر معمولی جلد، قوت گویائی اور سماعت کا کم ہوجانا جیسی علامتیں ظاہر کرتا ہے۔ بالغ عورتوں میں ہائپوتھائیرائیڈزم، ماہواری کے ایام میں بے قاعدگی پیدا کردیتا ہے۔ تھائیرائیڈ غدود کے کینسریا ان میں نوڈیولز کی نمو کی وجہ سے تھائیرائیڈ ہارمون کی تالیفی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہوجاتا ہے اور ہائپرتھائرائیڈزم کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے جو جسم کی فعلیات کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوتاہے۔

تھائیرائیڈ ہارمون بیسل میٹابولک شرح کو کنٹرول کرنے میں بے حد اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ہارمون آربی سی کی تشکیل میں بھی مدد بہم پہنچاتا ہے۔ تھائرائیڈ ہارمون           کاربو ہائیڈریٹ، پروٹینز اور چربی کے تحول کو کنٹرول کرتا ہے۔ ان کے ذریعے پانی اور الیکٹرولائٹ کا توازن بھی برقرار رہتا ہے۔ یہ غدود ایک پروٹین ہارمون تھائیروکیلسی ٹونن (TCT)بھی خارج کرتا ہے جو خون میں کیلشیم کی مقدار کو ریگولیٹ کرتا ہے۔

3rd

4th

شکل 22.3 تھائرائڈ سے جڑے    

(a) تھائرائڈ غدود    

(b)پیراتھائیرائڈ غدود

22.2.5 پیراتھائیرائیڈ غدود (Parathyroid Gland)

انسانوں میں تھائرائیڈ غدود کی پشت پر چار عدد پیرا تھائرائیڈ غدود موجود ہوتے ہیں ہر تھائرائیڈ غدود کے ساتھ دو (شکل 22.3(b)) پیرا تھائیرائیڈ غدود ایک پیپٹائڈ ہارمون، پیراتھائیرائیڈ ہارمون (PTH) خارج کرتے ہیں۔ کیلشیم آینوں کی دورانی سطحیں PTHکے افراز کو کنٹرول کرتے ہیں۔

PTHخون میں+ Ca2کی مقدار میں اضافہ کرتا ہے۔ پی ٹی ایچ ہڈیوں پر عمل کرتا ہے اور ہڈیوں کی انجذابی عمل کو تحریک دیتا ہے (تحلیل/ڈمنرالائیزیشن)۔ پی ٹی ایچ رینل ٹیوبیولزکے ذریعے کیلشیم آینوں کے دوبارہ انجذاب اور ہضم شدہ غدا سے ++Caکے انجذاب میں اضافہ کرتا ہے۔ لہٰذا یہ واضح ہے کہ پی ٹی ایچ ہائپر کیلسیمک ہارمون ہے یعنی یہ خون میں ++    Ca    کی مقدار میں اضافہ کرتا ہے۔ TCTکے ساتھ مل کر یہ جسم میں کیلشیم کے توازن کو برقرار رکھنے میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔

22.2.6 تھائمس (Thymus)

تھائمس غدود ایک لوبیولر ساخت کا،پھیپھڑوں  کے درمیان Sternum کے پیچھے ایورٹا کے وینٹریکل کی جانب واقع ہوتا ہے۔ تھائمس مامونی نظام (Immure system) کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ غدود ایک پیپٹائڈ ہارمون تھائیموسن خارج کرتا ہے۔ ٹی۔ لمفوسائٹز کی تخصیص میں تھائیموسنز ایک اہم کردار ادا کرتا ہے جو خلوی متوسط امیونیٹی (Cell-mediated immunity) مہیا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، تھائیموسینز، اینٹی باڈیز کی افزائش کو بڑھاوا دے کر اخلاطی امیونیٹی(Humoral immunity) فراہم کرتا ہے۔ عمر رسیدہ افراد میں تھائمس کا انحطاط (Degeneration) ہوجاتا ہے۔ اور تھائیموسینز کی پیداوار میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ لہٰذا عمر رسیدہ افراد میں مانونی جوابی کارروائی کمزور ہوجاتی ہے۔

22.2.7 ایڈرینل غدود (Adrenal Gland)

ہمارے جسم میں ایک جوڑی ایڈرینل غدودپائے جاتے ہیں۔ ہر گردے کے اوپری سرے پر ایک عدد ایڈدنیل غدہ ہوتا ہے (شکل 22.4)۔ یہ غدود دو قسم کے بافت کا بنا ہوتا ہے۔ مرکزی بافت ایڈرینل میڈولا اور بیرونی ایڈرینل کارٹیکس کہلاتا ہے (شکل 22.4)۔

5th

شکل 22.4     (a)گردے پر ایڈرینل غدود     (b) ایڈرینل غدود کے دوحصے دکھاتے ہوئے

ایڈرینل میڈولا دو ہارمونز ایڈرنیلین یا ایپی نفرین اور نورائڈر نیلین یا نورایپی نفرین خارج کرتا ہے۔ ان کو کیٹیکول امین بھی کہا جاتا ہے۔ ایڈرنیلین اور نورائڈرنیلین کسی بھی طرح دباؤ کے یا ناگہانی صورتِ حال کے جواب میں سرعت کے ساتھ خارج ہوتے ہے، اسی لیے ان کو ایمرجنسی ہارمونز یا جدوجہد کے ہارمونز کہتے ہیں۔ یہ ہارمونز، مستعدی، پتلیوں کے پھیلنے، بالوں کے کھڑے ہونے (Piloerection)، پسینہ آنے وغیرہ کے عمل کو تیز تر کردیتے ہیں۔ دونوں ہی ہارمونز قلبی نبض، قلب کی قوتِ انقباض اور تنفس کی شرح میں اضافہ کردیتے ہیں۔ کیٹیکول امین گلائکوجین کے بریک ڈاؤن کو بھی تحریک دیتے ہیں جس سے خون میں گلوکوز کا ارتکاز بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ لپڈ اور پروٹین کے بریک ڈاؤن کو بھی بڑھاوا دیتے ہیں۔

ایڈرینل کارٹیکس کو تین تہوں میں منقسم کیا جاتا ہے، زوناریٹی کولیرس (اندرونی تہہ)، زونافیسی کولیٹا (درمیانی تہہ) اور زوناگلومیرو لوسا (بیرونی تہہ) ۔ ایڈرینل کارٹیکس کئی ہارمون خارج کرتی ہے جن کو کارٹیکوائیڈ کہتے ہیں۔ ان میں سے وہ جو کاربوہائیڈریٹ کے تحول میں ملوث ہوتے ہیں ان کو گلوکو کارٹیکوائیڈ کہتے ہیں۔ ہمارے جسم میں کارٹیسول (Cortisol) خاص گلوکوکارٹیکوائیڈ ہے۔ اور وہ جو ہمارے جسم میں پانی اور الیکٹرولائٹس کے توازن کو برقرار رکھتے ہیں انہیں میزیلو کارٹیکو ائیڈز کہتے ہیں۔ ایلڈواسٹیرون خاص منریلو کارٹیکوائیڈ ہے۔

گلوکوکارٹیکوائڈز، گلائی کوجین سنتھیسس، گلوکونیوجینیسس، لائپولیسس اور پروٹیولیسس کو بڑھاوا دیتے ہیں، اور امینوایسڈ کے انجذاب اور استعمال کی مزاحمت کرتے ہیں۔ کارٹیسول قلبی- وعائی نظام اور گردوں کے عملیات کو برقرار رکھنے میں ملوث ہوتے ہیں۔ گلوکوکارٹیکوائیڈ خاص کر کارٹیسول اینٹی انفلامیٹری (Antinflamatory) تعاملات پیدا کرتا ہے اور مانونی جوابی عمل نظام کو دبا دیتا ہے۔ کارٹیسول، آر بی سی کی افزائش کو بڑھاتا ہے۔ ایلڈوسٹیرون خاص کر رینل ٹیوبیولز پر عمل کرتا ہے اور Na+اور پانی کے انجذاب کو اور K+اور فاسفورس آینوں کے اخراج کو بڑھاتا ہے۔ اس طرح ایلڈوسٹیرون، الیکٹرالائٹس، جسمانی سیال کا حجم، ولوجی دباؤ اور بلڈپریشر کو برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ ایڈرینل کارٹیکس کم مقدار میں اینڈروجینک اسٹیروائیڈز بھی خارج کرتے ہیں جو سنِ بلوغ پہنچنے کے دوران، جسم کے بال، شرم گاہ کے بال اور چہرے کے بالوں کی نمو میں مدد کرتے ہیں۔

22.2.8     لبلبہ (Pancreas)

لبلبہ ایک مخلوط غدود ہے جو ایگزوکرائن اور اینڈوکرائن دونوں طرح سے کام کرتا ہے۔اینڈوکرائن لبلبہ ’’آئی لیٹز آف لینگرہنس‘‘ پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک عام انسانی لبلبہ میں دس سے بیس لاکھ ’’آئی لیٹز آف لینگر ہنس‘‘ ہوتے ہیں جو پینکریاز کا ایک سے دو فیصد حصہ ہے۔ ہر ’’آئی لیٹز آف لینگرہنس‘‘ دو قسم کے خلیوں پر مشتمل ہوتا ہے، جو الفا خلیے اور بیٹا خلیے کہلاتے ہیں۔ الفا خلیے گلوکا گون ہارمون جبکہ بیٹا خلیے انسولین خارج کرتے ہیں۔

گلوکاگون، ایک پیٹائیڈ ہارمون ہے اور خون میں گلوکوز کی نارمل مقدار قائم رکھنے میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ گلوکاگون خاص کر جگر کے خلیوں (ہیپیٹوسائٹز) پر عمل کرتا ہے اور گلائی کوجینولیسس کو سہارا دیتا ہے جس کے نتیجے میں خون میں شکر کی مقدار بڑھ جاتی ہے (ہائپر گلائسیمیا) اس کے علاوہ یہ ہارمون جینیسس کے عمل کوتحریک دیتا ہے اور یہ عمل بھی ہائپرگلائسیمیا میں مدد کرتا ہے۔ گلوکاگون، خلیوں کے ذریعے گلوکوز کے انجذاب اور استعمال کو کم کردیتا ہے۔ لہٰذا گلوکاگون ہائپر گلائسیمیک ہارمون ہے۔

انسولین پروٹین ہارمون ہے، جو گلوکوز ہومیواسٹیسس کو ریگولیٹ کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انسولین خاص کر ہیپیٹوسائٹز اور ایڈیپوسائٹز (ایڈیپوز بافت کے خلیے) پر عمل کرتا ہے اور خلیوں کے ذریعے گلوکوز کے انجذاب اور استعمال میں اضافہ کرتا ہے۔ نتیجتاً گلوکوز تیز رفتاری سے خون سے ہیپیٹوسائٹز اور ایڈیپوسائٹز کی طرف حرکت کرتا ہے اور خون میں گلوکوز کی مقدار میں کمی واقع ہوجاتی ہے (ہائپوگلائسیمیا)۔ انسولین ہدفی خلیوں میں گلوکوز کو گلائیکوجین میں بھی تبدیل کرنے میں مدد کرتا ہے (گلائیکوجینیسس)۔ اس طرح خون میں گلوکوز ہومیواسٹیسس کو انسولین اور گلوکاگون دونوں مل کر قائم رکھتے ہیں۔

لمبے عرصے تک ہائپر گلائسیمیک حالت برقرار رہنے پر ایک پیچیدہ مرض ذیابیطس لاحق ہوجاتا ہے ۔ اس مرض میں پیشاب کے ذریعے گلوکوز کا خارج ہونا اور نقصان دہ مرکبات جیسے گیٹون باڈیز کا بننا شامل ہے۔ انسولین تھریپی کے ذریعے ذیابیطس کے مریض کا علاج کامیابی کے ساتھ کیا جاسکتاہے۔

22.2.9     انشیے (Testis)

نرمیں انثیوں کا ایک جوڑا اسکروٹل سیک (جسم سے باہر) میں موجود ہوتا ہے (شکل 22.1)۔انشیے پرائمری جنسی عضو اور اینڈوکرائن غدود کی طرح دہرا کام کرتے ہیں۔یہ سیمینی فیرس ٹیوبیولز اور سٹرومل یا انٹراسٹیشیل بافت کے بنے ہوتے ہیں۔ لائیڈگ خلیے یا انٹراسیٹیشیل خلیے جو انٹرٹیوبیولر فضاؤں میں موجود ہوتے ہیں ہارمونز کا ایک مجموعہ اینڈروجینریا نرہارمون پیدا کرتے ہیں اور خاص طور سے ٹیسٹواسٹیرون۔

اینڈوجینز نر کے معاون جنسی عضو جیسے اپی ڈائی ڈائمس، واز ڈیفرنس، سیمینل ویزیکلز، پرواسٹریٹ غدود، یوریتھرا وغیرہ کی نمو، بالیدگی اور عملیات کو ریگولیٹ کرتے ہیں۔ یہ ہارمونز عضلاتی نمو، چہرے اور بغل کے بالوں کی نمو، جارحانہ پن، صوتی پچ میں کمی کو تحریک دیتے ہیں۔ اینڈروجینز اسپر میٹازوا کے بننے کے عمل میں اہم محرک کا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ مرکزی عصبی نظام پر عمل کرتے ہیں اور نر کے جنسی رجحان (شہوت) کو متاثر کرتے ہیں۔ پروٹینز اور کاربوہائیڈریٹ پر انابولک (تا لیفی) اثرات مرتب کرتے ہیں۔

22.2.10     بیض دان (Ovary)

مادہ کے شکم میں بیض دان کا ایک جوڑا واقع ہوتا ہے (شکل 22.1)۔ بیض دان ایک پرائمری مادہ جنسی عضوہے جو ایک حیض کے دوران ایک بیضہ پیدا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ اسٹیرائڈ ہارمونز کے دو گروپس ایسٹروجن اور پروجیسٹرون پیدا کرتا ہے۔ بیضہ دان اویرین فالیکلز اور اسٹرومل بافت سے بنتا ہے۔ ایسٹروجن کی تالیف اور اخراج خاص طور سے نمو پذیر اویرین فالیکلز کے ذریعے ہوتی ہے۔ بیضہ خارج ہونے کے بعد، ٹوٹی ہوئی فالیکل کارپس لیوٹیم میں تبدیل ہوجاتی ہے جو پروجیسٹرون خارج کرتی ہے۔    

ایسٹروجن، مادہ کے ثانوی جنسی اعضا کی سرگرمیاں  اور نمو پذیر اویرین فالیکلز کی بالیدگی، مادہ کی ثانوی جنسی خصوصیات کا اظہار (مثلاً صوت کی اونچی پچ وغیرہ) پستانوں کی نموکو تحریک دیتا ہے۔

پروجیسٹرون حمل کو سہارادیتاہے۔ یہ پستانوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے اور ان کے اندر ایلویولی (تھیلے نما ساخت جس میں دودھ کاذخیرہ ہوتاہے) کی تشکیل اور دودھ کے اخراج کو تحریک دیتا ہے۔

22.3 قلب، گردے اور ہاضمے کی نلی کے ہارمون

(Hormones of Heart, Kideny and Gastrointestinal Tract)

اب آپ اینڈوکرائن غدود اور ان کے ہارمون کے بارے میں معلومات حاصل کرچکے ہیں، لیکن جیسا کہ پہلے بتایا جاچکا ہے، کچھ ایسے بافت بھی ہارمون کا افراز کرتے ہیں جو اینڈوکرائن غدود نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارے قلب کی ایٹریل دیوار ایک بہت اہم پیپٹائیڈ ہارمون ایٹریل نیٹری یوریٹک فیکٹر (ANF) کو خارج کرتی ہے جو بلڈ پریشر کو کم کرتا ہے۔ جب بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے، ANFکا اخراج ہوتا ہے جو شریانوں کو پھیلا دیتا ہے اور بلڈ پریشر کم ہوجاتا ہے۔

گردے کے جگسٹاگلو میرولر (Juxtaglomerular) خلیے ایک پیپٹائیڈ ہارمون اریتھروپوئٹین پیدا کرتا ہے جو آر بی سی کی افزائش میں مدد کرتا ہے۔

ہاضمے کی نلی کے مختلف حصوں میں موجود اینڈوکرائن خلیے چار اہم پیپٹائیڈ ہارمونز خارج کرتے ہیں: گیسٹرین، سیکرٹین، کولے سسٹو کائنین۔ (CCK) اور گیسٹرک انہی بی ٹری پیپٹائیڈ (GIP)۔ گیسٹرین، گیسٹرک غدود پر عمل کرتا ہے اور ہائیڈروکلورک ایسڈ اور پیسی نوجن کے اخراج میں مدد کرتا ہے۔ سیکرٹین، ایگزوکرائنلبلبہ پر عمل کرتا ہے اور پانی اور بائی کاربونیٹ آینوں کے اخراج میں مدد پہنچاتا ہے۔ CCK، لببلہ اورپت کی تھیلی دونوں پر عمل کرتا ہے اور بالترتیب پینکریاٹک خامرے اور بائل رس کے اخراج کو تحریک دیتا ہے۔ GIPگیسٹرک اخراج اور حرکت کو روکتا ہے۔ بہت سے دیگر غیر اینڈو کرائن بافت ہارمونوں کاافراز کرتے ہیں جن کو گروتھ فیکٹرز کہا جاتا ہے۔ بافت کی حسب معمول نمو، ان کی مرمت اور دوبارہ بننے کی صلاحیت کے لیے یہ فیکٹرز لازمی ہیں۔

22.4 ہارمون ایکشن کا میکانزم (Mechanism of Hormone Action)

ہارمون ہدفی بافت پرایک مخصوص پروٹین جسے ہارمون رسیپٹرکہتے ہیں  پر چپک کر اپنا اثر دکھاتے ہیں، یہ مخصوص ہارمون رسیپٹرز صرف ہدفی بافت پر ہی واقع ہوتے ہیں۔ ہدفی بافت کی خلوی جھلی پر موجود ہارمون رسیپٹر کو جھلی سے بندھے ہوئے رسیپٹر اور ہدفی خلیے کے اندر موجود رسیپٹر کو انٹراسیلولر رسیپٹر کہتے ہیں، بیشتر مرکزہ رسیپٹر مرکزے کے اندر موجود ہوتے ہیں۔ ہارمون اپنے رسیپٹر سے چپک جانے کے بعد ہارمون۔ رسیپٹر کمپلیکس بناتا ہے (شکل 22.5)۔ ہر رسیپٹر ایک ہارمون کے لیے مخصوص ہوتا ہے لہٰذا رسیپٹر مخصوص ہوتے ہیں۔ ہارمون رسیپٹرکمپلیکس  کے بننے سے ہدفی بافت میں کچھ حیاتیاتی کیمیائی تبدیلیاں آتی ہیں۔ ہدفی بافت کا تحول اور اس طرح عضویاتی کاموںکو ہارمون ریگولیٹ کرتے ہیں۔ ان کی کیمیائی خصوصیت کی بنیاد پر ہارمونوں کو مندرجہ ذیل گروپوں میں تقسیم کیا جاتاہے:

6th

7th

شکل 22.5     ہارمون ایکشن کے میکانزم کا شکلی اظہار     

(a)پروٹین ہارمون     (b) سٹیرائڈ     ہارمون


(i) پیپٹائیڈ، پولی پیپٹائیڈ، پروٹین ہارمونز (مثلاً انسولین، گلوکاگون، پیوٹیٹری ہارمونز، ہائیوتھیلیمک ہارمونز وغیرہ۔

(ii) اسیٹرائیڈز (مثلاً کارٹیسول، ٹیسٹواسٹیرون، اسٹراڈائل اور پروجیسٹرون)

(iii) ایوڈوتھائیرونین (تھائیرائیڈ ہارمون)

(iv) امینو ایسڈ ماخوذے (مثلاً ایپی فرائن)

وہ ہارمون جو جھلی سے بندھے رسیپٹرز سے تفاعل کرتے ہیں عموماً ہدفی خلیے میں داخل نہیں ہوتے، لیکن ثانوی پیامبر پیدا کرتے ہیں (مثلاً سائیکلک اے ایم پی، Ca++, 1P3وغیرہ) جو بعد میں خلوی تحول کو ریگولیٹ کرتے ہیں (شکل 22.5)۔ وہ ہارمون جو انٹراسیلولر رسیپٹرز کے ساتھ تفاعل کرتے ہیں (مثلاً اسٹیرائیڈہارمونز، ایوڈوتھائیرونز وغیرہ)۔ وہ زیادہ تر جین ایکسپریشن یا کروموسوم کے کام     کو ریگولیٹ کرتے ہیں۔

مجموعی حیاتیاتی کیمیائی عملوں  کے نتیجے میں فزیولوجیکل اورنشوونماسے متعلق اثرات مرتب ہوتے ہیں (شکل 22.5)۔

خلاصہ

ہمارے جسم میں مخصوص کیمیائی اشیا ہارمون کی طرح کام کرتے ہیں جو کیمیائی ربط دہی، اشتراک اور ریگولیشن فراہم کرتے ہیں۔ یہ ہارمون تحول، ہمارے اعضا کی نمو اور نشوونما، اینڈوکرائن، غدود یا کچھ خلیوں کی نمو اور بالیدگی کو ریگولیٹ کرتے ہیں۔ اینڈوکرائن نظام، ہائپوتھیلیمس، پٹیوٹیری اور پینیل تھائیرائیڈ، ایڈرینل، پنکریاز، پیراتھائیرائیڈ، تھائمس اور جنسی اعضا (انثیے اور بیض دان) پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ کچھ اور اعضا مثلاً ہاضمہ کی نلی، گردے، قلب وغیرہ بھی ہارمون پیدا کرتے ہیں۔ پیوٹیٹری غدود تین حصوں پر مشتمل ہے جو پارس ڈیسٹلیس، پارس انٹرمیڈیا اور پارس نرووسا کہلاتے ہیں۔ پارس ڈیسٹلیس چھ ٹرافک ہارمون پیدا کرتا ہے۔ پارس انٹر میڈیا صرف ایک ہارمون خارج کرتا ہے۔ جبکہ پارس نرووسا (نیورو ہائپوفائسس) دو ہارمون خارج کرتا ہے۔ پیٹوٹری ہارمون جسمانی بافت کی نمودار بالیدگی اور محیطی اینڈوکرائن غدود کے عملوں کو ریگولیٹ کرتے ہیں۔ پینیل غدود میلیٹونین کو خارج کرتا ہے جو ہمارے جسم کے 24 گھنٹے کی (یومیہ) حرکات (جیسے سونے اور جاگنے کی سائیکل، جسمانی درجۂ حرارت وغیرہ) کو ریگولیٹ کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تھائیرائیڈ غدود کے ہارمون، بیسل میٹا بولک شرح، عصبی نظام کی نمو اور بالیدگی، آربی سی خلیوںکا بنانا، کاربوہائیڈریٹ، پروٹینز اور چربی، حیض کے کاموں کو ریگولیٹ کرنے میں اہم کردار نبھاتے ہیں۔ ایک اور تھائیرائیڈ ہارمون تھائیروکیلسی ٹونین کیلشیم کی مقدار کو کم کرکے ہمارے خون میں کیلشیم کی مقدار کو ریگولیٹ کرتا ہے۔ پیراتھائیرائیڈ غدود پیرا تھائیرائیڈم ہارمون خارج کرتا ہے جو خون میں Ca++کی مقدار کو بڑھاتا ہے اور کیلشیم ہومیواسٹیسس میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تھائمس غدود تھائمو سنز خارج کرتا ہے جو T۔ لمفو سائٹز کی تخصیص میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ -Tخلوی متوسط امّیونیٹی بہم پہنچاتا ہے۔ اس کے علاوہ تھائیموسنز، اخلاطی امیونیٹی مہیا کرنے کے لیے اینٹی باڈیز کی افزائش میں اضافہ کرتا ہے۔ ایڈرینل غدود وسط میں موجود ایڈرینل میڈولا اور بیرونی ایڈرینل کارٹیکس پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایڈرینل میڈولا، ایپی نفرین اور نور ایپی نفرین خارج کرتا ہے۔ یہ ہارمون مستعدی، پتلیوں کے پھیلنے، بالوں کے کھڑے ہونے (پائلو اریکشن )، پسینہ آنے، نبض اور قلب کی قوتِ انقباض، تنفس کی شرح، گلائیکو جینولیسس، لائپولیسس اور پروٹیولیسس کے عمل کو تیز کردیتے ہیں۔ ایڈرینل کارٹیکس، گلوکوکارٹی کوائیڈز اور منریلو کارٹی کو ائیڈز خارج کرتا ہے۔ گلوکارٹی کو ائیڈز، گلوکونیوجینیسس، لائپولیسس، پروٹیولیسس ایرتھیرویولیسس، قلبی۔ دعائی نظام، بلڈ پریشر، گلومیرور تقطیر کی شرح اور مامونی جوابی کارروائی کی مزاحمت کرکے انفلامیٹری ایکشنز کو متحرک کرتا ہے۔ منریلو کارٹی کوائیڈز جسم کے پانی اور الکٹرولائٹ کی مقدار کو ریگولیٹ کرتا ہے۔ پنکریاز اینڈوکرائن گلوکاگون اور انسولین کو خارج کرتا ہے۔ گلوکاگون گلائکو جینولائسس اور گلوکونیوجینیسس کو متحرک کرکے ہائپرگلائسیمیا پیدا کرتا ہے۔ انسولین گلوکوز کے خلوی انجذاب اور استعمال کے عمل کو متحرک کرتا ہے اور گلوکونیوجینیسس ہائپوگلائسیمیا پیدا کرتا ہے۔ انسولین کی کمی اور /یا انسولین کی مدافعت کی وجہ سے ایک مرض ذیابیطس لاحق ہوجاتا ہے جسے ڈائبی ٹیس میلائٹس بھی کہتے ہیں۔

انثیے اینڈوجن خارج کرتے ہیں جو نر کے معاون جنسی اعضا جیسے نرمیں ثانوی جنسی خصوصیات کا اظہار، اسپرمیٹوجینیسس، نر جنسی رجحان، اینابولک پاتھ وے اور ایر پتھروپوسیس کی نمو، بالیدگی اور عملیات کو متحرک کرتا ہے۔ بیض دان، ایسٹروجن اور پروجیسٹرون خارج کرتا ہے۔ایسٹروجن مادہ معاون جنسی عضو اور ثانوی جنسی خصوصیات کی نمو اور بالیدگی کوتحریک دیتا ہے۔ پروجسٹرون، حمل کو قائم رکھنے اور پستانوں کے نمو اور دودھ کی پیدائش میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ قلب کی ایٹریل دیوار ایٹریل ٹیٹری یوریٹک فیکٹر پیدا کرتی ہے جو بلڈ پریشر کو کم کردیتا ہے۔ گردے ایرتھروپوئٹین پیدا کرتے ہیں جو ایرتھیروپوسیس کوتحریک دیتا ہے۔ غذا کی نلی، گیسٹرین، سیکریٹین کولے سسٹوکائنین اور گیسٹرک انہی بیڑی پیپٹائیڈ خارج کرتا ہے۔ یہ ہارمون ہاضمے کے لیے ضروری رس کے اخراج کو ریگولیٹ کرتے ہیں اور ہاضمے میں مدد کرتے ہیں۔

مشق

مندرجہ ذیل کی تعریف بیان کیجئے۔

(a) ایگزوکرائن غدود

(b) اینڈوکرائن غدود

(c) ہارمون

ہمارے جسم میں موجود مختلف اینڈوکرائن غدود کہاں کہاں واقع ہیں؟ تصویر کے ذریعے دکھائیے۔

مندرجہ ذیل کے ذریعے خارج ہونے والے ہارمون کی فہرست تیار کیجئے۔

(a) ہائپوتھیلیمس (b) پیٹوٹری (c) تھائرائیڈ (d) پیراتھائیرائیڈ

(e) ایڈرینل (f) لببلہ (g) انثیے (h) بیض دان

(i) تھائمس (j) ایٹریم (k) گردے (l) غذا کی نلی

خالی جگہوں کو بھریئے۔

ہارمون ہدفی غدود (Target glands)

(i) ہائپوتھیلیمک ہارمون __________________

(b) تھائیروٹرافن (TSH) __________________

(c) کارٹیکوٹرافن(ACTH) __________________

(d) گوناڈوٹرافن (LH,FSH) __________________

(e) میلینو ٹرافن(MSH) __________________

مندرجہ ذیل ہارمونوں  کے کام کے بارے میں مختصراً لکھئے۔

(a) پیراتھائیرائڈ ہارمون (PTH) (b) تھائیرائیڈ ہارمون

(c) تھائیموسنز (d) اینڈروجنز

(f) ایسٹروجنز (g) انسولین اور گلوکاگون

مندرجہ ذیل کی مثالیں دیجیے:

(i) ہائپر گلائسیمک ہارمون اور ہائپوگلائسیمک ہارمون

(ii) ہائپرکیلسیمک ہارمون

(iii) گوناڈو ٹرافک ہارمون

(iv) پروجیسٹیشنل ہارمون

(v) بلڈپریشر کم کرنے والے ہارمون

(vi) اینڈروجن اور ایسئر وجن

مندرجہ ذیل کے لیے کون سا ہارمون ذمے دار ہے؟

(a) ذیابیطس (b) گوائٹر (c) کریٹی نزم

FSHکے میکانزم کو مختصراً سمجھائیے۔

مندرجہ ذیل کو ملائیے۔

کالم 1 کالم 2

(i) T4 (i) ہائپوتھیلمیس

(ii) PTH (ii) تھائیرائیڈ

(iii) GnRH (iii) پیٹوٹری

(iv) LH (iv) پیراتھائیرائیڈ